Aanchal Jun-16

سجودوقیام کے پیچھے

حمیرا نوشین

تو سجود و قیام کے پیچھے
اور میں ہوں امام کے پیچھے
جامِ کوثر کو آشکارا کر
کون مخفی ہے جام کے پیچھے

’’لاپروائی کی بھی حد ہوگئی نہ ان کے دلوں میں بڑوں کا لحاظ رہا نہ خدا کا خوف۔ سورج کی کرنوں نے پورے گھر کو چکا چوند کردیا۔ چرند پرند‘ شجر‘ حجر سب اس کی حمد وثناء میں مصروف ہیں۔ مگر یہ سارے مردوں سے شرط باندھ کر سورہے ہیں۔ کیا خاک رزق برسے گا اس گھر میں۔ جس کے مکینوں کو ہاتھ اٹھانے کی فرصت نہ ہو۔ رزق‘ صحت‘ بخشش سب نعمتیں اﷲ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بانٹ چکا ہوتا ہے تب یہ ہاتھ جھاڑتے‘ آنکھیں ملتے دنیا کے دھندوں کے لیے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ یہ سب تمہاری ڈھیل ہے عروسہ سلطانہ جو یہ آج دن چڑھے تک نحوست پھیلا رہے ہیں۔‘‘ ان کی توپوں کا رخ بہو کی طرف ہوگیا۔
’’میں نے تو اٹھایا تھا مگر پھر سوگئے مجھے بھی نماز کے لیے دیر ہورہی تھی اس لیے میں بھی مصروف ہوگئی۔‘‘ انہوں نے کمزور لہجے میں وضاحت دی۔
’’رہنے دو بس اپنی یہ فضول صفائیاں۔ ارے کیسی ماں ہو تم بچوں کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہو۔ راتوں کی نیندیں اپنے اوپر حرام کرلیتی ہو۔ نہ دن دیکھتی ہو نہ رات۔ ان کی تکلیف دور کرنے کے لیے سو جتن کرتی ہو۔ اس تکلیف کا بھی کبھی سوچا ہے تم نے جب ان کے جسم دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔‘‘ ان کے تسبیح کے دانے تیزی سے گررہے تھے اور ماتھے پر تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔ غصے سے جسم الگ کانپ رہا تھا۔ عروسہ نے کوئی جواب دینے کے بجائے قرآن پاک جزدان میں لپیٹ کر دعا مانگی اور کچن کا رخ کیا یہ آج کی بات نہیں تھی۔ روز دن کا آغاز اماں کی چیخ وپکار سے ہوتا ایک ایک کو نماز کے لیے آوازیں دیتیں۔ اپنی لاٹھی زور زور سے دروازوں پر مارتیں مگر وہ بھی کان لپیٹے پڑے رہتے۔ اماں کی بڑبڑاہٹ گھنٹے تک جاری رہتی اور سارا نزلہ عروسہ پر گرتا۔ مگر وہ بے چاری بھی کیا کرتی۔ بچے دروازے لاک کرکے سو جاتے وہ ان کو سمجھاتیں‘ اﷲ کا خوف دلاتیں۔ دادی کا حکم ماننے کو کہتیں مگر بچوں کے کان پر جوں نہ رینگتی وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی بستر کو خود سے جدا کرتے۔ سردیوں میں تو دروازے لاک کرکے جان بخشی ہوجاتی مگر گرمیوں میں ان کی وہ شامت آتی کہ ان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے۔
سر شام صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرکے چارپائیاں بچھادی جاتیں۔ ساری نمازیں اماں اپنی نگرانی میں پڑھواتیں اور وہ مارے باندھے پڑھنے کو تیار ہوجاتے مگر صبح کی نماز کے لیے اٹھنا ان کے لیے سوہان روح تھا۔ ذرا سی دیر ہوجاتی تو اماں کی کڑک دار آواز کے ساتھ لاٹھی بھی کمر پر برستی تو سب کے سب پیٹھ سہلاتے مندی آنکھوں سے باتھ روم کا رخ کرتے۔ شزا دادی کی اس لاٹھی سے بڑی عاجز تھی۔ وہ لاٹھی کے ڈر سے بڑبڑا اٹھتی۔
