Aanchal Jun-16

خوب صورت قبر

شبینہ گل

بادل جو گرجتے ہیں وہ برسا نہیں کرتے
محسن کبھی احسان کا چرچا نہیں کرتے
آنکھوں میں بسا لیتے ہیں روٹھے ہوئی منظر
جاتے ہوئی لوگوں کو پکارا نہیں کرتے

لائبہ کو رخصت ہوکر اس گھر میں آئے پندرہ دن ہوچکے تھے اب اس کی شادی کی گہما گہمی اور دعوتوں کے ہنگامے تو قدرے تھم چکے تھے البتہ اس کی نند رومیصہ کی شادی کے ہنگامے گھر کو نئے سرے سے پُر رونق کرگئے تھے اور یہ رومیصہ ہی کی ضد تھی کہ بھائی کی شادی پہلے ہو‘ تاکہ وہ بھرپور طریقے سے انجوائے کرسکے۔
احسان اور آمنہ کی دو ہی تو اولادیں تھیں‘ بڑا شہیر اور پھر رومیصہ سو شہیر اور لائبہ کی شادی کے ٹھیک ایک ماہ بعد کی تاریخ رومیصہ کے سسرالیوں کو دے دی گئی۔ اس تمام عرصے میں رومیصہ کو ٹھیک سے آرام ملنا بھی مقصود تھا کیونکہ دو ماہ قبل ہی وہ لوگ اس گھر میں شفٹ ہوئے تھے اور رومیصہ نے اپنی انٹرئیر ڈیزائننگ کی ڈگری کے تمام ہنر گھر پر آزمائے تھے اس کے بعد اس نے شہیر کے بیڈ روم اور ولیمے کے اسٹیج کی تھیم بھی خود ہی ڈیزائن کی تھی سو اس سب میں وہ بری طرح تھک گئی تھی۔
احسان صاحب کا پہلا گھر نسبتاً چھوٹے علاقے میں تھا اور کافی سادہ سا تھا وقت اور حالات کے ساتھ اولاد کے بدلتے تقاضوں نے انہیں بھی اپنی سوچ بدلنے پر مجبور کیا تو انہوں نے نئے گھر کی تلاش شروع کی۔ اچھے علاقے میں بڑا اور خوب صورت گھر مزید رقم کا تقاضا کرتا تھا لیکن ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں نہایت معمولی رقم کے اضافے کے ساتھ یہ گھر مل گیا۔ مالک مکان کی کوئی ذاتی مجبوری تھی جس کی بنا پر وہ کم دام میں گھر فروخت کررہا تھا اور احسان صاحب کی تو گویا لاٹری نکل آئی تھی۔ پورا خاندان ان کی قسمت پر رشک و حسد میں مبتلا ہوگیا کہ اتنے اچھے علاقے میں جدید طرز پر بنا‘ ماربلز اور ٹائلز سے سجا اور ووڈ ورک آراستہ یہ خوب صورت بنگلہ انہیں اس قدر کم قیمت میں بھلا کیونکر ملا پھر رومیصہ کی ڈیزائننگ نے اس کی خوب صورتی کو چار چاند لگادیئے۔ دونوں اولادوں کی شادی سے قبل یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچانا ازحد ضروری تھا کہ اس کے بعد شادیوں کی مصروفیات یوں بھی بندے کو تھکادیتی ہیں۔ سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں کے مصداق انہوں نے بھی اس بنگلے کو آراستہ و پیراستہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
ء…/…ء
پھر اگلے دس بارہ دن گویا مٹھی کی ریت کی مانند پھسلے۔ ہلکی ہلکی دھوپ ابھی پوری طرح پھیلی نہ تھی‘ جب وہ تیار ہوکر کمرے سے نکلی۔ آج اس کی برائیڈل سروسز کے لیے بیوٹیشن نے ٹائم دے رکھا تھا اس نے بالوں کے لیے کچھ اسپیشل قسم کے ٹریٹمنٹس لینے تھے اسی لیے صبح صبح جانا پڑ رہا تھا۔ اس کے علاوہ ہئیر کٹنگ‘ فیشل‘ مینی کیور‘ پیڈی کیور‘ ویکسنگ اور نجانے کیا کیا‘ ایک لمبی لسٹ تھی جو آج ہی مکمل ہونی تھی۔ آج کل کی دلہن کی سروسز کی لسٹ اتنی لمبی ہوتی ہے کہ اتنی لمبی لسٹ تو محاذ پہ جانے والے سپاہی کے سازو سامان کی بھی نہ ہوتی ہوگی لیکن شادی شاید جنگ سے زیادہ کٹھن محاذ ہے اور اس محاذ کو اتنا کٹھن بنانے میں زیادہ ہاتھ میڈیا کا ہے جو عورت کو ایسا کیل کانٹوں سے لیس کرکے پیش کرتا ہے کہ سطحی مردوں کو گھریلو عورت تو پسند ہی نہیں آتی۔
