Hijaab Jun-17

شب آرزو تیری چاہ میں(قسط نمبر4)

نائلہ طارق

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
بھوکے کتے رجاب کو زخمی حالت میں دیکھ کر اس کی طرف بڑھتے ہیں مگر عین اسی وقت راسب وہاں پہنچ کر رجاب کو اسپتال لے کر جاتا ہے ساتھ ہی اس وقت کو کوستا ہے جب اس نے رجاب کو حاذق کے ساتھ آئوٹنگ پر بھیجا تھا پولیس کیس ہونے کی بنا پر رجاب کو فوری اسپتال میں ایڈمٹ نہیں کیا جاتا جس پر ندا اپنے کزن کو فون کرتی ہے جو کرائم برانچ میں ہوتا ہے اس کے کہنے پر رجاب کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا جاتا ہے تب تک حاذق کے والدین بھی پہنچ جاتے ہیں راسب ان کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے۔ صبغہ (زرکاش کی ماں) نئے گھر میں شفٹ ہوجاتی ہے اب اس کا ارادہ اپنی بیٹی شزا کی شادی کرنے کا ہوتا ہے لیکن زرکاش شادی میں رائمہ اور دراج کو بھی بلانا چاہتا ہے جس پر گھر کے باقی افراد کے ساتھ صبغہ بھی انکاری ہوجاتی ہے۔ ہاسٹل میں دراج کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے تب وارڈن زرکاش کو فون کرتی دراج کی خراب طبیعت کا بتاتی ہے زرکاش کا پروگرام صبغہ کے ساتھ بازار جانے کا ہوتا ہے لیکن وہ دوسرے دن پر ٹالتا دراج کو اسپتال لے آتا ہے تب دراج زرکاش سے شادی کا کہتی اسے حیران کرجاتی ہے زرکاش اس کی بات کو بچپنا سمجھ کر اسے پڑھنے کا کہتا ہے۔ وہ عرش کی ماں شازمہ سے ملنے آتی ہے اور ان کے پہچان لینے پر حیران ہوتی ہے تب اسے شازمہ سے ہی ان کے حالات کا پتا چلتا ہے ساتھ ہی عرش کے جھوٹ کا بھی کہ اس نے اپنی ماں کو گیراج میں کام کرنے کا بتایا ہوتا ہے شازمہ کو وہ لڑکی پسند آتی ہے شازمہ اسے دوبارہ بھی آنے کا کہتی ہے تب ہی اس کے جانے کے بعد عرش کمرے میں آتا ہے تو شازمہ اسے گھر جانے کا کہتی ہے جس پر وہ کچھ دن بعد گھر لے جانے کی ہامی بھرتا ہے۔ دراج زرکاش سے ناراض ہوجاتی ہے اور رائمہ کے کہنے پر بھی اس کے سامنے نہیں آتی ہے۔ جس پر زرکاش کچھ دیر اس کا انتظار کرتا وہاں سے چلا جاتا ہے تب دراج کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اسے فون کرتی محبت جتاتی معذرت کرتی ہے لیکن جلد شادی پر بھی زور دیتی ہے۔ راسب حاذق کے والدین سے حاذق کے بارے میں پوچھتا ہے جس پر وہ اس کی گھر میں موجودگی کا بتاتے ہیں راسب کو اس کی بے حسی پر طیش آتا ہے جس پر ندا راسب کو سمجھاتی ہے اور تایا تائی سے حاذق کو اسپتال بھیجنے کا کہتی ہے رجاب کے سر سے خون زیادہ بہہ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ زندگی و موت کے درمیان کھڑی تھی راسب اس کی طرف سے بہت فکر مند ہوتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
m… / …m
’’تم…‘‘ اس کا ہاتھ جھٹکتی وہ حیرت وصدمے سے اور کچھ بول ہی نہیں سکی تھی۔
’’دیکھو‘ میں جانتا ہوں کہ مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا لیکن میں اور کیا کرتا… تم نے تو شاید قسم کھا رکھی ہے میری شکل نہ دیکھنے کی جبکہ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے…‘‘
’’عرش‘ تم فوراً جائو یہاں سے… کسی نے تمہیں دیکھ لیا تو… کیوں مجھے مشکل میں ڈال رہے ہو…‘‘ شدید بدحواسی میں وہ دبی آواز میں چیخی۔
’’فکر نہ کرو‘ میں بہت محتاط رہ کر یہاں تک آیا ہوں‘ کسی نے مجھے نہیں دیکھا… میں صرف تمہیں بلانے آیا ہوں‘ تم آرہی ہو تو میں ابھی چلا جائوں گا۔‘‘
’’نہیں آئوں گی تو کیا یہیں ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جائو گے؟ تم فوراً جائو یہاں سے…‘‘ وہ شدید ناراضی سے بولی۔
’’پہلی بار تمہارے گھر آیا ہوں‘ چائے پانی کو تو پوچھو پہلے…‘‘
’’تمہیں تو میں…‘‘ تلملا کر اس نے بیلن اٹھایا۔ ’’اس حلیے میں تم چھیل چھبیلے بلا بنے یہاں آگئے۔‘‘
’’جارہا ہوں… جارہا ہوں۔‘‘ عرش دبی آواز میں ہنستا پیچھے ہٹا۔ ’’میں تمہارا انتظار کررہا ہوں‘ جلدی آنا۔‘‘ پلٹ کر باہر کی طرف جاتا وہ ایک پل کو رکا‘ دوسری جانب وہ بے یقینی سے عرش کو دیکھتی رہی تھی جو اس کی سوئی ہوئی ماں کے پیروں کے پاس پنجوں کے بل بیٹھا تھا‘ دھیرے سے ان کے پیروں کو پکڑتا وہ چند لمحوں تک ان کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر سرعت سے اٹھتا کسی بھی جانب دیکھے بغیر کھلے دروازے سے باہر نکل گیا‘ تیزی سے دروازے کے باہر آتی وہ کچھ پُرسکون ہوئی تھی۔ اس کے چلے جانے کا اطمینان کرنے کے بعد نم بالوں میں جلدی جلدی دو چار بل ڈال کر سوئٹر پہنا اور گرم چادر اٹھالی تھی‘ دماغ اس کا مسلسل مائوف تھا‘ خوف و غصہ یا کچھ اور‘ جو بھی تھا پر اسے عرش سے اس جرأت کی توقع نہیں تھی۔ پول سے برستی تیز روشنی میں عرش نے بغور اس کے ماتھے پر نمایاں بل اور ناگوار تاثرات دیکھے۔
’’کیا بات کہنی تھی تمہیں؟‘‘ حسب توقع اس کا لہجہ اکھڑا ہوا ہی تھا۔
’’میں جانتا ہوں تمہیں میری حرکت بہت بری لگی ہے‘ میں اپنی وجہ سے تمہیں مزید کسی مشکل میں ڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتا… بے فکر رہو‘ میں آئندہ کبھی اس حد تک نہیں جائوں گا۔ یہ میرے لیے شرمندگی کا باعث ہے کہ تم میری وجہ سے کسی ڈر‘ خوف یا پریشانی میں مبتلا ہو۔‘‘ اس کے سنجیدہ لب ولہجے پر وہ خاموش ہی رہی۔
’’دو دن سے کہاں غائب تھیں؟ میں پریشان ہوگیا تھا تمہارے لیے ورنہ شاید اس حد تک نہ جاتا۔‘‘ عرش نے سنجیدگی سے کہا۔
’’سنو… میں انسان ہوں کوئی جانور نہیں کہ جسے تم جب چاہو گے دھتکار دوگے‘ جب چاہو گے پاس بلالو گے۔‘‘ اس کے تیز لہجے پر عرش ایک پل کو خاموش ہوا۔
’’میری مجبوری سے واقف ہونے کے باوجود تم نے جانے انجانے میں میرے زخموں کو کرید ڈالا تھا… یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوسکا‘ لیکن میں واقعی شرمندہ ہوں اور تم سے معافی مانگتا ہوں‘ میری وجہ سے تمہاری دل آزاری ہوئی۔‘‘
’’جانے دو اس بات کو تم مجھے وہ بات بتائو جس کے لیے بلایا ہے۔‘‘ اس بار وہ تجسس زدہ لہجے میں بولی۔
’’بتاتا ہوں‘ ایک منٹ…‘‘ وہ بولتے ہوئے نیچے جھکا۔ حیرت سے وہ عرش کو دیکھ رہی تھی جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سرخ مخملی کیس اور کیس میں ایک خوبصورت سی انگوٹھی جگمگارہی تھی۔
’’یہ ماما نے تمہارے لیے بھیجی ہے‘ ان کو اس بات کا بہت قلق تھا کہ تم پہلی بار ان سے ملنے گئیں اور وہ تمہیں کوئی تحفہ بھی نہ دے سکیں‘ میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ خود یہ تمہیں دیں مگر ان کو یہ خدشہ تھا کہ تم ان کے ہاتھ سے یہ تحفہ لینے میں تکلف کروگی‘ ان کو جلدی بھی تھی یہ تم تک پہنچانے کی اس لیے ان کی تاکید پر میں دو دن سے یہ تحفہ ساتھ لے کر آتا رہا تھا۔‘‘ اس کے حیران چہرے کو دیکھتا اس نے بتایا۔
’’جانتی ہو یہ انگوٹھی ماما کو بہت عزیز ہے کیونکہ یہ پاپا نے ان کو شادی پر تحفے میں دی تھی‘ ماما کو پورا یقین ہے کہ تم اس کو زیادہ سنبھال کر رکھو گی۔‘‘
’’عرش…! میں ان کی محبت اور اس تحفے کے لیے دل سے مشکور ہوں لیکن میں یہ نہیں لے سکتی‘ یہ بہت قیمتی ہے اور میں اس کے لائق نہیں۔‘‘ وہ کچھ پریشان ہوکر تذبذب سے بولی۔
’’یہ ماما بہتر جانتی ہیں کہ تم کس لائق ہو‘ میں یہ تحفہ تم تک پہنچا کر ان کی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا… تم نہیں لینا چاہتی تو میں مجبور نہیں کروں گا‘ ماما کو دکھ تو بہت ہوگا لیکن میں ان کو سمجھادوں گا۔‘‘ عرش کے بجھے لہجے نے اسے نادم کردیا۔
’’میں ان کو کوئی دکھ نہیں دے سکتی اور پھر اتنا پیارا تحفہ‘ اتنی پیاری ہستی کی طرف سے ملنا میرے لیے بہت خوشی اور فخر کی بات ہے۔‘‘ کہتے ہوئے اس نے عرش سے مخملی کیس لے کر بغور دمکتی ہوئی انگوٹھی کو دیکھا۔
’’یہ بہت خوب صورت ہے‘ زندگی میں پہلی بار مجھے ایسا کوئی تحفہ ملا ہے۔ تم ماما سے کہنا میں بہت خوش ہوں یہ تحفہ پاکر… میں خود آئوں گی ان کا شکریہ ادا کرنے۔‘‘ اس کے خوش گوار انداز پر عرش نے سر ہلایا۔ ’’لیکن عرش تم اندازہ کرسکتے ہو کہ ابھی میرے لیے مشکل ہوگا اس انگوٹھی کی حفاظت کرنا‘ ذرق کو اگر بھنک بھی لگ گئی کہ میرے پاس زیور ہے تو وہ ہاتھ صاف کرجائے گا۔‘‘
’’پھر…؟‘‘ اس کی تشویش پر عرش نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’تم بطور امانت یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھ لو مگر ماما کو مت بتانا کہ اسے میں نے تمہارے پاس رکھوایا ہے‘ اس کے لیے میں تمہارے علاوہ اور کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتی۔‘‘ اس کے التجائی لہجے پر عرش نے پُرسوچ انداز میں اثبات میں سر ہلادیا۔
’’ٹھیک ہے‘ یہ میرے پاس تمہاری امانت ہے‘ میں ماما تک تمہارا پیغام بھی پہنچادوں گا۔‘‘ وہ بولا اور پھر مخملی کیس کو واپس اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
’’ماما کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کیا کہوں‘ تم سے جھوٹ بولوں یا خود کو دلاسہ دوں؟‘‘ اس نے بوجھل لہجے میں کہا۔
’’حالات جب بدلیں گے تو پتہ بھی نہیں چلے گا‘ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا‘ تمہیں ہمت بالکل نہیں ہارنی…‘‘ اس کی تاکید پر عر ش گہری سانس لیتا آسمان پر نظریں دوڑانے لگا‘ چند لمحوں تک وہ اسے دیکھتی رہی‘ پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں آسمان کی جانب دیکھا جہاں کہیں‘ کہیں ستارے ٹمٹما رہے تھے۔
’’تم آسمان کی طرف کیا دیکھتے رہتے ہو…؟‘‘ اس کے حیرانی سے کیے گئے سوال پر وہ دھیرے سے ہنسا۔
’’شاید تم خود نہیں جانتی کہ تم نے کتنا گہرا سوال کیا ہے۔‘‘ وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا۔ ’’پتہ ہے‘ کبھی کبھی تم مجھے ایک گہرے راز کی طرح لگتی ہو‘ کبھی بالکل خاموش گہرے سمندر کی طرح اور کبھی صحرا کی چاندنی رات کی طرح… کبھی دل چاہتا ہے کہ ایک ایک پل تمہارے قریب گزاروں‘ تمہیں سمجھوں‘ یہ جانوں کہ تم کس قسم کی مخلوق ہو‘ کس طرح کھٹنائیوں کا تنہا مقابلہ کرتے ہوئے بھی اتنی زندہ دل ہو۔‘‘ بغور اسے دیکھتا وہ بولا۔
’’اور میں سوچتی ہوں کہ ہم دونوں دو مختلف دنیا کی مخلوق ہیں‘ ہمارے درمیان بس ایک قدر مشترک ہے کہ ہم دونوں کو ہی حالات نے وقت سے پہلے بوڑھا کردیا ہے۔‘‘ وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’میں اب شدت سے انتظار کروں گا اس وقت کا جب حالات بدلیں گے اور ہم جوان ہوں گے۔‘‘ عرش مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا بولا۔
’’آج تمہاری امی سے مل کر بہت اچھا لگا‘ وہ تم سے بھی زیادہ اچھی ہیں۔‘‘ عرش کے یک دم کہنے پر وہ مسکرانے کی کوشش کرتی دل میں اٹھتے درد کو چہرے پر ابھرنے سے نہیں روک سکی تھی۔ جبکہ عرش چونک کر فوراً ہی اس کے مقابل آیا تھا۔
’’مجھے ہمت دیتی ہو اور خود اس طرح رو کر اپنے آپ کو کمزور ثابت کررہی ہو… ابھی تم نے ہی تو کہا تھا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔‘‘ کچھ بے چین ہوتا وہ اسے تسلی دینے کی کوشش کررہا تھا جو بے دردی سے آنکھیں رگڑتی اس کی جانب نہیں دیکھ سکی تھی۔
