Aanchal Jun-16

یقین کامل

عریشہ ہاشمی

ادب کی حد میں ہوں‘ میں بے ادب نہیں ہوتا
تمہارا تذکرہ اب روز و شب نہیں ہوتا
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یونہی آنکھیں
اکثر اُداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

’’اف… یہ قہر برساتا سورج…‘‘ سحرش نے چلچلاتی دھوپ میں آنکھوں پر ہاتھ سے چھجا بناتے ہوئے دور سے آتی بس دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایک تو روزہ… اوپر سے گرمی۔ کل سے میں نے بھی روزہ رکھا تو نام بدل دینا میرا۔‘‘ بس قریب آچکی تھی اور سحرش کی اس دھمکی پر حمنہ نے اسے سرزنش کرنے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے صرف گھورنے پر اکتفا کیا اور دونوں سہیلیاں بس میں سوار ہوکر گھر کی طرف روانہ ہوگئیں۔
ز…ز…ز…ز
’’توبہ توبہ… منگنی ٹوٹے دن ہی کتنے ہوئے… پر یہاں تو قہقہوں پر قہقہے لگ رہے ہیں… شرم نام کی کوئی چیز ہی نہ رہی اب تو دنیا میں۔‘‘ حسب معمول طعنہ زنی میں پیش پیش رہنے والی امینہ آنٹی نے لب کشائی کی۔ روشی نے جونہی منہ توڑ جواب دینے کے لیے منہ کھولا حمنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔
’’آپی… چھوڑو میرا ہاتھ… آج میں انہیں آئینہ دکھاتی ہوں… آخر پرابلم کیا ہے؟ پہلے تو بلاجواز منگنی توڑ ڈالی کاشف بھیا نے… اب محترمہ جینے بھی نہیں دیتی۔‘‘
’’نہیں… انہیں جو بہتر لگا‘ انہوں نے کیا۔ ہم تو ان کی طرح نہیں ہیں منھی… ہمیں اپنے طرف کے مطابق ڈیل کرنا ہے ایسے لوگوں سے۔‘‘ حمنہ دھیمے لہجے میں اداسی سے بولی۔
’’آپ کی اس نرمی کا غلط فائدہ اٹھایا ہے ان لوگوں نے۔ کس قسم کی لڑکی ہو تم یار… ایک گال پر تھپڑ کھانے کے بعد دوسرا آگے کرو گی تو بھی تھپڑ ہی پڑے گا… پھول نہیں برسیں گے۔‘‘
’’دوسرا گال کیوں آگے کروں گی…؟ میں نے تو اپنا معاملہ اﷲ کے سپرد کردیا ہے۔ وہ جو چاہے گا وہی ہوگا میرے ساتھ… جب ہرکام اسی کے حکم سے ہوتا ہے تو پھر ری ایکشن ان لوگوں کے سامنے کیوں دکھایا جائے…؟‘‘ سوالیہ نظروں سے روشی کی طرف دیکھتے ہوئے قطعی انداز میں حمنہ نے جواب دیا۔
روشی اس سے بے زار ہوچکی تھی۔ یہ معاف کردینے والی عادت اسے عاجز کرتی تھی۔ سو اس نے مزید کچھ بھی کہنے سے گریز کیا اور افطاری کی تیاری کے لیے دونوں بہنیں کچن کی جانب بڑھیں۔
ز…ز…ز…ز
’’سحرش… اٹھو پانچ منٹ رہ گئے ہیں سحری ختم ہونے میں۔‘‘ مسلسل سحرش کو آوازیں دیئے جارہی تھیں اور وہ جاگنے کے باوجود کمرے سے باہر نہ نکلی۔
’’زاری…‘‘ آواز دینے والا قریب پہنچ چکا تھا۔ بالآخر سحرش کو بولنا پڑا۔
’’مجھے روزہ نہیں رکھنا… یونیورسٹی میں ہمت ہی ختم ہوجاتی ہے۔‘‘ منہ بسورتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا۔
’’سوچ لو زاری… روزہ رکھنے والے کو اﷲ تعالی ہمت دے دیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں بھابی… سونے دیں اب۔‘‘
