Hijaab Mar-17

محبت ہجر کی صورت

شہناز راچپوت

سب لوگ آہستہ آہستہ اٹھ کر جا رہے تھے۔ مگر وہ بدستور ویسے ہی ساکت بیٹھی تھی۔ کیسی تلخ حقیقت تھی جسے قبول کرکے بھی وہ یقین نہ کر پا رہی تھی‘ اک ہلکی سی مسکراہٹ بھی اس کے چہرے پر نہ تھی حالانکہ اس کا ابھی ابھی نکاح ہوا تھا۔ اس کے ساتھ… جسے اس نے ٹوٹ کر چاہا تھا لیکن ان حالات میں جب وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی۔ ماں جیسی جنت… وہ کتنی دکھی تھی۔ باپ تو پہلے ہی ساتھ چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اب ماں بھی… آج کتنا اذیت ناک دن تھا‘ کتنی خوش تھی وہ۔ جب اسکول میں اچانک محبوب سلطان نے فون پر یہ منحوس خبر سنائی تھی۔ کتنے لمحے بے یقینی کی نذر کرکے وہ روتی بلکتی ماتم کناں گھر پہنچی تھی۔ کومل فریاد کی گویا دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔ اس دن وہ اتنا روئی تھی کہ ساری زندگی کے آنسو اس دن بہا ڈالے تھے۔ وہ بھری دنیا میں تنہا رہ گئی تھی۔ یہ احساس کیسا جان لیوا تھا۔ وہ جیسے سر تا پا بکھر کر رہ گئی تھی اور اس کی ٹوٹی ذات کو محبوب سلطان نے سمیٹا تھا۔ اپنا نام دے کر… نکاح جیسے پاکیزہ رشتے میں باندھ کر۔
اور کچھ ہی دیر میں کومل فریاد اپنے اور محبوب سلطان کے مابین ہر تلخی و رنجش کو بھلا کر شاہوں کی حویلی پہنچ گئی تھی۔ کچھ دن پہلے وہ جو محبوب شاہ سے اس قدر روٹھی ہوئی تھی اب پل بھر میں ہی جیسے سارا غصہ ختم ہوگیا تھا۔ محض اس کے اس اقدام کے سبب وہ سب کچھ بھول چکی تھی۔ یہ بھی کہ محبوب شاہ کسی اور کی امانت تھا۔ اس کی نظر میں تو اس وقت وہ ایک دھوکے باز تھا۔ کومل اسے یہی تو سمجھتی تھی‘ پھر اس سے نکاح کیوں کیا…؟ کومل نے ابھی تک نہیں سوچا تھا۔ اب بھی گھٹنوں میں سر دیے وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔ جب کہ محبوب شاہ اس کے پاس ہی بیٹھا لب کچل رہا تھا۔
’’کومل… اب بس بھی کرو‘ دیکھو آنٹی کو تکلیف ہوگی۔‘‘ اس کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔ کومل کو روتے دیکھ کر مگر اس کی تسلی پر کومل کے رونے میں مزید روانی آگئی۔ محبوب شاہ نے لب بھینچ لیے اور اسے یونہی رونے دیا۔ وہ ایک بار اس کا سارا بوجھ ہلکا کروانا چاہتا تھا۔ اگلے دو دن محبوب سلطان نے اس کا بڑا خیال رکھا اور شاید اسی وجہ سے کومل سنبھل گئی تھی یا پھر یاد ہی کرنا نہ چاہتی تھی۔ مگر محبوب سلطان نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے جو بے یقینی اور شک دیکھا تھا محبوب شاہ اس شک کو دور کرنا چاہتا تھا اور کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ کومل فریاد کے دل میں دوبارہ کبھی اس کے بارے میں کوئی بدگمانی نہ پیدا ہو لیکن فی الحال یہ سب کرنے کا وقت نہیں تھا۔ کومل ابھی اک عظیم دکھ سے دو چار تھی۔
r…Y…r
وہ بیڈ پر آڑی ترچھی لیٹی تھی۔ رو رو کر اس کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے اور لب لرز رہے تھے۔ جب دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا۔ وہ خوف کے مارے اچھل کر بیٹھ گئی۔ جب وہ اندر آئی‘ انداز جارحانہ تھا۔ جیسے اسے مار ہی ڈالے گی۔ کومل نے حیران ہوکر متورم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
’’تو تم ہو کومل…؟‘‘ وہ گھوم پھر کر اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ ’’تمہیں پتا ہے کہ تم اک کانٹا بن کر آئی ہو محبوب شاہ کی زندگی میں…؟‘‘
’’اک… ایک… کانٹا…!‘‘ کومل کے لبوں سے ٹوٹے پھوٹے لفظ نکلے۔
’’ہاں کانٹا۔‘‘ اس نے چبا کر کہا۔
’’مطلب کیا ہے آپ کا اور آپ ہیں کون؟‘‘ کومل نے مائوف ہوتے دماغ سے پوچھا۔ وہ طنز سے مسکرائی پھر بولی۔
’’میں سائرہ ہوں۔ محبوب شاہ کی منگیتر اور اس کا پیار… میں اس کو بہت چاہتی ہوں اور وہ بھی… لیکن اب تم آگئی ہو ہماری زندگی میں ناسور بن کر۔‘‘ سائرہ نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا۔ اس کا لفظ لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا۔ کومل کا دل جیسے بند ہوگیا ہو۔ اسے سب یاد آنے لگا۔ مسرت نے کہا تھا کہ وہ منگنی شدہ ہے اور اپنی منگیتر کو بہت چاہتا ہے تو گویا سب سچ تھا۔ کومل نے سن ہوتے دماغ سے سوچا پھر چیخ اٹھی۔
’’نہیں… یہ جھوٹ ہے محبوب سلطان نے صرف کومل سے پیار کیا ہے ورنہ وہ مجھ سے نکاح کیوں کرتا؟‘‘ کومل نے پتا نہیں خود کو تسلی دی تھی یا پھر سائرہ کو جواب۔
’’ہونہہ نکاح… تمہاری ماں نے مرتے وقت اس کو کہا تھا تم سے نکاح کرنے کے لیے۔‘‘ سائرہ نے کٹیلے لہجے میں کہا۔ کومل کے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھرا تھا۔ یقین اسے ابھی بھی نہیں آیا تھا اور سائرہ سارے ثبوت دکھا کر اسے یقین دلانے کے ارادے سے ہی یہاں آئی تھی۔ شاید تبھی چند تصویریں کومل کے آگے پھینک کر اسے زہر خند لہجے میں برا بھلا کہتی باہر چلی گئی۔ وہ بہت کچھ کہہ گئی تھی۔ لیکن کومل سن ہی کہاں رہی تھی۔ وہ تو تصویریں دیکھ رہی تھی۔ جن میں محبوب سلطان کے ساتھ سائرہ تھی۔ یک دم غصے کی لہر اس کے اندر اٹھی تھی۔ اس نے شیشے کے گلدان کو نیچے پھینک دیا۔ پھر ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اس کی چاہت کا مان‘ غرور سب ختم ہوگیا تھا۔ وہ جو محبوب سلطان کو کڑے حالات میں سہارا دینے پر گزشتہ ہر بدگمانی بھول گئی تھی پھر سے بکھر گئی۔ اس پر محبوب سلطان اگلے دن بنا کومل سے ملے انگلینڈ چلا گیا تو کومل مزید دل برداشتہ ہوگئی۔ وہ اس کے آنسو اپنی پوروں پر چن لے گا اس کے دل میں پنپتی ہر بدگمانی کو دور کرکے اسے اپنی بھر پور چاہت کا یقین دلائے گا مگر اس کے پیٹھ موڑ کر جانے سے جیسے تصدیق ہوگئی تھی۔ اس نے ایک بار پھر ان تصویروں میں محبوب شاہ کو مسکراتے دیکھا تھا۔ اس کا دل جیسے تیز دھار آلے سے کٹ گیا تھا۔ وہ تصویریں رکھ کر سر بیڈ کی پشت سے لگا کر بیٹھ گئی۔ اداس‘ غمگین دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی آنکھوں سے کئی آنسو لڑھک گئے اور وہ گزرے دنوں کی یاد میں گم ہوگئی۔ جہاں وہ اس کے ساتھ تھا۔
r…Y…r
ساری رات بارش ہوتی رہی تھی اور یہ چھوٹا سا گھر ٹین کی چھتوں کے باعث ٹپکتا رہا تھا۔ کومل ساری رات نہیں سوئی تھی۔ ایک تو کمرے کی پرانی چھت بارش کی شدت نہ سہہ پارہی تھی اوپر سے مسرت کی کھانسی‘ کومل ساری رات بالٹی کمرے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتی رہی تھی۔ ساتھ ساتھ مسرت کی خبر گیری کرتی رہی تھی۔ صبح ہوتے تک جہاں بارش تھمی‘ وہیں کومل بھی تھک کر چور ہوگئی۔ فجر کی نماز پڑھ کے وہ باہر نکلی تو نیند کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہورہی تھیں لیکن سونے کا مطلب تھا اسکول سے چھٹی۔ پہلے ہی امی کی بیماری کے باعث وہ پورا ہفتہ اسکول سے رخصت پر رہی تھی۔ اب مزید کی گنجائش کہاں تھی۔ سو وہ کاموں میں جت گئی۔ سارے گھر کی صفائی کی ڈیوڑھی سے پانی نکالا۔ پھر نہا کر کپڑے بدل کر وہ کچن میں آگئی اپنے اور مسرت کے لیے ہلکا پھلکا ناشتا تیار کرکے وہ جلدی جلدی نوالے نگلنے لگی تھی کہ کہیں دیر نہ ہوجائے۔ پھر وہ مسرت کا ناشتا لے کر ان کے کمرے میں آئی۔ مسرت کو ناشتا کروا کر دوائی دی اور برتن کچن میں رکھ کر واپس آگئی۔
’’اچھا امی… میں چلتی ہوں۔‘‘ کومل نے کہا۔
’’فی امان اللہ۔‘‘ مسرت نے کومل کو اللہ کی امان میں دیا اور چارپائی پر لیٹ گئیں۔ ایک حادثے کی وجہ سے مسرت ٹانگوں سے معذور ہوکر رہ گئی تھیں اور اس کڑے وقت میں سوائے کومل کے ان کا سہارا تھا ہی کون… کومل باہر سے دروازہ بند کرکے جاتی تھی۔ آج بھی وہ باہر سے دروازہ لاک کرکے ہر طرف سے تسلی کرکے نکلی۔ ضرورت کی تمام چیزیں وہ مسرت کے پاس ہی رکھ آئی تھی۔ لہٰذا مطمئن تھی۔ چھوٹی سی گلی تنگ علاقے میں جگہ جگہ ننگ دھڑنگ بچے گلیوں میں کھیلتے پھر رہے تھے۔ صبح سویرے ہی آدھا دن لگ رہا تھا۔ بس اسٹاپ تک وہ پیدل ہی آتی تھی۔ اتنے وسائل ہی کہاں تھے پہلے گھر کو کھینچ تان کر چلانا اوپر سے گھر کا کرایہ‘ بجلی گیس کا بل رہی سہی کسر امی کی بیماری نے نکال دی تھی۔ وہ نازک سی لڑکی کیا کیا کرتی۔ بس اسٹاپ پر بینچ پر بیٹھی وہ سوچوں میں الجھی تھی جب گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔ کومل نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ سامنے بلیک کرولا میں محبوب سلطان بڑی جاندار مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’السّلام علیکم!‘‘ پہل اس طرف سے ہوئی تھی۔
’’وعلیکم السّلام!‘‘ کومل نے ہولے سے جواب دیا۔
’’کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ کومل نے نگاہیں جھکا کر جواب دیا۔
سفید شلوار قمیص میں محبوب سلطان کو کومل بڑی پیاری لگی۔ کچھ کومل کا لیے دیے رہنے والا انداز تھا جس نے محبوب سلطان کے دل میں نئے رنگ بھر دیے تھے۔ یہ ان کی جانے کون سی ملاقت تھی لیکن مجال ہے جو کومل اس امیر شاندار بندے کبھی کھل کر بات کرسکی ہو۔ گو کہ کومل کے دل میں بھی محبوب سلطان کے لیے پسندیدگی کے جذبات تھے لیکن کومل نے کبھی بھی کھل کر محبوب سلطان کو نہیں سوچا۔ وہ ہمیشہ ہی دامن بچا جاتی تھی۔ آخر وہ کسی اور کی امانت تھی۔ فراز… جس کے ساتھ فریاد رضا نے اپنی زندگی میں ہی کومل کو جوڑ دیا تھا۔ اب کومل کیسے کسی اور کو سوچتی لیکن یہ بات بھی سچ تھی کہ کومل فراز کو پسند نہیں کرتی تھی۔ خاص کر اب جب کہ چچا چاچی نے انہیں بے گھر کردیا تھا۔
’’آئیے… میں آپ کو ڈراپ کردوں۔‘‘ محبوب سلطان نے پیش کش کی۔
’’نہیں‘ تھینکس میں چلی جائوں گی۔‘‘ کومل نے پہلی بار نظریں اٹھا کر جواب دیا۔
’’تو پھر دیر کس بات کی ہے۔ بیٹھے اور چلیے۔‘‘ محبوب سلطان نے مسکرا کر کہا تو کومل کا دل پہلو میں زور سے دھڑکا اور اس پر اگلی نظر پڑتے ہی جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا۔
