Hijaab Apr-17

جیسا میں نے دیکھا

رفاقت جاوید

مراد کی پیدائش
تیری موہنی صورت
ہاں مجھے نہیں پروا
اب کسی اندھیرے کی
آنے والی راتوں کے
اب اداس رستوں پر
ایک چاند روشن ہے
تیری موہنی صورت
(خود کلامی)
دن تیزی سے گزرتے گئے میاں بیوی آپس میں شاداں و فرحاں تھے کہ اولاد کی کمی محسوس ہونے لگی، شادی کے تین سال بعد کچھ ذہنی ہم آہنگی کے سائے میں دونوں نے اولاد کے حصول کا فیصلہ کرلیا، بہت جلد پروین امید سے ہوگئیں، دھان پان، نازک اندام پروین بے تحاشا خوشی کے باوجود زیادہ دن کالج نہ جاسکی، مجبوراً آئے دن چھٹی کرنے لگی، اسی فسوں میں دو نام تجویز کیے گئے مراد اور شفا اور آخر پروین Seventh Day Adventist Hospitalکراچی میں 20 نومبر 1979ء بروز منگل سوا پانچ بجے ماں کے مقدس ترین رتبے پر فائز ہوگئی جبکہ نصیر رشتہ داروں اور ماں کے کہنے پر مراد کو دیکھنے میں تاخیر کرتے گئے اور پروین کے رونے دھونے پر ان کی تشریف آوری دو دن بعد ہوئی جس کا افسوس ہمیشہ پروین کو پریشان کرتا رہا، پروین اپنے شہزادے کی نگہداشت اور پرورش کے فسوں میں ایسی کھوئی کہ اپنی بھی ہوش نہ رہی، اس کی ہر ادا سے لطف انداز ہونا اور اس وقت کو بے بی ڈائری میں قید کرلینا ہر رات کا معمول بن گیا نوکری کی وجہ سے پروین مراد کو صبح کالج جانے سے پہلے اپنے میکے چھوڑتی اور واپسی پر وہاں سے لے کر اپنے آشیانے میں آجایا کرتی تھی۔
نسرین کو تو جیسے ایک جاندار کھلونا مل گیا تھا ہروقت اسے سنوارتی رہتی تھی اور پروین مطمئن و پر سکون اپنی تمام مصروفیات کو نسرین کے والہانہ پیار کی بدولت نبھاتی رہی۔
نصیر کی بے اعتناعی کے باوجود اس کی ہمت و حوصلہ بڑھتا چلا گیا کچھ نظمیں پروین نے مراد کے لیے لکھی ہیں۔
کائنات کے خالق!
کائنات کے خالق
دیکھ تو مرا چہرہ
آج میرے ہونٹوں پر
کیسی مسکراہٹ ہے
آج میری آنکھوں میں
کیسی جگمگاہٹ ہے
میری مسکراہٹ ہے
تجھ کو یاد کیا آیا
میری بھیگی آنکھوں میں
تجھ کو کچھ نظر آیا
اس حسین لمحے کو
تو تو جانتا ہوگا
اس سمے کی عظمت کو
تو تو مانتا ہوگا
ہاں… تیر اگماں سچ ہے
ہاں… کہ آج میں نے بھی
زندگی جنم دی ہے
(خود کلامی)
دوسری نظم جسے ہر ماں نے پسند کیا
جواز
کتنی سنسان زندگی تھی
سب طاق مرے دیے سے خالی
بے برگ و ثمر بدن کی ڈالی
کھڑکی پہ نہ آکے بیٹھے چڑیا
آنگن میں بھٹک سکے نہ تتلی
سنجوک کی بے نمو رتوں سے
میں کتنی اداس ہو چلی تھی
آواز کے سیل بے پنہ میں
میں تھی، مرے گھر کی خامشی تھی
پر دیکھ تو آ کے لال میرے
اس کلبہ غم میں مجھ کو تیرے
آنے کی نوید کیا ملی ہے
جینے کا جواز مل گیا ہے
(خود کلامی)
اپنے بیٹے کے لیے ایک نظم
میرے بچے نے پہلی بار اٹھایا ہے قلم
اور پوچھتا ہے
کیا لکھوں مما؟
میں تجھ سے کیا کہوں بیٹے
کہ اب سے برسوں پہلے
یہ لمحہ جب مری ہستی میں آیا تھا
تو میرے باپ نے مجھ کو سکھائے تھے
محبت اور نیکی اور سچائی کے کلمے
میرے تو شے میں ان لفظوں کی روٹی رکھ کے وہ سمجھا تھا
میرا راستہ کٹ جائے گا
آگے سفر آسان ہوجائے گا شاید
محبت مجھ سے دنیا نے وصولی
قرض کی مانند
نیکی سود کی صورت میں
حاصل کی
مری سچائی کے سکے
ہوئے رد اس طرح سے
کہ میں فوراً سنبھلنے کی نہ کر تدبیر کرتی
تو سر پر چھت نہ رہتی
تن پہ پہراہن نہیں بچتا
میں اپنے گھر میں رہ کر
عمر بھر جزیہ ادا کرتی رہی ہوں
زمانہ
میرے خدشوں سے سوا عیار تھا
اور زندگی
میری توقع سے زیادہ بے مروت تھی
تعلق کے گھنے جنگل میں
بچھو سر سراتے تھے
مگر ہم اس کو سرشاری میں
فصل گل کی سرگوشی سمجھتے تھے
پتا ہی کچھ نہ چلتا تھا
کہ خوابوں کے چھپر کھٹ پر
لباس ریشمیں
کس وقت بن کر کینچلی اترا
مخاطب کے رو پہلے دانت
کب لمبے ہوئے
اور کان
کب پیچھے مڑے
اور پائوں
کب غائب ہوئے یکدم
میں اس کذب وریا
اس بے لحاظی سے بھی دنیا میں رہ کر
محبت اور نیکی اور سچائی کو ورثہ
تجھ کو کیسے منتقل کردوں
مجھے کیا دیا ہے اس نے
مگر میں ماں ہوں
اور اک ماں اگر مایوس ہوجائے
تو دنیا ختم ہوجائے
سو میرے خوش گماں بچے
تو اپنی لوح آئندہ پہ
سارے خوب صورت لفظ لکھنا
سدا سچ بولنا
احسان کرنا
پیار بھی کرنا
مگر آنکھیں کھلی رکھنا
(انکار)
اس قدر خوب صورت پیغام اور اپنی ماضی کی اس قدر سچائی سے پردہ کشائی
مرحبا پروین
جنت میں ہو تیرا مقام
مرحبا پروین

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close