Hijaab Jan-17

حسن خیال

جوہی احمد

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاک نام سے ابتدا ہے جو ارض و سماں کا مالک ہے۔ سال نو کا شمارہ پیش خدمت ہے۔ دسمبر کے فسوں خیز لمحات اور سال نو کے آنے والے خوش آئند لمحوں کو خوب صورتی سے اس شمارے میں سمونے کی کوشش کی ہے‘ ہم اس کوشش میں کہاں تک کامیاب رہے اس کا اندازہ حسن خیال میں آپ کی تعریف و تنقید سے ہوگا۔ اس لیے آپ کی رائے ہمارے لیے بے حد اہم ہے‘ اور اس کے ساتھ ایک خوش خبری بھی آئندہ ماہ سے تبصرہ پر دو انعام بھی دئیے جائیں گے ایک ڈاک یا ای میل پر موصول ہونے والے تبصرہ پر اور ایک شوشل میڈیا پر‘ انعام بھی اور پرچا بھی۔ آیئے اب چلتے ہیں آپ کے دلچسپ تبصروں کی جانب جو حسن خیال کی محفل کو چار چاند لگا رہے ہیں۔
صدف آصف… کراچی۔ السلام علیکم! حجاب کی سالگرہ پر مبارک باد پیش کرنے کے ساتھ ادارہ کی محنت اور مستعدی کی تعریف کرنے کی خواہش بڑی تیزی سے پیدا ہوئی اس لیے یہ مختصر سا پیغام دینا ضروری ہوگیا۔ واقعی حجاب نے بڑی تیزی سے مقبولیت کی سند حاصل کی ہے۔ اس میں چھپنے والی تمام سینئرز لکھاریوں کے افسانے اور ناول جہاں پسندیدہ رہے وہیں نئے لکھنے والوں نے بھی خوب لکھا۔ جیسے حرا قریشی، سحرش فاطمہ، قرۃالعین سکندر‘ صباء عیشل اور دوسری رائٹرز نے بے بہت متاثر کیا۔ کوئی نام رہ گیا ہو تو معذرت مگر سب ہی اچھا لکھ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان تمام قارئین کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ ہماری ہمت افزائی کی۔ آپ سب کی محبتیں نہ ہو تو شاید قلم اٹھانا مشکل ہوجائے۔
٭ ڈیئر صدف… حجاب کی پسندیدگی کا شکریہ۔
مونا شاہ قریشی… کبیر والا۔ تمام حاضرین حسن خیال مع انچارج کی خدمت میں طشتری خلوص میں سجا ادب والا آداب! دسمبر کا سالگرہ دوئم شمارہ خلاف معمول 17 تاریخ کو شکنجہ دست میں آیا۔ دل نشیں‘ جاذب نظر ماڈل رانیہ خان کا رخ دل میں جا سمایا۔ بلاشبہ بلا اعتراض یہ ٹائٹل پرفیکشن کے مترادف ہے۔ دل آویز مسکراہٹ کا جواب اسی کے انداز میں دے کر حجاب پیلس کے دربار میں براجمان مدیرہ کی بات چیت سے بصارت و قلب کو بہرمند کیا۔ دولت پہ فریفتہ سیاسی حکمرانوں کی نا اہلی قابل مذمت ہے محترم ریاض قمر صاحب کی حمد اور حضرت صاحبزادہ سید نصیرالدین گولڑوی کی نعت نے صحیح معنوں میں تازہ دم کر دیا۔ سلسلہ ’’ذکر اس پری وش کا‘‘ میں چاروں تعارف الگ بہار دکھلا رہے تھے۔ نازش نور کا تعارف بے بسی وتنہائی میں لپٹا تھا جو کہ دل مغموم کرگیا۔ طاہرہ پرویز کی پسندیدہ سویٹ ڈش ہونٹوں پہ شگوفے کھلا گئی۔ آہاں ’’رخ سخن‘‘ میں قراۃ العین سکندر نشست سنبھالے ہوئے تھیں۔ وہ باتوں کو مثل برگ گل بکھیرتی رہیں اور میں سبد گل اٹھائے انہیں چنتی رہی۔ ملاقات بے حد شاندار رہی شناسائی پختگی کے زمرے میں آن ٹھہری۔ مکمل ناول میں سے ’’ہاں محبت ہے‘‘ کمال رہا۔ رشتوں کی وقت کے مطابق وقعت کو نازیہ جمال نے دلکش انداز میں پیش کیا۔ انشال کی خوب صورتی کی تشریح میں تخیل میں ملکہ قلوپطرا کا تخیلاتی سراپا لہرا گیا۔ عظمی بیگم کا امارات کا کروفر وقت کی دھول میں دب گیا رودابہ کی میسیج سینڈنگ والی مکاری پہ میں انگشت بدنداں رہ گئی۔ دوسروں کی زندگی کو برزخ بنانے کے چکر میں خود اپنے حصے میں خسارے رقم کر بیٹھی۔ ہاتھ آیا تو کچھ نہ اور جو ہاتھ میں تھا وہ بھی گیا‘ غلط طور سے اس نے داور کو حاصل کرنا چاہا مگر اپنے پائوں پہ کلہاڑی مار بیٹھی۔ بطور نتائج ہاتھ ملتی رہ گئی‘ انشال اور داور کی پس پردہ محبت دلچسپ رہی۔ اول تا آخر ناول کا سحر برقرار رہا۔ ’’کتنے معتبر ٹھہرے‘‘ از نادیہ احمد۔ خوب صورت لفظوں سے مزین ناول شاندار تھا۔ ستارہ اور رومیلہ اور دوسری جانب زاور اور عباد نے کہانی کو دلچسپی سے ہمکنار رکھا۔ عباد کی برجستگی اور ستارہ کی ضد وانا ناول کا لب لباب تھی مگر ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ستارہ کا فیصلہ بھی جائز تھا وہ اپنی فیملی کو مورل سپورٹ دینا چاہتی تھی بنا کسی سہارے اور احسان کے… اپنے احساسات پہ اپنے حالات کو ترجیح دے کر ایک پرعزم لڑکی ہونے کا ثبوت دیا‘ ویل ڈن نادیہ جی۔ ’’محبت ہوگئی شاید‘‘ بقلم نزہت جبیں ضیاء تزکیہ کے ساتھ زیادتی از حد ہوئی۔ نایاب کانچ خوابوں کو دل میں سجا کر ہر لڑکی اس مقدس بندھن کی گرفت میں آتی ہے یوں پہلی ہی رات ابریز کا اس کی تذلیل کرنا اور موجودہ محبوبہ سے فحش کلامی کا انداز اندر تک سلگا گیا۔ صبر میں اجر ہے کے مصداق تزکیہ کو بدیر ہی سہی مگر اپنا حق مل گیا‘ آخری قسط خوب رہی۔ اگلا ناولٹ معزز ام مریم کا تھا ’’مجھے مصروف رہنے دو‘‘ کا ہر لفظ نشتر بن کر رگ و لہو میں پیوست ہوتا رہا۔ خوب صورتی کا معیار سفید رنگ رکھنے والی سوچ نے پر ملال کر ڈالا۔ کم از کم اپنے ذاتی خونی رشتے تو طعنے نہ دیں بہنیں ماں سب ہی نے حوریہ کی احساس کمتری کو دو چند کیا مگر باپ کی شفقت و محبت نے حوریہ کی ڈھارس بندھائی بعد از نکاح رفیق زندگی نے جس شدت سے اس کی نفی کی وہ کرب سے وابستہ تھی۔ اس قدر تحقیر اور ذلت کو سہنا فراخ حوصلگی کا کام ہے صرف ایک لفظ ’’داشتہ‘‘ نے دل کو دو حصوں میں منقسم کر ڈالا۔ جائز رشتے کے لیے اس لفظ کا استعمال شرمناک ہے‘ اتنے سال درد کی بھٹی میں جلایا اور پھر جب ٹھوکر لگی تو معافی مانگنے آگیا۔ کتنا آسان ہوتا ہے ان مردوں کے لیے ذات اور وجود کو چورا چورا کرکے پھر سے جوڑنے کی سعی کرنا۔ حوریہ کا فیصلہ دل مضطر کو قرار فراہم کر گیا‘ معافی نہ دے کر بھی خود سے پاس رہنے کا اختیار دیا۔ اس سے بہتر فیصلہ بنتا ہی نہیں زبردست… قسط وار ناولٹ ’’زیاں‘‘ میں سلوی کا سعدی کو سغدی کہنا بہت معصوم لگا چونکہ ناولٹ ابھی جاری ہے تو اگلی قسط کا انتظار دامن گیر ہے کیونکہ بچوں سے بڑے ہونے کا سفر اس قسط میں اختتام کی جانب گامزن تھا۔ انیقہ کا منہ پھٹ انداز بھا گیا کیونکہ یہ انداز صاف گوئی میں ملفوف تھا۔ افسانوں کی فہرست شب ہجراں کی طوالت کی مانند طویل ہے‘ شروعات بالترتیب شمارے کی فہرست سے کرتے ہیں۔ ’’ندامت سے پہلے‘‘ مصنفہ فرحین اظفر شادی کے معاملے میں وانیہ کا گریز شروع میں محسوس نہیں ہوا مگر دوسرا صفحہ پڑھتے ہی اجتناب سمجھ میں آگیا۔ روحیل کی کھوکھلی الفت کے زیر اثر ہی وانیہ شادی سے احتراز برت رہی تھی۔ صد شکر روحیل کی اصلیت کھل گئی اور وانیہ کی حرمت سلامت رہی۔ مزید برآں بھرم بھی قائم رہا ’’منڈا صدقے میرے تے‘‘ مصنفہ سحرش فاطمہ ہلکی پھلکی لڑائی چھیڑ چھاڑ طربیہ انداز کا افسانہ بوجھل ماحول شگفتہ کر گیا۔ سبین کی بچگانہ ضد بالآخر اظہر نے توڑ ہی دی۔ سچ ہی ہے خلوص و محبت سے ہر بشر کو زیر کیا جاسکتا ہے۔ دسمبر کو الوداع کہتا قرۃ العین سکندر کا افسانہ اچھا تھا۔ ’’بھیگتے دسمبر میں‘‘ از حیاء بخاری۔ سحر کی نحوست کے چرچے بہت کھلے‘ خود ساختہ توہمات کے سوا یہ کچھ بھی نہیں۔ اس کائنات میں کسی کا وجود بھی باعث نحوست نہیں۔ سعد کی شوریدہ محبت و جذبات اور دسمبر میں دونوں کا ملاپ بہت دلکش تھا‘ زویا نے خوب قاصد کا کردار ادا کیا۔ ’’دسمبر بیت نہ جائے‘‘ از راشدہ علی۔ دسمبر کا ہجر اور وصل دل پہ نقش ہوگیا‘ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر خوب رہا۔ ’’افراتفری‘‘ بقلم تمثیلہ زاہد کہانی کا اسٹارٹ ہی چکر لیے ہوا تھا۔ راشدہ بیگم کے ساتھ ساتھ مجھے لگا میں بھی وہاں چک پھریاں لگا رہی ہوں۔ خالہ کو بچوں کی صورت میں سوا سیر ٹکرا گئے جو الٹے پائوں واپسی دوڑ گئیں۔ مزے کا افسانہ ’’بنت حوا‘‘ میں خرد کا صحیح استعمال اور نسوانیت کے پندار کو اجاگر کیا گیا۔ لڑکیاں اتنا بھی تر نوالہ نہیں جو مرد آسانی سے حلق تلے اتارلیں‘ ویل ڈن حمیرا نوشین ’’بھولا‘‘ افسانہ میں بھولا کا بھول پن بہت ہی بھایا‘ ہائے سب کا بھولا مگر بیوی کا نہیں آخر میں اماں جان کی گھوریاں یہی ثابت کررہی تھیں۔ واہ سیدہ فرحین جعفری ’’میری دعائوں کا حاصل‘‘ ازقلم افشاں شاہد۔ امامہ کی ثابت قدمی صبر نے اسے بالآخر سچی خوشیوں سے نوازا‘ سیاں جی اپنی نصف بہتر کی جانب لوٹ ہی آئے۔ حرا قریشی کی تحریر ’’دسمبر اور نہیں‘‘ میں کشمالہ کو تاریخوں مع تحائف کے شمار میں ہلکان دیکھ کر بے ساختہ لب مسکرا اٹھے۔ پے درپے دسمبر کی عنایات نے معصوم جان کو بے ہوش کر ڈالا یعنی حد ہے شادی بھی دسمبر میں‘ ویری نائس۔ ’’الیکٹرانک محبت‘‘ میں ام حبیبہ نے دور حاضر کی الیکٹرانک محبت کا خطرناک پہلو دکھایا۔ سوشل میڈیا کا من پسند غلط استعمال بے طرح نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کیے ہوئے ہے۔ نگینہ اور نعمان کی فیس بک محبت قبل اس کے کوئی دھماکہ کرتی نعمان کی مخلصی کا جھوٹا لبادہ اتر گیا۔ سکینہ بیگم کے علم میں بات آنے سے سلسلہ ہائے فریب رک گیا وگرنہ جو شکست حصے میں آتی وہ عمر باقی کو گھٹا دیتی۔ ’’خوابوں کی راہ گزر پہ‘‘ از ارم فاطمہ احسن مراد کی بے اعتنائی قابل غور تھی بلکہ اذیت کا باعث تھی۔ سارہ کی خاموش محبت نے بذریعہ ڈائری احسن کے دل تک رسائی حاصل کر ہی لی۔ اچھی کاوش آخری افسانہ ’’ماں‘‘ سنجیدگی اور شائستگی سے پر تھا۔ ماں لفظ کی خوبصورت تشہیر پیش کرتی زبرست تحریر‘ ریما نور رضوان کی سالگرہ تقریب بھی واہ واہ رہی۔ خوب جوڑے پہنائے رائٹرز کو۔ دسمبر کے آخری لمحات کے حوالے سے آرٹیکل ’’بھیگا دسمبر‘‘ دسمبر کی پرسوز صبح و شام لیے ہوئے تھا ہم تابہ کجا تمہارے پیچھے بھاگیں گے دسمبر تمہیں ہر صورت ختم ہو کے نئے سال کا پیام لانا ہے۔ سلسلہ وار ناول ’’دل کے دریچے‘‘ میں ریحانہ کی ہٹ دھرمی بے کار ہے۔ سفینہ اور فائز دونوں گھن کی طرح پس کے رہ گئے ہیں بڑوں کی اونچی ناک کے چکر میں۔ عشو اماں کا ڈرامہ توبہ واللہ‘ اس عمر میں بھی چین نہیں لگائی‘ بجھائی والی گندی عادات لیے گھوم رہی ہیں۔ خوب صورت غزل کو جو ناول کا حصہ بنایا گیا وہ اب بھی لبوں پہ جاری ہے۔ ’’تیرے خیال کا جلوہ حباب جیسا ہے‘‘ واہ اعلیٰ۔ ’’جیسا میں نے دیکھا‘‘ یہ وہ سلسلہ ہے جو میں کہانیوں سے بھی پہلے پڑھ ڈالتی ہوں۔ پروین شاکر کی باتیں گویا بالمشافہ ملاقات کا سا لطف دیتی ہیں اور ایک خیال مغموم کر جاتا ہے بچھڑنے کا خیال‘ وہ الفاظ میں کیسے پڑھ پائوں گی۔ کچن کارنر میں سوپ ریسپیز پسند آئیں کچھ پرانی تھیں۔ آرائش حسن پہ نظر ثانی کی اور آگے بڑھ گئی۔ عالم انتخاب میں سب غزلوں کو خوب جما جما کے پڑھا (سمجھا کریں نا بھئی شاعرانہ انداز میں) چونکہ بڑی تسلی سے زیر نگاہ سب غزلیں نظمیں آئیں تو لاجواب تھیں مگر حرا قریشی اور ناہید بلوچ کچھ ایکسٹرا والا لاجواب کی مستحق ہیں۔ غالب پہ میں ویسے فدا اور فرحت عباس کی مخالف کی تکرار لیے غزل دل میں گھس گئی۔ باقی سلسلے بھی اپنی جگہ تفاخر سے ایستادہ تھے ہمیشہ کی طرح ویل۔ حسن خیال میں انعام یافتہ سہیلیوں کو مبارک باد‘ تحریم سوہنے بخدا میں نے آرٹیکل میں آپ کا نام تحریم ہی لکھا تھا مگر یہ اشاعت میں غلطی ہے‘ اب کٹی وٹی نہیں ہونا شکوہ دور کرو۔ مجموعی طور پہ حجاب بہترین تھا سالگرہ نمبر دو پلس دسمبر کے سحر سے آراستہ‘ بس اب کی بار کہانیوں کے موضوعات میں یکسانیت آئی ہوئی تھی یہ اتفاق ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو‘ ادارہ یونہی محنت کرتا رہا تو عظمت کی صورت میں پھل ضرور پائے گا ابھی بھی حجاب کی مقبولیت کا گراف کم نہیں ہے۔ اللہ شہرت دوام قائم رکھے‘ آمین فی امان اللہ۔
٭ ڈیئر مونا… شگفتہ انداز میں لکھا آپ کا جامع تبصرہ پسند آیا اور اس کے ساتھ ہی پہلے انعام کا حق دار بھی ٹھہرا بہت مبارک ہو۔ آئندہ بھی محفل کی رونق بنتی رہیے گا۔
