Hijaab May-17

آغوش مادرا

عائش کشمالے/عاشہ رحمان

عائش کشمالہ
السلام علیکم ڈئیر حجاب قارئین! جب سے آغوش مادر پڑھا ہے اس معصوم دل نے کہا ۔ ’’عائش کیا تُو نے اپنی ماں کے بارے میں حجاب کو نہیں بتانا کہ تیری ماں مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے۔ کبھی کبھی پیار کا اظہار لفظوں میں بھی کرنا چاہیے جو میری پیاری ماں نہیں کرسکی‘ انہوں نے ہمیشہ عملی ثبوت پیش کیا۔
’’ماں‘‘ لفظ ہی مٹھاس بھرا ہے‘ ہر تکلیف ہر درد مٹانے کا نام ماں۔ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ اچھے اور پیارے امی اور ابو لگتے ہیں۔ میری پیاری امی محبتوں کا مجموعہ اور میرے پیارے ابو احترام اور عزت کے سب سے اعلیٰ مقام پر۔
ماں ہمراز بھی‘دوست بھی‘ غم ساز بھی… میری ماں ہمتوں اور محبتوں سے بنی ہے۔ ہر ماں کی طرح میری ماں میری پیاری امی بھی دنیا کی سب سے پیاری امی ہیں‘ وہ ہمارا ہر دکھ بنا جانے ہی اپنے سر لے لیتی ہیں۔
بچپن میں جب کبھی بخار ہوتا‘ بیمار ہوتی وہ سرہانے بیٹھ کر ساری رات کبھی سر دباتیں‘ کبھی پٹیاں بھگوکے رکھتیں۔ میری امی صبر سے گندھی ہوئی مٹی سے بنی ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر جب راستہ دشوار آجائے تو وہ بیٹیوں کی ڈھال اور دوست بن کر ہماری رہنمائی کرتیں‘ ہر موڑ پر بیٹیوں کو اچھی زندگی کے گُر بتاتیں۔ ایک منٹ رکیے ابھی ابھی میری پیاری اور سویٹ سی امی جان کمرے میں آئیں کہنے لگیں۔
’’ کیا لکھ رہی ہو۔‘‘ ایک پیارے رہبر کی طرح ڈانٹا‘ میں نے کہا۔
’’امی! اچھی باتیں نوٹ کررہی ہوں۔‘‘ (پیور سرائیکی میں)۔ امی نے کہا۔
’’اپنی حالت دیکھی ہے‘ زکام سے بُرا حال ہے‘ اب تو ہلکا سا فلو بھی ہورہا ہے اور اسے اپنی کوئی پروا بھی نہیں۔‘‘
’’کیا کروں امی! آپ کے ہوتے ہوئے میں ہر فکر سے آزاد اور اپنی پروا ہی کب رہتی ہے آپ ہیں ناں میرا خیال رکھنے والی‘ آئی رئیلی لو یو امی جان اینڈ ابو جان۔‘‘
میرے پیارے اللہ آپ سدا میرے امی ابو اور بہن بھائیوں کو اپنی امان اور حفاظت میں رکھنا‘ آمین۔
’’امی آپ کے بارے میں کیا لکھوں؟ میری محبت آپ سے لفظوں کی محتاج نہیں ۔ امی میں آپ کو کبھی نہیں بتاپاتی کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں۔ اس لیے تنگ بھی تو بہت کرتی ہوں آپ کو‘ امی اب میں آپ کو تنگ نہیں کروں گی‘ پکا پرامس۔ یہ حجاب ریڈرز سب گواہ ہیں ۔ ماں کا نعم البدل کوئی نہیں ہوسکتا‘ ماں مٹھاس ہے‘ ماں خوشبو ہے‘ ماں دنیا ہی میں جنت ہے۔ مجھے لفظوں میں ڈھالنا نہیں آتا اور نہ ہی اظہار کرنا آتا ہے۔ میں کیا کروں‘ امی کو کیسے بتائوں کہ مجھے ان سے بہت شدید محبت ہے۔ لکھ تولیا مگر لکھنے کا ڈھنگ نہیں آیا‘ہر درد‘ ہر خوشی کیسے جان جاتی ہیں‘ میں نے اپنی امی کو اندھیری راتوں میں روتے دیکھا ہے ‘ دعائیں مانگتے دیکھا ہے (میری بڑی آپی شادی کے پہلے سال کے بعد شدید بیمار ہوگئیں‘ چل نہیں سکتیں اور اب پانچ سال ہوگئے ہیں)۔ خود سوچئے اس ماں پر کیا گزرتی ہوگی جس کی جان ہی اس کی اولاد میں ہو‘ وہ بھی بڑی اور پہلی اولاد ۔
