Aanchal Nov-16

خوشیوں کا موسم

شبانہ شوکت

درسِ الفت دے رہے تھے پتھروں کے شہر میں
تھے مگر احساس اپنے کانچ کے‘ کمزور تھے
عشق کی کمبی مسافت اس لیے نہ طے ہوئی
سخت تھی منزل‘ ہمارے حوصلے کمزور تھے

صبغہ اور دائود یونیورسٹی جانے کے لیے تیار کھڑے تھے‘ ماں کو الوداع کرکے مڑے تو نازیہ پیچھے سے آیتہ الکرسی پڑھ کر پھونکتیں‘ ڈائننگ روم میں واپس آگئیں۔ مسعود آفس جانے کے لیے ابھی تک نہیں اٹھے تھے‘ نازیہ نے انہیں جگایا‘ وہ تیار ہوکر ناشتہ کرنے آبیٹھے‘ جلدی جلدی ناشتہ کرکے وہ بھی اٹھ گئے۔
’’اچھا نازیہ میں چلتا ہوں۔ دیر ہوگئی ہے۔‘‘ اپنا فون اور والٹ لیتے وہ باہر کی طرف بڑھے۔
’’لنچ بھجوائوں؟‘‘ وہ پیچھے آئیں۔
’’نہیں مجھے آج ایک دوست کی طرف جانا ہے تو وہیں لنچ بھی کروں گا… تم رہنے دو۔‘‘
’’چلیں ٹھیک ہے۔‘‘ وہ چلے گئے تو نازیہ دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئیں۔ آج مشین لگوانی تھی تو واش روم سے کپڑے لاکر مشین کے پاس ڈھیر کردیے۔ برتن سمیٹ کر سنک میں رکھے‘ اب جب تک ماسی اور اس کی بیٹی صفائی‘ برتنوں اور کپڑوں سے فارغ ہوتیں‘ نازیہ کھانا پکانے سے فارغ ہوجاتی تھیں۔ گنتی کے چار ہی تو افراد تھے ان کے گھر میں لیکن پسند سب کی الگ الگ تھی۔ سو وہ دو طرح کے کھانے ضرور پکاتی تھیں۔ جن سے یہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ جاتا تھا۔ مسعود کی ایک مشہور و معروف مارکیٹ میں تین دکانیں تھیں‘ جن میں سے ایک میں تو وہ خود الیکٹرک اپلائنسز کا کاروبار کررہے تھے‘ دو دکانیں کرائے پر دی ہوئی تھیں۔ جن کا کرایہ خاصہ اچھا آتا تھا۔ ہارون اور عبید جو ان کے کرائے دار تھے ان سے اتنے پرانے تعلقات ہوچکے تھے کہ وہ سب آپس میں فیملی فرینڈز بن گئے تھے۔ ہارون گورنمنٹ جاب کرتے اور یہ دکان لے رکھی تھی‘ اسی طرح عبید نے اس دکان کے ساتھ ایک کمپیوٹر سینٹر کھول رکھا تھا‘ ان تینوں کے بچے دائود‘ مامون اور شنید آپس میں نہ صرف کلاس فیلوز تھے بلکہ بہت گہرے دوست بھی تھے۔ آپس میں سب اتنے کلوز تھے کہ نیا آنے والا تو انہیں ایک ہی خاندان سے سمجھتا تھا۔
’’ایکسیوزمی یہ انگلش ڈپارٹمنٹ کس طرف ہے؟‘‘ گھبرائی ہوئی نسوانی آواز پر دائود ٹھٹک کر مڑا۔ گرین اور بلو کنٹراسٹ کے لباس میں وہ بلاشبہ ایک خوب صورت لڑکی تھی۔ بڑی خوب صورت سرمئی آنکھوں والی‘ اسے متوجہ دیکھ کر گھنی پلکیں تیز تیز جھپکانے لگی۔ دائود کا دل تو ان پلکوں میں ہی کہیں الجھ گیا تھا۔
’’آپ اکیلی ہیں؟‘‘ اس کا پوچھنے کا مطلب تھا کوئی دوست وغیرہ ساتھ نہیں ہے۔
’’بھائی ساتھ آئے تھے‘ اس طرف گئے ہیں پانچ منٹ کا کہہ کر ابھی تک نہیں آئے۔‘‘ اس نے مایوسی سے دائیں طرف اشارہ کیا۔
’’تو میں آپ کو لے تو چلوں ڈیپارٹمنٹ دکھانے کے لیے لیکن آپ کے بھائی آئے اور یہاں آپ کو نہ پاکر پریشان ہوجائیں گے۔‘‘
’’نہیں میں انہیں کال کرکے بتادوں گی۔ اب میں یہاں اور کتنی دیر کھڑی رہوں؟‘‘ اس نے یوں شکایتی انداز میں کہا جیسے سارا قصور ہی دائود کا ہو۔
’’چلیں آئیں۔‘‘ وہ اسے ساتھ لیے آگے بڑھا تو ایک دم سے شنید آگیا۔
’’یہ تو اس طرف کہاں جارہا ہے؟‘‘
’’ان محترمہ کو انگلش ڈیپارٹمنٹ دکھانے جارہا ہوں۔ نیو انٹری ہیں نا۔‘‘ اس نے آہستہ سے بتایا۔
’’اوہ… ویلفیئر…‘‘ اس نے شرارت سے آنکھیں گھمائیں۔
’’بس اللہ کی توفیق ہے۔‘‘ اس نے عاجزی سے سینے پر ہاتھ رکھا۔ شنید ہنستا ہوا ساتھ ہولیا۔
’’مامون کہاں ہے‘ ابھی تک دکھائی نہیں دیا؟‘‘
’’وہ آیا کب ہے؟‘‘ دائود نے جواباً سوال کیا۔
’’ہیں‘ میں تو سمجھا آچکا ہے۔ ٹھہر میں پوچھتا ہوں اس سے۔‘‘ شنید نے فون کان سے لگایا۔
’’کہاں ہے تو؟ ہاں وہ میرے ساتھ ہی ہے اور بڑی نیکی کے موڈ میں ہے‘ ایک بھولی بھٹکی سی محترمہ ہیں جو غالباً نیو انٹری ہیں ان کو انگلش ڈیپارٹمنٹ پہنچانے جارہا ہے۔‘‘ اس کی آواز مزید دھیمی ہوگئی۔ وہ تھوڑا ہٹ کر چل رہا تھا تاکہ فون پر کی گئی بات لڑکی کے کان میں نہ پڑے۔ دائود کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ کنکھیوں سے ساتھ چلتی لڑکی کو دیکھا‘ وہ سامنے دیکھتی ہوئی چل رہی تھی۔ یعنی متوجہ نہیں تھی۔
’’ہاں… ہاں آجا تو بھی‘ اوکے۔ ہم ویٹ کرتے ہیں۔‘‘ شنید ابھی تک بات کررہا تھا‘ پھر فون بند کرکے دائود کی طرف مڑا۔
’’کہہ رہا ہے میری بھی بہن آئی ہوئی ہے‘ انگلش ڈپارٹمنٹ ہی آنا ہے۔‘‘ وہ اس لڑکی کو ڈیپارٹمنٹ کے عین سامنے پہنچا کر واپسی کے لیے پلٹے تو سامنے سے مامون کو تقریباً بھاگتے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھ کر رک گئے۔
’’کیا ہوا؟ خیریت تو ہے ایسے…‘‘
’’حبہ…‘‘ اس نے شنید کی بات ان سنی کرکے اس لڑکی کو پکارا‘ وہ اندر جارہی تھی‘ اس کی آواز پر پلٹی‘ مامون کو دیکھ کر اس کی آنکھوں اور چہرے سے ناراضگی ظاہر ہوئی اور وہ پلٹ کر اندر چلی گئی۔ مامون نے دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر بائیں ہتھیلی پر دے مارا۔
’’کچھ بتانا پسند کرو گے کہ ہوا کیا ہے؟ تم کیسے ان محترمہ کو جانتے ہو؟‘‘
’’بہن ہے میری حبہ۔ اسی کو تو پہنچانا تھا انگلش ڈیپارٹ میں‘ صبح اسے لے کر آیا تو شایان نے بلا لیا بلڈ ٹیسٹ کے لیے۔ میں نے بھی سیمپل دے دیا۔ میری بھلکڑ عادت کا تو پتا ہے نا‘ حبہ کو وہاں ایک طرف کھڑا کرکے خود وہاں جاکر سب سے ہیلو ہائے کرنے میں بھول ہی گیا کہ اسے بھی ساتھ لایا ہوں‘ یہ تو تمہارے فون سے مجھے یاد آیا تو میں اسے ڈھونڈتا ہوا یہاں تک آگیا اور اسے دیکھو مارے غصے کے اکیلی ہی یہاں تک پہنچ گئی۔‘‘
’’خیر اکیلی تو نہیں‘ ہم دونوں ساتھ تھے‘ ہم انہی کو تو چھوڑنے کے لیے آئے تھے۔‘‘ دائود کی بات پر مامون کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’تت… تم… تمہیں کیسے پتا چلا کہ یہ میری بہن ہے؟‘‘
’’آج سے پہلے ہم کس کس کی بہن کو راہ دکھاتے رہے ہیں محترم خوش فہم صاحب‘ انہوں نے مجھ سے ریکویسٹ کی کہ انہیں یہاں تک پہنچادوں اور میں اور شنید دونوں انہیں ساتھ لے آئے۔‘‘
’’اوہ اچھا‘ وہ جو تم کہہ رہے تھے کہ نیکی کے موڈ میں…‘‘ بات اب اس کی عقل میں سمائی۔
’’چلو شکر ہے‘ بات سمجھ آگئی ورنہ تو کلاس نکل جانی تھی۔‘‘ شنید کے طنز پر اسے گھورا۔
’’زیادہ شوخی نہیں۔‘‘
’’مگر ہم نے تو صرف علشبہ آپی کو دیکھا ہے‘ یہ والی تمہاری بہن تو ہم نے نہیں دیکھی۔‘‘
’’یہ بچپن سے پھوپو کے پاس تھی‘ اب وہ کینیڈا شفٹ کر گئے تو ابو اسے ساتھ لے آئے۔ پھوپو تو بالکل بھیجنا نہیں چاہتی تھیں پر ابو نے کہا نہیں‘ اب بس۔‘‘
’’چلو اب اس نیکی کے صلے میں چائے ہی پلادو۔‘‘
’’حالانکہ بلڈ سیمپل میں دے کر آیا ہوں۔ تم دونوں کو چاہیے تھا کہ میری خاطر تواضع کرتے‘ کوئی جوس وغیرہ پلاتے‘ قسم سے ویک نیس فیل ہورہی ہے۔‘‘ اس نے ملامتی نگاہ ان پر ڈال کر چہرے کا زوایہ بدلا۔
’’بائی داوے یہ بلڈ سیمپل دیا ہے یا بلڈ بیگ۔ ویک نیس کس چیز کی ہوئی؟‘‘ شنید اپنا چہرہ اس کے قریب لاکر اس کا معائنہ کررہا تھا۔
’’ایک ہی بات ہے یار‘ میچ کرگیا تو بلڈ بیگ ہی لیں گے نا۔‘‘ وہ بیچارگی سے بولا تو پیچھے سے ایک دھپ دائود نے لگائی۔
’’جب دے گا تو جوس‘ چائے سب مل جائے گا۔ ابھی فی الحال تو ہم کو چائے پلا رہا ہے۔‘‘ اس نے ڈرامائی انداز میں آہ وبکا کے ساتھ چائے آرڈر کی۔
شنید کے بڑے بھائی جنید کی شادی تھی۔ ہوٹل میں بارات کی ارینجمنٹ کی گئی تھی۔ سب اکٹھے تھے۔ ہارون کی فیملی میں ان کی بیوی رابعہ بچے علشبہ‘ حبہ‘ مامون اور شمعون تھے۔ مسعود کے ساتھ نازیہ‘ دائود اور صبغہ تھے اور عبید اور علیزہ تو تھے ہی میزبان اور بچوں میں جنید جو دلہا بنا ہوا تھا‘ پھر شنید اور پریزے تھے۔ وہ سب تو آپس میں کافی فرینک تھے سوائے حبہ اور پریزے کے کیونکہ پریزے پہلے مری کانونٹ میں تھی اور اب مزید تعلیم کے لیے اپنی خالہ کے پاس لندن میں ہوتی تھی۔ بڑے اسٹائل سے بولتی سیدھی مامون کے دل میں اتر گئی تھی۔ وہ گھوم پھر کر اسی کے پاس آجا رہا تھا۔ دائود کے ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ مامون بیچارے کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ بعد میں اس کا کیسا ریکارڈ لگنے والا تھا۔
’’ہیلو…‘‘ اپنے بالکل قریب نسوانی آواز سن کر وہ چونکا۔ دیکھا تو وہ حبہ تھی۔ ریڈ اور اورینج کنٹراسٹ کے کامدار سوٹ میں ملبوس میچنگ جیولری اور میک اپ میں اتنی دلکش‘ اتنی خوب صورت کہ وہ مبہوت رہ گیا تھا۔ لمبی لمبی مسکارہ زدہ گھنی پلکیں جھپکائیں۔
’’میں آپ کو تھینکس کہنا چاہ رہی تھی اس دن کے لیے۔‘‘
’’کس دن…؟‘‘ دائود نے آنکھیں سکوڑیں۔
’’اس دن کے لیے جب آپ نے مجھے انگلش ڈیپارٹ تک پہنچایا تھا۔‘‘
’’وہ…‘‘ دائود کی آنکھیں اپنی جگہ واپس آگئیں۔
