Hijaab Mar-17

موسم گل آنے کو ہے

ام ایمان قاضی

’’امی آپ فارغ ہیں تو میں اندر آجائوں؟‘‘ حیا نے ان کے کمرے میں جھانک کر کہا۔ راحیلہ چونک کر سیدھی ہوئیں۔ ظہر کی نماز کے بعد معمول کی تسبیح پڑھنے بیٹھی تھیں مگر بدلتے حالات میں اندیشوں کی ایسی ان دیکھی ہوا شامل تھی جس نے انہیں کئی فکرات میں مبتلا کرکے گردوپیش سے بے خبر کردیا تھا اور ایسی صورت حال اب اکثر وبیشتر ہی درپیش رہتی تھی ان کو۔
’’آجائو بیٹا… اس میں بھلا اجازت کی کیا بات ہے۔‘‘ تسبیح کو سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بعد وہ حیا کی جانب متوجہ ہوگئیں جس کے چہرے پر جب نگاہ پڑتی تفکرات دو چند ہوجاتے۔ کب سوچا تھا ہمیشہ ساتھ نبھانے کی قسمیں کھانے والا زندگی کا مخلص ساتھی یوں لمحوں میں ہاتھ چھڑا کر منوں مٹی اوڑھ کر سو جائے گا اور وہ اس بھری دنیا میں جوان بیٹی کے ہمراہ تنہا رہ جائیں گی۔ کہنے کو بھائی کا نام تھا مگر دنیا دکھاوے کو ہی‘ وہ اپنی بیوی کی آنکھوں سے دیکھنے اور اسی کے کانوں سے سننے کے عادی تھے اور حیا کے ابو کے مرنے کے بعد جب اپنے نکھٹو‘ آوارہ بیٹے کا رشتہ لے کر آئے تھے اور انہوں نے کوئی خاطر خواہ تسلی نہیں دلوائی تھی تب سے تو وہ منہ دیکھے کی محبت بھی گئی تھی۔ مائیکروبیالوجی میں ایم ایس سی کرنے والی حیا کے لیے اس کے ابو نے بے شمار خواب دیکھے تھے۔ اسے کسی اچھے اور پڑھے لکھے نوجوان سے بیاہنے کے‘ مگر ان کے مرنے کے ساتھ ہی ان کے تمام خواب بھی مٹی اوڑھ کر سوگئے تھے۔
’’امی میں کچھ کہہ رہی ہوں آپ کس سوچ میں گم ہیں۔‘‘ حیا کے گھٹنا ہلانے پر وہ اپنے خیالوں سے باہر آئیں۔
’’ہاں کیا کہہ رہی تھی تم؟‘‘ گہری سانس بھرتے انہوں نے اس کے چہرے کی جانب نگاہ کی‘ باپ کے جانے کے بعد وہ گویا مرجھا ہی گئی تھی۔
’’کمال ہے میں نے آپ سے کہا کہ میں نے آپ کو بتائے بغیر جاب کے لیے اپلائی کیا تھا اور ابھی فریحہ نے فون کرکے بتایا ہے کہ میرٹ لسٹ میں میرا نام بھی ہے۔ کل انٹرویو ہے تو مجھے جانا ہے۔ اتنی دیر سے میں یہی بتارہی تھی آپ کو اور آپ ہیں کہ مراقبے میں گم ہیں۔‘‘
’’تم… تم جاب کروگی؟ تمہارے ابو کو تمہیں تعلیم یافتہ دیکھنے کا شوق تھا مگر وہ تمہیں جاب کبھی بھی نہیں کرنے دیتے۔‘‘
’’اور امی آپ یہ بات مت بھولیں کہ ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔‘‘ کتنی آسانی سے اس نے کہا تھا۔ وہ کتنی دیر اسے دیکھتی رہ گئیں۔ مصائب اور آلام ہی وہ کسوٹی ہیں جس پر صبر‘ ہمت اور حوصلہ کو پرکھنے کا صحیح موقع ملتا ہے۔ بات بات پر باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے والی حیا ایک دم ہی اتنی نڈر ہوگئی تھی‘ پراعتماد تو وہ شروع سے ہی تھی مگر کبھی خود سے بڑے بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہی کب پڑی تھی اسے۔ ابو تھے ناں ہر مسئلہ‘ ہر مشکل دیکھنے کو۔
’’کیسی جاب؟ کیا کہہ رہی ہو حیا تم نے کبھی یونیورسٹی کے علاوہ کسی جگہ کو دیکھا کب ہے… دنیا کو برتنا کہاں آتا ہے تمہیں؟ چھوڑو یہ سب باتیں۔ میں نے فیصلہ کرلیا ہے تمہاری شادی کرنے کا۔ کامران کے رشتے سے انکار گئے وقتوں کی باتیں ہیں‘ ویسے بھی ایسی باتیں انسان کسی برتے پر کرتا ہے‘ پہلے تمہارے ابو تھے تو اچھے سے اچھے کی چاہ میں یہ رشتہ ٹھکرایا تھا۔ بھائی کل پھر آئے تھے‘ میں نے سوچنے کے لیے رسمی سا وقت مانگا ہے تاکہ تمہیں بتادوں۔‘‘
’’آپ میری شادی اس کامران سے کریں گی‘ جس کے پاس نہ تعلیم ہے نہ کردار‘ نہ مستقبل‘ نہ گھر‘ وہ خود آج تک ماموں کا محتاج ہے‘ مجھے کہاں سے کھلائے گا اور آپ کہاں جائیں گی میری شادی کے بعد؟ آپ نے ابو کی شہہ پر پہلے اس رشتے سے انکار کیا تھا‘ میں اپنے اللہ اور پھر اپنے زور بازو کے بھروسے آج اس رشتے سے انکار کرتی ہوں شادی ابھی میری ترجیحات میں نہیں… مجھے صرف اپنا فیوچر ہی سیکیور نہیں کرنا‘ آپ کو بھی دیکھنا ہے کیونکہ ایسے تو آپ کو چھوڑ کر جائوں گی نہیں‘ اس لیے یہ ٹاپک تو کلوز ہی سمجھیں۔ اس دفعہ مامی رشتے کی بابت دریافت کرنے آئیں تو میری بات کرائیے گا ان سے‘ آپ بیٹھیں میں چائے لے آؤں پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘ پھر رات تک امی قائل ہوئیں یا نہیں اس نے بہرحال دو ٹوک الفاظ میں دلائل دے کر ان کو کہہ دیا تھا کہ ابو ہوتے تو وہ جاب کا نام بھی نہ لیتی مگر فی الوقت نوکری کرنا اس کا شوق نہیں مجبوری ہے اور اس نے فریحہ کے ساتھ مل کر ایجوکیشن کی طرف سے نکلنے والی آسامیوں پر اپلائی کیا تھا اور اب جب جواب بھی مثبت آیا تھا تو اسے ہر صورت ہی جاب کرنی تھی کیونکہ فی زمانہ ایک ابو کی پینشن ان دونوں کی ضروریات کے لیے ناکافی تھی اگلے دن وہ اور فریحہ دونوں ہی آفس آگئی تھیں‘ ان کے علاوہ بھی بہت سی لڑکیاں تھیں‘ سب کو فارمز اور متعلقہ اسکولز کی لسٹ دے دی گئی کہ اپنی اپنی چوائس کے اسکولز لکھ دیں۔
’’فری‘ یہ ایسے ایسے عجیب سے ناموں والے علاقے کیا ہمارے ملک میں ہیں؟‘‘ اس نے پوری لسٹ پڑھ کر پاس بیٹھی اطمینان سے اپنا فارم فل کرتی فریحہ کو ٹہوکا دیا۔
’’نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ ہمارے ڈسٹرک میں بھی۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی اور دوبارہ سے اپنے فارم پر جھک گئی۔
’’لیکن مجھے پتہ ہی نہیں کہ کون سی جگہ کہاں ہے تو میں کیسے اپنی چوائسز لکھوں۔‘‘ وہ جھنجلائی۔
’’سمپل۔‘‘ فری مسکرائی۔ ’’آنکھیں بند کرکے انگلی رکھو جو نام پہلے آئے وہ پہلے نمبر پر لکھ دو جیسے میں نے لکھا۔‘‘ حیا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ’’ہاں ناں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں‘ جوائن کریں گے دیکھیں گے‘ نہ پسند آئی جاب اور جگہ تو چھوڑ دیں گے۔‘‘ فریحہ نے اسے ایسے خود کو دیکھتے پایا تو بے پروائی سے مزید نام لکھنے لگی۔
’’جب ہم نے اپلائی کیا تھا فری تب تک میرا بھی صرف شوق ہی تھا مگر اب میں چاہتے ہوئے بھی تمہارے جیسی سوچ نہیں رکھ سکتی‘ یہ جاب میرے سروائیو کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ امی بھی صرف اسی شرط پر مانی ہیں جب ان کو پتہ چلا ہے کہ اسکول میں ٹیچر کی جاب ہے۔ وہ تو ابو کے بعد بہت کم ہمت ہوگئی ہیں۔ حالات مزید ایسے رہے تو انہوں نے کسی ایرے غیرے سے پکڑ کر مجھے بیاہ دینا ہے۔‘‘ اب وہ اندازے سے ہی سہی اپنے فارم پر اسکولز کے نام لکھ رہی تھی کیونکہ تقریباً سب لڑکیوں نے منٹوں میں ہی فارم جمع کرا دیئے تھے۔ اب سب خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ تھوڑی دیر ہی میں انٹرویو ہونا تھا ان کا۔ انٹرویو سے فارغ ہوتے ہوتے بھی ان کو چار تو بج ہی گئے تھے۔ حیا کو تو کچھ خاص بھوک نہیں تھی مگر فریحہ اسے زبردستی نزدیکی ریسٹورنٹ لے آئی اور چیز سینڈوچز کا آرڈر دیا جوان دونوں کا پسندیدہ تھا۔
’’پاپا تو میری جاب کے حق میں ہی نہیں ہیں نہ ہی ماما… وہ تو رمیز سے سفارش کروائی ہے۔ (رمیز اس کے منگیتر کا نام تھا جس کے ساتھ کچھ ماہ میں اس کی شادی متوقع تھی) پاپا کہتے ہیں چلو کچھ دن اپنا شوق پورا کرلو‘ مگر ایک شرط کے ساتھ کہ ڈرائیور کے ساتھ جائوں گی اکیلی ہرگز نہیں پھر شادی کی ڈیٹ فکس ہوتے ہی چھوڑ چھاڑ دوں گی کہ رمیز کہتا ہے مجھے ساتھ دبئی لے جائے گا۔‘‘ فریحہ کی زبان مسلسل حرکت میں تھی۔ حیا جبراً مسکرادی کہ ابو کے بعد عجیب ہی لگتا تھا کاروبار زندگی میں حصہ لینا‘ مسکرانا‘ کبھی وہ بھی ایسی ہی بے فکری کے عالم میں ہوتی تھی‘ ایسی ہی لاپروا‘ اپنی ہی زندگی میں مگن‘ زندگی کو پھولوں کی سیج سجھ کر جینے والی‘ غم‘ دکھ یا پریشانی کیا ہوتی ہیں‘ ان الفاظ کو سنا اور پڑھا تو بہت بار تھا مگر برتنا بھی پڑے گا کبھی سوچا نہ تھا۔ والدین اولاد کے لیے ایسی چھت ہوتے ہیں جو محبت‘ اعتماد‘ اعتبار تو دیتی ہی ہے زندگی کی ضروریات بھی اس طور پورا کرتی ہے کہ اولاد کو کچھ سوچنا ہی نہیں پڑتا کہ کیسے ہر چیز وقت پر مل جاتی ہے۔ اس نے بے ساختہ فریحہ کے لاپروا چہرے کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں اس چھت کے قائم رہنے کی دعا کی۔
’’چلو فری… مجھے ذرا بھی دیر ہوجائے تو امی پریشان ہوجاتی ہیں۔‘‘ فریحہ کا پروگرام لمبا ہوتے دیکھ کر اس نے اسے جلدی اٹھنے پر مجبور کیا جو ابھی کولڈ ڈرنکس آرڈر کرنے کے لیے پرتول رہی تھی۔ مغرب ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی جب فریحہ نے اسے گھر ڈراپ کیا۔
’’پھپا جی گزر گئے مگر ابھی اور لوگ تو زندہ ہیں ناں حیا۔‘‘ وہ اپنے ہی خیالوں میں مگن تھی جب گیٹ کے پاس سے کامران کی آواز سن کر بری طرح اچھلی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ تیکھے چتون سے اسے گھورتی ہوئی وہ وہیں رک گئی۔ بے حد تھکے ہوئے ذہن کو اس وقت صرف آرام اور ایک کپ چائے کی طلب تھی مگر ماموں کے اس سپوت کا اس وقت یہاں موجود ہونے کا مطلب تھا کہ اس کی والدہ محترمہ بھی اندر امی کے ساتھ موجود ہیں اور جس مقصد کے لیے آج کل یہ پھیرے لگ رہے تھے اس کے متعلق تو وہ سننا بھی نہیں چاہتی تھی۔
’’مطلب یہ ڈیئر کزن کہ تمہیں بے جا آزادی دینے والا تمہارا باپ اب نہیں رہا۔ ابو رہے بزرگ آدمی تو اب تو میں ہی سربراہ ہوں اس گھر کا اور عنقریب تمہارا بھی سربراہ بن جائوں گا تو مجھے یوں لڑکیوں کا لور لور پھرنا ہرگز پسند نہیں۔‘‘ دل جلانے والی مسکراہٹ حیا کو آگ ہی تو لگا گئی۔
’’میرے سربراہ بننے کے خواب تم جتنی جلدی دیکھنے چھوڑ دوگے اتنا ہی تمہارے حق میں اچھا ہوگا۔ کیونکہ میرا کل بھی تمہارے بارے میں جواب ناں تھا آج بھی ناں ہے اور یقینا کل بھی یہی ہوگا باقی رہ گئے گھر کے سربراہ تو میرے ابو کو اللہ نے اپنے پاس بلایا ہے مگر میری امی اللہ کے کرم سے حیات ہیں اور اللہ انہیں ہمیشہ میرے سر پر سلامت رکھے‘ آمین۔‘‘ تیز الفاظ چبا چبا کر بولتے بھی اس کی آواز بھرا گئی تھی۔ جان سے پیارے ابو جنہوں نے اسے دنیا کے ہر سرد وگرم اور مصائب سے بچا کر رکھا تھا ان کا ذکر بھی وہ عقیدت سے کرنا پسند کرتی تھی ان کے لیے اس شخص کے لہجے میں بے حد تحقیر تھی وجہ ابو کا بار بار اس رشتے کے لیے انکار کرنا تھا‘ جس پر وہ اور مامی ابو سے بے حد خار کھاتے تھے مگر انہوں نے کبھی پروا بھی نہیں کی تھی۔
’’میرے لیے آپ کے بیٹے سے بڑھ کر کوئی نہ ہوتا بھائی صاحب اگر جو کسی ایک چیز میں ہی اس کا قبلہ درست ہوتا۔ میٹرک میں ہی تعلیم چھوڑ کر بھاگ گیا اور محلے کے ہر بندے کو اس سے شکایت ہے‘ تعلیم نہ سہی کوئی ہنر ہی انسان زندگی گزارنے کے لیے اپنا لیتا ہے‘ اپنے شاہانہ خرچوں کے لیے ابھی تک آپ کا دست نگر ہے۔ گھر آپ کا کرایہ کا ہے‘ میں اس کو بیٹی دینے کا ارادہ بھی کروں تو کس برتے پر‘ صرف یہ کہ یہ میری بیوی کے بھائی کا بیٹا ہے‘ میں فخر نہیں کررہا بھائی صاحب‘ مگر میری بیٹی نے اعلیٰ تعلیم اپنی قابلیت کے بل بوتے پر حاصل کی‘ سوائے ضروری خرچوں کے مجھے کبھی اس کے اخراجات نہیں اٹھانا پڑے کہ وہ ہمیشہ اسکالر شپ لیتی رہی ہے‘ اللہ کی قسم میں دولت کو اہمیت نہیں دیتا مگر اپنی بیٹی کے لیے بر دیکھتے ہوئے میری پہلی ترجیح شرافت ہوگی اور پھر تعلیم… وہ شخص میری بیٹی کے ہم پلہ نہ سہی اس سے کم تر نہ ہو اور عزت سے دو وقت کی روٹی کھلا سکے اور مجھے تو شرمندگی سے یہ آپ کو یاد کروانا پڑ رہا ہے کہ ابھی پچھلے مہینے ہی دوستوں کے ساتھ آپ کا بیٹا حوالات میں بھی چند دن گزار کر آیا ہے۔‘‘ ابھی سات ماہ پہلے ہی تو ماموں اور مامی اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئے تھے‘ ابو کے الفاظ دوبارہ سے اس کے کانوں میں ویسے ہی گونجے جیسے یہ ابھی کل کی بات ہو۔ وہ غصے سے بھری ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ مامی کو دیکھ کر پارہ تو بے حد چڑھا مگر امی کا خاموش اشارہ بے ساختہ زبان بندی کرا گیا۔
’’اے حیا… اب تو تعلیم کا بہانہ بھی ختم ہوا تمہارا۔ پھر بھی گھر آنے کا وقت دیکھا ہے تم نے‘ سر پر باپ نہیں رہا تمہارے‘ ایسی بچیوں کو تو خاص احتیاط کرنی چاہیے‘ اس سے پہلے کہ زمانہ انگلی اٹھائے‘ خود ہی خیال کرو۔‘‘ سلام کے جواب میں مامی کے بھی کم وبیش وہی الفاظ تھے جو باہر ان کے فرزند نے اس کے گوش گزار کرکے اس کا دل جلایا تھا۔
’’میں ضروری کام سے باہر گئی تھی‘ آوارہ گردی کرنے نہیں کہ زمانہ انگلیاں اٹھانے کھڑا ہوجائے گا۔ ویسے بھی انسان کو بغیر دیکھے بھالے اور سوچے سمجھے تہمت لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور اگر اس سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔‘‘ کامران کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر اس نے آدھا فقرہ مامی اور آدھا فقرہ ان کے سپوت کو دیکھ کر ادا کیا۔ ’’امی میں تھک گئی ہوں اپنے کمرے میں ہوں۔‘‘ بے تاثر انداز میں امی کو اطلاع دیتی وہ اس سے پہلو بچا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
