Hijaab Feb-17

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر15)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
باسل سے دوستی بڑھانے کی خاطر عنایہ اس کے نمبر پر فون کرتی ہے مگر باسل ایکسکیوز کرلیتا ہے، جب ہی وہ یونیورسٹی پہنچ کر اسے حیران کردیتی ہے عنایہ کی یہ بے تکلفی باسل کو پسند نہیں آتی لیکن سونیا کی وجہ سے وہ خاموش رہ جاتا ہے۔ لالہ رخ زرتاشہ کی طرف سے مطمئن ہونے کے بعد گھر پہنچتی ہے تو اسے اپنی ماں کی زبانی مومن جان کے عزائم کا پتا چلتا ہے جو اپنی بیٹی مہرو کی شادی کسی جواری سے کرنا چاہتا ہے۔ لالہ رخ کے لیے بھی یہ باتیں تکلیف کا باعث بنتی ہیں جب ہی وہ اپنی دوست کو اس مشکل وقت سے نکالنے کا سوچتی ہے مہرو لالہ رخ سے ملتی ہے تو بٹو کے رویے کی تبدیلی کا ذکر کرتی ہے، بٹو دلاور کی دلچسپی مہرو میں بخوبی نوٹ کرلیتا ہے اسی لیے وہ مہرو سے دو رہتا ہے تاکہ دلاور کو مہرو سے دور رکھ سکے۔ دلاور مہرو کو ایک نظر دیکھتے ہی اس کے حسن کا اسیر ہوجاتا ہے جب ہی وہ بٹو سے اس کے متعلق استفسار کرتا ہے۔ فراز سونیا کو لے کر بے حد متفکر ہوتا ہے اس کے عزائم اور بے باک انداز اسے ہر دم اندیشوں میں مبتلا رہتا ہیں سونیا کی تمام تر توجہ کا مرکز بھی فراز ہوتا ہے، جبکہ کامیش اپنے دفتری امور میں اس قدر الجھا ہوا ہوتا ہے کہ ان معاملات کی اسے خبر ہی نہیں ہوپاتی۔ ماریہ اپنی ذات میں تنہا ہوجاتی ہے ابرام اور جیسکا بھی اس کی دلجوئی میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسے میں ولیم ماریہ کے اکھڑے لہجے اور بیزار انداز سے بہت کچھ سمجھ جاتا ہے جب ہی وہ جیسکا سے اس بات کا تذکرہ کرتا ہے جیسکا ماریہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ اپنی کیفیت کسی سے بھی شیئر نہیں کرپاتی اور خود کو کمرے میں بند کرلیتی ہے۔ فراز فون پر لالہ رخ سے دوستی کی بات کرتا ہے لیکن لالہ رخ اس قسم کی دوستی سے صاف انکار کردیتی ہے ایسے میں فراز اس سے وعدہ لیتا ہے کہ جب بھی زندگی میں اس کی مدد کی ضرورت ہوگی تو لالہ رخ ضرور اسے آگاہ کرے گی فراز کے خلوص کو مدنظر رکھتے لالہ رخ حامی بھر لیتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
وہ دونوں بٹو کے اس طرح وہاں سے بے حد گھبراہٹ کے عالم میں بھاگنے پر ششدر کھڑی تھیں کہ اسی پل وہاں پہنچنے والی سیاہ جیپ نے آن واحد میں لالہ رخ اور مہرینہ کی توجہ پوری طرح اپنی جانب مبذول کی تھی… داور حبیب بڑے کروفر سے ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان دونوں کے قریب آپہنچا جب کہ دونوں لڑکیاں کافی خود اعتمادی سے اپنی جگہ پر کھڑی داور حبیب کو استفہامیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
’’ہیلو لیڈیز میرا نام داور ہے‘ داور حبیب… میں آپ کے زمیندار صاحب کا بیٹا ہوں‘ پچھلے ماہ ہی امریکہ سے آیا ہوں۔‘‘ داور ان دونوں سے تہذیب وشرافت کا لبادہ اوڑھے بڑے مہذب لب ولہجے میں بات کررہا تھا مگر اس کے انداز واطوار کا ساتھ اس کی آنکھیں ہرگز نہیں دے رہی تھیں جو اس کی اندرونی شخصیت کی اس پل بھرپور غمازی کررہی تھیں۔
’’جی السلام علیکم۔‘‘ لالہ رخ بے حد سنجیدگی سے گویا ہوئی تو داور ایک پل کے لیے تھوڑا سٹپٹایا پھر دوسرے ہی لمحے بڑی بردباری سے ’’وعلیکم السلام‘‘ کہا پھر یہاں وہاں نگاہیں دوڑاتے ہوئے بڑی خوش دلی سے گویا ہوا۔
’’ماشاء اللہ ہماری وادی کا حسن تو دن بہ دن نکھرتا جارہا ہے یقین کیجیے آپ کہ اس علاقے سے خوب صورت اور بہترین دنیا کا کوئی کوشہ نہیں… بس ذرا اہم اس کی تھوڑا اور تراش خراش کرلیں کچھ سہولیات مہیا کردیں تو یقین جانیے دنیا کے کونے کونے سے یہاں لوگ سیاحت کے لیے آئیں گے۔‘‘
’’جی آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔‘‘ لالہ رخ مروتاً جواب دیتے ہوئے بولی۔
’’دراصل ہمیں اپنی خوش بختی کا اندازہ نہیں ہے کہ ہم کتنے خوب صورت خطے کے باسی ہیں… بس جی کیا کریں ہمیں اپنے وطن کی قدر ہی نہیں…‘‘ اور ایسے مدبرانہ انداز میں گفتگو کررہا تھا جیسے آل پاکستان سمینار میں لیکچر دے رہا ہو‘ اس دفعہ لالہ رخ محض خاموش ہی رہی دونوں کو نجانے کیوں اس شخص سے اندر ہی اندر بے حد الجھن و بے زاری محسوس ہورہی تھی حالانکہ وہ دیکھنے میں خاصا پرکشش تھا مگر…
’’اوکے پھر میں چلتا ہوں اللہ حافظ۔‘‘ وہ اپنے ہنوز لہجے میں بولا تو دونوں نے ہی دل میں ڈھیروں شکر ادا کیا اور اسے اللہ حافظ کہہ کر گویا لالہ رخ اور مہرو نے اپنی جان چھڑائی تھی داور کے وہاں سے نکلتے ہی لالہ رخ بے حدکڑوا سا منہ بنا کر بولی۔
’’اف یہ کیا چیز تھی… خوامخواہ اپنی علمیت کا رعب ڈال رہی تھی اسے بڑا شاک تھا یہاں کی ناقدری کا اور خود موصوف امریکہ میں مقیم تھے۔‘‘
’’افوہ… لالہ تم اس شخص کو گولی مارو یار مجھے تو بٹو کا انداز بے حد پریشان کررہا ہے تم نے دیکھا نہیں تھا کہ وہ کس قدر گھبراہٹ اور وحشت کے عالم میں یہاں سے بھاگا تھا میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر ہمارے بٹو کو ہو کیا گیا ہے کس بات سے وہ اتنا ہراساں اور خوف زدہ ہے۔‘‘ مہرو حقیقی معنوں میں پریشان سی ہوکر تیزی سے بولی۔ ’’لالہ مجھ سے بٹو کا یہ طرز عمل بالکل برداشت نہیں ہورہا یقینا وہ کسی بڑی مصیبت کا شکار ہے۔‘‘ مہرو کی بات پر لالہ رخ بھی اندر ہی اندر بے حد ڈسٹرب ہوگئی۔
’’ہوں تم ٹھیک کہہ رہی ہو مہرو… مگر وہ ہم سے اپنے دل کی بات نجانے کیوں نہیں شیئر کررہا حالانکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا… وہ ہر چیز ہمیں بتاتا تھا ہمیں سب کچھ بتائے بنا‘ بھلا اسے چین کہاں آتا تھا۔‘‘
’’تو لالہ پلیز بتائو نا اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘ مہرو کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایک ہی پل میں جادو کی چھڑی گھما کر بٹو کی تمام پریشانیوں کو ختم کرکے اسے پہلے جیسا کردے۔ اس لمحے مہرو کے لب ولہجے میں بے قراری ہی بے قراری تھی لالہ رخ نے مسٹرڈ رنگ کے گرم سوٹ پر سیاہ شال اوڑھے مہرو کو بغور دیکھا پھر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں بولی۔
’’تم فکر نہیں کرو مہرو ہم بٹو سے ضرور سب کچھ اگلوا لیں گے اور تم دیکھنا یقینا اس کی پریشانی چاہے کتنی ہی گھمبیر کیوں نہ ہو ہم اس کا حل بھی ضرور نکال لیں گے۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر مہرو نے محض خاموشی سے اسے دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی۔
:…{}…’
’’سر آپ یہ بالکل ٹھیک نہیں کررہے مجھ پر زور زبردستی کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا… آپ صرف میرے استاد ہی نہیں بلکہ میرے انکل بھی ہیں۔‘‘ ماریہ بے حد ڈسٹرب ہوکر مقابل سے بولی جو اپنے روم میں آرام دہ کرسی پر بیٹھے شاید ماریہ کے وہاں آنے سے پہلے کتاب بینی میں مصروف تھے۔
’’مائی ڈیئر ماریہ… مائی کیوٹ چائلڈ میں اس بات کا لحاظ کررہا ہوں کہ میں تمہارا انکل ہوں… جیکولین کو میں آج سے نہیں پچھلے بیس سالوں سے جانتا ہوں… وہ میری بہت اچھی دوست ہے اور مائی چائلڈ مجھے اس کی بیٹی سے ایسی امید ہرگز نہیں تھی۔‘‘ ماریہ کے لفظوں اور لہجے میں جس قدر کاٹ اور تلخی تھی سرپال کے لب ولہجے میں اتنی ہی چاشنی اور مٹھاس تھی ماریہ نے کافی الجھ کر سرپال کو دیکھا جو نظر کا چشمہ اپنے سر پر چڑھائے کتاب ہاتھ میں پکڑے جب کہ دوسرا ہاتھ اپنی تھوڑی پر مخصوص انداز میں پھیرتے ہوئے وہ اسے بہت پراسرار لگ رہے تھے۔ اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں دیکھنے والا یہ شخص اپنی فٹ فاٹ پرسنیلٹی کی بدولت محض چالیس بیالیس سال کا ڈیسنٹ مرد لگتا تھا۔
’’کیا مطلب سر آپ کا…! اب میں نے ایسا بھی کیا کردیا۔‘‘ وہ اندر ہی اندربے پناہ جزبز اور خائف ہوکر بظاہر خود اعتمادی سے بولی تو اس پل سرپال کے چھوٹے سے دہانے پر بڑی گہری ومعنی خیز مسکراہٹ ابھری تھی وہ اپنی چیئر پر تھوڑا سیدھا ہوکر بیٹھتے ہوئے بے حد بھاری لہجے میں بولے۔
’’مائی ڈیئر تم غداری کررہی ہو… ہم سب کے ساتھ اور خود کے ساتھ بھی…‘‘ تلوار کی دھار اور نیزے کی انی سے بھی زیادہ تیز الفاظ اس پل ماریہ کو سرپال کے محسوس ہوئے تھے جس نے ایک ہی پل میں اس کے جسم میں پیوست ہوکر اسے زخم خوردہ کردیا تھا۔
’’نہ… نہیں… آ… آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں میں غداری ہرگز نہیں کررہی۔‘‘ اس کی آواز جیسے تاریک و گہرے کنویں سے ابھری تھی جواباً سرپال پوری طرح مسکرا کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’یہ غداری ہے… صرف غداری اور تم جانتی ہونا کہ غداری کی سزا کیا ہوتی ہے؟‘‘
’’آپ مجھے ڈرا دھمکا رہے ہیں؟‘‘
’’بالکل نہیں مائی چائلڈ…‘‘
’’تو پھر یہ کیا ہے؟‘‘
’’حقیقت… میں تمہیں حقیقت بتارہا ہوں۔‘‘
’’میں اپنا حق استعمال کررہی ہوں سر غداری نہیں کررہی۔‘‘
’’بالکل نہیں تمہیں اس بات کا کوئی حق نہیں ہے ڈیئر۔‘‘ پھر یک دم وہ اپنی نشست سے اٹھے۔
’’مجھ سے بحث مت کرو ماریہ میں نے اب تک صرف جیکولین کی وجہ سے تمہاری باتوں کو برداشت کیا ہے وگرنہ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اسے اتنی لمبی مہلت ہرگز نہ ملتی۔‘‘ یک لخت سرپال کا لہجہ اور انداز دونوں ہی بدلے تھے اس لمحے ان کے حلاوت آمیز چہرے پر چٹانوں جیسے کھردرے اور پتھریلے تاثرات ابھر آئے تھے ماریہ چپ کی چپ رہ گئی پھر بے حد خاموشی سے باہر جانے کی غرض سے دروازے کی جانب پلٹی کہ عقب سے جیسے اژدھوں کی پھنکار سنائی دی۔
’’آج کی گفتگو کو آخری وارنگ سمجھنا ڈیئر۔‘‘ ماریہ کے قدم بالکل منجمد ہوگئے جسم پتھر کی مانند بے حس وحرکت ہوگیا پھر اس نے بڑی مشکلوں سے اپنے جسم کو جنبش دی اور دوسرے ہی پل وہاں سے نکل گئی۔
:…{}…’
کامیش شاہ نے اپنے ڈپارٹمنٹ میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی تھی وہ کچھ وقتوں سے کسی خفیہ مشن پر مامور تھا اللہ کا شکر تھا کہ وہ مشن اس نے اپنی ذہانت اور بہادری سے کامیابی کے ساتھ پورا کیا تھا۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ تو کیا میڈیا میں بھی اس بات کا خوب چرچہ ہورہا تھا۔ حکومت وقت نے بھی کامیش کی خدمات کو سراہا تھا جبکہ سمیر شاہ اپنے بیٹے کی کامیابی میں بے حد شاداں وفرحاں تھے۔ ساحرہ نے بھی اپنی گردن غرور وفخر سے کچھ اور بھی اکڑائی تھی میڈیا بھی کامیش شاہ کو خوب کوریج دے رہا تھا سارا اور اعظم بھی اپنے داماد کی پذیرائی پر بہت مسرور تھے فراز اپنے بھائی پر پرائوڈ فیل کررہا تھا ایک واحد سونیا کی ذات ایسی تھی جس پر اس خبر کا کوئی فرق نہیں پڑا تھا اس نے محض دکھاوے کی خاطر بھی کامیش کو مبارک باد نہیں دی تھی۔ جب سے سونیا خان کامیش کی زندگی میں آئی تھی اسی دن سے ہی کامیش شاہ نے سونیا کی شخصیت میں بہت سی باتیں پرکھ لی تھیں جو اس کے لیے ناپسندیدہ تھیں مگر حقیقت تو یہ تھی کہ سونیا کی ذات سے زیادہ اہم اور توجہ طلب کامیش کی نگاہ میں اس کا کام تھا لہٰذا اس نے سونیا کے طرز عمل اور انداز کو محسوس کرکے اس پر مشتعل یا افسردہ ہونے کے بجائے اسے بالکل ہی نظر انداز کردیا تھا اگر سونیا کامیش کی ذات میں دلچسپی نہیں لیتی تھی تو اسے بھی اس بات کی مطلق پروا نہیں تھی اس کا اوڑھنا بچھونا آرام وسکون صرف اس کا کام ہی تھا۔