قرۃ العین سکندر… لاہور۔ اللہ کے بابرکت نام سے آغاز کرتی ہوں۔ سب سے پہلے تمام اہل اسلام کو حجاب کے تمام ریڈرز‘ رائٹرز اور بالخصوص حجاب کے ایڈیٹر کو دل کی گہرائیوں سے سال نو مبارک ہو۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی یخ بستہ مٹیالی چاندنی دھند میں لپٹی رات میں کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے لحاف میں دبکے حجاب ڈائجسٹ کے حرف حرف کو نہاں خانہ میں نقش پایا۔ انتظار کی ساعتیں پت جھڑ کی مانند اداسی بکھیر گئیں اور وصال کا لمحہ دل کو تقویت دے کر نہال کر گیا۔ قرب کی برہنہ ٹہنیوں پر برگ و باورو پہلے گلاب حجاب کی چاہت میں کھل اٹھے۔ سرورق پر دوشیزہ کا جلوہ دل کو بھا گیا۔ حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبولﷺ کے بنا زیست کی راہ نجات ممکن نہیں۔ ذکر الٰہی سکون قلب اور تطہیر قلب کا باعث ہوتا ہے۔ بات چیت دل کے زنگ کھولتا گیا۔ اس ماہ کے ستاروں پر نگاہ پڑی تو دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ بہت نوازش حجاب ادارہ کی سالگرہ نمبر اور جاتے رواں سال میں میری تحاریر کو عزت افزائی بخشی۔ رخ سخن میں مجھ سے ملیے۔ ’’ذکر اس پری وش‘‘ کا میں مختلف سوچ وفکر سے آشنائی ہوئی‘ خوب محفل میں رونق لگی۔ اس ماہ کے ستاروں کی آمد خوب رہی۔ سب سے پہلے صدف آصف کے سلسلہ وار ناول دل کے دریچے پر بات کی جائے تو رشتوں کی زنجیروں میں الجھا دلچسپ موڑ پر جا پہنچا۔ اس میں دسمبر کے حوالے سے نظم وہ آخری چند دن دسمبر کے دل کو عجب اداسی بھری کسک سے دوچار کر گئی۔ سیدہ ضوباریہ کا ’’زیاں‘‘ ایک دلچسپ موڑ پر ملا۔ محبت پر اقرار کی مہر کی لبیک کہتا نازیہ جمال کا ناول ہاں محبت ہے کہانی کے تانے بانے نے جہاں اختتام تک قاری کو گھیرے رکھا وہیں معاشرے میں امراء اور غرباء کے معاشرتی بھید بھاؤ کی بھی عمدگی سے عکاسی کی اور اس جنگ میں جیت محبت کی ہوئی بہت خوب نازیہ جمال دوسرا ناول کتنے معتبر ٹھہرے نادیہ احمد کے قلم سے امڈتی محبت بھری ایک خالص تحریر محبت کو منفرد رنگوں سے روشناس کرواتی اعتراف محبت کے انمول لمحوں کو قید کرتی قاری کو اپنی تحریر کے سحر میں گرفتار کرتی ہوئی نہایت عمدہ کاوش ویلڈن نادیہ۔ اب بات ہوجائے ناولٹ کی‘ نزہت آپی کی وہی ازلی محبت کی چاشنی میں گھلی تحریر مگر ایک سبق لیے ناصحانہ انداز لیے آس و یاس پر محیط اس تحریر میں بالآخر فاتح عالم محبت ٹھہری تزکیہ کا صبر رنگ لایا اور مجازی خدا کی مطلوب نظر ٹھہری۔ بہت اچھا لکھا نزہت آپی نے۔ ناولٹ آف دی منتھ جاتا ہے ام مریم کو‘ اگرچہ موضوع روایتی تھا مگر اس میں تلخ حقاق سے پردہ اٹھاتی مرد کی ظالمانہ اور جابرانہ حاکمیت کو بے نقاب کرتی ایک دکھ بھری تحریر جو دل کو چھو گئی اور بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گئی۔ جب مرد اپنا تسلط کا سکہ جما لیتا ہے اور ذہنی جسمانی تشدد کر بیٹھتا ہے تو ایک دن ندامت گھیر لیتی ہے لیکن بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ مجھے مصروف رہنے دو۔ ام مریم خدا کرے زور قلم اور زیادہ‘ افسانوں کی کہکشاں نے آنکھیں چکا چوند کردیں حجاب و آنچل ڈائجسٹ عمدہ تحریروں کو منظر عام پر لانے میں ہمیشہ آگے رہا ہے ایک انوکھا امتزاج جو مزہ دے گیا وہ جاتے رواں سال اور آتے موسموں کی نوید کی دستک کا منفرد اظہار تھا اور ساتھ میں سالگرہ نمبر کی نایاب تحریریں تھیں۔ دسمبر اور نہیں حرا قریشی کا دلکش انداز مزہ دے گیا۔ فرحین اظفر کا ندامت سے پہلے ایک سبق آموز افسانہ کچی عمر کی نوخیز کلیوں کو رشتوں کا تقدس اور احترام کا درس دیتی موثر تحریر۔ سیدہ فرحین جعفری کا افسانہ بھولا انفرادیت کے رنگ لیے اختتام پر سوچ کو دستک دے گیا۔ حیاء بخاری اور راشدہ علی کے افسانے بھیگتے دسمبر اور دسمبر بیت نہ جائے نے لطف دوبالا کرگیا۔ افشاں شاہد کا افسانہ میری دعاؤں کا حاصل ایک عمدہ کاوش۔ افراتفری پر مبنی تمثیلہ زاہد کی تحریر نے یگ گونہ سکون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک نیا تاثر قائم کیا۔ حمیرا شاہد کی اگرچہ پہلی کاوش تھی مگر بہت عمدہ اسلوب اور انداز بیان کے ساتھ موضوع بھی عمدہ۔ بنت حوا بہت اچھی کاوش اُم حبیبہ کا افسانہ الیکٹرانک محبت منفرد نام اور منفرد تحریر مگر وہی یکسانی سمیٹے ہمارے روایتی مسائل جن کی نہایت عمدگی سے عکاسی کی اور کیا خوب آئینہ دکھلایا۔ دلچسپ حقائق سموتے اس ماہ کی سب سے منفرد تحریر کے سنگ جلوہ گر رہیں ویلڈن‘ اسی جلترنگ کہکشاں میں محبت کی نوک جھونک لیے سحرش فاطمہ کی ہلکی پھلکی تحریر اور حجاب کی سالگرہ پر رنگ بکھیرتی ہوئی خوب مزہ آیا۔ سالگرہ پر یہ بیش قیمت تحفہ رہا۔ سحرش فاطمہ آج کل علیل ہیں ان کی صحت یابی کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ ’’خوابوں کی رہ گزر‘‘ ارم فاطمہ کا مختصر مگر دلچسپ موثر جامع افسانہ رہا۔ مامتا کے جذبات کی نمائندگی کرتا فاطمہ نور کا سبق آموز دلکش الفاظ کا چناؤ لیے عمدہ افسانہ تھا اور رہی بات میرے افسانہ کی تو وہ آپ سب کی صوابدید پر ٹھہرا۔ حجاب کی سالگرہ کی تقریب کی عکاسی کرتی ریما نور رضوان کی تحریر خوب لطف دوبالا کر گئی‘ منظر کشی نے ایک مسحور کن کیفیت سے دوچار کیا۔ کوکب خلیل کا بھیگا دسمبر زبردست رہا۔ مستقل سلسلوں میں بزم سخن نے خوب محفل کو رنگ و بو بخشا۔ کچن کارنر میں نت نئی تراکیب نے امور خانہ داری میں رہنمائی سے نوازا۔ گاجر کا حلوہ دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ کیا خوب رہا سی فوڈ اور موسم کی مناسبت لیے مزیدار کھانوں کا چناو۔ آرائش حسن میں خوب صورتی اور دلکشی کے مضمر راز افشا ہوئے۔ شوبز کی دنیا کی جھلک نے ایک الگ جہاں کی سیر کروا دی۔ ہما کی شوخی تحریر میں سنہری باتیں اور اقوال زریں دل پر نقش چھوڑ گئے۔ آیات کی تفسیر متاثر کر گئی۔ عالم میں انتخاب نے شعر و سخن کو جلا بخشی اعلی ذوق کی نمائندگی کرتی مختلف نظمیں غزلیں دلوں کے تار چھیڑ گئیں۔ میری یوں باقاعدہ کسی بھی ادارہ میں خط لکھنے کی اور رائے زنی کی یہ پہلی واردات ہے۔ امید ہے آپ حوصلہ افزائی کی سعادت سے محروم نہیں کریں گے۔ زندگی نے وفا کی تو نئے سال کے نئے شمارے پر اپنی راے دوں گی۔
٭ ڈیئر قرۃ العین… آپ کا مفصل مکمل و جامع تبصرہ پسند آیا۔ آئندہ بھی شریک محفل رہیے گا۔
کوثر خالد… جڑانوالہ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! پیاری جوہی! خوشبوئیں عام کرو بس یہی کام کرو۔ قارئین حجاب‘ مصنفین ماہ مبارک ربیع الاول کے پیچھے پیچھے عیسوی سال کی شروعات ہے۔ ہماری سہیلی زاہدہ نے لاہور سے حسب سابق خواہش کی کہ میں 12 ربیع الاول کو آئوں تو نئی حمدونعت سنوں گی۔ تیار کرلو‘ ہم نے ایک چھوڑ دو لکھیں مگر وہ نہ آسکیں۔ ایک نئی بات سنی تھی کہ کسی نے نقطوں کو بغیر سیرت النبی کی کتاب لکھی ہے۔ ہم دیدار سے تو ابھی محروم ہیں مگر بناء نقطے نعت و حمد تخلیق کرچکے ہیں۔ تبصرہ سے پہلے آپ کو سننا پڑے گی پھر حجاب سے زاہدہ کو سنا کر حیران و خوش کرنے کا ارادہ ہے‘ اللہ پاک پایہ تکمیل پہنچیں۔
اللہ کی حمد عطر عطر ہے
کلام محمدﷺ عطر عطر ہے
وسائل کاسۂ کمائی سلام کی
لائحہ اعمال عطر عطر ہے
مہد سے ہم کو علم ملا ہے
لہد کا سرمہ عطر عطر ہے
واحد‘ احد اور حامد اور احمدﷺ
مسلک ہمارا عطر عطر ہے
رسول مکرمؐ اھلاً و سہلاً
ورد صلّ علیٰ عطر عطر ہے
گلہ و گلال کو روک رکھا ہے
الحمدللہ حال عطر عطر ہے
مال اور حرص سے دور رہے ہم
معصوم آگہی عطر عطر ہے
احکام اللہ کا ڈر ہے سدا سے
دل کا مہر‘ ماہ عطر عطر ہے
عصا کی کمک ہے عطا کی ہے امداد
حاصلِ کلام عطر عطر ہے
رسومِ مسلح مرے اردگرد
املاکِ حساس عطر عطر ہے
دم دم ارادہ درود رودو وصل ہے
دعائے صالحؔ عطر عطر ہے