’’میں سمجھ سکتا ہوں‘ دن رات تم کس اذیت کو سہہ کر زندگی گزار رہی ہو یہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔‘‘
’’پتہ نہیں… اب سمجھ نہیں آتا کہ سب کچھ ٹھیک ہونے کی امید رکھوں یا سب کچھ بدل جانے کی دعا کروں… کبھی کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہوتا‘ بس سب کچھ بدل جاتا ہے‘ وقت بھی اور حالات بھی۔‘‘ وہ بھیگے لہجے میں بولی۔
’’ذرق سے کوئی امید رکھنا بیکار ہے‘ امی کے وجود کا آسرا اور سہارا ہے مگر ان کی بگڑتی صحت اور ختم ہوتی حسیں یہ دھڑکا لگائے رکھتی ہیں کہ وہ نہ رہیں تو میرا کیا ہوگا… کس طرح زندہ رہوں گی؟‘‘
’’جو معاملات ہمارے بس میں نہیں ان کے بارے میں سوچ کر بھی ان معاملات کے اختیارات ہمارے ہاتھ میں نہیں آجاتے… میں تمہیں کوئی جھوٹی تسلی تو نہیں دوں گا‘ ہاں یہ یقین رکھو کہ جب کبھی ایسا ہوا کہ تمہارے اردگرد کوئی نہیں تو ایسے میں سوچ لینا کہ صرف ایک میں ہی ہوں جو کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ اس کے یقین دلانے والے انداز پر وہ مسکرائی۔
’’کب تک ساتھ دوگے؟ ایک صرف انسانیت کے علاوہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی رشتہ بھی تو نہیں…‘‘
’’تم کہتی ہو کہ وقت اور حالات نے ہمیں اکٹھا کردیا… تو وقت اور حالات جس ہستی کے تابع ہیں‘ اسی ہستی کی رضا سے ہمارے درمیان کوئی رشتہ بھی قائم ہوجائے گا… ہمارے ملنے میں اس کی کوئی تو مصلحت یقینا ہے۔‘‘ عرش کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’مجھے خوشی ہورہی ہے یہ دیکھ کر کہ تمہیں اللہ پر بہت یقین ہے‘ گناہ گار تو ہم بہت ہیں لیکن دعا ہے کہ اللہ کو ہماری یہی ادا پسند آجائے۔‘‘ وہ سنجیدہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
مجھے تجسس و تحقیق کی نہیں عادت
مجھے خدا پہ یونہی اعتبار ہے ساقی
عرش نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے شعر پڑھا۔
m… / …m
’’ان ماں بیٹیوں کو طور طریقے معلوم نہیں ہیں کیا…؟ اٹھا کر کارڈ بیٹے کے ہاتھ بھیج دیا… اور آپ نے بھی خاموشی سے لے لیا‘ دو چار سنانی تھیں‘ اپنے زرکاش بھائی کو‘ اب آپ اپنے سسرال والوں کے ساتھ ہیں‘ ذرا ناک اونچی رکھیں‘ آپ کو تو شرکت ہی نہیں کرنی چاہیے شذرا کی شادی میں۔‘‘ فون پر وہ رائمہ پر برہم ہورہی تھی۔
’’اب اس بات کو لے کر بیٹھی رہتی کہ انوٹیشن زرکاش بھائی کے ہاتھ بھیجا گیا تو میرے سسرال میں سب کو پتہ چل جائے گا کہ تائی امی سے ہمارے تعلقات کیسے ہیں‘ انہوں نے کارڈ بھیج دیا‘ یہی بڑی بات ہے اور جہاں تک شادی میں شرکت کرنے کی بات ہے تو ظاہر ہے میرے لیے زرکاش بھائی اور ان کی خوشی اہم ہے‘ میں ان کی خوشی میں شرکت کرنے جارہی ہوں‘ فرض کرو اگر میں بھی تمہاری طرح ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر بیٹھ جائوں تو یہاں اسد اور باقی سب کے سوالوں کا سامنا کیسے کروں گی…‘‘
’’بس رہنے دیں‘ آپ کے سسرال میں بھی سب کو خبر ہے کہ تائی امی اور ان کی اولادوں کے دماغ کتنے خراب ہیں‘ کوئی زبان سے کچھ کہتا نہیں وہ الگ بات ہے‘ آپ کی شادی کے دن سے لے کر آج تک مروتاً بھی تائی امی نے آپ کی خیر خبر تک نہیں لی اور بڑی بن کر بیٹھی ہیں۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
’’مجھے زرکاش بھائی پوچھ لیتے ہیں میرے لیے وہی کافی ہے۔‘‘ رائمہ فوراً بولی۔
’’ان کی تو بات ہی نہ کریں‘ ایک نمبر کے دوغلے انسان ہیں‘ سیاست میں ہوتے تو اگلے پچھلے سب سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہوتے۔ جب ان کو پتہ ہے کہ نہ میں ان کی بہن کی شادی میں شرکت کروں گی نہ ہی ان کے گھر والے میری شکل دیکھنا چاہتے ہیں تو کیوں کہہ گئے آپ سے کہ دراج کو بھی ساتھ لانا… جاتی ہے میری جوتی۔‘‘
’’فضول مت بولو‘ یہاں سب کے سامنے تو ان کو ایسا ہی کہنا تھا۔‘‘
’’اسی لیے تو کہتی ہوں‘ دوغلے ہیں وہ۔‘‘ وہ درمیان میں بولی۔
’’پھر وہی بات… میری فون پر ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے‘ تمہارے انکار کے باوجود وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی شادی میں شرکت کرو‘ ان کو اپنے گھر والوں سے امید نہیں مگر ہم سے ہے کہ ہم ان کی بات کو اہمیت دیں گے‘ کیا یہ اہم نہیں۔‘‘ رائمہ نے سمجھانے والے انداز میں پوچھا۔
’’آپ تو چپ ہی رہیں‘ اپنی تائی امی کے گلے لگ کر مبارک باد دیجیے گا اور ان کی ملنساری کے مصنوعی ڈرامے دیکھیے گا‘ سب کے سامنے۔‘‘
’’تم سے تو بحث کرنا ہی بیکار ہے‘ میں جارہی ہوں اب سب تیار بیٹھے ہیں۔‘‘
’’سنیں تو… آپ نے کون سا ڈریس پہنا ہے؟‘‘
’’وہی گرین ساڑھی جو ربیعہ بھابی نے مجھے گفٹ کی تھی‘ تمہیں بھی بہت پسند آئی تھی۔‘‘ رائمہ نے بتایا۔
’’ہائے بجیا… اس ساڑھی میں تو آپ قیامت لگ رہی ہوں گی‘ اسد بھائی نے دیکھا آپ کو؟‘‘
’’ظاہر ہے‘ سب سے پہلے انہوں نے ہی دیکھا‘ اب کوئی فضول سوال مت کرنا۔‘‘ اس کے تجسس پر ہنستے ہوئے رائمہ نے خبردار کیا۔
’’میں واپس آکر تمہیں فون پر شادی کا سارا احوال بتائوں گی‘ جلدی مت سو جانا۔‘‘
’’مجھے کوئی دلچسپی نہیں احوال جاننے میں لیکن پھر بھی میں انتظار کروں گی۔ اب جائیں آپ۔‘‘ وہ کوفت سے بولی۔
کوئی پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے وہ کالج کا یونیفارم پریس کرنے کے لیے اٹھی تھی کہ تب ہی زرکاش کی آمد کی اطلاع نے اسے حیران کردیا۔
’’اللہ… آپ تو غضب ڈھا رہے ہیں آج… بہت بہت مبارک ہو…‘‘ خوش گوار انداز میں بولتے ہوئے اس نے قریب آکر زرکاش کے گریبان سے رخسار مس کرتے ہوئے مبارک باد دی۔ ’’بہت خوش نظر آرہے ہیں… نظر نہ لگے بس۔‘‘ اس کے چہکنے پر زرکاش کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
’’یہ خوشی اور بڑھ جاتی اگر ایک ضدی لڑکی بھی میری خوشی میں شامل ہوتی۔‘‘ زرکاش نے شکایتی لہجے میں کہا۔
’’میں آپ کے ساتھ بھی ہوں اور آپ کی خوشی میں خوش بھی…‘‘
’’مگر یہ سب کو نظر بھی تو آنا چاہیے‘ عجیب مشکل میں پھنس گیا ہوں میں۔‘‘
’’اب چھوڑیں اس بات کو‘ اتنی خوشی کے موقع پر اتنا سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں اور یہ آپ تقریب چھوڑ کر یہاں کیسے پہنچ گئے؟‘‘ وہ بات بدلنے کے لیے سوال کر گئی۔
’’یہاں اس لیے آگیا کہ میں تمہاری کمی کو بہت محسوس کررہا تھا… آج ابو‘ چچا جان اور چچی جان سب کو بہت بہت مس کررہا ہوں میں… سب کے درمیان دل گھبرایا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے یہاں آگیا۔‘‘ اس کے تھکے تھکے لہجے پر دراج خود بھی یک دم آزردہ سی ہوتی اس کے سینے سے سر ٹکائے آنسو ضبط نہیں کرسکی۔
’’دراج… ایم سوری‘ میں یہاں تمہیں رلانے نہیں آیا تھا‘ اب رونا بند کرو۔‘‘ دراج سر کو تھپتھپاتے ہوئے وہ بولا۔
’’نہیں… آپ کی وجہ سے نہیں‘ سچ کہوں تو مجھے بھی آج ان سب کی بہت یاد آرہی تھی۔‘‘ اپنے آنسو ضبط کرتی وہ بھرائے لہجے میں بولی۔
’’ہم ان کو بھول بھی نہیں سکتے کبھی‘ آج ہم ان کی وجہ سے ہیں‘ وہ سب ہمارے دل میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ زرکاش بوجھل لہجے میں بولا۔
’’آپ تایا ابو کے بارے میں مجھ سے باتیں کیا کریں‘ آپ سے زیادہ میں ان کے قریب رہی ہوں‘ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا تھا جب ان کی باتوں میں آپ کا ذکر نہ آتا ہو۔‘‘ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’ہاں… ویسے بھی میں تمہاری بیکار باتیں سن سن کر پک چکا ہوں‘ اب تم سے ابو کی ہی باتیں کروں گا۔‘‘ اس کے غیر سنجیدہ انداز پر وہ دھیرے سے ہنس دی۔
’’تم نے ٹھیک کہا تھا دراج… تمہیں سب کے قریب کرنے کی خواہش کا اظہار ہی بھاری پڑ گیا مجھے… شزا اور شیراز ابھی تک مجھ سے کھنچے کھنچے سے ہیں… نادان ہیں دونوں اور کہا بھی کیا جاسکتا ہے۔‘‘ اپنے بہن بھائی کی طرف سے زرکاش کے لہجے میں چھپی مایوسی نے دراج کو اندر ہی اندر سرشار کردیا تھا۔
’’میں ہوں یا کوئی اور سب کے پاس آپ جیسا بڑا دل نہیں ہوسکتا… میری وجہ سے آپ کسی کو مجبور نہ کریں‘ میں آپ کو افسردہ نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ لوہا گرم دیکھ کر اس نے موقع نہیں گنوایا۔
’’دراج… تم مجھ سے لاکھ چھپائو لیکن میں جانتا ہوں تمہیں دکھ پہنچا ہے‘ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ازالہ کروں گا اور کرتا رہوں گا بس میری طرف سے بدگمان مت ہونا۔‘‘ دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
’’بالکل نہیں۔‘‘ دراج نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔ ’’اب خوش نظر آئیں‘ اتنی بڑی خوشی کا وقت ہے یہ‘ ابھی آگے آپ کے گھر میں اور بھی شادیاں ہوں گی‘ ان میں‘ میں ضرور آئوں گی اور آپ کی شادی تو میرے بغیر ہوہی نہیں سکتی۔‘‘ وہ شرارتی انداز میں بولی۔
’’بخش دو مجھے‘ جانے کہاں سے میرے پیچھے لگ گئی یہ چڑیل… چھوڑو میرا ہاتھ۔‘‘ زرکاش کے گھرکنے پر کھلکھلاتے ہوئے اس نے اور مضبوطی سے ہاتھ پکڑ لیا تھا‘ تب ہی زرکاش کے فون پر امان کی کال آگئی‘ اس کے اشارے پر دراج نے اپنی آواز بند ہی رکھی تھی۔
’’امان سب کو لے کر پہنچ رہا ہے‘ راستے میں ہیں ابھی۔‘‘ فون سے فارغ ہوتا وہ بتا رہا تھا۔
’’تو آپ بھی جلدی پہنچیں‘ تقریب میں‘ سب ڈھونڈ رہے ہوں گے آپ کو… چلیں میں آپ کو گیٹ تک چھوڑ دوں۔‘‘ اس کے بازو کے گرد اپنا ہاتھ لپیٹے وہ چلنے کے لیے تیار تھی۔
’’اس طرح۔‘‘ زرکاش نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔
’’تو کیا فرق پڑتا ہے‘ بدنام تو میں ویسے بھی پورے ہاسٹل میں کرچکی آپ کو‘ سب کو پتہ ہے کہ آپ میرے بوائے فرینڈ ہیں۔‘‘ وہ مسکراہٹ چھپائے بولی۔
’’تمہارا دماغ خراب ہے کیا…؟‘‘ زرکاش نے دنگ ہوکر دیکھا۔
’’اور نہیں تو کیا۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے کھلکھلاتی بولی۔
m… / …m
ہاسپٹل میں آج پھر ندا کے کزن کے ہمراہ انسپکٹر بھی موجود تھے‘ انسپکٹر کے سوال پر سوال اور رجاب کے بار بار نہیں‘ نہیں نے راسب کے ذہنی انتظار کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔
’’انسپکٹر… برائے مہربانی آپ مزید اس سے کوئی سوال نہ کریں‘ کل اس کی سرجری ہے اور میں نہیں چاہتا کہ یہ مزید کسی ذہنی دبائو کا شکار ہو آپ اس معاملے میں کچھ کرسکیں تو ٹھیک ہے ورنہ مزید زحمت نہ کریں تو بہتر ہے۔‘‘ ضبط کے باوجود راسب کا لہجہ برہم ہوگیا تھا۔
’’راسب صاحب‘ ہماری تفتیش کا طریقہ کار ہی کچھ ایسا ہے‘ میں آپ کی پریشانی کو سمجھ سکتا ہوں ہم جلد ہی مجرموں تک پہنچیں گے‘ ان کو کھلا نہیں گھومنے دیں گے‘ بس آپ کے تعاون کی ضرورت رہے گی۔‘‘ انسپکٹر نے کہا‘ ان کے جانے کے بعد ندا کے کزن راسب کو بات کرنے کے لیے اپنے ہمراہ روم سے باہر لے گئے تھے۔
’’اظہار اب یہ سب میری برداشت سے باہر ہورہا ہے‘ رجاب کی حالت تمہارے سامنے ہے‘ میں اس کی اذیت میں اضافہ نہیں کرسکتا‘ ہر نئے دن نئے سوال وہی بیان… ہم سب ذہنی طور پر ٹارچر ہورہے ہیں۔‘‘ وہ شدید مضطرب ہوکر بولے۔