آج کل مرد بھی اپنی بیویوں کو پیسٹری بنے دیکھنا پسند کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کی فکرات کا دائرہ کار بڑھ گیا ہے اور ان ہی لڑکیوں میں سے ایک رومیصہ بھی تھی۔ صبح کی گئی جب وہ شام ڈھلے لوٹی تو بھوک پیاس پہ تھکن اور نیند ایسی حاوی تھی کہ آمنہ کے روکنے پر بمشکل کھانے کے لیے رکی ورنہ دل تو چاہ رہا تھا بس بستر میں گھس جائے۔ سارا دن بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی تھی۔ آمنہ کچن میں کھانا نکالنے گئیں تو وہ صوفے پر بے تریب سی لیٹ گئی‘ برابر کے صوفے پر بیٹھی دادی اماں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
’’پتر… سارا دن پارلر میں لگ گیا‘ نمازیں پڑھ لی تھیں۔‘‘ ان کے لہجے میں رچی شفقت کے باوجود رومیصہ بے زار سی ہوئی جب دنیا کی ہر نعمت ہماری جھولی میں ہو تو ہم اسی طرح اللہ رسولﷺ اور نماز روزے کی بات سے بے زار ہونے لگتے ہیں۔ یاد تو ہمیں تب ہی آتی ہے جب رسّی کھنچتی ہے۔ رومیصہ نے بمشکل اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’کیسے ممکن تھا دادی… کتنے گھنٹے تو بالوں میں مختلف کریمز لگتی رہیں ہر کریم کا اپنا ٹائم ہوتا ہے بیچ میں بریک نہیں دیا جاسکتا۔ سر پر کچھ اوڑھ بھی نہیں سکتی تھی پھر فیشل وغیرہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ خود سوچیں ان کے بھی ہزاروں کلائنٹس ہوتے ہیں میرے لیے وہ انتظار تو نہیں کرسکتے تھے۔‘‘ آمنہ کھانا لے آئیں تو دادی ملول سا چہرہ لیے خاموش ہوگئیں۔ کھانا کھا کر وہ جانے لگی تب عادت سے مجبور اور اپنی دین دار فطرت کے ہاتھوں پریشان دادی نے پھر دھیرے سے پکارا۔
’’قضا نمازیں پڑھ کر سونا پتر…‘‘ وہ لمحہ بھر کو رکی پھر مڑے بنا سر ہلاتی آگے بڑھ گئی۔
ء…/…ء
بارات کا لہنگا اس نے خود شہر کے مشہور ڈیزائنر سے بنوایا تھا اور چونکہ وہ سلیولیس تھا اس لیے اسے مہندی بھی پورے بازو پر لگوانی تھی اور آدھی پنڈلیوں تک۔ باریک انڈین ڈیزائنر والی مہندی نے بھی اس کا اگلا پورا دن اپنے نام کروالیا جب اگلے روز بھی وہ شام ڈھلے تھکی ہوئی لوٹی تو دادی کو غصہ آگیا۔
’’آج کی نمازیں پھر رہ گئیں‘ آج کا تو عذر بھی بڑا مضبوط تھا۔‘‘ انہوں نے ہاتھ نچا کر اس کے بازوئوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ خفت سے سرخ ہوگئی۔ پاس بیٹھی اس کی نئی نویلی بھابی نے بھی شرمندگی محسوس کرتے ہوئے میگزین اٹھا کے چہرے کے آگے تان لیا‘ وہ بھڑک اٹھی۔
’’افوہ دادی… مجبوری ہے نا کیا کروں میں۔ مجبوری میں تو نماز معاف ہوتی ہے۔ کہا تو ہے کہ قضا پڑھ لوں گی ساری ایک ساتھ اور یہ جو اتنا سنگھار کررہی ہوں اس کا بھی تو اسلام میں ہی حکم ہے ناکہ شوہر کے لیے سنگھار کرنا چاہیے۔‘‘ دادی کے تو تلوں سے لگی اور سر پر بجھی۔
