Hijaab Mar-17

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر16)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
لالہ رخ بٹو کے رویے کی لاتعلقی کے متعلق جان کر متفکر ہوجاتی ہے ایسے میں دلاور کی اچانک موجودگی مہرو اور لالہ رخ دونوں کو ناگوار گزرتی ہے دلاور لالہ رخ سے بات چیت میں مصروف ہوتا ہے اس دوران اس کی نگاہیں مہرو کا طواف کرتی رہتی ہیں دلاور ایک کرپٹ انسان ہے جو بہت سے کیسز میں مطلوب ہے پولیس کے چھاپوں کے ڈر سے وہ روپوش ہوجاتا ہے اور بٹو کے لیے اس کی غیر موجودگی اطمینان کا سبب بنتی ہے۔ سونیا کی بے تکلفی فراز کو خدشات میں مبتلا کردیتی ہے اسے کامیش کی مصروفیات اور دیگر سرگرمیوں سے قطعاً دلچسپی نہیں ہوتی ایسے میں وہ اپنی دوستوں کے ساتھ ملائشیا جانے کا ارادہ کرتی ہے لیکن کامیش اسے ہرگز اجازت نہیں دیتا، کامیش کے انکار پر وہ سخت برہم ہوتی ہے اور فراز کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہے مگر فراز اس کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے لندن جانے کا ارادہ کرلیتا ہے جب ہی وہ لالہ رخ کو بھی اس بات سے آگاہ کرتے جلد لوٹ آنے کا ذکر کرتا ہے سونیا ماں کے سامنے اپنی شادی کی اصلیت واضح کردیتی ہے کہ اس شادی کا اصل مقصد فراز سے بدلہ لینا ہے ساحرہ یہ سن کر شاکڈ رہ جاتی ہے۔ عنایہ باسل حیات سے دوستی کی خواہاں ہوتی ہے جب ہی وہ اسے سرپرائز دینے کی خاطر اپنے والد باسل کے گھر پہنچ جاتی ہے لیکن باسل کو یہ سرپرائز پسند نہیں آتا اور وہ اس سے کتراتا رہتا ہے باسل کا دوست احمد زرمینہ کو پسند کرنے لگتا ہے لیکن وہ یہ بات ابھی اپنے دوستوں سے بھی شیئر نہیں کرتا لیکن فراز کے ساتھ زرمینہ کو ریسٹورنٹ میں دیکھ کر چونک جاتا ہے۔ فراز اپنے لندن جانے سے قبل زرمینہ اور زرتاشہ کو لنچ کرانے ریسٹورنٹ میں لاتا ہے جب ہی باسل بھی فراز کو ان دو لڑکیوں کے ساتھ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ماریہ کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ولیم کے بعد سرپال بھی اس کے بدلتے رویے پر خائف نظر آتے ہیں جب ہی وہ اس کی جاسوسی کے لیے میک کو منتخب کرتے ہیں جو اس پر کڑی نظر رکھتا ہے اور ولیم کی اس میں ناپسندیدگی دیکھ کر اپنا پروپوزل پیش کرتا ہے جس پر ماریہ شاکڈ رہ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
’’ہائے اللہ یہ ریسٹورنٹ تو بالکل خوابوں جیسا ہے‘ کتنا خوب صورت ڈیکوریٹڈ ہے نا‘ مجھے تو بہت پسند آیا۔‘‘ زرمینہ بے حد خوشی سے بولی تو زرتاشہ نے اسے فہمائشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اُف زری… اب بس بھی کردو‘ ایسا لگ رہا ہے کہ زندگی میں پہلی بار کسی ریسٹورنٹ میں آئی ہو۔‘‘ انتہائی دلفریب اور دلکش سے ماحول میں جہاں مدھم لائٹوں کے علاوہ بہت دھیمی آواز میں سافٹ سا میوزک چل رہا تھا۔ ماحول واقعی بے حد خواب ناک اور طلسم انگیز تھا‘ زرمینہ زرتاشہ کی جانب دیکھ کر مزے سے بولی۔
’’میڈم… آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ میں زندگی میں پہلی بار یہاں آئی ہوں ورنہ ہمارے علاقے میں ایسی جگہ کہیں نہیں ہے۔‘‘ زرمینہ نے زرتاشہ کی بات کا بالکل بھی برا نہیں مانا تھا۔ زرتاشہ نے تھوڑا خفیف سا ہوکر فراز کی جانب دیکھا جو زرمینہ کی خوشی اور جوش دیکھ کر دھیمے انداز میں مسکرا رہا تھا وہ فراز کے سامنے زرمینہ کی اتنی بے قراری دیکھ کر خوامخواہ میں شرمندہ ہوئے جارہی تھی۔
’’فراز بھائی آپ بھی بھلا کیا سوچتے ہوں گے کہ یہ لڑکی کس قدر پینڈو ہے جو یہاں آکر بالکل ہی آپے سے باہر ہورہی ہے۔‘‘ زرتاشہ کنفیوژ سی ہوکر اپنی دونوں انگلیوں کو آپس میں پھنساتے ہوئے شرمندگی سے بولی تو فراز اس پل کھل کر مسکرادیا پھر اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگا۔
’’ارے زرتاشہ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ مجھے تو زرمینہ کی خوشی دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘‘ اسی دوران ویٹر نے آکر مینو کارڈ انہیں لاکر دیا تو تینوں اس کی جانب متوجہ ہوگئے۔
’’سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کل ہمارے اساتذہ کو کیا ہوگیا ہے‘ نمبرز اتنی کنجوسی سے دیتے ہیں جیسے ان کی جیب سے نکل رہے ہوں۔ شکر ہے سر مبین نے مجھے پاسنگ مارکس دے دیئے وگرنہ اپنا ڈبہ تو گول ہوجاتا۔‘‘ عدیل رشین سلاد کے ساتھ فرنچ فرائز پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے مسلسل بولے جارہا تھا کچھ دیر بعد اسے جب احمر اور باسل کی خاموشی کا احساس ہوا تو اس نے قدرے حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا۔ باسل حیات اور احمر یزدانی دونوں سامنے کی جانب نگاہیں مرکوز کیے بالکل چپ چاپ بیٹھے تھے چونکہ عدیل کی ان لوگوں کی جانب پیٹھ تھی لہٰذا وہ ان لوگوں کو دیکھ نہیں سکا تھا۔
’’ہائیں یہ تم دونوں کو کیا ہوگیا ہے اتنے خاموش کیوں ہو؟‘‘ عدیل نے دونوں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا مگر ان دونوں کی پوزیشن میں ذرا بھی فرق نہیں آیا پھر مزید کچھ کہتے کہتے عدیل رکا اور سرعت سے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو زرتاشہ اور زرمینہ پر نگاہ پڑتے ہی اس کے ہونٹ سیٹی کے انداز میں وا ہوئے‘ آنکھوں میں چمک سی اتر آئی۔
’’اوہ تو یہ بات ہے۔‘‘ وہ کھل کر مسکراتے ہوئے خود سے بڑبڑا کر بولا پھر ان لوگوں کی جانب واپس گھوما۔
’’مجھے تو معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ یہاں دو پریاں آئی ہیں۔‘‘ اس بار عدیل کی آواز پر وہ دونوں چونکے تھے۔
’’باسل یار پلیز مجھ سے سیٹ چینج کرلے میں تو محروم رہ جائوں گا۔‘‘ وہ بے پناہ شرارت آمیز لہجے میں بولا تو باسل نے ناسمجھی والے انداز میں اسے دیکھا۔
’’ابے احمر تُو ہی مجھ سے کرسی چینج کرلے۔‘‘
’’شٹ اپ عدیل…‘‘ اس پل احمر یزدانی نجانے کیوں اچھا خاصا جھنجھلا گیا تھا بے اختیار عدیل کو ڈپٹ گیا حقیقت تو یہ تھی کہ اسے زرمینہ کی یہاں موجودگی وہ بھی کسی مرد کے ہمراہ سے بے حد کھٹک رہی تھی جب کہ باسل حیات اندر ہی اندر مخمصے میں مبتلا تھا کہ فراز بھائی کے ساتھ آخر یہ دو لڑکیاں کون تھیں جو اپنے لباس اور انداز سے ان کے سرکل کی لڑکیوں سے بے حد مختلف تھیں اور شاید آج پہلی بار وہ فراز شاہ کو اتنا خوش و مطمئن سا دیکھ رہا تھا وگرنہ جب بھی اس نے فراز کو لڑکیوں کے جھرمٹ میں دیکھا وہ ہمیشہ ان ایزی اور بچا بچا سا نظر آیا۔ باسل حیات سمجھ گیا تھا کہ فراز کی زندگی میں ان دونوں لڑکیوں کی بہت خاص اہمیت ہے۔
’’اونہہ… صحیح کہتا ہے باسل‘ یہ ساری لڑکیاں ہوتی ہی ایسی ہیں۔ شرافت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کو اپنے فریب کے جال میں پھنسانے والی۔‘‘ احمر دل میں بولا۔ نجانے کیوں احمر اس قدر بدگمان ہوچلا تھا حالانکہ زرمینہ سے اس کی صرف دو مرتبہ ملاقات ہوئی تھی وہ تو اس کے نام کے علاوہ اس کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتا تھا۔ زرمینہ اور زرتاشہ دونوں نے اپنی من پسند ڈشز کا آرڈر دے دیا تھا‘ اب وہ تینوں بے حد خوشگوار موڈ میں آپس میں محو کلام تھے۔
’’ایک منٹ گرلز… آپ لوگ بیٹھیں میں ذرا ہاتھ دھو کر آتا ہوں۔‘‘ فراز یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھا تو دونوں نے اثبات میں سر ہلادیا اور ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگیں‘ احمر یہ تمام منظر سلگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ نجانے اس پل اسے کیا ہوا وہ بناء سوچے سمجھے اپنی کرسی سے اٹھا اور دوسرے ہی لمحے زرمینہ کے سر پر جا پہنچا۔
’’اوہ تو بہت انجوائے کیا جارہا ہے۔‘‘ اس دن تو احمر نے جان بوجھ کر زرمینہ کو طیش دلانے کے لیے اس سے جھگڑا کیا تھا تاکہ وہ غصے میں مزید حسین ہوتا اس کا چہرہ دیکھ سکے مگر آج وہ حقیقت میں اس سے جھگڑنے آن پہنچا تھا۔ زرمینہ نے اس آواز پر بے پناہ چونک کر دیکھا تھا‘ احمر یزدانی اس وقت عجیب سی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’آ… آپ یہاں بھی آپہنچے۔‘‘ زرمینہ کافی حیران کن انداز میں بولی پھر دوسرے ہی لمحے بے حد ناگواری سے گویا ہوئی۔
’’دیکھئے مسٹر… میں آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی‘ آپ پلیز یہاں سے جایئے۔‘‘ جب کہ باسل اور عدیل احمر کی اس حرکت کو بے حد اچنبھے اور تحیر کے عالم میں دیکھ رہے تھے۔
’’باسل… یہ احمر کو کیا ہوگیا‘ کافی غصے میں لگ رہا ہے۔‘‘ عدیل کچھ پریشان سا ہوکر بولا اس وقت باسل نے بھی کافی الجھ کر عدیل کو پھر احمر کو دیکھا۔
’’مجھے بھی آپ جیسی لڑکیوں سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر احمر نے پلٹنا ہی چاہا کہ زرمینہ کی بے حد کاٹ دار آواز ابھری۔
’’ایک منٹ مسٹر… یہ آپ کا مجھ جیسی لڑکیوں سے کیا مطلب ہے؟ اور آپ میرے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہیں۔ آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے اس طرح کی بات کرنے والے؟‘‘ زرمینہ تو جیسے غصے میں آپے سے باہر ہوگئی تھی‘ لال بھبھوکا چہرہ لیے وہ اپنی کرسی سے اٹھی تھی‘ باسل معاملے کی نزاکت کو بھانپ کر بے ساختہ کھڑا ہوکر ان کی میز کی جانب بڑھا۔
’’میں آپ کو…‘‘ احمر بھی مشتعل سا ہوکر نجانے آگے کیا بولنے جارہا تھا کہ یک دم باسل نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر سختی سے دبایا تھا جس کی بدولت وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گیا جبکہ زرتاشہ باقاعدہ اپنی جگہ سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔
’’اینی پرابلم احمر… کیا یہ تمہاری کوئی رشتہ دار ہیں۔‘‘ باسل بے پناہ نرمی سے گویا ہوا تو زرمینہ چٹخ کر بولی۔
’’جی نہیں ہماری کوئی جان پہچان نہیں ہے مگر نجانے ان حضرت کو کیا دماغی پرابلم ہے ہمیشہ مجھ سے الجھنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘ زرمینہ کی بات پر باسل نے احمر کو سرزنش بھرے انداز میں دیکھا پھر نرمی سے بولا۔
’’ایم سوری مس میں ان کی جانب سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘ وہ بخوبی جان گیا تھا کہ یہ دونوں لڑکیاں یقینا فراز بھائی کے لیے کوئی خاص ہی ہیں لہٰذا زرمینہ سے وہ معافی مانگ گیا تھا‘ زرمینہ ابھی کچھ کہتی کہ اسی دم فراز وہاں آپہنچا اور باسل کو یہاں دیکھ کر بڑی خوش گوار حیرت سے بولا۔
’’ارے باسل تم… تم بھی یہاں موجود ہو۔‘‘
’’جی فراز بھائی آپ کیسے ہیں؟‘‘ فراز کی بات پر باسل نے مسکرا کر استفسار کیا جبکہ احمر یہ سب دیکھ کر چونک گیا تھا۔
’’آئی ایم فائن مائی ینگر برادر… ارے ان سے ملو یہ ہیں میری سسٹرز زرتاشہ اور زرمینہ… اور زرمینہ یہ میرا چھوٹا بھائی۔‘‘ فراز بڑی خوش دلی سے تعارف کروارہا تھا جب کہ میری سسٹرز کے نام پر احمر کو زور کا جھٹکا لگا تھا۔ اب وہ بے پناہ شرمندگی و ندامت میں گھرا سر جھکائے کھڑا تھا۔ زرتاشہ زرمینہ اور باسل تینوں نے ایک دوسرے سے علیک سلیک کی۔
’’فراز بھائی آپ کو اتنی دیر کیوں ہوگئی تھی؟‘‘ زرتاشہ قدرے پریشان سی ہوکر بولی تھی‘ کیوںکہ ابھی کچھ دیر پہلے جو سین ہوا تھا‘ اس نے زرتاشہ کو اندر ہی اندر بے پناہ خائف کردیا تھا۔
’’اوہ سوری زرتاشہ وہ میرا ایک جاننے والا مل گیا تھا۔‘‘ فراز شرمندگی سے وضاحت دے کر بولا جب کہ اسی پل باسل نے اجازت چاہی۔
’’اوکے فراز بھائی آپ لوگ لنچ انجوائے کیجیے‘ ان شاء اللہ آپ سے پھر ملاقات ہوگی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ احمر کو انتہائی کٹیلے انداز میں دیکھ کر اس کے ساتھ اپنی میز پر آیا اور پیسے نکال کر میز پر رکھ کر دونوں کو باہر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے تیزی سے داخلی دروازے کی جانب بڑھ گیا جب کہ عدیل دونوں کو بے حد الجھے اور ناسمجھی والے انداز میں دیکھتے ہوئے ان دونوں کے پیچھے ہولیا۔