’’دیکھ رہی ہو راحیلہ بیٹی کی زبان کے جوہر ارے اتنا گھمنڈ بھی اچھا نہیں ہے اپنی ذات پر‘ لڑکی ذات ہے‘ نکیل ڈال کر رکھو تو بہتر ہے‘ سسرال میں ایسی زبان درازی پر ماں کی تربیت پر ہی حرف آتا ہے۔‘‘ مامی اب امی سے مخاطب تھیں۔
’’بھابی وہ واقعی کسی ضروری کام سے ہی گئی تھی اپنی دوست کے ساتھ۔ دیکھی بھالی بچی ہے فریحہ۔ دونوں ساتھ پڑھتی تھیں اور حیا ہمیشہ اپنے ابو کے ساتھ کہیں باہر جاتی تھی یا کبھی کبھار فریحہ کے ساتھ‘ پہلے تو کبھی دیر نہیں ہوئی‘ آج بھی کوئی وجہ ہوگی‘ اس کے علاوہ میں سمجھادوں گی آپ سنائیں بھائی جان کیوں نہیں آئے ساتھ اور شبینہ کو بھی لے آتیں۔‘‘ امی نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بیٹی کا دفاع کرتے ہوئے بھائی اور بھتیجی کی بابت دریافت کیا۔
’’ہاں تو کس منہ سے آتے وہ اس گھر جہاں ایک بار نہیں کئی بار ٹھکرائے گئے ہوں‘ وہ تو میں ہی بار بار بے عزتی کرانے آجاتی ہوں۔‘‘
’’بھابی آپ کی محبت کا شکریہ جو آپ تشریف لے آتی ہیں لیکن آپ خود بیٹی والی ہیں‘ خود سوچیں کہ جوان اولاد پر زور زبردستی نہیں کی جاسکتی پھر کامران اپنا طرز زندگی تبدیل کرلیتا تو بھی میں گنجائش نکال لیتی اب کیسے…‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئیں۔
’’کیسا طرز زندگی پھوپو‘ چور ہوں‘ ڈاکے مارتا ہوں‘ کیا کرتا ہوں؟ ارے جتنا بھی نکما سہی دو وقت کی روٹی کھلا سکتا ہوں آپ کی بیٹی کو۔ بھوکے نہیں مر رہے ہم۔‘‘ وہ ایک دم بول اٹھا اور لہجہ بھی اچھا خاصا بدتمیزی اور گستاخی لیے ہوئے تھا۔
’’تمیز سے بات کرو کامران‘ میں اگرچہ گھر سے باہر نہیں نکلتی مگر تم لوگوں سے ہرگز اتنی دور نہیں ہوں کہ تمہارے کارناموں کی خبریں مجھ تک نہ پہنچتی ہوں۔‘‘ وہ بھتیجے کو ملامت کرتی بولیں۔
’’اٹھو اماں‘ اب یہ لوگ سیدھے رستے سے نہیں مان رہے تو پھر میں دیکھتا ہوں کہ کون مائی کا لعل حیا کو یہاں بیاہنے آتا ہے۔ پھوپو میں تو اب تک پھپا کی ڈھیل سمجھتا رہا ہوں مگر بیٹی کو سر چڑھانے میں آپ بھی کم نہیں ہیں۔ اچھا ہوگا اپنی زبان میں اپنی بیٹی کو سمجھا دیں ورنہ پھر مجھ سے گلہ نہ رکھنا اور پھر میری شہرت سے تو وقف ہوگئی ہیں۔‘‘
’’تمہاری شہرت سے واقف ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اﷲ ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے آہستہ سے کہا تو وہ دونوں ماں بیٹا تن فن کرتے وہاں سے چلے گئے۔ حیا ان کے جانے کے بعد فوراً کمرے میں آئی تھی۔
’’دیکھا امی آپ نے ان کا رویہ‘ ان لوگوں کا مستقل حصہ بنانا چاہتی ہیں مجھے جو کہنے کو تو اپنے ہیں مگر دشمنوں سے بھی بدتر۔ ابو کے بعد ایک بار کسی نے آکر پوچھا کہ زندہ ہو یا مر گئے… ضروریات زندگی کیسے اور کس طرح پوری ہوتی ہیں‘ کوئی ضرورت تو نہیں‘ کوئی مسئلہ تو نہیں؟ اور جتنی بار بھی آئے اپنے مقصد کے لیے۔‘‘
’’تمہاری بات ٹھیک ہے حیا… لیکن یہ حقیقت ہے کہ تمہارے ابو اب نہیں رہے‘ ہم دونوں اکیلی عورتیں‘ کیا کریں گی آخر؟ میں نے آج ساتھ والی بوا کو تمہارے رشتے کی بات چلانے کو کہا ہے‘ ایسے حالات میں جلد ہی تمہیں اپنے گھر کا کرنا چاہتی ہوں‘ کامران ہے تو میرا بھتیجا مگر اس کی باتیں اور عزائم نہیں سنے تم نے۔‘‘ وہ بے حد فکرمند تھیں۔ حیا حسب معمول چڑ گئی۔
’’امی آپ کے نزدیک ہر مسئلے کا حل میری شادی کیوں نکلتا ہے؟ دیکھ لوں گی میں سب‘ مگر آپ اللہ کے لیے اس طرح ہاتھ پیر چھوڑ کر مت بیٹھیں‘ زندگی میں اس سے بھی بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ہمیں‘ آپ ایسے کریں گی تو پہلے قدم پر ہی تھک جائیں گے ہم۔ میری ہمت بنیں آپ بس۔ آج انٹرویو ہوگیا میرا‘ ان شاء اللہ پرسوں آرڈر مل جائیں گے۔ پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔‘‘ امی اسے دیکھ کر رہ گئیں۔ دنوں میں ہی وہ سمجھداری کی باتیں کرنے لگی تھی اور بہادر بھی ہوگئی تھی۔
’’کھانا کیا پکایا ہے۔ پہلے آفس میں اور پھر ان فضول لوگوں نے کتنا ٹائم ویسٹ کردیا‘ چلیں فریش ہوجائیں‘ میں کھانا گرم کرکے لاتی ہوں۔ آپ نے بھی کب کھایا ہوگا کچھ اور میرا بس چلے تو ایسے لوگوں کو گھر میں نہ گھسنے دوں۔‘‘ اس نے ٹیبل پر رکھیں کھانے پینے کے لوازمات کی باقیات سمیٹتے ناراضی سے کہا۔
’’چھوڑو… گھر آئے مہمان کی خاطر کرنا تو ہمارے پیارے نبیﷺ کی سنت ہے پھر یاد نہیں تمہارے ابو کتنے مہمان نواز ہوا کرتے تھے۔ تم ٹیبل صاف کرو میں کھانا گرم کرکے لے آتی ہوں۔‘‘ امی اٹھ کرکچن میں چلی گئی تھیں۔
۹…۹…۹
’’چاہ پیراں والی… یہ… یہ کہاں ہے؟‘‘ آج اس کو آرڈرز ملے تھے۔ اس نے آفس میں ٹائپ کرتے ایک شخص کو آرڈر پر لکھا نام دکھا کر پوچھا۔
’’بیٹھیں بی بی… ابھی دیکھ کے بتاتا ہوں۔‘‘ اس شخص نے اسے کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور چند لمحوں میں اسے اسکول کا ڈیٹا سمجھا دیا علاقہ اور لوکیشن سمیت ہر چیز۔
’’اسی ڈسٹرکٹ میں ہی ہے بی بی‘ دریا پار جائو تو سوا گھنٹہ لگتا ہے کشتی پر اور اگر بائے روڈ لوکل کنوینس پر سفر کریں تو چار سے پانچ گھنٹے اور اپنی گاڑی ہو تو پھر ساڑھے تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ نئے اسکول کا اجرا ہوا ہے تو ابھی سنگل ٹیچر ہوں گی‘ آپ وہاں…‘‘
’’مم… مگر میں اتنی دور کیسے جائوں گی اور روزانہ کیسے اتنا ٹریول کرسکتی ہوں؟‘‘ اس کی پریشانی دیکھ کر وہ شخص مسکرایا۔
’’دیکھیں بی بی یہ تو آپ کا اپنامسئلہ ہے‘ اب کے جتنی بھی سیٹیں نکلی ہیں‘ دور دراز کے علاقوں میں ہی ہیں‘ اس کا بہترین حل تو یہی ہے کہ علی الصبح نکلیں تو ہی اسکول ٹائم پر پہنچ سکیں گے اور واپسی بھی مغرب تک ہوہی جایا کرے گی۔ ہاں وہیں نزدیک کوئی ہاسٹل دیکھ کر رہائش اختیار کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘ اس شخص نے حلیے‘ شکل وصورت اور انداز سے کسی اچھے گھرانے کی پراعتماد اور خوب صورت لڑکی کو ہمدردی سے دیکھتے مشورہ دیا۔
’’آپ آج جوائننگ دے دیں کل سے آپ لوگوں کی ایک ماہ کی ٹریننگ اسٹارٹ ہے‘ اسی دوران میڈیکل کروالیں اپنا۔‘‘ اب وہ شخص اس فیلڈ کے تقاضے دہرا رہا تھا۔
وہ آدھی ادھوری بات سنتی جوائننگ دے کر فریحہ کو ڈھونڈتی ہوئی آئی باہر وہ اسے چند لڑکیوں کے ساتھ مل گئی تھی۔
’’حیا تمہارے کہاں آرڈرز ہوئے؟ میرے تو سٹی سے بیس پچیس کلو میٹر دور ایک مڈل اسکول میں ہوئے ہیں۔ کل سے ٹریننگ شروع ہے۔ مزہ آئے گا‘ اسٹوڈنٹ لائف سے اب ہم پریکٹیکل لائف میں قدم رکھنے جارہے ہیں۔ ہائو مچ امیزنگ۔‘‘ وہ خوشی سے بولی پھر اس کے ستے ہوئے چہرے کی جانب نگاہ کی۔ ’’تمہیں کیا ہوا‘ ٹھیک تو ہو اور کہاں ہوئے ہیں تمہارے آرڈرز؟‘‘
’’چاہ پیراں والی۔‘‘
’’آئو پوچھیں کسی سے کہ کہاں ہے یہ اسکول۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھتی ہوئی بولی۔
’’میں پتہ کر آئی ہوں فری‘ بہت دور ہے۔‘‘ وہ آہستہ سے تفصیل بتاتی ہوئی بولی۔
’’اومائی گاڈ۔‘‘ فریحہ چیخی۔ ’’تم فوراً یہ آرڈرز واپس کردو‘ کوئی آفت نہیں آئی ہوئی ہم پر‘ اگر جاب کا ہی اتنا شوق چڑھا ہے تو میں نے پہلے بھی کہا ہے تمہیں پاپا سے کہہ کر کسی آفس میں جاب دلادوں گی۔‘‘
’’آفس میں ہی تو نہیں مانتی امی‘ صرف اسکول ٹیچر کا ہی سن کر بڑی مشکل سے مانی ہیں۔ تم بس ایک کام کرو فری‘ کسی دن میرے ساتھ چلو ہم وہ اسکول اور جگہ علاقے دیکھ لیں‘ کامران کی دھمکی کے بعد امی ہر وقت ایک خوف کی حالت میں رہتی ہیں۔ میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا ہے۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ کہہ رہی تھی جبکہ فریحہ بھی پرسوچ انداز میں سر ہلا رہی تھی۔ ان کی ٹریننگ اسٹارٹ ہوچکی تھی۔ نئی فیلڈ‘ نیا عزم‘ وہ سب بہت پرجوش تھیں پھر ٹریننگ کے دوران ہی امی نے جس رشتہ والی کے ذمہ لگایا تھا وہ ایک رشتہ بھی لے کر آگئی۔ لڑکا کسی نجی کمپنی میں درمیانی درجہ کا ملازم تھا‘ معقول اور شریف لوگ تھے‘ حیا خوب چیخی چلائی‘ مگر اس بار امی نے اس کی ایک نہ سنی اور اسی خالہ کے ساتھ جاکر لڑکا اور گھر بار بھی دیکھ آئیں‘ ان لوگوں کو حیا کی جاب پر کوئی اعتراض نہیں تھا‘ تاہم امی نے ابھی پوری طرح ہاں نہیں کی تھی ان کو۔
’’مجھے صرف دو تین سال دے دیں امی پلیز… میری پیاری امی‘ میں ابھی اس قسم کے حالات کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں۔ پھر آپ اکیلی کیسے رہیں گی‘ یہ سوچ سوچ کر میں کہاں سروائیو کرسکوں گی۔‘‘ وہ امی کو حتمی موڈ میں دیکھ کر ان کے ہاتھ پکڑ کر ملتجی لہجے میں بولی۔ ویسے بھی وہ اور فریحہ ایک دن فریحہ کے ڈرائیور کے ساتھ جاکر وہ گائوں دیکھ آئی تھیں۔ اسکول کی عمارت نئی بنی ہوئی تھی‘ فریحہ اپنے پاپا سے چوری چھپے اسے لے آئی تھی سو زیادہ دیر رکی نہیں تھیں وہ‘ چھوٹا سا گائوں اس لحاظ سے تو حیا کو پسند آیا تھا کہ کامران ڈھونڈتا مر کیوں نہ جائے اسے نہیں ڈھونڈ سکے گا۔ ایک دو لوگوں سے بات بھی ہوئی ان کی مگر ایک گرم جوشی جس کی وہ توقع کررہی تھیں کہ شہر سے دور دراز علاقے میں حکومت نے اسکول کا اجرا کیا تھا‘ اس حوالے سے تو لوگوں کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اب ان کے بچوں تک بھی علم کی رسائی ممکن تھی تاہم حیا مطمئن تھی کہ جب پہلے تعلیم کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا تو کیسا شعور‘ کیسا جوش‘ جب وہ آجائے گی تو لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرے گی‘ پھر یقینا وہ اس کا خیر مقدم کریں گے‘ شام سے پہلے پہلے وہ دونوں لوٹ آئی تھیں‘ تین دن بعد اس کی حاضری متوقع تھی اسکول میں جب امی نے رشتہ والوں کو ہاں کہہ دی تھی اس کی ناراضی کی پروا کیے بغیر‘ یہ کہہ کر انہیں چار چھ ماہ کا ٹائم دیں تاکہ وہ کچھ تیاری وغیرہ کرسکیں۔ تاہم حیا کا موڈ بہت خراب رہا‘ وہ ان لوگوں کے آنے پر بھی کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی۔ اس کی ہونے والی نند خود ہی اس کے پاس آئی تھیں‘ پیار کرکے انگوٹھی اس کی انگلی میں ڈال کے کچھ روپے اس کے ہاتھ پر رکھے۔ حیا نے نظر اٹھا کر شاکی انداز میں امی کو دیکھا‘ وہ نظریں چرا گئیں۔ ان کے خیال میں حیا ابھی بچی تھی وہ ان نزاکتوں اور گزرتے وقت کی تبدیلیوں کو نہیں سمجھ پارہی تھی‘ جن کے اندیشے ان کا دل ہولائے دے رہی تھیں‘ جب شادی ہوجائے گی تو وہ سمجھ جائے گی‘ مگر یہ ان کی خام خیالی تھی دو دن بعد ہی کامران کی آمد امی کو ڈرا گئی مگر وہ دل کو مضبوط کیے بیٹھی رہیں۔
’’کیسے ہو کامران… کیسے آنا ہوا؟‘‘ وہ بظاہر پرسکون انداز میں بولی تھیں۔ شکر ہے حیا گھر پر نہیں تھی ورنہ یقینا امن کا خطرہ تھا۔
’’پھوپو اتنی بھولی نہ بنو اور نہ ہی مجھے اتنا بے خبر سمجھو‘ میں نے کہا تھا کہ حیا صرف میری امانت ہے پھر بھی ادھر ادھر رشتے دیکھتی پھر رہی ہو‘ بس میں اپنی دی گئی مہلت آج ختم کرتا ہوں‘ کل شام میں آئوں گا گواہوں اور مولوی صاحب کو لے کر نکاح کے لیے‘ اپنی بیٹی کو بھی تیار کردینا اور سمجھا دینا میں عورتوں کی منہ زور فطرت کے ویسے ہی خلاف ہوں۔ سو اپنی بیٹی کو اپنی زبان میں سمجھادیں گی تو زیادہ بہتر ہے۔‘‘ وہ ان کی اگر مگر بیٹا ‘ بات سنو‘ کو نظر انداز کرتا اپنی سنا کر چلتا بنا اور ان کے لیے بے شمار فکرات چھوڑگیا۔
۹…۹…۹
سلطان شاہ کے ماتھے پر گہرے بل اس کے غصے کا پتہ دے رہے تھے۔
’’گائوں والوں کی اتنی جرأت کب سے ہوگئی کہ ہمارے حکم کے بغیر وہ اتنے بڑے بڑے فیصلے کرنے لگیں۔‘‘
’’سردار گائوں والوں نے انہیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کیا بس وہ شہری کڑیاں خود ہی پکڑ پکڑ کر ایک ایک سے اسکول کا پتہ پوچھتی رہیں اور ہاشم کہہ رہا تھا کہ سردار زمان شاہ بھی ملے ہیں ان سے۔‘‘ کمدار کی بات سن کر سلطان خان چونکا۔
’’ہوں… بلائو زمان خان کو۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ چند لمحوں میں اسی سے ملتے جلتے نقوش رکھنے والا نوجوان اندر آنے کی اجازت طلب کررہا تھا۔ دونوں میں بے حد مشابہت ہونے کے باوجود بہت فرق تھا۔ سلطان شاہ کے چہرے پر خشونت اور سختی نے عجیب سی کرختگی دے رکھی تھی جبکہ زمان شاہ کا چہرہ سنجیدگی کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ معصومیت اور خوف لیے ہوئے تھا۔