’’راسب جائے حادثہ سے پولیس کو کوئی خاطر خواہ سراغ نہیں مل سکا‘ حاذق کسی قسم کا کوآپریٹ کرنے کے لیے تیار نہیں‘ رجاب شاید خوف اور دہشت کی وجہ سے بھی ان لڑکوں میں سے کسی کا بھی چہرہ یاد نہیں کرنا چاہتی مگر حاذق نے تو پورے ہوش وحواس میں اپنا والٹ وغیرہ ان کے حوالے کیا تھا‘ پھر بھی وہ کہتا ہے کہ اسے کسی کا چہرہ یاد نہیں‘ بار بار میرے کہنے پر بھی وہ دماغ پر زور ڈال کر اسکیچ بنوانے کے لیے تیار نہیں‘ میری کل بھی اس سے بات ہوئی ہے‘ اس نے کہہ دیا ہے کہ وہ جتنا کچھ بتاسکتا تھا بتاچکا‘ اس لیے اب اسے اس معاملے سے الگ رکھا جائے۔ ایک‘ دو دن میں وہ شمالی علاقوں کے ٹور پر جارہا ہے‘ کہہ رہا تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کو پریشان نہ کیا جائے‘ میں کہنا تو نہیں چاہتا مگر… آپ کو ایک بار حاذق سے بات کرنی چاہیے‘ رجاب کی خاطر‘ آپ اسے سمجھائیں کہ ہمارے ساتھ کوآپریٹ کرے‘ ویسے بھی جب تک تفتیش جاری ہے‘ اسے شہر سے باہر جانے کی اجازت ہماری طرف سے نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کی اور رجاب کی نشاندہی پر ہی ہم مجرموں تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ اظہار کے تفصیل بتانے پر راسب خاموش رہے مگر ایک فیصلہ انہوں نے کرلیا تھا جس کے بعد وہ خاموشی سے ہی ہاسپٹل سے نکل گئے تھے۔ اپنے گھر میں ان کی اچانک آمد پر حاذق سمیت سب کو ہی سانپ سونگھ گیا تھا۔
’’مجھے صرف حاذق سے بات کرنی ہے اور کسی سے نہیں۔‘‘ سرد لہجے میں فیصلہ سنا کر وہ خود ہی ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گئے۔
چند لمحوں بعد حاذق ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو راسب سامنے ہی کھڑے سخت کڑی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’پولیس کے ساتھ تعاون کیوں نہیں کررہے تم؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’جتنا تعاون کرسکتا تھا کرچکا‘ اب یہی کسر رہ گئی ہے کہ سارا الزام اپنے سر لے کر ہتھکڑی لگوا لوں خود کو۔‘‘ اکھڑے لہجے میں بولتے حاذق کو پہچاننا مشکل تھا۔
’’الزام سے تم بری ہو بھی نہیں سکتے… لیکن میرے لیے پہلے اپنی بہن کے گناہ گاروں کے گریبان تک پہنچنا اہم ہے جن کی وجہ سے اس کا یہ حال ہوا کہ انسانیت بھی شرما جائے… مگر تم یہ نہیں سمجھو گے کیونکہ تمہارے اندر انسانیت باقی نہیں رہی‘ تم تو ان درندوں سے بھی زیادہ بھیانک اور وحشی ثابت ہوئے ہو…‘‘
’’جب آپ میرے بارے میں اتنے ہی پُریقین ہیں تو کیا لینے آئے ہیں میرے پاس؟‘‘ حاذق بگڑ کر بلند آواز میں بولا۔
’’تم کسی کو کچھ دینے کی نہیں اس کا سب کچھ چھین لینے کی قابلیت رکھتے ہو… مجھے اس سب کا حساب تم سے لینا ہے جو تمہاری وجہ سے چلا گیا‘ رجاب کے گناہ گاروں میں تم سب سے آگے ہو… جب اسے تحفظ نہیں دے سکتے تھے تو کیوں اس سے تعلق جوڑا؟ کیوں تم سب نے اس کے لیے ہاتھ اور جھولیاں پھیلائیں تھیں…؟‘‘ راسب مشتعل ہوکر بولے۔
’’غلطی ہوگئی‘ گناہ ہوگیا مجھ سے اور میرے گھر والوں سے… جتنا خمیازہ ہمیں بھگتنا تھا ہم بھگت چکے‘ اب میرا پیچھا چھوڑیں آپ‘ بیزار ہوچکا ہوں میں اس سب سے۔‘‘ حاذق ہتھے سے اکھڑا۔
’’بیزار تو ایک دن اپنے آپ سے اپنی زندگی سے ہوگے تم… شرم کرو بے حس انسان‘ جس کی وجہ سے میں اب بھی تم جیسے گھٹیا شخص کے منہ لگنے پر مجبور ہوں‘ اس سے سب کے سامنے نکاح پڑھوایا تھا تم نے‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو گواہ بنا کر… رجاب اور مجھے تم دغا دے کر بھاگ سکتے ہو مگر اللہ سے منہ چھپا کر کہاں تک بھاگو گے… تم شمال میں چلے جائو یا جنوب میں مگر کان کھول کر سن لو‘ تمہاری گردن میرے ہاتھوں کی پہنچ سے دور نہیں۔‘‘
’’مگر میں آپ کو ہر مجبوری سے آزاد کرچکا ہوں۔‘‘ حاذق بھڑکتے لہجے میں ان کی بات کاٹ گیا۔
’’حاذق کی گردن اتنی سستی نہیں کہ کسی کے بھی ہاتھ اس گردن تک پہنچ جائیں… نہیں ہے میرے نزدیک اہمیت اب اس نکاح کی نہ آپ کی بہن کی… وہ میرے قابل نہیں ہوسکتی جسے استعمال کرکے سڑک پر پھینکا گیا تھا…‘‘
’’میں تمہاری زبان کھینچ لوں گا بے غیرت انسان…‘‘ راسب دھاڑ اٹھے‘ خنجر کی طرح سینے میں اترتے حاذق کے جملے پر ان کا ہاتھ بے اختیار اٹھ گیا تھا‘ تھپڑ کی گونجتی آواز پر حاذق کے باپ‘ بھائی نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا ہی تھا کہ راسب پھر بلند آواز میں بولے۔
’’کوئی اندر نہیں آئے گا… اپنے بھائی‘ اپنی اولاد کا درد دل میں دبا کر دیکھو تماشہ کیونکہ میں بھی اپنی بہن کا درد دل میں چھپا کر تم بے حسوں کی دہلیز تک آیا ہوں۔‘‘ راسب کے اشتعال سے درو دیوار لرز گئے تھے۔
’’آپ جس حد تک جاسکتے تھے جاچکے ہیں مگر اب اور نہیں اس سے پہلے کہ میں بھی سارا لحاظ بھول کر آپ کا تماشہ بنادوں چلیں جائیں آپ یہاں سے‘ ابھی اور اسی وقت۔‘‘ حاذق شدید غصے میں چیخا۔
’’تماشہ تو تمہاری زندگی بنے گی‘ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے… اب بھی مہلت ہے‘ اللہ کے قہر کو آواز مت دو‘ میری بہن کے پاک دامن پر کیچڑ اچھالنے کے بعد اب اگر تم نے اس کے زخموں سے چور چہرے پر مزید کوئی سیاہ زخم لگانے کی کوشش کی تو یاد رکھنا… تمہاری دنیا ہی نہیں عاقبت بھی خراب کر ڈالوں گا۔‘‘ راسب کے بھینچے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی اور قیامت کی گھن گھرج تھی۔
خونخوار نگاہ حاذق سے ہٹاتے وہ پھر وہاں رکے نہیں تھے۔ رگوں میں دوڑتی غم وغصے کی لہروں کے ساتھ وہ بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دواتے رہے تھے‘ ندا نے بتایا تھا کہ رجاب نے بس ایک بار حاذق کے بارے میں پوچھا تھا‘ شاید ندا کے کسی جھوٹ کو سچ مان کر اس نے دوبارہ حاذق کا پوچھا نہ ہی تایا‘ تائی کے بارے میں کوئی سوال کیا… راسب نے زندگی میں کبھی خود کو ایسا بے بس ولاچار محسوس نہیں کیا تھا‘ کئی بار انہوں نے چاہا کہ گاڑی کہیں ٹکرا دیں یا کسی کھائی میں خود کو دھکیل دیں مگر ہر بار رجاب کا چہرہ سامنے آجاتا‘ رجاب کی حالت نے جو زخم ان کے دل پر لگائے تھے‘ وہ تو اب کبھی بھرنے والے نہیں تھے‘ لیکن کچھ نام نہاد رشتوں نے زبان سے جو زخم روح پر لگائے تھے وہ ساری زندگی کا ناسور بن چکے تھے‘ بے اعتبار کردیا تھا ان رشتوں نے جن کی قلعی اتر گئی تھی‘ بھروسہ ختم کردیا تھا ان چہروں نے جن پر سے نقاب اتر چکے تھے‘ آج حاذق نے رجاب کی پاک دامنی پر انگلی اٹھا کر تاحیات ایک روگ ان کو لگادیا تھا جس کا علاج اس دنیا میں نہیں تھا‘ آج سارے پردے اٹھ چکے تھے‘ ان کی آنکھوں کے سامنے سے‘ رشتوں کی حقیقت اور سچ اب جو سامنے دکھائی دے رہے تھے‘ وہ بہت کریہہ تھے۔ وہ آخری سانس تک کسی کو معاف کرنے والے نہیں تھے جن جن کی وجہ سے ان کے گھر کا ہر فرد بھڑکتے شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔
’’کہاں رہ گئے تھے آپ… سب خیریت تو ہے؟‘‘ ندا نے بہت تشویش سے ان کی خوں رنگ آنکھوں اور چٹختے تاثرات کو دیکھا‘ کوئی بھی جواب دیئے بغیر وہ رجاب کی طرف بڑھ گئے‘ پٹیوں میں جکڑے چہرے پر اس کی خالی نظریں راسب پر ساکت تھیں‘ جو اس کے قریب ہی سر جھکائے اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے لگائے بیٹھے تھے‘ ان کے آنسوئوں کی نمی وہ اپنے ہاتھ پر محسوس کرسکتی تھی۔
’’راسب…! کیا آپ تایا جان کی طرف…‘‘
’’مت بات کرو ان کی…‘‘ راسب کی بلند آواز ندا کو ساکت کر گئی۔ ’’میں ان میں سے کسی کا نام تک نہیں سنا چاہتا۔‘‘ یک ٹک رجاب ان کو دیکھ رہی تھی جو ندا سے نگاہ ہٹا کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر یک دم اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔
’’رجاب… تم بہت بہادر ہو‘ تم نے کبھی میرا سر جھکنے نہیں دیا‘ مجھے ہمیشہ تم پر فخر رہا ہے… تم میری بہن نہیں میری بیٹی ہو‘ میری اولاد سے بھی بڑھ کر اہم ہو میرے لیے‘ میری زندگی‘ میرا سب کچھ صرف تم ہو… تمہیں میری قسم ہے‘ کسی بھی حال میں تم ہمت نہیں ہاروگی‘ کسی کے سامنے نہیں جھکوگی‘ مجھ سے وعدہ کرو‘ آگے تمہارے سامنے جتنے بھی برے حالات آئیں گے تم بہادری سے ان کا مقابلہ کروگی‘ وعدہ کرو مجھ سے۔‘‘ لرزتے لہجے اور کانپتی آواز میں وہ اس سے وعدہ لے رہے تھے۔
’’میں وعدہ کرتی ہوں آغاجان… کبھی آپ کو مایوس نہیں کروں گی۔‘‘ وہ نحیف آواز میں بولی۔ پٹیوں میں چھپی اس کی پیشانی کو چومتے ہوئے راسب نے اپنے دل کے درد کو آنکھوں سے بہنے دیا جبکہ آنے والے وقت کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ندا ساکت کھڑی رہیں۔
m… / …m
ہلکی سی دستک کے ساتھ وہ اندر داخل ہوا تھا۔
’’آئو عرش… میں تمہارا ہی انتظار کررہا تھا۔‘‘ ڈاکٹر ابصار نے بہت سنجیدگی سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’ماما نے آپ سے کہا تھا کہ وہ گھر جانا چاہتی ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘ مجھے اسی سلسلے میں تم سے بات کرنی تھی مگر تم پہلے یہ بتائو کہ تم کل رات کہاں تھے؟‘‘
’’گیراج میں ہی تھا‘ کام زیادہ تھا تو نائٹ وہی تھا۔‘‘ اس کے جواب پر ڈاکٹر ابصار نے بغور اسے دیکھا اور پھر عجیب سے انداز میں وہ مسکرائے۔
’’کل رات جس فائیواسٹار ہوٹل میں تمہاری بکنگ تھی وہاں میں اپنے کچھ مہمانوں کے ہمراہ ڈنر کے لیے گیا تھا۔ تمہیں وہاں دیکھا‘ ریسپشن سے پتہ چلا کہ کسی اونچی پارٹی نے تمہارے لیے وہاں بکنگ کروائی ہے اور تم اکثر اس ہوٹل میں قیام کرتے ہو۔‘‘ ان کے سرد لہجے پر عرش کے تاثرات تن گئے تھے۔
’’آپ کو کیوں ضرورت پیش آئی میرے بارے میں اس طرح جاسوسی کرنے کی؟‘‘ عرش نے اکھڑے لہجے میں پوچھا۔
’’کیونکہ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم وہ کام چھوڑ چکے ہو۔‘‘
’’وہ کام چھوڑ چکا ہوتا تو کیا ماما کا ٹریٹمنٹ اس ہاسپٹل میں ہورہا ہوتا؟‘‘ وہ تیز لہجے میں بولا۔
’’میں نے تم سے کہا تھا کہ ٹریٹمنٹ کے اخراجات کی تم فکرمت کرنا۔‘‘
’’مجھے اپنی ماں کے لیے خیرات نہیں چاہیے۔‘‘