نیلگوں آسمان اس وقت بادلوں سے پوری طرح اٹا ہوا تھا جب کہ فضا میں محو سفر باد صبا بھی خاموش سی تھیں۔ سرو قد درخت بھید بھری سنجیدگی لیے ہاتھ باندھے کسی گہری سوچ میں مستغرق تھے جب کہ اطراف میں لگے رنگ برنگے پھول بڑے باتہذیب بچوں کی طرح اپنی جگہ ایستادہ ماحول کے پیش نظر سر نہواڑے بیٹھے تھے۔ ماریہ اپنے اپارٹمنٹ کے باہر بنے چھوٹے سے باغیچے کی لکڑی کی بنچ پر بیٹھی یہاں ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں تھی۔ اس پل اس کے ذہن کی سوچیں بے حد منتشر ہوکر اسے تھکائے دے رہی تھیں‘ اسے بار بار میک کی باتیں اور بک شاپ میں اس کے ساتھ ہونے والی وہ وحشت ناک ملاقات یاد آرہی تھی۔
’’نیور… میں ہرگز میک سے شادی نہیں کروں گی‘ یہ آفر اس نے مجھے اس لیے دی تاکہ وہ میرے پر کاٹ سکے مجھے پابند سلاسل کرسکے۔‘‘ وہ بے تحاشا مضطرب سی ہوکر خود سے بولی پھر بے ساختہ اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے مسلتے ہوئے اٹھی پھر دوسرے ہی لمحے دوبارہ بیٹھ گئی۔
’’تو… تو کیا پھر میں ولیم سے شادی کرلوں۔‘‘ وہ بڑبڑائی۔
’’ہوں… اس کا تو مطلب یہ ہوگا کہ کھائی سے بچ کر کنویں میں کود جائوں تو… تو پھر میں کیا کروں؟‘‘ وہ اپنے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو اپنے ماتھے سے رگڑتے ہوئے بے حد ڈسٹرب ہوکر بولی۔
’’جو بھی ہو مگر میں اس میک سے تو کبھی شادی نہیں کروں گی۔‘‘
’’تو پھر میں کروں تو کیا کروں؟‘‘
’’اُف کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں‘ ان لوگوں نے مجھے اتنی ہوشیاری سے ٹریپ کیا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں کر پارہی۔‘‘
’’اوہ گاڈ میں کیا کروں۔‘‘ وہ خود ہی سے سوال و جواب کیے جارہی تھی پھر سامنے درختوں پر بیٹھے رنگ برنگے پرندوں کو دیکھ کر وہ حسرت آمیز لہجے میں گویا ہوئی۔
’’مجھ سے اچھے تو یہ آزاد پنچھی ہیں اپنی مرضی کے مالک جدھر دل چاہے اڑ کر جاسکتے ہیں اور میں… مجھے تو یہ لوگ پاتال میں دھکیلنے کے درپے ہیں جہاں صرف وحشت ہی وحشت اور گھٹن ہے۔‘‘ وہ ابھی مزید کچھ اور سوچتی کہ اسی دم سامنے سے سرخ اوور کوٹ اور بلیک مفلر لپیٹے جیسکا اسے آتی دکھائی دی‘ بے ساختہ وہ ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی وہ بڑی خاموشی سے اس کے برابر میں آکر بیٹھ گئی جبکہ ماریہ محض خاموش نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔
’’کیا جیسکا ایسی سچوئشن میں میری کوئی مدد کرسکتی ہے؟ ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے سمجھ سکے مجھے کوئی راستہ بتائے مگر نہیں وہ تو خود…‘‘
’’کیا سوچ رہی ہو ماریہ؟‘‘ اسی پل جیسکا کی آواز اس کے پہلو سے ابھری تو وہ اپنے دھیان سے یک لخت چونکی پھر ایک گہری سانس بھر کر بولی۔
’’کچھ خاص نہیں بس اسٹڈی کے بارے میں کچھ ٹینس ہوں‘ بہت حرج ہوگیا ہے میرا۔‘‘ وہ بات بنا گئی تھی چند ثانیے جیسکا نے اسے خاموش نظروں سے دیکھا پھر ہموار لہجے میں گویا ہوئی۔
’’میرے خیال میں ماریہ شاید تمہیں یہ سال اپنا ڈراپ کرنا پڑے۔‘‘ اس بات پر ماریہ نے اسے بے حد اچنبھے سے دیکھا۔
’’مطلب… میں سمجھی نہیں جیسکا تم کہنا کیا چاہ رہی ہو‘ میں یہ سال کیوں ڈراپ کروں گی؟‘‘
’’اس لیے کہ جیکولین آنٹی…‘‘ وہ پل کی پل تھوڑا ٹھہری پھر تیزی سے بولی۔
’’آنٹی نے تمہاری شادی کی ڈیٹ فکس کردی ہے ولیم کے ساتھ۔‘‘ ماریہ کے وجود کو ایک خفیف سا جھٹکا لگا‘ وہ بے ساختہ جیسکا کو دیکھتی چلی گئی پھر دوسرے لمحے گردن اٹھا کر آسمان کو تکنے لگی اس وقت اس کے لبوں پر بڑی تلخ مسکراہٹ تھی۔
’’تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنا کچھ بھی نہیں بچاسکی‘ کچھ دنوں بعد میں اپنا سب کچھ گنوا دوں گی سب کچھ… ہوں بڑا آسان سمجھا تھا میں نے یہ سب کچھ مگر میں ہار گئی… ہار گئی میں۔‘‘ وہ بڑے استہزائیہ انداز میں دل ہی دل میں بولے گئی جب ہی جیسکا نے اسے مخاطب کیا۔
’’ماریہ‘ تم کچھ بولو گی نہیں۔‘‘ اس پل وہ بھی کافی اپ سیٹ لگ رہی تھی۔
’’ہوں کیا بولوں جیسکا… تم کیا سننا چاہتی ہو میرے منہ سے۔‘‘
’’وہی جو اس وقت تمہارے دل میں ہے ماریہ…‘‘
’’تم نہیں سن پائو گی۔‘‘
’’مگر کیوں ماریہ… میں سنوں گی پلیز تم مجھے بتائو نا۔‘‘ جیسکا مصر ہوئی جب ہی جیسے ماریہ ہوش میں آئی تھی بے ساختہ اس نے جیسکا کو دیکھا جو منتظر نگاہوں سے اسے تک رہی تھی جبکہ ماریہ ہنوز خاموش بیٹھی رہی پھر کافی دیر بعد بے حد دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔
’’کب کی ڈیٹ فکس کی ہے مام نے؟‘‘ جیسکا نے بمشکل ماریہ کی بات سنی تھی پھر سنجیدگی سے پوچھا۔
’’اگلے مہینے کی چوبیس تاریخ۔‘‘ پھر کچھ سوچتے سوچتے اچانک وہ بڑی پرجوش سی ہوکر بولی۔
’’ہم ایک کام کرسکتے ہیں ماریہ…‘‘ جواباً ماریہ نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا تو وہ جلدی سے گویا ہوئی۔
’’کیوں نہ ہم ولیم سے بات کریں کہ وہ خود ہی اس شادی سے منع کردے۔‘‘ ماریہ نے جیسکا کو غائب دماغی کی کیفیت میں دیکھا۔
’’ویسے وہ تم سے بے حد خفا ہے تم نہ اس کا فون اٹینڈ کرتی ہو نہ اس سے ملاقات… بے چارا بہت اپ سیٹ ہورہا تھا۔ تمہارے اس رویے کو لے کر اور کچھ بدگمان بھی۔‘‘ اسی پل ماریہ کا شعور پوری طرح بیدار ہو تو اس نے بے حد پریشان ہوکر جیسکا کو دیکھا۔
’’اگر میں نے ولیم سے شادی نہیں کی یا اگر اس نے خود ہی شادی سے انکار کردیا تو پھر وہ میک مجھ سے شادی کرے گا۔‘‘ وہ حواس باختہ سی ہوکر دل ہی دل میں خود سے بولی پھر فوراً سے پیشتر کہنے لگی۔
’’نہیں جیسکا ہم ولیم سے کچھ نہیں کہیں گے وہ ایک اچھا لڑکا ہے میں اس کا دل نہیں توڑنا چاہتی اور ویسے بھی وہ میرا بہت پیارا فرینڈ ہے۔‘‘ ماریہ کے منہ سے یہ سب سن کر جیسکا نے حیرانی کے ساتھ ساتھ بے حد الجھ کر اسے دیکھا تھا۔
’’یہ سب کیا ہے… تم پاگل تو نہیں ہوگئے تھے احمر… یہ کون سا طریقہ تھا کہ تم پبلک پلیس پر سب کے سامنے اس لڑکی کے سر پر جاکر کھڑے ہوئے اور اسٹوپڈ شکی مردوں کی طرح اسے باتیں سنانے لگے اور جب کہ تم خود بتارہے ہو کہ صرف دو بار تمہاری اس سے ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ باسل جب سے ریسٹورنٹ سے آیا تھا‘ احمر پر بے پناہ برہم ہورہا تھا‘ اسے احمر کی حرکت بے حد بری لگی تھی۔
’’میں تو خود حیران تھا باسل کہ یہ اپنا احمر ہے‘ ارے میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ بھلا اسے اتنا پوزیسو ہونے کی کیا ضرورت تھی وہ تو شکر ہے باسل تو صحیح وقت پر پہنچ گیا ورنہ تو یہ موصوف ہاتھا پائی پر اتر آتے۔‘‘ عدیل بھی خاصی کڑی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے لتاڑنے والے انداز میں بولا جب کہ احمر نادم سا بیٹھا تھا۔
’’مجھے تو زیادہ غصہ اس بات کا ہے کہ وہ میرے کزن کی جاننے والی تھی اگر اس کو میں بروقت نہ روکتا تو فراز بھائی کے سامنے کتنی شرمندگی اٹھانے پڑتی۔‘‘ باسل ہنوز لہجے میں گویا ہوا جب ہی احمر یزدانی خجالت آمیز لہجے میں بولا۔
’’ایم سوری گائز… پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا میں مانتا ہوں کہ مجھ سے یہ سب ٹھیک نہیں ہوا مگر نجانے کیوں اسے کسی اور لڑکے کے ساتھ دیکھ کر میں تو جیسے اپنے اوپر کنٹرول ہی کھو بیٹھا تھا۔‘‘
’’ہوں کہاں تو موصوف کسی لڑکی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ اس کی ایک دو جھلک دیکھ کر ہی یہ مجنوں بن گئے ہیں۔‘‘ عدیل طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’احمر تم جس لڑکی کے لیے اتنا اتائولے ہورہے ہو اس کے بارے میں بھلا جانتے ہی کیا ہو تم؟ سوائے اس کے نام کے۔‘‘
’’ہاں باسل تُو بالکل صحیح بول رہا ہے‘ واقعی میں تو نام کے علاوہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘ احمر اپنے سیدھے ہاتھ سے اپنے بالوں کو مٹھی میں دبوچتے ہوئے کافی مضطرب سا ہوکر بولا پھر کچھ سوچ کر گویا ہوا۔
’’میں مہوش سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ اس بات پر عدیل اور باسل نے بے ساختہ ایک دوسرے کو دیکھا پھر باسل ایک گہری سانس بھر کر احمر کی بے قراری ملاحظہ کرتے ہوئے بولا۔
’’دیکھو احمر تم جو اس لڑکی کے لیے اتنا جذباتی ہورہے ہو نا یہ بالکل ٹھیک نہیں اور پھر تمہیں اس کے بارے میں معلوم بھی کچھ نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ منگنی شدہ ہو یا پھر کسی اور کو پسند کرتی ہو۔‘‘
’’باسل بالکل صحیح کہہ رہا ہے احمر تو نے تو مجنوں رانجھے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘ عدیل نے باسل کی بات پر تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے آخر میں قدرے حیرت سے کہا۔
’’ہوں باسل یو آر رائٹ‘ آخر میں اس کے بارے میں جانتا ہی کتنا ہوں‘ ہوسکتا ہے کہ وہ…‘‘ آخری جملہ احمر خود ہی ادھورا چھوڑ گیا تو اسی دم باسل کے کمرے کا دروازہ بج اٹھا‘ باسل کے یس کہنے پر ملازم لوازمات سے بھری ٹرالی لے کر اندر داخل ہوا تو وہ سب اس جانب متوجہ ہوگئے۔ جبکہ احمر کا ذہن اب بھی الجھا ہوا تھا۔
کامیش آج بہت عرصے بعد اپنے دوستوں سے ملا تھا اپنے کالج کے زمانے کے دوستوں سے خوش گوار یادیں تازہ کرکے اور ان کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کرکے وہ بڑے اچھے موڈ میں گھر میں داخل ہوا تھا جب کہ سونیا ساحرہ کے ہمراہ سیٹنگ روم میں بیٹھی ڈرائی فروٹ سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ وہ مام سے علیک سلیک کرکے وہیں بیٹھ گیا۔
’’کیا بات ہے کامیش آج تو تمہارا موڈ بہت اچھا لگ رہا ہے اور نجانے کتنے دنوں بعد میں تمہیں یونیفارم کے علاوہ کسی اور ڈریس میں دیکھ رہی ہوں۔‘‘ ساحرہ کچھ حیرت و خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولی تو کامیش شاہ دھیرے سے مسکرادیا پھر بڑی دلکشی سے گویا ہوا۔
’’بس مام آج بہت دنوں بعد کچھ فرصت ملی تو اپنے پرانے دوستوں سے ملنے چلا گیا تھا۔‘‘ اسی دم ساحرہ کا موبائل فون بج اٹھا‘ وہ کامیش کی بات کو ان سنی کرکے فون سننے لگی جب ہی کامیش وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا‘ ابھی اسے اپنے روم میں داخل ہوئے چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ سونیا دندناتی ہوئی اس کے سر پر آپہنچی۔
’’اچھا تو اپنے دوستو کے ساتھ تمہیں وقت گزارنے کے لیے فرصت ہے اور میرے ساتھ چند گھڑیاں بیتانا تمہارے لیے ناممکنات میں شمار ہوتا ہے۔‘‘ سونیا اپنا دایاں ہاتھ کمر کی خم پر رکھ کر اتنے عجیب و غریب انداز میں بولی کہ کامیش تو چند ثانیے حیرت و استعجاب میں گھرا اسے دیکھتا رہ گیا۔ یہ وہ سونیا اعظم خان تو ہرگز نہیں تھی جو ہائی کوالیفائیڈ ایم بی اے پاس لڑکی تھی جو ایک ویل ایجوکیٹڈ اور ویل مینرڈ گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔
’’بولو کامیش کوئی جواب ہے تمہارے پاس آخر مجھ سے شادی ہی کیوں کی تھی تم نے جب تمہارے پاس میرے لیے ٹائم ہی نہیں تھا تو۔‘‘ چند ثانیے کامیش بے پناہ ناگواری سے سونیا کے اس انداز کو دیکھتا رہا پھر سخت لہجے میں بولا۔
’’یہ تم مجھ سے کس ٹون میں بات کررہی ہو‘ سونیا اس وقت تم اور ایک جاہل گنوار عورت میں مجھے بالکل بھی فرق محسوس نہیں ہورہا۔‘‘ یہ سن کر تو سونیا کے تلوے پر لگی اور سر پر بجھی تھی۔
’’واٹ ڈو یو مین مسٹر کامیش… تم کہنا کیا چاہتے ہو ہاں؟ تم جانتے نہیں میں اعظم شیرازی خان کی اکلوتی بیٹی ہوں سمجھے۔‘‘ جبکہ دوسری جانب جیسے کامیش کے اندر آتش فشاں پھٹ پڑا تھا۔
