Aanchal Oct-16

عید سے پہلے

عریشہ ہاشمی

کوئی اچھی سی سزا دو مجھے
چلو ایسا کرو بھلا دو مجھے
تم سے بچھڑوں تو موت آجائے
دل کی گہرائی سے دعا دو مجھے

’’ماما… ہم بھی بکرا لائیں گے؟‘‘ ننھی عیشاء اپنی ٹھوڑی دونوں ہتھیلیوں پر جمائے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’ہمم…‘‘ میں نے بند ہونٹوں سے آواز نکالی اور قینچی اٹھا کر سلائی کیے ہوئے کپڑوں کے ایکسٹرا دھاگے کاٹنے لگی۔
’’مما… بتائیں نا…‘‘ میرے گول مول سے جواب پر اس کی تسلی نہ ہوئی تو وہ جھنجلا کر دوبارہ سے پوچھنے لگی۔ میرے پاس بچی کو بہلانے کے لیے الفاظ نہیں تھے سو جھنجھلا گئی۔
’’بس کردو عیشاء… صبح سے بکرے بکرے کی رٹ سن کر میں تنگ آچکی ہوں۔‘‘ مجھے اب عیشاء کے سوالوں پر غصہ آنے لگا۔ اپنے اس غصے میں مجھے خیال ہی نہ رہا کہ میری لاڈلی عیشاء اس غصے کے اظہار پر آنکھوں میں ناراضگی اور آنسو بیک وقت سجائے دکھی ہورہی تھی۔ اس میں میرا غصہ اور ناراضگی برداشت کرنے کی ذرا بھی ہمت نہ تھی۔ میں نے خود کو دل ہی دل میں کوسا اور عیشاء کے دکھی چہرے کو دیکھتے ہلکے سے مسکرادی اور اسے اپنے پاس بٹھا کر بہلانے لگی۔
Y…Y…Y
’’کھٹ‘ کھٹ‘ کھٹ…‘‘ دوپہر کو میں آرام کی غرض سے کچھ دیر کے لیے کمرے میں چلی آئی۔ عیشاء پہلے سے بیڈ پر سو رہی تھی۔ میں جونہی لیٹنے کے ارادے سے بیڈ کی طرف بڑھی دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے صوفے پر رکھا اپنا دوپٹہ اٹھا کر سر پر اوڑھا اور دروازے پر آگئی۔
’’کون ہے؟‘‘ دروازہ کھولنے سے پہلے احتیاط سے پوچھ لینا میری بڑی پختہ عادت تھی۔
’’میں ہوں باجی… غلام سرور۔ عبدالجبار صاحب گھر پر ہیں کیا؟‘‘
’’عبدالجبار تو نوکری کی تلاش میں گھر سے باہر ہیں۔ کوئی ضروری کام ہے کیا سرور بھائی؟‘‘ میں نے دروازہ کھول کر دوپٹہ تھوڑا ماتھے پر سرکاتے ہوئے پوچھا۔
’’جی باجی… کام تو بڑا ضروری تھا۔ دراصل آج ستائیس تاریخ ہے اور آپ کے مکان کا کرایہ پچھلے دو مہینے سے نہیں آیا۔ عید سر پر ہے تو مجھے اس مہینے ہر حال میں پیسے چاہیے۔‘‘ سرور بھائی کی آواز میں تھوڑی سختی سی در آئی تھی۔ کوئی کسی کا لحاظ کب تک کرسکتا ہے۔ آخر انہیں بھی اپنی ضروریات کے لیے پیسہ چاہیے تھا۔
’’جی سرور بھائی میں کہہ دوں گی ان سے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں نے دروازہ بند کردیا۔
’’چار ماہ کا کرایہ… راشن بھی تقریباً ختم ہے۔ کہاں سے پورا ہوگا یہ سب… میرے اللہ…‘‘ اس نئی فکر نے مجھے پریشان کرکے رکھ دیا۔ میں نے سونے کا ارادہ ترک کیا اور ایک بار پھر سلائی مشین سنبھال لی۔ شام کو عبدالجبار تھکے ہارے گھر لوٹے تو کوئی امید افزا خبر نہ لائے۔
’’رانیہ… برتن اٹھالو‘ میں مسجد جارہا ہوں۔‘‘ میں کچن میں صبح کے لیے آٹاگوندھ رہی تھی جب عبدالجبار اپنا کھانا ختم کرکے اٹھتے ہوئے آواز دینے لگے۔ کچن کا کام ختم ہوچکا تھا‘ عبدالجبار کے لوٹنے کے انتظار میں میں باہر ہی چارپائی پر لیٹ گئی۔
آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ لاتعداد ستاروں کو آسمان نے ایسا سمیٹ رکھا ہے کوئی ستارہ اِدھر اُدھر نہیں ہوتا۔ آسمان کی حد سے نہیں نکلتا۔ کتنا وسیع ہے ناں اور ہماری قسمت… ہمیں اس مسائل بھری دنیا میں تنہا چھوڑ بیٹھی ہے۔
