Aanchal Nov-16

ہومیوکارنر

ڈاکٹر طلعت نظامی

رحم کا کینسر
بعض اوقات رحم کی عضلی ساخت و رگوں میں ورم ہوجاتا ہے اور اسی ورم حار کی صحیح تدابیر اختیار نہ کرنے کے نتیجے میں رحم میں ایک خاص قسم کا سخت ورم پیدا ہوجاتا ہے جس میں سختی کے باوجود شدت کا درد اور جلن ہوتی ہے۔
اس قسم کے ورم کے قرب و جوار کی رگیں بھی فاسد مواد سے بھر جاتی ہیں جس کی وجہ سے ورم کی مجموعی شکل کیکڑے کی شکل کے مشابہہ ہوجاتی ہے اس لیے اس ورم کو سرطان (کیکڑے) کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
کینسر کی کئی اقسام ہیں جو اپنی خاص نمودوں کے لحاظ سے عام قسم کی عضوی بیماریوں سے بالکل مختلف ہے۔ کینسر کی نمودوں کو ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
(۱) سخت گانٹھ کینسر
(۲) نرم گانٹھ کینسر
(۳) پلپلی گانٹھ کینسر
یہ ایک غیر طبعی پیدائش ہے جو کہ Epithelium کی تقسیم در تقسیم سے وجود میں آتی ہے یہ ایک قسم کا Epithelial Neoplasm ہوتا ہے۔ رحم کی (body) میں سرطان بہت کم دیکھنے میں آتا ہے‘ عام طور پر (Cervix) سرطان کی زد میں آتا ہے۔
یہ مرض اکثر رحم کی گردن (Cervix) سے شروع ہوتا ہے پھر اس کے اثرات رحم کے منہ کے اندر پہنچ کر آہستہ آہستہ رحم کے جسم اور پیندے دیواروں تک پہنچ جاتے ہیں اور مائوف کردیتے ہیں۔
کینسر کی یہ نشوونما صرف رحم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ دوسرے اعضاء مثانہ‘ مبرز کی نالی سے ہوتے ہوئے خصیۃ الرحم (Ovaries) میں جا پہنچتی ہے اور سب کے سب کو مائوف کردیتی ہے بعض اقات اس کی وجہ سے ان نالیوں میں ناسور بھی پیدا ہوجاتے ہیں جس سے مریضہ کی حالت نہایت بدتر ہوجاتی ہے اس قسم کی تکلیفات اس وقت تک بڑھتی رہتی ہے جب تک کہ ٹھیک ادویات سے ان تکلیفات کو روک نہ لیا جائے۔
بہنے والا کینسر
بعض اوقات کینسر کی نمودوں میں سیلان خون ہوتا ہے۔ زخم کے بہنے کی صورت میں رحم سے نہایت سخت‘ متعفن سبز‘ یانیلگوں یا زرد یا سیاہی مائل رطوبت خارج ہوتی ہے اور بے حد بدبو ہوتی ہے۔ گوشت گل گل کر سیاہ سڑے ہوئے ٹکڑوں کی صورت میں خارج ہوتا ہے۔ معمولی سی رگڑ سے زخم سے خون خارج ہوجاتا ہے جو بعض اوقات بہت زیادہ مقدار میں برآمد ہوتا ہے۔ سوئیوںکی سی چبھن جیسا درد ہوتا ہے‘ آخر میں اس قدر شدید درد متواتر لاحق رہتا ہے کہ مریضہ سخت بے چین ہوجاتی ہے نیند نہیں آتی۔ بھوک ختم ہوجاتی ہے‘ کھانا ہضم نہیں ہوتا‘ قے بار بار آتی ہے‘ شدت کی حالت میں مثانہ اور مقعد تک اثرات پہنچ جاتے ہیں۔ چہرہ زرد یا سیاہ ہوجاتا ہے‘ خون میں زہریلے اثرات پہنچ جانے کی وجہ سے بخار کی شکایت بھی ہوجاتی ہے۔
کینسر کی تولید بہت آہستہ آہستہ بھی ہوسکتی ہے‘ ممکن ہے اس میں سالوں لگ جائیں اور کچھ مدت تک یہ بالکل ایک گلٹی کی صورت بنی رہے بس میں افزائش ہی نہ ہو۔ یہ اندر ہی اندر نشوونما پاتی رہتی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ رحم کے کینسر میں تولید اور نشوونما کبھی نہیں رکتی بلکہ رحم کا کینسر بڑھتا ہی رہتا ہے۔
