Hijaab Mar-17

بے حسی اور بے بسی

سلمٰی غزل

پورا محلہ سوگوار تھا ‘ہر آنکھ پرنم تھی‘ مولابخش اور حلیمہ کے دکھ میں سب برابر کے شریک تھے۔ غریبوں کے پاس کچھ ہونہ ہو مگر آپس میں بھائی چارگی اور محبت ضرور ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہرخوشی اور غم سانجھا‘ مگر غریبوں کے لیے شاید سب سے سستی تفریح بچوں کی فوج بنانا ہے‘ ہرگھر میں غریبی ‘ مفلسی اور بیچارگی تھی مگر بچوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ مولا بخش کوجب تین بیٹیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیٹے کی شکل میں اپنی نعمت سے نوازا تو پورے محلے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دونوں میاں بیوی اللہ کاشکر ادا کرتے نہ تھکتے تھے مگر حلیمہ کی ساس اٹھتے بیٹھتے حلیمہ کو سناتی رہتی تھیں۔
’’بہو بیٹے کے لیے بھائی ہونا ضروری ہے لڑکیاں تو اپنے گھر کی ہوجائیں گی‘ اکیلا جنا کیا بھاڑ بھونے گا‘بھائی کاسہارا بھائی بنے گا‘ کندھے سے کندھا ملا کرچلنے والا۔‘‘ حلیمہ جل کر جواب دیتی۔
’’اماں کیا میں لکھوا کر لائی ہوں کہ بیٹا ہی ہوگااگربیٹی ہوگئی تو…؟‘‘
’’اے لو کیوں ایسی منحوس فال منہ سے نکالتی ہو تم ارادہ کرواللہ نے چاہاتوبیٹا ہی ہوگا۔‘‘
’’اماں یہ بھی تو سوچیں کھانے والے ہم اتنے اور کمانے والا صرف اکیلا مولابخش ‘ میں چاہتی ہوں میرا بچہ تعلیم حاصل کرے بچیوں کو تو مولابخش نے پانچ جماعتوں کے بعد اٹھالیا مگر میں اپنے شہزادے کو اعلیٰ تعلیم دلوائوں گی‘‘ حلیمہ نے اپنے اکلوتے بیٹے اختر کو چومتے ہوئے کہا کئی سال گزرگئے پھر اچانک حلیمہ امید سے ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ’’رحمت‘نعمت‘‘ دونوں سے نواز دیا۔ بیٹے کی خوشی میں سب چوتھی بیٹی کادکھ بھول گئے اور حلیمہ دونوں بیٹوں کی تعلیم کے لیے اونچے اونچے خواب دیکھنے لگی۔ اور ان خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے خود اس نے بھی کمر کس لی اور بنگلوں میں کام کرنے لگی مگر پھر بھی پورا نہ پڑتا تھا‘مہنگائی کے عفریت نے ہر گھر میں ڈیراجمالیاتھا‘ کبھی کبھی حلیمہ پریشان ہوتی تو دکھ سے سوچتی۔
’’یااللہ یہ دولتمند لوگ زیادہ کی ہوس میں ہر جائز اور ناجائز کام آنکھ بند کرکے کیے جاتے ہیں کیا انہیں ہم غریبوں کے خالی گھر اور اوندھے چولھے نظر نہیں آتے کیا‘ کیا یہ دولت کے پجاری قیامت تک بوریاں سمیٹنے کے لیے زندہ رہیں گے ؟ اور یہ مال ومتاع قبروں میں ان کے ساتھ ہی جائے گا؟ جس کے لیے یہ گناہ کررہے ہیں‘ وہ توان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی نہیں آئیں گی اور یہ دولت قبر میں ان کو سانپ بچھو کی طرح ڈسے گی۔‘‘ پھر وہ خود ہی اپنے خیالات پرلعنت بھیج کر توبہ کرنے لگتی۔
’’اللہ جی مجھے معاف کردینا مجھے پتہ ہے ہم غریبوں کی یہ آزمائش ہے اور میر اایمان ہے کہ اس جہاں میں ہم عیش کریں گے اور یہ دولت کے پجاری اس دنیا میں اپنے کیے کی سزا بھگتے گے۔‘‘ اختر اب دسویں جماعت میں آگیا تھا اور حلیمہ پھولے نہیں سمارہی تھی۔ وہ اس کے خاندان کا پہلا لڑکاتھا تب وہ حادثہ پیش آگیا جس نے اس گھر کے مکینوں کو سر سے پائوں تک ہلا کررکھ دیا۔