’’ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں…‘‘ میں سیاہ آسمان پر جھلمل کرتے تاروں کو دیکھ کر سوچنے لگی۔ اپنے حالات اور اپنی قسمت سے شاکی ہورہی تھی یہ سوچے بغیر کہ جس ہستی نے اس وسیع اور کشادہ آسمان کو بنایا ہے اور اتنی بلندی پر اس آسمان کو ٹھہرا رکھا ہے‘ وہ ہستی ہی ہے جس نے تمام انسانوں کی قسمت کو بنایا ہے‘ وہ ان سب کے مقدر کا مالک ہے‘ اس کو زیادہ پتا ہے کہ اس کے کس بندے کے لیے کیا بہتر ہے۔
’’رانیہ…!‘‘ نہ جانے کب تک مایوسی کے گہرے دلدل میں سرگرداں رہتی کہ کسی نے میرے ہاتھ کو چھوا… میں یک دم جیسے ہوش میں آگئی۔
’’عبدالجبار… آگئے تم۔‘‘ میں نے اٹھ کر دوپٹہ صحیح کیا اور وہیں بیٹھی رہی۔
’’ہاں… لیکن تم رو رہی تھیں کیوں؟‘‘ عبدالجبار نے نرمی سے استفسار کیا۔
’’ہاں عبدالجبار… وہ… آج سرور بھائی آئے تھے۔ دو ماہ کا کرایہ مانگنے۔‘‘ میں نے دھیرے سے کہتے ہوئے اپنی پریشانی عبدالجبار کے سپرد کردی۔
’’ہمم…‘‘ عبدالجبار کو تو یہ بات سن کر چپ ہی لگ گئی۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے شاید۔
’’ہم کہاں سے لائیں گے اتنے پیسے؟‘‘ میں عبدالجبار کا منہ دیکھنے لگی مگر جواب ندارد تھا۔
’’عبدالجبار… عیشا بھی بکرے کے لیے ضد کررہی تھی…‘‘ میں نے اداسی سے اپنی لاڈلی کی یہ فرمائش اس کے باپ کے سامنے رکھ دی۔
ایسا نہیں تھا کہ میں بے حس یا خود غرض تھی۔ دراصل عبدالجبار اور میں اپنے دل کی ہر بات ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ ہماری خوشیاں سانجھی تھی‘ تو پھر یہ مسائل‘ یہ غم‘ یہ قسمت… یہ کیسے نہ سانجھی ہوتی… اور ویسے بھی بات کرنے سے آدھا دکھ تو کم ہوجاتا ہے۔ سو مجھے عبدالجبار سے ضرور بات کرنا تھی۔ ان کو حالات کا صحیح رخ دکھانا تھا۔
’’ہوجائے گا بندوبست… تم فکر نہ کرو‘ میری پیاری وائف۔‘‘ عبدالجبار کی اس امید پر میں نے بھی یقین کرلیا۔
’’تم عورتوں کی تو عادت ہوتی ہے… چھوٹی سی بات کی ٹینشن لے لے کر اسے پہاڑ بنا دیتی ہو۔ حالانکہ مسائل تو آتے رہتے ہیں زندگی میں اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے رانیہ صاحبہ… امید رکھو۔‘‘
’’امید تو ہے عبدالجبار… لیکن سبیل نظر نہیں آتی۔‘‘ میں نے اداسی بھرے مدہم لہجے میں جواب دیتے ہوئے ایک بار پھر نظر آسمان پر ٹکادی۔ آسمان پر چمکنے والے روشن ستارے مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس دلانے لگے۔ میرے گھر کے اندھیرے میری نظروں میں گھومنے لگے تو میں نے اپنی توجہ آسمان سے ہٹادی۔
’’نوکری کا بنا کچھ…؟‘‘
’’دو تین جگہ اپلائی کر آیا ہوں‘ جلد ہی ان شاء اللہ انٹرویو کے لیے کال کریں گے وہ۔‘‘ عبدالجبار کے اس جواب سے ایک امید سی بندھی۔
’’اللہ کرے جلدی سے آپ کی نوکری لگ جائے۔ حالات کچھ تو بدل جائیں گے ناں۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں عبدالجبار کی نوکری کے لیے دعا مانگی۔
’’سنو رانیہ…!‘‘ عبدالجبار نے اچانک مجھے پکارا۔
’’ہاں… کیا بات ہے؟‘‘ میں نے نظریں اٹھا کر عبدالجبار کے چہرے پر پھیلی ہوئی سنجیدگی کو پڑھنے کی ایک ناکام کوشش کی۔
