Hijaab Feb-17

زیاں

سیدہ ضوباریہ ساحر

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
انیقہ ہادیہ کی ڈائری پڑھ لیتی ہے اور اس کے راز سے آگاہ ہوجاتی ہے انیقہ کو اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ جو بہن اپنی ہر بات اس سے شیئر کرتی تھی اس نے ڈائری والی بات سے انیقہ کو لاعلم ہی رکھا تھا، تب انیقہ خود ہی ہادیہ سے پوچھتی ہے اور پھر ہادیہ بہن پر بھروسہ کرتی اسے ساری بات بتا دیتی ہے۔ دوسری طرف شہباز کی بیٹے کی خواہش تیسری بار بیٹی کی صورت دم توڑ جاتی ہے اس کے سامنے تابندہ کے گھر والوں کی اصلیت آجاتی ہے وہ ہر طرف سے مایوس ہوکر رہ جاتا ہے۔ ماہین عارف علی کو بیٹیوں کے جوان ہونے اور ان کی شادی کا احساس دلاتی ہے پہلی بار عارف علی ماہین کی بات تحمل سے سنتا اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اور چند ماہ بعد اپنی زمین بیچ کر اس میں سے کچھ رقم ماہین کو دیتا ہے۔ ہادیہ یک طرفہ محبت میں گرفتار تھی اس بات کا احساس اسے کبیر کے ملک سے باہر جانے پر ہوتا ہے تب وہ اپنی ڈائری جلا دیتی ہے۔ ہادیہ ایک اسکول میں جاب کرلیتی ہے اور پرانی یادوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فراغت کے لمحوں میں رسائل و جرائد کا سہارا لیتی ہے تب ایک ماہنامے کے آخر میں لگے خط نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا خط اس کے پسندیدہ مصنف کا ہوتا ہے وہ طاہر شکیل (رائٹر) کو جوابی خط بھیجتی ہے اور پھر دونوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ چل نکلتا ہے اور دونوں ہی ان دیکھی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف شہباز انیقہ کے آرٹیکل کو مدنظر رکھتے ماہین کی تربیت کو نشانہ بناتا ہے شہباز کی نظر میں انیقہ بہت اوور ہوگئی تھی جو اس کے نام اب اخبارات میں شائع ہونے لگے تھے اس کی بات پر ماہین کو دکھ پہنچتا ہے۔ ماہین کی طبیعت دن بہ دن بگڑنے لگتی ہے اس کی بگڑتی طبیعت ہادیہ اور انیقہ کے لیے تشویش کا باعث ہوتی ہے انیقہ کا رشتہ ماہین اپنی زندگی میں ہی طے کردیتی ہے جبکہ طاہر شکیل کا انتظار کرتی وہ اپنے آخری سفر کی طرف گامزن ہوجاتی ہے۔ عارف علی کو گھر والے سمجھاتے ہیں کہ ماہین کے ہوتے ہوئے ہادیہ اور انیقہ کو کسی بات کی پریشانی نہیں تھی لیکن اب عارف علی کو ہی سب سنبھالنا تھا۔ گھر والوں کے سمجھانے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ کچھ وقت ہادیہ و انیقہ کے ساتھ گزارنے لگتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ہادیہ اور انیقہ کو اپنے اردگرد اجنبیت کی ایک دیوار سی تنی دکھائی دینے لگی اور اس سے بھی بڑھ کر بڑی امی کے فیصلے نے انہیں حیرانی اور پریشانی کا شکار کردیا تھا۔ جب انہوں نے محض ماہین کی وفات کے دو ماہ بعد ہی انیقہ کے سسرال والوں کو بلا کر دو ماہ بعد کی تاریخ دے دی۔ بغیر کسی سے مشورہ وصلاح لیے یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا ہادیہ بے حد حیران سی سب سن رہی تھی۔
’’دو ماہ بہت ہیں شادی کی تیاری کے لیے۔ اچھا ہے وقت پہ رخصت کردیا جائے۔ تمہاری بھی سسرال والے عید کے بعد کی تاریخ مانگ رہے ہیں۔‘‘ بڑی امی نے ہادیہ سے کہا۔
’’مگر بڑی امی آپ تو جانتی ہیں مماجی نے جہیز کے نام پر کچھ خاص تو بنا نہیں رکھا ہر چیز خریدنی پڑے گی۔‘‘
’’ہاں تو…‘‘
’’تو اس سب کے لیے پیسے؟‘‘ ہادیہ اچنبھے سے ان کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔
’’ہوجائے گا سب کچھ… اللہ نے جو مقدر میں لکھا ہوگا وہ بھی لے جائے گی اور تم بھی…‘‘ بڑی امی نے عام سے انداز میں کہا اور اپنے گھر روانہ ہوگئیں۔ ہادیہ سر پکڑ کر بیٹھ گی۔ یہ چھوٹا فیصلہ نہیں تھا۔ ایک بیٹی کی گھر سے وداعی کا فیصلہ تھا۔
’’تم کیوں اس طرح بیٹھی ہو ہادی۔‘‘ انیقہ دادو کے کمرے سے نکلی تو اسے برآمدے میں سر پکڑے بیٹھا دیکھ کر اس کے قریب چلی آئی۔
’’کچھ نہیں تم بتائو تم کیا کررہی تھی؟‘‘ ہادیہ نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔
’’ابھی ابھی فورتھ ایئر میں آئے ہیں اور آتے ہی ڈھیروں کام دے دیا ہے کمپلیٹ کرنے کے لیے… اور تم مجھے ٹالو مت مجھے تمہاری زبردستی کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی پریشانی بہت واضح دکھائی دے رہی ہے۔ بتائو کیا بات ہے۔‘‘ انیقہ دھپ سے اس کے قریب بیٹھ گئی۔
’’نکی… بڑی امی نے تمہاری شادی کی تاریخ طے کردی ہے۔‘‘
’’ہیں… کیا مطلب اور میری پڑھائی؟‘‘ انیقہ ہونق سی دیکھتی رہ گئی۔
’’وہ کہہ رہی ہیں کہ تمہاری ماں نہیں ہے اس لیے رشتوں کے معاملات کو لٹکانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی کون سا تمہارے سسرال والوں نے نوکریاں کروانی ہیں جو اتنا پڑھنا ہے۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی… انہوں نے کسی سے بھی مشورہ نہیں کیا بس خود سے کہہ دیا۔‘‘
’’ہاں… مہمانوں کے جانے کے بعد سب گھر والوں کو انفارم کردیا ہے انہوں نے۔‘‘
’’سب گھر والوں کا ری ایکشن… کیا کسی نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ہادی… کیا یہ سب ٹھیک ہورہا ہے؟‘‘ انیقہ نے سلگتی نظروں سے اس کے بجھے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا۔
’’شاید ہاں… شاید نہیں…‘‘ ہادیہ نے مبہم سے لہجے میں کہا۔
’’مماجی کے جانے کے بعد ہماری زندگیاں تو جیسے کھلونوں سے بھی بے وقعت ہوگئی ہیں جس کا جو دل چاہتا ہے وہ فیصلہ ہم پر مسلط کرکے چلا جاتا ہے۔‘‘ انیقہ کڑھ کر رہ گئی۔
’’نکی… ذرا میرے ساتھ چلوگی۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘
’’اسٹور میں۔‘‘
’’وہاں کون سا خزانہ ڈھونڈنا ہے ہادی؟‘‘
’’دیکھتی ہوں ناں… مماجی نے کیا بنایا ہے کیا رکھا ہے وہاں۔‘‘
’’چلو…‘‘ انیقہ اس کی بجھی ہوئی صورت دیکھ کر کچھ کہتے کہتے رک گئی اور خاموشی سے چل پڑی۔
اسٹور میں کام کی چیزیں کم کاٹھ کباڑ زیادہ بھرا ہوا تھا۔ ماہین جیسی کفایت شعار خاتون عام سی بے کار چیزوں کو بھی کار آمد بنانے کے خیال سے سنبھال کر رکھ لیا کرتی تھیں۔ دو نئے بڑے صندوق رکھے تھے۔ جو ماہین کبھی بھی ان کے سامنے نہیں کھولا کرتی تھیں۔ آج عمروعیار کی یہ زنبیل بھی کھل گئی۔ دو بیڈ شیٹیں‘ چند سوٹ پیسز اور کچھ برتن… ان دو صندوقوں کی کل متاع ماہین کی جانے کتنے سال میں کی گئی بچت۔ ہادیہ نے مایوسی سے سر ہلایا۔
’’یہ تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’تو تم کیا ہفت اقلیم کا خزانہ سمجھ کر چلی آئی تھیں یہاں۔‘‘ انیقہ نے اس کی طرف مضحکہ خیز نظروں سے دیکھا۔
’’جس خاتون کے ہاتھوں نے یہ چند چیزیں جوڑی ہیں‘ اگر تمہیں یاد ہو ہادی تو اس کے پاس تو ماہانہ خرچ کے لیے بھی کبھی موزوں آمدنی نہیں ہوتی تھی۔ ہمارے تعلیمی اخراجات کی مد میں ایک ایک کرکے اس کے سارے زیور بک گئے اور جو کچھ بچا تھا‘ وہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا جہاں سے واپسی کی توقع فضول ہے اور ہاں… یہ جو کچھ بھی ہے ناں‘ اس میں سے میرے لیے تم کوئی چیز بھی نہیں رکھوگی کیونکہ مماجی نے یہ سب تمہارے نام سے رکھا تھا یہ سب تمہارا ہے۔‘‘ انیقہ نے حتمی انداز میں کہا۔
’’نکی… مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کہاں سے ابتدا کروں‘ بستر‘ برتن‘ زیور‘ فرنیچر‘ الیکٹرونکس کتنا کچھ ہوتا ہے جہیز میں…‘‘ ہادیہ بے چارگی سے بولی۔ یہ نہیں تھا کہ اسے دنیا کی سمجھ نہیں تھی یا کبھی وہ بازار نہیں گئی تھی۔ ایک عرصے سے جب سے ماہین کا وزن بہت بڑھ گیا تھا‘ ہادیہ نے غیر محسوس انداز میں کافی ساری ذمہ داریاں اپنے سر لے لی تھیں۔ بل جمع کروانا‘ گھر کا راشن لانا‘ دیگر ضروریات زندگی کی خریداری کرنا اور گھر کے بھی تقریباً سبھی کام وہ ہی کرتی تھی۔ لیکن جہیز بنانا تو ماں کا کام ہے اور وہ انیقہ سے محض دو سال بڑی تھی۔ وہ اتنی بڑی ہرگز نہ تھی جو اس قدر اہم ذمہ داری اٹھالیتی پھر بھی اس نے الماری میں ماہین کے ہاتھوں کے رکھے اٹھائیس ہزار سے ابتدا کی‘ بستروں کا بڑا صندوق خریدا اور محلے کی ایک خاتون کی مدد سے مخمل اور شنگھائی کی رضائیاں بنوائیں‘ پھرتکیے‘ سرہانے‘ کشن اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بنوائیں‘ بازار سے پانچ‘ چھ بہترین بیڈ شیٹیں خریدیں۔ اگلی امید باقر چچا تھے۔ ایک شام وہ ان کے پورشن میں چلی آئی۔
’’دیکھو ہادیہ پتر… کاروبار میں آج کل کافی مندا چل رہا ہے گھر کا خرچہ بھی مشکل ہی سے نکل رہا ہے ایسی صورت میں ایک دم چالیس ہزار روپے کہاں سے لائوں۔‘‘ باقر چچا کا لنگڑا بہانہ سنتے ہوئے اس نے اپنی سب سے چھوٹی چچی کو زیورات میں لت پت بڑی توجہ سے دیکھا جو گھر میں بھی یوں سجی سنوری بیٹھی تھیں گویا ابھی کسی شادی میں جانا ہے یا ہوکر آئی ہیں۔
’’لیکن باقر چچا آپ کو تو پتہ ہے انیقہ کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی ہے‘ اب کسی نہ کسی طرح تو انتظام کرنا ہوگا ناں۔‘‘
’’پتر برا نہ ماننا… یہ تمہاری بڑی امی یعنی ہماری چچی صاحبہ کے کام بھی نرالے ہی ہیں… بغیر کسی سے مشورہ کیے انہوں نے تاریخ طے کردی پوچھنا تک گوارہ نہ کیا… اب یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ناں۔‘‘
’’وہ تو جو ہونا تھا ہوگیا اب آگے کا بتائیں باقر چچا کہ کیا کیا جاسکتا ہے۔‘‘
’’پتر میں تو اتنی مدد کرسکتا ہوں کہ کمپنی سے ایک فریج نکلوا کے دے دوں گا۔‘‘
’’مدد…؟ نہیں باقر چچا میں تو ان پیسوں کا سوال کررہی ہوں جو مماجی نے آپ کو دیئے تھے۔‘‘
’’تو میں بھی تو وہی کہہ رہا ہوں کہ تم باقی سامان کا دھیان کرو فریج مجھ پر چھوڑ دو‘ وہ میں ان پیسوں میں ایڈجسٹ کردوں گا۔‘‘
’’جی بہتر…‘‘ ہادیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ارے کدھر چل پڑی… کھانا کھا کر چلی جانا ہادیہ۔‘‘ چچی نے برسبیل تذکرہ کہا۔
’’نہیں چچی بس ابھی چلتی ہوں اجازت دیں۔‘‘ ہادیہ ان کے پورشن سے نکل آئی۔ ذہن اسی ادھیڑبن میں تھا کہ ایک مہینہ ہونے کو آیا تھا‘ بڑی امی جب سے فیصلہ صادر کرکے گئی تھیں ایک دن بھی پلٹ کر نہیں پوچھا تھا کہ آخر وہ کیا کررہی ہیں اور کچھ کر بھی رہی ہیں یا نہیں۔ اگلے دن ہادیہ بچت بینک چلی گئی‘ فکس ڈیپازٹ کی گئی رقم سے پچاس ہزار روپے نکلوائے اور گھر واپس آگئی۔
’’یہ تم نے غلط کیا ہادی… مماجی نے یہ پیسے تمہارے لیے رکھوائے تھے۔‘‘
’’میں یا تم الگ تو نہیں ہیں ناں… اور مجھے پتہ ہے سب کچھ بن جائے گا ان شاء اللہ کوئی کمی نہیں ہوگی تمہارے جہیز میں دیکھنا۔ ان پیسوں سے میں نے وہ خریدنا ہے جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں جانا اور جو بے حد ضروری ہے۔‘‘
’’ارے وہ کیا؟‘‘ انیقہ نے حیرت سے پوچھا۔
’’وہ جب میں خرید کر لے آئوں گی تب بتائوں گی۔‘‘ ہادیہ مسکراتے ہوئے بولی اور اسی شام جان گولڈ سے خریدی گئی سونے کی چین‘ ایک ٹاپس کی جوڑی اور ایک انگوٹھی مردانہ ایک زنانہ‘ وہ خوشی خوشی انیقہ کو دکھا رہی تھی۔
’’یہ دلہا کی انگوٹھی اور چین‘ یہ ٹاپس تمہاری ساس امی کے لیے اور یہ انگوٹھی تمہاری اکلوتی نند کے لیے۔‘‘
’’کیا یہ ضروری تھا ہادی۔‘‘
’’ہاں جی بالکل ضروری تھا اور تم یہ کسی کو بھی نہیں بتائوگی نہ ہی میں ان کا ذکر کروں گی۔ آئی سمجھ۔‘‘
’’آگئی۔‘‘ انیقہ نے سعادت مندی سے کہا۔
’’گڈ گرل۔‘‘ ہادیہ نے وہ سب کچھ وارڈروب کی دراز میں رکھ کر لاک کردیا۔ رات میں جب تائی امی انہیں کھانے کے لیے بلانے آئیں تو تایا ابو بھی عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ان کے ساتھ ہی رات کے کھانے میں شریک ہوگئے تھے۔
’’ہادیہ پتر… انیقہ کی شادی کی تیاریاں تم کیسے کررہی ہو بچہ… تمہاری تائی بتارہی تھیں ابھی تک خالہ جی بھی نہیں آئیں‘ کم سے کم انہیں تو آکر پوچھنا چاہیے تھا ناں‘ فیصلہ بھی ان ہی کا تھا‘ ورنہ ماہین کی تو قبر کی مٹی ابھی تک گیلی ہے۔ کہاں انہوں نے شادی کی تاریخ طے کردی۔‘‘ تایا ابو اس گھر میں پہلے شخص تھے جنہوں نے اس سے پوچھا تو تھا‘ ہادیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’تایا ابو… میری سمجھ میں جو آرہا ہے وہ تو میں کررہی ہوں لیکن پیسے کی کمی کی وجہ سے مجھ سے کوئی کام بھی مکمل نہیں ہو پارہا۔‘‘
’’یہی میں تمہیں بتانے والا تھا عارف نے حمایت علی کے ساتھ جو آڑھت کا کام شروع کیا ہوا تھا‘ وہ تو اب خاصا بہتر ہوچکا ہوگا‘ میں حمایت علی سے بات چیت کرلوں پھر تمہیں کل بتائوں گا۔ کچھ رقم تو اس سے بھی مل جائے گی۔‘‘
’’جی تایا ابو جیسے آپ بہتر سمجھیں۔‘‘ ہادیہ کے لیے نوالہ نگلنا مشکل ہوگیا یہ فرض عارف علی کا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر تمام معاملات پر بات کرتا۔ تسلی دیتا اپنے ساتھ کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ کوشش بھی کرتا‘ جبکہ اس نے تو ایک ماہ سے ڈھنگ سے گھر میں وقت بھی نہیں گزارا تھا‘ زیادہ سے زیادہ ایک یا آدھے گھنٹے کے لیے آتا‘ کپڑے بدلتا‘ کھانا کھاتا اور پھر کہیں چلا جاتا۔ تایا ابو کئی دن تک حمایت علی سے بات کرنے کے لیے جاتے رہے لیکن وہ انہیں دور ہی سے دیکھ کر ادھر ادھر ہوجاتا‘ تنگ آکر تایا ابو نے ہادیہ سے کہا۔
’’چلو حمایت علی کے گھر تمہیں لے کر جاتا ہوں‘ اس کی ماں اور بیوی سے تم خود بات کرکے دیکھ لو کیونکہ میں ان کے گھر بھی گیا ہوں کئی بار‘ مجھے اندازہ ہے کہ وہ گھر پر ہی ہوتا ہے لیکن کہلوا دیتا ہے کہ گھر پر نہیں ہے۔ تم خود جائوگی تو پھر پتہ چل جائے گا کہ آخر اصل معاملہ کیا ہے وہ کیوں ہم سے چھپتا پھر رہا ہے۔‘‘ ہادیہ چادر اوڑھ کر ان کے ہمراہ چل پڑی۔ تایا ابو نے دروازہ بجا کر اپنی آمد کی بابت بتایا اور حسب توقع جواب ملنے پر ہادیہ کو اشارہ کیا کہ گھر کے اندر داخل ہوجائو۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ہادیہ کو حمایت علی سامنے صحن میں چارپائی پر بیٹھا دکھائی دے گیا۔ ہادیہ کو دیکھ کر گھر کے سبھی افراد پہلے تو چونکے اور پھر اپنے جھوٹ پر شرمندہ سے دکھائی دینے لگے۔
’’السلام علیکم چچا جی…‘‘ ہادیہ نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام پتر… کیسی ہو؟‘‘ حمایت علی پھیکے سے لہجے میں کہتا ہوا اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر ایک طرف بیٹھ گیا۔
’’چچا جی… تایا ابو کئی بار آپ سے ملنے آئے‘ آپ نہیں ملے تو اس وجہ سے مجھے آج آنا پڑا‘ آپ کو تو پتہ ہے کہ چھوٹی بہن کی شادی کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہوں۔ ڈھیروں چیزیں ہوتی ہیں جہیز کی لینے والی‘ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی‘ تایا ابو نے بتایا تھا کہ ابو نے آپ کے ساتھ کاروبار میں کچھ رقم لگائی ہوئی تھی‘ اگر ممکن ہو تو آپ اس وقت مجھے اس میں سے کچھ پیسے دے دیں۔‘‘ ہادیہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں مگر پلکوں کی لرزش سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس طرح ہاتھ پھیلانے پر اس وقت اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔ وہ خود دار ماں کی خود دار بیٹی تھی لیکن یہاں معاملہ اس کی بہن کی خوشیوں کا تھا جو اس کی ماں جائی اس کی اکلوتی چھوٹی بہن ہی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ذمہ داری بھی تھی جو اس کی مرتی ہوئی ماں اس کے کندھوں پر ڈال گئی تھی۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اگر اسے بھکاری بھی بننا پڑتا تو یہ صعوبت بھی وہ خوشدلی سے قبول کرلیتی۔
’’پتر… مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ ایک بیٹی کا فرض کیا معنی رکھتا ہے ہم بھی بہنوں بیٹیوں والے ہیں مجھے یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے تایا مجھ سے کئی بار ملنے منڈی اور گھر آتے رہے ہیں لیکن میں بھی کیا کرتا میں ان سے نظر ملا کر بات کرنے کے قابل ہی نہ تھا‘ پتر مجھے بے حد شرمندگی ہے کہ میں اس کڑے وقت میں تمہاری مدد نہیں کرپائوں گا۔ میری طرف سے معذرت قبول کرو۔‘‘ حمایت علی کے الفاظ زہر میں بجھے تیروں کی طرح ہادیہ کے دل کو چھید رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ ایک بزرگ آدمی محض اس سے ملنے کی خاطر کئی بار اتنی دور چل کر آیا تھا لیکن وہ اس سے مل نہیں سکتا تھا‘ ایسا کیا معاملہ تھا۔
’’چچا جی… ایسی بھی کیا بات تھی جس نے آپ کو ایسا رویہ رکھنے پر مجبور کیا؟‘‘ ہادیہ نے ان کی طرف گہری نظر سے دیکھا۔
’’چھوڑو بیٹا… رہنے دو اب‘ بس اتنا جان لو کہ تمہاری مدد کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں چچا جی… آپ نے مجھے پتر کہا اپنی بیٹی سمجھا تو کہا ناں… پھر آپ مجھے وہ مسئلہ بھی بتائیں گے۔‘‘
’’ایک ماہ پہلے تمہارے ابو آئے تھے منڈی اور انہوں نے مجھے کہا تھا کہ گھر میں چھوٹی بیٹی کی شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ پیسے کی کمی بیشی کی صورت میں میری بیٹی یا بڑے بھیا تم سے رابطہ کریں گے‘ میں واضح الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ جو رقم میں نے تمہارے ساتھ کاروبار میں لگائی ہے اس میں سے ایک روپیہ بھی تم ان دونوں میں سے کسی کو نہیں دوگے اور اگر تم نے دیا تو میں اس کی کوئی ذمہ داری نہیں لوں گا‘ بلکہ تم سے پائی پائی وصول کروں گا۔ اب خود سوچو پتر کہ عارف علی کے اس قدر حتمی الفاظ کو میں کس صورت نظر انداز کرسکتا ہوں بھلا… میں خود غریب آدمی ہوں۔ اس لیے شرمندہ ہوں پتر مجھے معاف کردینا۔‘‘ حمایت علی کے الفاظ نہیں تھے زہر میں بجھے تیر تھے جو ہادیہ کے وجود وروح میں پیوست ہوگئے۔ وہ جب جانے کے لیے اٹھی تو اس سے ایک قدم بھی اٹھانا مشکل ہورہا تھا۔ منوں وزنی قدموں کو بمشکل اٹھاتی وہ بیرونی دروازے سے باہر آئی‘ تایا ابو کے چہرے سے جھلکتی امید اس کے بجھے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مرجھا گئی۔
’’کیا ہوا ہادی بیٹا… اندر ہی تھا ناں حمایت علی…‘‘ وہ اس کے ہمراہ چلتے ہوئے بولے۔
’’جی…‘‘ بمشکل اس نے حلق تر کرتے ہوئے جواب دیا۔ اسٹریٹ لائٹس کی روشنیاں یک دم مدھم ہوتے ہوتے جیسے بالکل ہی بجھنے لگی تھیں۔ اس نے زور زور سے پلکیں جھپکیں‘ لمبے لمبے سانس لیے مگر دم تھا کہ سینے میں گھٹا جارہا تھا۔
کیا اس سے بھی بڑھ کر بے وقعتی اور کم مائیگی کی کوئی حالت ہوسکتی تھی یہ ایک بیٹی کے وجود سے انکار تھا ایک رحمت کی بے قدری اور اللہ کی دی ہوئی اولاد کی نفی تھی۔ عارف علی اپنی ذات کے حوالے سے اس قدر خود غرض بھی ہوسکتا ہے ایسا تو وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔ شاید وہ لڑکھڑائی تھی کہ جلدی سے تایا ابو نے آگے بڑھ کر اسے سنبھالا تھا۔
’’کیا ہوا ہے ہادی…؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں بیٹا… تم نے بتایا نہیں اندر کیا ہوا؟ حمایت علی ملا کہ نہیں۔ کیا کہا اس نے۔‘‘
’’تایا ابو… مجھے کہیں بیٹھنا ہے۔‘‘ ان کے بازو تھامے وہ بمشکل کھڑی تھی۔ اس کے وجود کی لرزش نے تایا ابو کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے جلدی سے قریب ہی ایک بند دکان کے تھڑے پر اسے بٹھا دیا۔
’’تم بیٹھو میں پانی کہیں سے ملتا ہے تو لاتا ہوں یا پھر رکشہ روکتا ہوں۔‘‘
’’گھر جانا ہے تایا ابو…‘‘ اس نے سسکاری لی۔
’’ہاں ہاں بچہ… ایک منٹ وہ روڈ کی دوسری جانب رکشہ کھڑا ہے میں اسے بلا کر لاتا ہوں تم آرام سے یہیں بیٹھو۔‘‘ وہ تیزی سے روڈ کراس کرکے دوسری جانب سے رکشہ لے آئے۔ اسے رکشے میں بٹھایا اور گھر آگئے۔ داخلی دروازے سے اندر آتی ہادیہ پر نگاہ پڑتے ہی تائی امی اور انیقہ کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔ سر سے ڈھلکتی چادر‘ آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کے ساتھ وہ مردہ قدموں سے چلتی ہوئی کمرے تک آئی اور بیڈ پر ڈھے سی گئی تھی۔
’’انیقہ بیٹا… بہن کو پانی پلائو۔ شاید بلڈ پریشر لو ہوگیا ہے۔‘‘
’’تو آپ وہیں سے ڈاکٹر کے پاس لے جاتے‘ خراب طبیعت کے ساتھ گھر لے آئے۔ رنگت تو دیکھیں کیسی ہلدی جیسی ہو رہی ہے… ہائے میرے اللہ۔‘‘
’’تائی امی… ہادی لگتا ہے بے ہوش ہورہی ہے۔ دیکھیں ناں اس کے ہاتھ پائوں برف کی طرح سرد ہوگئے ہیں۔‘‘ ہادیہ کو سب کی آوازیں آرہی تھیں لیکن حواس اپنی جگہ پر نہ تھے۔ آنکھوں پر جیسے کسی نے منوں وزن دھر دیا تھا۔ دل تھا کہ یوں باآواز بلند بلک رہا تھا کہ وجود کے اندر خون کے سر ٹکرانے کی صدائیں اسے اپنی سماعت کو بخوبی محسوس ہورہی تھیں۔
’’کاش وہ نہ جاتی آج وہاں… ایک بھرم تو رہ جاتا‘ تھوڑی سی خوش فہمی تو باقی رہ جاتی… ایک بیٹی کا کچھ مان تو سلامت رہ جاتا…‘‘ سب کچھ خاک میں مل گیا تھا اس کا وجود کسی گرد باد کے گھیرے میں آگیا تھا اور گردباد اسے اڑائے اڑائے پھر رہا تھا۔ کبھی اسے زمین پر پٹختا تھا اور کبھی ریت اور مٹی کے ذروں سے بھی ہلکا کرکے ہوا میں اچھال دیتا اور اس سارے میں اس کی ذات کے پرخچے اڑگئے تھے۔ وہ کہیں بھی نہیں تھی جب اسے جنم دینے والا ہی اس سے انکاری تھا تو وہ کس سے اپنا آپ تسلیم کرواتی۔ کس آئینے میں اپنی شبیہہ تلاش کرتی اور کس کو اپنا کہتی‘ امید ٹوٹ جانے پر‘ یقین کے مرجانے پر کیسا ماتم بپا ہوتا ہے یہ آج کوئی ہادیہ سے پوچھتا…
ڑ…r…‘
وہ بے حد خوش ہوگئی تھی۔ صبح اسکول جاتی وہاں سے واپس آتے ہی انیقہ کی شادی کی تیاری میں لگ جاتی۔ اس نے کسی سے بھی ذکر نہیں کیا تھا اس قیامت کا جو اس کی جذباتی وروحانی محسوسات کی تباہی کا باعث بنی تھی۔ اسے اپنے اردگرد موجود تمام لوگ خود غرض‘ خون چوسنے والی جونکوں کی مانند دکھائی دینے لگے تھے۔ بے حس‘ پتھر جیسے‘ جنہیں ان کا احساس تو کیا ہوتا ایک پل کے لیے جو ان کے متعلق سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ دھیرے دھیرے اس نے انیقہ کے کپڑے‘ بیڈ شیٹس‘ کراکری اور الیکٹرونکس کی تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں خرید لی تھیں۔ شادی میں پچیس دن پہلے بڑی امی آخرکار ان کے گھر چلی آئیں۔ اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو ناقدانہ نظروں سے دیکھ کر بولیں۔
’’میں نے کہا جاکر دیکھوں تو کچھ بنا بھی رہی ہو کہ نہیں۔ اصل میں گل کا فون آیا تھا‘ وہ کہہ رہا تھا‘ ہادیہ سے فرنیچر پسند کروالیں‘ فرنیچر تو ننھیال والوں کی طرف سے ہی ہوتا ہے ناں۔ تو میں البم لے کر آئی ہوں۔ ڈیزائن وغیرہ پسند کرلو پھر آرڈر دے دیں گے۔‘‘ بڑی امی نے البم اس کے سامنے رکھا۔ ’’ویسے جو کچھ بھی لیا ہے ٹھیک ہی ہے کون ساتھ جاتا رہا ہے بازار۔‘‘
’’وہ بڑی امی‘ کراکری کے لیے شاہ گل گئی تھیں ساتھ ورنہ زیادہ تر میں اکیلی ہی جاتی ہوں ایک دو بار تایا ابو بھی گئے ہیں۔‘‘ ہادیہ البم کے صفحات پلٹتے ہوئے بولی۔ فرنیچر کا ڈیزائن فائنل کرکے اس نے بڑی امی کو دکھایا تو انہیں بھی پسند آیا۔
’’چلو ٹھیک ہے اور ہاں انیقہ کے سسرال والے کہہ رہے تھے کہ چوڑیاں وہ لوگ بنا رہے ہیں تو تم زیور میں بھاری چیز کیا دینا چاہ رہی ہو وہ بھی بتادو۔ میرا ارادہ تو تھا کہ چوڑیاں میری طرف سے ہوجاتیں۔‘‘
’’بڑی امی اگر چوڑیاں وہ لوگ دے رہے ہیں تو پھر ہم کنگن دے دیتے ہیں۔‘‘
’’ہاں چلو ٹھیک ہے۔ کل شام تم آجانا۔ میرے ساتھ چلی چلنا سنار کے پاس۔ ڈیزائن پسند کرلینا۔‘‘
’’جی بہتر بڑی امی۔‘‘ ہادیہ کو کافی بوجھ سرکتا محسوس ہو ورنہ اس سارے دورانیے میں جس طرح سب ہی خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے وہ حیران تھی کہ سب کچھ کس طرح کرپائے گی۔ اب تھوڑا سکون ہوا تھا‘ اس کے باوجود جو سکوت اس کے اندر سرائیت کر گیا تھا وہ ہنوز وہیں تھا۔ ایک طرف ذمہ داری کا بھاری طوق اور دوسری طرف دل کی دنیا کے تہہ وبالا ہوجانے کا غم… چکی کے دو پاٹوں کے بیچ اس کی ذات پستی‘ سرمہ ہوتی جارہی تھی۔