’’مجھے اپنے باپ کی دھونس دینے کی آئندہ غلطی بھی مت کرنا اور ہاں اب اگر دوبارہ تم نے مجھ سے اس لہجے اور انداز میں بات کی تو دوسرے ہی لمحے تم اس گھر سے باہر نظر آئوگی‘ سمجھیں۔‘‘ وہ اپنی شہادت کی انگلی اس کی جانب کرتے ہوئے بہت مشتعل انداز میں بولا اور تیزی سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔
’’ہوں مائی فٹ میں تمہاری دھونس میں آنے والی نہیں ہوں۔‘‘ کامیش کے وہاں سے چلے جانے کے بعد وہ بڑبڑائی پھر سر جھٹک کرکمرے سے باہر نکل آئی۔
زرتاشہ اس پل اپنے بستر پر لیٹی مسلسل آج ریسٹورنٹ میں ہونے والے واقع کے متعلق سوچے جارہی تھی‘ حقیقت میں وہ احمر یزدانی کے عجیب و غریب رویے کی بناء پر اچھی خاصی خوف میں مبتلا ہوگئی تھی‘ وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی۔ چھوٹے دل کی مالک بچپن میں بھی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بہت جلد پریشان ہوجاتی تھی تب اس کی بڑی بہن لالہ رخ اس کے آگے ڈھال بن کر کھڑی ہوجاتی تھی اسے اپنی بانہوں میں جیسے چھپالیتی تھی اور پھر اس کا سارا ڈر تمام خوف بھاپ کی مانند اڑجاتا تھا اور وہ یک دم بالکل پرسکون ہوجاتی تھی۔ نیلگوں رنگ کے نائٹ بلب کی ملگجی سی روشنی میں دونوں اپنے اپنے بستروں میں لیٹی سوچوں کے ساغر میں غوطہ زن تھیں جب ہی زرتاشہ کی کچھ سہمی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔
’’زری… مجھے تو اس مہوش کے بھائی سے بہت ڈر لگ رہا ہے‘ نجانے اسے ہو کیا گیا تھا آخر وہ کیوں ہاتھ دھوکے تمہارے پیچھے پڑگیا ہے۔ مجھے وہ لڑکا کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا‘ وہ تو شکر ہے فراز بھائی وقت پر آگئے ورنہ…‘‘ اس پل اس نے ایک جھرجھری لی تھی‘ زرمینہ نے بغور اس کی بات سنی پھر سنجیدگی سے بولی۔
’’تاشو میں خود اس اسٹوپڈ کی اس حرکت سے ڈپریسڈ ہوں‘ نجانے اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔‘‘ زرمینہ کی بات پر زرتاشہ کرنٹ کھاکر اپنے بسترسے اٹھ بیٹھی اور دوسرے ہی لمحے تیزی سے اپنے بستر سے اٹھ کر لائٹ آن کردی۔
’’تمہیں کیا ہوگیا؟‘‘ زرمینہ اپنے کمبل سے منہ نکالتے ہوئے کافی حیرانی سے بولی تو زرتاشہ سرعت سے اس کے قریب آکر بولی۔
’’زری… کیا تمہیں بھی ڈر لگ رہا ہے‘ ہائے اللہ اب کیا ہوگا زری… ایک تو تم بھی نا فراز بھائی نے تمہارا منہ لٹکا دیکھ کر دوبارہ تم سے پوچھا بھی تھا کہ کوئی بات ہے کیا مگر تم ہنس کر ٹال کیوں گئیں ان کو بتادینا تھا نا ہائے اب ہم کیا کریں گے۔ فراز بھائی بھی تو لندن جارہے ہیں۔‘‘ اس وقت زرتاشہ کے چہرے پر خوف و پریشانی کے ساتھ بدحواسی بھی ٹپک رہی تھی۔ زرمینہ نے حقیقی معنوں میں اپنا سر پیٹ لیا۔
’’یا اللہ کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر‘ ارے عقل کی دشمن میں نے یہ نہیں کہا کہ میں خوف زدہ ہوں بلکہ یہ کہہ رہی ہوں کہ ڈپریسڈ ہوں‘ سمجھیں اور اس لنگور شتر مرغ کی چونچ سے خوف زدہ ہوتی ہے میری جوتی۔‘‘ وہ آخر میں دانت پیس کر بولی پھر مزید کہنے لگی۔
’’میں نے فراز بھائی کو صرف اسی لیے نہیں بتایا کہ کہیں وہ میرے متعلق کوئی غلط رائے قائم نہ کرلیں سمجھیں۔‘‘
’’نہیں زری… فراز بھائی ایسے نہیں ہیں وہ ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں۔‘‘ زرتاشہ فوراً سے پیشتر بولی پھر کچھ سوچ کر دوبارہ گویا ہوئی۔
’’ایک بات تو بتائو زری… جب تم یہاں آئی تھیں تو تھوڑا بہت تو تم بھی ڈرتی تھیں نا پھر اچانک تم اتنی بہادر کیسے بن گئیں؟‘‘ زرتاشہ کی بات پر زرمینہ نے ایک گہرا سانس لیا پھر سنجیدگی سے بولی۔
’’تاشو میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ دنیا ڈرنے سہمے والوں کے لیے نہیں ہے اگر تم اس سے خوف زدہ ہوگی تو یہ تمہیں اور ڈرائے گی اور ویسے بھی میں ڈرپوک ہرگز نہیں ہوں بس یہاں شروع شروع میں نئے ماحول نئے شہر کی بدولت کچھ گھبرا گئی تھی‘ اب میڈم کی سمجھ میں آگیا نا۔‘‘ آخر میں زرتاشہ کے سر پر زرمینہ نے چپت رسید کی تھی جس پر وہ بے ساختہ چونکی۔
’’سمجھ میں آگیا جھانسی کی رانی۔‘‘ زرتاشہ اسے چھیڑنے والے انداز میں بولی پھر دوسرے ہی لمحے دونوں ہنس دیں۔
امی کسی غیر مرئی نقطے پر نگاہ جمائے بڑی دیر سے خاموش بیٹھی تھیں لالہ رخ بھی اپنی جگہ ایستادہ سوچوں کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی۔ اس نے امی کو مومن جان سے ہونے والی تمام گفتگو میں سے فقط اتنا بتایا تھا کہ وہ کافی طیش میں آگئے تھے اور یہ کہ انہیں اس کا بولنا خاصا ناگوار گزرا تھا باقی کی باتیں وہ ہدف کرگئی تھی ورنہ یقینا وہ سب کچھ سننے کے بعد پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ افسردہ بھی ہوجاتیں۔ لالہ رخ سوچ سوچ کر تھک گئی تھی کہ آخر پھوپا جان کو اس اقدام سے کیسے باز رکھا جائے اور اگر اس معاملے کی خبر کہیں مہرو کو مل گئی تو وہ یقینا آسمان سر پر اٹھالے گی‘ خاموشی کی دیوی جو پیر پسارے بڑی دیر سے ان دونوں کے درمیان بیٹھی تھی امی کی آواز پر سر پر پیر رکھ کر وہاں سے بھاگی تھی۔
’’سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کریں لالہ… میں مومن کی فطرت کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں وہ کوئی بھی کام بناء اپنی غرض اور لالچ کے کرتا ہی نہیں یقینا گلاب بخش نے اس رشتے کے عوض اسے کوئی بھاری فائدہ پہنچانے کا وعدہ کیا ہوگا تب ہی وہ اتنا بے قرار ہورہا ہے۔‘‘ امی کے لہجے میں اس وقت سوچ کے ساتھ ساتھ پریشانی کے رنگ بھی بخوبی جھلکے تھے۔ لالہ رخ نے کافی چونک کر ان کی بات سنی تھی پھر ایک گہری سانس فضا کے حوالے کرتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ہوں‘ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں امی… میں نے جس طرح پھوپا جان کو اس معاملے میں اتنا بے چین و بے قرار دیکھا تھا ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا ان کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ آج ہی مہرو کا نکاح اللہ نہ کرے وہاں پڑھوا دیں۔‘‘
’’تو پھر بیٹا اب ہم کیا کریں گے بھلا‘ کس طرح اس مومن جان کو اس رشتے سے باز رہنے پر راضی کریں گے۔‘‘ وہ بڑی بے قراری سے بولی تھیں‘ مہرو کا معصوم اور بھولا چہرہ اس پل ان کی نگاہوں میں گھوم گیا تھا یہ سراسر اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے کے مترادف تھا۔
’’افوہ… امی آپ پریشان نہ ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ ہمارے اوپر ڈالا ہے تو اس سے نکلنے کا راستہ بھی وہی بتائے گا‘ آپ کیوں فکر کرتی ہیں امی اللہ کی ذات پر بھروسہ کیجیے ان شاء اللہ اس مصیبت سے ہم ضرور بآسانی نکل آئیں گے۔‘‘ وہ انہیں تسلی دیتے ہوئے بولی تو امی محض اسے دیکھتی رہ گئیں۔
خواب مرتے نہیں
خواب‘ دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مرجائیں گے
خواب مرتے نہیں
خواب تو روشنی ہیں‘ ہوا ہیں‘ ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظلم کی دوزخوں سے بھی نہیں
روشنی اور ہوا اور ہوا کے علم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نور ہیں
خواب سقراط ہیں
خواب‘ منصور ہیں
فراز اپنے آرام دہ بستر میں نیم دراز اپنے پسندیدہ شاعر کی کتاب پڑھنے میں محو تھا جب ہی اس کے سیل فون کی محض بپ بجی تھی اس نے ذرا ترچھی نگاہ کرکے سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون کو دیکھا پھر دوسرے ہی لمحے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا کر اسکرین کی جانب نگاہ ڈالی تو لالہ رخ کا نام جگمگاتا دیکھ کر ایک بے حد دلکش سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کرلیا دوسرے ہی پل وہ فون کان سے لگا کر ’’ہیلو‘‘ بولا تو لالہ رخ نے اپنے شائستہ انداز میں اسے سلام کیا پھر پہلی ہی بات اس نے یہ پوچھی۔
’’میں نے اس وقت آپ کو فون کرکے ڈسٹرب تو نہیں کیا۔‘‘ فراز لالہ رخ کے لہجے میں ہچکچاہٹ کو بخوبی محسوس کرکے دوستانہ انداز میں گویا ہوا۔
’’بالکل نہیں… لالہ رخ… بتایئے سب خیریت ہے؟ اور بٹو کے کیا حال ہیں؟‘‘
’’بٹو‘ اللہ کا شکر ہے بالکل ٹھیک ہے اور…‘‘ پھر وہ بٹو کے متعلق سب کچھ بتاگئی۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہوئی‘ چلئے آپ دونوں کی پریشانی تو ختم ہوئی نا۔‘‘ وہ دھیرے سے ہنستے ہوئے گویا ہوا تو لالہ رخ خاموش ہوگئی پھر دھیرے سے استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’آپ کے لندن جانے کی تیاری مکمل ہوگئی؟‘‘ وہ بات تو اس پل فراز سے کررہی تھی مگر ذہن میں مہرینہ سوار تھی۔
’’جی آل موسٹ۔ اچھا لالہ رخ اب فوراً مجھے وہ بات بتادیجے جو اس وقت آپ کے دماغ میں چل رہی ہے۔‘‘ فراز اس قدر اچانک اور یقین سے بولا کہ یک دم سیل فون لالہ رخ کے ہاتھ سے چھوٹتے ہوئے بچا اس نے بے حد حیران ہوکر اپنا فون کان سے ہٹا کر اسے دیکھا پھر دوبارہ کان سے لگاتے ہوئے وہ اپنے استعجاب کو چھپائے بغیر بولی۔
’’آ… آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے فراز کہیں آپ کے پاس کوئی علم تو نہیں ہے۔‘‘ اس بات پر فراز کا قہقہہ بالکل بے ساختہ تھا وہ لالہ رخ کی بات پر خوب محظوظ ہوا۔
’’ارے بالکل نہیں لالہ رخ‘ میرے پاس کوئی علم نہیں ہے‘ دراصل میں اس پل آپ کی غائب دماغی کو نوٹ کر گیا تھا جب آپ مجھ سے لندن جانے کا پوچھ رہی تھیں اور انسان غائب دماغ تب ہی ہوتا ہے جب اسے کوئی الجھن فکر یا پریشانی لاحق ہوتی ہے۔‘‘ اس پل لالہ رخ فراز کے شارپ مائنڈ ہونے کی دل سے معترف ہوگئی جب ہی مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’تو اس کا مطلب ہے کہ آپ سے بہت سنبھل کر بات کرنا پڑے گی۔‘‘ جواباً وہ محض ہنس دیا پھر کچھ توقف کے بعد لالہ رخ دوبارہ گویا ہوئی۔
’’آپ نے ٹھیک سمجھا فراز… میں واقعی اس وقت بہت الجھی ہوئی ہوں‘ آپ بھی بھلا کیا سوچتے ہوں گے کہ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی پریشانی آپ کے سامنے لے کر بیٹھ جاتی ہوں۔‘‘ آخر میں اس کا لہجہ شرمندگی میں ڈوب گیا۔
’’پلیز یقین کریں لالہ… میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا اور نہ ہی سوچوں گا۔ اچھا اب مجھے وہ بات بتایئے جس نے آپ کو الجھا رکھا ہے۔‘‘ فراز کے نرم خو لہجے اور بے پناہ خوب صورت لفظوں پر اسے کافی ڈھارس ہوئی وہ ہموار لہجے میں بولی۔
’’فراز مہرو میری صرف کزن نہیں بلکہ میری سہیلی میری بہن میری غم گسار سب کچھ ہے‘ وہ بہت سیدھی ہے بہت بھولی اور شفاف لڑکی‘ اپنے شریک سفر کو لے کر اس کے کچھ خواب ہیں‘ بہت معصوم سی آرزوئیں ہیں اس کی مگر اس کے ابا…‘‘ وہ کچھ پل ٹھہری پھر سب کچھ بتاتی چلی گئی۔
’’اب ہماری سمجھ میں بالکل نہیں آرہا کہ ہم اس مصیبت سے بھلا کیسے نکلیں اور مہرو اسے تو کچھ بھی نہیں معلوم فراز… اگر اس بے چاری کو پتا لگا تو اس کے نازک دل کو بہت ٹھیس پہنچے گی کہ اس کے باپ نے…‘‘ اتنا بول کر وہ خود ہی خاموش ہوگئی۔ فراز بہت سنجیدگی سے سب سنتا رہا پھر کچھ توقف کے بعد بڑے نارمل انداز میں بولا۔
’’یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اور میرے پاس ایک زبردست آئیڈیا ہے۔‘‘ لالہ رخ فراز کی بات پر چونک کر استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’وہ کیا؟‘‘ اور پھر جو کچھ فراز شاہ نے اس کے گوش گزار کیا اسے سن کر وہ اپنی جگہ سے دو فٹ اچھل پڑی۔
’’مگ… مگر فراز…‘‘
’’افوہ… اگر مگر کچھ نہیں یہ بیسٹ پلان ہے اور مجھے سو فیصد یقین ہے کہ یہ پورا کام کرے گا بس تم پہلی فرصت میں بٹو کو وہاں دوڑا دو۔‘‘ فراز اتنی سرعت سے آپ سے تم پر آیا کہ لالہ رخ محض دیکھتی رہ گئی پھر کچھ سوچ کر ایک گہری سانس بھر کر بولی۔
’’کیا آپ کو پورا یقین ہے کہ یہ آئیڈیا کام کرے گا؟‘‘
’’آف کورس‘ بالکل کرے گا اچھا اگر ایسا نہ ہوا تو جو چور کی سزا وہ میری… اوکے۔‘‘