’’واؤ… بارش… یاہو۔‘‘ جونہی سحرش لاؤنج سے باہر نکلی… بارش کی بوندوں نے استقبال کیا۔ آسمان ابر آلود تھا ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی۔ سحرش جو کہ پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکی تھی۔ خوشی سے نعرہ لگاتے واپس اندر چلی آئی۔
’’مما… حاشر بھیا جاگ گئے…؟‘‘ لاؤنج کے صوفے میں بیٹھی اس نے حاشر کے بارے میں پوچھا جو اس سے دو سال بڑا تھا۔ حاشر سے دو سال بڑے بھیا زوار کی شادی ہوچکی تھی۔ سحرش اور حاشر دونوں ہی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ تھے۔
’’کیا ہے زری…؟‘‘ مما کے جواب دینے سے پہلے ہی حاشر بھیا حاضر تھے۔
’’بھیا… بارش شروع ہوگئی ہے۔ یونیورسٹی تک چھوڑ آؤ ذرا۔‘‘
’’اوکے… تھوڑا انتظار…‘‘ حاشر تیار ہوکر جلدی سے آن پہنچا… اب دونوں بہن بھائی گاڑی میں بیٹھے یونیورسٹی کے لیے نکل گئے تھے۔ راستے میں بارش اور بھی تیز ہوگئی۔ موسم بہت خوش گوار ہوگیا تھا۔ اس کا دل ایک دم پچھتاوے سے بھر گیا۔
’’کیا تھا اگر میں آج روزہ رکھ لیتی۔‘‘ یونیورسٹی کا گیٹ آگیا اور وہ گاڑی سے اترتے ہی جس سے ٹکرائی… وہ حمنہ تھی۔ اس کی عزیز از جان سہیلی۔
’’یہ کون سا طریقہ ہے سلام کرنے کا سحرش۔‘‘
’’ارے… غلطی تو تمہاری ہے… تم کیوں اچانک سامنے آئیں۔‘‘ سحرش لڑائی کے لیے تیار ہوئی۔
’’لڑائی لڑائی معاف کرو…‘‘ حاشر دونوں کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا۔ حجاب اور عبایہ میں ملبوس اس نازک گڑیا کو متوجہ کرنے کے لیے بول اٹھا۔
’’ارے… آپ ابھی ادھر ہی ہیں حاشر بھائی…؟‘‘ سحرش کی توپوں کا رخ اب حاشر کی طرف ہوگیا تو اس نے ایکسیلیٹر دبایا۔
’’حمنہ یار… تو ناں گرمیوں میں حجاب نہ لیا کر۔ کچھ نہیں ہوتا۔ کتنی گرلز ہیں یہاں جو سر پر دوپٹہ تک نہیں لیتی۔‘‘ سحرش کے اس مفت مشورے پر حمنہ اسے گھور کر رہ گئی۔
’’پہلے ہی اتنی گرمی ہے… تجھے نہیں لگتی اس عبایہ میں…؟‘‘
’’پہلی بات تو یہ کہ اتنا اچھا موسم ہے میڈم۔ گرمی کہاں ہے۔‘‘ دونوں چلتے چلتے رک گئے اور ایک قریبی بینچ پر بیٹھ گئیں۔
’’دوسری بات یہ کہ… پردہ اپنی سہولت کے لیے نہیں بلکہ اﷲ کی اطاعت کے لیے کیا جاتا ہے… پتا ہے… جب ہم کوئی کام صرف اور صرف اﷲ کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں تو اس کا احسان کسی دوسرے پر نہیں جتایا جاتا۔ نہ ہی اس راہ کی تکلیفوں کو کسی اور کے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ اپنا نفع ونقصان اگر دیکھا جاتا تو آج تاریخ میں ہماری امت کا نام سنہری لفظوں میں کیسے لکھا ہوتا؟ جب پردہ کی آیات نازل ہوئیں تو صحابیاتؓ نے اسی وقت اپنی چادریں اپنے چہروں پر اوڑھ لیں اور جب شراب کو حرام قرار دیا گیا گو مکہ کی گلیاں شراب سے بھر گئیں تھیں۔ کسی نے نفع نقصان نہیں سوچا… کسی نے اسلام خدا اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر احسان نہیں جتایا۔ اپنے ان نیک اعمال کا… کسی نے شکوہ شکایات نہ کیں۔ تم خود سوچو سحرش…! جن لوگوں کی روزی ہی شراب کی تجارت پر منحصر ہو… ان کے لیے مشکلات نہ ہوتی ہوں گی… ایسا بقون الاولون کو کیا کیا نہ سہنا پڑا ایک حق کی پہچان کے بدلے… حضرت بلالؓ کو دہکتے کوئلوں پر لٹادیا جاتا تھا۔‘‘ وہ جیسے سفر میں تھی… یہاں تو موجود ہی نہ تھی… شاید مکہ کی گلیوں میں گھوم رہی تھی۔ بولتے بولتے اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں… آواز میں کپکپاہٹ در آئی تھی۔
’’اور وہ… پھر بھی ’’احد‘ احد‘‘ پکارتے تھے۔ حضرت فکیہہ جن کا نام ’’اضلح‘‘ تھا۔ ان کے مالک پاؤں میں رسی باندھ کر زمین پر گھسیٹتے تھے۔ حنباب بن ارتؓ کو جلتے کوئلوں پر لٹا کر اوپر پھر رکھ دیا جاتا تھا… ہلا دیئے گئے تھے وہ لوگ۔‘‘ چہرہ صاف کرتے ہوئے حمنہ نے سحرش کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہمیں کیا تکلیف ہے زاری…؟ کتنی آسان ہے ہماری زندگی۔ ہم سے تو دین نے کوئی قربانی نہیں مانگی… صرف اور صرف اطاعت مانگی ہے۔ کیا ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے؟ تمہیں تو پتا ہے… جب شیطان نے اﷲ تعالی سے کہا کہ میں آپ کے بندوں کو بہکاؤں گا اور وہ ضرور میری باتوں میں آئیں گے… (القرآن) تو رب نے فرمایا کہ میرے بندوں پر تمہارا زور نہیں چلے گا۔ (القرآن) لیکن ہم کتنی آسانی سے رب کا یہ مان توڑنے میں مصروف ہیں… ہم اپنے رب کا مان نہیں رکھ سکتے؟‘‘ سحرش کا دل جھک رہا تھا۔ اس سے حمنہ کے پُو نور چہرے پر چمکتی آنکھوں میں مزید نہ دیکھا گیا۔
’’سوری۔‘‘ دونوں کان چھوتے ہوئے معافی طلب کی اور بولی۔ ’’سنو… روزے کی حالت میں تمہیں پیاس نہیں لگتی؟‘‘ حمنہ مسکرادی۔
’’نہیں… میں انسان تھوڑی ہوں۔‘‘ شرارت سے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
’’بتا دو یار… شیئر کرلو اپنا یہ راز… شاید میرے کام بھی آجائے۔‘‘ مدھم لہجے میں اس نے التجا کی۔
’’لگتی ہے… پیاس بھی لگتی ہے… گرمی بھی لگتی ہے… لیکن آب کوثر کے ٹھنڈے میٹھے پانی کا تصور ہی میری پیاس مٹا دیتا ہے اور پھر روزہ اﷲ کے لیے ہے ناں تو وہ ہمت بھی دے گا اور ان تکلیفوں پر اجر بھی دے گا… سب سے بڑھ کر اس کی رضا ہے۔ یہ یقین کامل مجھے کمزور نہیں ہونے دیتا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے حمنہ مسکرادی۔ اس یقین کامل کا نور اس کے چہرے‘ اس کی ذات سے جھلک رہا تھا۔ وہ مطمئن تھی ہرحال میں۔ اس کے پاس صبر وشکر کا خزانہ تھا۔
’’تم انسپائریشن ہو حمنہ اور میں تمہیں اپنے سے دور نہیں جانے دوں گی۔‘‘ سحرش نے دل ہی دل میں کچھ سوچا اور اب وہ اس کو عملی صورت دینے کے لیے تیار ہوگئی۔
’’اوھو… ایک پیریڈ بنک ہوگیا اب دوسرا بھی مس کرنے کا ارادہ ہے۔‘‘ حمنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا۔