مائے نی… میں کینوں آکھاں
درد وچھوڑے داحال نی
مائے نی میں کینوں آکھاں…
ڑ…r…‘
شادی کے کارڈ چھپ گئے… چار دن پہلے سامان لینے والے آگئے‘ باقر چچا نے یہاں بھی اسے ہری جھنڈی دکھادی کہ کمپنی سے فریج نہیں نکلوایا جاسکا۔ ہادیہ بھاگتی ہوئی تایا ابو کے کمرے میں آئی۔
’’تایا ابو… سامان لینے کے لیے وہ لوگ آنے ہی والے ہوں گے اور باقر چچا نے فریج کے حوالے سے جو وعدہ کر رکھا تھا وہ بھی نہیں پورا ہوپایا۔ میں کیا کروں ابھی سب کچھ تیار ہے بس فریج کی کمی ہے۔‘‘ وہ روہانسی ہوگئی تھی۔ کیونکہ اپنی طرف سے تو اس نے انیقہ کے جہیز میں ایک تنکے کی کمی نہ چھوڑی تھی۔ وہ بھی اگر باقر چچا نے آس نہ دلائی ہوتی تو وہ کسی نہ کسی طرح انتظام کر ہی لیتی۔
’’ہادی بیٹا… پریشان کیوں ہوتی ہو‘ ابھی چلو میرے ساتھ… ہم ان لوگوں کے پہنچنے سے پہلے فریج لے کر آئیں گے ان شاء اللہ ہماری بچی کے جہیز میں کوئی کمی نہ ہوگی۔‘‘ تایا ابو نے نوالہ ہاتھ سے واپس پلیٹ میں رکھ دیا اور اٹھ کھڑے ہوئے وہ متشکر نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتی اپنے پورشن کی طرف بڑھی۔
’’تمہارے پاس کتنے پیسے ہیں اس وقت۔‘‘
’’دس ہزار تایا ابو…‘‘
’’بس وہ ساتھ لے چلو میرا بیٹا۔‘‘
’’جی بہتر‘ تایا ابو میں ابھی آئی۔‘‘ وہ جلدی سے اپنے کمرے سے پیسے اور چادر اٹھا لائی اور تایا ابو کے ہمراہ پیدل ہی بازار روانہ ہوگئی اور پھر تایا ابو نے جو کہا وہ سچ کر دکھایا۔ دس ہزار روپے دے کر اس نے قسطوں پر نہ صرف فریزر اٹھایا بلکہ ٹی‘ وی ٹرالی اور استری اسٹینڈ بھی خرید لیا اور جب وہ واپس پہنچی تو سامان ٹرک میں لوڈ ہورہا تھا۔ دل ہی دل میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی وہ اپنے پورشن میں آگئی۔ ایک بہت بڑا کام اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تھا اور ایک بہت بڑا کام ابھی باقی تھا۔ شادی اور بارات کے کھانے کا انتظام… اور اس میں اسے گھر کے کسی آدمی کی مدد درکار تھی۔ کافی دیر تک سوچنے کے بعد اس کے دل میں آیا کہ اسے منجھلے چچا سے اس سارے معاملے کو ڈسکس کرلینا چاہیے۔ ہوسکتا ہے وہ اس حوالے سے اس کے کسی کام آسکیں۔ یہی سوچ کر وہ ان کے پورشن میں چلی آئی۔ منجھلے چچا گھر پر ہی تھے۔
’’چچا جی… مجھے بے حد ضروری بات کرنی تھی آپ سے۔‘‘
’’ہاں بولو ہادی…‘‘ منجھلے چچا اس وقت ٹی وی پر کوئی ٹاک شو دیکھ رہے تھے۔ اس کے چہرے کی سنجیدگی پر وہ بادل نخواستہ اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’چچاجی… اللہ کا شکر ہے انیقہ کا جہیز تو چلا گیا لیکن اب شادی کے تمام انتظامات کے لیے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’چچا جی… کھانے وغیرہ کے حوالے سے کیا کریں؟‘‘
’’تین دن باقی ہیں شادی میں اور تم اب مجھے بتا رہی ہو ہادیہ… بہت جلدی ہوش آیا ہے بیٹا۔‘‘ وہ الٹا اسی پر چڑھ دوڑے تو وہ حیران سی ان کی طرف دیکھنے لگی‘ کیا یہ بھی اس کی غلطی تھی اس نے تو کسی سے بھی کوئی شکوہ نہیں کیا تھا۔ وہ چچا جن پر اس کے باپ کو بہت یقین تھا کہ اس کی بیٹیوں کو رخصت کرنے کے لیے وہ سب مل کر ہر بوجھ بانٹ لیں گے انہوں نے ایک بار بھی پوچھا تک نہ تھا۔ ایک آدھ چیز جہیز میں اپنی طرف سے دے کر گویا ہر فرض سے بری الذمہ ہوگئے تھے۔ سوائے تایا ابو کے گھر کا ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جس نے پوچھا ہو کہ کیا کررہی ہو؟ کیسے اور کس طرح کررہی ہو؟ اور اب شکوہ بھی الٹا اسی سے‘ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
’’اچھا اب اس طرح منہ مت لٹکائو‘ بارات کے کھانے اور ریفریشمنٹ کا بندوبست ہوجائے گا‘ مجھے ایکیوریٹ بندوں کا اندازہ کرکے بتادو۔‘‘
’’چچا جی بارات پر تین سو سے زیادہ لوگ ہوں گے اور مہندی پر بھی ڈیڑھ سو افراد کی ریفریشمنٹ کا انتظام کرنا پڑے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ہوجائے گا اور اس کے لیے کم سے کم پچاس یا ساٹھ ہزار روپے درکار ہوں گے۔ اگر وقت پر پے منٹ کردو تو زیادہ اچھا انتظام ہوپائے گا۔‘‘ منجھلے چچا کے کہنے پر وہ اندر ہی اندر ڈھے سی گئی۔ اب تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔
’’چچا جی… میرے پاس ابھی اس وقت تو کچھ بھی نہیں البتہ باقر چچا نے جو پیسے دینے تھے اگر وہ دے دیں تو پھر ہوسکتا ہے۔‘‘
’’ہاں تو کیا کہتا ہے وہ ان پیسوں کے حوالے سے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں… ابھی تک اس معاملے میں انہوں نے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں کی۔‘‘ ہادیہ نے کہا تو منجھلے چچا کچھ سوچ میں پڑگئے۔
’’ویسے تو اس سے پیسے نکلوانے بہت مشکل ہیں البتہ کھانے کا خرچ اگر اس کے ذمے ڈال دیا جائے تو پھر ادا کردے گا۔‘‘
’’لیکن میری تو وہ بات بھی ڈھنگ سے نہیں سنتے چچا جی… میں کیسے ان سے یہ بات کروں؟‘‘
’’تم نہیں… تم رہنے دو‘ میں خود اس سے بات کروں گا اور تم بے فکر ہوجائو‘ کھانے کا اور دیگر جو انتظامات رہ گئے ہیں سب ہوجائیں گے۔‘‘ منجھلے چچا نے کہا تو ہادیہ قدرے پرسکون ہوگئی۔
ڑ…r…‘
اور پھر شادی میں ہر تقریب اتنے بہترین طریقے سے انجام پائی کہ کسی کو یہ احساس تک نہ ہوا کہ یہ ایک ایسی لڑکی کی شادی ہے جس کی ماں چند ماہ پہلے اس دنیا سے جاچکی ہے اور جس کے باپ کو اپنی اولاد کا ڈھنگ سے احساس تک نہیں‘ بارات کا بہترین کھانا اور اس کے بعد ہادیہ نے جس طرح انیقہ کی ساس‘ نند کو سونے کے تحائف دیئے اس کے شوہر کو اپنے ہاتھوں سے گھڑی اور انگوٹھی پہنائی اور سونے کی چین کا کیس اس کے ہاتھ میں تھمایا‘ سب ہی نے دانتوں میں انگلیاں داب لیں‘ ایک بچی جو کل تک اپنی ماں کے کندھے سے جھولتی تھی‘ کس طرح اس نے ماں بن کر اپنی چھوٹی بہن کی ہر خوشی پوری کی تھی۔ وقت نے اسے اپنی عمر سے پہلے بڑا کردیا تھا۔ صرف چوٹ لگنے سے درد نہیں ہوا تھا‘ ہر چوٹ نے اسے سبق بھی سکھایا تھا‘ وقت بہترین استاد بن کر اسے ایک ایک قدم بڑھانے کا طریقہ سکھاتا رہا تھا اور کبھی مرہم بن کر اس کے رستے زخموں کو ٹھنڈک بھی پہنچاتا رہا تھا۔ انیقہ رخصت ہوگئی تھی‘ اپنی تمام تر معصومیت‘ چلبلے پن کے ہمراہ‘ اس نے بیڈ کے دوسرے کنارے کی طرف نگاہ ڈالی‘ آج یہ کونا ویران ہوگیا تھا‘ اب اس کی بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز کو لاک بھی نہیں لگا ہوا تھا کیونکہ وہ اپنی ساری فیورٹ چیزیں ایک کارٹن میں پیک کروا کر جہیز کے سامان کے ساتھ پہلے بھجوا چکی تھی۔ جب سے وہ گئی تھی ہادیہ کی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں اور دل ہی دل میں انیقہ کی اگلی زندگی کی خوشیوں اور مسرتوں کے لیے دعائیں بھی مانگ رہی تھی۔
’’ہادیہ… آکر کھانا کھا لو بیٹا۔‘‘ تائی امی اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں۔
’’تائی امی… بالکل بھی بھوک نہیں ہے۔‘‘
’’ہادی سب لوگ برآمدے میں جمع ہیں بیٹا‘ آجائو۔ جتنی بھوک بھی ہے کھانا کھا لو سب کے درمیان بیٹھو بیٹا دل بہل جائے گا میرا چاند۔‘‘
’’تائی امی آپ سب کھالیں‘ سچ میں بالکل بھی دل نہیں چاہ رہا کچھ بھی کھانے کو۔‘‘ ہادیہ کچھ دیر اکیلی رہنا چاہتی تھی اور تائی امی کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کیا پروگرام بنائے بیٹھی ہے‘ یقینا تنہا رہ کر رونا چاہتی تھی۔
’’تو ٹھیک ہے کچھ مت کھائو لیکن سب کے بیچ آکر بیٹھو‘ اس طرح اکیلے نہ بیٹھو۔ انیقہ تو خوش وخرم ہوگی وہاں اور تم یہاں سب سے الگ تھلگ بیٹھی آنسو بہا رہی ہو بری بات بیٹا۔ اللہ کا شکر ہے عزت کے ساتھ تمام معاملہ نمٹ گیا۔ یہ تو مقام شکر ہے آئو میرا بچہ باہر سب کے ساتھ بیٹھو‘ ہنسو بولو۔‘‘ ان کے سمجھانے پر چارو ناچار ہادیہ کو اٹھ کر ان کے ہمراہ باہر آنا پڑا اور پھر تائی امی کے بقول واقعی وہ بہل گئی تھی۔ سب کے ہنسی مذاق نے کافی حد تک اس کی طبیعت کے بوجھل پن کو دور کردیا تھا‘ پھر وہ بھی سب کے ہمراہ ولیمے پر جانے کے حوالے سے گفتگو میں شریک ہوگئی تھی۔
ڑ…r…‘
رات بھر وہ سو نہیں پائی تھی لیکن ولیمے والے دن خوش وخرم ہنستی مسکراتی انیقہ کو دیکھ کر اس سے باتیں کرکے اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا تھا۔ آج پہلی بار وہ انیقہ کا گھر دیکھ رہی تھی بہت بڑا نہیں تھا‘ سادہ سا تعمیر شدہ گھر تھا‘ جس کے تین کمرے انیقہ کے حصے میں آئے تھے اور جو اس کے جہیز کے سامان سے بہت خوب صورتی کے ساتھ سجے ہوئے تھے۔ وہ مطمئن ہوگئی۔ انیقہ کی صرف ایک نند تھی جو شادی شدہ تھی‘ کوئی دیوارنی جٹھانی کا جھنجٹ نہیں تھا بس ایک ساس تھی اور ایک وہ‘ پرسکون ہی گزرے گی اس کی زندگی۔ ہادیہ سوچ رہی تھی‘ ورنہ انیقہ کا بچپنا‘ اس کا لاابالی پن اور بے نیازی اکثر اسے ڈراتی تھی۔ کہ جو اس کا سسرال بھرا پرا ہوا تو کیا ہوگا؟ لیکن اب پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی گھر واپس آکر وہ اپنے پورشن میں آئی تو عارف علی کو سوتا پاکر عجیب سی ناگواری اس کے رگ وپے میں سرایت کرنے لگی‘ کل شام انیقہ کی رخصتی کے بعد سے وہ اسی طرح پڑا سو رہا تھا‘ وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ رات دس بجے عارف علی نے آواز دی تو وہ اٹھ کر اس کے کمرے میں آئی۔
’’جی ابو…‘‘
’’پانی دو ہادیہ پتر…‘‘ تکیے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے ہوئے اس نے کہا تو ہادیہ پانی لے کر اس کے قریب چلی آئی۔
’’نکی پتر کدھر ہے…‘‘ پانی پی کر گلاس اسے تھماتے ہوئے عارف علی نے پوچھا تو ہادیہ کا دل کرلا اٹھا۔
’’ابو… کل شام اس کی رخصتی ہوگئی ہے وہ اپنے گھر میں ہے‘ آج اس کا ولیمہ تھا۔ ہم ابھی ابھی وہیں سے واپس آئے ہیں۔‘‘ اس کی نظروں کے ساتھ ساتھ لہجہ بھی شاکی تھا۔ عارف علی نے نظریں چرالیں۔
’’کمال ہے میں اتنی گہری نیند سویا تھا۔ تم لوگوں نے مجھے جگایا بھی نہیں۔‘‘
’’جگایا تھا ابو صبح جانے سے پہلے‘ لیکن آپ اٹھے ہی نہیں۔‘‘ وہ جتانہ سکی کہ کیسے باپ ہیں آپ جو بیٹی کی رخصتی کے دن بھی نشے میں دھت پڑے رہے۔ کیا اس طرح کے باپوں کی اولادیں عزت کی زندگی جیتی ہیں‘ کیا ایسے بے حس باپوں کی بیٹیاں رخصت ہوتے ہوئے بابل کی دعائوں کی آس دل میں رکھ سکتی ہیں اور رخصت ہونے کے بعد کون سے سکھ ہیں جنہیں یاد کرکے میکے سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آنے کی آس ہوگی انہیں۔ ایسی بیٹیوں کو اللہ اپنے گھر کا ہر سکھ دے تاکہ باپ کے گھر میں ملنے والا ہر دکھ بھول جائیں لیکن ہادیہ کو شاید یہ خبر نہیں تھی کہ ایسی بیٹیاں جو باپ کے گھر سے بے اماں رخصت ہوتی ہیں ہمیشہ بے اماں ہی رہا کرتی ہیں۔ دکھ ان کے آنچلوں کے تعاقب میں رہا کرتے ہیں۔
ڑ…r…‘
شادی سے لے کر اب تک قدم قدم پر باپ اور بھائی کی کمی کا احساس اسے بے سکون کرتا رہا تھا۔ اگر اس کا باپ ایک حساس اور پدرانہ شفقت رکھنے والا انسان ہوتا یا پھر اللہ نے جو بھائی عطا کیا تھا اسے زندگی کی نعمت سے بھی سرفراز کیا ہوتا تو شاید کسی کو بھی کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ انیقہ کو مکلاوے پر لے کر آنا تھا اور وہ اپنی جگہ پریشان بیٹھی تھی کہ کس کو کہے۔ اسے خود تو راستوں کا علم بھی نہیں تھا اور نہ ہی وہ صرف اکیلی جاکر انیقہ کو لاسکتی تھی۔ رخصتی کو تین دن گزر گئے۔ شہباز کے پاکستان آنے کی خبر ملی تو ایک دم امید روشن ہوگئی۔ وہ شہباز جو ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو نہ صرف یاد رکھتا تھا بلکہ ہمیشہ اولیت بھی دیا کرتا تھا۔
’’میں گل ماموں سے کہوں گی وہ میرے ساتھ انیقہ کو لینے چلے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں مطمئن ہوگئی۔ شام میں وہ بڑی امی کی طرف چلی آئی۔ رات گئے گل ماموں بھی آگئے۔ وہ جب بھی پاکستان آتے تھے تو ڈھیروں کام اور مصروفیات پہلے ہی سے منتظر ہوتی تھیں۔
’’او ہادیہ بیٹا آئی ہوئی ہے کیسی ہو بیٹا اور انیقہ کی کیا خبر ہے‘ کوئی فون وغیرہ کیا تم نے؟‘‘
’’جی گل ماموں… کیا تھا ٹھیک ٹھاک ہے خوش ہے‘ بس ابھی تو اسے لے کر آنا ہے‘ کل یا پرسوں۔‘‘
’’ہاں تو ٹھیک ہے لے آئیں گے ایسی کیا بات ہے بیٹا۔‘‘ شہباز کے کہنے پر ہادیہ نے طمانیت کا سانس لیا۔
’’پھر میں اسے فون کردوں گل ماموں کہ ہم کل اسے لینے جارہے ہیں۔‘‘
’’نہیں کل نہیں پرسوں‘ کل مجھے ضروری کام سے اسلام آباد جاناہے‘ پرسوں میں فری ہوں گا تو چلے چلیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے گل ماموں۔‘‘ ہادیہ اطمینان آمیز خوشی کے ساتھ بولی۔
اس کی دم ساز‘ اس کے بچپن کی ساتھی‘ اس کی نکی دو دن بعد گھر واپس آرہی تھی‘ یہ احساس ہی بے حدخوش کن تھا‘ گھر واپسی کے اگلے دن اس نے خوب جی جان سے گھر کی صفائی کی۔ بہترین سے کھانے کے مینوں کے مطابق سامان منگوایا اور انیقہ کو فون بھی کردیا کہ کل وہ اور گل ماموں اسے لینے آرہے ہیں۔ انیقہ اندر ہی اندر خوشی سے پھولے نہیں سمائی‘ گل ماموں کی آمد تو متوقع تھی ہی نہیں‘ اور اس گھر میں ان کے آنے کی خبر اس کے لیے غیر متوقع خوشی کا باعث تھی۔ یوں جیسے ماہین خود بنفس نفیس آنے والی تھیں کیونکہ شہباز کے وجود میں انہوں نے ہمیشہ اپنی ماں کو دیکھا اور محسوس کیا تھا اور خود شہباز بھی یہی کہا کرتا تھا کہ بیٹا اپنی ماں کو بلاتی ہو تو ایک بار ماں کہتی ہو اور دو بار ماں‘ ماں پکارو تو ماما (ماموں) بنتا ہے اور کوئی شک بھی نہیں تھا کہ ایک طویل عرصہ انہو ں نے اپنے کہے کی لاج بھی رکھی تھی۔ لیکن جانے کیوں جب سے ماہین کی آنکھیں بند ہوئی تھیں ہادیہ کو سب ہی کے چہرے بہت بدلے بدلے محسوس ہونے لگے تھے۔ پتہ نہیں وہ زدر رنج ہوگئی تھی یا واقعی ماہین کے جانے کے ساتھ ہی سب بدل گئے تھے۔ انیقہ کو لے کے آنے کے لیے ہادیہ اس قدر بے چین تھی کہ صبح ہی صبح سب کام ختم کرکے تیار ہوگئی‘ وقت گزرتا رہا لیکن کوئی بلاوا نہ آیا‘ دوبار انیقہ فون کرکے پوچھ چکی تھی کہ وہ لوگ روانہ ہوئے کہ نہیں ہادیہ کا جواب دونوں بار انکار میں تھا۔ گل ماموں کو دو تین بار کال کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا‘ شام کے پانچ بج گئے‘ دن بھر انتظار کے بعد ہادیہ کی امید ختم ہوگئی تو آنسو اس کے گالوں پر پھسل آئے۔
حوصلہ کرتے ہیں جینے کا مگر ہوتا نہیں
زندگی کا یہ سفر کیوں مختصر ہوتا نہیں
’’ہادیہ میں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا پکانا صبح سے تیار ہوکر تم لوگوں کا انتظار کررہی ہوں تم لوگ اتنی لاپروائی کیسے کرسکتے ہو۔ سسرال میں یہ پہلا موقع تھا اور اسی موقع پر تم لوگوں نے میری عزت کا خیال نہیں کیا‘ کیا سوچتے ہوں گے یہ سب کہ میں میکے والوں پر ایک ناگوار بوجھ تھی جسے اتار پھینکنے کے بعد کوئی پلٹ کر ہی نہیں آیا۔ ہر لڑکی ولیمے کے دن واپس اپنے میکے جاتی ہے۔ مجھے یہاں پانچ دن ہوگئے تمہارے سوا کسی نے ایک فون کال تک نہیں کی۔‘‘ انیقہ نے فون کیا تو وہ رو رہی تھی ہادیہ خود بھی بے آواز رو رہی تھی۔
’’نکی میں بھی صبح سے تیار بیٹھی ہوں‘ گل ماموں کا کوئی اہم کام نکل آیا‘ وہ کینٹ چلے گئے۔ ابھی نیلم آنٹی سے میں نے پوچھا‘ تم جانتی ہو ناں تمہاری بہن بے بس ہے‘ نکی مجھے خبر ہے بظاہر یہی چھوٹی چھوٹی باتیں بیٹیوں کو سسرال میں کس قدر ہلکا کردیتی ہیں لیکن ابھی میں کیا کروں میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘
’’کچھ بھی نہیں‘ مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ہے ہادی… افسوس اپنے بڑوں پر ہے‘ جن کے نزدیک ہماری ذرہ برابر اہمیت نہیں ہے۔ جو خود بیٹیوں والے ہوکر بھی یہ احساس نہیں رکھتے کہ چند دن پہلے اس گھر سے رخصت ہونے والی اس گھر کی بیٹی کیا کچھ فیس کررہی ہوگی۔‘‘
’’انیقہ… کچھ غلطی میری بھی ہے۔ صبح منجھلے چچا اور شاہ گل آئے تھے۔ منجھلے چچا نے گاڑی کی بکنگ بھی کروالی تھی‘ کہ عین وقت پر گل ماموں نے کہہ دیا کہ وہ خود جائیں گے تمہیں لانے کے لیے۔ منجھلے چچا نے کہا کہ اگر تمہاری ماں زندہ ہوتی تو اس کی بھی یہی خواہش ہوتی کہ پہلی بار اس کی بیٹی کو میکے لانے کے لیے اس کا اپنا بھائی جائے۔ اب جبکہ وہ اس دنیا میں نہیں تو تم لوگ کچھ بھی ایسا نہ کرو کہ تمہارا ننھیال چھوٹ جائے۔ زندگی رہی تو یہ آنے جانے تو چلتے رہیں گے۔ گل جس طرح کہہ رہا ہے اسی طرح کرو‘ اب تم ہی بتائو نکی کہ میں کیا کرتی۔‘‘ ہادیہ نے کہا تو انیقہ کو جی بھر کے غصہ آیا۔
’’تو اگر گل ماموں نے یہ فیصلہ کیا تھا تو پھر لینے کیوں نہیں آئے ظاہر ہے یہ کام ان کی اولیت میں نہیں تھا ناں‘ آج مماجی ہوتیں تو ہر کام سے پہلے یہ کام ہوتا۔ ایک ان کے چلے جانے سے ہماری وقعت ایک تنکے کے برابر بھی نہیں رہ گئی۔‘‘ انیقہ نے فون بند کردیا۔ ہادیہ خود دکھی تھی اگر منجھلے چچا کے ہمراہ چلی جاتی تو اس وقت انیقہ عزت کے ساتھ میکے میں ہوتی‘ اگلے دن گل ماموں ہادیہ کو لینے آگئے۔
’’ہادیہ چلو… امی جی کہہ رہی ہیں یہاں اکیلے نہ رہو۔‘‘
’’گل ماموں… اکیلی کہاں ہوں‘ سب تو ہیں اردگرد۔‘‘
’’ارے بیٹا… پتہ ہے مجھے جتنے یہ لوگ خیال کرنے والے ہیں۔ چلو میں تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘
’’نہیں گل ماموں میں ٹھیک ہوں یہیں۔ ویسے بھی ابو کے کھانے کا دھیان رکھنے والا کوئی نہیں ہوگا اگر میں چلی گئی تو…‘‘ ہادیہ کا انداز قدرے روکھا سا تھا۔
’’پتر… یہ وقت نخرے دکھانے کا نہیں… اور بھی ہزاروں کام ہوتے ہیں کرنے والے‘ بندہ بشر کے ذہن سے نکل ہی جاتا ہے نہیں لاسکے تو کل چلے جائیں گے‘ وہ کون سا روڈ پر بیٹھی ہے آج نہ سہی کل سہی یہ تو ایسی بات نہیں ہے جس پر اس طرح منہ بنایا جائے۔‘‘ شہباز نے الٹا ہادیہ کو ہی لتاڑ دیا تو آنکھوں میں آئے آنسو حلق میں اتارتی وہ خاموشی سے اٹھ گئی۔ چادر اوڑھ کر باہر گاڑی میں آبیٹھی پھر وہی گھر جہاں کبھی آنے کے لیے بچپن میں وہ ہر لمحہ مچلتی اور ہمکتی تھیں وہاں آکر بھی اس کا اندر بجھا رہا۔ بظاہر خوشدلی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود اندر کہیں کچھ بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ رات میں شہباز نے انیقہ کو فون کیا۔
’’ہم لوگ کل لینے آرہے ہیں تمہیں تیار رہنا۔‘‘ تو انیقہ نے بتایا کہ فیملی میں ہی کہیں دعوت پر جانا ہے کل کی بجائے اگر پرسوں لینے آجائیں۔‘‘
’’پھر ایسا ہے پتر کہ میں تو کل فارغ ہوں‘ اگر پرسوں کا پروگرام ہے تو پھر خود ہی آجانا۔‘‘
’’ٹھیک ہے گل ماموں ہم لوگ خود ہی آجائیں گے۔‘‘ انیقہ نے کہہ کر فون بند کردیا۔ وہ جان گئی تھی کہ ماہین کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ میکے میں عزت وتکریم‘ آئو بھگت تو مائیں کیا کرتی ہیں‘ جب وہ ہی باقی نہیں تو کسی پر کیا حق جتایا جائے اور کسی سے کیا گلہ کیا جائے اور پھر شادی کے پورے نو دن بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ اس گھر میں داخل ہوئی جہاں اس نے جنم لیا تھا‘ جس کی دیواروں نے اس کے بچپنے‘ لڑکپن اور جوانی کی ساری شرارتیں سب ادائیں خود میں جذب کی تھیں اور جو اب بالکل اجنبی اور غیر سا لگ رہا تھا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ نکھری ہوئی اور پیاری لگ رہی تھی۔ ہادیہ نے اس کے لیے کھانے پر خاص اہتمام کیا تھا اور کوئی ہو یا نہ ہو مگر وہ تو تھی ناں اس کی ماں جائی۔ درد مشترک کی ڈور میں اس کے ساتھ بندھی ہوئی۔ اس کے بس میں جس قدر بھی تھا‘ وہ آخری دم تک کرے گی اپنی بہن کے لیے۔ ماہین کی بجھتی ہوئی آنکھوں کی خاموش التجا وہ کبھی بھی بھلا نہیں پائی تھی۔ وہ آنکھیں جو چراغ کی طرح روشن تھیں اور جن کے دم سے ان کی زندگی میں روشنی تھی۔ وہ ان آنکھوں کو کس طرح نظر انداز کردیتی۔
ڑ…r…‘
اس دن جب ہادیہ اسکول سے آکر گھر کے کام کاج نمٹا رہی تھی تو شاہ گل نے اسے بلا بھیجا۔ وہ ان کے پورشن میں چلی آئی۔ شاہ گل عصر کی نماز پڑھنے میں مشغول تھی۔ وہ ایک طرف رکھی چیئر پر بیٹھ گئی۔ سلام پھیر کر شاہ گل نے بے حد سنجیدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو ہادیہ قدرے چونکی۔
’’خیر تو ہے شاہ گل آپ نے مجھے بلایا تھا۔‘‘
’’ہاں ہادیہ… بہت ضروری بات کرنی تھی تم سے۔‘‘
’’جی بولیں‘ شاہ گل۔ آپ مجھ سے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں کیونکہ میں نے ہمیشہ ہر بات آپ سے شیئر کی ہے۔‘‘
’’نہیں… تم نے ہر بات شیئر نہیں کی مجھ سے ہادی اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بات کرنا بے حد ضروری تھا۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں آپ کس مسئلے کے متعلق بات کررہی ہیں۔‘‘
’’ہادی… میں نہیں جانتی ماہین بھابی تمہارے پروپوزل کے حوالے سے کس حد تک اور کتنا جانتی تھیں اور انوالو تھیں مگر اب جبکہ تمہارا ایک دوسری جگہ رشتہ طے ہوچکا ہے اور بہت جلد شادی بھی متوقع ہے تو پھر تمہیں پرانے رابطے ختم کردینے چاہئیں۔‘‘ شاہ گل نے بنا کسی لگی لپٹی کے کہا۔
’’شاہ گل… میں نے کافی دن گزر گئے کوئی خط نہیں لکھا کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔ میں نے آپ سب کے فیصلے پر سر جھکا دیا تھا۔‘‘
’’تو پھر یہ کیا ہے… یہ خط کچھ دیر پہلے تمہارے اسکول کے بابا دے کر گئے تھے۔‘‘
’’پتہ نہیں شاہ گل… میں نہیں جانتی۔‘‘
’’ہادی… دیکھو تمہاری ماں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یہ صرف مائوں کا وجود ہوتا ہے جو ہر سردو گرم میں اپنے بچوں کے لیے سوچتی ہیں۔ میں یا کوئی بھی دوسرا شخص ماہین بھابی کی طرح نہ سوچے گا نہ فیصلہ کرے گا لیکن میں بڑی ہونے کے ناطے تمہیں سمجھا سکتی ہوں بچے کہ تم اب خط نہیں لکھنا‘ کسی قسم کا کوئی ربط نہیں رکھنا۔ تم سمجھ رہی ہو ناں ہادی۔‘‘
’’جی شاہ گل… میں سمجھ رہی ہوں آپ جو کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’تو پھر میں جیسا کہوں گی ویسا کرو گی ناں۔‘‘
’’جی…‘‘ ہادیہ کا سر جھکا ہوا تھا۔
’’تو پھر بنا پڑھے یہ خط پھاڑ دو اور اسے جلادو اور میرے سامنے پھاڑو۔‘‘ شاہ گل نے وہ خط اس کے ہاتھ میں تھمادیا۔
اس خط میں کچھ جذبے تھے‘ کچھ قیمتی اور انمول الفاظ… بچھڑی ہوئی محبت کا درد اور… اور شاید کچھ ان کہی حکایتیں‘ شاہ گل کی نگاہیں اس کے چہرے کے اتار چڑھائو پر تھیں اس نے خاموشی سے اس خط کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور ان کو سختی سے مٹھی میں بھینچ لیا۔
’’شاباش… میں ایک ماں بن کر تمہیں سمجھا رہی ہوں ہادی‘ ہم تمہارے دشمن نہیں ہیں‘ تمہارا بھلا چاہتے ہیں۔ تمہارے اچھے نصیب کے لیے دعاگو ہیں بچے۔‘‘
’’ابھی میں جائوں شاہ گل۔‘‘ آنسوئوں کی نمی آنکھوں میں چھپاتے ہوئے اس نے کہا۔
’’ہاں بے شک جائو ہادی‘ مگر سوچنا ضرور۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر اپنے کمرے میں آگئی۔ دروازہ اندر سے بند کرکے اس نے خط کے ان ٹکڑوں کو بے حد احتیاط سے جوڑا مگر یہ تحریر طاہر شکیل کی تو نہیں تھی‘ اجنبی تحریر تھی اور محض چند الفاظ لکھے ہوئے تھے الفاظ بھی کیا تھے دھمکی تھی۔ طاہر شکیل کے ایک جانثار دوست کے دھمکی آمیز الفاظ۔
’’آپ ہمارے لیے بے حد قابل احترام ہیں‘ کیونکہ آپ طاہر بھائی کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں۔ طاہر بھائی ہمارے لیے سب کچھ ہیں ہمارے دوست‘ بڑے بھائی‘ غمگسار‘ ہمدرد‘ لیکن آپ کے قطع تعلق کرلینے کے بعد وہ اب بالکل نارمل نہیں ہیں۔ شدید بیمار ہیں اور بے حد مایوس بھی۔ ہم سب سے ان کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی اور ان کی اس حالت کی ذمہ دار آپ ہیں‘ اگر خدانخواستہ ان کو کچھ ہوگیا تو ہم آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ ہم کیا کچھ کر گزریں گے۔
والسلام!
