Hijaab Aug-17

رخ سخن

سباس گل

محمد فیاض ماہی
سوال: آپ کا تعارف، پیدائش، تعلیم، مشغلہ وغیرہ؟
جواب: میرا نام محمد فیاض ماہی ہے میں یکم فروری 1970ء کوشہر فیصل آباد میں پیدا ہوا، گھر کے مالی حالات کچھ زیادہ اچھے نہ ہونے کی وجہ سے میٹرک کا داخلہ بھیجنے کے لیے چالیس روپے نہ ہونے کی بنا پرمیری تعلیم ادھوری رہ گئی لیکن ہمیشہ سے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق رہا اور یہ شوق ایسا تھا کہ ہم شہر سے سات آٹھ کلو میٹر دور لائبریری سے کتب لانے کے لیے سائیکلوں پر اور کبھی کبھار تو پیدل بھی چل پڑتے تھے تعلیم ادھوری رہ جانے کا جو قلق تھا وہ میں نے کتابیں پڑھ کر علم حاصل کرنے سے پورا کرنا شروع کردیا تھا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ تعلیم ڈگریوں کی محتاج ہے علم ڈگریوں اور کاغذوں اسناد کا محتاج نہیں ہوتا۔
سوال: آپ کے لکھنے کی ابتدا کس طرح اور کس عمر میں ہوئی؟
جواب: کہانیاں اور کتابیں پڑھنا میرا جنون تھا جو کہ اب بھی ہے اکثر دوستوں میں بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا تھا کہ میں بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن لکھ نہ پاتا تھا اس دور میں میں ماہنامہ ’’جواب عرض‘‘ شوق سے پڑھا کرتا تھا وہ پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ ان لکھنے والوں سے تو اچھا میں لکھ سکتا ہوں اور کوشش کر کے اپنی پہلی کہانی بعنوان ’’طاہرہ‘‘ جواب عرض میں بھیجی جو کہ نومبر 1980ء کے شمارہ میں شائع ہوئی تو خوشی کی انتہا نہ رہی اس کہانی کی پسندیدگی کے بہت سے خطوط مجھے موصول ہوئے اور اس طرح لکھنے کا حوصلہ بھی بڑھتا گیا۔
لیکن 1987ء سے ایک لائبریری خرید کر اس کے ریک میں لگی ہوئی کتابیں دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ ان کتابوں میں میری کوئی تصنیف ایسی ہو جو کتابی شکل میں ہونا چاہیے سترہ سال تک پہلا ناول لکھنے کی کوشش کرتا رہا اور بالآخر 2005ء میں میرا ناول ’’گھنگرو اور کشکول‘‘ لاہور کے معتبر پبلشنگ ادارہ رابعہ بک ہائوس سے شائع ہو کر مارکیٹ میں آیا تو خوشی سے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
سوال: ادبی دنیا میں کن شخصیات سے متاثر ہیں؟
جواب: میں نے اپنی لائبریری میں موجود تقریباً چھ سے سات ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا اور بہت کچھ سیکھنے کی کوشش میں ان کتابوں کو تین تین بار پڑھا لیکن جن ادبی شخصیات کی تحریروں نے مجھے متاثر کیا ان میں ’’جناب اشفاق احمد صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، ممتاز مفتی، حضرت واصف علی واصف صاحب سر فہرست ہیں ان عظیم شخصیت کی کتابیں ہی میری بہترین استاد ہیں۔
سوال: اب تک ادب میں کتنی کامیابیاں سمیٹیں اور کتنے ایوارڈز ملے؟