دن یوں ہی گزرنے لگے۔ کسی کے شکوے شکایتوں سے لبریز اور کسی کے صبر وشکر کے سہارے۔ وقت کا کام گزرنا ہے۔ لیکن وہ جاتے جاتے تاریخ کے اوراق پر رویے لکھ جاتا ہے۔ ماہ رمضان میں خاص لوگوں کے دل وسیع کردیے جاتے ہیں۔ تو وہ دوسرے بندوں کا دکھ درد محسوس کرنے لگتے ہیں۔ نیکیوں میں دوڑ لگاتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جن کے دل مزید تنگ ہوجاتے ہیں۔ اس کا عملی نمونہ صبح صبح حمنہ نے دیکھ لیا۔
محلے کی ایک بچی نے برف لینے کے لیے دروازہ پر دستک دی۔ امینہ چاچی نے برف تو نہ دی بلکہ وہ سنائیں کہ وہ بے چاری دوبارہ اس گھر کا رخ نہ کرتی اگر بروقت وہ مداخلت نہ کرتی۔
’’اس گرمی میں برف جمتی کہاں ہے…؟ بجلی تو رہتی نہیں اب ایک کٹورے میں برف ہے تو وہ تمہیں دے کر خود بیٹھ جائیں کیا… جاؤ بھئی… معاف کرو۔‘‘ ہاتھ ہلاتے وہ جیسے ننھی سی بچی کے ساتھ جھگڑا کررہی تھیں۔
’’یہ لو بیٹا… جب چاہے برف لینے آجایا کرو۔‘‘ حمنہ نے برف کا شاپر اس کو پکڑاتے ہوئے کہا۔
’’ہائیں… ہم کیا کریں گے حمنہ…؟ ‘‘ حیرت سے پوچھا۔
’’آنٹی… شا م تک اور جم جائے گی فکر نہ کریں۔‘‘ امینہ آنٹی تو منہ بناتی اندر چلی گئیں… اپنے تخت پر براجمان دادی دور سے ہی یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ وہ زیرلب مسکرانے لگیں۔ انہیں اپنی اس معصوم پوتی سے یہ ہی امید تھی۔
ز…ز…ز…ز
رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا تھا۔ یونیورسٹی کی چھٹیاں تھیں۔ روشی بھی کالج سے فری تھی۔ آج کل دونوں بہنیں گھر کی صفائیوں کے ساتھ ساتھ عید کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ دادی کے لیکچر بھی جاری تھے اور امینہ آنٹی کی طنزیہ باتیں بھی سب کچھ روٹین کی مطابق چل رہا تھا۔ ایسے میں گھر میں ایک نئے فرد کی آمد سے ماحول میں کھلبلی مچ گئی۔
امینہ آنٹی کے بیٹے کاشف نے لاہور میں ہی اپنی ایک کولیگ سے کورٹ میرج کرلی۔ موصوفہ خاصی الٹرا ماڈرن تھیں۔ جینز شرٹ کے ساتھ دوپٹے سے بے نیاز فل میک اپ میں لتھڑا چہرہ کسی کو بھی ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔ چچا جان بیٹے سے ناراض ہوگئے۔ امینہ آنٹی نے بھی خاصی سختی سے کلاس لے ڈالی۔ یہاں تک کہ طلاق دینے پر اصرار کرنے لگیں۔ ایسے میں حمنہ میدان میں کودی۔
’’آنٹی… طلاق تو انتہائی مکروہ عمل ہے۔ کورٹ میرج سے بھی زیادہ۔ ایسا نہ کہیں آپ۔‘‘
’’تمہارا دل کتنا بڑا ہے حمنہ بیٹا۔ مانا کہ کاشف کو ماڈرن لڑکی چاہیے تھی لیکن اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ اس کی ڈیمانڈ یہ نمونہ ہے تو میں کبھی تیری اور کاشف کی منگنی نہ توڑتی۔‘‘ وہ اب پچھتا رہی تھیں۔ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔ جب ہیرا مل جائے تو اس میں بے جا نقص نکال کر شکوہ کناں رہتا ہے اور جب طوبی جیسی لڑکی ملتی ہے تو بھی ناخوش۔