’’زبردستی کی نمازیں پڑھواتی ہیں۔ ہماری عمر میں گھوڑے‘ گدھے سب بیچ کر سوتی ہوں گی۔ ہمارے اوپر ڈنڈے برساتی ہیں۔‘‘ وہ مسلسل بڑبڑاتے ہوئے بالآخر مصلّے پر کھڑی ہوجاتی۔
پتا نہیں اب وہ دادی کو صلواتیں سناتی تھی یا واقعی نماز پڑھتی تھی۔ الٹے سیدھے سجدے کیے اور اندر کمرے میں جاکر جو چادر تان کر سوتی تو عین کالج کے وقت پر اٹھتی۔
’’یار کچھ کرو دادی کا۔ ایمان سے کلاس میں بھی مجھے تو نیند آتی رہتی ہے۔ ہر وقت سر چکراتا رہتا ہے۔ صبح اٹھنے کے خیال سے رات کو بار بار آنکھ کھلتی ہے۔ نیند پوری نہیں ہوگی تو کیا خاک پڑھائی ہوگی۔‘‘ وہ چاروں سر جوڑے اس مسئلے کا حل سوچنے کی فکر میں تھے۔
’’ایسا کرتے ہیں دادی کی عینک اور لاٹھی چھپا دیتے ہیں۔ نہ عینک کے بغیر وہ ہماری چارپائیوں تک پہنچ سکیں گی نہ لاٹھی ہمارے اوپر برسے گی۔‘‘ حمنہ نے اپنے تئیں حل نکالا۔
’’بے وقوف اپنے ہی جیسی نامعقول بات کرنا۔ عینک اور لاٹھی نہ ملی تو امی کی شامت آجائے گی۔ انہیں سو سو باتیں سننے کو ملیں گی کہ وہ لاپروائی کرتی ہیں۔ ان کی چیزوں کو ٹھکانے پر نہیں رکھتیں اور ابو شام کو ہی دونوں چیزیں نئی لا کر ان کے ہاتھوں میں تھمادیں گے۔ کوئی اور تدبیر سوچو۔‘‘ ان سب نے اس خیال کو مسترد کردیا۔
’’تو پھر ایسا کرتے ہیں دادی روز رات کو دودھ پیتی ہیں۔ ان کے دودھ میں نیند کی گولی ملادیتے ہیں۔ صبح دیر تک سوتی رہیں گی۔ اس طرح ہماری جان بھی بخشی ہوجائے گی۔‘‘ فصیح نے اپنی عقل دوڑائی اور یہ مشورہ سب کو بھایا۔ رات کو عشاء کے بعد شزا بڑے پیار سے دودھ کا گلاس لے کر دادی کے پاس آئی۔
’’یہ لیں دادی آج میرے ہاتھ کا بنا ہوا دودھ پئیں۔ امی تو چینی برائے نام ہی ڈالتی ہیں۔ میں نے چمچ بھر کر اس میں ڈالا ہے۔ مزے سے پی جائیں۔‘‘ شوگر کی وجہ سے دادی کو میٹھا کم ہی کھانے کو ملتا اور وہ میٹھے کی رسیا تھیں۔
’’میری بچی کو میرا کتنا خیال ہے۔ ویسے ایک بات تو بتا! آج دادی کی محبت کیوں امڈ کر آرہی ہے۔‘‘ انہوں نے عینک کے پیچھے سے گھورا۔
’’ارے دادی آپ تو ہماری جان ہیں۔‘‘ اس نے مسکہ لگایا۔
’’اچھا…‘‘ انہوں نے اسے شکی نگاہوں سے دیکھا اور دودھ کا گھونٹ بھرا تو ذائقہ کچھ عجیب سا لگا۔ پھیکا دودھ روزانہ پی کر میٹھے دودھ کا ذائقہ کچھ اچھا نہ لگا۔
’’بس جا کچن میں رکھ دے میرا جی نہیں چاہ رہا۔‘‘ انہوں نے گلاس اس کے ہاتھ میں تھمادیا۔ شزا کے بارہا اصرار پر بھی انہوں نے دودھ کا دوسرا گھونٹ تک نہ بھرا اور ان سب کے چہروں پر مردنی چھاگئی۔ یہ منصوبہ بھی ناکام رہا۔ اس خیال سے ہی ان کی جان نکلنے لگی کہ صبح پھر میٹھی نیند کی قربانی دینی پڑے گی۔
