Hijaab Mar-17

پیا کا گھر

ندا رضوان

بیس دسمبر کی رات ڈیڑھ بجے آنٹی (خالہ) اور فیصل بھائی ہمیں اپنے گھر لے جانے کے لیے آئے۔ آج شام ہی میں‘ سمیرا بھابی اور ماموں زاد بھائی دانیال نے گھر کی سجاوٹ اور مہندی کی رسم کے سامان کی خریداری کی تھی اور اب ہمیں سجاوٹ کے لیے اپنی خالہ کے گھر جانا تھا۔ شادی کا یہ احوال جو میں آپ سب کو سنانے جارہی ہوں یہ ہم سب کی ہر دلعزیز آپی اور آپ سب کی پسندیدہ مصنفہ ندا حسنین کی شادی کا احوال ہے اور میں ان کی خالہ زاد بہن رمشہ مقصود قارئین کی دلچسپی اور ادارے کی فرمائش کے پیش نظر آپی کی شادی کا احوال آپ کی خدمت میں پیش کررہی ہوں۔
تو جناب ہم کزنزکا قافلہ آدھی شب ندا آپی کے گھر پہنچا جہاں مبشر بھائی اور سمیرا بھابی پہلے ہی ہمارے منتظر تھے۔ ڈرائنگ روم جہاں کل ندا آپی کی مایوں کی رسم ادا کی جانی تھی اس کی سجاوٹ پر سب سے پہلے غورو خوص کیا گیا تب تک دانیال نے فوراً سے بیشتر شادی بیاہ کے گانے لگادیئے اور گانے لگتے ہی سمیرا بھابی نے بھاگ کر اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا جہاں چھوٹے میاں محمد ہادی حسنین بڑی جتن کے بعد نیند کی وادی میں سیرو تفریح کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور اب خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ خدشہ تھا کہ گانوں کی آواز سے وہ بیدار نہ ہوجائیں اس لیے پہلی فرصت میں بھابی نے اپنے صاحبزادے کی طرف سے اطمینان کیا‘ ڈرائنگ روم کی سجاوٹ کا آغاز ہوچکا تھا میں رومیعہ‘ مسکان‘ بھابی اور مبشر بھائی ہم سب کاغذی پھولوں اور فیری لائٹس کی مدد سے پہلے ڈرائنگ روم اور پھر آپی کا کمرہ سجانے لگے۔فجر کے وقت تک ہم سجاوٹ سے فارغ ہوئے اور گھر کو لوٹ آئے۔ آج کے دن ندا آپی نے مایوں بیٹھنا تھا اور ہم سب نے عصر تک خالہ کے گھر پہنچ جانا تھا۔
پیلے جوڑے میں ملبوس‘ نیٹ کے خوب صورت پیلے دوپٹے کا گھونگھٹ لیے ندا آپی ہم سب کی آمد کی منتظر تھیں۔ یوں تو ہم کئی ماہ سے ندا آپی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے پر اب جب دن قریب سے قریب تر ہوتے چلے جارہے تھے تو خوشی کے ساتھ ایک الگ ہی احساس ہم سب کے دلوں میں جاگ رہا تھا‘ ندا آپی کے چلے جانے کا احساس۔ ہم سب ہی ندا آپی سے کافی اٹیچڈ تھے اور اب ہر پل ان کی رخصتی سے قریب ہوتا ہمارے دلوں کو اداس کرتا چلا جارہا تھا بظاہر ہم سب بے حد خوش و مسرور تھے۔ اپنے کاموں میں مصروف اور شادی کی تیاریوں میں مگن ہونے کے ساتھ ہم سب کی ہی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت ندا آپی کے ساتھ گزاریں۔