’’نہیں… میری بس آجائے گی۔‘‘ کومل نے گھبرا کر جواب دیا۔
’’اچھا… واہ‘ کتنی گاڑیاں‘ بسیں رکھتی ہیں آپ۔‘‘ محبوب سلطان نے پر شوق نظروں سے کومل کو دیکھا۔
’’میرا مطلب ہے…‘‘
’’ہم سب کے مطلب جانتے ہیں مانا کہ آپ کو مجھ پر بھروسا نہیں لیکن اک رشتے کی لاج رکھتے ہوئے ہی بیٹھ جائیے۔‘‘
’’کیسا رشتہ…!‘‘ کومل حیران ہوکر بولی۔
’’مسرت آنٹی نے مجھے اپنا بیٹا بنا رکھا ہے۔ بھول گئیں آپ۔‘‘ محبوب سلطان نے اس کے لیے کوئی راہ نہیں چھوڑی تھی۔ کومل نے سڑک پر نگاہ دوڑائی بس کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے۔ اوپر سے لوگوں کی نظریں۔ وہ ناچار دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔
سارا راستا وہ کھڑکی سے باہر بھاگتے دوڑتے نظاروں کو ہی دیکھتی رہی۔ اسکول کے سامنے گاڑی رکی تو وہ جلدی سے نیچے اتری اور تیز تیز چلتے ہوئے اسکول کے گیٹ سے اندر چلی گئی۔ محبوب سلطان کے خوب صورت لب کومل کی اس ادا پر مسکرائے تھے اور دل شادمان ہوگیا۔ اس نے کچھ دیر کومل کے نقش قدم کو دیکھا اور گاڑی نکال لے گیا۔
r…Y…r
فریاد رضا پر قسمت خوب مہربان تھی اعلیٰ عہدہ‘ پیسے کی فراوانی اور اس کے ساتھ ہی فرماں بردار بیوی‘ کچھ عرصہ بعد کومل کے گھر آنے کی خوشی نے ان کو کئی دن تک مسرور رکھا۔ فریاد رضا کو بیٹی کی بڑی خواہش تھی۔ اللہ نے ان کی جلد سن لی مگر کومل کی پیدائش کے وقت کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوئی تھیں۔ سو ڈاکٹر نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ مسرت اب ماں نہیں بن سکتیں۔ مسرت کئی دن تک دکھی رہیں۔ آخر کومل کے خوب صورت وجود نے انہیں سارے غم بھلانے پر مجبور کر ہی دیا۔ کومل نازوں سے پرورش پانے لگی۔ فریاد رضا کا ایک ہی بھائی تھا کمال رضا۔ جو ان کے ساتھ ہی شاندار بنگلے کے اوپر والے پورشن میں رہتے تھے۔ ان کی بیوی افشاں ایک بدفطرت خاتون تھیں۔ جنہیں سوائے اپنے بیٹے فراز کے اور کسی سے کوئی رغبت نہیں تھی۔ افشاں نے کمال کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔ کمال اپنی بیوی کے حسن کے اسیر تھے افشاں کے سحر میں گرفتار رہتے کومل سترہ سال کی ہوئی تو فریاد نے کومل اور فراز کی منگنی کردی۔ پیسے کی فراوانی افشاں کے لاڈ اور جا و بے جا حمایتوں نے فراز کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ فراز کو جوئے کی بھی لت تھی۔ دن گزر رہے تھے مگر برا دن اس وقت آیا جب فریاد رضا کمپنی کے طرف سے کسی کام سے اسلام آباد جا رہے تھے اور جہاز کریش ہوگیا۔ فریاد رضا موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ مسرت یہ دکھ نہ سہہ سکیں کومل خود اندھیروں میں گم ہوکر رہ گئی تھی۔ افشاں جسے پہلے بھی مسرت اور کومل کے وجود گھر میں کھلتے تھے اب مزید کھلنے لگی۔ وہ سارے گھر پر خود حکومت کرنا چاہتی تھی۔ لیکن فریاد کی مستحکم حیثیت کی وجہ سے خاموش تھی مگر اب افشاں خاموش نہ رہی اور اس نے کمال رضا کو باور کروا دیا کہ وہ ان دونوں کو علیحدہ کردے۔ پہلے تو افشاں کو فریاد رضا کی پرکشش جاب نے کومل اور فراز کا رشتہ ہونے پر خاموش کروا دیا تھا۔ لیکن اب جب وہ نہ رہے تھے تو وہ فراز اور کومل کا رشتا بھی ختم کرنا چاہتی تھی لیکن ایک تو فراز کومل کو پسند کرتا تھا۔ دوسرا کمال ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے تھے سو افشاں خاموش ہوگئی۔ کافی دن تک جب کمال نے کوئی اقدام نہ کیا تو افشاں نے صاف کہہ دیا کہ یا تو مجھے اس گھر میں رکھو یا ان کو۔ افشاں کے اس طرح صاف کہہ دینے پر کمال رضا اب سنجیدگی سے سوچنے لگ گئے پھر افشاں کے جذباتی طور پر ڈرانے دھمکانے پرسب ختم ہوگیا اور کمال رضا نے مسرت اور کومل کو حالات کی دھار پر بہت کم حصہ دے کر الگ کر دیا۔ کومل نے اسکول میں جاب کرلی اور ایک ٹیچر کی مدد سے یہ چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا۔ اتنے دن وہ ’’رضا پیلس‘‘ میں ہی رہے تھے۔ جہاں کے مکینوں نے ان کے سر سے سایہ اٹھنے کے بعد نگاہیں پھیر لی تھیں۔ کومل کو ان لوگوں سے نفرت ہونے لگی تھی۔ مگر اس دن تو کومل پر صدموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ جب مسرت بازار سبزی لینے گئی تھیں اور گاڑی کے نیچے آکر معذور ہوکر رہ گئی تھیں۔ محبوب سلطان جس کی گاڑی سے ٹکرا کر مسرت سڑک پر گری تھیں۔ اس افتاد پر سچ مچ گھبرا کر رہ گیا تھا۔ قصور اس کا ہرگز نہیں تھا‘ مسرت سوچوں میں الجھی خود ہی اس کی گاڑی کے عین سامنے آگئی تھیں اور محبوب سلطان کے لاکھ بچائو کے باوجود مسرت گاڑی سے ٹکرا گئیں۔ محبوب سلطان شہر کے مہنگے اسپتال سے مسرت کی ٹانگ کی ہڈی جو ٹوٹ چکی تھی پلستر کروا کر وہ مسرت کے بتائے پتے پر انہیں لے آیا۔ محبوب سلطان نے مسرت کو گھر لے جا کر چار پائی پر لٹایا اور خود دوائیاں اور کچھ پھل وغیرہ لینے نکل گیا۔ گھر کی حالت دیکھ کر اسے اندازہ ہو ہی چکا تھا کہ گھر کے مکین کیسے دور سے گزر رہے ہیں۔ محبوب سلطان ابھی گلی کے نکڑ پر ہی پہنچا تھا جب اسے فیروزی کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ایک لڑکی آتی دکھائی دی۔ کچھ تھا اس میں کہ محبوب سلطان جیسا مرد بھی ٹھٹک گیا تھا۔ کومل نے بھی حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔ بھلا اس گندے محلے میں اس شاندار اور امیر بندے کا کیا کام؟ حیران ہوتی وہ گلی میں گھس گئی۔ محبوب سلطان نے مڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اسی گھر میں گئی تھی۔ جہاں سے وہ آیا تھا۔ وہ واپس مڑ گیا۔ یہ جاننے کے لیے کہ یہ کون ہے۔ ابھی دروازے پر ہی تھا جب کومل کی آواز سنائی دی۔
’’امی…! کیا ہوگیا آپ کو…؟‘‘ کومل مسرت کی حالت دیکھ کر پریشان ہوئی۔
’’ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘ مسرت نے کراہتے ہوئے جواب دیا۔
’’گاڑی چلانے والا اندھا تھا کیا؟‘‘ کومل مسرت کے پائوں کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔ کومل مسرت کو بھیگی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
’’نہیں بیٹا… ایسا نہیں بولتے۔‘‘
’’کون تھا وہ؟‘‘ کومل غصے کے مارے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ مسرت گم سم سی اسے دیکھنے لگیں۔
’’بیٹا وہ بہت اچھا آدمی ہے۔ وہ مجھے اسپتال بھی لے کر گیا اور سارے اخراجات بھی اٹھائے پھر گھر چھوڑ کر گیا۔‘‘ مسرت نے بتایا۔
’’ہونہہ… اچھا آدمی۔‘‘ کومل نے دانت چبا کر کہا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ شخص اس کے سامنے آئے اور وہ اسے کچا چبا ڈالے۔ ’’یہ امیر لوگ نا ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بے حس و سنگ دل۔‘‘ محبوب سلطان کے لب مسکرا دیے اتنا تو وہ جان ہی چکا تھا کہ یہ لڑکی ان کی بیٹی ہے۔
’’بیٹا… وہ سچ میں بہت اچھا ہے۔‘‘ مسرت نے کہا۔
’’اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو میرا کیا ہوتا امی… آپ ہی تو اب میرا سہارا ہیں۔‘‘ کومل بھیگے لہجے میں بولی۔
’’مجھے کچھ نہیں ہوا۔ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ مسرت اپنی تکلیف ضبط کررہی تھیں۔ محبوب سلطان دکھی ہوگیا۔
’’آپ کتنی تکلیف میں ہوں گی۔ ایک بار وہ میرے سامنے آجائے چھوڑوں گی نہیں میں اسے۔‘‘ کومل ایک بار پھر اسے کوسنے لگی تو کھلے دروازے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محبوب سلطان اندر آگیا۔
’’مت چھوڑیے پلیز۔ آپ کا مجرم حاضر ہے۔‘‘ محبوب سلطان نے کہا۔ کومل نے پلٹ کر دیکھا سامنے اسی شاندار سے آدمی کو دیکھ کر قدرے سٹپٹا کر رہ گئی۔ وہ کیا بولتی۔ اس کی زبان گنگ ہوکر رہ گئی تھی۔ اس آدمی کی مسکراتی آنکھیں اور شاندار شخصیت توبہ‘ کتنا مشکل تھا اس کے سامنے ٹھہرنا۔ مسرت بھی بدقت اٹھ کر بیٹھ گئی تھیں۔
’’بیٹی… یہی ہے وہ اچھا آدمی محبوب سلطان۔‘‘
کومل بس خاموشی سے دیکھتی رہی۔ محبوب سلطان کومل کو لطف اندوز انداز میں دیکھ رہا تھا اور وہی لمحہ تھا جب محبوب سلطان کے دل میں کومل بس گئی اور کومل کے دل میں وہ لیکن وہ انکاری تھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ کومل کے دل نے محبوب سلطان کی اچھائیوں کو قبول کرلیا۔ محبوب سلطان میں وہ سب خصوصیات تھیں جو ایک اچھے انسان میں ہونی چاہیں۔ محبوب سلطان نے ایک بیٹے کی طرح مسرت اور اس کے گھر کی دیکھ بھال کی تھی۔ اس نے کئی بار کہا بھی کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر اس کے ساتھ چلیں لیکن کومل نے منع کردیا۔ وہ ایک با اعتماد اور انا پرست لڑکی تھی۔ اس کی انا یہ گوارا نہیں کرتی تھی کہ محبوب سلطان کی کوئی بھی عنایت قبول کرتی۔
r…Y…r
کومل صبح سے ہی گھن چکر بنی ہوئی تھی۔ آج اتوار تھا۔ کومل کی اسکول سے چھٹی تھی۔ اس نے مشین لگائی اور سارے کپڑے دھو کر صفائی ستھرائی کی وہ مکمل طور پر بھیگ چکی تھی۔ جب دروازے پر دستک ہوئی تھی۔ کومل دوپٹا اوڑھ کر دروازہ کھولنے چلی گئی۔ مگر محبوب سلطان کو دیکھ کر وہ نروس ہوگئی اونچے پائنچے‘ کہنیوں تک چڑھی آستین اور بھیگے کپڑے محبوب سلطان نے بہ مشکل خود کو اس کے سحر سے نکالا اور سلام کیا۔ کومل ہٹ کر دوسرے کمرے میں گھس گئی تھی۔ محبوب سلطان کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔ وہ مسرت کے کمرے میں آگیا۔
’’السّلام علیکم! آنٹی۔‘‘ اس نے خوش گوار لہجے میں سلام کیا۔
’’وعلیکم السّلام بیٹا/ جیتے رہو۔ آئو بیٹھو‘ کیسے ہو؟‘‘ مسرت نے ایک ساتھ کئی سوال پوچھے۔
’’میں ٹھیک ہوں‘ آنٹی… آپ کیسی ہیں؟‘‘ محبوب سلطان نے دریافت کیا۔
’’میں بھی ٹھیک ہوں۔‘‘ مسرت نے جواب دیا۔
’’آنٹی… یہ پھل اور دوائیاں…‘‘ محبوب سلطان نے شاپر آگے کیا۔
’’اس کی کیا ضرورت تھی بیٹا… کومل سب کردیتی ہے۔‘‘ مسرت نے کہا۔ وہ ہمیشہ ہی ہچکچا جاتی تھیں۔ اب بھی ہچکچا رہی تھیں۔
’’تکلف ابھی تک… کیا آپ مجھے اپنا بیٹا نہیں سمجھتیں؟‘‘