کامیش اپنے دوستوں‘ ساتھیوں اور دیگر لوگوں کی مبارک بادیں سمیٹتا رہا وہ رات کو کافی تھکا ماندہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو سونیا کو سیل فون پر کسی سے محو گفتگو پایا اس نے ایک سرسری نگاہ اس کے وجود پر ڈالی پھر اپنا سیل فون اور گاڑی کی چابی کارنر ٹیبل پر رکھتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ نیم گرم پانی سے باتھ لے کر سلیپنگ گائون میں ملبوس اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتا ہوا باہر نکلا تو سونیا کو ہنوز اس ہی پوزیشن میں بیٹھا پایا جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
’’تم جلدی سے پلان کرلو میں تو جانے کے لیے بالکل ریڈی ہوں۔‘‘ ڈارک بلو مہین سی نائٹی میں ملبوس سونیا مقابل سے کہہ رہی تھی کامیش نے چند ثانیے کے لیے اسے بغور دیکھا پھر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا برش اٹھا کر اپنے بالوں میں چلانے لگا‘ اب سونیا فون سے فارغ ہوکر کامیش کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’تم صبح سات بجے گھر سے نکلے تھے کامیش اور اب رات کے دو بج رہے ہیں…؟‘‘ سونیا بے تاثر لہجے میں بولی تو کامیش نے بے ساختہ آئینے کی سطح پر ابھرتے سونیا کے عکس کو دیکھا۔
’’ہوں ایم سوری یار یہ میڈیا والے تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑگئے ہیں۔‘‘ کامیش شاہ کے ایکسکیوز کو اس نے یکسر نظر انداز کرکے بیڈ پر اپنا تکیہ سیٹ کیا اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔
’’میری فرینڈز ملائیشیا جانے کا پروگرام بنارہی ہیں میرا بھی جانے کا ارادہ ہے میں بھی کچھ فریش ہوجائوں گی ورنہ یہاں تو بس ایک سی روٹین سے طبیعت اکتا گئی ہے۔‘‘ سونیا بے حد عام سے انداز میں ایسے بولی جیسے وہ ملائیشیا نہیں بلکہ اپنی مام کے گھر جانے کا بتا رہی ہو کامیش شاہ چونک کر اس کی جانب مڑا۔
’’یہ تم مجھے انفارم کررہی ہو یا پھر پوچھ رہی ہو؟‘‘ سونیا یونہی لیٹے لیٹے بڑی لاپروائی سے بولی۔
’’تم جو بھی سمجھ لو ڈیئر بٹ یہ بات کنفرم ہے کہ جیسے ہی میری فرینڈز ملائیشیا کا پلان کرلیں گی میں ان کے ساتھ لازمی جائوں گی۔‘‘ چند ثانیے تو کامیش خاموش سا کھڑا رہا پھر بے ساختہ اپنے عنابی لبوں کو زور سے بھینچ کر بے حد سپاٹ انداز میں گویا ہوا۔
’’اور اگر میں تمہیں نہ جانے دوں تو؟‘‘ سونیا جو بڑے پرسکون انداز میں لیٹی ہوئی تھی یک دم جیسے کرنٹ کھا کر اٹھ بیٹھی پھر بڑے کاٹ دار لہجے میں بولی۔
’’کیوں… تم مجھے کیوں نہیں جانے دوگے؟ آفٹر آل میں تم سے پوچھ ہرگز نہیں رہی بلکہ بتارہی ہوں۔‘‘ آج شادی کے بعد پہلی بار ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔
’’اوہ تھینک یو سو مچ… سونیا صاحبہ کہ آپ نے مجھے بتانے کی زحمت گوارا کی مگر آپ یہ بات کان کھول کر سن لیں کہ آپ کو میں ملائیشیا جانے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گا۔ از اٹ کلیئر۔‘‘ وہ سہولت سے کہتا بیڈ کے دوسری جانب اپنی جگہ پر بیٹھتا تو… پہلے تو سونیا نے کافی حیران کن نگاہوں سے گردن موڑ کر اسے دیکھا پھر یکایک اس کی آنکھوں میں ضد اور اشتعال کے رنگ ابھر آئے۔
’’مسٹر کامیش شاہ تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے آج تک میرے کسی بھی عمل پر میرے پیرنٹس نے منع کرنا تو دور پوچھا تک نہیں میرا جو دل چاہتا ہے وہ ہی میں کرتی ہوں اس کے لیے میں کبھی کسی سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی اوکے۔‘‘
’’مگر آج کے بعد تم ہر بات مجھ سے پوچھ کر کروگی اور رہا اس بات کا سوال کہ میں ہوتا کون ہوں تو کیا تم یہ بات نہیں جانتیں؟‘‘ وہ آخر میں استہزائیہ انداز میں بولا تو سونیا نے جیسے مکھی اڑائی۔
’’اچھا تو تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ تم میرے شوہر ہو۔‘‘ وہ بھی اسی طرح کے لہجے میں دوبدو بولی پھر سر جھٹک کر قدرے دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔
’’اونہہ… تم سے اچھا تو فراز ہے تم سے زیادہ ٹائم دیتا ہے مجھے اور تم سے بہتر طریقے سے مجھے جانتا اور سمجھتا ہے۔‘‘ کامیش جو لیٹنے کے موڈ میں تھا سونیا کے جملے پر اس کے اعصاب کو ایک خفیف سا جھٹکا لگا تھا سونیا اب مزے سے لیٹ کر کمبل اوڑھ کر اس کی جانب سے کروٹ لے چکی تھی کامیش نے الجھی نگاہوں سے اس کی پشت کو چند ثانیے دیکھا پھر سر جھٹک کر وہ بھی کروٹ لے کر لیٹ گیا جب کہ دوسری جانب اس وقت سونیا کے لبوں پر بڑی زہریلی مسکراہٹ در آئی تھی۔
:…{}…’
’’میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنا بدتمیز جنگلی اور بد اخلاق آدمی نہیں دیکھا… دیکھو ذرا اس چنگیز خان کے جانشین کو کیسے جان کو آگیا تھا میرا تو قسم سے دل چاہ رہا تھا کہ کوئی پتھر اٹھا کر اس کے سر پر دے ماروں جاہل انسان۔‘‘ زرمینہ اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے پورے کمرے میں چکر لگارہی تھی جب کہ زرتاشہ بے حد اطمینان سے امرود کھانے میں مصروف تھی۔
’’نجانے خود کو سمجھ کیا رہا تھا… اونہہ اینگری ہیرو بننے کی بے حدناکام کوشش تھی‘ ناشپاتی جیسا تو منہ تھا اس کا اور تم نے آنکھیں دیکھی تھیں اس کی…‘‘ زرمینہ یک دم اپنی جگہ پر رکتے ہوئے زرتاشہ کو دیکھ کر بولی تو امرود کھانے میں مگن زرتاشہ بے پناہ بے زاری سے گویاہوئی۔
’’ہاں بابا بٹاٹے جیسی تھیں اس کی آنکھیں… تم گزشتہ دو دن سے یہی مکالمے دہرا رہی ہو اللہ کے واسطے اب بس بھی کردو یہ سب سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں۔‘‘ زرتاشہ کی بات پر زرمینہ نے اسے چڑ کر دیکھا۔
’’ہاں… ہاں اس کمینے نے بے عزتی تو میری کی ہے نہ اور تاشو… کان کھول کر سن لو تم میں اس ایڈیٹ کو چھوڑنے والی ہرگز نہیں ہوں۔‘‘
’’یہ جملہ بھی تم مسلسل دو دن سے دہرا رہی ہو… کہ میں اسے چھوڑنے والی نہیں ہوں۔‘‘
’’تو میں کروں بھی تو کیا کروں میرا غصہ ٹھنڈا ہی نہیں ہورہا یار… اور یہ کیا تم طوطے کی طرح سارے امرود کھا گئیں میرے لیے تو بچالیتی ندیدی کہیں کی۔‘‘ یک دم زرمینہ کی خالی پلیٹ پر نگاہ گئی تو وہ تپ کر بولی۔
’’ویسے زری بہت غلط بات ہے مہوش بے چاری کئی بار تم سے اپنے بھائی کے کیے کی معافی مانگ چکی ہے اور تم ہو کہ سرئیے کی طرح اکڑی ہوئی ہو‘ یار اس غریب کو تو معاف کردو۔‘‘
’’تمہیں مہوش کی حمایتی بننے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے سمجھیں۔‘‘ اس نے تاشو کو جھاڑا تو زرتاشہ نے بے پروائی سے کندھے اچکا دیئے۔
:…{}…’
ماہ دسمبر کا آغاز ہو چلا تھا لوگوں سے اکثر کہتے سنا تھا کہ دسمبر کا مہینہ یادوں کا مہینہ ہوتا ہے ماضی کی ان گنت ولاتعداد کھٹی میٹھی تلخ وترش اور شہد آگئیں یادیں بنا دستک دیئے دل وروح میں آسماتی ہیں اور دماغ تک رسائی حاصل کرکے پورے وجود میں طاری ہوجاتی ہیں… انسان سرتاپا یادوں کے طلسم میں ڈوب جاتا ہے لالہ رخ بھی اس وقت یادوں کے آکٹوپس میں پوری طرح جکڑی ہوئی تھی اپنے بچپن کی مزے دار شوخیوں سے بھرپور یادیں جس میں اس کے ساتھ زرتاشہ مہرو امی اور ساتھ ساتھ ابا بھی تھے… ابا کو یاد کرتے ہوئے بے ساختہ اس کی پلکیں بھیگ چلی تھیں وہ ابھی یادوں کے ساغر میں مزید ڈوبتی کہ اپنے سیل فون پر بجتی بیپ پر وہ چونک کر حال کی دنیا میں واپس آئی تھی پھر بے اختیار ایک گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے سرسری سا اسکرین پر دیکھ کر یس کا بٹن آن کیا۔
’’آئی ہوپ میں نے آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا ہوگا۔‘‘ زندگی سے بھرپور فراز شاہ کا جاندار لہجہ اس کے کان کے پردے سے ٹکرایا تو اداسی پر مائل طبیعت ناچاہتے ہوئے بھی خوش گوار سی ہوگئی۔
’’نہیں… کچھ خاص نہیں۔‘‘ وہ مختصراً گویا ہوئی۔
’’اوہ… اس کا مطلب ہے کہ تھوڑا بہت ڈسٹرب ہوئی ہیں آپ۔‘‘ وہ ہنس کر بولا تو لالہ رخ فوراً بولی۔
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد فراز قدرے سنجیدگی سے بولا۔
’’دراصل میں نے ایک بات بتانے کے لیے آپ کو فون کیا ہے۔‘‘ جبکہ لالہ رخ فراز کے لہجے کے بھاری پن کو محسوس کرکے دھیرے سے بولی۔
’’کہیے فراز میں سن رہی ہوں۔‘‘
’’میں کچھ عرصے کے لیے لندن جارہا ہوں۔‘‘ وہ سہولت سے بولا تو لالہ رخ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئی۔
’’کس سلسلے میں جارہے ہیں آپ؟‘‘ لالہ رخ کی دلکش سی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ مسکرا کر جواب دیتے ہوئے بولا۔
’’بس کچھ بزنس ایشوز ہیں اور پھر تھوڑی سیروتفریح بھی ہوجائے گی۔‘‘ پھر معاً اسے یاد آیا تو وہ استفسار کرتے ہوئے بولا۔ ’’مہرینہ اور آپ کا دوست بٹو کیسا ہے؟‘‘ بٹو کے نام پر یک دم لالہ رخ کے ذہن میں بٹو کا پراسرار رویہ یاد آگیا تو وہ گہری سانس بھرتے ہوئے بولی۔
’’اللہ کا شکر ہے کہ دونوں ٹھیک ہیں۔‘‘ لالہ رخ کے بجھے انداز کو فراز شاہ نے لمحہ بھر میں محسوس کرلیا تھا تب ہی نرمی سے بولا۔
’’لالہ رخ… سچ سچ بتائیے گا آپ کسی بات کو لے کر پریشان ہیں کیا؟‘‘
’’کیا یہ شخص دلوں میں جھانک لینے کا فن جانتا ہے؟‘‘ لالہ رخ اس پل بے حد حیرت سے دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئی پھر اگلے ہی پل بے ساختہ اس کی زبان سے پھسل گیا۔ ’’آپ کو کیسے معلوم ہوا؟‘‘
’’آپ اس بات کو چھوڑیے پہلے مجھے وہ بات بتائیے جس نے آپ کو اندر سے کافی الجھا رکھا ہے۔‘‘ وہ اس کے سوال کو درخود اعتنا نہ جانتے ہوئے نارمل انداز میں بولا تو لالہ رخ چند ثانیے خاموش رہی پھر دھیرے سے گویا ہوئی۔
’’فراز بات تو زیادہ بڑی نہیں ہے مگر میں اور مہرو دراصل بٹو کو لے کر بہت حساس ہیں… اسے کوئی تکلیف یا دکھ ہو وہ ہم سے برداشت نہیں ہوتا ہمیں بہت عزیز ہے وہ۔‘‘ دوسری جانب فراز شاہ بغور اس کی بات سنتا رہا… پھر لالہ رخ نے بٹو کے بارے میں شروع سے لے کر آخر تک سب کچھ بتا ڈالا۔