گھر میں تقریباً سب ہی مہمان آچکے تھے‘ ایک دن قبل ہی آنٹی نے قرآن خوانی اور بکرے کا صدقہ وخیرات کیا تھا۔ مایوں کی رسم کا آغاز آنٹی اور خالو نے آپی کو ابٹن لگا کراور مٹھائی کھلا کر کیا۔ آنٹی چند ماہ قبل ڈینگی وائرس کا شکار ہوئی تھیں۔ڈیڑھ ماہ کے بیڈ ریسٹ سے اٹھتے ہی وہ شادی کی تیاریوں میں جت گئی تھیں۔ اس وقت ان کے چہرے پر شادی کی تیاری کی فکر تھی۔اب تیاریاں مکمل ہوگئی تھیں اب ان کے چہرے پر اکلوتی بیٹی کی رخصتی کا خیال ہویدا تھا۔ رسموں کا آغاز ہوچکا تھا‘ باری باری گھرکی تمام خواتین نے اور پھر ہم سب کزنز نے آپی کو ابٹن لگایا‘ مٹھائی کھلائی‘ خوب ہلا گلا مچایا۔ ایک دوسرے کو بھی ابٹن لگایا گیا‘ یوں ایک خوب صورت شام کا اختتام خوشیوں بھرے قہقہوں کی گونج کے ساتھ ہوا۔
آنے والے دن ہمارے لیے بے حد مصروف ترین ثابت ہونے والے تھے۔ اگلے دن سے ندا آپی کو ابٹن لگانے کا آغاز ہوچکا تھا اور ساتھ ہی ہم سب نے شادی بیاہ کے گانوں پر پرفارمنس کی تیاری بھی شروع کردی تھی۔ ہم سب ہی اس شادی پر بے حد ایکسائٹڈ تھے کیونکہ ہم نے اپنے خاندان میں زیادہ تر لڑکوں کی شادی کی تیاری کی تھی کافی عرصے بعد ہمارے خاندان سے لڑکی رخصت ہونے جارہی تھی لہٰذا ہم سب ہی اس شادی کو یادگار اور ندا آپی کے لیے خاص بنانا چاہ رہے تھے سو ہم نے ڈانس پریکٹس کی اور خوب انجوائے کیا۔ امی‘ خالہ اور مامی نے جہاں ہماری کافی حوصلہ افزائی کی وہیں مبشر بھائی‘ فیصل بھائی اور فیضان نے خوب کھنچائی بھی کی اور یہی چھیڑ چھاڑ‘ نوک جھوک تھی ہماری جو سب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرے دے رہی تھی اور اس چھیڑ چھاڑ سے جب ہم ناراض ہوتے تب ندا آکر ہمیں مناتیں اور کھنچائی کرنے والوں کی کلاس لیتیں اور سچ پوچھیں تو پرفارمنس کی تیاری میں ندا آپی نے ہماری بے حد حوصلہ افزائی کی تھی۔
ندا آپی کے نکاح اور مہندی میں بس دو دن ہی باقی تھے۔ ہم روز رات کو آپی کو ابٹن لگاتے یہاں تک کہ علیشبہ‘ ماہین‘ ابیہہ پر مشتمل چھوٹو گینگ نے بھی ابٹن لگانے کی رسم ادا کی۔آنٹی ندا آپی سے دور دور رہ رہی تھیں شاید انہیں خدشہ تھا کہ خودپر باندھے آنسوئوں کے بندھ بیٹی کے سامنے ٹوٹ نہ جائیں ان دنوں دن چٹکی بجاتے گزر رہے تھے۔ لڑکیاں تو خیر سے مشہور ہی ہیں کسی بھی موقع پر آخری وقت تک تیاری کے لیے مگر یہاں الٹی گنگا بہتی معلوم ہورہی تھی۔ مبشر بھائی‘ فیصل بھائی اور دانیال کی تیاری مکمل نہ ہوپائی تھی‘ مہندی والے دن ان تینوں نے اپنے کُرتوں کی شاپنگ کی۔ سارے لڑکوں نے پیلا دوپٹہ گلے میں ڈالنا تھا مگر انہیں جو دستیاب نظر آیا وہ گلے میں ڈال لیا۔ مبشر بھائی نے تو اپنی شادی کا کلاہ ہی کھول کر گلے میں ڈال لیا۔