مولابخش کا ہاتھ مشین میں آگیااور وہ ایک ہاتھ سے محروم ہوگیا۔ ایک پیر سے پولیو کی وجہ سے وہ پہلے ہی لنگڑا کر چلتاتھا اب تو کسی کام کانہیں رہاتھا‘حلیمہ اس کی جان بچ جانے پر ہی اللہ کی شکر گزار تھی۔ شروع شروع میں تو پڑوسیوں اور کارخانے کے مالکوں نے کچھ مدد کی مگر کب تک‘ آس پاس بھی سب انہی جیسے لوگ تھے اوراب گھر میں فاقوں کی نوبت آنے لگی تھی۔ مولابخش کومعذوری نے کافی چڑچڑا بنادیاتھا۔ سارا دن گالیاں دیتااور چیختا چلاتا رہتا تھا۔ کارخانے کے مالک نے رحم کھاتے ہوئے باپ کی جگہ بیٹے کو کارخانے میں رکھنے کی پیش کش کردی تھی مگر حلیمہ کسی صورت اختر کو اسکول سے اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ آخر ایک دم مون بخش کو غصہ آگیا۔
’’نیک بخت کب تک تو اپنے لاڈلے کو پڑھائے گی۔ پڑھ لکھ کربھی کوئی افسر نہیں لگنے والاتیرابیٹا آج کل تو پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ ان پڑھ کمالیتے ہیں‘ محنت مزدوری کرکے۔ کسی مشہور ادیب کالکھا میرا دوست سنارہاتھا کہ ’’اس ملک کو جتنا نقصان پڑھے لکھے اور امیر لوگوں نے پہنچایاہے اتناان پڑھ لولوںنے نہیں پہنچایا۔‘‘ کچھ ایسا ہی بتارہاتھا کیونکہ غریب کو محنت مشقت میں شرمندگی محسوس نہیں ہوتی بس چار پیسے عزت سے مل جائیں اور تیرا یہ بیٹا اگر پڑھ گیا تو کسی کام کانہیں رہے گا‘ نوکری بھی آج کل بغیر پیسوںکے نہیں ملتی‘ بکتی ہے اب۔ پھر یہ تین میں رہے گا نہ تیرہ میں۔ میری مان تو اس کو میری جگہ رکھوادے کم از کم دال دلیہ تو چل ہی جائے گا‘کل کوبیٹیوں کی بھی شادی کرنی ہے اور تیری بڈھی ہڈیوں میں بھی کتنا دم خم رہے گا تو اپنے ارمان اختر کے چھوٹے بھائی افسر پرپورے کرلینا۔‘‘
حلیمہ کو بھی حالات نے بے بس کر دیا‘ مجبور ہو کر اس نے اختر کو اسکول سے اٹھالیااور وہ باپ کی جگہ کارخانے میں کام کرنے لگا۔ شروع شروع میں تو اس کواسکول چھوڑنے کابڑاملال تھا مگر آہستہ آہستہ حالات کودیکھتے ہوئے اس نے بھی کام میں دل لگالیا ‘اب تووہ اوورٹائم بھی کرلیتاتھا اس دن وہ کام سے واپس آیا توبہت خوش تھا۔
’’اماں صاحب بتارہے تھے کارخانے کی چوتھی منزل بھی بننا شروع ہونے والی ہے او روہ اب مجھے لکھنے پڑھنے کا کام دے دیں گے اور میری تنخواہ بھی بڑھ جائے گی۔‘‘
’’اماں!‘‘ وہ خوش ہو کر بولا۔ ’’میں نے پرائیویٹ میٹرک کاامتحان دینے کاسوچ لیاہے تو چاہتی تھی ناکہ میں بہت پڑھوں تو اب میں پرائیویٹ ہرسال امتحان دیاکروں گااور ایک دن بڑ اآدمی بن کرتجھے دکھائوں گا تب تجھے میں بٹھا کر کھلائوں گا اور کوئی کام نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ اختر نے پیار سے کہا تو حلیمہ خوشی سے نہال ہوگئی۔
ۃ…ۃ…ۃ
زندگی میں ٹھہرائو آگیاتھا گھر میں اگر خوشحالی نہیں تھی تو فاقے بھی نہیں ہو رہے تھے۔مولابخش نے بھی ایک بڑی دکان پر چوکیداری شروع کردی تھی جہاں اس کا کام نوکروں پرنظر رکھنا اور آنے جانے والوں کی نگرانی کرنا تھااس طرح کچھ رقم بھی ہاتھ آجاتی تھی۔
آج صبح ہی سے حلیمہ بے چین بے چین گھوم رہی تھی اس کا کسی کام میں دل نہیں لگ رہاتھا‘ نہ کام پرجانے کو دل کررہاتھا‘عجیب سی بیقراری نے اس کااحاطہ کیاہواتھا۔ ہاتھ پائوں سن اوردل بیقرار ہورہاتھا‘ وہ اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی اختر کام پہ اور افسر اسکول جاچکاتھا تب ہی پڑوس کاحمزہ بھاگتا ہوا آیا۔