جواب: میں خود کو ابھی تک ادیب نہیں سمجھتا ہوں اسی لیے میرا انداز تحریر بہت سادہ ہے اور آسانی سے قاری کی سمجھ میں آجاتا ہے للیکن شاید ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے صدر، وزیر اعظم یا پھر ایوارڈ دینے والی جیوری کا منظور نظر ہونا بہت ضروری ہے اس لیے میری کسی بھی تصنیف کو کوئی ایوارڈ نہیں ملا ہاں مگر کالم نگاری میں مجھے ایوارڈ مل چکے ہیں۔
سوال: کیا ادبی سفر کے علاوہ آپ کسی اور شعبہ سے بھی وابستہ ہیں؟
جواب: پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ آٹھ جماعتیں پاس اس ملک کا صدر بن کر پانچ سال تک اندھی گونگی اور بہری عوام پر حکومت کرسکتا ہے لیکن آٹھ جماعتیں پاس چودہ کتابوں کے مصنف کو کوئی بھی سرکاری اور غیر سرکاری محکمہ نوکری نہیں دیتا کیونکہ اعلیٰ تعلیمی اسناد جو پاس نہیں ہوتیں، اس لیے مجبوری اور غربت سے لڑنے کے لیے لوڈر رکشہ چلاتا ہوں سبزی منڈی میں تین سو روپے دیہاڑی پر کام کرتا رہا ہوں گلیوں میں غبارے بھی بیچے اور چھلیاں بھی فروخت کیں لیکن اب بیماری اور نظر کی کمزوری کی وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے بیروزگار ہوں۔
سوال: آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟
جواب: جو پڑھنے والے کے ذہن میں سوال پیدا کرے ادیب کی ذاتی زندگی اس میں نظر نہ آئے اس کا تجربہ الفاظ کی صورت میں نئی نسل کو اس جانب راغب کرے کہ انہوں نے اس تحریر سے بہت کچھ حاصل کرنا ہے جو قاری کو ذہنی آسودگی بخشے وہی اچھا ادب ہے۔
سوال: آپ کی نظر میں تخلیق کسے کہتے ہیں؟
جواب: اس کائنات سے بڑی خالق کائنات کی تخلیق سے ادیب اور مصنف کو بہت سے اسباق ملتے ہیں جس طرح اس کائنات میں ایسے ایسے رنگ بکھرے ہوئے ہیں جن کو انسان کی عقل سوچنے اور سمجھنے سے قاصر ہے لیکن رب کائنات کی تعریف کے لیے الفاظ ہیچ ہوجاتے ہیں اسی طرح انسان کو اپنی ادبی تخلیق کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے سیکھ کر کچھ ایسا تخلیق کرنا چاہیے جو پڑھنے والے کے ذہنوں میں کئی سالوں تک اپنا اثر چھوڑے اور اس تخلیق کے لیے قاری کے پاس الفاظ نہ ہوں۔
سوال: آج کل کے ملکی حالات پر اپنی رائے کا اظہار کریں؟
جواب: ایٹمی طاقت بن جانا ایک خواب تھا جو اللہ تعالیٰ نے پورا کردیا ہے اس کا کریڈٹ ہر سیاستدان لینے کی کوشش میں ہے لیکن غربت، افلاس، تعلیم، صحت، رشوت ستانی، سفارش، منشیات اور دیگر بہت سے ضروریری کام کرنے اور ان کو حقیقی معنوں میں عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں کوئی بھی سیاستدان انٹرسٹڈ نہیں ہے۔
سوال: معاشرہ کسے کہتے ہیں اور کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اسلامی معاشرے کا نفاذ ہو؟
جواب: مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کے دکھ کو بانٹنے کے لیے انسانوں کا امیر اور غریب ہونے سے قطع نظر سوسائٹی کو معاشرہ کہتے ہیں جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل نہیں کریں گے اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام اس ملک میں پنپ نہیں سکتا۔ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو۔ لیکن اس ملک میں ایسا نہیں ہے کیونکہ ہم ابھی تک مسواک اور شلوار کے سائز پر ہی قوموں کو آپس میں لڑا لڑا کر ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کو ہی اسلام سمجھتے ہیں۔
