Hijaab Feb-17

آغوش مادر

ثنا اعجاز/اقرالیاقت

سب کو اپنی ماں کے بارے میں پیارے اور خوب صورت الفاظ میں بتاتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی سوچا کیوں نہ میں بھی اپنے کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ اپنی ماں کے گوش گزار کروں، ماں کے بارے میں لکھنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے ایک ایسا سمندر جس کی گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے، ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابل بیاں ہے جو بے لوث ہوتی ہے۔ ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے، ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوند کریم جب انسان سے اپنی محبت کادعویٰ کرتا ہے تو اس کے لیے ماں کو مثال بناتا ہے ماں وہ ہستی ہے جس کی پیشانی پر نور آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے ماں وہ ہے جس کو ایک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر جی بھر کر رو لیتی ہوں۔‘‘ یہ فرمان تھا حضرت رابعہ بصری کا ماں وہ ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ماں ایک گھنے درخت کی مانند ہے جو مصائب کی تپتی تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی مامتا کے ٹھنڈے سائے تلے چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت کے وقت اپنے تمام چوزوں کو پروں میں چھپا لیتی ہے یہ سوچ کر کے اسے چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر اس کے بچے محفوظ رہیں ایسی محبت صرف ایک ماں ہی دے سکتی ہے، ساری عمر بھی اس کے نام کی جائے تو بھی حق ادا نہ ہو، اس کی ایک رات کا بدلہ بھی پورا نہ ہو۔
میری امی اس دنیا کی سب سے اچھی ماں ہیں (شاید ہر بیٹی یہی سوچتی ہوگی) میری امی کا 7 اگست کو آپریشن ہوا (رسولیوں کا)میں رو رو کر ان کی صحت کی دعا مانگ رہی تھی کیونکہ میں ان سے کبھی اتنا دور نہیں ہوئی تھی تو ان کے جانے کے بعد مجھے سب کے ہونے کے باوجود گھر میں ڈر سا لگنے لگا ہر بات پر میری آنکھیں نم ہوجاتیں، مجھے ہر کوئی اجنبی لگ رہا تھا میری بڑی بہن نگینہ کو میرے پاس چھوڑ کر گئیں کہ اس کے پاس رہنا رات کو اٹھ کر اسے دیکھتی رہنا اس کو ڈر لگتا ہے مجھے ان کی یہ محبت دیکھ کر بہت رونا آرہا تھا آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برس رہی تھیں چار گھنٹے ان کے آپریشن کو لگے اور مجھے ایسا لگا جیسے میرے جسم سے جان نکلی جا رہی ہے، وہ میرے سامنے بے ہوش پڑی تھیں ان کو اس حال میں دیکھ کر میرا دل چاہا میں اتنا روئوں کہ میرے آنسو ختم ہوجائیں۔ گھر آکر میں نے پہلی رات بہت مشکل گزری مجھے ان کے بغیر ایسا لگ رہا تھا جیسے میں بالکل تنہا ہوگئی ہوں مگر وہ کہتے ہیں نا کہ بڑی بہنیں مائوں کی جگہ ہوتی ہیں میری بہن نے بھی مجھے ماں جیسا ہی پیار دیا اور خیال رکھا میں کھانا نہ کھاتی تو وہ مجھے فورس کرتی کہ کھائو پھر باجی شہلا اور بھائی منیر بھی لاہور سے خاص طور پر امی سے ملنے آگئے تو بہنوں کے ساتھ وقت بہت اچھا گزرا یہ ماں بہنوں اور بھائیوں کے رشتے بھی عجیب ہیں چوٹ ان کو لگتی ہے اور درد ہمیں ہوتا ہے ہم چھ بہن بھائی ہیں چار کی شادی ہوگئی ہے میں اور تقی رہ گئے ہیں جوہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور امی کہتی ہیں کہ پہلے چار اتنے شرارتی نہیں تھے جتنے تم دونوں ہو اف ناک میں دم کر رکھا ہے ہماری اکثر باتوں