کیسی لگی ضرور بتایئے گا۔ تبصرہ حاضر ہے ’’بات چیت‘‘ عمدہ ترین۔ بھئی ہم تو خالی آکر خالی ہی رہتے ہیں کہ خالی ہاتھ ہی جانا ہے جو بچے گا ہم لٹا کر یہاں سے جائیں گے۔ حمدونعت طرز سے پڑھیں اور روح کو خوش کیا۔ ’’پری وش‘‘ تو عنوان ہی ایسا ہے سب کو پری بنادیتا ہے مگر نازش پری دکھی کر گئی۔ پہلے ہم بھی ایسے تھے اور ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا تھا مگر دسویں میں ٹیچر نے آٹو گراف میں جو شعر دیا‘ اس پر عمل کرکے کام بن گیا آپ بھی آزمایئے۔
کسی کے ظرف سے بڑھ کر نہ کر مہر و وفا ہرگز
کہ اس بے جا شرافت سے بڑا نقصان ہوتا ہے
حجاب میں آتی رہنا بہت دعائیں دوں گی‘ ہادی‘ اکبر‘ انیلا طالب حسب اندازہ نکلی ہو‘ انٹرویو۔ ’’دل کے دریچے‘‘ محفوظ ہی رہیں تو اچھا ہے۔ ’’ہاں محبت ہے‘‘ قلم بہت رواں و دلچسپ رہا۔ ’’کتنے معتبر ٹھہرے‘‘ سچائیوں کے راہی‘ اللہ کرے تمام بچیاں یونہی معتبر ٹھہریں‘ آمین۔ ’’محبت ہوگئی شاید‘‘ میٹھے میٹھے لفظوں سے۔ ’’مجھے مصروف رہنے دو‘‘ اچھے اچھے کاموں میں‘ جیسے حمدونعت۔ ’’زیاں‘‘ احساس زیاں کامیابی کی کنجی ہے۔ تمام شرابیوں کے لیے یہ دعا پڑھتی رہتی ہوں‘ یا بُر۔ ہادی‘ اکبر آپ بھی پڑھا کریں ضوباریہ۔ عارف شراب چھوڑ دے گا ان شاء اللہ (آزمو دہ نسخہ ہے) ندامت سے پہلے۔
بچا لیجیے مجھے آقا جیﷺ پر آشوب دنیا سے
سچایئے ناں میرا سینہ پُر آسود دینا ہے
دل عابد کو لانا ہے مدینے ہی کو جائوں گا
’’منڈا صدقے‘‘ دل خوش فہم (یہ عنوان برا لگا) اگر بولتے وقت ہم برا بول جائیں تو کم از لکھتے وقت تو قلم کی زبان شائستہ کرلیں کہ اللہ تنہائی میں بہت قریب ہوتا ہے۔ ’’الوداع دسمبر‘‘ خوش آمدید جنوری۔ ’’بھیگتے دسمبر میں‘‘ اللہ کرے ’’حیاء‘‘ خوب برسے۔ ’’دسمبر بیت نہ جائے‘‘ جانے والوں کو روکا نہیں کرتے۔ ’’افراتفری‘‘ جی ہاں ہمارے اعمال کی کمی کی وجہ سے ہے۔ ’’بھولا‘‘ لو جی یہ تو میرا بھائی نکلا اور میں ننھی ہوں (عرف بھائی اور میرا) کام بھی سب کے کرتے ہیں ہم‘ ہمارے ساتھ بڑی کوٹھی کے ہمسائے مسز شیخ نے ایک بار کہا تھا‘ بچے ہوں تو بھولے اور ننھی جیسے۔ اب ان کی بیٹی (میری ٹیچر) ملی تو کہا ننھی تمہارا ثمر بیٹا بہت اچھا ہے حالانکہ گھر کی مرغی… ’’بنت حوا‘‘ سن… ابن آدم کو سنوار لے۔ ’’میری دعائوں کا حاصل‘‘ دل سرشار میرا ہے۔ دسمبر اور نہیں حرا جناب کس نے کہا تھا پیسوں والی سالگرہ کا رواج ڈالو۔ فضول رسمیں خود انجام دو اور الزام بے چارے دسمبر پر (چچ چچ) ’’الیکٹرانک محبت‘‘ توبہ استغفار‘ اللہ بچائے۔ مشینوں کی حکومت انسانوں‘ بچپن میں پڑھی تھی کہانی۔ صدیوں کا بیٹا… پوری ہورہی ہے وہی بات۔ ’’خوابوں کی رہ گزر‘‘ پر اندھا دھند چلنے والے اوندھے منہ گرتے ہیں۔ ’’ماں‘‘ مصائب کی بھٹی سے پھول کھلا ہی کرتے ہیں‘ اچھی تحریر اچھی سوچ‘ انہی اچھوں پر دنیا قائم ہے۔ حجاب کی سالگرہ‘ ہم سالگرہ نہیں منایا کرتے بس ہر روز ہر پل دعائیں بانٹتے ہیں۔ ’’بھیگا دسمبر‘‘ ایک شعر ہمارا بھی سن لیں…
بہت چاہا دسمبر کہ آنکھیں بھیگ جائیں
مگر سرد موسم ہے اور آنسو منجمد ہیں
’’جیسا میں نے دیکھا‘‘
رلائے داستاں تیری پری پروین ہے مجھ کو
تُو جنت میں گئی ہوگی یہ یقین ہے مجھ کو
’’بزم سخن‘‘ رنگ برنگی‘ عالم میں انتخاب‘‘ ناصر کاظمی اول آگئے یوں صبا عیشل انعام پاگئی (خیالی)۔ ’’شوخئی تحریر‘‘ عبرت بھی دلائے ہے‘ جذبے بھی بڑھائے ہے۔ ’’حسن خیال‘‘ صرف شاعری سے سجتا ہے‘ شاعری والے تمام خط سیدھے دل میں اتر جاتے ہیں مگر دوسرے بھی دل جیت لیتے ہیں جو اچھے جذبے لاتے ہیں۔ علی رضا کی بھیجی کتاب آنچل‘ حجاب ادارے تک رسائی نہ پاسکی۔ میں ادارہ کو اس خط کے ساتھ کتاب خود پوسٹ کروں گی۔ ’’حوض کوثر‘‘ ملنے پر اطلاع دینا اور عرض ہے کہ حرا اور لائبہ میر کا ایڈریس مجھے فون کرکے لکھوا دیں (اور بھی) اور اگر کہیں تو بتادیں) شکر گزار ہوں گی اور اس کے ساتھ ہی کوثر خالد کو اجازت دیجیے‘ رب راکھا۔
٭ ڈیئر کوثر… آپ کی حمدونعت بہت پسند آئی۔ کتاب وصول ہوگئی ہے۔ آپ کا تبصرہ پسند آیا۔
