Hijaab Feb-17

حمد و نعت

عبدالستارنیازی/صبیح الدین رحمانی

حمد

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے دل ذوق تماشا بھول گیا
پھر روح کو اذنِ رقص ملا خوابیدہ جنوں بیدار ہوا
تلوئوں کا تقاضا یاد رہا نظروں کا تقاضا بھول گیا
احساس کے پردے لہرائے ایماں کی حرارت تیز ہوئی
سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ سر اپنا سودا بھول گیا
جس وقت دعا کو ہاتھ اٹھے یاد آ نہ سکا جو سوچا تھا
اظہار عقیدت کی دھن میں اظہار تمنا بھول گیا
پہنچا جو حرم کی چوکھٹ پر اک ابرِ کرم نے گھیر لیا
باقی نہ رہا یہ ہوش مجھے کیا مانگ لیا کیا بھول گیا
ہر وقت برستی ہے رحمت کعبے میں جمی اللہ اللہ
ہادی ہوں میں کتنا بھول گیا عامی ہوں میں کتنا بھول گیا

عبدالستار نیازی

اجالے کیوں نہ ہوں دیوار و در میں
میں ذکر مصطفیٰ کرتا ہوں گھر میں
وہ جیسے ہیں کوئی ویسا نہیں ہے
یہی لکھا ہے تاریخِ بشر میں
چلا ہوں سوئے دربار رسالت
ہے میرے ساتھ اک خوش بو سفر میں
یہاں بے مانگ ملتا ہے گدا کو
نہیں کوئی بھی در ایسا نظر میں
مواجہ پر کھڑا ہوں ہاتھ اٹھائے
دعائیں سب ہیں آغوش اثر میں
انہی کے نور سے تاباں ہے سورج
انہی کی بھیک کشکول قمر میں
مدینے جائوں آئوں پھر سے جائوں
خدا تا عمر رکھے اس سفر میں
صبیح ان کا ہوں میں اک نام لیوا
سو میرا نام ہے اہلِ ہنر میں

صبیح الدین رحمانی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close