’’نہیں… ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ مسرت نے کہا اور شاپر پکڑ لیا۔
’’اس نک چڑھی کومل کو مت بتائیے گا۔‘‘ محبوب سلطان نے مسکرا کر کومل کا ذکر کیا۔ مسرت مسکرا دیں۔
’’اسے تو خود ہی پتا لگ جائے گا۔‘‘ مسرت نے جواب دیا۔
’’ویسے بڑی تیز ہے آپ کی بیٹی۔‘‘
’’اچھا… میں تو سمجھتی تھی کہ میری بیٹی اللہ میاں کی گائے ہے۔ بھولی بھالی۔‘‘ مسرت نے کہا۔
’’اف‘ آنٹی… اتنی خوش فہمی۔‘‘ محبوب سلطان نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اچھا آنٹی… مجھے ایک اہم کام ہے میں چلتا ہوں۔‘‘
’’کہیں کومل سے ڈر کر تو نہیں جا رہے۔‘‘ مسرت نے مذاقاً کہا تو وہ کھل کر مسکرایا اور باہر آگیا۔ وہ دشمن جاں اسے کہیں بھی نظر نہ آئی تو وہ ایک نظر بند دروازے کو دیکھتا باہر چلا گیا۔ وہ کیسے نہ جانتا کہ کومل دروازے کے سوراخ سے اسی کا دیدار کررہی ہے اور جب سے وہ مسرت کے پاس گیا تھا تب سے ہی وہ سوراخ سے چپکی بیٹھی تھی۔ اس ڈر سے کہ کہیں محبوب چلا نہ جائے اور وہ اسے دیکھ نہ پائے بڑی آسانی سے محبوب سلطان نے کومل فریاد کے دل کو اپنا بسیرا بنا لیا تھا۔
r…Y…r
گھر میں کمال چچا اور افشاں چچی آئے ہوئے تھے۔ کومل ابھی ابھی اسکول سے لوٹی تھی۔ کچھ تو پہلے سے ہی تھکی ہوئی تھی۔ ان کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مزید بے زاری در آئی۔ بے دلی سے ان کو سلام کیا کہ جو کچھ بھی تھا تہذیب تو نبھانی ہی تھی اور پھر وہ لوگ چاہے جتنا مرضی برا رویہ اپنائے رہے‘ تھے تو اپنے لیکن کومل فریاد کا رویہ اول روز کی طرح ہی سرد تھا۔ آج بھی اس کے انداز میں بے زاری تھی۔ اسے آج بھی ان لوگوں سے اکتاہٹ ہوتی تھی۔ کومل نے چائے بنا کر بسکٹ رکھے اور کپڑے چینج کرنے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی تو وہ لوگ جاچکے تھے۔ چپ چاپ مسرت کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ مسرت کا چہرہ قوس قزح بنا ہوا تھا۔ جانے چچا چچی کیسی ہفت اقلیم کی دولت انہیں دے گئے تھے جو وہ ایسے خوش ہورہی تھیں۔
’’تمہیں پتا ہے تمہارے چچا چچی کیوں آئے تھے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ کومل نے نفی میں سر ہلایا اور توقف کے بعد پوچھا۔ ’’کیوں آئے تھے۔‘‘
’’تمہاری شادی کی بات کرنے۔‘‘ مسرت نے جیسے کومل کے سر پر بم پھوڑا۔
’’شش… شادی…!‘‘ کومل ہکلائی۔
’’ہاں‘ اب تم بتائو کہ تم راضی ہو نا۔‘‘ مسرت خوش تھیں کہ ان کی زندگی میں ہی کومل اپنے گھر کی ہوجائے گی گو کہ مسرت کا دل مطمئن نہیں تھا لیکن پھر بھی امید ضرور تھی کہ شاید بہو بننے کے بعد ان لوگوں کا سلوک تبدیل ہوجائے اور وہ پورے دل سے کومل کو اپنا لیں اور پھر یہ منگنی تو پانچ سال سے طے تھی۔ اپنا سمجھ کر وہ ان کے گھر کے حالات جانتے تھے۔ اگر یہ رشتا ٹوٹ جاتا تو پھر کومل کا کیا ہوتا۔ رشتے آسمان سے تو نہیں ٹپکتے آج کے معاشرے میں تو لوگ امیر بہویں اور بیویاں تلاش کرتے ہیں۔ جب کہ ان لوگوں کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا اور بھی کئی وجوہات تھیں جن کی بنا پر مسرت اس شادی پر رضا مند تھیں۔ محبوب سلطان کو مسرت پسند کرتی تھیں۔ وہ ایک اچھا لڑکا تھا۔ وہ کومل کی نظروں میں اس کے لیے پسندیدگی بھی دیکھتی تھیں۔ لیکن یہ صرف وہی جانتی تھیں کہ محبوب سلطان کسی اور سے منسوب تھا۔ اور دوسرا انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ یہ رشتا ٹوٹ جانے پر کہیں کمال رضا اور افشاں ہمیشہ کے لیے نہ چھوٹ جائیں۔ اب ان کے بعد ان کی بیٹی کا کون سہارا بنتا۔
’’نہیں‘ میں راضی نہیں ہوں۔‘‘ کومل کھڑی ہوکر سرد و سپاٹ لہجے میں بولی تو مسرت ہق دق رہ گئیں۔
’’کیوں بیٹا… تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟‘‘
’’پتا نہیں لیکن آپ ایک بات جان لیجیے کہ میں فراز کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہوں گی۔ وہ مجھے قطعاً پسند نہیں۔‘‘ کومل قطعیت سے بولی۔
’’کومل…! ہوش و حواس میں رہ کر بات کرو۔‘‘ مسرت کافی حد تک غصیلے لہجے میں بولیں۔
’’میں پورے ہوش میں ہوں لیکن مجھے حیرت ہے کہ آپ اس رشتے پر راضی ہیں…؟ بھول گئیں کہ ان لوگوں نے ہمیں گھر سے بے گھر کیا تھا۔ آپ بیمار تھیں اور وہ اپنے ہوکر بھی ہماری مدد کو نہ آئے۔ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود آپ راضی ہیں؟ فراز کے سارے کرتوت جانتے ہوئے بھی‘ آپ مجھے جہنم میں دھکیل رہی ہیں؟‘‘ کومل غصے میں بولی۔ مسرت اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ وہ پہلی دفعہ مسرت سے یوں کھل کر مخالفت کررہی تھی۔ حالانکہ وہ تو پانچ سال سے اپنا نام فراز کے ساتھ جڑا دیکھتی آرہی تھی۔ پھر جانے کیسے اس کی سوچ کا دھارا پلٹ گیا تھا۔
شاید محبوب سلطان کی وجہ سے… کومل یہ بات نہیں جانتی تھی کہ محبوب سلطان منگنی شدہ ہے۔
’’کومل… میں ماں ہوں تمہاری ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں اور یہاں وہی نہیں ہوتا۔ جو ہم سوچتے یا ہم چاہتے ہیں بلکہ کبھی کبھی یہاں ہماری سوچوں کے برعکس ہوتا ہے۔ ہمیں معاشرے میں اپنا وقار بحال رکھنے کے لیے کبھی کبھی کڑوے گھونٹ بھی بھرنے پڑتے ہیں۔‘‘ مسرت اب تھکے ہارے انداز میں اسے سمجھا رہی تھیں۔
’’تو آپ بھریں یہ کڑوے گھونٹ… میں ہرگز یہ نہیں کروں گی۔‘‘ کومل چٹخ کر بولی اور باہر جانے لگی۔
’’تو پھر اپنے ہاتھوں سے مار دو مجھے…‘‘ پیچھے مسرت کی آواز اسے سنائی دی تھی لیکن وہ دوسرے کمرے میں جا کر بند ہوگئی۔
r…Y…r
شام تک کومل کا غصہ ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ اب اسے اپنے رویے پر پشیمانی ہوئی اور کہیں دور دل میں ایک خلش بھی جاگی تھی۔ مسرت اس سے خفا ہوگئی تھیں اور تب سے بھوکی پیاسی تھیں۔ وہ کھانا لے کر مسرت کے پاس آگئی۔ وہ ابھی تک کومل سے ناراض تھیں اور نگاہیں پھیرے ہوئے تھیں۔
’’امی…‘‘ کومل نے بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھ کر پکارا۔ دوسری طرف خاموشی ہنوز بر قرار تھی۔
’’امی…‘‘ کومل کو ان کی خاموشی سے وحشت محسوس ہوئی تو وہ بے قراری سے بولی۔
’’کیا ہے…؟‘‘ مسرت سرد لہجے میں بولیں۔
’’آپ ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘ کومل نے پوچھا۔
’’میں کون سا حق رکھتی ہوں تم سے ناراض ہونے کا؟‘‘ مسرت غیریت سے بولیں۔ تو کومل کو اپنا دل بیٹھتا محسوس ہوا۔ وہ کھانا سائیڈ پر رکھ کر وہیں بیٹھ گئی اور مسرت کے ہاتھ پکڑ لیے۔
’’امی… مجھ سے ایسے بات مت کریں‘ میں سہہ نہیں سکوں گی۔‘‘ کومل کے آنسو نکل پڑے۔
’’تمہیں کون سی کسی کی پروا ہے جو تمہاری پروا کوئی کرے۔‘‘ مسرت طنزیہ بولیں۔
’’امی… میرا مطلب آپ کو دکھی کرنا نہیں تھا۔ مجھے معاف کردیجیے اور کھانا کھائیے۔‘‘
’’تم نے کوئی غلطی کی ہے جو میں تم کو معاف کروں؟‘‘ مسرت نے خفگی سے دیکھ کر پوچھا۔
’’ہاں…‘‘ کومل نے اعتراف کیا۔
’’تو گویا تمہیں احساس ہوہی گیا کہ تم نے غلطی کی ہے فراز کے لیے انکار کرکے…؟‘‘ مسرت کا انداز جتانے والا تھا۔
’’ہرگز نہیں… میں نے غلطی یہ کی ہے کہ میں نے اپنی ماں کا دل دکھایا ہے۔‘‘ کومل نے ان کی غلط فہمی دور کی چند ساعت تو مسرت خاموش ہوگئیں۔ بولیں تو ان کی آواز کسی کنوئیں سے آتی سنائی دی۔
’’کیسی عجیب لڑکی ہو۔ تم اپنے مرے باپ کو دکھ پہنچا کر بھی بے پروا ہو۔ ان کے طے کیے رشتے کو توڑ کر تمہارا خیال ہے بڑے خوش ہوں گے تمہارے پاپا۔‘‘ مسرت نے طنز کیا۔
’’پلیز امی…‘‘ کومل کا لہجہ بھیگ گیا۔
’’اگر وہ زندہ ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی۔‘‘
’’امی میں نے اس رشتے سے انکار تھوڑی کیا ہے۔ میں بس ذہنی طور پر ابھی تیار نہیں ہوں۔ اس شادی پر۔‘‘ کومل نے جیسے بات گھمائی۔
’’کیوں… جب میں مرجائوں گی تب کرو گی تم شادی…؟‘‘ مسرت نے دشواری سے کہا۔
’’پلیز امی… آپ ہر بار ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں۔ کوئی سہارا ہے میرا آپ کے بعد…؟‘‘ کومل نے پوچھا۔
’’اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ شادی کرلو۔‘‘ مسرت نے ایک بار پھر بات شادی پر لاپٹخی تو کومل جھنجلا کر رہ گئی۔
’’آپ کھانا کھائیے۔ اس بارے میں بعد میں بات کریں گے۔‘‘ کومل کوفت زدہ سی اٹھ کر چلی گئی۔
’’بیٹا… فراز نے فون کیا تھا۔ افشاں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ کومل نے چند لمحے امی کو خاموشی سے دیکھا۔
’’اوہ… اور آپ کو فوراً تیمارداری کا بخار چڑھ گیا ہوگا۔‘‘ وہ طنزیہ لہجے میں تپ کر بولی۔
’’کومل… میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ تم جا کر مزاج پرسی کر آئو۔‘‘ مسرت نے بات سمیٹنی چاہی۔
’’امی…‘‘ کومل زچ ہوکر بولی۔ ’’آپ بیمار تھیں تو آئے تھے وہ لوگ۔‘‘ کومل نے دکھ سے پوچھا۔ مسرت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن پھر بھی اسے سمجھانے کو بولیں۔
’’دیکھو بیٹا… یہ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فعل ہے کہ وہ بھی بیمار کی تیماداری کرنے کے لیے جاتے تھے۔ خواہ بیمار دشمن ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
’’امی آپ کب تک ایسا کریں گی؟ وہ لوگ اس قابل نہیں ہیں اور نہ ہی میں اتنی اعلیٰ ظرف ہوں۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔ اس کے لہجے میں غصے کی آمیزش تھی۔
’’تم سمجھتی کیوں نہیں؟ کل قیامت کے دن تم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ تمہاری کوئی تیمارداری کرنے آیا تھا یا نہیں بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے انسانیت کے ناتے اپنا فرض نبھایا تھا۔‘‘ مسرت حکمت کے موتی بڑے احسن طریقے سے اس کے گوش گزار رہی تھیں۔ کومل نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی۔ اسکول لگنے میں صرف آدھا گھنٹا رہ گیا تھا۔
’’اچھا امی میں چلتی ہوں۔‘‘ ان کو کوئی بھی مناسب جواب دیے بغیر وہ بولی۔
’’لیکن…‘‘
