Hijaab Feb-17

زملونی

عابدہ احمد عابی

نوے کی آخر دہائی کی صبح کا سورج دھیرے دھیرے مشرق سے سر اٹھا رہا تھا۔ گرمی کی حدت سرگودھا کی اس چھوٹی سی تحصیل میں بڑھتی جارہی تھی۔ وہ ابی کے ساتھ مارننگ واک سے واپس آتی ان کے تیز قدموں کا ساتھ دینے میں ہلکان ہوئی جارہی تھی۔ اپنی گلی کا موڑ مڑتے ہی ابی کی رفتار چیونٹی کو بھی مات دینے لگی تھی۔
’’بھاگاں والئیو… نام جپو مولا نام… مولا نام…‘‘ ابی کی بھرپور، تازگی بھری صدا اس محلے کی اس بڑی سی گلی میں گونجی تھی۔ رات کو گلی میں ایک لائن میں لگی چارپائیوں پہ سوئے کسمساتے جوانوں اور عمر رسیدہ لوگوں کو جگانے کے لیے یہ صدا کافی تھی یہ نماز کا اشارہ تھا۔ کئی مرد نماز کی تیاری کرنے اندر گھروں کو بھاگے۔ یہ اس محلے کے کیا بلکہ تحصیل کے مشہور حکیم خلیل اللہ تھے۔ عمر کی ساٹھ دہائیاں گزار کر اب سترھویں کی سیڑھی چڑھنے کو تیار لیکن بلا کے چاق و چوبند تھے۔
’’او چاچا جی… آپ کیوں نور تڑکے ویلے جاگے ہووں کو جگانے آجاتے ہو؟‘‘ ایک جھنجلائی ہوئی سی آواز آئی۔ ابی مسکرائے تھے۔ اس نے ابی کے سست پڑتے قدموں کو دیکھ کر اپنی رفتار تیز کرلی یہ کہتے ہوئے کہ۔
’’ابی… میں چلوں آپ کو تو یہاں ٹائم لگ جائے گا۔‘‘ اور ابی اب پوری طرح تیار تھے اس جوانی کی لے پہ مست ناچتے نوجوان کی کلاس لینے کو۔ ابی نے سر ہلا کر اسے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور پھر مسکرا کر آواز کی سمت ذرا سی گردن موڑی۔
’’او پتر… آکھ کھلی ہونی کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ جاگ رہا ہے۔ میں تو بھاگاں والئیوں کو جگا رہا ہوں۔ تو سو جا دوبارہ اپنے نصیب کی طرح۔‘‘ چارپائی پہ لیٹے وجود کی طرف دیکھ کر ٹھنڈے میٹھے لہجے میں کہا گیا یہ جملہ اس کے سر پر سے گزرا تھا۔
’’پا… اس کم باخت (کم بخت) کو چھوڑ۔ یہ تو ویلا مسٹنڈا ہے۔ نہ کسی کام جوگا نہ ہی نماز قرآن جانے…‘‘ یہ آواز قطار میں بنے گھروں میں سے ایک میں سے نکلتی ہاتھ میں میٹھی لسی کا جگ اور دوسرے میں گلاس پکڑے اس ویلے مسٹنڈے کی ماں (مینا بیگم) کی تھی۔ معلوم پڑتا تھا کہ ناکوں ناک آئی ہوئی تھی وہ اپنے سپوت سے۔
حکیم خلیل اللہ ذرا سا مسکرا کر کسی معمول کی طرح اسی مسٹنڈے کی چارپائی کے کنارے ٹک گئے اور مینا بیگم نے جھٹ سے اسٹیل کے چمکے دمکتے (خاص حکیم جی کے لیے مخصوص) گلاس میں لسی انڈیلنی شروع کردی۔
’’بے بے… ساری کیا حکیم جی کو ہی لسی پلا کر ٹھنڈا کر دے گی؟ کہ ہمارے اوپر بھی رحم کرو جناب عالی…‘‘ اسی مسٹنڈے نے چڑانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجا کر بے بے کو دیکھا جو کہ ’’ہونہہ‘‘ کہہ کر سر جھٹک ان سنی کردی گئی۔
’’چل… بوھتی بکواس نہ کر جا کے بوتھا دھو تاکہ تجھے کچھ ہوش آئے۔ نیش نہ ہو تو۔‘‘ حکیم صاحب سے مزید لسی پینے پہ اصرار کرتی بے بے نے اس کو لتاڑا تھا۔ جو اب بڑے مدہوش انداز میں سینے پہ ہاتھ دھرے یک ٹک سامنے والے گھر کی چھت پہ نظریں جمائے لیٹا تھا۔ جہاں پہ دیوار کی اوٹ سے جھانکتا میک اپ سے سجا چہرہ مسکرا مسکرا کر آنکھوں ہی آنکھوں میں سرگوشیاں کررہا تھا۔ حکیم جی نے ہاتھ کے اشارے سے مینا بیگم کو دوسری بار گلاس بھرنے سے روکا۔
’’وے… آسمانوں سے کیا پری اترے گی تیرا بوتھا دھلانے۔ چل اٹھ کہ اٹھاؤں جوتی۔‘‘ نیش ٹس سے مس نہ ہوا تو مینا بیگم نے اپنی کراری آواز میں اسے دھمکی لگائی اور عملی طور پر اپنے کہے کی لاج رکھنے پاؤں میں پہنی سوفٹی اتارنے کو جھکیں۔
’’ہائے… اوئی…‘‘ اگلے ہی پل وہ منہ سے مختلف آوازیں نکالتی پیر پکڑے چارپائی پہ لڑھک سی گئیں۔
’’مینا بیگم… کہتے ہیں کہ گونگے کی رمزیں اس کی ماں ہی جانے۔ خیر نال جوان بیٹوں کی ماں ہے تو سمجھ ان کی رمزیں۔ سارا محلہ سمجھ گیا تو ابھی تک گواچی گاں کی طرح بوھے بوھے پھر رہی ہے۔ پتر کی صلاح لے لے۔ تیرے پیروں کا چکر تو ختم ہو تو ایڈی (ایڑھی) کا درد بھی دم دبا کر بھاگے۔‘‘ جانے کو پر تولتے حکیم جی نے یہ بات کہہ کر جیسے مینا بیگم کے سپوت کی مشکل حل کی۔ اس نے ممنون نظروں سے انھیں دیکھا اور پھر اس کو جو کب سے گھر کی چھت پہ بنے پانچ فٹی دیوار سے چپکی اس کے نظروں سے تحسین سمیٹ رہی تھی۔
’’حکیم جی… مرن چوگھاٹ (چارپائی) پہ بیٹھی ہوں۔ کبھی اس پنج فٹی کو اپنی نوں نہیں بناؤں گی۔‘‘ جیسے جلتے توے پہ پانی کا قطرہ ٹپکائیں تو وہ چھل چھل اچھلتا ہے ویسے ہی مینا بیگم کو تاؤ چڑھا تھا۔
’’پوار محلہ ان کو موم بتیاں یونہی نہیں کہتا تھا… پتہ نئی کہاں کہاں چانن کیا ہوا ہے۔‘‘ مینا بیگم کو محسوس ہی نہ ہوا حکیم صاحب کب کے اپنی بات کرکے جاچکے تھے اور وہ ابھی بھی منہ اونچا کئے بولتی طبل جنگ بجائے جارہی تھیں۔ جہاں سے اس نازنیں کا سر غائب ہوچکا تھا۔
’’وے نیشا… یہ نہ سمجھ کہ میری ان آنکھوں پہ کھوپے (چشمے) چڑھے ہوئے ہیں اور مجھے نظر نہیں آتا سب جانوں ہوں۔‘‘ اب بیٹے کی شامت آئی تھی جو دوسری طرف کروٹ بدل کر کھیس تان چکا تھا۔ جانتا تھا کہ اب اماں کی زبان اس کے اپنے قابو بھی آنے والی نہیں تھی۔
…٭٭٭…
’’پھوپو… آپ پھر آجائیں گی نا چھٹی کے وقت۔‘‘ چار ناتواں، جواں سی بچیاں اس چھوٹے سے قد اور فربہی جسم کی تیس، بتیس سال کی عورت کے دائیں بائیں چلتی اس کی رفتار کا ساتھ دینے میں ہلکان ہوئے جارہی تھیں۔ جب ان میں سے ایک مسکین سی شکل والی نے پوچھا۔
’’پہلے کبھی ناغہ ہوا ہے میرا جو آج کروں گی۔‘‘ چہرے پہ نرمی اور آواز خاصی کرخت تھی۔ شاید اس کی تسلی ہوگئی تھی اس لیے گہرا سانس خارج کیا۔
’’چلو اسکول آگیا… ڈرنے کی بات نہیں۔ کل کی دھلائی کے بعد ادھر آنے کی ہمت نہیں کریں گے پلے…‘‘ اسی لڑکی کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اسے تسلی دی۔ تو وہ سب سر ہلاتی، مریم کو کورس میں سلام کرکے اسکول کا گیٹ پار گئیں۔
مریم وہیں کھڑی پہلے تو ان کو آدھ کھلے گیٹ سے اسکول کی لمبی سی روش پہ چلتا دیکھتی رہی اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگئیں تو گردن گھما کر سارے روڈ کا بھرپور جائزہ لیا جبکہ ذہن کی اسکرین پر کل کا واقعہ پورے سیاق و سباق سے چلنے لگا۔
اپنے جلو میں ان چاروں کو حسب معمول اسکول چھوڑنے جانے والی پھوپو (مریم) کو راستے میں ہی محلے کی ایک عورت آٹکرائی اور اپنے کسی گھریلو مسئلے کا ذکر کرنے لگی۔ مریم نے ان چاروں کو آگے چلنے کا اشارہ کیا اور خود وہیں کھڑی ہوکر اس سے بات کرنے لگی۔ البتہ کبھی کبھی بات کرتے اچٹتی نظروں سے لڑکیوں کو بھی دیکھ لیتی جو کہ اب مین روڈ پہ جا کھڑی ہوئی تھیں۔
اچانک ہی وہ ہوا تھا جس نے ایک پل کو تو مریم سمیت اس سڑک پہ چلتے ہوئے ہر شخص کو حیرت کا شدید جھٹکا دیا تھا۔ سڑک کنارے کھڑی پھوپو کا انتظار کرتی ایک دوسری سے خوش گپیوں میں مصروف ان چاروں میں سے سب سے چھوٹی (عائشہ) کے سر پر آسمان ٹوٹا تھا۔ مخالف سمت سے موٹر سائیکل پہ آنے والے دو اوباشوں میں سے پچھے بیٹھے لڑکے نے اپنی دھن میں مگن لڑکیوں کے قریب سے گزرتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اس کے سر سے لپٹی چادر کھینچ لی تھی۔ اس کی چیخ اور ان لڑکوں کی مستی بھری آوازیں ایک ساتھ ابھری تھیں۔ سارا ماحول اس لمحے کے طلسم کی زد میں تھما گیا تھا۔ اگلے ہی پل کئی غیرت مند اس منظر کی تاب نہ لاکر ان کے پیچھے للکارتے دوڑے تھے۔ اوباشوں نے اپنی موٹر بائیک روڈ سے متصل بھیڑی (تنگ) گلی میں شارٹ کٹ کا سوچ کر موڑ دی۔ جہاں پہ مریم ساکت سی کھڑی یک ٹک انھیں گھور رہی تھی۔
پچھلی سیٹ پہ موجود لڑکے نے عائشہ کا چھینا گیا دوپٹہ اپنا ہاتھ اوپر کرکے گول گول گھماتے ہوئے پیچھے پھینک دیا دونوں کے قہقہے اور ہوہا سے گلی میں ایک شور سا مچ گیا تھا اپنے پیچھے بھاگنے والوں کا اپنی سواری کی رفتار سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے دلوں میں عجیب سی گدگدی ہورہی تھی۔ بائیک کی رفتار ان دو خواتین کے پاس پہنچ کر ذرا تھمی تھی کہ اب ان پہ ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی ان بے ضرر سی خواتین میں سے ایک (مریم) نے دونوں ہاتھ اٹھا کر پوری قوت سے آگے بیٹھے ہوئے لفنگے کو دھکا دیا تھا اس کے اوسان اس بلائے ناگہانی سے ایک پل کو خطا ہوئے اور پھر وہ بائیک کا کنٹرول کھو بیٹھا اور دوسرے ہی پل وہ دونوں زمین بوس ہوگئے تھے مریم کے ساتھ کھڑی عورت بھی غصے سے بھری ان دونوں پر جوتوں سے پل پڑی تھی پیچھے بھاگے آنے والے بھی سر پہ آپہنچے تھے۔
…٭٭٭…
’’کہاں سے آرہے ہو؟‘‘ لال (غصے کا رنگ) چہرے اور کرخت آواز میں بانو بیگم نے گھر میں داخل ہونے والے سپوت سے پوچھا تھا۔ ٹیلی فون کے پاس بیٹھی ماں کا غصہ۔ اسے سمجھتے دیر نہ لگی۔ ایک گہرا سانس بھرا۔
’’تو خبر مل گئی آپ کو؟‘‘ اس نے ان کے قریب رکھے ٹیلی فون کی طرف اشارہ کیا۔ جس پہ اب سے کچھ دیر پہلے ہی وہ اپنی راولپنڈی والی بہن سے بات کرکے فارغ ہوئی تھیں۔
’’منع کیا تھا نا میں نے تمہیں… آخر تم اتنے ضدی کیوں ہو؟‘‘ غصے سے زیادہ وہ عاجز آئی ہوئی لگ رہی تھیں۔
’’ضد تو آپ کررہی ہے والدہ ماجدہ… آپ کو میں بارہا اپنا موقف سمجھا چکا ہوں لیکن آپ…‘‘ نرم لہجے میں وہ ہر بار کی دہرائی بات کررہا تھا۔
