Hijaab May-17

من شرماخلق

حرا قریشی

’’کھڑکھڑانے والی‘ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ اور تم کیا جانو کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ (وہ قیامت ہے جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون‘ تو جس کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے وہ دلپسند عیش میں ہوگا اور جس کے وزن ہلکے ہوں گے‘ اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے اور تم کیا سمجھے ’’ہاویہ‘‘ کیا چیز ہے؟ اور وہ دہکتی ہوئی ’’آگ‘‘ ہے۔‘‘
دیمک زدہ الماری کے پٹ وا تھے چار میں سے دو کی چوکھٹ ہلی ہوئی تھی اور آزادانہ مثل شاقول جھول رہا تھا۔ قینچی اپنے دونوں بازو کھولے ڈھیلی بان کے نیچے محو استراحت تھی۔ سیلن زدہ چھت پر سیل اور سوراخوں کو نظروں سے مخفی رکھنے کے لیے جابجا اخبارات لگے تھے جن میں سے چند ایک ہی برائے نام پورے تھے اگر کسی تصویر میں نواز شریف خطاب کرتا ہوا موجود تھا تو اس کا آدھا حصہ غائب تھا‘ خبریں بھی ٹکڑوں کی صورت تحلیل تھیں۔ سلائی مشین کے وسط میں رکھی بوسیدہ کتاب اپنے اوراق کی آبرو ریزی پر نوحہ کناں تھی۔ کمرے میں موجود دروازے جن کے سائز میں تقریباً الف‘ ب کا فرق تھا‘ پر بیل بوٹے بنے تھے ان میں سے کئی گل اپنی دلکشی اور آب وتاب کی تکمیل کھو چکے تھے۔ اس چھوٹے کمرے کے عین سامنے جو کمرہ تھا وہ بلحاظ تقطیح اور طول وعرض سے نسبتاً قدرے بڑا تھا‘ اس کی ناگفتہ بہ حالت چھوٹے کمرے سے بھی بدتر صورت حال کا منظر پیش کررہی تھی‘ اندر موجود چار کھڑکی نما دروازوں میں سے ایک کھلا تھا کہ جاتی گرمیوں کے حبس زدہ دن تھے‘ چھوٹے کمرے کا پٹ اس کے اندر کی سمت ہی کھلتا تھا اور اس کے دروازے کے بالکل ساتھ زینہ جو زگ زیگ کی صورت میں بنا تھا‘ اس زینے میں اترتے ہوئے بھی ایک کھڑکی کھلتی تھی جس کی مدد سے باہر گلی کا منظر بخوبی واضح دکھائی دیتا تھا‘ کھڑکی کا قبضہ ڈھیلا اور سکڑا ہوا ہونے کے باعث وہ بیچاری بند ہونے سے معذور تھی سو اس کا در کھلا ہی رہتا تھا۔ اس بڑے کمرے کے ایک کونے میں کشادہ سی جگہ پر ایک کھرا برتن دھونے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا جو ہاتھ پائوں دھونے کے لیے بھی وقتاً فوقتاً استعمال ہوتا تھا‘ موٹر کی سہولت نہ ہونے کی بناء پر ایک نو سالہ کمسن لڑکی تیل سے چپڑے لمبے بالوں کی چٹیا بائیں کندھے پر ڈالے مارے بندھے برتنوں کو گھٹنوں کے قریب رکھے ٹب سے پانی لے لے کر عجلت میں دھو رہی تھی‘ چھوٹے بچے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر اوپر لانے کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔ کمرے کے مرکز میں رکھی کھڑی چارپائی پر مہمان خواتین موجود تھیں جس کی پائنتی میں ہلکے نیلے رنگ کا کھیس بچھا تھا‘ جس کا رنگ کافی حد تک اڑچکا تھا۔ چارپائی کے سامنے دری پر بیٹھی میزبان خواتین میں سے ایک نے خوب میک اپ کیا ہوا تھا کہ جیسے آٹا ملا ہوا ہو اس کا فیس کمپلیکشن صاف ستھرا تھا جس کی وجہ سے بیس حد درجے نمایاں ہورہا تھا۔ اب مہمان خواتین کی والدہ نماز عصر ادا کرکے چارپائی کی سمت بڑھی تھیں جنہوں نے نماز کے اسٹائل میں دوپٹہ لپیٹا ہوا تھا اور ان کا سرخ وسپید پُرنور چہرہ دوپٹے کے ہالے میں مقید ہوکر بھی نور اور روشنیوں کا ایک جہاں آباد کیے ہوئے تھا۔ کچھ دیر بعد ہی ایک مٹھائی کا ٹوکرا اوپر آیا جو غالباً لڑکے کی بھابی اوپر لے کر آئی تھیں۔ اس نے مبارک باد کا نعرہ لگایا گویا مہمان خواتین کے مرد حضرات نے قبولیت کا عندیہ دے دیا تھا۔ انکار یا اقرار؟ خواتین کا مدعا کیا تھا‘ پوچھنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی یہاں بھی ان کی رائے غیر مستند ٹھہری تھی کہ جو دلائل پیش کیے گئے تھے ان کی رُوشنی میں میں رشتہ کرنے میں قباحت تو دکھائی نہ دیتی تھی۔ پھر بھی ایک انہونا ڈر سانپ کی طرح پھن پھیلائے دل ناتواں کے کونوں میں دھیرے دھیرے سرک رہا تھا۔
’’دیکھو… صباحت لڑکا حافظ قرآن اور میٹرک پاس ہے‘ باپ بھائیوں کا وسیع کاروبار ہے‘ اپنی زمینوں پر لہلہاتے کھیت ہیں‘ اچھا خاصا پھیلا ہوا کاروبار ہے۔ روپے پیسے کی ریل پیل ہے‘ ذرا تعلیم کم ہے تو کیا ہوا؟ دل سے تمام وسوسے اور خدشات نکال کر تم بس ہاں کردو‘ مزید یہ کہ لڑکا شکل کا بھی پیارا ہے۔ اللہ کی قسم گورا چٹا بھی ہے‘ اپنی روحا سے صرف ایک سال بڑا ہے‘ خوب جوڑ رہے گا دونوں کا۔ پھر رشتہ بھی رئیسہ بی بی کے شوہر نے دکھایا ہے‘ بہن ہے تیرے خاوند کی‘ برا تو نہ چاہے گی تیرا۔‘‘ اماں بی نے کافی لمبی چوڑی تمہید کے بعد تمام دلائل رشتے کے حوالے سے سامنے رکھ دیئے تھے اور ارادہ یہی تھا کہ قائل کرکے ہی دم لیں گی صباحت نے وقت مانگ لیا اور روحا نے والدہ سے استخارہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی اس پر بھی کافی لوگوں نے اعتراضات اٹھائے تھے کہ وہ دور گئے جب لوگ استخاروں کی بنیاد پر رشتے کیا کرتے تھے۔ اب تو لڑکے کا کاروبار دیکھا جاتا ہے اور بس ہاں کردی جاتی ہے جانے صباحت بی بی کس دور کی پروردہ ہے؟ ضمیر زیدی جو روحا کے والد کے منصب پر فائز تھے‘ لبوں پر چپ کی مہر ثبت کیے اپنے بیٹوں کی کارروائی دیکھ رہے تھے۔ آتا ہے ناں ایک وقت جب بیٹے باپ بن جاتے ہیں یہاں بھی ایسی ہی صورت حال تھی جبکہ باپ کے تجربے کو کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی‘ اس پر نئی نسل کی یہ جگت… ابا کیا پتہ آپ کو؟ ضمیر زیدی کے سپوتوں کو فکر تھی تو بس یہ کہ جلد از جلد یہ بیل منڈھے چڑھے اور ان کی بھی باری آئے۔ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ اپنی شادیاں تو کرلیں پر بہن کی کوئی فکر ہی نہیں۔ ہائے ری دنیا… جہاں تک روحا کی بات تھی تو وہ اسلامیات کی ماسٹر ڈگری ہولڈر تھی‘ بلا کی ذہین اور خوب صورت‘ سلیقہ بھی اتنا کہ دو کمروں کے مکان میں بھی بغیر قیمتی سازو سامان کے بھی ایسی آرائش کر رکھی تھی کہ دیکھنے والوں کو مزید تزئین وآرائش کی کمی نہ محسوس ہوتی تھی۔
یہ وہ آگ ہے جسے میرے اپنوں نے میرے گرد پھیلا کر میرے باہر نکلنے کی ہر راہ پر میرا ناطقہ بند کردیا ہے۔ میں گھٹ گھٹ کر سانس لیتی ہوں لیکن اس بات کی تسلی بھی ہے کہ سانس تو لیتی ہوں ناں… اجنبی جو شاید اب میرے اپنوں کے خول میں ڈھل چکے ہیں‘ مکڑی کے جالے کی رگوں میں میرے جسم کا ہر عضو پیوست کررہے ہیں۔ یہ تار عنکبوت کا فرش کمزور ہے بہت لیکن میں‘ میں تو اب اس سے بھی زیادہ کمزور ہوچکی ہوں۔ مجھے جن حرفوں کی صداقت پر یہاں لایا گیا ہے‘ مجھے اس کا مان رکھنا ہے‘ اپنے بابا‘ ماں جی کی عفت کو رسوا نہیں ہونے دینا۔ اس جالے کے ریشے ایسے ہیں کہ ان کی باطنی درزوں سے نکلنے والی ہر جھلی میرے قلب نازک کے اندر سوراخ کررہی ہے۔ دھیرے دھیرے… آہستہ آہستہ‘ جب میں ان کے اندر سے نکلنے کا سوچتی ہوں تو ہوا بند ہوجاتی ہے۔ ارے ہوا… تو کب سے عدو بن گئی میری؟ تیری بانہوں میں تو میں نے خوابوں کی سیج سجائی تھی۔ آہ…! یہ بے مروتی پہلے تو تیرا خاصا نہ تھی۔ یکے بعد دیگرے ہر سوراخ پر حجاب گرجاتا ہے۔ حبس زدہ ماحول میں مثل محبوس (قیدی ) میں قید بامشقت جھیلنے پر مجبور ہوں۔ میرے موالا… میرے رب سوہنے… میرے دل کے محرم… میرے رازوں کو پوشیدہ رکھنے والے… مجھے اس آگ سے بچالے کہ میری تمام راہیں مسدود کردی گئی ہیں… اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار…
٭٭٭…٭٭٭
’’ایک نہایت ہی تاریک اور گھنا جنگل ہے جس میں چند ایک اشجار کے تنے خاک پر دراز ہیں اور ان کو سرتاپا برف نے ڈھانپ رکھا ہے اور میں ان کے درمیان تنہا کھڑی ہوں بے یارو مددگار‘ شدید بے بسی کی حالت ہے… شدید جاڑے کے عالم میں بھی میرے جسم میں رتی بھر خنکی کی رمق نہیں… پھر بالکل میرے سامنے ایک راہداری نمودار ہوتی ہے جس کے دونوں طرف سات کمرے ہیں اور ان ساتوں کمروں کے دروازے مقفل ہیں۔ میں ہر دروازے پر تالا‘ جاکر کھولتی ہوں‘ تالے کھلتے جارہے ہیں لیکن آخری دروازے پر میرا ہاتھ سن ہوجاتا ہے بصورت مٹھی بند ہونے لگتا ہے‘ میں پورا زور لگاتی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ بس تالا کھلنے ہی لگا ہے پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔‘‘ روحا نے استخارے کے بعد نظر آنے والا خواب من وعن ایسے ہی اتار لیا تھا‘ نیم وا عین لاشعوری طور پر بند مٹھی پر جمی تھیں۔
بات کوئی سمجھ نہیں آتی… بات اتنی سمجھ میں آتی ہے پسینے میں شرابور جسد خاکی عجب وسوسوں کا شکار تھا۔ خیالات بھی دھند میں لپٹی شام کی طرح دھندلے سے تھے۔ گرین ہیزل آئز میں اندیشے رقص کررہے تھے۔ روشنی قہقہے لگاتی ہر منظر پر اپنا تصرف قائم کرلینے کو تھی پر وہ بستر پر ساکت تھی کہ اٹھا ہی نہ جارہا تھا۔ ہاتھوں کی مٹھی کھل چکی تھی‘ جیسے بند تالا یک دم کھولا جاتا ہے۔ یہ اس کی بیس سالہ زیست میں پہلا دن تھا کہ سات سال کے بعد سے جب نماز سیکھی‘ آج پہلی دفعہ قضا ہوگئی تھی۔ شک کی باڑ اُگی تو تھی لیکن مثبت انداز میں… جانے کیوں؟
