Hijaab Mar-17

رخ سخن

سباس گل

(عمران احمد/ ابن ریاض)
س :اسلام علیکم کیسے ہیں آپ ؟
ج : وعلیکم السلام! اللہ تعالٰی کا بہت احسان و کرم ہے۔
آپ کا تعارف؟ ( پیدائش‘تعلیم‘ علاقہ، مشغلہ وغیرہ)
ج : پنجاب کے ایک ترقی پذیر بلکہ پسماندہ علاقے سے تعلق ہے۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ عمر میں سب سے بڑے اور صحت میں سب سے چھوٹے تھے سعودی عرب میں داخلے سے قبل۔ اب البتہ ہمیں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو قابو میں رکھنے میں دقت کا سامنا ہے۔ نام والدین نے عمران احمد رکھا اور تعلیمی دستاویزات میں یہی نام ہے۔ قلمی نام ’’ابن ریاض‘‘ سے کالم لکھتے ہیں۔ بچپن کامرہ میں گزرا اور جی ہاں ہم شادی کا لڈو بھی کھا چکے ہیں۔ایک بیٹا ہے طحہٰ اور اس کی عمر تین سال ہے۔مشاغل کرکٹ کھیلنا اور دیکھنا تھے۔ کھیلنا تو اب خیال و خواب ہوا۔ اب بھی دیکھتے ہیں اورقومی ٹیم کی کارکردگی سے عبرت نہیں پکڑتے۔ شکر کہ ہم ہٹلر کے دور میں نہیں ہیں ورنہ آپ کی بجائے فرشتے ہم سے انٹرویو لے رہے ہوتے۔
س: آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے اور ذریعۂ معاش کیا ہے؟
ج:تعلیم ہمارے پاس ہے نہیں تاہم ڈگری ماسٹرز کی ہے(اننئرآپنگ میں) اور اسی ڈگری کی بنا پر ہم سعودی عرب میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔کیا پڑھا رہے ہیں یہ ہم نے نہیں بتانا۔
س: آپ نے لکھنے کی ابتدا کس طرح اور کس عمر میں کی؟
ج: چار یا پانچ سال کا تھا کہ اے بی سی اور الف بے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ہمیں تو پڑھنے کا شوق ہے اور وہ بھی صرف اردو۔ تو ہم مختلف فورمز پر پڑھتے تھے تو ایک دن کسی نے کچھ کہا تو ہم نے جواب میں کچھ لکھا۔ پڑھنے والوں کو اچھا لگا تو اسی فورم نے ہمیں رائٹر کا رینک دے دیا۔ ہم ان کے حسن نظر اور دوربینی کے قائل ہیں اور یہ آج سے پانچ چھ سال قبل کی بات ہے۔ شروع میں ہم اس فورم کے لیے لکھتے رہے۔ بعد ازاں اخبارات و رسائل میں بھی ہمارے کالم اور انشائیے شائع ہوئے اور یوں یہ سفر چل پڑا۔
س: پہلی تحریر شائع ہوئی تو کیا احساسات تھے؟اس سے متعلق کوئی واقعہ جو شئیر کرنا چاہیں؟
ج: بس ہم آدم بو آدم بو پکارتے ہوئے لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ جیسے شاعر کو کلام لکھ کے اپھارہ ہو جاتا ہے اور جب تک وہ داد نہ پا لے اسے چین نہیں پڑتا کچھ ایسا ہی حال ہمارا تھا۔ ہر منٹ بعد دیکھتے تھے کہ کوئی تبصرہ آیا کہ نہیں۔
س:جب چاہا لکھ لیتے ہیں یا موڈ پہ ڈپینڈ کرتا ہے؟
ج: ہم کوئی پیشہ ور لکھاری تو ہیں نہیں سو دل آمادہ نہ ہو تو لکھ نہیں پاتا۔ کبھی چند دنوں میں ہی دو تین تحریریں لکھ لیں کبھی مہینوں بیٹھے رہے۔
س:آپ کے خیال میں کالم کا زیادہ رسپانس ملتا ہے یا انشائیہ کا؟
ج:ہم تو اپنے سکون کے لیے لکھتے ہیں۔ باقی باتوں سے غرض نہیں
س: ادبی دنیا میں کن شخصیات سے متاثر ہیں؟