’’یہ شہری لڑکیاں کل ہمارے بارے میں معلومات لیتی پھر رہی تھیں تم سے… تم نے ان سے بات چیت کی اور ہمیں بتانا بھی گوارا نہیں کیا۔‘‘ اس کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ زمان شاہ کے جسم میں پھریری دوڑ گئی۔
’’نن… نہیں ادا… وہ آپ کے بارے میں معلومات ہرگز نہیں لے رہی تھیں بلکہ ان میں سے ایک کی اسکول ٹیچر کی جاب ہوئی ہے ہمارے گائوں کے اسکول میں… اسکول کا پتہ پوچھا تھا۔ میں نے بتادیا بس۔‘‘ زمان شاہ کے سامنے پھر وہی منظر دوڑ گیا جب وہ حویلی کی جانب لوٹ رہا تھا تو دو لڑکیاں اسے ملیں جو اپنی وضع قطع سے ہرگز بھی اس علاقے یا نزدیکی علاقے کی نہیں لگ رہی تھیں۔ انہوں نے اشارے سے اسے روکا تھا پھر چٹ پر لکھا ایڈریس دکھا کر پوچھا تو زمان شاہ نے اپنے مخصوص سادہ انداز میں حویلی سے تھوڑی ہی دور بنے پرائمری اسکول کے بارے میں بتادیا۔ ان میں سے ایک لڑکی نے خود ہی بتایا کہ اس کی یہاں اس اسکول میں جاب ہوئی ہے اس لیے وہ جگہ اور اسکول دیکھنے آئی ہے‘ زمان شاہ کیا کہتا‘ بس ان دونوں کے مڑتے ہی حویلی کی جانب چل دیا حالانکہ اس نے دونوں کے انداز سے ہی یہ بات محسوس کی تھی کہ وہ چاہتی تھیں وہ خود ان کے ساتھ چلتا‘ مگر وہ دونوں شاید زمان شاہ کی حقیقت نہیں جانتی تھیں تبھی گائوں کے باقی لوگوں کی طرح اس کے رویے کو بھی عجیب خیال کرتیں۔ خود ہی اس جانب چل دیں۔
’’کمدار۔‘‘ سلطان شاہ کی زور دار آواز زمان شاہ کو اپنے خیالات سے باہر لے آئی۔ ’’ایسا کرو اسکول کی عمارت میں جانور باندھ دو‘ باقی ہر چیز اور کام کے آثار بھی مٹادو اور سامان بھی کسی اور جگہ منتقل کرو‘ آگے میں دیکھتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ کمدار سے فارغ ہونے کے بعد سلطان شاہ زمان شاہ کی طرف مڑا‘ اس کے تاثرات سے ہی زمان شاہ کو خوف سے کپکپی چڑھ گئی۔ ’’میری حکم عدولی کرنے والے کے بارے میں جانتے ہو ناں زمان شاہ میں کیا حشر کرتا ہوں۔‘‘
’’جج… جی ادا…‘‘ وہ گھگھیا کر بولا۔
’’ہوں‘ ہوں… ابھی تمہیں صرف اپنا غصہ اور طاقت دکھائی ہے‘ کوشش کیا کرو کہ ایسی نوبت کبھی نہ آئے جب ویسے ہی حربے مجھے تم پر بھی آزمانے پڑیں۔‘‘ رعونت اور تکبر سلطان شاہ کے لہجے اور انداز میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔
’’جج… جی ادا سائیں…‘‘
’’ہوں بہتر ہے جائو کھائو پیو‘ موجیں اڑائو‘ مگر میرے کام میں کبھی دخل اندازی کی کوشش مت کرنا۔‘‘ زمان شاہ وہاں سے بگٹٹ بھاگا تھا۔ زمان شاہ‘ سلطان شاہ کا سوتیلا بھائی تھا۔ اس کا قصور اتنا تھا کہ ان والد کے شہر میں کسی گانے والی کی محبت میں گرفتار ہوکر اسی محبت کی نشانی تین سال بعد گھر لے آئے تھے تو گھر میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ شاہانہ بیگم سے کی گئی محبت تو کہیں خواب ہوئی مگر اس جیتی جاگتی نشانی کو اس آوارہ عورت کے ہرگز حوالے نہیں کرنا چاہتے تھے جس کی راتیں کہیں اور… اور دن کہیں اور بسر ہوتے تھے۔ محبت کی اندھی پٹی آنکھوں سے اتری تو کئی سود وزیاں سامنے آئے۔ حویلی میں زمان شاہ کو کبھی بھی اپنے باپ کی اولاد نہیں سمجھا گیا بلکہ اس کی ماں کا حوالہ تمام عمر اس کے ساتھ رہا تھا۔ سلطان شاہ‘ زمان شاہ سے سات برس بڑا تھا اور اس کی ماں نے یہ بات اسے گھول کر پلادی تھی کہ ہمیشہ اس کو دبا کر رکھنا ورنہ کل کو یہی کمی کمین لڑکا اس کی جائیداد کا بٹوارہ کرنے کھڑا ہوجائے گا‘ جب تک بڑے شاہ زندہ رہے تب تک زمان کی زندگی میں ان کی موجودگی میں کم از کم کچھ سکون رہتا تھا میٹرک تک بڑے شاہ صاحب نے اسے گھر میں اس کی اہمیت جان کر ہاسٹل میں رکھا تھا‘ مگر پھر سوتیلی ماں اور پھر سلطان شاہ کے اس کے سامنے اور اس پر کیے جانے والے مظالم کے نقوش بہت گہرے تھے جنہوں نے اس کی شخصیت کے کسی پہلو کو کبھی بھی اجاگر نہیں ہونے دیا۔ بڑے شاہ صاحب گو کہ اپنی زندگی میں ہی جائیداد اور زمینوں کا بٹوارہ آدھا آدھا کرکے گئے تھے مگر سلطان شاہ نے زمان شاہ کو اعصابی طور پر اتنا کمزور کردیا تھا کہ وہ اپنے حصے کی جائیداد تو کیا اگر بھوکا بھی رہ جاتا تو خود سے کھانا بھی نہیں مانگ سکتا تھا۔ اپنی طاقت کے مظاہروں کا شعور راسخ کرنے کے لیے سلطان شاہ اس کے سامنے معمولی سی غلطی پر بھی ملازمین کی کھال ادھیڑ کر رکھ دیتا‘ ایک بگڑے اور عیاش رئیس کی ہر خصوصیت سلطان شاہ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ اپنے علاقے کے لوگوں میں تعلیم کے شعور کے وہ ویسے ہی خلاف تھے خواہ بڑے شاہ صاحب ہی کیوں نہ ہو‘ وہ خود کتنا ہی پڑھ لکھ گئے تھے مگر اپنے ہاریوں کو غلامی کی زنجیر میں جکڑا دیکھنا چاہتے تھے۔ خود سلطان شاہ یونیورسٹی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا مگر صرف نام کا‘ پھر زمان شاہ بھی ابھی حال ہی میں تعلیم مکمل کرکے آیا تھا مگر خود اعتمادی سے عاری ایک کمزور نوجوان جس کی زندگی کی ڈور سلطان شاہ کے ہاتھ میں تھی۔ اسکول کی عمارت اگرچہ قریب ہی تھی مگر اس کی زمین سلطان شاہ کے چچا زاد بھائیوں نے دی تھی اور وہ متنازعہ زمین تھی ان دو خاندانوں کے بیچ میں‘ مگر طاقت اور رسوخ میں کیونکہ سلطان شاہ کا پلڑہ بھاری تھا سو اسی کے زیر تسلط تھی۔ اپنے قبضے کو ظاہر کرنے کے لیے اس نے وہاں گھوڑوں کا اصطلبل بنا رکھا تھا‘ ساتھ ہی کئی اور ناجائز کام بھی وہاں ہوتے تھے۔ اگر نہیں تھا تو وہاں تدریس کا عمل جس کے لیے یہ اسکول قائم تھا کہ لوگوں میں اس شعور کو کبھی پنپنے بھی نہیں دیا گیا تھا کہ تعلیم بھی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
۹…۹…۹
’’حیا… اتنے بڑے قدم مت اٹھائو کہ واپسی کا راستہ نہ رہے۔‘‘ امی نے اپنے بندھے ہوئے سامان پر ایک نظر ڈالی اور کسی قدر خوف کے عالم میں کہا۔ حیا نے کامران کی آمد اور دھمکی سنتے ہی خود بھی اپنا سامان پیک کرنا شروع کردیا تھا اور امی کو بھی ساتھ لگا لیا تھا۔
’’آپ ڈریں مت امی‘ اللہ پر بھروسہ رکھیں‘ فری کے پاپا سے میری بات ہوگئی ہے۔ گھر کی چابی ہم ان کو دے کر جائیں گے۔ وہ خود ہی اس کی فروخت کا مسئلہ حل کرکے رقم میرے اکائونٹ میں ٹرانسفر کرادیں گے کیونکہ ہم واپس بھی آجائیں تو رہنا تو یہاں ہمیں پھر بھی نہیں… کل علی الصبح فری کا ڈرائیور ہمیں پک کرلے گا۔ کئی بار بتاچکی ہوں پھر بھی آپ ایسی ویسی کوئی بات بول کر میرا حوصلہ ختم کردیتی ہیں‘ جب ہمارا اس دنیا میں اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں تو صرف اسی کے بھروسے پر کیوں نہ بہادری سے زندگی سے اپنا حصہ وصول کریں۔‘‘ اس نے تین بڑے بیگ کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگا کر رکھے اور خود اب درازیں کھول کھول کر ضروری سامان ہینڈ کیری میں منتقل کررہی تھی۔ ’’ویسے کاش میں وہ منظر دیکھ سکتی جب آپ کا بھتیجا بارات لے کر آئے گا اور ہم یہاں نہیں ہوں گے۔‘‘ ایسے حالات میں بھی اسے شوخی سوجھ رہی تھی۔ امی نے کچھ کہے بغیر اس کے پرسکون چہرے کی طرف دیکھا پتہ نہیں وہ واقعی پرسکون تھی یا خود کو ایسے ظاہر کررہی تھی۔
۹…۹…۹
’’ابھی تم میری بات نہیں سمجھو گے۔‘‘ رستم شاہ پراسراریت سے مسکرایا۔ ’’لڑائی صرف ہتھیاروں سے ہی نہیں لڑی جاتی‘ دماغ سے لڑی جانے والی جنگیں طاقت سے لڑی جانے والی جنگوں سے زیادہ پراثر ہوتی ہیں اور دیرپا اثرات لاتی ہیں۔ فی الحال تو اسکول کے پاس والا امیر بخش کا مکان فوری خالی کروا کے استانی اور اس کی ماں کو وہاں شفٹ کرو‘ ضرورت کا سامان پہنچائو اور جب تک وہ سیٹ نہ ہوجائیں تین ٹائم کا کھانا پہنچاتے رہو۔ صرف اسکول والی زمین ہی نہیں ساتھ والی زمین پر بھی‘ اب دیکھنا کہ سلطان شاہ کیسے اپنا قبضہ برقرار رکھتا ہے۔‘‘ رستم شاہ‘ سلطان شاہ کا چچازاد بھائی تھا۔ جو اس سے طاقت میں بھلے کم تھا مگر بہت زیرک اور عیار آدمی تھا وہ ہمیشہ مخالف کو ایسی شکست دینا پسند کرتا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس نے اس بار سلطان شاہ کو شکست دینے کے لیے عجیب ہی ترکیب سوچی تھی۔ جبھی شہر سے آنے والی استانی کا بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا تھا۔ حویلی کے مہمان خانے میں انہیں بھیج کر ضروری اقدامات کیے تھے۔
حیا اور امی منہ اندھیرے گھر سے روانہ ہوئی تھیں اور دن کے بارہ بجے بستی چاہ پیراں والی میں پہنچی تھیں۔ گائوں کے چوہدری کی طرف سے ان کا پرتپاک استقبال ہوا تھا۔ اس نے پہلی فرصت میں اپنی رہائش کا بندوبست کرنے کی درخواست کی تھی۔ نتیجتاً رات سے پہلے پہلے کھانا حویلی سے ہی کھلا کر انہیں اسکول کے قریب ایک چھوٹے سے گھر میں پہنچا دیا گیا تھا جو ایک کمرے‘ چھوٹے سے برآمدے پر مشتمل چھوٹا سا دیہاتی ٹائپ کا بنا ہوا گھر تھا۔ چھوٹے سے صحن میں ایک کونے میں ہینڈپمپ اور دوسری سائیڈ پر غسل خانہ اور ٹوائلٹ تھا۔ اپنے گھر کے طرز زندگی کا موازنہ کرتی حیا تو شاید پہلی نظر میں ہی مسترد کردیتی ایسی رہائش گاہ‘ مگر اب اس کے پیش نظر صرف رہائش گاہ نہیں تھی بلکہ ایسی محفوظ جائے پناہ بھی تھی جہاں اسے معاشی تنگی بھی نہ ہو اور فی الحال کامران کی نظروں سے بھی چھپ سکے۔ سو اس لحاظ سے شہر سے کوسوں میل دور یہ نہایت پرسکون جگہ تھی۔ بے حد تھکن ہونے کی بنا پر وہ دونوں سوگئیں کہ کمرے میں دو چارپائیوں کے علاوہ چودھری کے گھر سے بستر اور ضروریات زندگی کا دیگر سامان بھی مہیا کیا گیا تھا۔
’’امی دیہاتی لوگ بہت مہربان وار مہمان نواز ہوتے ہیں۔ سنا اور پڑھا تھا پر آج دیکھ بھی لیا۔‘‘ امی سے اس نے جو آخری بات کی تھی وہ یہی تھی پھر وہ نیند کی وادی میں چلی گئی تھی۔ امی مگر بہت دیر جاگتی رہی تھیں کہ سوچیں ہی اتنی تھیں جو ان کی نیند کو دور بھگا کر دماغ پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے تھیں۔
’’اچھا امی… میں اب چلتی ہوں‘ اس روز بھی فری اور میں اسکول کی عمارت باہر باہر سے ہی دیکھ کر چلے گئے تھے آج ذرا اندر سے دیکھتی ہوں۔ جو بندہ ناشتہ دینے آیا تھا اس کو دوبارہ آنے کو کہا ہے۔ اب اسی کے ساتھ جارہی ہوں۔‘‘ ناشتہ جو کہ حویلی سے آیا تھا کرنے کے بعد اس نے کپڑے تبدیل کیے اور پرس اٹھا کر امی کو بتاکر باہر آگئی۔ رستم شاہ کا ملازم اس کے ہمراہ تھا۔ باہر نکلنے پر پہلا منظر ہی مبہوت کردینے والا تھا۔ چمکتا ہوا نیلا آسمان اور تاحدنگاہ نظر آتے پیلے اور سبز سرسوںکے خوب صورت پھولوں کی چھب ہی نرالی تھی۔ گائوں کی صاف ستھری اور معطر فضا میںگہرے گہرے سانس ہوا کے سپرد کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ حالانکہ وہ اس راستے سے گزر کر آئی تھی کل وہ اور فری جب آئے تھے تب بھی یہی مناظر دیکھے تھے مگر مناظر کی خوب صورتی اور دلکشی تبھی دل ودماغ کو متاثر کرتی ہے جب ذہن میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور آج وہ بالکل پرسکون تھی۔
’’یہ… یہ کیا ہے؟‘‘ اسکول میں داخل ہوکر اسے سخت حیرت ہوئی جب اس نے وہاں گھوڑے ہنہناتے دیکھے۔
۹…۹…۹
زمان شاہ ناشتہ کرنے کے بعد کتاب اٹھا کر اسی برگد کے درخت کے نیچے چلا آیا جو بچپن سے اس کے دکھ سکھ سن کر اپنے بوڑھے سینے پر رقم کرتا چلا آرہا تھا۔ حویلی میں اماں فاتاں‘ جن کا اصل نام فاطمہ تھا مگر اب فاتاں تھا‘ کی طنزیہ باتیں ہوتیں‘ اماں فاتاں‘ سلطان شاہ کی سگی اور زمان شاہ کی سوتیلی ماں تھیں انہوں نے ہی سلطان شاہ کے دل ودماغ میں اس کے لیے اتنا زہر بھرا تھا کہ جسے ختم کرنا اب ناممکن تھا پھر بھاجائی نسیم تھی‘ سلطان شاہ کی خالہ زاد‘ اماں فاتاں کی بھانجی‘ انہی کا پرتو‘ وہ زیادہ وقت کتابوں کی دنیا میں گزارنا پسند کرتا‘ کتابوں کی دنیا اس کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ بہت خوب صورت‘ چمکدار اور رنگ دار بچا کھچا وقت اپنی پینٹنگز کو دیتا‘ احساسات کو زبان دینے پر ادا سلطان اسے زندہ گاڑ دیتے اس محتاط انداز سے اپنی خواہشات پوری کررہا تھا‘ مگر جب وہ بہت اداس ہوتا تو اپنی گھٹن‘ اپنے احساسات کینوس پر اتار دیتا‘ یوں زندگی کسی طور پر بہتر گزر رہی تھی۔ ابھی وہ کتاب گود میں رکھے آسمان کی وسعتوں میں نجانے کیا تلاش کررہا تھا کہ چونک گیا کہ اس نے اس دن والی لڑکی کو رستم شاہ کے ملازم کے ہمراہ تیز تیز اپنی طرف آتے دیکھا‘ وہ بے اختیار اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تو آپ زمان شاہ ہیں سلطان شاہ کے چھوٹے بھائی‘ اسکول کی سرکاری عمارت میں جانور رکھ کر مجھے نہیں پتہ آپ کیا ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں لیکن ایک دن کے اندر اندر مجھے وہ عمارت خالی چاہیے۔ ادروائز مجھے اوپر رپورٹ کرنی ہوگی کہ آپ لوگوں نے سرکاری عمارت پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے پھر حکومت جانے اور ان کا کام۔‘‘