’’اپنے مطلب کا اسلام خوب یاد رہتا ہے تم آج کل کی لڑکیوں کو۔ شوہر سے پہلے تو دنیا دیکھے گی تمہارا سنگھار‘ پہلے تو وہ موا فوٹو گرافر دیکھے گا پھر مووی میکر پھر سارے خاندان کے مرد اور وہ جس کا پہلا حق ہے وہ تو سب سے آخر میں دیکھے گا سو نگاہوں سے گزری ہوئی عورت۔‘‘ دادی جلال میں آچکی تھیں۔ لائبہ کو بھی تھوڑا برا لگا تو رومیصہ کی دلجوئی کے لیے بولی۔
’’دادی… دلہن تو ہر دور میں ساری دنیا کو منہ دکھا کے آخر میں شوہر تک پہنچتی آئی ہے۔‘‘
’’ارے ہمارے زمانے میں گھونگھٹ ہوا کرتے تھے یہ لمبے لمبے۔‘‘ دادی نے دونوں ہاتھ گھٹنوں تک لے جاکر اشارہ کیا تو لائبہ کو ہنسی آگئی۔ آنکھوں آنکھوں میں رومیصہ کو صبر کا اشارہ دیا اور پھر بولی۔
’’گھونگھٹ تو آج کل فیشن میں ہیں دادی… جیسے میرا تھا‘ رومیصہ کا بھی بنوایا ہے ویسا۔‘‘ لائبہ کا اشارہ نیٹ کے گھونگھٹ کی طرف تھا۔
’’ہونہہ… وہ گھونگھٹ… صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔‘‘ دادی نے مکھی اڑانے کے انداز میں کہا تو لائبہ بھی لاجواب ہوکر خاموش ہوگئی اور رومیصہ پیر پٹختی اپنے کمرے میں جاگھسی۔ آمنہ جو اس کا پریس شدہ لہنگا اٹھائے اندر آئی تھیں قدرے تاسف سے ساس کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’اماں جی وہ تھکی ہوئی آئی ہے آپ روز شروع ہوجاتی ہیں ویسے تو وہ سب نمازیں پوری پڑھتی ہے۔ شادی کے دنوں میں مشکل ہوجاتی ہے‘ دلہن بنی بیٹھی ہوگی تب کیسے پڑھے گی؟‘‘
’’ارے کیوں؟ شادی والے دنوں میں دین بدل جاتا ہے یا خدا بدل جاتا ہے‘ نعوذ باللہ۔‘‘ وہ پھر چمک کر بولیں تو لائبہ اور آمنہ نے بے ساختہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر زیر لب کہا۔
’’استغفراللہ!‘‘
’’میں اسے سمجھادوں گی‘ شادی کے بعد ساری نمازوں کا حساب کرکے قضا پڑھ لے گی وہ بھی سب سمجھتی ہے۔‘‘
’’اور جو مہلت ہی نہ ملی تو پھر…‘‘ دادی کے لہجے میں اس قدر ٹھنڈک تھی کہ آمنہ دہل گئیں۔
’’کیسی باتیں کررہی ہیں اماں! اللہ میری بچی کو صحت و زندگی دے۔‘‘ وہ ناگواری سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں‘ ان کے پیچھے پیچھے لائبہ بھی نکل گئی۔ وہ دکھ سے لائونج کے ہلتے پردے کو دیکھتی رہ گئیں جس کے پیچھے دونوں اوجھل ہوگئی تھیں۔
ء…/…ء
ابھی ابھی لائبہ اس کی دلجوئی کی خاطر اس کی مہندی کی ڈھیروں تعریفیں کرکے اسے اگلے دن کے حوالے سے چھیڑتی کمرے سے گئی تھی اور اس کی کوشش کامیاب رہی تھی۔ وہ دادی کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی یکسر بھلائے اپنی خوب صورب ترین مہندی کے باریک نقش ونگار پر نگاہیں جمائے خوب صورت مستقبل کے سہانے سپنوں میں کھوگئی۔ یوں ہی مہندی کے نقوش نظروں میں جذب کرتے نجانے کب اس کی آنکھ لگی اور کب دبے پاؤں آمنہ آکے اسے پیار کرکے لائٹ بند کر گئیں اور اسے خبر تک نہ ہوئی۔