’’نہیں آنٹی… طوبی بھی بری نہیں ہے۔ اسے کچھ ٹائم تو دیں… وہ یہاں اس ماحول میں ایڈجسٹ کرلے گی… اور وہ تو کاشف کی پسند ہے… آپ انکل کو سمجھائیں ناں… انہیں تھوڑا ٹائم دیں ایڈجسٹ ہونے کے لیے۔‘‘ اور پھر امینہ آنٹی نے حمنہ کی بات رکھ لی لیکن یہ تھا کہ وہ ابھی بھی طوبی کو مخاطب نہ کرتی تھیں۔ بس اس کی خدمات وصول کرتی دل ہی دل میں اس کی گرویدہ ہوتی جاتی تھیں۔
’’حمنہ دیکھو کون آیا ہے…؟‘‘ وہ ڈائجسٹ کے مطالعہ میں بری طرح محو تھی کہ ایک دم سے روشی کی آواز پر تقریباً اچھل ہی پڑی۔
’’کون ہے…؟‘‘ اس نے جونہی سر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو سرپرائز رہ گئی۔
’’اوہ مائی گاڈ…! سحرش کی بچی اچانک کہاں سے ٹپک پڑی…؟‘‘ خوش گوار حیرت اور پرتپاک جذبات چہرے پر سجے ہوئے تھے۔ سحرش‘ حمنہ سے ملنے کے بعد اب امینہ آنٹی سے ملنے کے لیے ان کی طرف بڑھی جو کہ ابھی ابھی اپنے کمرے سے باہر آئیں تھیں۔
’’آنٹی آپ ڈرائنگ روم کا چکر لگالیں۔ مما اور دادو کو بھی لے جائیے گا۔‘‘ روشی نے امینہ آنٹی کو اشاروں کنائیوں میں ڈرائنگ روم میں بیٹھے مہمانوں کی طرف متوجہ کیا۔
’’اچھا بتاؤ ناں… اچانک کیسے آنا ہوا… بتایا بھی نہیں… اور کون ہے ڈرائنگ روم میں…؟‘‘
’’بس جی… ہم نے سوچا کہ وہ نمونہ ہم بھی دیکھ آتے ہیں جس کو میری پیاری سہیلی پر فوقیت دی گئی تھی۔‘‘ حمنہ اپنی جگہ خاموش رہ گئی۔ روشی بھی پاس ہی بیٹھی تھی۔ اس سے بھی کچھ بولا نہ گیا لیکن اس خاموشی کو توڑنے والی بھی حمنہ ہی تھی۔
’’وہ اچھی ہے زاری… اپنی جگہ ٹھیک ہے وہ اور کاشف کو تو وہی ملنا تھا ناں جس کا وہ مسحق ہے۔‘‘
’’صحیح کہا… وہ تمہارے قابل نہیں تھا۔‘‘ اتنے میں طوبی بھی آگئی اور تھوڑی دیر میں محفل اپنے جوبن پر تھی۔
ز…ز…ز…ز
’’حمنہ آج جاؤ اور اپنی عید کی شاپنگ کر آؤ۔‘‘ حمنہ سحری کے برتن دھورہی تھی۔ جب مما نے کہا۔
’’روشی بھی تو ہے… جس کو ایک بار ہی کہنا پڑتا ہے۔ اب دیکھو اس نے اپنی ہر چیز پوری کرلی ہے۔ آج طوبی جائے گی تم اس کے ساتھ چلی جانا۔‘‘ مما ساتھ ساتھ کچن کی ڈسٹنگ میں مصروف تھیں۔
’’اوکے مما جانی… اور کوئی حکم۔‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے فوراً بات مان لی۔
اچھی لڑکیاں ہر حال میں خوش رہتی ہیں۔ دل میں اگر خوشی نہ بھی ہو تو بھی چہرے پر ہنسی سجالیتی ہیں۔ تقدیر کی شکایت کیا کرنا…! رب نے لکھی ہے ناں… تو بہترہی ہوگی ناں۔
ان ہی مصروفیات بھرے دنوں میں… حمنہ کا دل سہما جارہا تھا۔ بات بات پر آنکھ سے آنسو چھلک پڑتے… بات کرتے کرتے وہ کہیں کھو سی جاتی۔ ایسے میں روشی اس کے ساتھ ساتھ رہتی۔ اس کا دھیان بٹاتی۔ اپنے کالج کے پرانے قصے یاد کرکے چٹخارے لے لے کر سناتی۔ چاند رات سر پر آن پہنچی تھی۔ دن میں ہی سحرش کا فون آگیا۔
