Hijaab Jan-17

عالم میں انتخاب

نزہت جبین ضیا

سال نومبارک ہو
رب کرے کہ یہ برس
خوشی کا علمبردار ہو
میرے وطن کا ہر شہری
سکون سے ہمکنار ہو
ہر طرف بہار ہو
اس قوم میں ایسا پیار ہو
کہ عدو لرز لرز اٹھے
نہ کوئی اس سے ٹکرائے
نہ اس پہ کوئی وار ہو
وطن کا ہر پیرو جواں
اس پہ یوں نثار ہو
عمل سے جس کے ہر گھڑی
چھلکتا صرف پیار ہو
سال نو کی آمد پر
ہر چہرے پہ نکھار ہو
ہر طرف بہار ہو
بہار ہی بہار ہو ( آمین )

شاعرہ: سباس گل… رحیم یار خان
انتخاب: عثمان عبداللہ… کراچی

غزل
گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے
کہ ہم اداس بہت تھے،مگر نہ تھے ایسے
یہاں بھی پھول سے چہرے دکھائی دیتے تھے
یہ اب جو ہیں، یہی دیوار و در نہ تھے ایسے
ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کیسی
کہ اس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے ایسے
رفاقتوں سے مرا ہوں، مسافتوں سے نہیں
سفر وہی تھے مگر ہم سفر نہ تھے ایسے

شاعر: احمد فراز
انتخاب: ریما نور رضوان

نظم
مجھے ایک کاندھا چاہیے ہاں ایک کاندھا
جس پر میں اپنا سر رکھ کر سارے دکھ درد کہہ دوں
اور اپنی تمام پریشانیاں شیئر کردوں
اور اپنے سارے دکھ درد
آنسوئوں کی صورت
بہا کر ہلکی ہوجائوں
اور تمہاری بانہوں میں سمٹ کر
ہمیشہ کے لیے سو جائوں

شاعرہ: فریدہ جاوید فری
انتخاب: پروین افضل شاہین… بہاولنگر

نہیں چاہتا
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
پھر بھی جب تم پاس نہیں ہوتی
خود کو کتنا اداس پاتا ہوں
جانے کیا دھن سمائی رہتی ہے
اک خاموشی سی چھائی رہتی ہے
دل سے بھی گفتگو نہیں ہوتی
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
پھر بھی شب کی طویل خلوت میں
تیرے اوقات سوچتا ہوں
تیری ہر بات سوچتا ہوں
کون سے پھول تجھ کو بھاتے ہیں
کھو سا جاتا ہوں تیری جنت میں
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن
پھر بھی احساس سے نجات نہیں
سوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہے
دل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہے
جس کو اس درجہ چاہتا ہوں میں
اس میں تیری سی کوئی بات نہیں
میں تجھے چاہتا نہیں لیکن…

شاعر: جانثار اختر
انتخاب: جویریہ وسمی… ڈونگہ بونگہ

خواہش
اب تو خواہش ہے یہ درد ایسا ملے
سانس لینے کی حسرت میں مرجائیں ہم
اب تو خواہش ہے یہ ایسی آندھی چلے
جس میں پتوں کی مانند بکھر جائیں ہم
اب تو خواہش ہے یہ دنیا والوں کا غم
ایسی ٹھوکر لگائے کہ جی نہ سکیں ایسی الجھے یہ سینے میں سانس کہ بس
ہم دوا پینا چاہیں تو پی نہ سکیں
کوئی راحت نہ راہی ملے ایک پل کا سہارا نہ چاہت ملے
اب تو خواہش لیے یہ دشت ہی دشت ہو ننگے پائوں چلیں
ہم سر بزم شمع کی مانند جلیں جس کو چاہیں اسے پھر نہ پائیں کبھی
چھوڑ جائیں یوں چپ چاپ دینا کہ پھر دل یہ چاہے بھی تو ہم نہ آئیں کبھی
اب تو خواہش ہے یہ کوئی صحرا، قلعہ یا بیابان ہو
جس میں سالوں تلک قید ہی قید ہو
اپنے خالق و مالک سے میں نے کی جو بے وفائی وہاں پر وہ ناپید ہو
اب تو خواہش ہے یہ
روئے جائوں تو چپ کرائے کوئی
دور جنگل میں یا پھر کسی دشت میں
ہاتھ پکڑے میرا چھوڑ آئے کوئی
اب تو خواہش ہے یہ
درد ایسا ملے
اب تو خواہش ہے یہ