’’مگر فراز یہ کچھ بچگانہ سی بات نہیں ہوگی۔‘‘ وہ ابھی بھی متذبذب کا شکار تھی جب ہی فراز اسے سمجھانے والے انداز میں بولا۔
’’دیکھو لالہ رخ گائوں کے لوگ ایسی باتوں پر بہت جلدی یقین کرلیتے ہیں‘ تم دیکھنا اس بات کے بعد سے وہ گلاب بخش اور اس کا بیٹا مہرو سے دو سو کوس دور بھاگیں گے۔‘‘
’’اچھا چلیں ٹھیک ہے‘ میں کل ہی بٹو کو اس مشن پر لگاتی ہوں۔‘‘ لالہ رخ بادل نخواستہ راضی ہوتے ہوئے بولی اور پھر فراز کو اللہ حافظ کہہ کر فون بند کرگئی۔
چائنیز ریسٹورنٹ کے بے حد رومانوی ماحول میں ہال کے کونے کی جانب موجود میز پر اس وقت باسل حیات‘ عنایہ دانش‘ ابراہیم کے ساتھ بیٹھا تھا۔ آج شام عنایہ نے اسے فون کرکے فقط اتنا کہا تھا کہ وہ آٹھ بجے رات مطلوبہ ریسٹورنٹ پر پہنچ جائے۔
’’مگر عنایہ میں…‘‘ باسل نے کچھ کہنا چاہا تب وہ فی الفور اس کی بات کاٹتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بولی۔
’’اگر مگر کچھ نہیں باسل جی… بس ٹھیک آٹھ بجے تم کو یہاں پہنچنا ہے اوکے‘ میں تمہارا انتظار کروں گی۔‘‘ اس کے بعد عنایہ نے باسل کا جواب سنے بناء ہی فون بند کردیا تھا جب کہ باسل ’’ارے… ارے‘‘ کرتا رہ گیا تھا پھر اپنا سیل فون دیکھ کر وہ کافی زچ ہوکر بولا تھا۔
’’اُف یہ لڑکی کتنی ضدی ہے۔‘‘ اب وہ اس کے سامنے تھوڑا شرمندہ سا بیٹھا تھا۔
’’تم مجھے بتا تو دیتیں کہ آج تمہارا برتھ ڈے ہے‘ مجھے تو بہت اکورڈ لگ رہا ہے کہ یوں خالی ہاتھ تمہارے برتھ ڈے ڈنر پر آگیا۔‘‘ عنایہ اس وقت انتہائی اسٹائلش سے بلیک سوٹ میں ملبوس چہرے پر سافٹ سا میک اپ کیے اور لائٹ سی جیولری پہنے کینڈل کی مدھم سی روشنی میں بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ باسل کی بات پر وہ دلکشی سے ہنسی پھر مگن سے انداز میں گویا ہوئی۔
’’اوہ کم آن باسل… اتنا فارمل ہونے کی ضرورت نہیں‘ رہا مجھے گفٹ دینے کا سوال تو میں کون سا کہیں بھاگی جارہی ہوں بعد میں دے دینا۔‘‘ ڈارک بلیو جینز پر آف وائٹ شرٹ پہنے باسل نے اس کے اوپر کیمل رنگ کا کوٹ پہن کر اپنی پرسنلٹی کو بے حد ڈیشنگ اور ہینڈسم بنادیا تھا۔ وہ بے ساختہ مسکرا اٹھا‘ اسی اثناء میں ویٹر نے سوپ سرو کیا تو دونوں کچھ پل کے لیے اس جانب متوجہ ہوگئے۔
’’باسل تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟‘‘ سوپ کا چمچ منہ میں ڈالنے کے بعد عنایہ نے یک دم استفسار کیا تو باسل نے قدرے چونک کر اسے دیکھا جس پر وہ جلدی سے کہہ اٹھی۔
’’پلیز باسل یہ مت کہنا کہ ہاں میں نے محبت کی ہے‘ اپنی مام اور ڈیڈ سے اوکے۔‘‘ وہ اتنی بے ساختہ بولی تھی کہ باسل یک دم قہقہہ لگا کر ہنس پڑا پھر یونہی ہنستے ہوئے بولا۔
’’او گاڈ عنایہ… یو آر ٹو مچ۔‘‘ اس پل عنایہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی‘ باسل خاموش ہوا تو وہ دوبارہ بولی۔
’’ارے بابا مجھے جواب تو دو‘ بتائو نا ایسی کوئی لڑکی تمہاری زندگی میں آئی جسے دیکھ کر تمہیں لگا کہ اس جیسا پوری دنیا میں کوئی نہیں۔‘‘ آخر میں اس کا انداز ڈرامائی ہوگیا تھا باسل نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا۔
’’نہیں یہ سچوئشن تو فی الحال میرے ساتھ نہیں ہوئی‘ کیا تمہارے ساتھ ایسا ہوا؟‘‘ اس پل وہ سوپ بائول کی جانب متوجہ ہوچکا تھا‘ جب ہی عنایہ کی بے حد سنجیدہ سی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’ہاں… تھا میری زندگی میں کوئی ایسا شخص جس کو دیکھ کر مجھے یوں لگتا کہ اگر یہ انسان مجھے نہ ملا تو شاید میں جینا چھوڑ دوں گی۔‘‘ اس پل باسل نے بے پناہ متعجب ہوکر سر اٹھا کر عنایہ کو دیکھا تھا‘ اتنا سنجیدہ عنایہ کو دیکھ کر اسے خفیف سا جھٹکا لگا تھا۔ ہر لمحہ ہنستی مسکراتی شوخیاں کرتی عنایہ کا یہ روپ ناقابل یقین تھا۔
’’اس کا نام دل آویز تھا‘ میرا دل… ہونہہ۔‘‘ آخر میں وہ جیسے خود کا ہی مذاق اڑاتے ہوئے بولی اس لمحے نجانے وہ کس خیال میں گم ہو گئی تھی پھر اچانک حال کی دنیا میں لوٹتے ہوئے وہ تیزی سے خود کو سنبھال کر بولی۔
’’یو نو واٹ باسل یہ محبت وحبت کچھ نہیں ہے محض کتابی باتیں اور لفاظی ہے۔ ایک تخیلاتی دنیا کا کردار ہے محبت‘ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے حقیقی دنیا میں ہے تو صرف غرض مفاد اپنا فائدہ۔‘‘ بولتے بولتے اس پل عنایہ کا لہجہ بے پناہ تلخ و ترش ہوگیا۔ باسل محض خاموشی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
’’باسل دنیا کا ہر رشتہ غرض پر ٹکا ہے‘ دو اور لو کے اصول پر ہم صرف اسی سے ملتے ہیں اسی کے ساتھ اپنا وقت گزارنا چاہتے ہیں جن سے ہمیں کوئی فائدہ مل رہا ہوتا ہے۔‘‘ بظاہر اتنی خوش باش رہنے والی لڑکی اندر سے اتنی شکستہ اور تلخ ہوگی یہ باسل حیات کو بالکل معلوم نہیں تھا اسے بغور دیکھتے ہوئے باسل سہولت سے گویا ہوا۔
’’نہیں عنایہ… اب ایسا بھی نہیں ہے کچھ رشتے اتنے خالص اور شفاف ہوتے ہیں کہ ان کے اندر ذرّہ بھر بھی کھوٹ یا ملاوٹ نہیں ہوتی جنہیں کوئی غرض کوئی مفاد نہیں ہوتا بس وہ سراپا محبت ہوتے ہیں۔ اچھا اب یہ بتائو کہ وہ دل آویز کہاں گیا؟‘‘ بولتے بولتے باسل یک دم موضوع بدلتے ہوئے استفسار کرنے لگا اس وقت عنایہ تھوڑا چونکی پھر بے حد بے پروائی سے اپنی پرانی جون میں واپس آتے ہوئے بولی۔
’’مر گیا۔‘‘
’’کیا…‘‘ باسل اپنی سیٹ سے یوں اچھلا جیسے اس میں کانٹے اُگ آئے ہوں۔
’’ہاں بابا مر گیا… اچھا تم مجھے یہ بتائو کہ گفٹ کیا دوگے؟‘‘ باسل متحیر سا اسے دیکھتا رہ گیا۔
وہ آج جلدی آفس سے گھر آگیا تھا‘ اس پل وہ فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھا ہی تھا کہ یک دم ساحرہ کی آواز اسے اپنے کمرے کے دروازے سے سنائی دی جو اسے مسلسل آوازیں دے رہی تھی اس لمحے اس نے ساحرہ کے لب ولہجے میں واضح گھبراہٹ اور پریشانی محسوس کی تھی۔ فراز بھی کچھ متفکر سا ہوکر دوبارہ دروازے کی جانب آیا‘ جو اب ساحرہ کھول چکی تھی۔
’’اوہ تھینک گاڈ فراز… تم گھر آگئے‘ سونیا کے سر میں اچانک بہت شدید درد اٹھا ہے‘ تم پلیز اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جائو۔‘‘ ساحرہ کی بات پر فراز یک دم رک گیا۔
’’مام کال کرکے ڈاکٹر سہیل حق کو بلوالیتے ہیں نا۔‘‘ اس نے فوراً سے پیشتر اپنے فیملی ڈاکٹر کا نام لیا جو اکثر اوقات ان کے گھر پر چیک اپ کے لیے آتے تھے۔
’’وہ آئوٹ آف کنٹری ہیں‘ سونیا پہلے ہی انہیں فون کرچکی ہے‘ اب تم دیر کیوں کررہے ہو جلدی سے اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جائو نا۔‘‘ ساحرہ تیز تیز بولتے ہوئے آخر میں سرزنش بھرے لہجے میں بولی تو طوعاً و کرہاً فراز کو جانا پڑا۔
’’اوکے مام… میں لے کر جارہا ہوں۔‘‘ وہ ساحرہ کے ہمراہ سونیا کے بیڈ روم میں پہنچا تو سونیا دونوں ہاتھوں سے سر تھامے بیٹھی تھی۔
’’سونیا جانو… ہری اپ یہ فراز آگیا ہے تم فوراً ڈاکٹر کے پاس جائو۔‘‘ ساحرہ اس کے پاس بستر پر بیٹھتے ہوئے فکر مندی سے بولی۔
’’آنٹی میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے۔‘‘ وہ جیسے کرہا رہی تھی فراز بھی کچھ پریشان سا ہوگیا تھا چند قدم آگے بڑھ کر اس کے قریب آیا۔
’’اچھا اب تھوڑی سی ہمت کرو اور میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلو۔‘‘ ساحرہ سونیا کو سہارا دے کر باہر تک لائی‘ سونیا کے گاڑی میں بیٹھتے ہی فراز نے گاڑی اسٹارٹ کی اور پھر کافی تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنے ایریے سے باہر آیا تھا۔ وہ جلد از جلد سونیا کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا تھا‘ ابھی اسے ڈرائیو کیے مشکل سے پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ یک دم گاڑی چلاتے ہوئے اس کی نگاہ فرنٹ سیٹ پر اپنے تئیں درد سے بے حال بیٹھی سونیا پر پڑی تو وہ یک دم جیسے کرنٹ کھا کر اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔ سونیا بے حد مگن سے انداز میں کھڑکی سے باہر دیکھنے میں محو تھی۔
’’سونیا آر یو اوکے؟‘‘ وہ حیران سا فقط اتنا ہی بول سکا تھا جس پر سونیا نے بڑے نارمل انداز میں دیکھ کر اس سے کہا۔
’’ہاں کیوں مجھے کیا ہوا ہے۔‘‘ فراز نے اس وقت بے حد الجھ کر اسے دیکھا اور پھر اگلے ہی پل وہ سب کچھ سمجھ گیا۔ اشتعال و ناگواری کی ایک تیز لہر اس وقت اس کے اندر سے امڈی تھی جس نے اس کے دماغ کو بری طرح جھنجھوڑ دیا تھا اس کا پیر بے اختیار بریک پر جا پڑا‘ گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی جب کہ سونیا نے تیزی سے ڈیش بورڈ پر ہاتھ رکھا اور خود کو ونڈ اسکرین سے ٹکرانے سے بچایا۔
’’او گاڈ فراز… یہ کون سا طریقہ ہے گاڑی روکنے کا۔‘‘
’’سونیا اس گھٹیا حرکت کا مطلب کیا ہے؟‘‘ وہ سونیا کی بات کو یکسر نظر انداز کرکے سلگتے ہوئے لہجے میں بولا تو سونیا بڑے اطمینان اور مزے سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
’’اس حرکت پر تم نے ہی مجھے مجبور کیا ہے فراز… اگر سیدھی شرافت سے تم مجھے آئوٹنگ پر لے آتے تو مجھے سر درد کا بہانہ بنانے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔‘‘
’’کیا بکواس ہے سونیا… آخر تم یہ چیپ حرکتیں کرکے کیا جتانا چاہتی ہو؟‘‘
’’میری چاہت کو چیپ حرکتیں تو مت کہو۔‘‘ سونیا نروٹھے پن سے اسے ترچھی نگاہ سے دیکھتے ہوئے بولی تو فراز بری طرح زچ ہو اٹھا۔
’’اللہ کے واسطے سونیا… پلیز بند کردو یہ سب ڈرامے‘ ان چیزوں سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا الٹا کامیش تم سے بدگمان ہوجائے گا۔‘‘
’’اونہہ کون کس سے بدگمان ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔‘‘ اس پل سونیا کے لہجے میں اتنی کاٹ اور زہریلا پن تھا کہ فراز ناچاہتے ہوئے بھی وحشت زدہ سا ہوگیا پھر یک دم ڈھیلا پڑتے ہوئے نرمی سے گویا ہوا۔
’’دیکھو سونیا… تم میری سب سے اچھی دوست ہو اور اب میرے چھوٹے بھائی کی عزت‘ میری بھابی ہو۔ میں تمہارا دل سے احترام کرتا ہوں اور تمہارے…‘‘
’’آخر تم کب تک مجھے اپنا دوست کہہ کہہ کر میرے دل میرے جذبات سے کھیلتے رہو گے فراز…‘‘ بے حد ٹھنڈے مگر عجیب سے انداز میں وہ اس کی بات درمیان میں سے کاٹ کر گویا ہوئی جس پر فراز نے بے حد متعجب سا ہوکر سونیا کو دیکھا جس کا چہرہ اس پل خطرناک حد تک سنجیدہ تھا وہ چپ کا چپ بیٹھا رہ گیا۔
’’بولو فراز… بتائو آخر کب تک مجھے اپنا بیسٹ فرینڈ کہہ کر میرے ساتھ اپنے وقت کو رنگین بناتے رہو گے؟ میری فیلنگز کو سمجھتے ہوئے بھی انہیں حقیر جان کر ان کا مذاق اڑاتے رہو گے۔‘‘ قدرے توقف کے بعد وہ سانپ کی مانند جیسے پھنکاری تھی۔ فراز تو جیسے اس پل سانس لینا بھی بھول گیا تھا جوں کا توں بیٹھا سونیا کی گوہر افشانیاں بے حد اچنبھے سے سن رہا تھا۔
’’مسٹر فراز شاہ… تم نے میرا استعمال کیا ہے اپنے وقت کو رنگین بناکر اور جب تمہارا مجھ سے دل بھر گیا تو تم نے مجھے چھوڑ دیا مگر فراز شاہ… تم اس بھول میں قطعی مت رہنا کہ میں تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گی جس طرح تم نے میری زندگی میں زہر گھولا ہے اسی طرح میں بھی تمہاری زندگی کو جہنم بنادوں گی۔‘‘ اس پل اس کا تنفس دھونکنی کی مانند تیز تیز چلنے لگا تھا بہت دیر بعد فراز کچھ بولنے کے قابل ہوا۔
’’تم مجھ پر الزام تراشی کررہی ہو سونیا… میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا‘ تمہارے ساتھ یہ سب جھوٹ ہے‘ غلط ہے۔ اللہ کے واسطے سونیا… تم اپنے اس نام نہاد بدلے کی آگ میں کامیش جیسے اچھے انسان کو کھو دینے کی غلطی مت کرنا‘ اگر تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں تمہارا قصوروار ہوں تو دیکھو میں تم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہوں۔‘‘ وہ اسٹرینگ سے ہاتھ ہٹا کر دونوں ہاتھوں کو اس کے سامنے جوڑ کر معافی مانگنے لگا۔