’’پتہ نہیں آج کل اسے کیا ہوگیا ہے کہ وہ ہم سے بھی کترانے لگا ہے۔‘‘ آخر میں لالہ رخ افسوس بھرے لہجے میں بولی تو فراز شاہ کسی گہری سوچ سے یک دم چونکا پھر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’بٹو کے ساتھ تو یقینا کوئی بہت بڑی پریشانی ہے لالہ رخ… اور میرے خیال میں وہ اتنی آسانی سے آپ دونوں کو بتائے گا نہیں کیونکہ اس کی پریشانی کا تعلق آپ دونوں سے ہی ہے۔‘‘
’’ہم دونوں سے… کیا مطلب میں سمجھی نہیں؟‘‘ فراز کی بات پر وہ حیرت واستعجاب سے اپنی پوری آنکھیں کھول کر استفہامیہ انداز میں بولی۔
’’جی لالہ رخ وہ آج کل جس پریشانی کا شکار ہے وہ یقینا آپ دونوں کے حوالے سے ہے کیونکہ بقول آپ کے وہ آج سے پہلے اپنی ہر بات چاہے وہ خوشی کی ہو یا پریشانی کی آپ دونوں سے شیئر کرتا تھا اور اس بار ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ آپ دونوں کو نظر انداز کررہا ہے تو اس بات کا یہی مطلب نکلتا ہے۔‘‘ فراز تفصیل سے بولا تو لالہ رخ کچھ لمحے کے لیے کسی سوچ میں ڈوب گئی پھر کچھ دیر بعد بولی۔
’’میرے خیال میں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں فراز وہ تو ہم دونوں پر اپنی جان چھڑکتا ہے مگر… ہماری بدولت اسے کیا فکر لاحق ہوسکتی ہے؟‘‘ وہ آخر میں الجھے ہوئے انداز میں بولی تو فراز کچھ سوچ کر بولا۔
’’پچھلے کچھ دنوں میں کوئی ایسی بات تو بٹو کے ساتھ درپیش نہیں آئی جو نئی اور غیر معمولی تھی۔‘‘ لالہ رخ بے ساختہ ذہن پر زور ڈالتے ہوئے گزشتہ دنوں کی باتیں سوچنے گی مگر پھر گہری مایوسی سے بولی۔
’’پچھلے دنوں تو میں اپنے چکروں میں ہی الجھی رہی زرتاشہ کی پریشانی پھر اسے کراچی چھوڑنے جانا اور واپس آکر آفس کے جھمیلوں میں گھر گئی مجھے تو بٹو کے ساتھ ملنے کا موقع بھی نہیں ملا۔‘‘
’’تو پھر آپ مہرینہ سے پوچھیے گا کہ پچھلے دنوں کیا کوئی بات روٹین سے ہٹ کر ہوئی تھی۔‘‘
’’تھینک یو فراز… آپ نے کوئی تو راستہ نکالا وگرنہ میں تو سوچ سوچ کر پاگل ہوئے جارہی تھی کہ آخر بٹو کی پریشانی تک کیسے رسائی حاصل کی جائے۔‘‘ وہ بٹو کی طرف سے قدرے پرسکون ہوکر فراز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولی تو فراز یک دم مسکرایا اور پھر اللہ حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔
:…{}…’
احمر یزدانی نے جب سے ان دونوں کو اس لڑکی کے بارے میں بتایا تھا خاص طور پر عدیل تو اس کی جان کو آگیا تھا کہ وہ اس لڑکی سے انہیں ملوائے۔
’’اف باسل یار تو سمجھانا اس عقل سے پیدل انسان کو کہ ابھی تو میں خود صرف دو بار اس سے ملا ہوں اور بہت مختصر سی بات ہوئی ہے۔‘‘ احمر بے حد زچ ہوکر بولا تو کتاب میں سر دیے باسل نے ایک سرسری نظر دونوں کو دیکھا پھر کافی بے زاری سے بولا۔
’’تم دونوں کبھی لڑکیوں کے علاوہ بھی کوئی بات کرلیا کرو یار۔‘‘
’’ہائیں…‘‘ دونوں اس پل بری طرح اپنی جگہ سے اچھلے تھے پھر بے حدحیرت واستعجاب میں گھر کر باسل حیات کو دیکھا جو ایک بار پھر کتاب میں مصروف ہوگیا تھا۔
’’باسل تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا…؟‘‘ عدیل بے حد تحیر کے عالم میں باسل کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا جو اس پل اپنی یونیورسٹی کے نسبتاً پُرسکون گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔
’’کیوں مجھے کیا ہوا ہے اللہ کا شکر ہے بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ باسل نگاہ اٹھا کر عدیل کی طرف دیکھتا ہوا بولا تو احمر دوسرے ہی پل بے حد شرارتی انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ہوں اس نیلم فرمان نے ہمارے دوست کو شریف اور نیک بچہ بنادیا ہے۔‘‘ مگر عدیل سے باسل کا یہ نیا انداز آسانی سے ہضم نہیں ہورہا تھا جب ہی ہنوز لہجے میں بولا۔
’’بھلا وہ کرپٹ لڑکی باسل میں اتنی بڑی چینج کیسے لاسکتی ہے؟‘‘
’’کیوں بھئی تجھے کس بات پر اعتراض ہے باسل کے سدھرنے پر یا نیلم کی وجہ سے یہ تبدیلی آنے پر۔‘‘ احمر عدیل کو فہمائشی نگاہوں سے گھورتے ہوئے کڑے لہجے میں بولا جب کہ عدیل احمر کی بات کو یکسر نظر انداز کرکے باسل کو حیرت سے تکتے ہوئے بولا۔
’’تو ایک لڑکی کی وجہ سے باقی تمام لڑکیوں سے الرجک کیوں ہوگیا یار… اب ساری لڑکیاں نیلم فرمان جیسی بھی نہیں ہوتیں۔‘‘
’’عدیل تمہارے پاس بس لڑکیاں… لڑکیاں کرنے کے علاوہ بات کرنے کو کچھ اور نہیں ہے کیا؟ میں اب ایریٹیٹ ہونے لگا ہوں تمہاری ان باتوں سے انڈراسٹینڈ…‘‘ باسل بے حد ناگواری سے کتاب زور سے بند کرتے ہوئے مشتعل سا ہوکر بولا پھر تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر وہاں سے چلتا بنا جب کہ احمر اور عدیل محض خاموشی سے اسے جاتا دیکھتے رہے۔
:…{}…’
فراز تیزی سے اپنے ضروری کام نمٹا رہا تھا تا کہ وہ چند دن بعد لندن کے لیے نکل سکے‘ ابھی فی الحال اس نے گھر میں کسی کو بھی اپنے لندن جانے کے بارے میں نہیں بتایا تھا وہ عین وقت پر ہی بتانا چاہتا تھا اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں رات کے کھانے سے فارغ ہوکر اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھا کسی فائل کو دیکھ رہا تھا جب ہی کوئی بے حد دھیمی سی دستک دے کر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی اندر آگیا نووارد کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بے پناہ مسحور کن اور بھینی بھینی باڈی کلون اور پرفیوم کی مہک چہار سو پھیل گئی تھی یہ خوشبو جب فراز شاہ کے نتھنوں سے ٹکرائی تو دروازے کی جانب سے پیٹھ موڑھے بیٹھے فراز کو یک دم خفیف سا جھٹکا لگا تھا وہ آنے والی شخصیت کو اس کی خوشبو سے پہچان گیا تھا بے ساختہ تیزی سے اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو کمرے کے بیچوں بیچ سونیا لائٹ گرین رنگ کے سلیپنگ ڈریس میں ملبوس چھوٹی سی ٹرے میں دو مگ رکھے اسے ہاتھوں میں تھامے کھڑی تھی۔
’’تم… تم یہاں اس وقت۔‘‘ فراز اندر ہی اندر خائف سا ہوکر فقط اتنا ہی بولا جب کہ سونیا دوسرے ہی لمحے تیزی سے چلتی ہوئی اس کے پاس آکر ٹھہری تھی۔
’’افوہ… فراز ایک تو تم بھی ناں… تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ ہم دوست ہیں وہ بھی بچپن کے بیسٹ فرینڈ۔‘‘ وہ بے حد نارمل لہجے میں بول رہی تھی فراز شاہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ ’’یہ مگ اٹھائو میں نے تمہارے لیے اپنے ہاتھوں سے بڑی اسپیشل کافی بنائی ہے۔‘‘ وہ مگن سے انداز میں کہہ رہی تھی فراز بے ساختہ ایک تھکن آمیز سانس کھینچ کر رہ گیا‘ آج ڈنر پر کامیش ندارد تھا اس کی طبیعت کچھ بوجھل تھی لہٰذا وہ اپنے کمرے میں محو آرام تھا فراز نے سونیا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔
’’تمہیں اس وقت کامیش کے پاس ہونا چاہیے سونیا… اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لمحے اسے تمہاری ضرورت ہوگی۔‘‘
’’اوہ کم آن فراز… کامیش کوئی سات سال کا بچہ نہیں ہے جسے بیماری میں میری ضرورت ہوگی اور تم مجھ سے کیا ایکسپیکٹ کررہے ہو کہ میں جاکر اس کا سر دبائوں؟‘‘ وہ بے پناہ بے زار کن لہجے میں بولی پھر اگلے ہی لمحے قدرے شرارت سے گویا ہوئی۔ ’’ہاں البتہ اگر تمہارے سر میں درد ہو تو پھر میں دبانے کے لیے بخوشی تیار ہوں۔‘‘
’’واٹ ربش سونیا… یہ کیا بیہودگی ہے۔‘‘ وہ بے حد ناگواری سے اسے جھڑک گیا۔
’’کیوں اس میں کیا بیہودگی ہے بھلا؟ میں اپنے دوست کا سر بھی نہیں دبا سکتی کیا؟‘‘ وہ حیرانی کی ایکٹنگ کرتے ہوئے نروٹھے پن سے بولی‘ تو فراز نے بے حد چڑ کر کہا۔
’’تمہیں اپنے دوست کی نہیں بلکہ اپنے شوہر کی فکر کرنی چاہیے۔‘‘
’’اونہہ… وہ میرا شوہر بننے کے لائق نہیں ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ فراز بری طرح الجھا۔
’’جو شخص مجھے پسند ہی نہیں وہ میرا شوہر کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ وہ بڑے مزے سے کافی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بے پروائی سے بولی۔
’’یہ تم کیسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہو سونیا… کامیش سے تمہارا نکاح ہوا ہے اور وہ تمہیں سب کے سامنے اپنی عزت اور حرمت بناکر اپنے ساتھ لایا ہے۔‘‘
’’اف… فراز کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ تمہارے اندر کسی دادی اماں کی روح سمائی ہوئی ہے کتنی دقیانوسی اور فضول باتیں کرتے ہو تم۔‘‘ اس وقت فراز کا دل چاہا کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنا سر دیوار سے دے مارے۔
’’مام آپ نے سونیا جیسی لڑکی کو کامیش جیسے اچھے انسان کا لائف پارٹنر بنا کر اس کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی ہے۔‘‘ بے ساختہ وہ تاسف ودکھ بھرے لہجے میں دل ہی دل میں بولا پھر یک دم اس کی طرف متوجہ ہوکر جلدی سے اٹھا۔
’’اچھا چلو تم اپنے روم میں جائو مجھے بھی سونا ہے گڈ نائٹ۔‘‘ جواباً سونیا تھوڑا مسکرائی مگر کچھ جتاتی نظروں سے اسے دیکھا پھر بڑی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’اوکے‘‘ کہہ کر اس کے کمرے سے نکل گئی۔
کھٹکے کی آواز پر کامیش نے جلتی ہوئی آنکھوں سے دروازے کی جانب دیکھا جہاں اس وقت سونیا داخل ہوئی تھی پھر اس نے دکھتے ہوئے سر پر تکیہ رکھ کر آنکھیں موندھ لیں۔
:…{}…’
باہر برستی ہلکی ہلکی بارش نے پورے ماحول کو جل تھل کردیا تھا جبکہ سردی نے وجود کو ہولے ہولے کپکپانے پر مجبور کردیا تھا ماریہ گرم اوور کوٹ میں ملبوس خود کو مفلر کی مدد سے اچھی طرح لپیٹے کلاس اٹینڈ کرکے باہر نکلی تو عقب سے جیسکا کی آواز سنائی دی۔
’’ماریہ پلیز تم کاریڈور میں میرا ویٹ کرو میں ذرا سر مائیکل سے کچھ بات کرکے آتی ہوں۔‘‘ جواباً ماریہ اثبات میں سر ہلا کر کچھ الجھی الجھی سی کاریڈور کی جانب بڑھ گئی بھانت بھانت کی بولیاں بولتے اسٹوڈینٹس جن کے چہروں پر بے فکری وسکون اور خوشی کے رنگ جھلک رہے تھے اس پل کاریڈور کے اطراف میں بنی بھاری گلاس وال سے آسمان سے گرتی بوندوں کو دیکھ کر بہت انجوائے کررہے تھے یہاں آکر بھی ماریہ کی الجھن میں کمی نہیں آئی تھی اس نے بے اختیار اپنے اردگرد گردن گھما کر دیکھا پھر سہولت سے اپنے پیچھے مڑ کر بھی نگاہ گھمائی مگر سب کچھ اسے معمول کے مطابق ہی نظر آیا سب آپس میں محو گفتگو تھے‘ آج صبح سے ہی وہ محسوس کررہی تھی کہ وہ کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہے پہلے تو اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکا مگر کچھ ہی دیر بعد اسے پورا یقین ہوگیا کہ کوئی اسے مسلسل دیکھ رہا ہے اس نے کئی بار اچانک سر اٹھا کر کلاس میں ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی بھی اسے خود پر متوجہ دکھائی نہیں دیا تھا اس وقت بھی کاریڈور میں یہی صورت حال تھی یک دم اسے بے پناہ گھٹن اور وحشت کا احساس ہوا تو وہ بنا سوچے سمجھے وہاں سے نکل آئی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی بلڈنگ سے باہر آئی تو چند لمحے کے لیے اس کے قدم ٹھٹکے تھے باہر برستی بارش میں کچھ تیزی آگئی تھی وہ کچھ پل یونہی کھڑی بارش کو دیکھتی رہی پھر باہر نکلنے کے ارادے سے جونہی اس نے قدم بڑھانے چاہے اسے اپنے پہلو سے گھمبیر آواز سنائی دی۔