ز…ز…ز…ز
’’امی خدا کے لیے دادی کو تایا ابو کی طرف بھیج دیں کیا آپ نے اور ابو نے ان کی خدمت کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ ہمارا تو جینا دوبھر کردیا ہے انہوں نے۔ اپنی مرضی سے سانسں تک نہیں لے سکتے۔ دوپٹہ سر پر اوڑھو‘ نماز پڑھو‘ جوان لڑکیوں کا چھتوں پر کیا کام‘ میوزک سننے والے کے کانوں میں قیامت کے دن پگھلا سیسہ ڈالا جائے گا‘ یہ اونچے قہقہے کیوں لگا رہی ہو‘ قمیص کی اتنی فٹنگ کیوں کروائی ہے‘ لپ اسٹک سے ہونٹ کس لیے رنگے ہیں۔ حد ہوگئی زندگی عذاب مسلسل بنادی ہے انہوں نے ہمارے لیے۔‘‘ شزا آج جی بھر کر غصہ نکال رہی تھی اور عروسہ اسے آنکھیں دکھانے لگیں۔
’’شرم کرو کچھ تمہارے باپ کی ماں ہیں۔ تمہارے بھلے کے لیے کہتی ہیں۔ سدا دنیا میں نہیں رہنا۔ نصیب والوں کے گھر میں بزرگ ہوتے ہیں۔ ان ہی کی دعاؤں اور برکتوں سے سو بلائیں ٹلتی ہیں۔ آج تمہاری دادی کے بارے میں یہ خیال ہے سوچو کل کو فصیح کی اولاد تمہاری ماں کے بارے میں اگر ایسی سوچ رکھے تو میرے دل پر کیا گزرے گی۔‘‘ انہوں نے اسے ڈانٹ پلائی تو وہ منہ بنا کر اٹھ گئی۔
صبح اسکول کالج جانے سے پہلے دادی کے کمرے میں حاضری لازمی تھی۔ پتا نہیں کیا کیا پڑھ کر پھونکتی تھیں۔ جب تک ساری پھونکیں مکمل نہ ہوجاتیں وہ جان نہ چھوڑتی اور وہ چاروں بے زاری سے بار بار کلاک کی طرف دیکھتے وین کا ہارن بجتا رہتا اور وہ سب دل میں پیج وتاب کھاتے ان کی آخری پھونک کے انتظار میں رہتے جونہی تیسری پھونک ان کے پورے وجود کو سیراب کرتی وہ تیر کی طرح کمرے سے نکل جاتے۔ شام کو چاروں ماں کو پکڑ لیتے۔ اپنے اپنے دکھڑے روتے اور وہ خاموشی سے سنتی رہتیں۔ باپ سے تو کچھ کہنا بے کار تھا وہ تو اپنی اماں کے خلاف ایک بھی لفظ بولنے والے کا منہ توڑ دیتے اور انہیں اپنا منہ بہت عزیز تھا۔ ایک عروسہ ہی تھی جو ساس کی بھی سنتیں اور بچوں کی بھی دکھیاری کہانی سنتیں کبھی تو وہ ان کو جھڑک دیتیں۔
’’کہ یہ کیا ہر وقت جاہل عورتوں کی طرح تم میری ساس کے خلاف میرے کان بھرتے رہتے ہو۔ مجھے تو یوں لگتا ہے تم میری اولاد نہیں بلکہ پڑوسن ہو جو مجھے اماں کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہو۔ تم لوگ میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔ میں تمہارے بہکاوے میں نہیں آؤں گی۔ وہ حق بات کہتی ہیں اور میں سچائی کا ساتھ دوں گی۔ تم لوگ ان کو نہ موقع دیا کرو کہ وہ تم پر ڈنڈے برسائیں۔ ارے محبت میں وہ یہ سب کرتی ہیں۔ کتنی دعائیں دے کر وہ تمہیں گھر سے رخصت کرتی ہیں۔ یہ انہی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ تم بخیرو عافیت گھروں کو واپس لوٹتے ہو۔‘‘ وہ ان کی خوب خبر لیتیں اور وہ بڑبڑانے لگتے۔ کچی عمر میں یہ باتیں کب سمجھ میں آتیں ہیں۔ وہ تو دادی کو اپنا ’’صریح‘‘ دشمن تصور کرنے لگے تھے۔
