Hijaab Feb-17

عالم میں انتخاب

نزہت جبین ضیا

محبت کی آیت الکرسی
اے میرے خوش نفس…میرے خوش نظر
میں تم سے
اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتی ہوں
کائنات کوگواہ بناکر
اپنی وفائیں تم سے منسوب کرتی ہوں
اے میرے خوش کلام
میری محبت نے تمہیں قبول کیا جیسے بھی تم ہو
میرے لئے تم ہمیشہ تم ہی رہو گے جیسے بھی تم ہو
سنو…اے میرے خوش فکر
مجھے تم سے
ایسا کچھ بھی نہیں چاہیئے جو بہت اچھا ہو
بھلا تمہاری محبت سے زیادہ کیا اہم ہو سکتا ہے
تمہاری دلداری سے بڑی اور کیا نعمت ہو سکتی ہے
میں وعدہ کرتی ہوں اے میرے خوش خیال
میں ہر پل تمہاری ہمسفر رہوں گی
ہر اچھے برے وقت ہاتھ تھامے رہوں گی
تمہاری خفگی میری سر آنکھوں پر رہے گی
تمہاری تھکن بھی ہنس کر بانٹ لوں گی
میں جانتی ہوں میرے خوش رو۔۔
تم میری محبت کافخر بن کر میرے ساتھ چلو گے
میرے غمگسار…سدا میرے دلدار رہو گے
میں تم سے وعدہ کرتی ہوں
تمہاری پرانی رفاقتوں کی کوئی تفصیل کبھی نا لونگی
جو بھی تمہارا ماضی رہا اس کی بابت سوال نا کرونگی
اے میرے خوش سخن
تم سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔
مجھے تمہاری بہت ضرورت ہے…کل بھی رہے گی
بس…تمام عمر مجھ پر یقین رکھنا ، میرااعتبار کرنا
میرے آج میں کبھی میرے کل کو مت کھوجنا
سنو…میرے خوش جمال
میں تمہاری آنکھوں میں اپنے خواب رکھنا چاہتی ہوں
میں اپنی باقی عمر تمہارے پہلو میں بسر کرنا چاہتی ہوں
میں تمہارے ساتھ جینا ، تمہارے ساتھ مرنا چاہتی ہوں
کیا تم بھی……میرے خوش کلام
کیا تم بھی……؟

ڈاکٹر نگہت نسیم…آسڑیلیا
انتخاب:سعیدہ نثار

غزل
باندھ لیں ہاتھ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے
گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو
کیا عجب خواہش اٹھی ہے ہمارے دل کو
کر کے مُنا سا ہَوائوں میں اچھا لیں تم کو
اس قدر ٹوٹ کے تم پر ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو
ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوں میں دعائوں سا اٹھا لیں تم کو
جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور
اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو
اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم
ہم کو بکھرے ہوئے مل جائو، سنبھالیں تم کو

شاعر: وصی شاہ
انتخاب: جویریہ وسمی… ڈونگہ بونگہ

غزل
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہو تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
میری روشنی تیرے خدوخال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو میری ریاضت نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

شاعر: سلیم کوثر
انتخاب: مدیحہ نورین مہک… گجرات

غزل
تیری آنکھوں کے جال میں آجائوں گا میں
مجھ کو لگتا ہے تیری چال میں آجائوں گا میں
زندگی بعد تیرے ہونا تھی مشکل لیکن
یہ نہ سوچا تھا کہ اس حال میں آجائوں گا میں
دیکھ کر اس کو مجھے یاد کرے گی دنیا
ایک دن اس کے خدوخال میں آجائوں گا میں
کتنے موسم تھے جو دے کر مجھے طعنے گزر گئے
تم تو کہتے تھے کہ اک سال میں آجائوں گا میں
سُر میں آجائے گا جیوں ترے آجانے سے
ترے آنے سے کسی تال میں آجائوں گا میں

شاعر: وصی شاہ
انتخاب: فریدہ فری… لاہور

غزل
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب بات میں تری بات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مشکل ہیں اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں
میدان وفا دربار نہیں، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

شاعر: فیض احمد فیض
انتخاب: گل مینا خان اینڈ حسینہ ایچ ایس… مانسہرہ

غزل
بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھی
وہ عہد رفتہ کا ہر خواب ہر حقیقت بھی
کچھ ان کے کام نکلتے ہیں دشمنی میں مری
میں دشمنوں کی ہمیشہ ہوں ضرورت بھی
یہ جس نے روک لیا مجھ کو آگے بڑھنے سے
وہ میری بے غرضی تھی میری ضرورت بھی
میں اپنی بات کسی سے بھی کر نہ پائوں گی
مجھے تباہ کرے گی یہ میری عادت بھی
یہ میرا عجب عجز کہ دل میں اسے اترنے دیا
یہ اس کا مان کہ مانگی نہیں اجازت بھی