’’تو اتنے دن بعد بھی تھینکس کہنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ سٹپٹائی۔
’’مجھے آپ کہیں نظر ہی نہیں آئے۔‘‘
’’یہ تو بہت زیادتی کردی آپ نے۔ یعنی میں چھ فٹا بندہ آپ کو نظر ہی نہیں آیا۔ چلیں اب آئندہ سے میں آپ کو کم از کم یونیورسٹی میں تو روز نظر آئوں گا۔‘‘ اس کی آنکھیں شرارت سے جگر جگر کررہی تھیں۔ وہ البتہ حیران ہوئی۔
’’وہ کیسے؟‘‘
’’بھئی یونی تو ایک ہی ہے نا‘ ڈیپارٹمنٹ الگ ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ اب میں اپنی روٹین میں ایک چکر آپ کے ڈیپارٹمنٹ کا لگانا شامل کرلوں گا۔‘‘
’’سچ…!‘‘ وہ اتنی خوش ہوئی کہ دائود حیران ہوگیا۔
’’ویسے بائی داوے‘ میں اس دن اکیلا تو نہیں تھا شنید بھی تو تھا میرے ساتھ۔ تو تھینکس صرف میرے لیے کیوں؟‘‘
’’وہ تو خود ہی ساتھ چل پڑے تھے۔ کہا تو میں نے صرف آپ سے تھا۔‘‘ وہ اسے دیکھتے ہوئے بڑی معصومیت سے مسکرائی۔ ہونٹوں کا خوب صورت خم‘ گالوں میں پڑتے ڈمپل‘ دائود پر تو فسوں چھا گیا تھا گم صم سا اسے دیکھ رہا تھا۔ جب قریب ہی شنید کھنکارا۔ دائود چونک کر سنبھلا۔
’’کیسی ہیں آپ اور اسٹڈیز کیسی چل رہی ہیں؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں الحمدللہ اور اسٹڈیز بھی اے ون چل رہی ہیں۔‘‘ وہ بہت اعتماد سے مخاطب ہوئی۔
’’پہلے میں ہم دونوں کا تعارف آپ سے کروا دوں۔ میں شنید انصاری ہوں۔ ایم بی اے فائنل کا اسٹوڈنٹ اور یہ دائود کاظمی ہے‘ میرا ہی کلاس فیلو۔ بڑا اچھا‘ نیک اطوار بچہ ہے‘ اکلوتا ہے مگر اولاد نرینہ کے حوالے سے۔ ورنہ ایک بہن موجود ہے۔ وہ رہی سامنے پنک کپڑوں میں‘ بی ایس سی فائنل کی اسٹوڈنٹ ہے۔ جتنا بھی پڑھ لکھ لے گی۔ آخر تو سسرال ہی جائے گی اور پھر دائود کی بیوی ایکس وائے زیڈ کوئی بھی ہو وہ اکیلی پورے گھر پر راج کرے گی۔‘‘ شنید کی زبان میرٹھ کی قینچی کو کہیں پیچھے چھوڑے ایسی اسپیڈ سے رواں تھی کہ وہ دونوں تو منہ کھولے اسے صرف دیکھ رہے تھے۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا اس بکواس سے؟‘‘ دائود دبی دبی زبان میں غرایا۔ اس ڈھیٹ پر خاک اثر ہونا تھا۔
’’ویسے تو یہ اتنا پیارا اور اتنی خوبیوں کا مجموعہ ہے کہ جو اس کی بیوی بنے گی‘ اپنی قسمت پر ناز کرے گی…‘‘
’’کون… کس کی بیوی بنے گی؟‘‘ مامون اچانک ٹپکا۔
’’وہ… مم… میرا مطلب…‘‘ وہ ایک لمحے کو گڑبڑایا۔ مگر دوسرے ہی لمحے اس کا شیطانی چرخہ چل پڑا۔
’’میرا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جو ہم تینوں کی بیویاں بنیں گی‘ اپنی اپنی قسمت پر ناز کریں گی۔ کیونکہ ہم تینوں ہیں ہی اتنے ٹیلنٹڈ اور شاندار۔‘‘ وہ بات بدل کر اپنا کالر چھوکر اتنے فخر سے اترایا کہ حبہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ دائود آج اکیلا ہی آیا تھا۔ صبغہ نزلے‘ زکام اور بخار میں مبتلا ہونے کے سبب نہیں آئی تھی۔ وہ گاڑی سے باہر آیا تو سائیڈ سے حبہ کی آواز سن کر پھرتی سے پلٹا‘ وہ فولڈر سینے سے لگائے شولڈر پر ہینڈ بیگ لٹکائے اتنے اطمینان سے کھڑی تھی کہ دائود کو شک ہوا کہ وہ اسی کے انتظار میں وہاں موجود ہے۔
’’وعلیکم السلام! کیسی ہیں آپ اور یہاں کیوں کھڑی ہیں؟‘‘
’’کچھ کام تھا اور آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’فرسٹ کلاس‘ کیا کام ہے آپ کو بتائیں‘ میں کوئی مدد کرسکوں تو…‘‘
’’کام تو ہوگیا‘ اب جارہی ہوں۔‘‘
’’چلیں آئیں… چلتے ہیں۔‘‘
’’آپ کی بہن نہیں آئیں؟‘‘ اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘‘ اس کے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے پہنچ کر وہ رکا۔ ’’مامون آیا ہے نا؟‘‘
’’نہیں بھائی نہیں آئے‘ انہیں کسی کام سے پاپا کے ساتھ جانا تھا تو مجھے ڈراپ کرکے چلے گئے۔‘‘
’’اوہ اچھا… چلیں اب کلاس میں جائیں‘ میں بھی چلتا ہوں۔ پھر ملیں گے۔‘‘
’’کب؟‘‘ اتنی بے اختیاری سے پوچھے گئے سوال پر دائود بے ساختہ ٹھٹکا۔ بہت غور سے اس نے حبہ کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ دائود کو ایک پل لگا تھا سمجھنے میں کہ وہ جذبہ جس نے بڑے بڑے بہادروں کو منہ کے بل گرا دیا تھا۔ وہ اس چھوٹی سی لڑکی کو اپنی مضبوط گرفت میں یوں لے چکا ہے کہ وہ بے بسی سے بار بار اس کے راستے میں آتی ہے‘ وہ پارکنگ میں کس کام سے کھڑی تھی‘ یہ بھی سمجھ میں آگیا اور جنید بھائی کی شادی والے دن اس کے پاس آکر شکریہ ادا کرنے کا مطلب بھی‘ وہ بہت دل سے مسکرایا تھا۔
’’ایک بجے کیفے میں ملتے ہیں۔‘‘
’’شیور…‘‘ وہ بھی کھل کر مسکرائی۔
دائود کو تو لیکچر نوٹ کرنے میں‘ پروفیسر سے سوال جواب کے تبادلے میں یاد ہی نہ رہا کہ ایک بجے کا وعدہ بھی کیا ہے کسی سے ملنے کا‘ وہ تو ایک بجے انجان نمبر سے اس کے سیل پر کال آئی‘ اس نے اٹینڈ کرلی۔
’’ہیلو…‘‘
’’ہیلو۔ میں حبہ بات کررہی ہوں۔‘‘
’’اوہ آپ‘ یہ میرا نمبر آپ نے…؟‘‘
’’بھائی کے فون سے لیا تھا۔‘‘ وہ سمجھ گئی کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے۔ ایک دلفریب مسکراہٹ نے دائود کے ہونٹوں کا احاطہ کرلیا۔
’’تو آپ فری ہیں‘ کیفے چلیں۔‘‘
’’جی‘ میں یہی پوچھنا چاہ رہی تھی۔‘‘
’’بالکل چلیں۔ پوچھنے کی تو کوئی بات ہی نہیں۔‘‘ وہ سرشاری سے مسکراتا ہوا باہر آرہا تھا کہ پیچھے سے شنید نے گردن دبوچی لی۔
’’ہم سے چھپ چھپ کر یہ ڈرامہ بلکہ پوری فلم چل رہی ہے۔ فونوں پر باتیں‘ کیفے میں ملنا۔‘‘
’’شنید چھوڑ یار مجھے‘ کیا اول فول بک رہا ہے۔‘‘
’’ہاں یہاں اول فول اور وہاں پھول جھڑ رہے تھے۔ مسکرا مسکرا کر بانچھیں چری جارہی تھیں۔‘‘ وہ مزید خونخوار ہوا۔ دائود صحیح پھنساتھا۔
’’سوری یار‘ غلطی سے بول دیا‘ معاف کردے‘ اول فول تو میں بک رہا ہوں۔ تو تو فرما رہا ہے۔‘‘
’’شاباش… تیرے اعتراف نے تجھے بچالیا۔‘‘ بالآخر شنید نے اس کی گردن چھوڑی۔ دائود نے دائیں‘ بائیں سر ہلا کر گردن کو ریلیکس کیا۔دونوں ہاتھوں سے کالر صحیح کیے اور اسے دیکھا جو کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بڑے جارحانہ موڈ میں تھا۔
’’اب بتائو‘ کب سے چل رہا ہے یہ سلسلہ؟‘‘
’’کک… کون سا سلسلہ؟‘‘ وہ گڑبڑایا۔
’’پھر چکر۔‘‘ وہ بڑے خونخوار انداز میں آگے بڑھا۔ دائود نے جلدی سے مدافعانہ انداز میں دونوں ہاتھ اٹھالیے۔
’’پلیز… پلیز۔‘‘
’’یہ فون کے دوسری طرف حبہ ہارون تھی نا؟‘‘ اس کے اتنے درست اندازے پر دائود کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
’’تمہیں کیسے پتا چلا؟‘‘
’’موصوفہ کے اطوار بتاتے ہیں کہ وہ تمہارے عشق میں گرفتار ہوچکی ہے۔‘‘ دائود جھینپ گیا۔
’’بکواس نہیں کر‘ کسی پر تہمت لگانا…‘‘
’’بہت بری بات ہے اور مجھے بچپن سے پتا ہے لیکن میں سچی بات کررہا ہوں۔ جنید بھائی کی شادی میں وہ جس طرح تمہارے آگے پیچھے ہورہی تھی‘ میں تو اسی وقت سمجھ گیا کہ بچی گئی۔ اب نوبت فون پر بات کرنے اور کیفے میں ملنے ملانے تک بھی آگئی ہے تو اب کیفے اسی کے ساتھ جایا کرو گے۔‘‘
’’توبہ کرو یار‘ یہ تو بس آج…‘‘
’’ہاں آج مامون جو نہیں آیا۔‘‘ اس کے کھرے جواب نے دائود کی طبیعت صاف کردی۔
’’میں بھی ساتھ چلوں؟‘‘
’’نہیں یار‘ میں کیا محاذ پر جارہا ہوں جو کمک ساتھ لے کر جائوں۔‘‘ شنید کی منہ پھٹ عادت سے واقف دائود اس کی آفر پر بدک کر پیچھے ہوا۔ وہ کچھ دیر اسے گھورتا رہا پھر کچھ سوچ کر سر ہلایا۔
’’چل جا کیا یاد کرے گا۔‘‘ اس کے شاہانہ اجازت نامے کے ملتے ہی وہ وہاں سے رفو چکر ہوا۔ مبادا شنید ارادہ بدل کر ساتھ ہی نا چل پڑے۔
’’دائود‘ کیسے ہو بیٹا؟‘‘ وہ شنید کے ساتھ اس کے کمپوٹر سینٹر میں موجود تھا۔ جب ہارون کی کال آئی‘ وہ کچھ حیران ہوا۔
’’جی ٹھیک ہوں انکل۔‘‘
’’بیٹا ذرا تحمل اور حوصلے سے میری بات سننا۔‘‘ وہ رکے تو دائود کا دل بھی جیسے رکنے لگا۔ ’’مسعود کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ وہ ہاسپٹل میں ہے‘ تم بھی آجائو۔‘‘
’’ابو کا ایکسیڈنٹ…‘‘ وہ کھڑا ہوا۔ ’’کیسے ہوا اور ابو کیسے ہیں۔ زیادہ چوٹیں تو نہیں آئیں۔‘‘
’’بہت سیریس کنڈیشن ہے۔ تم جلدی سے آجائو۔‘‘ فون بند ہوگیا۔ دائود کے اردگرد جیسے دھماکے ہورہے تھے۔ ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تو اس نے کرسی کو پکڑ لیا۔ شنید تیزی سے اس کے پاس آیا۔
’’کیا ہوا دائود‘ خیر تو ہے؟‘‘
’’ابو کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ بہت مشکل سے بول پایا۔
’’اب کہاں ہیں وہ؟‘‘ دائود نے ہاسپٹل کا نام بتایا۔ ’’جلدی چلو آئو میں بھی چلتا ہوں۔‘‘ شنید اسے لیے گاڑی میں آبیٹھا۔ ہوا کی رفتار سے تیز گاڑی چلاتے ہوئے وہ منٹوں میں ہاسپٹل جا پہنچے۔ ہارون اور عبید دونوں وہاں موجود تھے۔ پریشان اور گھبرائے ہوئے۔ دائود کو گلے لگا کر تسلی دی۔