’’اتنی بارش میں کہاں جارہی ہو ماریہ؟‘‘ بے اختیار وہ ٹھٹک کر رکی… پھر بے حد حیرت سے اس نے اپنے بائیں جانب کھڑے شخص کو دیکھا اس کا کلاس فیلو میک پورے سیاہ لباس میں ملبوس بڑے عجیب سے انداز میں مسکرا رہا تھا‘ ماریہ کچھ ریزرو سی لڑکی تھی لہٰذا وہ اپنے کلاس فیلوز چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا کسی سے بھی غیر ضروری بات نہیں کرتی تھی جبکہ میک سے تو اس کی رسماً بھی ہیلو ہائے نہیں تھی جب ہی وہ یوں میک کے مخاطب کرنے پر کافی حیران ہوئی تھی پھر سرعت سے اپنی کیفیت کو سنبھال کر وہ بے حد سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’ظاہر ہے گھر ہی جائوں گی۔‘‘ ماریہ کے جواب پر وہ تھوڑا سا مسکرایا پھر قدرے توقف کے بعد بہت ہی پراسرار لہجے میں گویا ہوا۔
’’تم اتنی دیر سے مجھے ہی ڈھونڈ رہی تھیں ناں…‘‘ ماریہ کو جیسے کرنٹ لگا تھا اس نے ششدر ہوکر اسے دیکھا… اس لمحے وہ تحیر واستعجاب کے بحر بیکراں میں غوطہ زن تھی۔
’’اس کا مطلب… کہ… تم… مجھے فالو کررہے تھے…؟‘‘ ماریہ بے حد اٹک اٹک کر انگریزی میں بولی۔ اس کی حیرت کسی طور کم ہی نہیں ہورہی تھی۔ ماریہ کی طرح میک بھی کسی سے بلا ضرورت بات چیت نہیں کرتا تھا ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا مگر آج اس کے اس ایٹی ٹیوڈ نے ماریہ کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کردیا تھا۔
’’یس مائی ڈیئر… میں نے ہی تمہیں فوکس کیا ہوا تھا۔‘‘ ماریہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ اس پل اس کی عقل وسمجھ جیسے بالکل ہی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔
’’مگر کیوں… تم کیوں مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھے میک؟‘‘ وہ استفہامیہ لہجے میں بولی تو جواباً میک اپنے دونوں ہاتھ اپنی کوٹ کی جیبوِں میں اڑستے ہوئے پراسرار لہجے میں بولا۔
’’تاکہ تم اپنی سابقہ ایکٹویٹیز دوبارہ نہ شروع کردو۔‘‘ میک کی بات پر ماریہ کے جسم میں گردش کرتا خون جیسے اپنی جگہ رک گیا تھا دل دھڑکنا اس لمحے بھول ہی گیا تھا وہ سانس روکے دم سادھے بہت دیر تک اسے یونہی کھڑی دیکھتی رہ گئی۔
’’تو… تو تم بھی سرپال کے ساتھی ہو۔‘‘ وہ ہکلا کر بولی۔
’’ساتھی تو تم بھی ہماری ہو مگر شاید یہ بات تم بھول رہی ہو۔‘‘
’’نو… نیور میں تم لوگوں کی ساتھی نہیں ہوں۔‘‘
’’تم ہمارے ہی جیسی ہو ماریہ اور ہم تمہیں بدلنے ہرگز نہیں دیں گے۔‘‘
’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’تم اچھی طرح میرا مطلب سمجھ رہی ہو؟‘‘
’’سرپال نے تمہیں میری جاسوسی پر مامور کیا ہے نا…؟‘‘
’’یہ نوبت آنے کی ذمہ دار تم خود ہو۔‘‘
’’تم لوگ مجھ پر ذہنی تشدد کررہے ہو؟‘‘
’’صرف جیکولین آنٹی کی خاطر ہم تم سے نرمی برت رہے ہیں وگرنہ جو تم کچھ کررہی ہو نا اس کے لیے تو تم سخت سزا کی مرتکب ہو۔‘‘ سانپ کی مانند پھنکارتے لہجے میں میک قدرے اس کی جانب جھک کر بولا پھر سرعت سے پلٹ کر وہاں سے چلتا بنا جب کہ ماریہ وہیں ہک دک سی کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
:…{}…’
کامیش شاہ نے سونیا کو ملائیشیا جانے سے صاف منع کردیا تھا جس پر سونیا نے اس کی شکایت ساحرہ سے کی تھی۔ سمیر شاہ نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے کامیش کو درست اور سونیا کی بچکانہ ضد کو غلط قرار دیا تھا جس پر ساحرہ جو بھرپور طور پر سونیا کا ساتھ دے رہی تھی سمیر کے دوبدو آن کھڑی ہوئی۔
’’ایک تو مجھے تم مردوں کی بیمار سوچ سے بہت زیادہ چڑ ہے ارے اگر بچی اپنے دوستوں کے ساتھ ملائیشیا گھومنے پھرنے جانا چاہتی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے اور پھر کامیش… وہ کون سا اسے ٹائم دیتا ہے ابھی تک اسے ہنی مون پر بھی لے کر نہیں گیا اونہہ… تمہارا بیٹا بالکل تم پر ہی گیا ہے۔‘‘ آخر میں ساحرہ ناک سکیڑ کر نخوت بھرے انداز میں بولی تو سمیر شاہ نے اسے تاسف آمیز نظروں سے دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر بولے۔
’’میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ اللہ کریم نے مجھے بیٹوں جیسی نعمت سے نوازا ہے کاش اگر میری کوئی بیٹی بھی ہوتی تو کیا ہی اچھا ہوتا… مگر ساحرہ آج میں اس بات کا شکر ادا کررہا ہوں کہ اللہ نے ہمیں بیٹی نہیں دی کیونکہ جس عورت کی سوچ اور ذہن تمہارے جیسا ہوگا اس کے لیے بیٹی کا نہ ہونا ہی سب سے بڑی نعمت ہوگا۔‘‘ ساحرہ سمیر کا اس قدر کٹیلا طنز برداشت نہیں کرسکی تھی۔ وہ بے پناہ تلملا کر بولی۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا سمیر… کیا میں بیٹی کی ماں بننے کے لائق نہیں ہوں؟ کیا میں اپنی بیٹی کو کسی غلط روش پر لگا دیتی‘ تم اتنا بڑا الزام مجھ پر کیسے لگا سکتے ہو بولو سمیر۔‘‘ وہ تو غصے واشتعال کے مارے بالکل آپے سے باہر ہوگئی تھی اس پل فراز اور کامیش دونوں گھر سے باہر تھے البتہ سیٹنگ روم میں بیٹھی سونیا میگزین ہاتھ میں تھامے ساحرہ اور سمیر کے بیڈ روم سے آتی آوازوں سے بے پناہ حظ اٹھا رہی تھی۔
’’ہوں جس طرح تم آج اپنی بہو کو یوں تن تنہا ملائشیاء بھیجنے کی بھرپور حمایت کررہی ہو اسی طرح اگر آج تمہاری بیٹی ہوتی تو تم ایسا ہی کرتی ناں۔‘‘ سمیر شاہ آج تمام لحاظ بالائے طاق رکھ کر ساحرہ پر جیسے پھٹ پڑے تھے۔
’’وہ… وہ اکیلی تو نہیں جارہی اس کے ساتھ اس کے فرینڈز بھی ہیں۔‘‘ سمیر کی بات پر ساحرہ جزبز سی ہوکر بولی تو سمیر نے اسے بے حد طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ان فرینڈز میں لڑکے بھی شامل ہیں ساحرہ میڈم۔‘‘
’’مجھے اپنی بہو پر پورا بھروسہ ہے سمیر۔‘‘ وہ چٹخ کر بولی تو سمیر نے استہزائیہ انداز میں کہا۔
’’اچھا اور ان لڑکوں پر بھی بھروسہ ہے جو سونیا کے ساتھ جارہے ہیں؟‘‘ اس بار ساحرہ چپ کی چپ رہ گئی پھر جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو یہ کہتے ہوئے وہاں سے جانے کے خیال سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’تم سے تو بات کرنا ہی بے کار ہے۔‘‘ ساحرہ کمرے سے باہر نکل کر سونیا کو ڈھونڈتی ہوئی سیٹنگ روم کی جانب آئی تو سونیا نے فوراً رونی صورت بنالی تھی۔
:…{}…’
’’یار بس کیا بتائوں اس بلبل نے تو تیرے یار کا چین وسکون سب کچھ چھین لیا ہے دیکھ کر اسے ایسا لگتا ہے جیسے چودھویں کا پورا چاند سرد موسم کی ٹھنڈی میٹھی بارش جو جسم کو بھگو کر ایک مستی میں مبتلا کردے۔‘‘ وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے اپنے ڈیرے پر بیٹھا بے حد عامیانہ لہجے میں بول رہا تھا۔
’’اف… کیا بتائوں ایسا خطرناک حسن تو میں نے پورے امریکہ میں بھی نہیں دیکھا… کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ حیاء کے پردے میں سمٹا حسن آتش شوق کو کچھ اور بھی زیادہ بھڑکا دیتا ہے اور یہاں تو سمجھو آگ ہی آگ لگ گئی ہے۔‘‘ داور حبیب اپنے خوشامدیوں اور دوستوں کے سنگ محفل جمائے مہرو کے بارے میں بے حد رکیک گفتگو کررہا تھا۔
’’تو… میرے جگر ہمیں بھی تو ملواؤ آخر ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ کیسی دکھائی دیتی ہے جسے صرف دیکھ کر ہی ہمارا یار بناء پیے ہی بہک رہا ہے۔‘‘ عنایت ایک آنکھ دباتے ہوئے لوفرانہ لہجے میں بولا تو داور قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
’’ارے تھوڑا صبر کرلو گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے… ویسے اس کی سہیلی بھی کم پٹاخہ نہیں مگر اپنا دل تو اس بلبل پر بری طرح سے آ گیا ہے کہیں اور لگتا ہی نہیں۔‘‘
’’تھوڑا دل سنبھال میرے جگر بھلا اسے جانا کہاں ہے آخر کو تیری ہی بانہوں میں آکر قید ہونا ہے… بس ذرا اس لاہور کی ارم ایمان کا قصہ ٹھنڈا ہوجائے پھر دیکھ لیں گے تیری اس بلبل کو بھی۔‘‘ داور کا دوسرا دوست مہتاب کچھ سوچتے ہوئے بولا تو معاً غیاث کو کچھ یاد آیا تو وہ قدرے پریشانی سے گویا ہوا۔
’’وہ ارم ایمان زیادتی کیس کی فائل ابھی تک بند نہیں ہوئی ہے۔‘‘
’’تو بند ہوجائے گا کیس… رانا آصف کوئی معمولی انسپکٹر نہیں ہے‘ بہت اونچی چیز ہے وہ۔‘‘ داور نے بے پروائی سے کندھے اچکا کر کہا تو دونوں نے اثبات میں سرہلا دیا۔
:…{}…’
بارش کا زور کافی حد تک ٹوٹ چکا تھا البتہ ہلکی پھلکی بوندہ باندی ابھی بھی جاری تھی ماریہ انتہائی وحشت زدہ سی ہوکر عمارت سے باہر نکلی اور تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی کالج کے گیٹ سے باہر آگئی اس پل اس کے دماغ میں جیسے جھکڑ چل رہے تھے سرپال اور میک کی آوازوں کی بازگشت اسے اپنے اطراف سنائی دے رہی تھیں۔
’’تم غداری کررہی ہو ماریہ… میں نے اب تک صرف جیکولین کی وجہ سے تمہیں برداشت کیا ہے تم جانتی ہو ناکہ غداری کی سزا کیا ہوتی ہے؟ تم ہمارے ہی جیسی ہو ماریہ اور ہم تمہیں بدلنے ہرگز نہیں دیں گے۔‘‘ وہ جتنا ان آوازوں سے دور بھاگ جانا چاہتی تھی وہ آوازیں اتنی ہی شدت سے اس کا پیچھا کررہی تھیں‘ ماریہ اپنے اردگرد سے بے نیاز بس دیوانہ وار یونہی چلے چلی جارہی تھی وہ ایک ایسی جگہ پر آکر کھڑی ہوگئی تھی جہاں اس کے آگے پیچھے دائیں بائیں بس دیواریں ہی دیواریں تھیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ گہرے بھنور میں ڈوبتی چلی جارہی تھی کوئی ایسا نہیں تھا جو اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے اس بھنور سے نکال باہر کرتا وہ خود فراموشی کے عالم میں چلتی چلی جارہی تھی۔ ہلکی ہلکی پڑتی پھوار نے اسے اچھا خاصا بھگو ڈالا تھا مگر اسے تو کسی بھی چیز سے سروکار نہیں تھا بس اندر بڑھتی وحشت اور گھٹن اسے بری طرح بے کل کیے دے رہی تھی۔ بہت دیر تک یونہی چلتے چلتے یک لخت اس کے قدم خودبخود ٹھٹک کر رکے تھے اس نے سر اٹھا کر سامنے بنی بلڈنگ کی جانب دیکھا تو کچھ دیر پہلے جو اندر کی وحشت اور گھٹن اسے مارنے کے درپے تھی وہ بھانپ کی مانند یک دم اڑنچھو ہوگئی تھی اور ڈھیروں سکون واطمینان اس کے رگ وپے میں سرائیت کر گیا تھا وہ ایک سرشاری سی کیفیت میں بلڈنگ کی جانب بڑھی اور دوسرے ہی لمحے جھپاک سے اندر داخل ہوگئی۔