’’میں مانتا ہوں کہ تمہاری فیلنگز کو میں سمجھ گیا تھا مگر صرف تمہاری دل آزاری کے ڈر سے میں نے تمہیں انکار نہیں کیا اور پھر میں تمہاری شدت پسند طبیعت سے بھی واقف تھا۔ بچپن کے بہت سے واقعات میری یادداشت میں محفوظ تھے جب تمہیں اپنی من پسند چیز نہ ملنے پر کس طرح تم نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی اس لیے میں ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ تم مجھ سے مایوس ہوکر کوئی ایسا ویسا قدم اٹھا بیٹھو‘ مگر افسوس کہ آج بھی تم ایسا ہی کررہی ہو۔ کامیش کو خود سے بدظن کرکے اسے دور کرکے تم اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان کرو گی‘ سونیا اگر تم کامیشن کو محبت اور توجہ دو گی تو یقینا وہ بھی تمہاری تمام شکایات دور کردے گا مجھے اس بات کا پورا یقین ہے۔‘‘
’’تم بالکل صحیح کہہ رہے ہو فراز کہ بچپن میں‘ میں خود کو نقصان پہنچایا کرتی تھی جب میری مرضی پوری نہیں ہوتی تھی مگر اب مجھے عقل آگئی ہے۔ میں خود کو نقصان پہنچانے کے بجائے اب دوسروں کو نقصان پہنچائوں گی۔‘‘ وہ سانپ کی طرح بل کھا کر اتنے عجیب انداز میں بولی کہ فراز کے دماغ کی نسیں وائلن کے تار کی طرح کھنچ گئیں۔
’’خیر یہ بتائو اس وقت تم مجھے کہاں لے کر جارہے ہو؟ ہوں ایسا کرتے ہیں ساحل سمندر چلتے ہیں۔‘‘ بے حد سرعت سے اس پل اس نے اپنا رنگ بدلا تھا‘ وہ اتنے مگن سے انداز میں بولی تھی جیسے کچھ دیر پہلے وہ بڑے خوش گوار ماحول میں باتیں کررہے تھے۔ فرازنے چند ثانیے اسے انتہائی سپاٹ انداز میں دیکھا پھر دوسرے ہی لمحے اپنے لبوں کو سختی سے بھینچے گاڑی ریورس کرکے گھر کے راستے کی جانب موڑ دی تھی۔
خون کو منجمد کردینے والی سردی سے بچنے کے لیے وادی کے لوگوں نے جگہ جگہ لکڑیاں اکٹھی کرکے آگ سلگا رکھی تھی۔ سہ پہر کے اس لمحے میں بھی بے حد خنکی اور ٹھنڈ تھی‘ وادی کے نوجوان اپنے دوستوں کے ہمراہ الائوکے اطراف میں گرم چادر اوڑھے سر پر اونی ٹوپی چڑھائے ایک دوسرے سے باتوں میں محو تھے‘ لالہ رخ خود کو اچھی طرح گرم شال میں لپیٹے بٹو کے گھر کی جانب محو سفر تھی‘ جب ہی دور سے وہ اسے آتا دکھائی دیا۔
’’اوہ اللہ کا شکر ہے کہ بٹو آرہا ہے۔‘‘ لالہ رخ خود سے تشکر آمیز لہجے میں بولی پھر وہیں کھڑی ہوکر اس کا انتظار کرنے لگی تھوڑی ہی دیر میں وہ کچھ حیران حیران سا لالہ رخ کے پاس پہنچا تھا اس نے بھی لالہ رخ کو دور سے دیکھ لیا تھا۔
’’ارے لالہ باجی… سب خیر تو ہے نا کیا آپ میرے گھر آرہی تھیں؟‘‘ بٹو استفہامیہ لہجے میں کچھ متعجب سا ہوکر بولا تو لالہ رخ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ہاں بٹو میں تمہارے ہی گھر تم سے ملنے آرہی تھی‘ دراصل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی تھی تم آئو میرے ساتھ۔‘‘ وہ اسے لیے واپس ذیلی سڑک کی جانب مڑتے ہوئے بولی تو بٹو بھی اس کے ساتھ ہولیا۔
’’بٹو… تم چاچا گلاب بخش کو تو جانتے ہو گے نا۔‘‘ یہ قصبہ بہت مختصر سے خطہ میں پھیلا ہوا تھا جہاں آبادی بھی کافی کم تھی لہٰذا تقریباً سب ہی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے۔ لالہ رخ کی بات پر بٹو یک دم پرجوش سا ہوکر کہنے لگا۔
’’ہاں باجی کیوں نہیں‘ میں جانتا ہوں جی وہ اپنا جمیل ہے نا وہ وہیں تو کام کرتا ہے۔‘‘
’’کون جمیل بٹو؟‘‘ لالہ رخ یک لخت اپنی جگہ رک کر بولی جواباً بٹو بھی رک گیا تھا پھر تیزی سے بولا۔
’’باجی وہ جمیل ہے نا میرے چھوٹے بھائی کا دوست ہے اکثر ہمارے گھر بھی آتا ہے وہ وہیں چاچا گلاب بخش کے بنگلے پر کام کرتا ہے۔‘‘ یہ سن کر لالہ رخ یک دم اچھل پڑی۔
’’سچ بٹو… اوہ یہ تو بہت اچھا ہوگیا‘ ہمارا کام اور بھی آسان ہوگیا۔‘‘ لالہ رخ دبے دبے جوش اور مسرت آمیز لہجے میں خود سے بولی تو بٹو نے اسے ناسمجھی والے انداز میں دیکھا پھر کچھ الجھن بھرے لہجے میں استفسار کرتے ہوئے گویا ہوا۔
’’باجی کون سا کام ہمارا آسان ہوگیا؟‘‘ اس دم لالہ رخ نے بٹو کو دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر ہموار لہجے میں بولی۔
’’دراصل بٹو بات یہ ہے کہ مہرو کے ابا مہرو کا بیاہ چاچا گلاب بخش کے بیٹے سے رچانا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ ابھی فقط اتنا ہی بولی تھی کہ بٹو اپنی جگہ سے اچھلتے ہوئے بے پناہ حیرت سے بولا۔
’’وہ اظہر بابو… مگر وہ تو جی بیمار ہے میرا مطلب ہے کہ وہ تو…‘‘ بٹو از خود ہی جملہ ادھورا چھوڑ گیا تو لالہ رخ نے بغور اسے دیکھا پھر نرمی سے بولی۔
’’میں جانتی ہوں بٹو۔‘‘
’’تو پھر مہرو باجی کا بیاہ تو اظہر بابو سے بالکل نہیں ہونا چاہیے وہ تو بے چارا ہر دوسرے مہینے علاج کے لیے شہر جاتا ہے جی۔‘‘ اس وقت بٹو کے لب و لہجے میں مہرینہ کو لے کر بے حد فکر ہی فکر تھی۔ لالہ رخ بے ساختہ ایک سانس بھر کر رہ گئی۔
’’یہی تو مسئلہ ہے بٹو… دراصل مہرو کے ابا زبردستی اس کی شادی چاچا کے نشئی بیٹے سے کرنے پر بضد ہیں۔‘‘ بٹو نے تڑپ کر اسے دیکھا۔
’’مگر یہ تو سراسر ظلم ہے جی‘ نری زیادتی ہے مہرو باجی کے ساتھ۔‘‘
’’میں جانتی ہوں بٹو… بس اسی لیے ہم نے ایک ترکیب سوچی ہے اس رشتے سے جان چھڑانے کے لیے۔‘‘
’’وہ کیا جی…‘‘ بٹو نے متعجب ہوکر استفسار کیا تو لالہ رخ نے قدرے محتاط نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھا پھر تھوڑا بٹو کے پاس آکر بولی۔
’’بٹو بس تم کسی طرح وہ جو لڑکا ہے نا جمیل جو چاچا گلاب بخش کے بنگلے پر کام کرتا ہے اس کے کان میں یہ بات ڈال دو کہ اپنی مہرو پر کسی چیز کا سایہ ہے۔‘‘ بٹو بے ساختہ اپنی جگہ سے اچھلا پھر چند ثانیے لالہ رخ کو کافی الجھی ہوئی نگاہوں سے دیکھتا رہا۔
’’ہاں بٹو تم کہو کہ خدانخواستہ مہرو پر کسی چیز کا اثر ہے پھر چاچا گلاب بخش خود ہی اپنے بیٹے کا رشتہ دینے سے انکار کردیں گے کیوں کہ مہرو کے ابا تو کسی طرح مان ہی نہیں رہے۔‘‘ آخر میں وہ کچھ اضطرابی انداز میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساتے ہوئے بولی تو آہستہ آہستہ بٹو کے حیران اور ہونق چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ دوسرے ہی لمحے وہ چہک کر بولا۔
’’ارے واہ باجی یہ ترکیب تو کمال کی ہے‘ مہرو باجی کی اظہر بابو سے جان چھڑانے کی۔ بس اب آپ فکر ہی نہ کرو جی میں موقع دیکھتے ہی یہ بات جمیل کے کان میں ڈال دوں گا۔‘‘ یہ سن کر لالہ رخ کو یوں محسوس ہوا جیسے پہاڑ اس کے سر سے تھوڑا سرکا ہو پھر ذہن میں ایک خیال در آیا تو وہ تھوڑا پریشان سا ہوکر بولی۔
’’مگر بٹو اس بات کا خاص دھیان رکھنا کہ اس کی ذرا سی بھی بھنک کسی کے کان میں نہ پڑے اور ہاں‘ مہرو کو تو اس سارے معاملے کی بالکل ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔‘‘ لالہ رخ کی بات کو بغور سنتا بٹو آخر میں بڑے مضبوط انداز میں بولا۔
’’باجی آپ بالکل پروا نہ کرو جی میں یہ کام بہت ہوشیاری سے کروں گا اور مہرو باجی کو بھی ان شاء اللہ کچھ بھی پتا نہیں لگے گا۔‘‘
’’شکریہ بٹو… تم نے تو میرا بہت بڑا بوجھ ہلکا کردیا۔‘‘
’’باجی یہ کیا بات کہی آپ نے‘ کیا میں غیر ہوں جو آپ اس طرح میرا شکریہ ادا کررہی ہو اور کیا میرا مہرو باجی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ وہ افسردگی بھرے لہجے میں بولا تو لالہ رخ یک دم مسکرادی پھر خلوص سے گویا ہوئی۔
’’بالکل تعلق ہے تمہارا‘ اچھا آئی ایم سوری اگر تمہارے دل کو ٹھیس لگی۔‘‘ پھر وہ اسے اللہ حافظ کہہ کر اپنے گھر کی جانب چل پڑی۔
فراز انتہائی غصے کے عالم میں گاڑی سے اترا تھا جب کہ سونیا اس کے برعکس بڑے خوشگوار موڈ میں تھوڑا تھوڑا گنگناتے ہوئے ترنگ سے گاڑی سے باہر آئی تھی۔ فراز لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے جونہی گھر میں داخل ہوا بالکل سامنے لائونج میں کامیش کو بیٹھا دیکھ کر اس کے اعصاب کو اس پل خفیف سا جھٹکا لگا تھا وہ بے ساختہ تیزی سے چلتے ہوئے ٹھٹکا تھا جب کہ چند ہی لمحوں میں سونیا بھی اس کے پیچھے پیچھے آدھمکی تھیں اس پل کامیش نے دونوں کو بڑی توجہ سے دیکھا تھا جب کہ فراز شاہ خوامخواہ کافی پزل سا ہوگیا تھا۔
’’ارے کامیش تم… تم اس وقت گھر کیسے آگئے؟‘‘ فراز کی زبان بہت ہی بے تکے انداز میں اس وقت پھسلی تھی پھر دوسرے ہی پل وہ اپنی بات کو سنبھالنے کی غرض سے بولا۔
’’چلو اچھا ہوا تم گھر آگئے اب اپنی بیگم کو سنبھالو ان کی طبیعت کچھ صحیح نہیں ہے‘ مام نے مجھے تو گھر میں داخل ہوتے ہی الٹے قدموں ڈاکٹر کے پاس دوڑا دیا تھا۔‘‘ فراز پس پردہ اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کی کوشش کررہا تھا نجانے کیوں اس پل اسے کامیش شاہ کی نگاہیں بہت سرد اور طنزیہ محسوس ہوئی تھیں جب ہی سونیا بڑے اٹھلائے ہوئے انداز میں کامیش کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کائوچ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’مگر میری طبیعت تو بالکل ٹھیک ہے بلکہ بہت فریش اور خوش۔‘‘
’’اے میرے اللہ یہ عورت جو میری عزت اوقات وقار کو مٹی میں ملانے کے درپے ہے اسے اس کے مذموم مقاصد میں کبھی بھی کامیاب مت ہونے دینا۔‘‘ اس پل فراز کی بے بسی و لاچاری عروج پر جاپہنچی تھی وہ بے ساختہ دل ہی دل میں اپنے رب سے گڑگڑا کر بولا تھا جب ہی کامیش کی سپاٹ سی آواز لائونج میں گونجی۔
’’فراز یار اس وقت چائے کی بہت طلب ہورہی ہے‘ تم پلیز ممتاز سے چائے کا کہہ دو جب تک میں فریش ہوکر آتا ہوں۔‘‘ اس وقت کامیش نے بھی سونیا کو بالکل توجہ نہیں دی تھی۔ فراز نے تھوڑا چونک کر اسے دیکھا پھر بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔
’’اوکے برادر… تم فریش ہوکر آئو پھر ہم دونوں ساتھ میں چائے پیتے ہیں۔‘‘ سونیا جو دونوں بھائیوں کو بغور دیکھ رہی تھی اس پل اندر سے بری طرح جھلس کر رہ گئی۔
وہ اسے ہر جگہ ڈھونڈ چکی تھی مگر وہ اسے کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا‘ ولیم ایک ہفتے کے لیے مانچسٹر اپنے انکل کے پاس گیا ہوا تھا جیسکا کے کہنے کے مطابق آج وہ کالج آیا تھا مگر اب تک وہ اسے دکھائی نہیں دیا تھا۔
’’او گاڈ ولیم… اب میں تمہیں کہاں تلاش کروں۔‘‘ وہ تھکن زدہ لہجے میں خود سے بولی پھر معاً اس کی نگاہ کالج کے مین گیٹ پر پڑی تو ولیم اسے وہیں کسی لڑکے کے ہمراہ کھڑا دکھائی دیا یک دم ماریہ کے قدموں میں جیسے بجلی سی بھرگئی۔ وہ تقریباً بھاگنے والے انداز میں اس تک پہنچی تھی۔
’’اوہ مائی گڈنس ولیم تم مل گئے‘ میں اتنی دیر سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔‘‘ ماریہ پھولی پھولی سانسوں کے درمیان بمشکل بولی تھی جب کہ اسی پل کسی سے گفتگو کرتے ولیم نے اسے کچھ حیرت سے دیکھا تھا پھر تھوڑی بہت بات چیت کرکے اسے رخصت کردیا وہ کافی روڈ انداز میں ماریہ سے مخاطب ہوا۔
’’کیوں… تم مجھے کیوں ڈھونڈ رہی تھیں ماریہ؟‘‘ ماریہ چند لمحوں کے لیے بالکل چپ و ساکت سی کھڑی رہ گئی پھر کچھ دیر بعد ندامت آمیز لہجے میں گویا ہوئی۔
’’ولیم میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے بہت ناراض ہو‘ میں نے تمہیں بہت ہرٹ کیا ہے نا… تمہاری خفگی بالکل جائز ہے۔‘‘ ماریہ انگریزی میں سنجیدگی سے بولی تو اپنے دونوں بازوئوں کو سینے پر باندھ کر ولیم خاموشی سے محض اسے دیکھتا رہا۔
’’یقین مانو ولیم… یہ سب کچھ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تم میرے بارے میں سب کچھ جانتے ہو ولیم… دراصل میں گزشتہ دنوں اپنے ڈیڈ کی وجہ سے کافی ڈپریسڈ رہی۔‘‘ ماریہ بات بنانے کی غرض سے بولی جب ہی ولیم کافی سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’تمہارے ڈیڈ تو بچپن سے ہی ایسے ہی ہیں پھر اب تمہیں کیوں ان کا رویہ تکلیف دینے لگا۔‘‘