’’میں ابو کو دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ خوف واندیشوں نے اس کی آواز کو کپکپا دیا تھا۔ عبید نے اس کی پیٹھ تھپکی۔
’’بیٹا‘ ابھی وہ اندر ہیں آپریشن ہورہا ہے‘ زخموں کی سرجری کی جارہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے شنید کو اشارہ کیا۔ وہ اسے کندھوں سے تھام کر پیچھے رکھے صوفوں پر آبیٹھا۔ مامون بھی اتنے میں آپہنچا تھا۔ دونوں اسے تسلی‘ تشفی دے رہے تھے۔
’’ہم بھی دعا کررہے ہیں دائود تم بھی کرو۔ انکل ٹھیک ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔‘‘ ہارون نے مامون سے کہا کہ وہ رابعہ کو مسعود کے ہاں چھوڑ دے تاکہ نازیہ کو نہ صرف اطلاع دی جاسکے بلکہ حوصلے کے لیے بھی کسی کا ہونا ضروری تھا۔ ان کی اور صبغہ کی بے چینی اور بے قراری کا اندازہ دائود کے فون پر آتی ان کی کالوں سے ہورہا تھا۔ وہ کوئی فون ریسیو کرتا اور کوئی نہیں۔ ہر چند کہ ہارون اور عبید ہر صورت حال کے لیے تیار کھڑے تھے مگر پھر بھی جب ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ مسعود اتنی شدید چوٹوں سے جانبر نہیں ہو پائے تو دائود کو سنبھالنا ان کے لیے بہت مشکل ہوگیا تھا۔ وہ خبر سنتے ہی چیختا ہوا اندر بھاگا تھا۔ مامون اور شنید نے اسے کتنی مشکلوں سے قابو کیا۔ کس طرح اسے کائوچ پر بٹھایا۔ وہ مسلسل ابو نہیں، ابو نہیں کہہ کر رو رو کر ہلکان ہورہا تھا۔
’’دائود حوصلہ کرو۔ ہمت پکڑو یار۔‘‘ دونوں اسے جھٹکے دے دے کر حواسوں میں لانے کی کوشش کررہے تھے مگر وہ یونہی چیختا ہوا بے ہوش ہوگیا تھا۔ ہارون اور عبید ہاسپٹل کے ڈیوز وغیرہ نمٹا رہے تھے۔ عبید نے فون کرکے جنید کو اطلاع کردی تھی کہ وہ ماں کو لے کر مسعود کے گھر پہنچ جائے۔ پھر انہوں نے مسعود کے بھائیوں کو بھی فون کردیئے تھے۔ اتنی دیر میں مامون ڈاکٹر کو لے آیا تھا۔ جس نے دائود کو ٹریٹ منٹ دی تھی۔ جب میت لے کر وہ لوگ رات کے گیارہ بجے گھر پہنچے تو گھر محلے والوں اور رشتے داروں سے بھرا ہوا تھا۔ میت دیکھتے ہی کہرام مچ گیا۔ عورتوں کے رش میں سے کہیں سے نکل کر بری طرح روتی ہوئیں نازیہ آکر دائود سے لپٹ گئیں تھیں۔
’’یہ کیا… کیا تمہارے ابو نے دائود‘ یہ کیسا ظلم کر گئے ہمارے ساتھ‘ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘‘ ایک تو وہ جس طرح رو رہی تھیں وہی دائود کا کلیجہ شق کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس پر مستزاد ان کو اوڑھایا گیا سفید دوپٹہ (ہمارے معاشرے کے فضول رسوم ورواج میں سے ایک رسم کہ بیوہ ہوجانے والی عورت کی چوڑیاں توڑ کر اسے فوری طور پر سفید دوپٹہ اوڑھا دیا جائے۔ حالانکہ جس عورت کے سر کا سائبان ہر سکھ کا ساتھی‘ زندگی بھر کا ہم سفر یوں بیچ راستے میں چھوڑ کر چلا جائے تو سارے رنگ تو اس کے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ وہ تو خود ہی بے رنگ ہوجاتی ہے) دائود نے انہیں اپنے ساتھ لگا کر بھینچ لیا۔ دوسری طرف سے زور سے روتی ہوئی صبغہ آکر لپٹ گئی تھی۔ دائود جو ہاسپٹل میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا‘ یوں بلکتی ہوئی ماں اور بہن کے لیے ایک دم اتنا مضبوط ہوگیا کہ سارے آنسو اپنے اندر اتار لیے تھے۔
’’مجھے اب نہیں رونا‘ مجھے خود کو سنبھالنا ہے۔ ابو کی جگہ اب مجھے ہی ان دونوں کا سہارا بننا ہے۔ یااللہ مجھے ہمت دے‘ یااللہ مجھے حوصلہ دے… مگر جب انہیں غسل دے کر کفن پہنایا گیا اور میت کو آخری دیدار کے لیے گہوارے سمیت رکھا گیا تو اسے اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا۔ آنسو قطار کی صورت رخساروں پر بہہ رہے تھے اور پھر وہ دل شکن مرحلہ آیا جب مسعود کو قبر میں اتارا جانے لگا تو دائود وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑا۔
’’ابو…‘‘ وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگا۔ محمود چاچو اور انیس پھپا جو دائیں بائیں اسے اٹھانے آئے‘ ان کے بھی آنسو بہنے لگے تھے۔
’’دائود حوصلہ کرو بیٹا‘ کلمہ پڑھو‘ اس طرح تو تم انہیں تکلیف پہنچا رہے ہو۔ ہمت کرو میرابچہ اٹھو۔‘‘ وہ کلمہ پڑھتا اٹھ تو گیا مگر سسکتا‘ بلکتا سب کو رلا گیا تھا۔
دن گزرنے لگے۔ آہستہ آہستہ سارے رشتے دار واپس چلے گئے‘ گھر میں سناٹا چھا گیا تھا۔ نازیہ ہمت کرکے دائود کے پاس آئیں۔ وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر سامنے گملوں میں لگے پودوں پر نظر جمائے گم صم بیٹھا تھا۔ وہ بھی ساتھ بیٹھ گئیں۔
’’دائود‘ بیٹا اب تم یونیورسٹی جانا شروع کردو‘ آخری سمسٹر ہے تمہارا۔‘‘ اس نے گردن گھما کر انہیں دیکھا اور یونہی سر ہلا دیا۔ ’’اور اپنے ابو کی دکان بھی سنبھالو جاکر اتنے دن سے بند…‘‘ ان کی اپنی آواز بھی بند ہوگئی۔ اس نے ماں کا سر اپنے کندھے سے لگالیا۔
’’کل سے جائوں گا امی، آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’صبغہ ہر وقت روتی رہتی ہے۔ اسے سمجھائو اور یونیورسٹی جانے کے لیے بھی تیار کرو۔ میری تو نہیں سنتی۔‘‘
’’میں سمجھاتا ہوں امی‘ میں جاتا ہوں اس کے پاس۔‘‘ وہ نازیہ کو ساتھ لیے کچن میں چلا آیا۔ ’’آپ چائے پکائیں میں اسے لے کر آتا ہوں۔‘‘ وہ صبغہ کے کمرے میں آیا تو وہ سپارہ پڑھ رہی تھی اور آنسو گالوں پر رواں تھے۔
’اونہوں… یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے قرآن پاک پڑھنے کا۔ یہ تو سخت بے ادبی ہے۔ چلو منہ صاف کرو۔‘‘ اس نے ہلکا پھلکا انداز اپنایا۔ صبغہ کے آنسوئوں میں اور روانی آگئی۔ ’’تم فی الحال ایسا کرو‘ سپارہ بند کرکے یہاں میرے پاس آکر بیٹھو‘ بعد میں آرام سے پڑھ لینا۔‘‘ وہ چپ چاپ اس کے کہے پر عمل کرکے اس کے قریب آکر بیٹھ گئی۔
’’ابو کے جانے کا غم ہرگز ایسا نہیں کہ کچھ دنوں میں بھلا دیا جائے یا خودبخود بھول جائے۔ وہ ہمارے ابو تھے۔ پھر ایسی اچانک جدائی لیکن پھر بھی ہمیں خود کو سنبھالنا ہے۔ اپنی امی کے لیے ہمیں خود کو مضبوط بنانا ہے۔ ابو یاد تو ہمیشہ آتے رہیں گے۔ اب ہم انہیں اسی صورت خوش کرسکتے ہیں کہ وہ جو ہمیں بنانا چاہتے تھے وہ ہم بن کر دکھائیں۔ ہم حوصلہ کریں اور نارمل روٹین میں واپس آئیں گے تو ہی امی بھی نارمل ہوپائیں گی‘ ورنہ سوچو ان کی کیا کیفیت ہوگی۔ وہ اگر اپنا حوصلہ جمع کرتی بھی ہوں گی تو ہمیں دیکھ کر پھرسے بکھر جاتی ہوں گی۔ اس لیے ابو کو یاد کرو لیکن جذبات کو اعتدال میں رکھ کر۔ میں امی سے چائے کا کہہ کر آیا ہوں۔ وہ تیار کرچکی ہوں گی چل کر ساتھ پیتے ہیں اور معمول کی باتیں کرتے ہیں تاکہ زندگی کو نارمل روٹین میں لایا جاسکے۔‘‘ وہ اسے ساتھ لیے لائونج میں آیا جہاں نازیہ چائے سمیت ان کی منتظر تھیں۔
’’دائود‘ ہارون بھائی اور عبید سے کرایہ تو لے آتے‘ خود سے تو انہوں نے بھجوایا نہیں۔‘‘
’’خود سے کون بھجواتا ہے امی۔‘‘ دائود کے ہونٹوں پر افسردہ سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے دکان جارہا تھا اتنا مال تھا‘ کتنے دن ملازموں پر بھروسہ کیا جاتا۔ شام کو وہ ہارون کے پاس پہنچا۔
’’انکل میں ایکچولی اس لیے آیا ہوں…‘‘ وہ جھجکا۔ ’’رینٹ نہیں دیا آپ نے؟‘‘
’’رینٹ‘ کون سا رینٹ؟‘‘ وہ یوں چونکے جیسے اس نے پتا نہیں کتنی غیر متوقع بات کردی ہو‘ ان کے ردعمل نے تو دائود کو بھونچکا کردیا تھا۔
’’اس شاپ کا رینٹ انکل جو آپ ہر ماہ ابو کو دیتے تھے۔ وہ لینے آیا ہوں میں۔‘‘
’’تو تمہیں یہ علم ہی نہیں کہ مسعود بھائی نے یہ دکانیں بیچ دی ہیں۔ میں نے اور عبید بھائی نے یہ دونوں دکانیں ان سے خرید لی تھیں۔‘‘ دائود ایک دم اٹھا۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں انکل۔ ایسا کب ہوا؟ ہمیں کیوں نہیں پتا؟‘‘
’’اب میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ مسعود بھائی نے آپ لوگوں کو کیوں نہیں بتایا؟ ہوسکتا ہے پریشان نہ کرنا چاہتے ہوں۔ اصل میں پچھلے کچھ ماہ سے وہ بہت پریشان تھے۔ لوگوں نے ادھار لے کر پیسے نہیں دیئے تھے۔ ان کا مال بھی پھنس گیا تھا اور وہ جو بحریہ ٹائون میں بنگلہ بک کروایا تھا اس کی اقساط بھی دینی تھیں‘ کچھ اور مسائل بھی تھے تو وہ بہت پریشان تھے۔ انہوں نے یہ دکانیں بیچنے کا سوچا تو ہم دونوں سے مشورہ کیا کہ اگر ہم انٹرسٹڈ ہیں تو خرید لیں ورنہ وہ کسی اور سے رابطہ کریں۔ میں نے اور عبید بھائی نے ان سے بات کی‘ پیسوں کا انتظام کیا اور یہ دکانیں خرید لیں۔‘‘ انہوں نے تمام تفصیل سے آگاہ کیا۔