علی احمر الماس‘‘
طاہر شکیل بیمار تھا… پورے خط کے الفاظ میں سے صرف یہ ایک جملہ باز گشت بن گیا تھا۔ محض اس سے دوری نے اس کی یہ حالت کردی وہ بیمار ہوگیا‘ ہادیہ کی نگاہوں میں اونچا لمبا خوبرو طاہر شکیل آگیا جس کی نرم آنکھوں میں محبت کا مہربان تاثر ثبت تھا اور جسے محض ایک بار دیکھ کر ہی وہ اس کے سحر میں گرفتار ہوگئی تھی۔ جس کے قرب میں زندگی میں پہلی بار اس نے تحفظ اور اعتماد محسوس کیا تھا اور جو اب اس سے کوسوں دور تھا اور شاید ہمیشہ کے لیے دور کردیا گیا تھا۔ کیا قصور تھا اس کا… غربت… تنگ دستی… اس کے پاس دولت نہیں تھی دنیا داری کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر تھا وہ تو کیا اس برتے پر اس سے جینے کا حق ہی چھین لیا جاتا۔
کیا محض اس ایک وجہ سے اسے رد کردیا جاتا اس کی پوری مکمل شخصیت کو درخود اعتنا ہی نہ سمجھا جاتا۔ وہ باصلاحیت تھا‘ محنتی تھا ایک سچا اور دیانت دار شخص تھا۔ اپنے زور بازو پر بھروسا کرنے والا وہ ہادیہ کو خوش رکھ سکتا تھا۔ وہ اس کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرسکتا تھا۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوتے وہ اسے سرد وگرم سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرسکتا تھا۔ وہ کس سے کہے اور کس طرح کہے‘ دل ہی دل میں ایک درد تھا جو اب بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ لیکن وہ بظاہر بالکل خاموش تھی اس کی اندرونی حالت جب اس کے کام پر اثر انداز ہونے لگی تو اسکول کی پرنسپل نے اسے ایک ماہ کی رخصت دے دی۔ سارا دن اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے رہنا کبھی کتابیں پڑھتی‘ کبھی کوئی کام نکال لیتی‘ دن بدن اکیلی ہوتی چلی جارہی تھی لیکن اس کے اردگرد رہنے والے اپنے حال میں مست تھے۔ کسی کو اس کی فکر تھی نہ خیال۔ دن کیسے رات میں ڈھل رہا تھا اور رات کیسے دن کی صورت اختیار کررہی تھی۔ شاید وہ ان سب باتوں سے بے نیاز ہوچکی تھی۔ اسے ہنستے ہوئے چہروں سے وحشت سی ہونے لگی تھی۔ سب کے درمیان بیٹھتے ہوئے عجیب سی ناگواری‘ اجنبیت اسے گھیرنے لگتی۔ وہ ان فٹ ہے ان سب کے درمیان‘ بہت سے جفت میں ایک طاق کی طرح کبھی بھی یکجا نہ ہونے والا ایک فگر‘ شاید ان سب کو اس کا احساس ہو بھی لیکن وہ رشتوں پر سے اپنا اعتبار اور یقین کھوچکی تھی۔ ایسے ہی بے کیف اور بے رنگ سے دنوں میں رمضان المبارک کا مہینہ آگیا۔ ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ انیقہ کی اپنے سسرال میں پہلی عید ہے تو رواج کے مطابق اسے نکی کے لیے عیدی لے جانی چاہیے۔ پھر جو کچھ اس کی عقل میں سمایا اس نے خرید ڈالا اور رمضان سے ایک دن قبل نکی کے سسرال جاکر اسے دے آئی۔ وہ بھی بہت خوش ہوئی کہ میکے کی سوغاتیں شادی کے بعد بے حد اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔
’’نکی مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آرہا تھا جو بھی میرے ذہن میں آیا میں لے آئی‘ اب پتہ نہیں تمہیں اور اماں کو یہ سب پسند آئے گا کہ نہیں۔‘‘ ہادیہ کا لہجہ قدرے بجھا ہوا سا محسوس ہورہا تھا۔
’’ہادی کیا بات ہے تم بہت خاموش اور اداس لگ رہی ہو کمزور بھی ہوگئی ہو‘ گھر میں سب کا رویہ تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ انیقہ کو وہ ٹھیک نہیں دکھائی دے رہی تھی۔
’’نہیں… میں ٹھیک ہوں اور سب کا رویہ بھی ٹھیک ہے نکی۔ چھوڑو وہ سب باتیں یہ بتائو یہ کم تو نہیں ہے ناں…‘‘ ہادیہ نے اٹیچی کیس اس کے سامنے کھول دیا۔ سب سسرالی خواتین کے لیے ویلوٹ کے سوٹ‘ نکی اور اس کے شوہر کے لیے سوٹ‘ نکی کے لیے میچنگ جیولری‘ چوڑیاں‘ مہندی‘ ڈھیروں کھانے پینے کی چیزیں‘ اچار‘ کیچپ‘ اسکوائش‘ سویاں‘ چینی‘ چاول‘ جانے کیا کچھ تھا انیقہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’اتنا سب کچھ… ہادی یقینا مماجی ہوتیں تو وہ بھی اتنا ہی کر پاتیں مجھ سے محض دو سال بڑی ہو تم لیکن تم نے ہر ہر جگہ پر میری ماں بن کر میرا دھیان رکھا‘ میکے کا ہر فرض پورا کیا۔ مجھے کوئی شکایت نہیں تم سے ہادی‘ تمہارے بس میں جو بھی تھا تم نے اس سے بڑھ کر ہی کیا۔‘‘ ہادیہ نے اسے گلے سے لگا لیا۔ آنسو اندر ہی اندر گرتے رہے مگر اس نے مسکراہٹ کو معدوم نہیں ہونے دیا۔ کیونکہ وہ انیقہ کو اپنے چلے جانے کے بعد فکر میں مبتلا کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ انیقہ اپنے سسرال میں مطمئن رہے اور اپنی زندگی کو سکون کے ساتھ آگے بڑھائے۔ میکے کی کمیوں اور اذیتوں کو یاد کرکے خود کو نہ گھلائے‘ واپس آنے کے اگلے دن سے رمضان شروع ہوگیا اور ساتھ ہی گھر میں ہادیہ کی شادی کے حوالے سے باتیں ہونے لگیں۔
تائی امی ہادیہ کو بتارہی تھیں کہ اس کے سسرال والے رمضان کی ستائیسویں کو نکاح کرنا چاہتے ہیں اور عیدالاضحی کے بعد شادی کا کہہ رہے ہیں۔ ہادیہ کو تو جیسے شدید غصے نے آگھیرا۔
’’تائی امی… آپ یہ سب مجھے کیوں اور کس لیے بتارہی ہیں۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں ناں‘ انیقہ کی شادی کس طرح‘ کن حالات میں کی ہے اس وقت میرے ہاتھ بالکل خالی ہیں اور ابو کی سوچ اور ہمارے لیے ان کی بے فکری سے بھی آپ اچھی طرح واقف ہیں۔‘‘
’’ہادی بیٹا… ظاہر ہے منگنی کی ہے تو پھر شادی کے حوالے سے وہ جس طرح کہیں گے ہمیں ان کی بات ماننی پڑے گی ناں۔ بیٹی والے تو مجبور ہوتے ہیں۔‘‘
’’ہوں… بیٹی والے… جو تاریخ طے کرکے چلے جاتے ہیں اور پلٹ کر خبر تک نہیں لیتے۔ بیٹی سسرال میں چند دن کی بیاہتا ہے لیکن اپنے سب کام اول رکھے جاتے ہیں اور اس بات کو سرے سے نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ ان کی وہ بیٹی اپنے نئے گھر میں کس طرح جی رہی ہوگی‘ جانے کیسے پیش آرہے ہوں گے اس کے نئے رشتے دار… تائی امی اگر ان لوگوں کو بہت جلدی ہے تو کہہ دیجیے کہ اپنے بیٹے کا کہیں اور رشتہ طے کردیں۔‘‘ ہادیہ کا لہجہ تلخ اور دکھ سے بھرپور تھا۔
’’نہیں… نہیں ہادی اس طرح بدشگونی کی باتیں نہیں کرتے بیٹا… میں شمیمہ سے اور تمہاری بڑی امی سے بات کرکے دیکھتی ہوں‘ مل جل کر سب کچھ انتظام ہوجائے گا تم فکر مت کرو۔‘‘
’’ہاں جی… خیراتی جہیز…‘‘ ہادیہ زیرلب کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی۔ تائی امی اس کی پشت پر نگاہیں جمائے بس سوچتی رہ گئیں۔
ڑ…r…‘
ہادیہ پچھلے تین سال سے رمضان کے مبارک مہینے میں مسلسل اعتکاف میں بیٹھ رہی تھی۔ اس سال بھی کچھ ایسا ہی ارادہ تھا۔ نہا کر گیلے بالوں میں کنگھی کرکے وہ چادر لپیٹ کر باہر صحن میں دھوپ میں آبیٹھی۔ قرآن پاک کی تلاوت کررہی تھی جب تائی امی اس کے پاس چلی آئیں۔
’’ہادیہ بیٹا ذرا گھر کا دھیان رکھنا محلے میں فوتگی ہوگئی ہے میں ذرا وہاں جارہی ہوں۔‘‘
’’جی بہتر تائی امی۔‘‘ تائی امی برقعہ اوڑھ کر ڈیوڑھی کی طرف بڑھ گئیں۔ کچھ دیر گزری تھی کہ ڈیوڑھی سے عارف علی اندر آتا دکھائی دیا۔ عجلت آمیز قدم اٹھاتا وہ اپنے پورشن کی طرف بڑھ گیا۔ غیظ کی ایک تیز لہر ہادیہ کے پورے وجود میں دوڑ گئی۔ مخصوص بو اور شدید دھوئیں نے اس کا سانس لینا مشکل کردیا۔ عارف علی اس وقت باتھ روم میں اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف تھا۔
’’ایسے رشتوں پر‘ اس طرح کے انسانوں پر تم اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی قربان کرنے چلی ہو ہادیہ… یہ لوگ جن کے نزدیک تم ایک کپڑے کی گڑیا کی طرح بے جان اور بے حیثیت ہو…‘‘ اس کی پرنسپل بہت ہمدرد اور خیال رکھنے والی خاتون تھیں۔ ہادیہ کے تمام حالات سے اچھی طرح واقف اور کسی حد تک طاہر شکیل سے بھی غائبانہ متعارف… ان کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے۔
ایک اٹیچی کیس اٹھا کر اس نے چند جوڑے کپڑے اپنا تھوڑا سا زیور اپنی ماں کی تصویریں اور چند ضروری چیزیں اس میں ڈالیں‘ اپنا پرس چیک کیا‘ تین ہزار روپے اس وقت اس کے پاس تھے۔ چادر اوڑھ کر وہ باہر نکل آئی۔ دماغ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں تو وقت اور حالات نے کند کرہی دی تھیں۔ غصے نے مہمیز کا کام کیا اور وہ خاموشی سے وہ دہلیز پار کر گئی جس سے باہر کی دنیا کے بارے میں اب تک وہ نہیں جانتی تھی۔ ماہین کے نرم ممتا بھرے بازوئوں میں وقت گزارتے اس نے دنیا کو بے حد خوب صورت پایا تھا لیکن دنیا کی اصل بدصورتیاں اور خود غرضیاں اس وقت سامنے آگئیں جب وقت نے ماں کا مہربان وجود چھین کر انہیں بے اماں کردیا تھا۔ یہ بے سرو سامانی‘ اپنوں کی بے توجہی اور لاپروائی‘ ان کی خود غرضی اور بے اعتنائی تھی جس نے ہادیہ کو اس فیصلے پر لاکھڑا کیا کہ وہ لڑکی جو کبھی اپنے شہر سے باہر بھی اکیلی نہیں گئی تھی بغیر کسی جان پہچان‘ اتے پتے کے بالکل اجنبی شہر کی طرف چل پڑی تھی۔ سکون اور سکھ کی تلاش میں… اپنائیت اور احساس ڈھونڈنے کے لیے تحفظ‘ اعتبار اور مان پانے کے لیے۔ یہ سوچے بنا کہ اس کا یہ قدم اسے کتنی نگاہوں کا مجرم بنادے گا۔ کتنی زبانیں اسے بددعائیں دیںگی‘ کتنی بیٹیوں کو جواب دہی کرنا پڑے گی اور کس کس کی زندگی پر اس کا یہ قدم اثر انداز ہوگا۔ اسے نفرت تھی رات کی تاریکی میں اپنوں کی عزتوں کو نیلام کرکے کسی آشنا کے ساتھ فرار ہوجانے والی لڑکیوں سے۔ اپنوں کی غیرت وناموس کے ساتھ کھیلنے والی بیٹیوں سے… لیکن آج جو سورج طلوع ہوا تھا وہ اس کے لیے دن میں تاریک فیصلے لے کر آیا تھا۔ یہ گھر اور اس کے مکین ہمیشہ اس دن کو یوم سیاہ کی طرح یاد رکھیں گے۔ آج اسے لگتا تھا کہ جو بیٹیاں یہ انتہائی قدم اٹھاتی ہیں یقینا ان میں سے پچاس فی صد خود غرض نہیں بے بس ہوتی ہوں گی۔ انہیں اس فیصلے تک ان کے اپنے گھر والے لے جاتے ہوں گے۔ بس تیز رفتاری سے منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ کھڑکی سے باہر کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے پل بھر کو ٹھہرتے اور پھر پیچھے کی طرف بھاگتے محسوس ہوتے۔ اس کے قریب ایک خاتون ایک چھوٹی سی بچی کو گود میں لیے بیٹھی تھی کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اب تک اس خاتون سے خوب باتیں کرچکی ہوتی۔ مگر اس وقت اس کا ذہن سن تھا۔ خالی بالکل کسی کھائی کی طرح… کہ اگر وہ بولتی تو اسے اپنی ہی آواز کی بازگشت اتنی بار سنائی دیتی کہ اسے گھٹن اور اذیت ہونے لگتی۔ وحشت سی سوار ہونے لگتی۔ مسلسل منہ بند رکھنے کی وجہ سے اس کے جبڑوں میں ایٹھن سی ہونے لگی اور کنپٹیاں بھی درد کرنے لگی تھیں۔ پتہ نہیں یہ سفر کب ختم ہونا تھا۔ اور اس سفر کے اختتام پر کیا تھا سب کچھ انجانا تھا۔ وہ گھر‘ اس کے مکین اور وہ شخص جس کا آسرا پاکر وہ یہاں تک آپہنچی تھی جانے کیسے تھے۔ اس کے ساتھ کس طرح پیش آنے والے تھے۔ اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ اسے تو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ وہ سب رہتے کہاں ہیں۔
’’بی بی کرایہ…‘‘ بس کنڈیکٹر بغور اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’اکیلی ہو بی بی؟‘‘
’’جی‘ کتنا کرایہ؟‘‘
’’پانچ سو پچھتر روپے۔‘‘ وہ سر کھجاتے ہوئے بولا۔
ہادیہ نے اپنے پرس سے پیسے نکال کر اسے تھمائے۔ مغرب کے قریب جانے کون سا شہر تھا ڈرائیور نے بس روک دی تاکہ تمام روزہ دار روزہ افطار کرلیں اس کے ساتھ بیٹھی خاتون نے ایک کھجور اس کی طرف بڑھائی جو اس نے شکریہ کہہ کر لے لی‘ روزہ افطار کرکے ایک گلاس پانی کا پیا اور سیٹ کی پشت سے ٹیک لگالی۔
’’باجی… کچھ کھانے پینے کے لیے لے لو…‘‘ وہ خاتون ازراہ ہمدردی بولی۔
’’بھوک نہیں ہے۔‘‘ ہادیہ کی آنکھوں میں نمی سی تیر گئی۔
’’پھر بھی دن بھر کی بھوکی ہو ابھی دو تین گھنٹوں کا فاصلہ باقی ہے اور باجی اگر برا نہ مانو تو ایک بات کہوں… کیا کوئی پریشانی ہے تمہیں۔‘‘
’’کیوں… آپ نے کیوں پوچھا؟‘‘ ہادیہ نے حیرت سے اس خاتون کی طرف دیکھا جس سے اس نے دن بھر میں ایک بات بھی نہیں کی تھی اور جو اس کے چھپے ہوئے چہرے کے تاثرات بھی بھانپ گئی تھی۔
’’وہ اصل میں پردے کے باوجود تمہاری آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں‘ تم کئی بار روئی ہو‘ وجہ بتائوگی؟‘‘ وہ خاتون خاصے دوستانہ اور ہمدردانہ انداز میں پوچھ رہی تھی۔ ہادیہ کا دل بھر آیا۔
’’نہیں بس ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’چلو تمہاری مرضی باجی‘ لیکن کھانے پینے کے لیے ضرور کچھ لے لینا۔ میں تو اگلے اسٹاپ پر اتر جائوں گی۔ تم کیا مین سٹی جارہی ہو۔‘‘
’’ہاں جی۔‘‘ ہادیہ کے لیے تو انجانی جگہ تھی اسے کچھ خبر نہیں تھی کہ اسے کہاں اترنا چاہیے۔ رابطے کے لیے کوئی فون نمبر تک نہیں تھا۔ رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب بس مطلوبہ شہر کے بیرونی اسٹاپ پر رک گئی۔
’’چلو بی بی… آپ کا اسٹاپ آگیا۔‘‘ کنڈیکٹر اب بھی اسے تولنے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ مگر اسے کوئی فکر نہیں تھی سوائے اس کے کہ اب کہاں جائے گی۔ رات کے اس وقت وہ کس کے پاس جائے‘ اس کے پاس ایڈریس کے نام پر وہ پتہ تھا جس پر طاہر شکیل سے اس کی خط وکتابت ہوتی تھی اور وہ پتہ کسی بک ایجنسی کا تھا جو یقینا رات کے اس پہر بند ہوگی‘ ہادیہ کچھ دیر سامان کے ہمراہ سڑک پر کھڑی سوچتی رہی پھر ہمت کرکے ایک رکشے والے کو پکارا۔ سامان رکشے میں رکھ کر ہادیہ نے بک ایجنسی کا پتہ رکشے والے کو سمجھایا۔
’’وہ تو باجی اس وقت بند ہوگی۔‘‘ رکشے والے نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’آپ پلیز وہیں لے کر چلیں پہلے…‘‘ اس کا دل گھبرانے لگا تھا۔
’’ٹھیک ہے باجی۔‘‘ رکشہ چل پڑا دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد کرتی وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش میں لگی تھی۔ رکشے والے کے کہنے کے مطابق وہ بک ایجنسی بند تھی لیکن اس کے سامنے دو تین لڑکے کھڑے تھے۔
’’بھائی آپ پلیز ان سے پوچھیں کہ طاہر شکیل صاحب کو جانتے ہیں یہ۔‘‘ رکشہ ڈرائیور باہر نکل کر پوچھ گچھ کرنے لگا۔
’’جی باجی‘ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں۔‘‘
’’بھائی ان سے پوچھیں کہ وہ رہتے کہاں ہیں؟‘‘ امید کی روشنی دکھائی دینے لگی۔ ہادیہ کی ہمت بندھی۔
’’باجی وہ کہہ رہے ہیں ہمیں ان کے گھر کا پتہ تو نہیں البتہ ان کے ایک دوست ہیں احمر الماس ان کے گھر کا پتہ جانتے ہیں یہ۔‘‘ احمر الماس… وہی دھمکی آمیز خط بھیجنے والا طاہر شکیل کا دوست۔
’’ٹھیک ہے بھائی ان سے کہیے اگر ان کو زحمت نہ ہو تو احمر الماس صاحب کا گھر دکھا دیں۔‘‘ ہادیہ کے کہنے پر وہ لڑکا رکشے والے کے ساتھ آگے بیٹھ گیا۔
تھوڑا دور ہی احمر الماس کا گھر تھا‘ وہی لڑکا رکشے سے اتر کر احمر کو بلا کر لایا تھا۔ وہ شاید سویا ہوا تھا۔ غیر متوقع شاک کی سی کیفیت کے ہمراہ وہ بھاگا چلا آیا تھا۔
’’بھ… بھابی… آ… آپ…‘‘ بے ربط الفاظ میں خوشی تھی یا حیرت یا پھر کوئی اور جذبہ‘ ہادیہ اس وقت ٹھیک سے سمجھنے سے قاصر تھی۔ بس ہر گزرتے پل کے ساتھ اس کے دل میں صرف ایک دعا تھی کہ خدائے وحد‘ لاشریک اسے عزت کے ساتھ گھر پہنچادے۔ رکشہ تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا اور ہادیہ کا دل جیسے سینے کے اندر زخمی پرندے کی مانند پھڑک رہا تھا۔
’’اس نے ٹھیک کیا… یا غلط… آگے کیا ہونے والا تھا؟ کیا اس کے گھر والے اسے ڈھونڈتے یہاں تک آئیں گے؟ نہیں وہ کیوں آئیں گے بھلا… ان کی تو جان چھوٹ گئی خیراتی جہیز بنانے کی زحمت سے بچ گئے وہ۔‘‘ ذہن میں سوال وجواب کا ایک سلسلہ تھا جو ازخود جاری وساری تھا۔ کہ اسی اثناء میں رکشہ رک گیا۔ یہ ایک قدرے کھلی گلی تھی۔ روشنی ناکافی تھی‘ شدید سردی‘ دھند میں لپٹی رات کے باعث کہیں کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ احمر الماس نے دروازہ بجایا… تیسری دستک پر دروازہ کھولا گیا۔ ہادیہ آگے بڑھی‘ دروازہ کھولنے والی طاہر شکیل کی والدہ تھیں جو ہادیہ پر نگاہ پڑتے ہی گویا پتھر کی ہوگئی تھیں۔
’’امی… میں ہادیہ…‘‘ ہادیہ نے آگے بڑھ کر بت بنی طاہر شکیل کی والدہ کو پکارا تو جیسے وہ حواس میں آگئیں اور انہوں نے اسے گلے سے لگا لیا۔ پتہ نہیں حیرت تھی دکھ تھا کون سا جذبہ تھا جس نے ان کی قوت گویائی سلب کرلی تھی۔ آنے والے دنوں میں پریشانی کی آہٹ محسوس کرکے ہی وہ چپ کھڑی رہ گئی تھیں۔ احمر الماس اسے چھوڑ کر جاچکا تھا۔ امی اسے لیے اپنے کمرے کی طرف آگئیں۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اس نے بابا کو سلام کیا جو حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہے تھے اور پھر طاہر شکیل کے قریب چلی آئی نحیف سا طاہر شکیل جس کی بجھی ہوئی آنکھوں میں اسے دیکھتے ہی جیسے کئی چراغ جل اٹھے وہ اس طرح اٹھ بیٹھا تھا گویا اسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا اور ہادیہ بھی اسے دیکھ کر سفر کی ساری تھکان اور پریشانی بھول گئی تھی۔
’’کیسے ہیں آپ…؟‘‘ نظریں جھکا کر اس نے پوچھا تو طاہر کے لب مسکرا اٹھے۔
’’پہلے کا تو پتہ نہیں مگر ابھی بالکل ٹھیک ہوں‘ یقین نہیں آرہا کہ آپ میری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ ناممکن… کس طرح ممکن ہوگیا یا پھر شاید یہ خواب ہے۔‘‘ اس کا بھاری لہجہ خوابناک سا ہوگیا۔
’’دیکھ کیسا عجب ہوا تیرا میرے ہاتھ کو تھامنا
رنگ ابھرے ہیں میرے اندر‘ کئی چراغ جل اٹھے
ہے جنوں تیری دید کا‘ تجھے دیکھتے ہی اک نظر
یوں ہوا ہے کہ پانی پر… کئی چراغ جل اٹھے
ڑ…r…‘
اگلے دن چند افراد کی موجودگی میں انہیں نکاح کے بندھن میں باندھ دیا گیا۔ سادگی سے ہونے والی اس شادی میں نہ ڈھولک تھی نہ سہیلیوں کے گیت۔ نہ ہاتھوں پر مہندی نہ چہرے کا بنائو سنگھار… ہادیہ کا چہرہ آنسوئوں سے دھل رہا تھا‘ دل اندر ہی اندربے چین تھا۔ اکیلے کمرے میں بیٹھی وہ آنسو بہا رہی تھی جب طاہر شکیل کمرے میں داخل ہوا۔
’’ہادیہ… آپ کیوں رو رہی ہیں؟‘‘ اس کے قریب بیٹھ کر اس نے ہادیہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اوپر کیا۔ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کو نرمی سے پوروں میں جذب کیا تو ہادیہ کے آنسوئوں کے بہائو میں اور تیزی آگئی۔
’’ارے… ارے یہ ساون بھادوں کس خوشی میں بھئی… اگر تو یہ خوشی کے ہیں تو انہیں بہنے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور اگر دکھ کے ہیں تو اس دکھ کی وجہ جاننا چاہوں گا۔‘‘ اس کا لہجہ قدرے سنجیدہ تھا۔
’’میں اس طرح شادی کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی… میں تو سب کی خوشی کے ساتھ آپ کی زندگی میں شامل ہونا چاہتی تھی۔ سب کی رضا کو اپنی رضا میں شامل کرنا چاہتی تھی۔ اس طرح ہوتی ہیں کیا شادیاں۔‘‘ اس نے ہچکی لی۔
’’دیکھیں ہادیہ… ایک بات تو آپ بھی بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ پراپر طریقے سے یہ شادی تو کسی صورت ممکن ہی نہیں تھی آپ کے اور میرے درمیان اسٹیٹس کی ایک اتنی بڑی خلیج حائل تھی کہ جسے بانٹنا اس زندگی میں تو ہرگز ممکن نہیں تھا۔ یہی ہونا تھا۔
؎درمیاں کچھ اس قدر تھے فاصلے
وہ ادھر اور ہم ادھر روتے رہے
اور اگر عمر بھر کا رونا ہی طے ہوتا تو آج آپ یہاں میرے سامنے نہ بیٹھی ہوتیں۔ اس شادی کو اسی طرح ہی ہونا تھا اور یہی اﷲ کی مرضی بھی تھی۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں آپ مجرم اور قابل گرفت ہوں گی‘ شاید قابل نفرت بھی لیکن یہ تو ازل سے طے تھا کہ آپ نے میرے نکاح میں آنا تھا‘ مشیت ایزدی ہے یہ پھر آپ میں یا کوئی بھی اس کے خلاف کس طرح جاسکتا ہے یہ فیصلہ اﷲ کا ہے اور بس‘ اس بات پر یقین رکھیں اور آنسو بہانا بند کردیں پلیز کیونکہ آپ کے آنسو مجھے اذیت دے رہے ہیں۔‘‘ ہادیہ نے سر اٹھا کر اپنے شریک زندگی کو دیکھا جو کل تک اجنبی تھا لیکن آج سب سے بڑھ کر اس کا غمگسار تھا۔ اس کی آنکھوں میں محبت کی روشنیاں پھوٹتی محسوس ہورہی تھیں اور لمس میں انتہا کی اپنائیت وہی اعتماد‘ وہی تحفظ اور وہی اطمینان ہادیہ کے دل میں اترنے لگا۔ کسی الوہی رحمت کی طرح…
دل جیتنا کسی کا بڑے فن کی بات ہے
یہ فن خدا نے اس کی ادائوں میں رکھ دیا
ڑ…r…‘
گزرتے دنوں میں انیقہ اور اس کے شوہر نے اس سے رابطہ کیا اور اس کے میکے میں ہونے والے تمام جھنجٹوں اور پریشانیوں کا ذکر بھی کیا‘ اس معاملے میں انیقہ کو ہادیہ کے ساتھ برابر کا قصوروار ٹھہرایا گیا جبکہ وہ بے چاری اپنے گھر میں تھی اور ہادیہ کے اس اچانک فیصلے سے یکسر لاعلم بھی… شاید میکے والوں کے لیے یہ ایک نادر بہانہ تھا ان بہنوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے کا۔ انیقہ نے پہلے تو ہادیہ کو اس کے اس فیصلے اور قدم پر کافی برا بھلا کہا اور یہ بھی بتایا کہ اس قدم کی بدولت اسے بے گناہ ہونے کے باوجود کیا کچھ سہنا پڑا‘ لیکن بعد میں ہادیہ نے جب وہاں اس کے بعد گزرنے والے دنوں کی روداد بتائی تو پھر وہ بھی خاموش ہوگئی۔ دونوں بہنیں اپنی اپنی جگہ اذیت کے پل صراط سے گزری تھیں اور یہ بھی اچھا ہی تھا کہ اب محفوظ ہاتھوں میں تھیں۔ طاہر شکیل اور اس کے گھر والوں نے ہر طرح سے ہادیہ کا بے حد خیال رکھا تھا۔ اسے بے حد عزت احترام سے نوازا تھا۔ کبھی جہیز کا طعنہ نہیں دیا تھا۔ ایک بار ہادیہ نے بابا سے پوچھا۔
’’بابا… آپ کو افسوس نہیں ہوتا کہ آپ کی بہو بنا جہیز کے آپ کے گھر آگئی۔‘‘ تو بابا بہت خوشدلی سے مسکرائے تھے۔
’’نہیں ہادیہ بیٹا… آپ ہمیں تین کپڑوں میں قبول تھیں اور ہیں… ہم تو آپ کی والدہ کے احسان مند ہیں جنہوں نے آپ کو سب سے قیمتی زیور یعنی تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ اس کے بعد کسی جہیز کی ضرورت کہاں باقی رہتی ہے۔ آپ اس طرح کی باتیں مت سوچا کریں بیٹا۔‘‘ اور وہ حیرت سے ان کے شفیق چہرے کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ اس گھر کے لوگ غریب تھے مگر دل کے کتنے بڑے تھے۔ کتنی گنجائش اور وسعت تھی ان کی سوچوں میں… اور شاید ہادیہ کے ساتھ اس کی ماں کی دعائیں تھیں اور ان کی تربیت تھی جو وہ ایک بہت بڑا غلط قدم اٹھانے کے باوجود اس قدر عزت وتکریم سے جی رہی تھی۔ ورنہ اتنا تو وہ بھی جانتی تھی کہ اس طرح اپنے ماں باپ کی دہلیز عبور کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ چار دن بسا کر لوگ انہیں آدھی راہ میں چھوڑ جاتے ہیں اور کچھ بسانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہر مرد طاہر شکیل نہیں ہوتا۔ یہ ہادیہ کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے مقدر میں طاہر شکیل جیسا باعصمت مرد لکھا تھا۔ جس کے نزدیک محبت کرکے عورت کو دھوکا دینا نہیں بلکہ اس کا آسرا بننا زیادہ اہم تھا۔ جو عزت کرنا جانتا تھا جو محبت کرکے نبھانا جانتا تھا اور جس نے ہادیہ کو احساس دلایا تھا کہ وہ ہمیشہ اس کی چھتر چھایا بن کررہے گا۔
ڑ…r…‘
جب سے تو نے پائوں دھرا ہے دل کے سونے جنگل میں
خوشبو سی اک پھوٹ پڑی ہے دل کے سونے جنگل میں
لمحہ بھر جو دیکھی تیری روشن جھلمل ہنستی آنکھیں
جگنو رستہ پوچھ رہے ہیں دل کے سونے جنگل میں
ہر گزرتے دن کے ساتھ طاہر کی وارفتگیاں اور بے چینیاں جیسے بڑھتی جارہی تھیں‘ وہ ہادیہ کے معاملے میں انتہاء کا شدت پسند تھا۔ اسے ہادیہ کا بازار جانا پسند نہیں تھا جبکہ ہادیہ اپنے چھوٹے سے کمرے کو سجانے کے لیے بے تاب تھی اور ایک بار امی کے ساتھ بازار جاکر کچھ ضروری چیزیں خرید کر لے بھی آئی تھی۔ طاہر کو اچھا نہیں لگا تھا۔
’’ہادی… ایک بات کہنا چاہتا ہوں…‘‘
’’جی…‘‘ ہادیہ اس کے کپڑے پریس کررہی تھی‘ اس نے ذرا نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
’’مجھے آپ کا بازار جانا پسند نہیں۔ میں بازار میں بیٹھتا ہوں اور بہت اچھی طرح جانتاہوں کہ لوگ کس نظر سے خواتین کو دیکھتے ہیں اور ان پر باتیں کرتے ہیں میں کسی صورت نہیں چاہتا کہ ویسی ہی باتیں آپ کے متعلق کی جائیں۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ ہادیہ کو اس کی بات سے اختلاف تھا لیکن اس نے بحث ضروری نہیں سمجھی۔ یوں بھی طاہر جب سنجیدہ چہرے کے ساتھ کوئی بات کہتا تھا تو پھر ہادیہ کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ خاموش ہی رہے۔ اسے بحث کرنا پسند نہیں تھا۔ یوں بھی دلائل اور بحث میں طاہر شکیل سے وہ کسی صورت جیت نہیں سکتی تھی وہ رائٹر تھا صرف اچھا لکھنا ہی نہیں اچھا اور بامقصد بولنا بھی جانتا تھا۔ انہی دنوں اسے خبر ملی کہ ان کے اس چھوٹے سے گھر میں ایک خوشگوار تبدیلی آنے والی ہے تو حیرت آمیز خوشی کے مارے کتنی ہی دیر وہ بول نہ پائی۔