ج: ہم چونکہ مزاح نگار ہیں تو ہماری پسندیدہ ترین شخصیت ابنِ انشاء مرحوم ہیں۔ مزاح کے علاوہ ان کی شاعری بھی ہمیں ازحد پسند ہے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ہی کہانی ہے۔ ان کے علاوہ محسن نقوی ، ناصر کاظمی،احمد فراز بھی بہت پسند ہیں۔
س:کالم لکھنے میں زیادہ مزہ آتا کہ انشائیے میں؟
ج:میرا تو علم محدود ہے۔ کیا آپ ان دونوں میں تمیز کر دیں گے تا کہ مجھے سوال سمجھنے میں آسانی ہو۔
س:رہنے دیجیے۔ یہ بتائیں کہ کس میگزین میں لکھنا پسند ہے؟
ج:یہ تو وہی بات ہوئی کہ انور مقصود نے وحید مراد مرحوم سے پوچھا تھا کہ کس ہیروئن کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔
س: کوئی ایسی تصنیف جسے بار بار پڑھا ہو؟
ج: ہم اپنی تصانیف کو ہی بار بار پڑھتے ہیں کہ اور تو کسی نے پڑھنی نہیں۔
س: کوئی ایسا ساتھی رائٹر جس کا کام آپ کو پسند ہو اور آپ سمجھتے ہیں وہ بہت اچھا لکھ رہی ہیں؟
اگر آپ کسی بھی تحریر کو گہرائی سے پڑھیں گے تو اس میں کوئی مقصدیت اور پیغام ہوگا۔ سو یہ کہنا کہ وہ اچھا نہیں لکھ رہا /رہی زیادتی ہے۔ صرف ہوتا یوں ہے کہ جس کی تحریر ہمارے نظریے سے متصادم ہوتی ہے وہ ہمیں پسند نہیں آتا/آتی۔ آج کل تو ناول پڑھنا کم ہو گیا ہے وقت کی قلت کے باعت۔ تاہم سباس گل صاحبہ کو پڑھ رکھاہے صدف آصف صاحبہ کو۔ اس کے علاوہ مرحومہ فرحانہ ناز کو بھی۔ ابتدائی ۲۰۰۰ میں تو سب خواتین مصنفات کو اس طرح پڑھ رکھا تھا کہ گھر میں خالہ خواتین کے جرائد منگواتی تھیں تو ہم ہر ماہ کا ڈائجسٹ چاٹ لیتے تھے۔کالم نگاروں میں بھی ابن نیاز،محمد پرویز،آر ایس مصطفٰی،مزمل صدیقی اوردوسرے دوست قابلِ ستائش کام کررہے ہیں۔
س: کبھی بے جا تنقید کاسامنا کرنا پڑا؟
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
نہ سہی گر میرے اشعار میں معنی نہ سہیی
لکھنا کیونکہ پیشہ نہیں بلکہ دفع الوقتی شغل ہے تو اوپر والا شعر ہم پر بھی صادق آتا ہے تاہم لکھنے کے حوالے سے تو نہیں ہوئی کوئی تنقید ماسوائے چند ایک کالموں کے کیونکہ وہ کالم بعض لوگوں کی رائے سے متصادم تھے۔ البتہ زندگی میں تو ہمیشہ ایسا ہی رہا۔ لیکن اللہ تعا لٰی نے ہمیشہ لاج رکھی۔ اس ذات کے بے پایاں احسانوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔
س: اب تک ادب میں کتنی کامیابیاں سمیٹیں ؟ کتنے ایوارڈ حاصل کیے؟
ج: حال ہی میں ہماری کتاب ’’شگوفہء سحر‘ّ‘ شائع ہوئی ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ قارئین کا تحریر کو سراہنا اور اگلی تحریر کا منتظرہونا ہی کسی لکھاری کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔
س: آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟
ج: وہی جو آج کل آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ایسا ادب جو قاری کی سوچوں کو جلا بخشے اور جو اس میں مثبت تبدیلی لائے۔
س: آپ کی نظر میں تخلیق کس کو کہتے ہیں؟
ج:ہماری نظر تو کمزور ہے سو عینک لگاکراس کا جواب یہ بنتا ہے کہ ہر وہ چیز جو جسم و روح کے ملاپ سے وجود میں آئے تخلیق ہے۔
س: آج کل کے ملکی حالات پر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