’’بی بی ہم عورتوں کا باہر بات کرنا پسند نہیں کرتے‘ اس لیے اندر بیٹھ کے بات کرو کہ کیا کہنا ہے اور ہاں یہ سلطان شاہ ان دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اس لیے جو کہنا ہے آرام سے کہو کیونکہ ہم بندے تھوڑی الٹی کھوپڑی کے ہیں۔ تم عورت ذات ہو اس لیے اتنا برداشت کرلیا ورنہ سلطان شاہ کی زمین پر کھڑے ہوکر اسی سے بدتمیزی کرنے والا دوسرا سانس نہیں لے پاتا۔‘‘ ابھی زمان شاہ کھڑا اس کی بات سن ہی رہا تھا کہ سلطان شاہ کو حیا کے پیچھے دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ حیا البتہ ناگواری سے سلطان شاہ کو کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اس کے پیچھے چل پڑی۔ زمان شاہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا۔ خود اعتمادی نہیں تھی تو کیا ہوا‘ خود اعتماد لوگوں کو پسند کرنے کا جذبہ تو تھا ناں اس کے اندر اور وہ لڑکی ذات ہوکر بھی کتنے دھڑلے سے بات کررہی تھی۔ کیا سلطان شاہ سے بھی کوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے؟ اسے پہلی دفعہ وہ لڑکی بے حد اچھی لگی اور اس پر بے حد رشک بھی آیا تھا۔
’’یہ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ مسٹر سلطان شاہ… کس زمانے میں زندہ ہیں آپ اور کیسی باتیں کررہے ہیں؟‘‘ وہ کتنی دیر حیرت سے چپ رہنے کے بعد پھر بولی۔
’’ہاں تو بی بی… کوئی فارسی نہیں بولی میں نے‘ جو تمہیں سمجھ نہیں آئی ہو‘ تم کو رہائش‘ آرام‘ سہولیات ہر چیز مل جائے گی‘ ہر مہینے کی تنخواہ لیتی رہنا کوئی نہیں پوچھے گا مگر اسکول کو آباد کرنے کی بات مت کرو‘ یہ غریب لوگ ہیں ان کو صرف دو وقت کی روٹی سے مطلب ہے‘ یہ علم‘ تعلیم‘ شعور جیسی باتیں تم شہری لوگوں کے چونچلے ہیں۔‘‘
’’مسٹر میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میں یہاں علم پھیلانے کا عزم اور فرض لے کر آئی ہوں اور مجھے پورا کرنا ہے‘ کیسے؟ یہ میں خود دیکھ لوں گی۔ آپ سے صرف اتنی ریکویسٹ ہے کہ آج کی ڈیٹ میں مجھے اسکول کی عمارت خالی ملنی چاہیے اور صاف ستھری‘ چلتی ہوں۔‘‘ وہ اپنا پرس اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ سلطان شاہ نے استہزائیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھا اور اپنے متعمد خاص کو آواز دی۔
’’جی شاہ سائیں۔‘‘
’’اسکول کی عمارت خالی کروا کے صاف کرا دو آج اور گائوں والوں کو بتادو کہ کوئی بھی اپنا بچہ اسکول نہیں بھیجے گا کسی صورت بھی نہیں۔‘‘
’’کیسے ظالم اور بے حس لوگ ہو تم؟ تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے اور اس سے اسے محروم رکھنے کا حق کسی بھی انسان کو حاصل نہیں ہے۔ مجھے تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ تم اور تمہارا بھائی دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو‘ یہ کیسی تعلیم ہے جس نے تم لوگوں کو سکھایا کہ لوگوں سے جینے کا حق چھین لو۔ میں نے جاگیردارانہ نظام اور غریب ہاری کے استحصال کا حال صرف کتابوں میں پڑھا ہے مگر اب اس کی بھیانک شکل بھی یہاں آکر دیکھ لی ہے۔ ارے کوئی حق حاصل نہیں ہے تم جیسے لوگوں کو کتاب پکڑنے کا بھی۔ کتاب کی اتنی بے حرمتی تو وہ لوگ بھی نہیں کرتے جو جاہل‘ ان پڑھ ہوں۔‘‘ زمان شاہ کو واپسی پر کتاب میں مگن دیکھ کر وہ بے ساختہ اس کے پاس آئی اور سلطان شاہ کا سارا غصہ اسی پر انڈیل دیا۔ وہ پہلے تو ہونق سا اسے دیکھتا رہ گیا‘ پھر اس کی بات‘ اس کے غصے کا محرک سمجھ میں آتے ہی ایک مجروح سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
’’ٹھیک کہا بی بی آپ نے‘ ہم جیسے لوگ جو کتاب کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے انہیں کتاب ہاتھ میں لینے کا بھی کوئی حق نہیں… پتہ نہیں کیوں آپ کو مشورہ دینے کو دل کررہا ہے کہ آپ یہاں سے چلی جائیں۔ بہت نازک اور کمزور لڑکی ہیں آپ اور ہمارے ہاں کی روایات کی دیواریں بہت سخت ہیں۔ ان سے ٹکرانا برداشت نہیں کرپائیں گی۔‘‘
’’کیوں… کیوں چلی جائوں‘ میں کمزور ہوں تو کیا ہوا‘ میرے ارادے اور عزائم بہت مضبوط ہیں‘ میں تعلیم دوں گی یہاں کے بچوں کو‘ علم پھیلائوں گی‘ دیکھتی ہوں تم اور تمہارا بھائی مجھے کیسے روکتے ہو؟‘‘ غصے سے کہہ کر وہ مڑنے کو تھی جب اس نے بے ساختہ اسے آواز دے کر روکا۔
’’سنیں بی بی… آپ کے عزائم اور ارادے بہت بلند اور نیک سہی پر یہاں کے لوگ بہت ظالم ہیں۔ وہ اپنے حکم کے جواب میں ناں نہیں سنتے‘ صرف سزا سناتے ہیں۔‘‘ اس پل اس کے چہرے پر عجیب سا خوف تھا۔ حیا بے ساختہ رک کر اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی مگر پھر سر جھٹک کر وہاں سے واپس مڑگئی۔
کیا تھا اس لڑکی میں کہ ہر بار اس سے ملنے کے بعد وہ عجیب سے احساست کا شکار ہوجاتا تھا۔ کیا صرف اس کی بہادری اور خود اعتمادی اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی یا کچھ اور تھا۔ بہرحال اس نے سوچا کہ وہ اسے پھر مجبور کرے گا کہ وہ یہاں سے واپس چلی جائے ورنہ نقصان اٹھائے گی اور اس کے نقصان کا سوچ کر اس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا ایسا حال تو تب بھی نہیں ہوتا تھا اس کا جب ادا سلطان اس پر اپنے رعب کی‘ خوف کی دھاک بٹھانے کے لیے ملازمین پر‘ مزارعوں پر ظلم کی انتہا کردیا کرتا تھا۔
۹…۹…۹
’’ٹھیک ہوں فری… تم سنائو۔‘‘ تین دن ہوئے تھے انہیں یہاں آئے اور آج اسے کال کرنے کا موقع ملا تھا۔
’’تم کیسی ہو حیا؟ میرا اسکول بہت اچھا ہے‘ مجھے سکستھ‘ سیونتھ‘ ایٹتھ کلاس کی میتھ دی گئی ہے پڑھانے کو بہت فنٹاسٹک پیریڈ ہے یہ میری لائف کا حیا‘ بہت مزہ آرہا ہے۔ میں ابھی مزید انجوائے کرنا چاہ رہی ہوں مگر رمیز کہہ رہا ہے کہ بس چھوڑو یہ جاب واب اور شادی کی تیاری کرو اور پاپا کا بھی یہی ارادہ ہے۔ تم سنائو‘ کیسے ہیں لوگ‘ اسکول میں سیٹ تو ہوگئی ہو ناں؟‘‘ فری حسب معمول تیز تیز بولے جارہی تھی۔ حیا نے چھوٹے سے برآمدے میں چھوٹی سی پیڑھی پر بیٹھی امی کو گیس والے سلینڈر پر سالن پکاتے دیکھا اور دل کی آواز زبان پر لانے سے پہلے ہی روک دی۔
’’ہاں ٹھیک ہے‘ اچھا ہے فری‘ نیا نیا اسکول ہے تو اسٹبلش ہونے میں تھوڑا ٹائم لگے گا۔ کل سے پراپر اسکول جوائن کروں گی‘ آج کا دل تو صفائی وغیرہ میں گزر گیا۔‘‘ وہ آج کے دن کی روداد گول کرکے جھوٹ بول گئی کہ امی کو اگر ساری بات کا پتہ چلتا تو انہوں نے اسے یہاں رکنے ہرگز نہیں دینا تھا‘ بھلے شہر میں جاکر اسے کامران سے بیاہ دیتیں وہ۔ فری نے ادھر ادھر کی باتیں کرکے فون بند کردیا‘ تب تک امی سالن اتار کے اب روٹی پکانا شروع کرچکی تھیں۔ اپنے گھر میں کوکنگ رینج پر ہر چیز پکانے والی امی کے لیے پہلے دن لکڑی پر کھانا پکانا سخت دشوار ثابت ہوا تھا تب بھی رستم شاہ کا وہی ملازم کام آیا تھا جو دن میں ایک بار کام وغیرہ کے بارے میں پتہ کرنے آتا تھا۔ اسی کو حیا نے امی سے پیسے لے کر دیئے تھے کہ انہیں شہر سے گیس والا سلینڈر منگوا کردیا جائے‘ دو دن اسی مشکل سے گزارنے کے بعد تیسرے دن سلنڈر کی فراہمی پر امی نے سکون کی سانس لی تھی حالانکہ ملازمہ رستم شاہ کے گھر سے پیغام بھی لائی تھی کہ جب تک گیس والے چولہے کا بندوبست نہیں ہوتا کھانا حویلی سے آتا رہے گا۔ امی نے منع کردیا تھا‘ وہ ویسے ہی ان لوگوں کی بے حد مشکور تھیں اور انہوں نے ملازم سے کہلوا بھیجا تھا کہ حویلی جاکر کہہ دیں کہ بہت شکریہ ان کی نوازشوں کا‘ مگر وہ لوگ اس مکان کا کرایہ بھی دیں گے۔
’’اور سنائو حیا… کیسا رہا آج کا دن‘ کوئی بچے وغیرہ بھی آئے اسکول یا نہیں؟‘‘ ساتھ کھانا کھاتے امی نے حیا کا نوالہ حلق میں ہی اٹکا دیا۔ مگر اس نے فری کو دیا جانے والا جواب فرفر ان کو بھی سنادیا۔ پھر جب رات کو سونے کے لیے لیٹی تو ملازم (رستم شاہ کا) کی باتیں بے اختیار ذہن میں چکرانے لگیں۔
’’آپ تو بی بی صاحب خوامخواہ زمان شاہ جیسے بھلے مانس پر غصہ ہوگئیں وہ تو خود بیچارہ سلطان شاہ کے ظلم کا شکار ہے۔‘‘ پھر اس نے زمان شاہ کے بارے میں اسے ساری تفصیل بتادی۔ حیا کو افسوس ہونے لگا کہ اس نے کہاں کا غصہ کہاں اتارا تھا۔
’’اس لیے تو وہ بیچارہ بار بار مجھے واپس جانے کے لیے کہہ رہا تھا۔‘‘ آخری سوچ جو اس کے ذہن میں آئی وہ یہی تھی۔
صبح اسکول جانے کے لیے وہ تیار ہوتے ہوئے مسلسل یہی سوچتی رہی کہ اگر ایسے ہی وہ خود سر جاگیردار اپنی ضد پر اڑا رہا تو وہ کمزور سی لڑکی کیا کرپائے گی۔
’’خیر میں بھی آخری حد تک کوشش کروں گی۔ جاب رہے نہ رہے بعد کی بات ہے‘ کم از کم حکام بالا تک اس ظلم کی شکایت تو ضرور ہی کرکے رہنی ہے۔ ہوسکتا ہے یہاں کی جہالت کسی ایک فرد کی کوشش کی مرہون منت ہو۔‘‘ مطمئن ہوکر اس نے پرس اٹھایا اور باہر نکل آئی۔ صبح کی تروتازہ اور خالص فضا میں سانس لینا اسے بہت بھلا لگا پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے وہ برگد کے گھنے پیڑ کے پاس آکر رک گئی جہاں کل وہ کتاب اٹھائے نظر آیا تھا‘ آج کینوس پر منظر کی خوب صورتی کو کینوس پر اتارتا نظر آیا۔ تاحد نگاہ لہلہاتے سبز اور پیلے پھولوں کے اوپر افق سے ابھرتا سورج کا منظر اتنا حسین تھا کہ وہ مبہوت ہوکر رہ گئی۔
’’ونڈر فل…‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ زمان شاہ چونک کر مڑا۔ کاٹن کے گلابی سوٹ پر بلیک شال اوڑھے وہ سیدھی اس کے دل میں اترتی چلی گئی۔
’’السلام علیکم! بی بی مت آیا کریں میرے سامنے کہ آپ کو دیکھ کر جینے کو دل کرتا ہے اور خوش ہونے کو جبکہ خوش ہونے کی مجھے اجازت نہیں اور خوشی کے بغیر جینا بھی کیا جینا؟‘‘ اس نے دل میں سوچا۔
’’سوری اس دن میں کچھ زیادہ ہی بول گئی اور یہ نہیں کہ میں نے غلط کہا تھا‘ بالکل ٹھیک کہا تھا‘ مگر غلط انسان سے کہا یہ بات مجھے بہت بعد میں پتہ چلی۔‘‘
’’یہاں تو لوگ انسانوں کو مار کے پلٹ کے نہیں پوچھتے اور آپ ایک بات کہہ کر معافی مانگ رہی ہیں۔ جبکہ آپ نے تو صحیح کہا تھا۔‘‘ وہ یاسیت سے مسکرایا۔
’’جب آپ جانتے ہیں کہ میں نے ٹھیک کہا تو پھر آج تک چپ کیوں ہیں۔ ظلم سہنے والا اور ظلم کو برداشت کرنے والا تو ظالم سے بھی بدتر ہے۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ اپنے اسی مخصوص اداسی والے انداز میں مسکرایا۔
’’بی بی… آپ بہت معصوم ہیں‘ آپ نے یہ لفظ صرف کتابوں میں پڑھے ہیں۔ اللہ نہ کرے کبھی ان کو برتنا بھی پڑے۔ الفاظ کا نظر سے گزرنا اور بات ہے اور اپنے اوپر جھیلنا اور بات ہے۔ میں مانتا ہوں میں بہت کمزور ہوں اور آپ کو بھی کہتا ہوں کہ پلیز اپنی ضد چھوڑیں‘ یہاں خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں نوچ لی جاتی ہیں۔‘‘
’’اف اللہ زمان شاہ… کتنی مایوسی ہے آپ کے اندر۔ مرد کو ایسی باتیں اور انداز زیب نہیں دیتا میں صرف یہ جانتی ہوں کہ سچ کی طاقت ایک دن اپنا آپ منوالیتی ہے اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے آپ کو اپنی آخری سانس تک لڑنا چاہیے کیونکہ شیر کا ایک دن ہی گیدڑ کی سو سالہ زندگی پر بھاری ہوتا ہے۔ آپ مجھے روز نصیحتیں کرتے ہیں کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس چلی جائوں‘ آج میں آپ کو دعوت دیتی ہوں حق کی اس جنگ میں میرا ساتھ دیں اور نہ صرف اپنا حق زندگی سے وصول کریں بلکہ غریبوں کو بھی ان کا حق دلوانے میں میرا ساتھ دیں۔ دیکھیے گا پھر زندگی کتنی خوب صورت لگے گی‘ جب اس میں منزل کو پالینے کا مقصد ہوگا۔‘‘
’’زندگی تو ویسے بھی خوب صورت لگنے لگی ہے بی بی‘ جب سے آپ کو دیکھا‘ آپ کے عزائم دیکھے‘ تو جینے کو دل کرتا ہے۔‘‘ اسے مضبوطی سے قدم اٹھاتے جاتا دیکھ کر وہ سوچ رہا تھا مگر ادا سلطان کے خوف کا درخت بہت تناور تھا جس کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ جبکہ اس کی نوزائیدہ محبت کی تو ابھی ننھی منی کونپل ہی شہر دل سے پھوٹی تھی وہ کہاں اس کا مقابلہ کرسکتا تھا۔ ’’اچھی لڑکی‘ میں چاہتے ہوئے بھی تمہارا ساتھ نہیں دے پائوں گا۔‘‘
اسکول کی عمارت جانوروں سے خالی کروالی گئی تھی۔ حیا نے گھوم پھر کر پورے اسکول کا جائزہ لیا۔ ایک کرسی کو ٹشو پیپر سے صاف کرکے بیٹھنے کے قابل بنایا اور کچھ سوچ کر پرس میں سے اپنا موبائل نکالا جب انہیں ٹریننگ دی گئی تھی تمام افسرآن بالا کے نمبرز بھی نوٹ کروائے گئے تھے تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں ٹیچرز یا ہیڈز رابطہ کرسکیں۔ اے ای او صاحبہ کو کال کرکے تمام صورت حال بتائی۔ سلطان شاہ والا واقعہ خذف کرکے۔