پر وہ روٹھ جاتی ہیں پھر میرے دو آنسو دیکھ کر فوراً تڑپ کر گلے لگا لیتی ہیں ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھتی ہیں ان کو مکمل صحت یاب دیکھ کر میں بہت خوش ہوں، میں سوچتی ہوں اور کیسے زندگی گزارتے ہوں گے جن کے سروں پر ممتا کا ٹھنڈا سایہ نہیں ہوتا وہ خود کو کتنا تنہاسمجھتے ہوں گے خاص کر بیٹیاں، وہ کس سے باتیں کرتی ہوں گی کس کو مناتی ہوں گی کس سے روٹھتی ہوں گئی کس سے ضد کرتی ہوں گی کہ بس مجھے وہ چیز لینی ہے تو بس لینی ہے جب میں والدین کا یہ پیار دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ سب والدین ایسے ہی پیار سے اولاد کو پالتے ہوں گے اور جب یہی اولاد ان کو دنیا کی ٹھوکروں پر چھوڑ دیتی ہے تو کیا ان کو وہ وقت یاد نہ آتا ہوگا کہ جب ان کو والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اپنے منہ سے نوالہ نکل کر ان کو کھلایا اپنے آرام و سکون کو ایک طرف کر کے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات کام کیا آج وہی اولاد ان کو بوجھ سمجھ کر پھینک گئی ہے اگر کچھ کہہ دیا تو کہتے ہیں انہوں نے ہماری زندگی کا سکون تباہ کردیا ہے، کیا وہ یہ نہیں سوچتے کہ کل ان کو بھی بوڑھا ہونا ہے ان پر بھی یہ وقت آنا ہے اللہ ہر کسی کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین۔ ہم سب بہن بھائی اپنے والدین سے بہت پیار کرتے ہیں میرا بڑا بھائی تو ماں کے پیچھے دیوانہ ہے اگر کبھی ماں نظر نہ آئے تو دیوانہ ہوا پھرتا ہے اور پھر امی کو دیکھ کر ایک مسکراہٹ ان کے چہرے پر نمودار ہوجاتی ہے اللہ کا شکر ہے ہمارے گھر میں پر سکون ماحول ہے ماں تو ماں ہوتی ہے نا جس کے دم سے گھر جنت سا لگتا ہے اللہ میری ماں اور باپ دونوں کو لمبی عمر دے اور ان کا ٹھنڈا، درخت سے بھی گھنا، پر شفیق سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ رہے ماں کتنی اپنائیت مقدس، مٹھاس والا رشتہ ہے۔
جدا مجھ سے نا ہو نا ماں
میری عیدیں تمہی سے ہیں
میں جب بھی یاد کرتی ہوں
جدائی کے وہ سب لمحے، امیدیں مر چکی تھیں جب
دن اگلا عید کا تھا ناں، مگر مجھ سے کوئی پوچھے
اذیت کے وہ سب لمحے، میں تب سوچتی تھی یہ
مجھے پھر کون عید کے دن، مہندی ہاتھوں پہ لگائے گا کون
میں آدھی مر چکی تھی ماں بند آنکھوں سے کہا تم نے
تمہیں میں یاد آئوں گی، دعا ہوئی قبول کسی کی
ملی زندگی تمہیں پھر سے اب جب بھی عید آئی ہے
میں رب سے فریاد کرتی ہوں سایہ میری ماں کا مجھ پر
رکھنا ہمیشہ میرے اللہ، آمین
ثنا اعجاز
٭…٭…٭…٭
میری ماں میرا جہاں
اٹھایا جو قلم تو پھر رکا ہی نہیں (اقرا)
میں جو کہتی تھی لفظ ماں پہ لکھا نہ جائے گا
السلام علیکم! آج بالآخر لفظ ماں پر لکھنے کی جسارت کر ہی ڈالی اس موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے بے شک بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ تین حروف پر مشتمل لفظ ماں اپنے اندر کل کائنات کی گہرائی سمیٹے ہوئے ہے انسان اس پر جتنا بھی لکھ لے نہ احساسات ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی جذبات۔