گل مینا خان‘ اینڈ حسینہ ایچ ایس… مانسہرہ۔ ڈئیر مادام آداب و سلام۔ یخ بستہ چلتی ہوائوں میں دسمبر کا حجاب اپنی آن اور زبردست شان کے ساتھ میرے نازک ہاتھوں میں موجود ہے۔ اس سے پہلے ماڈل کی خوب صورت آنکھیں دھیمی مسکان ہمارے من کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی‘ چپکے سے حجاب کھولا‘ حمد باری تعالیٰ نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کی طرح ہر صفحہ سر آنکھوں پر رہا۔ ’’ذکر اس پری وش کا‘‘ سب کی تشریف آوری اچھی لگی۔ رخ سخن میں قرۃ العین سکندر سے ملاقات کے بعد بڑھے‘ نازیہ جمال کے مکمل ناول ’’ہاں محبت ہے‘‘ کی طرف سچ ہے جو اپنے ہوتے ہیں وہ چھوڑ کر نہیں جاتے اور جو چھوڑ کر جاتے ہیں‘ وہ اپنے نہیں ہوتے۔ ’’محبت ہوگئی شاید‘‘ نزہت جبیں ضیاء کی زبردست تحریر تھی۔ افسانوں کی نگری میں ایسا من بسا کہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہوگئے سبھی افسانے دلفریب اور سبق آموز تھے۔ ام مریم کا ناولٹ ’’مجھے مصروف رہنے دو‘‘ پڑھنا شروع کیا محبت کی کہانی کو قلب میں سمویا بھی نہ تھا‘ یہ کیا اُف… کہانی کو آگے نہ پاکر رات کے سیاہ پردوں سے لپٹ کر خوب اشک شوئی ہوئی۔ (پلیز اس ناولٹ کو دوبارہ شائع کیجیے گا) دکھ کے گرداب سے نکلے ساکن جسم سنبھالے سست روی ہولے ہولے قدم اٹھاتے اپنے فیورٹ ناول ’’دل کے دریچے‘‘ کی طرف بڑھے۔ صدف آپی بڑی خوب صورتی سے اور تمام جزئیات کو ساتھ لے کر ناول کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ ’’زیاں‘‘ سیدہ ضوباریہ ساحر آپی کے قلم کا عظیم شاہکار ہے۔ کوکب خلیل کا آرٹیکل ’’بھیگا دسمبر‘‘ زبردست رہا واقعی دسمبر دکھ درد کا استعارہ ہے اور شاید شدید سردی کا بھی ایک شعر یاد آگیا
دسمبر جب بھی آتا ہے تو یہ انجام ہوتا ہے
کبھی کھانسی تو کبھی نزلہ زکام ہوتا ہے
(ہی ہی ہی) شوخئی تحریر کو چھیڑا ہر تحریر نے قلب پر نقش کیا۔ حسن خیال میں جھانکا پریوں اور شہزادیوں کے مسرت نامے دل و روح کو سرشار کرگئے۔ دل نے بھرپور انگڑائی لی کہ یہ روشن ستارہ بھی محفل حسن خیال کی زینت بنے۔ لو جی جھٹ قلم اٹھایا میرے اندر سے نکلنے والا ریلا جذبات میرے قلم سے بھرکر آپ تک پہنچنے کو بے تاب ہے۔ ہماری رائے آپ تک پہنچنا ازحد ضروری ہے جو بھی لکھا ہے اپنے من محبوب حجاب کی محبت میں لکھا ہے قصہ ہوا تمام پھر ملیں گے‘ والسلام۔
٭ ڈئیر گل… خوش آمدید۔
فریدہ فری… لاہور۔ السلام علیکم! دسمبر کا حجاب دلکش ٹائٹل کے ساتھ ملا حجاب اور آنچل تو میرے فیورٹ میگزین ہیں میں پھر سے سخت بیمار ہوگئی ہوں۔ میرا بایاں بازو بے حد درد ہے‘ بون کا مسئلہ ہے تھوڑا سا لکھ رہی ہوں کیونکہ لکھے بغیر رہ نہیں سکتی۔ رخ سخن میں قرۃ العین کا انٹرویو بے حد پسند آیا اور ان کی پوئٹری بھی۔ نازش نور بلوچ کا تعارف پڑھا‘ بے حد رونا آیا‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے حد خوشیاں دے‘ آمین۔ نازیہ جمال کا ’’ہاں محبت ہے‘‘ دسمبر بیت نہ جائے۔ راشدہ علی ’’افراتفری‘ بھولا‘ ماں‘‘ نور فاطمہ۔ ندامت سے پہلے بس اتنے افسانے پڑھے ہیں۔ شوخئی تحریرمیں سباس گل اور پروین افضل جو کہ میری بہت ہی پیاری بھابی ہیں نے بے حد اچھا لکھا۔ حسن خیال میں ہمیں اپنی فیورٹ دوست نزہت جبیں نے کیا خوب لکھا‘ مبارک باد تو بنتی ہے۔ یاد کیا بے حد شکریہ‘ عنزہ یونس ہمیں یاد رکھنے کا بے حد شکریہ۔ پوئٹری پسند کرنے کا خوش رہیں‘ اگلے ماہ آنچل میں تمہارے نام ایک غزل لکھوں گی‘ اگر زندگی رہی‘ اچھا جی اللہ حافظ۔ تمام رائٹر قارئین کو دعا اور سلام۔
٭ فریدہ جی اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کع صحت کاملہ عطا فرمائے آمین۔
جویریہ وسمی… ڈونگہ بونگہ۔
اک طرز تغافل ہے سو وہ تم کو مبارک حجاب
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