’’عرش‘ میرا کام صرف مریض کا علاج کرنا ہے‘ اس کے ذاتی معاملات زندگی سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہوتا‘ میں تمہیں تب سے جانتا ہوں جب تمہارے والد اس ہاسپٹل میں زیر علاج تھے‘ ان کا کیس میرے ہی ہاتھ میں تھا‘ میں اچھی طرح واقف ہوں کہ اس دوران شازمہ صاحبہ نے کس طرح مشکلات کا سامنا کیا تھا‘ تمہارے والد کے گزر جانے کے بعد جب تمہاری والدہ بیماری کا شکار ہوکر اس ہاسپٹل میں آئیں تو وہ میرے لیے ایک عام پیشنٹ نہیں تھیں اور میں جانتا تھا کہ تم اتنے کم عمر ہو کہ ان کے علاج کے اخراجات افورڈ کرنا تمہارے لیے ناممکن ہے‘ میں نہیں جانتا تھا کہ تم ان کے علاج کے لیے اتنا روپیہ کہاں سے لارہے ہو اور جب ایک دن میں نے اس بارے میں تم سے پوچھا تو تم نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا تھا… تمہارے والد کی طرح تمہاری والدہ بھی بہت اچھی انسان ہیں‘ میرے دل میں ان دونوں کی ہی بہت قدر ہے‘ انسانیت کے ناتے میں یہ چاہتا تھا کہ اتنے اچھے انسانوں کی اولاد کو اس طرح برباد نہیں ہونا چاہیے‘ اسی لیے میں نے اس وقت تم سے کہا تھا کہ اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو خراب مت کرو‘ تمہاری والدہ کا سارا ٹریٹمنٹ اس ہاسپٹل میں بغیر اخراجات کے ہوجائے گا‘ مگر تم نے یہ قبول نہیں کیا‘ تم نے مجھ سے یہ کہا کہ تم وہ کام چھوڑ چکے ہو کیونکہ گیراج میں کام کرکے تم اچھے پیسے کما رہے ہو‘ اس وقت جو یقین میں نے تم پر کیا وہ یقین کل رات ٹوٹ گیا… خود داری اچھی چیز ہے مگر کبھی کبھی لچک لانی پڑتی ہے‘ سمجھوتا کرنا پڑتا ہے‘ تم جانتے تھے کہ تمہاری والدہ کی بیماری جان لیوا ہے‘ تم اپنے آپ کو مکمل برباد کرکے بھی ان کی بیماری کو جڑ سے ختم نہیں کرسکتے‘ پیسہ پانی کی طرح بہا کر تم نے بس خود کو دھوکہ دیا‘ میرے کہنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ تمہیں اپنی والدہ کا علاج ہی نہیں کروانا چاہیے تھا یا یہ کہ اپنے آپ کو اچھے مقام پر لے جانے کے لیے تم ان کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتے‘ مقصد صرف یہ ہے بتانے کا کہ اگر تم میری آفر کو قبول کرلیتے تو تمہاری والدہ کا ٹریٹمنٹ بھی جاری رہتا اور تم خود کو تباہ کرنے کے بجائے پڑھ لکھ رہے ہوتے‘ بات احسان یا خیرات کی نہیں ہوتی عرش… یہ دنیا ہے‘ یہاں ایک انسان کو دوسرے انسان کا سہارا لینے کی کبھی نہ کبھی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے اگر یہ غلط ہوتا تو دنیا کی تمام الہامی کتابیں انسانیت کا درس نہ دیتیں… ابھی تم نادان ہو‘ انسانوں کی پہچان کرنا تمہارے لیے مشکل ہے‘ ہر معاملے میں جذباتی ہوجانا تمہاری عمر کا تقاضا ہے‘ اس لیے مجھے تم سے شکایت نہیں مگر افسوس ضرور ہے مجھے‘ بہرحال اہم بات ابھی یہ ہے کہ تمہاری والدہ اب کسی بھی طرح ہاسپٹل میں رکنے کے لیے تیار نہیں‘ وہ گھر جانا چاہتی ہیں‘ اپنی تسلی یا ان کی فکر میں تم کب تک ان کو یہاں رہنے پر مجبور کرسکتے ہو‘ اس ہاسپٹل کے ایک کمرے میں مستقل رہنا ان کی صحت کی ضمانت نہیں ہے‘ یہ میں نے پہلے بھی تمہیں سمجھایا تھا‘ تم ان کے لیے بے حد حساس ہو‘ تمہاری ان کے لیے فکر اور پریشانی کو دیکھتے ہوئے اور ان کی صحت کے معاملات کو دیکھتے ہوئے مجھے بھی یہی بہتر لگا کہ ان کو ایڈمٹ رہنا چاہیے مگر کب تک…؟ اب ان کو گھر کا سکون اور آرام چاہیے‘ یہاں ان کی اذیت میں اور اضافہ ہورہا ہے‘ انہوں نے چھ ماہ کیسے نکال لیے میں حیران نہیں کیونکہ موت اور زندگی کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ تمہاری والدہ کی دیکھ بھال کون کرے گا…؟ تم سارا وقت ان کے ساتھ نہیں رہ سکتے مگر مجھے اب ان پر رحم آتا ہے‘ تم سے کچھ چھپا نہیں عرش‘ ان کی زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں‘ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے‘ ان کا جگر پچیس فیصد بھی کام نہیں کررہا‘ جسم میں خون بن نہیں رہا اور جو خون چڑھایا جارہا ہے اسے بھی جسم قبول نہیں کررہا‘ جو خون چڑھتا ہے‘ وہ ضائع ہوجاتا ہے‘ وقتی طور پر ان میں کچھ بہتری پھر ہوگئی ہے‘ ان کو اب سکون کی‘ تمہاری توجہ کی ضرورت ہے‘ جس کام سے تم دولت کما رہے ہو‘ اس کی اب ان کو ضرورت نہیں رہی… میں آج ہی ان کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کررہا ہوں‘ ان کے لیے میں نے ایک نرس کا بندوبست کردیا ہے جو صبح سے رات تک گھر پر ان کی دیکھ بھال کرے گی‘ طبیعت ان کی کسی بھی وقت بگڑ سکتی ہے اس لیے صرف ایک فون پر ہاسپٹل کی ایمبولینس تمہارے گھر پہنچ جائے گی۔ یہاں وہ میری ذمہ داری ہوں گی اس لیے ان کی طبیعت سنبھلنے تک جو ٹریٹمنٹ ہوگا اس کے کوئی چارجز تم نہیں دوگے‘ وہ مہینے میں دس بار بھی یہاں آئیں مگر ٹھیک ہونے کے بعد وہ واپس گھر جائیں گی۔‘‘ قطعی فیصلہ کن لہجے میں کہہ کر وہ ایک پل رکے‘ جبکہ عرش چپ چاپ ان کو سن رہا تھا۔

’’میں صاف لفظوں میں تم سے پھر کہہ رہا ہوں کہ میری رائے کے مطابق نہیں رہ گیا ہے‘ جتنا ممکن ہو ان کے قریب رہو‘ اس غلط کام کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اب اپنی ماں کی خدمت کرو‘ ان کی دعائیں لو‘ تم ان سے بہت محبت کرتے ہو‘ ان کی اولاد ہو مگر میں ان کا معالج ہوں‘ تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں کہ اس وقت وہ کتنی اذیت سے گزر رہی ہیں‘ ان کو گھر لے جائو‘ ان کو خوش رکھو اور اللہ سے دعا کرو کہ ان کو اس اذیت سے نجات دے‘ اب تم جاکر ان کو یہ خوش خبری دو کہ وہ ابھی گھر جارہی ہیں۔‘‘ بات ختم کرتے ہوئے انہوں نے عرش کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھا جو سر جھکائے خاموشی سے اٹھ کر جارہا تھا‘ جب ڈاکٹر کے پکارنے پر اس کے قدم جم گئے۔
’’ہمت سے کام لینا ہوگا تمہیں اب اور زیادہ‘ خاص طور پر شازمہ صاحبہ کے سامنے… سمجھ رہے ہو تم۔‘‘ ان کے نرم لہجے میں کی جانے والی ہدایت پر وہ دھیرے سے اثبات میں سر ہلاتا آفس سے نکل آیا۔
’’کبھی کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہوتا بس بدل جاتا ہے۔‘‘ روم میں داخل ہوتے ہوئے ایک آواز اسے سنائی دی۔
’’اور نہ بدلے تو سب کچھ ختم بھی تو ہوسکتا ہے۔‘‘ بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے اس نے بھاری دل سے سوچا۔ کوئی چیز اسے اپنے دل میں خنجر کی طرح اترتی محسوس ہورہی تھی۔ شازمہ کی ویران آنکھیں اس کو دیکھتے ایک پل کو روشن ہوئی تھیں۔
’’عرش… کیا بات ہوئی ڈاکٹر سے؟‘‘ ان کا سوال اسے ضبط کی حدوں تک لے گیا تھا‘ کیا بے بسی تھی کہ وہ اپنی زندگی بھی بازار مصر میں بیچ کر ان کی اذیت ختم نہیں کرسکتا تھا‘ اس کی آنکھوں میں دھواں بھرنے لگا تھا۔
’’عرش… کیا ہوا تمہیں… خاموش کیوں ہو بیٹا؟‘‘ اس کے زرد ہوتے چہرے اور سرخ ہوتی آنکھوں نے شازنہ کو دھچکا پہنچایا۔
’’ڈاکٹر نے کہا ہے اب آپ ٹھیک ہیں‘ اس لیے اب آپ گھر جاسکتی ہیں۔‘‘ ان کا ہاتھ اپنے ہا تھوں میں لیتا وہ لرزتے لہجے میں کہتا ان کی طرف دیکھ نہیں سکا تھا۔ شازمہ چند لمحوں تک اسے دیکھتی رہی تھیں پھر اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اپنے سامنے کیا۔
’’عرش… سب ٹھیک ہے ناں…؟‘‘ ان کی آواز عرش کو کہیں دور سے آتی سنائی دی‘ اس کے بعد وہ ضبط نہیں کرسکا‘ ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا‘ ان کے سینے میں چہرہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا چلا گیا‘ اسے اپنے ناتواں بازوئوں کے حصار میں تھامے شازمہ سناٹے میں گھری تھیں مگر پھر فوراً ہی انہوں نے خود کوسنبھال لیا۔
’’نہیں عرش‘ ا س طرح نہیں روتے‘ تم تو بہت ہمت والے بیٹے ہو میرے… چلو بس اب گھر چلتے ہیں‘ دیر مت کرو۔‘‘ اس کے سر کو سہلاتیں وہ اس کا حوصلہ بڑھا رہی تھیں جو اپنی کرب ناک کراہوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کررہا تھا۔
m… / …m
پچھلے تین دن میں اس نے نہ زرکاش کی کوئی کال ریسیو کی تھی نہ ہی اس کے کسی میسج کا جواب دیا تھا اور وہ جانتی تھی کہ یہی بہت ہے زرکاش پر اپنی ناراضی عیاں کرنے کے لیے… رات میں رائمہ نے فون پر اس کی خبر لی‘ ظاہر ہے زرکاش نے اس کی خیریت معلوم کرنے کے لیے رائمہ سے ہی رابطہ کیا تھا‘ یہ چیز اسے اور غصہ دلا گئی تھی کہ ہاسٹل آکر براہ راست بات کرنے کے بجائے زرکاش نے رائمہ سے ایک طرح سے اس کی شکایت کر ڈالی۔ رائمہ کی باز پرس پر وہ اس پر بھی برہم ہوکر ناراض ہوگئی۔ رائمہ کی ڈانٹ ڈپٹ کو نہ وہ پہلے کبھی خاطر میں لائی تھی نہ اب۔
پورے ایک ہفتے کے بعد زرکاش کی آمد ہاسٹل میں ہوئی تھی‘ پہلے تو اس نے سوچا تھا کہ ملنے سے ہی انکار کردے مگر پھر وہ ایسا کر نہیں سکی تھی‘ وزیٹنگ روم میں موجود زرکاش نے بغور اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھا‘ مدھم آواز میں سلام کرتی وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’کیسی ہو تم… یہ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا؟‘‘
’’مجھے نہیں پتہ…‘‘ خفت بھری نگاہ اس پر ڈالتی وہ بیزاری سے بولی جبکہ زرکاش بمشکل امڈتی مسکراہٹ کو چھپا سکا تھا۔
’’ٹھیک ہے پھر میں ہی پتہ کرلیتا ہوں‘ تم وہاں سے اٹھو اور یہاں میرے پاس آکر بیٹھو۔‘‘ زرکاش کے نرم لہجے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی نہ ہی اس کی طرف دیکھا تھا۔
’’مجھے پتہ ہے کہ تم مجھ سے بہت ناراض ہو‘ یہ تم قریب آکر اور اچھی طرح بتاسکتی ہو… اب جلدی آئو کھائوں گا نہیں تمہیں۔‘‘ زرکاش کے خشمگیں لہجے پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی زرکاش سے کچھ فاصلے پر آکر بیٹھ گئی۔
’’کالج گئی تھیں آج؟‘‘
’’نہیں‘ آج وین نہیں آئی اور میرا بھی موڈ نہیں تھا جانے کا۔‘‘ اپنے ہاتھوں پر نگاہ جمائے بتایا۔
’’رائمہ آئی تھی یہاں؟‘‘ اس نے مزید پوچھا۔
’’دو دن پہلے وہ اسد بھائی کے ساتھ کہیں جارہی تھیں تو بس کھڑے کھڑے ہی مجھ سے ملتی گئی‘ ان کے پاس وقت ہی کہاں ہوتا ہے‘ کچھ شاپنگ کی تھی وہی دینے آئی تھیں۔‘‘ اس کے تلخ لہجے پر زرکاش نے گہری سانس لی۔
’’دراج‘ ٹھیک ہے تم مجھ سے ناراض ہو مگر رائمہ سے تمہیں شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا گھر‘ شوہر ہے‘ نئی ذمہ داریاں ہیں‘ اسے ہر طرف دیکھنا ہوتا ہے‘ وہ روزانہ تو یہاں نہیں آسکتی تمہیں اس کی مشکل کو اب سمجھنا چاہیے۔‘‘
’’مجھے یہ سب معلوم ہے۔‘‘ وہ درمیان میں بول اٹھی۔ ’’میں ان سے کہہ دوں گی کہ بس فون پر میری خیر خبر لے لیا کریں… اور آپ بھی اب یہی کریں‘ آپ سب کو یہاں آکر اپنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں‘ مجھے یہاں دو ماہ ہونے والے ہیں‘ زندہ ہی ہوں‘ کوئی مر تو نہیں گئی…‘‘
’’دراج‘ میرا یہ مطلب بالکل نہیں تھا جو تم نے سمجھا‘ تمام ذمہ داریوں کے ساتھ رائمہ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بہن کا ہرحال میں خیال رکھے… میں جانتا ہوں کہ زیادہ ناراضی مجھ سے ہی ہے لیکن میرا غصہ تم بے چاری رائمہ پر مت اتارو۔ بہرحال اب تم وہ وجہ بتائو جس کے لیے تم اس حد تک مجھ سے ناراض ہو کہ فون پر بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں؟‘‘ اس کے سوال پر دراج نے اسے دیکھا۔
’’آپ جانتے ہیں کہ آپ کتنے دن بعد ہاسٹل آئے ہیں؟‘‘ وہ اس طرح بولی جیسے ابھی رونا شروع کردے گی۔
’’ہاں جانتا ہوں لیکن اس دوران میں پابندی سے تمہیں کال کرتا رہا ہوں… میرے یہاں نہ آنے کی وجہ بھی تم جانتی ہو‘ شذرا کی شادی کی مصروفیات اور فیکٹری کے بہت سے معاملات ایسے رہے کہ مجھے اپنے لیے بھی وقت نہیں ملا… اگر میں کام کی مصروفیت میں ہر دوسرے دن یہاں نہیں آسکا تو کیا تم اسی طرح ناراض ہوتی رہوگی؟‘‘
’’نہیں ہوں اب ناراض‘ مجھے اندازہ ہوچکا ہے کہ میں اتنی اہم نہیں کہ ہر کام سے پہلے مجھے یاد رکھا جائے…‘‘
’’اب یہ تم مجھے ناراض کرنے والی بات کررہی ہو۔‘‘ زرکاش درمیان میں بولا۔
’’میں جانتی ہوں‘ آپ کی اپنی بہت مصروفیات ہیں مگر میں ایک دن بھی آپ کو دیکھے بغیر آپ سے ملے بغیر ٹھیک نہیں رہ سکتی‘ یہ بات آپ کیوں نہیں سمجھتے؟‘‘ اس کے بے ساختہ انداز پر وہ کچھ بول نہیں سکا۔ بس اس کی بھیگی آنکھوں میں جھلملاتے عکس کو دیکھتا رہا۔
’’بجیا سے ملنے میں ان کے گھر جاسکتی ہوں‘ مگر آپ سے ملنے کہاں جائوں…؟‘‘ اس کے رندھے لہجے پر زرکاش نے بمشکل اس کی سحر انگیز آنکھوں میں جھلملاتے آنسوئوں سے ایک پل کو نگاہ چرائی۔
