Aanchal Oct-16

ائینہ

شہلا عامر

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ کے پاک وبابرکت نام سے ابتدا ہے جو وحدہ لاشریک ہے۔ عیدالاضحی مبارک۔ عید نمبر ہونے کی وجہ سے پرچہ جلد پریس میں چلا گیا جس کی وجہ سے کافی ساری بہنوں کی ڈاگ آئندہ ماہ کے لیے سنبھال کر رکھ لی گئی ہے لیکن آئینہ میں شامل ہونے کے لیے عیدالاضحی کے پرچے پر تبصرہ کیجیے گا تاکہ مصنفہ بہنوں تک آپ کی تنقید وتعریف پہنچ سکے۔ اب چلتے ہیں آئینہ کی جانب جہاں آپ کے الفاظ جھلملا رہے ہیں۔
مانو… ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ السلام علیکم! امید ہے سب لوگ ٹھیک ہی ہوں گے اینڈ فرسٹ آف آل ٹو ڈے آئی ایم سو ہیپی کیونکہ میرا انٹرویو آنچل میں شائع ہوگیا۔ مجھے تو لگا کہ ریجکٹ ہوگیا لیکن نہیں ابھی نظر میں آیا واقعی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے خیر اچانک ملنے والی خوشی بہت پاور فل ہوتی ہے۔ ستمبر کا شمارہ منگوالیا ہے بھائی سے پر یہ کیا؟ آنچل کے ٹائٹل پر ماڈل کے سر سے آنچل غائب پر اس کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی اگر دوپٹہ ہوتا تو ڈریس کا ڈیزائن سمجھ میں نہیں آتا‘ رائٹ (آپس کی بات ہے میں تھوڑی جینئس بھی ہوں)۔ اشتہارات سے فارغ ہونے کے بعد سرگوشیاں سنیں پھر حمدونعت کے بعد لگادی دوڑ ناک کی سیدھ میں لیجیے رک گئی ’’موم کی محبت‘‘ پر سبھی شرمین کو چھوڑ کے جارہے ہیں اور عارض شرمین کے ساتھ اچھا نہیں کررہا روئے گا سر پکڑ کے۔ دانش کدہ اس کے بعد ملیحہ احمد (میں بھی بہت بولتی ہوں) میمونہ شبیر پھر عائشہ اختر شاہانہ مزاج‘ آئی لائک اِٹ۔ آبرو چوہدری ساری لڑکیاں ہی بہت جلدی روتی ہیں‘ اسی لیے تو عورتوں کی عمر لمبی ہوتی ہے‘ ہاہاہا۔ انا احب سردیوں میں گھومنا وائو مجھے بھی پسند ہے۔ ’’چراغ خانہ‘‘ دانیال کو پیاری اور پیاری کو مشہود پر آئی مس یو بوا۔ لیکن دانیال کی مما اور عالی جاہ کوئی مصیبت کھڑی کرنے والے ہیں۔ ’’اعتماد کی زنجیر‘‘ گناہ وہ جو تیرے دل میں کھٹکے تو ضمیر زندہ خیر آفاق نے توبہ کرلی۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ گول کی ہے ابھی۔ ’’ذرا پھر سے کہنا‘‘ ایک بہترین تخلیق ہے پھر ’’سہاگ کی نشانی‘‘ بھی ایک اچھی کوشش تھی۔ ’’مکافات عمل‘‘ دنیا کا دوسرا نام ہی مکافاتِ عمل ہے پر عاطف کی توبہ قبول ہوگئی۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ حیرت پر حیرت سکندر کیوں اجیہ اور اس کی امی سے نفرت کرتے ہیں اور حنین سے کیوں نہیں؟ غزنی‘ شرمین‘ دھماکہ ’’امید صبح بہار‘‘ جہاں خوشی کا وقت گزر جاتا ہے وہیں غموں کی رات (شب غم) بھی اتنی طویل تو ہوتی ہے پر گزر جاتی ہے‘ باقی ڈائجسٹ ابھی زیر مطالعہ ہے‘ اللہ حافظ۔
تمنا بلوچ… ڈی آئی خان۔ السلام علیکم! ڈئیر شہلا آنی کیسی ہیں آپ؟ امید تو اچھی ہے اینڈ سویٹ سب آنچل فیملی آپ سے کیسے ہیں؟ بات ہوجائے آنچل کی تو اس بار بے انتہا انتظار کے بعد 30 کو ملا پھر جلدی سے کام ختم کرنے کے بعد آنچل کھول کے بیٹھ گئے۔ سب سے پہلے کمرشل سے گزرے پھر فرصت میں نازی آپی کا ’’شب ہجر‘‘ نہ پاکے الجھے‘ ارے آپ اس ماہ کیوں غائب تھیں آپی؟ پھر سرگوشیوں سے ہوتے ہوئے درجواب آں میں جھانکا تو سحر آپی کے ماں بننے کی خوشخبری ملی‘ دعا ہے کہ اللہ آپ کی خوشیاں قائم و دائم رکھے‘ آمین۔ صائمہ اکرم چوہدری اور لائبہ میر کے والد کی رحلت کے بارے میں جان کر بے حد دکھ ہوا‘ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین پھر وہاں سے ’’چراغ خانہ‘‘ کی طرف بڑھے‘ پیاری اور دانیال کی دلی آرزو پوری ہونے پر خوشی کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سا خوف ہے‘ کہیں مشہود بھائی غصہ نہ ہوجائیں۔ ’’موم کی محبت‘‘ میں شرمین کو عارض کو معاف کردینا چاہیے اس بار بدلہ ہوا بوبی بھی اچھا لگا۔ اقبال بانو کی ’’اعتماد کی زنجیر‘‘ پڑھی‘ اچھی تحریر تھی پر اتنی محبت کے بعد بھی کیا مرد دوسری طرف مائل ہوسکتا ہے اور عورت کا ظرف دیکھو کتنی آسانی سے معاف بھی کردیا۔ دوست کا پیغام میں سب کے پیغام اچھے تھے پر افسوس نجم باجی اور طیبہ نے ہمیں یاد نہیں رکھا۔ آئینہ میں بھی خوب رونق لگی تھی۔ باقی ابھی زیر مطالعہ ہے زندگی رہی اور اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہوگی۔ مونا شاہ ناول کی قبولیت پر ڈھیروں مبارک باد۔ رشک حنا کہاں گم ہو یار‘ جلدی سے انٹری دو‘ نجم باجی‘ ماریہ کنول ماہی‘ سامعہ ملک‘ عائشہ پرویز‘ ارم کمال‘ پروین افضل اور غزل جنت آپ سب کو میری ڈھیروں دعائیں اور سلام۔ اب اجازت زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی اللہ کے کرم سے‘ اللہ حافظ۔
مدیحہ نورین مہک… گجرات۔ السلام علیکم! ستمبر کا شمارہ 26 کو ملا‘ ٹائٹل اچھا تھا سب سے پہلے حمدونعت سے روح کو سرشار کیا‘ درجواب آں میں آنٹی جی نے سب کو جواب دیئے تھے‘ بڑی محبت و شفقت کے ساتھ ہمارا آنچل میں چاروں تعارف اچھے تھے۔ انا احب آپی کے متعلق پڑھ کے بہت اچھا لگا۔ بیاض دل پرنس افضل شاہین آپی‘ مسز نگہت غفار‘ نورین انجم کے اشعار پسند آئے۔ ڈش مقابلہ میں جیتنے والوں کو مبارک باد اور چکن نگٹس‘ ملتانی تکے پسند آئے۔ بیوٹی گائیڈ میں جلد کے حوالے سے لکھا گیا سب اچھا لگا‘ سب ہماری جلد کے لیے آسان اور اچھے نسخے تھے۔ نیرنگ خیال میں مونا شاہ‘ نیر رضوی‘ راشد ترین بھائی‘ فریدہ فری کی شاعری پسند آئی۔ یادگارلمحے میں طیبہ نذیر‘ نوشین اقبال‘ نجم انجم‘ ارم کمال کے انتخاب پسند آئے‘ ہم سے پوچھئے میں ہم شامل نہیں تھے مگر محفل کی رونق عروج پر تھی‘ ماشاء اللہ افسانوں میں صباء عیشل‘ اقبال بانو کے افسانے پسند آئے‘ اقرأ صغیر احمد کو خوش آمدید کہتے ہیں اللہ آپ کو کامیابیوں سے نوازے‘ آمین جنہوں نے مجھے دعائوں میں یاد رکھا اور میرا گریجویشن کا رزلٹ بہت اچھا آیا‘ آئندہ بھی دعا میں یاد رکھیے گا‘ سب کو عید کی بہت بہت مبارک باد۔