شاعرہ: نازیہ کنول نازی
انتخاب: صائمہ سکندر سومرو… حیدر آباد

غزل
محبت خواب ہوتی جا رہی ہے
یہ شے کمیاب ہوتی جا رہی ہے
بہت شاداب تھا آغاز لیکن
سخن سہماب ہوتی جا رہی ہے
جو سوچا وہ ہَوا پہ لکھ دیا تھا
یہ خوبے آب ہوتی جا رہی ہے
شفق کو دیکھ کر دل سوچتا ہے
یہ حد، ایجاب ہوتی جا رہی ہے
پہننے کو بدن کافی نہیں تھا
طلب سیلاب ہوتی جا رہی ہے

کلام: کشور ناہید
انتخاب: سیدہ جیا عباس کاظمی… تلہ گنگ

یہ تنہا رات
یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں
اسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں
خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں
گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں
یہ رستے رہرووں سے بھاگتے ہیں
یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہَوائیں
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں
انہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں
چلو ایسا مکاں آباد کرلیں
جہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں

شاعر: احمد مشتاق
انتخاب: حنا اشرف…کوٹ ادو

غزل
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں کچھ اک رنج گرانباری زنجیر بھی تھا
بجلی ایک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لب تشنہ تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو لائق تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا

شاعر: اسد اللہ خان غالب
انتخاب: طلعت نظامی

غزل
یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں
مرے بدن پہ کسی دوسرے کی شال نہیں
اداس ہوگئی اک فاختہ چہکتی ہوئی
کسی نے قتل کیا ہے یہ انتقال نہیں
تمام عمر غریبی میں با وقار رہے
ہمارے عہد میں ایسی کوئی مثال نہیں
میں آسمان کا ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں
کہاں ملی تھی یہ دنیا مجھے خیال نہیں
وہ لا شریک ہے اس کا کوئی شریک نہیں
وہ بے مثال ہے اس کا کوئی شریک نہیں
کوئی خوشی ہو میں اپنی حدوں میں رہتا ہوں
مرا ملال بھی حد سے سدا ملال نہیں

شاعر: بشیر بدر
انتخاب: سدرہ شاہین…پیرووال

غزل
وہ رت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
مہک میں چمپا کلی روپ میں چنبیلی ہوئی
وہ سرد رت کی برکھا سے کیوں نہ پیار کروں
یہ رت تو ہے میرے بچپن کے ساتھ کھیلی ہوئی
زمیں پہ پائوں نہیں پڑ رہے تکبر سے
نگار غم کوئی دلہن نئی نویلی ہوئی
وہ چاند بن کے مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا
میں اس کے ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوئی
جو حرف سادہ کی صورت ہمیشہ لکھی گئی
وہ لڑکی تیرے لیے کس طرح پہیلی ہوئی

شاعرہ: پروین شاکر
انتخاب: جویریہ ضیاء …کراچی

درخت میرے دوست
درخت میرے دوست
تم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پر
اور آسان کردیتے ہو سفر
تمہارے پیر کی انگلیاں
جمی رہیں پاتال کے بھیدوں پر
قائم رہے میرے دوست
تمہارے تنے کی متانت اور قوت
دھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہے
تم بہت پر وقار اور سادہ ہو
میرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہو
ضروری… یہ لو میں اسے کھولتا ہوں
روٹیاں، دعائیں اور نظمیں
میرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں
ایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا
دوست دکھ دینا تم نے سیکھا ہی نہیں
تم نے نہ تو مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھا
اور نہ کبھی میرے مطالعے پر شک کیا
ایسا ہی ہونا چاہیے دوستوں کو
اگر میرے پاس اک اور زندگی ہوئی تو
تو میں اپنی پہلی زندگی تمہاری جڑوں پر گزار دیتا
مگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوں
اور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہے
تم نے میرے دوست
ہاں تم نے
بہت کچھ سکھایا ہے مجھے
مثلاً زمین اور آسمانی بجلی
اور ہَوا
اور انتظار
اور دوسروں کے لیے زندہ رہنا
بہت قیمتی ہیں یہ باتیں
میں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جواب
میرے پاس تمہارے لیے
ایک روٹی اور دعا ہے
روٹی تمہاری چیونٹیوں کے لیے
دعا تمہارے آخری دن کے لیے
مجھے معلوم ہے تم نے کلہاڑی کے مصافحے
اور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایا
مگر تم روک نہیں سکتے نہیں
کوئی بھی نہیں روک سکتا
خدا کرے…
خدا کرے تمہاری شاخوں سے ایک جھونپٹری بنائی جائے
بازوئوں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمہارے تنے کی لکڑی
بہت کافی ہے
دو پہیوں اور ایک کشتی کے لیے
دوست ہم پھر ملیں گے
مسافر اور چھکڑا
مسافر اور کشتی
کہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گے
کہیں نہ کہیں
ایک ساتھ ہم سامنا کریں گے
ہَوا کا اور راستوں کا
مسرت اور موت کا