اگلے دن طلوع ہونے والا سورج مدھم سا تھا۔ دھوپ چھائوں کا سا موسم تھا فضا میں نہ سمجھ آنے والی سرگوشیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ دھوپ میں کچھ دیر ہلکی سی بارش ہونے کے بعد سورج اپنی اصلیت پر آگیا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹہ نیند لینے کے بعد اس کی آنکھ باہر سے آنے والے قہقہوں کی آواز سے کھلی تھی۔ باہر عبدالطیف اکبر کے گھر والے (رشتے والے) آئے ہوئے تھے۔ اس نے دل میں سوچا کہ کون آیا ہے باہر؟ اور کمرے میں موجود واحد کھڑکی سے باہر جھانکا۔ باہر سامنے والے کشادہ صحن میں اسے دو خواتین نظر آئی تھیں جن کے ساتھ ایک ہٹا کٹا ضعیف مرد بھی موجود تھا غالباً لڑکے کے والد صاحب تھے۔ صباحت نے دستر خوان سمیٹا تھا۔ سب اب منگنی کی رسم ادا کرنے پر اصرار کررہے تھے۔ صباحت بیگم ’ہاں‘ یا ’ناں‘ کی کشمکش میں گھری فلک کی وسعتوں کو گھور رہی تھی۔ آخر کو بہت اصرار کے بعد سب کی رائے سننے کے مرحلے کے بعد تاریخ رکھ دی گئی تھی۔ چھٹی والے دن (اتوار) کو منگی ہونا قرار پائی تھی۔ روحا زیدی کی آج ظہر کی نماز بھی قضا ہوگئی تھی۔ وہ اپنی حالت میں آتے اتار چڑھائو کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ پے درپے آنے والے کاموں کی مصروفیت میں صباحت بھی اس کی نماز کا نوٹس نہ لے سکی تھیں۔
عبدالطیف کے گھر والوں نے تو اسے پہلے ہی دن اوکے کردیا تھا۔ ’’جوان بیٹیاں اور مردہ مچھلیاں‘ یہ دونوں اسٹور روم میں غیر معینہ مدت تک رکھنے کی چیزیں نہیں ہوتیں۔‘‘ یہ اماں بی کا خیال تھا اور اپنے اس خیال سے انہوں نے نہ صرف صباحت کی مکمل تشفی کروائی تھی بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنانے کا قصد کرلیا تھا۔ اماں بی کی طرح رئیس میاں کو بھی شادی کروانے کی جلدی تھی کہ لاکھوں کی نقدی جو وصول کرنی تھی‘ کوئی مرے یا جئے ہمیں تو اپنا فائدہ و نفع دیکھ کر چلنا ہے‘ وہ اسی اصول کی پیروی کررہے تھے۔
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پائوں بھی شل ہیں اور شوق سفر بھی نہیں جاتا
ساری رات نہ سونے کی وجہ سے روحا کی آنکھیں سوجی ہوئی سی تھیں۔ صباحت سے خواب کا ذکر کیا تھا لیکن گتھی کوئی سلجھتی دکھائی نہ دے رہی تھی۔ کچھ صباحت کے بھی ذہن میں تھا کہ اپنے لوگوں نے دیکھا ہے تو ضرور چھان بین کی ہوگی۔ بھائیوں یا والد صاحب نے جانچ پڑتال کے عمل پر اتنا فوکس نہ کیا تھا کہ جہاں والد صاحب کو رئیس میاں پر یقین تھا وہاں بیٹوں کو اپنا مفاد عزیز تھا۔ باطنی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی نہیں گئی تھی اور ظاہری طور پر سب ٹھیک دکھائی دے رہا تھا۔
عبدالطیف چونکہ سات بہنوں کا چھوٹا اور منچلا بھائی تھا سو اس کے لیے وہ ہیرا ڈھونڈنے میں کامیاب ہوچکی تھیں۔ خود کسی حد تک بدسلیقہ تھیں تو کیا ہوا‘ پیارے بھائی کے لیے تو لاکھوں میں ایک سلیقہ مند جوہر منتخب کیا تھا۔ لڑکے اور لڑکی والوں دونوں کی طرف سے تصویر کا تبادلہ ہوا‘ روحا نے دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ ’ہاں‘ تو کردی گئی تھی۔ انکار‘ اور نہیں‘ کی تو ان کے خاندان میں گنجائش نہ نکلتی تھی‘ جب بڑوں نے فیصلہ کردیا تھا تو ’باادب‘ بن کر سر جھکانا ہی تھا۔ عبدالطیف نے بھی ایک نظر تصویر کو دیکھا‘ اپنے حسن پر وہ دوسروں سے زیادہ عاشق تھا۔ کچھ سب گھر والوں کا خیال یہ بھی تھا کہ اگر چند خرابیاں دکھائی بھی دی ہیں تو وہ دولت کی چکا چوند میں چھپ جائیں گی پھر روحا کی منیجمنٹ بھی تو کسی سے کم نہیں سب وہاں پہنچ کر سیٹ کر لے گی گویا اس نے اسلامیات میں نہیں میرج کے کورس میں ماسٹر کرکے ڈگری لی ہو۔
’’اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ‘ کیا چیز ہے؟ اور وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘ حوا کی بیٹی آگ کے قریب تھی‘ آگ بھی وہ جو لفظوں کے نشتر وقفے وقفے سے اس کے سینے میں اتار رہی تھی‘ سسکیوں کی چنگاریاں دیواروں میں لگی اینٹوں کی طرح دب گئی تھیں‘ چشم زدن انگارہ بنی تھیں تو لب آتش کو اوڑھے ہوئے تھے۔ غزال کی سی قلانچیں بھرتی مسکراہٹ نے کب کی خودکشی کرلی تھی۔ سبکیاں بھرتی آہیں دم توڑنے‘ آخری ہچکی لینے کا قصد کیے ہوئے تھیں‘ حوا کی بیٹی دم مرگ تھی اور اجل کا گھوڑا ترس کھانے کے حق میں نہ تھا۔ کوڑے برساتیں صدائیں اس کے تعاقب میں لگی تھیں۔ طعنوں کی برچھیاں اس کے جسم کے ایک ایک عضو سے لہو نچوڑنے پر بضد تھیں۔ لب ہلتے نہ تھے‘ سیپ میں بند موتی کی طرح ساکت‘ شکست کھاتے‘ نڈھال ہوتے‘ یہی گردان کیے جاتے تھے اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار…
کچھ روز سے چہار طرف ہیں شادی و غم کے ہنگامے
سنتے ہیں چمن کو مالی نے پودوں کا کفن پہنایا ہے
ایک نقطہ جوعقدہ‘ لاینحل کی صورت کئی دنوں سے صباحت کے ذہن میں موجود تھا گھر کے مرد حضرات نے آن ہی آن میں تشکیلی مراحل تک پہنچا دیا تھا۔ طے یہ پایا کہ جس گھر میں رشتے کی بات طے ہوئی تھی وہاں روحا نہیں رہے گی بلکہ ان کا جو جہلم میں حویلی نما مکان ہے وہاں وہ اس کو رکھیں گے۔ عبدالطیف کے بھائی اور والد صاحب بھی وہاں پر ہی رہیں گے اور مل کر کاروبار دیکھیں گے۔ سب متفق تھے تو اس کی رائے کیا اہمیت رکھتی تھی۔ ضمیر زیدی صاحب جن کا یہ فرمان تھا کہ ہم اپنی بیٹی کو اپنی گزر اوقات کے مطابق رخصت کریں گے کہ خالی ہاتھ تو کوئی باپ اپنی بیٹی کو رخصت نہیں کیا کرتا لیکن انہوں نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر جہیز دینے کا عزم کیا تھا۔ جیسے جیسے رخصتی کا وقت قریب آرہا تھا ویسے ویسے ایک دوسرے کو فرط جذبات سے دیکھتے چشم نم ہوجاتیں۔؎
کوئی شکوہ کرے تو کیسے…!
ہمارے منہ میں زباں تھوڑی ہے
روحا کے تو آنسو رک ہی نہیں رہے تھے اور یہ آنسو جو اس پر رقت طاری کررہے تھے بچھڑنے کے کم بلکہ اس خوف کے زیادہ تھے جو اسے شادی کے بعد کی زیست کے حوالے سے لاحق تھے۔ بظاہر تو اماں بی نے کہہ دیا تھا عوض معاوضہ گلہ ندارد‘ مگر وقت کب بدل جائے‘ کس کو پتہ ہے؟
تمام فنکشنز بخیرو عافیت احسن طریقے سے سر انجام دیئے گئے تھے سوائے دودھ پلائی کی رسم کے… جس پر دلہا صاحب کے دوستوں اور عزیزوں نے خوب شور مچایا تھا۔ زاہرہ ضمیر جو روحا کی بڑی بہن تھی اس نے دس ہزار کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے پر انہوں نے خوب نخرے دکھائے تھے۔ کافی طویل بحث کے بعد نصف رقم پر بات ٹلی تھی۔ زاہرہ دل ہی دل میں حیرت سے سوچ رہی تھی جانے یہ کیسے امیر لوگ ہیں؟ وہ بھی کوئی بہت امیر گھرانے میں بیاہی نہ گئی تھی لیکن بہرحال جو بھی تھا وہ ایسے کنجوس لوگ نہ تھے۔ اس کے بحث کرنے پر صباحت نے خفگی بھری نظر ڈالی تھی اور اشارتاً رقم لینے سے منع بھی کیا تھا پر وہ زاہرہ ہی کیا جو اپنے موقف سے ہٹ جائے۔ شادی پسند سے لیکن والدین کی مرضی سے کی تھی۔ دبنے والوں میں سے تو وہ تھی نہیں‘ لیکن اسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ بحث قطعاً روحا کے لیے مسرت کا باعث نہ ہوگی جو سجی بنی سنوری بیٹھی تھی۔ ایک دفعہ نظر اٹھانے کے بعد بصد اصرار بھی دوسری نظر ڈالنے کا قصد نہ کیا تھا… جانے کیوں…؟ وجہ جہالت یا ماحول… جو بھی تھا اسے ان لوگوں سے گھن محسوس ہورہی تھی کہ وہ بیاہ کر کسی حویلی میں نہیں بلکہ کسی جھونپڑے کی مالکہ بننے جارہی ہو۔
کبھی دن نہیں‘ کبھی شب نہیں
کبھی لفظ گم‘ کبھی لب نہیں
کبھی بات کرنے کا ڈھب نہیں
کبھی تب نہیں‘ کبھی اب نہیں
یونہی چل رہے ہیں قطار میں
کسی بے زبانی کی مار میں!
کبھی بدنصیبی کی جیت میں
کبھی خوش نصیبی کی ہار میں…!
شب کا نصف پہر گزر چکا تھا مگر گھر میں موجود کوئی بھی فرد آنکھیں بند کرنے کو تیار نہ تھا‘ کیا بڑا کیا چھوٹا سب کی نگاہیں اس پری پر ٹکی تھیں جسے یہ جاننے میں دقت ہورہی تھی کہ آیا وہ شہزادے کی حراست میں ہے یا کسی ظالم دیو کی قید میں آگئی ہے۔
؎رات کا آخری ستارہ ہے!
واہ کیا خوب یہ نظارا ہے!
جگماتے چراغوں سے مزین آسماں پر سب پر سبقت لے جاتے نجم کی طرح ہی تو اس وقت وہ لگ رہی تھی مگر استقبال شایان شان نہ تھا۔ ابھی اسے اسی گھر میں لایا گیا تھا۔ سیڑھیوں کے نیچے‘ جو ایک چھوٹا سا کمرہ تھا اس کے لیے آراستہ تھا۔ نت نئی رسموں کے بعد اسے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔ ٹینشن میں روحا سے کچھ صحیح طرح کھایا بھی نہ گیا تھا۔ ایک ہی زاویے پر اس کی کمر اکڑ چکی تھی۔ کمرے میں گلابوں اور موتیے کی عطر بیزی کی گئی تھی (شکر… یہاں کچھ بہتر محسوس ہوا تھا) لگ رہی تھی‘ گل عذار مثل گلاب دہک رہے تھے۔ اسے بھوک محسوس ہورہی تھی لیکن وہ اب کسی سے کیا کہہ سکتی تھی تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی تھی۔ نظریں اطراف میں دوڑائیں تو حیرت کے سائے سوا ہوئے تھے۔ اس کا سامان آڑھا ترچھا‘ نہایت ہی بے تکے انداز میں رکھا تھا۔ دو آنسو بے اختیاری میں گالوں سے ڈھلک گئے تھے۔ اسے افسوس ہوا تھا۔ کمرہ چھوٹا تھا اور سامان قدرے زیادہ… اس دکھ کو سوچتے سوچتے قبل کہ اس کی آنکھیں نیند کی وادی کو خوش آمدید کہتی‘ دروازے پر کھٹکا ہوا تھا وہ یک دم سیدھی ہوکر بیٹھ گئی‘ وہی نوجوان اندر داخل ہوا تھا جسے وقت رسم لمحہ بھر کو اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا۔ باہر سے قہقہے کے ساتھ آواز ابھری تھی۔
’’عبدل دھیان سے‘ تیری دلہن ہوش اڑا دے گی تیرے‘ کدی بے ہوش نہ ہوجاویں‘‘ عبدالطیف اکبر مسکرایا تھا۔
حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ… دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ!