’’دونوں دکانیں بیچ دیں۔ ایسی بھی کیا ضرورت پڑگئی تھی آخر؟‘‘ دائود کے کانوں میں سائیں سائیں ہورہی تھی وہ کیسے مان لیتا جبکہ ابھی ڈھائی مہینے پیشتر اس کی فیس دیتے ہوئے مسعود نے مسکرا کر بتایا تھا کہ وہ ہارون اور عبید سے کرایہ لے کر آئے ہیں‘ ان کے پیسے ایک پارٹی کے پاس رکے ہوئے ہیں۔ وہ عبید انکل کے پاس آیا ان کے پاس بھی وہی کہانی تھی۔ وہ مائوف ہوتے دماغ کے ساتھ وہاں سے اٹھ آیا تھا۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے‘ چھوٹی چھوٹی بات پر مشورہ کرنے والے تمہارے ابو‘ اتنی مہنگی دکانیں بغیر کسی سے مشورہ کیے کیسے بیچ سکتے ہیں۔ میں یہ مان ہی نہیں سکتی۔‘‘ نازیہ تو سچ مچ چکرا گئی تھیں۔ دائود ماں کو سب بتا کر ایک طرف سر پکڑے بیٹھا تھا۔ ’’تم اپنے چاچو کو بلائو انہیں ساری بات بتائو… انہیں ساتھ لے جاکر ان دونوں سے بات کرو۔‘‘ نازیہ کے کہنے پر دائود نے محمود چاچو کو فون کرکے ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ وہ خود آئے۔ دائود کے ساتھ وہ ہارون اور عبید سے ملے اور ان سے دکان کی خرید وفروخت سے متعلق تمام کاغذات دکھانے کا کہا۔ انہوں نے نہ صرف مطلوبہ کاغذات دکھائے بلکہ گواہان کو بھی پیش کیا‘ جنہوں نے باقاعدہ گواہی دی کہ مسعود صاحب نے اپنی یہ دونوں دکانیں ہارون اور عبید کو فروخت کردی تھیں۔ اب اور کیا رہ گیا تھا کہنے کو وہ چپ چاپ وہاں سے چلے آئے تھے۔ دائود کا تو دل ہی نہیں مان رہا تھا کہ ہارون اور عبید کوئی بے ایمانی کر بھی سکتے ہیں۔ وہ جو مسعود کے ایکسیڈنٹ کے بعد ہاسپٹل میں اس کے ساتھ کھڑے تھے بلکہ تمام بھاگ دوڑ انہوں نے بھائیوں کی طرح ہی کی تھی۔ پر یہ صرف اس کی سوچ تھی دوسروں کی نہیں۔ محمود نے بہت پریشانی سے نازیہ سے پوچھا۔
’’بھابی آپ کو کیا لگتا ہے مسعود بھائی کو کوئی ایسی ضرورت آن پڑی ہوگی کہ دکانیں بیچنے کی نوبت آئی ہو یا انہوں نے کہیں اور پیسہ انویسٹ کیا ہو؟‘‘ نازیہ چونکہ عدت کی وجہ سے پردے میں تھیں‘ تو محمود دروازے کے باہر کھڑے تھے اور وہ اندر کمرے سے جواب بیٹے کو دے رہی تھیں جو ان تک پہنچا رہا تھا۔
’’نہیں… انہیں ہرگز ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی ایک ایک دکان پچاس‘ پچاس لاکھ کی ہے۔ انہیں ایک ساتھ اتنے پیسوں کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی۔ وہ دونوں بے ایمان ہوگئے ہیں اور دونوں جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘
’’اب ہم یہ کیسے ثابت کرسکتے ہیں‘ ان کے پاس مکمل کاغذات ہیں بلکہ گواہیاں بھی ہیں۔ اتنا بڑا اور مضبوط ثبوت کے ساتھ بولا گیا تو جھوٹ بھی سچ لگتا ہے۔ کیا پتا بھائی کو کوئی ایسی مجبوری درپیش ہوئی ہو کہ انہوں نے دکانیں بیچ ہی دی ہوں۔‘‘
’’وہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں بھی گھر آکر بتاتے تھے۔ اتنی بڑی بات نہ مجھے‘ نہ تم لوگوں کو کسی کو بھی بتائے بغیر کیسے کرسکتے تھے۔ میں نہیں مان سکتی۔‘‘ محمود بے بسی سے دائود کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
یہ بھی شکر تھا کہ اس کا آخری سمسٹر تھا۔ سو جیسے تیسے ایگزیم دے کر فارغ ہوا تو پور ادھیان الیکٹرونکس کی دکان پر لگایا کہ اب یہی آمدن کا واحد ذریعہ رہ گیا تھا۔ مامون‘ شنید اور دائود نے ایک ساتھ جاب کے لیے اپلائی کیا تھا مگر جاب صرف مامون کو مل پائی تھی۔ شنید‘ اپنے والد کے کمپیوٹر سینٹر کو ٹائم دینے لگا۔ دائود تو ویسے ہی اپنی دکان چلا رہا تھا۔ دکانوں کے موضوع پر تینوں کے درمیان کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایسے متنازعہ موضوع کو چھیڑتے ہی نہیں تھے۔ دن گزر رہے تھے کہ اس دن نازیہ نے سکوت میں پتھر پھینکا۔
’’دائود‘ تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔‘‘ اس نے منتظر نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’شمیلہ کا فون آیا تھا وہ شاویز کے لیے صبغہ کا رشتہ مانگ رہی ہے اور ادھر حاتم (نازیہ کا بھائی) بھی حازم کے لیے کہہ چکا ہے۔ میں تم سے مشورہ کرنا چاہتی ہوں کہ کون صبغہ کے لیے بہتر رہے گا؟‘‘
’’دونوں ہی بہت اچھے ہیں امی‘ پھر بھی آپ جو زیادہ مناسب سمجھیں۔‘‘
’’دیکھو بیٹا بہترین طریقہ تو استخارہ ہے اور وہ میں ضرور کروں گی ویسے میں اس لیے شاویز کو پسند کروں گی کیونکہ حازم تو میرے بھائی کا بیٹا ہے اور میرے بھائی مجھ سے اپنا تعلق کسی بھی طرح نبھائیں گے ضرور لیکن تمہاری پھوپو کا ہم سے شاید وہ تعلق نہ رہ پائے جو تمہارے ابو کی زندگی میں تھا‘ ہمیں تمہارے ابو کے حوالے سے اس رشتے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہیں خود سے جوڑے رکھنا ہے اور یہ نسبت اس سلسلے میں بہت اہم ثابت ہوگی۔‘‘ دائود نے بے اختیار تحسین بھری نظروں سے ماں کو دیکھا جو اپنے مرتبے سے کچھ اور اوپر جاکھڑی ہوئی تھیں۔
’’امی… اس سلسلے میں صبغہ کی رائے تو سب سے اہم ہے نا‘ آپ دونوں پروپوزلز اس کے سامنے رکھ کر اس کی رائے لیں۔‘‘
’’ہاں بالکل… وہ میں ضرور لوں گی۔ پھر وہ جو بھی کہے گی وہ تمہیں بھی بتادوں گی۔‘‘ اور صبغبہ نے سارا اختیار ماں کے حوالے کردیا تھا۔
’’جو آپ کی پسند امی… وہی میری بھی مرضی ہوگی۔‘‘ نازیہ نے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔
’’سدا خوش رہو‘ آمین۔‘‘ سب کی رضامندی سے یہ رشتہ طے پا گیا۔ شمیلہ نے شادی کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا تھا تاکہ مسعود کی برسی بھی گزر جائے۔ اس وقت دائود کو لگ رہا تھا چھ ماہ کافی ہیں‘ سب ہوجائے گا۔ مگر اب لگ رہا تھا کہ وقت تو بہت تیزی سے گزرتا جارہا ہے اور اس سے کچھ بچت نہیں ہو پارہی ہے بلکہ وہ تو اخراجات پورے کرنے کے لیے ہی ہلکان ہوا جارہا تھا۔
’’دائود… شمیلہ اب دن طے کرنے آنا چاہتی ہے۔‘‘ نازیہ نے اسے بتایا۔
’’اتنی جلدی؟‘‘ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
’’جلدی کہاں ہے بیٹا یہی طے ہوا تھا ناکہ چھ ماہ بعد شادی رکھ دی جائے گی‘ تو اب چھ ماہ ہوچکے ہیں۔‘‘ وہ پھیکا سا مسکرائیں۔
’’وہ تو ٹھیک ہے امی لیکن…؟‘‘ وہ رک گیا۔
’’لیکن کیا بیٹا‘ کھل کر بات کرو‘ میں ماں ہوں تمہاری‘ کوئی غیر تو نہیں۔‘‘
’’وہ امی شادی کے لیے تو بہت روپیہ چاہیے ہوگا نا؟‘‘
’’وہ تو ظاہر ہے… پر تم پریشان نہیں ہو‘ میں نے دو‘ دو لاکھ کی کمیٹیاں ڈالی ہوئی ہیں‘ زیور بھی کافی رکھا ہوا ہے میرے پاس۔ وہ دے کر نیا بنوالوں گی‘ ریفریجریٹر اور واشنگ مشین تمہاری دکان سے آجائیں گے۔ فرنیچر کے لیے صائم نے کہہ رکھا ہے وہ دے گا۔ باقی اخراجات کا بھی اللہ مالک ہے۔‘‘ وہ ہلکا سا مسکرائیں تو وہ بھی بہت کوشش سے مسکرادیا۔
اتوار کے دن شمیلہ پھوپو اپنے سسرالیوں کے ساتھ آئیں اور تاریخ طے کرکے چلی گئیں۔ شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں تو دائود کو اندازہ ہوا کہ پیسہ پانی کی طرح کیسے استعمال ہوتا ہے۔ نازیہ کے بقول تو بہت کم اخراجات ہونے تھے اور یہاں یہ صورت حال تھی کہ ان کا بازار کا ہر چکر تقریباً ساٹھ‘ ستر ہزار روپے کا پڑ رہا تھا۔ پیسوں کا انتظام کرنے میں ہلکان دائود دکان میں موجود بڑے بڑے اپلائسنز رعایت میں دے دے کر دکان تقریباً خالی کرچکا تھا۔ پر یہ موقع نہیں تھا کہ وہ کسی پر اپنی پریشانی ظاہر کرتا‘ سو چپ چاپ مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے سب فنکشن اٹینڈ کرتا رہا۔ اس پر کیا گزر رہی تھی‘ اس کی چاہنے والی ماں کو بھی یہ معلوم نہیں ہو پایا تھا۔ شادی ہوگئی‘ صبغہ رخصت ہوگئی‘ گھر میں صرف دو افراد رہ گئے تھے۔ دائود اور نازیہ۔ دن جو اتنی تیزی سے گزر رہے تھے‘ اب ایک دم سست روی کا شکار ہوگئے تھے۔ حالانکہ وہی چوبیس گھنٹے کا دن تھا جو اپنی مخصوص رفتار سے ہی گزرتا تھا… مگر یہ انسان کے اپنے احساسات ہیں جو اسے وقت کی تیزی اور سستی کا تعین کرواتے ہیں۔ سو اب یہی دائود کے ساتھ ہورہا تھا۔
اس دن وہ مامون کی طرف آیا تھا۔ مامون اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اپنے کمرے میں گیا تھا۔ وہ خاموشی سے صوفے کی بیک پر سر ٹکا کر چھت پر نظریں جمائے اپنی الجھنوں میں کھویا ہوا تھا کہ حبہ کی آواز پر چونکا‘ جو اسے سلام کررہی تھی۔
’’کیا بات ہے آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟‘‘ حبہ یہ سنتے ہی کہ دائود آیا ہے‘ چائے کی ٹرالی لیے آن پہنچی تھی۔ پر اب اس کا پریشان چہرہ دکھ کر خود اداس ہوگئی تھی۔
’’نہیں‘ پریشان تو نہیں ہوں‘ بس تھکن سی ہے۔‘‘ دائود نے ایک نظر اسے دیکھا۔ پنک شرٹ‘ وائٹ ٹرائوزر اور دوپٹے میں کتنی خوب صورت دکھائی دے رہی تھی کہ اسے نگاہ ہٹانے میں دشواری ہوئی۔