’’ٹھیک ہے‘ میں اپنی غلطی مانتا ہوں‘ میں آئندہ اتنے دن کے لیے غائب نہیں رہوں گا‘ اب تم اپنی ناراضی ختم کرکے مجھے بھی سکون کی سانس لینے کی اجازت دے دو بے رحم لڑکی…‘‘ زرکاش کے التجائی لہجے پر وہ خاموش ہی رہی۔
’’مسکراہٹ کہاں چھپا رکھی ہے تم نے اپنی…؟ جلدی سے اسے چہرے پر لائو میں اسے مس کررہا ہوں۔‘‘ مسکراتی نظروں سے زرکاش نے اسے دیکھا جو مسکرانے کے لیے تیار نہیں تھی۔
’’اچھا یہ بتائو میری غیر موجودگی میں ہاسٹل کی کتنی لڑکیوں نے تم سے پوچھا کہ تمہارا بوائے فرینڈ تم سے ملنے کیوں نہیں آرہا؟‘‘ اس نے اسے چھیڑا۔
’’کیوں پوچھیں گی وہ‘ ان کو کیا حق پہنچتا ہے‘ منہ نہ توڑ دوں سب کے…‘‘ اس کے تلملائے انداز پر وہ بے ساختہ ہنسا۔
’’آپ کے لیے یہ سب ایک مذاق ہے؟‘‘ اس کے سرد لہجے پر وہ حیران ہوا۔
’’میرے لیے تمہارا یہ سوال کافی سنجیدہ مذاق ہے… میں صرف تمہارا موڈ اچھا کرنے کی کوشش کررہا تھا‘ تمہیں برا لگا تو میں معافی مانگ لیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں… میں نے بس ایک سوال کیا تھا۔‘‘ زرکاش کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے وہ بولی۔
’’ہاں‘ بالکل دل توڑنے کے لیے یہ ایک سوال ہی کافی تھا‘ اب خوش ہو میری غیر حاضری کی سزا یوں دے کر…؟‘‘ زرکاش نے شکایتی لہجے میں پوچھا‘ جواباً وہ خاموش ہی رہی۔
’’آج ہاسٹل میں اس قدر سناٹا کیوں محسوس ہورہا ہے مجھے؟‘‘ بات بدلنے کے لیے زرکاش نے سوال کیا۔
’’ویک اینڈ پر سب لڑکیاں اپنے اپنے گھر چلی جاتی ہیں‘ سب میری طرح بے گھر تھوڑا ہی ہیں۔‘‘ کچھ تھا اس کے لہجے میں جس نے زرکاش کو دھچکا پہنچایا۔
’’کس نے کہا کہ تم بے گھر ہو…؟‘‘
’’کسی کو کہنے کی کیا ضرورت ہے‘ جو سچ ہے وہ ہے۔‘‘ زرکاش کے سوال پر وہ تلخ لہجے میں بولی۔
’’یہ سچ نہیں… جانے کیا کچھ سوچتی رہتی ہو تم خود سے ہی…‘‘ اسے ڈپٹتے ہوئے وہ یک دم خاموش ہوا۔
’’بہت اچھی لگ رہی ہو اس طرح بزدلوں کی طرح آنسو بہاتے ہوئے… اس سے تو بہتر ہے کہ تم مجھے برا کہو‘ میں تمہیں اس ہاسٹل میں لایا ہوں کیونکہ میں تمہارا دشمن ہوں۔‘‘
’’میں یہ کب کہہ رہی ہوں…‘‘ آنسو صاف کرتی وہ زچ ہوکر بولی۔
’’تم کہاں کچھ کہتی ہو؟ مجھے ہی تمہاری طرح الٹا سیدھا سوچتے رہنے کی عادت ہوگئی ہے۔‘‘ زرکاش نے خشمگیں لہجے میں کہا۔
’’آپ کیا یہاں مجھ سے لڑنے آئے ہیں…؟‘‘ وہ بگڑ کر بولی۔
’’میرے اللہ…‘‘ زرکاش نے حقیقتاً اپنا سر پکڑا۔
’’اچھا اب یہ بتائیں‘ چائے لیں گے یا کولڈرنک؟‘‘ مسکراہٹ چھپائے اس نے پوچھا۔
’’بس جتنی تواضع کردی تم نے وہ ہی کافی ہی اب مجھے نکلنا ہے مگر تم کل شام بالکل تیار رہنا‘ میرے ساتھ چلنا ہے تمہیں۔‘‘ اسے ہدایت دے کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’مگر مجھے آپ کے ساتھ جانا کہاں ہے؟‘‘ دراج نے حیرت سے پوچھا۔
’’یہ تو کل ہی پتہ چلے گا‘ سرپرائز سمجھ لو‘ اب کوئی سوال مت کرنا۔‘‘ وہ قطعی بتانے کے لیے تیار نظر نہیں آرہا تھا۔
’’میں رات میں ہی سرپرائز کھلوا دوں گی آپ سے۔‘‘ وہ ناک پر سے مکھی اڑانے والے انداز میں بولی۔
’’رات میں تم سے بات ہی نہیں ہوسکے گی کیونکہ رات کو شذرا کی فلائٹ ہے‘ وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس جارہی ہے‘ اس لیے معذرت۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’اچھا… سمجھ گئی‘ کل آپ مجھے کورٹ لے جائیں گے‘ کورٹ میرج کے لیے…‘‘ دراج نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بہت پُریقین لہجے میں کہا۔
’’ملا کی دوڑ مسجد تک… لگی رہو۔‘‘ زرکاش نے ہنستے ہوئے اس کے رخسار کو تھپتھپایا۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
’’مطلب یہ کہ ابھی میرے برے دن شروع نہیں ہوئے محترمہ…‘‘ اس کے تاثرات پر محظوظ ہوتا وہ بولا۔ ’’اب کل شام میں ہی بات ہوگی‘ فون کردوں گا آنے سے پہلے‘ گیٹ پر ہی ملنا… اور کالج کی چھٹی بالکل نہیں ہونی چاہیے اب۔‘‘ اس کی تاکید سنتی وہ اس کے ساتھ ہی وزیٹنگ روم سے نکل گئی۔
اپنے کمرے میں آکر بھی وہ مسلسل یہی سوچتی رہی تھی کہ آخر زرکاش اسے کل اپنے ساتھ کہاں لے جانے والا ہے‘ کہیں آئوٹنگ یا کھانے پر تو وہ اسے لے کر جائے گا نہیں‘ نہ ہی اس سے پہلے کبھی وہ لے کر گیا‘ دراج کو اندازہ تھا کہ اپنے گھر والوں کی وجہ سے وہ کافی محتاط رہتا ہے‘ اس سے فون پر بات بھی تب ہی کرتا جب وہ تنہا ہوتا تھا‘ سوچ سوچ کر بھی اسے بیزاری ہونے لگی تھی‘ بے چینی تو اب اس کی کل شام ہی ختم ہونے والی تھی‘ فی الحال اسے کم کرنے کے لیے اس نے اپنے بیگ میں سے ایک لیدر کا والٹ نکالا اور اس میں موجود رقم گننے لگی‘ نوٹ دیکھ کر انجانی سی خوشی اس کی بے چینی پر حاوی ہونے لگی تھی‘ زرکاش وقتاً فوقتاً اسے یہ روپے دیتا رہا تھا سرخ‘ سبز کرارے روپے گنتے ہوئے اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں یہ رقم خرچ کرنے کی اب تک نوبت نہیں آئی تھی کیونکہ کھانے پینے سے لے کر ضرورت کی ہر چیز جو زرکاش کو سمجھ آتی اس کے لیے خرید کر لاتا رہتا ‘ اکثر وہ پوچھتا بھی رہتا تھا کہ اسے کسی چیز کی ضرورت ہے تو بلاجھجک کہہ دیا کرے یا لسٹ بنا کر دے دیا کرے‘ لیکن دراج اتنی بے وقوف ہرگز نہیں تھی کہ چیزوں کی فرمائشیں کرتی‘ اب تک اس نے کبھی زرکاش سے اپنی کسی ضرورت کا اظہار نہیں کیا تھا‘ وہ تو زرکاش سے روپے بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اسے زرکاش سے کچھ چاہیے بھی نہیں تھا۔
والٹ احتیاط سے بیگ میں رکھتی وہ سوچ رہی تھی کہ اسے اب پابندی سے کسی اچھے پارلر جانا شروع کرنا ہوگا سر سے پائوں تک خود پر توجہ دینی ہوگی‘ اسے ہر حال میں زرکاش کی نظروں میں منفرد اور دلکش لگنے کے لیے جتن کرنے تھے‘ شروعات اسے اپنے لباس سے کرنی تھی‘ اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ زرکاش بہت خوش لباس ہے‘ ڈریسنگ کے معاملے میں وہ بہت سلیکٹڈ تھا‘ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ پہلی فرصت میں وہ اپنے لیے ڈھیر ساری شاپنگ کرے گی اور وہ احمق بھی نہیں تھی کہ اس سب کا علم رائمہ کو ہونے دیتی۔
m… / …m
پہلی سرجری کے بعد اسے ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا تھا‘ دوسری سرجری کچھ ہفتوں بعد ہونی تھی‘ باقی اور کتنی سرجری ہونی تھیں اسے اندازہ نہیں تھا ہاں مگر وہ یہ جانتی تھی کہ جسے قسمت بگاڑ دے اسے وقت بھی نہیں سنوار سکتا۔ راسب اور ندا سب کچھ بھلائے سائے کی طرح اس کے ساتھ تھے‘ راسب کی باتوں میں اس کے لیے ہمت وحوصلہ ہوتا تو ندا اس کے دل میں امید کی جوت جلائے رکھنے کی کوشش کرتی رہتیں۔ حالانکہ اس نے کوئی شکوہ کیا تھا نہ کوئی شکایت‘ راسب سے وعدہ کرنے کے بعد باہر کی دنیا کے ہر انسان سے ہی خودبخود اس کا تعلق ختم ہوگیا تھا‘ سچ تو یہ تھا کہ نہ اس کے پاس سوچنے کے لیے کچھ تھا نہ ہی بولنے کے لیے‘ وہ بس دیکھ رہی تھی‘ وقت اپنی سفاکیوں کی برچھیاں اس کے دل اور روح پر مارتا گزر رہا تھا۔ جسم پر لگے زخم تو بھر رہے تھے مگر جو گھائو روح پر لگے تھے وہ اسے وقت سے بہت آگے کہیں لے جاچکے تھے جہاں صرف وہ تھی اور تنہائی۔
خاموشی کی فصیلیں اس کے گرد بہت مضبوطی سے کھڑی ہوچکی تھیں‘ انسان دو ہی صورتوں میں خاموشی اختیار کرتا ہے یا تو وہ ہر چیز سے بے خبر ہوتا ہے یا پھر اسے ضرورت سے زیادہ خبر ہوتی ہے۔ نہ کوئی سوال نہ کوئی تکرار نہ کوئی استفسار… جو ہے‘ جیسا ہے‘ جو سامنے ہے کی بنیاد پر اس کے دن رات گزر رہے تھے۔ وہ حالات کی سختی سے سہمی ہوئی نہیں تھی‘ پے در پے آلام نے اسے پسپا نہیں کیا تھا‘ اذیت کے بوجھ نے اسے ناقابل برداشت دبائو کا شکار نہیں کیا تھا مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ اس کی حسیات ختم ہوچکی تھیں‘ اندر کچھ درہم برہم نہیں ہوا تھا۔
ہاسپٹل سے گھر آنے کے بعد یہ احساس شدید ہوگیا تھا کہ جیسے وہ کسی اور دنیا میں آگئی ہے یا پھر وہ کسی اور دنیا سے لوٹ کر آئی ہو اور اب نہ وہ اس دنیا کی رہی تھی‘ نہ اس دنیا کی…! اس بھیانک رات کی سنسان خاموش سڑک پر اس کا وجود‘ اس کی زندگی کہیں گم ہوگئی تھی‘ سب کچھ کھوگیا تھا‘ اب جو کچھ تھا وہ تو سب نامانوس تھا‘ اجنبی سا تھا یہاں تک کہ اس کے لیے خود اس کا اپنا آپ بھی آشنا نہ رہا تھا… اس رات کے بعد سے اب تک اس نے دو ہی کام مسلسل کیے تھے‘ سب دیکھنا اور اسے محسوس کرنا‘ وہ جانتی تھی کیا ہوچکا ہے‘ کیا ہونے جارہا ہے‘ وہ جانتی تھی کہ راسب اور ندا کی مصنوعی مسکراہٹوں کے پیچھے کتنی پریشانیاں اور اضطراب چھپے ہیں‘ اس سب کے علاوہ اس کا ایک مشغلہ بن چکا تھا خالی نظروں سے درو دیوار کو تکنا… اس وقت بھی کمرے کی ایک ایک چیز پر اس کی نظر سفر کرتی ڈریسنگ کے آئینے پر آکر ٹھہر گئی تھی۔ سفید بینڈیج میں چھپے اپنے چہرے کو دیکھتے ہوئے اسے کوئی صدمہ نہیں ہوا تھا‘ کسی نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا مگر وہ جانتی تھی کہ آئینے میں وہ اب کبھی اپنا چہرہ نہیں دیکھ پائے گی۔ کمرے میں آتیں ندا نے ایک پل رک کر اس کی نظروں کے تعاقب میں آئینے کی سمت دیکھا اور پھر بوجھل دل کو سنبھالتی اس کے قریب آگئیں۔
’’رجاب‘ ایک بار پھر سوچ لو‘ وہ کوئی بات کرنا ہی نہیں چاہتا… اس سے بات کرکے سوائے تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ ندا نے پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’اور پھر اگر تمہارے آغا جان کو پتہ چل گیا کہ تم نے حاذق کو فون کیا ہے تو…؟‘‘
’’بھابی نہ مجھے ان سے کچھ چاہیے نہ میں کوئی التجا کروں گی… میں بس ان سے بات کرنا چاہتی ہوں… دیکھنا چاہتی ہوں کہ محبت کا دعویٰ کرنے والے جب بدلتے ہیں تو ان کا رنگ روپ کیسا ہوتا ہے؟‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولی۔
’’ٹھیک ہے رجاب‘ بس یہ یاد رکھنا… جو حق دار ہوتا ہے‘ اسے اس کے حق سے محروم رکھنا انتہائی شرمناک فعل ہے… اگر حاذق تمہارا حق دار ہے تو کبھی تم سے دستبردار نہیں ہوگا اور اگر وہ حق دار نہیں تو اسے خود تم سے محروم ہونا پڑے گا… یہ سب ذہن میں رکھ کر اس سے بات کرنا۔‘‘ سنجیدگی سے اسے کچھ سمجھاتیں ندا کارڈ لیس اس کے حوالے کرکے کمرے سے نکل گئیں۔ چند لمحوں تک وہ کارڈ لیس کو دیکھتی رہی پھر حاذق کا نمبر ملایا۔
’’تمہارا بھائی مجھے اور میرے گھر والوں کو جس قدر بے عزت کرچکا ہے اس کے بعد اب کس الزام‘ کس طمانچے کی کسر رہ گئی ہے جو تم نے مجھے فون کیا…؟‘‘ حاذق کے گلیشئر جیسے سرد اور سخت لہجے نے اسے حیران نہیں کیا۔
’’آپ کو میری آواز سن کر خوشی نہیں ہوئی…؟ میں زندہ ہوں‘ اس دنیا میں ہوں‘ آپ کی دسترس میں ہوں… تمام تلخیاں بھلانے کے لیے کیا اتنا کافی نہیں؟‘‘