:…{}…’
شام کے دھندلکے گہرے ہوکر رات کی سیاہی میں تبدیل ہوچکے تھے‘ وسیع وعریض آسمان نے رات کا سیاہ لبادہ کیا پہنا کہ یک لخت ہی ستاروں کی کہکشاں اپنے قافلے سمیت آن پہنچی اور چہار سو بکھر گئی جبکہ کسی اوک میں چھپے چاند نے بھی آسمان کے سینے پر بیٹھ کر اپنا جوبن دکھانا شروع کردیا تھا باسل حیات کلب سے اپنے گھر لوٹا تو اپنے گھر کے باہر کھڑی ہنڈا سوک کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ گھر میں کوئی مہمان آیا ہے وہ اپنی دھن میں سرخ اینٹوں سے بنی روش پر چلتا اندر کی جانب بڑھا… اگلے ہی لمحے وہ ہال میں داخل ہوا تو ڈرائینگ روم سے خاور حیات کے علاوہ کسی اور کی بھی مردانہ آوازیں آرہی تھیں باسل کو مہمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا کہ اسی لمحے حورین جو غالباً کچن سے اس جانب آرہی تھی باسل کو دیکھ کر بہت خوش گواری سے بولی۔
’’ارے واہ باسل بیٹا تم تو بڑے اچھے وقت پر آگئے۔‘‘ باسل نے حورین کی بات پر ناسمجھی سے دیکھا تو حورین اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے مسکرا کر گویا ہوئی۔ ’’دراصل تمہارے ڈیڈی کے بہت اچھے دوست اپنی بیٹی کے ساتھ آئے ہیں آئو تم ان سے آکر مل لو۔‘‘ حورین کی بات پر جان کر باسل تھوڑا بیزار سا ہوا پھر دوسرے ہی لمحے کسلمندی سے بولا۔
’’اوہ… مام میرا اس وقت کسی سے بھی ملنے کا موڈ نہیں ہورہا پلیز پھر کبھی۔‘‘
’’مگر مما کی جان آپ کے ڈیڈ تو آپ کا ویٹ کررہے ہیں اپنے فرینڈ اور ان کی بیٹی سے ملوانے کے لیے۔‘‘ حورین پریشان سی ہوکر بولی تو اپنی ماں کے چہرے پر تذبذب اور تفکر کے جھلکتے رنگوں کو یک دم محسوس کرکے باسل فوراً سے پیشتر بولا۔
’’اوکے یو ڈونٹ وری مام میں ان سے مل لیتا ہوں مگر پلیز آپ ٹینشن مت لیں۔‘‘ باسل کی بات پر حورین نے اپنے بیٹے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھا پھر ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔ اگلے ہی لمحے وہ حورین کے ہمراہ جونہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا اس کی سب سے پہلی نگاہ بالکل سامنے رکھے صوفے پر براجمان عنایہ ابراہیم پر پڑی وہ یک دم بے ساختہ وہیں کا وہیں ٹھہر گیا جب کہ اسی پل عنایہ نے بھی اسے دروازے پر کھڑے دیکھ لیا تھا۔ بے حد دلکش اور شرارتی سی مسکراہٹ نے باسل کا استقبال کیا تھا جبکہ باسل جواباً بھی مسکرا نہیں سکا تھا‘ اسی دوران حورین ڈرائنگ روم میں داخل ہوچکی تھی اور باتوں میں مگن خاور کو مخاطب کرکے بولی۔
’’خاور یہ باسل آگیا ہے۔‘‘ خاور نے چونک کر سامنے دیکھا پھر باسل کو دیکھ کر بے حد جوش ومسرت سے بولا۔
’’باسل کم آن مائی ڈیر سن… دانش یہ ہے میرا بیٹا باسل… باسل خاور حیات۔‘‘ اس وقت خاور حیات کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لیے فخر ہی فخر تھا جبکہ اس دوران عنایہ اسے ہنوز شرارت سے دیکھتی رہی۔
’’کیسا لگا یہ سرپرائز۔‘‘ وہ جب عنایہ کے برابر والے صوفے پر بیٹھا تو عنایہ اپنے مخصوص شوخ وشنگ انداز میں بولی جبکہ اس پل باسل نے بغور اسے دیکھا۔ ڈیپ ریڈ رنگ کے ٹاپ پر بلو جینز پہنے اپنے ڈارک برائون بالوں کو شانوں پر پھیلائے چہرے پر لائٹ سا میک اپ کیے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی باسل مسکرا کر گویا ہوا۔
’’آپ کو شاید سرپرائز دینے کا بہت شوق ہے۔‘‘ جس پر وہ تیزی سے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے بولی۔
’’جی جناب… آپ نے بالکل صحیح سمجھا مجھے سرپرائز دینے کا کریز ہے‘ اچھا آپ یہ تو بتائیے کہ میرا یہ والا سرپرائز کیسا لگا؟‘‘
’’آف کورس مجھے اچھا لگا۔‘‘ وہ خوش دلی سے بولا پھر مزید استفسار کرتے ہوئے گویا ہوا۔ ’’کیا آپ پہلے سے جانتی تھیں کہ میرے ڈیڈ آپ کے فادر کے دوست ہیں؟‘‘
’’بالکل میں یہ بات پہلے سے جانتی تھی‘ ایکچولی میں ایک بار اپنے پاپا کے ساتھ آپ کے ڈیڈ کے آفس آئی تھی وہیں ان کی ٹیبل پر آپ کی تصویر دیکھی تھی ویسے آپ کے ڈیڈ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘ عنایہ دلکشی سے بولی تو باسل نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے خاور حیات کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جانتا ہوں میں… ڈیڈ اس پوری دنیا میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ان فیکٹ وہ صرف میرے ڈیڈ ہی نہیں بلکہ میرے سب سے اچھے دوست بھی ہیں۔‘‘
’’اوہ… یہ تو بہت اچھی بات ہے ویسے تمہاری مام بھی بہت نائس ہیں اور ایک بات بتائوں تمہیں…‘‘ وہ ایک ہی جست میں آپ سے تم پر آئی تھی باسل کی جانب تھوڑا جھکتے ہوئے بولی تھی۔ ’’مجھے ان کی اتنی اٹریکٹو بیوٹی سے تھوڑی تھوڑی جیلسی بھی فیل ہورہی ہے۔‘‘ عنایہ کی بات پر باسل بے ساختہ زور سے ہنس دیا پھر وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔
:…{}…’
مومن جان غصے میں پھنکارتے ہوئے لال بھبھوکا چہرہ لیے لالہ رخ کو بے حد کاٹ دار نگاہوں سے دیکھ رہا تھا‘ لالہ رخ کو آج ذرا فرصت ملی تو اس نے مومن جان سے بات کرنے کی ٹھانی۔ لالہ رخ کی امی نے مہرو کو اپنے پاس بہانے سے بلوالیا تھا تاکہ لالہ رخ اس کی غیر موجودگی میں اس کے باپ سے بات چیت کرسکے۔ مہرو اصل حقیقت سے بالکل انجان بڑے خوش گوار موڈ میں امی کے ساتھ لحاف میں ڈورے ڈالتے ہوئے ساتھ ساتھ مسلسل باتیں بھی کررہی تھی جبکہ لالہ رخ گیسٹ ہائوس جانے کا کہہ کر سیدھی اس کے گھر آئی تھی۔
’’ایک تو مجھے تمہاری ماں پر حیرت ہوتی ہے کہ بھلا اس نے کیوں اپنی لڑکیوں کو اس قدر آزادی دے رکھی ہے ایک کو اتنی دور بھیج دیا اور دوسری نہ صرف مردوں کے ساتھ نوکری کرتی ہے بلکہ دوسروں کے معاملات میں بھی دخل اندازی کرتی ہے۔ نا میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم ہوتی کون ہو ہمارے گھر کے ذاتی معاملے میں بولنے والی۔‘‘ مومن جان ماتھے پر ان گنت شکنیں سجاتے ہوئے بے حد ناگواری اور کافی بدتہذیبی سے بولا تو یک دم لالہ رخ نے ضبط کے مارے اپنے لبوں کو زور سے بھینچا گڈو بیگم بھی بڑی بے قراری سے پہلو بدل کر رہ گئیں۔
’’بے شک پھوپا جان یہ آپ لوگوں کے گھر کا معاملہ ہے مگر مہرو ہمیں بھی بہت عزیز ہے اور یہ رشتہ اس کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘‘ لالہ رخ اپنے دل ودماغ کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے بڑی نرمی سے گویا ہوئی مگر مومن جان کا منہ ہنوز بنارہا اس نے رخ موڑ کر بہت غصے سے اپنی بیوی کو دیکھا پھر لالہ رخ کی طرف متوجہ ہوکر طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’اچھا اب تم مجھے سمجھائوگی کہ مہرو کے لیے کیا مناسب ہے اور کیا نامناسب۔‘‘
’’میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا پھوپا جان… میں تو بس صرف یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ یہ رشتہ مہرو کے لیے موزوں نہیں… وہ لڑکا تو کسی بھی لحاظ سے مہرو کے جوڑ کا نہیں ہے بلکہ وہ تو…!‘‘
’’اچھا اب یہ چھٹانک بھر کی لڑکی مجھے بتائے گی‘ سمجھائے گی کہ کیا موزوں ہے کیا نہیں؟‘‘ مومن جان اپنی بیوی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا پھر مزید گویا ہوا۔ ’’اپنی اس حمایتی سے کہہ دے کہ اس کی اتنی عمر نہیں ہے جتنا زندگی کا مجھے تجربہ ہے… اونہہ خود تو کنواری رہ گئی اور چاہتی ہے میری بیٹی بھی باپ کی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہوجائے۔‘‘
’’مومن اللہ کے واسطے خاموش ہوجائو‘ اب ایک لفظ بھی تم لالہ رخ کے خلاف نہیں بولو گے سمجھے۔‘‘ گڈو یک دم اشتعال میں آگیں جبکہ اس پل لالہ رخ کا دلکش چہرہ بالکل سرخ ہوگیا تھا مومن جان اونہہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا جب ہی گڈو بیگم بے حد شرمندہ اور روہانسی ہوکر اس کے پاس آکر بولیں۔
’’میری بچی مجھے معاف کردے یہ شخص ایسا ہی ہے زبان کے ساتھ ساتھ دل کا بھی بے حد سخت‘ اسی لیے میں ڈر رہی تھی کہ کہیں تو بات کرے اور یہ اپنی خصلت سے مجبور ہوکر تیرا دل نہ دکھا دے۔‘‘ لالہ رخ نے قدرے چونک کر انہیں دیکھا پھر ایک دھیمی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے ہوئے ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ہولے سے دباتے ہوئے نرمی سے بولی۔
’’ارے پھوپو آپ بالکل غمگین نہ ہوں میں نے خود کو پہلے سے ہی ان باتوں کے لیے تیار کرلیا تھا میں جانتی ہوں پھوپا جان کی زبان کی کڑواہٹ کو… یقین کیجیے مجھے کچھ برا نہیں لگا۔‘‘ قدرے توقف کے بعد بولی۔ ’’اور پھوپو آپ اس بات کی تو فکر بالکل مت کیجیے گا کہ پھوپا جان اپنی من مانی کرکے ہماری مہرو کی زندگی سے کھلواڑ کریں گے میرے لیے جیسے تاشو ہے ویسے ہی مہرو ہے اور آج پھوپا جان کے رویے نے تو میرے اندر اور زیادہ ہمت وجرأت پیدا کردی ہے۔ بس آپ یہ یقین کرلیجیے کہ لالہ رخ اپنے جیتے جی ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گی۔‘‘ لالہ رخ انتہائی مضبوط لہجے میں بولتی چلی گئی تو گڈو بیگم کی آنکھوں سے روانی سے آنسو بہہ نکلے‘ انہوں نے بے حد محبت سے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
’’جیتی رہے میری بچی تو ہمیشہ سلامت رہے آمین۔‘‘
:…{}…’
ملائشیا جانے کے معاملے کو سونیا خان نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا وہ ہر صورت ملائشیا جانے پر مصر تھی جبکہ دوسری جانب کامیش شاہ بھی ضد پر اتر آیا تھا… کل رات بھی دونوں کے درمیان اچھی خاصی جھڑپ ہوئی تھی۔
’’او مائی گڈنس کامیش… مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اس قدر روایتی اور قدامت پسند انسان نکلوگے جو انسان اپنی بیویوں کو تو سات پردوں میں چھپا کر اپنی ایگو کی تسکین چاہتے ہیں اور خود جگہ جگہ منہ مارتے ہیں۔‘‘ وہ بے حد تنفر وحقارت آمیز لہجے میں کہہ رہی تھی کامیش فطرتاً ٹھنڈے دماغ کا انسان تھا اسے بلاوجہ غصہ کرنے کی بالکل بھی عادت نہیں تھی مگر سونیا کے ان لفظوں نے اسے جیسے دہکتے ہوئے الائو میں گرا دیا تھا۔
’’واٹ ڈو یو مین سونیا… تم کہنا کیا چاہتی ہو؟ کہ میرا کریکٹر لوز ہے میں باہر یہ سب کام کرتا ہوں۔‘‘ کامیش غصے سے تلملا اٹھا… سونیا اس کا اتنا سنگین ردعمل دکھ کر اندر ہی اندر تھوڑا خوف زدہ ہوئی مگر پھر اپنی ازلی ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوکر بولی۔
’’دیکھو کامیش بات نجانے کہاں سے کہاں جارہی ہے میں تم سے سمپل یہ کہہ رہی ہوں کہ مجھے اپنی فرینڈز کے ساتھ ملائشیا جانے دو ڈیٹس اٹ۔‘‘