’’مجھے تو آپ پریشان ہی دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘ اس نے چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھائی‘ دائود نے خاموشی سے تھام لی۔ وہ بغور اسے دیکھ رہی تھی۔ ’’صبغہ تو ٹھیک ہے نا؟‘‘
’’ہاں‘ شکر ہے اللہ کا۔‘‘
’’کچھ ہی دنوں میں رمضان شروع ہونے والے ہیں تو صبغہ آجائے گی۔ ایکچولی شادی کے بعد پہلی بار رمضان آرہے ہیں نا تو وہ آئے گی رہنے کے لیے؟‘‘
’’پتا نہیں‘ مجھے تو کچھ علم نہیں۔‘‘ اس نے کندھے اچکا کر اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ اتنے میں مامون آگیا‘ پھر دونوں چائے پینے اور اپنی باتوں میں ایسے مصروف ہوئے کہ وہ تو وہاں ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ پہلے ہی وہ بڑی مشکل سے بات سے بات نکال رہی تھی۔ اب اس سے بھی گئی تو اٹھ کر باہر آگئی۔ کتنا مشکل ہوگیا تھا اسے دیکھنا‘ اس سے ملنا اور اس سے بات کرنا تو اور زیادہ مشکل‘ صبغہ کی شادی میں بھی کھویا کھویا‘ گم صم‘ اداس‘ اتنے لوگوں میں حبہ کے لیے بہت مشکل تھا اس سے ملنا… بات کرنا‘ پھر بھی وہ دو تین بار زبردستی اس کے سامنے جاکر اس سے مخاطب ہوئی تھی۔ وہ جواب میں اتنا کم بولا اور بہانے سے اس کے سامنے سے ہٹ گیا تھا کہ وہ کتنی ہی دیر خفت کا شکار رہی تھی پر دل کے ہاتھوں ایسی مجبور کہ… ابھی بھی وہ ڈرائی فروٹ کے بہانے دوبارہ ڈرائنگ روم کی طرف آئی تو باتوں کی آواز پر باہر ہی رک گئی۔
’’امی نے تو کہہ دیا ہے کہ صبغہ کی عیدی بھیجنی ہے۔ نہ صرف صبغہ بلکہ شاویز‘ پھوپو اور پھوپا جی سب کے لیے سوٹ بھیجنے ہیں۔ اب یہ کم از کم بھی کروں تو چالیس ہزار تک کا خرچہ ہے۔ دو‘ دو کمیٹیاں امی نے ڈال رکھی ہیں جو صبغہ کی شادی میں کام آگئیں۔ پر اب ان کے ماہانہ پیسے تو دینا ہیں نا۔ دس ہزار وہ دینے ہوتے ہیں‘ گھر بھی چلانا ہوتا ہے۔ میں کیا کروں‘ کیسے یہ سب مینیج کروں۔ مجھے تو لگتا ہے میں پاگل ہوجائوں گا۔‘‘
’’ریلیکس یار دائود‘ تو کیوں اتنی ٹینشن لے رہا ہے‘ میں کس مرض کی دوا ہوں‘ میرے پاس کم پیسے ہیں‘ تو چالیس چھوڑ پچاس ہزار لے لے‘ بس پریشان نہ ہو۔‘‘
’’کیوں لوں میں تجھ سے‘ میں نے اس لیے بات نہیں کی تجھ سے‘ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ امی کو سمجھنا چاہیے کہ یہ سب اسراف ہے۔ بلاوجہ کا فضول خرچہ‘ حالانکہ ہمارے دین میں ان فضول رسومات کا کوئی ذکر ہی نہیں‘ نہ اس سے معاشرے میں بلند مقام ملتا ہے‘ بس دوسروں کی دیکھا دیکھی بلاوجہ کے اخراجات کے بوجھ سے مرد کے لیے اذیت کا سامان تیار کردو‘ وہ وسائل کی فراہمی کے لیے‘ اپنی ضرورت سے زائد بوجھ اٹھا کر چاہے سولی چڑھ جائے۔ یہ رسومات ضرور پوری ہونی چاہئیں۔‘‘ وہ پھٹ پڑا تھا۔ اس کے لہجے کی ساری تلخی حبہ کو اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی۔ اسے اس کی خاموشی کا سبب پتا چل گیا تھا۔ وہ وہیں سے بوجھل دل کے ساتھ پلٹ گئی تھی۔
عبید کے ہاں ایک ساتھ دو خوش خبریاں آئی تھیں۔ ایک تو جنید کی بیٹی کی پیدائش اور دوسرے شنید کی جاب کا مل جانا۔ انہوں نے اس خوشی کو سیلبریٹ کرنے کے لیے چھوٹی سی تقریب منعقد کی تھی۔ سب ہی گئے تھے۔ ہارون کی بھی ساری فیملی تھی۔ واپسی پر رابعہ نے ہارون کو مخاطب کیا۔
’’یہ جنید کی بیٹی آپ کو ٹھیک لگ رہی تھی۔ میرا مطلب ہے نارمل؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ حیران ہوئے۔ ’’ٹھیک ہی تھی۔‘‘
’’بہت زیادہ رو رہی تھی۔ عموماً بچے اتنا تو نہیں روتے؟‘‘
’’مجھے تو کوئی اندازہ نہیں اس بارے میں۔‘‘ ہارون نے اپنی لاعلمی کا اعتراف کیا۔
’’ہوسکتا ہے کوئی تکلیف ہو۔‘‘ رابعہ نے قیاس آرائی کی۔ آج ان دونوں نے مامون کے لیے پریزے کے رشتے کی خواہش کا ذکر بھی کیا تھا۔ عبید اور علیزے نے اس پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ یعنی رشتہ طے تھا‘ بس رسمی باتیں ہونی تھی۔
’’دائود‘ پیسوں کا انتظام ہوا؟‘‘
’’جی امی‘ یہ لیں۔‘‘ اس نے رقم ان کے حوالے کی۔
’’اب میں بے فکر ہوکر شاپنگ کرلوں گی۔ تم اور میں جاکر بعد میں دے آئیںگے۔ آج اگر فارغ ہو تو لے چلو مجھے بازار۔‘‘
’’دیکھتا ہوں امی۔‘‘ وہ بجھے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ نازیہ نے بغور اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا۔
’’کیا بات ہے دائود… اتنے خاموش اور اداس کیوں ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں امی‘ ایسے ہی سست ہورہا ہوں۔‘‘
’’ایسے تو نہیں… یہاں آئو میرے پاس بلکہ میں ہی آجاتی ہوں۔‘‘ وہ اس کے اٹھنے سے پہلے اس کے پاس آبیٹھیں۔ ’’تمہیں کیا لگتا ہے مجھے تمہاری مشکلات کا کوئی علم نہیں‘ میں جان بوجھ کر تمہاری مشکلات بڑھاتی ہوں۔ تمہیں اور پریشان کرتی ہوں۔‘‘
’’کیسی باتیں کررہی ہیں امی۔‘‘ وہ شرمندہ ہوا۔
’’صحیح کہہ رہی ہوں بیٹا‘ کیا کروں۔ صبغہ کی شادی کے بعد پہلی عید ہے‘ کچھ اہتمام کرلیا جائے تو اور کچھ نہیں‘ اس کا سر فخر سے بلند ہوجائے گا۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے حوالے سے کچھ ایسے رسوم ورواج فروغ پاگئے ہیں جو سوائے ان کے والدین کی مشکلات بڑھانے کے‘ کوئی اچھائی نہیں کررہے‘ یہ عیدی دینے کی رسم بھی انہی کا حصہ ہے۔ میں نہیں چاہتی میری صبغہ کو‘ کوئی بات سننے کو ملے اور اسے اپنے ابو کی کمی محسوس ہو۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ میں تمہیں پریشان کردوں۔‘‘ آخر میں ان کا انداز خود کلامی کا سا ہوگیا۔
’’پلیز امی… ڈونٹ وری۔‘‘
’’تو پھر تم کیوں اتنے مرجھائے ہوئے ہو؟‘‘
’’بس یونہی‘ امی ایک بات پوچھوں‘ پھوپو تو ہماری اپنی ہیں نا‘ اگر ہم یہ سب نہ کریں تو کیا وہ بھی صبغہ کو طعنے دیں گی۔‘‘
’’شاید… ویسے میں ایسی نوبت آنے نہیں دینا چاہتی کہ اپنوں کو بھی آزمائش کی کسوٹی پر پرکھنا پڑے۔ یہ پہلی عید ہے صبغہ کی اپنے سسرال میں‘ یہ اچھی ہوجائے آگے کا اللہ مالک ہے۔‘‘ وہ پیسے رکھنے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ اسی اثناء میں کال بیل کی آوازآئی تو وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
نازیہ کمرے سے باہر آئیں تو شمیلہ‘ شاویز اور صبغہ کو لائونج میں کھڑے دیکھ کر اپنی جگہ پر جم سی گئیں۔
’’ارے کیا ہوا بھابی ہمیں دیکھ کر بہت حیرت ہوئی ہے کیا؟‘‘ شمیلہ آگے بڑھ کر ان سے لپٹ گئیں۔
’’تم لوگ اتنے اچانک‘ نہ اطلاع‘ نہ فون…‘‘
’’بس دل چاہا ملنے کو‘ اٹھ کر آگئے۔ کیوں کیا اجازت لے کر آنا چاہیے تھا؟‘‘ شمیلہ مصنوعی ناراضگی سے بولیں۔
’’اجازت کیوں‘ تمہارا اپنا گھر ہے جم جم آئو۔‘‘ سب سے مل کر تسلی سے بیٹھے تو شمیلہ نے صبغہ سے کہا۔
’’جائو… بھابی اور دائود کے گفٹس لے کر آئونا۔‘‘
’’ہیں… ہیں کیسے گفٹس… پاگل تو نہیں ہوگئی ہو۔‘‘
’’عید کے گفٹس اور کیسے گفٹس… رمضان شروع ہوگئے تو آیا نہیں جائے گا۔ اس لیے میں نے سوچا ہم پہلے ہی ہو آتے ہیں۔ پچھلے رمضان اور عید بھائی کی وجہ سے…‘‘ ان کی آواز بھیگ گئی۔ نازیہ کا دل تو پہلے ہی ہلکی سی ٹیس کا منتظر رہا کرتا تھا‘ ان کے آنسو بہنے لگے۔ صبغہ جو بیگ لے کر آچکی تھی۔ نازیہ سے لپٹ گئی۔ شاویز نے اٹھ کر ان دونوں کے سر تھپتھپائے اور انہیں الگ کیا۔ کافی دیر لگی تھی سب کو نارمل ہوتے ہوئے۔ شاویز نے خود بیگ کھول کر سامان نکال کر ٹیبل پر رکھا اور اس میں سے دائود کے لیے لائے گئے سوٹ‘ جوتے اور پرفیومز الگ کرکے اس کے حوالے کیے۔
’’تھینکس یار۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے گلے لگا۔ نازیہ کے لیے بھی کپڑے‘ جوتے اور پرس ودیگر سامان تھا۔
’’شمیلہ تم نے تو مجھے شرمندہ ہی کردیا… یہ سب تو میں لانے والی تھی تم سب کے لیے۔‘‘
’’ہرگز نہیں مامی‘ ماموں زندہ بھی ہوتے‘ میں تب بھی آپ کو یہ سب نہ کرنے دیتا۔ صبغہ اب میری ذمے داری ہے تو اس کی عید کی شاپنگ بھی تو میری ذمے داری ہے نا۔ میں اسے ساتھ لے کر جائوں گا اور جو کچھ اس کو پسند ہوگا وہ سب دلائوں گا اور سرپرائز یہ کہ ہم عید بھی یہاں آپ کے ساتھ کریں گے۔ محمود ماموں بھی یہیں آجائیں گے تو ہم سب مل کر عید کو انجوائے کریں گے۔ ان شاء اللہ۔‘‘
’’بہت خوشی سے آئو… سر آنکھوں پر… مگر یہ سب بہت زیادتی ہے۔‘‘ نازیہ نے سامان کی طرف اشارہ کیا۔
’’کوئی زیادتی نہیں۔ یہ تو میرے بھتیجے کا حق ہے۔ چھوٹی سی عمر میں اتنی بڑی ذمے داری اٹھانے سے اس کا حال تو دیکھیں کیا ہوگیا کتنا کمزور ہوگیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی پھول پورا کھلنے سے پہلے مرجھا جائے۔‘‘ انہوں نے دائود کا سر اپنے ساتھ لگا کر چوما۔ شاویز کھلکھلا کر ہنسا۔
’’اوئے ہوئے پھول… امی یہ لفظ تو لڑکیوںکے لیے استعمال ہوتا ہے‘ آئی تھنک۔‘‘