’’دیکھو ضیاء لایعنی بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں تمہاری پسند کی کوئی ملانی ٹائپ بہو ہرگز برداشت نہیں کرسکتی… اور ایسا نمونہ ملنا بھی محال ہی ہے تو پھر رابی (بھانجی) سے بہتر لڑکی تمہیں نہیں مل سکتی۔‘‘ انہوں نے اسے سجھانے کی ایک اور بے سود کوشش کی۔
’’یہ صرف آپ کی خام خیال ہی ہے کہ کوئی نہیں مل سکتی۔ اور اگر کوئی نہ بھی ملے تو میں رابی جیسی لڑکی سے بیاہ رچا کر اپنے آنے والے بچوں سے زیادتی نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ اطمینان سے ان کے سامنے والے صوفے پہ بازو پھیلائے بیٹھا تھا۔
’’مطلب کیا ہے تمہارا اس… ’جیسی‘ سے… کیسی ہے وہ ہاں؟‘‘ ان کا پارہ چڑھا۔
’’میرے خیال میں اس سوال کی گنجائش ہی نہیں بچتی آپ اور خالہ دونوں جانتی ہیں کہ میرا اپنی ہونے والی بیوی سے متعلق ایک بالکل مختلف نظریہ ہے۔ پھر خوامخواہ کی یہ ضد؟‘‘ وہ بڑے رسان سے کہہ رہا تھا اور اپنی ماں کے چہرے کے بدلتے تاثرات بھی اس کے پیش نظر تھے۔
’’میری طرف سے یہ ڈھول آپ اور آپ کی بہن جس کے مرضی گلے میں ڈال دیں۔‘‘ اپنی بات جاری رکھی۔ دو ٹوک، سنجیدہ لہجہ تھا۔
’’مطلب کیا ہے تمہارا؟ ہاں…‘‘ شدید غصے میں آکر وہ بات کرنے کے قابل کہاں رہتی تھیں یہی اب ہوا تھا۔
’’مطلب صاف ہے امی جی… مجھے رابی سے شادی کرنی ہی نہیں کوئی تُک نہیں بنتی اس رشتے کی۔‘‘ پُرسکون سا بیٹھا صوفے کی ہتھی کو انگلیوں سے بج رہا تھا۔ بانو بیگم کے سر میں دھماکے شروع ہوچکے تھے۔ اس لڑکے نے ہر جگہ یونہی ذلیل کروایا تھا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے… حاجی صاحب کی۔ ذہین میں کثیف خیالات کے بادل چھا چکے تھے۔
’’تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟ سارے خاندان میں ایک راشی (رابی کی امی) کے سوا کوئی تمہیں بیٹی دینے کو تیار نہیں۔ اور شرطیں اور نخرے دیکھو پھنے خان کے۔‘‘ غصے کی شدید لہر ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اب کہیں کہیں غصہ انہوں نے ضرور دکھانا تھا۔ کہ اپنے اس اکلوتے سپوت سے وہ کسی معاملے میں بھی زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی تھیں اور یہاں تو وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ وہ کیوں رابی جیسی ماڈرن اور خودسر لڑکی سے شادی کے نام پر رسے تڑوانا شروع کردیتا تھا لیکن بہن کے آگے سبکی ہونے کے ڈر سے وہ اسے اب تک سمجھاتی آرہی تھیں… لیکن وہ ضیاء ہی کیا جو کسی اور کی عقل کا چراغ اپنے آگے جلنے دے… آج خود اس نے اپنی خالہ کو فون کرکے رابی کے لیے کوئی اور بر تلاشنے کا کہہ دیا تھا اور فون پہ اپنی بہن سے ان کی کافی منہ ماری ہوئی تھی۔ بچپن کی منگ کو بھی بھلا کوئی یوں دھتکارتا ہے؟
’’میں بہت خوش ہوں کہ آپ کا پورا خاندان ماشاء اللہ اس معاملے میں بڑا سمجھدار ہے اور اپنی اوقات پہچانتے ہیں۔‘‘ زیرلب مسکراہٹ ڈاڑھی سے سجے چہرے پہ ڈیرہ جمائے بیٹھی تھی۔ بانو بیگم کو پھر سے پتنگے لگنا شروع ہوگئے تھے۔
’’بہت ہی کوئی ٹیڑھی کھیر ہو تم پتہ نہیں کس پر گئے ہو… بہرحال شادی تو تمہاری میں نے رابی سے ہی کرنی ہے چاہے جتنے مرضی رسے تڑ والو۔‘‘ اب سکون میں آنے کی باری ان کی تھی ٹانگ پہ ٹانگ جما کر نظریں اس کے چہرے پہ گاڑیں۔ جہاں ہنوز سکون تھا۔
’’پیاری امی جی… میں کوئی پندرہ سالہ لڑکی نہیں جسے آپ ڈرا دھمکا کر ڈولی چڑھا دیں گیں۔ مرد ہوں میں وہ بھی عقل وشعور رکھنے والا… شادی تو میں اپنی پسند سے ہی کروں گا یا پھر آپ کوئی ڈھونڈ لائیں میری مطلوبہ بیوی۔‘‘ چیلنج کرنے والے انداز میں اپنی بات مکمل کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’بیٹا یہ بیسویں صدی ہے کوئی پتھر کا دور نہیں کہ پانچ وقت کی نمازی، باپردہ، سمجھدار لڑکی اٹھا کر تمہاری سیج پہ لا بٹھاؤں۔ یہی تمہاری لن ترانی رابی کے بارے میں بھی ہے وہ کیوں کرے خود کو تبدیل؟ شوہر بننے کی تیاری کرو داروغہ جہنم نہیں۔‘‘ بانو بیگم نے اپنے تئیں اس کی بے عزتی کی تھی اتنی باتیں سنا کر۔ لیکن جب وہ بولا تو ان کا غصہ سے مزید خون کھول اٹھا۔
’’امی جی… سو باتوں کی ایک بات آپ اپنی ماڈرن بھانجی کا گھر کسی اور سے بیاہ کر آباد کردیں کیونکہ میرے ساتھ تو بقول اس کے اور آپ کے اس کی بربادی ہی ہے۔ جیسے میں نے اپنی بیوی کو رکھنا ہے اس سے بہتر آپ کی بھانجی پنکھے سے لٹکنا مناسب سمجھے گی۔‘‘ مزے سے اپنی بات کرکے وہ جاچکا تھا۔
’’میں دیکھتی ہوں کیسے لاؤ گے تم اپنی مرضی کی دلہن اس گھر میں… میرا گھر ہے یہ میرا… ایک سیکنڈ میں بوریا بستر باہر پھینک دوں گی۔‘‘ اسے یوں آرام سے جاتا دیکھ کر بانو بیگم کا غصہ پھر سے عود کر آیا تھا۔ وہ چیخی تھیں۔
…٭٭٭…
نام تھا اس کا مریم۔ اپنے ابے کی چھٹی اولاد… پانچ بیٹوں پر اور بڑھاپے میں ملنے والی بیٹی کی نعمت۔ ابا نے رج رج کر سارے محلے میں لڈو بانٹے تھے اتنے کہ سارا محلہ کئی دن تک سیر ہوکر کھاتا اور سر دھنتا رہا تھا ابے کی سخاوت پر۔ اس کی پیدائش کے وقت اماں جو کہ ابا کی چوتھی بیوی تھی وفات پا گئی تھی ابا (بلال میاں) بڑے رنگین و سنگین مزاج واقع ہوئے تھے۔ پہلی شادی بڑی امی (فرسٹ کزن) سے بڑی دھوم سے رچائی تھی۔ دادا ابا (شجاعت حسین) ایک لمبے عرصے تک معاش کی جدوجہد میں لڑکھڑاتے رہے۔ ایک چھوٹا سا کٹ پیس کپڑوں کا تھڑا تھا ان کی ملکیت جہاں وہ کٹ پیس ہر ہفتے سے جمعرات تک لگاتے اور پھر جمعہ سارا سائیکل کے کیرئیر پر تھان اٹھائے پھرتے۔ چار لڑکے اور بیوی کا ساتھ۔ کنبہ بڑا آمدنی کم۔ بڑے ہاتھ پیر مارے۔ کہ روزی تھوڑی سی تو بڑھے سارے حیلے کرلیے۔ پیروں سے لیے روزی میں برکت کے تعویذ سب اکارت رزق کو چیونگم کی طرح تھوڑی کھینچ کر بڑھایا جاسکتا ہے۔ ساری بھاگ دوڑ کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اس کے پیر وہیں تک بھاگیں گے جہاں تک رزق کی حد ختم ہوتی ہے۔ نہ وہ اس حد سے بڑھ سکتا ہے جب تک ایک ’’کن‘‘ نہ ہوجائے۔ صبر کرکے شکر کا ٹکر کھانا شروع کردیا سب سے بڑا بیٹا بلال جب باپ کے قد سے اونچا ہوگیا تو انہوں نے پکڑ کر کٹ پیس کے تھڑے پر جا بٹھایا۔
’’اب تو سنبھال تھڑا۔ میری تو یہاں بیٹھ بیٹھ کر دہی جم گئی سالوں سے۔‘‘ دادا مسکرائے تھے۔ سیدھا وقت اور سادھے لوگ تھے۔ ابا چپ کرکے تھڑا سنبھال کے بیٹھ گئے اور پھر تو جیسے رب نے ہاتھ تھام لیا اور دادی کی یہ بات کہ ’’بلال کے ابا… ہمارے چولے کی طرح تیرا نصیب بھی ٹھنڈا ہی ہے۔‘‘ دادا کو سولہ آنے سچ لگی پہلی بار کہ ابھی کچھ مہینے پہلے ہی تو بلال نے تھڑا سنبھالا تھا اور اس کے نصیب کی برکت ان کے گھر کی ظاہری حالت سے بھی عیاں ہونے لگی تھی۔ دو چار مہینے اور گزرے تو دادا دادی کو ابا کی شادی کا سیاپا پڑ گیا۔
اماں نے یونہی منہ دیکھے کو ابا سے پسند پوچھی ابا نے بے شرمی سے (دادی کے نزدیک) اپنے چاچے کی کلثوم کا نام لے دیا۔ خیر دادا دادی نے ابا کے نام کا سکہ چچا کے گھر پھینکا جسے انھوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اب تو منڈے کا کاروبار چل نکلا تھا۔ بڑا بختوں والا تھا بیٹی اس کے پلو باندھ اچھے نصیب کی دعا دے کر رخصت کی۔ جلد ہی اللہ نے پہلے بیٹے سے نوازا جہاں کلثوم کا سر غرور سے اونچا ہوا وہیں ابا کے چوڑے سینے میں ایک اور عشق آسمایا۔ وہ بھی کلثوم کی سہیلی اور دونوں کی پھوپو کی بیٹی خالدہ سے۔ ابا اس کے فراق میں پاگل تو وہ بھی ابا کے وصل کی آگ میں بھڑبھڑ جل رہی تھی۔ ابا شروع سے ہی من مانی کرنے اور اپنی چلانے والے تھے۔ اماں کے کان میں اپنی اور خالدہ کی بات نہیں گویا پگھلا سیسہ انڈیلا تھا۔
’’کیا…!‘‘ وہ چیخی تھیں۔
’’تو بوٹی تو پی کر نہیں آیا کہیں؟‘‘ دادی کو ابے کی ذہنی حالت پہ شبہ ہوا۔
’’اوہو اماں… کلثوم والے ڈرامے تو تو نہ شروع کر۔ پھوپو کے گھر سوال ڈال میرا بس۔‘‘ ابا جھنجلایا تھا۔
’’تو گھاس چر گیا ہے کیا؟ شادی شدہ ایک پتر کا پیو اور میں تیری پھوپو کے گھر سوال ڈالوں تیرا۔ کیوں رشتوں میں کوڑ ڈال رہا ہے؟‘‘ دادی ہکابکا سی تھیں۔ یہ کیسی بات کردی تھی لالے نے۔ انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔
’’اماں… تو جا تو سہی۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ بات کرلی ہے میں نے پھوپو اور پھپا دونوں سے… بس اب تو نے اور ابے نے پھیرا ڈالنا ہے ان کے گھر اور گل پکی۔‘‘ منہ سے ٹچ کی آواز نکالی تو اماں نے ابا کی عمر کا لحاظ کئے بغیر جوتی کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔
قبل اس کے کہ اماں چپل اتار کر ابا کی طرف اچھالتی ایک ہلکی سی سسکاری بھری چیخ ان دونوں کے کانوں میں پڑی بیک وقت دونوں نے گردن گھما کر صحن کے ستون کی آڑ میں کھڑی کلثوم کو مختلف تاثرات سمیت دیکھا تھا۔ مطلب اس کے کانوں میں بات پڑ گئی تھی۔ ازحد شرمندگی اماں اور ’’چلو‘‘ خود ساختہ بے نیازی ابا کے چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔
’’کیوں صاحب؟ ایسا کیا گناہ کردیا شادی کے دو سالوں میں کہ آپ مجھ پر سوکن کی لعنت ڈالنا چاہتے ہیں اور سوکن بھی کون… میری گوڑی سہیلی؟‘‘ شاید صدمے سے کلثوم کی آواز بیٹھ چکی تھی یا دنیا کے سننے کے خوف سے آواز دبالی تھی۔