’’اور میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں… میں نے تم سے کہہ دیا کہ تم ملائشیا نہیں جائوگی تو نہیں جائوگی از اٹ کلیئر۔‘‘ کامیش بے حدسخت لہجے میں بولا پھر غصے سے کمرے سے باہر چلا گیا۔
فراز لان میں آکر پودوں کی تراش خراش کررہا تھا‘ اکثر فارغ اوقات میں وہ یہ کام بے حد شوق وذوق سے کرتا تھا‘ ڈھلتی دوپہر کے ان پرسکون لمحات میں وہ ادھر آنکلا‘ پہلے تو اس نے مالی سے کھرپی لے کر کچھ پودوں کی گوڈی کی اب کٹر کی مدد سے سوکھے پتوں کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھا جب ہی سونیا بلیک رنگ کے چست پاجامے پر ریڈ رنگ کی چست سی قمیص پہنے ادھر چلی آئی۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ وہ مختصراً بولی تو اپنے کام میں مگن فراز عام سے لہجے میں بولا۔
’’پودوں کی صاف صفائی کررہا ہوں۔‘‘ سونیا نے چند لمحے اسے بغور دیکھا سفید شلوار کرتے میں جس کی آستینیں اس نے کہنیوں تک فولڈ کی ہوئی تھیں جب کہ سفید کرتے پر جابجا مٹی کے داغ لگے ہوئے تھے‘ پورے انہماک سے اپنے کام میں مصروف تھا۔
’’ہوں کبھی اپنے بھائی کے ذہن کی بھی صفائی کرلیا کرو… بہت کچرا بھرا ہوا ہے اس کے اندر۔‘‘ سونیا بے حد تنفر بھرے انداز میں بولی تو ایک دم فراز کے حرکت کرتے ہاتھ ساکت ہوئے اس نے چونک کر اپنے پاس کھڑی سونیا کو دیکھا۔
’’سونیا غلط بات وہ بھی اپنے ہزبینڈ کے متعلق… ایسی بات نہیں کرتے۔‘‘ وہ بے ساختہ اسے ٹوک گیا جب کہ سونیا نے محض کڑوا سا منہ بنانے پر اکتفا کیا۔ ’’سونیا کامیش بہت کیئرنگ اور اچھا انسان ہے تم اسے سمجھنے کی کوشش کرو‘ اس کی بات کو سمجھو… اگر وہ نہیں چاہتا کہ تم ملائشیا جائو تو تم اس کی بات مان کیوں نہیں لیتیں۔‘‘ فراز ناچاہتے ہوئے بھی بولا۔ اسے امید واثق تھی کہ اس بات پر سونیا بری طرح بھڑک اٹھے گی اور اسے کھری کھری سنائے گی مگر یہ کیا… سونیا تو بے حد دلکشی سے مسکراتے ہوئے اسے بہت خاص نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’فراز ڈئیر کون کم بخت تمہیں چھوڑ کر وہاں ملائشیا جانا چاہتا ہے جہاں میں نجانے کتنی بار جاچکی ہوں میں تو تمہیں ایک پل کے لیے بھی خود کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ فراز کو اس پل یوں لگا جیسے اس کے اوپر کسی نے گرم کھولتا ہوا پانی انڈیل دیا ہو… وہ سرتا پا جھلس کر رہ گیا آہستہ آہستہ جب اس کے حواس بحال ہوئے تو اشتعال اور نفرت کی تند وتیز لہر اس کے اندر سے امڈی تھی جس نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
’’تم ہوش میں تو ہو سونیا… کتنی گھٹیا‘ سطحی اور گری ہوئی باتیں کرنے لگی ہو تم۔‘‘
’’تمہیں دیکھ کر مجھے ہوش ہی کہاں رہتا ہے ڈئیر۔‘‘ وہ جیسے گنگنائی تھی۔
’’شٹ اپ… جسٹ شٹ اپ… اب ایک بھی لفظ منہ سے مت نکالنا۔‘‘ وہ بے حد غصے سے بولا پھر کٹر پھینک کر وہاں سے چلا گیا جبکہ سونیا اپنے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے مسکراتے لبوں سے اسے جاتا دیکھتی رہی پھر یک دم اپنے ہونٹون کو نفرت سے بھینچ کر زہریلے انداز میں بولی۔
’’مسٹر فراز شاہ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا۔‘‘
:…{}…’
کلاسز سے فارغ ہوکر زرتاشہ اور زرمینہ دونوں بڑے مگن انداز میں ہاسٹل کی طرف جاتے ہوئے ادھر ادھر باتوں میں محو تھیں جب ہی زرمینہ کا موبائل بج اٹھا چلتے چلتے زرمینہ یک دم رکی… پھر زرتاشہ کو ’’ایک منٹ‘‘ کہہ کر اپنے بیگ سے موبائل فون نکالنے لگی‘ موبائل فون ہاتھ میں آتے ہی اس نے جونہی اسکرین پر نگاہ ڈالی فراز بھائی کالنگ لکھا دیکھ کر خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔
’’ارے واہ… یہ آج فراز بھائی کی کال کیسے آگئی؟‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے اوکے کا بٹن دباتے ہوئے بڑے جوشیلے اور خوشگوار انداز میں بولی۔ ’’السلام علیکم فرازبھائی…!‘‘ جبکہ جواباً فراز مختصراً گویا ہوا۔
’’وعلیکم السلام گڑیا… یہ بتائو اس وقت کہاں ہو تم دونوں؟‘‘ فراز کی بات پر تھوڑا حیران سا ہوکر زرمینہ نے جواب دیا۔
’’یہیں پر ہیں… میرا مطلب ہے بس کیمپس سے ہاسٹل کی طرف جارہے ہیں۔‘‘ زرتاشہ اپنی جگہ کھڑی خاموشی سے زرمینہ کو بات کرتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
’’اچھا پھر فٹافٹ ہاسٹل پہنچو میں تم دونوں کا یہیں ہاسٹل میں ویٹ کررہا ہوں اوکے…‘‘ فراز کا مژدہ سن کر زرمینہ خوشی سے اچھل پڑی۔
’’سچ فرازبھائی…! اچھا ہم بس پانچ منٹ میں پہنچ رہے ہیں اوکے اللہ حافظ۔‘‘ وہ جلدی سے بول کر سیل فون آف کر گئی پھر زرتاشہ کو دیکھ کر انبساط بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’تاشو فراز بھائی ہم سے ملنے ہاسٹل آئے ہیں‘ ہمارا انتظار کررہے ہیں چل جلدی پہنچتے ہیں۔‘‘ زرتاشہ بھی یہ سن کر کافی خوش ہوئی تھی لہٰذا اثبات میں سر ہلا گئی پھر دونوں تیز تیز قدموں سے ہاسٹل پہنچی تھیں اور اب دونوں وزیٹنگ روم میں بیٹھیں فراز کے سامنے حیرت ومسرت کا اظہار کررہی تھیں۔
’’یقین کیجیے فراز بھائی اس وقت آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے… آخر کتنے دنوں کے بعد آپ کو ہم سے ملاقات کرنے کا خیال آیا ہے نا۔‘‘ بولتے بولتے زرمینہ جملے کے اختتام میں اپنے لہجے کو تھوڑا شکایتی سا بنا کر بولی تو یک دم فراز شرمندگی سے کان کھجا کر رہ گیا جبکہ زرتاشہ فراز کو تھوڑا پزل سا دیکھ کر زرمینہ سے بولی۔
’’افوہ… زری ایک تو فراز بھائی ہم سے ملنے آئے ہیں اور تم ہو کہ شکایتی دفتر کھول کر بیٹھ گئی ہو تمہیں معلوم ہے ناکہ وہ کتنے بزی رہتے ہیں۔‘‘ کاہی گرین اور سرخ رنگ کے امتزاج کے خوب صورت پرنٹڈ کاٹن کے جوڑے میں حسب معمول سر پہ دوپٹہ جمائے زرتاشہ نے فراز شاہ کا فیور لیا تو وہ زور سے ہنس دیا جب کہ زرمینہ زرتاشہ کو فہمائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے فراز کو مخاطب کرکے بولی۔
’’دیکھیے نا فراز بھائی یہ تاشو تو ہمہ وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہے بس کوئی موقع ہاتھ آتا نہیں اور یہ مجھے لتاڑنے بیٹھ جاتی ہے۔‘‘ فراز نے مسکراتے لبوں سے زرمینہ کی بات کو سنا پھر بڑی دلکشی سے دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’اچھا بابا اس مسئلے کو ہم بعد میں ڈسکس کرلیتے ہیں پہلے تم دونوں یہ دیکھ لو۔‘‘ دو بڑے سائز کے شاپنگ بیگز فراز شاہ نے ان دونوں کی جانب بڑھائے تھے جس پر دونوں نے بے اختیار فراز کو استفہامیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے یک بیک ہوکر کہا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’خود کھول کر دیکھ لو نا۔‘‘ فراز سہولت سے بولا تو دوسرے ہی پل دونوں نے بیگ کھولا تو اس میں سے بے حد اسٹائلش اور جدید انداز کے دو بوتیک سوٹ اور اس کے ساتھ کچھ جیولری اور کاسمیٹکس کا سامان برآمد ہوا زرتاشہ نے چیزوں کو ناسمجھی والے انداز میں الٹ پلٹ کرتے ہوئے استفسار کیا۔
’’فراز بھائی یہ سب کیا ہے؟‘‘ ڈارک پرپل اور بلیک کنٹراسٹ کے شلوار سوٹ میں ملبوس زرمینہ کی آنکھوں میں بھی یہی سوال تھا۔
’’افوہ… یہ تم دونوں اتنی پریشان کیوں ہوگئیں… ڈریسز ہیں اور کیا ہے؟ اور کچھ تم لڑکیوں کی پسند کی چیزیں ہیں مجھے ویسے لیڈیز شاپنگ کا آئیڈیا بالکل نہیں ہے اب پتہ نہیں یہ چیزیں تم دونوں کو پسند آئیں یا نہیں۔‘‘ آخر میں فراز شاہ تھوڑا کنفیوز سا ہوکر بولا تو زرمینہ نے جلدی سے کہا۔
’’ارے نہیں… نہیں فراز بھائی یہ چیزیں تو بہت اچھی ہیں آپ کی چوائس تو واقعی لاجواب ہے مگر…‘‘ وہ تھوڑا رکی پھر جھجھک کر گویا ہوئی۔ ’’یہ سب کچھ ہمارے لیے لانے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ اس بار فراز نے اسے کچھ ناراضی سے دیکھا پھر نرمی سے بولا۔
’’زری اگر تم دونوں نے ایسی غیروں والی باتیں کیں تو میں تم دونوں سے خفا ہوجائوں گا اوکے۔‘‘ فراز کی بات پر وہ دونوں ہی پریشان سی ہوگئی تھیں جب ہی زرتاشہ فوراً سے پیشتر بولی۔
’’اچھا فراز بھائی ٹھیک ہے ہم رکھ لیتے ہیں آپ پلیز ناراض مت ہوئیے گا۔‘‘ جواباً فراز دلکشی سے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گیا پھر کچھ دیر ان دونوں سے ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اپنے اصل موضوع کی جانب آتے ہوئے بولا۔
’’زرمینہ اور زرتاشہ میں کچھ عرصے کے لیے لندن جارہا ہوں اگلے ہفتے میری فلائٹ ہے۔‘‘ فراز کی اطلاع پر دونوں نے چونک کر اسے دیکھا پھر یک دم ان دونوں کے چہروں پر اداسی کے بادل چھا گئے۔
’’اچھا… مگر فراز بھائی ہم لوگ آپ کو بہت مس کریں گے‘ آپ کے یہاں ہونے سے ہم دونوں کو بہت ڈھارس ملتی تھی۔‘‘ بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ پہنے بے حد ہینڈسم نظر آتے فراز کو دیکھ کر زرمینہ منہ لٹکاتے ہوئے بولی تو زرتاشہ نے بھی سر ہلا کر اس کی تائید کی جبکہ فراز فوراً بولا۔
’’ارے گڑیا… لندن یہاں سے اتنا دور تھوڑی ہے جیسے ہی تم کو میری ضرورت پیش آئے بس مجھے ایک کال کرلینا میں فوراً یہاں پہنچ جائوں گا۔‘‘
’’خیر فراز بھائی اب لندن اتنا بھی قریب نہیں…‘‘ زرتاشہ اس کی بات پر ہنستے ہوئے بولی تو زرمینہ واپس اپنے سابقہ موڈ کی جانب آتے ہوئے بے پناہ اشتیاق بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’ویسے فراز بھائی مجھے لندن دیکھنے کا بے حد شوق ہے اور وہاں کی مشہور جگہیں جیسے لندن آئی‘ برٹش میوزیم وغیرہ وغیرہ۔‘‘ زرمینہ کے چہکنے پر زرتاشہ نے تھوڑا رخ موڑ کر صوفے پر بیٹھی زرمینہ کو دیکھا پھر بڑے طنزیہ انداز میں بولی۔
’’شکر ہے تم نے یہ نہیں کہا کہ وہاں کا مجھے تاج محل‘ اہرام مصر اور ایفل ٹاور دیکھنے کا بہت شوق ہے۔‘‘
’’کیوں… کیا میں پاگل ہوں؟ جو ان جگہوں کے نام لوں گی‘ یہ سب وہاں لندن میں کہاں ہیں تم بھی تاشو کبھی کبھی حد کرتی ہو۔‘‘ فراز شاہ بڑی دلچسپی سے ان دونوں کی نوک جھونک سے محظوظ ہورہا تھا۔
’’نہیں شاید مجھے لگا کہ پروین شاکر کے مصرعوں کی طرح یہ بھی وہیں کہیں لندن میں ہوں۔‘‘ زرتاشہ بے حد سنجیدگی سے بولی جبکہ زرمینہ بری طرح کھسیانی سی ہوگئی۔
’’نہیں خیر اب یہ سب تو مجھے معلوم ہے۔‘‘ زرمینہ جھینپے جھینپے انداز میں بولی تو فراز فوراً اپنی ابرو اچکا کر استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’کون سے مصرعے پروین شاکر والے؟‘‘
’’افوہ… فراز بھائی آپ بھی کس کی باتوں پر دھیان دے رہے ہیں‘ اچھا یہ بتائیے کہ آپ کی پیکنگ وغیرہ ہوگئی۔‘‘ وہ فوراً سے پیشتر جلدی سے اس موضوع سے توجہ ہٹانے کی غرض سے فراز سے یونہی پوچھنے لگی جبکہ زرتاشہ اس وقت بے حد شرارتی نگاہوں سے زرمینہ کو دیکھے گئی۔
:…{}…’