ج: ہم سکون میں تو پورا پاکستان سکون میں۔
س: اسلامی معاشرہ کیا ہے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اسلامی معاشرہ کا نفاذ ہو؟
ج: اسلامی معاشرہ وہ ہے جو آج کل غیر اسلامی ممالک میں پایا جاتا ہے(یعنی کہ شیر و بکری قانون کی نظر میں ایک)، ہمارے ہاں قانون کی کتاب میں ایک ضرور ہیں مگر قانون کی نظر کچھ کمزور ہے۔ اسلامی معاشرے کے نفاذ میں چنداں حرج نہیں اگر اس ناچیز کو استثنا حاصل ہو۔
س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انقلاب ہماری قوم کے لیے ناگزیر ہے؟
ج: اگر انقلاب سے مراد خون خرابا اور جنگ و جدل ہے تو ایسا انقلاب تو پہلے ہی موجود ہے۔انقلاب ہمیں یعنی کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے پانچ چھ فٹ کے وجود میں لانا ہے۔ پھر ہی انقلاب کے ثمرات سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔
س: کیا آ پ ملکی سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں؟
ج: جی میں تو ہر لمحہ یہ سوچتا رہتا ہوں کہ کسی طریقے سے کوئی چھوٹا موٹا عہدہ( وزیرِ اعظم یا صدرکا) مجھے مل جائے تا کہ میں اپنی زندگی عوام کی خدمت میں وقف کر سکوں۔
س: ادب کے فروغ کے حوالے سے تجاویز دیں۔
ج: ادب کے فروغ کے لیے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ موجودہ ادب پر پابندی لگا دی جائے۔ جو آج کل ہو رہا ہے اس سے زیادہ بے ادبی ادب کی نہیں ہو سکتی۔
س: کمپیوٹر کے آنے سے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
ج: کمپیوٹر بھی باقی آلات کی طرح ایک آلہ ہے۔ اس کا استعمال ہی اس کے اچھا یا برا ہونے کا باعث بنتا ہے۔ ادب کی ترویج میں اس کا کردار یہ ہے کہ بعض کتابیں جو کہ زماں و مکاں کی مجبوریوں کے باعث ناقابل ِ دسترس ہوتی ہیں کمپیوٹر کے باعث بآسانی مل جاتی ہیں۔جیسا کہ یہاں سعودی عرب میں اردو کتابوں کا حصول دشوار ہے تو کمپیوٹر اس معاملے میں کسی نعمت سے کم نہیں۔نقصان کمپیوٹر کے آنے سے یہ ہوا ہے کہ ہر کوئی چونکہ پوسٹ کر سکتاہے تو اچھی تحریروں کی چوری معمول بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیر معیاری تحریروں کی بھی بھرمار ہو گئی ہے اور یہ سب ادب کے لیے ہرگز اچھا نہیں۔
س: بڑے انسانوں کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیچھے ورثہ چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ورثے میں کیا چھوڑیں گے؟
ج: وہ تو بڑے لوگوں کی نشانی ہوتی ہے۔ ہم تو اہل و عیال اور بہت سا قرض چھوڑ کے جائیں گے ورثے میں۔ مذاق برطرف، یہ کتاب اور اس میں موجود انشائیے اور کالم ہی چھوڑ کے جانا ہے۔
س: کچھ غیر ادبی سوالات ہو جائیں۔
ج: بسم اللہ
س:پسند ناپسند کے بارے میں بتائیے۔
ج: پسند ہمیں بہت کچھ ہے۔ اپنا پاکستان، قدرتی مناظر اور سب سے بڑھ کے
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
یعنی کہ ہماری سستی۔
ناپسند بلکہ بہت ناپسند ہمیں کام کرنا ہے۔
س: رنگ، موسم، کھانے میں کیا پسند ہے؟