پہلی نظر نے اسے مبہوت کیا۔ دوسری نظر پڑنے پر چشم تر نے ٹھٹکانے پر مجبور کیا تو تیسری نظر پہ اس نے سنبھل کر لکنت کے ساتھ سلام جھاڑا۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام!‘‘ جواب نرم اور عبدالطیف انداز میں دیا گیا لیکن آواز قدرے دھیمی تھی۔
’’میں پہلے سے کچھ آپ کی ذات پر باور کردینا چاہتا ہوں…‘‘ گویا تمہید باندھی گئی۔ ’’میرے لیے میرے ماں باپ بہت اہم ہیں۔ اس لیے ان کی ہر بات چاہے اچھی ہو یا بری‘ برداشت کرنا ہوگی اور ہر صورت ان کی عزت کرنا ہوگی۔‘‘
’’میں بھی آپ سے اپنے والدین کے حوالے سے یہی توقع اور امید رکھنا چاہوں گی۔‘‘ روحا کے برجستہ جواب پر عبدالطیف قدرے حیرت واستعجاب میں ڈوبا ۔ اس نے عادتاً سر کو خم دیا‘ عین اسی لمحے دونوں کی نگاہیں ملی تھیں۔ عبدالطیف بے خودی کی سی کیفیت میں اس کے قریب ہوا اور وہ اندر ہی اندر سمٹنے لگی تھی۔
’’آپ کے نقش کتنے پیارے ہیں… جگمگاتے ہوئے ستارے ہیں…!‘‘
’’مجھے بہت نیند آرہی ہے۔‘‘
’’مگر پہلے یہ دعا پڑھ لیں‘ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو…‘‘ روحا نے معصومیت اور خوف کے ملے جلے تاثرات طاری کرتے کہا۔
’’دعا تو پڑھا دے مجھے نہیں آتی…‘‘ کچھ دیر پہلے کا ادب واحترام پلک جھپکتے غائب ہوگیا تھا۔ اب اس کے اس طرز تخاطب پر حیران ہونے کی باری روحا کی تھی۔ دعا پڑھنے کے بعد آیۃ الکرسی کی فرمائش کی گئی۔
’’تو معلمہ ہے یا میری دلہن؟‘‘ بات ہنسنے کی تھی لیکن وہ ہنسی نہیں تھی کہیں دور دل کے اندر کھٹکا ہوا تھا۔ ’’کہیں یہ علم سے نابلد تو نہیں…‘‘ ’’مجھے نہیں آتی‘‘ غصے میں لائٹ گل کردی گئی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
عبدالطیف ٹانگیں پسارے پورے بستر پر تسلط جمائے لیٹا تھا اور روحا کب سے غسل کرنے کے بعد سرہانے بیٹھی اس کے اٹھنے کی منتظر تھی۔ آبشار سے لمبے گھنے سنہری بال شان بے نیازی سے شانوں پر بکھرے تھے۔ حسن اپنے تمام ہتھیاروں سمیت عیاں تھا۔ روحا نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر بال سنوارے تو اسے زاہرہ کا بے خودی میں کہا شعر یاد آیا تھا۔
؎’’آپ کو میں نے نگاہوں میں بسا رکھا ہے
آئینہ چھوڑیے‘ آئینے میں کیا رکھا ہے!
میاں جی سے تو ایسی کوئی امید نہ تھی کہ پڑھنے کے معاملے میں وہ نہایت ہی کورا نکلا تھا اور یہ اس کی حلاوت بھری طبیعت پر بڑ ابھاری‘ دھماکہ خیز انکشاف تھا۔ سوچنے‘ پچھتانے کا وقت گزر گیا تھا کہ چڑیاں تو کب کی کھیت چگ گئی تھیں۔ باہر کوئی دروازہ توڑ دینے کے موڈ میں تھا۔ بڑی زور دار دستک ہورہی تھی۔ دستک نے اسے تخیلاتی دنیا سے حقیقت کی روشنی میں دھکیلا تھا۔ اب روحا عجیب مخمصہ میں پھنسی تھی کہ اسے کیسے اٹھائے‘ دروازہ کھولے یا نہ کھولے؟ دروازہ آخر کھل گیا تھا اور کنڈی کا قبضہ ٹوٹ کر نیچے گر گیا تھا۔ اچھی خاصی فربہ خاتون اندر داخل ہوئی تھی جو غالباً اس کی ساس تھی۔
’’عبدل…او عبدل…‘‘ بلند آواز میں وہ کسی بھوکی شیرنی کی طرح دھاڑی تھی۔ روحا ڈر کر یک دم پیچھے ہوئی تھی پچھلے دن کچھ نہ کھانے کے باعث جسم پر نقاہت الگ طاری تھی اور یہاں ایک نیا کھیل‘ نیا بہروپ سامنے آرہا تھا۔ عبدل ماں کے جارحانہ تیور دیکھتے فوراً اٹھ کر واش روم کی جانب لپکا تھا۔ جہاں دروازے کی جگہ ایک بھدے بھورے رنگ کا پردہ لٹک رہا تھا۔ جس کا ایک کونہ بھی پھٹا ہوا تھا۔ ساس صاحبہ اب جاچکی تھیں۔ عبدل کی بہنیں باری باری اندر داخل ہوئیں تو جس کو جہاں جگہ ملی بیٹھ گئی۔ ایک نے دودھ کا گلاس روحا کی جانب بڑھایا‘ جو اس نے بغیر کسی پس وپیش کے غٹاغٹ پی لیا کہ پیاس بھی تو شدید محسوس ہورہی تھی۔
’’دلہن تیرے گھر والے آتے ہوں گے‘ تو جلدی سے تیار ہوجائو‘ پھر ناشتہ سب ساتھ کریں گے۔‘‘ ساس نے پھر سے اندر آکر حکمیہ انداز میں کہا اور ساتھ ہی نندوں کو بھی لتاڑا کہ پھیلاوا سمیٹ لیں۔
’’جی بالکل…‘‘ روحا جواب میں اتنا ہی کہہ سکی تھی۔ عبدالطیف جو ان کے جانے کا ہی منتظر تھا‘ جھٹ سے باہر آیا۔ کسی بھی احساس سے عاری روحا یک دم کھڑی ہوئی تو پشت پر عبدالطیف نے برجستگی سے اس کے بالوں کو چھوا‘ اس اچانک افتاد پر جیسے ہی وہ گھومی تو اتنے قریب ہوگئی کہ دونوں باآسانی ایک دوسرے کے لمس سے آتی سانسوں کی مہک محسوس کرسکتے تھے۔ مہندی سے سجے ہاتھوں کو عبدالطیف نے اپنے بھاری دست کی آہنی گرفت میں لیا تھا۔ مرتعش انگلیوں میں ارتعاش نمایاں تھا۔
مرمریں ہاتھ میں حنا دیکھی
ہم نے بھی قدرت خدا دیکھی
اس کے گیسو کھلے ہیں جب جب بھی
رقص کرتی ہوئی ہوا دیکھی…!
ہنگاموں سے پر سحر کے گیارہ بجے تھے۔ ناشتے میں حلوہ پوریاں‘ چنے نان‘ بلیک فوریسٹ کیک اور لذیذ مٹھائی جیسے لوازمات موجود تھے۔
ناشتہ آنے کے بعد سب بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑے تھے۔ زاہرہ تحیر سی کھڑی روحا کی حالت زار کا جائزہ لے رہی تھی جس کے بتائے بغیر بھی اس کے منہ کے زاویے طبیعت کی خرابی کا عندیہ دے رہے تھے۔ بہرکیف اسے تسلی تھی کہ مکلاوے کی رسم کے مطابق روحا نے ان کے ساتھ ہی جانا تھا۔ روحا نے کھانا تو کیا کھانا تھا بس جلدی جلدی جانے کی تیاری پکڑلی۔
’’توکہاں جارہی ہے؟‘‘ عبدالطیف نے اسے گھما کر پوچھا جو بیگ میں کپڑے رکھ رہی تھی۔
’’آپ بھی تو چلیں گے ناں؟‘‘ قدرے معصومیت سے پوچھا۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتا۔
’’عبدل…‘‘ کی پکار پر باہر ماں کی سننے بھاگا۔
’’کہہ دینا‘ دلہن بیگم سے ایک دن سے زیادہ رکنے کی ضرورت نہیں اور ہاں تو بھی چھوڑ کر بس آنے کی کرنا‘ آگئی سمجھ؟‘‘ عبدالطیف نے سمجھدار بچے کی طرح گردن ہلادی تھی۔ وہاں پہنچ کر عبدالطیف مؤدب طریقے سے روحا کے والدین سے ملا تھا‘ جسے دیکھ کر روحا جی جان سے خوش ہوئی تھی۔ بظاہر سب ٹھیک ہے‘ کا ٹیگ اس کی پیشانی پر دکھائی دے رہا تھا۔ روحا نے ڈٹ کر ناشتہ کیا۔ دوا لی اور پھر سوگئی۔ زاہرہ کے کریدنے پر بھی اس نے ٹال دیا کہ اب رہنا تو عبدالطیف کے ساتھ ہی تھا‘ بھرم رکھنا ضروری تھا پھر شام کو واپسی بھی ہوجانی تھی۔
’’سنگریزوں میں ڈھل گیا آنسو… لوگ ہنستے رہے دکھانے کو! زیست کے سخت دن تو اب شروع ہوئے تھے۔ روحا پر یہ عقدہ کھل کر سامنے آگیا تھا اور یہ شدید دھچکا لگنے والی بات تھی کہ اسے آیۃ الکرسی تو کیا ایک آیت بھی صحیح سے نہ آتی تھی حافظ قرآن پھر وہ کیسا تھا؟ مزید دس جماعتیں تو کیا اس نے تو اسکول کی شکل بھی نہ دیکھی تھی۔ وراثت میں کسی زمین کے مالک نہ تھے‘ سچ تھا تو آدھا‘ شاید آدھے سے بھی کم‘ سبزیوں کا اچھا چلتا کاروبار تھا اور گائوں بھی ایک عدد تھا جہاں سے پھل آیا کرتے تھے‘ بشمول عبدالطیف وہ تین بھائی اور کل سات بہنوں پر مشتمل خاندان تھا۔ تمام بہنیں شادی شدہ‘ جبکہ بھائیوں میں سے بڑے کی شادی ہوگئی تھی۔ منجھلے کی بات ٹھہری ہوئی تھی۔ تیسرا عبدالطیف بذات خود تھا‘ سب سے بڑی وحیدہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی‘ دوسری کے پانچ بیٹے (نسیمہ کی اسی وجہ سے اپنے سسرال میں ویلیو بھی بہت تھی) تیسری اور چوتھی کے دو‘ دو جو کہ لڑکا اور لڑکی تھے۔ باقی تین شہر سے باہر بیاہی گئی تھیں۔ شادی ہوئے زیادہ وقت بھی نہ گزرا تھا فی الحال اولاد کے جھنجٹ سے آزاد تھیں۔ عبدالطیف کی شادی سے فراغت پاتے ہی تینوں گھر بھی چلی گئی تھیں جبکہ چار بڑی صاحبزادیوں کے جانے کا کوئی ارادہ نہ لگتا تھا‘ روحا نے جیسے تیسے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا اور سمجھوتہ تو اچھی بیٹیوں کی سرشت میں شامل ہی ہوتا ہے۔ ’’سب ٹھیک ہے اور میں خوش ہوں۔‘‘ کہ اچھی اور فرماں بردار بیٹیاں تو ایسی ہی ہوتی ہیں ناں‘ روحا کے گھر پہنچنے سے اگلے دن ہی اس کا ہاتھ لگوا دیا گیا تھا۔ دیگچہ بھر کر کھیر بنوائی گئی تھی‘ جس میں سارا دن ہی تقریباً لگ گیا۔ بوقت شام لب آفتاب جب فلک شفق کی سرخی سے خود کو سجاتا ہے‘ اس کے گھر بھی کھیر پہنچائی گئی۔ کھیر دیکھ کر زاہرہ کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ اس نے تو مہینے بعد کچن کا رخ کیا تھا اسے ابھی سے کام پر لگا دیا گیا۔ اس کی حیرت کا جواب صباحت نے یہی دیا تھا۔
’’کچھ فرق نہیں پڑتا… روحا نے بعد میں بھی تو کام کرنا تھا نا‘ تو کیا ہوا اگر ابھی سے شروع کردیا۔‘‘ زاہرہ کو پھر بھی بات ہضم نہ ہوئی تھی لیکن وہ بولی کچھ نہیں۔ بوقت شام اگلے دن اس کی بھی اپنے شوہر اور دو عدد بچوںکے ساتھ پتوکی واپسی تھی۔
’’ماں جی اپنا بہت خیال رکھنا‘ میں آپ کی خیریت لیتی رہوں گی۔ روحا کو سیل رکھنے کی اجازت نہیں تو عبدالطیف بھائی کے فون یا پی ٹی سی ایل پر اس کی خیریت دریافت کرنا پڑے گی۔ اللہ کرے! وہ شادو آباد رہے اپنے گھر پر…آمین۔‘‘ جاتے جاتے وہ کہنا نہ بھولی تھی۔ اس کا لہجہ تشویش کا عنصر لیے اور دل اندیشوں میں گھرا ہوا تھا۔
ستارے سسکیاں بھرتے تھے‘ اوس روتی تھی
فسانۂ جگر لخت لخت ایسا تھا!