منزہ عطا… کوٹ ادو۔ السلام علیکم! شہلا آپی کیسی ہو آپ؟ امید ہے فٹ فاٹ ہوں گی اور تمام آنچل اسٹاف اور ریڈرز اینڈ قارئین کو پیار بھرا سلام اینڈ عیدالاضحیٰ کی بہت بہت مبارک باد۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کی قربانی قبول فرمائے‘ آمین۔ شہلا آپی‘ سمیرا آپی ماما بن گئی ہیں آپ یہ بتائیں اللہ پاک نے انہیں رحمت عطا کی ہے یا نعمت‘ اللہ پاک آپ کو نیک صالح اولاد نصیب فرمائے‘ آمین۔ نازیہ جی آپ کو نہ دیکھ کر دل بہت اداس ہوگیا‘ نازیہ بہن اللہ پاک آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے‘ آپ چھٹی نہ مارا کریں۔ میری ایک خواہش آپ نے پوری کرنی ہے آپ آنچل میں مکمل ناول دو دیا کریں پلیز افسانے کم ہوں ادھر کہانی شروع کی‘ اُدھر ختم پلیز زیادہ مکمل ناول ہوں۔ پلیز آنٹی ہماری فرمائش پوری کریں‘ یہ میری نہیں تمام قارئین کی خواہش ہے باقی آنچل کے تمام سلسلے بہت اچھے جارہے ہیں‘ اللہ پاک آنچل کو اور زیادہ ترقی دے‘ آمین‘ پاکستان زندہ باد۔
سمیرا تعبیر… سرگودھا۔ السلام علیکم شہلا آپی! کیسی ہیں آپ اور آپ کا اسٹاف اپنے دکھ ٹینشنز بھلا کر مدتوں بعد آپ کے آئینہ دل میں دستک دی ہے‘ امید ہے کہ آپ میرا خیر مقدم فرما کر اپنے آئینہ دل میں آنے کا راستہ دیں گی۔ آنچل ہمیشہ کی طرح 24 کو مل گیا تھا سرورق کچھ خاص نہیں لگا‘ اندرونی صفحات پر نظریں دوڑائیں۔ قیصر آنی دھیمے سروں میں سرگوشیاں کرتی نظر آئیں‘ قابل تحسین انداز میں ملک کے حالات پر روشنی ڈالی‘ اللہ ہمارے وطن عزیز کو ہر حاسد ظالم آنکھ سے بچائے رکھے۔ آمین حمدونعت سے دل و دماغ کو منور کرنے کے بعد تھوڑا آگے بڑھے‘ درجواب آں میں سمیرا آپی آپ کے متعلق جان کر خوشی ہوئی کہ آپ بھی مما بن گئی ہیں اور گورنمنٹ جاب بھی مل گئی ہے‘ میری طرف سے بہت بہت مبارک ہو‘ آپ کو اللہ ہر طرح کی کامیابیوں سے نوازے‘ آمین۔ تھوڑا اور آگے بڑھے تو دانش کدہ میں حسب روایت قرآن کریم کی تفسیر سے ایمان میں اضافہ ہوا‘ تھوڑا اور آگے چلے تو ہمارا آنچل میں تمام بہنوں سے ملاقات اچھی لگی پھر اپنے موسٹ فیورٹ ناولزکی طرف جی جی بالکل اقرأ صغیر جن کا تو میرے لیے نام ہی کافی ہے جن کے ناول کا بڑی شدت سے انتظار تھا پہلی قسط ہی اتنی شاندار رہی تو پھر انتہا کیا ہوگی‘ ویری ویل ڈن اقرأ جی آئی لو یو سو مچ۔ نوفل نام کچھ سوٹ نہیں کیا‘ تھوڑا آگے بڑھے تو ’’شب ہجر‘‘ کو ناپاکر دل بے اختیار اداس ہوگیا۔ نازی آپ کی خیریت کے لیے بے اختیار ڈھیروں ڈھیر دعائیں مانگ ڈالیں۔ وطن کی محبت کا خوب حق ادا کررہی ہیں آپ‘ صیام اور عبدالہادی وری فیورٹ۔ ’’موم کی محبت‘‘ کی طرف بڑھے تو دل اکتا گیا‘ پلیز راحت جی آپ نے تو خوامخواہ لمبا کردیا ہے اس کو جلد سے ہیپی اینڈ کردیں اور ہمیں بوریت سے بچائیں۔ مکمل ناولز میں ’’چراغ خانہ‘‘ اچھی جارہی ہے‘ سعدیہ کمال کا تو دماغ خراب ہوگیا ہے پتا نہیں کیسی ماں ہے اولاد کی خوشیاں خود اجاڑ رہی ہے اور عالی کو تو اللہ ہی سمجھے۔ ’’ذرا پھر سے کہنا‘‘ نادیہ احمد نے بہت اچھا لکھا گو کہ موضوع کافی پرانا تھا پھر جی اور آگے بڑھے ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ فاخرہ گل بھی بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ اجیہ اور حنین دونوں کا کردار بہت اسٹرونگ ہے‘ بے چاری کو کیا کچھ سہنا پڑرہا ہے باپ تو بیٹیوں کے لیے ایک مضبوط شفقت بھرا سائبان ہوتے ہیں‘ یہ پتا نہیں کیسا باپ ہے اجیہ پر بہت ترس آتا ہے۔ اربش کا کردار اچھا ہے شرمین اور غزنی دونوں ہی سخت زہر لگتے ہیں۔ نازیہ جمال نے سو سو لکھا‘ رشتہ داروں اور معاشرے کے ذہنیت کی عکاسی کرتی اچھی تحریر تھی۔ افسانے سارے ہی اچھے تھے خصوصاً ’’جنجال پورہ‘‘ بہت اچھی تحریر تھی ان لڑکیوں کے لیے جو سسرالیوں کو وبال جان سمجھتی ہیں اپنے شوہر کے علاوہ۔ ’’مکافات عمل‘‘ شمسہ فیصل نے تو آنکھیں کھول کے رکھ دیں نوجوان نسل کے لیے لمحہ فکریہ تحریر تھی‘ ویل ڈن۔ ’’امید صبح بہار‘‘ بھی سو سو تھی‘ مستقل سلسلوں میں دوست کا پیغام آئے میں سب کے پیغام اچھے تھے افسوس کہ میرے نام کسی کا نہیں تھا۔ آئینہ میں انعم زرین‘ عائش کشمالے‘ نجم انجم تبصرہ ہمیشہ پسند آتا ہے مجھے آپ کا تبصرہ‘ فائزہ حرا قریشی‘ حافظہ صائمہ کے تبصرے جاندار تھے۔ یادگارلمحوں میں اپنا اور شمع مسکان‘ طیبہ نذیر‘ پروین افضل‘ عظمیٰ جبیں کا انتخاب اچھا لگا۔ ہم سے پوچھئے میں رکھ رکھ کے شمائلہ آپی کرارے جوابات دیتی ہیں‘ آپی کے جوابات اور قارئین کے سوالات پڑھ کر بے اختیار بل پڑ گئے پیٹ میں۔ بیاض دل میں مہک ناز شریں نور صبا‘ مدیحہ کے اشعار اچھے لگے۔ اچھا جی جناب اجازت دیجیے‘ اللہ حافظ۔