’’بھولے وہ جو تمہارے بھائی کی طرح نیچ ہو… اس نے میرا اور میرے گھر والوں کا جینا حرام کر رکھا ہے‘ میں لعنت بھیجتا ہوں تم سب پر… میرے ماں باپ اور میری ذات سے بڑھ کر نہیں تھیں تم… اور اب تو اس لائق بھی نہیں رہی کہ میں تمہارا نام بھی زبان پر لائوں… تمہاری وجہ سے تمہارا بھائی اپنے ہوش وحواس بھلا کر مخبوط الحواس ہوچکا ہے‘ بہتر تو یہی ہوتا کہ تم مر جاتیں منہ کالا تمہارے بھائی کا ہوا اور اب اپنی سیاہی مجھ پر ملنے کا تہیہ کرکے بیٹھا ہے… تمہاری وجہ سے وہ میرے گریبان تک پہنچا‘ تم میری خوشی کی بات کررہی ہو… میرا بس چلے تو تمہارے بھائی کے ساتھ تمہیں بھی پاتال میں اتار دوں… بتادو اپنے بھائی کو کہ حاذق کی زندگی اتنی سستی نہیں جو وہ تمہارے لیے دائو پر لگا دیتا۔‘‘ بھڑکتے لہجے میں وہ رکے بغیر بولتا رہا۔
’’ٹھیک کہا آپ نے زندگی سستی نہیں ہوتی‘ انسان سستا ہوجاتا ہے‘ اتنا سستا‘ اتنا ہلکا کہ اسے پاتال میں اتارنے کی ضرورت نہیں پڑتی‘ وہ خود ہی اتر جاتا ہے۔‘‘ رجاب سپاٹ لہجے میں بولی۔ ’’اگر میرے دامن پر کوئی داغ لگا ہوتا تو میں آپ کی خواہش سے پہلے ہی خود کو ختم کردیتی… اگر ایک بار آکر آپ میری آنکھوں میں سچائی دیکھ لیتے تو مجھ سے کچھ پوچھے بغیر ہی ایمان لے آتے‘ میرے دامن کے پاک ہونے پر… پھر مجھے کچھ نہیں چاہیے ہوتا آپ سے… اب بھی مجھے اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے… مجھے تو اس محبت نے مجبور کیا جو آپ کی آنکھوں میں مجھے اپنے لیے نظر آئی تھی‘ اس محبت کو میرے دل نے محسوس کیا تھا‘ مجھے بس اس محبت کی فکر ہے جس دل میں وہ محبت تھی‘ مجھے اس دل کی فکر ہے‘ مت برباد ہونے دیں اس محبت کو‘ مت ویران ہونے دیں اس دل کو… محبت برباد اور دل ویران ہوجائے تو زندگی نہیں‘ زندگیاں اجڑ جاتی ہیں‘ جو مجھے نظر آرہا ہے‘ وہ ابھی آپ نہیں دیکھ سکتے‘ اس رات کی سیاہی کا پردہ آنکھوں سے ہٹا کر دیکھیں اپنے دل سے پوچھیں وہ کیا کہتا ہے…؟‘‘
’’کیا پوچھوں اپنے دل سے…؟ میں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا… میں اپنی زندگی اس عورت کے لیے برباد نہیں کرسکتا جس کے پاک نہ ہونے پر مجھے شک نہیں‘ یقین ہے‘ حاذق ایسا گیا گزرا نہیں کہ سڑک سے استعمال شدہ چیز اٹھا کر اپنے سینے سے لگالے صرف اس لیے کہ وہ چیز کبھی اس کے دل کے نزدیک رہی تھی… یہ بات تم اپنے بھائی کو بھی سمجھادو کیونکہ میں اب اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا… اس نے مجھے جتنا ذلیل کیا سو کیا‘ لیکن مجھے اپنے مقام سے گر کر اس سے بدلہ لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے منہ پر ساری زندگی کا طمانچہ سالم اس کی بہن بن چکی ہے… اسے سمجھائو کہ اب اپنی آواز اور نگاہ نیچی رکھنے کی عادت ڈال لے‘ طرہ خاک میں مل چکا ہے‘ گردن اکڑائے رکھنے کے لیے کچھ نہیں بچا اس کے پاس۔‘‘ حاذق زہرخند لہجے میں بولا۔
’’ابھی رسی دراز ہے‘ آپ جو کہیں کم ہے‘ میں بس اتنا کہوں گی کہ تعلق توڑنے کے لیے تہمت لگانا ضروری نہیں‘ یہ کام بہت خاموشی سے کوئی گناہ کیے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے‘ جو میرا فرض تھا وہ میں نے پورا کیا‘ اب میرا ضمیر مطمئن رہے گا… اور آپ بھی کبھی چاہ کر بھی یہ شکایت نہ کرسکیں گے کہ میں نے آپ کو روکا کیوں نہیں۔‘‘ سپاٹ لہجے میں بات مکمل کرکے اس نے لائن ڈسکنیکٹ کردی۔
m… / …m
تیز روشنی میں وہ پول سے ٹیک لگائے‘ سر جھکائے گم صم بیٹھا تھا‘ چپ چاپ وہ اسے دیکھتی رہی جو بہت تھکا تھکا‘ سوگوار سا بھی لگ رہا تھا‘ آنکھیں سرخ تھیں‘ ستے چہرے پر سنہری رواں نمایاں ہورہا تھا… خشک ہوا سے اڑتے بکھرتے پتوں سے نظر ہٹا کر وہ اس کی طرف متوجہ ہوا تھا جو سامنے ہی گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے سکڑی بیٹھی تھی۔
’’بہت کوشش کی میں نے لیکن… کچھ بھی نہیں کر پایا… بس دیکھ رہا ہوں اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے ہوئے۔‘‘ عرش کے لہجے میں آزردگی ہی آزردگی تھی۔
’’ہم بس ایک حد تک ہی جدوجہد کرسکتے ہیں‘ اس کے بعد سب کچھ اللہ کے حوالے‘ اس کی مرضی پر چھوڑنا بہتر ہوتا ہے‘ کیونکہ اس کے سوا ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے‘ بے بس ہوتے ہیں…‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولی۔ ’’اب تمہیں پہلے سے زیادہ ہمت اور حوصلے سے کام لینا ہوگا… ڈاکٹر نے ٹھیک کہا‘ اب تم اپنی ماما کو زیادہ سے زیادہ وقت دو‘ ان کو اتنا خوش رکھو کہ ان کے دل میں کوئی حسرت نہ رہے وہ اپنے سارے دکھ اور تکلیف بھول جائیں… مجھے بہت خوشی ہے کہ اب وہ کام تم نے نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ اب تم اپنی ماما کے سامنے نظر اٹھا سکوگے‘ کوئی بوجھ نہیں ہوگا تمہارے دل پر… بھروسہ تو ہم میں سے کسی کو بھی نہیں زندگی کا… ایک بار اللہ کی رضا میں پوری سچائی سے راضی ہوجائو پھر وہی ہمت وحوصلہ دے گا تمہیں…‘‘
’’ہاں… ٹھیک کہا تم نے… مگر پہلے اس قابل تو ہو جائوں کہ اللہ سے سب کچھ مانگ سکوں… غلاظتوں سے خود کو نکال لوں… پھر تو اس کے پاس ہی جانا ہے‘ منہ چھپا کر بھاگ بھی کہاں سکتا ہوں۔‘‘ آسمان پر نظریں جمائے وہ بولا۔
’’جب یہ جانتے ہو تو پھر دیر مت کرنا… دیکھنا تم بہت کامیاب ہوگے۔‘‘
’’تم سے بات کرکے میں بہت ہلکا پھلکا ہوجاتا ہوں‘ تم ہی ہو جس کے سامنے میری زندگی کا ہر ورق کھلا ہوا ہے… جانے کیوں میں خود کو تم سے چھپا نہیں سکتا۔‘‘ بغور اسے دیکھتا وہ گہرے سنجیدہ لہجے میں بولا۔
’’تم سے بات کرکے میں بھی ہر پریشانی بھول جاتی ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’میں اب روز یہاں نہیں آئوں گا۔‘‘ عرش بولا جواباً وہ فوری طور پر کچھ بول نہیں سکی۔
’’ہاں تمہیں اب اپنی ماما کے ساتھ رہ کر ان کا خیال رکھنا ہوگا۔‘‘ وہ اتنا ہی بولی۔
’’تم میرا انتظار کیا کروگی؟‘‘ عرش نے پوچھا۔
’’ہاں… اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی ہوں۔‘‘ اس کے جواب پر عرش دھیرے سے مسکرایا۔
’’میں یہاں روز آئوں گا‘ گیراج سے یہاں اور یہاں سے گھر‘ بائیک پر آئوں گا تو وقت زیادہ نہیں لگے گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘ عرش کے پوچھنے پر اس نے بخوشی مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
’’تمہارا چہرہ دیکھنے لائق تھا جب میں نے کہا کہ میں اب روز یہاں نہیں آئوں گا…‘‘ عرش نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا جو جھینپی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا گئی تھی۔
’’ماما کو اب گھر پر انتظار ہے تمہارا… اب بتائو کس دن چلوگی میرے ساتھ گھر؟‘‘ عرش کے سوال پر وہ کچھ کہتے کہتے رک کر سڑک کی طرف متوجہ ہوئی تھی‘ عرش نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں اسی جانب آتے ذرق کو دیکھا تھا۔
’’میں نے تجھے منع کیا تھا یہاں آنے سے‘ پھر کیوں آئی ہے یہاں‘ آنکھوں کی شرم مر گئی ہے کیا؟‘‘ زرق دھاڑتا ہوا قریب آیا۔
’’جب تیری غیرت مر سکتی ہے تو میری آنکھوں کی شرم کیوں نہیں مر سکتی…؟‘‘ خونخوار نظروں سے زرق کو دیکھتی وہ بولی۔
’’صبر کر تیری شرم میں زندہ کرتا ہوں۔‘‘ زرق مشتعل ہوکر اس پر جھپٹا کہ عرش سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھ اور ایک جھٹکے سے زرق کا بازو پکڑ لیا۔
’’ایک بات میری کان کھول کر سن‘ دوبارہ اس پر ہاتھ اٹھایا تو تجھے ہاتھوں سے محروم کردوں گا۔‘‘ سخت بھینچے لہجے میں خبردار کرتے ہوئے عرش نے اسے پرے دھکیلا۔
’’آج درمیان میں مت آنا ورنہ ابھی جاکر پولیس لے آئوں گا پھر بھاگے گا منہ چھپا کر…‘‘ زرق بپھر کر بولا مگر اگلے ہی پل عرش کا مکا اسے زمین بوس کر گیا تھا۔
’’بلا پولیس کو… میں تو ایک گھنٹے میں باہر آجائوں گا مگر تجھے چوری کے ایسے کیس میں اندر بھیجوں گا کہ نشے کے لیے جیل میں ہی ایڑیاں رگڑتا مر جائے گا۔‘‘ غصیلی نظروں سے اسے گھورتا عرش غرایا۔
’’عرش… اسے ڈر نہیں پولیس کا‘ جیل سسرال ہے اس کے لیے… پولیس خود بہت بار ساتھ لے گئی اسے مگر یہ ہر بار زندہ لوٹ آتا ہے… سینے پر مونگ دلنے کے لیے…‘‘ زہرخند لہجے میں عرش کو بتاتی وہ زرق کو ہی گھور رہی تھی۔
’’اپنی زبان بند رکھ اور اٹھ یہاں سے۔‘‘ زرق اس پر دھاڑا۔ ’’جانتی بھی ہے کہ یہ کیا چیز ہے… ایک دن تجھے اپنی جگہ پر کھڑا کردے گا یہ تیرا آشنا…‘‘
’’میری جگہ پر تو اسے تم کھڑا ہونے پر مجبور کردو گے اپنے نشے کے لیے… اپنی ماں اور بہن کو سہارا دینے کے لیے میں اس سے بھی زیادہ بری جگہ پر کھڑا ہوسکتا ہوں‘ تجھ جیسا بے غیرت نہیں ہوں میں… عورت نے ہی تجھے جنم دیا اور عورت پر ہی ہاتھ اٹھاتا ہے‘ تیرے جنم پر افسوس ہوتا ہے‘ جو بہن تجھے پال رہی ہے‘ اسے گالیاں دیتا ہے‘ اسے سڑک پر بے عزت کرتا ہے‘ تجھ جیسے بھائی کے ہونے سے نہ ہونا زیادہ بہتر‘ بھائی نہیں تو آستین کا سانپ ہے… تجھ میں اگر ذرا بھی غیرت ہوتی تو میری اصلیت جانتے ہوئے بھی اپنی بہن کو میرے پاس دیکھ کر ڈوب کر مر جاتا…‘‘ عرش کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب زرق بپھر کر اس پر جھپٹا تھا دوسری جانب وہ اطمینان سے بیٹھی ان دونوں کو دست وگریبان ہوتا دیکھ رہی تھی‘ عرش حاوی تھا زرق پر‘ وہ جانتی تھی کہ زرق زیادہ دیر زور آزمائی نہیں کرسکے گا اور یہی ہوا تھا‘ عرش کے مکے پر سڑک پر گرتا زرق فوراً اٹھ نہیں سکا تھا۔
’’اپنی بہن کی محنت کی کمائی اپنے نشے میں اڑا کر سینہ تان کر آنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک… سمجھا۔‘‘ اپنی شرٹ کو جھٹک کر ٹھیک کرتا عرش اس پر بھڑکا جو پھٹے ہونٹ سے رستا خون صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’مجھے کیوں گھور رہا ہے؟ بیکار میں کسی پر بھونکے گا تو ایسے ہی مار کھائے گا۔‘‘ زرق کو اپنی طرف گھورتا دیکھ کر وہ ناگواری سے چیخی۔
’’وہ مجھے مار رہا ہے اور تو تماشہ دیکھ رہی ہے‘ بہت بھروسہ ہے تجھے اس پر… ایسے لوگ کسی کے نہیں ہوتے‘ ایک دن یہ تجھے برباد کرجائے گا‘ اس دن تو مجھے یاد کرلینا مگر میں واپس نہیں آئوں گا۔‘‘ زرق بھڑکتے انداز میں بولا۔
’’نہ تو میری بہن‘ نہ میں تیرا بھائی‘ آج ختم تیرا میرا رشتہ‘ مر گئی تو میرے لیے اور میں تیرے لیے‘ جارہا ہوں اپنا کالا منہ لے کر‘ تو بھی جہاں چاہے اپنا منہ کالا کر‘ میں اب پلٹ کر نہیں آنے والا۔‘‘ اشتعال میں چلاتے ہوئے زرق سڑک کے دائیں طرف دوڑتا چلا گیا اور وہ جو ساکت بیٹھی تھی سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’شاید میں نے کچھ زیادہ کہہ دیا اسے۔‘‘ عرش کو یک دم احساس ہوا۔
’’نہیں… وہ آجائے گا‘ کچھ دن کے لیے غائب ہوجاتا ہے جب دماغ پلٹتا ہے تو… پھر خود ہی آجاتا ہے۔‘‘ غائب دماغی سے بولتی وہ شاید خود کو تسلی دے رہی تھی‘ زرق نے کبھی ایسے تیوروں کے ساتھ ایسے جملے نہیں کہے تھے‘ دور سڑک پر غائب ہوتے زرق کو دیکھتے ہوئے اس کا چہرہ اتر گیا تھا۔ دل عجیب وسوسوں میں گھرتا چلا جارہا تھا۔
’’فکر مت کرو‘ جائے گا کہاں‘ نہیں آیا تو میں اسے لے آئوں گا۔‘‘ عرش کے تسلی دینے پر وہ خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئی۔
m… / …m