’’وہ اس لیے ولیم کے زندگی کے اس موڑ میں مجھے اپنے فادر کی کمی کا احساس ہونے لگا ہے‘ ان کا بے پروا رویہ اب مجھے تکلیف دیتا ہے۔‘‘
’’تو اس سلسلے میں‘ میں کیا کرسکتا ہوں؟‘‘ ولیم اس سے اب تک ناراض تھا جب ہی بڑے روکھے انداز میں بولا تھا جواباً ماریہ نے سر اٹھا کر اسے بغور دیکھا پھر دھیمے سے انداز میں مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ولیم تمہاری ناراضگی کیسے دور ہوگی‘ پلیز مجھے معاف کردو نا؟‘‘ ڈراک برائون مخمل کے اوور کورٹ میں بلیک مفلر پوری طرح اپنے چہرے کے گرد لپیٹے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی ولیم چند ثانیے اسے دیکھتا رہا پھر دوسرے ہی پل کھل کر مسکرا دیا جب کہ ماریہ نے ولیم کو دیکھ کر اطمینان کا سانس بھرا۔
سرمئی شام اس وقت ہلکی سی خنکی لیے طبیعت کو بے حد بھلی لگ رہی تھی۔ آج اتوار ہونے کی وجہ سے زرتاشہ اور زرمینہ ہاسٹل کے خوب صورت سے باغیچے میں بیٹھیں ماحول سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں وہاں کی باتوں میں بھی مصروف تھیں جب ہی مہوش وہاں آدھمکی۔
’’ہیلو گرلز اور کیا ہورہا ہے بھئی؟‘‘ وہ دھپ سے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی تو زرمینہ نے رخ موڑ کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی باتیں کررہے تھے۔‘‘ زرمینہ کے جواب پر مہوش محض سر ہلا گئی پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’مجھے تم دونوں کو ایک نیوز دینی ہے یار۔‘‘ اس پل مہوش کا بجھا بجھا انداز ان دونوں نے بخوبی محسوس کیا تھا جب ہی وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔
’’کیسی نیوز سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ زرمینہ سنجیدگی سے استفسار کرتے ہوئے بولی تو مہوش محض خاموشی سے اپنے ہاتھ سے باغیچے کی گھاس نوچنے لگی پھر کچھ دیر بعد منہ لٹکا کر بولی۔
’’اگلے مہینے میری منگنی ہورہی ہے۔‘‘
’’ارے وائو… یہ تو بہت زبردست نیوز ہے‘ مگر تم کیوں اتنی ڈپریس ہورہی ہو یہ تو بہت اچھی بات ہے مہوش۔‘‘ زرمینہ بے ساختہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولی تو زرتاشہ بھی تائیدی انداز میں گویا ہوئی۔
’’بالکل مہوش… لڑکیاں تو اپنی منگنی‘ شادی کی خبریں ایسے خوشی سے بے حال ہوکر لہک لہک کر اتراتے ہوئے سناتی ہیں اور ایک تم ہو کہ اتنا برامنہ بنایا ہوا ہے۔‘‘ مہوش خاموشی سے سر جھکائے دونوں کی باتیں سنے گئی اس پل وہ رائل بلو اور بلیک رنگ کے کنٹراسٹ کے کاٹن کے اسٹائلش سے سوٹ میں کافی اداس سی لگ رہی تھی۔
’’مہوش اگر تم چاہو تو ہم پر بھروسہ کرسکتی ہو اصل بات کیا ہے تم بلا جھجک بتاسکتی ہو۔‘‘ زرمینہ بغور اسے دیکھتی ہوئی سنجیدگی سے بولی تو اسی دم مہوش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر مایوسی بھرے انداز میں سر نفی میں ہلا کر گویا ہوئی۔
’’کوئی فائدہ نہیں ہے زری… تم لوگوں کو بتاکر خوامخواہ میں اپ سیٹ کیوں کروں۔‘‘
’’چلو اگر ہم تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم تم اپنے دل کی بات کہہ کر اپنا بوجھ تو ہلکا کرسکتی ہو نا۔‘‘ زرتاشہ بڑے خلوص سے اس کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہولے سے دباتے ہوئے بولی تو یک دم مہوش کی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی جیسے اس نے بڑی تیزی سے پلک جھپک کر اپنے اندر اتارا پھر بڑی دھیمی آواز میں بولی۔
’’وہ میرا پھوپی کا بیٹا ہے‘ ہم پچھلے چار سال سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت جیسے طلسمی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں مگر…‘‘ وہ پل بھر کو گہرا سانس لے کر رکی پھر دوبارہ گویا ہوئی۔
’’ہماری فیملی میں ابھی چند ہی ماہ پہلے پراپرٹی کے حوالے سے کچھ جھگڑے ہوگئے ہیں جس کی بناء پر اب میری فیملی مرتضیٰ کے ساتھ میرا رشتہ جوڑنے کو بالکل تیار نہیں‘ ابھی یہ سب کچھ چل رہا تھا کہ نجانے کیوں یہ لنگور اٹلی سے ٹپک پڑا‘ اپنا پرپوزل لے کر اور میرے گھر والوں نے بھی ہاں کردی۔‘‘ آخر میں مہوش کا انداز بے پناہ جلا بھنا ہوگیا تھا۔ زرمینہ اور زرتاشہ بے اختیار مسکرادیں۔
’’اس دن بھائی سے میری اسی لیے اتنی گرما گرم بحث ہورہی تھی۔‘‘
’’ہوں تو یہ بات ہے۔‘‘ زرتاشہ اپنی کنپٹی پر شہادت کی انگلی بجاتے ہوئے بولی جس پر زرمینہ نے اسے غور سے دیکھا پھر طنزاً بولی۔
’’یہ آئن اسٹائن کا لک دینے کے بجائے اس بارے میں سوچو کہ ہم مہوش کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔‘‘
’’ہاں تو تم سوچو نا زرمینہ میڈم… ویسے بھی تمہیں ہی جھانسی کی رانی بننے کا بہت شوق ہے اور اس معاملے میں ہم کیا کرسکتے ہیں؟‘‘ زرتاشہ حقیقت پسندانہ انداز میں صاف گوئی سے بولی تو مہوش نے دونوں کو باری باری دیکھا پھر مایوسی سے بولی۔
’’زرتاشہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے یار… بھلا تم دونوں میرے لیے کیا کرسکتے ہو۔‘‘ زرمینہ سوچ میں پڑگئی پھر تیزی سے گویا ہوئی۔
’’لیکن ایک آدھی چھوٹی موٹی کوشش توکی جاسکتی ہے نا۔‘‘ زرمینہ تو جیسے مہوش کی مدد کرنے کو کمربستہ ہوگئی۔ زرتاشہ نے اسے بے حد اچنبھے سے دیکھا پھر بڑے کٹیلے انداز میں بولی۔
’’اس کا وہ ہٹلر نما چنگیز خان کا پوتا بھائی تم بھول گئیں زری جو بلاوجہ یوں لڑنے لگتا ہے جیسے بھارت پاکستان سے اب اگر تم نے اس معاملے میں اپنی ٹانگ اڑائی تو وہ تمہارا بھرتہ بنادے گا سمجھیں۔‘‘
’’ارے ہٹائو اس چوزے سے تو ڈرتی ہوگی میری جوتی۔‘‘ زرمینہ نے جیسے مکھی اڑائی تھی پھر مزے سے بولی۔
’’تاشو میری جان… ابھی تم نے جانا ہی نہیں کہ یہ زرمینہ چیز کیا ہے۔‘‘ اس پل زرتاشہ نے اسے کافی پریشانی سے دیکھا۔
’’یا اللہ زری پلیز اب کوئی نیا تماشہ مت شروع کردینا یار‘ یہ ان لوگوں کا فیملی میٹر ہے۔ تم کس خوشی میں اس میں کود رہی ہو اور اس کا بھائی… زری وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں۔‘‘ زرتاشہ اور زرمینہ دونوں آپس میں شروع ہوگئی تھیں جب کہ مہوش دونوں کو بڑے فکر مندی سے دیکھ رہی تھی جب اچھی خاصی دیر ہوگئی تو مہوش کو ٹوکنا پڑا۔
’’زرمینہ‘ زرتاشہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے اب کوئی فائدہ نہیں ہے‘ اگلے مہینے میری منگنی ہورہی ہے اور دو مہینے بعد شادی اور پھر میری فیملی بھلا تمہاری بات کیونکر مانے گی اور بھائی… نجانے ان کو تم سے کیا بیر ہوگیا تھا جو تمہارے اوپر چڑھائی کردی تھی۔‘‘ آخر میں وہ کافی الجھ کر ناسمجھنے والے انداز میں بولی۔
’’مگر مہوش لڑنے سے پہلے ہی ہتھیار پھینک دینا بزدلی ہے۔‘‘ زرمینہ مہوش کو بغور دیکھ کر نرمی سے بولی جس پر زرتاشہ اچھی خاصی چڑ گئی جب ہی تنک کر طنزاً بولی۔
’’او بہادر خان کی پوتی اب اندر چلو ورنہ کہیں اس وقت کوئی اور بہادر تم سے ملنے نہ آدھمکے۔‘‘ پھر تینوں وہاں سے اٹھ کر اندر چلی آئیں کیوں کہ شام کے ڈھلنے کے ساتھ ہی چہار سو رات کے تاریک سائے پھیلتے چلے گئے تھے۔
’’مجھے تم سے ایسی امید ہرگز نہیں تھی لالہ… کتنی ذلیل ہو تم اتنے دنوں تک تم نے مجھ سے یہ بات چھپائے رکھی‘ واقعی بہت گھنی ہو لالہ تم۔ اب یہاں سے دفع ہوجائو مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘ مہرینہ بے حد برا مانتے ہوئے اسے کھری کھری سناتے ہوئے آخر میں منہ پھلا کر لالہ رخ کی جانب سے چہرہ موڑ گئی جس پر لالہ رخ نے اس کو کافی بے بسی سے دیکھا۔
’’اُف مہرو… تمہیں تو کچھ بھی سمجھانا مانو ہاتھی کو سائیکل پر بٹھانے سے زیادہ مشکل ہے۔ ارے میری بہنا ایسی بات ہرگز نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو‘ میں نے تم سے چھپایا نہیں تھا بس بتانے میں تھوڑی دیر ہوگئی۔ تم جانتی ہو نا کہ میں اپنے چکروں میں کتنی الجھی رہتی ہوں۔‘‘
’’ہوں‘ بات فراز بھائی سے دوستی تک جاپہنچی اور مجھے کچھ پتا ہی نہیں چل سکا‘ بہت زیادتی کی ہے تم نے لالہ میرے ساتھ۔‘‘ وہ ہنوز لہجے میں بولی تو لالہ رخ نے بے ساختہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرالیا پھر انتہائی زچ ہوکر سر اٹھا کر بولی۔
’’جیسی بات تم سمجھ رہی ہو ویسی ہرگز نہیں ہے یہ وہ والی دوستی نہیں ہے سمجھیں۔‘‘
’’اچھا تو پھر یہ پاک چین والی دوستی ہے نا۔‘‘ مہرو اسے کینہ توز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کمر پر ہاتھ ٹکا کر لڑاکا عورتوں کی طرح طنزاً بولی تو لالہ رخ اسے فہمائشی نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئی پھر کچھ توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’فراز بہت ڈیسنٹ لڑکا ہے مہرو… کھلے اور شفاف دل ودماغ کا مالک اس کے اندر اس طرح کی کوئی خرافات نہیں ہے۔‘‘ مہرو نے بغوراس کی بات سنی پھر معاً کوئی خیال ذہن میں آیا تو وہ تیزی سے اس کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے اشتیاق آمیز لہجے میں بولی۔
’’ویسے لالہ مجھے پہلی ہی نظر میں فراز بھائی بہت اچھے لگے تھے‘ ہائے کاش تمہاری ان سے شادی ہوجائے۔‘‘ مہرو کی بات پر وہ زور سے اچھلی پھر اسے جھڑکنے والے انداز میں بولی۔
’’بکو مت مہرو… تم بھی نا کیا کیا فضولیات سوچنے لگیں۔ اچھا چلو اب کمرے سے باہر نکلو امی کے پاس جاکر بیٹھتے ہیں وہ کب سے اکیلی وہاں بیٹھی ہیں۔‘‘
’’ہاں… ہاں ٹھیک ہے مگر میری ناراضگی ابھی تک برقرار ہے تم یہ ہرگز مت سمجھنا کہ میں نے تمہیں معاف کردیا ہے۔‘‘ مہرو اپنی شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے لالہ رخ سے کڑے انداز میں بولی تو لالہ رخ بے ساختہ ہنس کر بولی۔
’’اچھا… اچھا میری رانی۔‘‘ جواباً مہرو ’’اونہہ‘‘ کہہ کر باہر کی جانب پلٹ گئی جب کہ لالہ رخ کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
اس کا دماغ اس پل لاوے کی مانند پک رہا تھا دل میں بے تحاشا غصہ تاسف کے ساتھ ساتھ دکھ بھی تھا اسے سونیا سے اس قدر گھٹیا پن کی امید نہیں تھی اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے شادی سے منع کرنے پر سونیا اس حد تک جاسکتی ہے وہ اس پل اپنے کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہلتا ہوا مسلسل آج گاڑی میں سونیا کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچے جارہا تھا اور ہر بار اس کے اشتعال میں بھی اضافہ ہورہا تھا۔
’’او گاڈ یہ سونیا میری زندگی کے ساتھ ساتھ کامیش کی بھی زندگی سے کھیل رہی ہے۔‘‘ وہ ایک جگہ رک کر اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے بے حد متفکر سا ہوکر خود سے بولا پھر چند ثانیے کچھ سوچ کر ایک بار پھر خود سے گویا ہوا۔
’’اگر میں پہلے ہی قدم پر سونیا کو روک دیتا تو… کیسے روکتا میں‘ وہ کتنی جذباتی اور جنونی ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیتی۔ مس حیا کے ساتھ اس نے کتنا برا سلوک کیا تھا صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ہنس کر بات چیت کرلیا کرتی تھیں اور یہ محض اس کا بہانہ ہے مجھے قصور وار اور مجرم ٹھہرانے کا… میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں وہ اس وقت بھی کچھ ایسا ہی کرتی جیسا اس وقت کررہی ہے۔ اونہہ اتنی سیدھی اور معصوم نہیں ہے وہ کہ جب ابتدا میں ہی اسے میں روک دیتا تو وہ اچھے بچوں کی طرح خاموش ہوکر بیٹھ جاتی۔‘‘ وہ ایک بار پھر کمرے میں چکر لگانے لگا۔ اس وقت اس کے قدموں کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی تیز رفتاری سے دوڑ رہا تھا۔
’’وہ یقینا آرام سے نہیں بیٹھے گی جب اسے میرے لندن جانے کا پتا چلے گا کچھ نہ کچھ تو وہ ضرور کرے گی‘ مجھے کامیش اور مام ڈیڈ کی نگاہوں سے گرانے کی کوشش کرے گی۔‘‘ پھر وہ یک دم اپنے بستر پر گرا اور چت لیٹا چھت کو تکتے ہوئے خود کلام ہوا۔