کتنی ہی غلط بات ہوگی کہ اس پر ہی قلم نہ اٹھایا جائے جس نے قلم تھامنا سکھایا۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب میں تین سال کی تھی تو امی جان میرے ہاتھوں میں قلم تھما کر مجھے لکھنا سکھاتیں اور جب کوئی درست لفظ لکھ لیتی تو بے اختیار میرا چہرہ چوم لیتیں (یہ میری پھوپو کہتی ہیں) آج ان کی بدولت مجھے قلم تھامنا آیا ہے ماں کے احسانات تو شمار کرنا مجھ نا چیز کے بس کی بات ہی نہیں، لیکن پھر بھی اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہوں گی، ماں جس کا نام لیتے ہی دل میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے آنکھوں میں کئی دیپ چلتے ہیں لب پھولوں کی مانند کھل جاتے ہیں دل جھوم اٹھتا ہے ماں جس کے پیار کا رب کے پیار سے مماثلت ہے اپنے اندر ایسے جذبات سمیٹے ہوئے ہے کہ کوئی شخص بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا، کوئی بھی انسان چاہے کتنا ہی بد صورت کیوں نہ ہو اپنی ماں کے لیے دنیا کا خوب صورت ترین انسان ہوتا ہے اگر کسی ماں کے بس میں یہ ہوتا کہ وہ بہترین انسان دنیا میں سے منتخب کرے تو یہ بات میں انتہائی وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ ہر ماں اپنے بیٹے/ بیٹی کو ہی سلیکٹ کرتی ماں جس کے اندر اتنا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ اولاد کے لیے طوفانوں سے ٹکرا جائے اولاد ہی کی خاطر وہ تمام تلخیاں بھلا دیتی ہے، ماں ایسا بادل جس سے ہمیشہ محبت کی ہی برسات ہوتی ہے ایسا شجر جو بچوں کو زمانے کی دھوپ سے بچا کر اپنے ٹھنڈے سائے میں بٹھا دے۔
اولاد ماں کے لیے باعث سکون اور آنکھوں کا نور ہوتی ہے اور وہ اپنے سکون اور نور کے لیے ہر ممکنہ حد عبور کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے چٹانوں سے ٹکرانے کی ہمت رکھتی ہے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ جن کی مائیں ہوتی ہیں انہیں ان کی قدر معلوم نہیں ہوتی شاید ہوتا ہوگا ایسا لیکن میرا دل نہیں مانتا ہر کسی کا پیار کا اظہار مختلف ہوسکتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ پیار نہ قدر نہ ہو بھلا ماں سے پیار کسے نہیں ہوتا (اور جن کو قدر نہیں ہوتی وہ دنیا کے بد بخت ترین انسان ہوتے ہیں۔
لوگ جنت کی جستجو کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اکثر لوگ اسی فکر میں ہیں کہ کسی طرح جنت کا حصول ممکن ہو لیکن ان میں سے بعض بے خبر ہیں کہ جنت تو ان کے گھر میںموجود ہے یہ جنت اگر خوش تو پھر جنت میں جانا بھلا کون سا مشکل کام ہے لیکن اگر گھر کی جنت ہی راضی نہیں تو پھر جنت خوش آمید کیسے کہے گی ’’ماں کے قدموں تلے جنت ہے‘‘ اس سے تقریباً تمام لوگ ہی آگاہ ہیں لیکن اس کو حاصل کرنے کی کوشش بہت کم کرتے ہیں حالانکہ ماں کی محبت تو سب کے لیے ہی یکساں ہوتی ہے بقول شاعر
اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ماں میری زندگی کا حاصل، میرے خوابوں کی تعبیر، میرے سسکتے جذبات کی ترجمان میری ماں آج سے بارہ سال پہلے اس جہاں فانی سے کوچ کر کے ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئیں بھلا اقرا کیا لکھے ماں کی عظمتوں کو جس نے ماں کی محبت کا لمس محسوس ہی نہیں کیا جس نے ماں کی آغوش کی ٹھنڈک محسوس ہی نہیں کی وہ کیسے لکھے ماں پر… ہاں مگر چند ٹوٹے بکھرے ارماں اور خواب چند اجڑی بکھری خواہشیں چند بھیگی بھیگی یادیں۔
لوگ کہتے ہیں میری ماں محبتوں کے خمیر سے گندھی ایک ایسی عورت تھی جس نے زندگی بھر کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا اتنی با حیا کہ باپ کے سامنے کبھی نگاہ نہیں اٹھائی اتنی شرمیلی کے بھائیوں کے سامنے جھک کر پیارلینے پر لرز اٹھے، شوہر کی اتنی تابعدار کہ اس کی اجازت کے بغیر ایک حرف بھی منہ سے نہ نکالے ماں کی اتنی تابعدار کے تھک ہار کر (روز مرہ کے کاموں سے) ماں کے قدموں میں رات بسر کردے، بچوں کی سہیلی، ہنس مکھ، چلبلی جس کے ساتھ بچے کھیل کر خوشی محسوس کریں اقرا کی ماں کا کوئی ثانی نہیں ہو سکتا ہے؟