ندا آپی کو مہندی والے دن رامین نے تیار کیا تھا۔ رامین ندا آپی سے بے حد اٹیچڈ ہے مگر یونیورسٹی کلاسز کی وجہ سے وہ ان کے پاس روک نہیں پارہی تھی مگر اس کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ جس حد تک ہوسکے ندا آپی کے ساتھ رہے‘ مہندی والے دن میں نے خالہ اور امی کو تیار کرکے فارغ کیا اور پھر ندا آپی کو رامین نے تیار کیا۔ مرجنڈا رنگ کے فرسٹ اوپن کٹ کرتے پیلے رنگ کے لہنگے اور سی گرین رنگ کے ٹشو کے دوپٹے میں ندا آپی بے حد پیاری لگ رہی تھیں۔ یہ تیاری اپنی جگہ مگر سسرال والوں کی آمد پر ندا آپی کو گھونگھٹ میں رہنا تھا‘ دلہن کا نکاح گھونگھٹ میں ہونا تھا۔ لان میں پہنچ کر آپی کا فوٹو شوٹ ہوا کچھ دیر بعد لڑکے والوں کی آمد ڈھول کی دھماکے دار تھاپ پر ہوئی۔ عارفین اپنے دوستوں اور خالد بھائی ڈھول کی دھمک کے ہمراہ اپنی بہنوں اور بھابیوں کے جھرمٹ میں مسکراتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے آرہے تھے۔ دھیمی سی مسکان لبوں پرسجائے ‘ مہندی کلر کے کرتے پر سبز واسکٹ زیب تن کیے خالد بھائی خوب جچ رہے تھے۔
عشاء کی نماز کے بعد نکاح کا آغاز ہوا‘ دلہا دلہن نے نکاح نامے پر دستخط کیے۔دعائوں کا سلسلہ شروع ہوا اور مبارک باد کی صدا فضاء میں گونجنے لگی۔ خالہ کی آنکھیں بھیگیں اور آواز آنسوئوں سے رندھی ہوئی تھی‘ آپی کی آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے ۔ یہ وہ پل تھے جب ہم سب ہی آپی کے لیے نیک تمنائوں کے ساتھ آبدیدہ تھے‘سب باری باری ان سے گلے مل رہے تھے۔ دعائیں اور مبارک باد دے رہے تھے‘ پیار دے رہے تھے اور پھر آپی کو اسٹیج پر لے جایا گیا اور خالد بھائی کے برابر بٹھایا گیا۔ (سرخ دوپٹے کے گھونگھٹ میں چھپی آپی اب خالد بھائی کی امانت بن چکی تھیں۔)
رسموں کا سلسلہ دیر تک جاری رہا اور پھر ہم نے خالد بھائی کی انگلی میں مہندی لگا کر ہاتھ تھام لیا۔ لڑکے والوں اور لڑکی والوں کی نوک جھونک خوب دیر تک چلتی رہی‘ اس پر بڑوں کی شمولیت اور ہنسی مذاق نے رسم میں مزید جان ڈال دی۔ ہماری طرف سے چھوٹے ماموں اور امی جبکہ خالد بھائی کی طرف سے ان کی بہنیں روشنی آپی اور رومی آپی اور مونا بھابی آگے آگے تھیں جبکہ ہم کزنز کا مقابلہ دلہے کے دوسرے بھائی بہنوں کے کزن کے ساتھ تھا خیر سے یہ رسم بھی خوش اسلوبی سے ادا ہوئی اور یوں ایک اہم ترین دن کا اختتام ہوا۔
دو دن بعد ندا آپی کی رخصتی تھی اور یہ دن پلک جھپکتے گزر رہے تھے۔ نکاح کے بعد سے آنٹی کی گھبراہٹ میں اضافہ جبکہ ندا آپی کے چہرے پر اداسی در آئی تھی۔ رخصتی سے ایک دن پہلے ندا آپی کو سروسز کے سلسلے میںصبح پارلر جانا تھا۔ وہاں سروس کے ساتھ ساتھ مہندی بھی لگنی تھی‘ اس دن ندا آپی نے فرمائش کی تھی آئس کریم کھانے کی۔ برأت والے دن ہمیں پرفارم کرنا تھا‘ ہمارے مطالبے پر اس دن ڈانس فلور بھی بنوایا جارہا تھا۔ اڑتے اڑتے خبر پہنچی تھی کہ لڑکے والوں نے بھی خوب تیاری پکڑ رکھی ہے‘ ڈیمو کے طور پر انہوں نے ننھی پریوں عبیرہ اور خدیجہ کے ڈانس کی ویڈیو بھی ندا آپی کو بھیجی تھی۔ ان دونوں پریوں نے ہی بہت پیارا ڈانس کیا تھا‘ سو ہماری طرف بھی بھرپور تیاری جاری تھی۔ آپی صبح بوائل انڈا اور دودھ پی کر پارلر روانہ ہوچکی تھیں۔ جاتے جاتے بھی اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ کال پر مصروف رہی تھیں ۔