زرکاش کی کال کا انتظار کیے بغیر ہی اس نے اپنی تیاری شروع کردی تھی‘ رائل بلیو تنگ پائجامہ کرتا جس کے گریبان پر ریشم کی خوب صورت ایمبرائڈی نمایاں تھی‘ فی الحال اس کے پاس یہ ایک لباس تو ایسا تھا کہ جس میں وہ کوئی مین میخ نہیں نکال سکتی تھی۔ کپڑا قیمتی ہرگز نہیں تھا‘ مگر رائمہ کے ہاتھوں کے ہنر کا ہی یہ کمال تھا کہ ایک عیب بھی دیکھنے والوں کی نظروں میں نہیں آسکتا تھا‘ یہ لباس زیب تن کرکے اس نے سوچا تھا کہ عنقریب لباس کے معاملے میں بھی اس کا معیار بہت اونچا ہونے والا ہے وہ جانتی تھی کہ مادی چیزوں کے قیمتی یا سستا ہونے کی بنیاد پر ہی انسان کا معیار یہ دنیا متعین کرتی ہے… بہرحال اپنی منزل کی جانب قدم اس نے بڑھا دیئے تھے‘ اب وہ رکنے والی نہیں تھی‘ ایک ایک کرکے اس کے تمام خواب‘ آرزوئیں‘ خواہشیں اور چاہتیں سب پوری ہونے والی تھیں۔ نیچرل لپ اسٹک کا ٹچ دے کر اس نے تنقیدی نظروں سے اپنے سراپے کو دیکھا‘ مطمئن ہوکر وہ رسٹ واچ کلائی میں باندھ رہی تھی جب زرکاش کی کال آگئی‘ عجلت میں سینڈلز پہن کر وہ بیگ اٹھاتی سرعت سے کمرے سے نکلی۔
’’کوئی سوال مت کرنا…‘‘ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے کچھ کہنا چاہا ہی تھا کہ زرکاش نے ٹوک دیا‘ منہ بند کرتی وہ خفت سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
زرکاش کی تقلید میں لفٹ سے باہر آتی وہ مستقل حیران ہی تھی مگر صحیح معنوں میں حیرت کا جھٹکا اسے تب لگا جب ایک اپارٹمنٹ کا لاک کھول کر زرکاش نے اسے اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا۔
’’مجھے لگا تھا ہم یہاں کسی سے ملنے آئے ہیں… مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ اتنی خوب صورت جگہ پر آپ نے اتنا زبردست اپارٹمنٹ لیا ہوا ہے اپنے لیے۔‘‘ دراج حیرت وخوشی سے چیخ اٹھی۔
’’ہاں… اور تمہیں یہاں اس لیے ساتھ لایا ہوں کہ آئندہ تم اس خود ترسی میں مبتلا نہ ہو کہ تمہارا کوئی گھر نہیں‘ اب یہ تمہارا گھر ہے اور ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا‘ سمجھ گئیں؟‘‘ اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے زرکاش نے اس کے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھا۔
’’یہ آپ کا گھر ہے تو میرا ہی ہے… میں جب چاہوں یہاں آسکتی ہوں‘ میں پاگل ہورہی ہوں خوشی سے‘ مجھے ابھی پورا اپارٹمنٹ دیکھنا ہے۔‘‘ خوشی سے چہکتی وہ پھر ٹھہری نہیں تھی‘ ایک ایک کونے کا اچھی طرح جائزہ لے کر وہ واپس لائونج میں آئی‘ زرکاش وہاں موجود نہیں تھا‘ اس کی متلاشی نظریں دائیں جانب گلاس ڈور کی سمت گئیں‘ تیزی سے وہ اس جانب بڑھ گئی‘ دھیرے سے گلاس ڈور کھول کر اس نے ٹیرس کا جائزہ لینا چاہا تھا کہ یک دم چہرے سے ٹکراتی نم ہوائوں کے ساتھ وہ ششدر رہ گئی۔
’’زرکاش…! یہاں تو پورا سمندر ہی سمندر ہے… مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا‘ اتنی اونچی اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں‘ اتنا خوب صورت لگ رہا ہے یہاں سے سمندر…‘‘ خوشی سے پاگل ہوکر چیختی وہ زرکاش کے کان سن کر گئی‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا‘ دراج واپس بھاگتی ہوئی ٹیرس تک جاپہنچی تھی۔
نہ اس کی آنکھیں سیر ہورہی تھیں نہ طبیعت‘ پتہ نہیں کتنی بار وہ گھر کا جائزہ لے چکی تھی‘ اختتام ٹیرس تک ہی آکر ہوتا تھا‘ اسے خبر ہی نہیں ہوئی تھی کہ کب زرکاش نے سینڈوچ اور چائے تیار کرلی… زرکاش کے ٹوکنے پر ہی وہ ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے پر مجبور ہوئی تھی۔
’’مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ آپ کو یہ اپارٹمنٹ اپنے لیے خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟‘‘ سینڈوچ کھاتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’یہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ تم جانتی ہو ایک طویل عرصہ تک تم سب سے دور ایک بالکل الگ زندگی میں نے گزاری‘ مجھے اسی زندگی اور ماحول کی عادت ہے یہاں آنے کے بعد میں نے پہلی فرصت میں یہ اپارٹمنٹ خریدا تھا اور اسے اپنے ذوق کے مطابق ہی سیٹ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں بہت حد تک میں کامیاب رہا ہوں‘ یہاں وہی پرائیویسی ہے‘ تنہائی ہے‘ خاموشی ہے‘ جس کا میں عادی ہوں۔ ہفتے میں ایک دن میرا یہاں گزرتا ہے صرف اپنے ساتھ۔‘‘ زرکاش کے جواب پر وہ بس حیرت سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’اس اپارٹمنٹ کی ایک چابی میں تمہیں دے دوں گا‘ تم جب کبھی یہاں آنا چاہو بلاجھجک مجھ سے کہہ سکتی ہو… لیکن چابی تمہارے پاس ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم میرے بغیر تنہا یہاں آجائو…‘‘
’’لیکن میں تنہا یہاں آسکتی ہوں‘ وقت بے وقت آپ کو تنگ کرنا مجھے اچھا نہیں لگے گا‘ آپ تو اتنے مصروف ہوتے ہیں…‘‘ وہ درمیان میں ہی خوشامدی انداز میں بولی۔
’’جو بھی ہے‘ فی الحال تو میں تمہیں ہرگز یہاں تنہا آنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘ وہ قطعی انداز میں انکار کر گیا۔
’’تو پھر کیا فائدہ چابی مجھے دینے کا… وہ بھی رکھیں اپنے پاس۔ اپنے گھر آنے کے لیے کیا کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے؟‘‘ دراج کا موڈ خراب ہوا۔
’’تم ابھی یہاں کے راستوں سے انجان ہو اور میں نہیں چاہتا کہ ہاسٹل سے اتنا دور تنہا یہاں آتے ہوئے تمہیں کوئی مسئلہ درپیش آئے… جب میں مطمئن ہوجائوں گا تو ضرور تمہیں تنہا بھی یہاں آنے کی اجازت ہوگی… اب کوئی جرح‘ بحث نہیں۔‘‘ اس کے تنبیہی انداز پر دراج بس خفت سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’اب تم یہاں آگئی ہو تو میں سوچ رہا ہوں کہ تم سے کچھ ضروری باتیں بھی کرلوں… اگر حالات دوسرے ہوتے تو یقینا میں تم سے اتنے پرسنلز میٹرز شیئر نہ کرتا مگر اب یہ ضروری ہے کہ میں تم سے کچھ نہ چھپائوں‘ ہوسکتا ہے کہ سب کچھ جاننے کے بعد میرا امیج تمہاری نظر میں بگڑ جائے‘ ہوسکتا ہے کہ تمہارے جذبات کو دھچکہ بھی پہنچے لیکن یہ سب اگر وقت گزرنے کے بعد ہوا تو زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے جس کی تلافی بھی میں شاید نہ کرسکوں۔‘‘ اس کے بے حد سنجیدہ لہجے نے دراج کو حیران اور متجسس کردیا۔
’’ایسی بھی کیا بات ہے جو آپ ایک دم سے اتنے سنجیدہ ہوگئے‘ آپ بے فکر ہوکر مجھ سے اپنے دل کی اور زندگی کی ہر بات شیئر کرسکتے ہیں‘ آپ کا کوئی بھی سچ نہ آپ کے لیے میری محبت کو کم کرسکتا ہے اور نہ وہ اس بھروسے کو توڑ سکتا ہے جو مجھے آپ پر ہے۔‘‘ اپنی جگہ سے اٹھ کر زرکاش سے کچھ فاصلے پر آبیٹھی۔
’’اسی لیے تو میں چاہ کر بھی تم سے نہیں چھپا سکتا… مزید تمہید باندھنے کی مجھے ضرورت نہیں تمہاری یہ بات سننے کے بعد…‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ بولا۔
’’دراج… جب میں نے اپنا ملک چھوڑا تھا تو ہر طرح سے بہت کمزور اور ٹوٹا ہوا تھا‘ عمر کے ایک سنہری دور سے منہ موڑ کر فکر معاش میں مجھے ملک بدر ہونا پڑا تھا‘ اپنوں سے دور اجنبی دیس میں‘ میں بالکل تنہا تھا‘ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی بہت ڈسٹرب تھا‘ بہت مشکل سے خود کو سمیٹ کر وہاں زندگی گزارنا بہت دشوار وکٹھن تھا۔ شروع کے دو سال میں نے وہاں کیسے گزارے یہ میں ہی جانتا ہوں مگر پھر میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی‘ کلارا شاید پہلی لڑکی تھی جس سے مجھے اتنی اہمیت اور توجہ ملی کہ میں خود کو اس کی طرف بڑھنے سے روک نہیں سکا یا پھر اس کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ میں جو اپنی تنہائی میں گھٹ گھٹ کر جی رہا تھا‘ اس کی طرف دل کو مائل ہونے دیا… کلارا اور میں بہت زیادہ عرصے تک صرف دوستی کے تعلق تک ہی محدود نہیں رہ سکے تھے‘ ہماری دوستی بہت گہرے تعلقات میں بدلتی چلی گئی‘ وہ تعلقات جو تمام حدود پار کرجاتے ہیں…‘‘ ایک پل کو رک کر زرکاش نے بغور اس کے تاثرات دیکھے تھے‘ جو شاید سانس روکے یک ٹک اسے دیکھتی ہمہ تن گوش تھی۔
’’کلارا نے ہر طرح سے مجھے سپورٹ دی‘ وہ میرے کچھ کہے بغیر ہی جان گئی تھی کہ میں کتنا تنہا ہوں‘ کس حد تک اندر سے ٹوٹا ہوا ہوں‘ بہت خاموشی سے وہ میرا جذباتی سہارا بھی بن گئی تھی‘ کلارا سے زیادہ میرے لیے مشکل تھا اس سے الگ زندگی گزارنا‘ باہمی رضامندی سے ہم دونوں نے ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہنا شروع کردیا‘ کلارا کے آنے سے پہلے میری زندگی آہنی دیواروں کے درمیان گھٹی ہوئی تھی‘ اس کے آنے کے بعد آزادیوں کی کوئی حد ہی نہ رہی تھی‘ ہم دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے‘ سب کچھ مکمل اور خوب صورت ہوگیا تھا‘ ہماری محبت اور اموشنز ایک دوسرے کے لیے تھے اس میں کوئی کھوٹ بظاہر نہیں تھا‘ کلارا کے ساتھ میں نے پورا یورپ دیکھا تھا‘ اپنی زندگی کے پانچ سال میں نے اس کے ساتھ گزارے تھے‘ ان پانچ سالوں میں ایک بھرپور زندگی گزاری تھی‘ بس ہمارے درمیان قانونی طور پر کوئی ثبوت نہیں تھا اس تعلق کا جو ہمارے درمیان تھا‘ میں اس کے لیے بھی تیار تھا مگر کلارا اس چیز کے لیے راضی نہیں تھی‘ آہستہ آہستہ ہمارے درمیان اسی ایشو کو لے کر اختلافات بڑھے اور بڑھتے چلے گئے اور پھر ہم دونوں کو یہی بہتر لگا کہ ہم ایک دوسرے سے مزید بدظن ہونے کے بجائے اچھے طریقے سے اپنے اپنے راستے الگ کرلیں… تین سال پہلے ہم دونوں الگ ہوگئے‘ اب وہ اپنی زندگی گزا رہی ہے اور میں اپنی۔‘‘ گہری سانس لے کر زرکاش نے اسے دیکھا جو پُرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’اختلافات اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ پانچ سال کی رفاقت بھی اسے قائل نہ کرسکی؟‘‘ دراج کا لہجہ سوالیہ اور سنجیدہ تھا۔
’’میں نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی تھی‘ میں اپنی تمام زندگی اس کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا‘ اپنی فیملی بنانا چاہتا تھا مگر کلارا کی زندگی میں شادی اور مذہب کوئی معنی نہیں رکھتا تھا‘ شادی اس کے نزدیک ایک قانونی فارمیلیٹی تھی جس کے بغیر ہی وہ میرے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار تھی‘ جبکہ میرے لیے مذہب سے دور‘ شادی کے بغیر ایک عورت کی قربت میں رہنا مشکل ہوتا جارہا تھا… یہ کتنی عجیب بات تھی کہ میں اس معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کرپایا تھا‘ پانچ سال تک اپنے مذہب سے دور اس کی حدیں بھلا کر ایک ایسی عورت جو کسی بھی مذہب کی پیروکار نہیں تھی‘ نامحرم تھی‘ اس کے ساتھ تمام اخلاقی حدود بھی پار کرنے کے بعد میں سمجھوتا نہیں کرسکا تھا‘ نہ میں اسے قائل کرسکا‘ نہ اس کے دلائل مجھے قائل کرسکے تھے‘ اب پلٹ کر دیکھتا ہوں تو میری زندگی کے وہ خوب صورت پانچ سال میرے تمام گناہوں پر بھاری اور سیاہ دکھائی دیتے ہیں حالانکہ وہ پانچ سال مجھے عروج پر لے گئے تھے‘ اس میں مجھے کامیابی پر کامیابی ملی تھیں۔‘‘ وہ عجیب سے لہجے میں بولا۔
’’کیا اس عورت کی اہمیت اور جگہ اب بھی ہے آپ کے دل میں کہیں؟‘‘ دراج نے پوچھا۔
’’ہاں… یہ ایک فطری سی بات ہے‘ میں تم سے جھوٹ نہیں کہوں گا‘ ان پانچ سال کے بے شمار دن رات‘ ایسے ہیں کہ جن کی یادیں دھندلانے میں شاید بہت وقت لگے۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولا۔