انہوں نے زندگی کی محض 26 بہاریں دیکھیں بھلا یہ کوئی عمر تھی ان کے جانے والی (آہ) اگر ماں دل میں زندہ ہو تو منوں مٹی تلے دفنا دینا کم اذیت دیتا ہے (بعض اوقات سب سے مشکل کام اپنے پیاروں کو مرحوم لکھنے یا کہنے کا ہوتا ہے) اس کی محبت کی لو احساسات کو گرمائے رکھتی ہے یادوں کی آنچ من محرم کو در بدر نہیں ہونے دیتی یہ یادیں ہی تو انسان کا کل اثاثہ ہوتی ہیں اور اسے بکھرنے نہیں دیتیں میری ماں ایک یاد ہے ایک زندہ حقیقت جسے میں روز محسوس کرتی ہوں جس کے تصور سے مخاطب ہو کر خواہش نا تمام کا اظہار کرتی ہوں، ماں تو میرے اندر زندہ ہے (میرے سامنے ہوتی تو میں بتاتی تم کو کہ ماں کیا ہے… پر افسوس)
میری ماں علم و ہنر میں بے مثال تھی پڑھی لکھی سمجھدار پر خلوص، کم گو، ہنس مکھ سگھڑ، تابعدار، مشرقی حسن کا مرقع ایک نہایت ہی خوب صورت عورت۔
وہ ہم تینوں بہن بھائیوں سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن میں بڑی تھی تو مجھ سے لگائو کچھ زیادہ تھا (شاید مائیں واقعی ہی بیٹیوں کی سہیلیاں ہوتی ہیں) میری اور امی جان کی بہت بنتی تھی وہ اکثر مجھے کہتی ’’ایک ہی تو بیٹی ہو میری اس کے بھی لاڈ نہ اٹھائوں کیا۔‘‘ اور اگر کوئی مجھ سے لڑتا تو فوراً سے کہہ دیتی ’’اتنی تو معصوم ہے میری بیٹی اس نے کسی کو بھلا کیا کہنا ہے۔‘‘
میرے بعد میرے چھوٹے بھائی عثمان کا نمبر آتا ہے اس سے وہ بہت مانوس تھیں اگر اسے کوئی کچھ کہتا بالفرض میں بھی تو اس سے مصنوعی ناراض ہوجاتی اور عمر تو تھا ہی ان کا دل وہ ان کی وفات کے وقت محض 2 سال کا تھا (شاید انہیں علم میں تھا کہ وہ جلد ہی ہم سے بچھڑ جائیں گی (سو اس سے بہت محبت کرتیں دیر تک اسے سینے پر لٹائے رکھتیں ابو اکثر کہتے یوں پیار کرتی ہو جیسے خدانخواستہ تم سے کہیں دور جا رہے ہوں امی ہنس دیتیں۔
آہ… کاش کاش وہ ہمارے ساتھ ہوتیں انسان کا المیہ ہے کہ جو چیز نہ ہو وہ ہی اہم اور ناگزیر لگتی ہے ہمیں تو ماں سے بڑھ کر کچھ بھی خاص نہیں لگتا جو مائیں رکھتے ہیں خدا ان کی مائیں سلامت رکھے آمین، عنزہ یونس نے کیا خوب شعر لکھا ہے کہ
ماں کی ذات میں پنہاں ہے سکون حیات
یوں تو آنے کو عنزہ لوگ ہزاراں آئے
میری ماں کے مسکرانے سے کھل جائے کلی
یوں لگے جیسے صحن چمن میں بہاراں آئے
ماں کی مسکراہٹ، پرندوں کی خوش کن، چہچاہٹ سے زیادہ لطف اندوز ہے ماں کی مسرور کن طبیعت موسموں سے زیادہ حیرت انگیز ہے ماں کی نعمت دنیا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نہایت عظیم نعمت ہے قدرت کی طرف سے ایک بہت بڑا انعام ہے۔
باپ مرن تے سر ننگا ہوندا، ویر مرن کنڈ خالی
ماواں بعد محمد، بخشا کون کرے رکھوالی
کتنی عجیب بات ہے نا کہ ماں کی کمی ہزاروں لوگوں کی چاہت بھی پوری کرنے سے قاصر ہوتی ہے تمام رشتے باہم مل کر بھی ماں کی کمی پوری نہیں کرسکتے خواہ وہ کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہو ہر کسی کی اپنی جگہ ہوتی ہے نہ تو کوئی کسی کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی کسی کی کمی پوری کرسکتا ہے۔
گھر میں گونجتے سب قہقہے سب قمقمے معدوم ہونے لگتے ہیں ہونٹوں پہ آنے والی مسکراہٹ لمحوں میں غائب ہوجاتی ہے جب آغوش مادر کی ضرورت ہو لیکن وہ دستیاب نہ ہو تو سب کچھ بے معنی لگتا ہے۔