رنگ سبز، موسم دل کا۔ موسم کوئی بھی برا نہیں لگتا۔ گرمیوں کا ایک نقصان یہ ہے کہ عصر کے بعد تک باہر کا کوئی کام کرنا بہت مشکل اور ہمارے تو کام ہوتے ہی گھر سے باہر کے۔ باقی موسموں میں ایسی پابندی نہیں۔بچپن میں ہم نے تو چٹنی اور ایک پکوڑے کے ساتھ بھی روٹی کھائی اس کا مزہ اب بھی ڈھونڈتے ہیں۔ویسے تنور کی مکھن سے چپڑی روٹی سرسوں کے ساتھ کھانے کا بھی الگ مزہ ہے مگر اب یہ عیاشیاں ہمارے نصیب میں نہیں۔
س: بچپن میں کوئی ایسی شرارت جس پر آپ کو بہت مار پڑی ہو؟
ج: شرارت تو نہیں کہہ سکتے۔ایک بار گھر سے پیسے چرا کے گیند خریدی تھی۔جس کا والدہ کوعلم ہو گیا تھا۔ خوب مار پڑی تھی۔ایسے ہی ایک بار عیدی ملی تھی تو ہم بڑے تین بہن بھائیوں نے ساری عیدی کی فانٹابوتلیں (اس زمانے میں تین روپے میںملتی تھی اور گائوں میں عیدپر ہی آتی تھی) پر خرچ کر دی۔جواب میں والد صاحب نے اپنے بٹیروں والے کمرے میں بند کر دیا تھا اس فضول خرچی پر۔
س:کیا شوق سے کھایاکرتے تھے اسکول میں؟
ج: شوق کا تو پتہ نہیں پر مار ہی زیادہ کھائی۔دراصل سفید پوش گھرانے سے تعلق کے باعث ہمیں پاکٹ منی کی عیاشی کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ صبح خوب تگڑا ناشتہ کروا دیا جاتا تھا اور پھر دو بجے گھر آ کر دوپہر کے کھانے سے ہی لطف اندوز ہوتے تھے۔
س: پسندیدہ مضمون کون سا تھا آپ کا؟
ج:سب ہی پسند تھے ما سوائے بیالوجی اور ایسے مضامین کہ جن میں تصاویر بنانی پڑتی تھیں۔تصویر ہم بناتے کچھ تھے اور بن کچھ جاتی تھی تو ہمیں یہ کام پسند نہیں تھا۔
س:بچپن میں کیا سوچا تھا کہ کیا بنیں گے؟
ج: اس پر تو ہمارا پورا کالم ہے ’’بچپن کی ناآسودہ خواہشیں‘‘مختصراً ہم نے کرکٹر ،ہاکی کا کھلاڑی، اداکار، گلوکار اور نجانے کیا کیا بننے کا سوچا تھا۔جو اب ہیں یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا۔
س: خواب دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کے خواب پورے ہوتے ہیں؟
ج: ہمیں تو صبح اٹھ کر یاد ہی نہیں ہوتا کہ خواب میں دیکھا کیا تھا۔ سو پورا کیا ہونا۔
س: آپ جامعہ میں پڑھاتے بھی ہیں ؟ آپ کا مضمون ؟
ج: ہم جامعہ میں بچوں کو پٹیاں پڑھاتے ہیں۔ویسے انہوں نے ہمیں الیکٹریکل انجنیئرنگ پڑھانے کے لیے نوکری دی ہے۔
س: کیا لکھنا آسان ہے؟
ج: آسان تو کھانا کھانے کے علاوہ دنیا کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ لکھنا ایک قدرتی صلاحیت ہے۔ ہر شخص لکھ نہیں سکتا۔
س: کس ٹاپک پرلکھتے ہوئے لگتا ہے کہ لکھنے کا حق ادا کر دیا؟
ج: حق تو ادا ہو ہی نہیں سکتا کسی صلاحیت کا۔تاہم جس تحریر کو پڑھ کر قارئین کے چہروں پر زیادہ مسکراہٹ آئے وہی ہمارے لیے طمانیت کا باعث ہوتی ہے۔
س: زندگی سے کوئی گلہ؟
ج: مجھے تو اللہ نے میری صلاحیت و اوقات سے بڑھ کر نوازا ہے سو گلہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
س: آپ کی کتنی کتب مارکیٹ میں آچکی اور آپ کی پسندیدہ تحریر؟