’’چل… اب تو شروع ہوجا… نہ میں ایسی کون سی توپ تیرے پہ چلانے لگا ہوں کہ بین ڈال کے بیٹھ گئی ہے۔‘‘ کلثوم کی آنکھ میں دو آنسو کیا چمکے کہ ابا پہ بیزاری کا حملہ ہوا تھا اسے روتی ہوئی عورت مگرمچھ ٹائپ کی ہی کوئی چیز لگا کرتی تھی۔
’’میں بھی اس ناس پیٹے کو یہی سمجھا رہی ہوں کیوں قیامت اٹھا رہا ہے پورے خاندان میں؟‘‘ اماں جیسے عاجز آکر بولی تھیں۔
’’کیا مصیبت ہے؟ میں بتا رہا ہوں اس ہفتے کے آخر تک نکاح کی تاریخ آجانی چاہیے ورنہ میں خود اسے اس گھر میں لے آؤں گا دو بول پڑھا کر۔‘‘ اماں کی ناراضی اور کلثوم کے آنسو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پہ رکھتا وہ ہوا ہوچکا تھا۔ پیچھے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنے اپنے انداز میں آنسو بہانے لگیں۔ ایک نے منہ دوپٹے میں چھپا لیا تو دوسری ستون سے لگ کر رونے لگی۔
…٭٭٭…
پھپا، پھوپو کو بڑے جتنوں سے اس نے راضی کیا تھا اور پھر جیسے اس کا کاروبار جو اب تھڑے سے ایک بڑی دکان میں منتقل ہوچکا تھا۔ قلانچیں بھرتا امارت کی منزلیں طے کررہا تھا خاندان میں کئی لوگوں کی رال ٹپکنے لگی تھی لڑکیاں سب کی بیاہنے لائق ہی تھیں۔ کاش کہ کلثوم کی بجائے میری سے ہوجاتا اس کا نکاح۔ یہ خواہش پھوپو کے دل میں بھی مچلی تھی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ سنا تھا اس نے کلثوم کو پسند کیا تھا اب پسند کے آگے ضد نہیں چلتی وہ بھی کسی دوسرے کی… اس لیے بھائی کا جذباتی استحصال کرنے کا سوچتی پھوپو نے اس خیال پہ ہی مٹی ڈال دی تھی۔ جب بیٹی نے ایک دن اپنے دل میں دبی راکھ میں پیار کی چنگاری کا رولا ڈالا۔ پہلے تو پھوپو سن کے گھبرائی دو ہاتھ بھی جڑے بے حیاء کو۔ خاندان کا خیال کلثوم کے باپ کا خوف۔ پر اس سب کو لالے نے ایک ہی جھٹکے میں پھوپو کی سونی کلائیوں میں پیلے موٹے کڑوں سے بھر کر باہر کا راستہ دکھا دیا۔ بظاہر نہ… نہ کرتی پھوپو نے اپنے پیچھے سے سرتاج کی آواز آوئے لے لے تیرا اپنا پتر ہے۔ کیا تو توقیر کو نہ کرتی تحفہ دینے سے۔‘‘ سن کر جھٹ کڑے کلائیوں میں سجالیے تھے۔ سارے واہموں اور خاندان کے خوف پر پیلا رنگ غالب آگیا تھا۔
’’بہت دے رہا ہے اللہ لالے کو۔ ہماری خالدہ کے ساتھ ہمارا بھی بھلا ہوجائے گا۔ کوئی اچھا پھل‘ کپڑا لٹھا ہمیں بھی مل جایا کرے گا جوائی کے گھر سے۔‘‘ پھپا کے منہ میں کڑے دیکھ دیکھ کر ہی پانی بھر آرہا تھا۔ بیوی کی بانہہ پکٹر کر کڑے ایک دوسرے میں بجا کر جانے کس شے کا سواد آیا تھا دونوں بے اختیار ہنسے تھے۔
’’پر پپو… وہ وڈے پائی نے یہ ہونے نہیں دینا۔‘‘ پھوپو کا اندیشہ پھپا نے ہوا میں اڑایا۔
’’او چل… کس میں دم ہے جو یہ ہوا کے بگولے (بلال) کو روکے۔ وہ بھی ہماری طرح بیٹوں کا محتاج کنگلا۔ کیا کرلے گا سوائے آسمان پہ تھوکنے کے جو سیدھا اپنے بوتھے پہ ہی آکے گرتا ہے۔‘‘ گہرائی والی بات کی تھی پپو نے اور ہوا بھی یہی تھا۔
…٭٭٭…
شور تو سارے میں بڑا مچا تھا لعنت، اللہ خوفی کی کئی آوازیں، دھمکیاں، قطع تعلقی کی وعید۔ پر لالے کی سب پہ لات تھی۔ پورے خاندان کی ہر قسم کی مالی مدد کو وہ ہر وقت تیارتھا راشن و دیگر سامان جب چاہے جو چاہے گھر سے آ کر لے جاتا۔ خاندان والوں کو ادھار دے کر وہ شاید بھول ہی جاتا تھا۔ سب تھوڑا بہت سمجھا ڈرا کر نکاح میں شرکت کرنے چلے آئے۔ اپنے پیٹ پہ کون لات مارتا۔ کتنے تو خاندان کے لڑکے اس کی دکان میں کھپے ہوئے تھے۔
’’دوسری چھوڑ دو اور کرسکتا ہے… بڑا دیا ہے اللہ نے۔‘‘ خاندان کے چیدہ چیدہ افراد نے ہاتھ جھاڑ کر متفقہ عندیہ دیا۔
کلثوم روٹھ کر میکے جا بیٹھی۔ سب کی منت ترلہ ہر چیز اکارت۔ ماں باپ نے پتھر سے بھاری بیٹی کو بھاری دل سے چند دن کا سوچ کر رکھ لیا کہ غصہ اترے گا غم غلط ہوگا تو چلی جائے گی۔
’’مچھلی پتھر چاٹ کر ہی واپس آتی ہے ابھی تو چپ کر تھوڑا غم غلط ہونے دے اس کا۔ چلی جائے گی۔‘‘ کلثوم کی ماں کے اس مشورے کے جواب میں کہ اسے زبردستی واپس بھیج دیتے ہیں اس کے ابا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔
’’مرے کا سوگ تین دن کا ہوتا ہے پر جس عورت پر سوت آجائے وہ اپنی زندہ میت اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہے۔ کبھی دفن نہیں کرتی۔ اس کے بین اس کے اندر ہی کرلاتے رہتے ہیں اس کا سوگ ختم ہی نہیں ہوتا۔ وہ کبھی اس سوگ سے باہر نہیں آسکتی…‘‘ لالے نے ایک دو بار کلثوم کو منایا۔ پر پکی لکیر تھی اس کی پتھر پہ۔
’’ نہیں‘‘ اور وہ ’’نہ سہی۔‘‘
اللہ حوالے کرکے نئی بیوی کے چونچلوں میں مصروف ہوگیا۔ خیر قصہ مختصر۔ سال بعد سمجھا بجھا کر اس کا باپ لالے کے گھر کی دہلیز تک لے آیا۔ یہ لمبا پینڈا تھا۔ وہ بھی جل جل کر راکھ ہوچکی تھی۔ اب تو اندر صرف دھواں ہی تھا… دونوں سوکنوں میں اینٹ کتے کا بیر تھا اور یہ بیر تب تک رہا جب تک ابا کو تیسری عورت کے عشق کے بھوت نے تھا تھیا نچا نہیں دیا۔ ایک بار پھر سارے میں فیل مچا اب کی بار روٹھنے کی باری خالدہ کی تھی۔ جسے اس کی سمجھدار ماں شام سے پہلے جن پیروں آئی تھی انہی پیروں چھوڑ گئی۔ ابا تو اپنی عشق کی مستی میں گم تھا اسے کیا خبر تھی کہ کون کس کرب سے گزرا؟ کس کے اندر ایک جیتا جاگتا وجود مرگیا؟ تیسری بھی چلی آئی اور پہلی دو کو یہ عقل بھی کہ یہ کسی گھڑے کا چپن نہیں۔ ایک دوسرے سے بیر رکھنے کا فائدہ نہیں۔ دماغ کا بند در کھلا تو دل میں ایک دوسرے کے خلاف بھری گھٹن کو باہر کا راستہ مل گیا۔
’’اب نہیں لڑیں گی کبھی۔‘‘ مشترکہ معاہدہ ہوا جس کو نبھانے میں دونوں نے جان لڑا دی۔
شوہر سے جو ایک بیوی کو امیدیں ہوتی ہیں ان کا گٹھڑ اٹھا کر پڑ چھتی پہ پھینکا اور شانت ہوگئیں۔ تیسری جانے کس قبیلے سے تھی۔ وہ دونوں اس کی آنکھ میں تنکے کی طرح کھٹکتی۔ ابا کو خوب کانا پھوسی کرتی کہ کسی ایک بلا سے تو جان چھوٹے۔ پر وہ ابا ہی کیا جو کسی کے کہے میں آکر دوسری پر چڑھائی کرے۔ کتنے نشانے پہ پکے بیٹھنے والے تیر رائیگاں گئے۔ ابا میں نہ شک تھا اور نہ وہ لائی لگ۔ تیسری اسے ’’بوندو‘‘ کے خطاب سے نوازتی‘ جھلاتی۔ ابا سب کو دو دو رات دیتا اور دن کا ٹائم سارے گھر میں گھوم پھر کر گزارتا (کسی مرغے کی طرح)کہ پہلی دو کے ساتھ اس کے بیٹے تھے جبکہ تیسرے بوٹے پہ ابھی کوئی کونپل نہ پھوٹی تھی۔
اور اس بوٹے پہ کوئی پھول کھل بھی کیسے سکتا ہے جسے حسد کے زہریلے پانی سے سینچا جارہا ہو۔ قصہ مختصر ابا کا گھر تین تین بیویوں اور پہلی دو کے بچوں اور ان کے بچوں سے گزرتے وقت کے ساتھ بھر چکا تھا۔ بیویوں کی کھینچا تانی اور مکروں سے بے نیاز عمر کی سیڑھیاں طے کرتے کرتے پچاسویں سن کے وسط میں پہنچ چکے تھے۔ تینوں بیویاں سالہا سال ’’اب ایک اور آئی کے‘‘ عفریت سے بھی باہر نکل آئیں تھیں کہ ابا کو پشاور چچا کے پاس جانے کی سوجھی۔ چچا (خلیل اللہ) جو سالوں پہلے گھر سے حکمت سیکھنے نکلے تھے۔ کبھی کسی بہانے تو کبھی کوئی عذر غرض کے وہیں کہ ہورہے تھے۔ شادی ابھی تک کی نہ تھی اور نہ کرنے کا ارادہ تھا۔ صوفی طبیعت، دوسرے ذمہ داریاں اٹھانے کی سکت خود میں نہ پاتے۔ اکیلے ٹھکیلے جہاں منہ اٹھتا چل پڑتے۔ بڑے بھائی کی ہمت کو خوب داد دیتے اتنی بیویاں اور بچے اور ان سب میں انصاف کرنے کی بیشمار نصیحتیں دادی اماں کے مرنے سے دو دن پہلے پہنچے اور تدفین کے فوراً بعد پھر سے پشاور جا بسے۔ جہاں ان کا اپنا مطب تھا۔ ماں باپ بھائی سب حربے آزما چکے تھے کہ خدارا یہاں آکر بڑا سا مطب بنا لو لیکن جانے پشاور میں ایسی کون سی کشش تھی جو انھیں باندھے ہوئے تھی۔ بہرحال سال آدھ میں بھائیوں میں سے کوئی جاکر چکر لگا آتا۔ اب کے برس ابا نے جانے کی ٹھانی تھی۔
جوانی کا گھوڑا کب کا تھک کر سر نیہواڑے پڑا تھا۔ اب کیا خطرہ ہوسکتا تھا؟ سو سب نے ہنسی خوشی ابا کو وداع کیا واپس آئے تو کیا کمال کر لائے تھے ایک سائیڈ پہ چچا اپنا سازو سامان تھامے کھڑے تھے تو دوسری سائیڈ پہ دبلا پتلا، سفید ہاتھوں پیروں والا نسوانی وجود۔ جملہ افراد خانہ نے اس انکشاف کے بعد کہ ابا کی چوتھی بیوی ہے انگلیاں چبا ڈالیں۔ ساتھ چچا کے بھی لتے لے لیے کہ ’’کیسے بھائی ہو؟ اپنے بھائی کو روکا ہوتا ٹوکا ہوتا کچھ تو کیا ہوتا۔‘‘
’’ابا… کچھ تو دوسروں کے آگے پیچھے کا سوچا ہوتا۔ جوانی چلی گئی پر آپ کے شوق پورے نہیں ہوئے ابھی تک۔‘‘ سب سے بڑے لڑکے نے ہمت پکڑی اور تن کر باپ کے سامنے کھڑا ہوگیا… ابا نے گھبرائی کھڑی نئی نویلی کو اندر کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور خود برخوردار کی طرف متوجہ ہوئے اور مزے سے جوتے اتار چارپائی پر نیم دراز ہوگئے۔
’’دکان کی مالیت کتنی ہوگی؟‘‘ سوال گندم جواب چنا ایک تو ابا کا رعب اتنا تھا اوپر سے وہ خوامخواہ جذبات میں آکر ابا سے ٹکر لے چکا تھا۔ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔
’’کون سی دکان ابا؟‘‘ دکانیں بلکہ پوری کلاتھ مارکیٹ کے دو فلور ان کی ملکیت تھے اس لیے اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ ابا کس دکان خاص کا تذکرہ فرما رہے ہیں۔
’’جناب کی۔‘‘ ابا نے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہی کوئی دس لاکھ۔‘‘ اب کی بار جناب کی آواز پست تھی کہ ابا کی کلاسیکل بستی کلاس میں وہ چھلانگ مار کر گھس آیا تھا۔
