Hijaab Feb-17

ہومیوکارنر

طلعت نظامی

امراض اطفال
(Diseases of Infants)
ننھے بچے اپنی تکلیف کا اظہار کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں اس لیے جب انہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو ان کے چہرے، زبان، پاخانہ، پیشاب وغیرہ کو دیکھ کر ہی تکلیف کا اندازہ لگایا جاتا ہے صحت کی حالت میں بچہ چین سکون اور آرام سے رہتا ہے لیکن مرض کی حالت میں وہ بے چین ہوتا ہے اس لیے اسے بے چینی سے نجات دلانے کے لیے ہر وقت دوا دینے کے بجائے اس کی اور والدہ کی غذا کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے تندرست بچہ غذا کے استعمال کے بعد سو جاتا ہے یا کھیلتا رہتا ہے لیکن جب بچہ دودھ پینے کے بعد بھی روتا رہے اور اس کے منہ کے قریب بل پڑجائیں یا اس کا پاخانہ بدبودار ہو تو سمجھ لیں کہ اس کے پیٹ میں خلل ہے۔
بچہ کا بخار:۔
اس بخار کا حملہ عموماً بارہ گھنٹہ سے لے کر چھتیس گھنٹوں تک ہوا کرتا ہے۔ اکثر بخار کا حملہ بعد دوپہر یا شام کو ہوا کرتا ہے۔ پہلے سردی لگتی ہے اس کے بعد جلد، جسم، گرم ہو کر خشک ہوجاتی ہے نبض سخت، بھری ہوئی اور تیز چلتی ہے تنفس تیز اور پیشاب تھوڑا اور رنگین اس لیے فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اگر بچہ متواتر آہیں بھرتا رہے تو سمجھنا چاہیے کہ کچھ نہ کچھ جسم پر ضرور نکلے گا۔
اسباب مرض:۔
نمی یا سردی میں رہنا، گرمی یا سردی کا یکایک بڑھ یا گھٹ جانا، بھیگے ہوئے کپڑوں کا پہننا، ناقص یا ناکامی غذا کا کھانا، اندرونی یا بیرونی چوٹ کا آنا۔
ضروری ہدایات:۔
آرام سے بستر پر چپ چاپ پڑا رہنے دینا چاہیے تھوڑا تھوڑا پانی ابال کر ٹھنڈا کر کے بار بار دینا مفید ہوا کرتا ہے اس سے بچہ کو پسینہ آنے میں مدد ملتی ہے بخار کے دوران دودھ ایک اعلیٰ اور ضروری غذا ہے۔
علاج:۔
ایکونائٹ خشک اور گرم ہو بخار کی وجہ سرد ہوا کا لگنا یا ٹھنڈک ہو پیاس زیادہ، نبض تیز۔
بیلا ڈونا:۔
اجتماع خون سر کو، آنکھیں ابھری ہوئیں اور سرخ بچہ نیند میں اچانک چونک پڑے۔
اینٹم کروڈم:۔
جب بخار بوجہ بد ہضمی شروع ہوگیا ہے بچہ کی زبان پر سفید سی تہہ جمی ہو، بخار رات کے وقت زیادہ دھوپ لگنے سے بخار شروع ہوجائے ساتھ قے بھی آتی ہو۔
سلفر:۔
اندرونی اعضا میں اجتماع خون کا خطرہ ہو، ایکونائٹ کے بعد اس دوائی کو دینا چاہیے۔
کیمو میلا:۔
تیز چڑچڑی طبیعت خصوصاً جب بچے دانت نکال رہے ہوں، بچہ ہر وقت روتا رہے ایک رخسار سرخ دوسرا زرد، پیاس زیادہ اس کے علاوہ نکس وامیکا، آرسنکیم علامت کے مطابق دی جاسکتی ہے۔
بچے کا دست (Infantile Diarrhoea)