سرد ہوائوں اور جسم کو ٹھٹھرا دینے والی خنکی نے مری کی وادیوں میں قبضہ جما لیا تھا… دلفریب اور خوب صورت نظر آنے والے اخروٹ‘ بادام اور چیڑ کے درختوں پر اب برف کی سفید دبیز تہہ جم چکی تھی تاحد نگاہ ہر جانب بس سفید براق برف کے گالے بکھرے ہوئے تھے… مہرو سویرے جلدی اٹھنے کی عادی تھی مگر آج کچھ سردی کی شدت اور تھوڑی طبیعت میں بے زاری کے باعث وہ لحاف کے اندر دبکی اماں کے دوبارہ اٹھانے پر بھی نہیں اٹھی تھی جب ہی اماں تیسری بار ذرا جارحانہ انداز میں کمرے میں آکر بولیں۔
’’مہرو… اب اگر تو نے بستر نہیں چھوڑا تو سمجھ لے آج تجھے ناشتہ نہیں ملنے والا۔‘‘ اماں کی سرزنش میں ڈوبی آواز جب اس کے کانوں میں پڑی تو وہ بے حد سستی بھرے لہجے میں لحاف کے اندر سے ہی بولی۔
’’افوہ… اماں میرا بالکل دل نہیں چاہ رہا اٹھنے کو مجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔‘‘ مہرو کی بات پر گڈو بیگم کچھ مشتعل انداز میں بولیں۔
’’اچھا پھر گھسی رہ سارا دن لحاف کے اندر میں بٹو سے کہہ دیتی ہوں کہ نہیں اٹھنے کی آج تمہاری باجی۔‘‘
’’بٹو… بٹو…‘‘ مہرو نے بٹو کا نام سنا تو بے حد حیران ہوکر منہ ہی منہ میں بڑبڑائی پھر دوسرے ہی لمحے بجلی کی سی تیزی سے لحاف ایک جانب پھینک کر بستر سے سرعت سے اٹھتے ہوئے بولی۔
’’اماں… کیا بٹو آیا ہے؟‘‘ اماں نے بڑے اچھنبے سے سے دیکھا۔
’’ابھی تو… تو لحاف میں بلی کی طرح دبکی نکلنے کو تیار نہیں تھی…!‘‘
’’ارے بھئی اماں بتائو نا کہ کیا بٹو آیا ہے؟‘‘ وہ تیزی سے بولی تو اماں نے ایک نگاہ اسے دیکھا۔ پھر اثبات میں سر ہلا کر گویا ہوئیں۔
’’ہاں بے چارا کب سے باہر بیٹھا ہے مگر تجھے تو اپنی نیند سے فرصت نہیں…‘‘
’’اف… اماں تم بھی نا… مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔‘‘ اس خبر نے گویا اس کے اندر بجلی سی بھردی تھی وہ ڈوپٹہ سمبھالتی عجلت میں پیروں میں چپل ڈال کر دروازے کی طرف بھاگی۔
’’لو بھلا اور سنو اس لڑکی کی باتیں… بالکل ہی بائولی ہوگئی ہے‘ میں نے باہر سے بیٹھے بیٹھے تجھے بتایا تھا مگر تو نے تو جیسے کان ہی لپیٹے ہوئے تھے۔‘‘ مہرو عقب سے آتی اماں کی آواز کو ان سنی کرتے ہوئے تیزی سے چھوٹے سے لائونج میں آئی تو موڑھے پر بٹو کو بیٹھے دیکھ کر بے حد مسرت آمیز لہجے میں بولی۔
’’ارے بٹو تم… تم آگئے میرے گھر۔‘‘ بٹو مہرو کو دیکھ کر جلدی سے اٹھتے ہوئے بولا۔
’’ہاں باجی بھلا کیوں نہ آتا آپ کے گھر۔‘‘ اس پل بٹو کے چہرے سے خوشی وانبساط کی جیسے قوس وقزح پھوٹ رہی تھی مہرو نے بخوبی اس وقت بٹو کے چہرے اور لہجے سے جھلکتی خوشی کو محسوس کیا تھا انسپکٹر رانا آصف کے ٹرانسفر ہوجانے پر ارم ایمان زیادتی کیس ایک ایمان دار آفیسر کے ہاتھ آگیا تھا‘ نتیجتاً داور حبیب اور اس کے ساتھی خطرہ بھانپ کر فی الفور انڈر گرائونڈ ہوگئے تھے جبکہ داور کے مری سے غائب ہونے پر بٹو نے بے پناہ سکون وطمانیت کا سانس لیا تھا اور دوسرے دن ہی مہرو سے ملنے اس کے گھر آپہنچا تھا‘ جبکہ مہرو نے بٹو کو اپنے سابقہ انداز میں واپس آتے دیکھ کر ڈھیروں دل میں شکر ادا کیا تھا۔
:…{}…’
گہری شام بہت سرعت سے رات کی تاریکی میں ڈھل چکی تھی کائنات کی ہر شے گھپ اندھیرے میں ڈوبی رات کی سیاہی کا ہی حصہ بن چکی تھی سونیا بڑے مگن انداز میں اپنے گھر خود ہی ڈرائیور کرکے پہنچی تھی وہ جیسے ہی اپنے گھر میں داخل ہوئی تو کاریڈور میں کھڑی سارا بیگم نے ملازم کو ہدایت دیتے ہوئے جونہی سامنے سے آتی سونیا کو دیکھا ان کے وجود میں خوشی وانبساط کی جیسے لہر سی دوڑ گئی‘ آج بہت دنوں بعد وہ اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔
’’اوہ… سونیا مائی ڈارلنگ بے بی تم…!‘‘ وہ والہانہ انداز میں سونیا کی جانب بڑھیں اور اگلے ہی پل اسے گلے لگا لیا۔
’’ہوں اپنی مما کا آج تمہیں خیال آہی گیا ورنہ تم تو یہاں کا راستہ ہی بھول گئی تھیں نا۔‘‘ سارا بیگم نے اس سے علیحدہ ہوتے ہوئے کہا تو سونیا لاپروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔
’’مما ایسی کوئی بات نہیں ہے بس کچھ بزی تھی۔‘‘ وہ دونوں چلتی ہوئی لائونج کی جانب آگئیں اور وہیں بیٹھ گئیں۔
’’اور سنائو وہاں سب ٹھیک چل رہا ہے نا کامیش کیسا ہے اور تمہاری آنٹی…؟‘‘ سارا بیگم ملٹی کلر کی کاٹن کی شرٹ پر آف وائٹ پاجامے میں ملبوس سونیا کو بڑی محبت سے دیکھتے ہوئے بولیں تو سونیا کا موڈ تھوڑا آف ہوگیا۔
’’ہوں اس کامیش کو بھلا کیا ہونا ہے اور آنٹی… وہ بھی مست ہیں اپنی لائف‘ اپنی این جی اوز اور وہاں کی پارٹیز میں۔‘‘ سارا بیگم نے اپنی بیٹی کی بات بغور سنی پھر بڑے طنزیہ انداز میں کندھے اچکا کر بولیں۔
’’ہاں بھئی جب شوہر صاحب نے انہیں ہر طرح کی آزادی دے رکھی ہے تو بھلا کیوں نہ اپنی من مانی کرتی پھریں گی۔‘‘ پھر اچانک کچھ یاد آنے پر بولیں۔ ’’اچھا تم یہ بتائو کہ وہاں تم تو خوش ہونا کامیش کا تمہارے ساتھ سلوک کیسا ہے؟‘‘
’’اونہہ… وہ شخص صرف مشین ہے جو منہ اندھیرے آن ہوجاتی ہے اور پھر رات ڈھلے اس کابٹن آف ہوجاتا ہے۔‘‘ سونیا بے حد برا سا منہ بنا کر بولی تو سارا بیگم نے بے حد حیران کن نگاہوں سے اپنی بیٹی کی جانب دیکھا۔
’’کیا مطلب سونیا… مطلب تم کامیش کے ساتھ خوش نہیں ہو؟‘‘ اس وقت ان کے لہجے میں تفکر وپریشانی کے رنگ بخوبی جھلکے تھے جسے محسوس کرکے سونیا بڑے بے پروا انداز میں بولی۔
’’ڈونٹ وری مما… میرا یہ ایشو نہیں ہے کہ کامیش مجھے خوش رکھ رہا ہے یا نہیں بلکہ فوکس پوائنٹ تو یہ ہے کہ فراز شاہ کبھی خوش نہ رہے وہ لمحہ لمحہ سکون وطمانیت کو ترسے اسے چین کی نیند نصیب نہ ہو۔‘‘ اس پل سونیا کے لہجے میں فراز کے خلاف اس قدر نفرت وتنفر تھا کہ سارا بیگم بھونچکا سی بیٹھی اسے دیکھتی رہ گئیں جو اب اپنے لبوں کو بھینچے سرخ چہرہ لیے اپنے اشتعال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی تھی کچھ دیر تو سارا بیگم کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھیں پھر یونہی مہر بہ لب بیٹھیں بے حد اچھنبے سے اسے ٹکر ٹکر دیکھے جارہی تھیں کافی دیر بعد جب وہ بولنے کے قابل ہوئیں تو بے پناہ پریشانی کے عالم میں بولیں۔
’’کیا مطلب… سونیا میں کچھ سمجھی نہیں تم کہنا کیا چاہتی ہو… اور یہ تمہارے اور کامیش کے درمیان فراز بھلا کہاں سے آگیا؟‘‘ ماں کی پریشانی کو درخود اعتنا نہ سمجھتے ہوئے سونیا بے پناہ ہٹیلے انداز میں بولی۔
’’اونہہ… بیچ میں فراز نہیں بلکہ کامیش آیا ہے اور وہ بھی اس فراز شاہ کی وجہ سے مما… آپ دیکھیے گا کہ میں اس بات کی سزا فراز کو ایسی دوں گی کہ وہ ساری زندگی مجھے یاد رکھے گا۔‘‘
’’یہ… یہ کیا تم اناب شناب بولے جارہی ہو سونیا۔‘‘
’’یہی حقیقت ہے مما۔‘‘
’’ک… کیسی حقیقت؟‘‘
’’کہ یہ شادی میں نے صرف اور صرف فراز شاہ سے اپنے ٹھکرائے جانے کا انتقام لینے کے لیے کی ہے ورنہ تو میں اس گھر میں تھوکتی بھی نا۔‘‘ بالآخر سونیا نے زہرخند لہجے میں وہی بات کہہ ڈالی جس کا خدشہ سارا بیگم دل ہی دل میں محسوس کرکے ہولے جارہی تھیں انہوں نے غیر یقین نگاہوں سے سونیا کو دیکھا پھر اٹکتے ہوئے لہجے میں بولیں۔
’’میں تو سمجھی تھی کہ تم نے فراز کو دل سے نکال کر ہی کامیش سے رشتہ جوڑا ہے۔‘‘
’’اوہ کم آن مما… آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں سونیا اعظم خان جس نے بچپن سے فراز کو چاہا اس کے سنگ ہمراہی کے خواب سجاتی رہی بس ایک ہی پل میں ایک ہی جھٹکے میں اپنے دل کے اندر سے نکال باہر کروں گی…‘‘ وہ کافی جھنجلا کر بولی پھر قدرے توقف کے بعد بے حد ٹھہرے ہوئے انداز میں کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’یہ حقیقت ہے کہ فراز میرے دل ودماغ اور روح میں ابھی بھی موجود ہے مگر اب فرق یہ ہے کہ پہلے وہ میری محبت تھا اور اب وہ صرف نفرت ہے مجھے نفرت ہے اس سے بے تحاشا بے پناہ جس نے میری محبت میری چاہت کو کس قدر سنگ دلی سے ٹھکراتے ہوئے ایک بھی لمحہ ایک بھی پل میرے بارے میں نہیں سوچا وہ بے حس خود غرض شخص مجھ سے دوستی کا رشتہ رکھ کر میری آنکھوں میں موجود پیغام کو جان بوجھ کر ان دیکھا کرتا رہا… مما کیوں کیا اس نے یہ سب بتائیے… کیوں کیا اس نے میرے ساتھ؟‘‘ اس پل خود پر وہ اپنا کنٹرول کھوچکی تھی سارا بیگم کے دونوں بازو جھنجوڑ کر بولی تھی۔ ’’مما وہ سب جانتا تھا… سب سمجھتا تھا تو پھر کیوں…؟ کیوں اس نے پہلے ہی قدم پر مجھے روکا کیوں نہیں مجھے ڈس کریج کیوں نہیں کیا… وائے مما… وائے‘ اس نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ بولتے ہوئے اچانک وہ بلک بلک کر رونے لگی تو اسی پل سارا بیگم کے تحیر کا شیشہ چھن سے ٹوٹا تھا انہوں نے بے پناہ تڑپ کر سونیا کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
:…{}…’
ماریہ بک شاپ میں اپنی مطلوبہ بک کی تلاش میں مگن تھی جب ہی عقب سے اسے بے حد گھمبیر آواز سنائی دی۔
’’ہیلو ماریہ ڈئیر…‘‘ ماریہ جو شیلف سے کتاب نکال کر اس کے اوراق الٹ پلٹ کرکے دیکھ رہی تھی یک دم بھاری مردانہ آواز پر وہ بری طرح گڑبڑائی جبکہ گھبراہٹ کے عالم میں اس کے ہاتھوں سے کتاب چھوٹ کر اس کے قدموں میں جاگری تھی ماریہ نے بے اختیار سامنے موجود نوارد کو دیکھا تو اگلے ہی لمحے جیسے اس کی سانسیں جسم میں اٹکنے لگیں کپکپی سی طاری ہوگئی جو اس وقت اسے بڑی پراسرار آنکھوں سے دیکھتا اسی انداز میں مسکرا بھی رہا تھا۔
’’تم… تم یہاں بھی میرا پیچھا کرتے ہوئے چلے آئے۔‘‘ وہ بھینچے بھینچے لہجے میں بے حد ناگواری سے بولی جب کہ اس دم میک اس کے قدموں کی جانب جھکا اور کتاب اٹھا کر اس کے ہاتھوں میں تھماتے ہوئے ہنوز انداز میں بولا۔
’’صرف یہاں نہیں مائی ڈئیر… تم جہاں جہاں بھی جاتی ہو وہاں وہاں میں تمہارے ساتھ ہوتا ہوں۔‘‘
’’میک تم لوگ مجھے مینٹلی ٹارچر کررہے ہو اور ایسا عمل قطعی طور پر مناسب نہیں ہے۔‘‘ ماریہ اس پل کافی مشتعل لگی تھی مگر اس نے اپنے لہجے کو فی الحال نرم ہی رکھا تھا جواباً پہلے تو میک کھل کر دھیرے سے ہنسا پھر دوسرے ہی لمحے خطرناک حد تک سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’یہ باتیں تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگ رہیں بے بی اور مائی ڈئیر جو عمل تم کررہی ہو وہ کس حد تک گھٹیا اور برا ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔‘‘ میک کے گھٹیا اور برا کہنے پر ماریہ کو اندر سے بے حد تائو آیا تھا مگر مصلحتاً بولی کچھ نہیں کچھ لمحے یونہی خاموشی سے سرک گئے جب ہی میک بے حد سپاٹ لہجے میں گویا ہوا۔ ’’تم وہاں پھر کیوں گئی تھیں؟‘‘ ماریہ جس کی ذہنی رو کہیں اور جابہکی تھی میک کے جملے پر اس نے بے پناہ چونک کر اس کی جانب دیکھا پھر سرعت سے خود کو سنبھال کر گویا ہوئی۔