’’لڑکیوں نے کیا اس لفظ پر قبضہ کرلیا ہے۔ میرا بچہ کسی پھول کی طرح خوب صورت اور کھلا کھلا ہے‘ بس آج کچھ کملایا ہوا ہے پر میں مزید کملانے نہیں دوں گی۔‘‘ انہوں نے صرف کہا نہیں کرکے دکھایا تھا۔ تنہائی میں دائود کو پانچ لاکھ کا چیک دیا کہ وہ دکان میں سامان ڈلوائے۔ اس نے احتجاج کرنے کی بہت کوشش کی مگر انہوں نے روک دیا۔ ’’یہ پھوپو… بھتیجے کی آپس کی بات ہے۔‘‘
اس دن دائو‘ مامون سے ملنے گیا تو وہ پریشان دکھائی دیا۔ شمعون کے پیٹ میں پچھلے دنوں بہت تکلیف رہی تھی۔ دکھانے پر پتا چلا کہ پیٹ کے اندر گلٹی بن گئی ہے جو دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور درد بھی کررہی ہے۔ ڈاکٹر نے اس کے کچھ ٹیسٹ لیے تھے اور جب ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو ان کا پورا گھر ہل کر رہ گیا تھا۔ اسے High grade sarcoma (کینسر) تھا۔ ڈاکٹر نے انہیں فوراً oncologyst سے ملنے کی ہدایت کی تھی۔ داؤد کو شمعون کی بیماری کے متعلق تھوڑا بہت تو علم تھا مگر بات اس حد تک بگڑ چکی تھی یہ جان کر وہ بھی دکھی ہوا۔
oncologyst نے کچھ اور ٹیسٹ کروائے۔ ان کی رپورٹس آنے کے بعد اس کا علاج تجویز کیا گیا کہ پہلے ریڈیو تھراپی ہوگی تاکہ گومڑ کا سائز چھوٹا کیا جاسکے۔ پھر آپریشن سے اسے ریموو کرکے فوری کیمو تھراپی شروع کردی جائے گی سو دل کڑا کرکے یہ سخت ترین علاج شروع کروایا گیا۔ یہ سب مراحل اتنے اذیت ناک تھے کہ شمعون کا تو جو حال ہورہا تھا‘ اس سے بھی برا حال اس کی فیملی کا ہورہا تھا۔ وہ سب سے چھوٹا‘ سب کا لاڈلہ شمعون جسے گھر میں کبھی کسی نے جھڑکا تک نہ تھا۔ آج اتنے تکلیف دہ علاج سے گزر رہا تھا اور وہ سوائے اسے تکلیف میں دیکھ کر دعا کرنے کے کچھ اور نہیں کرسکتے تھے۔ علشبہ اپنے ڈاکٹر ہسبینڈ کے ساتھ ہاسپٹل میں ہی اس کے پاس رک گئی تھی مگر ظاہر ہے کب تک‘ پہلی کیمو تھراپی کے بعد وہ واپس چلی گئی تھی۔ فون پر البتہ مسلسل رابطے میں رہتی تھی۔ کیموتھراپی کے 16 گھنٹوں کے بعد الٹیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ساتھ ہی بہت تیز بخار بھی ہوگیا تھا۔ علشبہ نے مامون کو سب سمجھایا تھا کہ کیا کیا سائیڈ اور آفٹر Effects ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اس نے پہلے ہی ممی‘ پاپا اور حبہ کو بہلا پھسلا کر گھر بھجوادیا تھا۔ دائود اور شنید بھی آگئے تھے اور ساری رات ان کے ساتھ ہی رہے تھے۔ مامون نے آفس سے چھٹی کرلی تھی اور شمعون کے پاس دو دن ہاسپٹل میں ہی رکا رہا تھا۔ تیسرے دن اسے اگلی کیموتھراپی کے لیے ریلیز کردیا گیا تھا۔ دوسری کیمو تھراپی کے بعد شمعون کے سارے بال اتر گئے تھے اور وہ خود بھی بہت کمزور ہوگیا تھا۔ تیسری کیموتھراپی کے بعد اس کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی اور ڈاکٹر نے آٹھ کیمو ریکمنڈ کی تھیں۔ چوتھی کیموتھراپی کے لیے تو اس کی حالت ہی گوارا نہیں تھی۔ علشبہ بھی آگئی تھی اور شمعون کے ڈاکٹر سے مل کر تو اس کی اپنی حالت خراب ہوگئی تھی۔ پھر وہی ہوا جس کے خوف سے علشبہ کی حالت غیر ہوئی تھی۔ وہ چوتھی کیموتھراپی کے سائیڈ ایفیکٹس برداشت نہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ صدمے اور غم کی شدت سے ہارون‘ حبہ اور علشبہ کی جو حالت تھی سو تھی پر رابعہ کا برا حال تھا۔ کتنے دن سے ایک خوف اپنے شکنجے میں لیے ہوئے تھا اور وہ سچ ہوکر سامنے آگیا تھا۔ ہائے ان کا لاڈلہ‘ ان کا چھوٹا سا شمعون‘ جسے اولیولز بھی مکمل کرنا نصیب نہ ہوا۔ بس ایک مامون تھا جو پتا نہیں کیسے خود پر قابو پائے ہوئے سب سے بہتر کنڈیشن میں نظر آتا ورنہ وہ تو ہر وقت بھائی کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کی ہر تکلیف اس نے دیکھی تھی۔ پھر بھی اس کا اتنا حوصلہ دکھانا قابل داد تھا۔ دائود اور شنید ہر لمحہ‘ ہر آن اس کے ساتھ تھے‘ اسے تسلی دیتے‘ اس کا حوصلہ بڑھاتے مگر اندر سے وہ کتنا ڈسٹرب تھا اس کے اعصاب اتنے منتشر تھے کہ شمعون کے انتقال کے آٹھویں دن اس کا بہت شدید ایکسیڈنٹ ہوا۔ اتنا شدید کہ جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ ہارون تو شمعون کا غم بھول کر زندہ بیٹے کی سلامتی کی خیر مانگنے لگے۔ مامون کی ایک ٹانگ اور ایک بازو بہت گھائل ہوئے تھے۔ انتہائی دکھ کے دنوں میں یہ ایسی پریشانی آپڑی تھی کہ حقیقت میں شمعون کا دکھ ہلکا ہوگیا تھا۔ پھر وہ ٹھیک تو ہوگیا مگر اس کی ٹانگ میں فرق آگیا تھا۔ وہ بہت خاموش ہوگیا تھا۔ دائود اور شنید آتے‘ اس سے گپ شپ لگا کر اس کا موڈ بدلنے کی بہت کوشش کرتے مگر اس کی چپ نہیں ٹوٹتی تھی۔ اس وقت بھی خاموشی سے آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا کہ فون کی بیل ہونے لگی۔ اس نے بے دلی سے فون اٹھایا۔ دائود کا نام بلنک ہورہا تھا۔
’’ہاں دائود۔‘‘
’’یار مامون غضب ہوگیا‘ شنید کو کسی نے اغوا کرلیا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ چلایا۔ ’’کیا کہہ رہا ہے تو؟‘‘
’’ہاں صحیح کہہ رہا ہوں‘ تو انکل سے پوچھ لے۔ وہ تو کل سے ہی غائب ہے۔ سب ہی تلاش کررہے تھے کہ آج انکل عبید کے پاس اغوا کنندگان کا فون آیا ہے۔ وہ ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘‘
’’ایک کروڑ؟‘‘ مامون کی تو آواز ہی گلے میں پھنس گئی۔
’’مجھے جنید بھائی نے بتایا، میں ابھی وہیں جارہا ہوں تو بھی دعا کر شنید خیریت سے گھر آجائے۔‘‘
’’اللہ رحم کرے۔‘‘ مامون نے فون ڈھیلے ہاتھوں سے اپنے برابر رکھا اور خود اپنے دوست کے لیے محو دعا ہوگیا۔
اپنے رحیم پروردگار سے اس کی زندگی کی بھیک مانگنے لگا۔
’’ایک کروڑ روپے؟‘‘ عبید کو تو ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ جنید الگ پتھرایا سا کھڑا تھا۔ ہارون اتنے میں آن پہنچے تھے۔
’’عبید تم سے کچھ کہنا ہے مجھے۔‘‘
’’ہاں کہو؟‘‘
’’دیکھو اب تو میرے پاس بھی اتنی رقم نہیں ہے کہ میں تمہاری مناسب مدد کرسکوں پھر بھی جو ہیں وہ لے آیا ہوں۔‘‘
’’مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ تم خود کتنی پریشانی سے گزرے ہو۔‘‘ عبید نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
’’اب یہی ہوسکتا ہے کہ تم اپنی دکان بیچ دو، میرے سالے کو اچھی جگہ دکان کی ضرورت ہے۔ وہ فوراً خرید لے گا۔ باقی رقم کا بھی ان شاء اللہ کچھ نہ کچھ ہوہی جائے گا۔ اپنے بچے کی زندگی سے زیادہ اہم تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
عبید نے دکھ سے جلتی سانس سینے سے خارج کی اور اثبات میں سر ہلایا۔ دکان بکی‘ زیور بکے تو بالآخر اسی لاکھ جمع ہوئے۔ ان میں بھی دس لاکھ ہارون نے اور پانچ لاکھ دائود نے دیئے تھے۔ صد شکر کہ اغوا کنندگان کو کچھ رحم آہی گیا کہ وہ اسی لاکھ پر ہی مان گئے اور شنید بخیریت گھر آگیا۔ پر ایک بدلے ہوئے شنید کے روپ میں جو ہنسنا‘ بولنا بھول ہی گیا تھا۔
مامون نے ٹانگ کے نقص کی وجہ سے پریزے سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہر چند کہ سب نے ہی اس کو سمجھایا مگر وہ اپنی ضد سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ پریزے اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان آچکی تھی اور ہارون، مامون اور حبہ کے فرائض سے فارغ ہوجانا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ حبہ کے لیے کسی رشتے پر غور کرتے‘ مامون نے یہ نیا شوشہ چھوڑ کر معاملے کو مزید گھمبیر کردیا تھا۔
دائود کو بہت اچھی جاب مل گئی تھی اور وہ بہت خوش تھا۔ اس نے نازیہ سے حبہ کے لیے بات کی‘ وہ کچھ کچھ معاملہ سمجھ چکی تھیں‘ سو فوراً راضی ہوگئیں۔ انہوں نے شمیلہ اور محمود کی بیوی عرشیہ کو بلایا اور انہیں لے کر ہارون کے ہاں گئیں تو وہاں جاکر پتا چلا کہ ہارون کا پرانا وفادار ملازم‘ ان کا نہ صرف کیش بلکہ دکان کی بڑی بڑی قیمتی چیزیں لے کر کہیں فرار ہوگیا تھا اور اتنے نقصان پر ہارون کو ہارٹ اٹیک ہوگیا تھا۔ مامون اور رابعہ انہیں ہاسپٹل لے کر گئے ہوئے تھے اور گھر میں صرف حبہ ہی تھی۔ اس سے کیا بات کی جاتی۔ سو وہ دوبارہ آنے کا کہہ کر چلی آئیں۔ بہرحال شمیلہ اور عرشیہ کو حبہ بہت پسند آئی تھی۔
’’اب کیسی طبیعت ہے آپ کی انکل؟‘‘ دائود نے ہارون سے ہاتھ ملایا اور پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ ہارون کی طبیعت پوچھنے کے لیے آیا تھا۔ وہاں عبید اور پریزے بھی موجود تھے۔ دائود خوشدلی سے ان سے بھی ملا۔
ہارون اور عبید نے اسے نوکری مل جانے کی مبارک باد دی اور اس سے ملازمت سے متعلق تفصیلات پوچھنے لگے۔ اس دوران حبہ چائے لے آئی تھی۔ دائود نے چور نظروں سے اسے دیکھا وہ بہت تھکی ہوئی‘ کمزور اور نڈھال دکھائی دے رہی تھی۔ دائود کے دل کو کچھ ہوا‘ اسی لمحے مامون اندر آیا تھا۔ دائود سے مل کر وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ دائود نے نوٹ کیا وہ پریزے سے دانستہ نظریں چرا رہا تھا۔ بالآخر اٹھ گیا۔