’’ہاں تو بیٹا… دور دراز کے علاقوں میں اسکولز قائم کرنے کا مطلب ہی یہی ہے‘ تعلیم کی روشنی ایسے تمام لوگوں تک پہنچانا جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر علم تک ان کی رسائی نہیں… آپ جیسے ٹیلنٹڈ لوگوں کو اس لیے اپائنٹ کیا گیا ہے کہ اپنی اعلیٰ تعلیم کو صحیح مصرف میں لے آئیں‘ علاقہ کا وزٹ کریں۔ گھر گھر جاکر بچوں کو‘ ان کے والدین کو تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بتائیں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے میم‘ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان لوگوں کو علم حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ورنہ تیسرا دن ہے آج مجھے آئے ہوئے کوئی ایک اس حوالے سے مجھے نہیں ملا جس کو تعلیم کی ترسیل سے کوئی مطلب ہو نہ تو والدین میں سے نہ بچوں میں سے۔‘‘ وہ مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے بولی۔
’’تو بیٹا‘ ایسے میں تو دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے آپ پر‘ تعلیم اور علم کی تبلیغ تو قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ آپ جائیں لوگوں کے پاس‘ پھر طلباء کی تعداد کے مطابق ڈیمانڈ بھجوائیں آپ کو کتابیں اور فرنیچر بھجوا دیا جائے گا۔ بلکہ فرنیچر تو ہوگا وہاں‘ میں خود بھی وزٹ کرتی ہوں ایک آدھ ہفتہ تک۔‘‘ انہوں نے ایک دو باتیں اور کرکے فون بند کردیا تھا۔ حیا طویل سانس لیتی اٹھ کھڑی ہوئی پھر وہ بستی کے بہت سے گھروں میں گئی مگر خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔
’’شوق تو ہے بی بی پر یہاں تو پیٹ بھرنے کو ہی کچھ نہیں‘ گھر کا ایک ایک فرد کام کرکے خون پسینہ کرتا ہے تب ہی ایک وقت کی روٹی کی بات بنتی ہے۔ ایسے میں بچوں کو اسکول بھیجیں یا کام پر…‘‘ کم وبیش ہر گھر میں ایک ہی بات مختلف الفاظ میں سننے کو ملی تھی مگر ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں ایک عورت کی بات نے اسے چونکا دیا تھا۔
’’کس کو شوق نہیں ہوتا بی بی کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر افسر نہ سہی کچھ تو بن جائیں مگر ہم غلام لوگ ہیں جی نسلوں سے غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے‘ ہم چاہیں بھی تو ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘
’’کیوں… کیوں کرتے ہو ایسا؟ اسی غلامی کے ہاتھوں تنگ ہو‘ پھر بھی اپنی آنے والی نسلوں کو غلامی کے اندھیرے دے کے جانا چاہتے ہو۔ کون روکتا ہے تمہیں؟‘‘
’’کوشش کی تھی جی ایک دفعہ‘ میرے بڑے بیٹے کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا‘ اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے تیس کلومیٹر دور کے اسکول میں داخلہ کروایا تھا‘ بڑے شاہ صاحب کو پتہ چلا تو اس سال کی فصل کا اناج نہیں دیا ہمیں‘ میرے آدمی کو کام سے نکال باہر کیا اور کہا کہ آئندہ اسکول بھیجا تو بچے کی زندگی کی بھی خیر نہیں‘ بس جی جان کا خوف روٹی کے خوف سے بھی بڑا اور برا ہوتا ہے‘ وہ دن اور آج کا دن‘ بڑے شاہ صاحب کی منتیں ترلے کرکے منایا اب وہ بھی اپنے ابا کے ساتھ شاہ صاحب کی زمینیں سنبھالتا ہے۔ اب تو چھوٹے کو بھی ساتھ لے جانے لگے ہیں۔‘‘ اس عورت کی بات سن کر حیا حیرت اور دکھ سے گنگ رہ گئی۔ آج وہ ہلکی سی مایوسی کا شکار بھی ہورہی تھی۔ جہاں غلامی اور جہالت کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ وہ لوگ خود چاہتے ہوئے بھی اس سے نہیں نکل پارہے تھے تو بھلا ایک کمزور سی لڑکی کیا کرسکتی تھی…
’’میں پھر بھی کہوں گی اماں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ آپ اس وقت نہ آتیں اس شاہ کے دبائو میں‘ آج آپ کا بیٹا کتنے تعلیمی مراحل طے کرچکا ہوتا۔‘‘ کہہ کر وہ اس کی مجبوریوں کی لمبی ہوتی داستان کو وہیں ادھورا چھوڑ کر چلی آئی۔ کیا ایسا کرے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے‘ یہی سوچتی سوچتی وہ بستی سے بہت دور نکل آئی تھی جب گاڑی کے ٹائر بالکل پاس ہی رکنے کی آواز پر وہ چونک کر رک گئی۔ مسلح گارڈ کے ہمراہ مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ سلطان شاہ کو اترتا دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ دونوں بھائیوں کی شکلوں میں بے پناہ مشابہت تھی۔ مگر نیتوں کا عکس بعض چہروں کو روشن اور بعض کو تاریک بنادیتا ہے۔ سلطان شاہ کا چہرہ بھی اسے ایسا ہی لگا ایک ظالم اور جابر بادشاہ وقت کے چہرے جیسا جس کے چہرے پر ظلم کی سیاہی چھلک رہی تھی۔ جبکہ زمان شاہ کے چہرے پر ایک نرمی سی تھی۔ معصومیت کے امتزاج کے ساتھ۔
’’ہاں تو بی بی‘ شوق پورا کرلیا نوکری کا‘ دیکھ لیا ناں کہ یہاں مکھی بھی ہمارے حکم کے بغیر پر نہیں مارتی اور تم انسانوں کو ورغلا رہی ہو۔ ارے یہ لوگ مر جائیں گے مگر ہم سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتے… یہ غلام پیدا ہوئے‘ غلام ہی مریں گے۔ ان کو خواب دکھا کر مت ان کی زندگی کو مشکل بنائو۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر کھائو پیو موج کرو‘ یہاں رہنا چاہو تو مرضی ہے تمہاری‘ ہر ماہ کی تنخواہ لیتی رہو‘ نہ بھی منظور ہو تو تمہارا ٹرانسفر کرادیتے ہیں‘ اتنی نرمی ہم کسی سے بھی نہیں برتتے مگر تم پر نجانے کیوں ترس آتا ہے ہمیں۔‘‘ مونچھوں کو بل دیتا‘ آنکھوں میں عجیب سی چمک لیے وہ جیسے اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
’’مسٹر سلطان… آپ شاید بھول گئے ہیں کہ آپ اللہ نہیں ہیں جو رزق روٹی کے دینے یا روکنے کا اختیار آپ کے پاس ہو‘ مجھے آپ کی کسی بھی قسم کی مدد کی ہرگز ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی مشورے کی اور مت بھولا کریں کہ اللہ کی لاٹھی‘ بہرحال بے آواز ہوتی ہے۔‘‘ کہہ کر وہ رکی نہیں تھی تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی تھی۔ کتنی ہی دور تک وہ اپنی پشت پر نوکیلی نظریں محسوس کرتی رہی پھر گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز پر ہی وہ بے ساختہ رکی تھی۔
’’اف اللہ… اس خبیث انسان کی باتوں میں آکر مجھے پتہ ہی نہیں چلا غصے میں میں کتنی دور نکل آئی۔‘‘ کوفت سے اس نے سوچا پھر تھوڑی دور اسے خانہ بدوشوں کی کچھ جھونپڑیاں دکھائی دے گئیں‘ کچھ سوچ کر وہ ان کی جانب چل پڑی۔ تھوڑی دیر بعد احساس ہوا کہ اللہ کا کوئی بھی کام کسی بھی مصلحت سے عاری نہیں ہوتا۔ وہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے‘ بس انسان ہی اس کی حکمت کو جاننے سے قاصر ہے۔ وہاں ان پندرہ بیس گھروں میں عورتیں یہ جان کر بے حد خوش ہوئیں کہ ان کے علاقے میں بھی کوئی اسکول ہے اور قریباً سترہ اٹھارہ بچے تو اسی وقت اس کے ساتھ جانے کو تیار ہوگئے جب پتہ چلا کہ اتنی پیاری سی لڑکی ان کو پڑھائے گی اور کتابیں بھی دے گی۔
’’ابھی تو چھٹی کا ٹائم ہوچکا ہے بچو… کل آپ لوگ صبح آٹھ بجے اسکول آنا صاف ستھرے کپڑے پہن کر‘ پھر کچھ دنوں تک میں آپ لوگوں کو یونیفارم بھی بنوادوں گی۔‘‘ کالے رنگ والی بدذائقہ چائے پھر بھی اس لمحے اس کو بے حد لذیذ لگ رہی تھی‘ واپسی پر وہ بے حد خوش اور مطمئن تھی‘ پہلا قدم مشکل اور پرخطر ضرور تھا مگر اس نے اٹھا ہی لیا تھا۔ واپسی پر برگد کے پیڑ کے نیچے زمان شاہ کو دیکھ کر وہ تیزی سے اس کے پاس آئی۔
’’کہاں تھیں آپ آج۔ اسکول بھی بند تھا‘ گھر بھی نہیں گئیں آپ‘ میں بے حد پریشان تھا کہ کہیں خدانخواستہ آپ کو کسی نے نقصان نہ پہنچا دیا ہو۔‘‘ وہ بے حد پریشان سا ہوکر جس وقت اس کے پاس آیا اس کی بے تابی دیکھ کر حیا حیران رہ گئی اور دل کو انجانی سی خوشی بھی ہوئی۔
’’میں پورے گائوں میں دیکھ آیا ہوں آپ کو اور اب مسلسل دو گھنٹے سے یہاں بیٹھا انتظار کررہا تھا۔‘‘
’’آج میں بہت خوش ہوں زمان شاہ‘ پتہ ہے کیا ہوا؟‘‘ وہ خوشی سے سارے دن کی روداد سناتی چلی گئی۔ ’’آج میرے پاس چند بچے ہیں‘ کل شمع سے شمع جلے گی‘ میں صرف یہاں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی‘ کل ہی مجھے آئیڈیا آیا کہ مجھے نزدیکی بستیوں میں جانا چاہیے صرف یہاں کے لوگ ہیں ناں تمہارے بھائی کی رعایا اس سے آگے تو اس کی مطلق العنانی نہیں چلے گی۔‘‘
’’پہلے میں آپ سے کہتا تھا کہ آپ واپس چلی جائیں مگر اب آپ کا عزم مجھے ایسا کرنے سے روک رہا ہے۔ اللہ کرے جو خواب آپ دیکھ رہی ہیں اس کی تعبیر آپ کو ویسی ملے جیسی آپ چاہتی ہیں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘
’’صرف دعائیں ہیں زمان شاہ میرے ساتھ‘ میرا ساتھ نہیں دوگے؟‘‘ اس کے چہرے پر نظریں جما کر وہ کسی امید کے تحت بولی۔
’’کچھ لوگوں کی صرف دعائیں ہی آپ کا زادراہ ہوتی ہیں کہ چاہتے ہوئے بھی وہ آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتے۔ کیونکہ یہ بات نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ چلنا نہیں چاہتے بلکہ اس لیے کہ ان کا ساتھ آپ کے سفر کو مزید مشکل بناسکتا ہے۔‘‘ دور کہیں آسمانوں کی وسعتوں میں تکتے اس نے کچھ عجیب سا جواب دیا جو حیا کے سر کے اوپر سے گزر گیا۔
’’پتہ نہیں کتنی بھاری بھاری فلسفیانہ باتیں کرتے ہو تم حالانکہ تمہاری عمر اتنی زیادہ نہیں ہے۔ زندگی بہت خوب صورت ہے اسے انجوائے کرو۔ مجھے دیکھو تمہیں لگتا ہوگا کہ بہت بہادر ہوں‘ دنیا کا کوئی غم مجھے چھوکر نہیں گزرا مگر غم کا ڈھنڈورا پیٹنے یا خود پر طاری کرنے سے دنیا آپ کے اوپر حاوی ہوتی ہے اور انسان خود ختم ہوجاتا ہے۔ غموں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘ پھر اس نے اپنی زندگی کے حالات کی تصویر کھینچ کر اس کے سامنے رکھ دی۔ ’’اوپر اللہ اور زمین پر ایک ماں کے سہارے میں زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنے نکلی ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ جہاں میں ذرا سا کمزور پڑی وہاں میرے کزن یا تمہارے بھائی جیسے لوگ میری تاک میں ہیں مگر جب تک عزم جوان ہے اور اپنے اللہ پربھروسہ ہے میں نے ہار نہیں ماننی۔ میرے ابو بہت اسٹرانگ انسان تھے اور انہوں نے مجھے بھی یہی سکھایا ہے کہ جینا ہے تو سر اٹھا کے جیو۔‘‘ اس نے اس کی زندگی کے حوالے سے کچھ باتیں ملازم کی زبانی سنی تھیں کچھ باتوں باتوں میں وہ خود مایوسی کا اظہار کر جاتا‘ جبھی حیا نے اسے بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔
’’آپ بہت خوش قسمت ہیں بی بی… کہ آپ کو مضبوط قوت ارادی والے والدین کی سرپرستی حاصل رہی جنہوں نے بھرپور محبت اور اعتماد دے کر آپ کی ذات میں بہت سی خوبیاں اجاگر کردیں‘ جن میں سرفہرست حالات کا جوان مردی سے مقابلہ کرنا ہے۔ میرا کیس آپ سے ٹوٹلی مختلف ہے۔ ایک غلط بیک گرائونڈ سے تعلق رکھنے والی ماں کا احساس ہی جان لیوا تھا میرے لیے رہی سہی کسر باپ کی اس بے رخی نے پوری کردی جو انہوں نے ساری زندگی مجھ سے روا رکھی مجھ سے لاتعلق رہ کر شاید وہ اپنی پہلی بیوی اور گھر والوں کے سامنے اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے تھے جو میری ماں سے محبت پھر شادی کی صورت میں کی تھی اور جس کا خمیازہ مجھے تمام عمر بھگتنا پڑا۔ چاروں طرف سے یہ احساس دلانے والے لوگ تھے کہ میری ماں کا تعلق کس جگہ سے تھا۔ مدد کے لیے کبھی باپ کی طرف دیکھنا بھی چاہا تو انہوں نے نظریں چرالیں بجائے یہ کہنے کے کہ اگر اس میں اس عورت کا خون ہے تو میرا بھی تو ہے۔ میری بھی تو اولاد ہے یہ‘ مگر ایسی کوئی بات سننے کے لیے کان ترس گئے میرے۔‘‘ لہو رنگ آنکھوں کے ساتھ وہ اپنی ناکام اور درد بھری زندگی کا ورق ورق اس کے سامنے کھول رہا تھا۔ ’’ابا کی بے رخی‘ اماں (سوتیلی ماں) کے طنز‘ سب سے بڑھ کر ادا سلطان کی رعب دار شخصیت نے میرے اندر کی خوبیوں کو کہیں اندرہی دفن کردیا۔ ابا کے مرنے کے بعد میں مزید تنہا رہ گیا۔ میں اب چاہوں بھی تو اپنے خوف‘ عدم اعتماد پر قابو پانا ناممکن ہے میرے لیے۔ دو لوگوں کو اونچا بولتے دیکھ کر میں خوف زدہ ہوجاتا ہوں۔ ادا سلطان کے سامنے تو شاید کبھی ایک جملہ بھی میرے منہ سے پورا نہیں نکلا۔‘‘ اس نے جیسے خود کا مذاق اڑایا۔ ’’یہ تو آپ دنیا کی وہ واحد ہستی ہیں جن کے سامنے میں پتا نہیں کیوں اپنے سب دکھ بیان کر جاتا ہوں اور آج تک اس کی وجہ نہیں تلاش کرسکا کہ کیا وہ بات ہے جو مجھے آپ کی طرف کھینچتی ہے۔‘‘ اب وہ زمین کو دیکھتا‘ جوتے کی ٹوہ سے کچی زمین کی مٹی اکھیڑتا ہولے ہولے بول رہا تھا۔ حیا کو اس پل اس معصوم اور سادہ انسان پر بیک وقت پیار اور ترس آیا۔