9 تاریخ کو کیوٹ سی بہن شکیلہ کے توسط سے ماہنامہ حجاب میرے دست نازک کی زینت بنا۔ شکریہ شکیلہ ہر دفعہ حجاب منگوا کر دینے کے لیے یار۔ اب بات ہوجائے حجاب کی تو ٹائٹل اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ قلب کو بھا گیا۔ شوق نگاہ نے جسارت کی آگے بڑھی تو مدیرہ جی کی تمام گفتگو کو ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے پڑھا اور ان سے متفق ہوتے ہوئے۔ حمدونعت سے اپنی روح کو منور کیا‘ ندا رضوان کے قلم سے احادیث و واقعات علم میں اضافے کے سبب بنے۔ ’’ذکر اس پری وش کا‘‘ سب نے اپنے آپ کو نہایت احسن طریقے سے متعارف کروایا۔ بہت خوشی ہوئی سب کے بارے میں جان کر‘ رخ سخن میں پڑھ کے نہایت خوش کن احساس محسوس ہوا۔ خاص کر ان کی شاعری نے دل کو چھولیا۔ بزم سخن میں انعم نصیر‘ فرزانہ محمد‘ انم‘ فرحت اشرف کے اشعار پسندیدگی کی سند پاگئے۔ جویریہ کا کسٹرڈ آپ میں سے کسی نے کھانا ہو تو خوش آمدید‘ گھر کے دروازے کے ساتھ ساتھ دل کے دروازے بھی آپ لوگوں کے لیے وا ہیں۔ عالم انتخاب میں عائشہ پرویز‘ رضوانہ‘ عروشمہ‘ ضوباریہ کے انتخاب پڑھ کے دل خوش ہوگیا۔ شوخئی تحریر میں نورین مسکان‘ پروین افضل کے الفاظ لبوں پہ مسکان پھیر گئے۔ عائشہ پرویز کو پڑھا۔ طویل وقت کے بعد سامنے پایا تو انجانی سی مسرت ہوئی‘ کہاں غائب تھی آپ۔ کوثر خالد جی آپ کی بک گفٹ کرنے کی آفر کیا ان کے ساتھ مختص ہے جن سے آپ نے ایڈریس بھیجنے کو کہا ہے یا ہمیں بھی اس عنایت میں آپ شامل کرسکتی ہیں؟ دل کی گہرائیوں سے آپ کو حوض کوثر کی اشاعت پر مبارک باد۔ رب تعالیٰ آپ کے الفاظ میں اور برکت دے۔ نادیہ احمد آپ کی تحریر نے ثابت کردیا بعض اوقات اپنوں سے زیادہ غیر مخلص ہوتے ہیں۔ ’’دل کے دریچے‘‘ صدف جی پلیز آفاق اور سفینہ کی جوڑی بنادیں تاکہ کہانی میں تھوڑا چارم پیدا ہو۔ ارے فائز آپ مجھے یوں مت گھوریں آپ کے لیے بھی مشورہ ہے نا؟ یہ اپنی شرمیلا اتنی بری نہیں ہے آپ تھوڑا سا اس معاملے میں عقل سے کام لیجیے اور میری ذہانت کو داد دیجیے۔ اب بات ہوجائے ’’زیاں‘‘ کی تو جناب ایک خوب صورت اور منفرد ناول‘ جس میں خاص کر مردِ مشرق کے کردار کو اور خلوص کو نہایت خوب صورت نہایت دلفریب پیراہن میں قلم بند کیا گیا ہے۔ خاص کر شہباز بھائی کا کردار اس میں قابل توصیف ہے‘ محبتوں سے گندھا وجود۔ ضوباریہ یہ ناول حجاب کے لیے آپ کی جانب سے ایک بہترین‘ خاص الخاص کاوش ہے میں اپنے الفاظ میں کہوں تو حجاب کا دل ہے یہ ناولٹ میری نظر میں‘ ان شاء اللہ یہ ناولٹ مقبول سے مقبول ترین ہوگا۔ میری تمام دعائیں اس سفر میں آپ کے ساتھ ہیں‘ قرۃ العین کی تحریر بھی منفرد انداز میں دل میں اتر گئی۔ اس دفعہ حجاب ہر لحاظ سے مکمل تھا‘ حرا قریشی کی کمی بہت عرصے بعد پوری ہوئی اتنی غیر حاضری کی وجہ کیا تھی۔ مسز نگہت آپ تو لگتا ہے عید کا چاند بننے پر مصر ہیں۔ آجایئے اب آپ بھی واپس ہم ویسے ہی آپ کو چاند کہتے ہیں‘ عائشہ پرویز اب ہر ماہ حاضری پکی ہونی چاہیے اوکے حجاب عمارہ‘ مریم‘ نازیہ‘ شکیلہ‘ تمہیں ہیپی برتھ ڈے بول رہی ہیں اور آپ کو میری جانب سے بھی ان گنت دعائوں کے ساتھ سالگرہ مبارک ہو حجاب۔ حجاب جی مریم اور نازیہ نے آنچل کے ساتھ ساتھ اب آپ کو بھی پڑھنا شروع کردیا ہے‘ کیا آپ کو ان کو خوش آمدید کہیں گے؟
٭ اب اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گی کہ نئے سال کا سورج ہم سب کے لیے بہت سی رحمتیں‘ عافیتں اور برکتیں لے کر طلوع ہو‘ آمین۔
ناقابل اشاعت:
بانجھ‘ بے رحم‘ بزرخ‘ سہلی‘ میرا جرم کیا تھا‘ میری اجالا‘ بیٹی رحمت یا زحمت‘بدل دو‘ بھول بھلیاں‘ اسے کہنا قسم لے لو‘ نئی منزلوں کے مسافر‘ تعمیر‘ آجاؤ لوٹ کر تم۔
ناقابل اشاعت:
پرچھائی‘ انصاف طلب ہے‘پاک سر زمین‘ بھرم‘ ممکن نہیں امرت‘آذاد اور آواز‘اے دل‘ عشق ذدہ‘ بہت دیر سے جانا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close