بچوں کے دست کی وجہ انتڑیوں میں کسی خراش کرنے والی چیز کی موجودگی ہوا کرتی ہے جب ماں کا دودھ کم ہو تو بھی دست آنے شروع ہوجاتے ہیں ایسی حالتوں میں یہ ضروری ہوا کرتا ہے کہ کوئی اور گائے وغیرہ کا دودھ انہیں دیا جائے ایک اچھی صحت کا دودھ پینے والا بچہ چوبیس گھنٹوں میں تین سے لے کر چھ بار اجابت کرتا ہے جب پاخانہ بغیر بو کے ہو تو کسی خطرہ کا احتمال نہیں کرنا چاہیے لیکن برخلاف اس کے جب بچہ کا پاخانہ پتلا ہوجائے رنگت کسی زرد یا جھاگ دار مادہ اس میں پیدا ہو کر بودار بنا دے تو ایسی حالتوں میں مناسب علاج ضرور ہوا کرتا ہے یہ مرض شیر خوار بچوں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے اور ہر سال ہزاروں بچے اس مرض سے مر جاتے ہیں۔
اپکو نائٹ:۔
جب یکایک بہت مقدار میں دست آنے لگیں ساتھ بخار اور سخت بے چین ہو، منہ خشک پیاس۔
پوڈو فائیلم:۔
پانی کی طرح زرد رنگ والے اسہال جو کچھ کھانے یا دودھ پینے کے فوراً بعد شروع ہوجائے، بچہ دانتوں کو رگڑنے اور سر اِدھر اُدھر مارے۔
اچی کاک:۔
سادہ اسہال کی یہ دوائی ہے جب بچہ کو زور لگانا پڑے اور پاخانہ کے ہمراہ خون بھی ہو جب کہ زیادہ کھانے کے باعث دست لگ جائیں موسم گرما کے دست۔
ورائرم ایلبم:۔
اسہال بکثرت اور پانی کی طرح آتے ہوں، ساتھ قے ہو، نقاہت بہت زیادہ ہو، پیشانی پر ٹھنڈا پسینہ آئے۔
فام سفورس:۔
اسہال مزمنہ میں دی جائے جبکہ بچہ دبلا پتلا ہو آنکھوں اور جلد جسم کا رنگ زردی مائل ہو، کمزور بہت ہو اور سینہ کے امراض ہوں۔
ضروری ہدایات:۔
بچہ کو بار بار دودھ نہیں پلانا چاہیے، البیومن واٹر (انڈے کی سفیدی کا پانی) تھوڑا مقدار میں دینے سے اسہال بند ہوجاتے ہیں اگر ماں دودھ پلائے تو ماں کو ثقیل غذا جیسے مٹھائی، اچار، پکوڑوں، امرود، کھیرا، ککڑی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
دانت نکالنا (Teeting)
عموماً پیدائش کے پانچ یا چھ ماہ کے بعد بچوں میں دانت ظاہر ہونے شروع ہوجاتے ہیں اگر بیرونی صفائی، کھلی ہوا اور خوراک کا خاطر خواہ انتظام ہو تو دانت نکلنے پر کوئی خاص تکلیف پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں ہوا کرتا، اگر بچہ کمزور ہو تو دانت نکلنے پر تکلیف زیادہ ہوتی ہے بعض اوقات اس عرصہ میں دست آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ بخار، کھانسی، چڑچڑاپن اور کمزوری بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
علاج:۔ مرکیورس۔
رات کے وقت بخار زیادہ ہوجائے دست سبز رنگ کے خون کی آمیزش والے مروڑ زیادہ پیاس زیادہ اور پسینہ بکثرت، مسوڑھے، سوجے ہوئے ان میں سے رال ہر وقت بہتی رہے۔
برائی اونیا:۔
منہ، زبان، ہونٹ، خشک، ساتھ بخار، بچہ بے حس و حرکت پڑا رہے خشک کھانسی۔
آرسنیکلیم:۔
بچہ کی جلد زرد، پیاس زیادہ لیکن تھوڑا تھوڑا پانی ایک وقت پیے دست بدبودار پانی پینے کے فوراً بعد قے کرے۔
کمکریا کارب:۔
خنا زپری مزاج والا بچہ، دودھ ہضم نہ ہو جما ہو دودھ بذریعہ قے خارج ہو پیٹ پھولا ہوا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close