’’آئو میرے کمرے میں چلتے ہیں۔‘‘ اور ابھی دونوں ٹھیک سے بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
’’کون… آجائو۔‘‘ مامون نے زور سے کہا۔
دروازہ کھلا اور پریزے اندر داخل ہوئی۔ غیر متوقع طور پر اسے دیکھ کر مامون کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔
’’کیوں بہت حیرت ہوئی ہے مجھے دیکھ کر… کیا مجھے نہیں آنا چاہیے تھا؟‘‘ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں مامون کے قریب آکر اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔ مامون نے بے ساختہ نظریں چرائیں۔
’’نہیں مجھے کیوں حیرت ہوگی؟ آئو بیٹھو۔‘‘
’’میں یہاں بیٹھنے نہیں‘ کچھ باتیں کرنے آئی ہوں۔ کچھ غلط ہوا ہے‘ اسے کلیئر کرنے…‘‘
’’میں چلتا ہوں‘ پھر آئوں گا۔‘‘ دائود کو مناسب نہیں لگا کہ وہ ان کی ذاتی باتوں میں تیسرا فریق بن کر بیٹھا رہے تو وہ اٹھ گیا۔ مامون نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھا دیا۔
’’ایسا کچھ نہیں جو تجھ سے چھپا ہوا ہے۔ بیٹھ چپ کرکے… جی؟‘‘ وہ پریزے کی طرف مڑا جو ابھی تک کھڑی تھی۔ دائود نے ہاتھ سے کائوچ کی طرف اشارہ کیا۔
’’پلیز آپ بیٹھ جائیں پھر آرام سے بات کریں۔‘‘
’’نہیں آرام تو اب میری زندگی میں کہیں رہا ہی نہیں۔ آپ کے دوست نے یہ لفظ میری زندگی سے خارج کردیا ہے۔‘‘ اس نے ہاتھ سے مامون کی طرف اشارہ کیا۔ ’’پہلے زبردستی میرے آگے پیچھے پھر پھر کر‘ اپنی طرف متوجہ کرکے‘ اپنی محبت میں مبتلا کیا اور پھر اتنے آرام سے انکار کردیا۔ جیسے کہیں کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔‘‘ اس کی آواز میں لرزش اتر آئی۔ ’’کتنا آسان ہے مردوں کے لیے کسی لڑکی سے محبت کرنا پھر اسے چھوڑ دینا لیکن ہم عورتوں کے لیے یہ موت ہے۔ ساری زندگی کا روگ بن جاتی ہے یہ محبت‘ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ محبت مرد کی زندگی کا ایک حصہ ہوتی ہے اور عورت کی پوری زندگی۔‘‘ لرزش اس کی آواز سے اس کے وجود میں منتقل ہوگئی تھی۔ دائود دم بخود تھا اور مامون‘ وہ بے ساختہ آگے بڑھ کر پریزے کے پاس کھڑا ہوا۔
’’یہ محبت ہی تھی جس نے یہ انکار کروایا ہے… جب تک میں ٹھیک تھا اپنی پوری توجہ اور محبت تمہیں دیتا رہا لیکن اب میں مکمل نہیں رہا‘ لنگڑا ہوگیا ہوں۔ ایک لنگڑے کے ساتھ چلنے میں تم شرم محسوس نہیں کروگی۔‘‘
’’نہیں… کبھی نہیں۔‘‘ وہ چیخ اٹھی۔
’’دیکھو… ایموشنل مت بنو۔‘‘
’’بنوں گی نہیں‘ میں ہوں اموشنل اور میں اموشنل ہی رہنا چاہتی ہوں۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر تمہاری ٹانگ میں کوئی فرق آیا بھی ہے تو… اگر دل میں فرق آتا تو میں کبھی چل کر تمہارے پاس نہ آتی۔ دل میں‘ جذبات میں فرق نہیں آنا چاہیے۔ جسمانی کمی بیشی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی۔ مامون کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا۔ پھر ہلکا سا مسکرایا۔ ’’تمہیں تو وکیل ہونا چاہیے تھا۔ بہت اچھا آرگومنٹ کرتی ہو۔‘‘
’’ہاں مگر اپنے لیے صرف دوسروں کے لیے بولنا مجھے نہیں آتا۔‘‘
’’دوسروں کو فی الحال تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنے لیے خود بول سکتے ہیں۔‘‘ مامون نے اسے چڑایا اور وہ جو بہت سنجیدہ کھڑی تھی‘ سچ مچ چڑگئی۔
’’تو بولتے کیوں نہیں؟‘‘
’’دائود کے سامنے ہی بول دوں۔‘‘ وہ اتنی معصومیت اور بیچارگی سے بولا کہ دائود کو ہنسی چھپانے کے لیے تیزی سے اٹھ کر باہر آنا پڑا۔ بس اڑتی ہوئی نظر پریزے پر پڑی تھی‘ جس کا چہرہ مامون کی بات پر قندھاری انار کی طرح سرخ ہوگیا تھا۔ وہ اجازت لینے کے لیے ہارون کے پاس آیا جہاں حبہ بیٹھی انہیں دوائیں کھلا رہی تھی۔ اس نے حیرت سے دائود کے مسکراتے چہرے کو دیکھا۔ وہ باہر اپنی گاڑی کے پاس آیا ہی تھا کہ حبہ‘ مامون اور پریزے کو اپنی طرف آتا دیکھ کر رک گیا۔
’’کیوں اتنی جلدی جارہا ہے؟‘‘
’’بس چلوں‘ امی نے گروسری کا سامان لینا ہے‘ تو انہیں لے کر جائوں گا۔ ان کا فون بھی آچکا ہے۔‘‘
’’ہم تو تم سے ٹریٹ لینے کے لیے آئے ہیں۔‘‘
’’چلو ڈن ہے۔ تم لوگ دن اور ٹائم طے کرکے مجھے بتادو۔‘‘
’’اوکے‘ پھر میں تجھے فون پر بتادوں گا۔‘‘
’’اوکے اللہ حافظ۔‘‘
’’بائی داوے مسٹر مامون‘ یہ پریزے کے صرف ایک بار کہہ دینے سے تمہارا انکار‘ اقرار میں بدل گیا تو اتنا کمزور سا انکار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ جس کے لیے خود کا دل بھی راضی نہیں تھا۔‘‘ اس وقت دائود اور مامون بڑی فرصت میں بیٹھے تھے۔ جب باتوں باتوں میں دائود نے مامون کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مامون بے اختیار کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’دل تو واقعی راضی نہیں تھا مگر میں پریزے کو یہ گلٹ نہیں دینا چاہتا تھا کہ اس کا شوہر لنگڑا کر چلتا ہے۔ میں نے سختی سے ہی انکار کیا تھا اور اس پر قائم بھی تھا پر اس کے ایک جملے نے مجھے جیسے باندھ سا دیا۔‘‘
’’ایک جملے نے‘ کون سے جملے نے؟‘‘ دائود نے یاد کرنے کی کوشش کی۔
’’یہ کہ محبت مرد کی زندگی کا صرف ایک حصہ ہوتی ہے اور عورت کی پوری زندگی بن جاتی ہے۔ اس ایک جملے نے وہ سحر طاری کیا کہ میں مزید اپنی بات پر قائم ہی نہیں رہ پایا۔ ایک تو اس کی محبت کی شدت‘ جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ دوسرے میں اسے بتانا چاہتا ہوں کہ مرد بھی عورت سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اسے اپنی زندگی سمجھ لیتا ہے‘ میں نے تو انکار بھی اس کی محبت میں ہی کیا تھا‘ اسے دکھ سے بچانے کے لیے لیکن جب وہ خود دل سے آمادہ ہے تو میں خود کو محروم کیوں رکھوں‘ تو بس میں بھی مان گیا۔‘‘
’’بہت بہترین فیصلہ ہے تمہارا۔ ورنہ دوسری صورت میں تم بھی دکھی رہتے اور وہ بھی۔‘‘ دائود نے خلوص سے مامون کا ہاتھ دبایا۔ مامون سرشاری سے مسکرایا۔ اتنے دکھوں کے بعد ملنے والی خوشی کی قدر کوئی اس سے پوچھتا۔
’’مجھے تم سے کچھ اور بھی کہنا ہے۔‘‘ دائود نے کچھ دیر بعد مامون کو مخاطب کیا تو اس کے لہجے میں جھجک محسوس کرکے وہ چونکا۔
’’ہاں کہونا کیا کہنا ہے؟‘‘
’’امی تمہارے گھر آنا چاہ رہی ہیں۔‘‘
’’ہیں یہ کہنا تھا تو نے؟‘‘ مامون ہکابکا رہ گیا۔
’’نہیں یار میر امطلب ہے میرے لیے… میرے اور حبہ کے پروپوزل کے لیے دراصل وہ اس دن بھی اسی لیے آئی تھیں لیکن انکل ہاسپٹلائزڈ تھے تو واپس چلی گئیں۔‘‘ اس نے جھجک کر بات کی تو مامون کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’یار دائود تو نے تو لڑکیوں کو بھی مات کردیا۔ حد ہوگئی یار‘ میرے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی کیا بات ہوگی کہ میرا بہترین دوست‘ میرا بہنوئی بنے۔ تو بھیج آنٹی کو‘ پھر بات کریں گے۔‘‘ وہ کوئی بے وقوف تو نہیں تھا کہ ان دونوں کے ڈھکے چھپے جذبات کو جان نہ پاتا اور دائود جیسا ہیرا لڑکا جس کو وقت نے آزمائش کی بھٹی میں تپا کر تراش کر مزید چمکا دیا تھا‘ مامون بہت خوش تھا۔
جنید بھائی کی پہلی بیٹی ایب نارمل ہی تھی اور اب ایک اور بیٹی پیدا ہوئی‘ وہ ایب نارمل تو نہیں تھی مگر اس کا چہرہ ایک طرف سے جلے ہوئے چہرے کی طرح تھا۔ آدھا ہونٹ‘ ناک اور پیشانی۔ اسی سائیڈ کی آنکھ بھی ترچھی تھی۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسی آنکھ کی بینائی بھی بہت کم ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ بینائی مکمل ختم بھی ہوسکتی ہے۔ جنید دکھ سے ساکت ہوگیا تھا اور اس کی بیوی انشراح‘ وہ تو رو رو کر نڈھال ہوگئی تھی۔ دو دو بیٹیاں‘ دو دو آزمائشیں‘ وہ کیسے پوری اترے گی ان آزمائشوں پر۔
’’یااللہ… یہ کیا ہورہا ہے ہمارے ساتھ؟‘‘ عبید نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’آپ کو ابھی بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ ہمارے ساتھ یہ سب کیا اور کیوں ہورہا ہے؟‘‘ شنید نے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔ عبید نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’کیا کہنا چاہتے ہو کھل کر کہو؟‘‘