عبدالطیف نے روحا کو اپنی ماں کا حکم ان الفاظ میں سنایا تھا۔ ’’دیکھو… اب تم اپنے گھر چلی گئی ہو‘ آئندہ جانے کی ضد مت کرنا‘ اب یہی تمہارا اپنا گھر ہے۔ اگر اپنے گھر کے کسی فرد سے بات کرنی ہے تو میرے سیل فون سے کرنا میرے سامنے‘ جس چیز کی ضرورت ہو‘ بلاجھجک مجھ سے کہہ سکتی ہو مگر کمرے میں… تنہا تم نہیں بیٹھوگی اور ہمیشہ سب کے ساتھ مل کر بیٹھنا۔‘‘ بات ختم ہونے پر روحا کا کب سے رکا سانس بحال ہوا تھا۔ عبدالطیف کی بہنیں باپ کے گھر دھرنا مارے موجود تھیں۔ محلے کی عورتیں رشک وحسد سے روحا کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
’’عبدل کی تو لاٹری نکل آئی…!‘‘ ایک عورت نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوئے کہا۔ ’’یہ ہیرا کہاں سے ڈھونڈا عبدل کی ماں؟‘‘ ایک نے خالص دیہاتی انداز میں کمر پر ہاتھ جما کر پوچھا۔ روحا کی سماعتوں پر ان فقروں نے کوئی تاثر نہ چھوڑا تھا۔ خوشیاں تو وہ بابل کی دہلیز پر ہی گروی رکھ آئی تھی۔ کوئی کچھ بھی کہے کیا فرق پڑتا تھا۔ اب تو بس زیست کے ایام پورے کرنا تھے۔ صبح‘ دوپہر‘ شام کچن میں اس کی ڈیوٹی تھی کہ بہنوں کو آخر کو اپنے گھر چلے ہی جانا تھا۔ ماں کی شہ الگ تھی پھر ان کے تو عیش کے دن گزارنے کے موڈ تھے۔ روحا کے گھر سے کوئی فون آتا تو اس کی بات برائے نام کروائی جاتی بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے ٹال دیا جاتا۔ شاذ شاذ ہی میاں کی موجودگی میں بات ہوپاتی۔ اس وقت بھی اسپیکر آن ہوتا اور سب اس کی گفتگو کا مزہ لیتے۔ والدین کے گھر جانا اس کے لیے گناہ قرار دے دیا گیا تھا خود وہ بھی سماعت اور بصارت کو چپ کی ڈوز وقتاً فوقتاً دیتی رہتی تھی۔
اب اس کی جلد وقفے وقفے سے جھلسنے کے مدارج سے گزر رہی تھی۔ عضلات سکڑنے کا کام کرتے پر ریلیکس نہ ہوپاتے کہ بدن سے اٹھنے والی ٹیسیں سینہ کوبی شروع کردیتیں مگر آگ کی تپش کم نہ ہوتی۔ روتی‘ بلکتی‘ چیخیں‘ آہ وفغاں کرتی آہیں‘ سینہ چاک کردیتیں‘ جیسے جیسے کوئلے پھینکے جاتے وہ مزید بھڑک اٹھتیں‘ سانسیں عزلت نشین ہوجاتیں۔ بانہیں ممتا کی آغوش مانگتیں‘ لیکن اسے اس آتش میں اکیلے ہی جلنا تھا۔ اکیلے ہی مرنا تھا کسی کو کیسے پکارتیں۔ بس سیخ پا لبوں پر اک ہی پکار جاری تھی۔
اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار…
’’یار عبدل تیرا تو فری میں بمپرپرائز نکل آیا ہے‘ اتنی پڑھی لکھی‘ سگھڑ خوب صورت بیوی مل گئی ہے تجھے‘ یار کوئی ہمارے لیے بھی ڈھونڈ دے ایسی پری۔‘‘ عبدالطیف کے جگری یار امجد نے ڈرنک کرتے مدہوشی کے عالم میں کہا۔ وہ اپنی ماں کا ایک ہی مادھو لال تھا کہ جو دوستوں سے بھی کچھ چھپانے کی سعی نہ کرتا پھر ایسی بیوی کے بارے میں بتانا تو اس کے لیے تفاخر کی علامت تھی۔ ایسی باتوں پر عبدالطیف کا سر فخر اور تفاخر سے مزید تن جاتا۔ ماں‘ بہنوں کی باتوں پر تو وہ صدق دل سے ایمان لے ہی آیا تھا‘ اس کو دبا کر رکھنا ہے‘ روحا تیرے سے زیادہ خوب صورت‘ قابل نہیں‘ پھر ہر دور میں مردوں کا پلڑا بھاری رہا ہے اور رہے گا۔‘‘ یہ سوچتے وہ یکسر فراموش کر گیا تھا کہ جب اونٹ پہاڑ کے نیچے سے گزرتا ہے تو اپنی بڑائی بھول جاتا ہے اور اللہ کو بھی تو عاجزی پسند ہے جو اپنے بڑے پن پر فخر کرنے لگتا ہے۔ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے‘اللہ بننے لگتا ہے تو اللہ پھر اس شخص سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ فرعون کے عبرت ناک انجام سے کون واقف نہیں؟ پر وہ تو جاہل تھا نا…
عطسہ شب (پوپھٹنے) کا وقت تھا۔ گردو نواح میں طائروں کی شوخ شرارتیں باد صبا کو مزید جھومنے پر مجبور کررہی تھیں۔ رسیلے گیت دن چڑھے سنائی دے رہے تھے۔ چرنے والے جانور زندگی کی خوبیوں اور لذتوں میں مسرور چراگاہوں میں پھر رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا‘ جب وہ نطشے یاروسو کی کتاب پڑھتے خوابوں کے جزیرے پر چہل قدمی کرتے گزارا کرتی تھی لیکن وہ یہ بھی بخوبی جانتی تھی کہ اپنی زبان بند رکھنی چاہیے جب تک مچھلی کا منہ بند رہتا ہے‘ وہ کانٹے کی گرفت میں نہیں آتی۔
ابھی خواب ہے
یہ طویل خواب محیط سیکڑوں کائناتوں کے عہد پر
یہ طویل سرد عذاب
جس میں سیاہ رنگ کی برف گرتی ہے آرزوئوں کی سیج پر‘
یہ خوف‘ یہ مدار اپناآپ نحیف سا
وہ پہاڑ جس کا نہ سر‘ نہ پیر‘ نہ جاں‘ نہ دل
مگر ایسے بازو کہ ایک بار دبوچ لیں تو کسی کا کچھ بھی نہ بن پڑے…
کیا اس کے بھی کبھی خواب تھے اور اگر خواب تھے تو ان کی تعبیریں شاید مردہ تھیں یا نیم جاں حالت میں پڑی تھیں‘ کیا یہ شخص جو کاتب تقدیر نے اس کے نصیب میں لکھ دیا تھا اس کا اپنا تھا‘ کیا اسے اس شخص سے محبت تھی؟ ہاں اگر محبت نہیں تھی تو اب ہوگئی تھی۔ اس کے لیے شواہد کافی تھے کہ وہ سارا دن اس کی ماں کے طعنے سنتی تھی‘ اس کی گالیاں برداشت کرتی تھی‘ سارا کا سارا وقت اس کی بہنوں‘ بچوں کی خدمت گزاری میں گزر جاتا تھا‘ وہ روحا جو دن میں کئی دفعہ بال سنوارا کرتی تھی‘ اب یہ کام بمشکل دن میں ایک ہی دفعہ کرپاتی تھی اور اس پر سختی سے کاربند بھی تھی۔ منہ دھونا وضوکی حد تک تھا اور یہ وہ کام تھا جو وہ دن میں پانچ سے زیادہ دفعہ کرتی تھی۔ وہ خوب صورت تھی لیکن اس بات سے لاعلم کہ اس کا حسن فتنہ خیز تھا۔ سروقد سراپا فتنہ خیز حسن… ہر برگ وبرنے دہائی دی ہے… جوانی قیامت تھی۔ آنکھیں پُرسکوت تاروں کی تابناک روشنیاں تھیں‘ ہونٹ قندھاری انار تو ناک لچکیلی شاخ کی مانند بالکل سیدھی تھی۔ کان کی لوئوں میں موجود بالیاں اور ائیر رنگز سیپ میں پروئے موتی دکھتے تھے سنہرے لمبے گھنے بال کھلتے تو آبشاریں منتشر لگتیں۔ قدو قامت سرو کی مانند تھا پھرکون کافر تھا جو اس پر نہ مرتا‘ پر شاید نہیں یقینا عبدالطیف اکبر کو اپنے حسن پر زیادہ زعم تھا جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ ماں بہنوں نے پوری کردی تھی‘ اس طرح کہ عبدالطیف اکبر کو روحا کے قریب پھٹکنے نہ دیتی تھیں۔ صرف شب کے سناٹے میں جب صرف دیواریں سرگوشیاں کرتی ہیں اور ہوائیں سنتی ہیں۔ سائے متحرک ہوجاتے ہیں‘ اس وقت وہ روحا کے پاس آیا کرتا تھا اور روحا کو تو جیسے اسے دیکھ کر قرار آجاتا تھا۔ اس کا دن اگر اسے سوچتے سوچتے کٹتا تھا تو شب کا نصف حصہ بھی ایسے ہی پر لگا کر کسی غریب الوطن طائر کی طرح جو مسکن کی تلاش میں سرگرداں ہو‘ گزر جاتا تھا‘ وہ اسے دیکھ کر اس کا نقش نقش ازبر کیا کرتی اور وہ اکثر اس کے گل گوں عارض کو چھو کر کہتا۔
’’میں تم سے زیادہ خوب صورت ہوں۔ تم سے کم نہیں۔‘‘ بلاشبہ وہ یقین دہانی کا یہ پہلو اپنے آپ کو زیادہ کرواتا تھا‘ اپنے اس ضمیر سے بھی جو صداقت کا پیروکار تھا۔ انہی سوچوں میں گم ڈھیر کا ڈھیر اس نے کپڑوں کا دھو ڈالا۔ تمام کپڑے بھی پھیلادیئے وقت کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ اب اس نے گھر بھر کے لیے کڑی پکانی تھی کہ بیسن کا آمیزہ تو وہ کپڑے دھونے سے پہلے ہی تیار کرچکی تھی۔ وہ خالی بالٹی اور ٹب اٹھا کر نیچے کچن کی طرف گئی جو اتنا بڑا تھا کہ اس میں ماسوائے ضرورت کی اشیاء کے صرف ایک فرد ہی سما سکتا تھا۔ کچھ قدم سیڑھیوں سے اترتے اس کی نظر وسط میں لگی کھڑکی پر پڑی تھی‘ وہاں اس نے گلی میں مزے میں بے فکری سے کھیلتے ننگ دھڑنک بچوں کو دیکھا‘ گولے کھاتیں‘ خوش گپیاں کرتیں اپنے پراندے کو جھلاتیں بچیوں کو دیکھا تو وہ گھو سی گئی اور اسے عہد رفتہ کی تلاش میں ازخود رفتہ یاد آئی تھی۔
یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن چین سے
بنتے ہیں شمع زندگی!
اور ڈالتے ہیں روشنی!
میرے دل صد چاک پر!
وہ انہی خیالوں میں منہمک رہتی کہ جہاں آرا (ساسو ماں) چیختی ہوئی اس کے سر پر آن پہنچیں۔
’’شریف گھرانے کی بہووئیں اس طرح کھڑکیوں سے باہر نہیں جھانکا کرتیں۔ کون سا تیرا یار بیٹھا ہے‘ جسے تو ڈھونڈ رہی ہے‘ آنے دے عبدل کو‘ وہی تیرے پیچ جو ڈھیلے ہورہے ہیں اچھی طرح کسے گا۔ توبہ… توبہ ایسے شریف زادیوں کے یہ لچھن نہیں ہوتے۔‘‘ دن بھر جن کی کمر اور ٹانگیں درد سے ادھ موئی رہتی تھیں اب وہ آدھی سے زیادہ سیڑھیاں ایک ہی سانس میں چڑھ کر اوپر آگئی تھیں۔ کانوں کو ہاتھ لگاتے کڑی نظروں سے گھورنے کا عمل جاری تھا۔ گمان فاسد یہی تھا کہ بہو رانی اپنے حسن سے ان کے جانشین بیٹے کو اپنے تصرف میں لے لے گی۔ جہاں آرا نے اس کی لمبی چٹیا دوپٹے سمیت کھینچی‘ اس سے قبل کہ وہ اپنا توازن برقرار رکھتی اس کے ہاتھ سے ٹب اور بالٹی دور لڑھکتے جا گرے بالٹی ان کی بڑی بیٹی کے پانچ سالہ محسن کے پائوں پر لگی جو زینے کے ساتھ ٹیک لگائے مگن انداز میں کھڑا تھا۔ اب اس کا زور دار باجا بغیر بریک کے شروع ہوچکا تھا‘ ٹب میں ٹوٹنے کی وجہ سے وسط میں ایک گہری لکیر نمودار ہوگئی تھی۔ ساسو ماں صلواتوں کی یلغار کرتیں‘ پٹخ پٹخ کر نیچے قدم رکھتی جارہی تھیں‘ چور کی ڈاڑھی میں تنکا… انہیں اپنے کیے پر کوئی ندامت نہ تھی۔ کئی موٹے موٹے آنسو اس کے رخسار پر رستہ بناتے ننھی ننھی شاخ سے بچھڑی کلیوں اور زرد پتوں کی طرح بکھر گئے تھے۔
؎کبھی آنسو بن کے برستی رہتی ہیں بارشیں…!