شاعر: ثروت حسین
انتخاب: ماہ جبین خان… رحیم یار خان

غزل
وہ کیا تغیرات کے سانچے میں ڈھل گئے
ہم بھی کچھ اور ہو گئے ہم بھی بدل گئے
کس انجمن میں داد طلب ہوں وہ کم نصیب
جو شام نارسی کے اندھیروں میں جل گئے
ہے یاد راہ عشق انہی قافلوں کی یاد
جو زندگی کی دوڑ میں آگے نکل گئے
اے جان نغمگی انہیں اب یاد بھی نہ کر
وہ راگ آگ ہو گئے وہ ہونٹ جل گئے
لفظ وفا سے اب وہ تاثر نہ کر قبول
اس عام فہم لفظ کے معنی بدل گئے

شاعر: جون ایلیا
انتخاب: سحرش فاطمہ… کراچی

غزل
زندگی خواب پریشان ہے کوئی کیا جانے
موت کی لرزش مژگاں ہے کوئی کیا جانے
رامش و رنگ کے ایوان میں لیلائے حیات
صرف اک رات کی مہماں ہے کوئی کیا جانے
گلشن زیست کے ہر پھول کی رنگینی میں
دجلہ خون رگ جاں ہے کوئی کیا جانے
رنگ و آہنگ سے بجتی ہوئی یادوں کی برات
رہرو جادہ نسیاں ہے کوئی کیا جانے

شاعر: جوش ملیح آبادی
انتخاب: ندا حسنین…کراچی

غزل
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے
نئی رتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے
ہزار مجھ سے وہ پیمان وصل کرتا رہا
پر اس کے طور طریقے مکرنے والے تھے
تمہیں تو فخر تھا شیرازہ بندی جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے
تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے
اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں
وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے

شاعر: جمال احسانی
انتخاب: ام اقصی… کراچی

غزل
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم
مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم
شاید بقید زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم
بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم
اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

شاعر: حبیب جالب
انتخاب: ام عمارہ…چیچہ وطنی

غزل
وہ سرخوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کردے
مرے خیالوں میں رنگ بھردے مرے لہو کو سراب کردے
یہ خوب کیا ہے یہ زشت کیا ہے بشر کی اصلی سرشت کیا ہے
بڑا مزہ ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کردے
کہو تو راز حیات کہہ دوں حقیقت کائنات کہہ دوں
وہ بات کہہ دوں کہ پتھروں کے دلوں کو بھی آب آب کردے
خلاف تقدیر کر رہا ہوں پھر ایک تقصیر کر رہا ہوں
پھر ایک تدبیر کر رہا ہوں خدا اگر کامیاب کردے

شاعر: حفیظ جالندھری
انتخاب: ارم صابرہ…تلہ گنگ

غزل
وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا
سیکڑوں کوس نہیں صورت انسان پیدا
دل کے آئینے میں کر جوہر پنہاں پیدا
در و دیوار سے ہو صورت جاناں پیدا
باغ سنسان نہ کر، ان کو پکڑ کر صیاد
بعد مدت ہوئے ہیں مرغ خوش الحاں پیدا
اب قدم سے ہے مرے خانہ زنجیر آباد
مجھ کو وحدت نے کیا سلسلہ جنباں پیدا
روح کی طرح سے داخل ہو جو دیوانہ ہے
جسم خاک سمجھ اس کو جو ہو زنداں پیدا
بے حجابوں کا مگر شہرہے اقلیم عدم
دیکھتا ہوں جسے ہوتا ہے وہ عریاں پیدا
اک گل ایسا نہیں ہووے نہ خزاں جس کی بہار
کون سے وقت ہوا تھا یہ گلستاں پیدا
موجد اس کی ہے یہ روزی ہماری آتش
ہم نہ ہوتے تو نہ ہوتی شب ہجراں پیدا