’’اس قدر جلدی…‘‘ طاہر شکیل کے چہرے سے اندازہ ہی نہیں ہو پارہا تھا کہ وہ خوش ہے یا نہیں… ہاں لیکن وہ ہادیہ کا اچھے سے خیال رکھتا تھا۔
’’پتہ نہیں کیوں میرا کباب کھانے کو دل چاہ رہا ہے خوب اسپائسی سے۔‘‘ ہادیہ نے مسکراتے لہجے میں کہا تو طاہر کی نگاہ وال کلاک کی طرف گئی جو رات کے گیارہ بجا رہی تھی۔ وہ بستر اسے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کیا ہوا… آپ کیوں اٹھ گئے؟‘‘
’’ابھی آپ نے کچھ کہا ہے۔‘‘
’’جی… تو صرف کہا ہی ہے اتنی سردی میں آپ اٹھ کر کدھر چل پڑے؟‘‘
’’کچھ نہیں بس جلدی سے جاکر آتا ہوں۔‘‘ وہ باہر کی طرف لپکا‘ ہادیہ آوازیں دیتی رہ گئی صرف پندرہ یا بیس منٹ بعد جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں شاپر دیکھ کر ہادیہ مسکرانے لگی۔
’’جان طاہر… بہت کوشش کی مگر اس وقت تک تمام باربی کیو شاپس بند ہوچکی تھیں۔ ایک ہوٹل سے کوفتے ملے ہیں تو وہی اٹھا کر لے آیا۔ اب آپ ایسا کریں کہ فرائنگ پین میں تھوڑا سا گھی ڈال کر لے کر آئیں۔‘‘ ہادیہ جلدی سے بستر سے نکلی اور فرائنگ پین میں گھی ڈال کر لے آئی۔ طاہر نے ہیٹر پر فرائنگ پین گرم کیا اور کوفتے گرم گھی میں ڈال کر کچھ دیر فرائی کرکے پلیٹ میں نکالے۔
’’یہ لیجیے جان من… پہلی بار کوفتہ کباب حاضر ہیں خاص الخاص ہماری کیوٹ سی‘ گول مٹول سی وائف کے لیے خلوص دل کے ساتھ۔‘‘ ہادیہ نے اس کے ہاتھ سے کوفتہ لے کر منہ میں رکھا‘ محبت سے اس کے چہرے کو دیکھا اور اس کے ساتھ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس بے لوث محبت پر اس کا حق تھا۔ یہ پرخلوص سچا شخص سر تاپا اس کا تھا۔ زندگی سے اور بھلا کیا چاہا جاسکتا ہے۔
ڑ…r…‘
طاہر شکیل کو بے حد کوشش کے باوجود کوئی ڈھنگ کی ملازمت نہیں مل رہی تھی۔ بابا ایک ضعیف العمر شخص تھے۔ زیادہ محنت نہیں کرسکتے تھے پھر بھی خوش اسلوبی سے جیسے ممکن تھا پورے گھر کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ طاہر شکیل دل ہی دل میں نادم ہوتا تھا وہ بابا کو اس عمر میں آرام دینا چاہتا تھا‘ لیکن اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ وہ وسائل کہاں سے لائے۔ جہاں کام کرتا تھا‘ وہ لوگ وقت پر کبھی بھی معاوضہ ادا نہیں کرتے تھے ایک دن اسی معاوضے والی بات پر طاہر کی دکان مالک سے لے دے ہوگئی اور وہ کام بھی چھوٹ گیا۔
’’میں کسی مل میں کام کرلوں گا لیکن سیٹھ کے پاس واپس نہیں جائوں گا۔ ان لوگوں کو ہم مزدوروں کا استحصال کرنے کی عادت پڑچکی ہے۔‘‘
’’لیکن ملوں میں تو کام بہت سخت ہوتا ہے اور ورکنگ آورز بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘ ہادیہ نے محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کام تو کوئی نہ کوئی کرنا پڑے گا ناں۔ آخر بابا کب تک کریں گے۔ یوں بھی بابا آج کل میں شہر سے باہر جارہے ہیں کسی کام کے سلسلے میں اور کہہ رہے تھے دس پندرہ دن تک میری آمد کی توقع بھی نہ کرنا اور گھر کا خرچ بھی چلانا۔ اب خود ہی بتائو ہادی‘ کس طرح ممکن ہے یہ۔‘‘
’’آپ اگر مل میں کام کرتے ہیں تو بھی ایک ماہ کے بعد ہی تنخواہ ملنی ہے ناں آپ کو… آپ فکر نہ کریں… یہ لے لیں بیچ کر گھر کے لیے راشن لے آئیں۔‘‘ ہادیہ نے اسے تسلی دینے کے ساتھ ہی گلے سے چین اور ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر طاہر کے ہاتھ پر رکھ دی۔
’’یہ غلط بات ہے ہادی‘ میں اس لیے تو نہیں کہہ رہا تھا۔‘‘ طاہر نے سرزنش بھرے انداز میں کہا۔
’’مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ آپ نے اس لیے نہیں کہا اور میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ آپ ہی کا تو ہے۔ میرا زیور آپ ہیں میری خوشی میری تکمیل تو آپ سے ہے۔ آپ اگر پریشان ہوں گے تو میں ان زیورات کو لے کر کیا کروں گی۔‘‘ ہادیہ نے زبردستی وہ چیزیں طاہر کی ہتھیلی پر رکھ دیں تو وہ بھی خاموش ہوگیا۔ اس شام گھر کے تمام افراد کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور آیا اور ایک ماہ کا راشن بھی۔ طاہر کے چہرے پر بکھری آسودہ مسکراہٹ نے جیسے ہادیہ کو اپنی ہی نگاہوں میں سرخرو کردیا تھا۔
’’یہی تو ہوتا ہے شریک زندگی‘ غمگسار‘ درد بانٹنے والا‘ سکھ دکھ میں ہمیشہ ہم قدم اور کبھی بھی تنہا نہ چھوڑنے والا۔ میں کبھی بھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گی طاہر‘ ہمیشہ‘ ہر قدم آپ کے ساتھ ساتھ رہوں گی۔ ایک دن سب کو یہ احساس دلادیں گے کہ ہم نے ایک دوسرے کا انتخاب کیا تو غلط نہیں کیا۔‘‘ ہادیہ نے دل ہی دل میں مصمم ارادہ کیا اور سب کے مسکراتے چہروں کے درمیان اس کا چہرہ بھی کھل اٹھا تھا۔
وہ ماں بننے کے عمل سے گزر رہی تھی اور اکثر طبیعت کی خرابی کا شکار رہتی تھی۔ ایک اضمحلال سا طاری رہتا تھا دل ودماغ پر۔ طاہر شکیل اکثر ہی اس کی دلجوئی کرتا رہتا لیکن گزرتے دنوں میں طاہر کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو اس کے سامنے آیا جس نے کچھ دیر کے لیے تو اسے گنگ کردیا۔ کیونکہ اس سے پہلے کبھی اس نے وہ سب نہیں دیکھا تھا… وہ ایک بزدل‘ دبو اور اندر سے بے انتہا گھٹی ہوئی شخصیت کی مالک تھی۔ محبت بھرے رویوں اور لہجوں کو ترسی ہوئی‘ جان بوجھ کر غلطی کرنا اور غلطی پر شیر ہوجانا اس کی سرشت نہیں تھی۔ ہاں مگر وہ بے عقل ضرور تھی‘ اسے بہت جلدی کسی کی سمجھ نہیں آتی تھی اور نہ ہی وہ چہروں سے لوگوں کی اصلیت کو سمجھنے اور پرکھنے کا ہنر رکھتی تھی۔ وہ تو بس محبت دینا اور محبت مانگنا جانتی تھی لیکن گزرتے دنوں میں اس نے دیکھا تھا کہ معمولی معمولی باتوں کو لے کر طاہر اس حد تک غصہ میں آجاتا کہ وہ حیران رہ جاتی‘ گھبرا کر جواز دیتی تو بات مزید بڑھ جاتی۔ اس پر آیا غصہ نکالنے کا طریقہ بھی طاہر نے انوکھا ہی نکال لیا تھا کہ چھری یا بلیڈ اٹھا کر اپنے جسم پر کٹ لگانے لگ جاتا۔ ہادیہ اندر ہی اندر تڑپتی‘ سسکتی اس سے معافیاں مانگے جاتی‘ کئی کئی گھنٹے اسے مناتی رہتی‘ لیکن اس کا غصہ اپنی مقررہ معیاد پر ہی اترتا… اور وہ سارا دورانیہ ہادیہ کی روح آبلہ پا‘ آگ میں جھلستی رہتی‘ دل میں ہزار شکوے پیدا ہونے لگے مگر وہ زبان سے بس اپنی دھن میں لگی رہتی۔ امی بابا بھی ان کے معاملات میں کم ہی مداخلت کرتے کیونکہ طاہر غصے میں کسی کی بھی نہ سنتا تھا۔ رات دیر گئے تک دوستوں کی محفلوں میں بیٹھنا‘ ہادیہ کو اعتراض ہوتا مگر وہ کچھ نہ کہتی‘ بس دل میں یہی سوچتی کہ چلو اگر اس کا شریک زندگی اسی طرح خوش ہے تو ٹھیک ہے ناں‘ اسے تو بس اس کی خوشی چاہیے۔
’’تمہیں امی نے بتایا ہے ہمارے خاندان میں ہمیشہ پہلی اولاد بیٹا ہوتا ہے۔‘‘ ایک دن بہت موڈ میں طاہر نے کہا تو ہادیہ اس کی طرف دیکھنے لگی۔
’’نہیں تو… بیٹا ہو یا بیٹی اللہ تعالیٰ کی نعمت اور رحمت ہیں۔‘‘
’’ہاں… مگر میں سوچتا ہوں کہ ہمارا پہلا بیٹا ہو‘ پھر میں دوستوں کو بلائوں گا‘ بڑی سی دعوت کریں گے۔‘‘ اس کی آنکھیں مستقبل میں آنے والی خوشی کے احساس سے چمک رہی تھیں۔ ہادیہ اندر سے دہل گئی۔ نگاہوں کے سامنے ماہین کا چہرہ آگیا۔ انہیں بھی تو پوری زندگی بیٹیوں کی ماں ہونے کی سزادی گئی تھی۔ ایک محروم تمنا عورت جو ہر ارمان کو دل میں چھپائے کسی سے بھی شکایت کا ایک لفظ بنا کہے خاموشی سے اس دنیا سے چلی گئی تھی اور آج وہی احساس محرومی ہادیہ کے اندر کوڑیالے سانپ کی طرح پھن اٹھا کر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’اگر میرے آنگن میں بیٹی آگئی تو…‘‘ اس نے کسی جگہ ایک حدیث پڑھی تھی۔
’’خوش نصیب ہے وہ عورت جس کی پہلی اولاد بیٹی ہو۔‘‘
کیا نظام تھا اس دنیا کا‘ جس نبیﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں جس کی آل پر درود وسلام بھیجتے ہیں‘ کیا کبھی ہم نے ایسا سوچا کہ اگر بیٹے اتنے ہی گراں قدر یا بیٹی سے گراں مایہ ہوتے تو اللہ اس نعمت سے اپنے محبوبﷺ کو کیوں محروم رکھتا۔
اور اسی دورانیے میں اس پر یہ روح فرساں انکشاف بھی ہوا کہ طاہر شکیل پینے پلانے کا شوق بھی رکھتا ہے۔ درد سے بوجھل دل کو اپنے سینے میں چھپائے اس نے بنا کوئی شکایت یا اعتراض کیے خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا… وہ اندر ہی اندر ڈرتی جارہی تھی۔ اپنے ہی درد کے بوجھ سے نڈھال ہوتی جارہی تھی۔ اذیت کے ایک پل صراط پر سے گزر کر اس نے ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دیا۔ ننھے منے سے نقوش کی حامل‘ فرشتوں جیسی معصومیت لیے اس کی گود میں رب کی رحمت آگئی تھی۔ اسے ہر دکھ بھول گیا۔ اپنی ممتا بھری آغوش میں لیتے ہی آج اس پر کھلا تھا کہ ماہین ان کی جدائی کی محض سوچ کو بھی آخر کیوں نہیں سہ پائی تھیں۔ یہ بیٹیاں تو مائوں کے لیے اللہ کا ایسا انعام ہوتی ہیں جن سے مائوں کی روحوں کے تار جڑ جاتے ہیں۔ اس رات امی کمرے میں نہ آئیں‘ طاہر شکیل جب کمرے میں داخل ہوا تو نشے میں دھت تھا۔ ہاتھ میں خون آلود خنجر دیکھ کر ہادیہ کا کلیجہ لرز گیا‘ طاہر کی گردن اور سینے پر جابجا کٹ لگے ہوئے تھے‘ جن سے خون بہہ رہا تھا اور ہادیہ بنا کہے سمجھ گئی تھی اسے بیٹی کی پیدائش ناگوار گزری ہے۔ اسے بیٹیاں پسند نہیں تھیں وہ مسلسل ایک بیٹے کی آمد کا اپنے ذہن میں خیال لیے بیٹھا تھا اور توقع سے ذرا سا بھی ہٹ کر کچھ ہونے پر اس کا ردعمل ایسا ہی ہونا تھا پھر بھی اس رات فجر کی اذان تک ہادیہ روتی رہی تھی۔ وہ جانے اسے کیا‘ کیا بولتا رہا تھا اور ہادیہ تکلیف بھلائے ننھی بچی کو گود میں لیے بیٹھی اس کی باتیں سنتی اور آنسو بہاتی رہی۔ کبھی جب بچی بھوک کی شدت سے بے تاب ہوکر رونے لگتی تو وہ اپنے پلو کو دودھ میں بھگو کر اس کے منہ میں نچوڑ دیتی دو قطرے منہ میں جاتے ہی بچی خاموش ہوجاتی لیکن اس کے کمرے میں گھر کے کسی فرد نے جھانک کر نہیں دیکھا تھا۔ ہادیہ کو یاد آیا کس طرح اس کے میکے میں زچہ اور بچہ کا دھیان رکھا جاتا تھا‘ تین دن تک زچہ بستر پر کروٹ تک نہ بدلتی تھی… اور گھر کی خواتین میں سے کوئی نہ کوئی اس کے کمرے میں موجود رہتا تھا۔ اس کے اور اس کے بچے کی دیکھ بھال کے لیے۔ نت نئی چیزیں پکا پکا کر اسے کھلائی جاتیں جو اس کی حالت کے پیش نظر اس کے لیے فائدہ مند ہوتیں لیکن یہاں ایسا کچھ نہ تھا‘ الٹا رات بھر بیٹھ کر رونے کی وجہ سے صبح تک ہادیہ کی آنکھیں متورم اور سوجی ہوئی تھیں۔
’’مجھے سر باندھ کر لیٹی تکلیف کا ناٹک کرتی عورتیں بالکل پسند نہیں۔‘‘ طاہر کی بات یاد آتے ہی وہ بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’مجھے ایسا کچھ بھی نہیں کرنا جو طاہر کو پسند نہ ہو۔‘‘ پہلے دن سے اٹھ کر کام میں لگ گئی‘ انیقہ کو خبر ملی تو اس نے فوراً کہا۔
’’طاہر بھائی‘ سب چھوڑیں مجھے ہادی کا بتائیں‘ وہ کیسی ہے۔ وہ تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ اس کے لہجے میں بے قراری تھی۔
’’اسے کیا ہونا ہے بھئی‘ سانڈ کی طرح پورے گھر میں دندناتی پھر رہی ہے۔‘‘ طاہر کے جواب نے انیقہ کو حیران کردیا۔
’’میں نہیں مان سکتی طاہر بھائی‘ اس کے تو سر میں ہلکا سا درد ہوتا تھا تو پورے گھر کو ہلا کر رکھ دیتی تھی۔ بے چاری مماجانی کو اتنا پریشان کردیتی تھی کہ وہ اسے اسی وقت ڈاکٹر کے پاس لے کر چلی جاتی تھیں۔‘‘
’’بھئی مائوں کو تو اسی طرح پریشان کیا جاتا ہے‘ اب تو وہ خود ماں ہے کچھ تو وقار اور سلجھائو آجانا چاہیے ناں اس میں۔‘‘
’’جی‘ یہ تو آپ نے ٹھیک کہا۔‘‘
ہادیہ کو احساس ہوتا تھا کہ طاہر شکیل ننھی ماہ رو کو نہیں چاہتا وہ اسے گود میں نہیں اٹھاتا تھا۔ یہ احساس کہ اس کی بچی بھی اپنے باپ کے لیے اسی طرح بے وقعت ہے جس طرح وہ خود تھی۔ اسے اندرسے کھائے جارہا تھا۔ وہ بے کل اور اداس ہوتی جارہی تھی۔
’’ہادیہ… تم کچھ اداس اداس ہو خیر تو ہے۔‘‘ ایک دن امی کو اس کا بجھا ہوا چہرہ نظر آہی گیا۔
’’امی طاہر ماہ رو سے پیار نہیں کرتے‘ انہیں بیٹیاں پسند نہیں ہیں۔‘‘
’’نہیں بھئی ایسا نہیں ہے۔ اتنے چھوٹے بچے سے کبھی اس نے لاڈ پیار کیا نہیں اور ویسے بھی وقت سے پہلے اس پر یہ ذمہ داری پڑگئی ہے اس کی عمر کے لڑکے تو کھیل کود اور خرمستیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ بے چارہ باپ بن گیا ہے۔ آہستہ آہستہ ہی سمجھ آئے گی ناں اسے۔‘‘ امی کا جواز اسے بے حد بچکانہ اور بودا لگا لیکن وہ خاموش ہی رہی وہ ان سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ورنہ یہ ضرور کہتی کہ رشتوں کی نوعیت بدلنے پر ہم ایک لڑکی سے تو ہر حوالے سے عقل مند ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ اس کی کسی کوتاہی کو کسی غلطی کو بھی نظر انداز کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ پندرہ سولہ سال کی لڑکی کی بھی شادی ہوجائے تو ہم اسے شادی شدہ کا جواز دے کر ہر طرح کی سمجھ بوجھ کے لائق سمجھ لیتے ہیں تو یہی اصول صنف مخالف کے لیے کیوں نہیں۔‘‘
بہرحال جو بھی تھا‘ امی ماہ رو سے بہت پیار کرتی تھیں اور ہادیہ کے لیے اتنا بھی کافی تھا۔ ایک عرصے سے طاہر شکیل کی بے روزگاری نے گھر کے سبھی افراد کا رویہ خاصا بدل دیا تھا اور یہ رویہ طاہر سے کہیں زیادہ ہادیہ کے ساتھ بدل چکا تھا‘ طاہر کے منہ پر تو کوئی بات نہ کرتا اس کے پیٹھ پیچھے ہادیہ کو باتیں سننی پڑتیں‘ کبھی بچی کا دودھ پورا کرنے کا سنایا جاتا‘ کبھی دو وقت روٹی کھلانے کا‘ ایک دن ہادیہ کے منہ سے بھی کچھ تلخ الفاظ نکل گئے۔ جس دن امی نے کہا۔
’’تم سب میرے نصیب کا کھا رہے ہو میرا شوہر کماتا ہے اور تم سب کھاتے ہو یہ میرا مقدر ہے۔‘‘ تب ہادیہ نے بس اتنا کہا تھا۔
’’امی ہر انسان اپنے مقدر کا کھاتا ہے… رازق ذات تو اللہ پاک کی ہے۔ بے شک وہ وسیلہ کسی کو بھی بنا دے۔‘‘ اور اس دن تو وہ اپنے کمرے میں آکر ماہ رو کو سینے میں بھینچے بری طرح روئی تھی جب بابا نے اسے کہا تھا۔
’’تم کیسی پڑھی لکھی عورت ہو جو اپنے شوہر کو نہیں بدل سکی۔ اس کا مزاج نہیں بدل سکی‘ تم خود اسے گھٹنے سے لگا کے بٹھائے رکھتی ہو ورنہ اگر تم کہو تو وہ کیوں نہیں کام کرے گا۔‘‘
’’بابا… وہ ہر جگہ ملازمت ڈھونڈ چکے ہیں‘ کتنے لوگوں سے کہہ چکے ہیں مگر کہیں بھی کوئی کام نہیں بن رہا۔‘‘
’’تو اسے کہو مزدوری کرے۔ میں نے ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا کہ سب کا خرچہ میں نے ہی پورا کرنا ہے۔ اپنی بچی کا دودھ تک تو پورا نہیں کرسکتے ہو تم لوگ اور کیا کروگے۔‘‘ وقت اور حالات کی تلخیوں نے بابا کو بھی سر تاپا بدل دیا تھا۔ ان کی طرف سے دبائو پڑتا تو وہ طاہر شکیل کو جاب ڈھونڈنے پر اکسانے لگتی۔ وہ چڑ جاتا۔
’’یہ تم درمیان میں کس لیے پل کا کردار ادا کررہی ہو۔ ان سے کہو تمہارے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا چھوڑ دیں جو کہنا ہے ڈائریکٹ مجھے کہیں‘ مجھ سے پہلے بڑے اور اس کی بیوی کے علاوہ تین بچوں کو بھی انہوں نے ہی پالا ہے اب ایک بچی کا دودھ بوجھ بن گیا ہے ان پر تو سیدھا سیدھا مجھے کہیں۔ آئندہ تم مجھے ان کے حوالے سے کوئی پیغام لاکے نہیں سنائوگی۔‘‘
’’جی بہتر…‘‘ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ایسے میں ماہین کی یاد اسے بری طرح بے چین کردیتی۔
’’مماجی… آپ کیوں اتنی جلدی چلی گئیں‘ مجھے آپ کی ضرورت ہے آپ کی رہنمائی چاہیے۔ ایک ایک قدم‘ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آتا میں کیا کروں؟ ایک اچھی بہو بننے کا خواب تھا میرا‘ مگر اچھی بہو بننے کے چکر میں میں اپنے ہی شوہر کی نظروں میں کم حیثیت اور بے وقعت ہوتی جارہی ہوں۔ شوہر کا خیال کرتی ہوں تو سسرال ناراض‘ سسرال کا دھیان کرتی ہوں تو شوہر روٹھ جاتا ہے۔ چکی کے ان دو پاٹوں کے درمیان میرے وجود وروح پستے جارہے ہیں میں کیا کروں؟‘‘ آنسو بے آواز اس کے گالوں پر بہتے جاتے اور ننھی ماہ رو اپنی چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں سے اس کے آنسو پونچھتی‘ وہ ڈھنگ سے بول نہیں پاتی تھی۔ چھوٹے چھوٹے لفظ ہی سیکھے تھے اس نے۔ مگر وہ اس کی تنہائی کی ساتھی تھی۔ ایک بیٹی سے بڑھ کر ماں کے درد کو سمجھنے والا کون ہوسکتا ہے بھلا…؟
ڑ…r…‘
بچی کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ہادیہ کی پوری کوشش ہوتی کہ اس کے ذمے جو گھر کے کام ہیں اس حوالے سے گھر کے کسی فرد کو کوئی شکایت نہ ہو اور طاہر کو بھی پورا پورا وقت ملے لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ وہ دن بھر کام کرکے اس قدر تھک جاتی کہ رات جلد ہی نیند اسے آدبوچتی۔ خود کو زبردستی جگائے رکھنے کی صورت میں اس کے چہرے پر جو عجیب سے تاثرات آتے وہ طاہر کو بھی کوفت میں مبتلا کردیتے۔
’’دیکھئے ہادیہ… میں نے آپ سے شادی کی آپ کی خاطر‘ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ گھر کے کام ہوتے ہیں یا نہیں؟ نہ ہی مجھے ماہ رو کے حوالے سے کچھ بھی کہناہے۔ بچہ کبھی بھی میری ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ یہ صرف اور صرف آپ کی خواہش کے احترام میں دکھائی دے رہی ہے۔ میری پہلی اور آخری ترجیح آپ ہیں مجھے آپ کا وقت چاہیے‘ آپ کی توجہ چاہیے‘ میں آج بھی وہی پہلے دن والا طاہر ہوں جو آپ پر کسی کی نظر تو کیا سورج کی کرن بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا۔ آپ جھاڑو پونچھا‘ برتن‘ کپڑے ان بے کار چیزوں میں اپنا سارا وقت لگا دیتی ہیں اور جب میری باری آتی ہے تو نیند سے بوجھل آنکھیں لیے میرے پاس آجاتی ہیں۔ مجھے یہ سب بالکل بھی پسند نہیں ہے ہادی۔‘‘ اور ہادیہ بس حیران پریشان سی اس کا منہ دیکھے جاتی‘ وہ یہ کبھی نہ کہہ پائی کہ اس طرح گھر والے اسے کب تک برداشت کریں گے۔ کوئی سسرال بھی چاہے کتنا ہی پیار کرنے والا کیوں نہ ہو انہیں اپنی بہو سے بھی بہت سی توقعات ہوتی ہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر نہیں رہا جاسکتا۔ ہمارے اردگرد جتنے بھی رشتے ہوتے ہیں ان سب کی نگاہیں ہمہ وقت ہم پر ٹکی ہوتی ہیں اور ان نگاہوں میں موجود امید کو سلامت رکھنے کے لیے ایک عورت کو تو قدم قدم پر خود کو قربان کرنا پڑتا ہے لیکن یہ بات مرد کبھی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ وہ مسٹر پرفیکشنسٹ بنے رہتے ہیں۔ جنہیں ہر چیز ہمیشہ پراپر چاہیے کہیں بھی کسی بھی جگہ کوئی کمی کوئی سقم نہ ہو۔ اپنے میکے میں ہادیہ نے کبھی مرد ذات کے حوالے سے نہ سوچا تھا۔ جو گنے چنے مرد اس کی نگاہوں کے سامنے تھے چچا‘ ماموں وغیرہ ان کے سامنے سلام دعا سے بڑھ کر کوئی بات کرنے کی جرأت بھی شاذو نادر ہی کی ہوگی۔ بھائی کوئی تھا نہیں اور باپ کے نام پر جو شخص اس کے حصے میں آیا تھا اس کے لیے بس اتنا ہی کہا جاسکتا تھا کہ اس کا نام اسکول‘ کالج کے داخلہ فارم اور مارکس شیٹ پر ولدیت کے خانے کو پر کرنے کے علاوہ کہیں استعمال نہیں ہوا تھا۔ اسے شادی شدہ زندگی عجیب بوجھ سی لگنے لگی۔ وہ سمجھ نہیں پاتی تھی کہ اس کا شریک زندگی آخر اس سے چاہتا کیا ہے‘ اس کے بس میں جس قدر تھا وہ اس سے بڑھ کر کرنے کی کوشش کرتی تھی لیکن پھر بھی اسے خوش کرنے میں ناکام تھی۔
ڑ…r…‘
ان دنوں گھر کے حالات خاصے خراب چل رہے تھے۔ محلے میں ہونے والے ایک جھگڑے کی وجہ سے پولیس‘ تھانہ‘ کچہری جیسے معاملات میں ہادیہ کا زیور تو کام آیا ہی تھا‘ بابا کے کاروبار کو بھی خاصا دھچکا لگا تھا۔ جھگڑا طاہر کا محلے کے ایک دو آوارہ لڑکوں کے ساتھ ہوا تھا۔ یہ بھی غصے کا تیز تھا اور ادھر بھی خر دماغ لوگ تھے۔ خاصا بڑا جھنجٹ بنا لیکن اللہ اللہ کرکے بابا طاہر کو جیل سے رہا کروا کر لانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ہادیہ کو اپنے زیور جانے کا ایک لحظہ کو بھی افسوس نہیں ہوا تھا۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ اس کے سر کا سائیں لوٹ آیا تھا۔ حالات خواہ جیسے بھی ہوں۔ جتنی غربت اور تنگ دستی ہو‘ اگر شریک زندگی ساتھ ہو تو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت ہر دکھ ہنس کر جھیل لیتی ہے اگر اس کا محبوب اس کے ہمقدم ہو اور ہادیہ کے لیے تو پوری دنیا میں اس کا واحد آسرا تھا‘ ہر رشتہ ہر تعلق اس سے جدا ہوگیا تھا صرف اور صرف طاہر کا وجود تھا جو جینے کا بہانہ تھا یا پھر ننھی ماہ رو‘ جو اب پائوں پائو چلنے لگی تھی اور طاہر کو دیکھ کر ہمکتی تھی تو اب دھیرے دھیرے اس کا دھیان بھی اس کی طرف ہونے لگا۔ ایک بار پھر گھر کے حالات سے تنگ آکر بابا ہادیہ سے تلخ ہو بیٹھے۔ وہ بے چارے بھی کیا کرتے‘ اکیلے دس گیارہ افراد کا بوجھ آخر کب تک اٹھاتے۔ شام میں طاہر کے آتے ہی ہادیہ نے بابا کا پیغام اسے کہہ سنایا۔ فرط غیظ سے طاہر کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔
’’میں نے آپ سے کہا تھا ناں ہادیہ کہ آئندہ مجھے آپ کسی کا کوئی پیغام نہیں دیں گی۔ جسے جو بھی بات کرنی ہے وہ سیدھا مجھ سے کرے۔ کہا تھا ناں یا بھول گئی۔‘‘
’’جی… مجھے یاد تھا مگر بابا نے کہا تھا اس لیے… اب وہ بڑے ہیں میں کیسے ان کی بات کو نظر انداز کردوں۔‘‘ ہادیہ ہکلاتے ہوئے بولی۔
’’نہیں ان کی بات کو نظر انداز کیوں کرو… میری کہی کو نظر انداز کیا کرو‘ میں جو کہوں ہمیشہ اس کا الٹ کیا کرو… سب کی مانا کرو سب کو اہمیت دیا کرو۔ ظاہر ہے میری بات کی کیا حیثیت…؟ جب میری کوئی وقعت نہیں تو میرے کہے کی بھی کیوں لاج رکھو گی تم۔‘‘
’’نہیں… ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ یقین کریں میرے ذہن میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔‘‘ ہادیہ گھبرا کر اپنی صفائی میں بولی۔
’’ہاں تمہارے ذہن میں ایسا نہیں ہوتا مگر تم ایسا ہی کرتی ہو‘ ایسا ہی کرتی ہو تم‘ چڑاتی ہو مجھے‘ نافرمانی کرتی ہو میری‘ میری کہی ہر بات کو نظر اندز کرتی ہو تم…‘‘ وہ اب چلانے لگا تھا اور ساتھ ہی کمرے میں پڑی چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگا۔ ہادیہ ماہ رو کو سینے سے لگائے ایک طرف کھڑی لرز رہی تھی۔ اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس کی عام سے انداز میں کی گئی بات کا اتنا شدید ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔ طاہر شکیل نے محض کمرے کی چیزیں ہی توڑنے پر بس نہیں کی تھی‘ بلکہ اپنی کہانیوں کے تمام ادھورے مسودے کمرے کے درمیان رکھ کر جلا دیئے۔ پھر جانے کہاں سے خنجر برآمد کرلیا۔ ہادیہ کی چیخ نکل گئی۔ ماہ رو کو ایک طرف پھینک کر وہ تیزی سے طاہر کی طرف بڑھی۔
’’یہ… یہ کیا کررہے ہیں… چھوڑیں اسے… امی… امی…‘‘ وہ بلک رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ امی کو بلا رہی تھی۔ اس کی چیخ وپکار سن کر امی بابا بھی آگئے اور کسی نہ کسی طرح طاہر کو قابو میں کرکے خنجر اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’کیا مسئلہ ہے بھئی تم لوگوں کا… یہ آئے روز چیزوں کی توڑ پھوڑ… اٹھا پٹخ کس لیے…؟ مجھے سمجھ نہیں آتی باہر سے تو اچھا بھلا آتا ہے جانے تم ایسا کیا کہہ دیتی ہو کہ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے؟‘‘ امی نے ہادیہ کو گھرکا تو بہتے ہوئے آنسوئوں کے ساتھ وہ بس ان کے چہرے کو دیکھ کر رہ گئی۔ کمرے میں گھر کے تمام نفوس بیٹھے تھے ہادیہ ایک طرف ماہ رو کو گود میں لیے سر جھکائے بیٹھی تھی۔