’’میں جانتی ہوں کہ کیسی زندگی گزاری ہوگی آپ نے اور کیسے حالات رہے ہوں گے تب بھی میرا یہ ماننا ہے کہ انسان کو حالات کے دھارے پر خود کو چھوڑنے کی بجائے ہاتھ پائوں مار کر خود کو بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ پھر بھی ناکامی ہو تو وہ مقدر ہوتا ہے‘ آپ تو مرد تھے‘ جب کسی قسم کے سازگار حالات نہیں تھے تو بھی آپ کو مقابلہ کرنا چاہیے تھا‘ آپ بھی ٹھیک اسی طرح اس گھر کے بیٹے ہیں جس طرح سلطان شاہ‘ اپنے ابا سمیت ان کی تمام جائیداد کے بھی برابر حصہ دار‘ ابھی بھی وقت آپ کے ہاتھ میں ہے بہت کچھ بدل سکتے ہیں‘ صرف ذرا سی ہمت کرنے سے۔ آپ کے پاس تعلیم ہے‘ دماغ ہے‘ صرف طاقت نہیں ہے تو کیا ہوا؟ جو ہے اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اپنے اندر کے بزدل مرد کو مار دیں۔ آپ بھلے میرا ساتھ نہ دیں‘ میں آپ کے ساتھ ہوں اور جب تک یہاں ہوں آپ کو بہادری کے راستے پر چلنے کی تلقین کرتی رہوں گی۔ انسان کو جینا چاہیے تو بادشاہ کی طرح‘ غلام کی زندگی کوئی زندگی نہیں ہے۔ چلتی ہوں امی پریشان ہورہی ہوں گی۔‘‘ سورج کے سائے ڈھلتے دیکھ کر وہ واپسی کے لیے قدم بڑھا گئی اور زمان شاہ کے لیے سوچوں کے نئے در وا کر گئی۔
وہ جو بہادری اور عزم کے کئی سبق حیا سے پڑھ کر آیا تھا‘ پہلے ہی قدم پر بھولتے محسوس ہوئے‘ جب گھر آنے پر پہلا سامنا ہی ادا سلطان شاہ سے ہوا۔
’’آئو بھئی زمان شاہ‘ مجھے خُوشی ہورہی ہے یہ جان کر کہ میرا بھائی بھی جوان ہوگیا ہے۔‘‘ استہزائیہ انداز میں کہتے انہوں نے زمان شاہ کو سر سے پائوں تک دیکھا۔ اسی مخصوص نظر سے جو زمان شاہ کے چھکے چھڑا دیا کرتی تھی۔ ’’بڑا جی دار ہے بھئی تو‘ تو اتنی جلدی یاری گانٹھ لی شہری استانی سے کہ گھنٹے گھنٹے گزار کے جاتی ہے تیرے پاس۔‘‘ زمان شاہ کا اگرچہ خون کھول اٹھا تھا‘ حیا کے متعلق غلط بات سننا بہت تلخ تجربہ تھا اس کا۔
’’نہیں ادا… وہ…‘‘
’’او… بس… بس… سب جانتا ہوں میں‘ بس اس کو اپنی زبان میں سمجھا کہ واپسی چلی جائے یہاں سے۔ نہ ورغلائے یہاں کے معصوم لوگوں کو ورنہ اچھا نہیں ہوگا اس کے حق میں۔‘‘ وہ رعونت سے کھڑے ہوگئے اور ٹہلتے ہوئے بولے۔
’’کوشش کروں گا۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔
’’کوشش نہیں زمان شاہ…‘‘ وہ دھاڑے۔ ’’اسے روکنا ہے ہر صورت‘ اگر تجھے پسند ہے تو تیری شادی کراسکتا ہوں اس سے مگر یہ اسکول والا کام چھوڑنا ہوگا اسے۔‘‘ وہ اس کے پاس آکر رک گئے۔ ’’سمجھ گئے ناں زمان شاہ اور جانتے ہو ناں تم اچھی طرح کہ اپنی حکم عدولی کرنے والے کا ہم کیا حشر کرتے ہیں… وہ نہیں جانتی تم تو جانتے ہو نہ‘ سمجھا دینا اسے اپنی زبان میں۔‘‘ زمان شاہ کو سب کچھ بھول گیا تھا‘ یاد رہی تھی تو ادا سلطان کی شادی والی بات؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اس نے ڈرتے ڈرتے خود سے پوچھا۔ پھر وہ یہ جان کر حیران ہوا کہ اس کے تخیل میں حیا کا تصور اتنا قوی تھا کہ اس نے اسی سرشاری کی کیفیت میں اسی تصور کو اس خوبی سے کینوس پر اتارا کہ خود ہی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ پوری رات اسی کام میں مصروف رہ کر بھی تھکن کا شائبہ تک نہ تھا۔ شاید محبت اسی کو کہتے ہیں۔ اس صبح اسی خوب صورت احساس کے گھیرے میں اسے وہ روز مرہ کے کیے جانے والے کام بھی اچھے لگنے لگے جو اماں فاتاں نے اس کے ذمہ لگائے ہوئے تھے۔ منہ اندھیرے باڑے کی صفائی اور جانوروں کا دودھ نکال کر ان کا چارہ کاٹنا پھر ان کو کھلانا اور اپنے مخصوص وقت پر وہ باہر نکلنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اماں فاتاں کا پیغام آیا کہ اپنی نگرانی میں کھیتوں سے سرسوں لاکر گودام میں رکھوائے اور اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹے موٹے کام ایسے تھے جن میں اسے شام تو نہیں سہ پہر ضرور ہوجانی تھی۔ اس کا مطلب آج بی بی سے ملاقات ممکن نہیں… اس نے مایوسی سے سوچا۔ زندگی بہت خوب صورت ہوجاتی ہے جب اس میں کوئی مقصد ہو‘ اسے حیا کی کہی بات یاد آئی۔ واقعی بی بی مجھے لگ رہا ہے کہ زندگی خوب صورت ہے کہ میری زندگی کا مقصد آپ ہیں۔ آپ کو پاسکوں نہ پاسکوں نصیب کی بات ہے‘ مگر محبت کے اس سفر میں‘ میں تنہا ہرگز نہیں ہوں یہ خیال ہی مجھے ہوائوں میں اڑائے دے رہا ہے۔ اس کے لب مسکرائے۔
۹…۹…۹
اسکول آتے ہوئے برگد کے اسی پیڑ کی جگہ پر بے ساختہ رکی مگر اس کی جگہ خالی دیکھ کر دل بھی جیسے خالی سا ہوگیا تھا۔ محبت ایسی ہی تو ہوتی ہے ہر سودو زیاں سے بے نیاز۔ بھلا کب ایک ایسے شخص کی خواہش کی تھی حیا نے جو دیہاتی بھی ہو‘ بزدل اور عدم تحفظ کا شکار بھی‘ وہ خود جیسی تھی اپنے لیے ویسے ہی جیون ساتھی کا بھی سوچ رکھا تھا۔ مضبوط‘ بہادر جس کی پناہ میں اسے سارے دکھ بھول جائیں جبکہ زمان شاہ اس کی سوچ سے بڑھ کر بزدل اور کمروز تھا لیکن اس کی ساری خامیوں پر اس کی ایک خوبی بھاری تھی۔ سادہ‘ خالص اور سچے دل کا۔ پھر تعلیم میں بھی تو اس کے ہم پلہ تھا۔ بزدل تھا تو کیا ہوا‘ وہ اسے اپنے جیسا بنالے گی۔ دماغ کو تاویلیں دیتے دل کی توجیحات پر وہ خود ہی ہنس پڑی اور ایک ترنگ سے اسکول کی طرف بڑھ گئی پھر اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی جب ایک ساتھ اٹھارہ بچے آئے تھے خانہ بدوشوں کی بستی سے‘ چار سے بارہ سال کی عمر تک کے لڑکے بھی تھے اور لڑکیاں بھی۔ اس نے اسمبلی کروائی تھی۔ انہیں خود ہی پڑھنا سکھایا‘ پھر اسی دن ایک بڑا بچہ جس کی عمر تقریباً بارہ سال ہوگی کو چھٹی کے بعد لے کر نزدیکی بستی کا بھی چکر لگایا‘ پہلے کی نسبت وہ اب زیادہ پراعتماد اور پرعزم تھی وہاں بھی بہت سارے لوگوں نے اپنے بچوں کو بھیجنے کا عندیہ دیا۔ واپسی پر بچے کو اپنے گھر بھیج کر وہ اکیلی ہی گائوں کی سمت آرہی تھی جب مخصوص جگہ پر زمان شاہ کو بے قراری سے اپنا انتظار کرتا پایا۔
’’صبح کدھر گم تھے آپ؟ میں نے انتظار کیا تھا آپ کا۔‘‘ وہ اس کے پاس آکر رکتے ہوئے بولی۔
’’بس بی بی جن دنوں میں فارغ نظر آتا ہوں سمجھیں اماں فاتاں کی نظر کرم نہیں پڑی ہوتی مجھ پر اور ایک دفعہ پڑ جائے تو کام پر کام نکالے چلے جاتی ہیں‘ میں بھی آج ملنا چاہ رہا تھا آپ کو ایک خاص چیز دکھانی تھی۔‘‘ آج تو زمان شاہ بھی اپنے ہمیشہ والے موڈ سے یکسر ایک نیا زمان شاہ لگا جس کا چہرہ محبت کی روشنی سے چمک رہا تھا۔
’’ مجھے نہیں دیکھنی کوئی چیز۔‘‘ یک دم وہ خفگی سے بولی۔ زمان شاہ کا چہرہ تاریک ہوگیا۔
’’ارے تم تو پریشان ہی ہوگئے۔‘‘ اس کا چہرہ دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنسی۔ ’’میں تو اس لیے کہہ رہی ہوں کہ مجھے بی بی مت بلایا کرو‘ میرا نام لیا کرو‘ یوں لگتا ہے اپنی اماں فاتاں سے مخاطب ہو۔‘‘ اس کے اس طرح کہنے پر اب کے زمان شاہ کی ہنسی بے ساختہ تھی پھر وہ خود ہی سنجیدہ ہوگیا۔
’’کیا ہے کہ میں ابھی اپنے آپ کو اس قابل ہی نہیں سمجھتا کہ آپ کا نام اپنی زبان پر لاسکوں۔‘‘ کہہ کر اس نے اسے رات کی محنت اور محبت کا منہ بولتا ثبوت اس کی اپنی شکل کی صورت میں دکھایا جسے دیکھ کر حیا حیرت سے گنگ رہ گئی۔
’’بہت خوب صورت… بہت عمدہ… مجھے تمہارا گفٹ ہمیشہ یاد رہے گا۔‘‘ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’اچھا حیا بی بی… آپ کی اور میری بات چیت ادا سلطان کی نظر میں آگئی ہے اور بھی لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ میں پتہ نہیں کیسے اتنی بڑی بات فراموش کر گیا۔ آپ یہ میرا نمبر رکھ لیں جو بات کرنی ہوگی فون پر کرلیا کریں۔ اس طرح یہاں ملنا مناسب نہیں‘ نہ ہی میں آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات سن سکتا ہوں۔‘‘ وہ سنجیدہ ہوگیا۔
’’تھینک یو زمان شاہ… مجھے خود خیال کرنا چاہیے تھا کہ ہر علاقے کی کچھ اقدار اور روایات ہوتی ہیں‘ جن کی پاسداری وہاں کے لوگوں کا اولین فرض ہے‘ تم ایسا کرنا گھر آنا میں تمہیں اپنی امی سے ملوائوں گی۔‘‘
’’نہیں بی بی… میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میرا آپ کی زندگی میں عمل دخل آپ کی زندگی کو زیادہ مشکل کردے گا‘ آپ آئندہ اس طرح اکیلی مت کہیں جایا کریں‘ کسی بچے کو ساتھ لے کر نکلا کریں۔‘‘ سلطان شاہ کی گفتگو ذہن میں گردش کرنے لگی تو وہ متفکر سا اس سے بولا تھا۔ ویسے بھی وہ اپنے مقصد کے حوالے سے اتنی پرجوش اور پرعزم تھی کہ اسے ادا سلطان کی تنبیہہ کے بارے میں بتانا مناسب نہیں سمجھا۔
’’چلیں میں آپ کو گھر تک چھوڑ دوں۔‘‘ کہتے ہوئے ساتھ ہی وہ قدم بڑھا کر اس کے آگے ہولیا۔ اس کے ساتھ چلتے حیا نے بے اختیار یہ سفر اور ہم سفر دائمی ہونے کی دعا کی۔
’’سنو…‘‘ جب وہ واپس مڑنے کو تھا اس نے اسے روکا۔
’’بے شک ہم ملا نہ کریں‘ لیکن تم… تم روزانہ ایک دفعہ اس جگہ آ تو سکتے ہو ناں… مجھے اب تمہیں روز دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے۔‘‘ کہتے ساتھ وہ جھپاک سے اندر غائب ہوگئی۔ زمان شاہ کو بے پایاں مسرت کے احساس سے ہمکنار کرتے ہوئے اس نے آج واضح انداز میں اپنی محبت کا احساس بخش دیا تھا‘ واپسی کا سفر گویا پھولوں کے راستے پر طے ہوا تھا اس کا۔
۹…۹…۹
اگلی صبح عام دنوں سے زیادہ روشن اور خوب صورت تھی۔ وہ اپنے مقررہ مقام پر موجود تھا مگر اس بار ایک خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا تھا ان کے بیچ‘ اس کے بعد حیا نے اپنی راہ اور زمان شاہ نے اپنی راہ لی تھی۔
’’ٹیچر… یہ ایک بھائی دے کے گئے آپ کے لیے۔‘‘ بڑا سا پیکٹ تھا‘ بچوں نے اس کے حوالے کیا تھا۔ کھولنے پر اندر بہت سی کلر پینسلز‘ ریزر‘ شاپنرز اور کاپیوں کے ساتھ کلرڈ کتابیں بھی تھیں۔ حیا نے سارا سامان نکال کر آخر میں ایک چٹ نکالی‘ جس پر درج تھا۔
’’روشنی کے اس سفر میں زمان شاہ کی ایک ادنیٰ سی کوشش مستقبل کے معماروں کے لیے۔‘‘ پڑھ کر اس کی آنکھیں جھلملا گئیں۔ اس نے اسے باتوں باتوں میں بتایا کہ بچوں کو کتابیں تو حکومت کی طرف سے مل گئی ہیں مگر تعلیم کے لیے دیگر لوازمت بھی چاہیے ہوتے ہیں جو غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کے والدین شاید پورا نہیں کر پارہے۔ اس وقت وہ خاموش رہا تھا مگر آج اس کے ایک عمل نے حیا کے دل میں جہاں اس کی قدر کو بڑھایا تھا وہاں بچوں میں خُوشی کی لہر دوڑا دی تھی۔ سب سے بڑھ کر خوشی کی بات اس کے لیے یہ ہوئی تھی کہ بارہ تیرہ مزید بچے نزدیکی بستی سے بھی آئے تھے‘ اس کے اسکول اور حکومت کی طرف سے تعینات کی گئی چیکنگ ٹیم نے بھی اس کا اسکول اسی دن چیک کیا تھا اور بچوں کی تعداد اور اس کی کارکردگی سے متاثر ہوتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ بچوں کی تعداد کے حساب سے مفت کتابوں اور فرنیچر کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
امی اس سے سارے دن کی رو داد سننے کے بعد اب پرسکون نیند میں تھیں‘ کچھ انہوں نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرلیا تھا اس لیے خاصی مطمئن تھیں۔ اب حیا نے ایک نظر ان کو دیکھتے اپنی شال کو مضبوطی سے خود سے لپیٹا اور موبائل لے کر باہر آگئی۔ مسکراتے لبوں سے اس نے وہ نمبر ملایا جو اسی وقت اس کے ذہن پر نقش ہوگیا تھا جب اس نے چٹ اس کے حوالے کی تھی۔ دوسری جانب سے گویا اسی پیش رفت کا انتظار تھا۔ جبھی پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کرلی گئی۔
’’شکریہ زمان شاہ‘ مگر مجھے اس وقت زیادہ خوشی ہوگی جب حق اور سچ کے اس سفر میں آپ کسی ڈر اور خوف کے بغیر میرا ساتھ دیں گے۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ مسکرادیا۔ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔ پھر وہ اسے بتاتی رہی کہ کیسے آج کل اسے اسکول میں بے حد مزہ آرہا ہے۔ اس نے بتایا اب وہ پروگرام بنا رہی ہے کہ سیکنڈ ٹائم بچوں کو گھر بھی بلا لیا کرے۔ امی کے پاس وہ قرآن پاک پڑھیں گے اور وہ خود انہیں پڑھایا کرے گی۔ زمان شاہ کو اسے سننا ہمیشہ اچھا لگتا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے اسے سن رہا تھا۔ دیہاتوں میں چونکہ رات جلدی ہوجاتی ہے‘ سو گیارہ بجے اسے احساس ہوا کہ اس پر کپکپی طاری ہورہی تھی‘ کیونکہ وہ ایک گھنٹے سے سردی میں کھڑی اس سے بات کررہی تھی۔ پھر بات ختم کرکے وہ جب اندر آئی‘ سردی نے شدت اختیار کرلی۔ ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے وہ امی کے بستر میں چلی آئی پھر نیند آتے آتے بارہ تو بج ہی گئے ہوں گے جب زور دار کھٹکے پر امی کی آنکھ کھلی۔ ایسا لگا تھا دروازے کو کسی نے دھکا لگایا ہو۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھیں ان کے اس طرح اٹھنے سے حیا بھی اٹھی۔
’’کیا ہوا امی؟‘‘