دن کیسے گزرا کچھ پتا نہ چلا‘ رات نو بجے آپی کی واپسی ہوئی۔ دونوں ہاتھ پیر مہندی سے سجے ہوئے تھے‘ ندا آپی پارلر سے پہلے ہمارے گھر آئی تھیں۔ صبح سے شام تک پارلر میں دن گزار کر تھک گئی تھیں‘ کچھ دیر آرام کیا‘ جوس اور پھل کھائے اور پھر ہم سب خالہ کے ساتھ ان کے گھر روانہ ہوئے۔ جاتے جاتے ندا آپی رونے لگیں‘ ڈرائنگ روم جہاں ہم نے دس دن پہلے ندا آپی کے لیے برائیڈل شاور ارینج کیا تھا اور اس کی سجاوٹ اب تک جوں کی توں برقرار تھی۔ یہ سارے پل اب انمول یادیں بنتے جارہے تھے اور ندا آپی انہیں دیکھ کر رو رہی تھیں ایک ہی جملہ تھا جو مسلسل ان کے لبوں سے ادا ہورہا تھا۔
’’امی! آنٹی‘ میں کل چلی جائوں گی۔‘‘ اور امی اور خالہ بار بار گلے لگا کر پیار کرتیں۔ ان کی آنکھیں بھی بھیگنے لگیں‘ مجھ سے ضبط کرنا مشکل ہورہا تھا میں بھی گلے لگ کر رو پڑی۔ رامین ہمیں بلانے آئی تھی یہ ماحول دیکھ کر وہ بھی ندا آپی کے گلے جالگی۔ پاپا بار بار ہمیں چپ کرارہے تھے‘ خیر بہت مشکل سے خود پر ضبط کیا اگر ایسا نہ کرتے تو ندا آپی چپ نہ ہوتیں۔ امی پاپا کو کچھ دیر بعد آنا تھا لہٰذا ہم سب خالہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ فیصل بھائی ڈرائیو کررہے تھے‘ ندا آپی کو آگے بٹھایا گیا تھا پیچھے خالہ‘ میں رامین اذہان اور دانیال بیٹھے تھے‘ اب کیسے بیٹھے تھے‘ خدارا یہ نہ پوچھیں۔
اس رات کو سارے کزنز خالہ کے گھر جمع تھے‘ بڑے ماموں نے فیضان اور عشناء کو بھی بھیج دیا تھا کہ ندا نے بہت اصرار سے بلایا تھا آج کی رات تم دونوں وہیں قیام کرو جبکہ ندا آپی کی شادی کے دو دن بعد ان کے بیٹے شایان کی شادی تھی۔شایان اپنی شادی کی تیاری میں مصروف ہونے کے باعث قیام کے لیے نہ آسکا۔ شمیم ماموں نے ریبا کو بھیجا تھااس کے علاوہ ہم سب یعنی میں رامین‘ رومیعہ‘ مسکان‘ دانیال‘ اذہان‘ علیشبہ‘ ابیہہ اور ماہین یہاں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے۔ ندا آپی ہر تھوری دیر بعد رونا شروع ہوجاتیں اور ان کے ساتھ ساتھ ہم بھی رامین بظاہر بہت ضبط کررہی تھی وہ جتنی بار ہمت ٹوٹی تو باتھ روم میں جاکر رونے لگی۔
کہتے ہیں شادی کا گھر خوشیوں کا گھر ہوتا ہے مگر لڑکی کی شادی کا گھر صرف خوشیوں کا ہی نہیں ہوتا اس میں آنسوئوں کی رم جھم برسات بھی شامل ہوتی ہے۔ ہم سب بھی وقتاً فوقتاً اس برسات میں بھیگ رہے تھے‘ ریبا بار بار آپی کے گلے لگ کر روتی۔