’’خالہ خالہ ابھی ابھی ٹی وی میں بتایا ہے کہ وہ کارخانہ جس کی چوتھی منزل بن رہی تھی جہاں ہمارا اختر کام کرتا ہے گرگئی ہے خالہ اختر کہاں ہے ؟‘‘ حلیمہ کی چیخوں سے پورا محلہ گونج اٹھا۔ پورا محلہ اس بلڈنگ کے پاس اکٹھا ہوگیا جس کو پولیس اور فوج کے جوانوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اور کسی کو آگے نہیں جانے دے رہے تھے۔ لوگوں کی چیخوں اور آہ وزاری سے کلیجہ منہ کو آرہاتھا‘ آسمان کاسینہ شق ہورہاتھا‘کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہو کتنوں کے پیارے ملبے تلے دبے تھے زندہ یامردہ ان کی آہ وبکا سے کلیجہ منہ کو آرہاتھا۔ کرین کی مدد سے ملبے کے نیچے سے جب کوئی ذی روح باہرآتاتو لوگوں کی چیخیں نکل جاتیں۔
زندہ دیکھ کرخوشی سے اور مردہ دیکھ کر غم میں۔ حلیمہ نے چیخ چیخ کر اپنا گلا بٹھالیاتھارورو کے اب تو اس کے آنسوبھی خشک ہوگئے تھے وہ دونوں ہاتھوں سے زمین کھرچ رہی تھی ‘ ملبہ ہٹانے کی کوشش میں اس کی انگلیاں زخمی ہوگئی تھیں مگر اس کو تکلیف کااحساس نہیں تھا تب ہی ان کاپڑوسی رسول بخش بھاگتا ہوا آیا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائل حلیمہ کی طرف بڑھایا۔
’’حلیمہ بہن اختر۔‘‘ حلیمہ نے بیقراری سے موبائل کان سے لگالیا جس سے اختر کی بڑی کمزور سی آواز آرہی تھی۔
’’اماں میں مرجائوں گا خدا کے لیے مجھے بچالومیرا دم گھٹ رہا ہے مجھے ڈربھی لگ رہا ہے ‘اماں میں بہت تکلیف میں ہوں‘ مجھے پیاس لگی ہے‘ میرا دم نکل رہا ہے‘ اماں تمہیں اللہ کاواسطہ ‘ مجھے یہاں سے کسی طرح نکالو میں مرجاؤں گا۔‘‘
حلیمہ بیقراری سی اس کوپکارتی رہی مگر آواز آنی بند ہوگئی‘ یاتو بیٹری ڈائون ہوگئی تھی یاپھر اختر کی ہمت‘حلیمہ چیخ چیخ کر رونے لگی اور فوجی جوانون کے آگے گڑگڑاتے ہوئے بولی۔
’’صاحب میرا بیٹا بہت تکلیف میں ہے وہ زندہ ہے ابھی اس نے مجھ سے موبائل پر بات کی ہے‘اس کو کسی طرح نکالو صاحب‘ آپ کواللہ رسول کاواسطہ۔‘‘ اس کی گریہ وزار ی سے سب متاثر ہوئے مگربے بس اور مجبور تھے۔ ٹنوں کے حساب سے ملبے کوہٹانا وہ بھی ناکافی سامان کے ساتھ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا دوسرادن ہوگیااندر سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی شاید موبائل کی بیٹری ڈائون ہوگئی تھی جن جن کے پیارے اندرتھے سب ساری رات ملبے کے باہربیٹھے دعائیں کرتے رہے‘ اور فوجی جوان پوری رات کرین کی مدد سے لوگوں کی جانیں بچانے کی کوشش کرتے رہے کئی جوان اور بوڑھے زخمی حالت میں زندہ نکل آئے لیکن ان میں اختر نہیں تھا مگر ایک آس اور امید نے حلیمہ کے دل کوجکڑاہواتھا دودن سے پانی کے سواایک لقمہ بھی اس کے منہ میں نہیں گیا تھا اور پھر ایک لاش نکل آئی جواختر کی تھی‘ موبائل اس کے ہاتھ میں دباتھا اذیت اس کے چہرے پررقم تھی‘ آنکھوں میں زندگی کی رمق نہیں تھی ‘لیکن جینے کی آس اور امید ضرور تھی۔ حلیمہ چیخ مار کربے ہوش ہوگئی دو دن بعد ہوش آیا اختر منوں مٹی تلے چین کی نیند سوچکاتھااور کسی فلاحی ادارے کی طرف سے کھانے کاانتظام کیاگیاتھا‘ لوگ بریانی اور زردے کے مزے لوٹ رہے تھے بقول اکبرالہ آبادی؎
بتائو مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلائو کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا!