’’او… تو پتر جی دکان آپ کے باپ کی ہی ہے نا ابھی تک؟‘‘ ابا کے چہرے پہ ذلیل کرنے والی مسکراہٹ تھی۔
’’جی۔‘‘ انتہائی مرے مرے انداز میں جواب آیا۔
’’تو بیٹا جی… جس کی لاٹھی اس کی بھینس یہ بھی سنا ہوگا پھر تو؟‘‘ ابا نے اب جانے کون سا سانپ نکالنا تھا۔ وہ اکتایا اور بس اثبات میں سر بلا دیا۔
’’میں تم لوگوں کا باپ ہوں… اگر میں بولوں کہ آسمان کا رنگ نیلا نہیں بلکہ سرخ ہے تو تم لوگوں کا کیا جواب ہوگا؟‘‘ ابا نے پچکارنے والے انداز میں باری باری سب افراد خانہ کے تنے چہروں کو دیکھا۔
’’سرخ ابا…‘‘ وہ سب کورس میں بولے تھے۔
’’شاباش…‘‘ ابا نے سر دھنا تھا۔
’’چلو سب اپنی نئی ماں کو سلام کرکے آؤ۔‘‘ ابا آرام سے چارپائی پہ سیدھا لیٹ گئے۔
مطلب اب کوئی اور بات نہیں۔ سب بیٹے بہوئیں ساسوں سے آنکھیں چراتے لائن بنا کر اس کمرے میں داخل ہوگئے جہاں پہ نئی اماں کو بھیجا گیا تھا اور ساسیں کھڑی ناک بھوں ہی چڑھاتی رہ گئیں۔
…٭٭٭…
نئی اماں بی گل کوئی تیس بتیس سال کی بیوہ تھی۔ ابا کو جانے کہاں کہاں سے عورتیں مل جاتی تھیں۔ بقول کلثوم ’’لنڈے کو کھنڈا سو کوس دور سے بھی مل جاتا ہے۔‘‘ یہ بھی ملی پسند آگئی اور گھر میں سج گئی کلثوم اور خالدہ بیگم کو تو کوئی خاص فرق نہ پڑا پر صدیقہ جلے پیر کی بلی بن گئی۔ ابا سے لڑائی یہاں تک کہ ہاتھا پائی تک کرکے دیکھ لی پر وہ ابا ہی کیا جو پروں پر پانی پڑنے دیتے۔ سیدھی سادی، گھبرائی سی بی گل سارے میں منہ چھپاتی بے آواز پھرا کرتی کہ صدیقہ بیگم ہر لمحے اس پہ جھپٹنے کو تیار رہتی تھی۔ پہلی دو کے لیے تو اس کا وجود نہ ہو نے کے برابر ہی تھا۔ ان کا اس سے نہ کوئی بیر تھا اور نہ بہناپا وہ سمجھ گئی کہ شوہر تو بس رات کے کچھ لمحوں کا ساتھی تھا باقی عورت کے اوپر سے ٹرک گزر جائے ابا کو پروا نہیں تھی۔
’’میاں… کچھ تو شرم کھالیں اب… اولاد کی اولاد گود میں اٹھائے پھرتے ہیں اور ایک اور نکاح کرکے لے آئے۔ وہ بھی اپنی سے تیس سال چھوٹی عمر کی عورت سے۔‘‘ صدیقہ بیگم کا جلاپا ان کے چہرے کی رنگت تک سیاہ کردیتا۔
’’مرد ہوں مرد… کوئی ہیجڑا نہیں اور مرد شادی کرتے ہی ہیں۔‘‘ ان کے طنزیہ انداز میں ابا کی نئی شادی پہ جملہ کسنے پہ وہ بڑے سکون سے بولے تھے۔
بی گل کی اردو بڑے مزے کی تھی اسے ان کی اپنے خلاف پنجابی میں کی جانے والی باتیں تو سمجھ میں نہ آتیں پر منہ کے بنتے بگڑتے زاویے اسے سب سمجھا دیتے۔ وہ دل مسوس کر رہ جاتی۔ اس گھر میں سب ہی کو اس سے بیزاریت تھی وہ شاید ایک اضافی فرد تھی۔
’’لالے… ہم کو تمہارا بچہ لوگ پسند نہیں کرتا۔ سب کا منہ ٹیڑھا میڑہا رہتا ہے۔‘‘ رات کے مہماں سے کبھی وہ منہ بسور کر کہہ دیتی تو وہ ہنس پڑتا۔
’’تمہیں ان سے کیا مطلب؟ کسی کا منہ بنے یا آنکھ چڑہے تو ان کی فکر نہ کر۔‘‘ خیر کچھ ہی عرصہ میں اس کے ہاں بھی خوش خبری آن ٹھری۔ ابا بڑا خوش ہوا۔ ’’اس بار اللہ دہی دے تو…‘‘ ایک ہی خواہش تھی ابا کی اللہ نے پہلی دو سے چار چار بیٹے دے کر گھر بھر دیا تھا تیسری سے نہ تو کوئی آس تھی نہ امید گو کہ اس نے پورا جہاں کا علاج کروا ڈالا تھا وہ ڈالی ابھی تک سوکھی ہی تھی۔ اللہ کی اللہ جانے۔ پر بی گل کے امید سے ہو نے نے پر ابا کو نئی امید کا دیا پکڑا دیا تھا۔
دن گزرتے رہے بی گل کی زچگی والے دن ابا نے بڑے دو لڑکوں کو ساتھ لیا اور پشاور کا رخت سفر باندھا سردی کی آمد آمد تھی گرم مرینہ اور لینن کے کپڑوں کی مانگ ہر سال ہی پہلے سے بڑھ جاتی اس لیے ابا ایک دو ماہ پہلے ہی کنٹینر بک کروا لیتے اب بھی اسی سلسلے میں روانگی ہوئی تھی۔
صبح کمر کے نچلے حصے میں ہونے والے درد کو عام سا درد سمجھتی بی گل نے اپنے کمرے سے گھر کے کچن تک کتنے ہی چکر لگا ڈالے کچن میں کام کرتی بہوؤں اور بڑے سے صحن میں نیم کے درخت تلے چارپائیوں پہ بیٹھی اپنی بڑی دو سوکنوں کو کرب کے عالم میں دیکھا۔
’’کیا بات ہے گلے؟‘‘ کلثوم کا اپنا ہی انداز تھا اس کا ناپ لینے کا۔ بالآخر اس نے پوچھا کب سے دیکھ کر نظر انداز کررہی تھی وہ اسے اندر باہر آتے جاتے۔
’’باجی… بڑا درد ہے صبح سے۔‘‘ کمر پہ ہاتھ رکھ کر وہ مڑی تھی۔ ستا ہوا گلابی چہرہ لال بھبھوکا ہوچکا تھا۔
’’ہیں تو بتایا کیوں نہیں کہ دائی کو بلا لیتے۔‘‘ وہ دونوں ہی چونکی تھیں بڑی بے ضرر سی تو تھی بی گل۔ نہ تین میں نہ تیرہ… میں سب کے کام میں پیش پیش کہ کیا پتہ کوئی زینہ اس گھر کے مکینوں کے دلوں تک جاتا ہو۔
’’خالدہ جلدی سے دائی رحمتے کو صد (بلا) لا مجھے اس کی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘ کلثوم نے اپنی جگہ سے تھوڑا پرے کھسکتے ہوئے بی گل کے بیٹھنے کے لیے جگہ بناتے ہوئے کہا اور ہاتھ سے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا بی گل کا بڑھایا ہوا قدم ہوا میں ہی رہ گیا اور وہ دھڑام سے کمر کے بل گری تھی۔
’’ہائے میں مر گئی…‘‘ کلثوم اور خالدہ زمین پہ پڑی بی گل کی طرف لپکی تھیں جس کے منہ سے سفید جھاگ نکل رہا تھا۔
…٭٭٭…
بی گل چلی گئی اور اپنے پیچھے مریم کی شکل میں ایک ننھا کھلونا چھوڑ گئی۔ کلثوم اور خالدہ نے اسے سینے سے لگالیا بھائیوں کی تو عید ہوگئی تھی۔ ابا بھی اسے گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتے اور چچا حکیم (ابی) کہ اس میں جان تھی۔ کتنے عرصے بعد اللہ نے اپنی رحمت (بیٹی) سے نوازا تھا۔ صدیقہ کو اسے دیکھ کر جانے کیوں سینے میں جکڑن کا احساس ہوتا تھا۔
سارے گھر کے ہاتھ کے چھالے کو اس کا دل کرتا پھوڑ ہی ڈالے۔ جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی اس کی شخصیت کے پہلو اجاگر ہوکر سب کے سامنے آگئے سنجیدہ، روحانی سکون سے مالا مال، پراعتماد۔ چچا کی صوفی طبیعت کے کتنے ہی رنگ اس نے چرا ڈالے تھے سارا سارا دن چچا کے کندھوں کی سواری کرنے والی نے بڑی ہوکر ان کے کمرے میں سامان سے زیادہ پڑی ساری کتابیں چاٹ ڈالیں تھیں۔
لگتا ہی نہیں تھا کہ اس کی ماں نہیں ہے اسکول سے کالج کے تمام مدارج فرسٹ پوزیشن سے پاس کئے کتابوں کی وہ رسیا تھی چاہے مصحف ہو یا حدیث، انگلش لٹریچر ہو یا اردو افسانے اسرارو رموز۔
بیسویں میں لگی تو ابا نے اپنی پسند کے لڑکے کی ڈولی میں بٹھا دیا شادی کی پہلی ہی رات جس چیز کا اس پہ انکشاف ہوا تھا۔ وہ کسی بھی نئی نویلی بیاہتا کو حواس باختہ کرنے کو کافی ہوتا تھا پر مریم کے اطمینان میں جو ذرہ بھر فرق آیا ہو۔
’’آپ کو اگر یہ مسئلہ تھا تو آپ کو پہلے بتادینا چاہیے تھا۔‘‘ غازہ، پاوڈر منہ سے جھاڑ کر وہ سکون سے میاں کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ پہلو پہ پہلو بدلنے لگا۔ اتنی بے باکی سے سوال جواب کی اسے امید نہ تھی۔
’’تمہیں پتہ ہے کہ اس معاشرے میں ماں بہن کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ میں نے تو بڑا منع کیا لیکن…‘‘ اس کی آواز کافی پست تھی۔
’’آپ ایک مرد ہیں اور میرا نہیں خیال کہ کسی مرد کو اتنا کمزور ہونا چاہیے۔ یہ صرف آپ کی زندگی کا نہیں بلکہ آپ کی زندگی سے جڑی اس عورت کا بھی استحصال ہے۔‘‘ ہمیشہ کی صاف گو مریم نے اس کے جھکے سر کو دیکھ کر ٹھنڈے لہجے میں کہا۔
’’پتہ ہے مجھے… آپ میری استانی بننے کی کوشش نہ کریں تو بہتر ہے۔‘‘ اس نامرد کا اندر کا مرد آہستہ آہستہ بیدار ہورہا تھا۔
’’نکاح کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آیا شوہر اپنی بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔‘‘ مریم بغور اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھتے ہوئے بولی۔
’’مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے؟‘‘ اس کی بھنویں اوپر کو چڑھی تھیں۔
’’مطلب یہ کہ میں اس نکاح کو ختم کرنے کی مجاز ہوں۔‘‘ مریم کا ٹھہرا ہوا جواب۔ اسے کپکپی سی چڑہی تھی۔
’’کیا…! تم طلاق کی بات کررہی ہو ابھی سے؟‘‘ وہ حیران رہ گیا تھا اس عورت کے اعتماد پر اس کا تو خیال تھا کہ رو دھو کر چپ کرکے اس کے ساتھ گزارہ کرے گی کہ شادی تو ہوہی چکی تھی لیکن یہ تو۔
’’نہیں ابھی سے نہیں میں آپ کو ایک سال کا ٹائم دے رہی ہوں علاج کروا لیں شاید کوئی بہتری ہوجائے۔‘‘ اس نے اس کی غلط فہمی دور کی۔
’’تم… تم مجھے ٹائم دے رہی ہو؟ میں تمہیں اچھی طرح صاف صاف بتاچکا ہوں کہ میں سب کروا چکا ہوں کوئی فائدہ نہیں اس لیے یہ خناس ذہن سے نکال دو اور اس بات کو یہیں دفن کردو۔‘‘ وہ غصے سے اپنی بوسکی کی قمیں کا دامن جھاڑ کر کھڑا ہوگیا۔
’’اسے بتا کیا دیا۔ سر پر ہی چڑھی آرہی ہے۔‘‘ حقائق سے نظریں چراتا وہ اپنے اندر کے ادھ موئے مرد کو جگانے کی کوشش کرنے لگا۔
’’ٹائم لے لیں آپ… بہتر ہے ہم دونوں کے لیے اور دوسری بات اس بات کو یہیں دفن کرنے کی تو سمجھ لیں ہوگئی۔ ابھی آپ میرے ابا کو فون کرکے بلا دیں پلیز۔‘‘ مضبوط لہجہ۔ وہ چکرایا۔
’’کیا؟ ابا کو کیا کرنا ہے بلا کے اس وقت۔‘‘ اسے تیزاب کی طرح اس کی بات جلا گئی تھی۔ ’’اب یہ سارے میں میرا ڈھنڈورا پیٹے گی۔‘‘ زہریلی سوچ فوری در آئی۔
’’میرا یہاں رہنے کا کوئی تک… کوئی جواز نہیں اس لیے میں اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس کا جواب میاں کو ٹھنڈے پانی سے نہلا گیا وہ ہک دک اسے دیکھے گیا۔
…٭٭٭…