کلام: شبنم شکیل
انتخاب: پروین افضل شاہین… بہاولنگر

رقص
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے
زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
ڈر سے لرزاں ہوں، کہیں ایسا نہ ہو
رقص گہ کے چور دروازے سے آکر زندگی
ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پالے مرا
اور جرم عیش کرتے دیکھ لے
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے
رقص کی یہ گردشیں
ایک مبہم آسیا کے دور ہیں
کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں میں
جی میں کہتا ہوں کہ ہاں
رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر
کلفتوں کا سنگریزہ ایک بھی رہنے نہ پائے
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے
زندگی میرے لیے
ایک خونی بھیڑیئے سے کم نہیں
اے حسین و اجنبی عورت اسی کے ڈر سے میں
ہو رہا ہوں لمحہ لمحہ اور بھی تیرے قریب
جانتا ہوں تو مری جاں بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا پھر امکاں بھی نہیں
تو مری ان آرزوئوں کی مگر تمثیل ہے
جو رہیں مجھ سے گریزاں آج تک
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے
عہد پیرانہ کا میں انساں نہیں
بندگی سے اس در و دیوار کی
ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں
جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں
زندگی میں جھپٹ سکتا تو ہوں
اس لیے اب تھام لے
اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے

شاعر: ن م راشد
انتخاب: مریم مرتضیٰ… بہاولنگر

چارہ گر
اک چمیلی کے منڈ دے تلے
میکدے سے ذرا دور، اس موڑ پر
دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے
پیار، حرف وفا
پیار، ان کا خدا
پیار، ان کی چتا
دو بدن
اوس میں بھیگتے، چاندنی میں نہاتے ہوئے
جیسے دو تازہ رو، تازہ دم پھول پچھلے پہر
ٹھنڈی ٹھنڈی چمن کی سبک رو ہوا
صرف ماتم ہوئی
کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر
ایک پل کے لیے رک گئی
ہم نے دیکھا انہیں
دن میں اور رات میں
نور و ظلمات میں
مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انہیں
مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیں
میکدے کی دراڑوں نے دیکھا انہیں
ازازل
تا ابد
یہ بتا چارہ گر تیری زنبیل میں
نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے
کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے
اک چمیلی کے منڈوے تلے
میکدے سے ذرا دور، اس موڑ پر
دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے
چار گرہ

شاعر: محی الدین
انتخاب:سدرہ شاہین…پیرووال

پہلی سی محبت
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
انگنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے؟
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے؟
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

شاعر: فیض احمد فیض
انتخاب:صباء عیشل…بھاگووال

تجزیہ
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن!
پھر بھی جب پاس تو نہیں ہوتی
خود کو کتنا اداس پاتا ہوں
گم سے اپنے حواس پاتا ہوں
جانے کیا دھن سمائی رہتی ہے
اک خموشی سی چھائی رہتی ہے
دل سے بھی گفتگو نہیں ہوتی
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
پھر بھی شب کی طویل خلوت میں
تیرے اوقات سوچتا ہوں میں
تیری ہر بات سوچتا ہوں میں
تیری ہر بات سوچتا ہوں میں
کون سے پھول تم کو بھاتے ہیں
رنگ کیا کیا پسند آتے ہیں
کھو سا جاتا ہوں تیری جنت میں
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
پھر بھی احساس سے نجات نہیں
سوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہے
دل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہے
جس کو اتنا سراہتا ہوں میں
جس کو اس درجہ چاہتا ہوں میں
اس میں تیری سی کوئی بات نہیں
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن

شاعر: جاں نثار
انتخاب:صوفیہ خان…سعودی عرب

غمگساری
دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑے ہی رہے ہیں آخر
تیری پلکوں پہ سر اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تری محبوب تجھے مل نہ سکی
اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
آج وہ ٹھوس حقائق میں کہیں ٹوٹ گئی
تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے، معلوم تجھے
انگنت لوگ زمانے میں رہے ہیں ناکام
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست مرے
کس نے پائی ہے بھلا زیست کی تلخی سے نجات
چارو نا چار یہ زہر اب سبھی پیتے ہیں
جاں سپاری کے فریبندہ فسانے پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں
وقت ہر زخم کو، ہر غم کو مٹا دیتا ہے
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائے گا
اور یہ باتیں جو دہرائی ہیں میں نے اس وقت
تو بھی اک روز انہیں باتوں کو دہرائے گا
دوست مایوس نہ ہو