’’ٹھیک ہے میں چلی جائوں گی۔‘‘ مسرت کی بات منہ ہی میں تھی۔ جب کومل بول پڑی۔ مسرت خوش ہوگئیں۔
’’اللہ حافظ… دھیان سے جانا۔‘‘ مسرت مطمئن ہوگئی تھیں۔
’’لیکن صرف آپ کے لیے۔‘‘ کومل جاتے جاتے جتانا نہ بھولی تھی۔ مسرت مسکرادیں۔
سارا دن کومل وہاں جانے کے بارے میں ہی سوچتی رہی اور پھر اسکول کی چھٹی کے بعد وہ ایک حتمی فیصلہ کرکے ’’رضا پیلس‘‘ جانے کے لیے رکشا رکوا کر بیٹھ گئی۔ یہ جانے بغیر کہ وہاں ایک نئی مصیبت اس کی راہ دیکھ رہی ہے۔
r…Y…r
رکشا ایک بڑے بنگلے کے سامنے رکا تھا۔ کومل نے کرایہ دیا اور اس بلڈنگ کو دیکھنے لگی۔ یہ وہی رضا پیلس تھا جہاں وہ بڑی شان سے رہتی تھی۔ رضا پیلس بنگلے کی درمیانی سطح پر سنہری حروف سے لکھا تھا۔ کومل دکھی ہوگئی۔ اس کا دل چاہا واپس بھاگ جائے لیکن پھر خود کو سنبھال کر وہ آگے بڑھی اور سیاہ گیٹ کھول دیا چوکیدار کو سلام کیا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔ چوکیدار وہی تھا پرانا جس نے اسے روکا نہیں تھا یا پھر اسے پہلے سے خبر کردی گئی تھی اندرونی دروازہ کھول کر کومل نے بڑے سے لائونج میں قدم رکھا۔ گھر میں صرف چند لائٹس ہی آن تھیں۔ جانے کیوں کومل کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ بہ مشکل خود پر کنٹرول رکھتے ہوئے وہ آگے بڑھی۔ ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہ واپس بھاگ جائے لیکن ملے بغیر جانا بھی تہذیب کے خلاف تھا۔ کچھ دیر وہ یونہی اِدھر اُدھر دیکھتی رہی۔
’’شنو!‘‘ ملازمہ کو دیکھ کر اسے پکارا۔ شنو اسے دیکھ کر حیران ہوئی پھر اس کی طرف آئی۔
’’آپ آگئیں۔‘‘ شنو کا انداز عجیب سا تھا۔
’’کیوں؟‘‘ کومل نے نا سمجھی کے عالم میں پوچھا۔
’’کچھ نہیں خیر آپ اوپر چلی جائیں۔ اوپر ہی آپ کا انتظار ہو رہا ہے۔‘‘
’’اوپر چچی میرا انتظار کررہی ہیں؟‘‘ کومل نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’پتا نہیں۔‘‘ شنو کا مبہم سا رویہ اسے الجھا گیا تھا۔ کومل نے تھوڑی دیر کچھ سوچا پھر سر جھٹک کر اوپر کی طرف بڑھ گئی۔ اسے ایسے لگا تھا جیسے شنو اس کے یہاں آنے پر متذبذب ہو۔ اوپر دائیں ہاتھ فراز کا کمرا تھا اس کے آگے والے دو کمرے چھوڑ کر تیسرا کمرا افشاں کا تھا۔ کومل وہیں بڑھی تھی۔ جب فراز کے کمرے کے آگے سے گزرتے ہوئے اسے اپنے بازو پر آہنی گرفت محسوس ہوئی اور وہ فراز کے کمرے کے اندر کھینچتی چلی گئی۔ اس اچانک افتاد پر اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی تھی۔
’’کون ہو تم… چھوڑو مجھے…‘‘
’’گھبرائو نہیں جانِ من یہ میں ہوں تمہارا ہونے والا شوہر۔‘‘ فراز کی ہوس سے پر آواز اسے کسی انہونی کا احساس شدت سے کروا گئی۔ وہ خود کو یہاں آنے پر ملامت کرنے لگی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا کومل فریاد اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرچکی تھی۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اپنے قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔
’’کرنٹ تو مت مارو یار…‘‘ فراز بولا۔
’’بکواس بند کرو‘ مجھے چھوڑو ورنہ میں چلائوں گی۔‘‘ کومل نے دھمکی دی۔
’’گھر میں کوئی نہیں ہے۔ تمہاری چیخیں سننے کے لیے۔‘‘ فراز نے ایک اور بم بلاسٹ کیا۔ ’’جن کی بیمار پرسی کے لیے تم یہاں آئی ہو وہ یہاں نہیں ہیں۔‘‘ وہ خباثت سے ہنسا۔
’’تم… تم نے مجھے دھوکے سے یہاں بلایا؟‘‘ کومل صدمے سے بولی۔
’’اوہ کم آن ڈیئر… پھر کیا ہوا۔ ہم تو ویسے بھی میاں بیوی جلد ہی بن جائیں گے۔‘‘ کومل کو اس لمحے فراز زہر لگا۔ اس کا دل نفرت سے لبالب بھر گیا۔
’’خاموش رہو اور مجھے جانے دو۔‘‘ کومل چیخ کر بولی۔ مگر فراز کی گرفت سخت تھی۔ کومل ہاتھ پائوں مار کر اپنا بچائو کررہی تھی۔ جب کومل کے ہاتھ کے نیچے کوئی چیز آئی تھی وہ بٹن تھا۔ اس نے پش کردیا۔ پورا کمرہ روشنیوں میں نہا گیا۔ ایک لمحے کو فراز کی گرفت کمزور پڑی تو کومل نے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ فراز غراتا ہوا اس کے پیچھے لپکا۔ کومل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایک بار پھر رضا پیلس نے اسے گہرے دکھ سے دو چار کیا تھا۔ وہ سیڑھیوں کے پاس آکر ایک لمحے کو رکی۔ اپنی بے ترتیب سانسوں کو ہموار کرکے وہ پلٹی تو فراز اس کے سر پر کھڑا تھا۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی باہر نکل گئی اور اسی بھاگم بھاگ میں گیٹ تک پہنچ کر ایک رکشا رکوایا اور بیٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
فراز کے چنگل سے وہ معجزاتی طور پر بچ گئی تھی۔ لیکن دل اک اور ضرب کھانے کے بعد اس گھر سے مکمل طور پر اچاٹ ہوگیا تھا۔ آگے کومل کے لیے سوچنا بھی محال تھا۔ آج فراز اپنے ارادے میں کامیاب ہوجاتا تو… آنسو خودبخود اس کی آنکھوں سے رواں ہو گئے تھے۔
گہری خاموشی کے لبادے میں لپٹی کومل گھر آئی تھی۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا اور وجود پر لرزش طاری تھی۔ وہ خوف سے اپنے آپ میں سمٹی جارہی تھی۔ جب سے وہ آئی تھی کمرے میں گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔ مسرت نے اسے کئی آوازیں دی تھیں۔ لیکن کومل ان سنی کیے بدستور بیٹھی رہی۔ اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے کومل کو یہ تک اندازہ نہیں ہوا تھا کہ گھر میں کوئی داخل ہوا ہے نا صرف داخل ہوا تھا بلکہ مسرت کو پریشان دیکھ کر اس کے کہنے پر اس کے کمرے میں بھی آگیا تھا۔
’’اپنے ماتم میں آپ دروازہ لاک کرنا بھول گئیں اگر کوئی چور گھس آتا تو…؟‘‘ محبوب سلطان کی خوب صورت آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو کومل نے سر اٹھایا۔ روئی روئی غلافی آنکھوں کے تیر محبوب سلطان کے دل کو چھلنی کرنے لگے۔
محبوب سلطان نے ان آنکھوں میں جھانکا تو جیسے دل دھڑکنا بھول گیا۔ کومل چادر درست کرتی اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ مگر معاملے کی سنجیدگی محبوب سلطان بھانپ چکا تھا۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ محبوب سلطان نے پریشانی سے پوچھا تو کومل نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا اور پھر سر جھکا دیا۔ محبوب سلطان کے لہجے میں موجود اپنائیت اور نرمی نے اسے دلگیر کردیا تھا۔ وہ بے اختیار سوچنے لگی کہ کیا کوئی غیر انجانے لوگوں کے لیے اتنا کرسکتا ہے لیکن کومل کو کون سمجھاتا کہ محبوب سلطان اتنی خبر گیری اور اتنی فکر ان لوگوں کے لیے کیوں رکھتا ہے۔ اس کی توجہ کے لیے تو کئی لڑکیاں ہر وقت تیار رہتی تھیں جنہیں خود ہی محبوب سلطان گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ محبوب سلطان کی مقناطیسی شخصیت ہی ایسی شاندار تھی۔ مگر وہی شاندار شخصیت رکھنے والا محبوب سلطان‘ جس کے دل میں سائرہ جیسی لڑکی جو اس کی منگیتر تھی جگہ نہ بنا سکی۔ وہاں کومل فریاد جانے کب گڑ کر رہ گئی۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ کومل نے ہولے سے جواب دیا۔ آج وہ محبوب سلطان کے سامنے گھبرا نہیں رہی تھی۔ شاید اس نے بھی محبوب سلطان کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ اس سے پہلے فراز سے منسوب ہونے کے سبب جو جھجک تھی اب اس کی گھٹیا حرکت کے سبب اس سے شدید نفرت پر مجبور کر گئی تھی۔ تو محبوب سلطان کے مدھم نقوش دل کے ہر حصے پر گہرے ہوگئے تھے۔ اور یہ تو کومل فریاد کی خوش قسمتی تھی کہ جسے اس نے چاہا وہ پہلے ہی اس کے سحر میں گرفتار تھا۔ محبوب سلطان جس کے دل پر پہلے ہی سے کومل قابض تھی اور اس وقت تو گویا ہر حد پار ہوگئی۔ پہلی محبت کیسی اثر انگیز ہوتی ہے یہ محبوب سلطان نے وہیں کھڑے کھڑے جان لیا تھا اور پھر کومل کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر خودبخود اپنی ازلی خوش مزاجی پر آگیا۔
’’لیکن یہاں چوروں کو آنے کی کیا ضرورت ہے یہاں تو خود ہی چور موجود ہے۔‘‘ محبوب سلطان نے اپنی بات کا جواب خود ہی دیا تھا۔ ایک شرارت کے ساتھ۔
’’یہاں کون چور ہے؟‘‘ کومل نے چونک کر پوچھا۔
’’وہی جو ہمارے سامنے کھڑا ہے۔‘‘ محبوب سلطان کے برجستہ جواب نے اسے سٹپٹا کر رکھ دیا۔ وہ گھبرا گئی۔
’’میں نے کیا چوری کیا ہے؟‘‘
’’میرا دل۔‘‘ محبوب سلطان پر شوق نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو کومل سٹپٹا گئی۔ اسے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔
’’زیادہ گھبرائیے مت‘ میں آپ کو چور نہیں کہہ رہا۔ چور تو میں ہوں۔‘‘ محبوب سلطان نے مسکرا کر کومل کو اس مشکل سے نکالا۔
’’وہ کیسے؟‘‘ اک دھیمی سے مسکراہٹ نے کومل فریاد کے لبوں کا راستہ بھی دیکھ لیا۔
’’آپ میرا آئینہ جو ہوئیں۔‘‘ محبوب سلطان قہقہہ لگا کر وہاں سے باہر چلا گیا۔ کافی دیر ہوگئی تھی۔ ویسے بھی وہ یہاں کومل کی اداسی دور کرنے آیا تھا۔ جو ہوچکی تھی۔ مسرت سے مل کر وہ گھر چلا گیا۔ پھر آنے کے لیے اور کومل فریاد محبوب سلطان کی باتوں کا مفہوم سمجھنے لگی۔ جو زیادہ مشکل نہیں تھا۔
محبوب سلطان اپنے ماں باپ کا اکلوتا لختِ جگر تھا۔ سلطان شاہ کی آنکھوں کا تارا۔ محبوب سلطان اپنے والدین میں باپ کے زیادہ قریب تھا۔ وجہ بانو شاہ کی سخت مزاجی اور فطری رعونت۔ محبوب سلطان‘ سلطان شاہ سے اپنے دل کی ہر بات شیئر کرتا تھا۔ اس نے سلطان شاہ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ کومل فریاد کو پسند کرتا ہے اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ خود سلطان شاہ اور بانو کی پسند کی شادی تھی۔ جسے ارینج میرج کا رنگ دیا گیا تھا کہ بانو شاہ ان کی پھوپی زاد اور بچپن کی منگیتر تھی لیکن سلطان شاہ اس کی بات سن کر الجھ گئے تھے۔ کیونکہ بانو شاہ کو سائرہ جی جان سے پیاری تھی اور انہوں نے سائرہ سے سلطان شاہ کے ساتھ مشورہ کرکے محبوب سلطان کی منگنی کردی تھی۔ جسے آج تک محبوب سلطان قبول نہ کرسکا تھا۔ سائرہ اسے کسی طور بھی پسند نہ تھی۔ سائرہ بانو شاہ کی بھتیجی تھی۔ جو انہی کے ساتھ گائوں سے دور شہر میں صرف اسی بنا پر رہتی تھی کہ اسے گائوں میں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ وہ محبوب سلطان پر جی جان سے فدا رہتی‘ یہ اور بات کہ محبوب سلطان نے کبھی اسے پسندیدہ نظروں سے نہ دیکھا تھا۔