’’آخر کیا بات ہوئی کہ یوں اس نے تمہیں پہلی ہی رات نکال باہر کیا؟‘‘ یہ صدیقہ بیگم تھیں۔ اس کے کمرے میں موجود آنکھیں گول گول گھماتی۔
’’کوئی بات نہیں چھوٹی امی آپ اپنے چھوٹے سے ذہن پر دباؤ نہ ڈالیں۔ اپنے کرنے کو کوئی اور کام ڈھونڈیں۔‘‘ اس نے الفاظ چبائے تھے۔ لہجہ ابھی بھی احترام کی آمیزش لیے ہوئے تھا۔ چھوٹی امی پہ جیسے اس نے کھینچ کر پتھر پھینکا تھا وہ تڑپی تھیں۔
’’ہاں بی بی… میں تو کرنے کو کوئی کام ڈھونڈ لوں گی تم بھی اپنا کوئی ٹھکانہ ڈھونڈو کہ یہاں تو میں تمہیں چین سے ٹکنے نہیں دوں گی۔ اللہ جانے ایسا کیا ہوا کہ اس شریف انسان نے رات ہی رات میں باوا کے ہاتھ میں ہاتھ دے گھر سے باہر نکال دیا۔‘‘ وہ شروع ہوچکی تھیں اس نے ایک جھٹکے سے کھڑے ہوتے ہوئے انہیں گھور کر دیکھا پر بولی کچھ نہیں اور ان کے پہلو سے ’’ایکسکیوزمی‘‘ کہتی نکل گئی وہ وہیں کھڑی ہاتھ نچا نچا کر اس کی شان میں قصیدہ گوئی شروع کرچکی تھیں۔
…٭٭٭…
’’یہ کوئی تک ہے بھلا… دھی رانی رس کے آگئی اور آپ نے اسے گوڈے سے لگا کر یہیں بٹھا لیا۔‘‘ آج پھر مریم کا نام نہاد سسرال گھر کی بیٹھک میں جمع تھا۔ سب کچھ سنتی بیٹھک کے پچھلی طرف بنے باغیچے میں بیٹھی مریم نے ایک گہرا سانس بھرا تھا۔ ابھی اس کی طلبی ہونے والی تھی۔ یہی ہوتا تھا ابا جانے کیوں ان لوگوں کو کوئی جواب نہ دے پاتے اور اسی کو آوازیں دینا شروع کردیتے اب بھی یہی ہوا تھا۔
’’مریم۔‘‘ ابا کی آواز پر وہ ایک اور گہرا سانس بھرتے ہوئے باغیچے میں کھلنے والے بیٹھک کے دروازے سے اندر داخل ہوگئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ اچٹتی نظروں سے کمرے میں بیٹھے نفوس کا جائزہ لے کر سب کو پر اعتماد انداز میں سلام کیا اور ابا کے ساتھ والے خالی صوفے پر جا بیٹھی۔
’’ہاں بیٹا… اب یہ پھر آئے ہیں۔ کیا سوچا تم نے؟‘‘ حقیقت حال سے ناواقف چچا خلیل اللہ نے اس سے پوچھا تو ابا نے صوفے پہ پہلو بدلا تھا۔ وہ کچھ دیر تولتی نظروں سے سر جھکائے بیٹھے نصیر کو دیکھتی رہی۔ حسب معمول وہ اس کی طرف دیکھنے سے مکمل اجتناب برت رہا تھا۔
’’ہمارے درمیان ایک مقررہ مدت تک کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ نصیر صاحب سے تفصیلات آپ لوگ پوچھ لیں۔‘‘ بالآخر اس نے آج سب سے صاف صاف بات کرنے کی ٹھانی روز روز کے ان جرگوں سے وہ بھی تنگ آچکی تھی۔ نصیر میاں کے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست اور سر کالر بون کو چھونے لگا۔
’’ارے کیا پوچھیں اس سے؟ تم پتہ نہیں کیا منتر جنتر پڑھ کے آئی ہو کسی بات کا جواب نہیں اس لڑکے کے پاس۔ سوائے اس کے کہ ابھی مہارانی کو تنگ نہ کیا جائے۔‘‘ اس کی ماں اس روز روز کی چخ چخ اور ان کے گھر کے چکر لگا کر عاجز آئی ہوئی تھی۔
’’آرام سے آپا… آج نکال لیتے ہیں اس مسئلے کا حل۔‘‘ چچا کو اس عورت کا یوں چیخنا ناگوار محسوس ہوا تھا۔
’’کیا آرام سے پا جی… سارے منہ متھے لگنے والے منہ کو آنے لگے ہیں کہ کوئی بات تو ضرور ہے جو کڑی پہلی رات ہی نس گئی۔ کس کس کو کیا کیا کہانی سناؤں۔ یہ دونوں تو منہ سے کچھ پھوٹتے نہیں۔ عذاب مجھے پڑا ہوا ہے خاندان والوں کے سوالوں کا… نصیر کا باپ الگ طعنے دیتا ہے کہ میری پترئی (بھتیجی) چھوڑ کر مرجم (مریم) کو پسند کیا اب چکھ سواد۔‘‘ لمبی تقریر بس رونے کی کسر ہی رہ گئی تھی۔ سب افراد خانہ اس ڈرامے سے بیزار پہلو پہ پہلو بدل رہے تھے۔
’’پتر جی… کوئی مسئلہ ہے۔‘‘ (نصیر کی لمبی ٹانگیں بے چینی سے ہلنے لگیں۔ ’’کچھ تو بتا پتری…‘‘ چچا کی نرم آواز۔ وہ تنگ پڑنے لگی۔
’’نہ مسئلہ کیا ہونا ہے خاوند کی نرمی سے اس کے سر پہ چڑھی ہوئی ہے اور وہ بیچارہ بھی جانے کس مجبوری سے زبان تالو سے چپکائے ہوئے ہے۔‘‘ اب چھوٹی امی کی باری تھی میدان میں کودنے کی۔
’’تم چپ کرو صدیقہ… ہزار بار کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے سے دور رہو پھر بھی پھدک پھدک کر بیچ میں آجاتی ہو۔‘‘ کلثوم امی ہمیشہ کی طرح صدیقہ کے آگے اس کی ڈھال بن گئیں۔
’’ہاں تو اور ڈلواؤ کھیہ سر میں۔ رکھو اس فتنہ کو بٹھا کر۔ پتہ نہیں کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے گھنی نے جو بیچارہ شریف آدمی اپنی عزت بچائے بیٹھا ہے۔‘‘ وہ تن فن کرتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔ کلثوم کا جواب کے لیے کھلتے منہ کو دیکھ کر ابا نے آنکھ کے اشارے سے اسے منع کیا۔ بیٹی کی زندگی کا معاملہ تھا اسی کی سمجھ بوجھ پہ صادر کر بیٹھے تھے اور فیصلہ تو وہ کر آئی تھی پر ابھی تک اس نامرد میں اتنی ہمت پیدا نہیں ہوئی تھی کہ گھر والوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرتا۔
’’تو صحیح تو کہہ رہی ہے صدیقہ سیدھی بات کرو اس کا مسئلہ کیا ہے؟ کوئی اور چکر تو نہیں۔‘‘ ساس کے گھومتے دیدے بات کی وضاحت چاہتے تھے۔
’’میرا خیال ہے کہ نصیر تو بتانے سے رہے اور آپ لوگ باز آنے سے تو پھر میں ہی صاف صاف بتا دیتی ہو ں کہ بانجھ عورت تو پھر بھی برداشت ہو جاتی ہے لیکن بنجر مرد نہیں۔‘‘ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔ پورے کمرے میں بیٹھے نفوس کو سانپ سونگھ گیا تھا سوائے ابا کے۔
…٭٭٭…
ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی۔ سارے میں یہی تذکرہ تھا عورتیں گال پیٹ منہ بسور بسور کر مریم اور نصیر کے خوب گناہ بخشواتیں۔ کہیں اس کی بے حیائی کو لے کر کلے سرخ کئے جاتے اور کہیں نصیر کے ادھورے پن پہ ٹھٹھول کیا جاتا۔ ایک سال کی اس کی دی گئی مدت ایک ماہ میں ہی ختم کردی گئی سسرال کی طرف سے طلاق کے کاغذات اسے ہفتے بھر میں موصول ہوئے۔ بات ختم پر لوگوں کی زبان کا چسکہ کئی دنوں تک قائم رہا اور مریم کی طرف ازلی بے نیازی۔
…٭٭٭…
’’السلام علیکم!‘‘
’’تمہارا ارادہ کیا ہے آخر؟‘‘ وہ ابھی ڈیری فارم سے واپس آیا تھا جب وی سی آر پہ انڈین مووی دیکھتی بانو بیگم نے اسے دیکھتے ہی مخاطب کیا۔ وہ سلام کرکے وہیں بیٹھ گیا۔
’’جب کوئی سلامتی بھیجے تو اس پہ سلامتی بھیجنا واجب ہو جاتا ہے ماں جی…‘‘ ہمیشہ کی طرح سلام کا جواب ندارد۔
’’ارے چھوڑو پرے… نہ بھیجو سلامتی مجھ پہ۔ بڑے آئے میرے ابا۔‘‘ وہ ہر بار اس کو یونہی رگیدتیں تھیں۔
’’امی کام کی بات نہ کرلیں پہلے۔‘‘ امی کے ساتھ کچھ فاصلے پہ بیٹھی ان کی دست راست آپا کشور جہاں (عرف عام میں موم بتیوں کی ماں) نے اپنے سامنے موجود ٹیبل پہ رکھی کینو کی ٹرے اٹھاتے ہو ئے کہا۔
’’جی فرمائیں۔‘‘ اپنی آستینوں کے بٹن فولڈ کرتا ہوا بولا۔
’’فرمانا کیا ہے مولوی صاب… درخواست ہی ہے کہ کچھ پھوٹیں منہ سے رابی کے بارے میں کب تاریخ لینے جاؤں؟‘‘ بانو بیگم کا انداز بے حد طنزیہ تھا۔
’’دس ہزار بار صاف صاف کہہ چکا ہوں میں آپ کو کہ میں اس رشتے سے انکاری ہوں آپ پھر پانی میں مدہانی ڈال کے بیٹھ جاتی ہیں‘ روز روز ایک ہی بات…‘‘ اس کا لہجہ بیزار تھا۔
’’اور میں بھی تمہیں ایک سو دس ہزار دفعہ کہہ چکی ہوں کہ شادی تو تمہاری اسی سے ہوگی۔‘‘ بانو بیگم کو بھی اب ضد چڑھ گئی تھی۔
’’اب اگر آپ نے مجھے دھمکی دی تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔‘‘ انگلی اٹھا کر اس نے وارننگ دی اسی بات سے وہ ڈانواں ڈول ہوجاتی تھیں ایک ہی بیٹا تھا ان کا۔
’’امی آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ کیا رکھا ہے اس لسوڑی میں؟‘‘ کشور جہاں اگر اس کی سائیڈ لے رہی تھیں تو ان کا اپنا بھی اس میں کوئی مقصد نکلتا تھا اور اس سے بھی اسے خوب آگاہی تھی۔ اپنی نند کے لیے اس سے موزوں بکرا انھیں نہیں ملنے والا تھا۔ سسرال پہ ایک رعب سا قائم ہو جاتا لڑکی دے کے سر اٹھانے کے قابل نہ رہتے۔ ویسے بھی ڈرتی اور سنتی تو کسی کے باپ کی بھی نہیں تھیں۔ پورا خاندان ان کی اور ان کی بیٹیوں کی روش سے نالاں تھا لیکن ان کی جانے بلا اور ویسے بھی لوگوں کے سروں پہ چڑھ ناچنے کا ان ماں بیٹی کو بہت شوق تھا۔
’’آپا… آپا جاکے اپنا گھر سنبھالیں۔ میرے حواسوں پہ سوار ہونے کی کوشش نہ کریں آپ دونوں خواتین۔‘‘ غصے میں وہ تلخ ہوا۔
’’اچھا نہ اس سے نہ اس سے تو پھر کس ملانی سے شادی کرے گا؟‘‘ بانو بیگم فلم بھول بھال اس کے پیچھے پڑ چکی تھیں۔
’’یا اللہ…‘‘ اس کے بال کھینچنے کی کسر رہ گئی تھی۔ ’’کوئی ہوتی تو بتاتا بھی دیتا۔‘‘
’’کہیں دور کیوں جاؤ اس کے مطلب کی وہ ہے نا ملانی۔ مریم پھوپو۔ بس عمر میں تھوڑی زیادہ بڑی ہے۔‘‘ کشور جہاں نے کینو کی پھانک منہ رکھی اور ٹھٹھہ لگایا۔
’’توبہ کرو… کہاں وہ بڈھی کہاں میرا خوب صورت جوان بیٹا۔‘‘ وہ دھل کر رہ گئیں بانو بیگم کو توبہ کا خیال بھی کیسے موقع پر آیا۔
’’مریم پھوپو۔‘‘ اس نے ذہن پر زور ڈالا تو اس کا بڑی سی چادر میں لپٹا وجود اس کے تصور کے پردے پر لہرایا۔
’’ویسے آئیڈیا برا نہیں آپا۔‘‘ کوئی سوچ سی اس کی آنکھوں میں تھی اور لبوں پہ مسکراہٹ۔ بانو بیگم کی چپل اس کے سینے پہ ٹھاہ کرکے لگی تھی۔ اب کے وہ کھل کر مسکرایا تھا۔
…٭٭٭…