کئی بار حمنہ نے ان کو باتوں باتوں میں پھوپو کے گھر جانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی مگر سب بے سود۔ دادی نے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا۔
’’کہ میں سب سمجھتی ہوں تمہاری یہ چالاکیاں۔ مجھے پھوپو کے گھر بھیج کر دن میں لمبی تان کر سونا اور رات کو شیطان کو راضی کرنے کے کام کرنا۔ میں ہرگز تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ طاہرہ کے گھر جاکر میں کیا کروں گی وہاں تو ماشاء اﷲ بچہ بچہ نمازی ہے۔ ماں کے کہنے سے قبل ہی سب صبح کو بستر چھوڑ چھاڑ کر مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ ارے ضرورت تو مجھے یہاں رہنے کی ہے۔ تمہارے جیسوں کو دین کی راہ سمجھانی ہے۔ کل کو میں مروں گی تو خدا کو کیا جواب دوں گی کہ اپنی نمازوں کی فکر رہی اپنی آخرت کی تیاری کرتی رہی۔ گھر کے لوگوں کا کچھ خیال نہ آیا۔ نہ بنو‘ نہ تمہیں چھوڑ کر میں کہیں نہیں جانے کی۔ اب تو اﷲ ہی بلائے گا تو اس گھر سے نکلوں گی۔‘‘ وہ پورے شدومد سے انکار میں گردن ہلادیتیں اور وہ سب دل مسوس کر رہ جاتے۔
شزا پورے انہماک سے رسالہ پڑھنے میں مگن تھی نہ اطراف کا ہوش نہ گرمی کا احساس۔ لائٹ کب کی جاچکی تھی مگر وہ موسم کی شدت سے بے نیاز پسینے میں شرابور ناول کے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جونہی ہیرو اپنی نوبیاہتا بیوی کو منانے کی غرض سے اس کے قریب ہوا۔ رسالہ ایک جھٹکے سے اس سے دور فاصلے سے جا گرا۔ کچھ ثانیے تو اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے۔ نظریں اٹھا کر دیکھا تو دادی خشمگین نگاہوں سے گھورے جارہی تھیں۔ انہوں نے رسالہ پر لاٹھی کی ایسی کاری ضرب لگائی کہ صفحے زخمی حالت میں اپنی بے بسی پر نوحہ کناں تھے اور شزا ہیرو کے رومینٹک انداز سے محظوظ ہونے کے بجائے دادی کی بے وقت آمد پر جل کر ہی تو رہ گئی۔
’’جب دیکھو ان خرافات میں منہ دیئے پڑی رہتی ہو۔ ان جھوٹے قصے کہانیوں میں اپنا وقت اور عاقبت دونوں خراب کرتی ہو۔ کبھی اس روشن کتاب کو پڑھنے کی بھی توفیق ملی ہے تمہیں جس سے پوری زندگی روشن ہوجاتی ہے۔ قرآن پڑھ کر بھلا دیا ناعاقبت اندیش۔ قیامت کے دن اندھی ہوکر اٹھوگی۔ جب تمہارے دین کے متعلق سوال پوچھے جائیں گے تو کیا جواب دوگی۔ اپنا یہ منکا انکار میں ہلاؤ گی کیا۔‘‘ اب دادی نے لاٹھی اس کے سر پر بجائی اور شزا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
’’یہ میرا اور اﷲ کا معاملہ ہے آپ فکر مند ہونا چھوڑ دیں۔ اپنی آخرت کی فکر کریں کیا پتا کب بلاوا آجائے۔ ہماری تو زندگی پڑی ہے پڑھ لیں گے نمازیں اور قرآن۔‘‘ اس نے تنفر سے کہتے ہوئے بستر پر پڑا ہوا رسالہ اٹھایا اور پھر سے مگن ہوگئی۔ یہ دیکھے بغیر کہ اس کے الفاظ نے دو بوڑھی اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں کو نم کردیا ہے۔ کچھ دیر کے لیے دادی کا دل دھڑکنا ہی بھول گیا مگر ادھر کب پروا تھی وہ بے نیاز ہوکر پڑھتی رہی اور انہوں نے لرزتے قدموں سے اپنے کمرے کا رخ کیا۔