r…Y…r
محبوب سلطان تھکا ہارا سا گھر آیا تھا۔ حویلی ہر روز کی طرح ویران تھی سلطان شاہ آفس میں تھے‘ بانو شاہ محو آرام تھیں۔ وہ صوفے پر بیٹھ کر تسمے کھولنے لگا تھا۔ جب سائرہ وہاں آگئی۔
’’السّلام علیکم!‘‘ سائرہ خوشی سے بھرپور لہجے میں چہک کر بولی۔
’’وعلیکم السّلام!‘‘ محبوب شاہ نے سلام کا جواب دیا اور ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالی پنک کلر کی کامدار لمبی قمیص کے ساتھ پائجاما پہنے شولڈر کٹ بالوں کو پونی ٹیل کی شکل دیے۔ دوپٹے کو گردن کے گرد لپیٹے وہ کسی بھی طرح ایک عام دیہاتی لڑکی نہ لگ رہی تھی۔ محبوب شاہ نے آن کی آن میں ایک اور چہرہ دیکھ لیا۔ دوپٹے کے ہالے میں شرم سے بھرپور دھیمی مسکراہٹ والا چہرہ… جو بنا کسی تردد کے اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا تھا۔ وہ سر جھٹک کر اسے نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ تسمے کھولنے لگا۔ جوتے اتار کر سائیڈ پر رکھے اور بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے پرسکون انداز میں بیٹھ گیا۔ اس نے ہمیشہ کی طرح سائرہ کو نظر انداز کیا تھا اور وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی پیچ و تاب کھانے لگی۔
’’مجھے دیکھ کر بے زار کیوں ہوجاتے ہیں آپ؟‘‘ آج اس نے پوچھ ہی لیا۔
’’یہ اپنے آپ سے پوچھو‘ تم…‘‘ محبوب شاہ نے اسے دیکھ کر جواب دیا تو وہ خاموش سی ہوگئی۔ پھر ڈھٹائی سے بولی۔
’’کیوں… میں نے کیا کردیا ایسا؟‘‘
’’یہ بھی تم اپنے آپ سے پوچھو۔‘‘ وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا اور سائرہ غصے سے بل کھا کر رہ گئی پھر پیر پٹختی بانو شاہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
’’پھوپو…‘‘
’’جی پھوپو کی جان…‘‘ بانو شاہ کے لہجے میں جانے سائرہ کے لیے اتنی چاشنی کہاں سے آجاتی تھی۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ بانو شاہ کا پوچھنا محال ہوگیا۔ وہ بھڑک اٹھی۔
’’یہ آپ جاکر اپنے اس سپوت سے پوچھیے۔‘‘ سائرہ نے حسبِ عادت دو کی چار لگائی تو بانو شاہ غصے سے لال بھبوکا چہرہ لیے محبوب شاہ کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئیں۔ اپنے نظر انداز کیے جانے کا بدلہ سائرہ اچھی طرح لینا جانتی تھی۔ وہ فاتحانہ انداز میں مسکرا دی۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ بانو شاہ غصے سے بولیں۔
’’کیا…؟’’ محبوب شاہ نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
’’کیوں تم سائرہ کو تنگ کرتے ہو؟‘‘
’’آپ نے میری اس کے ساتھ منگنی کرتے وقت مجھ سے پوچھا تھا…؟ آپ یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ میں اسے ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘
’’کیوں… اس میں کیا برائی ہے؟‘‘ بانو شاہ بھڑک اٹھیں۔
سائرہ شاہ ان کے اکلوتے مرحوم بھائی کی بیٹی تھی اور کئی مربعوں کی اکلوتی وارث بھی… بانو شاہ نے منصوبے کے تحت اسے محبوب سلطان سے منسوب کیا تھا‘ ان کا خیال تھا کہ آخر کار محبوب سلطان راضی ہو ہی جائے گا۔
’’آپ سیدھی طرح پوچھیے کہ آپ جاننا چاہتی ہیں کہ مجھے وہ کیوں پسند نہیں ہے اور میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں یا نہیں…؟‘‘ محبوب سلطان کسی طریقے سے بانو شاہ کو اپنی پسند کے بارے میں باخبر کرنا چاہتا تھا۔ سو یہ موقع اسے موزوں لگا۔
’’ہاں تو بولو۔‘‘
’’میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔‘‘ محبوب شاہ نے بتایا‘ عام سے انداز میں مگر بانو شاہ بھڑک اٹھیں۔
’’کیا…! تمہاری یہ مجال… یہ بھی نہ سوچا کہ سائرہ کا کیا ہوگا؟‘‘
’’زبردستی تھوپے گئے فیصلے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔‘‘
’’خاموش رہو۔ تم بھول گئے ہو کہ تم اپنی ماں سے بات کررہے ہو؟‘‘ بانو شاہ تنفر سے بولیں۔
’’بڑا غرور ہے آپ کو اپنے بیٹے پر تو ایسی بہو ڈھونڈیے جس کو میرے ساتھ دیکھ کر لوگ بھی داد دیں ناکہ ایسی لڑکی جو کئی ہاتھوں کا کھلونا ہو۔‘‘ محبوب شاہ نے طنز کے تیر پھینکے۔ وہ سائرہ کی آوارہ مزاجی کے بارے میں جانتا تھا۔ خاموش تھا تو صرف بانو شاہ کی خاطر بانو شاہ نے کچھ دیر کے لیے اسے دیکھا آخری حربہ آنسوئوں کا آزمایا جس سے ان کے خاوند اور خود بیٹے کا دل بھی نرم پڑ جاتا تھا اب بھی یہی ہوا کہ یہ ہستی ان دونوں کے لیے بہت قیمتی تھی۔
’’ماں پلیز… رویے مت دیکھیے میرا ارادہ آپ کو دکھی کرنے کا نہیں تھا۔‘‘ محبوب شاہ گھبرا کر ان کے نزدیک آیا۔ وہ ایک فرماں بردار بیٹا تھا۔ تبھی تو ماں کے ایک اشارے پر منگنی کرلی۔ یہ تو سائرہ کے رنگ ڈھنگ کھلنے کے بعد اور کومل کی محبت کا اثر تھا کہ وہ اب اس نام نہاد رشتے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔
’’تو پھر وعدہ کرو کہ آئندہ سائزہ کو تنگ نہیں کرو گے۔‘‘ بانو شاہ نے اس کے نرم پڑ جانے پر فائدہ اٹھایا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ محبوب شاہ نے سر تسلیم خم کردیا۔r
ان دنوں محبوب سلطان کی محبت نے کومل کو اندر تک سرشار کیا ہوا تھا۔ اب وہ جب بھی آتا‘ کومل گھبرا کر کمرے میں بند ہونے کے بجائے اس سے ہنستی بولتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ محبوب سلطان کے دل میں اس کی محبت کچھ اور گہری ہوگئی تھی۔ کومل کے یہ بدلے رنگ اور کھلا کھلا چہرہ جہاں ہمہ وقت مسکراہٹ رہتی‘ مسرت کی نظروں سے چھپا نہ رہ سکا تھا۔ فراز کے معاملے کو کومل یکسر نظر انداز کرچکی تھی۔ اس نے ماں کے ساتھ اس بابت کوئی بات نہیں کی تھی کہ وہ مزید بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔ اس دن جب کومل مسرت کے پاس بیٹھی تو ان کے سوال سے گھبرا کر رہ گئی۔
’’کومل… اب تم اتنی خوش کیوں رہتی ہو؟‘‘ انہوں نے کچھ کریدنا چاہا۔ کومل چند ساعت چپ رہی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔
’’بولو نا۔‘‘ مسرت نے ایک بار پھر کہا۔ تو وہ گڑبڑائی۔
’’تو کیا اب میں خوش بھی نہیں رہ سکتی؟‘‘
’’ایک بات بتائو کومل… کیا تم محبوب سلطان کے بارے میں جانتی ہو؟‘‘ محبوب سلطان کے اچانک ذکر پر کومل گھبرا گئی۔ اس نے ایک نظر مسرت کے چہرے کو دیکھا پھر سرجھکا گئی۔
’’کیا مطلب‘ کیا جانتی ہوں اور مجھے اسے کیوں جاننا ہے؟‘‘
’’تو کیا تم محبوب سلطان کو پسند نہیں کرتیں۔ شاید یہ نہیں جانتی کے وہ منگنی شدہ ہے اور اپنی منگیتر کو بہت چاہتا بھی ہے۔‘‘ مسرت اسے صاف الفاظ میں تنبیہ نہیں کرنا چاہتی تھیں سو اپنی باتوں میں اسے کچھ بڑھا کر بتایا۔
’’کیا…؟‘‘ کومل پر ایک ساتھ کئی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے اور وہ گم سم سی ہوکر رہ گئی۔
’’دیکھو بیٹا… میں تمہاری ماں ہوں‘ تمہارے اندر تک جھانک سکتی ہوں تم ان راہوں کی مسافر مت بنو‘ جن کی کوئی منزل نہیں ہے۔‘‘ مسرت اسے سمجھا رہی تھیں۔ ’’اس سے ناصرف محبوب سلطان کی بلکہ تمہاری‘ فراز اور محبوب سلطان کی ہونے والی بیوی اور چاہت کی زندگی پر بھی اثر پڑے گا۔‘‘ مسرت نے لفظ چاہت کو چبا کر ادا کیا۔ کومل نے ان کے لہجے میں کچھ خاص محسوس کیا تو گنگ ہوکر رہ گئی تھی۔
’’کیا سچ میں محبوب سلطان کسی اور کو…؟‘‘ وہ سوچوں کے بھنور میں الجھی تو الجھتی چلی گئی۔
’’بیٹا… کسی اور کے بجائے تم فراز کے بارے میں سوچو جو تمہارا کل ہے‘ مستقبل ہے۔ جو تمہیں عزت‘ نام‘ تحفظ دے گا۔‘‘ مسرت نے کہا۔
’’عزت…!‘‘ کومل نے طنز سے سوچا۔ ایک بار دل میں آئی کہ مسرت کو اس کی گھٹیا حرکت کے بارے میں بتا دے مگر پھر سر جھٹک کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ان سوالوں کے جواب سوائے محبوب کے اسے اور کوئی نہیں دے سکتا تھا۔
r…Y…r
آج اسکول سے چھٹی کے بعد کومل نے محبوب سلطان کو فون کیا اور وہ فوراً اسے پک کرنے آگیا تھا۔ کومل خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
’’کیا بات ہے‘ آج سورج کہاں سے نکلا تھا جو کومل صاحبہ نے ہمیں یاد کیا؟ اور لیجیے کومل صاحبہ… آپ کا محبوب سلطان حاضر ہے۔‘‘ محبوب شاہ عادت کے مطابق شروع ہوچکا تھا۔ کومل نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی۔
’’کیا ہے… کیا کھانے کا ارادہ ہے؟‘‘ محبوب شاہ نے شاید کومل کی سرد مہری کو محسوس نہیں کیا تھا۔ تبھی بولا۔
’’تمہاری منگنی ہوئی ہے؟‘‘ ان گزرے دنوں میں کومل نے آپ سے تم تک کا رستا بڑی تیزی سے طے کیا تھا۔ اس اچانک سوال پر محبوب سلطان نے ایک لمحے کو گاڑی روکی پھر سڑک پر چلتی ٹریفک کے پیش نظر دوبارہ چلا دی۔ اس کی ہنسی پل بھر میں لبوں سے دور ہوگئی تھی۔
’’کیا ہوا‘ خاموش کیوں ہوگئے جواب دو نا۔‘‘ کومل نے طنزیہ پوچھا۔
’’ہاں…‘‘ محبوب سلطان نے جواب دیا۔
’’سائیڈ پر گاڑی روکیے۔‘‘ کومل نے کہا‘ اس کا انداز سادہ سا تھا۔ محبوب سلطان نے سائیڈ پر گاڑی روک دی وہ سمجھا تھا کہ شاید کومل اس سے کچھ اور کہنا چاہتی ہے۔ خود محبوب کو بھی یہی وقت مناسب لگا تھا۔ کومل کو سب سچ بتانے کے لیے لیکن اگلے ہی لمحے وہ حیران رہ گیا۔ جب کومل گاڑی سے باہر نکلی۔
’’مجھے جواب مل گیا۔‘‘ کومل سرد مہری اور قطعاً اجنبی لہجے میں بولی اور رکشا رکوا کر بیٹھ کر چلی گئی۔ محبوب سلطان اسے پکارتا گاڑی سے نکلا لیکن رکشا جا چکا تھا۔ وہ گاڑی میں واپس بیٹھا ارادہ تھا کہ اس کے پیچھے جائے لیکن آفس سے میٹنگ کے لیے کال آگئی۔ اس نے اسٹیئرنگ پر ایک مکا رسید کیا اور گاڑی اسٹارٹ کرکے زن سے نکال لے گیا۔
r…Y…r
