Aanchal Nov-16

السلام علیکم(دانش کدہ)

مشتاق احمد قریشی

ترجمہ: ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو۔ (الصفت۔۱۰۹)
تفسیر:اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پردائمی سلام کا بندوبست فرمادیا ہے قرآن حکیم تاقیامت محفوظ رہنے اور کثرت سے پڑھی جانے والی کتاب ہے۔اس کامقصدہے کہ جب تک قرآن حکیم زندہ رہے گا اہل ایمان حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سلام بھیجتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اہل دین اہل توحید کے اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کوحضرت نوح علیہ السلام کی مانند انابت الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی اسی سورۃ الصفت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔’’ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلے دیتے ہیں۔(الصفت۔۸۰) یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو عزت وتکریم بخشی اسی طرح جوبھی اپنے اقوال وافعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا اس کے ساتھ بھی ہم ایسا ہی معاملہ کریں گے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے تین ہزار تین سو تیئس سال بعد بابل میں پیدا ہوئے‘ اور تین ہزار چار سو اٹھانوے برس بعد ایک سو پچھتر برس کی عمر میں فوت ہوئے وہ مکفیلہ کے ایک غار میں دفن کیے گئے۔ اُس مقام کو الخیل کہتے ہیں یہ بیت المقدس کے قریب واقع ہے۔ اس زمانے میں نمرود کی بادشاہت تھی جو خود کو نعوذ باللہ خدا کہلاتاتھا تمام قوم اس کی اطاعت گزار اورتابع تھی اور بت پرست اورستارہ پرستی میں ملوث تھی حضرت ابراہیم کے والد تارخ تھے جو نمرود کے خادمِ خاص کے طور پر تمام رات اس کے سرہانے پہرہ دیتے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں روشن شمع لئے رہتے تھے‘ ان کا ایک ہی بھائی آذر زندہ تھا جو ان کے ساتھ ہی رہتاتھا جو بت پرستی اور بت سازی میں خاص مقام رکھتا تھا۔ یہودیوں کی کتاب تالمود میں سیرت ابراہیم علیہ السلام کے عراقی دور کے حوالے سے جو تحریر ہے وہ قرآنِ کریم کے مقابلے میں خلاف واقعہ اور بے بنیاد ہے تالمود کی رو سے نمرود کو جب اس کے جادوگروں اور نجومیوں نے اطلاع دی کہ تارخ کے یہاں ایک لڑکا عنقریب پیدا ہوگا جو تیری بادشاہت کو تباہ وبرباد کردے گا‘یہ سنتے ہی نمرودحضرت ابراہیم علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوگیا۔ مگر تارخ نے اپنی بیوی کو اپنے بھائی آذر کے ہمراہ ایک غار میں چھپادیا جہاں ماں بیٹا دس برس تک رہے‘ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام گیارہ برس کے ہوگئے تو انہیں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھیج دیا‘ جہاں وہ انتالیس برس رہے۔ (تلمود:۱۱:۲۹:۱۷) حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان حضرت ہود علیہ السلام‘ حضرت دانیال علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کا دورِ نبوت حائل ہے جو تقریباً ایک ہزار سال پر محیط ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام گیارہ سال کی عمر سے لے کر تقریباً پچاس برس کی عمر تک یعنی انتالیس برس حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ رہے ہوں یہ سب اسرائیلیات کا کرشمہ ہے سر لیونارڈولی نے اپنی کتاب ابراہیم لندن جو ۱۹۳۵ء میں شائع ہوئی حضرت ابراہیم کو ۲۱۰۰ قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا ہے۔ آپ نے اپنے والد اورقوم کو بت پرستی سے منع کیا اور قیامت کے عذاب سے ڈرایا اور دلائل توحید ان پر واضح کئے مگر قوم کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا‘ وہ اپنے کفر پر جمی رہی اور ابراہیم علیہ السلام کو ایذا وتکالیف پہنچانا شروع کردیا۔ نمرودجو خدائی کادعویٰ کرتاتھا اس سے مناظرہ کیا اور اسے شکست دی جس پر وہ غضب میں آگیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سزادینے کے لئے آگ کا ایک بہت بڑا الائو روشن کیا اور اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ڈال دیا‘ جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے گلزار بنادیاتو انہوں نے محسوس کیا کہ یہاں کوئی ان کی بات سننے کوتیار نہیں خود ان کے والد تک انہیں برا بھلا کہنے لگے تو ابراہیم علیہ السلام نے وطن چھوڑ دیا اور ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہوگئے اور نمرود کو اللہ تعالیٰ نے ایسی سزا دی کہ اس کا غرور وتکبر اور خدائی کادعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ صرف ایک مچھر کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس پر عذاب نازل فرمایا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کانام ابراہیم کے پہلے دو حروف ’’اب‘‘جس کے معنی عربی میں باپ کے ہیں اور’’راھیم‘‘ کلدانی میں جمہوریا عوام کو کہتے ہیں۔ اس طرح ابراہیم کے معنی ’’لوگوں کے باپ‘‘ کے ہوئے۔ بعض علماء نے اسے اب راحیم یعنی رحم کرنے والا باپ کہا ہے۔آپ کی قوم صابی ستارہ پرست تھی‘ آپ نے بچپن میں ہی اپنے باپ کے مذہب سے انکار کردیاتھا اور ہرقسم کی مخالفتوں سے بے پروا ہو کر اعلانِ توحید کردیا اور کہا کہ میں نے تو ہر طرف سے کٹ کرزمین وآسمان کے پیدا کرنے والے کی طرف اپنا رخ کرلیا ہے۔ میں مشرکوں میں شامل نہیں رہ سکتا۔ زمانہ قیام فلسطین جبکہ آپ بوڑھے ہوگئے تھے حکم ربی سے آپ کی اہلیہ حضرت سارہ کی باندی حضرت حاجرہ کو جنہیں انہوںنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہبہ کردیاتھا کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے پھر کچھ مدت بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ ابن خلد اور تورات کے اور دیگر مفسرین کے حوالے سے یوسف ظفر اپنی کتاب ’’یہودیت‘‘ میںلکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی حاران نے اپنی بیٹی سارہ سے آپ کا نکاح کردیا حضرت سارہ اپنے زمانے کی خوبصورت ترین خاتون تھیں جب نمرود نے انہیں دیکھا تو انہیں اپنے محل میں رکھنا چاہا لیکن ان کی پاک بازی نے اسے خوف زدہ کردیا اس پر نمرود نے حضرت سارہ کو واپس حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دے دیا اسی عرصے میں حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ سے متاثر ہوکر نمرود کی بیٹی حاجرہ ایمان لے آئی جس پر نمرد نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکاح میں دے دیا اس وقت کے رسم و رواج کے مطابق دوسری بیوی پہلی بیوی کی لونڈی بن کر رہتی تھی۔ اس لیے یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت ہاجرہ کو لونڈی کہہ کر پکارا تاکہ حضرت اسمعیل لونڈے کی اولاد ہونے کے ناطے حضرت اسحاق علیہ السلام سے کمزور درجے میں رہیں کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام سے تو بنی اسرائیل کا سلسلہ قائم ہوا جس پر تمام نبی و پیغمبر آئے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کے نسب سلسلے میں پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے ان کے مرتبے پر حملہ کرنے کے لیے بھی حضرت حاجرہ کو لونڈی کا درجہ دے کر اپنے مذموم عزائم کا اظہار کیا ہے کیونکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کے خاندان کی پوری تاریخ جو ڈھائی ہزار سال پر محیط ہے میں کسی بھی شخص نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اس خاندان کے واحد شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا اسی باعث اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے مکہ شہر آباد کرایا اور خانہ کعبہ کی تعمیر کرائی ورنہ کہا ں بابل اور کہاں عرب کا یہ غیر آباد بے آب و گیا علاقہ جہاں آج بھی مکہ شہر قائم ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ان کی والدہ حضرت حاجرہ کے ساتھ حجاز کے اس چٹیل میدان میں اللہ کے حکم سے چھوڑ آئے جو یمن سے شام جانے والے قافلوں کی گزر گاہ تھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے وہاں ان کی بھوک پیاس دور کرنے کے لئے زم زم کا چشمہ جاری فرمادیا جو آج بھی جاری ہے۔ زم زم کے چشمے کی وجہ سے قبیلہ جرہم نے بھی وہاں سکونت اختیار کرلی یوں مکہ شہر کی بنیاد پڑی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی کبھی اپنی بیوی اور بچے کو دیکھنے کے لئے آتے رہتے تھے اور مکہ شہر کی آبادی اور باشندوں کے لئے دعائیں فرماتے تھے‘ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نو برس کے ہوئے بعض کے کہنے کے مطابق تیرہ سال کے تھے کہ حکم الٰہی ہوا لاڈلے اور اکلوتے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا۔ تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ وپریشانی کے اپنے خواب کو سچا کردکھایا‘ یہ ایک بڑی ہی اہم آزمائش تھی جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سرخرو رہے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے ذریعے جنت سے ایک مینڈھا بھیجا جوحضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح کیا گیا اللہ کو اپنے خلیل کی یہ اطاعت اس قدر پسند آئی کہ قیامت تک کے لئے اسے قربِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ اور عیدالاضحی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا۔جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم الٰہی کی تعمیل میں اپنے عزیز بیٹے اسمٰعیل کی مدد سے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی اور کعبہ کی تعمیر کی تکمیل پر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اس کا پہلا امام ومتولی مقررکر دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام شام میں ہی مقیم رہے ان کی نسل سے بہت سے نبی پیدا ہوئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ان کے ہی بیٹے تھے۔ حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا اسی لئے ان کی اولادبنی اسرائیل کہلائی۔ ان کے بارہ بیٹے تھے جن سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم پھیلی اور اکثر انبیاء ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے عربوں کی نسل چلی جن کی شادی مکہ میں آباد ہونے والے قبیلے جرہم میں ہوئی تھی ان کی اولادیں بھی خوب پھلی پھولیں ان ہی کی ایک شاخ قریش کہلائی اور قریش کے ہی سب سے معزز گھرانے بنوہاشم میں اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ساری زندگی حق پرستی اور حق گوئی اوراطاعت خدا وندی کا بہترین نمونہ ہے۔ اس لئے ہی قرآن کریم میں انہیں’’سب سے کٹ کر اللہ کا ہوجانے والا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینے والا‘‘کے اوصاف سے یاد کیا گیا ہے اوردینِ اسلام کو ملتِ ابراہیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ہر قوم اپنے آپ کو ان سے منسوب کرتی ہے آپ کی سنتوں میں ختنہ‘ مصافحہ‘ معانقہ‘ مسواک اور حجامت اورطہارت ہیں۔ آپ کا انتقال ایک سوپچھتر برس کی عمر میں ہوا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا اے بہترین مخلوق تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابراہیم خلیل اللہ کی شان ہے(مسلم)
ترجمہ:کہ موسیٰ اورہارون (علیہ السلام)پر سلام ہو۔ (الصفت۔۱۲۰)
تفسیر:آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پر سلامتی بھیجی جارہی ہے۔ یہ سلامتی دائمی سلامتی ہے کیونکہ ربِّ کائنات کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر کو اس طرح دوام بخشاجا رہا ہے۔ آیت کے مختصراور پرتاثیر جملے باربار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لئے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانا بھی مقصود ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کی قدر وقیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یعنی احسان کی وجہ سے۔ اور نبی اور پیغمبر تو ہوتے ہی اللہ کے نامزد کردہ صاحبِ ایمان نیک افراد جو اپنی زندگی کے تمام ترلمحات احکامِ الٰہی اور اطاعتِ الٰہی کے مطابق گزارتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت وفضل سے خوب نوازتا ہے اوران نوازشات کا اظہار اس لئے فرماتا ہے تاکہ پیغمبر کے ذریعے جولوگ اسلام قبول کریں ایمان لے آئیں انہیں یہ احساس رہے کہ جتنی اطاعت وعبادت‘ اخلاص‘ دیانت‘ نیک نیتی سے کریں گے اتنا ہی قرب الٰہی حاصل کرسکیں گے اور نوازشات الٰہی کے حصول میں کامیابی حاصل کرسکیں گے۔ اس آیتِ مبارکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام پر اللہ تبارک وتعالیٰ سلام فرمارہا ہے ان دونوں انبیاء حضرات نے کس طرح اور کس قدر تکالیف اٹھائیں اور کس طرح انہیں برداشت کیا اور احکام الٰہی کی تبلیغ میں انہیں کن دشواریوں کا سامنا کرناپڑا۔ یہ مختصر تفصیل سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام‘ اللہ کے نبی اور بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے آپ مصر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دوسو پچاس سال بعدپیدا ہوئے۔ اس وقت مصر پر منوچہرکی حکومت تھی اور حضرت آدم کو گزرے ہوئے تین ہزار سات سو اڑتالیس سال ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کوبنی اسرائیل اورفرعون مصر کی سرکوبی کے لئے مبعوث فرمایا۔ فرعون مصر کو اپنے کاہنوں اور نجومیوں سے معلوم ہوگیاتھا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسالڑکا پیدا ہوگا جو اس کی بربادی اورتباہی کا باعث ہوگا اس لئے وہ بنی اسرائیل کے سب نومولود لڑکوں کو قتل کروادیتاتھا۔ یہ بالکل وہی معاملہ تھا جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت کے وقت پیش آیا تھا‘ وہاں نمرود کو بھی اسی طرح اس کے نجومیوں اور ستارہ شناسوں نے یہی خبر دی تھی کہ صابی قوم میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری تباہی وبربادی کا باعث بنے گا۔ ایسا ہی واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا بھی ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کے پیدا ہونے پر آپ کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں چھوڑ دیااور حضرت موسیٰ کی بڑی بہن مریم کو اس صندوق پر نظر رکھنے کے لئے اس کے پیچھے دریائے نیل کے کنارے کنارے چلنے کی تاکید کردی کہ اجنبی بن کر صندوق کو دیکھتی رہ کہ کون اسے اٹھاتا ہے۔ صندوق بہتا ہوا دریائے نیل سے اس نہر میں داخل ہوگیا جو فرعون نے اپنے محل کے اندر بنے ہوئے حوض کے لئے بنوائی تھی۔ صندوق جب حوض میں آکررکا تو فرعون کی ملکہ آسیہ کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اسے نکلوا کر دیکھا‘اس میں ایک نہایت حسین وخوبصورت نومولود لڑکا نظر آیا تواس نے فرعون سے کہا کہ میرا کوئی فرزند نہیں ہے میں اس کو پالوں گی اور اپنا بیٹا بنائوں گی اس نے ہی آپ کو بطور فرزند کے پالا۔ بڑا ہونے پر انہوں نے ایک قبطی کے مقابلے پربنی اسرائیل کی حمایت کی جس میں قبطی مارا گیا اس وجہ سے آپ مصر سے نکل کر مدین پہنچے جہاں حضرت شعیب علیہ السلام نے ان کو اپنے ہاں رکھااور اپنی بیٹی سے شادی کردی۔ بارہ برس بعد وہاں سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ مصر واپس آرہے تھے کہ ’’وادی طویٰ‘‘ کے مقام پراللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا اورپیغمبری عطافرمائی اور فرعون کی ہدایت کے لئے آپ کو متعین فرمایا اور عصا اور یدبیضا کے معجزات سے آپ کو آراستہ فرمایا۔فرعون اپنے تمام جادوگروں کو آپ کے مقابلے پر لایا مگر وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں شکست کھا کر عاجز آگئے اور ایمان لے آئے۔ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے‘ راستے میں دریائے نیل حائل تھا حکم الٰہی کے تحت آپ نے اپنا عصا دریا میں مارا تو دریائے نیل شق ہو کررہ گیا اور راستہ بن گیا جس سے آپ اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ دریائے نیل کوپار کرگئے۔ آپ کا تعاقب کرنے والا فرعون بھی اپنے لائولشکر کو لے کر جب دریائے نیل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دریا میں راستہ بنا ہوا ہے تو وہ بھی بلاجھجک دریامیں اتر گیا۔ جب وہ دریا کے بیچوں بیچ پہنچا تو موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ دریا پار کرچکے تھے۔ دریا حکم الٰہی سے واپس اپنی اصلی حالت میں آگیا اور فرعون اپنے تمام ساتھیوں سمیت غرق دریا ہوگیا۔آپ ایک وادی میں ٹھہرے۔ پھر آپ کوہ طور پر تشریف لے گئے آپ پرتوریت نازل ہوئی۔ لیکن آپ کی غیر موجودگی میں سامری نامی جادوگر نے بنی اسرائیل کے لوگوںکو سونے سے بنائے ہوئے بچھڑے کی عبادت پرآمادہ کرلیا۔ واپس آنے پر جب آپ نے یہ احوال دیکھا تو آپ نے بچھڑے کو تو آگ میں ڈال دیا اور بنی اسرائیل کو شہروں میں بسانے کے بجائے ایک بیابان صحرائے تہیہ میں لے گئے جہاں چالیس سال کا عرصہ ان کی تعلیم وتربیت کرنے پرگزارا۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close