’’تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے‘ کیا کچھ ایسا کروں کہ سونیا کو میرے لندن چلے جانے کے بعد ہی پتا چلے۔‘‘ پھر وہ دیر تلک اس بابت سوچتا رہا۔
ابرام آج گھر آیا تو لائونج میں ماریہ کو ولیم کے ہمراہ خوش گپیوں میں مصروف پایا‘ یہ دیکھ کر ابرام کو خوش گوار حیرت کا جھٹکا لگا۔
’’ارے برو آپ بھی آیئے نا پلیز… ہمیں جوائن کیجیے۔‘‘ ماریہ اسے دیکھ کر بولی تو ابرام کے لبوں پر اس پل بے حد دلکش مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔ ولیم بھی اس وقت کافی خوش دکھائی دے رہا تھا۔ ماریہ کی بات پر وہ خفیف سے انداز میں اپنا سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اسی جانب آگیا۔
’’برو ہم پکنک پلان کررہے ہیں‘ آپ اور جیسکا بھی ہمارے ساتھ چلیں گے بس آپ ہمیں یہ بتادیجیے گا کہ کس دن آپ کا آف ہوگا۔‘‘ ماریہ خوش دلی سے بولے جب کہ ولیم اس پل مسکراتی نگاہوں سے ماریہ کو دیکھتا رہا۔
’’آف کورس میں ضرور تمہیں بتادوں گا۔‘‘ ابرام نے بھی بڑی خوشی سے ماریہ کو جواب دیا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی پھر کچھ توقف کے بعد کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھی۔
’’میں سب کے لیے کافی لے کر آتی ہوں۔‘‘ اور اس پل کچن کی جانب آتے ہوئے ماریہ کے چہرے پر کچھ دیر پہلے چھائی شگفتگی سنجیدگی میں ڈھل گئی۔ کیبنٹ سے کافی کا ڈبہ نکال کر کافی پیالی میں ڈال کر اس میں شوگر ملاتے ہوئے اس کا ذہن مختلف سوچوں کی اڑان بھرنے میں محو تھا پھر وہ تین مگ تیار کرکے انہیں ٹرے میں رکھ کر جونہی باہر آئی لائونج کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل فون بج اٹھا‘ پل کی پل اس کی نگاہ اپنے سیل فون کی جانب اٹھی وہ ٹرے ابرام کو پکڑا کر اپنے فون کی جانب آگئی‘ اسکرین اس وقت ان نون نمبر بلینک کررہا تھا۔ ماریہ نے یس کا بٹن دبا کر جونہی اپنے کان سے لگا کر ہیلو کہا‘ میک کی گمبھیر اور پُرسوز آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’ویری گڈ ماریہ ڈئیر… تم اپنے ٹریک پر واپس آرہی ہو۔‘‘ بے ساختہ ماریہ کے جسم میں سنسناہٹ سی پھیل گئی‘ پورا اپارٹمنٹ ہیٹڈ ہونے کے باوجود اس کے وجود میں سردی کی لہر دوڑ گئی اس نے ایک گھٹی گھٹی سانس بھری پھر دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔
’’میں نے تم لوگوں کی بات سمجھ لی ہے میک‘ فکر نہیں کرو میں اپنی پچھلی غلطی کبھی نہیں دہرائوں گی۔‘‘ اس پل اس کے حلق میں کانٹے سے اُگ آئے تھے آج زندگی میں پہلی بار اسے کسی کے آگے بولنے میں بے حد دشواری محسوس ہوئی تھی۔ بار بار وہ تھوک نگل کر اپنے حلق کو تر کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
’’مجھے امید ہے کہ تم یہ سب سچ کہہ رہی ہو ماریہ اور میری دعا بھی یہی ہے کہ خدا نہ کرے یہ جھوٹ اور فریب ہو وگرنہ اگر ایسا ہوا تو جو سلوک اور برتائو تمہارے ساتھ کیا جائے گا اسے دیکھ کر مجھے بھی افسوس ہوگا۔‘‘ بظاہر نرم و شیریں لہجے کے پیچھے سنگین خوف ناک دھمکی سن کر ماریہ کا جیسے جسم کا سارا خون سمٹ کر کنپٹیوں میں آگیا تھا۔
’’میک تم اتنے شکی کیوں ہو‘ میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں یہ کوئی جھوٹ اور فریب نہیں ہے اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو پھر میں کیا کرسکتی ہوں۔‘‘ ماریہ اپنے لہجے کو بے زار اور بے پروا بناتے ہوئے بولی البتہ اندر ہی اندر وہ بے حد خائف ہورہی تھی اس پل دل اتنی زور زور سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر ہی نکل آئے گا۔
’’اینی ویز تم ولیم کے ساتھ انجوائے کرو اور ہاں اپنی شادی میں مجھے ضرور انوائٹ کرنا‘ او کے۔‘‘ یہ کہہ کر میک نے لائن کاٹ دی جب کہ ماریہ سناٹوں میں گھری جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔
/ …/…/
لالہ رخ گھر بھر کی تفصیلی صفائی میں مگن تھی جب ہی بٹو اس کے گھر آن پہنچا۔
’’باجی میں پہلے آپ کے گیسٹ ہائوس گیا تھا پر وہاں جاکر پتا چلا کہ آج آپ نے چھٹی کی ہے۔‘‘ بٹو کو لالہ رخ اپنے ہمراہ بیٹھک میں لے آئی تھی‘ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا تو لالہ رخ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگی۔
’’ہاں بٹو آج میں نے چھٹی کرلی تھی‘ دراصل آج کچھ طبیعت سست سی ہورہی تھی تو سوچا گھر پر کچھ آرام ہی کرلوں۔‘‘
’’مگر باجی آپ تو ابھی بھی کام میں لگی ہوئی ہو۔‘‘ بٹو لالہ رخ کے چہرے پر جگہ جگہ مٹی کے لگے دھبوں کو دیکھ کر ہنس کر بولا تو لالہ رخ بھی ہنس دی پھر سہولت سے بولی۔
’’ارے بٹو اپنے گھر کے کام بھی بھلا کوئی کام ہوتے ہیں کیا‘ اچھا یہ بتائو تمہاری جمیل سے ملاقات ہوئی؟‘‘ وہ قدرے بٹو کی جانب کھسک کر آخر میں بولی تھی جب کہ بٹو بھی بڑے راز دارانہ لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہاں باجی میری اس سے ملاقات بھی ہوئی تھی اور ہمارا کام بھی بن گیا۔‘‘
’’ہائے کیا سچ۔‘‘ لالہ رخ بے ساختہ پرجوش ہوئی پھر بڑی بے صبری سے کہنے لگی۔ ’’تم… تم نے اس سے کیا کہا بٹو… مجھے ساری بات بتائو۔‘‘
’’بس باجی وہ کل شام ہی میرے بھائی منے کے پاس آیا تھا میں نے تو پہلے یہاں وہاں کی باتیں کیں پھر یوہی پچھل پیری اور بھوت وغیرہ کی باتیں کرنے لگا۔‘‘
’’اچھا پھر کیا ہو؟‘‘ انداز میں بے تابی ہی بے تابی تھی‘ بٹو بھی لہک لہک کر بتارہا تھا۔
’’پھر کیا ہونا تھا‘ میں نے جمیل سے باتوں باتوں میں کہا کہ آج کل یہ بھوت پریت کی باتیں بڑی عام ہوگئی ہیں اب تم باجی مہرو کو ہی دیکھ لو… میں اتنا کہہ کر رکا تو وہ اپنی پوری آنکھیں نکال کر مجھے دیکھتے ہوئے بولا۔‘‘
’’کیوں بھئی باجی مہرو کو کیا ہوا؟‘‘
’’میں نے کہا جمیلے میں تجھے ایک بڑی خاص بات بتارہا ہوں مگر تجھے وعدہ کرنا ہوگا کہ اس بات کا ذکر تُو کسی سے نہیں کرے گا… پھر باجی میں نے اس سے کہا کہ باجی مہرو پر بھی کچھ اثر وغیرہ کا چکر ہوگیا ہے بس پھر کیا تھا تو وہ ایسے سہم گیا جیسے سچ میں اس کے سامنے کوئی بھوت آگیا ہو۔‘‘ آخری جملہ بٹو نے ہنستے ہوئے کہا تو لالہ رخ کسی گہری سوچ میں مستغرق ہوگئی کچھ دیر تو بٹو خاموشی سے لالہ رخ کو دیکھتا رہا پھر قدرے توقف کے بعد بولا۔
’’باجی آپ کیا سوچ رہی ہو جی؟‘‘ بٹو کی آواز پر لالہ رخ نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر بولی۔
’’سوچ رہی ہوں بٹو کے ہمارا یہ پلان پتا نہیں کامیاب ہوگا بھی یا نہیں۔‘‘ رسٹ کلر کے لیلن کے سوٹ میں اس کے اوپر کالا سوئٹر پہنے لالہ رخ کچھ متفکر لگ رہی تھی۔
’’باجی… اللہ سے اچھی امید رکھیے مجھے تو پورا یقین ہے کہ یہ ترکیب ضرور کام کرے گی۔‘‘ اس پل بٹو کے لب و لہجے میں بے حد مضبوطی اور اعتماد تھا لالہ رخ محض خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
/ …/…/
اس کی نظریں بظاہر ہال کی دیوار پر لگے پلازمہ پر چلتی مووی پر تھیں مگر اس کا ذہن اس پل کہیں اور تھا سارا بیگم ادھر اُدھر کام کرنے کے دوران سونیا کی غائب دماغی بغور نوٹ کرچکی تھیں۔ صوفے پر اپنی گود میں کشن رکھے بیٹھی سونیا جب بہت دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی تب سارا بیگم اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں جب کہ سونیا اپنے دھیان سے چونک کر انہیں دیکھنے لگی پھر قریب ہی رکھے ریموٹ سے ٹی وی کا والیوم ہلکا کرکے ان کی جانب متوجہ ہوگئی۔
’’کام ختم ہوگئے آپ کے؟‘‘ وہ خوش گوار موڈ میں بولی تو سارا بیگم مسکرانے لگیں پھر بڑی محبت سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگیں۔
’’اگر کام ختم کرلوں گی تو پھر میں بور ہونے لگوں گی‘ اسی لیے میں کوئی نہ کوئی کام کرنے کے لیے خود ہی نکال لیتی ہوں۔‘‘ سارا بیگم کی بات پر سونیا محض سر ہلاگئی پھر کچھ توقف کے بعد سارا بیگم سونیا کو بغور دیکھتے ہوئے نرمی سے گویا ہوئیں۔
’’سونیا بیٹا میں یہ بات مانتی ہوں کہ فراز نے تمہارے ساتھ کسی بھی طور پر اچھا نہیں کیا یقینا اس نے تمہیں ٹھکرا کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے مگر سونیا میری جانو… تم کیوں فراز سے انتقام لینے کے چکر میں اپنی زندگی کو یوں بے چین اور ڈسٹرب کررہی ہو بیٹا۔‘‘ سونیا نے اس پل بہت مشتعل سی ہوکر اپنی ماں کو دیکھا تھا جب ہی سارا بیگم اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولیں۔
’’میری گڑیا میں تمہاری ماں ہوں اور جو کچھ میں اس وقت کہہ رہی ہوں اس میں صرف اور صرف تمہاری بھلائی اور فائدہ ہے۔ فراز کو بھول جائو بیٹا‘ وہ تمہارا ماضی تھا اور کامیش تمہارا حال ہے تمہارا سنہرا مستقبل اس کے ساتھ جڑا ہے روشن تابناک اور خوشیوں سے لبریز تمہارا آنے والا کل۔ ارے کامیش جیسے مکمل انسان کے تو لڑکیاں سپنے دیکھتی ہیں تم اس فراز کی خاطر کامیش کو اپنے ہاتھوں سے نہ گنوائو چندا۔‘‘ اس پل سونیا کا چہرہ سرخی مائل ہوگیا اس نے بمشکل اپنی ماں کی پوری بات سنی تھی۔
’’اونہہ… کتنی آسانی سے آپ مجھ سے کہہ رہی ہیں کہ میں فراز کو بھول جائوں۔ نیو نیور مما… میں یہ بات تو بھول سکتی ہوں کہ اس کو کبھی میں نے چاہا تھا محبت کی تھی اس سے مگر جس رعونت اور غرور سے اس نے میری انا میری نسوانیت پر ٹھوکر لگائی تھی وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی مما‘ کبھی نہیں…‘‘ انتہائی غضب ناک ہوکر وہ بولتے بولتے آخر میں چلا ہی پڑی جب کہ اس پل سارا بیگم نے بے حد متوحش ہوکر اسے دیکھا۔
’’میں اس دن کا صفحہ اپنی زندگی کی کتاب سے بھی نہیں نکال سکتی جس وقت اس نے مجھے آسمان سے دھکا دے کر منہ کے بل پاتال میں دھکیل دیا تھا۔‘‘ سونیا کو بے اختیار وہ دن یاد آگیا جب وہ بڑی خوش و مگن سی ہوکر فراز شاہ کے ساتھ ڈنر پر گئی تھی اسے لگ رہا تھاکہ بس چند ساعت کے بعد اس کے روپیلے سنہرے تمام سپنے اپنی تعبیر تک پہنچنے والے ہیں وہ ایک پرکیف سی کیفیت میں ڈوبی اس پل جیسے خود کو بھی فراموش کرنے چلی تھی مگر یہ کیا‘ فراز نجانے کیا کچھ بولے جارہا تھا یک دم اسے لگا جیسے کوئی قہقہہ لگا کر اس کے اوپر ہنس رہا ہو اس نے بے اختیار ادھر اُدھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا پھر یک دم اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے اندر بے تحاشا ہنس رہا ہے اس کا مذاق اڑا رہا ہے‘ اس کی خوش فہمیاں اس کے خواب اس پل بے ہنگم قہقہے لگاتے ہوئے اپنی آنکھوں میں نمی بھی بڑی بے دردی سے رگڑ رہے تھے۔ جب یہ شور ناقابل برداشت ہوا تو وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی پھر اس کے کمرے کی ایک بھی چیز سلامت نہیں رہی تھی‘ سب اس کی وحشت کی نذر ہوگیا تھا جب کہ سارا بیگم کو اسے سنبھالنا بے حد مشکل ہوگیا تھا۔
’’مما مجھے نفرت ہے فراز سے‘ بے تحاشا بے پناہ۔ میں اس کی زندگی کی ہر خوشی چھین لینا چاہتی ہوں‘ اسے برباد کردینا چاہتی ہوں مما۔‘‘ سونیا اس لمحے اتنی نفرت اور زہریلے لہجے میں بولی کہ سارا بیگم کا دل یک دم وحشت زدہ سا ہوگیا وہ محض بے بس نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئیں۔
چاندنی راتیں ہو… چاندنی راتیں
سب جگ سوئے ہم جاگیں
تاروں سے کریں باتیںہو
چاندنی راتیں ہو… چاندنی راتیں
مہرو بڑے دل سوز انداز میں گانا گا رہی تھی جب کہ پروین شاکر کی کتاب میں سر دیے لالہ رخ نے دوبارہ ڈسٹرب ہوکر اسے سر اٹھا کر دیکھا تھا جب کافی دیر تک مہرو بی بی یونہی گانے کا سر اور ٹانگ توڑتی رہیں تب اس نے بڑی بے زاری سے کتاب بند کرکے مہرو کو تپ کر دیکھا۔
’’اللہ کے واسطے مہرو… اب بس کردو کیوں اس بے چارے گانے کو تختہ دار پر چڑھا رکھا ہے اب جان چھوڑو اس کی اور تمہیں کون سا غم لگ گیا ہے جو تم بھری دوپہر میں یہ چاندنی راتیں والا گانا گارہی ہو؟‘‘