مریم سے اس کا پہلا تعارف اس وقت ہوا تھا جب وہ دس سال کا تھا۔ بانو بیگم اس کی ٹیوشن بدلوا بدلوا کر تنگ آچکی تھیں رزلٹ زیرو تھا۔ کشور جہاں جو کہ مریم والی گلی میں رہائش پذیر تھیں نے چھوٹے بھائی کو پکڑ کر اس کے ٹیوشن سینٹر میں لا بٹھایا سترہ اٹھارہ سالہ دھیمے مزاج اور مضبوط شخصیت کی مالک مریم باجی اسے بھی اچھی لگی تھیں۔ وہ کبھی کسی سے فیس نہیں لیتی تھی کہ باوا کا یہ بڑا کپڑے کا کاروبار اور ایک بڑا سارا حویلی نما مکان تھا اس شہر کی اس وقت مشہور سوغات کینو کے ساتھ ساتھ بلال کلاتھ ہاؤس اور فیملی کا چرچا بھی آس پاس کے علاقوں میں تھا۔ رج رج کر کھاتے اور بڑھیا پہنتے تھے کسی شے کی کمی نہ تھی۔ سو محلے والے بچوں کو فری میں ٹیوشن پڑھا دیا کرتی تھی۔
وہ کوئی نالائق بچہ نہیں تھا بس ماں کی حد سے زیادہ لاپروائی نے اسے بھی تعلیم سے بیگانہ کر رکھا تھا بانو بیگم کا سارا پیار اچھا اسکول اور رزلٹ خراب آنے پر ایک کے بعد دوسری ٹیوشن تک ہی محدود تھا کبھی کبھی وہ بانو بیگم اور اپنے نام کے ہی نہیں بلکہ حقیقتاً صابر باپ کا موازنہ کرتا تو اسے حیرت کے جھٹکے لگنا شروع ہوجاتے تھے۔ کہاں ابو اور کہاں امی؟
من مرضی کرنے والی، فیشن کی دلدادہ، فلموں کی متوالی، مارے باندھے گھر کے کام نپٹانے والی اور ابو ٹھنڈا میٹھا مزاج، خوش اخلاق‘ بانو بیگم کی ایک گھوری انھیں چپ سادھ لینے پر مجبور کردیتی تھی سچ تو یہ ہے کہ بانو بیگم کی زبان کی تیز دھار ان کی مردانہ آنا کو چیر کر رکھ دیتی تھی اس کے ابو اپنی عزت اور گھر میں سکون کی خاطر بانو بیگم کی کوتاہیاں صرف نظر کردیتے ابو کی قلعی اور گھڑوں کی دکانیں تھیں گھر میں آسودگی تھی سو بانو بیگم کا راج پاٹ کا شوق بخوبی پورا ہورہا تھا کشور جہاں کے چھ سال بعد پیدا ہو نے والا وہ خود بس بانو بیگم نے حیلے وسیلے کرکے مزید بچوں سے جان چھڑالی تھی۔ ابو کی پہلے کبھی کون سا کوئی خواہش پوری ہوئی تھی… اس بار بھی چپ چاپ مزید بچوں کی خواہش پی گئے تھے۔
بڑی بہن بالکل بانو بیگم پہ پڑی تھی بلکہ دو ہاتھ آگے ہی تھی اور اب اس کی بچیاں جنہیں سارا محلہ موم بتیاں کے لقب سے پکارتا تھا وہ بھی اس میدان میں ماں اور نانی کی طرح فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہی تھیں ابو کی طرح کشور جہاں کے شوہر نامدار بھی نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں۔
…٭٭٭…
ماں بہن کو دیکھ کر اس کے ذہن میں اپنی شریک حیات کے لیے ایک مخصوص خاکہ وجود میں آچکا تھا جس سے کم پر وہ ہرگز ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ اپنے بچوں کے لیے ایک درست ماں کا انتخاب ہر باپ کا فرض تھا کہ نسلیں تو اسی کی گود میں پروان چڑھتی ہیں اپنے گھر کی نسلوں کو دیکھ کر اس کا یہ یقین مزید پختہ ہو جاتا اسی لیے اس نے بانو بیگم کی بہن کی بیٹی اور کشور جہاں کی نند کو یک لفظی انکار کی سند تھما دی تھی۔
…٭٭٭…
خوب گھمسان کا رن پڑا تھا بھری دوپہر میں اپنے اپنے گھروں میں سوئے ہوئے لوگ نیند سے بیدار مزے سے آس پاس کھڑے کشور جہاں اور مینا بیگم (کشور جہاں کی فرسٹ کزن) کی لن ترانیاں سن رہا تھا۔
’’جیسی ماں ویسی بیٹیاں… پورے محلے میں گند ڈالا ہوا ہے۔‘‘ مینا بیگم اپنے گھر کے آگے کھڑی ہاتھ نچا کر بولی تھی۔
’’ارے جاؤ… جاؤ ماچھی کی اولاد… تمہارے پان کی دکان جیسے سانڈ کو پوچھتا کون ہے؟‘‘ کشور جہاں نے لہک کر اچھو (ارشد) کے ہر وقت رنگے رہنے والے دانتوں پہ تنقید کی۔ ساتھ ساتھ مینا بیگم کے والد صاحب کے پیشے کو بھی نشانہ بنایا۔
اور جن کی وجہ سے یہ سارا تماشا ہورہا تھا وہ اس وقت اس محلے سے چند کلو میڑ دور کورٹ کے احاطے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے۔ دونوں اپنی اپنی ماؤں کے ڈراموں سے عاجز آچکے تھے اس لیے فیصلہ یہ ہوا تھا کہ اچھو اماں کو پنکھے سے لٹکنے کی دھمکی دے کر اس کے رشتے کے لیے اس کے گھر بھیجے گا اور امید واثق تھی کہ کشور جہاں پنجے جھاڑ کر مینا بیگ کے پیچھے پڑ جائیں گی اور یوں پورا محلہ جب یہ شو دیکھنے میں مصروف ہوگا تو وہ لوگ گھر سے نکل لیں گے کورٹ میرج کے لیے اور ہوا بھی توقع کے عین مطابق تھا۔ ابھی اچھو کی ماں نے باقاعدہ اپنے برخوردار کا رشتہ اس موم بتی یعنی کہ کشور جہاں کی بیٹی کے لیے دیا تھا بادل نخواستہ اور کشور جہاں کو گویا کسی نے تیلی دکھا دی تھی۔ وہ بھڑبھڑ جل اٹھی پہلے تو گھر ہی میں دونوں کی منہ ماری ہوئی جس کا کلائمکس محلے کی گلی میں ہونے جارہا تھا۔
’’کوئی میرے سانڈ کو پوچھے نہ پوچھے پر تیری مدھوری ضرور اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے پچھل پیری کی اولاد۔‘‘ مینا بیگم نے کبھی کسی کا ادھار نہ رکھا تھا سو اب سیر پہ سوا سیر پھینکا دور سے آتے ضیاء نے یہ ڈرامہ چہرے پہ غصے کی سرخی لیے دیکھا تھا جب بھی وہ جاب سے واپس آتا بانو بیگم یا کشور جہاں کا کوئی نہ کوئی ڈرامہ تیار ہوتا تھا۔ موٹر سائیکل سے اتر کر اس نے آہستہ آہستہ بائیک گھسیٹنا شروع کردی۔
’’اپنے لڑکے کو نکیل ڈال کر رکھو ورنہ…‘‘ کشور جہاں کی دھمکی اس کے کانوں میں پڑی تھی۔
’’تو بھی اپنی بکری کو سنبھال۔ ادھر ادھر منہ مارتی پھرتی ہے۔‘‘ مینا بیگم بھلا جواب دینے میں کیسے چوکتی۔
’’بند کرو یہ تماشہ… چلو اندر آپا۔‘‘ پاس آکر وہ دھاڑا تھا۔
’’مجھے کیوں کہہ رہے ہو؟‘‘ کشور جہاں چلائی تھی۔ کیسے سر عام چھوٹے بھائی نے بے عزتی کردی تھی۔
’’اندر جاؤ ابھی۔‘‘ اس نے کشور جہاں کے پیچھے بند دروازے کی طرف انگلی اٹھا کر کہا۔
’’اونہہ…‘‘ مینا بیگم کو ہاتھ کا پنجہ دکھا کر وہ پاؤں پٹختی اپنے پیچھے داخلی دروازہ دھاڑ سے بند کرتی چلی گئیں۔
’’چلو تم سب بھی اپنے اپنے گھر بڑا مفت کا شو دیکھ لیا۔‘‘ اردگرد جمع ہوئے تماش بینوں کو چلتا کیا۔
’’اور بڑی آپا… آپ ہی کچھ خیال کرلیا کریں۔‘‘ وہ مینا بیگم کی طرف مڑا تھا۔ مینا بیگم سر جھٹک کر کوئی بھی جواب دئیے بغیر اپنے گھر میں گھس گئی۔
اماں کی تربیت پہ افسوس کرتا وہ ابھی بائیک کو کک لگانے کو تھا جب اس کی نظر سامنے سے اپنی بھتیجوں کے ساتھ آتی مریم پر پڑی تھی۔ کسی بے اختیاری جذبے کے زیر اثر وہ وہیں ٹھہر گیا۔ بڑی سی کالی چادر میں لپٹا وجود۔ وہ وہیں کھڑا اپنی دھن میں مگن چلتی مریم کو دیکھتا رہا جب تک کہ وہ اپنے گھر کا گیٹ پار نہ کر گئی۔ لب مسکرا اٹھے تھے اسے دیکھ کر اسے اپنی روح میں طمانیت سی اترتی محسوس ہوئی تھی۔
…٭٭٭…
وہ لائبریری سے ڈھیر ساری ایشو کی گئی کتابوں کا پلندہ اٹھائے چلی آرہی تھی۔ جب مخالف سمت سے آنے والے ضیاء نے اسے دیکھ کر ایک دم سے اس کے قریب بریک لگائے تھے‘ وہ بھی چلتے چلتے چونک کر اس بائیک والے کی سمت دیکھنے لگی۔
’’السلام علیکم!‘‘ دھوپ والا چشمہ آنکھوں سے اتر کر شرٹ کی اوپری جیب میں جااٹکا تھا۔
’’وعلیکم اسلام!‘‘ اسے حیرت ہوئی تھی یوں اس کے پہلی بار مخاطب کرنے پر ویسے تو وہ اسے جانتی تھی ایک ہی محلہ پھر اس کا شاگرد بھی رہ چکا تھا بہت دفعہ آتے جاتے سامنا ہوا تھا لیکن کبھی اس نے اسے روک کر نہ سلام کیا اور نہ بات چیت۔
’’یہ کتابیں کافی بھاری لگ رہی ہیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کا بوجھ اٹھانا چاہتا ہوں۔‘‘ معنی خیز جملہ کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پہ چپکی ہوئی تھی۔
’’ارے نہیں… یہ سامنے ہی تو گھر ہے بس تھوڑا سا فاصلہ ہے میں چلی جاؤں گی۔‘‘ وہ سمجھی نہیں تھی۔ اس نے رسان سے کہا یوں راستے میں کھڑے ہونا اسے الجھن میں مبتلا کررہا تھا وہ سمجھ گیا۔
’’میں ہر چھوٹا بڑا فاصلہ آپ کے ساتھ طے کرنا چاہتا ہوں زندگی کی راہ گزر پر۔‘‘ بے دھڑک اس نے کہا تھا۔ مریم کو پہلے تو سمجھ نہیں آئی تھی لیکن جب سمجھی تب بھی وہ اس بات کو جھٹلا رہی تھی۔
’’کیا تک ہے بھلا اس بات کی؟‘‘ اس کے ماتھے پہ بل نمودار ہوئے۔
’’مطلب یہ کہ آپ کے ساتھ کی خواہش ہے میری۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
’’او بھائی… پتہ بھی ہے کس سے بات کررہے ہیں آپ۔‘‘ اگر تو یہ مذاق تھا تو وہ اسے مزہ چکھانے والی تھی اور اگر یہ سچ تھا تو بھی یوں بیچ راہ روک کر اسے مخاطب کرنا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔
’’جی… میرا دماغ بالکل ٹھیک کام کررہا ہے اور میں جو کہہ رہا ہوں وہ اپنے دل کی رضا سے۔‘‘ اس نے اس کی غلط فہمی دور کی۔
’’آپ کو یوں روکنے پہ معذرت خواہ ہوں۔ آپ کو یوں سامنے دیکھا مجھے یہی مناسب لگا پھر جانے آپ سے اسپیشل ملاقات کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے۔‘‘ دلکش آواز تھی اس کی۔ مریم نے اب اسے غور سے دیکھا اور سراہا تھا۔
’’دیکھو… ہمارے درمیان…‘‘
’’جی بالکل…‘‘ اس نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی تھی۔
’’آپ مجھ سے کچھ سال پہلے دنیا میں تشریف لے آئی تھیں۔ جو کہ کوئی گناہ ہے نہ باعث شرم…‘‘ وہ رکا تھا۔
’’میں اس نبیﷺ کا امتی ہوں جس نے اپنے سے پندرہ سال بڑی عورت سے نکاح کیا اور کیا خوب محبت تھی دونوں میں۔ میرا خواب صرف آپ ہی پورا کرسکتی ہو۔ آپ کی شخصیت، کردار۔ مجھے جو چاہیے تھا وہ سب آپ میں موجود ہے مجھے دیکھیں، پرکھیں‘ عقل کی کسوٹی پر ہمارا جوڑ بہترین ہے ہر لحاظ سے۔‘‘ اس کے سارے سوال، اندیشے دور کرتا وہ اسے دل کے قریب محسوس ہوا تھا۔
’’سوچئیے… میں جواب لینے دوبارہ چلا آؤں گا آپ کی راہ میں۔‘‘ خوب صورت اور مہذب انداز میں اسے پروپوز کرکے وہ بائک کو دوڑائے لے گیا اور وہ وہیں کھڑی حیرت سے خود سے پوچھتی رہ گئی۔