نجانے رات کا کون سا پہر تھا جب ایک انجانے سے احساس کے تحت اس کی آنکھ کھلی۔ چند لمحے تو اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ ہوا کیا ہے‘ سامنے نصب وال کلاک کے چمکتے ہندسوں نے بتایا کہ رات کے دو بج رہے ہیں اس کا بیڈ بری طرح سے ہلا اور پھر جھٹکے بڑھنے لگے۔ اس کے حواس یک دم بیدار ہوئے اور وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
’’یااللہ رحم… زلزلہ…‘‘ اس کا دل ہولنے لگا۔ اسی لمحے آمنہ اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔
’’باہر آجائو بیٹا! زلزلہ بہت شدید ہے۔‘‘ وہ سر تاپا لرزتی زیرلب کلمے کا ورد کرتی ماں کے ساتھ برآمدے میں آئی تو احسان صاحب‘ شہیر‘ لائبہ اور دادی سبھی لائونج میں کھڑے تھے۔ ہر چیز دائیں بائیں ہل رہی تھی اس نے آمنہ کا بازو مضبوطی سے تھام لیا۔
’’سب لوگ لان میں چلو گھر کے اندر رہنا ٹھیک نہیں۔‘‘ احسان صاحب نے یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ کر لائونج کا دروازہ کھولا تو ایک زور دار دھماکا ہوا اور ان سب کی چیخیں نکل گئیں۔ آگے بڑھ کر دیکھا تو لائونج کے آگے بنے برآمدے کی چھت گر گئی تھی اور سارا ملبہ لائونج کے دروازے کے آگے یوں ڈھیر ہوگیا تھا کہ وہ ایک قدم بھی باہر نہ نکال سکتے تھے۔ وہ سب ساکت رہ گئے‘ شہیر کے حواس سب سے پہلے بحال ہوئے وہ پچھلی انٹرنس کی طرف بھاگا۔
’’پچھلی سائیڈ سے نکلیں۔‘‘ پچھلا دروازہ کھولا تو وہاں کے برآمدے کی چھت بھی گری پڑی تھی اور دروازے کے آگے راہ مسدود کیے دیوار بنی کھڑی تھی۔
’’یااللہ رحم!‘‘ رومیصہ کو آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی۔
’’الٰہی رحم…‘‘ آمنہ سسک اٹھیں۔
’’کس اللہ کو یاد کررہی ہو تم… وہ جس کے آگے تم نے کئی دن سے سر نہیں جھکایا۔‘‘ رومیصہ کے ضمیر نے اسے جھنجھوڑا تو ذہن مہندی کے نقش نگار میں الجھ گیا۔
’’اور جو مہلت ہی نہ ملی تو پھر…‘‘ دادی کی آواز کی بازگشت ہوئی تو وہ تڑپ کر مڑی۔ دادی تیزی سے تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں۔ اس سے نگاہ ملی تو تسلی آمیز انداز میں مسکرائیں‘ زلزلہ اب رک چکا تھا لیکن…
’’کیا یہ گھر ہماری قبر بن جائے گا؟‘‘ احسان صاحب کی آواز میں اتری لرزش نے سب کے وجود پر لرزہ طاری کردیا۔ ’’ماربلز‘ ٹائلز اور ووڈ ورک سے سجی خوب صورت قبر…‘‘
’’آج سمجھ آئی اس گھر کی ویلیو اتنی ڈائون کیوں تھی۔ ایک دو لوگوں نے مجھے بتانے کی کوشش بھی کی تھی کہ اس گھر میں ناقص میٹریل استعمال ہوا ہے لیکن میں ان باتوں کو لوگوں کے حسد پر محمول کرتا رہا۔‘‘ وہ جیسے سرگوشیوں میں باتیں کررہے تھے۔ لائونج کی چھت میں کچھ جگہوں پر نمایاں دراڑیں نظر آرہی تھیں اور یہ دراڑیں تو دراصل ان کے ایمان میں بھی تھیں جنہیں وہ خوب صورت ملبوس تلے چھپائے پھرتے تھے لیکن اللہ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔
وہ تمام رات رومیصہ نے جائے نماز پر گزاری‘ صبح سویرے احسان صاحب نے پڑوسیوں کو کال کرکے مدد لی اور ملبہ ہٹوایا۔ فی الوقت کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا اگلے روز رومیصہ کی رخصتی تھی اس کے بعد ہی اگلا لائحہ عمل طے کیا جاسکتا تھا۔ سب اپنے معمول پر آچکے تھے لیکن رومیصہ مدار سے ہٹ چکی تھی‘ اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی بھی جاننے سے قاصر تھا۔ دن چڑھا تو وہ ایک بڑا سا شاپر لیے چادر کی بکل مارے باہر نکل آئی تو آمنہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’تم کہاں چلی؟‘‘
’’ٹیلر تک جارہی ہوں بس ایک گھنٹے میں آتی ہوں۔‘‘
’’ٹیلر… ارے مگر…‘‘ وہ ان سنی کرتی باہر نکل گئی تو آمنہ تفکر سے دیکھتی رہ گئیں۔ دو گھنٹے بعد وہ اسی شاپر کے ساتھ واپس آئی اور کمرے میں گھس گئی۔ آمنہ کے پاس اب حیران ہونے کا بھی وقت نہ تھا‘ گھر کے بیرونی حصے کی حالت وقتی طور پر درست کرنے میں ہی خاصا وقت برباد ہوگیا تھا۔
وہ کیا کرنے گئی تھی یہ حیرت اگلے دن دور ہوگئی جب وہ دلہن بنی ہال میں پہنچی۔ لائبہ اس کا لہنگا سنبھالے مسکراتی ہوئی ساتھ چلی آرہی تھی اور آمنہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھیں۔ سلیولیس لہنگے کی چولی پر فل آستین کا اضافہ ہوا تھا اور… ایک اور حیران کن اضافہ بھی تھا۔
اس کے بھاری کامدار دوپٹے کے نیچے بے حد خوب صورت فینسی اسکارف مہارت سے یوں سیٹ کیا گیا تھا کہ زیور پہننے کے باوجود سر اور گلا بالکل چھپے ہوئے تھے۔ اس روپ میں وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ دادی نے بے اختیار اس کا صدقہ نکالا اور نوکرانی کے حوالے کردیا۔
کھانا کھلا تو کھانے میں مصروف مہمانوں نے دلہن کو سائیڈ روم میں جاتے دیکھا اور سائیڈ روم میں موجود قریبی رشتہ داروں نے نماز عشاء ادا کرتے دیکھا تو آناً فاناً یہ بات پورے ہال میں پھیل گئی۔ پہلے اس کے حیادار روپ نے اور اب اس ادا نے سبھی کو متاثر کردیا۔ کانوں میں ہوتی سرگوشیاں دلہا تک بھی پہنچیں اور اس کے دل میں بھی اپنی معصوم سی دلہن کا مقام بلند کرگئیں۔
نماز اور کھانے سے فارغ ہوکر وہ جب اسٹیج پر آئی تو اپنے شریک سفر کی نگاہوں میں پہلے سے بسی محبت کے ساتھ ساتھ احترام کا جذبہ بھی رچا دیکھا‘ اس کے سسرالیوں کے چہروں پر بھی محبت کے ساتھ ساتھ عقیدت کے جذبات بکھرے تھے‘ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’دس نمازیں قضا کی تھیں میرے اللہ‘ صرف ایک نماز پر تُو نے اتنا نواز دیا۔‘‘ اسی لیے تو اس کے ناموں میں رحمن اور رحیم ہے‘ غفور اور رئوف ہے کہ وہ تھوڑے عمل پر بھی زیادہ نواز دیتا ہے۔ ہمارے ایک سجدے پر اپنی رحمتوں کی بارش کردیتا ہے اور ہم اسی ایک سجدے کو اپنی ترجیحات میں سب سے آخری نمبر پر رکھتے ہیں۔
رخصتی کے وقت اس کی آنکھ سے ٹپکے پہلے آنسو پر ہی اس کے شریک سفر نے اس کا ہاتھ نرمی مگر مضبوطی سے تھام کر اپنی ذات کا اعتماد بخشا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرادی اور پردے پر دھنک رنگ بکھر گئے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close