’’میں تیار ہوں‘ شادی کے لیے۔‘‘ کومل کے جواب نے پل بھر میں مسرت کو خوش گوار حیرت سے ہم کنار کیا تھا۔ تو گویا ان کا سمجھانا کارگر ثابت ہوا تھا۔ مسرت سوچنے لگیں جب کہ کومل سے وہاں ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ وہ باہر نکل گئی۔ فراز بے شک اسے عزت نہیں دے سکتا تھا اس نے جو بھی کیا اس کے ساتھ لیکن اس دغا بار‘ دوغلے شخص سے لاکھ گنا اچھا تھا کم از کم اس کے دل کے ساتھ کھیلا تو نہیں تھا یہی سوچ کر کومل نے بنا سوچے سمجھے جذباتیت میں آکر ہاں کردی تھی۔
اس نے محبوب سلطان سے دریافت تک نہ کیا تھا کہ آخر اس نے اس کے ساتھ اتنا بڑا بھیانک مذاق کیونکر کیا۔ پہلے جب مسرت نے اسے بتایا تھا کہ محبوب سلطان منگنی شدہ ہے تو اسے ذرا بھی یقین نہیں آیا تھا۔ وہ بدگمان نہیں ہونا چاہتی تھی۔ لیکن دل کو تسلی دینا بھی ضروری تھا۔ اس کے جواب پر اس کا دل جیسے مردہ سا ہوگیا تھا۔ اسے محبوب سلطان سے ایسی امید نہیں تھی۔ اس کا نازک دل ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔ اس کے خواب ٹوٹ کر چکنا چور ہوگئے تھے۔ اس کی خواہش اس کا پیار سب ہی تو بے سود رہا تھا۔ لاحاصل خواہشوں کے پیچھے بھاگنے سے انسان سوائے تھکن کے اور کچھ نہیں پاتا اور کومل کو یہ بات خوب سمجھ میں آگئی تھی۔ سو اس نے اپنے دل کو مار کر پل صراط پر چلنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اعتباری کا صلہ جو اسے ملا تھا اسے پا کر وہ بے اعتباری پر ہی بھروسا کرنا چاہتی تھی لیکن محبوب سلطان اب بھی اس کے دل پر قابض ضرور تھا اور شاید ہمیشہ وہ بے وفا دل کے نہاں خانوں میں زندہ رہتا۔ شام کے پھیلتے سائے دیکھ کر وہ اٹھی اور کھانا پکانے لگی۔ اپنے آپ کو وہ کسی حد تک سنبھال چکی تھی۔
میٹنگ اٹینڈ کرنے کے دوران اس کا دھیان کومل میں ہی الجھا رہا تھا۔ جانے کیا سوچے گی وہ میرے بارے میں اگر میرے بارے میں کچھ غلط… آگے سوچنا بھی محال تھا۔ اسے ایک فون کال کرنے تک کی فرصت نہ ملی تھی۔ اب جو اسے وقت ملا تو وہ اسے کال کرنے لگا۔ ایک کے بعد دو تین چار پھر گیارہویں کال بھی کاٹ دینے پر اس کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ اس سے ملنے کا ارادہ کرکے وہ چیزیں سمیٹنے لگا تھا۔
’’محو بیٹا…‘‘ سلطان شاہ اس سے مخاطب تھے۔
’’جی پاپا۔‘‘ اس نے تابعداری سے کہا۔
’’کہیں جا رہے ہو؟‘‘ انہوں نے ازلی میٹھے اور محبت سے بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’جی پاپا… آپ کو کوئی کام تھا؟‘‘
’’مگر تم تو جارہے ہو۔‘‘
’’آپ کا کام پہلے… کہیے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔ کہ باپ کا محبت سے پر وجود ہمیشہ اسے پہلے ہی عزیز تھا۔ ’’بعد میں کچھ اور…‘‘ ماں کے منہ سے تو یہ محبت آج تک نصیب نہ ہوئی تھی۔
’’بیٹا… ائیرپورٹ جاکر سارے معاملات نمٹا لو۔ مہر صاحب کا فون آیا تھا۔ انہوں نے کسی کو بھیجنے کے لیے کہا ہے۔‘‘ سلطان شاہ نے بتایا۔ اگلے ہفتے محبوب شاہ انگلینڈ بزنس کے سلسلے میں جارہا تھا۔ اسی سلسلے میں سلطان شاہ بات کررہے تھے۔
’’ٹھیک ہے میں ہو آتا ہوں۔‘‘ اس نے تابعداری سے کہا۔ بیٹے کی فرماں برداری پر سلطان شاہ مسکرا اٹھے جب کہ محبوب شاہ کومل کے بارے میں سوچتا رہا پھر سر جھٹک کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
کومل اسکول گئی ہوئی تھی‘ مسرت گھر پر اکیلی تھیں۔ اب وہ تھوڑا تھوڑا چلنے لگی تھیں۔ کافی بچت کے بعد کومل نے انہیں بیساکھی خرید دی تھی۔ جس کے سہارے وہ آسانی سے چل پھر سکتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اب کومل باہر سے دروازہ بند کرکے نہیں جاتی تھی۔ کومل کے جانے کے بعد افشاں اور کمال رضا آگئے تھے۔ مسرت نے ہی انہیں فون کرکے بلایا تھا۔ مگر افشاں کے تیور کافی بگڑے ہوئے تھے۔ وہ فراز کو بتائے بغیر یہاں آئے تھے۔ افشاں کو شنو نے کومل اور فراز کے بارے میں الف سے ے تک بتایا تھا۔ کہ کیسے کومل گھر آئی تھی اور فراز کے کمرے میں اوپر چلی گئی تھی۔ جس انداز میں افشاں کو یہ سب بتایا گیا تھا وہ اس سب کا دوسرا مطلب ہی نکال پائی تھی۔ سو اب بگڑے تیوروں کے ہمراہ وہ یہاں آئی تھی۔ فراز تو تھا ان کا لاڈلا۔ جس کو وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھیں۔ یہاں تک کہ اس سے پوچھنا بھی گواراہ نہ کیا۔ ان کی سوچ کے مطابق کہ کومل ہی اصل قصور وار تھی۔ سو وہ سارا قصور کومل پر رکھ کر یہاں آپہنچی۔
’’افشاں بھابی… آئیے بیٹھیے۔‘‘ مسرت نے گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ ہم بیٹھنے کے لیے نہیں آئے بس بات کرکے واپس جائیں گے۔‘‘ افشاں زہرخند لہجے میں بولی۔ کمال کو وہ تمام تفصیل بتا چکی تھی۔ وہ بھی خاموش تھے۔
’’کیا بات ہے کمال بھائی؟‘‘ وہ کمال ضبط سے پوچھنے لگی تھیں۔ مگر کمال افشاں کی طرف دیکھنے لگے۔
’’اپنی بیٹی کو سنبھال کر رکھو اسکول کے نام پر جانے کیا گل کھلاتی پھر رہی ہے۔‘‘ افشاں نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا تھا۔ مسرت تڑپ کر انہیں دیکھنے لگیں۔
’’کیا ہوگیا افشاں…! کوئی بات ہے تو بیٹھ کر سلجھاتے ہیں۔‘‘ مسرت نے کہا۔
’’بیٹھ کر سلجھانے والی بات ہوتی تو ہم تم سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔ اگر تم میں سمجھ ہوتی تو اپنی اس بدکردار بیٹی کی ایسی تربیت نہ کرتیں۔ توبہ ہے‘ میرے گھر میں میرے بیٹے سے ملنے وہ اکیلی چلی آئی ایسی کیا وجہ تھی جو اسے اس حد تک گرنا پڑا؟‘‘ افشاں نے تلخی سے کہا۔
ان دونوں سے نفرت تو انہیں پہلے سے تھی۔ اب جو موقع ملا تو ہاتھ سے کیوں جانے دیتیں سو وہ خوب زہر اگل رہی تھیں اور مسرت کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ افشاں کومل کے کردار کو خوب اچھال رہی تھی اور مسرت میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ کچھ بول ہی سکتیں۔
’’اپنی بیٹی کو بٹھاکر رکھو ہماری طرف سے یہ رشتا ختم…‘‘ مسرت کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔
’’رکیے‘ کمال بھائی‘ افشاں… ایسے مت کرو وہ آپ کا خون ہے‘ کومل ایسی نہیں ہے۔ آپ اس سے منہ موڑیں گے تو کون اپنائے گا اسے؟‘‘ مسرت چیختی چلاتی رہی تھیں لیکن وہ دونوں پتھر بنے وہاں سے چلے گئے تھے۔ مسرت روتی پیٹتی بیٹھ گئیں۔
’’میری بیٹی ایسی نہیں ہے۔‘‘ مسرت یہی بولے جارہی تھیں۔ یکایک ان کے سینے میں بائیں جانب درد اٹھا تھا۔ وہ بے اختیار کراہ کر رہ گئیں۔ درد بڑھتا ہی جارہا تھا۔ عین اسی لمحے محبوب سلطان کی گاڑی وہاں رکی تھی۔ اس نے کمال رضا اور افشاں کو کومل کے گھر سے نکلتے دیکھا تھا۔ وہ حیرانی سے آگے بڑھا اور گھر کے اندر داخل ہونے پر وہ پریشان ہوکر رہ گیا۔
’’آنٹی…‘‘ وہ ان کی جانب بڑھا۔ وہ زمین پر بیٹھی دل پر ہاتھ رکھے درد سے دہری ہورہی تھیں۔
’’بیٹا…‘‘ انہوں نے اٹکتے سانسوں سے کہا۔
’’چلیے آنٹی اسپتال…‘‘ محبوب سلطان نے انہیں اٹھانا چاہا لیکن انہوں نے منع کردیا۔
’’بیٹا… میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میری کومل بے گناہ ہے‘ تم اس کو اپنا لینا۔‘‘ یہ آخری الفاظ تھے جو ان کے منہ سے نکلے تھے اور اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے ساکت ہوگئیں تھیں۔
’’آنٹی…‘‘ محبوب سلطان نے اس لمحے انہیں پوری شدت سے ہلایا تھا۔ ان میں اسے ممتا دکھتی تھی۔
کچھ ہی عرصے میں مسرت اس کے دل کے بہت قریب ہوگئی تھیں۔ مسرت کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ اچانک صدمہ ان پر جان لیوا حملہ کر گیا تھا اور اپنی بیٹی سے کوئی صفائی طلب کیے بغیر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئی تھیں۔ محبوب سلطان نے ایک لمحے کو بے سہارا رہ جانے والی معصوم کومل کو سوچا اور اس کے دماغ میں مسرت کے الفاظ ابھرے تھے۔
’’وہ بے گناہ ہے‘ اسے اپنا لینا۔‘‘ ایک ہی پل میں محبوب سلطان نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کومل کو یوں اکیلے ایک دن بھی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس نے فون کرکے سلطان شاہ کو ساری صورتِ حال بتا کر ان سے مشورہ لیا تھا۔ انہوں نے بھی کومل کو گھر لے کر آنے کا مشورہ دیا اور بنا کسی مضبوط رشتے کے محبوب سلطان کومل کو گھر کیسے لے جاسکتا تھا۔ سو اس نے مولوی صاحب کو فون کیا اور خود مسرت کے کفن‘ دفن کا انتظام کرنے لگا۔ اس سے پہلے اس نے کومل کو فون کردیا تھا۔ جو اگلے آدھے گھنٹے میں موجود تھی۔ وہ بدحواس سی گھر پہنچی تھی اور آکر جیسے مسرت کے ساکت وجود کو دیکھ کر بکھر اٹھی تھی۔ وہ بے تحاشا روئی تھی تڑپی تھی۔ محبوب سلطان نے اسے حوصلہ دیا تھا۔
مسرت کی وفات کو آج تیسرا دن تھا۔ ان تین دنوں میں کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جب کومل نہ روئی ہو۔ اسے اپنوں کی بے حسی پر ٹوٹ کر رونا آیا جو آخری رسوم میں بھی شامل نہ ہوئے تھے۔ ان تین دنوں میں کومل کی ساری زندگی بدل چکی تھی۔ اس دن جب محبوب سلطان نے اس سے نکاح کیا تھا۔ اک بدگمانی کے باوجود کومل نے نکاح کے پیپرز پر سائن کیے تھے شاید اس انتہائی صدمے نے اسے توڑ دیا تھا اور وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے دور تھی۔ وہ مکمل طور پر اس دکھ میں ڈوبی سب کچھ بھول چکی تھی۔ جنازے پر سلطان شاہ بھی شریک ہوئے تھے۔ جنہوں نے اسے ایک بیٹی کی طرح حوصلہ دیا تھا۔ ان کے سینے سے لگ کر کومل کو بالکل اپنے باپ کا احساس ہوا تھا وہ خوب روئی تھی۔ اب وہ محبوب سلطان کی حویلی آگئی تھی۔ جہاں اس کے آنے سے خوب بھونچال آیا تھا۔ وقت اور حالات کتنی ہی کروٹیں بدلیں مگر زندگی رکتی نہیں۔ زندگی رکنے کا نہیں چلتے رہنے کا نام ہے۔ سو زندگی اسی طرح چل رہی تھی اور جانے کب تک یونہی چلتی رہنی تھی۔ محبوب سلطان کو اچانک انگلینڈ جانا پڑا تھا۔ اور اس سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ جانے اسے کیا ہوا تھا۔ کومل جو تین دنوں میں محبوب شاہ کی اس قدر دیکھ بھال پر بدگمانی ختم کر بیٹھی تھی کہ محبوب سلطان شاہ ہی اس کا اصل ہمسفر ہے اور سوائے اس کے اور کسی کو نہیں چاہتا۔ ایک بار پھر ٹوٹ پھوٹ گئی۔ جب سائرہ اس کے پاس آئی تھی اور اسے وہ ثبوت فراہم کیے تو اسے یہ ماننا ہی پڑا کہ وہ تنہا و بے سہارا ہے۔ دنیا میں اس کا کوئی نہیں۔