یہ وہ ماں ہیں جو ہسپتال کی ٹھنڈے کوریڈور میں فرش پر بیٹھ کر ساری رات دعائیں مانگتی ہے‘ راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتے دیکھا ہے ‘ اللہ سے راز و نیاز کرتے دیکھا ہے جو ستر مائوں سے بڑھ کر کئی گناہ محبت کرتا ہے‘ مجھے اللہ سے اور اس کے بعد اپنے گھر والوں پیارے امی ابو سے بہت شدید محبت ہے۔ اسی محبت کے صدقے میرے اللہ میرے امی ابو کے آنسو اپنی بارگاہ الٰہی میں قبول کر۔ میری آپی کو صحت و تندرستی‘ خوشیوں سے ہمکنار فرما‘ آمین۔ میرے گھرکی خوشیاں پھر سے لوٹا دے یا الٰہی میرے امی ابو ‘ بہن بھائی‘ بھابیوں اور اہل و عیال کو سدا اپنی امان اور حفاطت میں رکھنا‘ آمین۔
عائشہ رحمن ہنی
آغوش مادر سلسلہ دیکھ کر میرا بھی دل تڑپ اٹھا کہ میں بھی اپنی ماں کے لیے اپنے جذبات عیاں کردوں۔ ’’ماں‘‘ اس سہ حرفی لفظ ادا کرتے عجیب سی ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ تڑپتے دل کو قرار مل گیا ہو گوکہ ’’ماں‘‘ ایسی ہستی ہے کہ اس کا رتبہ بیان کرنے کے لیے میرے پاس وہ الفاظ نہیں جو ہے قلم سے صفحۂ قرطاس پر اتار سکوں لیکن اپنی ادنیٰ سی کوشش کررہی ہوں پھر بھی میں جانتی ہوں کہ ایک پیاس ضرور رہ جائے گی کیونکہ ماں پر ازل سے لکھا جارہا ہے مگر اب تک تشنگی باقی ہے بلکہ جب دنیا کی‘ لوگوں کی‘ لہجوں کی تلخیاں دل سینہ جلا کر راکھ کر دیتی ہیں تو ماں کی مہربان آغوش ماں کے سینے میں اتنا سکون ملتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ کسی نے چلچلاتی دھوپ سے اچانک ٹھنڈی چھائوں میں لاکھڑا کیا ہو۔
ماں کا ذکر آتا ہے تو کبھی ایسا نہیں سوچا کہ فلاں کی ماں ہے‘ ماں تو بس ماں ہے۔ لفظ ماں ہی دل کو راحت پہنچاتا ہے‘ اللہ رب کعبہ کا ہم پر احسان ہے اور بہت بڑا احسان ہے کہ رب تعالیٰ نے ہمیں اتنا عظیم رشتہ تحفہ میں دیا ہم جتنا اس ذات کا شکر ادا کریں کم ہے۔
ماں تو ایسی ہستی ہے کہ جب اولاد کو کانٹا بھی چبھہ جائے تو ماں کا دل پنجرے میں مقید چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانے لگتا ہے اور تب تک چین نہیں آتا جب تک اولاد پُرسکون نہ ہوجائے۔ مجھے اپنی ماں دنیا کی عظیم ماں لگتی ہے‘ میں اپنی ماں کو بہت تنگ کرتی ہوں مگر ماں کو ذرا سی تکلیف میں دیکھوں تو میرا دل پھٹنے لگتا ہے۔ ماں گھر سے بتائے بنا ادھر اُدھر ہوجائے تو پاگلوں کی طرح ڈھونڈنے لگ جاتی ہوں۔ تکلیف کے وقت جب ماں ایک دفعہ سینے سے لگاتی ہے تو درد کا اثر زائل ہونے لگتا ہے۔ میری ماں‘ میری جنت‘ میری ماں میری مسیحا ہے۔
اکثر میں یہی کہتی ہوں کہ مجھے دنیا عزیز ہے مگر امی کے بعد میرے بابا میری آنکھوں کی روشنی ہیں اور میری ماں کڑکتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں ہے میرے لیے۔ دعا کے لیے ہاتھ بلند ہوتے ہیں تو بے اختیار لب مچل اٹھتے ہیں ’’ماں… اے للہ میری امی‘ میرے بابا کو سلامت رکھنا اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر رکھنا‘ ان کو صحت دینا۔ میری دنیا‘ میری آخرت میری ماں ہے جس گھر میں ماں نہیں وہ گھر قبرستان کی طرح ہوتا ہے اس گھر میں اداسیاں ڈیرے ڈال لیتی ہے‘ امی جی آپ کے لیے۔
ہر ایک نے خون کے آنسو رلایا ہے ہنیؔ
بس ایک بار پھر سے گلے لگالے ماں
اللہ سے دعا ہے کہ وہ میری ماں کو بلکہ ہر ماں کو صحت و تندرستی دے اور تمام اولاد پر ماں باپ کا سایہ ہمیشہ فگن رہے‘ آمین۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close