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انقلاب اب ہماری قوم کے لیے ناگزیر ہے؟
جواب: خون سے پاک ایک بہت بڑے انقلاب کی ہمیں اشد ضرورت ہے کیونکہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نام پر آج تک لٹنے والے عوام کو اب شعور آگیا ہے اور وہ ان چیزوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب عوام سیاستدانوں کے کھوکھلے نعروں کو پورا کرانے کے لیے ان کے گریبانوں تک پہنچ جائیں گے۔
سوال: کیا آپ کو ملکی سیاست میں دلچسپی ہے؟
جواب: جی ہاں میں ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتا ہوں کیونکہ میں ناولسٹ ہی نہیں ہوں ایک کالم نگار بھی ہوں اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنا اور دلچسپی لینا میرے قلم کے لیے ضروری ہے۔
سوال: ادب کے فروغ کے حوالے سے تجاویز دیں۔
جواب: ملک بھر میں لائبریریوں کی تعداد بڑھائی جائے کتاب کو سستا کیا جائے تاکہ طالب علم کی جیب پر کتاب خرید کر پڑھنا گراں نہ ہو، ادیبوں اور شعرا کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو غم روزگار کا کچھ تو ازالہ کریں کالجز یونیورسٹیز اور سرکاری لائبریریوں سے کتابوں کے اجرا کا طریقہ کار انتہائی آسان ہونا چاہیے سیمینار میں چھوٹے ادبا کو بھی مدعو کر کے ان کو نامور ادبا کے برابر جگہ دی جائے۔
سوال: کمپیوٹر کے آنے سے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
جواب: لائبریریاں ختم ہو کر رہ گئی ہیں نئی نسل کتاب سے دور ہو کر سائنس کی اس ایجاد میں مگن ہوگئی ہے فحاشی اور عریانی کو فروغ ملا ہے کیونکہ اچھی اور پاکیزہ کتب تنہائی میں قاری کی بہترین اور مخلص دوست ہیں جبکہ کمپیوٹر تنہائی میں نئی نسل کے اخلاقیات کا قاتل ہے۔
سوال: زوال پزیر اور ترقی یافتہ معاشرے کے ادب میں کیا فرق ہے؟
جواب: ملکوں اور قوموں کی ترقی تعلیم اور ادب کی مرہون منت ہوتی ہے بنگلہ دیش جیسا ملک ہم سے تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہے لیکن ادب کے میدان میں جو ادیب اور تخلیق کار پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں ان کا طوطی پوری دنیا میں بولتا ہے جبکہ ہم تعلیم کے میدان میں کئی ملکوں سے نہ صرف پیچھے ہیں بلکہ تعلیم کی آبیاری کے لیے کوئی بہترین انتظامات کرتے نظر بھی نہیں آرہے۔
سوال: آپ کے پسندیدہ شاعر اور ادیب کون سے ہیں؟
جواب: ادبا کا تذکرہ تو میں سوال نمبر ایک میں کر چکا ہوں ہاں البتہ شعرا کرام میں مجھے جن کی شاعری نے بہت متاثر کیا ان میں محسن نقوی، پروین شاکر، احمد شاکر، نوشی گیلانی، فیض احمد فیض اور استاد قمر جلالوی صاحبان شامل ہیں۔