’’تمہارے پاس سلائی کا کتنا کام ہے؟‘‘ ویسے تو عبدالجبار نے مجھے کبھی سلائی کے لیے نہیں کہا تھا نہ ہی کبھی منع کیا۔ میں نے اپنی فرصت سے نجات پانے اور اپنے ہنر سے استفادہ کرنے کے لیے سلائی کا کام شروع کیا تھا۔ آج عبدالجبار کے اس طرح پوچھنے پر حیران سی ہوگئی۔
’’تقریباً اکتیس سوٹ تھے جن میں سے سولہ تو سلائی کرکے واپس کردیئے مگر ابھی پے منٹ نہیں ملی مجھے۔ وہ پیسے ہی مل جاتے تو کچھ پریشانی کم ہوجاتی۔‘‘ میں نے تفکر سے جواب دیا۔
’’اچھا… مطلب ابھی پندرہ سوٹ رہتے ہیں۔ ٹھیک ہے تم یہ کام جلد از جلد مکمل کرو‘ پھر ایک کام ہے میرے پاس تمہارے لیے۔‘‘ عبدالجبار کے اس لہجے پر مجھے تجسس سا ہونے لگا۔
’’کیا؟‘‘ اپنا تجسس آخر میں جلد ہی زبان پر لے آئی۔
’’ابھی نہیں… وقت آنے پر بتاؤں گا۔‘‘ عبدالجبار کے دو ٹوک جواب پر میں اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
’’اور دعا کرنا کہ کل کا سورج ہمارے لیے امید اور خوشی لے کر آئے۔‘‘ عبدالجبار نے مسکراتے ہوئے کہا تو میں بھی اپنی ساری پریشانیاں بھول کر مسکرادی۔
’’ضرور… ان شاء اللہ۔‘‘
Y…Y…Y
اگلا دن واقعی میں امید کا سورج لے کر چڑھا تھا۔ میں صبح ناشتے کے برتن دھونے کے بعد عیشاء کے لیے عید کا ڈریس سلائی کررہی تھی جب میری ایک پرانی کسٹمر آگئیں۔ اور مجھے حیرت اور خوشی کا جھٹکا اس وقت لگا جب اس نے میرے ہاتھ میں ہزار ہزار کے چار نوٹ تھمائے۔
’’یہ…؟‘‘ میں ناسمجھی کے عالم میں پوچھنے لگی۔
’’ارے آپ بھول گئیں رانیہ باجی… یہ ہماری طرف آپ کی محنت کے پیسے بقایا تھے۔ وعدہ تو آپ سے پانچ دن تک دینے کا کیا تھا لیکن پھر بھول ہی گئی۔ آج کپڑے لے کر آنا تھا تو سوچا کہ اپنا قرض ہی ہلکا کرلوں۔‘‘ میری حیرت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو مجھے بھی یاد آگیا۔ یہ پچھلے ماہ کی ہی تو بات تھی۔ اپنی پریشانیوں میں میرے ذہن سے یہ بات ہی نکل گئی تھی۔
’’بہت شکریہ سمیرا… یہ بات ہی بہت ہے کہ آپ نے یاد رکھا۔ ورنہ کون یاد رکھتا ہے‘ کئی لوگوں نے میرے سلائی کے پیسے روک لیے تھے۔‘‘ میں دل سے ممنون تھی۔
’’ارے نہیں… بلکہ میں تو شرمندہ ہوں کہ کافی دیر سے دے رہی ہوں آپ کی امانت۔‘‘
پھر باتوں باتوں میں وقت گزرنے کا پتاہی نہ چلا۔ وہ مزید ڈریسز سلائی کے لیے دے کر چلی گئیں اور میں دل ہی دل میں رب کی شکر گزار ہونے لگی۔ بالآخر رب نے میری دعائیں سن لی تھیں۔
’’ماما… ابھی تک نہیں سلی میری فراک؟‘‘ عیشاء نجانے کب سے میرے پاس بیٹھی اپنی فراک کے سلائی ہونے کا بے صبری سے انتظار کررہی تھی۔
’’بس تھوڑی ہی رہتی ہے عیشا… صبر کرنا بھی سیکھو میری جان۔‘‘ میں نے عیشاء کے فراک پر آخری سلائی لگاتے ہوئے اسے حوصلہ دیا۔
Y…Y…Y
اگلے تین دنوں میں میں نے بقیہ سلائی مکمل کرلی اور پے منٹ بھی ہوگئی۔ عبدالجبار کا انٹرویو بھی ہوگیا اور ان کو جوائننگ لیٹر ملنے کا انتظار تھا بس۔ اب پریشانی قدرے کم ہوگئی تھی۔
’’عیشاء کے ابو… سنتے ہو۔‘‘ رویتی بیویوں والا طرز تخاطب اپناتے ہوئے میں نے قدرے شوخی سے عبدالجبار کو پکارا۔
’’عیشاء کی اماں… دیکھتے بھی ہیں۔‘‘ مسکراتے ہوئے جواب آیا تھا۔
’’اک بات کہوں گر سنتے ہو!