’’لالہ… میرا دکھ کوئی نہیں سمجھتا کوئی نہیں ایسا جو میرے غم کو سمجھے میری دلجوئی کرے۔‘‘ مہرو بیگم شمیم آرا کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے بولی تو لالہ رخ نے اسے کچھ دیر حیرت سے دیکھا پھر ایک گہرا سانس لے کر طنز سے بولی۔
’’اچھا اب کون سی نئی چیز تمہارے سر پر سوار ہوگئی ہے‘ میرے خیال میں وہ خالدہ کا مسئلہ بھی تم نے حل کردیا تھا جسے بیٹھے بٹھائے اس شخص سے محبت ہوگئی تھی جس کو دنیا سے گئے ہوئے بھی عرصہ بیت گیا۔‘‘ مہرو کا کام ہی یہ تھا وادی کی ساری لڑکیوں سے تو کیا عورتوں تک سے اس کی دوستیاں تھیں جو اپنے الٹے سیدھے مسئلے اسی سے حل کرواتی تھیں۔
’’ارے ہاں نا بابا‘ میں نے اسے سمجھادیا تھا اچھی طرح… میں نے اس سے کہا کہ اگر وحید مراد ابھی زندہ بھی ہوتا تو تمہارے تایا کی عمر کا ہوتا اور پھر یہ بھی کہہ دیا کہ مرے ہوئے لوگوں سے محبت کرو گی تو وہ تمہیں اپنی دنیا میں بلالیں گے۔ پھر کیا تھا فوراً کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی اور وحید مراد کی مغفرت کی دعا کرنے کے بعد کہنے لگی۔ آج کل ٹی وی پر بڑے اچھے اچھے ہیروز آرہے ہیں نا۔‘‘ مہرو نجانے کہاں سے کہاں نکل گئی تھی‘ لالہ رخ نے بے ساختہ اپنا سر تھاما پھر انتہائی گھٹ کر بولی۔
’’او اللہ کی بندی‘ مجھے خالدہ کی کتھا نہیں سننی تھی‘ تمہارا کیا مسئلہ ہے یہ بتائو۔‘‘ معاً مہرو کو کچھ یاد آیا تو وہ دوبارہ سرد آہیں بھرنے لگی۔
’’ہائے لالہ… تجھے کیا بتائوں اس کی مونچھیں۔‘‘
’’مونچھیں… کس کی مونچھیں…‘‘ لالہ رخ نے بڑے اچنبھے سے اسے دیکھ کر استفسار کیا۔
’’اتنی کالی اور گھنی جیسے کالی گھٹائیں لالہ میں نے آج سے پہلے اتنی اچھی مونچھیں کسی کی نہیں دیکھیں یار…‘‘ مہرو خیالوں میں ڈوبی ہوئی گم صم انداز میں بولی تو اس پل لالہ رخ کا دل چاہا کہ ہاتھ میں پکڑی کتاب اس کے سر پر دے مارے۔
’’یاوحشت مہرو… اب ان مونچھوں سے آگے بھی بڑھو گی تم۔‘‘
’’آ… ہاں ہاں۔‘‘ وہ جیسے ہڑبڑا کر الرٹ ہوئی اور لالہ رخ کی طرف دیکھنے لگی۔
’’لالہ میں نے ایک بار اس کی تصویر دیکھی پھر دوبارہ دیکھی پھر تیسری بار اور… اور جب شاید پندھویں بار دیکھی تو مجھے لگا کہ مجھے اس مونچھوں والے سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘ آخر میں وہ ندامت سے سر جھکا کر گویا اقرار جرم کرتے ہوئے بولی تو لالہ رخ نے بمشکل اپنے اشتعال پر قابو پایا پھر دوسرے ہی لمحے بڑے ضبط سے استفسار کرتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’اچھا کہاں دیکھی وہ تصویر تم نے؟‘‘ لالہ رخ کی بات پر مہرو نے بڑے جوش سے سر اٹھا کر کہا۔
’’لالہ میگزین میں‘ کل میں رحمت کاکا کی دکان سے میگزین لے کر آئی تھی اس کے اندر اس کی تصویر تھی لالہ… بس کیا بتائوں کل ساری رات میرے خوابوں میں وہی مونچھوں والا آتا رہا اف کتنا ہینڈسم اور ڈیسنٹ ہے وہ شخص‘ پتا ہے خواب میں وہ مجھ سے کیا کہہ رہا تھا ’مہرو پلیز اتنا آئینہ نہ دیکھو ورنہ یہ بے چارا تمہارے حسن سے جل کر ٹوٹ جائے گا پھر مجھے دوسرا لگوانا پڑے گا۔‘‘ مہرو بھاری مردانہ آواز نکالتے ہوئے بولی تھی پھر بڑے ترنگ سے گویا ہوئی۔
’’ہائے لالہ… بس کیا بتائوں اس مونچھ والے نے تو میرے دل کو قید کرلیا۔‘‘ لالہ رخ بڑے صبر سے اس کی باتیں سنتی رہی پھر کافی کلس کر بولی۔
’’کہاں ہے وہ میگزین‘ نجانے کس کی تصویر دیکھ لی جو تم بدحواس ہوئے جارہی ہو۔‘‘
’’میں نہیں لائی میگزین‘ اگر تصویر دیکھ کر تمہیں بھی وہ اچھا لگ جاتا تو پھر دونوں سہیلیوں میں لڑائی ہوجاتی۔‘‘ مہرو اس پل اپنے پراندے میں لگے گھنگھرؤں کو ہولے ہولے بجاتے ہوئے بولی تو لالہ رخ جی سے جان سلگ گئی۔
’’میرے پاس تمہاری طرح فالتو ٹائم اور دماغ ہرگز نہیں ہے جو یہ سب حماقتیں کرتی پھروں سمجھیں۔‘‘ یہ کہہ کر لالہ رخ اپنے کمرے سے نکلی تو مہرو
’’ارے… ارے سنو تو سہی…‘‘ کہہ کر پیچھے دوڑی۔
/ …/…/
سونیا کچھ دنوں کے لیے سارا بیگم کے گھر رہنے آئی تھی جب کہ فراز شاہ کو ایسا لگا کہ قدرت نے اس کی بہت بڑی مدد کی تھی ورنہ اگر وہ سونیا کے سامنے اپنے لندن جانے کا اعلان کرتا تو یقینا وہ بہت خطرناک ری ایکشن دکھا سکتی تھی اس نے دل ہی دل میں اللہ کا بے حد شکر ادا کیا تھا۔
رات کو کھانے سے فارغ ہوکر فراز کامیش کے بیڈ روم میں چلا آیا وہ اس وقت شاید کسی کیس کی فائل دیکھ رہا تھا نجانے کیوں فرازکو محسوس ہوا کہ کامیش کے انداز میں سرد مہری ہے۔
’’اور سنائو تمہارا کام کیسا چل رہا ہے؟‘‘ فراز نے اس سے استفسار کیا تو کامیش ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ایک دم فرسٹ کلاس‘ ان فیکٹ مجھے ایک کیس کے سلسلے میں چار دن کے لیے اندرون سندھ کے ایک پسماندہ گائوں میں جانا ہے۔ بس تم دعا کرو کہ اس مشن میں ہمیں کامیابی مل جائے‘ بڑا سیاسی اثر ورسوخ والا ہے یہ مشن‘ کوئی رکاوٹ نہ آئے۔‘‘
’’اللہ تمہیں ہر مشن میں کامیاب کرے اور جبکہ تم حق اور سچائی کے راستے پر گامزن ہو تو اللہ یقینا تمہاری نصرت فرمائے گا۔‘‘ فراز پرخلوص لہجے میں بولا تو کامیش نے اثبات میں سر ہلادیا۔ فراز کچھ توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’کامیش میں کچھ بزنس ایشوز کی وجہ سے کل رات لندن جارہا ہوں۔‘‘ اس پل کامیش نے تھوڑا چونک کر دیکھا پھر ہموار لہجے میں گویا ہوا۔
’’اچانک جارہے ہو۔‘‘
’’نہیں اتنا اچانک بھی نہیں ہے‘ ڈیڈ تو کافی ٹائم سے کہہ رہے تھے مگر میں ہی کچھ بزی تھا۔ اب جانا ناگزیر ہوگیا ہے تو جارہا ہوں۔‘‘ فراز کی بات پر کامیش نے اثبات میں سر ہلایا تو فراز اسے محبت سے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’اپنا خیال رکھنا کامیش… کام میں اتنے محو نہ ہوجانا کہ خود پر سے دھیان ہٹالو ویسے بھی مجھے تم کچھ کمزور لگ رہے ہو۔‘‘ فراز کی بات پر کامیش ہنس دیا پھر مسکراتی آواز میں گویا ہوا۔
’’یہ تمہاری محبت کی نظر مجھے کمزور دکھا رہی ہے‘ خیر تم بھی اپنا خیال رکھنا اوکے۔‘‘ فراز نے اس کی بات سن کر محبت سے اسے گلے لگالیا۔
/ …/…/
زرتاشہ امی سے فون پر بات کرکے فارغ ہوئی تو زرمینہ کو وہ کچھ الجھی الجھی سی محسوس ہوئی۔
’’سب خیریت تو ہے نا تاشو… امی ٹھیک ہیں؟‘‘ زرمینہ نے ناول پڑھنے کے دوران سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’ہاں اللہ کا شکر ہے کہ سب بخیر و عافیت ہے۔‘‘ وہ ایک گہری سانس بھر کر بولی پھر چلتی ہوئی زرمینہ کے بستر پر ٹک گئی زرمینہ اس کو بغور دیکھے گئی۔
’’تو پھر تم اتنی چپ چپ کیوں ہو‘ کیا گھر یاد آرہا ہے؟‘‘ زرمینہ اپنے پائوں سمیٹ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’نہیں ایسا کوئی خاص تو نہیں‘ اچھا خیر تم بتائو تمہارا ناول کہاں تک پہنچا۔‘‘
’’ارے یار اس ناول کا ہیرو تو بہت ہی کھڑوس ہے‘ بے چاری ہیروئن کو آٹھ آٹھ آنسو رلا رہا ہے۔‘‘ وہ ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے بولی جب ہی زرتاشہ کے منہ سے فوراً پھسلا۔
’’لالہ کو فلو ہوگیا ہے‘ سر میں بھی بہت درد ہورہا تھا۔ امی بتارہی تھیں کہ اس حالت میں بھی وہ آفس چلی گئی‘ ہلکا ہلکا ٹمپریچر بھی ہے اور دیکھ ذرا ادرک اور کالی مرچوں والی چائے بھی نہیں پی اس نے‘ ہمیشہ اسے پینے میں وہ بچوں کی طرح تنگ کرتی ہے۔‘‘ زرمینہ کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ امڈی تھی جب زرتاشہ محو گفتگو تھی تو لالہ کا نام اس کے کان میں پڑا تھا مگر اس نے توجہ نہیں دی تھی مگر اب اسے زرتاشہ کے الجھنے کی وجہ بخوبی سمجھ میں آگئی تھی۔
’’اچھا۔‘‘ وہ اپنے لہجے کو سرسری سا بناکر دوبارہ ناول کھول کر بیٹھ گئی۔ ’’ابھی تو وہ سو رہی تھی جب اٹھے تو فون کرلینا تم اسے۔‘‘ یہ کہہ کر زرتاشہ اس کے بستر سے اٹھی تو زرمینہ بڑی بے پروائی سے بولی۔
’’ٹھیک ہوجائیں گی آپی… فلو اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں ہے اب اس وقت میں کیا فون کروں۔‘‘ زرمینہ کے جواب پر وہ حیران سی ہوکر پلٹی تھی پھر کافی غصے میں اسے دیکھ کر بولی۔
’’اچھا ویسے تو آپی آپی کہتے تمہارا منہ نہیں سوکھتا تھا اب جب کہ وہ بیمار بستر پر پڑی ہے تو تمہیں ایک فون کرنے میں بھی موت آرہی ہے۔‘‘ اس پل زرمینہ اندر ہی اندر قہقہہ لگا کر ہنس رہی تھی مگر چہرے پر سنجیدگی طاری کیے وہ کچھ بے زاری سے بولی۔
’’افوہ تاشو… تم تو خوامخواہ میں جذباتی ہورہی ہو‘ خدانخواستہ آپی بیمار تھوڑی ہے بس تھوڑ بہت نزلہ زکام ہی تو ہوا ہے نا‘ ان شاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ زرتاشہ اس کی بات سن کر کچھ بولتے بولتے یک دم خاموش ہوگئی پھر پلٹ کر واش روم کے اندر گھس گئی جب کہ زرمینہ بے آواز ہنستی چلی گئی۔
وہ رات دیر تک پڑھائی میں مصروف رہی تھی‘ یہی وجہ تھی کہ صبح اس پر سستی اور کاہلی سوار تھی آج اسے کالج جانے کی ہمت نہیں ہوئی تو اس نے چھٹی کرنے کا فیصلہ کیا پھر ابرام اور جیکولین کے ساتھ ناشتا کرکے وہ کچھ دیر مزید آرام کرنے کی غرض سے اپنے بستر پر آگئی۔ ابرام اور جیکولین ناشتے سے فارغ ہوکر دونوں اپنے اپنے کاموں پر جاچکے تھے لہٰذا اس وقت وہ اپنے فلیٹ میں بالکل اکیلی تھی پھر ماریہ کچھ سوچ کر اپنا سیل فون اٹھا کر ولیم کو وائس مسیج کرنے لگی۔
’’سوری ولیم… میں آج کالج نہیں آرہی‘ کل رات دیر تک اسٹڈی کرتی رہی لہٰذا اس وقت مجھے بہت نیند آرہی ہے‘ اوکے ہم شام کو بات کریں گے۔‘‘ ولیم کو میسج بھیج کر وہ سیل فون ایک طرف رکھ کر ابھی بستر پر لیٹنے ہی والی تھی کہ یک دم ڈور بیل بج اٹھی۔ ماریہ بے ساختہ چونک پڑی اس نے یک لخت اپنے کمرے کی دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا جو اس پل صبح کے گیارہ بجنے کا عندیہ دے رہی تھی۔
’’اس وقت بھلا کون ہوسکتا ہے؟‘‘ وہ خود سے الجھ کر بولی پھر اسی وقت اس کا موبائل فون بھی بج اٹھا ماریہ نے سرعت سے اٹھایا تو میک کالنگ اسکرین پر جگمگاتا دیکھ کر وہ ٹھنڈی پڑگئی پھر بڑی دقتوں سے اس نے کال ریسو کی تو میک فوراً بولا۔
’’میں تمہارے دروازے پر کھڑا ہوں‘ ماریہ مجھے معلوم ہے کہ تم اندر ہو دو منٹ میں آکر دروازہ کھولو۔‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے حکمیہ لہجے میں بولا تو ماریہ بھونچکا سی بیٹھی رہ گئی پھر تواتر بجتی بیل پر وہ ہڑبڑا کر کمرے سے بھاگی تھی‘ بڑی سرعت سے اس نے دروازہ کھولا تو دروازے کی جانب پیٹھ کیے میک نے گھوم کر اسے بہت پرتپاک مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا۔
’’میں نے سوچا آج میں تمہارا گھر تو دیکھوں جہاں تم رہتی ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر گھستا ہی چلا گیا جبکہ چند ثانیے ماریہ وہیں دروازے پر الجھی کھڑی رہی پھر جلدی سے ڈور بند کرکے اندر کی طرف آئی جہاں میک اب آرام دہ صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔
’’میک تم اس طرح اچانک کیسے چلے آئے۔‘‘ وہ کچھ متوحش سی ہوکر انتہائی ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’بس تمہارے ہاتھ کی کافی پینے چلا آیا۔‘‘ وہ اس پل یوں ظاہر کررہا تھا‘ جیسے وہ ان کا بہت اچھا فیملی فرینڈ ہو وہ خاموشی سے کچن کی جانب پلٹی اور تھوڑی دیر میں ٹرے میں کافی کا مگ لیے چلی آئی۔
’’تمہارا اپارٹمنٹ تو بہت پیارا ہے۔‘‘ وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے ستائش بھرے انداز میں بولا تو وہ بڑی پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر محض ’’تھینکس‘‘ بول پائی تھی۔
’’دراصل ماریہ ایڈم میں تمہارے روم کی تلاشی لینے آیا ہوں۔‘‘ میک مگ سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے سہولت سے بولا جب کہ اس پل ماریہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close