اس قسم کا ورم زیادہ تر رحم کے منہ سے شروع ہوکر نیچے کی طرف بڑھ کر اندام نہانی میں اور اوپر کی طرف بڑھ کر رحم کے اندرونی حصہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور ایک عرصہ تک اسی حالت پر قائم رہ کر پھر سے گلنے سڑنے کا عمل جاری کردیتا ہے۔ متعفن رطوبت جاری ہوجاتی ہے جو زخم کی قرب و جوار میں سرعت کے ساتھ فساد پیدا کرتی ہے اس قسم کی شکایت اکثر تیس سال کی عمر ہوجانے کے بعد ان عورتوں کو لاحق ہوتی ہے جن کے بچے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔
اگر کینسر پستان میں یا جسم کے کھلے حصہ میں ہو تو اس کی تشخیص فوراً ہوجاتی ہے اور علاج بھی آسان ہوجاتا ہے لیکن کینسر آلات تناسل زنانہ کے اندر ہوں تو ان کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے اور نتیجہ عموماً موت ہوتا ہے۔
رحم کے کینسر میں سب سے زیادہ اور تمام نمود والا (Scirrhus) کینسر ہے۔
زخم والا کینسر
(Uleerated Cancer)
یہ سب سے عام قسم ہے اور بہت تیزی سے ترقی یافتہ ہونے والا کینسر ہے‘ اس کا علاج بہت مشکل ہے‘ جب تک کہ پہلے مرحلوں میں ہی اس کی تشخیص نہ ہوجائے اور اس کا باقاعدہ علاج جب تک نہ ہو اس وقت تک یہ کینسر درست نہیں ہوتا۔
رحم کا سخت اور بے زخم والا کینسر
( Non Weenated Cancer)
یہ رحم کا سخت قسم کا کینسر ہے یہ رحم کے منہ کے قریب رحم کی گردن سے شروع ہوتا ہے بعض اوقات رحم کے جسم یا رحم میں بذات خود اس کی ابتدائی نمو دیکھی گئی ہے۔ کینسر بذات خود ورم یا ورمی تکلیف کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر طبیعت میں موجود ہوتا ہے اور جب اس طبعی اثر کو بیرونی اثرات سے تحریک ملتی ہے تو کینسر کی نمود ہوتی ہے اور جب یہ سختی والا کینسر ادھیڑ عمر کی عورت کو سن یاس کے زمانہ میں یا اس کے بعد حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی نشوونما آہستہ ہوتی ہے لیکن نوجوان عورتوں میں یکایک شروع ہوجاتا ہے اور اس کی تکالیف اور علامتیں سخت ترین ہوتی ہیں۔
رحم کے اندر کینسر کے گومڑ یا نمودیں جب بغیر کسی زخم کے ہوتی ہیں تو مریضہ کو کسی قسم کا احساس یا تکلیف نہیں ہوتی اس لیے اس کی موجودگی کا علم اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ یہ کافی حد تک بڑھ نہ جائے۔ مائوف جگر میں ورم‘ ورم میں سختی‘ درد کا نہ ہونا‘ سن یاس کے زمانہ میں اس سختی کا نمودار ہونا یہ کینسر کے آغاز کی علامت ہے۔
جن عورتوں کو ابھی حیض بند نہیں ہوئے ان کے اندر کینسر کی نشوونما اور تولید بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے اور اس وقت تک اس کا پتا نہیں چلتا جب تک کہ کینسر کافی حد تک بڑھ نہ جائے اور گردو نواحی کے حصوں کو مائوف نہ کردے۔ یہ ضروری ہے کہ مریضہ کی عام طبعی کیفیت اور علامات سے کینسر کی موجودگی کو سمجھا جائے۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close