’’یہ مجھے پرپوز کرکے گیا ہے کیا؟‘‘
…٭٭٭…
ضیاء سے اس کی بھی اتنی ہی واقفیت تھی جتنی کہ ایک محلے دار کے طور پر دوسرے سے ہوتی ہے۔ اڑتی پڑتی اس کی خبریں بھی اسے مل جایا کرتی تھیں۔ بمشکل ایک سال اس سے ٹیوشن پڑھنے کے بعد اس کی ماں نے کلثوم امی سے ناراض ہوکر اسے وہاں سے اٹھا لیا تھا اور وہ بھی کوئی اتنا اہم نہیں تھا دوسرے بچوں کی طرح ہی تھا سو وہ جلد اس کے حافظے سے اتر گیا۔ اس کی شادی ختم ہونے کے بعد کافی رشتے آئے تھے جن میں سے کسی سے بھی بات زیادہ نہیں چلی اور کچھ کو اس نے خود ریجیکٹ کردیا تھا۔
چھوٹی امی کے اعتراض کہ ’’اس سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کسی کے بھی ساتھ چلتا کردو… ہاں یہ دیکھ لینا کہ مرد ہی ہو کہیں پھر بی بی میکے واپس آجائے۔‘‘ ابا نے درخو اعتنا نہ جانا۔
اب ابا اس کی مرضی کو اہمیت دے رہے تھے جان چکے تھے کہ بیٹی رانی کے اندر کا اجالا اس دنیا کے کالے رسم و رواج سے سیاہ نہیں ہو نے والا تھا۔ کسی زمانے میں ان کا اسلام مرد کی چار شادیوں تک ہی محدود تھا لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے بھائی کی صحبت اور گیان سے فیض یاب ہوکر ابا کے خیالات میں انقلاب برپا ہوچکا تھا۔ چاہے لاکھ اختلافات رہے ہوں ابا اور اس کی پہلی دو بیویوں کے درمیاں لیکن مریم کے سلسلے میں مریم کی آواز میں ہی ان کی آواز شامل ہوتی تھی۔
اور اب یہ ضیاء جس کے بارے میں اس کی اپنی ماں بہنوں نے بددماغ اور ملا مشہور کر رکھا تھا بی اے کے بعد بینک کی شاندار جاب کو لات مار کر کسی ڈیری فارم میں مینیجر کے عہدے پہ جا بیٹھنے والے ضیاء… کے بارے میں وہ زیادہ نہیں جانتی تھی اور پھر عمر کا بھی خاصا فرق تھا۔ وہ سوچ رہی تھی دل سے بھی اور دماغ سے بھی۔
…٭٭٭…
’’کیا کہا؟‘‘ بانو بیگم اس کی بات سن کر عین توقع کے مطابق چیخی تھیں۔
’’وہ بڈھی… طلاقن؟‘‘ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر پیچھے یوں اشارہ کیا جیسے وہ پیچھے ہی کھڑی ہو۔
’’جی وہی۔‘‘ اس کا اطمنان قابل دید تھا۔
’’تم پاگل ہوچکے ہو یا مایوس؟‘‘ بانو بیگم کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس قسم کا رد عمل دیں۔
’’امی… آپ کو معلوم ہے کہ بحث کا مجھ سے کوئی فائدہ نہیں۔ وہ میرے دل اور عقل دونوں کو بھا گئی ہے سو اب رشتہ تو آپ لے کر ہی جائیں گی۔‘‘ دو ٹوک انداز جو بانو بیگم کو پسپائی پر مجبور کردیتا تھا۔
’’پر بیٹا… اس کی اور تمہاری عمر میں زمین آسمان کا فرق ہے اور پھر طلاق یافتہ۔ ایک سے ایک کنواری تمہیں مل جائے گی…‘‘ بانو بیگم کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
’’وہ جو ہے جیسی ہے مجھے دل و جان اور اپنے ایمان سے قبول ہے میرے دل میں اتر گئی ہے آپ کی سمجھ کو بھی لگ جائے گی جب اس گھر میں آئے گی بس آپ اس کے والد صاحب سے بات کرلیں جلد۔‘‘ وہ اپنی کہہ کر چلتا بنا اور بانو بیگم سر ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گئیں۔
…٭٭٭…
دنوں اس کے گھر میں محاذ جنگ سجا رہا آپا اور بانو بیگم ایک دوسرے کی ٹوٹی امیدوں کے دونوں سرے باہم جوڑے رکھتیں۔ کوسنے، منتیں، دھمکیاں کچھ بھی تو اس ڈھیٹ پر اثر انداز نہیں ہورہا تھا۔
’’یہ کہاں سے پیدا کرلیا آپ نے… اچھا ہوتا ایک اور لڑکی ہوجاتی اس نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے بچپن سے۔‘‘ کشور جہاں نے اکتا کر ماں کو دھائی دی۔
’’ہاں… تم نے تو لڑکیاں پیدا کرکے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہے نا… ایک سے بڑھ کر ایک۔‘‘ بانو بیگم نے ان پر چوٹ کی۔
’’کرلیں… کرلیں آپ بھی اپنا شوق پورا کرلیں طعنوں کا پہلے ہی کیا کم دھول اڑ رہی ہے اس حرا کی بچی کی وجہ سے… شریکوں کے گھر جا بسی ہے وہ کیسے دن رات میں برداشت کرتی ہوں آپ کو کیا پتہ؟ ماں تو اولاد کے سائے سے بندھی ہوتی ہے اور ایک آپ ہیں۔‘‘ وہ دوپٹہ منہ پہ رکھ کر رونے لگیں۔
’’اچھا بس کرو… ویسے ہی منہ سے نکل گیا۔‘‘ انہوں نے بیزاری سے ان کے مگرمچھ کے آنسوؤں کو دیکھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ وہ جھٹ منہ سے دوپٹہ جھٹک ان کے قریب کھسک آئیں۔
’’میں سوچ رہی تھی کچھو…‘‘ (کچھو نے اس لقب پر گھورا)۔
’’لڑکی تو ہیرا ہے۔ جیسی یہ چاہتا ہے ویسی ہی۔‘‘ بانو بیگم نے ادھر ادھر دیکھ کر اس کے غیر موجودگی کا یقین کرنے کے بعد بیٹی کے کان میں کہا۔
’’اے ہٹاو امی… لڑکی کہاں سے ہوگئی؟ اس کی اور اس پاگل کی عمروں کا فرق تو دیکھیں۔‘‘ آپا سے کوئی عقل کی بات کہاں برداشت ہوتی تھی فوراً اختلاف کیا۔
’’میں سوچتی ہوں کہ ایک ہی ایک بیٹا ہے میرا اسے ہمیشہ مجھ سے شکایتیں ہی رہی پر کبھی کوئی غلط بات کی ضد‘ کوئی برائی نہیں اس میں تو پھر میں کیوں نہ اس کے من کی پوری کردوں کوئی ایک تو خوشی اسے ماں سے بھی ملے۔‘‘ بانو بیگم نے اعتراف جرم کرنے والے انداز میں کہا۔
’’امی… آپ کیوں جذبات میں آکر اس حاجن کو ہمارے سروں پر سوار کروانا چاہتی ہیں۔ ناک میں دم کرکے رکھ دیں گے دونوں… یہاں تو یک نہ شد دو شد والا معاملہ ہے۔‘‘ کشور جہاں کو اس احمقانہ خیال کی اپنی ماں سے تو امید بالکل نہیں تھی۔
’’بس میں نے سوچ لیا ہے میں اسی جمعے جاؤں گی جب بیٹی کی پسند کی شادی پورے چاؤ سے کروا سکتی ہوں تو پھر بیٹا کیا میں میلے سے پکڑ کر لائی تھی۔‘‘ بانو بیگم کی عقل کا بلب آج اچانک ہی فل روشن ہوچکا تھا۔ ان کے کشور جہاں کی لو میرج کا حوالہ دینے پہ وہ تھوڑا سا جزبز ہوئی تھیں۔
’’اور تم بھی اچھو کو دل سے قبول کرلو۔ شوہر تمہارا تو روز بیٹی سے مل کر آتا جاتا ہے اب تم بھی ضد چھوڑ دو۔ بڑا تماشا بنا لیا خود کا۔‘‘ اب تو کشور جہاں بے ہوش ہونے کو تھیں۔ یہ امی کو آج ہوا کیا تھا؟
…٭٭٭…
’’امی… کیا سو رہی ہیں؟‘‘ وہ دروازے پہ ہلکی سی دستک دے کر اندر چلی آئی۔
’’ نہیں پتر… آو؟‘‘ بڑی امی لیٹے سے اٹھ بیٹھیں۔
’’سوئی نہیں تم؟‘‘ دوپہر کو سب ہی آرام کرتے تھے لیکن مریم اپنے کمرے میں ہی موجود کچھ نہ کچھ کرتی رہتی تھی اگر آج اس وقت ان کے کمرے میں آئی تھی تو یقینا کوئی خاص بات تھی۔
’’آپ سے ایک مشورہ کرنا تھا۔‘‘ ان کے بیڈ کے کنارے ٹک کر اس نے کہا۔
’’بولو بیٹا۔‘‘ بڑی امی نے نہال ہونے والے انداز میں کہا۔
’’وہ صابر ہے قلعی گر اس کے بیٹے نے مجھے پرپوز کیا ہے؟‘‘ بغیر کوئی تمہید باندھے اس نے کہا۔
’’کیا… کیا ہے؟‘‘ بڑی امی کے سر پر سے گزرا۔
’’میرا مطلب ہے کہ اپنا رشتہ دیا ہے۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔
’’ہیں…!‘‘ بڑی امی کو حیرانی ہوئی۔
’’وہی کچھو سے جو چھوٹا ہے؟‘‘ انھوں نے ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے پوچھا۔
’’جی۔‘‘ اس نے مختصر جواب دیا۔
’’پر وہ تو بہت چھوٹا نہیں تم سے۔‘‘ انھوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
’’عمر کی چھوٹائی‘ بڑائی بے معنی چیزیں ہیں۔ امی… میں نے بہت سوچا ہے اس پروپوزل پر اور استخارہ بھی کیا ہے۔ میرا دل اور دماغ مطمئن ہیں۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔
’’اچھا تو پھر تو یہ چنگی بات ہے نئیں۔‘‘ انہوں نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’جی ان شاء اللہ… آپ ابا سے بات کرلیں کہ جب وہ رشتہ لے کر آئیں تو میری طرف سے ہاں ہے۔‘‘ اس نے انہیں اپنا عندیہ دیا۔
’’لڑکا تو بہت اچھا ہے دین دار، بالکل تیرے جیسا۔‘‘
’’الحمدللہ… اللہ نے اچھا بر بھیج دیا اتنے سالوں بعد۔‘‘ وہ سچ میں خوش تھیں۔
’’پر پتر… اس کی ماں اور بہن تو بڑی پھایا کٹنیاں ہیں۔‘‘ انہیں ایک دم سے اس خیال نے پریشان کیا تھا۔
’’امی… وہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ ہر گلاب کے ساتھ کانٹے ضرور ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے مسکرا کر ان کا خدشہ ہوا میں تحلیل کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور اس کی پیشانی چوم لی۔
…٭٭٭…
بڑی امی کے کمرے سے سرشار سی وہ باہر نکلی تھی۔
’’سبحان اللہ… کتنی تپش ہے۔‘‘ اس نے صحن کی دیواروں سے ڈھلتے سائے کو دیکھ کر خود کلامی کی۔ جلد کو جھلسا دینے والی گرمی سے گھبرائے ہوئے سب افراد خانہ اپنے اپنے کمروں میں محو استراحت تھے سہ پہر شام میں ڈھلنے والی تھی اور ابھی تک گرمی کا زور نہیں ٹوٹا تھا نماز پڑھنے کا ارادہ باندھ کر وہ وضو کے لیے صحن میں ایک طرف بنے باتھ کا رخ کرنے ہی لگی تھی کہ بیرونی دروازے پہ ہوتی دستک نے اسے چونکا دیا۔
’’اس وقت کون ہوسکتا ہے بھلا۔‘‘ وہ تھوڑی سی حیران ہوئی تھی۔
’’کون؟‘‘ دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے پوچھا۔
’’ضیاء جناب…‘‘ وہ اس کی آواز پہچان گیا تھا۔ اس نے گڑبڑا کر اپنے سر سے اتری چادر سلیقے سے اپنے گرد لپیٹی۔
’’کوئی کام ہے کیا؟‘‘ دروازہ کھولے بغیر اس نے محتاط انداز میں پوچھا۔
’’کیا پلیز آپ تھوڑا سا گیٹ کھولیں گی دو سیکنڈ کے لیے؟‘‘ اس کا مان بھرا التجائیہ انداز… اس نے میکانکی انداز میں بڑے سے گیٹ میں نصب چھوٹا گیٹ کھولا تھا۔
’’شکریہ۔‘‘ سامنے ہی روشنی سے بھرا چہرہ پر شوق تھا۔ بے ریا چہرے پہ سجی ڈاڑھی بڑی بھلی معلوم ہورہی تھی۔