’’وہ… میں… میں کچھ چیزیں انہیں واپس کرنے گئی تھی۔‘‘
’’اوہ آئی سی… مگر وہ چیزیں واپس کرنے پر تم نے پورے دو گھنٹے صرف کردیئے۔‘‘ میک بے حد نرم وملائم لہجے میں بول رہا تھا جیسے پانچ سالہ بچی کو کوئی پیار سے چمکارتے ہوئے کوئی بات اگلواتا ہے ماریہ ایک بار پھر میک کی بات پر اندر سے ہل گئی۔
’’ہاں… وہ… وہ کچھ دیر ہوگئی تھی۔‘‘ وہ تھوڑا ہڑبڑائی پھر اگلے لمحے تیزی سے بولی۔
’’مگر میک میرا یقین کرو میں نے ان سب سے تمام تعلق توڑ دیئے ہیں اب میرا ان سب سے کوئی واسطہ نہیں ہے میں اس دن آخری مرتبہ وہاں گئی تھی پلیز میری بات پر بھروسہ کرو مجھے اپنی مام اور برو سے زیادہ کوئی عزیز نہیں اور اس بات کے نتیجے میں ان دونوں کو دکھ وتکلیف دینے کے ساتھ ساتھ ان کی رسوائی کا بھی باعث بنوں گی اب مجھے سمجھ میں آگیا ہے میک… وہ قدم میری جذباتیت اور بچپنے کی ایک حماقت تھی۔‘‘ ماریہ بے حد شدومد سے میک کو یقین دلانے کی کوشش کررہی تھی جبکہ میک اپنے مخصوص انداز میں دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی جیبوں میں ڈالے مسلسل مسکرا رہا تھا۔
’’میک میں ان لوگوں کی سحر انگیز باتوں میں آگئی تھی… پلیز ٹرسٹ می۔‘‘ وہ ایک بار پھر بے حد عاجزی سے بولی تو اگلے ہی پل میک کے منہ سے نکلے ہوئے جملے اسے حیران کر گئے وہ پوری طرح آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے بس ٹکر ٹکر اسے دیکھتی رہی۔
’’تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا بے بی… کیا تم مجھ سے شادی کروگی؟‘‘ میک نے اپنا سوال پھر دہرایا اسی دم ماریہ کا سکتہ جیسے ٹوٹا تھا‘ اس نے بے حد بے یقینی وتحیر کے عالم میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ… یہ تم کیا کہہ رہے ہو میک… کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں ولیم کے ساتھ انگیج ہوں۔‘‘ جواباً وہ اثبات میں سر ہلا گیا پھر سہولت سے گویا ہوا۔
’’میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم ولیم سے انگیج ہو اور یہ بھی معلوم ہے مجھے کہ وہ بے چارا تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور تم اس کو بالکل لفٹ نہیں کراتیں اور آج کل وہ تم سے کافی ناراض اور کچھ بدگمان بھی ہے۔‘‘
’’اوہ مائی گڈنیس… یہ انسان تو میری ساری باتیں مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے اتنا تو شاید میرا سایہ بھی میرا پیچھا نہیں کرتا جتنا یہ شخص کرتا ہے۔‘‘ وہ اندر ہی اندر بے حد خائف ہوکر ناگواری سے خود سے بولی۔
’’میری مام نے اسے میرے لیے پسند کیا ہے اور اب تو ہماری شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہوجائے گی۔‘‘ ماریہ نے میک کی بات کو یکسر نظر انداز کردیا تھا۔
’’اوکے… کوئی بات نہیں… یا تو تم جلد از جلد ولیم سے شادی کرلو یا پھر مجھ سے اس کے بعد ہم تم پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اپنی جگہ سے پلٹا اور تیزی سے ڈگ بھرتا ہوا دیکھتے ہی دیکھتے شاپ سے باہر نکل گیا جب کہ ماریہ ششدر سی وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
:…{}…’
مہرو بٹو کو اپنی پرانی جون میں واپس آتا دیکھ کر بے حد خوش ومطمئن تھی وہ دونوں آج سہ پہر کو ہی لالہ رخ کو لینے گیسٹ ہائوس جاپہنچے تھے لہٰذا لالہ رخ اپنے کاموں سے تقریباً فارغ ہی بیٹھی تھی۔ بٹو کو مہرو کے سنگ آتے دیکھ کر وہ بھی خوش گوار حیرت کا شکار ہوئی تھی۔
’’ارے واہ… آج تو بڑے بڑے لوگ ہمارے آفس آئے ہیں… واہ بھئی کیا بات ہے۔‘‘ لالہ رخ مسکراتے ہوئے بٹو کو دیکھ کر گویا ہوئی تو وہ بری طرح جھینپ گیا۔
’’باجی آپ بھی نا…‘‘
’’ہاں لالہ تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو دیکھو نا یہ ہمیں کیسے بھول گیا تھا۔‘‘ مہرو بٹو کو پزل دیکھ کر فوراً بولی تھی پھر لالہ رخ ایک دو چیزیں سمیٹ کر ان دونوں کے ہمراہ ہی گیسٹ ہائوس سے باہر آگئی۔ ہلکی ہلکی چلتی سرد ہوا جسم کو کپکپائے دے رہی تھی‘ لالہ رخ اپنی آف وائٹ شال کو جس پر ملٹی رنگ کے دھاگوں سے بہت خوبصورت کام کیا گیا تھا اپنے وجود پر اچھی طرح لپیٹتے ہوئے مہرو سے بولی۔
’’کیا خیال ہے نیچے کی سڑک پر جاکر نان اور پائے نہ کھالیے جائیں اور پھر بعد میں فضلو چاچا کی دکان کا ملائی اور کھوئے والا گرما گرم گاجر کا حلوہ۔‘‘ مہرو یہ سن کر خوشی سے جیسے اچھل پڑی۔
’’ارے واہ… لالہ کیا زبردست آئیڈیا آیا ہے تمہیں سچ وہ کاجو بادام والا حلوہ کل رات ہی میرے خواب میں آیا تھا چلو جلدی چلتے ہیں۔‘‘ مہرو سے تو جیسے ایک منٹ بھی صبر نہیں ہورہا تھا۔
’’ہاں چلو باجی مگر گاجر کا حلوہ میں آپ دنوں کو کھلائوں گا۔‘‘ بٹو بھی بڑے اشتیاق آمیز لہجے میں بولا تو دونوں پل کی پل چونکیں۔
’’مگر بٹو تمہارے پاس پیسے کہاں سے آئے ہمیں حلوہ کھلانے کے لیے۔‘‘ مہرو نے کچھ الجھ کر استفسار کیا تو بٹو ایک لمحے کے لیے سٹپٹایا داور حبیب نے کچھ پیسے اسے ڈیرے کی صفائی اور گھوڑوں کی مالش کے عوض دیئے تھے جو اس نے بہت شوق واحتیاط سے رکھ لیے تھے کہ وہ مہرو اور لالہ باجی کو کچھ کھلائے گا۔
’’وہ دراصل ابا نے مجھے دیئے تھے تو میں نے سنبھال کر رکھ لیے تھے۔‘‘ وہ ماتھے پر اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا تو معاً لالہ رخ کی نظر اس کے ہاتھوں میں جا پڑی۔
’’ارے بٹو یہ تمہارے ہاتھوں کو کیا ہوا… یہ کیسے پھٹ گئے اوہ مائی گاڈ یہ تو کافی زخمی ہورہے ہیں۔‘‘ لالہ رخ نے بے ساختہ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر پریشان ہوکر کہا تو مہرو بھی بٹو کے ہاتھوں کو دیکھ کر متفکر ہوگئی۔
دراصل اس کی جلد بے حد نحیف ونازک تھی وہ جب کبھی اپنے ہاتھوں سے کوئی مشقت بھرا کام کرتا اس کے ہاتھوں کی جلد یونہی پھٹ جاتی تھی اور اس میں سے خون بہنے لگتا تھا۔
’’وہ باجی میں نے آپ لوگوں کو بتایا تھا نا آج کل گھر میں کچھ کام کررہا تھا تو…‘‘ اتنا کہہ کر وہ خود ہی خاموش ہوگیا۔
’’اف بٹو تمہاے ماں باپ کو ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ تمہاری اسکن کتنی نازک ہے۔ لالہ چلو پہلے ہم حکیم جی کے پاس جاکر بٹو کے لیے دوا لیتے ہیں۔‘‘ مہرو آخر میں لالہ رخ سے مخاطب ہوکر بولی تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا اور پھرتی سے حکیم جی کے دوا خانے والے راستے کی جانب چل پڑے۔
:…{}…’
فراز شاہ نے زرتاشہ اور زرمینہ کو آج لنچ پر انوائٹ کیا تھا وہ لندن جانے سے پہلے ان دونوں کے ساتھ لنچ کرنا چاہتا تھا جب اس نے یہ خواہش ان دونوں سے ظاہر کی تو زرتاشہ کچھ سوچ کر بولی۔
’’فراز بھائی تو پھر آپ یونیورسٹی آجائیے ہم یہیں لنچ مل کر کرلیں گے۔‘‘
’’افوہ… نہیں فراز بھائی بالکل نہیں میں تو یہاں کی وہ ہلدی والی بنا بوٹی کی بریانی کھا‘ کھا کر تھک گئی ہوں ہم کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں لنچ کریں گے۔‘‘ زرمینہ جس نے اپنے سیل فون کا اسپیکر آن کیا ہوا تھا فوراً سے پیشتر زرتاشہ کی بات کی بھرپور نفی کرتے ہوئے بولی جس پر زرتاشہ نے اسے تادیبی نظروں سے دیکھا تھا۔
’’اچھا تو پھر تم چکن برگر یا رول کھا لینا۔‘‘
’’اف تاشو… اللہ کے واسطے ان چیزوں کے نام میرے سامنے مت گنوائو تقریباً یہ چیزیں ہم روز ہی کھاتے ہیں۔‘‘
’’اوکے… گرلز تو پھر میں ایسا کرتا ہوں کہ کسی اچھے سے ریسٹورنٹ کا کھانا پیک کروا کر لے آتا ہوں‘ پھر ہم تینوں مل کر کھالیں گے۔‘‘ فراز سمجھ گیا تھا کہ زرتاشہ اس کے ہمراہ باہر جانے سے ہچکچا رہی ہے۔ لہٰذا وہ بیچ کا راستہ نکالتے ہوئے سہولت سے بولا تو زرتاشہ بڑے جوش سے گویا ہوئی۔
’’ارے ہاں یہ ٹھیک رہے گا فراز بھائی۔‘‘
’’یہ ٹھیک رہے گا فراز بھائی۔‘‘ زرمینہ بالکل زرتاشہ کی ٹون میں اس کی نقل اتارتے ہوئے بولی پھر بے حد چڑ کر گویا ہوئی۔
’’کیا ٹھیک ر ہے گا… بالکل نہیں فراز بھائی بس مجھے کسی بہت اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا‘ کھانا ہے بس۔‘‘ اور پھر زرتاشہ اس دفعہ بھی زرمینہ کی ضد کے آگے مجبور ہوکر لنچ پر چلی آئی تھی زرمینہ بے حد ایکسائٹڈ ہورہی تھی جو فراز کے ہمراہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔
’’پتہ ہے فراز بھائی میں نے کراچی کے ریسٹورنٹس کے بارے میں بہت سنا ہے میرا بڑ ادل چاہتا تھا جانے کو مگر جاتے کیسے۔‘‘ گرین اور آف وائٹ پرنٹ کے خوب صورت سے لیلن کے سوٹ میں ملبوس زرمینہ نے اپنے وجود پر مسٹرڈ اینڈ برائون رنگ کی علاقائی چادر اوڑھی ہوئی تھی جبکہ زرتاشہ نے ٹی پنک رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں بالکل زرمینہ کی مانند چادر لے رکھی تھی دونوں لڑکیاں اس حجاب میں بے حد پیاری اور معصوم لگ رہی تھیں۔ واقعی عورت کا اصل گہنا اس کا پردہ ہے وہ چاہے کتنی ہی خوب صورت اور دلکش ہو مگر بے پردگی کا داغ اس کے حسن کو گہن لگا دیتا ہے اور حجاب میں ملبوس لڑکی اگر خوب صورتی میں بھلے کم بھی ہو تو پردہ اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے مگر یہاں تو حسن بھی تھا اور حجاب کا نور بھی… فراز نے گاڑی شہر کے مشہور ریسٹورنٹ کے باہر روکی اور گاڑی والیٹ پارکنگ کو دے کر ان دونوں کے ہمراہ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔
’’وائو… فراز بھائی یہ ریسٹورنٹ تو بہت خوب صورت لگ رہا ہے۔‘‘ زرمینہ عمارت کو دیکھ کر متاثر کن لہجے میں بولی تو زرتاشہ کافی تپ کر بولی۔
’’دیکھیے فراز بھائی یہ کہیں بھی جاتی ہے تو بالکل پینڈوں کی طرح آنکھیں پٹپٹانے لگتی ہے۔‘‘ جواباً فراز بے اختیار ہنسا جب کہ زرمینہ اپنی جگہ خفیف سی ہوگئی وہ تینوں اندر داخل ہوئے تو اندر ملگجے سے اجالے میں کچھ دیر بعد ہی ان تینوں کی آنکھیں مانوس ہوئی تھیں فراز نے پہلے سے ٹیبل ریزرو کروالی تھی ویٹر کی معیت میں وہ تینوں اپنی میز پر پہنچے تھے۔
’’ہائے اللہ کتنی اچھی جگہ ہے یہ۔‘‘ زرمینہ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے تھوڑی نیچی آواز میں بولی تھی جبکہ ان کی میز کے بالکل مقابل دو نفوس حیرت سے چونکے تھے۔
’’یہ فراز بھائی کن لڑکیوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں ان کے حلیے سے یہ نہ ان کی ریلیٹو لگ رہی ہیں اور نہ ہی فرینڈز۔‘‘ باسل حیات الجھی ہوئی نگاہوں سے فراز کے ہمراہ ان دو لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں بولا جب کہ احمر یزدانی اپنی جگہ بیٹھے سوچ رہا تھا کہ بھلا زرمینہ یہاں کس لڑکے کے ساتھ آئی ہے‘ دوسرے ہی لمحے احمر کے چہرے پر پتھریلے سے تاثرات ابھر آئے تھے۔
(ان شاء اﷲ باقی اگلے شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close