اس دن خوب ہلا گلا ہوا‘ پر ندا آپی اس دن ہمارے ساتھ شامل نہیں تھی۔ وہ آرام کی غرض سے سو رہی تھیں اور ہم جانتے تھے کہ وہ کچھ وقت اکیلے بتانا چاہتی تھیں یہاں تک کہ ہماری بے حد ضد کے باوجود بھی وہ ہمارے ساتھ آئس کریم کھانے نہ گئیں۔ وہ اداس تھیں‘ آنٹی کے چہرے پر اداسی اور فکر مندی کے سائے منڈلارہے تھے جبکہ خالو کافی چپ چپ سے تھے اس رات ہم نے خوب ہنگامہ برپا رکھا۔ کل کے دن تو ہمارے گھر کی رونق کسی اور کے سپرد ہوجانی تھی سو آج کی رات اہم تھی‘ یاد گار تھی سو ہم نے خوب ہنگامہ برپا رکھا اور ندا آپی کو مسکرانے پر مجبور کردیا۔
سب افراتفری کا شکار رہے اگلی صبح ندا آپی پارلر جاچکی تھیں۔ خالہ انہیں پارلر چھوڑ کر واپس آگئی تھیں‘ معلوم ہوا وہاں آپی کی دونوں نندیں روشنی اور رومی آپی بھی تیاری کے سلسلے میں موجود تھیں۔ خالہ کو کچھ اطمینان ہوا کیونکہ وہ دونوں خواتین بے حد خوب صورت دل کی مالک تھیں اور ندا آپی کا بے حد خیال رکھتی تھیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا‘ لڑکوں کو ہار پھول لانے بازار بھیجا گیا بے چارے لڑکوں کی شاپنگ ابھی بھی باقی تھی۔ ندا آپی کا سارا سامان جاچکا تھا‘ بس ایک چھوٹا بیگ تیار کرنا تھا‘ خالہ نے وہ تیار کیا۔ آج کے دن کی تیاری مکمل کرکے وہ ہماری طرف آگئیں‘ امی اور خالہ کو ہم نے تیار کرنا تھا۔ یہ دونوں تیار ہوکر ندا آپی کو لینے پارلر پہنچیں اور پھر وہاں سے بینکیوٹ کے لیے روانہ ہوجاتیں جہاں فوٹو سیشن کے لیے فوٹو گرافر پہلے سے موجود تھے۔
امی اور خالہ کو تیارکرکے بھیجنے کے بعد ہم لڑکیاں جلدی جلدی تیار ہوئیں۔ ندا آپی بینکیوٹ پہنچ چکی تھیں اور اب ہمیں پہنچنا تھا‘ ہم سب تیار ہوکر جلدی جلدی بینکیوٹ پہنچے۔ اگر میں کہوں فوٹو گرافر کے جھرمٹ میں نازک اندام سی شہزادی اپنے لباس کو نزاکت سے تھامے کھڑی مسکرارہی تھی تو ہر گز اس میں مبالغہ آرائی شامل نہ ہوگی۔ ندا آپی واقعی اس حد تک حسین لگ رہی تھیں۔پاس جاکر گلے ملنے خواہش کو دل میں دبانا پڑا کیونکہ فوٹو گرافر کی ٹیم ہمارے اور آپی کے درمیان ظالم سماج بنی کھڑے تھی۔
اسی دوران ایک نہایت خوش لباس‘ خوش گفتار خاتون کی آمد ہوئی۔ نارنجی رنگ کے دوپٹے اور پیچ کلر کی خوب صورت گھیر دار فراک میں ملبوس وہ شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ شہرہ ٔ آفاق مصنفہ رفعت سراج تھیں۔
’’کیا آپ ندا حسنین ہیں؟‘‘ فوٹو سیشن میں مصروف آپی سے نرم لہجے میں استفسار کیا‘ آپی نے اثبات میں سر ہلایا پر آنکھوں میں ناآشنائی کاعنصر نمایاں تھا۔