ج: حال ہی میں ’’شگوفۂ سحر‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس میں کئی تحریریں ہیں جو ہمیں بہت پسند ہیں۔ ان میں عمران اعوان سے ابنِ ریاض تک‘ہم بھی مِیرا سے کم نہیں‘بچپن کی نا آسودہ خواہشیں اور ہم نے گاڑی چلائی شامل ہیں۔
س: آپ کے خاندان میں کسی کو لکھنے کا شوق ہے؟
ج: نہیں سب پڑھنے کے شائق ہیں۔
س: ہمارے ہاں خواتین مصنفات کو لکھنے کے معاملے میں حمایت کم ملتی ہے خاص کر شادی کے بعد۔ ان حالات میں خواتین کو لکھنا چھوڑ دینا چاہیے؟
ج: ہمارے ہاں بد قسمتی سے خواتین کو ہر معاملے میں دبایا جاتا ہے۔ ان کو ان کا جائز اور اسلامی حقوق جیسے وراثت میں حصہ اور شادی میں رضامندی جیسے اہم معاملات بھی شامل ہیں تو ترجیحات میں لکھنا تو ان سے نیچے ہی آتا ہے۔ تاہم یہ ایک قدرتی صلاحیت ہے اور جس میں ہو وہ اس کو دبا بھی نہیں سکتا۔ اس کا حل یہ ہے کہ آپ لکھیں ضرور۔ بھلے اس وقت شائع نہ کروائیں کیونکہ گھر بچانا کہیں زیادہ ضروری ہے۔ بعد میں مناسب موقع ملے گا۔ اس وقت یہی لکھا ہوا آپ کے کام آ ئے گا اور مزید لکھنے کے لیے مہمیز بنے گا۔ جب آپ کی طبیعت لکھنے پر مائل ہو اور آپ نہیں لکھتے تو پھر جب حالات سازگار ہوں گے تو بھی لکھنے کی صلاحیت زنگ آلود ہو چکی ہوگی اور لکھنا مشکل ہو گا۔ یہاں پر ہماری جو خواتین بہنیں شادی کے بعد لکھ رہی ہیں، ان کے خاندانوں کا شکر یہ بھی ضرور ادا کرنا چاہیے کہ جو ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنی صلاحیت کے اظہار کے مواقع دے رہے ہیں۔
س: آج کل سب ٹی وی کے لیے لکھ رہے ہیں۔ آپ کا کوئی ناول قارئین ٹی وی ڈرامہ کی شکل میں کب دیکھ سکیں گے؟
ج: کبھی بھی نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ ہم ناول لکھتے ہی نہیں۔
س:دوستی کیا ہے؟
ج:دوستوں میں بس دنیا و مافیہا بھول جاتا ہے انسان۔
س:شاعری پسند ہے ؟ فیورٹ شاعر ؟ کوئی فیورٹ شاعری؟
ج:بہت زیادہ۔ بہت سے ہیں پسندیدہ شاعر مگر اس وقت محسن نقوی کی ایک غزل
کب تلک شب کے اندھیرے میں سحر کو ترسے
وہ مسافر جو بھرے شہر میں گھر کو ترسے
آنکھ ٹھر ے ہوئے پانی سے بھی کتراتی ہے
دل وہ رہروکہ سمندر کے سفر کو ترسے
ایک دنیا ہے کہ بستی ہے تیری آنکھوں میں
وہ تو ہم تھے جو تیری ایک نظر کو ترسے
مجھ کو اس قحط کے موسم سے بچا اے رب سخن
جب کوئی اہل ِ ہنر عرضِ ہنر کو ترسے
اور یہ میرا پسندیدہ شعر
عمر اتنی تو عطا کر میرے فن کو خالق
مرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے
شورِ صرصر میں جو سرسبز رہی ہے محسن
موسم ِ گل میں وہی شاخ ثمر کو ترسے
س:کوئی پیغام جو آپ دینا چاہیں۔
ج:’’ اے ایمان والو تم ایسی بات نہ کرو جس پر تم عمل نہیں کرتے۔‘‘ اس آیت کو سامنے رکھ کر صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ دوسروں کی بات کو خندہ پیشانی سے سننا بھی سنت ہے۔نبی ﷺ سے تو بہت سخت سوال نبوت اور اللہ کے متعلق کیے گئے مگر آپ ﷺ نے تو کسی کو واجب القتل نہیں قرار دیا۔ اپنا نظریہ رکھنا آپ کا حق ہے مگر یہ دوسرے کا بھی حق ہے۔ اور ان کے حقوق کا احترام بھی اسلام ہے نہ کہ آپ کی کمزوری۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close