ارم کمال… فیصل آباد۔ پیاری سی شہلا جی سدا ہنستی مسکراتی رہیں‘ آمین‘ السلام علیکم! امید ہے کہ خیریت سے ہوں گی میری طرف سے آنچل کے تمام قارئین کو اور خصوصاً آپ کو عید قربان کی بہت بہت مبارک ہو۔ آنچل کا اس ماہ کا ٹائٹل بہترین ٹائٹلز میں سے ایک تھا۔ سرگوشیوں سے ہوتے ہوئے درجواب آں میں پہنچے۔ پیاری پیاری بہنوں سے علیک سلیک ہوئی‘ دانش کدہ سے علم و عرفان کے موتی چنے۔ ہمارا آنچل میں عائشہ اختر کا اسٹائل دل لے گیا۔ سلسلے وار ناول ’’چراغ خانہ‘‘ میں دانیال جی پیاسے کے پیاسے رہے‘ خیر ہمیں بھی مزا آیا۔ سعدیہ جیسی مائوں سے تو اللہ بچائے ورنہ مائیں تو اولاد کی خوشی میں خوش ہوتی ہیں اور اولاد کے دکھ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔ اقرأ صغیر کا نیا ناول ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ آغاز تو اسٹرونگ ہے‘ آگے آگے دیکھتے ہیں کیا کیا موڑ آتے ہیں۔ ’’موم کی محبت‘‘ میں سب کو فٹا فٹ ٹھکانے لگادیا‘ چلئے اچھا ہوا کچھ جمود تو ٹوٹا۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ میں اجیہ کا کردار میرا موسٹ فیورٹ ہے۔ ’’اعتماد کی زنجیر‘‘ اقبال بانو جب بھی آتی ہیں چھا جاتی ہیں ویسے اکثر عورتوں کو گھروں کو بسانے کے لیے بڑی جان مارنی پڑتی ہے۔ ’’ذرا پھر سے کہنا‘‘ دل و دماغ پر ثبت ہوگئی‘ عورت کا ایک غلط قدم اس کے ساتھ ساتھ اس کی اولاد کا بھی بیڑہ غرق کردیتا ہے۔ سویرا کو تو جنید مل گیا اس کی زندگی رنگوں سے بھرنے کے لیے لیکن ہر کسی کے ساتھ ایسا خوب صورت اتفاق نہیں ہوتا۔ ’’جنجال پورہ‘‘ پڑھ کر ایک ہی بات ذہن میں آئی کہ ایک لڑکی نے کہا میرا مسئلہ یہ ہے کہ مکھن کھاتے میرے دانت ہلتے ہیں۔ ’’ہر راہ ادھر کو جاتی ہے‘‘ نازیہ جمال کی خوب صورت ترین کچھ کچھ فلمی اسٹائل سی تحریر بہت پسند آئی۔ ہومیو کارنر میں طلعت نظامی کی بدولت بہت اہم معلومات ملیں۔ بیاض دل میں کوثر خالد‘ پروین افضل شاہین‘ نورین انجم‘ مہک اور سدرہ شاہین کے اشعار اے ون رہے۔ ڈش مقابلہ میں فرائیڈ اچاری چکن اور سوہن حلوہ بہت زبردست رہے۔ نیرنگ خیال میں نائلہ اکرام‘ مسز نگہت غفار‘ ماہ نور نعیم‘ لاریب انشال اور کشف بلوچ کی شاعری نے دل موہ لیا۔ دوست کا پیغام آئے میں سب کے پیارے پیارے پیغامات پڑھ کر دل جھوم اٹھا‘ ان سب کا بے حد شکریہ جنہوں نے مجھے یاد رکھا۔ یادگارلمحے میں صائمہ ذوالفقار‘ سائرہ خان‘ عائشہ اے بی اور نجم انجم اعوان کے مراسلے بہت ہی اچھے لگے‘ آئینہ میں مجھ سمیت سب ہی کے چہرے جگمگارہے تھے۔ ہم سے پوچھئے میں بختاور افتخار‘ آصفہ قیصرانی‘ شبنم کنول اور عائشہ رحمن ہنی کے سوالات اور شمائلہ جی کے اسپائسی جوابات نے بھرپور مزا دیا‘ ویسے ایک بات بتائیں شمائلہ جی روزانہ کتنی ہری مرچیں کھاتی ہیں؟ میری دعا ہے کہ ہمارا آنچل روز بروز نکھرتا اور سنورتا جائے اور ادب کے مینار پر اس کی آن اور شان سب سے جداگانہ ہو۔ اچھا جی اب اجازت پھر ملیں گے اگلے ماہ‘ میری طرف سے سب کو بہت بہت عید قربان مبارک‘ خوب زور و شور سے تکے‘ کوفتے کھایئے بس ذرا معدے کا خیال رکھ لیجیے گا ورنہ آپ کے محلے کے ڈاکٹروں کی چاندی ہوجائے گی۔
عذبہ آرزو چوہدری… گجرات۔ السلام علیکم! تمام آنچل اسٹاف اور قارئین کو چاہتوں بھرا سلام۔ میں پہلی بار آنچل میں شرکت کررہی ہوں‘ شہلا عامر جی آپ مجھے خوش آمدید نہیں کہیں گی؟ فورتھ ائیر کی طالبہ ہوں‘ آنچل کے سلسلہ وار ناول اچھے ہوتے ہیں۔ میرا موسٹ فیورٹ ناول ’’جھیل کنارہ کنکر‘‘ تھا باقی سب بھی اچھے ہیں۔ خود بھی رائٹر بننا چاہتی ہوں اور میں نے آنچل میں اپنی تحریر بھی بھجوائی ہے‘ امید ہے کہ قابل اشاعت ہوگی۔ اب آتے ہیں ’’موم کی محبت‘‘ کی طرف تو راحت وفا آپ اچھا لکھ رہی ہیں‘ کہانی میں نیا ٹوئسٹ تو لایئے۔ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کا اینڈ بیسٹ تھا۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ میں سدید کا پڑھ کر دکھ ہوا۔ صیام اور درمکنون کو ہی ایک دوسرے کا پارٹنر بنایئے گا۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ اچھا ناول تھا۔ پڑھ کر مزا آیا‘ افسانے بھی بس ٹھیک ہی تھے کاش کہ ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ کی طرح ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کا بھی ڈرامہ بننا چاہیے۔ اب مجھے اجازت دیجیے اللہ حافظ۔
٭ ڈیئر آوزو! خوش آمدید۔
عنزہ یونس انا… حافظ آباد۔ السلام علیکم! کیسے ہو آنچل فیلوز؟ آج میں بھی حوصلہ کرکے محفل آئینہ میں آگئی‘ خدا جانے جگہ ملتی ہے کہ نہیں۔ اس دفعہ آنچل 28 کو ملا‘ حسب روایت سب سے پہلے الٹ پلٹ کے دیکھا‘ سرورق میں مریم سے ملاقات اچھی رہی۔ ہلکی پھلکی سی ماڈل اچھی لگ رہی تھی پھر بھاگے بھاگے ’’موم کی محبت‘‘ تک پہنچے‘ خدا کی پناہ ابھی تک دوڑے جارہی ہے بغیر سانس لیے۔ راحت جی پلیز اچھا سا اینڈ کردیں۔ شرمین کی ضد عارض کو دکھی کررہی ہے‘ آپ ہی سمجھائیں اسے ورنہ ہم تو ابھی صفدر زیبا والا دکھ ہی نہیں بھولے۔ ’’چراغ خانہ‘ رفعت سراج کی اسٹوری سوپر ہٹ ہے وہ لفظوں میں ایسے الجھاتی ہیں کہ بندہ چاہ کے بھی ان کے سحر سے نہیں نکل پاتا۔ اس دفعہ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ کو نہ پاکر بہت برا لگا‘ پورا مہینہ انتظار کرنے کے بعد جب مطلوبہ چیز نہ ملے تو بندہ ڈس ہارٹ تو ہوہی جاتا ہے ناں؟ اقرأ صغیر کی اسٹوری پڑھ کر مزہ آگیا‘ اب آگے چلیں گی تو کچھ کہہ پائیں گے نادیہ احمد نے ’’ذرا پھر سے کہنا‘‘ خوب لکھی‘ بہت سے دکھوں کے بعد بالآخر سویرا کو جنید مل ہی گیا۔ نازیہ جمال کی بھی ’’ہر راہ ادھر کو جاتی ہے‘‘ کمال تھی۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ بھی لونگ ہے‘ باقی سارے افسانے اچھے تھے۔ اقبال بانو جی کا خاص کر‘ مرد واقعی بہک جاتا ہے اس کے علاوہ وہ ناولٹ جس سے میں بہت متاثر ہوئی۔ ’’جراتوںکے امین‘‘ عظمیٰ شاہین رفیق کا لفظ لفظ موتی تھا۔ میں نے بہت سے ہسٹری ناول پڑھے ہیں مگر بہت کم ناولز میں ایسی جاذبیت ہوتی ہے کہ قارئین خود کو اس ناول کے ساتھ ساتھ پاتے ہیں۔ وطن کی محبت سے سرشار عظمیٰ ایک چمکتا ستارہ ہیں۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ جس میں انہیں خراج تحسین پیش کروں۔ تم نے قلم کا حق ادا کردیا ویل ڈن‘ ماشاء اللہ۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض بھی چکائے ہیں کہ جو واجب بھی نہیں تھے
تم نے مٹی کے ساتھ محبت کا حق ادا کردیا شاید عظمیٰ شاہین رفیق پلیز پلیز لکھتے رہنا‘ میں نے تمہیں اپنی دوست مان لیا ہے یہ جانے بغیر کہ تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتی ہو۔ تمہارا ناولٹ لفظ لفظ میرے دل پر نقش ہے‘ پڑھ کے اپنے اندر ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا کیپ اٹ اپ۔ صبا عیشل کا ’’بنت حوا‘‘ بھی اچھا تھا‘ ’’اچھے گھرانے‘‘ کوثر ناز بھی خوب تھا۔ ’’مکافات عمل‘‘ شمسہ فیصل نے خوب صورت لکھا۔ ’’جنجال پورہ‘‘ بہت سبق آموز افسانہ تھا جوائنٹ فیملی پر لکھا افسانہ اچھا لگا۔ ’’سہاگ کی نشانی‘‘ سیما بنت عاصم کا بھی پیارا تھا اور ’’امید صبح بہار‘‘ سیدہ فرحین صغریٰ کا بھی پسند آیا۔ ہم سے پوچھئے میں ارم کمال چھا گئیں‘ پیغام سبھی کے اچھے تھے۔ بیاض دل میں اپنا شعر اچھا لگا یعنی عنزہ یونس انا کا‘ ہاہاہا۔ نیرنگ خیال میں راشد ترین نے اچھا لکھا‘ اچھا جی اللہ حافظ۔
٭ ڈیئر عنزہ! خوش آمدید۔
آسیہ شاہین… چکوال۔ پیاری آپی جان سلام! امید ہے آپ اور سبھی آنچل اسٹاف بخیریت ہوں گے‘ سب سے پہلے تو میری طرف سے سبھی ساتھیوں کو بقر عید کی پیشگی مبارک باد۔ اللہ ہر مسلمان کو قربانی کی استطاعت عطا فرمائے اور جو لوگ قربانی کریں گے اللہ ان کی قربانی کو شرف قبولیت کے درجات عطا فرمائے‘ آمین۔ اب چلتی ہوں تبصرے کی جانب‘ ماہ ستمبر کا ڈائجسٹ میرے ہاتھوں میں ہے‘ سب سے پہلے سرگوشیاں کی بات کروں گی‘ بہت عمدہ کہی آپی نے کہ ہمارے حکمران اپنے مفادات کے لیے دست گریباں ہیں اور سوائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اپنی جگہ بنانے کے ان کو کوئی اور کام ہی نہیں ہے اور اللہ بچائے سیلاب کی تباہ کاریاں واقعی دل دہلا دینے والی ہوتی ہیں۔ دعا ہے اللہ انہیں راہ راست پر لائے‘ آمین۔ حمدونعت سے دل منور ہوگیا‘ درجواب آں میں آپی بہت خوب صورتی سے جواب دیتی ہیں‘ ہر ایک کے حالات پر خوب صورتی سے بات کرتی ہیں۔ یہ نصف ملاقات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے‘ سورۃ مریم کی آیت ۴۷ کی تشریح بہت ہی عمدگی سے کی گئی‘ والدین کا سایہ بہت عظیم نعمت خداوندی ہے اور اسلام نے والدین کے اسلام نہ لانے‘ کفر پر جمے رہنے کے باوجود ان سے حسن سلوک اور احسان کے معاملے کی تاکید فرمائی۔ میرا پسندیدہ ناول ’’چراغ خانہ‘‘ پہلے ہی اوراق میں مجھے مل گیا‘ پڑھ کر بہت پسند آیا۔ دانیال کا پیاری سے نکاح ہوجانا اور مشہود کا واپس آجانا اور اس کی اپنی کتھا سنانا بہت ہی اچھی کہانی ہے۔ ’’اعتماد کی زنجیر‘‘ کہانی کا آغاز بہت عمدگی سے کیا گیا۔ اعتماد کی زنجیر اقبال بانو کی تحریر میاں بیوی کی محبت پر مبنی یہ کہانی دل گدگدانے والی تھی۔ بہت عمدگی سے ماور اور آفو نے اپنے درمیان پیدا ہونے والے بے اعتباری اور اندیشوں کے گڑھے کو بھرا تھا یہ بات حقیقت ہے کہ اعتبار ہی وہ فیول ہے جو کہ اس رشتے کو چلاتا ہے۔ ’’جنجال پورہ‘‘ از سلمیٰ غزل نام نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تو فوراً سے پیشتر میں نے افسانہ پڑھنا شروع کیا‘ جس میں مشترکہ خاندانی نظام پر رانیہ ارینہ سے بحث و مباحثہ کرتی ملی۔ ارینہ نے پہلے ساس اور پھر سسر صاحب پر تنقید کی اور نندوں‘ شوہر‘ دیورانیوں‘ جٹھانیوں سب سے بے زار رانیہ کو سمجھانے کی غرض سے ارینہ نے جو طریقہ اختیار کیا اس پر داد۔ ’’سہاگ کی نشانی‘‘ از سیما بنت عاصم بہت خوب صورت الفاظ کا چنائو کیا‘ بہت ہی خوب صورت پیغام ’’مکافات عمل‘‘ از شمسہ فیصل کیا خوب لکھا‘ جب انسان جوانی کی چوٹی پر کھڑا ہوتا ہے وہ سرکش گھوڑے سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے اور ایسے میں بغاوت کے پتھر زور سے لگتے ہیں واہ مبارک باد۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ از فاخرہ گل‘ اجیہ اور اربش نام بہت خوب صورت چنے مگر سکندر کے رویے نے بہت افسردہ کیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورت کو نظر انداز کیا جاتا ہے‘ خدارا عورت کی عزت و تکریم کریں‘ بنت حوا بھی بہت خوب صورتی سے لکھا۔ آج کل فیس بک پر یہی سب ہوتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ انسان خود ہی اپنے ہر عمل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ہر چیز کا اچھا استعمال بھی ہوتا ہے اور بُرا بھی۔ یہ تو اب ہم پر ہے کہ ہم کس طرف جائیں‘ کہانی میں شاعری کا استعمال نہایت دلفریب لگا۔ نازیہ جمال کا ’’ہر راہ ادھر کو جاتی ہے‘‘ بہت عمدگی سے کاغذ پر اتارا گیا۔ ہر سین بہت عمدہ اور جملوں کی تراش خراش پسند آئی۔ بیاض دل میں مشا علی کا شعر پسند آیا۔ طلعت آغاز کی ڈشز کا مقابلہ خوب رہا‘ اچھا ہے بڑی عید پر نئے نئے پکوان بنائیں گے۔ نیرنگ خیال ہر غزل اور نظم دل کے تار چھیڑتی رہی۔ آئینہ میں دوستوں سے آدھی ملاقات کے دوران کچھ شناسا نام نظر آئے تو انہیں پڑھ کر اچھا لگا‘ جن میں مونا شاہ قریشی‘ حرا قریشی اور فریدہ آپی شامل ہیں۔ ہم سے پوچھئے سلسلہ بہت اچھا لگتا ہے ہمیں‘ شمائلہ جی خوب ہنساتی ہیں‘ آپ کی صحت اور کام کی باتیں بھی اچھا لگا‘ اب اجازت چاہوں گی اللہ نگہبان۔