’’یہ پے درپے مشکلات‘ یہ نئی سے نئی آزمائش کیوں ایک کے بعد ایک چلی آرہی ہیں اور صرف ہم پر یا ہارون انکل کی فیملی پر… داؤد کے ساتھ کیوں کچھ نہیں ہورہا؟‘‘ شنید کے لہجے میں ٹوٹے ہوئے کانچ کی کرچیاں تھیں۔ عبید اور ہارون نے چونک کر اسے دیکھا اور مامون نے ہونٹ بھینچے۔ ’’کبھی تنہائی میں یا ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر بھی آپ دونوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟ ابتدا کہاں سے ہوئی۔ کسی یتیم کا مال ہڑپ کرنا اتنا بھی آسان نہیں… وہ تو بے بس تھا کچھ کر نہیں پایا تو سب چھوڑ دیا۔ پر اللہ نے نہیں چھوڑا۔ اس نے گرفت کرلی اور ابھی تو آغاز ہوا ہے۔ یہیں سے توبہ کرلیں اور حق دار کو اس کا حق لوٹا دیں ورنہ وقت گزر گیا تو کہیں در توبہ بھی بند نہ ہوجائے اور ہم آزمائش کی چکی میں پستے چلے جائیں۔ یہ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کا دوسرا نام مکافات عمل ہے۔‘‘ شنید کا ٹوٹا لہجہ‘ مامون کی آنکھوں میں آنسو لے آیا… ہارون اور عبید دم سادھے بیٹھے رہ گئے۔
’’پاپا اور انکل‘ سوری ٹو سے مگر شنید بالکل صحیح کہہ رہا ہے‘ ہم ابھی بھی توبہ کرسکتے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہاتھ سے گیا نہیں ہے۔ ہم دائود کو سب کچھ لوٹا سکتے ہیں۔ میں نے بہت بار پاپا سے یہ کہنا چاہا مگر اتنی پریشانیاں تھیں کہ کہہ نہ پایا مگر شنید نے آج ہمت کرلی اور وہ بات کہہ دی جو اندر کہیں ہمارے دلوں میں تھی مگر ہم اعتراف کرتے ہوئے ڈر رہے تھے۔ بہرحال ابھی تلافی کی جاسکتی ہے۔‘‘ عبید اور ہارون نے بے ساختہ ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک ساتھ نظریں چرائیں۔
دائود اور حبہ کا رشتہ طے اور شادی بھی طے پاگئی تھی۔ وہ ہوائوں میں اڑ رہا تھا جب شادی سے دو دن پہلے ہارون نے اسے بلایا۔
’’یہ میں تمہیں دے رہا ہوں اور اس کے لیے اس سے اچھا موقع پھر نہیں ملے گا۔‘‘ انہوں نے ایک فائل اس کے آگے رکھی۔ وہ حیران ہوکر انہیں دیکھنے لگا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہ تمہاری امانت ہے۔ تمہاری دکان کے کاغذات جو میرے پاس غلط ہیں۔ انہیں اپنے جائز وارث کے پاس ہونا چاہیے۔‘‘
’’مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ وہ مزید الجھا۔
’’تو بس پھر سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرو اور نہیں اپنے پاس رکھ لو۔ یہ میری طرف سے تمہاری سلامی ہے۔ اس سے اچھی سلامی میں تمہیں دے بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘
’’مگر انکل میں یہ نہیں لے سکتا‘ آپ نے تو یہ ابو سے خریدی تھی نا تواب مجھے کیوں دے رہے ہیں؟‘‘
’’اس لیے کہ یہ جو عذاب بلکہ ایک سلسلہ ہے عذابوں کا جو تم پر کی گئی زیادتی کے سبب ہم پر نازل ہوتے چلے آرہے ہیں وہ رک جائے۔ یہ کفارہ تو نہیں ہے کہ میں تمہاری ہی چیز تمہیں لوٹا رہا ہوں مگر کفارے کے لیے کی جانے والی ایک کوشش ضرور ہے۔ شاید کہ تم معاف کردو تو اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف کردے۔‘‘ وہ بات کے اختتام پر رو پڑے۔
دائود جو سکتے میں بیٹھا ان کی یہ باتیں سن رہا تھا گھبرا کر اٹھا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے کندھے کے گرد بازو پھیلایا۔
’’پلیز انکل مجھے شرمندہ نہ کریں اور میں کیا کروں گا دو دو دکانوں کا۔ اب جبکہ میں جاب بھی کررہا ہوں تو مجھے تو وہ ایک ہی سنبھالنی بہت مشکل لگ رہی ہے۔‘‘
’’میں چلائوں گا نا اسے‘ میں کرایہ دار بن کر اس میں بیٹھا رہوں گا اور تمہیں کرایہ پہنچاتا رہوں گا۔‘‘ وہ سنبھل کر ایک عزم سے بولے۔
’’مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا انکل پلیز۔‘‘
’’یہ تمہاری اعلیٰ ظرفی ہے لیکن اب اگر میں سیدھے رستے پر چل پڑا ہوں تو میری راہ کھوٹی نہ کرو‘ یہ تمہاری چیز ہے‘ تمہیں لینی ہی پڑے گی۔‘‘ انہوں نے فائل اس کے ہاتھ میں تھمائی۔
’’واہ میرے اللہ‘ تیرے رنگ‘ اس وقت جب پریشانی اور بے کسی کا یہ حال تھا کہ گھر کا خرچہ بھی ایک اضافی خرچ لگنے لگا تھا‘ جسے پورا کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں خرچ کرنی پڑتی تھیں۔ تب ہارون وعبید انکل نے ایسے کیا جیسے وہ دکانیں تھیں ہی ان کی اور اب جب ہر طرف سے خوش حالی اور سکون ہوچکا ہے تو جیسے اپنی مرضی سے لیں تھیں ویسے ہی اپنی مرضی سے دے بھی دیں۔‘‘ دائود کو ہنسی آرہی تھی۔ اب تو وہ سیٹ ہوچکا تھا۔ دکان بہت اچھی چل رہی تھی کیونکہ پہلے اس میں سے صرف نکالا جارہا تھا۔ ڈالا کچھ بھی نہیں تھا۔ اب اس کی جاب اتنی اچھی تھی کہ اس کی سیلری بھی صحیح خرچ نہیں ہوپاتی تھی اور دکان میں سامان وہ بڑھائے جارہا تھا تو خوش حالی تو آنی ہی تھی۔ ویسے یہ سرپرائز تھا تو خوش گوار اور چونکا دینے والا مگر ابھی بھی کچھ باقی تھا۔ اس کی بارات والے دن عبید انکل نے ایک مہنگی برانڈ کی گاڑی کی چابی اس کے حوالے کی تھی۔
’’یہ میری طرف سے تمہارے لیے گفٹ۔‘‘
’’انکل پلیز یہ بہت زیادہ ہے۔‘‘ اس نے احتجاج کیا۔ انہوں نے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔
’’خاموش بڑوں کو انکار کرنا بھی بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے۔‘‘ سب ہنس پڑے تھے۔
دائود کمرے میں آیا تو اس لیے تھا کہ حبہ سے آئوٹنگ پر چلنے کے لیے کہے مگر وہ تو اتنی گہری سوچ میں گم تھی کہ اسے اس کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی۔ وہ ہلکے سے کھنکارا۔ وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔
’’آپ کب آئے؟‘‘
’’ابھی ابھی‘ بڑی گہری سوچوں میں گم تھیں۔‘‘
’’ہاں…‘‘ آہ کی صورت سانس خارج کی۔
’’کیا بات ہے حبہ‘ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟‘‘
’’نہیں… نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ گھر میں ایک امی ہی تو ہیں اور وہ اتنی اچھی ہیں کہ اگر کچھ کہیں گی تو میں سمجھوں گی ضرور میری ہی غلطی ہوگی۔ بہرحال ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’چلو چھوڑو ساری سوچیں… آئو گھوم پھر آتے ہیں۔‘‘
’’آپ اتنے اچھے کیوں ہیں دائود۔ آپ کو غصہ کیوں نہیں آتا۔ آپ کو ہم سے نفرت کیوں نہیں محسوس ہوتی۔ میرے پاپا نے آپ کے ساتھ کھلی زیادتی کی۔ آپ نے کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا۔ کورٹ میں کیس کیوں نہیں کیا؟‘‘ وہ پھٹ پڑی۔ دائود اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے یقین نہ آرہا ہو کہ وہ حبہ ہے۔
’’تمہارا دماغ ٹھیک ہے حبہ… تم ہوش میں تو ہو؟‘‘
’’ہاں میں مکمل ہوش وحواس میں ہوں۔ آپ نے اتنا صبر کیوں کیا‘ آپ کے صبر نے ہمیں لوٹ لیا۔ اس سے تو اچھا تھا آپ ہمیں کوستے‘ لڑائی کرتے اپنے حق کے لیے تو ہماری سزا میں کچھ تو کمی ہوجاتی۔ آپ کے خیال میں ہم لوگ اپنے والدین کی زیادتی کا حصہ بن کر چپ تھے نہیں۔ ہمارے بولنے کا ان پر کچھ اثر نہیں ہونے والا تھا۔ بولنا آپ کو چاہیے تھا‘ آپ احتجاج کرتے تو انہیں کہیں کوئی پن بھی چبھتی۔ آپ کے یوں ہاتھ پیر چھوڑ دینے سے تو وہ بھی اپنے آپ کو حق بجانب سمجھنے لگے۔ وہ کیا شعر ہے؎
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے…!
تو آپ نے لاشعوری طور پر ہی سہی‘ نادانستگی میں ہی مگر انہیں مضبوط کردیا۔ پر کیا پایا… پاپا نے جو کچھ کمایا وہ سب شمعون پر لگا دیا اور وہ پھر بھی نہ بچ پایا۔ کیسے بچتا۔ حرام پیسے سے وہ کیسے روبہ صحت ہوتا‘ ممی جو اسے یاد کر کرکے روتی رہتی ہیں‘ وہ پاپا کو روک دیتیں تو یہ نوبت کیوں آتی۔ عبید انکل سے تو سب کچھ ہی شنید بھائی کو اغوا کرنے والوں نے نکلوا لیا۔ وہ تو آپ کو کچھ لوٹانے کے قابل بھی نہیں رہے۔ بس ساری زندگی کی شرمساری رہ گئی ان کے لیے بھی۔‘‘
’’حبہ پلیز… جانے دو ان باتوں کو‘ اب تو وقت نے بھی گرد ڈال دی ہے۔ تم کیوں دہرا رہی ہو؟‘‘
’’ان دنوں مجھے ایسا لگتا تھا کہ آپ مجھ سے بھی نفرت کرنے لگے ہیں‘ نہ فون‘ نہ سامنا ہونے پر کوئی بات‘ جب تک میں زبردستی آپ کو مخاطب نہیں کرتی تھی‘ آپ تو میری طرف دیکھتے تک نہیں تھے۔‘‘
’’تم سے نفرت…‘‘ وہ ہکابکا رہ گیا۔ ’’تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو‘ یااللہ ان دنوں میں اتنا پریشان تھا کہ دو اور دو چار کرنے میں کسی چیز کا ہوش نہیں تھا اور جب میں خود ایسی ڈانوا ڈول پوزیشن میں تھا تو تمہیں کیسے کوئی آس دلاتا‘ ہاں دیکھتا میں جان بوجھ کر نہیں تھا ورنہ دل بہت کرتا تھا۔‘‘ اس نے شرارت سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔ ’’اب تمہیں یہ شکایت نہیں ہوگی۔‘‘
’’کون سی شکایت؟‘‘ اس نے حیرت سے دائود کو دیکھا۔
’’یہی نہ دیکھنے والی۔ ایسا پکا پرمٹ لیا ہے کہ اب گھنٹوں کے حساب سے دیکھتا رہوں گا تو کوئی اعتراض نہیں کرسکتا۔‘‘ حبہ بری طرح جھینپ گئی اور دائود کھلکھلا کر ہنس دیا کہ بالآخر خوشیوں کا موسم آگیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close