’’میں آپ سب لوگوں کے سامنے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ عورت جو میرے سامنے بیٹھی ہے میں اس سے شدید ترین نفرت کرتا ہوں۔ اتنی نفرت جتنی اس دنیا میں کبھی کسی نے کسی سے نہ کی ہوگی۔‘‘ اس کی آواز میں لرزش تھی۔ غیظ وغضب مایوسی‘ نفرت اور… اور شاید کہیں توقعات کے ٹوٹ جانے کا درد بھی۔ ہادیہ اسی طرح سر جھکائے بیٹھی رہی ایک لفظ بھی کہے بنا‘ بس وہ تمام الفاظ اس نے نہایت خاموشی سے اپنے اندر جذب کرلیے۔ آخر یہ الفاظ انہی ہونٹوں سے‘ اسی زبان سے ادا ہوئے تھے ناں جن سے اس کے لیے محبت کے الفاظ نکلتے تھے۔ اس کے لیے تو یہ تمام الفاظ بھی اسی طرح بے حد قیمتی تھے‘ ہاں بس وہ یہ نہ کہہ سکی کہ تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو میں تو خود بہت بے بس ہوں۔ میں یہی کرسکتی تھی ناں تمہارے لیے‘ کہ تم سے کبھی کوئی فرمائش نہ کرتی‘ تم پر اپنی ذات کا بوجھ نہ ڈالتی اور میں نے ہمیشہ ایسے ہی کیا‘ آج تک تم سے کچھ نہیں مانگا‘ کچھ نہیں چاہا‘ مگر یہ بات میں نے جب بھی کی گھر والوں کے مجبور کرنے پر کی۔ تم کوئی کام نہ کرو‘ میری محدود ضروریات تو پوری ہوہی رہی ہیں‘ دو وقت کھانے کو مل ہی رہا ہے ناں‘ مجھے تمہاری ملازمت کی ضرورت نہیں‘ میں نے ایسے ہر خواب کو اپنی آنکھوں سے کھرچ کر پھینک دیا جس کا تعلق تمہاری ملازمت سے جڑا تھا۔ میری آرزو تھی‘ میری زندگی کا ساتھی صبح کام پر جائے شام میں آئے تو اس کے ہاتھ میں تازہ پھولوں کے گجرے ہوں‘ میں اس کی پسند کا کھانا تیار کروں اور رات اس کے کندھے پر سر رکھے لیٹے اسے دن بھر کی روداد سنائوں۔ چھوٹی چھوٹی ڈھیروں باتیں‘ مشترکہ مستقبل کے سہانے کھلی آنکھوں سے دیکھے خواب اور دل کی ساری حکایتیں‘ میرے بنا کہے میری ہر ضرورت ہر خواہش کا پاس رکھے‘ اسے پتہ ہو میں کیا چاہتی ہوں‘ مجھے محبت اور توجہ بھیک میں نہ دے میرا حق سمجھ کردے۔ میں نے کبھی اپنے باپ کے سامنے بھی اپنی ضرورت کے لیے ہاتھ نہیں پھیلائے تھے میری خوددار طبیعت مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں اپنی ضرورت کے لیے اپنا دامن وا کروں۔ جسے مجھ سے محبت ہوگی وہ بنا کہے میری ہر بات کو جان لے گا اور پھر اسے پورا کرے گا جسے نہیں ہوگی تو پھر کہہ کر اپنے الفاظ ضائع کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ایک لباس میں حیات گزار دی جائے۔ یہ دنیا اور اس میں بسنے والی ہر چیز فانی ہے‘ اللہ کے نام کے سوا کسی شے کو دوام نہیں اور میں تو اسی کے آسرے پر جی رہی ہوں۔ آج تم نے اپنے گھر کے تمام افراد کے سامنے نفرت کا اظہار نہیں کیا میری محبت کے منہ پر تیزاب ڈال کر اس کا معصوم چہرہ مسخ کردیا ہے‘ کیا تمہیں بھائی‘ بھابی کے تمسخر اڑاتے چہرے دکھائی دیئے‘ جن کی آنکھوں میں طنزیہ مسکراہٹ تھی اور کیا تمہیں میری فریاد کرتی آنکھیں دکھائی دیں جو اس توہین پر خون کے آنسو رو رہی تھیں‘ تم تنہائی میں مجھے کچھ بھی کہہ دیتے‘ شاید وہ اس قدر جان لیوا نہ ہوتا‘ جتنا ان سب کے سامنے آج مجھے میری نفی کا احساس ہورہا ہے۔ اللہ جانے کیا بات ہے تم جب بھی کچھ ایسا کرتے ہو مجھے عارف علی اور ماہین کی یاد دلا دیتے ہو۔ وہ چہرہ‘ وہ شخص ہمارا بچپن کھا گیا‘ ہماری آرزوئیں جلا کر بھسم کی ہیں اس نے‘ کسی اژدھے کی طرح ہمارا ماضی‘ ہمارا حال‘ ہمارا مستقبل تک نگل گیا وہ شخص اور تم جب اس کے برابر جاکر کھڑے ہوجاتے ہو تو یقین کرلو کہ اس سے بڑھ کر میرے لیے اذیت کا اور کوئی سامان نہیں…‘‘ سب جاچکے تھے طاہر بھی شور ہنگامہ مچا کر جانے کدھر چلا گیا تھا مگر ہادیہ کے ماضی کے دریچے سے لپکتی آگ اسے اندر ہی اندر جلائے جارہی تھی۔ وہ اب یہاں کہیں نہیں تھی۔ بہت پیچھے اس مقام پر جاکھڑی ہوئی تھی جہاں ماں کا دامن اس سے چھن رہا تھا اور وہ اور انیقہ ایک دوسرے کی انگلی پکڑے بلک بلک کر رو رہی تھیں۔
’’کیا یہی زندگی ہے‘ یہ کیسی زندگی ہے کہیں جائے اماں بھی ہے یا نہیں۔ یا ایک دن اپنی ماں کی طرح میرا کلیجہ بھی پھٹ جائے گا اور میں بھی اپنی ننھی سی بیٹی کو حوادث زمانہ کے سپرد کرکے اس جہان فانی سے رخصت ہوجائوں‘ کیا یہ مقدر ہے؟‘‘
’’ہاں… یہی مقدر ہے… یہی تمہاری تقدیر ہے… تم جہاں سے چلی تھیں واپس وہیں پہنچ گئی‘ مت جلو… کڑھو… یا تو کچھ کھا کر مر جائو یا پھر جھیل لو…‘‘ اور اسے پہلا حل زیادہ مناسب لگا۔ جب کہیں کوئی راستہ نہیں بچتا تو بزدل اور کم ہمت لوگ یہی تو کیا کرتے ہیں۔ اس نے کافی ساری نیند کی گولیاں کھالیں لیکن گھر والوں کو بروقت پتہ چل جانے پر اسے بچا لیا گیا۔ شاید زندگی باقی تھی یا زندگی کے نام پر ہونے والا ایک پراذیت ڈرامہ… مگر جو بھی تھا اس کے لیے بے حد سوہان روح تھا۔ اندر ہی اندر گھلتی جارہی تھی وہ‘ مگر کس سے کہتی… کس کو سناتی‘ سسرال سے ملنے والے ہر دکھ درد کو تو بیٹی ماں کی گود میں سر رکھ کر کہہ کر اپنا دل ہلکا کرکے آجاتی ہے اور اس کے پاس تو یہ گود بھی نہیں تھی۔ نہ کسی سے کوئی رابطہ‘ نہ تعلق‘ نہ واسطہ‘ انیقہ… چھوٹی تھی‘ اوپر تلے دو بیٹیوں کی پیدائش نے اسے بے حد مصروف کردیا تھا اور یوں بھی اس کے سامنے گلہ شکوہ کرکے وہ طنزیہ باتیں نہیں سننا چاہتی تھی کیونکہ اس کی شادی کو لے کر انیقہ کو ددھیال اور ننھیال سے جو کچھ سننا پڑا تھا اور جس طرح کا برتائو ان سب نے انیقہ سے روا رکھا تھا اس کے بعد تو ہادیہ خود اس سے بے حد شرمندہ تھی۔ طاہر شکیل بعد میں ٹھیک ہوگیا تھا۔ اپنا غصہ اس پر نکال کر شور ہنگامہ مچانے کے بعد وہ نارمل ہوگیا تھا لیکن ہادیہ کے دل میں ایک گرہ پڑگئی تھی‘ وہ اس سے بے طرح ڈرنے لگی تھی۔ پہلے جیسے دوست سمجھ کر دل کی ہر بات اس سے شیئر کرلیتی تھی … اب کوئی بھی بات کرنے سے پہلے کئی کئی بار سوچتی کہ یہ بات کروں یا نہ کروں‘ خود پر سے اعتبار کھونے لگی تھی وہ… اس دن ماہ رو کو سلا کر وہ ویسے ہی کمرے میں بیٹھی تھی جب آنسو بن بلائے اس کی پلکوں پر آن ٹکے اسی پل طاہر نے کمرے میں قدم رکھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ جلدی سے کھڑی ہوگئی۔
’’وعلیکم السلام… خیر ہے یہ اتنی سوگوار شکل کیوں بنا رکھی ہے۔‘‘ وہ قدرے بہتر موڈ میں لگ رہا تھا۔ اس کے نرمی سے پوچھنے پر آنسو پلکوں کی منڈیروں سے چھلک کر گالوں پر بہہ نکلے۔
’’میں آج قرآن خوانی میں گئی تھی۔‘‘
’’ہیں… تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے یار۔‘‘ وہ اسے کندھے سے لگا کر پچکارتے ہوئے مسکرایا۔
’’وہاں کمرے میں کافی ساری خواتین بیٹھی تھیں اور پتہ نہیں کیا ہوا جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو اتنی بھیڑ دیکھ کر گھبرا گئی‘ کسی سے بھی ڈھنگ سے بات نہیں کر پائی‘ ٹانگیں لرزنے لگی تھیں میری۔‘‘ وہ پلکیں جھپک جھپک کر آنسو حلق سے نیچے اتارنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔
’’آپ کو کیا لگتا ہے‘ ایسا کیوں ہوا؟‘‘ طاہر نے اسے خود سے الگ کرکے اسے اپنے سامنے بٹھایا اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
’’مجھے نہیں پتہ‘ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میری خود اعتمادی ختم ہوگئی ہے۔‘‘
’’اور اس کی وجہ…؟‘‘
’’نہیں پتہ…‘‘ ناک سکیڑ کر وہ بولی۔
’’دیکھیے نصف بہتر… آپ بھلے سے بہت خوش اسلوبی سے اس ماحول میں ڈھل گئیں لیکن اندر سے آپ مطمئن نہیں ہیں۔ ہماری خود اعتمادی کی کمی ایک قسم کا کمپلیکس ہے۔ آپ نے وہاں موجود سب خواتین سے خود کو کم حیثیت سمجھا اور اسی احساس کمتری نے آپ کے اعتماد کو ختم کردیا۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں۔‘‘ طاہر نے اس کی آنسوئوں بھری آنکھوں میں جھانکا جو ناسمجھی والے انداز میں اسی کو تک رہی تھیں۔ ہادیہ کو لگا وہ ٹھیک کہہ رہا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی ڈھنگ کا سوٹ نہیں تھا‘ وہ بہت ہی عام سے پرانے سوٹ میں ملبوس تھی‘ جبکہ وہاں موجود دیگر خواتین خاصے بہتر حلیے میں تھیں‘ ہادیہ نے نگاہ چرالی۔
’’دیکھیں آج تک میں نے یہ گوارا نہیں کیا تھا کہ آپ دروازے سے باہر پائوں رکھیں لیکن اگر آپ دن بدن اسی احساس کمتری میں دھنستی چلی گئیں تو بہت جلد آپ کی پوری شخصیت تباہ ہوجائے گی اور میں یہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے میں آپ کو جاب کی اجازت دیتا ہوں۔ کسی بھی اچھے سے اسکول میں آپ ٹیچنگ کی ابتدا کرسکتی ہیں۔‘‘ مسکراتے ہوئے طاہر شکیل میں وہی پرانی شبیہہ دکھائی دی اور ہادیہ دل ہی دل میں خوش ہوگئی‘ یہ ایک خوش آئند تبدیلی تھی۔ اس طرح اسے ایک ایک روپے کے لیے ترسنا نہیں پڑے گا۔ وہ اپنی بیٹی اور اپنے لیے اپنی مرضی کی خریداری کرسکے گی۔ اسے وہ دن یاد آیا جب بڑے بھائی کے بچے باہر سے چیزیں لے کر آئے اور ماہ رو نے جب وہ چیزیں دیکھیں تو ضد کرنے لگ گئی۔
’’ماما… چیجی…‘‘ اور وہ پہلے تو اسے بہلاتی رہی لیکن جب کسی طور وہ نہ بہلی تو بابا کے پاس آگئی۔
’’بابا… آپ کے پاس کچھ پیسے ہیں ماہ رو چیز کے لیے ضد کررہی ہے۔‘‘ اپنے لیے تو نہیں البتہ آج اپنی بیٹی کی خاطر اسے ہاتھ پھیلانا پڑگیا تھا۔ اور بابا جو شروع شروع میں بے حد شفیق اور پیار کرنے والے انسان تھے‘ بعد میں طاہر سے ہونے والی ناراضگی کا سارا قصور وہ ہادیہ پر ڈال دیتے اور کچھ اس کی جٹھانی کے کہنے سننے میں آکر ان کا رویہ بالکل ہی پتھر جیسا سخت ہوگیا تھا۔
’’نہیں… میرے پاس نہیں ہیں پیسے… جو تھے وہ بچوں کو دے دیئے تھے۔‘‘ وہ کچن میں رکھی چارپائی پر بیٹھے تھے اور بھابی شام کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ ہادیہ خاموشی سے کچن سے نکل رہی تھی جب اس کے کانوں میں آواز آئی۔
’’بابا… چائے پینی ہے دودھ منگوائیں ناں۔‘‘ یہ اس کی جٹھانی تھی جو بڑے انداز سے بابا سے فرمائش کررہی تھی۔
’’یہ لو پیسے… دودھ منگوالو۔‘‘ بابا کی صرف اتنی آواز اس کے کان میں پڑی اور اس کی روح تک کو جھلسا گئی۔ بہتے آنسوئوں کے ساتھ اس نے چادر اوڑھی روتی ہوئی ماہ رو کو گود میں اٹھایا اور گیٹ سے باہر آگئی۔ اس کا رخ محلے کی ’’ماما‘‘ کے گھر کی طرف تھا۔ بے انتہا شفیق خاتون جن کا اپنا تو صرف ایک بیٹا تھا‘ مگر محلے بھر کے بچے انہیں ماما کہتے تھے اور وہ تھیں بھی ایسی ہی۔ محبت بانٹنے والی‘ درد مند‘ جیسے ہی دروازے سے اندر داخل ہوئی اسے اس طرح روتا دیکھ کر وہ گھبرا کر تخت سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ارے… ارے ہادیہ… کیا ہوا خیر تو ہے… طاہر سے تو جھگڑا نہیں ہوگیا۔‘‘
’’نن… نہیں بے بی بھابی… وہ ماہ رو اتنی دیر سے رو رہی ہے چپ ہی نہیں ہورہی‘ چیز مانگ رہی ہے اور میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔‘‘
’’اوفوہ… ہادیہ تم بھی کمال کرتی ہو‘ وہ خود اتنا نہیں روتی‘ تمہیں روتا دیکھ کر اس بری طرح رو رہی ہے چپ ہوجائو فوراً اور تمہاری بے بی بھابی کی یہ چھوٹی سی ٹک شاپ کس دن کام آئے گی۔ خبردار جو تم کبھی تکلفات میں پڑی تو‘ ادھر لائو ماہ رو کو مجھے دو۔‘‘ اسے پیار بھری ڈانٹ پلا کر وہ ماہ رو کو اس کی گود سے اٹھا کر ٹک شاپ کے پاس چلی گئیں اور پھر جس جس چیز پر ماہ رو نے انگلی رکھی وہ سب اٹھا کر اس کے حوالے کردیا۔
’’یہ… اتنا بہت کچھ۔‘‘
’’بس چپ ہوجائو‘ میں نے اپنی بھانجی کو دیا ہے کوئی احسان نہیں کیا کسی پر۔‘‘ انہوں نے اسے وہیں خاموش کروا دیا اور پھر اگلے کئی دن تک ان کا بیٹا بابر صبح اسکول جاتے ہوئے گیٹ بجا کر ماہ رو کی چیز پکڑاتا ہوا جاتا۔
’’آنٹی… ماما نے ماہ رو کے لیے بھیجی ہیں۔‘‘ اور وہ حیران ہوتی کیا دنیا میں ابھی بھی بے غرض لوگ موجود ہیں۔ اسی محلے میں اس گھر کے سامنے بخاریوں کا گھر تھا‘ ان کی اماں بھی اسی طرح ہادیہ سے بے پناہ پیار کرتی تھیں۔ کہنے کو محلے دار‘ مگر دل سے رشتے بنا کر نبھانے والے۔ اماں اور بے بی بھابی نے منہ بولے رشتوں پر ایک یقین اور بھروسے کی مہر ثبت کردی تھی۔ اب ہادیہ پریشان ہونے کی بجائے اپنے حصے کا سب کام نمٹا کر ماہ رو کو گود میں لے کر کبھی اماں تو کبھی بھابی کی طرف چلی جاتی۔ انہی دنوں اس نے انیقہ کو کہا کہ اس کے جہیز کے سامان میں سے چند ضروری چیزیں گھر سے اٹھالے‘ پھر کبھی جب اس کی طرف چکر لگا تو وہ اپنا سامان اٹھالے گی لیکن انیقہ نے کہا کہ سب چچا‘ چچیاں وغیرہ گھر کے کسی سامان کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے‘ تو وہ کس طرح اس کا سامان لاسکتی ہے۔ پھر طاہر نے بھی اسے منع کردیا… کہ جو کچھ بھی چاہیے ہم خود ایک ایک کرکے بنالیں گے۔ اس سامان کو بھول جائو‘ مگر ہادیہ کو اپنے ہاتھ سے خریدی سب چیزیں چاہئیں تھیں‘ وہ انہیں بھول نہیں سکتی تھی کیونکہ اس نے بہت پیار اور ارمان سے وہ سب کچھ اپنے گھر کے لیے خریدا تھا۔ اس میں کسی کا احسان شامل نہیں تھا پھر بھی کڑوا گھونٹ پی کر خاموش رہی۔ گھر کو سجانے سنوارنے والی آرزو ہر عورت کی طرح اس کے دل میں بھی ہمکتی تھی لیکن بے بس تھی‘ اس لیے خاموشی ہی مناسب تھی۔
ڑ…r…‘
ہادیہ کو طاہر کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر اس نے کیا ٹھانی ہوئی تھی۔ اللہ جانے اس کے دل میں کیا تھا‘ اسی طرح رات گئے دوستوں کی محفلیں‘ ہادیہ ماہ رو کو لے کر کبھی امی بابا کے کمرے میں تو کبھی باہر برآمدے میں بیٹھی رہتی۔ ایک دو بار بابا دبے لفظوں میں اسے منع بھی کرچکے تھے کہ اپنے میاں سے کہو یہ دوستوں وغیرہ کا جھنجٹ دیر تک نہ رکھا کرے۔ ہم لوگوں کو بھی سکون چاہیے ہوتا ہے لیکن وہ طاہر کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی زیادہ تو برآمدے میں ہی رہتی لیکن جب سردی زیادہ بڑھ جاتی تو ڈھیٹ بن کر بابا امی کے کمرے میں چلی جاتی‘ یہ معمول زیادہ عرصہ نہیں چل سکا کیونکہ ایک دن بابا نے براہ راست طاہر کو بلا کر اس سے بات کرلی۔
’’یہ دوست دن رات یہاں کیوں بیٹھے رہتے ہیں۔ تمہاری بیوی اور بچی ہمارے کمرے میں بیٹھی ہوتی ہیں اور ہمیں اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے آئندہ سے نہیں بیٹھے گی۔‘‘ طاہر بابا سے کہہ کر ہادیہ کی طرف مڑا۔
’’آئندہ باہر برآمدے میں ہی بیٹھی رہا کرو۔ اس کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’پھر بھی ہمیں اعتراض ہے۔ یہ شریفوں کا طور طریقہ نہیں چھڑوں کی طرح رات دیر گئے تک ہی ہی‘ ہاہا مچائے رکھنا‘ محلے والے بھی اب دبی دبی آواز میں بولنے لگے۔‘‘
’’محلے والوں کو کس بات کی تکلیف ہے‘ ہمارا اپنا گھر ہے گھر کے اندر ہم جو بھی کریں اس پر وہ اعتراض کرنے والے کون ہیں اور یہاں ہم کون سا مجرے کروا رہے ہیں دوستوں کی میٹنگ سے محلے والوں کے پیٹ میں مروڑ کس لیے۔‘‘
’’دیکھو طاہر… یہ دوستیاں‘ راستیاں‘ سب شادی سے پہلے تک ہوتی ہیں‘ شادی کے بعد اب تم ایک شوہر ہو‘ باپ ہو‘ اپنی ذمے داری کو سمجھو۔ خود کو بدلو۔‘‘
’’میں کسی کے لیے اپنے آپ کو نہیں بدل سکتا۔ مجھے جو جہاں ہے جیسا ہے ٹھیک ہے کی بنیاد پر جس نے قبول کرنا ہے کرے‘ جسے قبول نہیں کرنا مجھے پروا نہیں۔‘‘ طاہر کا لہجہ تلخ ہوگیا۔
’’یعنی تم دوستوں کو گھر لانے سے نہیں رکوگے۔‘‘ بابا نے حتمی لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں… یہ میرا بھی گھر ہے۔ اگر میں یہاں رہتا ہوں تو میرے دوست بھی یہاں ضرور آئیں گے۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے یا پھر ہمیں چن لو یا دوستوں کو‘ دونوں میں سے کسی ایک کو ہی اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو تم۔‘‘ بابا کو بھی طاہر کی ہٹ دھرمی پر غصہ آگیا اور وہ بھی تو انہی کا بیٹا تھا‘ ضد اور غصے میں ان سے کہیں آگے۔
’’ٹھیک ہے پھر میں دوستوں کو رکھوں گا۔‘‘ تلخی سے کہتا ہوا وہ ہادیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔
’’دیکھا آپ نے… یہ اس طرح نہیں تھا۔ جب سے اس لڑکی سے اس کی شادی ہوئی ہے تب سے ہی یہ ہم سب سے الگ اور دور ہوگیا ہے۔ اب ماں باپ کی کیا حیثیت۔‘‘ بابا کا لہجہ کڑوا ہوگیا تھا۔
’’نہیں ایسا نہیں ہے… پتہ نہیں اس نے ایسی بات کیوں کی۔‘‘ امی خود طاہر کے رویے پر حیران پریشان تھیں۔ انہیں یاد تھا کہ ایک بار ہادیہ نے کہا تھا کہ طاہر نے پہلی رات مجھے کہا تھا کہ میرے امی بابا میرا ایمان‘ میری کل کائنات ہیں اور آج وہی طاہر محض دوستوں کی خاطر اپنے ماں باپ کو ٹھوکر مارنے پر تیار تھا۔ اتنی بڑی تبدیلی کیوں اور کیسے آئی تھی وہ سمجھ نہیں پارہی تھیں۔
’’آپ سمجھتی نہیں ہیں یہ پڑھی لکھی عورتوں کے چلتر… یہ دو منہ والے سانپ کی طرح ہوتی ہیں منافق اور دوغلی‘ ہمارے سامنے کچھ ہے یہ اور اپنے شوہر کے کان بھر بھر کر آج اسے ہم سب کے اس قدر خلاف کردیا ہے کہ وہ ہمیں چھوڑنے پر تیار کھڑا ہے اور میں نے بھی دل میں سوچ لیا ہے کہ اگر ان کے نزدیک ہماری یہ حیثیت اور وقعت ہے تو پھر ہم بھی انہیں نہیں روکیں گے‘ جدھر جانا ہے جائیں۔‘‘
’’وہ تو بچے ہیں آپ بھی ان کے ساتھ بچے بن گئے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف کی کھینچا تانی میں رشتوں کے دھاگے ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔‘‘ امی نے نرم سبھائو سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
’’نہیں… میرے دل میں اب ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس حوالے سے میں آپ کے منہ سے بھی کچھ سننا پسند نہیں کروں گا۔‘‘ اپنی بات کے اختتام کے ساتھ ہی بابا نے ان کی طرف سے پیٹھ موڑ لی۔ امی دل ہی دل میں گہرے افسوس اور پریشانی میں مبتلا تھیں۔ ایک طرف شوہر تھا تو دوسری طرف بیٹا… دونوں کی ضد میں سب سے زیادہ نقصان ہادیہ اور ننھی ماہ رو کا ہونے والا تھا۔ طاہر جیسی طبیعت رکھنے والے موڈی شوہر کے ساتھ ہادیہ جیسی موٹی عقل والی لڑکی زیادہ دن سکون سے نہ جی پائے گی‘ یہ امی کا اندازہ تھا اور کافی حد تک درست بھی تھا۔ ہر طرح سے ہادیہ اور امی کی کوششیں بے کار گئی تھیں نہ تو طاہر ایک انچ اپنے موقف سے ہٹا اور نہ بابا نے لچک دکھائی۔ اور ایک شام بہت مختصر سامان کے ہمراہ ہادیہ اور طاہر ایک چھوٹے سے گھر میں شفٹ ہوگئے جو بازار میں ایک دکان کے اوپر تعمیر شدہ تھا ایک چھوٹے سے کمرے اور بہت ہی چھوٹے سے دالان پر مشتمل یہ گھر‘ جہاں سے انہوں نے زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
ڑ…r…‘
اس دن اسے تنخواہ ملی تو اندر کہیں وہی گھر بنانے والی عورت بیدار ہوگئی۔ ننھی ماہ رو کو لیے رکشے میں بیٹھ کر وہ بازار چلی گئی۔ ایک برتنوں کی دکان کے سامنے رکشہ رکوا کر اس نے چند ناگزیر برتن خریدے اور اسی رکشے میں واپس گھر آگئی۔ اس کے پاس برتنوں کے نام پر محض ایک ہنڈیا چار گلاس اور چار کپ تھے۔ اسی ہنڈیا میں ماہ رو کے لیے دودھ گرم کرکے چار گلاسوں میں انڈیل کر رکھ دیتی اور پھر اسے دھو کر اسی میں سالن پکا لیتی۔ طاہر کا بھی کچھ خاص کام نہیں تھا۔ بمشکل گھر کا گزارہ چل رہا تھا۔ ہادیہ نے کوئی فضول خرچی نہیں کی تھی‘ گھر کی ضرورت کا عورت کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے کس حوالے سے پریشانی ہورہی ہے سو وہ اپنی ضرورت کی چند چیزیں سستے داموں خرید کر لے آئی تھی لیکن شام میں جب طاہر آیا اور اسے پتہ چلا تو جیسے وہ آگ بگولا ہی ہوگیا۔
’’آپ کو پتہ ہے ناں مجھے آپ کا بازار جانا پسند نہیں پھر کیوں گئیں؟‘‘
’’میں اسکول کے دروازے سے دکان تک رکشے میں گئی تھی وہیں سے چند چیزیں لیں اور اسی رکشے میں گھر واپس آگئی۔‘‘ ہادیہ کو توقع نہیں تھی کہ اسے اس قدر شدید غصہ آئے گا۔
آخر جاب کے لیے بھی تو وہ اسی بازار میں سے گزر کر جاتی تھی دن میں دو بار جاتی اور دوبار آتی تھی۔ ایک لیڈی ڈاکٹر کی بیٹیوں کو ہوم ٹیوشن بھی پڑھاتی تھی وہ۔ ننھی سی بچی کو گود میں لے کر ہر روز دوبار ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے انہی راستوں سے آنا اور جانا… گھر کے لیے سودا سلف بھی وہ خود لے کر آتی تھی تو پھر آج ایسی کیا قیامت آگئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔
’’مجھے آگے سے توجیہیں اور جواز دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے صرف اتنا بتائو کہ تمہیں پتہ ہے ناں کہ مجھے تمہارا بازار جانا پسند نہیں۔‘‘
’’جی۔‘‘ مری مری آواز میں ہادیہ نے کہا۔
’’پھر بھی تم گئی… گئی ناں… تو اس کا سیدھا صاف مطلب یہی ہے کہ تم جان بوجھ کر مجھے چڑاتی ہو۔ میری نافرمانی کرکے تم مجھ پر ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میری حیثیت تمہاری نظر میں ایک ٹکے کی بھی نہیں۔‘‘
’’اس میں ان سب باتوں کا بھلا کہاں سے معنی نکلتا ہے‘ مجھے گھر کے لیے ضرورت تھی یہ سب تو میں لے آئی۔ سودا سلف بھی تو لاتی ہوں۔‘‘ ہادی کو کوفت ہونے لگی۔
’’ہاں سودا سلف لاتی ہو‘ نوکری کرتی ہو تو اس میں مزید آوارگی بھی شامل کرتی جائو‘ جو ضرورت تھی تم مجھے کہہ سکتی تھیں میں مر تو نہیں گیا تھا۔‘‘
’’آپ کو کہہ دیتی‘ مگر آپ کے نزدیک گھر کی چیزیں فضول ہوتی ہیں آپ مجھے منع کردیتے اس لیے میں خود لے آئی۔‘‘
’’اوہ یعنی یہ بھی پتہ تھا کہ میں لاکر نہیں دیتا‘ تمہیں اسی سے اندازہ کرلینا چاہیے تھا کہ میں اگر ناگزیر سمجھتا تو ضرور لاکر دیتا۔ اہم نہیں تھیں ناں یہ چیزیں تبھی تو نہیں لاکر دینی تھیں… مگر نہیں میری کوئی حیثیت نہیں ہے غریب ہوں ناں‘ ہر خواہش ہر آرزو پوری نہیں کرسکتا امیر باپ کی بیٹی‘ تو یہ بے قدری تو سہنی پڑے گی۔‘‘ وہ مزید تلخ ہوتا جارہا تھا۔ اندر کہیں بے اطمینانی اور حالات کی شکستگی نے اسے توڑ پھوڑ دیا تھا۔ وہ ایسا ہرگز نہیں تھا‘ وہ اس کے لیے ہر سکھ ہر خوشی خرید کر اس کے قدموں میں ڈھیر کرنا چاہتا تھا لیکن وقت کے ہاتھوں مجبور تھا‘ کہیں بھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا‘ یہی تنگی اور لاچاری تلخی بن کر اس کے لہجے میں گھر کر گئی تھی اور یہ تلخی اتنی بڑھ گئی کہ جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی۔ ہادیہ نے ایک بیگ میں اپنے اور ماہ رو کے کپڑے رکھے اور اسے لے کر گھر سے نکلنے لگی۔
’’اگر اپنی ماں کی اولاد ہو تو دوبارہ اس دروازے سے اندر پائوں مت رکھنا۔‘‘ لہو رنگ آنکھوں کے ہمراہ طاہر نے گرج کر کہا اور ہادیہ روتے ہوئے ماہ رو کو سینے سے چمٹائے اس چھوٹے سے گھر کا دروازہ عبور کر گئی۔ رات کے اس پہر راستوں کی خبر بھی نہیں تھی اور نہ ہی ہاتھ میں پکڑا کرایہ کافی تھا۔ وہ بس پر سوار ہوگئی‘ پریشانی کی حالت میں ایک سیٹ پر بیٹھ گئی۔ یہ بھی غنیمت تھا کہ ماہ رو سو رہی تھی۔ اٹھ جاتی تو بھوک کے مارے بلکتی پھرتی۔ بس کا کنڈیکٹر ایک بزرگ سا آدمی تھا‘ جب وہ کرایہ لینے آیا تو ہادیہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
’’ارے بیٹا کیا ہوا؟‘‘
’’چاچا جی میرا پرس کہیں گر گیا ہے اور میرے پاس ابھی صرف تین سو روپے ہیں یہ تو آدھے راستے کا کرایہ بھی نہیں ہے اور میں نے بہت دور جانا ہے‘ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں؟‘‘
’’ارے بیٹا… تم روئو نہیں‘ میری بھی بیٹیاں ہیں‘ تمہاری آنکھ میں آنسو اچھے نہیں لگ رہے بیٹا اللہ پر توکل کرو… وہ مالک ہے اگر نقصان ہوا ہے تو فائدہ دینے والی ذات بھی اسی کی ہے۔ فکر نہیں کرو‘ تم اس سیٹ پر آرام سے بیٹھو کوئی تمہیں نہیں اٹھائے گا۔ اور میں تم سے کرایہ بھی نہیں لیتا‘ بس خاموشی سے اپنا سفر پورا کرو اور میری بیٹیوں کے لیے دعا ضرور کرنا بیٹا۔‘‘ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر آگے بڑھ گیا اور ہادیہ کو کچھ سکون ہوا‘ اب ان پیسوں سے وہ اپنی منزل پر پہنچ سکتی تھی لیکن کہاں… کہاں جائے گی وہ۔ یہ تو ابھی تک اس نے سوچا ہی نہیں تھا‘ میکے کے دروازے تو کب سے وہ اپنے ہاتھوں سے بند کر آئی تھی۔ سسرال میں بھی اس کی جگہ نہیں تھی۔ لے دے کے صرف انیقہ تھی جس کا سہارا لے سکتی تھی وہ۔ اور یہ تو اسے بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ سب اس کے ساتھ کیا رویہ رکھیں گے۔ کیونکہ پہلے دوبار وہ انیقہ کے گھر ہنسی خوشی آئی تھی۔ اچھی طرح دینا دلانا کیا تھا تو اس وقت سب کے رویے اچھے تھے‘ اور اب تو وہ اپنے گھر کو چھوڑ کر اپنے شوہر سے ناراض ہوکر ایسی حالت میں جارہی تھی کہ ڈھنگ کا لباس تن پر تھا نہ ڈھنگ کا جوتا پائوں میں۔ پرانی سی چادر میں ملبوس یہ ہادیہ اس خوش لباس‘ بااعتماد ہادیہ سے یکسر جدا تھی جسے وہ سب جانتے تھے‘ رات بھر سفر کے بعد اگلے دن وہ دوپہر تین بجے کے قریب جب انیقہ کے گھر پہنچی تو انیقہ اس کی آمد سے باخبر تھی۔ کیونکہ طاہر شکیل کئی بار فون کرکے اس کی بابت پوچھ چکا تھا۔ رات والا غصہ اتر گیا تھا اور اب وہ ایک فکرمند شوہر کی طرح بے چین تھا۔ ہادیہ نے سارا قصہ کہہ سنایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اب میں واپس نہیں جائوں گی۔ سفر کی تھکی ہوئی تھی جیسے ہی قدرے سکون میں آئی ماہ رو کو لے کر سوگئی۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کس وقت طاہر کا فون آیا اور انیقہ جو طاہر کی بے حد عزت کرتی تھی‘ ہادیہ کو لے کر اس سے تلخ کلامی کر بیٹھی۔ وہ اسے اپنے سگے بھائی کی طرح چاہتی تھی لیکن دوسری طرف اس کی وہ بہن تھی جو بچپن سے اب تک سوائے دکھ کے کچھ نہیں پاسکی تھی اس زندگی سے۔ اور اب اپنے ہی شریک زندگی نے اس کی ساری توقعات اور مان توڑ دیا تھا تو یہ تلخی اس کے لہجے میں کیوں نہ آتی۔ بہن تھی ناں‘ اسی ماں کی اولاد تھی جس کے وجود سے ہادیہ نے زندگی حاصل کی تھی۔