’’حیا… حیا باہر کوئی ہے؟‘‘ امی کی لرزتی آواز پر حیا نے تکیے کے نیچے ٹٹول کر اپنا موبائل نکال کر لائٹ آن کی۔ لائٹ گئی ہوئی تھی اس لیے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ اب حیا کے موبائل کی روشنی میں ہی انہوں نے پھر دروازے کو باہر سے دھکا لگنا محسوس کیا پھر ایک مرد کی کرخت سی آواز آئی۔
’’دروازہ کھولو‘ نہیں تو ہم دروازہ توڑدیں گے۔‘‘ یعنی وہ تعداد میں ایک سے زیادہ تھے۔ امی کے تو ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑگئے‘ انہوں نے حیا کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
’’کون ہے باہر؟‘‘ اب کے حیا نے بستر پر بیٹھے بیٹھے پوچھا‘ اگرچہ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ جتنی بھی بہادر بنتی اس قسم کی صورت حال سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔ کوئی خیال بجلی کے کوندے کی طرح ذہن میں آیا اور اس کے ہاتھ جانا پہچانا نمبر ڈائل کرنے لگے۔ اب دروازہ واقعی اس انداز میں دھڑ دھڑایا جارہا تھا کہ جیسے نہ کھلنے پر توڑ کے ہی دم لیں گے۔ مسلسل پانچ سات منٹ اسی طرح کی کوشش جاری رکھی جاتی تو ٹوٹ بھی سکتا تھا‘ اگر تو ایک سے زیادہ آدمی باہر موجود تھے۔
’’ہیلو…‘‘ نیند سے بوجھل آواز حیا میں جیسے نئی توانائی دوڑا گئی۔
’’زمان… زمان یہاں ہمارے گھر میں اس وقت چور موجود ہیں یا ڈاکو مجھے نہیں پتہ‘ وہ دروازہ کھولنے پر اصرار کررہے ہیں اور دروازہ توڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔‘‘ وہ بے تحاشا روتے ہوئے بولی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جبکہ امی تو اتنی خوف زدہ تھیں کہ ان کی آواز تک نہیں نکل پارہی تھی اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑچکے تھے ابھی وہ پوری طرح سے بات نہ بتا پائی تھی کہ سیل کی بیٹری ایک دم ڈائون ہونے کی وجہ سے سیل آف ہوگیا۔ دفعتاً فضا میں ایک زور دار فائر کی آواز نے دلوں کو دہلا دیا اور چند ہی لمحوں بعد بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں دور ہوتی چلی گئیں۔
’’حیا… واپس چلو‘ اللہ کے لیے واپس چلو‘ عزت سے بڑھ کر ایک عورت کے لیے دنیا کی کوئی چیز قیمتی نہیں ہوتی۔ آج وہ لوگ اندر آجاتے تو سوچا ہے کہ کیا ہوتا؟‘‘ امی اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں جبکہ حیا صورت حال کو کچھ نہ سمجھتے ہوئے فی الحال ساکت بیٹھی تھی۔ اسی دوران لائٹ بھی آگئی۔ موبائل کب کا آف ہوچا تھا۔ کمرے میں ملگجی سی روشنی پھیل گئی۔ امی نے ہمت کرکے اٹھ کر لائٹ جلائی۔
’’دفع کرو ایسی نوکری کو حیا جس میں عزت جانے کا خطرہ الگ ہو اور جان جانے کے بھی لالے پڑے ہوں۔ صبح کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی ہم نے یہ گائوں چھوڑ دینا ہے اور تم نے اس بار کوئی بحث نہیں کرنی۔‘‘
’’کیسی باتیں کرتی ہیں امی؟ ہماری قسمت میں جو ہونا لکھا ہے وہ دیہات ہو یا شہر ہر صورت ہونا ہی ہے۔ ہوسکتا ہے وہ لوگ کسی اور گھر کے دھوکے میں یہاں آگئے ہوں۔ ہمارے پاس کیا رکھا ہے جو کوئی ڈاکا ڈالنے یہاں آئے گا۔ پھر انہوں نے ہمیں نقصان بھی تو نہیں پہنچایا اور واپس چلے گئے۔ مجھے لگتا ہے انہیں پتہ چل گیا ہوگا کہ غلط جگہ آگئے ہیں۔‘‘
’’بس کرو حیا‘ میں اب تمہاری ایک نہیں سنوں گی اور نہ ہی ان مفروضوں پر یقین کرکے بیٹھی رہوں گی۔‘‘ وہ رات ان دونوں کے لیے بہت بھاری اور کڑی تھی۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ حیا کا تو خوف زائل ہوگیا مگر امی ابھی تک اسی کے زیر اثر تھیں۔ فجر کی نماز سے قبل انہوں نے شکرانے کے نفل پڑھے اور چارپائی کے نیچے سے بیگ نکال کر یہاں وہاں دھری چیزیں اور کپڑے اس میں ڈالنے لگیں۔
’’کیا کررہی ہیں امی؟‘‘
’’ہم یہاں سے جارہے ہیں حیا۔‘‘ وہ اب اس کی کوئی ضد ماننے کے موڈ میں نہیں تھیں۔
’’اچھا مجھے ایک بار رستم شاہ کے پاس تو جانے دیں انہیں بتائوں گی سب بات تو وہ کوئی حل بھی نکال لیں گے اس کا۔ مجھے تھوڑا سا وقت دیں پلیز… میری ساری محنت کو اس طرح اکارت نہ کریں۔ صدیوں پرانی رسوم اور جاہلیت پر پڑے بھاری قفل میری محنت اور کوشش سے اب کھلنے کو ہیں۔ آپ یقین کریں کہ مجھے تھوڑا سا وقت دیں پھر میں آپ کی ہر بات مانوں گی۔‘‘ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے ضد کرکے‘ تاویلیں دے کر امی سے اپنی بات منوا ہی لی تھی۔
۹…۹…۹
’’کیسی ہیں بی بی… کیا ہوا کون لوگ تھے رات؟ آپ نے ادھوری بات کرکے مجھے پریشان ہی کردیا۔ میں فوراً ہی آیا تھا یہاں مگر تب تک وہ لوگ وہاں سے فرار ہوچکے تھے پھر تب سے اب تک میں یہیں آس پاس ہی رہا ہوں۔ آپ کا سیل بھی آف تھا اور اس وقت میں آپ کے گھر نہیں آنا چاہتا تھا۔‘‘ شدید کہر بھری صبح میں بھاری شال خود سے لپیٹے سردی سے سرخ ہوتا چہرہ لیے وہ بے حد پریشان تھا اور دھند کی ایک دبیز چادر نے سارے منظر کو خود میں سمولیا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ بہت قریب آنے پر اس کی کالی شال کی جھلک نظر آئی تھی اسے تب پتہ چلا تھا کہ کوئی ذی روح تھا وہاں اس کے علاوہ بھی۔ حیا کی آنکھیں ایک بار پھر بھر آئیں۔
’’مجھے یہ سلطان شاہ کا کام لگتا ہے زمان۔ وہ اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔‘‘ وہ نفرت سے بولی۔ زمان شاہ کا چہرہ زرد پڑگیا۔
’’آپ چھوڑیں یہ سب بی بی‘ واپس چلی جائیں۔ وہ اپنی راجدھانی میں نہ تو کسی کی مداخلت برداشت کرتا ہے نہ اپنے اصولوں کی رو گردانی۔‘‘
’’نہیں زمان شاہ میں ایسے ہار نہیں مانوں گی۔ مجھے ایک دفعہ رستم شاہ نے اپنے گھر میں ایک کمرہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ سوچ رہی ہوں امی کو لے کر وہیں شفٹ ہوجائوں‘ رینٹ تو ہم یہاں بھی دیتے ہیں‘ وہاں کا بھی دے دیں گے بس یہ ہے کہ وہاں امی بھی مطمئن ہوں گی اور وہ اتنی آسانی سے وہاں ایسے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گا۔ میں نے ان ننھی ننھی کلیوں کی آنکھوں میں جو خواب سجائے ہیں انہیں اتنی آسانی سے نوچنے نہیں دوں گی۔‘‘ عزم پھر بھی جوان تھا زمان شاہ نے پریشانی سے اسے دیکھا۔
’’بی بی آپ سلطان شاہ کو جانتی نہیں ہیں‘ وہ نہ تو رستم شاہ سے ڈرتا ہے نہ کسی اور سے‘ وہ آپ کو یہاں سے نکالنے کے لیے کوئی اور ترکیب لڑائے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کو نقصان پہنچے‘ اللہ کے لیے آپ چلی جائیں یہاں سے۔‘‘
’’تم میری کوئی مدد نہیں کرسکتے تو میرے ارادے کو بھی متزلزل مت کرو۔ ویسے بھی جو شخص اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا دوسرے کا کیا سہارا بنے گا۔‘‘ اس بار اس نے غصے سے کہا اور زمان شاہ کے چہرے پر پھیلی شکستگی دیکھے بغیر وہاں سے بھاگ گئی۔ رستم شاہ نے اس کی بات تحمل سے سنی تھی۔
’’میں نے تو پہلے بھی کہا تھا بی بی کہ آپ یہاں مہمان ہیں اور پھر آپ کا درجہ تو یوں بھی بلند ہے کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک اچھے مقصد کے لیے آئی ہیں تو آپ یہاں میرے گھر پر رہیں۔ میری اماں ہیں‘ بیوی ہے‘ بھرا پرا گھر ہے‘ آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ باقی کون لوگ تھے جنہوں نے آپ کو ہراساں کیا اس کا بھی جلد ہی پتہ چل جائے گا۔‘‘ ان سے بات کرتے ہی وہ امی کو لے کر رستم شاہ کے گھر آگئی۔ دو دن سے اس نے زمان شاہ کو نہیں دیکھا تھا۔ پھر اپنا تلخ لہجہ اور بات یاد آئی تو شرمندہ ہوگئی۔ اتنی جلدی بھلا وہ اس پر سے اس کی فطرت اور ماحول کے چڑھائے گئے رنگ کیسے اتار سکتی تھی۔ اس کے لیے وقت چاہیے تھا۔ وہ ناراض ہوگا‘ مجھے اسے کال کرنی چاہیے۔ اس نے سوچا۔
آج بھی وہ ایک بچے کے ہمراہ سروے کے لیے نکلی تھی۔ پھر پلک جھپکتے میں ایک جیپ اس کے پاس رکی اور لمحوں میں وہ سارا کچھ ہوگیا جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ اس کے ساتھ جو بچہ تھا وہ شور مچاتا‘ چیختا رہ گیا اور گاڑی منٹوں میں ہی دھول اڑاتی وہاں سے غائب ہوگئی۔
اس کے اغوا کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور وہ جو سمجھے بیٹھی تھی کہ زمان شاہ اس سے ناراض ہے اسے سلطان شاہ نے دو دن سے شہر بھیجا تھا زمین کے لیے رقم کی کچھ ادائیگی ہونی تھی سو اپنے ایک خاص بندے کے ساتھ زمان شاہ کو بھی بھیجا تھا‘ وہ اسی شام کو پہنچا تھا پھر جس وقت اسے پتہ چلا کچھ دیر تو سن دماغ لیے وہ بیٹھا رہ گیا پھر تیر کی تیزی سے ادا سلطان کے پاس آیا تھا۔
’’آپ نے ہی اغوا کرایا ہے ناں اسے؟‘‘ پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ جس پل وہ وہاں آیا تھا اور پھر بولا تو ادا سلطان نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
’’جوانی اندھی ہوتی ہے سنا تھا‘ پر آج دیکھ بھی لیا‘ اپنی آنکھوں سے۔ میرے سامنے زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکالنے والا بھائی آج مجھ پر آنکھیں نکال کے کھڑا ہے۔کہا تھا ناں تمہیں کہ سمجھادو اسے۔ اب اسے کھلا تو نہیں چھوڑنا تھا میں نے کہ غلاموں کو ورغلا کر میرے سر پر بٹھا دے اور میں دیکھتا رہوں۔‘‘
’’غلام نہیں ہیں لوگ آپ کے‘ نہ زرخرید نوکر‘ پورا حق ہے ان کا تعلیم پر‘ شعور پر‘ زندگی کی ہر ضرورت پر اور وہ معصوم لڑکی صرف انہیں تعلیم کا شعور دینے آئی تھی بس۔‘‘ اس کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سلطان شاہ کا زور دار گھونسہ اسے زمین چاٹنے پر مجبور کر گیا پھر سلطان شاہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ اسے گھونسوں اور لاتوں پر رکھ لیا۔
’’یہی بغاوت نہیں چاہتا میں جو اس نے تم میں پیدا کی اور جو میرے لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اپنے کیے کی ایسی عبرتناک سزا بھگتے گی وہ کہ اس کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔‘‘ مغلظات بکتے ہوئے سلطان شاہ کی زبان ان دونوں کے قصیدے پڑھ رہی تھی اور ہاتھ اور پائوں بری طرح سے زمان شاہ کو زدو کوب کرنے پر مجبور تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ خوف کی آخری سرحد کے پار ہی حوصلے اور ہمت کی حد شروع ہوتی ہے اور بات جہاں محبت کی ہو تو پھر انسان خود پر تو زیادتی برداشت کرسکتا ہے جس سے محبت کرتا ہو اس پر نہیں۔
’’بولوں گا‘ ایسے ہی بولوں گا لوگوں کے حق میں اور بی بی کے اس مشن کو ویسے ہی آگے بڑھائوں گا۔‘‘ اس نے اس بے خوفی سے کہا کہ خود سلطان شاہ دم بخود رہ گیا۔ برسوں سے کی گئی محنت اکارت ہوتی محسوس ہوئی اس پل۔ جو کام حیا سمجھا سمجھا کر نہ کرپائی تھی اس کی جدائی کے چند گھنٹوں نے زمان شاہ سے کروا لیا تھا۔ پھر سلطان شاہ کو مزید سوچنے یا عمل کرنے کا موقع نہ مل سکا کہ زمینوں پر پانی کے مسئلے پر ایک لڑائی میں اس کے اور رستم شاہ کے مزارعوں میں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ رستم شاہ کا ایک بندہ مارا گیا تھا سلطان شاہ کے بندے کے ہاتھوں جبکہ دوسرا شدید زخمی تھا۔ سلطان شاہ فی الحال اسی معاملے کو سلجھانے کی الجھن میں زمان شاہ کی اتنی بڑی تبدیلی پر زیادہ غور نہ کرسکا۔
۹…۹…۹
’’امی…‘‘ ہچکیاں لیتے ہوئے اس کی سسکی نکلی تھی۔ گاڑی میں بے ہوش ہوجانے کے بعد اسے ایک تنگ سے اندھیرے کمرے میں ہوش آیا تھا۔ کچھ دیر یونہی لیٹی رہی کہ حواس ابھی پوری طرح سے قابو میں نہ تھے‘ پھر جیسے ہی گزرے واقعے کی فلم ذہن کی اسکرین پر چلی تو اندازہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ آنسو روانی سے بہنے لگے کچھ ہی دیر میں وہ زاروقطار روتے ہوئے کسی کو مدد کے لیے بلا رہی تھی۔ مگر یوں لگتا تھا کہ اس کے سوا یہاں کوئی ذی روح موجود ہی نہ ہو۔ صرف ایک پلنگ جس پر وہ لیٹی ہوئی تھی۔ لکڑی کے دروازے کے پٹ مضبوطی سے بند تھے اور دس فٹ کے اس کمرے میں کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس کا پرس بھی غالباً ان لوگوں نے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا۔ تین چار گھنٹے روتے اور کسی کو مدد کے لیے پکارتے اس کا گلا بیٹھ گیا پھر جب وہ امید ہی چھوڑ بیٹھی تھی‘ لکڑی کے دروازے پر آہٹ پر اس نے اپنا دوپٹہ اپنے گرد مضبوطی سے کسا اور اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ ایک خوف ناک سے شکل والے گن مین کے ساتھ سلطان شاہ کو دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر اس کا منہ نوچ لے۔
’’ہاں تو استانی صاحبہ‘ دیکھ لیا اپنی ضد کا انجام۔‘‘ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’ایسا مت کرو سلطان شاہ مجھے واپس جانے دو‘ میری امی بہت پریشان ہوں گی میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمہارے گائوں سے واپس چلی جائوں گی۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی اس ظالم سے التجا کرتے ہوئے‘ اس بار سلطان شاہ کے حلق سے بے اختیار ایک قہقہہ نکلا۔