’’میں رفعت سراج ہوں۔‘‘ مسکر اکر جواب دیا گیا اور آپی کے چہرے پر در آنے والی خوشی دیدنی تھی۔ رفعت سراج آپی کی پسندیدہ رائٹر میں سے ایک ہیں‘ کچھ عرصہ قبل ان کے درمیان دوستی جیسا قابل احترام رشتہ استوار ہوا تھا مختصر گفتگو کے بعد رفعت سراج خالہ سے بھی ملیں وہ اپنے میاں صاحب اور پیاری بیٹی کے ہمراہ آئی تھیں اور پھر بارات کی آمد نے ہم سب کو بوکھلا دیا۔ اپنا اپنا شرارہ سنبھالے پھولوں کی ٹوکری اٹھائے ہم سب استقبال کے لیے بھاگے۔ فرح مامی آپی کو برائیڈل روم میں لے جاچکی تھیں‘ فوٹو گرافر کی آدھی ٹیم استقبالیہ اور آدھی ٹیم برائیڈل روم کی جانب بھاگی۔ ہم نے رفعت سراج (محترمہ) کو بھی برائیڈل روم کی جانب جاتے دیکھا یقینا وہاں دونوں رائٹرز کی تفصیلی ملاقات ہونی تھی۔
برات کی آمد ہوچکی تھی اور اس وقت گھڑی کی سوئیاں کچھ زیادہ ہی تیزی سے گھومنا شروع ہوگئیں۔خالد بھائی بھی برائیڈل روم کا رخ کرچکے تھے جہاں دونوں کا اب ایک ساتھ فوٹو سیشن کیا جارہا تھا جبکہ دوسری جانب ڈانس فلور سج چکا تھا۔ ہماری تیاری بھی پوری تھی اور لڑکے والے بھی فارم میں نظر آرہے تھے‘ دونوں ٹیموں نے باری باری پرفارم کیا ہماری طرف سے میں‘ رومیعہ‘ مسکان‘ رامین‘ بھابی‘ دانیال اور اذہان شامل تھے جبکہ لڑکے والوں کی طرف سے خالد بھائی کی بھانجی فاطمہ اپنے ماموئوں عارفین‘ حماد اور ابراہیم کے ہمراہ میدان میں اتری ۔ خوب محفل جمی‘ ہماری پرفارمنس کے بعد دلہا دلہن کی انٹرنس کا مرحلہ قریب تھا‘ آپی کو لینے ہم برائیڈل روم پہنچے‘ وہاں سیاہ عبایہ میں ملبوس نفیس سی خاتون میٹھے لہجے میں آپی سے محو گفتگو تھیں۔ معلوم ہوا یہ نفیس سی خاتون آنچل و حجاب کی ایڈیٹرسعیدہ نثار ہیں‘ انہوں نے بتایا محترم طاہر قریشی بھی رخصتی کی تقریب میں شریک ہیں‘ ملاقات شاید نہ ہوپائے مگر ان کی دعائیں آپ کے ہمراہ ہیں۔ندا آپی اس محبت اور خلوص پر بے حد ممنون نظر آئیں‘وقت کم تھا لہٰذا سعیدہ نثار صاحبہ سے ملاقات مختصر رہی۔
آپی کو ہمیں باہر لے جانا تھا‘ ہال میں اندھیرا چھانے کو تھا‘ انٹرنس تک پہنچتے پہنچتے ہماری ملاقات کافی مہمانوں سے ہوچکی تھی۔ آپی کی ایک بہت پیاری سہیلی سدرہ مرتضیٰ بھی پرخلوص مسکراہٹ کے ساتھ ملیں۔ انٹرنس تک پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہوچکا تھا‘ وہاں خالد بھائی پہلے ہی آپی کے منتظر تھے‘ وہ دونوں اب ساتھ کھڑے تھے اور ہم سب ان کے آگے مکمل اندھیرا تھا اور بس چاندنی جیسی روشنی دلہا دلہن کو اپنے ہالے میں مقید کیے ہوئے تھی۔ راحت فتح علی خان کی خوب صورت آواز میں آفرین آفرین گیت نے ماحول کو مزید خوب صورت بنا ڈالا تھا اور پھر آگے بڑھتے بڑھتے ہم دھیرے دھیرے مرحلہ وار دلہا دلہن کے سامنے سے ہٹتے چلے گئے۔ خالد بھائی ندا آپی کا ہاتھ تھامے رفتہ رفتہ اسٹیج کی جانب بڑھ رہے تھے‘ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے حد اچھے لگ رہے تھے اور گھڑی کی سوئیاں مزید تیزی سے گردش کرنے لگیں۔ ہمیں جوتے چھپائی کی رسم بھی کرنی تھی حالانکہ لڑکے والوں نے ہر ممکن کوشش کی بچائو کی مگر ہم جوتا چھپانے میں کامیاب ہوگئے اور پھر دودھ پلائی کی رسم ہوئی‘ یہ سب بے حد خوشگوار ماحول میں ہوا اور پھر رخصتی کا وقت قریب آچکا تھا۔ خالہ کی بوکھلاہٹ عروج پر تھی‘ سہرا بندھی کی رسم کے لیے سہرا پکڑایا گیا تو سات سہاگنوں کے سر پر لگانے کے بجائے مبشر بھائی کے سر پر لگایا‘ سب ہی ہنس پڑے پھر خالہ نے سات سہاگنوں کو سہرا لگا کر آپی کو باندھا تو وہ الٹا بندھ گیا۔ دوبارہ باندھا تو بھاری ہونے کے باعث نیچے ڈھلک گیا‘ سو فیصلہ کیا گیا سہرا رہنے دیا جائے اور چادر اوڑھا دی جائے۔ آپی کی آنکھوں سے اشک رواں تھے‘ سب بار بار آکر سمجھا رہے تھے کہ ندا رونا نہیں اورآپی اور شدت سے رونے لگ جاتیں‘ سمجھانے والا خود بھی رونے لگ جاتا۔
باری باری ہم سب ہی آپی کو دائیں جانب سے تھام لیتے‘ آپی کا بایاں ہاتھ خالد بھائی نے تھام رکھا تھا۔ آنٹی (خالہ) پیچھے تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں‘ ہم نے آپی کا شرارہ سنبھال رکھا تھا اور پہلی دفعہ میں نے بڑے ماموں کو آپی کو سینے سے لگا کر رخصت کرتے روتے دیکھا اور پھر مرحلہ وار شمیم ماموں‘ حلیم ماموں‘ نسیم ماموں‘ چھوٹے ماموں اور پاپا نے بھی سینے سے لگا کر رخصت کیا۔ امی ساری مامیاں‘ پھوپیاں ‘ چاچی اور ہم سب کزنز… گلے لگ کر روتے اور آپی کو رونے سے منع کرتے اور پھر خالہ بہت دیر تک گلے لگا کر روتے ہوئے دعائیں دیتی رہیں‘ بہت مشکل مرحلہ تھا اور آخر میں خالد کے سینے لگ کر آپی نے کہا۔
’’پاپا میری ٹامی کا خیال رکھیے گا۔‘‘ جس پر خالد بھائی ہنس پڑے اور ہم سب مسکرادیئے۔ ٹامی سے آپی کی محبت سے ہم سب بخوبی واقف تھے اور پھر فیصل بھائی نے کہا۔
’’فکر نہ کرو میں خیال رکھوں گا ٹامی کا۔‘‘ علیشبہ‘ ماہین اور ابیہہ تو دھاڑیں مار کر روئی تھیں یہاں تک کہ ان تینوں کا نام چھوٹو روتو گینگ پڑگیا۔ قرآن پاک اور دعائوں کے حصار میں آپی خالد بھائی کے ہمراہ رخصت ہوچکی تھیں۔
گھر واپس لوٹے تو احساس ہوا کہ صرف آپی ہی نہیں گھر کی رونق بھی گھر سے رخصت ہوچکی تھی۔ ہم سب کی آنکھیں ہی نہیں آواز بھی بھیگی تھی۔
ولیمے کے دن پستی رنگ کی میکسی اور بائٹل گرئن رنگ کے دوپٹے میں ملبوس خوش و خرم آپی نے ہم سب کے دلوں میں اطمینان بھردیا۔ ایک دوسرے کے ساتھ مسرور سے آپی اور خالد بھائی بے حد اچھے لگ رہے تھے۔ آنٹی اداس ضرور تھیں مگر دل سے مطمئن تھیں‘ ندا آپی کے سسرال والے بے حد محبت کرنے والے اعلیٰ ظرف کے مالک لوگ ثابت ہوئے‘ دعا ہے کہ آپی یونہی اپنے گھر ہنستی مسکراتی‘ خوشیاں بکھیرتی رہیں‘ آمین۔
(رمشہ مقصود

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close