عاصمہ ناصر گھمن… سیالکوٹ‘ گجر کُلا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! تمام آنچل اسٹاف اینڈ آنچل قارئین ہمارا محبت بھرا سلام قبول کیجیے۔ امید کرتی ہوں کہ سب بخیر ہوں گے‘ آنچل کی بات کریں ویسا تو پورا آنچل ہی بیسٹ ہوتا ہے مگر ہمیں مکمل ناول اور نظموں غزلوں کا سلسلہ زیادہ پسند ہے اور سلسلے وار ناولز بالکل پسند نہیں کیونکہ ان کی بے جا طوالت بہت بور کرتی ہے اور نازیہ کنول نازی آپی آپ میری فیورٹ رائٹر ہو اور میں آپ سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں اور ریکوئسٹ ہے کہ سلسلے وار ناولز کی جگہ مکمل ناول زیادہ لکھا کریں۔ آنچل کے بارے میں کہنا چاہوں گی کہ یہ تمام ڈائجسٹوں میں سب سے بیسٹ ہے پہلے ہم خواتین اور شعاع وغیرہ بھی پڑھتے تھے مگر اب وہ سب چھوڑ دیئے ہیں کیونکہ آج کل ٹی وی اور کمپیوٹر کی وجہ سے زیادہ تر ٹائم وہیں پر صرف ہوتا ہے مگر آنچل پڑھنے کا ٹائم تو نکال ہی لیتے ہیں‘ اوکے اب اپنے خط کا اختتام کرتے ہیں اور آنچل کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ یونہی بلند چمکتا دمکتا رکھے‘ اور پاکستانی لڑکیوں کو شرم و حیا کا آنچل اوڑھنے کی توفیق عطا کرے۔ اچھا اب اجازت چاہتے ہیں‘ اللہ حافظ۔
فضہ جٹ‘ مائرہ جٹ… 132 جنوبی‘ سرگودھا۔ السلام علیکم! آپی جی کیا حال ہے پانچ ماہ بعد آئی ہوں کیسا لگا؟ ٹائم ہی نہیں ملتا لکھنے کا اب بھی بڑی مشکل سے ٹائم ملا ہے‘ سلائی کرتی ہوں نا پھر سکھاتی بھی ہوں۔ اب تو عید ہے عید پر رش بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن ٹائم بھی نکال ہی لیا۔ ماڈل پیاری لگ رہی تھی‘ حمدونعت کے بعد حدیث بھی پڑھی‘ بے شک ہر اس شخص کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی ہوگی‘ پہلے تو سمیرا آپی کو بہت مبارک‘ ناول ختم ہونے پر ہمیں یہ ناول بہت بہت زیادہ پسند تھا۔ واہ جی واہ مکمل ناول وہ بھی چار‘ چاروں ہی زبردست۔ ’’موم کی محبت‘‘ آپی جی کیا سب کو ہی باہر بھیج دینا ہے صفدر جب زیبا سے ملاقات کرتا ہے اس کے الفاظ بہت دکھ والے تھے۔ زیبا کا رونا مجھے بھی رلا گیا‘ آپی جی آپ نے دونوں کو کیوں الگ کردیا ان کو پھر ایک کردیں نا۔ نازی آپی کا ناول کیوں غائب تھا‘ ناولٹ بھی بہت پسند آیا ویسے بھی مجھے فوجی بہت پسند ہیں۔ یادگارلمحے‘ سائرہ خان آپ نے جو لکھا بھائی کو بھی بہت پسند آیا۔ دوست کے پیغام آئے ہمارے نام تو کسی کا بھی پیغام نہیں ہوتا۔ عشنا کوثر آپی آپ کہاں غائب ہیں؟ آجایئے نا کوئی سردار والا ناول لے کر۔ سباس آپی آپ کہاں ہیں؟ فرحت آپ نے مجھے یاد کیا مجھے بہت خوشی ہوئی‘ چلو کسی نے تو یاد کیا۔ فائرہ بھٹی پتوکی‘ آپ سے پوچھا تھا مجھ سے دوستی کریں گی لیکن آپ نے جواب ہی نہیں دیا۔ خیر جیسے آپ کی مرضی‘ ویسے نا آپ نے میرا دل توڑ دیا۔ رابعہ مبارک پتوکی‘ آپ کہاں غائب ہیں‘ پروین افضل شاہین‘ مائرہ کو سلام۔ اسفان آپی کو بھی سلام اور علی کو پیار‘ آپی اللہ آپ کو سدا خوش رکھے اور ہر پریشانی دور کرے‘ سب کو عید مبارک۔ اللہ پاک آنچل کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے‘ آمین‘ اللہ حافظ۔
٭ ڈئیر بہت جزاک اللہ۔
سمعیہ رانی… ملتان۔ السلام علیکم! میری طرف سے تمام آنچل اسٹاف‘ مدیرہ جی‘ شہلا آپی‘ ریڈرز و رائٹرز سب کو پُرمسرت اور محبتوں بھرا سلام‘ عید مبارک دل کی گہرائیوں سے قبول ہو۔ ستمبر کا شمارہ ہمارے ہاتھوں میں ہے‘ آنچل کے ٹائٹل پر ایک ادائے بے نیازی سے براجمان مریم اچھی لگی پھر سرگوشیاں اور حمدونعت سے مستفید ہوتے ہوئے درجواب آں دل تھام کر نگاہ کی تو بہت سے چمکتے ستاروںکے درمیان اپنا نام جھلملاتا نظر آیا بے حد اچھا لگا پھر ہمارا آنچل میں میمونہ بشیر کا تعارف پڑھا‘ آپ کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلیں کہ ایک دن آپ ڈاکٹر بن کر ہم جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے مسیحا بن جائیں‘ آمین۔ پھر سلطنت کشمیر کی راج کماری کی راج دھانی اور محل کے اندرونی حالات پڑھ کر بے ساختہ کھلکھلا اٹھے اور بالوں کی چٹیاں بنائے کانوں میں ٹاپس‘ ہاتھوں میں چوڑیوں کی کھنکھناہٹ بجاتی یہ سادہ سی مگر سرگودھا کی شہزادی ہمیں بہت اچھی لگی۔ آخر میں انا احب کی زندگی کا سچ جان کر اچھا لگا۔ آپ سب لوگوں کا تعارف پڑھ کر (ایویں نہیں کہہ رہی) یقینا بہت ہی مزہ آیا‘ میری دعا ہے کہ آپ سب لوگ اسی طرح ہنستے مسکراتے قلم تھامے‘ آنچل کی زینت بنے رہو۔ اب صبر رخصت ہورہا ہے ڈائریکٹ چھلانگ لگائی تو رفعت سراج کے ’’چراغ خانہ‘‘ تک جاپہنچے لیکن یہ کیا ناول ابھی وہیں کا وہیں ہے ہاں ایک اینٹ ضرور سرکی‘ سعدیہ آنٹی کی صورت اگر وہ اس عمر میں طلاق لیتی ہیں تو سارا کا سارا خسارہ انہی کو بھگتنا ہوگا۔ وہ خود ہی اپنی جذباتیت کے ہاتھوں تنہا رہ جائیں گی‘ بعد ازاں ’’جراتوں کے امین‘‘ سپرہٹ ناولٹ پڑھ کر پاکستان سے محبت کے جذبوں کو پذیرائی ملی‘ پاکستان اور اپنے فوجی جوانوں سے عقیدت و محبت اور بڑھ گئی پھر میں چلی گئی افسانوں کی طرف‘ جلدی جلدی سارے کے سارے افسانے اپنے دماغ میں انڈیل کر دل میں اتار لیے۔ سارے ہی زندگی کے کسی نہ کسی مقصد کو چھوتے ہوئے سبق دے گئے لیکن ان میں ’’اعتماد کی زنجیر‘‘ اور ’’جنجال پورہ‘‘ زیادہ متاثر کرگئے‘ پھر چلتے چلتے آئینہ خانے میں جاپہنچے وہاں سب کے تبصرے باری باری پڑھے سب نے ہی اچھا لکھا مگر حرا قریشی کے تبصرے کی کیا بات ہے‘ ویل ڈن۔ میں صرف اس وجہ سے آپ کی تعریف نہیں کررہی کہ آپ میرے شہر ملتان کی ہو بلکہ واقعی آپ اچھا تبصرہ کرتی ہو اگر شمائلہ کاشف جی نہ ہوتیں تو بھئی ہمیں ہنساتا کون‘ واقعی دنیا میں ہنسانا بہت مشکل کام ہے جو آپ بخوبی احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہیں۔ باقی کچھ سلسلے ابھی نہیں پڑھے‘ جتنا پڑھا اس کے متعلق اپنا تبصرہ پیش کردیا‘ اس کے ساتھ ہی مابدولت رانی صاحبہ کو اجازت دیجیے‘ ان شاء اللہ اگلے ماہ پھر میں آپ کے ساتھ ہوں گی اگر آپ نے برداشت کیا تو ضرور واپس آئوں گی‘ اللہ حافظ۔
عذرا بشیر‘ نور… جڑانوالہ۔ السلام علیکم‘ شہلا آپی‘ قارئین اینڈ رائٹرز کو محبتوں بھرا سلام۔ کچھ عرصہ پہلے آنچل میں ’’ذات شکست‘‘ پڑھی تھی اس اسٹوری نے ہمیں اتنا متاثر کیا کہ ہم آنچل کے مستقل خریدار بن گئے۔ مشتاق انکل بہت اچھی طرح ہماری دین و دنیا سنوار رہے ہیں‘ عمر خضر میں ہو۔ طلعت نظامی کا آرٹیکل بھی دل کو بھاتا ہے‘ بہت مفید باتیں بتارہی ہیں نوجوان لڑکیوں کو۔ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی تعریف کے لیے الفاظ نہیں ملتے کہ کن الفاظ میں اس کی تعریف کروں‘ غرض یہ کہ شروع سے لے کر آخر تک زبردست تھا۔ جگ جگ جیو سمیرا جی! زور قلم اور زیادہ ہو۔ ’’جرأتوں کے امین‘‘ عظمیٰ شاہین رفیق الفاظ تو آپ کی تعریف کے لیے بھی نہیں ہے‘ اس اسٹوری کو پڑھ کر وطن کی محبت میں مزید اضافہ ہوا۔ میرا بھائی بھی شمالی وزیرستان میں دشمنان اسلام کے خلاف جاری ضرب عضب آپریشن میں شامل ہے۔ دعائوں کی برسات کے ساتھ اجازت کے طلب گار ہیں‘ زندگی رہی تو شاید پھر کہیں ملیں گے‘ اللہ حافظ۔
جازبہ عباسی… دیول‘ مری۔ سلطنت آئینہ کی ملکہ شہلا جانو اور اس مملکت کی تمام پریوں کو شہزادی جازبہ کا خاص محبتوں بھرا سلام۔ ملکہ شہلا جانو کیسی ہیں آپ؟ یار ہماری طویل غیر حاضری کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیا آپ نے‘ جی تو جناب اب چلتے ہیں آنچل کی طرف ارے ارے قیصر آرأ آنٹی گھوریں تو مت ہم تو صرف اپنے گھر میں پڑے آنچل کی طرف جانا چاہتے تھے (ہی ہی ہی)۔ اب اس سے پہلے کہ ہمیں نہایت ادب و احترام سے اس محفل سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے ہم اپنے تبصرے کا آغاز کرتے ہیں ’’موم کی محبت‘‘ نہایت خوب صورت انداز لیے ہر ماہ آنچل کی دنیا میں چار چاند لگا دیتی ہے۔ شرمین کی زندگی کے اتار چڑھائو‘ زیبا کی پُرسوز زندگی عارض کی محبت کا امتحان‘ صفدر کا اپنے فیصلے پر پچھتاوا‘ بہادر مگر کم سن اذان اور معصوم ننھے عبدالصمد کو نجانے اور کتنے عذابوں سے لڑنا پڑے گا۔ حقیقت کے بہت قریب اور سچائی پر مبنی کردار لیے اس کہانی کا ہر ماہ شدت سے انتظار رہتا ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ کا آغاز سلجھی ڈووں پر مشتمل تھا مگر اب کہانی الجھتی جارہی ہے۔ سدید کی اتنی جلدی جدائی‘ مریرہ کا زاویار سے یوں ملنا‘ شہرزاد‘ درمکنون اور صیام کا ٹرائی اینگل۔ صمید حسن کا کردار‘ سارا منیر کی وحشت پتا نہیں کیا ہونے جارہا ہے نازی جی اللہ خیر کرے۔ انتہائی دلچسپ کہانی چل رہی ہے‘ لو جی اماں جان کو آخر پتا لگ ہی گیا کہ ہم کچن کے کم چھوڑ کر پھر سے لکھنے بیٹھ گئے‘ ہاہاہا‘ اللہ حافظ۔
لائبہ میر… حضرو۔ السلام علیکم! جناب صبح بخیر‘ کالج جانے سے پہلے میں نے سوچا ہلکا پھلکا سا تبصرہ بھی کرتی چلوں۔ سو حاضر ہے درجواب آں میں سب کے جوابات پڑھے اچھا لگا لیکن کوثر خالہ آپ کی تصویر بھی ہم دیکھ نہ پائے افسوس ہوا اگر شائع ہوجاتی تو کتنا اچھا لگتا اور آپ ماشاء اللہ سے آج کل چھاتی جارہی ہیں‘ حجاب میں آپ کا آغوش مادر پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آج تک جتنی بھی بہنوں نے لکھا فرسٹ مجھے آپ کا لگا اور آنچل میں پیغام بھی (صدا خوش رہیں) اور تعارف سب کے بیسٹ تھے عائشہ اختر زبردست یار اور نا احب تمہارے بارے میں جان کر اچھا لگا اور دعائے سحر کی تمہارے گھر منگنی کا سن کر دل خوش ہوا اچھا کیا جو راز سے پردہ اٹھا دیا تم نے ویسے دونوں (تمہارے شوہر اور دیور) کے نام بہت پیارے ہیں۔ ’’چراغ خانہ‘‘ میں انتظار ہے کہ کب دانیال مشہود کو بتاتا ہے اور اس کا ردعمل کیا ہوگا اور سعدیہ بیگم کا تو اللہ ہی حافظ ہے اوپر سے عالی جاہ کا دماغی فتور اور ’’اعتماد کی زنجیر‘‘ پڑھی ہی نہیں دیکھی ہی ابھی ہے۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ آغاز تو اچھا ہے‘ دیکھتے ہیں آگے کیا کیا ہوتا ہے۔ ’’ذرا پھر سے کہنا‘‘ سویرا کی قربانیوں کے بدلے ہی اسے جنید جیسا ہمسفر ملا۔ ’’موم کی محبت‘‘ میں کافی ہلچل ہوئی اچھا ہے۔ ’’سہاگ کی نشانی‘ مکافات عمل‘‘ نام میں ہی پنہاں ہے سب۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ غزنی پر بہت غصہ آیا خوامخواہ اجیہ کی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے بدتمیز۔ ’’امید صبح بہار‘‘ میں یہی کہ رات جتنی بھی طویل ہو‘ صبح کو نہیں روک سکتی۔ صبح نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے اور ضرور ہوتی ہے۔ ’’جرأتوں کے امین‘‘ تو میرے دل کے مکین ہیں‘ یار آئی لو آرمی۔ ’’اچھے گھرانے‘‘ گڈ ’’بنت حوا‘‘ اچھی نہیں لگی۔ ’’ہر راہ ادھر کو جاتی ہے زبردست یار۔ ڈش مقابلہ میں انعامات کا سلسلہ اچھا لگا۔ اسماء سحر‘ فہمیدہ غور‘ حرا قریشی مبارک ہو‘ بیوٹی گائیڈ ابھی پڑھا نہیں۔ نیرنگ خیال فریدہ فری‘ فصیحہ آصف‘ شمع مسکان‘ راشد ترین‘ آصف شہزاد کی شاعری اچھی لگی۔ طیبہ نذیر شادی مبارک ہو‘ پروین افضل بھائی کی صحت یابی کا سن کر خوشی ہوئی‘ شمع مسکان کہیں منگنی تو نہیں کرلی۔ عائش کشمالے کیسی ہو‘ نورین اینڈ نجم انجم کیا حال ہیں؟ عظمیٰ بٹ سوچنا پڑے گا ابھی ٹائم نہیں ہے جلدی میں ہوں سمیرا آپی مبارک ہو بیٹے کی بہت اور فریدہ فری آپ کا سن کر دلی افسوس ہوا آپ کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں دل سے۔ نور الہدیٰ مغل اور تمام اسٹوڈنٹ رزلٹ کا سنائو کیا بنا‘ انیلہ سخاوت کیا ہورہا ہے سب کو بہت سا پیار‘ پھر ملیں گے ابھی کالج کو دیر ہورہی ہے‘ اللہ کے سپرد۔
ثناء اعجاز حسین قریشی… ساہیوال۔ رات کا پرسکون ماحول ہر طرف پھیل چکا تھا‘ ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی اور اس خاموشی کو مینڈک کی آواز توڑ رہی تھی اور یہ خاموشی کے اس ماحول میں ایک پیارے سے ساز کی طرح گونج رہی تھی۔ بادل نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا‘ چاند کبھی نکل کر پوری زمین کو اپنی ٹھنڈی سی چاندنی میں نہلا دیتا تو کبھی بادلوں میں چھپ جاتا۔ چاند اور بادل کی یہ آنکھ مچولی ہمیں لکھنے پر مجبور کررہی تھی‘ ہم نے سوچا ایوں ہی فارغ لیٹ کر وقت فضول میں ضائع کرنے کی بجائے کیوں نہ کچھ لکھ لیا جائے لیکن کیا لکھا جائے‘ اب پریشانی یہ تھی سوچتے ہوئے آنچل کا سلسلہ آئینہ ذہن میں آیا تو دل سے کہا کہ اتنی ساری بہنیں اس سلسلے میں شرکت کرسکتی ہیں تو پھر ہم یہ جسارت کیوں نہیں کرسکتے کیونکہ جتنا انتظار تم کو ڈائجسٹ لے کر پڑھنے کا ہوتا ہے نا اس سے بھی زیادہ ان لوگوں کو جو اس میں اتنی محنت کرکے کچھ نا کچھ لکھتے ہیں اپنی محنت کا پھل وصول کرنے کا ہوتا ہے۔ تم لوگوں کے چند الفاظ اور حوصلہ افزائی ہی ان کی محنت کا پھل ہے اور یہی الفاظ ان کو اور زیادہ لکھنے پر مجبور کرتے ہیں تو پھر دل کی باتیں منانتے ہوئے آخرکار اٹھا ہی لیا‘ کاغذ قلم دوات کو اور کھول کر رکھ دیا اپنے دل میں دبی الفاظوں کی پوٹلی کو۔ اس دفعہ آنچل 26 کے بجائے 28 کو ملا جلدی سے ہر سلسلے پر نظر دوڑائی مگر اپنا نام نہ دیکھ کر بہت دکھ اور مایوسی ہوئی پھر سوچا چلو کوئی بات نہیں اگلی بار سہی (ارے امید پر دنیا قائم ہے) ہاں اور ہم اپنی ڈھٹائی پر‘ ہاہاہا۔ سرورق پر نگاہ پڑی تو وہ ہم کو ہی دیکھ رہی تھی (نہیں بلکہ بتارہی تھی کہ دیکھو میرے بال اتنے لمبے ہیں اور تمہارے چھوٹے ہیں)۔ ہم نے کہا چلو کوئی بات نہیں ابھی ہمارے بال بھی چھوٹے ہیں‘ ہماری طرح جب ہم آپ کی عمر کو پہنچیں گے تو ہمارے اس سے بھی زیادہ لمبے ہوگئے (دل کو دلاسا دیا‘ ہاہاہا) آنچل کے باقی سب سلسلے پڑھے بہت اچھے تھے‘ اس بار سمیرا آپی اور نازیہ باجی کو نہ دیکھ کر بہت مس کیا اور ہم کو یہ دیکھ کر کہ ہم کو بھی کسی نے مس نہیں کیا دکھ ہوا۔ چلو کوئی بات نہیں ابھی تو ہم آنچل کی محفل میں آئے ہیں‘ آہستہ آہستہ اپنی جگہ بن جائے گی کیونکہ ہم فوراً ہی ہر کسی کے دل میں جگہ بنالیتے ہیں (بس غرور کبھی نہیں کیا) چلو بھئی امید کرتے ہیں پہلا خط ہے‘ اللہ حافظ‘ دعائوں میں یاد رکھیے گا۔
٭ ڈیئر ثنا! آپ کہانیوں پر بھی تبصرہ کرتیں۔ بہرحال خوش آمدید۔
حافظہ صائمہ کشف… فیصل آباد۔السلام علیکم! شہلا آپی کیسی ہیں؟ امید ہے خیریت سے ہوں گی میری دعا ہے آپ سدا خوش رہیں‘ تمام آنچل اسٹاف اور قارئین کو پیار بھرا سلام اور ڈھیروں دعائیں اس بار آنچل کا شدت سے انتظار تھا خدا خدا کرکے 25 کو ملا‘ ٹائٹل پسند آیا سب سے پہلے سرگوشیاں سنیں اس کے بعد حمدونعت سے فیض یاب ہوئے درجواب آں سے گزرتے ہوئے دانش کدہ میں سورۃ مریم‘ لقمن‘ طہٰ‘ فرقان‘ سورۃ القصص‘ النمل کی آیات کے ترجمہ تفسیر سے فیض یاب ہوئے علم میں اضافہ ہوا ’’ہمارا آنچل‘‘ میں چاروں بہنوں کے تعارف پسند آئے۔ عائشہ اختر‘ انا احب کا تعارف بھی اچھا لگا‘ دعائے سحر جی منگنی کروالی بتایا تک نہیں‘ مبارک ہو۔ اب چلتی ہوں سلسلہ وار ناول کی طرف سب سے پہلے ’’چراغ خانہ‘‘ دانیال کی ماں سعدیہ بیگم نے نیا تماشہ کھڑا کردیا ہے بہت غلط کررہی ہے اور یہ کیا ابھی تک مشہود کو پیاری اور دانیال کے نکاح کا پتا نہیں چلا۔ رفعت جی یہ کم لکھا اس بار آپ نے لو جی اب اگلے ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا‘ اس کے بعد ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ فاخرہ گل کا ناول بہت اچھا جارہا ہے سکندر صاحب دوسرے لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں ان کی امداد کرتے ہیں لیکن اپنے گھر والوں کا ذرا بھی خیال نہیں یہ کیسا انصاف ہے بڑی بیٹی اور بیوی کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے چھوٹی سے بے حد پیار اجیہ کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا۔ اب غزنی کو شک ہوگیا ہے شرمین بھی پیچھے پڑی ہوئی ہے اب پتا نہیں اس کا کیا پلان ہے اجیہ کے بارے میں اجیہ کو خدا ہی بچائے شرمین کے شر سے اور اربش اچھا لڑکا ہے اجیہ کو اربش ہی ملنا چاہیے اور حنین کو غزنی۔ اس کے بعد ’’موم کی محبت‘‘ اذان شرمین کو چھوڑ کر چل گیا‘ بہت دکھ ہوا زینت آپا کی موت کا بہت دکھ ہوا عارض بھی جارہا ہے اور صفدر بھی یہ سب کیا ہے بہت دکھی سا ناول ہوگیا ہے۔ شرمین مان کیوں نہیں جاتی کیوں پتھر دل ہوگئی ہے پلیز آپی شرمین کو عقل دیں وہ عارض کو روک لے اب بالکل اکیلی ہوگئی ہے کچھ عقل سے کام لے۔ اس کے بعد اقرأ صغیر احمد کا ناول ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ آغاز بہت اچھا ہے اقرأ آپی اللہ تعالیٰ آگے بھی آپ کو اچھا لکھنے کی اور ہماری اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے اس کے بعد نادیہ احمد کے ناول ’’ذرا پھر سے کہنا‘‘ پر چھلانگ لگائی بہت اچھا ناول تھا غلطی ماں صفیہ نے کی اور اس کا خمیازہ بیٹی کو بھگتنا پڑا ویسے سویرا کے ماموں نے اچھا نہیں کیا‘ دیکھ بھال کے رشتہ کرنا چاہیے تھا جاہل آدمی کے ساتھ بیاہ دیا اور مامی سعیدہ سب سے بڑی ظالم نکلی اس جاہل کو سب کچھ بتادیا حالانکہ ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ چلو سویرا کی قسمت اچھی تھی اس جہنم سے نکل آئی‘ جنید جیسا اچھا لڑکا اس کی قسمت میں تھا۔ سلمیٰ غزل کا افسانہ ’’جنجال پورہ‘‘ بہت پسند آیا۔ ارینہ نے سچ کہا انسان تو ہے ہی ناشکر اگر نہ ملے تو ناشکرا اگر ملے تو بھی ناشکرا۔ ارینہ نے بہت اچھے انداز میں دوست کو سمجھایا اور یہ سچ ہے ایک مصلحت آمیز جھوٹ اس سچ سے بہتر ہے جو فساد پھیلانے کا باعث ہو اگرچہ ارینہ نے اپنے سسرال کی باتیں جھو ٹ بول کر غلط بیانی کی لیکن اس نے اپنی دوست کو اس پریشانی سے نکال دیا‘ خوش رہنے اللہ کا شکر کرنے کی تلقین کی‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی ہر حال میں شکر ادا کرنے والا بنائے۔ اس کے بعد نازیہ جمال کا ناول ’’ہر راہ ادھر کو جاتی ہے‘‘ اچھا ناول تھا‘ بہت پسند آیا‘ عمدہ کو بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑا‘ در در کی ٹھوکریں ملی‘ عبدالشکور اور ہارون جیسے درندے نے نوچنا چاہا لیکن خدا ساتھ تھا نا اور ماں باپ کی دعائیں‘ سلوان حیدر اچھا انسان تھا اس نے بھی عمدہ کا انتظار کیا اور آوارہ لڑکوں کی طرح دوسری لڑکیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوا ویسے شائم نے تو بہت چاہا کہ سلوان مجھے مل جائے خیر اینڈ بہت اچھا ہوا۔ صبا عیشل کا افسانہ ’’بنت حوا‘‘ بہت پسند آیا۔ فائقہ معصوم لڑکی کی موت کا بہت دکھ ہوا‘ حمدان نے اپنے کیے کی سزا پالی صنوبیہ نے صحیح سزا دی اسے اگر کوئی کسی کو بلاوجہ دکھ دیتا ہے تو اسے بھی فوراً سزا مل جاتی ہے وہ الگ بات ہے کہ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ کس گناہ کی سزا ہے۔ نازیہ کنول نازی غائب ہیں اس بار کمی تو محسوس ہوگی نہ۔ عظمیٰ شاہین کا ناول ’’جرأتوں کے امین‘‘ بہت پسند آیا‘ عبدالواحد نے اپنے وطن کے لیے جان قربان کردی اور محسن کا ایک بازو اللہ کی راہ میں کام آیا‘ اللہ ہمارے ملک کے نواجونوں کو جوش ولولہ عطا کرے اور اپنے وطن کی محبت عطا فرمائے‘ اس کے بعد ’’سہاگ کی نشانی‘ مکافات عمل‘‘ شمسہ فیصل کا افسانہ اور ’’امید صبح بہار‘‘ سیدہ فرحین کا افسانہ اور ’’اچھے گھرانے‘ اعتماد کی زنجیر‘‘ سب افسانے بہت پسند آئے۔ اس کے بعد بیاض دل پر پہنچی اس میں نورین انجم‘ نبیلہ ملک‘ مدیحہ نورین مہک‘ طیبہ نذیر‘ منیبہ نواز‘ ارم کمال‘ سائرہ خان‘ نجم انجم‘ اریشہ‘ شازیہ اختر کے اشعار پسند آئے۔ ڈش مقابلہ میں سبھی اے ون تھے‘ بیوٹی گائیڈ نہیں پڑھا وہ کیا ہے کوئی خاص ضرورت نہیں ہے نا ہم فٹ فاٹ ہیں۔ نیرنگ خیال میں نائلہ اکرم‘ حمیرا قریشی‘ تمثیلہ لطیف کشف‘ ازبیہ صدیقی‘ پری‘ زنیرہ رئوف کی غزلیں پسند آئیں‘ باقی سب نے بھی اچھا لکھا۔ یادگارلمحے میں سائرہ خان‘ طیبہ نذیر‘ بشریٰ افضل‘ شگفتہ پروین فضل‘ نجم انجم‘ مدیحہ نورین مہک‘ ارم کمال نے بیسٹ لکھا اور سمیرا سواتی اور سعدیہ رمضان نے ہنسنے پرمجبور کردیا اچھا لگا جی۔ آئینہ میں انعم زریں‘ عائش کشمالے اور مونا شاہ‘ عنبر مجید‘ نجم انجم‘ حرا قریشی کے طویل اور شاندار تبصرے پسند آئے۔ باقی سب نے بھی اچھا لکھا اور کام کی باتیں تو واقعی کام کی تھیں‘ زندگی رہی تو ان شاء للہ اگلی بار پھر حاضر ہونے کی کوشش کریں گے اور فریدہ فری کے لیے خصوصی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے‘ اللہ تعالیٰ صحت تندرستی عطا فرمائے‘ آمین‘ اب اجازت چاہتی ہوں اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے‘ آمین ثم آمین‘ اللہ حافظ۔
٭ اب اس دعا کے ساتھ آئندہ ماہ کے لیے اجازت چاہوں گی کہ اللہ سبحان و تعالیٰ ہماری قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے‘ آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close