وہ ضبط کے کون سے مرحلے پر تھی اسے خود نہیں معلوم تھا‘ ہر وقت باتیں کرنے والی تتلی چپ کی داسی کیسے بنی‘ کسی کو علم نہ تھا اور وہ بھی کہاں چاہتی تھی کہ یہ سب کسی کو پتہ چلے وہ بخوبی عمرؓ کے اس قول پر عمل پیرا تھی۔ ’’جو اپنا راز چھپاتا ہے وہ اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔‘‘ لہٰذا وہ اپنا اختیار اپنے رب کو دے چکی تھی۔ روحا ناسمجھی کے سے عالم میں زہر کی سی تلخیوں کو اپنے سینے کے اندر اتارتے واش روم کی جانب چلی گئی تھی کہ کمرے میں جانا تو عبث تھا‘ جہاں عبدالطیف کی دوسری بہن نسیمہ کے چھٹانک چھٹانک کے بچے جن میں صرف ایک یا دو سال کا فرق تھا دھما چوکڑی مچا رکھتے تھے۔ بیڈ شیٹس اور تکیوں کا حشر نشر کرنا ان کے محبوب مشغلوں میں سے ایک تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے عبدالطیف کی منت سماجت کرکے واش روم کے سامنے لکڑی کا ایک خستہ حال دروازہ لگوا ہی لیا تھا۔ اب دل ودماغ میں شوریدہ جھونکوں کی صورت اداسی نے بمباری شروع کردی تھی۔ آنسو سیلاب ہوگئے تھے۔
؎کہا نہ تھا اسے مت ضبط کرنا
وہ آنسو اب سمندر ہوگیا ناں!
پھر سے اپنی ذات کو مستحکم کرتی وہ باہر نکلی تھی‘ کڑی چڑھائی تھی‘ پھر درجن کے حساب سے روٹیاں پکائیں سب وحشیوں کی طرح طعام پر پل پڑے تھے جیسے پہلی دفعہ کھا رہے ہوں۔ روحا کا منجھلا دیور اپنی بیوی کے ساتھ کچھ دیر پہلے آیا تھا۔ سب مووی دیکھنے بڑے کمرے میں جمع ہوگئے تھے جہاں اس کے ہی فل سائز ٹی وی پر کبھی خوشی کبھی غم لگائی جارہی تھی کلیم (دیور) کچن کے سامنے سے ہی موڑھا رکھ کر بیٹھ گیا تھا‘ کھانے کے بعد چائے کی فرمائش کو پورا کرنا لازم وملزوم تھا۔ فی البدی برتن چمکانے کے بعد روحا اب چائے تیار کرنے میں لگی تھی۔ کلیم کا دھیان اسی کی جانب لگا تھا۔ اب وہ سرتا پا اس کے طول وعرض کا ٹکٹکی باندھے معائنہ کررہا تھا‘ جس نے خود کو چادر میں اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ پسینے کی بوندیں پیشانی پر بصورت اوس جمی تھیں۔ روحا کے لیے اس کی یہ حرکت سخت گرانی کا باعث بن رہی تھی لیکن برداشت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ یہاں سب نابینا تھے لیکن اسے آنکھیں کھول کر پھونکتے قدم رکھنا تھا‘ کلیم یک دم اٹھا (ابلیس سنہرے موقعے ہاتھ سے کب جانے دیتا ہے) کچن کے دروازے کے قریب آکر اس نے موبائل سے ایک ٹیون لگائی تھی۔ چاند سے چہرے کا صدقہ تو اتارا کیجیے… مشورہ ہے یہ میری جان گوار اکیجیے…! گانے کے بولوں کے ساتھ اس کے لب بھی حرکت میں آگئے‘ عین اسی لمحے ایک آواز سختی سے بند ہوتے کواڑ کی مانند اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’کچھ چاہیے آپ کو؟‘‘ روحا دہکتے رخساروں کے ساتھ اس کی جانب گھومی اور کرختگی سے دریافت کیا۔
’’جی میں… میں… وہ… مجھے…!‘‘ کلیم بوکھلایا تھا اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں چائے کی فرمائش کی۔ ’’آپ نیچے جاکر اپنی بیگم کے پاس بیٹھیے میں لے کر آتی ہوں چائے۔‘‘ لہجے میں سختی بدرجہ اتم موجود تھی۔ کچھ تھا جو مردوں کو اس سے فاصلے پر رہنے پر مجبور کرتا تھا۔
’’ہونہہ… جانے کیا سمجھتی ہے خود کو حسن کی دیوی!‘‘ کلیم نے نخوت سے سر جھٹکا ۔ روحا چائے نیچے لے کر جانے لگی تو اسے راہداری میں موجود بیل کی آواز نے رکنے پر مجبور کردیا۔ اچانک کسی خیال کے آتے ہی وہ فون سننے پہنچ گئی۔
’’کیسی ہو میری جان روحا‘ ٹھیک تو ہونا‘ ایک دن بھی تیری ماں چین سے نہیں سوئی۔‘‘ صباحت روحا کی آواز سنتے ہی شروع ہوچکی تھیں۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں امی‘ آپ اپنا خیال رکھا کریں‘ میری فکر میں دبلی مت ہوجائیے گا۔‘‘ لہجے کو قدرے نرم کرتے ہشاش بشاش انداز میں اس نے جواب دیا۔
’’میرے بچے کچھ دن کے لیے آجا‘ تیری ماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘‘ زخم خوردہ سی آواز تھی۔
’’جی امی… میں کوشش کروں گی۔‘‘ نہایت پژمردگی سے فون واپس جگہ پر رکھ دیا تھا۔ وہ انہیں کیا بتاتی کہ اللہ کے بعد ایک ماں ہی تو یاد آتی ہے‘ بہت سی باتیں ہم صرف سوچ سکتے ہیں کہہ نہیں پاتے‘ پھر ہرچیز کا ایک وقت مقررہ بھی تو ہے۔ نیچے سب اپنی خوش گپیوں میں مست فلم دیکھنے میں مگن تھے۔ اس نے دوبارہ چائے گرم کرکے کلیم کے بیٹے آصف کے ہاتھ بھجوادی تھی۔ بڑے تو اسے خاطر میں نہ لاتے تھے پر بچے سب اس پر دل وجان سے فدا تھے‘ پھر سب آنکھیں رکھنے والے اندھے تو نہیں ہوتے۔ ایک اور دن واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا تھا‘ جمود کی یہ کیسی کیفیت تھی جس سے وہ خود بھی نابلد تھی۔
شب کا سایہ پھیلنے لگا تھا‘ روشنی کا گلہ گھونٹ دیا گیا تھا‘ حسب معمول تارے فلک کے آنگن میں روشنی بکھرائے جگمگا رہے تھے۔ چاند سحاب کے آسرے پر تھا‘ جو کب سے اسے اپنی گرفت میں لینے کو بے چین تھا‘ سورج ڈوب گیا تھا۔ اداسیاں مسرتوں کو ہضم کرچکی تھیں۔ جیسے اندھیرا اجالے کو نگل لیتا ہے۔ وہی ماحول‘ وہی پُرسکوت خامشی اور اس خامشی کو چیرتی بھانت بھانت کی مختلف کتوں کے بھونکنے کی آواز خواب ناک ماحول کو خوف ناک بنارہی تھی۔
کبھی سن سکوت کی سسکیاں
تجھے بات کرنا محال تھا…!
مرے اردگرد جو ہورہا ہے سکوت‘ تیرا ہی روپ ہے
مرے سر پر چیخ رہی ہیں جو یہ خموشیاں تیری دھوپ ہیں
تجھے بات کرنا محال تھا
تو یہ ہر طرف مرے چار سو تیرے لفظ بکھرے ہوئے ہیں کیوں
کوئی شک تو کوئی یقین ہے
کوئی پیار ہے تو کوئی فریب کا لفظ ہے
مرے راستوں میں جگہ جگہ
تیری ان کہی کے
گڑے ہیں بت
کوئی ہنس رہا ہے کھڑا کھڑا
کوئی رو رہا ہے پڑے پڑے
یہ ہوا جو پنجے اچھال کے
مرے بال کھینچتی ہے کبھی
کبھی دھپ سے پیچھے دھکیل دیتی ہے راہ سے
تو یہ بت لرزتے ہیں رحم سے‘ ذرا دیکھو تو…
عبدالطیف شدید غصے میں اندر داخل ہوا تھا۔ روحا جو کمرے کا پھیلاوا سمیٹنے کا سوچ رہی تھی کہ کہاں سے شروع کروں‘ درد کی وجہ سے جوڑ جوڑ ویسے دہائی دے رہا تھا۔
’’آج کیا کرتی رہی ہے سارا دن‘ یہ تیرے باپ کی کمائی نہیں ہے‘ جسے تو مزے سے غارت کررہی ہے۔‘‘ شدید طیش کے عالم میں اس کے نتھنے پھول گئے تھے۔
’’دیکھیں عبدالطیف بات وہ نہیں… جو…!‘‘ اس سے پہلے کہ حواس باختہ سی روحا اپنا جملہ مکمل کرتی‘ ایک زور دار طمانچہ اس کے رخسار پر اپنا نشان ثبت کر گیا تھا۔ یہ وہ پہلا تھپڑ تھا جو اسے صبر کے نتیجے میں بصورت ثمر ملا تھا۔ اس کی ماں کے منہ سے نکلے لفظ راستے میں ہی پرورش پاگئے تھے۔ کاش یہ شخص بے ادب اور بے غیرت کی بجائے باادب اور باغیرت بھی ہوتا۔ وہ روئی نہیں تھی اس نے اپنے سب آنسو قلبی توشہ دان کے حوالے کردیئے تھے۔ اس نے کسی سے شکایت نہیں کی۔ ہاں شب کے نصف پہر کے بعد وقت تہجد اس نے اپنے رب سے دعا مانگی تھی اور وہ مستجاب ہوگئی تھی۔ نماز فجر اور بعد از تلاوت کے وہ لیٹ گئی۔
؎نظر آتے ہیں وہ کچھ مہرباں سے
گرے گی کوئی بجلی آسماں سے!
عبدالطیف گھر پر ہی موجود تھا۔ جانے یہ کیسے معجزہ ہوا تھا؟ وہ محتاط اور جہاندیدہ انداز میں نیم وا آنکھوں سے اسے شیشے کے سامنے بال سنوارتے دیکھ رہی تھی۔ روحا کے گھر والے اسے بلاتے‘ اصرار کرتے تو وہ ٹال دیتی‘ سختی سے منع کردیتی‘ وہ کسی کو بھی اپنے حالات کی بھنک نہ پڑنے دینا چاہتی تھی‘ پھر ماں باپ تو بیٹی کی خوشی میں ہی خوش تھے۔
’’اٹھ جائو میں تمہارے لیے یہ اسکارف لے کر آیا ہوں‘ تمہاری والدہ کی طرف ایک چکر لگا آتے ہیں۔‘‘ روحا سے خوشی میں بولا ہی نہیں جارہا تھا۔ اس نے کسی معصوم بچے کی طرح اسکارف پر ہاتھ پھیر کر اوڑھ لیا تھا۔
’’مجھے محسن نے بتادیا کہ کل کیا ہوا تھا؟ اب تم بے فکر ہوکر جلدی سے تیار ہوجائو بس۔‘‘ عبدالطیف اس کے چہرے پر کھلتے رنگوں کو دیکھ کر مدہوش سا ہوا تھا۔ اس نے جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اس کے سینے سے بنا کسی مزاحمت کے جا لگی تھی۔
؎چاندنی اس کا بدن‘ چاند ہے اس کا چہرہ…!
دھان کی کھتیاں‘ آنکھوں کے حسین تھال اس کے!