شاعر: احمد راہی
انتخاب:ہالہ سلیم…کراچی

اندیشے
روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہے
دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے
وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے
رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا
جھک گئی ہوگی جواں سال امنگوں کی جبیں
مٹ گئی ہوگی للک، ڈوب گیا ہوگا یقیں
چھا گیا ہوگا دھواں، گھوم گئی ہوگی زمیں
اپنے ہی پہلے گھروندے کو جو ڈھایا ہوگا
دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گے
اشک آنکھوں نے پئے اور نہ بہائے ہوں گے
بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گے
ایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہوگا
اس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہوگی
مٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہوگی
میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہوگی
ہر طرف مجھ کو تڑپتا ہوا پایا ہوگا
بے محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں گے
غم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گے
نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گے
سر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا
زلف ضد کر کے کسی نے جو بنائی ہوگی
روٹھے جلوئوں پہ خزاں اور بھی چھائی ہوگی
برق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہوگی
رنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہوگا

شاعر: اطہر حسین
انتخاب:سمیہ عثمان…کراچی

فاصلہ
رات آئی تو چراغوں نے لویں کم کردیں
نیند ٹوٹی تو ستاروں نے لہو نذر کیا
کسی گوشے سے دبے پائوں چلی باد شمال
کیا عجب اس کے تبسم کی ملاحت مل جائے
خواب لہرائے کہ افسانے سے افسانہ بنے
ایک کونپل ہی چٹک جائے تو پھر جام چلے
دیر سے صبح بہاراں ہے نہ شام فردوس
وقت کو فکر کہ وہ آئے تو کچھ کام چلے
دھوپ اتری تو وہی شام غریباں جس میں
اپنے سینوں پہ مزاروں کا گماں ہوتا ہے
غم بھی ملتے ہیں تو جیسے کوئی دولت مل جائے
لو بھی چلتی ہے تو احسان سے سر جھکتا ہے
آخری آس بھی ٹوٹے تو بڑا لطف و کرم
ریت کے پیارے سے طوفاں کے جھکولے اچھے
آگ لگ جائے جو گھر کو تو چلو جشن ہوا
اپنے معمول کی اس راکھ سے شعلے اچھے

شاعر: مصطفیٰ حسین زیدی
انتخاب:راؤ رفاقت علی…دنیا پور

غزل
دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ کچھ جائے گا
جوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا
رخصت ہے باغباں کہ ٹک اک دیکھ لیں چمن
جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ آجائے گا
تیغ جفائے یار سے دل سر نہ پھیریو
پھر مونہہ وفا کو ہم سے دکھایا نہ جائے گا
کعبہ اگر چہ ٹوٹا تو کیا جائے غم ہے شیخ
کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
ظالم میں کہہ رہا تھا تو اس خو سے در گزر
سودا کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا

شاعر: مرزا محمد رفیع سودا
انتخاب:رخسانہ اقبال…خوشاب

غزل
ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
کہ ہم کو دست زمانہ سے زخم کاری لگے
اداسیاں ہوں مسلسل تو دل نہیں روتا
کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے
بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگر
کہ تیربن کے جسے حرف غم گساری لگے
ہمارے پاس بھی بیٹھو بس اتنا چاہتے ہیں
ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے
فراز تیرے جنوں کا خیال ہے ورنہ
یہ کیا فرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگے

شاعر: احمد فراز
انتخاب: عرسہ پرویز

کوہستان دکن کی عورت
یہ ابلتی عورتیں اس چلچلاتی دھوپ میں
سنگ اسود کی چٹانیں آدمی کے روپ میں
عورتیں ہیں یا کہ ہیں برسات کی راتوں کے خواب
پھٹ پڑا ہے جن پہ طوفاں خیز پتھریلا شباب
جسم ہیں کچھ اس قدر ٹھوس الحفیظ و الامان
لیجیے چٹکی تو چھل جائیں خود اپنی انگلیاں
ان بنات کوہ کی کڑیل جوانی، الاماں
پتھروں کا دودھ پی پی کر ہوئی ہیں جو جواں
کیا خبر کتنے دنوں کی جوش پامالی ہوئی
ان ادائوں سے کہ ہیں طوفان کی پالی ہوئی

شاعر: جوش ملیح آبادی
انتخاب: دعا احمر… پاکپتن

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close