’’سلطان شاہ اتنے مواقع کسی کو نہیں دیتا جتنے تمہیں دیئے مگر تم اسے شاید ہماری کمزوری سمجھی تھی۔ وہ ہماری کمزوری نہیں تھی۔‘‘ وہ اس کے بے حد قریب آگیا۔ ’’تم ہمارے دل کو بھاگئی ہو‘ اس لیے اب تمہاری رہائی بھی ہماری شرائط پر ممکن ہے۔‘‘ حیا سمٹ کر مزید پیچھے ہوئی۔
’’کیسی شرائط سلطان شاہ… میں نے کہا ناں‘ میں لکھ کر دیتی ہوں تمہیں کہ اب کبھی تمہیں نظر نہیں آئوں گی پلیز مجھے جانے دو۔‘‘
’’نہ… نہ حیا بی بی… ایسے رونا‘ گڑگڑانا تم جیسی جی دار لڑکی کو زیب نہیں دیتا۔ تمہاری بہادری ہی تو بھا گئی ہے سلطان شاہ کو‘ ہم سے ویسے ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرو‘ تمہیں اپنے دل کی رانی بنا کر رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے ہم نے۔‘‘ حیا کی تو خوف سے آنکھیں پھٹ گئیں‘ اس کی فرمائش سن کر۔
’’جلد ہی نکاح ہوگا ہمارا… پھر دھوم دھام سے لے کے جائیں گے تمہیں گائوں اپنی دلہن بنا کے۔‘‘ جیسے ہی سلطان شاہ نے اس کے نرم گال کو چھوا وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر چیخ پڑی۔
’’بکواس مت کرو سلطان شاہ‘ میں تمہاری زر خرید غلام نہیں ہوں جو میری زندگی کا ہر فیصلہ تم کروگے۔‘‘ ساری نازک صورت حال کو بھول کر وہ اس لمحے وہی پرانی حیا تھی۔
’’رہنا تم نے ہماری بن کے ہے۔ یہ ہمارا فیصلہ ہے‘ نکاح میں آکر رہو یا بغیر نکاح… یہ فیصلہ تم پر چھوڑتے ہیں۔ جلد ہی دوبارہ آئیں گے۔‘‘ اسی اطمینان اور سکون سے کہہ کر وہ چلا گیا یہ سوچے بغیر کہ حیا پر کتنی مشکل گھڑی اتری تھی اس پل۔
۹…۹…۹
’’جب تک آپ کی ٹیچر نہیں آتیں‘ آپ کو میں پڑھائوں گا‘ ہم نے ان کے خواب کو آگے لے کر جانا ہے‘ آپ کو‘ اس گائوں کے تمام بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا خواب حیا کے ادھورے کام کو وہ ڈنکے کی چوٹ پر پورا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ صرف یہی نہیں اس نے سلطان شاہ کے خلاف جاکر حیا کے اغوا کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ مقامی علاقے کے ایس ایچ او نے فون کرکے سلطان شاہ کو ساری صورت حال سے آگاہ کردیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ فی الحال رپورٹ درج نہیں کررہا لیکن اگر زمان شاہ شہر چلا گیا اور اوپر کہیں بات پہنچادی تو ایک ٹیچر کو غائب کروانے والی بات زیادہ دیر چھپ نہیں سکے گی اور نہ ہی وہ کچھ کرپائے گا اگر اس پر اوپر سے دبائو ڈالا گیا کیونکہ زمان شاہ نے مقامی تھانے کے چکر لگا لگا کر ان کا ناطقہ بند کیا ہوا تھا۔ سلطان شاہ ہنکارا بھر کر رہ گیا۔ وہ فی الحال اسی مسئلے کو دبانے میں لگا تھا جو اس کے خاص آدمی کے ہاتھوں رستم شاہ کے بندے کا قتل ہوا تھا اگر وہ شخص پکڑا جاتا تو سلطان شاہ کے بھی بہت سے کالے کارنامے کھلنے کا خطرہ تھا جبکہ اس بار رستم شاہ بھی کھل کر سامنے آیا تھا اس کے خلاف۔
حیا کی امی کی رو رو کر حالت غیر ہوچکی تھی۔ آج چار روز گزر جانے کے بعد بھی حیا کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ وہ چونکہ سلطان شاہ کی حیا سے چپقلش سے ناواقف تھیں اس لیے یہ جاننے یا اندازہ لگانے سے قاصر تھیں کہ یہ سب اس کا کارنامہ بھی ہوسکتا ہے۔ اگرچہ رستم شاہ نے ان کو تسلی دی تھی کہ وہ کوشش کررہے ہیں ان کی بیٹی کے بارے میں جلد پتہ لگانے کا مگر ان کو کسی پل چین نصیب نہیں تھا۔
’’یہ کیا بکواس ہے زمان شاہ… مجھے بھول گئے ہو یا میرے نظر سے اوجھل ہونے کو میری کمزوری سمجھ بیٹھے ہو۔‘‘ سلطان شاہ نے عدالتی نوٹس ٹیبل سے اٹھا کر زمان شاہ کے منہ پر مارا جو عدالت کی طرف سے زمان شاہ نے بھیجا تھا کہ چونکہ وہ اپنے والد کی تمام جائیداد میں سلطان شاہ کے برابر کا حق دار ہے سو جلد از جلد اس کے حصے کی جائیداد اس کے حوالے کی جائے۔
’’یہ میرا حق ہے سلطان شاہ اور اس سے آپ تو کیا کوئی بھی مجھے محروم رکھنے کا روا دار نہیں۔‘‘ سلطان شاہ کے سامنے تن کر کھڑا وہ زمان شاہ ہرگز نہیں تھا جس کی اپنے بھائی کو دیکھ کر گھگھی بندھ جاتی تھی بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا حق طلب کرتا اس کی ٹکر کا زمیندار لگ رہا تھا۔
’’اور ہاں… آپ کا وطیرہ ہے کہ جو آپ کی غلط سرگرمیوں اور کالے کرتوتوں سے واقف ہوجائے یا آپ کی حکم عدولی کرے اسے آپ غائب کرادیتے ہیں یا راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ میں عدالت کو اور اپنے وکیل کو پہلے ہی بتادیا ہے کہ مجھے کچھ ہوجانے کی صورت میں ذمہ دار سلطان شاہ کو سمجھا جائے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حیا کو چھوڑ دیجیے۔ جس دن میں نے اسے ڈھونڈ لیا آپ کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔‘‘ سلطان شاہ نے بغور اس کا انداز اور لہجہ ملاحظہ کیا اور مضبوط قدم اٹھاتا زمان شاہ کے سامنے آٹھہرا۔
’’اب مزہ آئے گا زمان شاہ… سلطان شاہ شیر ہے اس لیے اسے لڑائی کا مزہ بھی شیروں کے ساتھ آتا ہے۔ یہ جائیداد میرے باپ کی ہے اور اس پر حق صرف اس کی خاندانی اولاد یعنی سلطان شاہ کا ہے۔ تم سے جو بن پڑتا ہے وہ جاکے کرو اور رہی استانی تو وہ جلد ہی تمہاری بھابی کے درجے پر فائز ہونے والی ہے۔ جلد ہی اس نئی حیثیت میں ملوگے اس سے۔‘‘ ایک کمینی مسکراہٹ کے ساتھ سلطان شاہ نے اس کے دماغ کی چولیں ہلا دیں۔
’’بکواس بند کرو سلطان شاہ… تم ایسا کچھ نہیں کرو گے اس کے ساتھ۔ دیکھو میں اپنی جائیداد والی شرط سے دستبردار ہونے کو تیار ہوں‘ تم اسے آزاد کردو۔ اس کی ماں کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘ زمان شاہ نے پہلے غصے میں پھر مصالحتی انداز میں کہا۔
سلطان شاہ اس کی بات سن کر اور حیا کے لیے اس کی بے تابی دیکھ کر قہقہے لگاتا چلا گیا۔ زمان شاہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر پیر پٹخ کر وہاں سے چلا گیا۔
’’ہاں بچل… زمان شاہ بہت پر پرزے نکالنے لگا ہے۔ اس کی صرف جان بخشی کرنی ہے بس‘ باقی جو چاہے حال کرو‘ اجازت ہے تمہیں‘ خیال رہے کہ کچھ عرصہ تک بستر سے اٹھنے نہ پائے وہ اور واقعے کو بالکل حادثے کا رنگ دینا ہے۔ ہم اس وقت کوئی نیا مسئلہ لینے کے حق میں نہیں ہیں۔ سمجھ گئے ہو ناں میری بات؟‘‘ زمان شاہ کے وہاں سے چلے جانے کے بعد ایک طنزیہ مسکراہٹ سلطان شاہ کے چہرے پر آئی اور موبائل پر اپنے خاص کارندے کو زمان شاہ کے متعلق ہدایات دیں۔
حیا نے خالی خالی نظروں سے اپنے پاس پڑے شادی کے تمام لوازمات کو دیکھا اور کوئی خیال آنے پر ایسے پیچھے دھکیل دیا جیسے وہ زہریلے ناگ ہوں‘ ایک گھنٹہ پہلے ہی وہی عورت اس کے پاس یہ سب رکھ کر گئی تھی جس کے بارے میں وہ سمجھی تھی کہ شاید وہ گونگی اور بہری ہو کیونکہ وہ جب سے یہاں لائی گئی تھی وہی عورت بس تین ٹائم کھانا رکھ کر بغیر کچھ کہے سنے چلی جاتی‘ اس نے بہت منتیں کی تھیں اس کی کہ اسے جانے دیا جائے‘ روئی گڑگڑائی بھی تھی مگر وہ ان سنی کرکے چپ چاپ چل دیتی تو تب حیا نے سمجھا تھا کہ شاید وہ سننے اور بولنے کی قوت سے محروم ہے۔ آج جب اسے بولتے سنا تو حیرت سے گنگ رہ گئی تھی۔
’’خان نے کہا ہے کہ یہ سب پہن کر تیار رہو وہ کچھ دیر میں پہنچنے والے ہیں۔ کہنا نہ ماننے پر نتائج کی ذمہ دار رہنا۔‘‘ اس نے کسی روبوٹ کے سے انداز میں یہ پیغام سنایا اور اس کی بات سنے بغیر ہمیشہ کی طرح باہر چلی گئی۔ پھر سہ پہر سے شام ڈھل گئی‘ حیا کا آنے والے لمحات کا سوچ کر برا حال تھا۔
’’یااللہ… میری عزت کی حفاظت کرنا۔ کہاں ہو تم زمان شاہ‘ دیکھو تو تمہارے بھائی نے کیسا ظلم توڑا ہے۔ مجھ پر اور تمہیں تو شاید علم بھی نہیں ہوگا۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی اور اسے یاد کرتی رہی۔ پھر رات کا اندھیرا بڑھتے ہی چہل پہل کی آواز پر وہ خوف کے مارے کھڑی ہوگئی۔ اردگرد کچھ ایسا تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے وہ اپنی حفاظت کرسکے لیکن ایسا تو وہ کئی بار کرچکی تھی وہاں صرف ایک چارپائی کے کوئی اضافی تنکا بھی موجود نہ تھا۔ ایک سے زائد قدموں کی آواز پر وہ سمٹ گئی اور دروازہ کھلنے پر جو پہلا فرد نظر آیا تھا اسے دیکھ کر اس کی نظریں وہیں ٹھہر گئی تھیں۔ وقت گویا رک گیا تھا۔
’’زمان شاہ…!‘‘ لفظ ٹوٹ کر اس کے لبوں سے نکلے اور وہ خود بھاگ کر اس کے بازو سے آلگی۔ ’’زمان… مجھے بچالو… مجھے لے جائو اپنے بھائی کی قید سے… میں وعدہ کرتی ہوں اب مڑ کر یہاں کبھی قدم نہیں رکھوں گی۔‘‘ روتے روتے وہ پتہ نہیں کیا کیا بول رہی تھی۔
’’ایساکچھ نہیں ہوگا… میں آگیا ہوں ناں‘ سب ٹھیک ہوجائے گا… میں آپ کو کہیں جانے نہیں دوں گا۔ ابھی فی الحال یہاں سے نکلنا ہے کیونکہ جلد ہی یہاں پولیس کی ریڈ متوقع ہے۔‘‘ وہ نرمی سے اس کے آنسو پونچھ کر اسے الگ کرتا ہوا بولا۔ زمان شاہ اکیلا نہیں تھا وہاں اس کے ساتھ رستم شاہ اور دو تین لوگ اور بھی تھے جنہوں نے اسے زمان شاہ کے ساتھ گاڑی پر بھجوا دیا تھا۔ برائی جتنے بھی اپنے پر کیوں نہ پھیلا لے‘ ظلم کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو… جب حد سے گزرتا ہے تو اسے مٹنا ہی ہوتا ہے‘ سلطان شاہ نے بھی ظلم کی حد کردی تھی۔ تب ہی اللہ نے اس کی رسی کو زیادہ دراز نہیں ہونے دیا۔ شہر میں مقدمے کی پیشی کے بعد واپسی پر اس کی گاڑی کو شدید حادثہ پیش آیا اور وہ جانبر نہ ہوسکا۔
’’میں نے اللہ سے تمہاری واپسی کے لیے اتنی دعائیں کیں‘ دن رات تمہاری تلاش کے لیے کہاں کہاں نہیں پھرا اور اب جب میرے اللہ نے سب کچھ ٹھیک کردیا۔ آپ کو مجھ سے ملا دیا۔ آپ کے اسکول کے بچوں کا آپ کی غیر موجودگی میں آپ سے بھی بڑھ کر خیال رکھا۔ انہیں پڑھایا اور سب سے خوشی کی بات میرے کہنے پر کچھ لوگوں نے اپنے بچے بھی اس اسکول میں بھیجے‘ سلطان شاہ کا خوف رکھے بغیر۔ اب آپ جانے کی بات کررہی ہیں؟‘‘ گاڑی میں جب وہ مسلسل روتے ہوئے واپسی کی رٹ لگائے بیٹھی تھی۔ زمان شاہ نے اسے بتایا تھا۔ ’’رستم خان کا خصوصی شکریہ ادا کرنا ہے کہ ان کا ساتھ نہ ہوتا تو میں آپ تک نہ پہنچ سکتا۔ آپ کی امی ابھی تک ان کے گھر پر ہیں۔ رستم خان نے ان سے آپ کی برآمدگی کا وعدہ کیا تھا۔ سلطان شاہ کے خاص کارندے کی نشاندہی میں نے کی تھی اسے قابو رستم خان نے کیا۔ دولت بڑے بڑوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس شخص نے صرف آپ کا پتہ ہی نہیں بتایا بلکہ سلطان شاہ کے کئی کارناموں کا بھی بتایا‘ یہ فارم ہائوس جہاں آپ کو رکھا گیا تھا سلطان شاہ کی وہ خاص اور خفیہ جگہ ہے جہاں پر اس کے بہت سے ناجائز کام پایہ تکمیل تک پہنچتے تھے۔‘‘ زمان شاہ نے اب مزید بتایا۔
حیا نے بے اختیار خوف سے جھرجھری لی کہ اگر سلطان شاہ آج آجاتا تو… پھر اپنے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سکون سے اپنا سر سیٹ کی بیک سے لگا کر آنکھیں موند لیں۔
’’حیا… جلدی آئیں بھئی اسکول کا ٹائم ہورہا ہے۔ آپ کو اسکول چھوڑ کے پھر مجھے شہر جانا ہے۔‘‘ باہر سے زمان شاہ کی آواز آئی تو حیا نے جلدی جلدی اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیا اور خوب صورت مسکراہٹ کے ساتھ باہر آگئی۔ جہاں اس کا بے حد چاہنے والا شوہر اس کا منتظر تھا۔ تخت پر بیٹھی امی نے مسکرا کر دونوں کو ساتھ اسکول جاتے دیکھا اور دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری تھی۔
چاہنے والے تو بہت ہوتے ہیں۔ مگر اصل چاہنے والا وہ ہوتا ہے جو اپنے محبوب کے لیے خود کو بدل ڈالے۔ زمان شاہ اس کا اصل چاہنے والا تھا‘ جس نے نہ صرف حیا کے لیے خود کو بدلا تھا بلکہ اس کے ساتھ مل کر اس علاقے کے لوگوں کی بہتری کے لیے کوشاں تھا۔ اب گائوں کا کوئی گھر ایسا نہیں تھا جہاں کا بچہ اسکول نہ جاتا ہو‘ حیا کو یقین تھا کہ چراغ سے چراغ جلا تو یہ جہاں یونہی منور ہوگا۔ بیس دن پہلے ہونے والی ان دونوں کی شادی میں پورے گائوں نے بڑی مسرت سے شرکت کی تھی۔ انہیں اپنا یہ نیا زمیندار بے حد پسند آیا تھا جو ان کے دکھ درد میں برابر کا شریک تھا۔ وہ جلد ہی گائوں میں ایک ہسپتال بنوانے کا ارادہ بھی رکھتا تھا۔ چمکتے سورج‘ کھلتے پھولوں اور معطر ہوا نے ان دونوں کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا پھر اپنی چمک‘ خوشبو اور تازگی بڑھادی تھی۔ بہاروں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ موسم گل آنے کو تھا نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے گائوں والوں کے لیے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close