’’اسے چھوڑ کر خود واپس آجانا اور واپسی شام تک ہوجانی چاہیے۔‘‘ گھر سے باہر نکلتے ہوئے بھی ان کو ساسو ماں نصیحت کرنا نہ بھولی تھیں۔
٭٭٭…٭٭٭
صباحت کی ٹانگ بری طرح زخمی تھی۔ وہ چڑیوں کے کونڈے میں پانی ڈالتے ہوئے لکڑی کی سیڑھی کے سرکنے کی وجہ سے بری طرح گری تھیں‘ اب درد سے کراہ رہی تھیں۔ عبدالطیف نے مختلف سبزیاں‘ سیب اور انار کے بھاری بھرکم شاپر روحا کے حوالے کیے اور فریج میں رکھنے کو کہا۔
’’آج روحا کو یہی چھوڑ جا بیٹا کل آکر لے جانا۔‘‘ صباحت دریدہ سی آواز میں مخاطب تھیں۔
’’جی اماں… جیسے آپ کا حکم۔‘‘ عبدالطیف نے تابعداری سے گردن ہلاتے تائید کی تھی۔ دل ہی دل میں غصہ عود کر آیا۔ وہ کچن میں روحا کے پاس گیا اور سختی سے اپنا حکم صادر کیا۔ گویا اپنی جون میں لوٹ آیا تھا۔ ’’اب تو میں تمہیں چھوڑے جارہا ہوں آئندہ اگر آئی تو ہمیشہ کے لیے یہاں رہنا۔ طلاق کے کاغذات بھجوادوں گا بس یہ پہلی اور آخری دفعہ ہے۔‘‘ اس نے شہادت کی انگلی اٹھا کر گویا اسے متنیہ کیا تھا۔ عبدالطیف اپنی کہہ کر باہر نکل گیا تھا۔
’’خوشی اتنی مختصر بھی ہوتی ہے؟‘‘ دل میں ہوک سی اٹھی تھی۔ اپنے محبوب شوہر کی بات سن کر اس کے نہ صرف اوسان خطا ہوئے تھے بلکہ چائے بھی چھلک گئی تھی۔ گرما گرم چائے کی تپش کا احساس کہیں نہ تھا ہاں اس کے لہجے کی تپش اندر ہی اندر سلگا رہی تھی۔
’’امی جان… آپ زاہرہ کو بلوالیتیں۔ اصل میں میری ساسو ماں بھی تو جوڑوں کی مریض ہے ناں‘ کہیں وہ غصہ نہ کریں۔‘‘ روحا نرمی سے مرہم لگاتے آہستہ آواز میں بولی۔
’’جب روحا نہیں تھی تب بھی تو اس کی کوئی نہ کوئی دیکھ بھال کرتا ہوگا نا‘ زاہرہ پریگنینٹ ہے میرے بچے‘ سفر منع ہے اسے‘ ورنہ اس کو ہی بلانا تھا۔ تیری طرف سے بھی تو یہ دل ہولا رہتا ہے پھر تیری دید کی تڑپ بھی بیقراری بڑھا دیتی ہے‘ سو تجھے بلالیا‘ کیا غلط کیا؟‘‘ صباحت تھوڑی خفگی سے مخاطب ہوئی تھیں پھر روحا نے اپنے معاملات کی ڈوری اس لم یزل کے سپرد کی کہ جو تھام لے تو کوئی گرا نہیں سکتا۔
کبھی سوچ جان تو کن درختوں میں قید ہے
یہ لباس کس سے لیا ہے تو نے ببول کا
ترے ناخنوں پہ گلاب کیسے ہیں خواب کے
تجھے کس کے ہاتھ میں پیچ آئی ہیں سوکنیں
مری سانس‘ ہائے میری سانس‘ ہا…
مجھے کیا ہوا…!
عبدالطیف کچھ گھنٹے روحا کے پاس خوشگوار ماحول میں گزار کر گھر گیا تھا۔ راستے بھر اسے ایک خالی پن محسوس ہوتا رہا تھا کہ تھوڑا ہی وقت سہی اس کی دید اس کی رفاقت میں گزرتا تو تھا۔ روحا اس کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھی اور وہ خود بھی مکمل طور پر اس کا عادی بن چکا تھا۔ گھر کے اندر قدم دھرتے ہی چھوٹے بچوں کی شرارتی پارٹی نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تھا‘ اس نے ایک اجنبی سی نگاہ گھر کے درو دیوار پر ڈالی تھی اور کمرے کے عین سامنے جاکر بے دھیانی میں رک گیا تھا کہ کمرے کا اجالا تو کہیں اور روشنی بکھیرے ہوئے تھا‘ اس اجالے کے ہجر میں اسے کچھ دن تنہا کاٹنے تھے۔
؎آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آنکلا تھا
جونہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے…!
خاموش ساکت دیواروں پر خوشبوئوں سا مہکتا وجود چسپاں تھا۔ عبدالطیف کو اکیلے آتے دیکھ کر جہاں آرا نے خوب واویلا کیا کہ وہ اپنی سست اور کاہل بیٹیوں کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں‘ کام کرنا توکیا تھا کسی نے‘ ہاں پھیلا خوب دینا تھا۔
یکم اکتوبر کی صبح خاصی روشن اور تابناک تھی۔ عبدالطیف باہر سے ناشتا لے آیا تھا‘ اپنے خالی کمرے کے دروازے پر حسرت بھری نظر ڈال کر ایک کونے میں جابیٹھا تھا۔ سب نے خوب ڈٹ کر ناشتہ کیا تھا اور اب برتن سمیٹنے اور دھونے پر لڑائی ہورہی تھی۔ عبدالطیف کی تیسری اور چوتھی بہن نے اپنے بچوں کو سلا کر آہستہ آہستہ کام سمیٹنا شروع کیا تھا۔ زیرلب روحا کے لیے بددعائیں ساتھ ساتھ جاری تھیں۔ عبدالطیف کا ضعیف باپ اکبر نواز جہلم کے گھر کا حال احوال لینے گیا تھا‘ سو کچھ دن تک کے لیے عبدالطیف گھر پر ہی تھا۔ چھٹیاں منائی جارہی تھیں پر اکیلے… طے یہی پایا تھا کہ عبدالطیف کی بیوی روحا ہی اس گھر کو ترتیب دے گی اور سنبھالنے کا فریضہ بھی سر انجام دے گی۔
بوقت سہ پہر جب لخلخاتی کوئلیں آب کی تلاش میں سرگرداں جھیل کے گرد دائرں کی صورت چکر کاٹ رہی تھیں منڈیروں پر پیاسے کوے قطار بنائے بیٹھے تھے‘ سورج سب سے اچھا منصف بنا چہار جانب تپتی دھوپ پھیلائے اپنی کرنوں سے انصاف کررہا تھا پسینے میں بھیگتے بچے گرمی کی حدت سے لاپروا اپنے گلی ڈنڈے میں مگن تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی تھی۔ عبدالطیف ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔ سامنے دو لڑکیوں نے اسے دیکھتے‘ اٹھلاتے ہوئے ایک ادا سے اپنے ہیئر کٹ بالوں کو جھٹکا دیا تھا۔ عبدالطیف دروازہ کھول کر ایک طرف ہوا تھا۔
’’جی ہم‘ روحا کی پھوپھو زاد کزنیں ہیں‘ آجائیں مما۔‘‘ یہ کہتے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتیں وہ اندر داخل ہوگئی تھیں۔ عبدالطیف انہیں اپنے کمرے میں ہی لے گیا تھا جو فی الوقت کچھ سمٹی حالت میں تھا۔
’’کیسے ہیں آپ عبدالطیف بھائی اور روحا آپی کی سنائیں۔‘‘ وہ بیک وقت شوخی سے مخاطب ہوئی۔
’’میں کچھ کھانے پینے کا انتظام کرتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ جانے کے لیے اٹھتا دونوں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے قدموں کو روک دیا تھا۔
’’ارے کسی تکلف کی ضرورت نہیں‘ آپ سنائیں روحا آپی کی‘ وہ شادی کے بعد تو اور زیادہ خوب صورت ہوگئی ہیں ناں۔‘‘
’’جی وہ تو ہیں ہی پیاری۔‘‘ عبدالطیف شرما سا گیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر مسکرائی تھیں۔
’’جی مجھے درنایاب اور درشہوار انہیں کہتے ہیں ہم روحا آپی کی بہت کلوزاسٹ کزنز ہیں۔‘‘ تعارف کی رسم نبھائی گئی۔
’’تمہیں وہ یاد ہیں ناں‘ شہوار احسن بھائی کتنا مرتے تھے اپنی روحا آپی پہ‘ کہتے تھے بس ایک دفعہ کال پہ بات کرلیا کریں روز‘ مجھے تو اب بھی ان کی لجاجت سے پر التجائیں یاد آتی ہیں تو خوب ہنسی آتی ہے‘ یقین کرو۔‘‘
’’ہاں… ہاں۔‘‘ نایاب نے ہاں میں ہاں ملائی۔ گویا بہن ہونے کا حق ادا کیا گیا تھا۔
’’اور وہ حسیب جو ایک سال چھوٹا تھا‘ کیسا دیوانہ تھا روحا آپی کا‘ کہتا تھا میں تو بس ان سے ہی شادی کروں گا۔‘‘ بات مکمل ہونے پر ہاتھ پر ہاتھ مارا گیا اور بلاوجہ قہقہہ لگایا تھا۔
’’اور وہ صابر‘ جو روحا آپی کے ہمسائے میں تھا کیسے صبح صبح کھڑکی کھولے روحا آپی کو دیکھنے کی خاطر دیر تک کھڑا رہتا تھا۔‘‘ عبدل کے صبر کا پیمانہ بس یہیں تک تھا۔ اس کے گھر والوں میں سے کسی نے کمرے میں جھانکنے کی زحمت گوارا نہ کی تھی کہ روحا کے عزیزوں سے کسی کو کوئی سروکار نہ تھا۔ عبدالطیف طیش کے عالم میں اٹھا تو دونوں نے زبردستی چہرے پر مسکینیت کے آثار نمایاں کیے گویا پوچھ رہی ہوں ان صاحب کو کیا ہوا بیٹھے بٹھائے؟ طیش اور شدید غصے میں بپھرتا عبدالطیف باہر نکل گیا تھا۔ اس کے نکلتے ہی دونوں بہنوں نے وکٹری کا نشان بنایا اور پھر ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی رسم ادا کی گئی۔ ان کا یہاں آنے کا مقصد سو فیصد پورا ہوگیا تھا۔ ان کی والدہ بھی اپنے نادر کلمات سیسے کی طرح عبدالطیف کے دل ودماغ پر انڈیل رہی تھیں جو اس نے باہر نکلتے نکلتے سن ہوتے دماغ کے ساتھ ادھورا سنا تھا۔ وہ سارا دن عبدالطیف عرف عبدل نے سڑکیں ناپتے‘ آوارہ گردی کرتے گزارا تھا شام میں روحا کو واپس لے آنے کا ارادہ بھی اس نے یک دم بدل دیا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
وہ کٹا پھٹا ہوا فرش…
جیسے بدن ہو خواب وخیال و خواہش و عشق کا
کوئی اک خراش کہاں ہے دامن روح میں
کہ جہاں خراشوں کی فصل اگتی ہے ہر برس
میں وہ سر زمین نصیب ہوں
میں لکھا گیا ہوں جہاں بھی تیری کتاب میں
وہ ورق اکھاڑ‘ جلا‘ جلا کے ہوا میں راکھ بکھیر دے
مگر اک خیال رہے…!
ہوائوں کے رخ پہ کوئی کھڑا نہ ہو!
یہ ہوائیں تیرہ نصیبیوں سے ملیں تو
چلتی ہیں سیاہ موت کی آندھیاں
کوئی سیاہ موت کبھی کسی کی نہیں ہوئی
نہ ثواب کی نہ گناہ کی
ترے مرے پیار کے درمیان بھی سیاہ موت
کے سائے لپٹے ہیں دور تک…!
روحا ڈرائونے خواب کے زیر اثر اٹھ کر چیخی تھی۔
’’امی…! مجھے اس سناٹے سے باہر نکالیں‘ میرا دم گھٹ رہا ہے۔‘‘ صباحت کا زخم اب کافی مندمل ہوچکا تھا۔ انہوں نے دوچار آیات پڑھ کر پھونکیں‘ زبردستی کھانا کھلایا‘ گھر جانے کی تیاری کروائی کہ عبدالطیف تو آیا نہ تھا‘ فون پر بھی رابطہ یکسر منقطع تھا تو اسے چھوٹے بھائی کے ساتھ بھیج دیا گیا تھا۔
چونکہ ڈھلتی شام کے سائے آنے والی تیرگی کا پھر سے خوشدلی کے احساس سے پر خوش آمدید کہنے کو تیار تھے۔ ٹریفک کا اژدھام گردو نواح میں ہنستے کھلکھلاتے لوگوں کے قہقہوں کو جذب کیے حسب معمول رواں تھا۔ جذبے ساکت تھے‘ لیکن جانے کیوں پلکیں نم ہوئی جارہی تھیں‘ جانے وہ لینے کیوں نہیں آئے؟ یہ سوال کسی نہ حل ہونے والی الجھن کی طرح اس کی پیشانی پر ایستادہ تھا۔ زیست نقطہ عروج پر تھی جہاں سے واپسی کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ دنیا گورکھ دھندا اور اس میں رہنے والے آگ‘ قریب جانے پر جلا کر بھسم کردیتے ہیں۔
روحا کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کی ڈیوٹی شروع ہوگئی تھی‘ عبدالطیف رات گئے گھر میںداخل ہوا تھا اور آتے ہی اسے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔
جسم و روح میں اندھیرا گپ ہوں
وہ بولتا ہے اور میں چپ ہوں!