اچیاں لمیاں ٹالیاں تے ٹھنڈیاں جناں دیاں چھاواں
ہر اک چیز بازاروں ملدی پر نئیں ملدیاں ماواں
ہر ایک شے پیسے سے خریدی جانے والی تھوڑی ہوتی ہے مائیں نہ خریدی جا سکتی ہیں اور نہ ہی ایک بار چلی جائیں تو لوٹ کر آتی ہیں چاہے انسان کی زخمی روح انہیں جہاں مرضی تلاش کرتی رہے تلاش کا لا متناہی سفر شروع ہوجاتا ہے اور روح پر ایسے گھائو لگتے ہیں کہ وہ چھلنی ہوجاتی ہے لیکن مائیں لوٹ کر کب آتی ہیں۔
میں محض سات برس کی تھی جب میری امی جان کی ڈیتھ ہوئی لیکن آج لگتا ہے کہ ان کو دیکھے سات سو سال بیت گئے ہوں گھر میں جب وہ نظر نہیں آتی تو ذہن میں گونج اٹھتی ہے کہ سجنا بنا گھر سونا لاکھ بار آواز دے لیں لیکن وہ نہیں آتیں آئیں بھی کیسے آخر اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیاہے پھر بھلا کیسے آئیں۔
سو سو جوڑے سنگت دے ویکھے تے آخرو تھاں پٹیاں
جناں بنا اک پل نئیں سی لنگدا او شکلاں یاد نہ رہیاں
انسان جینا سیکھ جاتا ہے لیکن ماں کے بغیر زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے عیدیں، شب برأتیں مدرز ڈے یہ سب تو ان کے لیے ہوتی ہیں جن کی مائیں ہوتی ہیں بھلا اقرا کے لیے ان کا کیا مزہ۔
مجھے نہیں معلوم کہ قبروں پر جانے سے ثواب ملتا ہے یا گناہ لیکن مجھے تو سکون ملتا ہے ماں سے ملاقات ہوجاتی ہے اور بھلا کیا چاہیے ہوتا ہے اکثر میں امی جان (زاہدہ) کی قبر پر جائوں تو سوال کرتی ہوں کہ آپ کو بھلا یہاں آنے کی جلدی کیا تھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہولے سے میرے سر پر ہاتھ پھیر رہی ہوں اور کہہ رہی ہوں کہ تم تو ویسے کی ویسی ہو بھولی، میری یہاں پر ضرورت شاید وہاں سے زیادہ تھی تو پھر میرے اندر سکون کا لمحہ ٹھہر جاتا ہے۔
اللہ کا کرم ہے کہ کبھی کسی نے نفرت نہیں کی چاچو، ماموں، نانو، دادو، پھوپو، آنٹی یہ سب اپنی اولاد سے بڑھ کر ہمیں پیار کرتے ہیں اور میرے ابو تو ہیں ہی بہت عظیم وہ دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں آئی لو یو ابو سب ہی ہماری غلطی کو نظر انداز کردیتے ہیں اور ہمیں اپنے بچوں سے زیادہ اہمیت اور ان پر ہم کو فوقیت دیتے ہیں مائیں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں اللہ تمام دوستوں کی مائیں سلامت رکھے سب بہت پیار کرتی ہیں اس ڈھیر سارے پیار پر ایک بات ذہن میں آتی ہے۔
نیازی یہ زمانہ جو مجھ سے پیار کرتا ہے
یہ میری ماں کی دعائوں کا اثر لگتا ہے
یقیناً یہ ان کی دعائوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اتنی محبت سمیٹنے کو مل رہی ہے آخر میں سب کے لیے نصیحت ہے کہ جن کی مائیں زندہ ہیں خدارا ان کی قدر کریں یہ نہ ہو وقت گزر جائے اور آپ کا دامن بالکل خالی ہو اور آپ تہی دست رہ جائیں اپنی جنت کو جنت جیسی اہمیت دیں تاکہ جنت کا حصول ممکن ہو وقت گزرنے سے پہلے ماں کی قدر کرلیں خدا سب کے سروں پر ماں کا شفیق سایہ قائم رکھے آمین اور جن کی مائیں حیات نہیں ان کی مغفرت کرے اور اولاد کو وسیلہ نجات بنائے اور بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین، آپ سب سے التماس ہے کہ میری امی جان کے ایصال ثواب کے لیے سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص پڑھیں اپنی قیمتی آرا سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔ اللہ حافظ
اقرأ لیاقت

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close