شام کے سائے جوں جوں گہرے ہوتے جارہے تھے ویسے ویسے پارک کی رونق کو چار چاند لگ رہے تھے۔ شام میں آبیاری کے بعد نم گھاس سے اٹھتی مٹی کی خوش بو ایک بھیگا بھیگا سا احساس جگاتی تھی۔ چہل قدمی سے دل کو ایک انجانا سا سکون ملتا تھا۔ بسیروں کو لوٹتے پرندوں کی چہچہاہٹ اور رنگ بدلتا آسمان گویا انسانوں کی دن بھر کی تھکن دور کر جاتے تھے۔ وہ ہر شام ہی پارک میں آکر ڈھلتے وقت کی خوب صورتیاں دیکھا کرتی تھی۔ آج بھی پارک کی ایک بینچ پر وہ اداس سی غمگین بیٹھی تھی بالکل تن تنہا۔ جیسے اپنائیت کے ہر احساس سے عاری تھی۔ شکست در شکست کسے کہتے ہیں یہ اس سے بہتر بھلا اور کون جان سکتا تھا۔ کومل فریاد شاید فریادیں ہی کرتی رہ جاتی اگر محبوب سلطان اسے سہارا نہ دیتا مسرت کے جانے کے بعد وہ بالکل ٹوٹ گئی تھی۔ اکیلی ہوگئی تھی۔ محبوب سلطان دو ماہ کے لیے انگلینڈ گیا تھا۔ پچھلے ہفتے اور انگلینڈ جاکر جیسے اسے بھول ہی گیا تھا۔ اس ایک ہفتے میں اس نے ایک بار بھی کومل کو فون نہیں کیا تھا۔ اسے کیا ہوگیا تھا۔ کومل کچھ نہیں جانتی تھی۔ لیکن تین دنوں کے اس کے ساتھ نے کومل کے دل میں محبوب سلطان کے پیار کی جڑیں مزید مضبوط کردی تھیں۔ سائرہ کے زہر اگلنے پر تڑپا تھا شاید وہ کبھی یقین کا دامن نہ تھام پاتی اگر محبوب سلطان گریز کا رویہ نہ اپناتا یا شاید وقت اسے سائرہ اور اس کے مابین رشتے کی وضاحت کا موقع دے دیتا اور اس سے پہلے کہ پارک میں ہجوم بڑھ جاتا وہ اٹھ کر واپس چلی آتی تھی۔ اب بھی جب لوگوں کا مزید ہجوم بڑھا تو وہ خاموشی سے واپس چل پڑی۔
r…Y…r
حویلی میں کومل کو بہو کا مقام نہیں ملا تھا۔ سوائے سلطان شاہ کے کوئی اس سے ڈھنگ سے بات تک نہ کرتا۔ بانو شاہ کو جب غصہ آتا تو وہ خوب دل کھول کر سناتی اور وہ خاموشی سے سنتی رہتی ان کو کوئی جواب نا دیتی۔ اس کا تو مجازی خدا اس کا پیار اس کا اپنا نہیں رہا تھا۔ جو اپنا نام دے کر اسے حویلی لے کر آیا تھا۔ وہی اس سے منہ موڑے ہوئے تھا۔ تو کسی اور سے بھی شکوہ نہیں تھا۔ شام کو وہ پارک جاتی اور باقی سارا دن گھر میں اپنے الگ کمرے میں ہجر مناتی۔ راتیں عبادت میں گزارتی اور تنہائیاں محبوب شاہ کی یادوں میں… مسرت کی یاد آتی اور آنسو بہہ نکلتے۔ ان سب میں کومل کہاں تھی کہیں بھی تو نہیں وہ تو اپنی ذات میں ہی نہیں تھی۔ شاید اپنا آپ کھو بیٹھی تھا۔ سائرہ اور بانو شاہ نے اس کے خلاف محاذ بنا لیا تھا۔ محبوب شاہ جب بھی حویلی فون کرتا بانو شاہ کا ایک ہی جواب سننے کو ملتا وہ گھر پر نہیں… وہ سو رہی ہے فون پر ہی اس کے کان بھرے جاتے۔
محبوب سلطان تڑپ کر رہ جاتا تھا۔ اس کی حالت بھی کومل سے جدا نہیں تھی۔ وہ بانو شاہ اور سائرہ کی فطرت سے خوب واقف تھا۔ سو یقین نہ رکھتا کہ کومل اس سے اس قدر بے گانگی برت رہی تھی وہ الجھ کر رہ جاتا تھا۔
اپنے کمرے کی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے وہ سوچوں کے بھنور میں الجھی تھی جب سلطان شاہ وہاں آگئے ان کی آہٹ پر وہ چونکی اور دوپٹا درست کرکے نظریں جھکا کر کھڑی ہوگئی۔
’’السّلام علیکم۔‘‘ اس نے سلام کیا۔
’’وعلیکم السّلام بیٹا!‘‘ سلطان شاہ کے لہجے میں وہی نرمی و شفقت تھی جو ان کے لہجے میں محبوب شاہ کے لیے ہوتی تھی۔
’’کیسی ہو بیٹا؟‘‘ انہوں نے نرمی سے پوچھا۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ مختصر سا جواب دیا۔
’’کچھ چاہیے تو نہیں میری بیٹی کو…؟‘‘ سلطان شاہ نے پوچھا۔ کومل نے نفی میں سر ہلا دیا۔ انہیں اس معصوم بچی کا سب کچھ چھن جانے پر دل کرتا کہ وہ اسے دنیا کے ہر دکھ سے چھپالیں لیکن انہیں خبر نہیں تھی کہ کومل کو سب سے بڑا دکھ ان کا بیٹا ہی دے رہا ہے وہ انجان تھے اور کومل ان سے کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’اچھا بیٹا… کچھ بھی چاہیے ہو تو مانگ لینا تمہارا حق ہے یہ‘ تم اکلوتی اور لاڈلی بہو ہو اس گھر کی۔ کوئی پریشانی ہو تو مجھ سے کہنا۔‘‘ سلطان شاہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور چلے گئے۔ ان کی اتنی محبت پر کومل کا دل بھر آیا تھا۔ وہ آنکھیں صاف کرکے نیچے آئی تھی‘ اسے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ہال میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے کہ فون بج اٹھا اور بجتا ہی چلا گیا۔ اک موہوم سی آس پر وہ ٹی وی بند کرکے فون تک آئی تھی۔
’’ہیلو… اتنی دیر ہوگئی‘ کیا کرتی ہو سائرہ۔ کہا بھی تھا کہ میں گھر کے نمبر پر فون کررہا ہوں۔ آکر جلدی اٹھا لینا۔‘‘ کومل ٹھٹک کر رہ گئی۔ یہ محبوب سلطان تھا؟ اک شناسا سا احساس‘ اپنا اپنا سا محبوب سلطان‘ کومل کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں۔ وہ چوروں کی طرح سرگوشی کے سے انداز میں بول رہا تھا۔ مگر کیوں؟ آج پورے مہینے بعد وہ اس دشمنِ جان کی آواز سن رہی تھی۔ مگر یقین نہ کر پا رہی تھی۔ محبوب سلطان کا سائرہ کے ساتھ کیسا رابطہ ہے۔ کومل کا دل سوچ کر دکھی ہوگیا۔ محبوب شاہ نے کومل کو ایک بار بھی فون نہیں کیا تھا اور اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد اس میں ہمت نہیں تھی۔ ’’اب بات تو کرو‘ ایک تو تمہارے موبائل کی چارجنگ ہی ڈائون رہتی ہے۔ جب کال کرو‘ موبائل آف۔‘‘ اس کی جھنجلائی آواز آئی۔
’’ہیلو!‘‘ کسی شبہے کی تصدیق کے لیے اس نے ہولے سے پوچھا تھا شاید اسے پہچان کر دوسرے طرف خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد ٹوں ٹوں کی آواز آنے لگی۔ گویا محبوب سلطان نے فون کاٹ دیا تھا۔ اس کی آواز سن کر وہ دل برداشتہ ہوکر واپس پلٹی تو سیڑھیوں پر سائرہ کھڑی تھی۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے کومل پل بھر کے لیے رکی۔ سائرہ اسے دیکھ کر معنی خیزی سے ہنسی تھی۔
’’ہوگیا شوق پورا‘ وہ فون تمہارے لیے نہیں تھا۔‘‘ طنز سے کہا گیا۔ اس کا جملہ کومل کے دل کے پار ہوگیا۔ وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں بند ہوکر ماتم منانے لگی۔ اپنے بے وفا پیار پر اور سائرہ جیت کی خوشی میں سرشار فون سیٹ تک آئی تھی اور نمبر ڈائل کرکے کسی سے بات کرنے لگی۔
اس روز جب کومل فریاد سفید لباس میں ملبوس محبوب سلطان کے ساتھ اس حویلی میں داخل ہوئی تھی سائرہ کا دل چاہا تھا کہ وہ آج چیخ چیخ کر سب کو اکٹھا کرلے اپنے لٹ جانے کا ماتم منائے۔ ساری دنیا کو بتائے کہ محبوب سلطان اب اس کا نہیں رہا۔ وہ خوب روئی تھی۔ سائرہ دل سے صرف ایک مرد کو ہی چاہتی تھی۔ وہ جو اس کا منگیتر تھا۔ محبوب سلطان جسے سائرہ نے سچے دل سے چاہا تھا۔ اب اس کا نہیں رہا تھا۔ سائرہ کی زندگی میں کئی مرد تھے۔ وہ حسین تھی‘ پہننا اوڑھنا جانتی تھی‘ اس پر تو کوئی بھی لڑکا فدا ہوسکتا تھا اور اپنی بگڑی روش کے سبب صرف وقت گزاری کے لیے سائرہ نے کئی لڑکوں سے دوستی کر رکھی تھی۔ اس کی اسی عادت کے سبب محبوب سلطان اسے ناپسند کرتا تھا۔ حالانکہ سائرہ کبھی بھی کسی لڑکے کے ساتھ سیریس نہیں ہوئی تھی۔ لیکن محبوب سلطان ایک مہذب مشرقی مرد تھا۔ جس نے آج تک کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا اور وہ ایک باحیا مشرقی بیوی ہی چاہتا تھا جو کم از کم سائرہ ہرگز نہیں تھی اور کیسا عجیب اتفاق تھا سائرہ کا سب سے قریبی دوست فراز تھا۔ جس کے ساتھ مل کر ہی سائرہ نے یہ گھنائونا کھیل رچایا تھا کہ کومل فریاد کے دل میں محبوب سلطان کے لیے بدگمانی جنم لے چکی تھی۔
فراز نے کومل کی شادی کی خبر پاکر گھر میں خوب ہنگامہ کیا تھا۔ تاہم افشاں نے بیٹے کے غصے کی وجہ سے اسے یہ بتانے سے گریز کیا تھا کہ رشتا انہی لوگوں نے توڑا تھا اور کمال میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ بیوی کی مخالفت کرتے۔ سو انہوں نے بھی خاموشی کا لبادہ اوڑھے رکھا۔ فراز آگ بگولا ہوا تھا۔
’’تمہارے لیے لڑکیوں کی کمی ہے کیا؟ تمہیں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل جائے گی تو پھر تم کیوں اس بدکردار لڑکی کا روگ اپنے دل پر لے رہے ہو؟‘‘ افشاں نے اسے سمجھانے کی لاکھ کوشش کی ساتھ کومل کے لیے جھوٹی سچی باتیں بھی کیں لیکن وہ بھی کوئی ایسا نہیں تھا۔ جسے ایک بار سمجھائو تو وہ سمجھ جائے۔ وہ کومل کو پسند نہیں کرتا تھا ہاں کومل اس کی ضد ضرور تھی اور ضد کبھی پیار کے زمرے میں نہیں آتی فراز اس لیے پھڑپھڑا رہا تھا کہ کومل نے اسے چھوڑ کر مردانگی پر کھلم کھلا چوٹ کی تھی۔ جو فراز جیسے مرد کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ فراز زخم خوردگی کی اذیت سے گزر رہا تھا۔ کمرے کی تمام چیزیں ٹوٹ پھوٹ چکی تھیں۔ شراب کی کئی بوتلیں خالی ہوچکی تھیں۔ ایش ٹرے سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھر چکی تھی۔ کمرے میں اندھیرا کیے وہ راکنگ چیئر پر جھول رہا تھا۔ آنکھیں خطرناک حد تک سرخ تھیں اور چہرے کے عضلات کھنچے ہوئے تھے۔ تبھی موبائل فون کی ٹون بجی تھی۔ نمبر دیکھ کر موبائل کان سے لگایا۔
’’ہیلو!‘‘
’’میں سائرہ۔‘‘ دوسری طرف وہ بھی کچھ ایسی حالت سے گزر رہی تھی۔ اس نے فراز کو ملنے کے لیے بلایا تھا۔ اور وہ پندرہ منٹ میں ریسٹورنٹ میں پہنچ چکا تھا۔ سائرہ اس کے سامنے چیئر پر بیٹھی تھی۔
’’بولو…‘‘ اس نے پوچھا تو لبوں سے مسکراہٹ غائب تھی۔
’’کیا بات ہے تم آج اتنے الجھے ہوئے کیوں ہو؟‘‘ سائرہ نے ٹھٹک کر پوچھا۔
’’تم اپنی بات کرو۔‘‘ فراز نے درشتگی سے کہا۔
’’فراز مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ سائرہ کا لہجہ التجائیہ تھا۔
’’کیوں خیریت…؟‘‘
’’محبوب سلطان نے شادی کرلی ہے؟‘‘ اس نے بھیگے لہجے میں بتایا تھا۔