’’اب تم ہرگز نہیں جائوگی وہاں‘ بہت جھیل لیا تم نے…‘‘ انیقہ ہادیہ کو گلے سے لگائے رو رہی تھی۔ بار بار اس کے تن پر پہنے بے قیمت کپڑوں کو دیکھتی‘ کبھی اس کے بے رونق چہرے اور اجڑے بکھرے بالوں کو۔
’’انہوں نے تمہاری قدر نہیں کی ہادیہ… طاہر بھائی نے رول دیا تمہیں‘ انہیں کیوں یہ خیال نہیں آیا کہ تم ان کے لیے کیا قربان کرچکی ہو۔ ایک عزت دار گھرانے کو رسوا کرکے سب کو ٹھکرا کر تم نے ان کا دامن تھاما تھا‘ آخر کس لیے ایسا کیا تھا تم نے…؟ سکھ ہوتا‘ خوشیاں ملتیں تو کیوں ایسا کرتیں تم‘ ان کے پاس سکھ اور سکون کی تلاش میں گئی تھی ناں… انہوں نے بھی دکھ ہی دیا۔‘‘ انیقہ بے حد دکھی تھی اس کی حالت کو دیکھ کر۔
کچھ دن گزر گئے‘ امی کا فون آیا کہ طاہر بہت برا حال کیے بیٹھا ہے اپنا‘ پورا وجود زخم زخم کیے بیٹھا ہے‘ تم نہ آئیں تو زیادہ دن جی نہیں پائے گا۔ وقتاً فوقتاً طاہر کے دوستوں کے فون آنے لگے کہ بھابی واپس آجائیں‘ ہم گارنٹی دیتے ہیں طاہر آئندہ کچھ بھی نہیں کرے گا‘ اس بار تھوڑی سی گنجائش نکال لیں۔ ہادیہ بظاہر جتنی بھی مضبوط بن جاتی لیکن اندر ہی اندر طاہر کے لیے اس کی محبت نے اسے کچوکے لگانے شروع کردیے تھے۔ مجھے طاہر کے پاس چلے جانا چاہیے۔ اندر ہی اندر دل اپنے محبوب کے لیے ہمکنے لگا۔ غلطیاں کہاں نہیں ہوتیں‘ خطائیں کون نہیں کرتا‘ مجھ سے بھی غلطی ہوئی ہے مجھے طاہر کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے تھی‘ اندر ہی اندر اپنا احتساب کرنے کے بعد وہ فیصلہ پر پہنچ گئی تھی کہ وہ واپس طاہر کے پاس جائے گی۔ اسی رات سوتے میں انیقہ کے شوہر نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی کوشش کی‘ وہ سب چھت پر سو رہے تھے ہادیہ نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں یعنی وہ جاگ رہا تھا اور جان بوجھ کر اس پر بری نظر ڈالی تھی۔ ہادیہ نے ماہ رو کو اٹھایا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے کمرے میں چلی گئی۔ دروازے کو اندر سے کنڈی لگا کر باقی ساری رات اس نے جاگ کر گزاری اور اگلے دن صبح صبح انیقہ کو سب کہہ سنایا۔ انیقہ ہک دک سی اس کی بات سن کر اندر گئی اور شوہر کے سر پر قرآن پاک رکھ دیا۔
’’مجھے سچ سچ بتائیں جو کچھ ہادیہ کہہ رہی ہے کیا وہ سچ ہے‘ کیا آپ نے اس پر بری نظر ڈالی۔‘‘ اس کا دل اندر سے رو رہا تھا۔
’’مجھے پتہ نہیں چلا میں نیند میں تھا انیقہ‘ شاید میں سمجھا کہ تم ہو‘ ہادیہ تو میرے ذہن میں بھی نہیں تھی۔‘‘ اس کی بات پر انیقہ نے سو فیصد یقین کرلیا تھا اور ہادیہ کی غلط فہمی دور کرنے کی بھی پور ی کوشش کی تھی لیکن ہادیہ بے وقوف یا پاگل نہیں تھی‘ اس نے اس کی کھلی ہوئی آنکھیں دیکھی تھیں۔ وہ اپنی بیوی کو جھوٹ بول کر بہلاسکتا تھا مگر ہادیہ کو نہیں… اور اسی شام اس نے فیصلہ کرلیا۔
’’نکی… میں کل واپس جارہی ہوں طاہر کے پاس۔‘‘ ہادیہ کے لہجے میں محسوس کی جانے والی سختی تھی۔
’’ہادی‘ تم نے ابھی تک دل میں اسی بات کی گرہ رکھی ہوئی ہے یقین کرو علی ابھی تک شرمسار ہیں کہ پتہ نہیں تم نے ان کے بارے میں کیا سوچا ہوگا۔ جبکہ وہ تو ایسا کچھ بھی سوچ نہیں سکتے‘ نیند میں وہ تمہیں انیقہ سمجھ بیٹھے۔‘‘ انیقہ صفائی پیش کررہی تھی۔
’’مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ہے نکی‘ لیکن ایک بات میں نے اچھی طرح سمجھ لی ہے کہ عورت کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے‘ طاہر مجھے ڈانٹیں‘ ماریں لیکن ان کا نام ہی معاشرے میں میری عزت کی ضمانت ہے۔‘‘ ہادیہ نے سر جھکا کر کہا۔ وہ اسے یہ نہ کہہ سکی کہ شوہر سے دور رہ کر خود پر بری نظر ڈلوانے سے کہیں بہتر ہے کہ اس کے گھر میں رہ کر اس کے جوتے کھالیے جائیں۔ یوں بھی جب شادی ہوجاتی ہے تو عورت کو خودداری‘ انا‘ خود آگاہی اور عزت نفس کے پاٹ بھول جانا چاہیے۔ اسی میں اس کی عافیت ہوتی ہے۔ اس نے خود کو بہت اچھی طرح باور کروالیا تھا اور اگلی صبح سامان کے نام پر جو چند پرانے جوڑے اس کے پاس تھے سمیٹے اور واپسی کے لیے عازم سفر ہوگئی۔ واپسی پر درواز کھلا ملا تھا‘ گھر کا بھی اور شوہر کے دل کا بھی۔ اس نے تمام رنجشیں اور شکوے بھلا کر اسے خود میں سمیٹ لیا اور ہادیہ کو ایسا لگا تھا جیسے جلتی ہوئی آگ پر کسی نے شبنم کے قطرے ڈال دیے یا پھر کڑی دھوپ کی تمازت میں طویل آبلہ پائی کا سفر طے کرکے اچانک سائبان مل گیا۔ اس کے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے ہادیہ نے دل ہی دل میں خود کو یقین دلایا کہ اس کی گمشدہ جنت یہیں ہے۔ اسے اپنی خوشیاں یہیں تلاشنی ہوں گی۔
ڑ…r…‘
دو دن گزرے تھے کہ انیقہ کی کال آگئی اور اس کال نے ہادیہ کے ہوش وحواس معطل کردیے۔ انیقہ کی رشتے کی نند انہی دنوں ان کے گھر پر تھی جن دنوں ہادیہ وہاں تھی ہادیہ کے آنے کے دو دن بعد اچانک ان کو یاد آیا کہ ان کی سونے کی چوڑی گم ہوئی ہے اور حساب کروانے پر ہادیہ کا نام نکلا ہے۔ اپنی ہی بہن کے اجنبی اور مشکوک لہجے پر ہادیہ کا دل خون ہوگیا۔ کسی نے الزام لگایا تھا اور انیقہ نے یقین بھی کرلیا تھا۔ اس سے بڑھ کر اور اذیت کیا ہوسکتی تھی۔
’’مجھے افسوس ہے ہادی کہ اب میں تم سے کوئی رابطہ نہیں رکھ سکوں گی۔ کیونکہ میرے سسرال والے ہی ایسا نہیں چاہیں گے اور ظاہر سی بات ہے میں نے پوری زندگی یہیں اسی گھر میں گزارنی ہے ناں تو مجھے ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔ مجھے معاف کردینا۔‘‘ ہادیہ کو سپورٹ کرنے کی بجائے وہ بھی اس قطار میں جاکھڑی ہوئی تھی جن کے ہاتھوں میں پتھر تھے اور ہادیہ کی لہولہان روح کا دم گھوٹنے کے لیے یہ احساس ہی کافی تھا۔ اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی۔
’’واہ میرے مالک… اس سے بڑھ کر برا اور کچھ نہیں ہوسکتا… کبھی بھی نہیں۔ یہ آخری کڑی تھی اس دنیا کے ساتھ تعلق کی زنجیر کی اور وہ بھی ٹوٹ گئی‘ مجھے خود کو یقین دلانا ہے کہ میرا کوئی بھی نہیں ہے میں اکیلی ہوں اور اکیلے ہی زندگی کا یہ سفر طے کرنا ہے۔‘‘ آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرکے وہ ایک عزم سے اٹھی تھی۔
’’لوگ کہتے ہیں وقت بہترین استاد ہے اور میں کہتی ہوں کہ غربت ایک ایسا مدرسہ ہے جہاں سے آپ رویوں کو پڑھنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔‘‘
ڑ…r…‘
نت نئی جگہوں پر ملازمتیں کرتے‘ ادھر سے ادھر دھکے کھاتے دن ہفتوں اور مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بیتتے چلے گئے۔ وقت اور حالات نے جہاں طاہر کے اندر تلخیاں ہی تلخیاں بھردی تھیں وہیں ہادیہ کی سہنے کی طاقت اور برداشت کو بھی ختم کردیا تھا۔ وہ اپنا علاقہ اپنے لوگ چھوڑ کر بلوچستان کے ایک دور افتادہ علاقے میں آبسے تھے ایک ہی ادارے میں دونوں ملازمت کررہے تھے۔ گھر کے حالات بھی کسی حد تک بہتر ہوچکے تھے۔ ان گزرے سالوں نے اس کی گود میں ایک اور پھول کھلا دیا تھا اور بابا کا سایہ بھی چھن گیا تھا۔ امی البتہ پہلے ہی کی طرح اس کے بچوں کا دھیان کرتی تھیں۔ اور بابا کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنے چھوٹے بیٹے کے ہمراہ اسی کے پاس آگئی تھیں۔ ہادیہ کا گھر‘ گھر نہیں تھا ایک چھوٹا سا مہمان خانہ تھا‘ جس میں اس کے ہمراہ چند اور ٹیچرز بھی رہتی تھیں اور اسی گھر میں اس کے اسٹوڈنٹس کا بھی باقاعدہ آنا جانا تھا۔
وقت اور حالات نے اس کے اندر محبت اور شفقت کا ایک دریا سا موجزن کردیا تھا۔ اپنے طلبہ وطالبات سے بے انتہا خصوصی لگائو رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ ہمہ وقت ان کی مدد کو تیار رہتی۔ اس کے گھر کے دروازے ہر پل کھلے رہتے اپنے بچوں کے لیے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک استاد حقیقی معنوں میں اس وقت استاد بنتا ہے جب وہ تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے اخلاق وکردار کی تربیت بھی کرتا ہے۔ ان کی رہنمائی بھی کرتا ہے اور اس حوالے سے کوئی کچھ بھی سوچتا رہے وہ اس کی چنداں پروا نہیں کرتی تھی۔ رشتوں سے محرومی اور دوری نے اسے اتنا زودرنج بنادیا تھا کہ وہ اپنے اردگرد بسنے والے ان لوگوں میں رشتے تلاش کرنے لگتی تھی جن سے اس کا کوئی خاص ربط بھی نہ تھا۔ اس کے اسٹوڈنٹ اسے استاد کم اور ماں زیادہ سمجھنے لگے تھے۔ اس کی کولیگز جن کے لیے وہ محض ان کی ہم منصب نہیں تھی ایک بڑی بہن کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ کبھی پلٹ کر اپنے ماضی کو دیکھتی تو سب کچھ ایک خواب کی طرح لگتا تھا۔ اس نے کیسے گھرانے میں آنکھیں کھولیں‘ اس کی ماں کتنی مہربان اور درد مند خاتون تھیں‘ اس نے کتنی ٹھوکریں کھائیں اپنوں کے دیئے کتنے زخم سہے پھر بھی مسکراتی رہی‘ ماضی کا خار اس کی روح میں ایسے چھید کرنے لگتا کہ وہ تڑپ جاتی۔
اسے خبر ملی تھی‘ عارف علی اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا‘ مرتے سمے کسمپرسی کی حالت تھی اس کی‘ بے انتہا تنہائی اور مایوسی کے عالم میں وہ اس دنیا سے گیا تھا۔ محلے کے چند لوگوں سے بعد میں پتہ چلا وہ رات کے اندھیرے میں رویا کرتا تھا اور ماہین کو پکارتا تھا۔
’’مینا تم کہاں ہو… دیکھو مجھے کوئی پانی کا نہیں پوچھتا‘ کسی کو میرا کوئی خیال نہیں ہوتا‘ میں بہت اکیلا ہوں‘ بہت تنہا‘ میں جینا نہیں چاہتا۔‘‘ اور ایسے ہی ایک دن اس کا دل بند ہوگیا تھا۔ ایک تاریک باب کی طرح بند ہوکر مٹی میں دفن ہوگیا تھا وہ۔
پھر اسے پتہ چلا تایا ابو بھی دنیا سے چلے گئے‘ اس رات وہ بلک بلک کر روئی تھی۔ اسے پوری دنیا سے الگ ہوجانے‘ ہر رشتے سے بچھڑ جانے پر اتنا صدمہ نہیں ہوا تھا جتنا تایا ابو کے دنیا سے جانے کا۔ اس انسان نے ان لمحوں میں اس کا ہاتھ تھاما تھا جب سگے باپ نے بھی پروا کرنی چھوڑ دی تھی۔ اپنا آرام وسکون تج کر وہ ہادیہ کے قدم سے قدم ملا کر چلتا رہا تھا۔ وہ اپنے تایا ابو کی مہربانیاں اور ان کے ساتھ کو کبھی بھی نہیں بھول سکتی تھی۔ اس دن اسے لگا اب اس کی پشت پر کسی کا ہاتھ نہیں ہے‘ اس کے لیے دعا کرنے والا اب کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ یہ باقی رشتے تو دنیا کی سجاوٹ تھے‘ بس سامنے آگئے تو مسکرا کر بات کرلی‘ ورنہ کبھی یاد کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی‘ ان رشتوں پر کیسا مان‘ کیسا بھروسہ…؟
ڑ…r…‘
’’مس کیا میں آپ کا نمبر مانگ سکتا ہوں۔‘‘ بے انتہا نرم اور دھیمی آواز پر ہادیہ نے سر اٹھا کر دیکھا‘ سیونتھ اسٹینڈرڈ کا حماد خان اس کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔
’’کیوں نہیں بیٹا… لائیے کاغذ میں لکھ دیتی ہوں۔‘‘ ہادیہ نے اس کے پیپر کلیپر پر موجود پیج پر اپنا نمبر لکھ دیا۔
’’بی کیئرفل بیٹا‘ میرا نمبر دھیان سے سنبھال کر رکھیے گا‘ کسی کو بھی میری پرمشن کے بغیر نہ دیجیے گا۔‘‘
’’ان شاء اللہ مس‘ کسی کو نہیں دوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ ہادیہ کا نمبر بہت کم بچوں کے پاس تھا۔ صرف وہی بچے جو اس کے گھر آتے تھے اور دل سے اسے اپنی ماں کی جگہ رکھتے تھے۔ حماد خان بھی ان بچوں میں شامل تھا۔ انتہائی لائق‘ ذہین‘ خاموش طبع اور سلجھا ہوا بچہ‘ جو خودبخود ٹیچر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالیتے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسا ہی بچہ تھا۔ کبھی کسی کو اس سے کوئی شکایت نہ تھی نہ کلاس فیلوز سے لڑائی جھگڑا نہ کام میں کوتاہی‘ وہ ہر روز گھر آنے لگا‘ ہادیہ کے بچوں کا پیارا سا بھیا بن گیا۔ گھر کے ایک فرد کی حیثیت اختیار کرنے لگا۔ ہادیہ فارغ اوقات میں پڑھائی میں اس کی مدد کرتی اور وہ بھی کچھ دیر پڑھ کر کچھ دیر بچوں کے ساتھ کھیل کود کر اپنے گھر چلا جاتا۔ وہ اس قدر معصوم اور دل موہنے والا بچہ تھا۔ دھیرے دھیرے ہادیہ کے دل میں اس کے لیے بے پناہ ممتا اور شفقت بھرتی چلی گئی۔ وہ ایک روایتی پٹھان گھرانے کا فرد تھا اور بہن بھائیوں میں سب سے بڑا۔ وہی محبت جو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں میں بانٹتا تھا‘ اسی کا کچھ حصہ ہادیہ کے بچوں کے لیے بھی مخصوص ہوگیا۔ اس نے ہادیہ کو ٹیچر کہنا چھوڑ دیا امی جان کہنے لگا اور ہادیہ کو بھی اس سے ایسا ہی والہانہ پیار محسوس ہونے لگا جیسے وہ اس کی اپنی اولاد ہی ہو‘ لیکن وہ بے خبر یہ نہ جان سکی کہ اس کے اردگرد رہنے والے سب لوگ اور اس کے بہت قریبی لوگ بھی اس کے اس والہانہ پیار کو جانے کس نظر سے دیکھ رہے تھے۔
ان دنوں طاہر کو کسی بات پر شدید غصہ آیا اور اس نے پہلی بار ہادیہ پر ہاتھ اٹھایا۔ ہادیہ بس حیرت وصدمے کے مارے گنگ ہوگئی۔ وہ تو کبھی توقع بھی نہیں کرسکتی تھی کہ طاہر اس پر ہاتھ اٹھائے گا۔ جب کبھی کوئی اسے کہتا طاہر بھائی بہت سخت مزاج اور غصے والے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیشہ مسکرا کر کہا کرتی تھی۔
’’یہی تو ان کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔ مجھے ان کا تلخ لہجہ بھی پسند ہے مگر وہ روایتی شوہر نہیں ہیں آج تک انہوں نے بدکلامی کی نہ ہی مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔‘‘ جن لوگوں کے سامنے وہ بڑے دھڑلے سے یہ سب کہا کرتی تھی ان لوگوں نے اس رات اس کی چیخ وپکار سن لی تھی ‘ اس کا مان‘ بھروسہ‘ یقین‘ اعتبار‘ توقعات ہر چیز اپنی موت آپ مر گئے تھے۔
اس سے پہلے بھی دوبار طاہر شکیل اسے گھر اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا اور پھر کچھ دن بعد لوٹ آیا تھا۔ مگر اس بار اس نے ہادیہ کو جیتے جی ختم کردیا تھا‘ ہادیہ کو شادی کی پہلی رات یاد آگئی‘ جب طاہر کی ڈھیروں ہدایت کے جواب میں اس نے محض اتنا کہا تھا۔
’’مجھے آپ کا کہا ہر ہر لفظ قبول ہے آپ جو چاہیں گے میں ویسا کروں گی‘ بدلے میں آپ سے صرف اتنا چاہوں گی کہ مجھے کبھی کسی کے سامنے برا بھلا نہ کہیے گا اور مجھ پر ہاتھ نہ اٹھائیے گا۔ عورت پر ہاتھ اٹھانے والے مرد بہت بزدل ہوتے ہیں۔ عورت پر ہاتھ اٹھانا‘ ریت کی دیوار پر ہاتھ اٹھانا ایک مثل ہے… اتنا یاد رکھیے گا‘ جس دن آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا‘ اس دن کے بعد میں آپ کے گھر میں نہیں رہوں گی‘ میں گھر چھوڑ کر جانے کا نہیں کہہ رہی ہاں میں ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہوں گی۔‘‘ اور طاہر نے اس کی بات مکمل ہوتے ہی اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا۔
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا ہادی‘ کبھی بھی نہیں‘ میں آپ پر ہاتھ اٹھائوں یہ ممکن ہی نہیں۔ آپ اپنی زندگی میں اب تک جتنی تکلیف سہہ چکی ہیں میرے بس میں ہو تو میں ان تکالیف کا عکس بھی آپ کی ذات پر سے مٹادوں۔ کجا کہ میں خود آپ کو اذیت دوں۔‘‘ اور آج اسی نے اس کے پندار کے پرخچے اڑادیئے تھے۔ اگلے دن اپنے دکھتے وجود کو ایک بار پھر اکٹھا کرکے مسکراتے ہوئے اس نے اسکول میں قدم رکھا تو اس کی کولیگز کی آنکھوں میں اس کے لیے آنسو تھے لیکن وہ تو پتھر بن چکی تھی۔ آنسو آنکھوں کی پتلیوں میں برف کی طرح جم گئے تھے سب کی سنتی رہی‘ مگر کچھ نہیں بولی اور بولنے کو اس کے پاس تھا بھی کیا۔ اپنی بے وقعتی کا ماتم تو اس کی روح اس کے وجود کے اندر بپا رکھتی تھی۔ اندر اتنا واویلا تھا کہ باہر کی صدائیں کچھ کہتی ہی نہیں تھیں۔ روٹین کے مطابق پیریڈ لیتی رہی‘ پیریڈ ختم ہونے پر کلاس سے باہر نکلی تو حماد خان اپنی سیٹ سے اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔
’’امی جان… آپ کے چہرے اور بازو پر یہ چوٹوں کے نشان کیسے ہیں؟‘‘
’’کچھ نہیں بیٹا… وہ تم نے دیکھا تو ہے جہاں پانی کا نل لگا ہوا ہے وہاں اردگرد اکثر کیچڑ ہوجاتا ہے۔ رات پانی بھرتے پھسل کر گر گئی‘ پاس پڑی اینٹ کا کنارہ چہرے پر لگ گیا‘ کچھ خاص چوٹ نہیں ہے ٹھیک ہوجائے گی‘ تم کلاس میں جائو سر امان آرہے ہیں پیریڈ لینے کے لیے۔‘‘ جھوٹی سچی کہانی گھڑ کر بچے کو مطمئن کرکے وہ وہاں سے اسٹاف روم میں چلی آئی اور یہ اس کی خام خیالی ہی تھی کہ وہ اپنے بچے کو مطمئن کرچکی ہے کیونکہ دن بدن حماد خان کی بڑھتی ہوئی محبت اور اس کا احساس اسے باور کرارہا تھا کہ وہ بچہ اس کے لیے اپنے دل میں بے انتہا احساس رکھتا ہے۔ انہی دنوں طاہر اپنے کسی کام سے اپنے دوست کے پاس راولپنڈی چلا گیا۔ اسے جانے کے لیے کچھ رقم کی ضرورت تھی ہادیہ نے پاس رکھے سارے پیسے اٹھا کر اسے دے دیے بعد میں گھر کے خرچ کے لیے تنگی ہوگئی‘ اس شام حماد خان خاصی دیر تک بچوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔
’’امی جان… کافی دیر ہوگئی ہے پھر لائٹ بھی چلی جائے گی‘ آپ نے بچوں کے لیے کھانا نہیں پکایا؟‘‘
’’ارے بیٹا جی… پک جائے گا کھانا بھی‘ کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘ ہادیہ نے اسے ٹال کر خود کو کسی اور کام میں مصروف ظاہر کرنے لگی تو حماد خان‘ چپکے سے باورچی خانے میں چلا آیا اور یہاں آکر اس پر کھلا کہ گھر میں پکانے والی کوئی چیز تھی ہی نہیں‘ اسے بے حد تکلیف ہوئی‘ آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اسی خاموشی سے وہ گھر سے باہر چلا گیا۔
’’ماہ رو… بیٹا بھیا کہاں ہے؟‘‘ ہادیہ نے برآمدے میں بیٹھی ماہ رو سے پوچھا۔
’’وہ تو چلے گئے ماما۔‘‘
’’ہیں… نہ سلام دعا کی نہ مل کر گیا‘ کمال کے بچے ہیں آج کل کے بھی۔‘‘ وہ سر جھٹک کر دوبارہ اپنے کام میں لگ گئی۔
’’ماما… مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘ شازم اس کے پاس آگیا۔ وہ بھوک کا بہت کچا تھا۔ چھوٹا بھی تھا۔
’’او ماما کی جان… بس ابھی پکاتی ہوں۔‘‘ ہادیہ کہہ کر کچن میں آگئی لیکن بے حد فکرمند تھی کیونکہ گھر میں کچھ بھی نہیں تھا اور وہ کتنی دیر تک بچوں کو بہلا سکتی تھی ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ کھٹکا ہوا‘ اس نے سر اٹھا کر دیکھا کچن کے دروازے پر کھڑا حماد خان دکھائی دیا‘ کندھے پر آٹے کا تھیلا‘ ہاتھ میں گھی اور سبزیوں‘ دودھ کے پیکٹ کا شاپر پکڑے‘ ہادیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’میں آپ سے کوئی بات نہیں کروں گا امی جان۔ میں ناراض ہوں آپ سے۔‘‘ سامان کچن میں رکھ کر وہ پلٹ گیا۔
’’کیوں بیٹا… مجھ سے ناراض کیوں؟‘‘
’’سر طاہر آپ کو یہاں چھوڑ کر گئے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ ہم سب مل کر آپ کا خیال رکھ لیں گے لیکن آپ اپنی کوئی پریشانی ہمیں نہیں بتاتی ہیں۔ آج ہم سب کھانا کھا لیتے اور یہاں میری ماں اور میری چھوٹی سی بہن اور بھائی بھوکے رہ جاتے۔ تو کیا ہم خود کو معاف کرسکتے تھے‘ آپ نے بہت غلط کیا امی جان آپ نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم سب آپ کے کچھ نہیں لگتے۔ منہ بولے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔‘‘ وہ سر جھکائے بولے گیا۔
’’ارے… ارے بس کرو‘ کیا بولے جارہے ہو بیٹا… ایسا کچھ بھی نہیں ہے میں بس یہ سوچ کر چپ تھی کہ کیا کروں‘ تم تو خود بچے ہو اپنی ہر ضرورت کے لیے والدین پر انحصار کرنے والے‘ میں تمہیں یہ سب کہہ کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی میرا بچہ…‘‘ ہادیہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’مجھے پتہ تھا تمہیں علم ہوگا تو تم جہاں سے بھی ہو کھانے کا کوئی نہ کوئی بندوبست ضرور کرتے اور میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔‘‘
’’اگر آپ مجھ پر بھروسہ کرکے یہ کہتیں ناں امی جان کہ حماد بیٹا گھر میں آج کچھ بھی نہیں ہے اپنی ماں اور ان ننھے بھائی بہن کے کھانے کا انتظام آج تمہارے ذمے ہے تو یقین کریں مجھے زیادہ خوشی ہوتی اور آئندہ میں آپ سے پوچھوں گا نہیں خود باورچی خانے میں آکر دیکھ لیا کروں گا۔ بس بات ختم۔‘‘ اس کے لہجے میں بھی بھی شکایت تھی لیکن ہادیہ نے بالآخر اسے منا ہی لیا۔ اس رات حماد کھانا بھی ان کے ساتھ کھا کر اپنے گھر گیا‘ کبھی کبھی جب وہ زیادہ دیر تک بیٹھا رہتا تو ہادیہ اسے گھرکتی۔
’’حماد… اب اٹھو بیٹا اپنے گھر جائو‘ تمہاری ماں تمہاری راہ دیکھ رہی ہوگی۔‘‘ تو وہ مسکرا دیتا۔
’’میری ماں کے میرے علاوہ پانچ بیٹے‘ دو بیٹیاں ہیں امی جان… میری راہ دیکھنے کی اس کے پاس فرصت نہیں ہوتی یوں بھی مجھے اس گھر سے زیادہ آپ سب کے درمیان زیادہ سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اس کے جواب پر وہ خاموش ہوجاتی۔ وہ ہادیہ کو زیادہ دیر خاموش نہیں رہنے دیتا تھا۔ اوٹ پٹانگ باتیں کرکے اسے ہنساتا رہتا‘ وہ کوئی کام کررہی ہوتی تو بھاگ کر اس کا ہاتھ بٹانے کو آجاتا‘ ہادیہ ہنستی رہتی۔
’’تمہیں تو بیٹی ہونا چاہیے تھا حماد‘ بھولے سے لڑکا بن گئے تم۔‘‘
’’ارے امی جان… تھری کلاس سے میں اپنا یونیفارم خود دھوتا اور پریس کرتا آرہا ہوں اور اپنے سب سے چھوٹے بہن بھائی کو تو پالاہی میں نے ہے۔ تبھی تو میں آپ سے کہتا ہوں میں صرف آپ کا بیٹا نہیں بیٹی بھی ہوں اور سہیلی بھی ہوں‘ یہ جو آپ کی آنکھوں میں ایک اداسی ہے ناں‘ یہ ختم کرنے کے لیے اللہ نے مجھے آپ کی زندگی میں بھیجا ہے‘ آپ اپنا ہر دکھ مجھ سے کہا کریں کچھ بھی سوچ کر اپنے دل پر بوجھ مت ڈالا کریں۔ میں ہوں ناں آپ کا بیٹا بھی ہوں‘ سہیلی بھی‘ بہن بھی اور بھائی بھی۔‘‘
’’اتنی ہمہ گیر شخصیت چھپی ہے تمہارے اس ننھے سے وجود میں۔‘‘ ہادیہ مسکرا دیتی وہ اتنا بڑا نہیں تھا مگر بے حد سمجھدار اور حساس بچہ تھا۔ معاملات کو سمجھنا اور پریشانیوں کو مل جل کر حل کرنے میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک دو بار ہادیہ اکیلے بینک تک گئی تو اسے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی۔
’’امی جان آپ نے کہیں بھی جانا ہو مجھے انفارم کردیا کریں میں خود آپ کے ساتھ جائوں گا۔ یہ علاقہ ایسا نہیں ہے کہ یہاں عورتیں کھلے عام آئیں جائیں۔ اس لیے احتیاط لازم ہے۔‘‘ اور ہادیہ نے اس کے ہمراہ آنا جانا شروع کردیا وہ کہیں بھی جاتی‘ طاہر کو بتادیتی کہ حماد میرے ساتھ جارہا ہے اور طاہر کو کبھی بھی اعتراض نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ مطمئن ہوجاتا کہ چلو ہادیہ اکیلی تو نہیں جارہی کم از کم۔
طاہر کی گھر واپسی کے بعد بھی حماد کی روٹین وہی تھی وہ کافی دیر تک بیٹھا رہتا باتیں کرتا رہتا‘ بچوں کے ساتھ کھیلتا رہتا‘ نماز کا بے حد پابند تھا وہ اور ہادیہ کو اس کے لیے جائے نماز بچھانا بہت اچھا لگتا تھا۔ اذان ہوتے ہی وہ بس اتنا کہتا۔
’’امی جان… جائے نماز۔‘‘ اور ہادیہ اس کے لیے جائے نماز بچھا دیتی۔ گزرتے دن کے ساتھ ساتھ طاہر کو حماد کی آمد تھوڑی ناگوار گزرنے لگی لیکن وہ ہادیہ کو منع نہیں کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہادیہ اسے اپنے بچوں کی طرح چاہتی ہے۔ اس لیے محض ہادیہ کی خُوشی کی خاطر وہ اپنی ناگواری کو چھپائے رکھتا۔
اسے واپس آئے کچھ دن ہی گزرے تھے کہ اسکول انتظامیہ کے ساتھ کسی بات پر طاہر کی تلخی ہوگئی۔ طاہر اپنی جگہ بالکل ٹھیک موقف رکھتا تھا لیکن پرنسپل صاحب کو اس کی بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اس تلخی کا نتیجہ نوکری ختم ہونے کی صورت میں نکلا۔ طاہر نے خود تو جاب چھوڑی ہی‘ اپنے دیگر ان کولیگز کو بھی جاب چھوڑنے کا کہہ دیا جو اس کے گھر میں مقیم تھے ظاہر ہے ہادیہ نے بھی جاب چھوڑ دی۔ اس طرح بیک وقت پانچ افراد ملازمت چھوڑ کر گھر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ اپنا نہیں تھا نہ یہ لوگ اپنے تھے‘ گھر تک ادارے کی طرف سے ملا ہوا تھا‘ پرنسپل کے ساتھ بے حد اچھے تعلقات یک دم اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ اس نے گھر چھوڑنے کا الٹی میٹم دینے کے ساتھ ساتھ ساٹھ ہزار قرض کا فوری مطالبہ کردیا جو طاہر نے اپنے کام کے سلسلے میں لے رکھا تھا۔ ایک طرف آمدنی کا ذریعہ ختم ہوگیا۔ گھر بھی چند دن میں خالی کرنا تھا اور اتنا بڑا قرض کیسے ادا ہوگا‘ ہادیہ کی پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی عقل کام نہیں کررہی تھی کہ اچانک اتنے بڑے مسائل کو کس طرح حل کیا جائے۔ سب سے پہلے ضرورت تھی مناسب نوکری کی‘ ہادیہ کی بھرپور کوشش سے اسے اور اس کی ساتھی کو ایک اسکول میں ملازمت مل گئی۔ اگرچہ بعد میں اسے پتہ چلا کہ اس پرنسپل نے اس اسکول کی انتظامیہ تک رسائی حاصل کرکے ان لوگوں کو دھمکایا بھی تھا کہ ہادیہ اور اس کی ساتھی کو اسکول سے نکال دیں لیکن وہ خاتون خاصی عمرہ رسیدہ اور نیک دل تھیں انہوں نے کسی دھمکی پر کان نہیں دھرے اور اس طرح ہادیہ کے گھر کا چولہا کسی نہ کسی طور جلنے لگا۔ اب دوسرا بڑا مسئلہ قرض کا تھا‘ اس دن وہ فکرمند بیٹھی تھی جب حماد چلا آیا۔