حکومت کی طرف سے مرنے والوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ دینے کااعلان کیا گیا حسب روایت‘ یعنی ایک زندگی کی قیمت پانچ لاکھ ایک پورے خاندان کی تباہی وبربادی کی قیمت پانچ لاکھ۔ حالات نے حلیمہ کو چپکی لگادی تھی وہ جاہل ضرور تھی مگر باشعور بھی تھی وہ سوچتی ۔’’کیاحکومت کاکام مرنے کے بعد زخموں پرنمک چھڑکنا رہ جاتا ہے؟ اگر ان کے مریں تب بھی یہی کریں گے؟ کیااس ملک میں کوئی قانون‘ کوئی اصول کوئی قاعدہ نہیں‘ کوئی پوچھنے والا روکنے ٹوکنے والا نہیں‘ جس کا جب دل چاہے دو تین منزلیں بنالے بغیر اجازت بغیر یہ جانے کہ اس میں کتنی جانوں کا رسک ہے یہ بلڈنگ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل ہے بھی کہ نہیں‘ حکومت کے کسی کارندے نے آکر معائنہ نہیں کیا‘ کسی انجینئر نے اس کی ساخت کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی ‘ کسی متعلقہ شعبے نے تحقیقات نہیں کی اور لوگوں کے گھر اجڑ گئے ‘ کارخانہ بند ہوگیا‘ پانچ لاکھ کا اعلان ہوگیا کیااس دکھ کامداوا کرسکتے ہیں یہ پیسے ‘ایک گھر کاچراغ گل نہیں ہوا بلکہ پورا خاندان جیتے جی مرگیا‘ خواہشات نے دم توڑدیا‘سنہرے خواب بکھرگئے ماں کے مستقبل کے اجالوں کوموت کی تاریکیوں نے نگل لیا کیا حکومت میرے خوابوں کی تعبیر لاسکتی ہے ؟
سب کو صبر آگیاتھا لیکن حلیمہ تو جیسے جیتے جی مرگئی تھی۔ سارا دن خلائوں میں گھورتی رہتی‘ کسی نے کھلادیاتو کھالیاورنہ اس کی توبھوک پیاس جیسے ختم ہوگئی تھی‘ گھر کے حالات دگرگوں تھے‘ حکومتی کارندوں نے ابتدا میں تو خیال رکھا پھر یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ پانچ لاکھ کااعلان‘ اعلان کی حد تک ہی تھا۔ رات گئی بات گئی۔ حلیمہ کام پر نہیں جارہی تھی اور مولابخش کی آمدنی آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ ہر طرف کسمپرسی ‘بے بسی اور ہوکاعالم تھا‘ اب تو گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں رہاتھا۔ حلیمہ بے دلی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب اپنے جڑواں بچوں کی آوازیں سن کر رک گئی۔
’’افسرتو کب اختربھائی جتنابڑاہوگا۔‘‘ بہن نے پوچھا۔
’’تجھے بہت میرے بڑے ہونے کی فکرپڑی ہے ‘ بڑا بھی ہوہی جائوں گا۔‘‘افسر نے منہ بنا کرجواب دیا۔
’’بڑاہوگا تب ہی تو اختر بھائی کی طرح کام پرجائے گا۔‘‘ صالحہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’اختربھائی تو اللہ کے گھر چلے گئے۔‘‘ افسر افسردگی سے بولا۔’’ہاں تو یہی تو میں کہہ رہی ہوں تو بھی جلدی سے بڑا ہو کر اللہ کے گھر چلاجانا تاکہ ہمیں کچھ تو کھانے کو اچھا مل جائے‘ تجھے یاد نہیں اختر بھائی کے مرنے کے بعد کتنے دن تک ہم قورمہ‘ بریانی اورحلوے کھاتے رہے۔ اب تو کھانے کو بھی کچھ نہیں ہے۔ اب تو بھوک برداشت نہیں ہوتی‘ پتہ نہیں تو کب مرے گا۔‘‘ صالحہ نے حسرت سے کہا اوران معصوم بچوں کی گفتگو نے حلیمہ کو سرسے پائوں تک ہلا کررکھ دیا۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا‘ زندہ لوگوں کو اس کی زیادہ ضرورت تھی یہ آج حلیمہ نے جانااور ایک عزم اور حوصلے سے اس نے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ زندگی ابھی باقی تھی‘ اور اس کو اپنے ارادوں ‘ہمت‘ محنت اور مشقت سے سب کو زندہ رکھناتھا کیونکہ وہ صرف اختر کی نہیں سب کی ماں تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close