’’اچھا کب۔‘‘ فراز نے حیرت سے پوچھا۔
’’دو دن پہلے…‘‘ اس نے سرسری سا بتایا۔
’’کس سے…؟‘‘ فراز سائرہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں سب جانتا تھا۔ سائزہ اس کی قریبی دوست تھی۔ تو اسے سب کچھ بتایا تھا۔ اپنی پسند اور منگنی کے بارے میں بھی۔
’’کومل فریاد نام ہے اس کا۔ اس کی ماں مر گئی تھی اور محبوب سلطان نے اس سے نکاح کرلیا۔‘‘ سائرہ نے زہریلے کاٹ دار لہجے میں بتایا۔ فراز چونک گیا۔
’’کیا… کومل…!‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’کیوں… تم اسے جانتے ہو؟‘‘ سائرہ نے بھی چونک کر پوچھا۔
’’تمہارے پاس کوئی تصویر وغیرہ ہے اس کی؟‘‘ فراز نے اپنے شک کی تصدیق کرنی چاہی۔
’’ہاں میں لے کر آئی ہوں۔ اسی کام کے لیے تو آئی ہوں۔‘‘ سائرہ نے فوراً اپنے پرس سے کومل کی تصویریں نکال کر اسے دیں۔
’’اوہ… تو گویا میرا شک صحیح تھا۔‘‘ فراز زہریلے لہجے میں مسکرایا۔ سائرہ بدستور حیران اور ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔
’’یہ میری منگیتر تھی کومل فریاد۔‘‘ فراز نے تفصیل بتائی تو سائرہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
’’اتنا بڑا اتفاق۔‘‘ وہ واقعی حیران تھی۔
سائرہ اور فراز نے مل کر منصوبہ بنایا اور منصوبے کے تحت محبوب شاہ اور کومل کے دل میں ایک دوسرے کے لیے بدگمانی پیدا کرنے کے لیے ان دونوں نے ایک گھٹیا چال چلی۔ سائرہ اور فراز جیسے لوگ جو ہمیشہ فتح حاصل کرنے کے عادی ہوتے ہیں اتنی آسانی سے اپنی شکست تسلیم نہیں کرتے۔ رقابت کی آگ نے انہیں جھلسا کر رکھ دیا تھا اور انتقام ناگریز تھا۔ سائرہ اور محبوب شاہ کی تصاویر فراز ہی نے بنوا کر اسے دی تھیں اور وہ تصویریں کومل کو دکھا کر سائرہ نے اسے محبوب شاہ سے بدگمان کرنا چاہا تھا لیکن کومل کا پیار اتنا کمزور ہرگز نہیں تھا شک اسے نہیں ہوا تھا نہ ہی یقین آیا تھا۔ محبوب سلطان کے گریز اور بعد کے حالات نے سائرہ اور بانو شاہ کی چال بازیوں کو کامیاب کردیا تھا۔ کالز پر بانو شاہ اور سائرہ کا کومل کے خلاف اس کے کان بھرنا اگر چہ کچھ کام نہ آیا تھا مگر کومل کے دل میں بدگمانی ضرور پیدا کردی گئی تھی اور محبوب شاہ تو وضاحت جب کرتا جب کومل کے اندر پلتی بدگمانی کو پا جاتا یا پھر کومل اس سے باز پرس کرتی مگر اس کے اور محبوب سلطان کے فون پر رابطے کو وہ دونوں شاطر عورتیں ناممکن بنا چکی تھیں۔
اس کی پاکستان کی فلائٹ تھی۔ سارے کام وہ نمٹا چکا تھا۔ صرف اس کے کپڑے وغیرہ رہ گئے تھے۔ سو وہ اپنی چیزیں پیک کررہا تھا۔ گھر والوں کے لیے تحائف بھی وہ لے چکا تھا۔ جس دن سے وہ آیا تھا کومل سے رابطہ نہ ہوسکا تھا۔ اس پر بانو شاہ اور سائرہ کی باتیں جن پر یقین نہیں کرپاتا تھا۔ کسی عورت کو پہچاننے میں وہ دھوکا نہیں کھا سکتا تھا۔ کومل فریاد پر ناصرف اس نے خود بلکہ اس کے دل نے بھی مہر لگائی تھی۔ وہ آزردہ تھا تو صرف اس کے گریز کے سبب۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سچی ہے پاک ہے آئینے کی طرح صاف ہے اور سائرہ یا بانو شاہ نے اس سے جو کچھ کہا تھا وہ محض سازش تھی۔ جب سائرہ اس کو کومل کے بارے میں گھٹیا خبریں دیتی تو اس کا دل کٹ کر رہ جاتا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ صرف اور صرف جھوٹ ہے۔ اس نے کومل کے لیے ایک بڑی خوب صورت سی رنگ خریدی تھی۔ وہ اپنے اور سائرہ کے رشتے کی اصلیت کو واضح کرکے اس کے دل کی ہر بدگمانی دور کردینا چاہتا تھا۔
حویلی میں سبھی بہت خوش تھے۔ آج دو ماہ بعد حویلی کی رونق واپس آرہی تھی۔ کومل کا دل گھبرا رہا تھا۔ ان دو ماہ نے اس کے اور محبوب سلطان کے مابین کتنے فاصلے پیدا کردیے تھے اور اب اس کے لوٹنے پر جانے کیا فیصلہ ہوتا۔ سلطان شاہ کومل کی بے چینی و اضطرار دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے کومل کو ان دو ماہ میں اپنی بہو کے روپ میں مکمل طور پر قبول کرلیا تھا۔ وہیں بانو شاہ کی اس سے نفرت میں اضافہ ہی ہوا تھا۔ سائرہ کی اپنی زندگی تھی اور وہ اس کی زندگی میں دخل نہ دیتے تھے۔
’’شاہ جی آگئے۔‘‘ گلابو نے اطلاع دی تو کومل کا دل اچانک زور زور سے دھڑکنے لگا۔ سب باہر کی جانب لپکے تھے لیکن کومل میں جانے کا حوصلہ نہیں تھا۔ وہ وہیں کھڑی انگلیاں چٹخاتی رہی۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
’’جی سب ٹھیک ہے۔‘‘ وہ جانے کس کی بات کا جواب دے رہا تھا۔ محبوب شاہ کی ترو تازہ آواز اس کے دل کو مزید رلا گئی۔ اس نے دیکھا۔ بلیک جینز اور بلیک شرٹ میں کھڑی ناک‘ ذہانت سے بھرپور آنکھیں‘ گورا لالیاں بکھیرتا رنگ لیے اپنی آن بان شان سے وہ آرہا تھا۔ کومل نے اسے دیکھتی رہی۔ آج سے پہلے کومل نے ایسی تڑپ سے اسے نہیں دیکھا تھا۔ محبوب شاہ نے بھی اس تڑپ کو محسوس کرلیا تھا۔ اس کے لب مسکرائے تھے اور اسے بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کومل یہ بے اعتنائی سہہ نہیں سکی تھی۔ وہ وہیں بیٹھ گئی۔ سلطان شاہ نے بھی ان دونوں کے رویے میں کچھ خاص محسوس کیا تھا۔ تبھی وہ کومل کی جانب چلے آئے۔ دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو جیسے اندر کے سارے دھارے پھوٹ بہے۔ وہ سلطان شاہ کے کندھے پر سر رکھ کر اپنا سارا دکھ انہیں سنا گئی تھی۔
برے کام کا برا نتیجہ سائرہ نے کسی کا برا چاہا لیکن سارا خسارہ اس کے حصے میں آیا تھا۔ اس نے فراز کے پروپوز کرنے پر اس سے خفیہ نکاح کرلیا تھا۔ مگر وہ فراز تھا وفا اس کی فطرت میں نہ تھی۔ پھر فراز سائرہ کی اصلیت کو خوب جانتا تھا۔ اسے اپنا نام دینے سے قاصر تھا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد اسے لندن جانے کا چانس مل گیا مگر جانے سے پہلے اس نے سائرہ کو طلاق دے دی تھی۔ سائرہ جو اپنی دانست میں محبوب سلطان کو شکست دینا چاہتی تھی اب اپنی بکھری ذات کو سمیٹتی رہ گئی۔ وہ سب سے کٹ کر ایک کمرے تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ کوئی بھی اس سے بات تک نہیں کرتا تھا۔ سب کے دلوں میں اس کے لیے نفرت بھر چکی تھی۔ سو وہ گائوں لوٹ آئی۔ افشاں بھی اپنا بویا کاٹ رہی تھیں۔ جس بیٹے کی خاطر اتنا سب کیا وہی اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا گیا۔ اگر وہ کومل کو بہو بنا لیتی تو وہ اس کے پاس تو رہتا لیکن اب وہ ان کے لاکھ رونے پر بھی انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا اور وہ سوائے افسوس کے اور کچھ نہ کرسکتی تھیں۔
سائرہ کی وجہ سے ولیمہ مزید لیٹ ہوگیا تھا۔ لیکن اب مزید تاخیر شاید سلطان شاہ کو منظور نہیں تھی۔ اسی لیے تو فوراً ولیمہ کی تقریب منعقد کروائی۔ گائوں سے پورا خاندان آیا تھا۔ کومل دلہن کے روپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ جب اسے پھولوں سے سجے کمرے میں پہنچایا گیا تو محبوب شاہ کی آمد تک وہ اپنے ربّ کے حضور دعائیں مانگتی رہی تھی۔
’’اے اللہ… سب بہتر کرنا۔‘‘ سلطان شاہ نے محبوب کے سامنے اس کی تمام بدگمانیاں رکھ دی تھیں۔ جنہیں اب خود انہیں دور کرنا تھا۔
رات کے ایک بجے محبوب شاہ کمرے میں آیا تھا۔ اس کے لبوں پر بڑی پیاری مسکراہٹ تھی ہر طرف ملگجا سا اندھیرا تھا۔ سب اپنے کمروں میں محو خواب تھے۔ وہ دھیمے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر آگیا۔ ہولے سے دروازہ کھول کر اس نے پھولوں کی خوشبو دل میں اتاری۔ دوازہ لاک کرکے وہ بیڈ تک آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔
’’السّلام علیکم!‘‘ خوش گوار لہجے میں سلام کیا۔ گھونگھٹ کے دوسری طرف کومل گنگ رہ گئی۔ ’’میں نے آپ پر سلامتی بھیجی ہے۔‘‘ محبوب شاہ کومل کی حالت جانتا تھا۔ تبھی دل ہی دل میں خوب لطف اٹھا رہا تھا۔ کومل نے حیران ہوکر گھونگھٹ اٹھانا چاہا۔
’’ارے… ارے یہ کیا کررہی ہو؟‘‘ محبوب شاہ نے بوکھلانے کی ایکٹنگ کی۔ کومل نے گھبرا کر گھونگٹ چھوڑ دیا۔ محبوب شاہ کھل کر مسکرایا اور ہولے سے گھونگھٹ الٹ دیا۔ وہ انتہائی سج دھج سے تیار انتہائی حسین لگ رہی تھی۔ ’’دلہن نے اپنا گھونگھٹ آپ الٹا ہے؟‘‘ کچھ دیر اس کے ہوشربا حسن میں کھوئے رہنے کے بعد اس نے کہا۔ کومل نہایت شدید ردعمل کی توقع کررہی تھی اور یہ سب واقعی میں ایک معجزہ تھا۔ محبوب سلطان کا سابقہ انداز‘ وہ تو خود کو غاصب سمجھنے لگی تھی۔ اس نے کچھ کہنا چاہا تو محبوب سلطان نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی۔
’’کچھ نہ کہو میں تمہارے دل سے ہر بدگمانی دور کردوں گا۔ سائرہ کا کردار تمہارے سامنے ہے اور اتنا تو تم بھی جانتی ہو کہ محبوب سلطان کا معیار اتنا گھٹیا نہیں ہوسکتا۔ یہ سب سازش تھی‘ تمہیں مجھ سے دور کرنے کی۔‘‘ بدگمانی کے بادل چھٹ گئے تھے۔ اس کی ہر بات پر کومل کا دل ایمان لے آیا تھا۔ بانو شاہ کی شکست… سائرہ کی بربادی محبوب شاہ مسکرایا تھا۔ کومل کی مخروطی انگلی میں ڈائمنڈ کی رنگ ڈال دی۔ ’’میں کسی اور کا ہوں ایسا سوچنا بھی مت…!‘‘ کومل نے اس کے مضبوط کندھے پر مکوں کی بارش کردی تو محبوب شاہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’تمہارا گریز اور بدگمانی مجھے تم سے دور کردیتا اگر تم بابا کو سب کچھ نہ بتا دیتیں یہ محبت ہمیشہ کے لیے ہجر کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ تب میرا کتنا نقصان ہوتا۔ ذرا سوچو…‘‘ ندامت سے کومل کا سر جھک گیا۔ اس نے محبوب سلطان کی محبت سے اعتبار کھویا تھا۔ یہی اس کی خطا تھی۔ مگر اب ساری بدگمانی دور ہوگئی تھی۔
کھڑکی کے باہر چاند بھی مسکرا رہا تھا۔ کومل فریاد آج مکمل ہوگئی تھی۔ اسے اب زندگی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں رہا تھا۔ کیونکہ محبوب سلطان شاہ اور اس کی محبت اس کے ساتھ تھی۔ وہ محبت جو ہجر کا لبادہ اوڑھنے سے پہلے اس کا نصیب بن گئی تھی۔ اس نے مسکرا کر سر جھکا دیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close