سوال: کن ادبا کا کام سند کی حیثیت رکھتا ہے؟
جواب: جن کی تصانیف پڑھ کر ان سے ملنے کو دل چاہے اور دل چاہے کہ ان کی تصانیف کو بار بار پڑھا جائے جن کے کام پر مقالہ جات لکھے جائیں جن کو یونیورسٹیز اور کالجز میں اسٹوڈنٹس اپنی گفتگو میں ڈسکس کریں اور جن کا احترام قاری کے دل میں ہو۔
سوال: پرانے لکھاری نئے لکھنے والوں کو گائیڈ کرتے ہیں یا حوصلہ شکنی کرتے ہیں؟
جواب: میرا تو شخصی طور پر کوئی بھی استاد نہیں ہے یا پھر یوں کہہ لیں کہ بڑے بڑے نامور مصنفین کی بہترین کتب سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور جو لوگ آج لکھنا چاہتے ہیں میں اپنی ذات کی حد تک تو کہہ سکتا ہوں کہ ان کو اپنی کم علمی اور ناقص عقل کے مطابق اچھا گائیڈ کرتی ہوں دیگر لوگوں کا رویہ نیا لکھنے والوں کے لیے کیا ہوتا ہے اس کا مجھے اندازہ نہیں ہے۔
سوال: ادیب کو اس معاشرے میں کیا مقام حاصل ہے اور کیا مقام ملنا چاہیے۔
جواب: اس کی بہترین اور زندہ مثال میں آپ کے سامنے ہوں، جس ادیب کے گھر میں کئی کئی دن کھانا نہ پکتا ہو اس کے بچے دوسروں کی اترن پہن کر خوش ہونے کی بجائے آسمان کی جانب دیکھ کر ٹھنڈی آہیں اور سسکیاں بھرتے ہوں وہ کیا تخلیق کرے گا یا اس بے حس معاشرے سے کیا توقع رکھ سکتا ہے ہم سے اچھے وہ معاشرے ہیں جو ادیب کو باپ اور استاد کا درجہ دیتے ہیں اور ان کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہ لوگ ادب کے وارث ہیں حکومتی سطح پر ادیب کو جو پزیرائی ملنی چاہیے اس کا قحط یہاں پر ہے چند نام نہاد ادیب حکومتی افراد کے منظور نظر بن کر لاکھوں میں کھیل رہے ہیں یہ نا انصافی ختم ہونا چاہیے۔
سوال: دوست بنانے میں آپ کیسے ہیں، کیا آپ اچھے راز دار ہیں کوئی ایسا رشتہ جس کو دیکھ کر آپ کو زندگی کا احساس ہوتا ہو؟
جواب: میں اپنی کم عقلی کے باعث ہر کسی کو اپنا دوست سمجھنے لگتا ہوں اور متعدد بار دھوکا بھی کھا چکا ہوں میں اچھا راز دار نہیں ہوں اور سب سے بہترین رشتہ بیٹی کا ہے جس کو دیکھ کر مجھے زندگی کا احساس ہوتا ہے کیونکہ امی جان کی وفات کے بعد میں نے خود کو اپنی بیٹیوں کے لیے ہی زندہ رکھا ہوا ہے۔
سوال: آپ کا اپنے ناولز میں سے کوئی پسندیدہ ناول اور وجہ؟
جواب: ’’عین شین قاف‘‘ اور ’’میرا عشق فرشتوں جیسا‘‘ میرے دو ایسے ناولز ہیں جو میرے دل کے بہت قریب ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کو تحریر کرتے وقت کئی بار قلبی واردات سے گزرا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ ان ناولز کے بہت سے پیرا گراف اور بیانیے مجھ سے نادیدہ قوتوں نے لکھوائے ہیں۔
سوال: ناول لکھتے وقت آپ کے ذہن میں کون سی بات ہوتی ہے اور آپ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟
جواب: سب سے پہلے تو اس بات کی کوشش کرتا ہوں کہ جو بھی لکھنا چاہتا ہوں وہ میری بیٹی بھی بے فکر ہو کر پڑھ سکے اور اس تحریر سے اس کی تعمیری سوچ کو تقویت ملے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ نیا لکھنے والے اس سے کچھ نہ کچھ سیکھیں اور پڑھنے والے اس تحریر کو ایک ہی نشست میں پڑھ لیں۔
سوال: کیا لکھنا آسان ہے؟
جواب: اگر پڑھاہو تو پھر لکھنا آسان ہے لیکن لکھے ہوئے کو سنبھالنا کافی مشکل ہے جیسا کہ قارئین کو اپنے لکھے ہوئے کسی بھی سوال کے تسلی بخش جواب دے کر مطمئن کرنا آتا ہو۔
سوال: تعلیم کے علاوہ کیا متاثر کرتا ہے؟
جواب: مہنگائی، گھر کا کرایہ، ماہانہ اخراجات، بچوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ ذہنی تکلیف کا باعث بھی بنتی ہے۔
سوال: آپ کو گہری نیند سے جگایا جائے تو کیا غصہ آجاتا ہے؟
جواب: میں بری طرح ڈر جاتا ہوں اور خوف سے اپنے ارد گرد دیکھنے لگتا ہوں اور میری اس حرکت سے مجھے جگانے والا بھی ڈر جاتا ہے کہ کس بندے کو چھیڑ لیا ہے۔
سوال: رائٹر کے طور پر ایک رائٹر کو ملنے والے معاوضہ سے آپ مطمئن ہیں؟
جواب: اگر زمین ہو گی تو ہی بہترین گھر یا دکان تعمیر ہوتی ہے یہاں المیہ یہ ہے کہ بہترین ڈرامہ بہترین فلم اور بہترین ناول تو خریدا جاتا ہے لیکن بہترین پلاٹ اور بہترین کہانی دینے والے کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔
سوال: کون سی ایسی ڈش ہے جو آپ ہر وقت کھانے کو تیار رہتے ہیں؟
جواب: میری بیگم قیمہ بہت اچھا پکاتی ہیں جو کہ ٹماٹروں کی ریسپی میں بنتا ہے وہ بہت لذیذ اور مزیدار ہوتا ہے اور دال چنا بھی میری فیورٹ ہے آم اور خربوزہ میرے فیورٹ فروٹ ہیں۔
سوال: اگر آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم بنایا جائے تو پہلا کام کیا کریں گے؟
جواب: موجودہ تمام سیاستدانوں میں سے کوئی بھی میری کابینہ میں نظر آنے کی بجائے منوں مٹی تلے ہوگا۔
سوال: آپ کے خیال میں خواتین اور مرد مصنفین کے ادب میں کیا فرق ہے جو اب تک لکھا گیا ہے؟
جواب: بڑی جرأت کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ خواتین کا قلم صرف اور صرف خواتین کے مسائل کو ہی اجاگر کرتا ہے رونا دھونا ساس بہو کا جھگڑا طلاق حلالہ اور وغیرہ وغیرہ یہ ادب نہیں ہے۔ ادب وہ ہے جو مرد حضرات یعنی اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی جیسے ادبا نے تخلیق کیا ہے۔
سوال: کس موضوع پر لکھتے ہوئے آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے قلم کا حق ادا کردیا ہے؟
جواب: ابھی تک تو تقریباً ہر موضوع پر لکھ چکا ہوں لیکن قلم کی تشنگی نہیں بجھ سکی اور نہ ہی ابھی میں خود کو اس کام میں سرخرو سمجھتا ہوں۔
سوال: زندگی سے کوئی گلہ؟
جواب: کوئی گلہ نہیں ہے کیونکہ یہ تو واحد نعمت خداوندی ہے جس کی بدولت تمام رشتے آباد ہیں۔
سوال: آپ کی اب تک کتنی کتب مارکیٹ میں آچکی ہیں؟
جواب: گھنگھرو اور کشکول، گیلے پتھر، کاغذ کی کشتی، کانچ کا مسیحا، عین شین قاف، تاوان عشق، موم کا کھلونا، ٹھہرے پانی، میرا عشق فرشتوں جیسا، شیشے کا گھر پتھر کے لوگ، لبیک اے عشق، پیاسے آنسو، مجھے ہارنا ہی تھا۔