’’ رات نو بجے تیار رہنا… چوڑیاں پہننے کے لیے جائیں گے۔‘‘ افطاری کے بعد روشی اور طوبی بھی تیار تھیں۔ حسب معمول حمنہ نے حجاب اور عبایہ پہن رکھا تھا۔ روشی نے بڑی چادر سے نقاب کر رکھا تھا اور طوبی نے جینز اور لانگ شرٹ کے ساتھ دوپٹہ سر پر لے رکھا تھا۔ کاشف طوبی کے ساتھ ہی کمرے سے باہر آیا تو حجاب میں لپٹی حمنہ کو دیکھ کر… ایک خسارے کا احساس ہوا۔
مما اور امینہ آنٹی نے بطور خاص یہ بات محسوس کی تھی۔ اتنے میں گاڑی کا ہارن بجا اور مما نے دعاؤں کے سہارے اپنی تینوں بیٹیوں کو رخصت کیا۔ سب نے خوب انجوائے کیا۔ حمنہ کی پسند کو کاشف نے دل ہی دل میں سراہا۔ سحرش اپنے بھائی کی رگ رگ سے واقف تھی۔ اس لیے اس نے یہ پلان بنایا تھا۔ وہ گھر واپس آئیں تو امینہ آنٹی اور مما نے صبح کے لیے سب تیاریاں کر رکھی تھیں۔ میٹھا بن چکا تھا۔ چاٹ کے لوازمات بھی تیار تھے۔ بس صبح مکس کرنا تھا۔ کپڑے تو لڑکیوں نے دن میں ہی پریس کر لیے تھے۔
ہتھیلی پر لگی مہندی حمنہ کو بہت اچھی لگ رہی تھی۔ وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی کافی دیر سے مہندی دیکھ رہی تھی۔ دل میں تشکر تھا۔
’’اب سو جاؤ آپی… باقی صبح دیکھ لینا۔‘‘ روشی نے شرارت سے کہا اور ساتھ ہی روشنی گل کردی۔
ز…ز…ز…ز
’’عید مبارک۔‘‘ روشی کی آواز کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھلی تھی۔
’’عید مبارک۔‘‘ وہ اپنی بہن کے گلے لگی پھر کچھ یاد آیا تو یک دم سے پیچھے ہٹی اور کہا۔
’’اپنی مہندی دکھاؤ۔‘‘ ساتھ ہی اپنے ہاتھ بھی آگے کردئیے۔ دونوں کے ہاتھوں پر مہندی نے گہرا رنگ رچایا تھا۔
بابا سے عیدی وصول کرنے کے بعد دونوں تیار ہونے چلی گئیں۔ جب کہ مما جانی اور امینہ آنٹی کچن میں مصروف تھیں۔ عید کے دن وہ بچیوں کو کچن میں جھانکنے بھی نہ دیا کرتی تھیں۔ خود سارے کام سنبھال لیتیں۔ ساتھ ساتھ محلے داروں اور رشتہ داروں سے عید کی مبارک باد وصول کرنے میں مصروف تھیں۔ روشی کے ماموں جان اپنی فیملی کے ساتھ آئے۔ کزنز بھی ساتھ تھیں۔ پھر دیگر لوگ بھی جمع ہونے لگے۔ حمنہ نے تعجب کا اظہار کیا تو مما جان نے اسے کمرے میں بھیج دیا۔ وہ حیران پریشان سی کمرے میں آکر بیٹھ گئی۔ روشی نے آج اس کو تیار کیا تھا۔ چوڑی‘ گجرے‘ زیورات کے ساتھ ساتھ ٹیکا بھی۔ اچانک دروازہ کھلا۔ بابا اور چچا جان کے ساتھ کچھ اور مردوں کو دیکھ کر بے اختیار دوپٹہ سر پر کھینچا۔
’’حاشر احمد ولد غیاث الدین کے ساتھ آپ کا نکاح بعوض حق مہر نقد پانچ تولے سونا کے ساتھ کیا جاتا ہے… کیا آپ کو قبول ہے…؟‘‘ وہ ہونق بنی بابا کی طرف دیکھنے لگی… اور پھر سب اچھا ہوگیا۔ سحرش کہ اس پلان پر اسے بھی حیرت ہوئی جتنی کہ حاشر کو ہوئی تھی۔
اس کا دل اپنے رب کے حضور اور بھی جھک گیا۔ یقین کامل جس کا زاد راہ ہو۔ رب اس کا وہی ہوجاتا ہے اور رب سے بہتر کارساز کوئی نہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close