’’کیا وہ بہت خوب صورت تھی؟‘‘ بہت سنجیدگی سے دراج نے مزید سوال کیا۔
’’ہاں۔‘‘ زرکاش نے مختصراً جواب دیا۔
’’کیا وہ اب بھی آپ سے رابطے میں ہے؟‘‘ ایک پل کی خاموشی کے بعد پھر پوچھا۔
’’ہاں‘ الگ ہونے کے بعد چند بار اس سے مختصر سی ملاقاتیں بھی ہوئیں‘ ہم اچھے دوستوں کی طرح ملے‘ کبھی کبھی وہ خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کرتی ہے‘ ویسے اسے ایک نیا ساتھی مل چکا ہے اور وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہے‘ وہ جانتی ہے کہ میں یورپ چھوڑ کر واپس اپنے ملک آچکا ہوں۔‘‘ زرکاش کے کہنے پر اس نے مزید کوئی سوال کیے بغیر پلیٹ میں سے سینڈوچ اٹھا کر کھانا شروع کردیا جبکہ زرکاش اس کے تاثرات سے کسی ردعمل کا اندازہ نہیں لگا سکا تھا۔
’’بہت زبردست سینڈوچ بنائے ہیں آپ نے۔‘‘ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’ابھی مجھے ایک کام کے سلسلے میں جانا ہے‘ واپس آکر میں تمہارے لیے ایک زبردست ڈنر تیار کرنے والا ہوں‘ وہ بھی جھٹ پٹ‘ تم مان جائوگی کوکنگ میں میری مہارت کو۔‘‘
’’کتنی دیر لگے گی آپ کو واپس آنے میں؟‘‘
’’زیادہ دیر بالکل نہیں کروں گا‘ امید ہے کہ تم تنہا یہاں بوریت محسوس نہیں کروگی۔‘‘ زرکاش کے کہنے پر وہ بس سر ہلا کر رہ گئی۔
زرکاش کو یہ بہت ضروری لگا تھا کہ وہ منظر سے ہٹ کر دراج کو اتنا وقت دے کہ وہ تنہائی میں بیٹھ کر اس سچ کی گہرائی اور تلخی کو جانچ سکے جو وہ اسے بتا چکا ہے‘ زرکاش کے لیے اپنی محبت کا اظہار وہ اپنے عمل سے‘ اپنی باتوں سے‘ رویوں سے کھل کر کرتی رہی تھی‘ زرکاش کو اندازہ تھا کہ یہ سچ اتنا معمولی بھی نہیں ہے کہ جسے نظر انداز کردیا جائے‘ وہ چاہتا تھا دراج اس بارے میں سوچے‘ جذبات سے ہٹ کر‘ سچ کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرے کہ اسے دراج کی زندگی میں کس جگہ‘ کس مقام پر ہونا چاہیے‘ شاید اس کے دل میں جس مقام پر وہ اپنا سچ کہنے سے پہلے تھا‘ اب اس مقام سے اسے ہٹانے میں دراج کو کچھ وقت لگے گا مگر پھر بھی وہ اسے فوری طور پر سوچنے‘ سمجھنے کا وقت دینا چاہتا تھا۔
زرکاش کے جانے کے بعد اس نے خالی مگ اور پلیٹیں دھو کر کیبنیٹ میں رکھیں اور بلاارادہ ہی بیڈ روم میں چلی آئی‘ مختصر مگر قیمتی اور اسٹائلش فرنیچر اور دیواروں پر آویزاں پیٹنگز اور فینسی لائٹس نے ماحول کو بہت پُرسکون اور خواب ناک بنادیا تھا۔ زرکاش کا ذوق بلاشبہ بہت شاندار تھا‘ سائیڈ ٹیبل پر فریم میں موجود زرکاش کی تصویر کو دیکھتے ہوئے اس کے لبوں پر استہزائیہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ مخملی بیڈ کے کنارے بیٹھتے ہوئے بھی اس کی نگاہیں تصویر پر جمی رہیں۔
’’مجھے آپ کے کسی سچ سے کوئی غرض نہیں‘ نہ اس سچ سے کہ آپ نے کہاں‘ کہاں اپنی تسکین کے لیے اپنے ساتھ اپنے خاندان کا بھی منہ کالا کیا اور پھر بھی سر اٹھا کر سب کے درمیان فرشتہ صفت بنے ہوئے ہیں اور نہ ہی مجھے اس حقیقت سے کوئی غرض ہے کہ آپ ان ہی عام مردوں میں سے ایک ہیں جن کو زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک عورت کی ضرورت ہوتی ہے‘ مجھے غرض ہے تو صرف اپنی زندگی‘ اپنی کامیابیوں سے‘ ایک شاندار مقام تک پہنچنے کا راستہ میرے لیے صرف آپ ہی ہیں‘ راستے پر چلنے کے لیے مجھے ان کانٹوں کو نظر انداز کرنا پڑے گا جو پیچھے رہ گئے ہیں‘ اب آگے جو آئیں گے‘ منزل تک پہنچنے کے لیے ان کو تو مجھے ایک ایک کرکے صاف کرنا ہی ہے‘ باقی آپ اور آپ کے ماضی کی سیاہ کاریاں آپ کو مبارک… میرے دل اور میری خلوتوں میں آپ جیسے مرد کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکل سکتی۔‘‘ حتمی انداز میں تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے جانے کس کیفیت میں ایک ہاتھ مار کر تصویر کو اوندھا گرا دیا تھا اور اسے اسی طرح چھوڑ کر بیڈ روم سے نکل آئی تھی۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ بہت خاموشی سے گھر میں داخل ہوا تھا‘ لائونج میں آتے ہوئے اس کی نگاہ بیڈ روم کے ادھ کھلے دروازے تک گئی تھی سو وہ دراج کی وہاں موجودگی کے خیال سے اسی جانب بڑھا تھا۔ دستک دے کر وہ چند لمحوں تک منتظر رہا مگر پھر جب دروازہ کھول کر اندر کا جائزہ لیا تو دراج کہیں نظر نہیں آئی۔ دروازہ بند کرتے ہوئے وہ یک دم رکا‘ نظر سائیڈ ٹیبل پر ٹھہر گئی تھی‘ چند لمحوں تک وہ اپنی جگہ رکا اوندھی گری تصویر کو دیکھتا رہا پھر واپس پلٹتے ہوئے دروازہ بند کردیا تھا۔ ٹیرس کی بائونڈری پر بازو ٹکائے وہ سمندر کی جھاگ دار اونچی اٹھتی لہروں کو تکتی تیز ہوا اور سمندر کے شُور کو سنتی جانے کہاں گم تھی‘ زرکاش کے قریب آنے پر وہ چونک کر متوجہ ہوئی‘ اس کی آنکھوں میں گہری اداسی تھی اور لبوں پر پژمردہ سی مسکراہٹ۔
’’آپ کب آئے…؟ مجھے پتہ ہی نہیں چلا…‘‘ آنکھیں چراتی وہ وہاں سے جانا چاہتی تھی مگر زرکاش نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔
’’دراج… میں جانتا ہوں کہ میں نے بہت سفاکی کا مظاہرہ کیا ہے‘ یہ بھی جانتا ہوں کہ تم کچھ کہوگی نہیں مگر تکلیف تمہیں پہنچی ہے… آج زیادہ شدت سے احساس ہورہا ہے کہ میں کتنا برا انسان ہوں… خود کو اچھا ظاہر کرنے کی کوشش میں نے پہلے بھی کبھی نہیں کی مگر تمہاری نظروں میں خود کو برا ثابت کرنا میرے لیے بہت زیادہ کٹھن تھا‘ مگر سچ کو ایسے انسان سے چھپائے رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے جو ہم پر بہت بھروسہ کرتا ہے… میں تمہاری نظروں میں ہی نہیں خود اپنی نظروں میں بھی شرمسار ہوں‘ تمہارا بھروسہ توڑنے یا دھوکے میں رکھنے سے بہتر اس شرمساری کا بوجھ ہے۔‘‘ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔
’’آپ نے مجھے وہ سب اس لیے بتایا کہ میں آپ کو برا سمجھ کر آپ سے دور ہوجائوں اور کبھی آپ سے محبت کا دعویٰ نہ کروں…‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولتی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’ایسا بالکل نہیں ہے دراج… تم بہت سادہ ہو‘ بہت معصوم‘ دنیا کی بہت ساری حقیقتوں سے انجان ہو… میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں تمہیں اندھیرے میں رکھوں‘ کیا یہ تمہارے ساتھ ناانصافی نہ ہوتی کہ میں تمہیں اندھیرے میں رکھتا؟ کیا یہ میرے گناہوں میں ایک اور اضافہ نہ ہوتا کہ اتنی مخلص اور پیار کرنے والی ہستی کو میں اس سچ سے بے خبر رکھ کر اس کی سادگی کا فائدہ اٹھاتا؟‘‘
’’مجھ سے کوئی سوال مت کریں‘ میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کا کوئی سچ‘ کوئی اعتراف مجھے آپ سے بدظن نہیں کرسکتا‘ میرے دل سے آپ کی محبت کسی صورت نہیں نکل سکتی‘ نہ ہی وہ رکے گی‘ بس بڑھتی رہے گی اور اس پر میرا کوئی اختیار نہیں۔‘‘ لرزتے لہجے میں وہ بولی جبکہ اس کی سیاہ آنکھوں میں تیرتا شفاف پانی آج پھر زرکاش کو ساکت کر گیا تھا۔
’’پاگل ہو تم بالکل…‘‘ دھیرے سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے زرکاش نے ہلکی سی چپت اس کے سر پر لگائی۔
گرجتے بادلوں کے ساتھ دھواں دھار بارش کا سلسلہ جاری تھا۔ سب کچھ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا‘ روشن موم بتیوں کا اسٹینڈ اٹھائے وہ کمرے میں داخل ہوا‘ شازمہ خاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہی تھیں‘ اسٹینڈ ٹیبل پر رکھتا وہ ان کے قریب آبیٹھا۔
’’ماما‘ اب آپ لیٹ جائیں‘ کافی دیر ہوچکی ہے آپ کو بیٹھے ہوئے‘ تھکن ہوجائے گی۔‘‘
’’نہیں میں ٹھک ہوں‘ تم پریشان مت ہو‘ آرام کرو اب‘ آج سارا دن اسی فکر میں تم گھر میں ہی رہے کہ جانے کس وقت مجھے ہاسپٹل جانے کی ضرورت پیش آجائے تھک گئے ہوگے۔ اب سو جائو۔‘‘ شازمہ نحیف آواز میں بولیں۔
’’میں بالکل نہیں تھکا بلکہ آپ سے آج ڈھیروں باتیں کرنے کے بعد میں تازہ دم ہوگیا ہوں۔ فکر مجھے آپ کی صحت کی رہتی ہے کیونکہ آپ کی ذراسی بھی تکلیف میرے لیے برداشت سے باہر ہے۔ اگر میں گیراج چلا جاتا تو میرا دل‘ دماغ آپ کی طرف ہی لگا رہتا۔‘‘
’’میری تکلیف کو اپنی کمزوری کبھی مت بنانا عرش… برداشت تو کرنا ہی پڑے گا‘ یہ تکلیفیں تو اب میرے ساتھ ہی ختم ہوں گی۔‘‘
’’مت کریں ایسی بات ماما…‘‘ وہ لرز اٹھا۔
’’سچ سے ہم کب تک بھاگ سکتے ہیں‘ سچ تو اپنے آپ کو خود ہی منوالیتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا بہت باہمت ہے‘ وہ ہر سچ کو قبول کرتے ہوئے اپنی زندگی میں بہت آگے بڑھے گا۔‘‘ اس کے شانے کو دھیرے سے سہلاتیں شازمہ بولیں جبکہ عرش چپ چاپ ان کی ویران آنکھوں کو دیکھتا رہا تھا۔
’’عرش‘ آج میں نے بے شمار باتیں کی ہیں تم سے مگر ایسا لگتا ہے ابھی جانے کتنی باتیں رہتی ہیں جو مجھے تم سے کرنی تھیں۔‘‘
’’آپ وہ ساری باتیں مجھ سے کریں جو رہ گئی ہیں‘ آپ کی باتوں نے اس وقت کی یادوں کو بھی تازہ کردیا ہے جب پاپا ہمارے ساتھ تھے… میں شدت سے چاہتا ہوں کہ ہمارا وہ وقت لوٹ آئے مگر ایسا ہو نہیں سکتا… مگر کاش ایسا ہوسکتا۔‘‘ عرش کے لہجے میں حسرت ہی حسرت تھی۔
’’ہاں‘ ایسا نہیں ہوسکتا‘ سب کچھ انسان کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا‘ جو ہوتا ہے اس پر شکر اور جو نہیں ہوتا اس پر صبر کرنا ٹھیک ہے۔‘‘ شازمہ کمزور لہجے میں بولیں۔
’’مجھے یقین ہے کہ میری طرح تمہارے پاپا کو بھی یہ دکھ شدید ہوا کہ ہم تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکے… ایسا کچھ بھی نہیں جس کا حق اولاد اپنے ماں‘ باپ پر رکھتی ہے۔‘‘
’’نہیں ماما‘ آپ سے اور پاپا سے مجھے جو کچھ ملا وہ میرے لیے دنیا بھر کی دولت سے بڑھ کر ہے‘ آپ دونوں کی محبت سے زیادہ قیمتی کچھ بھی نہیں۔‘‘ وہ درمیان میں بول اٹھا۔ شازمہ چند لمحوں تک اسے خاموشی سے دیکھتی رہیں۔
’’عرش‘ تم نے اسے بتایا نہیں کہ میں گھر پر اس کا انتظار کررہی ہوں…؟‘‘
’’بتاچکا ہوں‘ وہ جلد آئے گی‘ وہ بھی آپ سے ملنا چاہتی ہے۔‘‘ عرش ان کے اس اچانک سوال پر حیران ہوئے بغیر بولا۔
’’اس سے کہنا کہ دیر نہ کرے… اب شاید میں زیادہ انتظار نہ کرسکوں۔‘‘ ان کی مدھم آواز نے عرش کو سناٹوں میں دھکیل دیا۔
’’تمہیں ابھی بہت آگے جانا ہے‘ اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے خوب محنت کرنی ہے‘ اپنا گھر واپس حاصل کرنا ہے‘ بہت اچھے مقام تک پہنچنا ہے‘ اس سب کے لیے بہت وقت درکار ہوگا‘ مگر یہ مت بھولنا کہ تمہیں شادی بھی کرنی ہے‘ اس گھر کو پھر سے آباد کرنا ہے جسے تمہارے پاپا نے بہت محنت اور لگن سے ہمارے لیے بنایا تھا…‘‘ خلا میں کسی غیر مرئی شے پر نگاہ جمائے وہ ٹھہر کر بول رہی تھیں۔
’’عرش‘ میں جانتی ہوں کہ وہ صرف تمہاری دوست نہیں ہے… اس میں ایسا کچھ بھی نہیں کہ تم اس سے دوستی کرتے مگر اس میں ایسا کچھ ضرور ہے کہ تم اس کی عزت اور قدر کرو… کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہارے لیے ایک اچھی شریک حیات ثابت ہوگی؟‘‘ شازمہ اس سے پوچھ رہی تھیں مگر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دے سکا تھا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close