’’کیا بات ہے امی جان؟ آپ بہت پریشان نظر آرہی ہیں خیر تو ہے ناں سر طاہر نے تو کچھ نہیں کہا۔‘‘
’’نہیں کسی نے بھی کچھ نہیں کہا بیٹا مگر مجھے قرض کی فکر ہے یہ پرنسپل نے محض چند دن کا وقت دیا ہے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کیسے ممکن ہوگا۔‘‘
’’امی جان میرے ذہن میں ایک حل ہے اب یہ علم نہیں کہ آپ کو مناسب لگتاہے کہ نہیں۔‘‘ حماد نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’کیا…؟‘‘ ہادیہ عدم دلچسپی سے بولی جانتی تھی ایک بچہ بھلا اس کی پریشانی کا کیا حل کرسکتا ہے‘ بس اس کا دل رکھنے کو اس کی بات سن رہی تھی۔
’’امی جان… پچھلے دنوں میرے ایک رشتے دار مجھے یہیں قریبی شہر ایک شخص سے ملانے لے گئے جو ذہین بچوں کو گڈ کوالٹی ایجوکیشن کے لیے مالی مدد دیتا ہے‘ اس نے مجھے چالیس ہزار روپے دینے کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔ اگر آپ راضی ہوں تو میرے ساتھ وہاں چلیں‘ میں وہ پیسے نہیں لوں گا بلکہ اس سے لے کر آپ کو دے دوں گا۔‘‘ حماد کے لہجے میں خلوص اور فکر کا رنگ گھلا ہوا تھا۔ ایک چھوٹے سے بچے کے اندر اتنی بڑی قربانی کا جذبہ ہادیہ کی پلکیں نم کرگیا۔
’’نہیں بیٹا… وہ تو تمہارا حق ہے میں جانتی ہوں تمہارے والد ایک سفید پوش انسان ہیں وہ پیسے تم اپنی پڑھائی پر خرچ کرو تم ایک محنتی بچے ہو تمہیں آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔‘‘
’’امی جان… میں ان پیسوں کو لے کر فی الحال کیا کروں گا‘ ابھی مجھے اس رقم کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی آپ کو ہے اور میں آپ کا بیٹا ہوں‘ وہ رقم میں خرچ کروں یا آپ‘ بات تو ایک ہی ہے ناں۔ بس مجھے نہیں پتہ آپ سر طاہر سے بات کرکے انہیں منائیں پھر میں آپ کو وہاں لے جائوں گا۔‘‘
ایک بچے کے اصرار پر ہادیہ جو اس وقت بے تحاشہ پریشانی سے گزر رہی تھی مان گئی اور کسی نہ کسی طرح اس نے طاہر کو بھی منالیا اور ایک صبح حماد کے ساتھ وہ قریبی شہر کے لیے روانہ ہوگئی۔ ایک وسیع وعریض گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو گھر کی خواتین نے خوش اخلاقی سے خیر مقدم کیا۔ ملک عاصم اس علاقے کا ملک تھا بے حد دولت مند‘ مسلم ٹائون کا ایک جانا مانا ہوا شخص‘ وہ گھر پر نہیں تھا۔ اس کے گھر والوں نے اپنی طرف سے پوری مہمان نوازی کی۔ ہادیہ نے ملک عاصم کی بہن کے سامنے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا تو اس نے تسلی دی کہ شام تک بھائی گھر آجائے گا تب آپ ان سے بات کرلیجیے گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ آپ کی مدد کریں گے۔ پورا دن گزر گیا شام ہوگئی۔ ملک عاصم کو جانے کس نے فون کرکے الٹا سیدھا بتایا کہ اس نے گھر والوں کو فون کرکے کہا کہ جو مہمان آئے ہوئے ہیں ان سے کہو وہ چلے جائیں‘ گھر کی خواتین خود بھی خاصی شرمندہ تھیں لیکن ظاہر ہے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ مغرب کی اذانیں ہورہی تھیں جب حماد ہادیہ کو لے کر اس گھر سے نکلا۔ اس وقت کوئی گاڑی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
’’حماد… بچے ہم لوگ اس وقت کہاں جائیں گے۔ یہاں تو کوئی بھی ہمارا جاننے والا نہیں ہے اور شہر سے باہر کی طرف سے گاڑیاں بھی نہیں گزرتیں۔‘‘ ہادیہ کے لہجے میں محسوس کی جانے والی پریشانی تھی۔
’’امی جان… آپ پریشان نہ ہوں میں کچھ کرتا ہوں۔‘‘ حماد خود بھی محسوس کررہا تھا کہ وہ ایک بڑی پریشانی میں گھر گئے تھے۔ اسی اثنا میں اسے اپنے پیچھے بہت ہلکی رفتار سے ایک لینڈ کروزر آتی دکھائی دی۔
’’امی جان… پیچھے مڑ کر مت دیکھیے گا‘ مجھے لگتا ہے ملک عاصم کے لوگ ہمارا پیچھا کررہے ہیں۔‘‘
’’ہمارا پیچھا کررہے ہیں…! مگر کیوں بچے…؟‘‘ ہادیہ مزید گھبرا گئی۔
’’امی جان… یہ وقت گھبرانے کا نہیں ہے۔ ہمت سے کام لیں میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘‘ حماد ہادیہ کا ہاتھ تھام کر تیز تیز قدموں سے آگے بڑھتا جارہا تھا۔ دور سے کچھ روشنیاں دکھائی دیں تو ان کے قدموں میں تیزی آگئی۔
’’لگتا ہے کوئی ہوٹل یا سرائے ہے۔ وہاں پہنچ کر کچھ سوچتے ہیں۔‘‘ حماد کے کہنے پر ہادیہ بھی تیز قدم اٹھانے لگی۔ مسلسل چلنے کی وجہ سے پیروں میں بے تحاشا درد ہورہا تھا اور پاؤں میں آبلے بن گئے تھے۔
’’مجھ سے اب نہیں چلا جارہا۔‘‘ ہادیہ کراہ کر بولی۔
’’بس تھوڑا دور اور… امی جان پلیز حوصلہ رکھیں کچھ نہیں ہوگا۔ میرے ذہن میں ایک حل آرہا ہے ہم اپنے علاقے کے ملک کو فون کردیتے ہیں ان کا ضرور یہاں کوئی جاننے والا ہوگا‘ اس بے وقت کی مصیبت سے ہمیں نکالنے کی کوئی نہ کوئی سبیل کرلیں گے وہ۔‘‘ روشنیوں کے قریب آتے ہی بڑا سا ہوٹل دکھائی دیا۔ ہادیہ باہر لگے درخت کے نیچے پتھر پر بیٹھ گئی۔ وہ لینڈ کروزر بھی کچھ فاصلے پر رک گئی تھی۔
خوش قسمتی سے حماد کے سیل فون میں تھوڑا سا چارج ابھی باقی تھا اور اپنے علاقے کے ملک کا نمبر بھی۔ اس نے کال کرکے بے حد مہذب الفاظ سے اپنے ملک کو بتایا کہ وہ اس وقت کس پریشانی میں ہے۔
’’سر… میں اکیلا ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی میرے ساتھ ایک فی میل ہیں میری ٹیچر اور مجھے خود سے زیادہ ان کی فکر ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے بچے تم پریشان نہیں ہو میں ابھی وہیں سے کسی کو بھجواتا ہوں وہ تم لوگوں کو بحفاظت گھر تک پہنچا دے گا۔‘‘ ملک فیاض نے بات کرکے کال کاٹ دی۔
’’امی جان… میری بات ہوگئی ہے آپ فکر نہیں کریں ابھی کچھ نہ کچھ بندوبست ہوجائے گا۔‘‘ حماد خاصا پرامید تھا اور ٹھیک ہی تھا کیونکہ محض پانچ منٹ بعد ہی ملک فیاض کی کال آگئی تھی۔
’’کچھ دیر تک سفید ٹوڈی ہوٹل کے بالکل سامنے آجائے گی بزرگ سے آدمی ہیں حاجی صاحب۔ انہیں اپنا تعارف کرا دینا‘ وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ان شاء اللہ تم لوگ ان کے ساتھ سکون سے واپس آجائوگے۔‘‘
’’جی سر۔‘‘ حماد نے فون بند کردیا۔
’’امی جان… اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ ابھی کچھ دیر میں ملک صاحب کا آدمی ہمیں یہاں سے لے جائے گا۔‘‘ حماد کے کہنے پر ہادیہ نے سکون کا سانس لیا ورنہ سیل فون کی بیٹری ڈیڈ ہونے کے بعد سے وہ طاہر کی طرف سے بھی بے حد فکرمند تھی اور اب حماد کا سیل فون بھی بند ہوگیا تھا۔
وائٹ ٹوڈی روڈ کے دوسرے کنارے پر آرکی تھی۔ حماد جاکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص سے بات کرکے آگیا۔
’’امی جان آجائیں… وہی ہیں۔‘‘ ہادیہ نے جلدی جلدی گاڑی کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ ہادیہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی اور حماد بیٹھ رہا تھا جب اچانک لینڈ کروزر سے تین چار گن بردار مسٹنڈے باہر نکل کر تیزی سے آگے بڑھے‘ وہ پشتو میں گالیاں دیتے ہوئے حماد کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی سے باہر گھسیٹ رہے تھے۔ حاجی صاحب اور ہادیہ کے چلانے کی پروا کیے بنا انہوں نے حماد کو دونوں بازوئوں سے پکڑا اور زبردستی کھینچتے ہوئے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔ یہ سب کچھ اس قدر آناً فاناً ہوا تھا کہ ہادیہ کے حواس مختل ہوگئے۔ حاجی صاحب نے پوری رفتار سے گاڑی آگے بڑھا دی۔ ہادیہ چند ثانیے کے لیے تو جیسے حواس باختہ سی تھی پھر ایک دم جیسے ہوش میں آگئی۔
’’آپ کہاں جارہے ہیں…؟‘‘
’’تمہیں تمہارے گھر پہنچانے‘ جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔‘‘ وہ بہت مشاقی سے سامنے دیکھتے ہوئے پوری رفتار سے گاڑی بھگا رہا تھا۔
’’لیکن میں اپنے بچے کو لیے بنا یہاں سے نہیں جائوں گی‘ کسی صورت نہیں۔ آپ گاڑی واپس موڑے پلیز…‘‘
’’تم… تم پاگل تو نہیں ہوگئیں۔‘‘ حاجی صاحب کو اس کی عقل پر شبہ ہوا۔
’’جو بھی ہو سر میں حماد کو اپنے ساتھ لے کر جائوں گی۔ پلیز آپ گاڑی واپس موڑیں مجھے گھر نہیں جانا۔‘‘
’’تم واقعی پاگل ہو‘ دیکھو وہ لڑکا پٹھان ہے یہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑیں گے لیکن اتنا یاد رکھنا اگر تم ان کے ہاتھ لگ گئی تو شاید پھر کبھی تمہارے گھر والے تمہارا پتہ نہ پاسکیں۔ تمہارے ٹکڑے کرکے رکھ دیں گے یہ لوگ‘ بے وقوف مت بنو۔‘‘
’’نہیں سر… میں اس بچے کو یہاں لانے کی ذمہ دار ہوں میں اگر چلی گئی تو اس کے ماں باپ کو کیا جواب دوں گی۔ اس وقت ان حالات میں‘ میں اسے کسی صورت اکیلا چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں تمہارے کہنے پر واپس موڑ رہا ہوں گاڑی‘ اب جو بھی نتیجہ ہو اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی اور دوسری بات میں تمہیں ملک کے دفتر نہیں تھانے ڈراپ کردوں گا‘ آگے کے مسائل تم جانو‘ پولیس جانے اور وہ ملک عاصم جانے۔‘‘ حاجی سخت کبیدہ خاطر تھا‘ ہادیہ کی ضد کی وجہ سے‘ لیکن ہادیہ جانتی تھی کہ حماد ہر مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا تھا آج اس پر مشکل وقت آیا تو وہ کس طرح اپنا دامن بچا کر بھاگ نکلتی۔ بچے والدین کی حفاظت نہیں کرتے‘ والدین کا فرض ہوا کرتا ہے مشکل اور پریشانی میں اپنے بچوں کو تحفظ دلانا۔
حاجی اسے تھانے ڈراپ کرکے چلاگیا۔ تھانیدار خاصا سلجھا ہوا انسان لگ رہا تھا‘ اس نے ہادیہ سے جو بھی سوال کیے‘ ہادیہ نے سچ سچ سب کچھ بتادیا۔ تھانیدار نے ملک عاصم کو فون کرکے حماد کے صحیح سلامت ہونے کی تصدیق بھی کرلی اور ملک عاصم کے کہنے پر اپنی پولیس موبائل میں ہادیہ کو ملک عاصم کے آفس میں لے گیا‘ جہاں وہ حماد سے پوچھ گچھ کرچکے تھے بعد میں ہادیہ سے بھی وہی سوال کیے گئے ان کی یہاں آمد کا اصل مقصد پوچھا گیا تو ہادیہ نے بھی وہ بتایا جو حماد بتاچکا تھا۔ کیونکہ یہی سچ تھا‘ وہ اپنی پریشانی لے کر ملک کے پاس آئے تھے اس سے قرض یا پھر مالی امداد کے لیے‘ اس کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ ملک عاصم نے اسی دورانیے میں ہادیہ کے اسکول کے پرنسپل اور حماد کے والد اور اس کی فیملی کے کچھ بااثر لوگوں کو بھی بلالیا تھا تاکہ معاملے کی مزید جانچ پڑتال کی جاسکے۔ پریشانی میں اٹھایا گیا ایک بے سوچا سمجھا قدم ہادیہ کو آج ایک ایسے دوراہے پر لے آیا تھا جس پر ایک طرف حماد اپنے خاندان بھر میں بداعتمادی اور بے اعتباری جھیلنے کے لیے کھڑا تھا تو دوسری طرف ہادیہ کی ایک طویل عرصے کی کمائی ہوئی عزت دائو پر لگ گئی تھی۔ ملک عاصم نے بذات خود اس سے معافی مانگی تھی۔
’’آپ کا اس طرح آکر بے مقصد پور ادن ہمارے گھر میں گزارنا‘ اور پھر پیدل ہی یہاں سے روانگی نے ہمیں شک میں ڈال دیا۔ مزید شک کو تقویت اس وقت ملی جب آپ ہمارے ایک اینٹی گروپ کے بندے حاجی کی گاڑی میں جابیٹھے تو ہم نے یہی سمجھا کہ سب کچھ پلان کیا ہوا تھا۔ اب یہ محض اتفاقات تھے جو اس معاملے کو اس نہج تک لے آئے۔ ہم سب آپ سے معذرت خواہ ہیں تھانیدار نے اپنے فون سے ہادیہ کی بات طاہر سے بھی کرا دی اور ہادیہ نے اسے تسلی دے دی کہ اب حالات بہتر ہیں۔ رات کے دوسرے پہر پرنسپل حماد اور اس کے والد کو اس کے گھر پر اور ہادیہ کو اس کے گھر پر ڈراپ کرکے گئے۔ مسلسل گریہ اور آہ وزرای نے ہادیہ کی حالت بری کردی تھی۔ اس کے باوجود اس نے گھر آکر الف سے ی تک ساری بات طاہر کو کہہ سنائی لیکن اگلے دن کا سورج حماد کے لیے بے پناہ پابندیاں لے کر آیا تھا اور ہادیہ کے لیے بہت سی رسوائیاں۔ حماد کے والدین نے اس کے اسکول جانے پر پابندی لگادی تھی اور گھر سے نکلنے پر بھی اور دوسری طرف پرنسپل صاحب نے آتے ہی پورے علاقے میں یہ مشہور کردیا کہ ہادیہ اسکول کے ایک بچے کو یونیفارم میں دوسرے شہر لے کر گئی اور اس کا قرض اتارنے کے لیے اسکول کے نام پر چندہ اکٹھا کرتی رہی۔ لوگوں سے بھیک اور خیرات مانگتی رہی۔ ہادیہ کی زندگی کا بدترین دور تھا یہ… گھر بدر کردیئے جانے کے بعد طاہر نے ہادیہ سے کہا کہ کسی بھی طرح مجھے اپنے علاقے میں جاکر پیسوں کا بندوبست کرکے آنا ہوگا۔ یہاں اگر ہم اسی طرح بیٹھے رہے تو دی گئی مہلت ختم ہوجائے گی اور پرنسپل کو مزید ہماری توہین کرنے کا موقع ہاتھ لگ جائے گا اور ہادیہ نے طاہر کو بخوشی جانے کی اجازت دے دی۔ صبح بچوں کو گھر میں بند کرکے وہ اور اس کی ساتھی مائرہ اپنی جاب پر چلی جاتیں‘ ہر طرح کی کوشش کے باوجود وہ کچھ بھی نہیں کرپارہی تھی اور مہلت کے دن گزرتے جارہے تھے۔ ایک دن انیقہ سے فون پر حال احوال ہوگیا‘ اس نے معذرت کرلی کہ میں نے سب کے کہنے میں آکر تم سے اس طرح بات کی مجھے معاف کردو اور ہادیہ کا دل تو تھاہی روئی کے گالوں سا نرم اور انیقہ کے لیے تو اس کے دل میں بے حد گنجائش تھی اور وجہ وہی مہربان ممتا بھری آنکھیں تھیں جو آخری لمحوں میں بس اس کی طرف امید سے دیکھتی رہی تھیں۔ بے شک ان آنکھوں کی جوت بجھے ایک طویل عرصہ گزر گیا تھا مگر وہ آج بھی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ اس کے دل کے نہاں خانوں میں جگمگارہی تھیں۔ ان آنکھوں کی امید کبھی نہ ٹوٹے‘ بس یہ سوچ کر وہ انیقہ کو کبھی بھی کوئی دکھ نہیں دے سکتی تھی‘ ورنہ اسے انیقہ سے شکایتیں تھیں‘ وہ سامان جو ہادیہ کے مانگنے پر انیقہ کو نہیں مل سکتا تھا کہ سب چچا چچیاں اس سامان کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے وہ سب کچھ ہادیہ نے انیقہ کے گھر میں استعمال ہوتے ہوئے دیکھا تھا پھر بھی اس لیے خاموش رہی تھی کہ چلو کوئی غیر تو نہیں ہے ناں میں استعمال کروں یا میری بہن بات تو ایک ہی ہے۔ اب بھی اس کی معذرت پر ہادیہ نے کھلے دل سے نہ صرف اسے معاف کردیا تھا بلکہ پھر سے تعلق بھی استوار کرلیا۔ انیقہ سے ہی پتہ چلا تھا کہ گل ماموں پاکستان آئے ہوئے ہیں‘ امید ایک دم سے جی اٹھی تھی۔ دوبار ماں… ماں… پکارو تو ایک ماما (ماموں) بنتا ہے‘ میں اپنا دکھ اپنا درد ان کو کیوں نہ کہوں جو میرے اپنے ہیں‘ میں جن کا خون ہوں‘ پوری زندگی میں کی گئی ایک خطا تو اللہ بھی بخش دیتا ہے۔ انسان تو پھر انسان ہیں‘ اسے یاد آیا شازم کی دفعہ وہ بہت بیمار رہی تھی بچہ بھی کمزور تھا تو لیڈی ڈاکٹر نے اسے سیزرین لکھ کردیا۔ ان دنوں بھی غربت پوری طرح آن وارد ہوئی تھی بڑی مشکلوں سے اسے بڑی امی کا فون نمبر ملا‘ طاہر سے چھپ کر اس نے بڑی امی کو فون کیا تھا۔
’’بڑی امی… میں بہت بیمار ہوں‘ ڈاکٹر نے بڑا آپریشن لکھ دیا ہے‘ کہیں سے کوئی امید بھی نہیں ہے‘ اس لیے آپ سے کہہ رہی ہوں اگر ہوسکے تو میری کچھ مدد کردیجیے۔‘‘ شادی کے چھ سال بعد پہلی بار اپنی ماں کی ماں کے سامنے ہادیہ نے ہاتھ پھیلائے تھے سوچا ہوگا ماں ہوتی تو کبھی رد نہ کرتی‘ کبھی دست سوال خالی نہ لوٹاتی تو یہ تو ماں کی ماں ہیں ناں‘ بہت سنا ہے اصل سے سود پیارا ہوتا ہے مگر وہ بھول گئی تھی کہ یتیم اور بے آسرا لوگوں کے لیے ساری کسوٹیوں کا‘ محاوروں کا معنی بدل جایا کرتا ہے‘ ایئر پیس سے آتی آواز اس بات کا ثبوت تھی۔
’’بیٹا… جب سے تمہارے ماموئوں کی شادیاں ہوئیں تب سے انہوں نے مجھے خرچہ دینا تک بند کردیا ہے‘ میں تو خود پائی پائی کے لیے دوسروں کا منہ دیکھتی ہوں میرا بچہ‘ اگر میرے پاس ہوتے تو پیسے کیا تم سے اچھے تھے۔‘‘ اور اسی طرح کی چند باتیں کرکے بڑی امی نے فون بند کردیا تھا‘ حالانکہ انیقہ کے ذریعے اسے خبر ملی تھی کہ لالہ آنٹی کے گھر کی تعمیر کے سلسلے میں بڑی امی نے لاکھوں روپوں سے ان کی چھپ چھپاتے مدد کی تھی۔
اب پھر وہ ایسے مقام پر کھڑی تھی جہاں ہر امید کا در بند ہوچکا تھا۔ اس نے پھر اسی دروازے کو کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا جس دروازے پر اس کی ماں ماہین کو بڑا یقین تھا بڑا مان تھا۔ اس نے چند الفاظ میں میسج ٹائپ کرکے گل ماموں کو سینڈ کردیا اور بے تابی سے ان کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔ امید واثق تھی کہ گل ماموں اس کے مسئلے کو نہ صرف سمجھیں گے بلکہ اس کی مدد بھی ضرور کریں گے۔ دن بھر بے تابی سے انتظار کرنے کے بعد آخر شام کو ان کا میسج آہی گیا۔ اس نے بے تابی سے میسج اوپن کیا۔
’’اپنوں کے سروں کو خاک آلودہ کرکے انہیں اپنی موت مار کر چلے جانے کے بعد دوبارہ کس امید پر یہ سب لکھ بھیجا‘ جب فیصلہ کیا ہے تو پھر خود داری اور خودی کو سلامت رکھ کر اسے جھیلو بھی۔‘‘ لفظ تھے یا تیزاب کے چھینٹے جنہوں نے اس کی روح کو جھلسا کر رکھ دیا تھا۔
’’میری ماں… آکے دیکھ ناں… تیری بے اماں بیٹی کس حال میں ہے۔ بہت پیارے تھے ناں یہ سب لوگ تجھے‘ ان کی خوشیوں کی خاطر تو ہمیں بھی بھول جاتی تھی‘ راتوں کو عبادتیں کرکر کے تو نے اپنے ان رشتوں کے لیے کتنے سکھ مانگے تھے رب سے‘ آکے دیکھ تو سہی تیرے یہ سب پیارے تیرے وجود کے ایک حصے پر کس طرح نشتر زنی کرتے ہیں۔ کس طرح اس کی پہلے سے زخمی روح کو مزید چھلنی چھلنی کرتے ہیں۔ میری ماں… تو چلی گئی تھی تو مجھے بھی ساتھ لیتی جاتی‘ کیوں چھوڑ دیا اس بے حس دنیا میں خوار ہونے کے لیے۔ کیوں‘ کیوں؟ رات بھر بلک بلک کر روتی رہی تھی وہ… کتنے دن اس کے حواس ہی ٹھکانے پر نہیں آئے تھے۔ یہ اپنے ہیں… یہ رشتے ہیں۔ ایسے رشتوں سے بہتر تو یہ ہے کہ انسان کسی یتیم خانے میں ہی پل کر بڑا ہوجائے۔ کم سے کم کوئی امید کوئی توقع تو نہ بیدار ہوگی ناں اس کے دل ودماغ میں۔ خدائے بزرگ وبرتر کا وجود نہ ہوتا تو شاید یہ انسان ایک دوسرے کو چبا کر نگل ہی ڈالتے۔ برا وقت آتا ضرور ہے اور بہت کچھ سکھاتا بھی ہے اور ایک مخصوص دورانیے کے بعد آخرکار چلا بھی جاتا ہے‘ ہادیہ کو بھی ایک دو مہربان خواتین نے بروقت مدد کرکے مزید ذلت وخواری سے بچا لیا تھا۔ پرنسپل کا قرض چکانے کے بعد اسے ایک بہتر جگہ ملازمت مل گئی اور ایک بار پھر اس کے گھر کے حالات نے بہتری کی طرف کروٹ لینی شروع کی۔ اس سارے اذیت ناک دورانیے میں حماد کی زندگی میں بھی خاصی تبدیلیاں آئیں اسے پشاور ایک ریزیڈنشل کالج میں داخل کروا دیا گیا جہاں اس نے اپنی سیونتھ کلاس پاس کرلی۔ اس کے بعد اس نے اسکالر شپ کا ایگزام دیا جس میں کوالیفائی کرلینے کے بعد وہ ایک بے حد مشہور اور بہترین ادارے میں زیر تعلیم ہوگیا لیکن اس نے کسی قدم پر ہادیہ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اسی طرح فون کرکے وہ ماہ رو اور شازم کا‘ ہادیہ اور طاہر کا احوال پوچھتا رہتا۔ حالانکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طاہر کے دل میں اس کے لیے ناگواری بڑھتی جارہی تھی ایک بار اس نے ہادیہ کے سیل فون میں میسج دیکھ لیا جو اس نے اپنی پرانی دوست مائرہ کو کیا تھا‘ اس سے پہلے والے میسج میں حماد سے متعلق بات چیت ہورہی تھی تو ہادیہ نے ٹیکسٹ کیا تھا۔
’’ہاں مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ اگر حماد نہ ہوتا تو یہاں زندگی میں کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔‘‘
اس سے پہلے کیا بات کی گئی تھی اس کی طرف طاہر کا دھیان نہیں گیا تھا اسے تو اس ایک جملے نے سر سے پائوں تک زہریلا کردیا‘ کہ آخر حماد میں ایسا کیا ہے‘ کہ اگر وہ نہیں تو زندگی ختم ہوجائے گی۔
ہادیہ جواز دیتی رہ گئی کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا میرا مقصد تو یہ تھا کہ اس شہر میں پھر ہمیں وقت گزارنے کی کیا ضرورت‘ جہاں چاروں طرف صرف اور صرف دشمن تھے اس شہر میں خیر خواہوں کے نام پر چند بچے تھے اور ان بچوں میں ہادیہ کو سب سے پیارا حماد تھا۔ وہی حماد جو اس کے لیے اتنی اذیت سہہ چکا تھا‘ وہی حماد جو اتنی کم عمر میں محض اس کی وجہ سے ہاسٹل کے دھکے کھا رہا تھا‘ اپنے والدین‘ اپنے گھر والوں اور پیاروں سے دور ہوگیا تھا۔ اس کا ساتھ دینے کی سزا ہی تو ملی تھی اسے… پھر وہ کیوں نہ اسے چاہتی… وہ اس کے کلیجے کا وہ ٹکڑا بن گیا تھا جسے کاٹ کر الگ تو کردیا گیا تھا لیکن جو اس سے دور ہوکر بھی اس کے لیے ہمکتا تھا۔ اور جس جگہ سے اسے کاٹ کر الگ کیا گیا تھا وہ حصہ اب بھی رستا تھا۔ درد سے کرلاتا تھا۔ یہ منہ بولا رشتہ خون کے رشتوں سے زیادہ قیمتی تھا ہادیہ کے لیے۔
ایک بار پھر اس کے ان الفاظ نے گھر بھر میں ہنگامے کی فضا طاری کردی تھی۔ طاہر شکیل نیند کی گولیاں کھا کر عجیب عجیب حرکتیں کرتا پھر رہا تھا‘ دو دن سے گھر کی فضا مکدر تھی‘ ایک بار تو اس نے کال کرکے امی کو ہادیہ کی چیخ وپکار سنوائی اسی طرح انیقہ کو بھی۔ بری طرح اس کا گلا گھونٹا‘ مغلظات بکیں‘ بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں ہادیہ اندر ہی اندر بری طرح خائف تھی۔ ایک بار پھر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ بچوں کو لے کر گھر سے چلی گئی۔ اپنی پرانی دوست مائرہ کے ہاں چند دن گزارنے کے بعد وہ انیقہ کے گھر چلی گئی‘ طاہر شکیل بھی جب ہوش میں آیا تو وہ بھی گھر کو تالا لگا کر پنجاب چلا گیا‘ ایک ماہ کے بعد اس نے ہادیہ سے رابطہ کیا‘ اپنے کیے پر شرمندگی کا اظہار کیا اور ہادیہ کو واپس آنے پر اصرار کیا‘ انیقہ نے اسے سمجھایا کہ ہر بار تم ذلیل ہوتی ہو اور پھر سب کچھ بھول کر طاہر بھائی کے پاس چلی جاتی ہو۔ اب آخری بار طاہر بھائی سے ہم تمہاری صلح کروائیں گے اس کے بعد دوبارہ کبھی بھی تمہارے معاملات میں نہیں بولیں گے۔‘‘ ہادیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ انہی دنوں ہادیہ نے جہاں اپلائی کیا ہوا تھا وہاں سے اس کی کال بھی آگئی۔ بلوچستان کے ایک نسبتاً سلجھے ہوئے علاقے میں اسے اچھی تنخواہ پر ملازمت مل گئی تھی۔ انیقہ نے طاہر شکیل کو گھر پر بلالیا۔ تمام گلے شکوے‘ شکایات سن کر دونوں کو ہی سمجھایا بجھایا گیا اور ایک بار پھر نئی امید کے ساتھ ہادیہ طاہر کے ہمراہ وہاں آگئی جہاں اسے اپنی ملازمت شروع کرنی تھی۔ ایک ڈیڑھ سال سکون سے گزر گیا۔ طاہر کی اپنی مصروفیات تھیں۔ رات دیر تک انٹرنیٹ پر بیٹھنا اور دن بھر سوئے رہنا۔ ہادیہ اسکول سے دو یا تین بجے گھر آتی اور آتے ہی گھر کے کاموں میں لگ جاتی۔ گھر کے کام نمٹاتی تو بچوں کو لے کر پڑھانے بیٹھ جاتی۔ اس قدر تھکا دینے والی روٹین میں طاہر کے لیے پھر شکوے کی گنجائش نکل آتی تھی کہ وہ اسے پراپر وقت نہیں دیتی اور جب پاس بیٹھتی ہے تو اتنی بیزار ہوتی ہے کہ سوائے کوفت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
وہ کہہ نہ پائی کہ ایک انسان کے وجود میں جتنی گنجائش ہوتی ہے میں اس سے تین گنا زیادہ اس وجود سے کام لیتی ہوں تو ظاہر ہے اس نے تھکنا تو ہے ناں۔
اس کی ہر ضرورت کا دھیان رکھنے کے باوجود وہ خوش نہیں ہوتا تھا۔ وہ خود بے روزگار تھا‘ اندر ہی اندر یہ احساس کہ میں گھر میں ہوتا ہوں اور ہادیہ کام کرتی ہے اسے عجیب سے احساس سے دوچار کرنے لگا تھا۔ ہادیہ اکثر بازار سے تمام سودا سلف بھی لے کر آتی‘ بچوں کے ساتھ طاہر کے کپڑے جوتے ضرورت کا سامان بھی خرید کر لاتی‘ لیکن کہیں بھی اس کے دل کے کسی گوشے میں یہ احساس نہیں تھا کہ وہ طاہر پر یا کسی پر احسان کررہی ہے۔ یہ اس کا گھر تھا‘ اس گھر میں اس کا شریک زندگی تھا‘ وہی شریک زندگی جس کے ساتھ سکھ کی زندگی جینے کے اس نے خواب دیکھے تھے۔ جس کی محبت ایک ایسی خوش رنگ تتلی تھی جس کا پیچھا کرتے کرتے وہ یہاں تک آن پہنچی تھی‘ اس گھر میں اس کے بچے تھے‘ اس کے وجود کے دو اہم حصے‘ جن کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے وہ ہمہ وقت تیار رہتی تھی لیکن طاہر شکیل اندر ہی اندر گھٹن کا شکار ہوتا جارہا تھا‘ ہادیہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو وہ بہت محسوس کرتا تھا‘ اسے لگتا ہادیہ اندر ہی اندر خود کو اس سے کہیں برتر سمجھنے لگی ہے۔ وہ جان بوجھ کر اس کی نفی کرتی ہے‘ اس کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتی‘ ہادیہ کی ترجیحات بدل چکی ہیں اب اسے طاہر کی کوئی پروا نہیں رہی وہ بس اپنی نوکری گھر بار اور بچوں میں مگن اور خوش ہے۔ جبکہ ایسا ہرگز بھی نہیں تھا۔ ہادیہ جان بوجھ کر کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرتی تھی جس سے طاہر کے پندار نفس کو ٹھیس پہنچے‘ وہ کبھی بھی اسے دکھ دینے کی کوشش نہیں کرتی تھی لیکن پھر بھی اس سے کوئی نہ کوئی خطا ایسی سرزد ہوجاتی جو اسے طاہر کی نظروں میں مجرم بنا کر رکھ دیتی۔ کبھی طاہر کی نیند خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر وہ سیل فون اٹھا کر باہر چلی جاتی اور کسی سے بات کررہی ہوتی تو طاہر کو لگتا کہ یہ جان بوجھ کر باہر جاکر باتیں کرتی ہے میرے سامنے بات کرنا اسے پسند نہیں۔