’’درنایاب اور درشہوار کو جانتی ہو تم؟‘‘ وہ درشتی سے دریافت کررہا تھا۔
’’جی… جی لیکن ہوا کیا ہے؟‘‘ عبدالطیف کے شدید طیش کی کیفیت کی سبب روحا کے گلے سے گھٹی گھٹی آواز برآمد ہوئی تھی۔ دل حزیں کسی دغدغے کا عندیہ دے رہا تھا۔
’’اور یہ حسن اور حسیب کون ہیں؟‘‘ مثل تازیانہ ایک اور سوال اٹھایا گیا۔
’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ روحا نے اب کے سنبھل کر جواب دیا۔
عبدالطیف کے صبر کا پیمانہ بس یہیں تک تھا۔ اس نے اس کے بھائی کی موجودگی کو بھی یکسر فراموش کردیا تھا جو کچھ دیر پہلے ماں کے اکسانے پر اس کی خیریت لینے آیا تھا۔
’’بے غیرت جھوٹ بولتی ہے‘ تیری بات گدھے کی لات‘ بتا یہ تیرے کون سے عاشق تھے؟‘‘ غصے سے بولتے اس کے نتھنے پھولے ہوئے اور منہ سے لعاب نکلنے لگا تھا۔ روحا کی یک دم طبیعت شدید مکدر ہوگئی تھی‘ شایان (چھوٹے بھائی) نے اسے اٹھایا تھا جس کے آتشی لبوں پر لہو منجمد ہونے لگا تھا۔ وہ اسے ہسپتال لے گیا تھا وہاں ایک الگ ہی خبر اس کی منتظر تھی وہ امید سے تھی۔ شایان کو اس نے قسمیں دے کر کچھ نہ بتانے کا کہا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے سختی سے کام نہ کرنے کی تاکید کی تھی کہ پہلے ہی بے حد کمزوری تھی نحیف سی جان پر ایک اور ذمہ داری بڑھ گئی تھی۔ پیچ وخم کھاتے حالات میں کیا یہ خبر خوش کن تھی۔ بنتے بگڑتے روابط کے شجر پر دراڑوں کی باڑیں اگ آئی تھیں۔
مرے اپنے جسم پر قبریں بنتی دکھائی دیتی ہیں
میری اپنی خطائوں کی
جو خطائیں مجھ سے ہوئی نہیں
میرے سر پر کس نے مزار رکھا ہے اس گناہ کبیر کا
جو ہوا نہیں…!
مری روح پر ترا بوجھ کیوں ہے لدا ہوا؟
میں تجھے اٹھا کے کہاں کہاں پھروں دربدر
تجھے ایسے لوگوں کی سر زمین پہ چھوڑنا بھی صحیح نہیں
جہاں نوچ لینا اصول ہو
جب وہ گھر پہنچی تو عبدالطیف گہری نیند کی آغوش میں تھا۔ اس کے خراٹے گردو پیش میں سنسناہٹ پیدا کررہے تھے۔ روحا اس کے سرہانے بیٹھ گئی تھی۔
’’یہ شخص برا نہیں ہے اس کے حالات‘ اس کی جہالت نے اسے برا بنادیا ہے‘ امی کہتی ہیں کہ شکی‘ شرابی کے ساتھ گزارہ مشکل ہے اور یہ…‘‘ ایک درد بھری آہ نے سینے میں کروٹ بدلی تھی اور یہ شخص تو بہت جلدی ہر کسی کی بات پر ایمان لے آتا ہے‘ کانوں کا بھی انتہائی کچا ہے‘ اللہ مجھ پر رحم فرمائے روحا نے فوراً دو رکعت نماز حاجت ادا کی تھی۔ تیرگی نے اجالے کو مات دی تھی اور اس کی ساری رات گریہ زاری‘ دعائوں اور مناجات میں گزر گئی تھی۔
عبدالطیف پہلے کبھی کبھی ڈرنک کرتا تھا اب تو روز کا معمول ہی بنا لیا تھا۔ مار پیٹ‘ گالی گلوچ‘ تہمت‘ بہتان‘ تراشی کی بوچھاڑ اور ان ہی باتوں سے روحا کا استقبال ہونے لگا تھا۔ اب جہلم جانے کی تیاری منظر عام پر تھی۔ روحا کے لیے ایک اور رخت سفر ایک اور امتحان تیار تھا۔ روحا کے حمل کی خبر دینے پر بھی وہ شدید آگ بگولا ہوا تھا۔ اس نے اسے اپنی اولاد ماننے سے انکار کردیا تھا۔ شدید اذیت کسمپرسی کے دن گزر رہے تھے۔
مرا کانپتا ہوا دل‘ پسینہ‘ ہتھیلیوں سے اتر رہا ہے لباس میں!
میری پیاس ہی میرا روگ ہے
تری باس آتی ہے پیاس بجھتی ہے تھوڑی دیر کی
خود فریبی کی آڑ میں…!
کوئی شک ابھرتا ہے چاہتوں کے کواڑ میں
کوئی ٹیس اٹھتی ہے پچھلے دکھ کی دراڑ میں!
جہلم میں موجود وسیع رقبے پر گھرا وہ گھر حقیقت میں محل نما تھا۔ اس حویلی نما مکان کی راہداری میں سات کمرے تھے۔ ہر کمرے میں ایک کھڑکی موجود تھی سوائے ایک کے۔ جابجا گرد کی موٹی موٹی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ بھاری بھرکم صحت مند چوہے آزادانہ بغیر کسی خوف کے گھوم رہے تھے۔ جابجا کھڑکیوں‘ دیواروں‘ دروازوں کے آمنے سامنے کونے کھدروں میں تار عنکبوت کی تزئین وآرائش تھی۔ قبل اس کہ روحا کا دماغ چکراتا اس نے صفائی کی مہم کے لیے کمر کس لی تھی۔ اپنی ناساز طبیعت کی پروا کیے بغیر بھی اس نے آدھے سے زیادہ گھر صاف کر ڈالا تھا‘ یہی نہیں تینوں بھائیوں بشمول عبدالطیف اور اس کے باپ کے لیے بھی کھانا پکایا تھا جو انہوں نے کافی سیر ہوکر کھایا تھا۔
سسر کی نگاہوں میں عجیب سا کچھ ہوتا‘ جو اسے اچھا نہ لگتا تھا‘ وہ ہر لمحہ روحا کو سراہتا رہتا تھا۔ اس کے کام پر تعریف وتحسین اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ روحا کی سوچ کی سوئی کئی لفظوں‘ باہم کئی نقطوں کے درمیان معلق ہوجاتی لیکن کوئی حل نہ سمجھ آتا تھا۔
عجب بھنور میں پھنسے ہیں
نہ آگے چلے ہیں… نہ پیچھے چلے ہیں
بس وسط میں پھنسے ہیں!
مٹ چکی ہیں
خوش بختی کی سب لکیریں
نہ ملتی ہیں
خواب کی تعبیریں
دغدغے کا بحر ہے
بڑا طویل سفر ہے…!
جانے کیسے لوگ اپنے ناپسندیدہ افراد کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں؟ دن کے کئی کام نپٹاتے یہ سوال اس کے ذہن میں ابھرتا‘ روحا دن بھر سرکاری پانی بھرتی حویلی نما مکان میں اس کا کام مزید بڑھ گیا تھا۔ شام میں اس نے محلے میں موجود ہمسایوں کے بچوں کو ٹیوشن دینی شروع کردی تھی سو وقت جیسے تیسے گز رہی رہا تھا۔
دہکتے انگارے زندہ نعش کو مزید ہوا دے رہے تھے۔ آبلے ابل پڑے تھے‘ لپکتے لپکتے چنگاریاں شوریدہ سری کا ثبوت دیتیں آگے دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھیں۔ تندو تیز چلتی طوفانی ہوا نے انہیں مزید خود سر‘ ضدی بنادیا تھا۔ شریانیں اکڑ کر مثل سنگ‘ چمٹنے لگی تھیں۔ ملول و بے دام قلب سے لہو کا گولہ پھوٹا تھا۔ نوکیلے آرھے ترچھے راستوں پر عین منتظر فردا تھیں۔ لب جنبش سے نالاں ہوئے تھے ہلتے تو بس یہی صدا ہوتی۔
’’اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار… اللھمہ اجرنی من النار…
عبدالطیف آج قدرے خوشگوار موڈ میں گھر میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں آموں کا بھاری بھرکم شاپر تھا۔ اس نے خود ہی ملک شیک بنایا اور روحا کو پینے کے لیے کہا۔ آم کی مہک روحا کے لیے نشاط انگیز نہیں تھی یہ خوشبو اس کی طبیعت پر عجب ہی تاثر ڈال رہی تھی۔ اس نے نرمی سے ہاتھ کے اشارے سے انکار کیا تھا۔ مگر عبدالطیف کو انکار سننے کی عادت ہی کہاں تھی وہ جو منہ میں پان کا ملغوبہ چبا رہا تھا اس نے غصے میں آکر پان کی پیک ہی اس پر تھوک دی تھی۔
چاہ کن را چاہ درپیش (برائی کرنے والا خود برائی کا شکار ہوجاتا ہے) یہاں روحا نے ہر اس ذلالت کا خاموشی سے سامنا کیا تھا جس کا کبھی خواب میں بھی تصور نہ کیا تھا۔ سراپا نور شہزادی کے دلکش خوابوں میں دیو داخل ہوچکا تھا پھر خوابوں میں اندھیرا کیونکر نہ ہوتا۔ ایک اور شب مناجات کی نذر ہوئی…
کچھ لوگ انڈوں کی طرح ہوتے ہیں باہر سے نہایت ہی شفاف اور جب اندر سے ان کے خول کو کھولا جاتا ہے تو منافقت کا پیرہن باہر آتا ہے‘ زردی میں موجود سیاہ دھبوں کی مانند… پھر ایسے انڈوں کو پھینک دیا جاتا ہے کہ تعفن میں ملفوف چیز کو چرند پرند بھی منہ نہیں لگاتے‘ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے یہ اپنے ہی تعفن کی بدولت مر جاتے ہیں۔
جانے کیسی صبح تھی فضا میں خنک ہوائوں کا راج تھا۔ گھٹائیں بادلوں کی شہہ پر شوخ ہوئی جارہی تھیں‘ گھن گرج کے ساتھ بادلوں کے برسنے کا امکان لگتا تھا‘ موسم میں جہاں تیزی عود کر آئی تھی وہاں اس کی طبیعت میں شدید سست روی‘ کاموں میں بھی تساہل پسندی سے کام لیا کہ طبیعت قابو سے باہر ہوتی جارہی تھی‘ کلیم (دیور) کے آنے پر بھی اس نے دروازہ وا نہ کیا تھا کہ گھر پر نہ ٹیوشن کے بچے تھے نہ ہی عبدالطیف آیا تھا۔ رات گیارہ بجے عبدالطیف اور اس کا باپ اکبر نواز شان بے نیازی سے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ کھانے کو کچھ نہ ملا تو عبدالطیف چلانے لگا تھا وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ گھر میں راشن ختم تھا اور اکبر نواز آج ایسا مصروف رہا تھا منڈی میں کہ گھر سودا سلف بھجوا پاتا تو پکتا لیکن عبدالطیف پر تو بھوک کا بھوک سوار تھا‘ صبر کرنا اس نے سیکھا نہیں تھا شکر اس کی سرشت میں تھا نہیں کہ بن مانگے بہت کچھ ملتا رہا تھا۔ ڈرنک کرتے عبدالطیف نے حد کردی تھی‘ مغلظات کا ایک طوفان تھا جو اس کی زبان کے راستے باہر آرہا تھا۔ طیش کے عالم میں آگے بڑھ کر زور دار طمانچہ اس کے نپتے چہرے پر رسید کیا تھا‘ کانوں کا واحد زیور سونے کی بالیاں دور جا گریں تھیں۔ عبدالطیف نے یہاں تک بس نہ کی تھی اس نے اسے زور دار دھکا دیا تھا قبل اس کے کہ اب وہ شیشے کی بوتل کرچی کرچی کرکے اس پر توڑتا‘ حملہ آور ہوتا اکبر نواز نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں کے شکنجے میں لے کر جھنجوڑ ڈالا تھا۔ اس کے تنفر سے پر چہرے پر زور دار دھموکہ رسید کرکے وہ بے حال ہوتی روحا کی جانب بڑھا تھا پھر وہ ہوا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ عبدالطیف نے طلاق کا فتویٰ صادر کردیا۔ سالوں کی ریاضت کو لمحہ بھر میں پامالی کی سند عطا کردی گئی۔ اس کے قدموں تلے زمین ساکت‘ ہلنے کے قابل نہ رہی تھی۔ آسمان سارے کا سارا گویا سر پر آگیا تھا۔ اپنے تمام تر وزن سمیت‘ آنسو بھربھری ریت کی مانند کانچ سی آنکھوں میں ٹھہر گئے تھے۔ لہو کا گولہ کہیں گردن میں آپھنسا تھا‘ آواز بند‘ پلکیں ساکت اور بدن ہوش وخرد سے بیگانہ زمیں کے رحم وکرم پر آگیا تھا۔
؎اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے‘ تب نہیں آتا!