سوال: آپ کی فیملی میں کسی کو لکھنے کا شوق ہے؟
جواب: جی نہیں، اپنے بہن بھائیوں اور اب میری پانچوں بیٹیوں میں بھی کسی کو لکھنے کا شوق نہیں ہے کیونکہ جو میری عزت افزائی ہو رہی ہے وہ اسی سے دلبرداشتہ ہیں۔
سوال: خواتین رائٹرز کو شادی کے بعد لکھنے میں کم سپورٹ ملتی ہے ایسے میں ان کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: پھر تو لکھنا ان پر قرض بن جاتا ہے کیونکہ کاغذ اور قلم نے جو عزت اور نام ان کو دیا ہوتا ہے وہ عزت اور شہرت اپنا حق مانگتی ہے اور قلم کی تشنگی بجھانے کے لیے دل کے کتھارسس کے ساتھ ساتھ کرنٹ ایشوز پر لکھنا لازمی ہے۔
سوال: کس جگہ سیر کرنے کو دل چاہتا ہے؟
جواب: اپنی مسز اور بیٹیوں کے ساتھ پورا پاکستان گھومنا چاہتا ہوں۔
سوال: آج کل سب ٹی وی کے لیے لکھ رہے ہیں آپ کے ناول پر ہم کب تک کوئی ڈرامہ سیریل دیکھ پائیں گے؟
جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی ڈرامہ انڈین ڈرامہ سے بہت آگے ہے مگر پاکستانی ثقافت کو اس طریقہ سے اجاگر نہیں کر پا رہا جو ہماری تہذیب کا حق ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی وہ کچھ نہیں لکھ رہا جو لکھنا چاہیے کیونکہ اس فیلڈ میں رشوت اور سفارش خوب کام کر رہی ہے میں کوشش کر رہا ہوں کہ وہ سب کچھ ڈرامہ کی صورت میں پیش کروں جو کہ انوکھا موضوع ہو لیکن ابھی تک میری بات شاید کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی۔
سوال: کیا کبھی مایوس ہوئے ہیں؟
جواب: جی ہاں زندگی کی کٹھن راہوں میں کئی مواقع ایسے آئے کہ میں زندگی سے کافی مایوس ہوگیا تھا لیکن میرے مہربان اور رحمان و رحیم رب نے ہمیشہ ہی کوئی با عزت راستہ نکالا اور مجھے مایوسی سے بچایا۔
سوال: نوجوانوں کے لیے کوئی پیغام یا کوئی نصیحت کوئی مشورہ؟
جواب: انٹرنیٹ، ٹی وی، موبائل بے شک سائنس کی جدید ایجادات ہیں لیکن تنہائی میں آپ کی مخلص اور سچی دوست صرف کتاب ہے جو آپ کی توجہ اور وقت کے بدلے میں کبھی نہ ختم ہونے والا نفع فراہم کرتی ہے اس نفع کی بدولت آپ دنیا کے ہر فورم پر پر اعتماد انداز میں کھڑے ہو کر کسی سے بھی ادب اور ثقافت پر بزنس کرسکتے ہیں۔
سوال: حجاب ڈائجسٹ کے لیے انٹرویو دینا کیسا لگ رہا ہے اور حجاب کے قارئین کو کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب: بہت سے خوابوں میں سے ایک خواب ایسے بھی پورا ہوگیا کہ میرا انٹرویو حجاب جیسے مؤقر ماہنامہ میں شائع ہورہا ہے جو کہ میرے لیے اعزاز اور فخر کی بات ہے اور قارئین سے گزارش ہے کہ یہ آپ کا اپنا ڈائجسٹ ہے اس کی بہتر آبیاری کے لیے اپنے مفید مشوروں کے پانی سے اس کو ہمیشہ تر رکھیں اور اس کے ساتھ وابستہ رہیں تاکہ آپ اس کی چھائوں زمانے کی کم علمی اور بے ادبوں کی کڑی دھوپ میں جھلسنے سے محفوظ رہیں ، آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close