اس روز بھی اس کی کولیگ ساجدہ اس کے پاس آئی کہ چوکیدار کی امی نے بتایا ہے یہاں کچھ فاصلے پر محلے میں ایک عورت نے کپڑوں کی دکان کھول رکھی ہے آپ میرے ساتھ چلیں بچوں کے کپڑے لے کر آتے ہیں۔ اس نے طاہر سے پوچھا جو دن بھر سونے کے بعد اسی وقت اٹھا تھا۔
’’وہ ساجدہ کہہ رہی ہے یہاں سے کچھ دور ایک عورت نے محلے میں اپنے گھر میں دکان کھولی ہے‘ چوکیدار لالا کی امی بھی جارہی ہیں ہمارے ساتھ کیا میں چلی جائوں۔‘‘
’’ہاں… مجھے کھانے کے لیے کچھ دے دیں اور آپ بے شک چلی جائیں۔‘‘
طاہر کا موڈ ٹھیک ہی لگ رہا تھا۔ اسے کھانا دے کر بچوں کو سمجھا بجھا کر وہ ساجدہ اور خالہ کے ہمراہ اس عورت کے گھر چلی گئی۔ وہاں طاہر اور بچوں کے لیے کپڑے خریدنے کے بعد اب وہ بیٹھی دیکھ رہی تھی ساجدہ اور ہر سوٹ پر کئی کئی منٹ بحث مباحثہ کررہی تھیں اسی میں مغرب کی اذان ہونے لگی اور ساتھ ہی طاہر کے میسج آنے شروع ہوگئے۔
’’کہاں ہو… اتنی دیر کہاں لگادی؟‘‘ اسے تو اس جگہ کے راستوں کا علم بھی نہیں تھا وہ کیا بتاتی بس یہی کہا۔
’’ساجدہ اور خالہ ابھی خریداری کررہی ہیں۔‘‘
’’تو تم وہاں بیٹھی کیا کررہی ہو؟‘‘
’’یہ فری ہوتی ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ آتی ہوں زیادہ دیر نہیں لگے گی اب۔‘‘
’’یہ میری ڈھیل کا نتیجہ ہے جو آج تم اس وقت گھر سے باہر آوارہ گردی میں مصروف ہو۔ مجھے جگہ کا بتائو میں خود آتا ہوں۔‘‘ ہادیہ نے طاہر کا یہ میسج ساجدہ کو دکھایا اور اسے کہا کہ خدارا اب بس کرجائو۔ اٹھو بہت دیر ہوگئی ہے‘ طاہر بہت غصے میں ہیں یہ نہ ہو کہ اپنا غصہ بچوں پر اتارنے لگ جائیں۔ اس کی وجہ سے ساجدہ اور خالہ نے مزید خریداری پھر کبھی پر موقوف کردی اور واپس ہولیں۔ گھر آئی تو طاہر موجود نہیں تھا۔ بچوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پاپا بہت غصے میں باہر گئے ہیں۔ ہادیہ بے چاری کا وجود سن ہوکر رہ گیا۔ اس نے ساجدہ اور خالہ کو روک لیا۔
’’کہ آگ تم لوگوں نے لگائی ہے اب بجھا کر بھی تم ہی جانا۔ مجھ میں حوصلہ نہیں طاہر کا اتنا غصہ سہنے کا۔‘‘ تھوڑی دیر میں طاہر بھی گھر واپس آگیا۔ ساجدہ اور خالہ نے ہادیہ کی پوزیشن کلیئر کی۔
’’دیر ہماری وجہ سے ہوئی ہے یہ بے چاری تو بہت پہلے سے بار بار کہے جارہی تھی کہ دیر ہورہی ہے گھر چلو‘ مگر ہم ہی مصروف تھے ہم نے اس کا دھیان ہی نہیں کیا۔ آپ پلیز غصہ مت ہوں۔‘‘ تو طاہر نے نہایت پرسکون انداز میں جواب دیا۔
’’کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ بے فکر ہوجائیں دیر سویر تو ہوہی جاتی ہے یوں بھی انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ میری ناراضگی کی وجہ کیا ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے ہادیہ طاہر بھائی کا موڈ بہتر ہوگیا ہے اب یہ کچھ نہیں کہیں گے ہم بھی اب چلتے ہیں۔‘‘ ساجدہ ہادیہ کو تسلی دے کر اپنے گھر چلی گئی لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی‘ طاہر شکیل کا غصہ کا گراف ہر پل کے ساتھ بڑھ رہا تھا‘ اگرچہ اس نے ابھی تک کہا تو کچھ بھی نہیں تھا لیکن چہرے کے تاثرات اس قدر ڈرائونے تھے کہ ہادیہ کا دم خشک کرنے کے لیے کافی تھے ہادیہ کی لائی ہوئی چیزوں کو اس نے ایک نظر دیکھا تک نہیں تھا۔ رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا‘ الٹا تین چار نیند کی گولیاں کھا کر سوگیا تھا۔ ہادیہ کے ذہن میں تھا کہ صبح تک نارمل ہوجائیں گے لیکن جب وہ اسکول سے واپس آئی تو صبح کا ناشتہ بھی جوں کا توں رکھا تھا‘ ہادیہ کا ماتھا ٹھنکا کمرے میں داخل ہوئی تو بے تحاشا دھوئیں نے اس کا استقبال کیا۔
’’کھانا لائوں…‘‘
’’مجھے نیند کی گولیاں چاہئیں۔‘‘ کرخت پتھریلے لہجے میں کہی گئی اس بات نے ہادیہ کو مزید پریشان کردیا۔ یعنی ابھی ابتداء ہوچکی تھی اور جانے انتہا کب اور کیسی ہونی تھی۔ ہادیہ نے پیون سے نیند کی گولیوں کا ایک پتہ منگوا کر اس کے حوالے کردیا۔ گولیاں کھانے کے بعد بجائے نیند آنے کے وہ اس طرح چاق وچوبند دکھائی دینے لگا گویا بالکل فریش ہو۔ ہمیشہ کی طرح اسے بٹھا کر وہ اپنے پسندیدہ کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ یعنی اس کی ماضی کی چھوٹی چھوٹی لاپروائیوں‘ غلطیوں کو جن پر کئی بار وہ پہلے بھی اسے سنا چکا تھا‘ دہرانا شروع ہوچکا تھا‘ اور وہ بھی سر جھکا کر بیٹھ گئی یہ سب سننا ضروری ہوتا تھا۔ اس طرح طاہر شکیل اپنا کتھارسس کرکے مطمئن ہوجاتا تھا لیکن اگر کہیں کسی جگہ ہادیہ اپنی صفائی میں کچھ بولتی یا کہتی تو پھربات بہت بڑھ جاتی تھی۔
’’انیقہ‘ مائرہ اور حماد کو فون کرو‘ وہ تینوں مجھے صبح تک یہاں موجود چاہئیں۔‘‘
’’ان تینوں کا اس وقت یہاں کیا ذکر؟ اپنے اپنے گھر میں سکون سے ہیں وہ لوگ۔‘‘
’’ہاں اپنے اپنے گھر میں وہ سب بد ذات سکھ اور سکون سے ہیں لیکن ان کی وجہ سے میرے گھر کا سکون تباہ وبرباد ہے۔ تمہارے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں نا وہ اور تمہارا خیر خواہ میرا بدترین دشمن ہے۔ بلائو ان تینوں کو یہاں۔‘‘ اس کا موبائل بھی طاہر نے خود اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ جب ہادیہ کسی طرح نہ مانی تو طاہر نے انیقہ کو فون کردیا۔
’’تمہاری بہن اب میرے لیے ناقابل برداشت ہوچکی ہے کل تک یہاں پہنچو میں نے اس کا فیصلہ کرنا ہے۔‘‘
’’طاہر بھائی میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا لاسٹ ٹائم جب آپ کی صلح کروائی تھی کہ آئندہ ہم آپ کے کسی معاملے میں نہیں آئیں گے‘ یہ آپ میاں بیوی کا نجی معاملہ ہے‘ جس طرح چاہیں اسے حل کریں۔‘‘ انیقہ نے جواب دے کر فون بند کردیا۔
’’نجی معاملہ؟ اگر یہ نجی معاملہ ہوتا ہے تو یہ تیل لینے آتے ہیں ہمارے معاملات میں اس وقت یہ نجی معاملہ نہیں تھا جب فون پر تمہاری اس کمینی بہن نے میرے ساتھ بدکلامی کی تھی۔ اس وقت تو بڑے دھڑلے سے بکواس کی تھی کہ مجھے پتہ ہے مرد ذات کس حد تک گرسکتا ہے اسے اچھی طرح پتہ نہیں ہے کہ مرد ذات کس حد تک گر سکتا ہے؟ اگر اپنی سلامتی چاہتی ہو تو اسے کہو آجائو‘ ورنہ گھر اور گھر میں موجود ہر چیز آج جل کر راکھ ہوگی‘ تمہارے بچوں سمیت۔‘‘ ہادیہ کی توقع کے مطابق طاہر کا غصہ آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اوراس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے‘ شام سے رات ہوگئی۔ اس دورانیے میں طاہر اپنے کمرے کا حلیہ بگاڑ چکا تھا۔ ہادیہ کی خاموشی اس کے غصے کو مزید بڑھا رہی تھی۔
’’ہر بات میں نافرمانی‘ ہر بات میں کم حیثیتی کا احساس دلانا‘ تم لوگوں نے میری ذات کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ مجھے دو کوڑی کا بنادیا‘ اب چپ ہو‘ بولتی کیوں نہیں؟‘‘
’’میں… میں کیا بولوں…‘‘ ہادیہ اندر ہی اندر لرز رہی تھی جانتی تھی طاہر کا اس قدر غصہ کسی بڑی ہی صورت پر برے ہی انجام پر اختتام پذیر ہوتا تھا۔ رات گیارہ بجے تک اس کا دماغ بالکل ہی آئوٹ ہوچکا تھا۔
’’مجھے مٹی کا تیل چاہیے ابھی اور اسی وقت‘ آج یہ گھر نہیں بچے گا‘ کچھ نہیں بچے گا۔ جائو کہیں سے بھی مٹی کا تیل لے کر آئو۔‘‘ ہادیہ گھر سے باہر کھڑی سوچ رہی تھی کس کو مدد کے لیے پکارے‘ کسے کہے کہ اس شخص کو کچھ دیر کے لیے کہیں اس ماحول سے دور لے جائے‘ تاکہ اس کا دماغ ٹھنڈا ہوجائے‘ اگر یہ مسلسل اسی طرح بے حواس رہا تو آج کچھ بھی نہیں بچے گا‘ سامنے اسکول کے پیون کا گھر تھا‘ وہ وہیں چلی گئی۔ ان کو جا کر سارا قصہ بتایا تو وہ بھلا مانس اس کے ساتھ چلا آیا۔
’’باجی… آپ گھر جائیں میں کچھ منٹ بعد آئوں گا۔ بھائی جان کو میں سنبھال لوں گا‘ آپ فکر نہیں کریں۔‘‘ ہادیہ گھر میں داخل ہوئی تو کچن کا سارا سامان الٹا پڑا تھا۔ لائونج کے پردے کو آگ لگی ہوئی تھی‘ اس نے پانی ڈال کر وہ آگ بجھائی تو طاہر نے آگے بڑھ کر بیڈ کی چادر کو آگ لگادی۔
’’آپ کیا کررہے ہیں… آخر کیا چاہتے ہیں…‘‘ ہادیہ گھٹی گھٹی آواز میں چیخ پڑی تھی۔
’’تباہی وبربادی… نیست ونابود کرنا چاہتاہوں سب کچھ‘ مجھے االہ کی اس زمین پر اپنے لیے کچھ بھی نہیں چاہیے اب رشتے نہ سہولتیں نہ سکھ اور آرام۔‘‘ اس نے چلا کر کہا‘ اتنی دیر میں پیون دروازہ بجا کر اندر داخل ہوا‘ طاہر کو پکڑ کر بٹھایا۔
’’بھائی جان… اتنا غصہ ٹھیک نہیں ہوتا‘ یہ سب کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘
’’یہ عورت میری نافرمان ہے‘ جس چیز سے منع کرتا ہوں وہی کام کرتی ہے۔ کسی کو بھی ایک بات دوبار‘ چار‘ دس بار بتائی جائے تو اس کی عقل میں آجاتی ہے لیکن اسے پچاس بار کی کہی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی‘ یا پھر جان بوجھ کر یہ مجھے رد کرتی ہے اس گھر میں میری کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں… نہیں بھائی جان… ایسا کچھ نہیں ہے میں تو اپنی بیوی کو باجی کی مثالیں دیا کرتا ہوں کہ دیکھو باجی کس طرح اپنے میاں کا دھیان رکھتی ہے‘ کسی بچے کی طرح آپ کو سنبھالتی ہے کبھی بھی شکوہ شکایت نہیں کی باجی نے۔‘‘
’’آپ نہیں جانتے‘ اپنے کولیگز میں بیٹھ کر یہ ہمیشہ میری برائی کرتی ہے اور خود کو معصوم و مظلوم ثابت کرتی ہے‘ ہر جگہ‘ ہر مقام پر میں برا اور یہ اچھی بن جاتی ہے‘ میرا رد عمل شدید ہوتا ہے‘ وہ سب کی نظروں میں آجاتا ہے لیکن کبھی کسی نے سوچا کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں‘ میں پاگل ہوں جو اچانک بیٹھے بیٹھے سکون کی زندگی گزارتے گزارتے میں اس طرح چلانے پر اتر آتا ہوں۔ یہ… یہ عورت میرا جینا حرام کردیتی ہے‘ میری اس حد تک نفی کردیتی ہے کہ میں چیخ اٹھتا ہوں۔‘‘ روتی ہوئی ہادیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ یہ سب کہہ رہا تھا۔ شدت جذبات سے اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔
’’بس… یہ قصہ ہی ختم ہوجانا چاہیے۔ میرے اندر کی اذیت‘ میرے اندر کا خلا کسی کو نہ دکھائی دے گا نہ کوئی اس کا درماں بن سکتا ہے اور مجھے اس اذیت سے نجات چاہیے۔‘‘
’’بھائی جان… آپ میرے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے باہر آجائیں‘ ذرا تازہ ہوا میں گھوم پھر کر آتے ہیں۔‘‘ پیون اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اٹھا کر باہر لے گیا۔ ہادیہ کو صرف اور صرف بچوں کی فکر تھی۔ وہ بچوں کو لے کر ساجدہ کے گھر چلی گئی۔ نیچے ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے ساجدہ بھی جاگ رہی تھی۔
’’بھائی کس لیے جھگڑا کررہے تھے ہادیہ۔‘‘
’’وہی کل جو تم لوگوں کے ساتھ محلے والی دکان پر گئی تھی اس بات پر۔‘‘
’’ہیں… مگر بھائی نے تو ہم سے کہا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہم بھی بے فکر ہوکر آگئے تھے۔ پھر یہ اتنا زیادہ ہنگامہ۔‘‘ ساجدہ حیران وپریشان تھی۔ ’’میڈم آپ کو بار بار فون کررہی تھی آپ نے نہیں اٹھایا تو مجھے فون کیا میں نے بتایا کہ شاید ان کا جھگڑا ہورہا ہے اٹھا پٹخ کی آوازیں آرہی ہیں ان کے گھر سے۔‘‘
’’پھر…‘‘ ہادیہ گھبرا گئی۔
’’پھر کچھ نہیں فون بند کردیا انہوں نے۔‘‘ ابھی ساجدہ کی بات مکمل ہوئی ہی تھی کہ نیچے بہت سے لوگوں کے ایک دم بولنے اور شور کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہادیہ مزید سہم گئی۔
’’لگتا ہے میڈ م آئی ہیں ایک منٹ میں کھڑکی سے دیکھتی ہوں۔‘‘ ساجدہ نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ نیچے کافی سارے لوگ کھڑے تھے۔ کالونی کے دیگر متعلقہ لوگ‘ پرنسپل اس کا شوہر اور اس کا بیٹا اور طاہر کو گھر کے اندر بند کیا ہوا تھا۔ وہ دروازہ بری طرح دھڑ دھڑا رہا تھا۔ ہادیہ کے دل میں بار بار آرہا تھا کہ میں نیچے جائوں لیکن طاہر کی ناگفتہ بہ حالت سے ڈر کر وہ وہیں دبکی رہی۔ گھر کی حالت دیکھنے کے بعد انتظامیہ نے پولیس کو بلا کر طاہر کو اس کے حوالے کردیا۔ ساتھ ہی ہادیہ کو الٹی میٹم دے دیاگیا کہ کل صبح تک فیصلہ کرلے اگر اس نے یہاں جاب کرنی ہے تو اسے اپنے شوہر کے خلاف درخواست دینی ہوگی اور اگر شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو کل اپنا سامان اٹھا کر یہاں سے چلی جائے۔ فوری طور پر ہادیہ کے لیے فیصلہ بہت مشکل تھا۔ وہ طاہر کو کسی صورت چھوڑ نہیں سکتی تھی لیکن حالات ایسے نازک موڑ پر آگئے تھے کہ کچھ وقت کے لیے اسے عقل سے کام لینا تھا۔ اس کے ذہن میں تھا کہ طاہر اگر پنجاب چلا جاتا ہے تو زیادہ بہتر ہے وہ جاکر وہاں گھر وغیرہ دیکھ لے اور معاملات سنبھال لے بعد میں وہ بھی اس کے پاس چلی جائے گی لیکن طاہر کو جب پولیس نے گاڑی میں بٹھا کر روانہ کیا تو وہ راستے میں اتر کر دوبارہ اسکول آگیا۔ چھٹی کا وقت تھا۔ ہادیہ بچوں کے ہمراہ گھر آچکی تھی۔ اسے پتہ بھی نہ چلا کہ طاہر کا اسکول کے سیکیورٹی گارڈز سے جھگڑا ہوا ہاتھا پائی ہوئی اور وہ پھر پولیس کے شکنجے میں چلا گیا اس بار پولیس نے اس کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا۔ بات عدالت تک پہنچ گئی۔ پندرہ سولہ دن جیل میں اس نے خود پر جو بھی جھیلا وہ اس کی روح کو مزید زخمی کر گیا۔ اس کے احساسات کو بے پناہ مجروح کر گیا اور براہ راست نہ سہی پھر بھی یہ سب اس کے ساتھ ہادیہ کی وجہ سے ہوا تھا‘ ہادیہ اندر ہی اندر بری طرح ٹوٹ رہی تھی۔ وہ اس سب کے لیے خود کو معاف نہیں کرسکتی تھی اور شاید طاہر بھی اسے کبھی معاف نہ کرتا‘ جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا‘ ہر رابطہ ہر تعلق جیسے مٹی کے ساتھ مٹی ہوگیا۔ محبت کے دعوے‘ محبت کے سارے خواب راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ جدائی اس طرح درمیان میں حائل ہوئی کہ ایک کو دوسرے کی خبر تک نہ رہی۔ طاہر کے ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے کی خبر سن کر کئی دن وہ چپکے چپکے آنسو بہاتی رہی لیکن اسے دیکھنے کے لیے اس کے پاس جانے کے لیے ہمت نہ کرپائی۔ بہت سے لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ خلع لے لو… محض نام کا یہ تعلق رکھنے کا کیا فائدہ ہے اور وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ طاہر بھی اس سے بری طرح بدگمان ہوچکا ہے۔ مگر وہ جانتی تھی اس کے دل پر تو آج بھی اسی بے مہر کا نام لکھا تھا‘ وہ شخص بہت پیارا بہت اپنا تھا اسے محبوب تھا وہ جو چاہتا تھا کرنہ پاتا تھا‘ یہ وقت اور حالات کی ستم ظریفی ہی تو تھی کہ وہ آج اس سے دور ہوچکا تھا اور اس بار صرف جسم کی دوری نہیں تھی اب ان دونوں کے درمیان دل ودماغ اور روحوں کی دوری بھی حائل ہوگئی تھی۔ غلط فہمیوں کی ایک ایسی خلیج درمیان میں آچکی تھی کہ اسے پاٹنا آسان نہیں رہا تھا اور ہادیہ کی ایک ہی منطق تھی اسے خلع نہیں لینی‘ خلع تو وہ عورت لے جسے کسی اور کو زندگی کے ساتھی کا درجہ دینا ہو… کسی اور شخص پر بھروسہ کرنا ہو اور ہادیہ ماہین کی بیٹی تھی‘ ایک ایسی عورت کی بیٹی جس نے اپنی زندگی اور اپنی ذات کا زیاں برداشت کرلیا تھا مگر اپنے کردار پر داغ لگوانا پسند نہیں کیا تھا۔ اپنی تکلیفوں اذیتوں‘ ادھورے خوابوں اور خواہشات کے ہمراہ منوں مٹی تلے جاسوئی تھی‘ تو کیا تھا اگر وہی زیاں ہادیہ کے حصے میں آیا تھا۔ تین سال ہوگئے تھے اسے طاہر سے جدا ہوئے‘ ان تین سالوں میں اس نے دنیا کے ہزاروں رنگ‘ لاکھوں ڈھنگ دیکھ لیے تھے‘ ان گزرے دنوں میں اس کے بچھڑے رشتوں کے ساتھ بھی رابطہ استوار ہوگیا تھا۔ وہی مادیت پرستی‘ خود شناسائی‘ وہی رشتوں کی تحقیر‘ اپنوں میں جاکر بھی ہادیہ کا دل بے سکون اور نامراد ہی رہا تھا۔
’’بہت خوشی ہوتی ہے ہادی… جب ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے اور انیقہ نے اپنے بل بوتے پر اپنی تعلیم مکمل کرلی اپنے گھر کو خود سنبھال لیا اپنے منہ سر والی ہو… مردوں کی طرح بہادر اور حالات کے آگے سینہ سپر…‘‘ اس کی خالائیں اس کی ممانیاں خوب مہنگے ملبوسات اور زیورات زیب تن کیے جب اس کی چند ہزار کی نوکری کو خراج تحسین پیش کرتیں تو اس کا اندر جل کر راکھ ہونے لگتا۔
’’کیا اگر یہی سب ان کی اپنی بیٹیوں کو سہنا پڑتا‘ برداشت کرنا پڑتا تو یہ ان کے لیے بھی ایسے ہی نادر کلمات کہتیں۔ بڑی امی شدید بیمار تھیں کئی دن سے انتہائی نگہداشت میں تھی۔ ڈاکٹرز کچھ خاص پرامید نہیں تھے لالہ آنٹی ان کے ساتھ ہسپتال میں ہی موجود تھیں‘ بہوئوں کو سیروتفریح اور اپنی آسائش کے سامنے اپنی بوڑھی ساس کا دکھ اور تکلیف دکھائی نہیں دے رہا تھا اور وہی شہباز جس نے کبھی اپنی بہن ماہین کے سامنے تابندہ کے رشتے کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ کسی ایسی لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کرنا چاہتا جو اس کی ماں کے سامنے بولے یا اس کی ماں اور بہنوں کو نظر انداز کرے آج وہی شہباز اپنے بیوی بچوں میں اس طرح کھو گیا تھا کہ اسے ماں کی یاد تک نہیں آتی تھی۔
’’امی جی کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو‘ پیسے کی بالکل فکر نہیں کرنا۔‘‘ فون پر یہی کہہ دیتا اور لالہ آنٹی یہ نہ کہہ سکیں کہ امی جی کو آپ کے پیسوں کی نہیں آپ کی ضرورت ہے۔ آج جب وہ موت کی دہلیز پر ہیں چند بچی کھچی سانسیں لے رہی ہیں تو بھی آپ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ کچھ دیر کو آکر ان بجھی ہوئی آنکھوں کو دیکھ لیں۔ اس وجود کو اپنی نظروں میں بھرلیں جس نے ایک طویل عرصہ آپ لوگوں کے لیے ہی درد سہا۔ انیقہ بڑی امی کو دیکھنے گئی تو کتنی ہی دیر بے آواز روتی رہی۔ بستر پر پڑا نحیف ونزار وجود اس خاتون سے بالکل الگ تھا جو کبھی ایک ضدی انا پرست اور خود شناس خاتون کا ہوا کرتا تھا‘ جو صرف اور صرف فیصلہ کرنا جانتی تھیں اور جن کے کہے کو ٹالنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ آج تہی دست اور بے اماں پڑی تھیں۔
’’انیقہ دعا کرو امی جی ٹھیک ہوجائیں ہم سب امی جی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ جو کچھ تھوڑا سا تعلق بچا ہوا ہے یہ امی جی کی وجہ سے ہے۔ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو سب کچھ بکھر جائے گا۔‘‘ لالہ آنٹی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ انیقہ نے لہو رنگ آنکوں سے ان کی طرف دیکھا۔
’’لالہ آنٹی… زندگی کا اختتامیہ تو اٹل ہے کسی نے جلدی جانا ہے کسی نے دیر سے‘ مگر جانا تو سب ہی نے ہے۔ دعا ہے کہ بڑی امی کی مشکل رب پاک آسان کردے۔ ہاں یہ بات ضرور کہوں گی کہ بڑی امی نے آپ کے لیے اور نیلم آنٹی کے لیے ہمیشہ ہی بہت کچھ کیا ہے۔ اب تک میکے کی بہت بڑی ڈھارس آپ کو ملی ہے اگر اب یہ آپ کی زندگی سے چلی بھی جائیں تو شاید چند دن ہی آپ ان کے لیے آنسو بہائیں گی۔ ماشاء اللہ اپنے گھر بار والی ہیں جوان بچوں کی مائیں ہیں‘ تھوڑا سا پیچھے مڑ کر نگاہ ڈالیں آپ کی بی بی باجی ہمیں کس طرح اور کن حالات میں چھوڑ کر گئی تھیں ہمیں تو یہ تک نہیں پتہ تھا کہ مر جانے والوں کا سوگ کس ڈھنگ سے منایا جاتا ہے‘ وہ فرش عزاء آج تک ہمارے دلوں میں بچھا ہوا ہے لالہ آنٹی صبر کی دعا کے سوا ہم خالی دامن اور دے بھی کیا سکتے ہیں۔‘‘ انیقہ کے الفاظ نے لالہ آنٹی کو جھنجوڑ ڈالا تھا۔ وہ اس ادھیڑ عمری میں اپنی ماں کی جدائی کے تصور سے لرز گئی تھیں اور ہادیہ اور انیقہ کے درد کی تو کہیں کوئی حد تھی نہ علاج تھا‘ انہوں نے کس بے دردی سے دکھوں کے جلتے الائو میں انہیں جھلسنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ ہر ایک اپنی زندگی میں یوں مگن ہوا تھا کہ پلٹ کر نہ دیکھا اور اب بھی کوئی دکھ درد بانٹنے کی بجائے انہیں خود انحصاری پر شاباش کے چند الفاظ دے کر ہر فرض سے بری الذمہ ہوجاتے تھے اور پھر محض چند ہی دنوں میں بڑی امی خالق حقیقی سے جاملیں‘ اپنے دکھ درد‘ اپنے ٹوٹے ہوئے مان اور یقین کے ہمراہ… جو انہیں اپنی اولاد پر تھا لیکن اب جو کہیں باقی نہیں تھا۔ ایک جسد خاکی سمجھ کر انہیں خاک کے سپرد کردیا گیا تھا اور رہ جانے والے پھر سے زندگی کی گہما گہمی میں مصروف ہوچکے تھے‘ دوسری طرف ہادیہ نے مسلسل سوچ اور ذہنی خلجان میں مبتلا رہنے کے بعد ایک بار پھر اپنے دل کے فیصلے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے جو ضد پر اڑا تھا کہ طاہر کو منالے۔
؎کہیں ملا تو کسی دن مناہی لیں گے اسے
وہ زود رنج سہی پھر بھی یار اپنا ہے
دنیا میں اذیتیں تو تھیں ہی… پھر دنیا کی ٹھوکریں کھانے سے بہتر تھا کہ اپنے شریک زندگی کی دھتکار سہہ لی جائے‘ بڑھتی ہوئی ماہ رو اور چھوٹے سے شرارتی شازم کو بھی باپ کا سایہ چاہئے۔ ایک بیٹی کے لیے سب سے بہتر محافظ اس کا باپ ہوتا ہے اور ایک بیٹے کے لیے سب سے بہترین دوست بھی… وہ اپنے بچوں کو اتنی بڑی محرومیاں نہیں دینا چاہتی تھی وہ شازم کو باپ کی انگلی پکڑ کر چلتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی اور ماہ رو کے اندر ایسا خلا پیدا ہونے سے بچانا چاہتی تھی جیسا خلا اس کے اندر تھا اور جس خلا نے اس کی شخصیت کو اس قدر ادھورا اور بے اعتبار وبے اماں بنادیا تھا‘ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ دل سے اس بات کو سمجھتی تھی کہ طاہر غصے کا بے شک بہت برا سہی‘ مگر وہ دل کا برا انسان نہیں تھا۔ وہ کسی کا بھی برا چاہنے والا نہیں تھا‘ ہادیہ کو یقین تھا کہ وہ آج بھی اس سے اول روز جیسی محبت کرتا ہے‘ ہزار غلط فہمیاں سہی مگر اس نے اپنے دل میں ہادیہ کی محبت کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا تھا جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اس کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کا نتیجہ تھا۔ وہ ہادیہ اور بچوں کے لیے بہت سا سکھ بہت سی خوشیاں خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات کے ہاتھوں بے بس تھا اور یہی بے بسی اس کے اندر الائو کی طرح دہکتی رہی اور اس کی خوش مزاجی اور خوش امیدی کو کھا گئی۔ اور ہادیہ کو دنیا سے دنیا کی باتوں سے اب کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ اسے اپنا پرانا طاہر چاہیے تھا‘ وہی طاہر جو اس کے راستوں سے کانٹے چننے کی اس کے راستوں میں پھول بچھانے کی باتیں کیا کرتا تھا‘ وہ اس سے بات کرنا چاہتی ہے اسے بتانا چاہتی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے وہ آج بھی اسی سے محبت کرتی ہے۔ اسے آج بھی اس کی دھیمی مسکراہٹ‘ اس کی آنکھوں کی لو دیتی چمک سے عشق ہے وہ آج بھی دنیا کے ہر موضوع پر اس سے باتیں کرنا چاہتی ہے اسے اپنے دکھ سنانا چاہتی ہے‘ اس کے کندھے پر سر رکھ کر اپنے اندر جمع سارے آنسوبہانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر گھسی پٹی فلمیں دیکھتے ہوئے ان پر تبصرہ کرنا چاہتی ہے‘ وہ چاہتی ہے کہ پچھلے اتنے سارے سالوں کو درمیان میں لاے بغیر ایک نئی شروعات کی جائے‘ ماضی کو اپنے حال سے کاٹ کر عضو معطل کی طرح پھینک دیا جائے۔ کسی کوتاہی کو دوبارہ نہ دہرانے کا عہد کیا جائے‘ ایک دوسرے کے سامنے گزری خطائوں کو دہرا کر طعنہ زنی کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو خوشی بہم پہنچانے کے لیے جس حد تک ہوسکے کوشش کی جائے۔
کیا آپ ہادیہ کے اس فیصلے کو سراہتے ہیں؟ اگر آپ ہادیہ کی جگہ ہوتے تو کیا آپ بھی یہی فیصلہ کرتے…؟ امید صبح نو تو ازل سے ہارے ہوئے انسان کا ایک خواب ہے‘ وقت ابھی بھی کچھ ہاتھ میں ہے اور انسان… جس قدر بھی زیاں کرلے مگر توقع تو ہمیشہ منافع کی ہی رکھتا ہے ناں… آپ کا کیا خیال ہے۔
تمت بالخیر