وقت ضائع کیے بغیر اکبر نواز اسے ہسپتال لے گیا تھا۔ اسے فوری ایمرجنسی میں لیا گیا۔ روحا کے گھر اطلاع کردی گئی تھی۔ درد کہاں کہاں تھا؟ یہ تو علم نہ تھا‘ ہاں یہ ضرور پتہ چل گیا تھا‘ کہ کسی کی نرم گرم بانہوں میں ایسے وحشیانہ اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ وقت کی سانس بند نہیں تھی لیکن مری سانس وقفوں کی سی رفتار سے اپنے ادھورے حلقے میں گردش کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
یہ مرے گلے میں کہاں سے آگئیں چوڑیاں
ترے نرم بازو کہاں گئے
جو ابھی تھے میرے گلے میں پھولوں کی ڈال سے
مری تھوک میں مرا خون کس طرح آملا
مری آنکھ کیوں کسی جلتی بجھتی ہوئی سی دھند سے بھرگئی!
مرے حوصلے مری کن بلائوں سے ڈر گئے
مجھے پانی دو‘ مجھے پانی دو!
میرے ہونٹ چبھنے لگے ہیں گالوں میں
اور زبان کی نوک تالو میں آر پار اتر گئی ہے خدا قسم
مجھے گیلی ریت ہی بخش دو
مرے خشک ہونٹوں کو دور سے بھی نہ چومنا
کہ جو زہر ہے نا یہ پیاس کا
بڑا جان لیوا ہے‘ مار دیتا ہے نسل میں…!
ایک نہایت ہی خوب صورت بچے نے آنکھیں کھولی تھیں۔ بچے کے تار نفس میں مشکل در پیش تھی۔ سو آکسیجن لگادی گئی تھی۔ صباحت فوراً ضمیر زیدی کے ہمراہ ہسپتال میں موجود مقررہ وارڈ تک پہنچی تھیں جن کا دل قبل از وقت ہی کسی انہونی کی خبر دے رہا تھا۔ روحا کے جہلم منتقلی کے بعد دونوں بھائیوں نے حسب پسند شادی کے بعد بیویوں کو لے کر والدین سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ واہ ری دنیا تیرے کھیل۔
فی الحال بغیر کسی تفتیشی ردعمل کے صباحت اور ضمیر نے اجازت ملتے ہی اسے گھر لے جانا مناسب سمجھا تھا۔ تقریباً ایک ہفتے کی معیاد کے بعد اسے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ انکشافات سے پردہ اٹھنے کا وقت آن پہنچا تھا۔
’’امی… وہ شراب کا عادی تھا‘ اکثر سگریٹ بھی پیتا تھا‘ شک اس کی گھٹی میں شامل تھا۔ میں کون کون سی اذیت کا حوالہ دوں؟‘‘ روتے روتے روحا کی ہچکی بندھی تھی۔ بیٹی کی روداد سنتے صباحت کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ سرد موسم کے عالم میں کمرے میں موجود تینوں نفوس نے یہ رات آنکھوں میں کاٹی تھی۔
کھڑکھڑانے والی‘ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ اور تم کیا جانو کھڑکھڑانے والی کیا ہے (وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون‘ تو جس کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے وہ دلپسند عیش میں ہوگا اور جس کے وزن ہلکے ہوں گے اس کا مرجع (ٹھکانہ) ہاویہ ہے اور تم کیا سمجھے ہاویہ کیا چیز ہے؟ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے…
اگلی صبح ایک تشویش ناک خبر کی نوید لے کر نمودار ہوئی تھی۔ جہلم کے تعفن زدہ نواحی علاقے میں حادثاتی موت ہوئی تھی۔ موٹر سائیکل پر سوار شخص پر ایک کار بری طرح چڑھ گئی تھی۔ بائیک پر موجود سوار کا سر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ جسد خاکی تار تار ہوا تھا۔ کار میں موجود شخص نشے کی حالت میں دھت تھا سو وہ کار ڈرائیور کرتے ہوئے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا تھا۔ اکبر نواز کے عبدالطیف‘ سات بہنوں کے اکلوتے منچلے بھائی‘ جہاں آرا کے عبدل کو ایسی ہی تعزیر نصیب ہونی تھی کہ وہ شخص تو تعزیت کا بھی حق دار نہ تھا۔ یہ کہہ کر بہت سے لوگوں نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔
’’خس کم جہاں پاک‘‘
یہ مصیبت یا عذاب کی گھڑی نہ تھی بلکہ ایک انتہائی آزمائش تھی‘ جس نے روحا کو رب کے قریب نہیں بلکہ انتہائی قریب کردیا تھا… اور پھر یہ تو صبر کا ایک چھوٹا سا امتحان تھا اس کے سامنے تو حضرت یعقوبؑ جیسے عالی قدر پیغمبروں کی بے مثل نظیریں موجود تھیں‘ جن کے آگے اس کا صبر تو بے حد چھوٹا تھا اور پھر وہ رب ذوالجلال جانتا ہے ناکہ میرا بندہ کتنا بوجھ برداشت کرسکتا ہے‘ بشر سے زیادہ محبت‘ اس کے علاوہ کوئی کرہی نہیں سکتا‘ پھر بھی جانے کیوں بنی آدم یہ سوچتا ہے ’’میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ ارے اے بھولے بندے! ہماری عبادات اس پر احسان تھوڑی ہیں اس کے لیے تو فرشتے ہی بہت ہیں۔‘‘
وہ درخت دیکھا جلا ہوا!
وہ بھی میں ہی ہوں…!
اسے میں نے چوما تھا ایک بار
تو پھر اس کے بعد وہ آج تک نہ ہرا ہوا
وہ گلاب دیکھا مرا ہوا
وہ بھی میں ہی ہوں!
وہ ستارا دیکھا گرا ہوا
وہ بھی میں ہی ہوں!
وہ خطائیں ہی تجھے لے کے آئی ہیں اس طرف
جو خطائیں تجھ سے ہوئی نہیں!
خود کو مایوسی کے مرض میں مبتلا نہ کرو‘ کیسے بھی حالات ہوں ہمت یکجا کرکے کھڑے ہو تو اس دو جہاں کے مالک کی جانب دیکھو‘ عجز کے ساتھ جھکو تو گریہ زاری کرتے امید سے بس اس سے مانگو‘ جس نے دیا تھا کچھ خاص‘ اگر وہ لے لیا تو کیا ہوا‘ یہ سوچ ابھرنے دو کہ وہ اس کے نعم البدل میں اس سے بڑھ کر تمہیں عطا کرنے والا ہے۔
حیرت بھی دم سادھے حیرت کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی۔ روحا دو ماہ کے بچے کے ساتھ بیوہ ہوگئی تھی۔ وہ جب سامنے تھا تو تکلیف ہوتی تھی اب جب ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا تو تکلیف حد سے سوا ہوگئی تھی۔ روحا کے ٹوٹے پھوٹے شکستہ وجود کو سنبھالنے میں اس کے والدین نے بہت مدد دی تھی۔ عبدالطیف کی وفات کی خبر سن کر روحا نے کہا تھا۔
’’امی… اب میر اکوئی نہیں رہا؟‘‘
’’جس کے ساتھ رب ذوالجلال ہو‘ میری جان اسے کسی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔‘‘ صباحت کے جواب نے گویا ہر زخم پر مرہم رکھ دیا تھا۔
’’تمہیں زندگی کی طرف واپس لانے والے تمہارے والدین اب بوڑھے ہونے لگے ہیں میرے بچے… انہیں پھر سے جوان کردو۔‘‘ کتنی آزردگی تھی ضمیر زیدی کے ان الفاظ میں‘ جب وہ بولے تھے۔ منتشر ہوئی روحا کا وجود پھر سے یکجا ہوکر اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے والد صاحب کے کالج میں لیکچرار شپ جوائن کرلی تھی کہ تعلیمی ریکارڈ بھی ایکسٹرا آرڈینری تھا۔ کالج کے پرنسپل جو ضمیر زیدی کے دوست کے بیٹے تھے‘ جن کا آٹھ سالہ بیٹا واسع بورڈنگ میں پڑھ رہا تھا‘ انہوںنے روحا سے شادی کے لیے استدعا کی تھی۔ روحا نے اب بھی اپنے رب سے مشورے کو معتبر جانا تھا۔ رب سوہنا تو بندے کو بچانا چاہتا ہے نا‘ وہ خود مرنا چاہے تو کیا کیا جائے؟ سید عون علوی ہر لحاظ سے ضمیر صاحب کے جانے پہچانے رفیق اور قابل وکیل رہ چکے تھے۔ ان کا بیٹا آرمی میں ایک شاندار پوسٹ پر تھا۔ اب کے خود ضمیر صاحب نہایت ہی باریک بینی سے حالات کا تجزیہ کررہے تھے۔
اماں بی جن کا روحا کی بربادی میں ایک بڑا حصہ تھا پھر کچھ صباحت کے لیے بھی ان کے دل میں حسد ورقابت کے جذبات تھے انہیں کوڑھ ہوگئی تھی۔ اب وہ دنیا سے منہ چھپائے پھر رہی تھی۔ رئیس خود ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر اتنا کنگال ہوگیا تھا کہ فقیر بننے کے بھی لائق نہ رہا تھا تو اس کے کاسے میں کوئی کیونکر کچھ ڈالتا۔ تکبر کی ماری عفت بیگم ضمیر کی بہن؟ بیٹیوں کا غم لے کر جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں کہ جب اولاد بدنام محبت کے نام پر والدین کی عزت نیلام کریں تو وہ زندہ ہی کہاں رہتے ہیں؟
؎موت جان لیتی ہے… زندگی امتحان لیتی ہے!
ابھرتے سورج کی کرنوں نے بصورت استخارہ زیست کو جلا بخش دی تھی۔ حسب موافق نتائج آنے پر بنا پس وپیش کے قبولیت کی سند دے دی گئی تھی۔ مسز عبدالطیف سے مسز عدن بننے کا سفر کٹھن تو تھا مگر ناممکن نہ تھا۔
آٹھ سال بعد زیست کی موجیں سبک روی سے کشاں کشاں منزل مقصود کو چومنے لگی تھیں۔ عدن علوی نے آئس کریم شاپ کے سامنے کار کو بریک لگائے تھے۔
ان کی اس حرکت پر دونوں بیٹوں طیب اور واسع نے ’ہرے‘ کا بھرپور نعرہ لگایا تھا۔ طیب اور واسع نے کارینٹو جبکہ عدن اپنے اور روحا کے لیے دوسرا فلیور لے کر آئے تو واسع کو شرارت سوجھی۔
’’پاپا آپ بھی ہمارے والی آئس کریم لاتے ناں‘ مما والی کیوں؟‘‘ واسع نے طیب کو آنکھ ماری اور اسے اپنے کندھے کے قریب کیا۔
’’بھئی آپ کے پاپا کو آپ کی مما سے منسلک ہر چیز بہت عزیز ہے‘ چاہے وہ آئسکریم ہو‘ چاہے وہ میرے نٹ کھٹ صاحبزادے واسع اور طیب ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ عدن کے جواب پر دونوں نے کن انکھیوں سے اپنی کیوٹ سی مما کا جائزہ لیا تھا جہاں پر سرخ گلال اپنی تازگی ودلکشی پر نازاں تھے۔ یہاں تو مما احمد فراز کی غزل ہوجائے۔
قبل کوئی منع کرتا واسع نان اسٹاپ شروع ہوا تھا۔
؎سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
’’مما کچھ بولیں ناں…‘‘ طیب نے درمیان میں لقمہ دیا۔
؎سنا ہے آئینہ اتمثال ہے جبیں اس کی
جو صاحب دل ہیں اسے بن سنور کر دیکھتے ہیں
اگلا شعر عدن نے قریب ہوکر روحا کی سماعت میں انڈیلا تھا۔ عدن لاج کے وسیع گیٹ کے سامنے کار کو پھر سے بریک لگا۔
عین بریک پر ’’طیب‘‘ کی آوازگونجی۔
’’پاپا میری باری؟‘‘
’’اب آپ کی باری آپ کی مما پوری کریں گی۔‘‘ عدن کی بات پر واسع کا بھرپور قہقہہ فضا میں گونجا۔
خدا کی مخلوق کے شر سے پناہ اور سدا خیر مانگیے!!

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close