شاعر: خواجہ حیدر علی آتش
انتخاب: ہما زونش…جہلم

غزل
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ
صحرا میں لوگ آئے ہیں دیوار و در کے ساتھ
منظر کو دیکھ کر پس منظر بھی دیکھیے
بستی نئی بسی ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ
سائے میں جان پڑ گئی دیکھا جو غور سے
مخصوص یہ کمال ہے اہل نظر کے ساتھ
اک یاد ہے کہ دامن دل چھوڑتی نہیں
اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ
اس مرحلے کو موت بھی کہتے ہیں دوستو
اک پل میں ٹوٹ جائیں جہاں عمر بھر کے ساتھ
میری طرح یہ صبح بھی فنکار ہے شکیبؔ
لکھتی ہے آسماں پہ غزل آب زر کے ساتھ

شاعر: شکیب جلالی
انتخاب: ضوباریہ ساحر… مظفر گڑھ

غزل
اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے
اک نظر میری طرف دیکھ تیرا جاتا کیا ہے
میری رسوائی میں تو بھی ہے برابر کا شریک
میرے قصے میرے یاروں کو سناتا کیا ہے
پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو
دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے
سفر شوق میں کیوں کانپتے ہیں پائوں تیرے
دور سے دیکھ کے اب ہاتھ اٹھاتا کیا ہے
عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے
تو مجھے میرے سائے سے ڈراتا کیا ہے
مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم
بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے
میں ترا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا
دیکھ کر مجھ کو تیرے ذہن میں آتا کیا ہے

شاعر: شہزاد احمد
انتخاب: سیدہ یمنیٰ اختر…شہداد کوٹ

غزل
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میں
نگار غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا
انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاں
جنہیں ادھر سے کبھی اذن گفتگو نہ ملا
پھر آج میکدہ دل سے لوٹ آئے ہیں
پھر آج ہم کو ٹھکانے کا ہم سبو نہ ملا

شاعر: ظفر اقبال
انتخاب: نادیہ احمد… دبئی

سناٹا
آج پھر تم نے مرے دل میں جگایا ہے وہ خواب
میں نے جس خواب کو رو رو کر سلایا تھا
کیا ملا تم کو انہیں پھر سے فروزاں کر کے
میں نے دہکے ہوئے شعلوں کو بجھایا تھا ابھی
میں نے کیا کچھ نہیں سوچا تھا میری جان غزل
کہ میں اس شعر کو چاہوں گا اسے پوجوں گا
اپنی ترسی ہوئی آغوش میں تارے بھر کے
قصر مہ تاب تو کیا عرش کو بھی چھو لوں گا
تم نے تب وقت کو ہر زخم کا مرہم سمجھا
اور نا سور مرے دل میں چمکتے بھی رہے
لذت تشنہ لبی بھی مجھے شیشوں نہ دی
محفل عام میں تادیر چھلکتے بھی رہے
اور اب جب نہ کوئی درد نہ حسرت نہ کسک
اک لرزتی ہوئی لو کو تہ داماں نہ کرو
تیرگی اور بھی بڑھ جائے گی ویرانے کی
میری اجڑی ہوئی دنیا میں چراغاں نہ کرو

شاعر: مصطفی زیدی
انتخاب: نمرہ چوہدری… گجرات

غزل
ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ہے
زندگی اب کہاں گزرتی ہے
درد کی شام، دشتِ ہجراں سے
صورتِ کارواں گزرتی ہے
شب گراتی ہے بجلیاں دل پر
صبح آتش فشاں گزرتی ہے
زخم پہلے مہکنے لگتے تھے
اب ہوا بے نشاں گزرتی ہے
تْو خفا ہے تو دل سے یاد تری
کس لیے مہرباں گزرتی ہے
اپنی گلیوں سے امن کی خواہش
تن پہ اوڑھے دھواں گزرتی ہے
مسکرایا نہ کر کہ محسن پر
یہ سخاوت گراں گزرتی ہے

شاعر:محسن نقوی
انتخاب: فضاء…حیدر آباد

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close