ز…ز…ز…ز
کئی دنوں سے دادی کی طبیعت سخت خراب تھی۔ شوگر کنٹرول نہیں ہو پارہی تھی۔ بلڈ پریشر بھی بڑھ گیا تھا۔ وہ ایک دم ہی بستر سے جالگیں۔ عروسہ بیگم اور اختر علی جی جان سے خدمتوں میں لگ گئے۔ علاج معالجہ باقاعدہ کروایا جارہا تھا مگر لگتا تھا کوئی دوائی اپنا اثر نہیں دکھا رہی تھی۔ وہ چند دنوں میں ہی ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئیں بیٹھنے کی بھی سکت نہ رہی۔ لیٹے لیٹے اشاروں سے نمازیں پڑھتیں۔ ٹکر ٹکر پورے گھر کو بچوں کو دیکھے جاتیں اور آنکھوں سے آنسو گرتے رہتے وہ سب بھی ان کی اس حالت پر دکھی ہوجاتے۔
ایک دن وہ سب ان کی چارپائی کے گرد بیٹھے تھے۔ عروسہ صبح وشام ان کو سورہ یسین پڑھ کر سناتیں۔ دادی نے چاروں پوتا پوتی کو اشارے سے اپنے قریب بلایا ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور اپنے کمزور ہاتھ ان کے آگے جوڑ دیئے وہ سب ان کی اس حرکت پر کٹ کر رہ گئے۔ چاروں نے دادی کے ہاتھ چوم لیے اپنے سینے سے لگائے اور تڑپ اٹھے۔ کوئی دیوانہ وار ان کے جھریوں زدہ وماتھے پر بوسہ دے رہا تھا تو کوئی سینے سے لگا انہیں چوم رہا تھا نخیف وجود کا لمس کرنٹ بن کر ان کے جسموں کو لگا اور برق کی سی سرعت سے پورے وجود میں سرائیت کرگیا۔ بس وہی ایک لمحہ تھا جب ان کے دلوں میں دادی کی محبت نے پوری قوت سے پنجے گاڑ دیئے تھے۔ ان کا پور پور ان کی محبت میں بھیگتا چلا گیا۔ کب دادی نے چپکے سے ان کے گھر اور دنیا کو خیرآباد کہہ دیا انہیں خبر تک نہ ہوئی۔
لاٹھی برسانے والے ہاتھ ساکت ہوگئے۔ عینک کے پیچھے سے گھورنے والی نگاہیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ دنوں وہ اس حقیقت سے انکار کرتے رہے کہ دادی اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔
چارپائی ان کے وجود سے خالی ہوچکی تھی۔ اب شزا‘ فصیح‘ حمنہ اور ضہیب گھنٹوں دادی کے بستر پر بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں۔ اب دادی تو نہیں رہیں نہ لاٹھی ان پر روز برستی ہے نہ چیخ وپکار ان کی نیندوں میں خلل ڈالتی ہے مگر پھر بھی نیند فجر کی اذان کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں سے جدا ہوجاتی ہے اور وہ نم آنکھوں سے ان کی لاٹھی کو دیکھتے ہوئے نماز کی تیاری کرتے ہیں اور دل میں روز کہیں یہ خواہش ضرور ابھرتی ہے کہ بے شک لاٹھی ہمارے اوپر روز برسے مگر دادی ایک بار ہمارے پاس آجائیں ایک بار پھر سے ہمیں آوازیں دیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close