’’جی فرمائیے۔‘‘ وہ جو کبھی جھجکی نہ تھی اب جانے کیوں اس کی طرف براہ راست دیکھنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ جو کہانی وہ آنکھوں کی زبان سے آج کل کہتا پھر رہا تھا وہ اس کا احوال جان کر خود میں بے چینیاں نہیں بھرنا چاہتی تھی۔
’’سچ میں یہاں آتے ہو ئے آپ سے سامنا ہونے کی دعا مانگ رہا تھا۔‘‘ وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ مریم کا اس کا یوں بااعتماد انداز میں خود کو دیکھنا تھوڑا سا نروس کررہا تھا۔
’’ابا سے کوئی کام تھا یا بھائیوں سے۔‘‘ اس کی آمد کے مدعا وہ بخوبی جانتی تھی لیکن اس وقت جانے کیوں دل اچانک ہی شرارت پہ مچلا تھا۔
’’بالکل ان سے بھی ملیں گے تاکہ آپ کا ہاتھ کھلم کھلا پکڑ کر گھر لاسکیں۔‘‘ شرارت وہاں بھی عروج پر تھی۔ لیکن شرافت کی حد میں رہتے ہوئے اور وہ دونوں اس امر سے بخوبی آشنا تھے کہ وہ ہر حد کس حد کو پار کرنے کے بعد پار کی جاسکتی ہے۔ کچھ دیر وہ دونوں اپنے درمیان چھائی اس معنی خیز خاموشی کو محسوس کرتے رہے۔
’’وہ کچھ دن پہلے آپ سے ایک درخواست کی تھی اسی کی منظوری کے بابت جاننے کے لیے حاضر ہوا تھا۔‘‘ پہل ضیاء نے ہی کی کہ مرد کی پہل عورت کو معتبری کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔
جواب تو اس نے سوچ لیا تھا۔ ان دونوں میں اس نے پہلی بار دل کا کہنا مانا تھا استخارہ کرکے جو اطمینان اس کے رگ و پے میں اترا تھا وہ اشارہ تھا کہ اس محبت کی زنجیر میں قید ہوا جائے۔
’’آپ کی بات کا جواب یہ ہے کہ…‘‘ وہ جان بوجھ کر اس کا صبر آزمانے کو رکی تھی۔ اس نے اپنا سانس روک لیا تھا مبادا دھڑکنوں کے شور میں اسے سننے میں کوئی غلطی ہوجائے۔
’’پلیز…‘‘ کالی چادر کے حصار میں اس کے صبیح چہرے کو دیکھنا اس وقت اسے اس دنیا کا سب سے دلچسپ کام لگا تھا۔
’’میری طرف سے ابا جی آپ کو ہاں میں جواب دیں گے۔‘‘ اس نے جلدی سے کہہ کر گیٹ بند کردیا۔ کیا شاندار جواب تھا ہاں میں۔ اس نے سر اٹھا کر دھوپ سے بھرے آسمان کو دیکھا۔ دو انگلیاں ماتھے پہ جما کر سلیوٹ کیا۔ ہنسی بے ساختہ اس کے لبوں پر مچلی تھی۔
…٭٭٭…
’’واہ بھئی واہ… ملانی کے رنگ ڈھنگ تو دیکھو۔‘‘ جیسے ہی وہ گیٹ بند کرکے پلٹی تھی تو سامنے کھڑی صدیقہ بیگم نے تالی بجاتے ہوئے اپنے تئیں اس کے ہوش اڑانے کی کوشش کی تھی۔
’’مطلب…‘‘ اس نے ایک ابرو اچکا کر کہا۔
’’مطلب ابھی بتاتی ہوں۔ عظیم، نعیم آؤ سب آؤ دیکھو بہن کے کرتوت۔‘‘ وہ وہیں کھڑے کھڑے چلا کر مریم کے بھائیوں کو بلانے لگی۔ مریم وہیں جمی کھڑی اس کا تماشا دیکھتی رہی۔ سب ہی افراد خانہ اپنے اپنے کمروں سے ہراساں سے بھاگے آئے تھے۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ سب نے ان دونوں کو آمنے سانے کھڑے دیکھ کر پوچھا۔
ابا، بڑی امی، خالدہ امی، بھائی بھابھیاں سب نیند سے آدھ کھلی آنکھیں مل مل کر ان دونوں کو دیکھ رہے تھے اور ماجرا سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔
’’دیکھو اپنے بہن کے تماشے، ویسے تو بڑی پردے کی بوبو بنتی ہے۔ حدیثیں ایک ہزار رٹی ہوئی ہیں اور کرتوت ملاحظہ فرماؤ۔ ہم سب کو سوتا بلکہ مرا سمجھ کر اپنا کوئی یار بلا لیا دروازے پہ…‘‘ صدیقہ کی بات نے عظیم اور نعیم کے نتھنے فوراً پھلا دیے تھے جبکہ بھابھیاں ہائے والے انداز میں منہ پہ انگلیاں جما گئیں۔
’’کیا یہ سچ ہے؟‘‘ عظیم غرایا اس نے نہایت بیزاری سے اس ساری پنچائیت کو دیکھا۔ ابا اور دونوں ماؤں کے چہرے پریشانی کا مظہر تھے۔
’’کیا آپ لوگ جانتے نہیں ہیں مجھے جو ایک بے سروپا بات کی جرح شروع کردی۔‘‘ اس نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا۔
’’تو کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں؟‘‘ عظیم کے الجھی سوالیہ نظروں سے صدیقہ کو دیکھنے پر وہ حلق کے بل چلائی تھیں۔
’’کیا کوئی آیا تھا پتری؟‘‘ ابا تو بس پیار ہی پیار تھے۔
’’خوب میاں جی… یہ بتائے گی کہ کون آیا تھا۔ مجھے سے پوچھو ان دو آنکھوں سے اسے اس کے ساتھ ہنسی ٹھٹھول کرتے دیکھا ہے اس بھری دوپہر میں۔‘‘ صدیقہ بیگم کی آواز قصداً اونچی تھی۔
’’آواز نیچ رکھ مرن جوگی۔‘‘ بڑی امی نے آس پڑوس کے گھروں کی طرف اشارہ کیا۔
’’تیری تو کوئی عزت نہیں پر ہماری ضرور ہے خبردار جو گلا پھاڑا۔‘‘ بڑی امی کی تائید چھوٹی امی نے گردن ہلا کر کی۔
’’کوئی منہ سے پھوٹے بھی کہ کیا ہوا تھا کون آیا تھا؟‘‘ نعیم اس سارے ڈرامے سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہورہا تھا۔
’’صابر قلعی گر کا بیٹا آیا تھا ابا جی! کچھ دن پہلے اس نے مجھ سے اپنے سلسلے میں بات کی تھی اسی کا جواب لینے آیا تھا۔‘‘ اس سے پہلے کہ صدیقہ بیگم پھر کفن پھاڑتی اس نے اصل بات بتا دی۔
’’اور بھائی صاحبان… آپ کی گودوں میں پل کر بڑی ہوئی ہوں میرا مزاج‘ میرے نظریات سے آپ کیا پورا محلہ واقف ہے پھر بھی آپ نے چھوٹی امی کی چھوٹی باتوں کو اہمیت دی۔‘‘ مضبوط لہجہ اس کی بات کی صداقت کی گواہی دے رہا تھا۔
’’ہاں میں تو ہوں ہی چھوٹی… لڑکے باہر کے باہر اس سے مل کر رشتے دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ دروازے تک آپہنچے اور تم لوگ یہاں کھڑے اس کی بات پہ سر دھن رہے ہو۔‘‘ صدیقہ بیگم کے عناد کی کوئی حد نہیں تھی۔ وہ بھس میں چنگاری ڈالنے کے فن سے خوب آشنا تھیں۔
’’بکواس بند کر اپنی۔‘‘ بڑی امی نے انھیں گھرکا۔
’’مریم کے ابا… اس نے مجھے بتائی ہے ساری بات تم چلو میرے کمرے میں بتاتی ہوں میں تمہیں۔‘‘ انھوں نے الجھن کا شکار ابا کو مخاطب کیا اور صدیقہ بیگم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
’’واہ جی واہ… یہ بڑھیا ہی اس لڑکی کی ملاقاتیں کروا رہی ہے۔ ارے میں کہتی ہوں کوئی غیرت نام کی چیز ہے اس سارے گھرانے میں۔‘‘ لڑکوں کو للکارتے ہوئے وہ بولی تھیں۔ ان کا مقصد صرف گھر میں فساد بپا کرنا تھا۔
’’اب اگر ایک لفظ بھی اور تم نے کہا تو میں تمہیں ابھی کے ابھی طلاق دے کر فارغ کردوں گا۔ اگر تمہیں میری بیٹی کی عزت کا لحاظ نہیں تو میں نے بھی تمہاری عمر رسیدگی کے خیال پر لعنت بھیج کر وہ کرنا ہے جس کا تم نے کبھی سوچا بھی نہیں۔‘‘ ابا ایک دم سے جلال میں آگئے تھے صدیقہ بیگم گھبرا گئی تھیں اس انتہاء کی انہیں ابا سے اب اس عمر میں توقع بالکل نہیں تھی۔
’’چلو تم سب بھی اپنے اپنے کمروں میں۔ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔‘‘ باقی کا غصہ دونوں بیٹوں پر نکل گیا۔
’’معافی دے دیں ابا جی… چھوٹی امی نے بات ہی ایسی کی۔‘‘ عظیم گھگھیایا۔
’’پتر… ایک بات میری یاد رکھنا کہ اگر کوئی راہ چلتے آپ کے اجلے کپڑوں پر کیچڑ اچھالے تو کیا تم لوگ اپنے کپڑوں کو اپنے سمیت آگ لگا لوگے یا دھو نے کی کوشش کرو گے؟‘‘ ابا نے سنجیدگی سے ان سے سوال کیا جس کا جواب دینے کی نوبت ہی نہیں آئی ان کے سر پہلے ہی جھکے ہوئے تھے۔
’’اجلے کپڑے اور اجلے لوگ خود کو داغ لگنے سے بچا نہیں سکتے پر داغ ضرور دھویا جاسکتا ہے۔‘‘ ابا کی بات کے بعد گہری خاموشی چھائی رہی وہ اپنی اپنی جگہ شرمندہ تھے۔
’’چلو جاؤ آرام کرو۔‘‘ ابا نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں جانے کا اشارہ کیا۔
’’آجا پتری… اپنے ابے کو اب تفصیل سے بتا ساری بات۔‘‘ ابا نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے کے گرد بازو لپیٹا۔ سارا صحن خالی ہوگیا اور صدیقہ بیگم کے رہے سہے بھرم کا برتن بھی۔ وہ اکیلی کھڑی رہ گئیں۔
…٭٭٭…
’’جناب من…‘‘ ضیاء اس کے پہلو میں آبیٹھا سادہ سے کمرے کی واحد آرائش دلہن ہی تھی۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے سٹپٹا کر اسے سلام جھاڑا اتنی بے تکلفی۔
’’میں بہت خوش ہوں اور اللہ کا شکر گزار تمہاری جیسی ہی بیوی کی مجھے ضرورت تھی۔‘‘ اس کا لہجہ خوشی سے معمور تھا۔ اس نے دھیرے سے اس کا حنائی ہاتھ تھاما تھا۔
’’تمہیں یاد ہے کہ جب میں تمہارے پاس ٹیوشن کے لیے آتا تھا تو تم ایک گیت زملونی گنگناتی تھیں میرے کانوں میں وہ الفاظ آج بھی گونجتے ہیں۔ زملونی… زملونی…‘‘ خوب صورت بھاری لہجہ اس کے کانوں میں گونجا تھا وہ مسکرائی۔
’’تمہیں یاد ہے؟‘‘ اسے حیرت ہوئی تھی۔
’’ہاں…‘‘
’’زملونی… زملونی۔‘‘ اس نے اس کا حنائی ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لپیٹ کر تان اڑائی تھی۔
’’زملونی دفیرونی (مجھے ڈھانپ دو مجھے سہارا دو… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدیجہ رضی اللہ عنہ کو کہے گئے الفاظ جب وہ پہلی بار نبوت کے رتبے سے سرفراز ہوکر گھبرائے ہوئے گھر آئے تھے) مریم نے آواز میں آواز ملائی تھی۔
اسے بھی ڈھانپنے والی مل گئی تھی لباس کی اہمیت ایک ننگے انسان سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا اب دونوں نے ایک دوسرے کو ڈھانپنا تھا ساری عمر وہ بہت خوش تھے ایک ساتھ مکمل… آسودہ۔
کمرے کی کھڑکی سے جھانکتا پورا چاند اپنی اٹھکھیلیاں کرتی شعاعوں کی روشنی چہار سو پھیلا رہا تھا جہاں دودھیا روشنی میں نہائے دو سائے اللہ کے حضور سجدہ ریز تھے فضاء میں ابھی تک ان کے گائے ہو ئے گیت زملونی۔ دفیرونی کی بازگشت تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close