تم سخت جان سے لگتے ہو!
کچھ کام کرو مزدوری کا
گر خیال ہمارا رکھتے ہو
کچھ پیسے ہاتھ جو آجائیں
تب تم مزدوری مت کرنا
جب لیٹر وہ مل جائے گا
تو کرسی پر ہی تم رہنا
کچھ عید ہماری کردو ناں
گر اپنا ہم کو کہتے ہو!!
(شاعر سے معذرت کے ساتھ)
ان کا اچھا موڈ دیکھ کر میری رگ ظرافت پھڑک اٹھی تو میں نے ایک مشورہ دے ڈالا۔
’’خوب جناب۔‘‘ کورنش بجا لاتے ہوئے انہوں نے میری اس نظم کی تعریف کی۔
’’اچھا… لائٹ بند کرو… نیند آرہی ہے۔‘‘ میں نے اٹھ کر لائٹ آف کردی۔
Y…Y…Y
اس کے بعد کچھ سمجھ نہ آیا کہ ہماری مشکلات کیسے ختم ہوگئیں۔ سرور بھائی نے اپنے پیسوں کی دو اقساط کرلیں۔ عبدالجبار بھی کچھ دن مزدوری کا کام کرتے رہے‘ یوں سب اخراجات کا بندوبست ہوگیا اور گھر کے خرچ پر بھی کچھ اضافی بوجھ نہ پڑا اور ایک بکرا بھی آگیا۔
’’مما… میری چوڑیاں اور جوتے نہیں لائیں آپ۔‘‘ میں نے اپنی سلائی مشین کی صفائی کرکے اسے بکس میں رکھ دی۔ ابھی عیشاء کے فراک پر پیکو اور اوور لاک بھی کروانا تھی۔ تو عیشاء نے اپنی باقی چیزوں کی لسٹ بھی میرے سامنے رکھ دی۔
’’اور مما… بریسلیٹ… ہیئر بینڈ ابھی تو کچھ بھی نہیں لیا میں نے۔‘‘ وہ اپنی ایک ایک چیز گنوا رہی تھی۔
’’ارے بیٹا نو ٹینشن… ابھی مما اور آپ شاپنگ کے لیے جائیں گے ناں… تو سب کچھ لے لیں گے۔‘‘ لیکن بازار جانے سے پہلے مجھے ایک بے حد ضروری کام کرنا تھا۔ میں نے اپنی سلائی کے بارہ ہزار روپوں میں سے دو ہزار الگ کیے۔ مسجد کے چندے کے لیے‘ مسجد میں ایک خاص مقصد کے لیے چندہ جمع کیا جاتا تھا‘ عیدین کے کچھ روز قبل یہ پیسے ان لوگوں کے حوالے کیے جاتے تھے جن کے لیے عید کی خوشیاں خریدنے کی کوئی سبیل نہ ہوتی۔ یہ ایسی امداد تھی جسے لینے میں کوئی عار نہ محسوس کرتا تھا۔
اور میرا معمول تھا کہ اپنی کمائی میں سے کچھ پیسے میں ضرور مسجد میں بھیجا کرتی تھی۔ یہ صرف ایک معمول ہی نہیں بلکہ رب کا شکرانہ بھی ہے کیونکہ اس کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں‘ وہ ہماری ہر مشکل کوحل کرتا ہے‘ وہ ہمیں ہر مصیبت سے نکالتا ہے‘ تو ہمارا بھی فرض ہے کہ اس کے بندوں کی مشکلات کم کریں‘ نیکی کا یہ سلسلہ چلتے رہنا چاہیے۔
آج اگر ہم کسی کی مشکل آسان کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں گے تو کل ہمارا رب بھی ہمیں ہر مشکل سے نکالے گا۔ صدقہ صرف مصیبت آنے پر ہی نہیں بلکہ مصیبت آنے سے پہلے بھی دیا جانا چاہیے… آپ کا کیا خیال ہے؟

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close