Aanchal Jun-16

زردپھولوں کی بارش

سمیرا غزل صدیقی

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا غم نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے

کمرے میں میوزک کی تیز آواز گونج رہی تھی‘ پورا کمرہ ابتری کا شکار تھا۔ سائیڈ ٹیبل پر کھانے کے برتن جھوٹے پڑے اپنی بے بسی پر ماتم کناں تھے۔ بیڈ کی چادر نیچے گری ہوئی تھی اور وہ اردگرد سے بے نیاز میوزک سننے میں اتنا مگن تھا کہ ثناء بیگم کے اندر آنے کا بھی اسے علم نہ ہوا نہایت غصے میں انہوں نے سسٹم بند کرکے اسے جھنجھوڑا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے وہاب! تمہیں تمیز نہیں ہے کہ اذان ہورہی ہے‘ اتنی تیز آواز میں میوزک سن رہے ہو کم از کم رمضان کا ہی خیال کرو۔ تمہاری دادی نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے غلطیاں تم لوگ کرو اور وہ بار بار مجھے سناتی ہیں۔ خود تو بیماری کی وجہ سے اوپر نیچے کر نہیں سکتیں‘ میرا دماغ خراب رکھا ہے کہ یہ مت کرو وہ مت کرو‘ اذان ہورہی ہے‘ گانے بند کرائو۔ سچ میں سر میں درد ہوجاتا ہے‘ اب تم یہ بند کرو اور اسے دوبارہ مت کھولنا سمجھے تم۔‘‘ اسے نہایت سختی سے وارن کرکے وہ زور سے دروازہ بند کرکے واپس چلی گئی تھیں۔
/…ء…/
’’ولید آپ اپنی امی کو کیوں نہیں سمجھاتے یہ آج کل کی ینگ جنیریشن ہے ان کے اپنے طور طریقے ہیں۔ اب خدانخواستہ کسی ناجائز یا غلط کام میں تو ملوث نہیں جو وہ ہر وقت میرے بچوں کے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔‘‘ ولید کے آفس سے آتے ہی حسب معمول ثناء بیگم ساس کی برائیاں اور شکایتیں لے کے بیٹھ گئی تھیں‘ انہیں اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ تھکے ہارے آفس سے لوٹے ہیں۔
’’ثناء آخر تمہیں کیا پرابلم ہے اماں سے‘ وہ سارا دن ایک طرف پڑی رہتی ہیں۔ کیا چاہتی ہو تم کہ میں انہیں گھر سے نکال دوں‘ اکلوتی اولاد ہوں ان کی اور مرتے دم تک وہ میری ذمہ داری ہیں اور یہ بات تم سمجھ لو کہ میں ان کی شان میں کوئی بھی گستاخی کبھی معاف نہیں کروں گا۔ کیا کمی ہے تمہیں‘ گھر میں اتنے نوکر چاکر ہیں‘ کبھی کوئی کام نہیں کرنا پڑتا صرف بچوں کی اور اماں کی ہی ذمہ داری ہے نہ تم پہ وہ بھی ٹھیک سے نہیں ادا کرسکتیں تم بولو۔‘‘ آج وہ چپ نہیں رہے تھے‘ پھٹ پڑے تھے‘ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ انہوں نے اتنے تلخ لہجے میں ان سے بات کی تھی وہ حیرت سے ان کا منہ تکتی رہ گئی۔
’’کیا ہوا خیریت تو ہے نہ اتنا غصہ کیوں کررہے ہیں آج آپ؟‘‘ وہ حقیقتاً حیرت زدہ رہ گئی تھیں۔
’’تمہیں اس سے مطلب‘ تمہیں تو بس پیسوں سے مطلب ہے اتنے پیسے چاہیں اور یہ سب کرنا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ بزنس کی کیا حالت چل رہی ہے‘ نقصان پہ نقصان ہورہا ہے مسلسل۔ مگر تم لوگوں کے شاہانہ خرچوں میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بس اضافہ ہی ہورہا ہے دن بہ دن۔ مجھے تو بس بِل پکڑا دیتے ہو تم لوگ کہ یہ بھردو کبھی سوچا کہ کہاں سے بھروں گا۔ تمہارے پاس صرف شکایتیں کرنے کا وقت ہوتا ہے یہ نہیں کہ دو گھڑی میاں کے پاس بیٹھ کے حال چال پوچھ لو‘ اتنے سال ہوگئے مگر تم نہ سدھریں۔‘‘ بزنس میں ہوتے مسلسل نقصان سے وہ سخت نڈھال ہوگئے تھے ان کی شریک حیات کے پاس تو اتنی فرصت نہ تھی کہ ان کی پریشانیوں کو سمجھتیں۔ ابھی بھی وہ آفس سے سخت پریشانی کی حالت میں نکلے تھے‘ اس لیے پھٹ پڑے تھے۔ وہ ثناء بیگم سے اتنے بدگمان ہوگئے تھے یہ سن کے خود ثناء بیگم حیران رہ گئی تھیں۔
’’پلیز میری بات سنیں۔‘‘ انہوں نے نام نہاد صفائی دینے کی کوشش کی تھی۔
’’بس اب مزید بحث مت کرنا‘ جائو اور ایک کپ چائے بھجوادو۔‘‘ ان کی بات کاٹ کے انہوں نے نہایت سختی سے کہا اور اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔
/…ء…/
’’یااللہ اپنے حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں میری اولاد اور ان کی اولاد کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھ‘ ان کی ہر پریشانی و تکلیف کو دور کر۔ میری بہو کو ہدایت سے نواز‘ یااللہ! رحم کر میرے بچوں پہ انہیں اچھے بُرے کی تمیز سکھا۔ انہیں ہدایت دے دے اور ان کے حال پہ رحم فرما۔ یااللہ میری اولاد کو نواز دے‘ ہر اس چیز سے جو ان کے حق میں بہتر ہو‘ اپنی بارگاہ میں میری ان دعائوں کو قبول فرما‘ آمین ثم آمین۔‘‘ مدھم روشنی میں جائے نماز بچھائے زارو قطار روتی وہ اپنی اولاد اور پوتے پوتی وبہو کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔ ان کی ہدایت کی خواستگار تھیں‘ ان کی آنکھوں میں گہرا دکھ تھا‘ ملال تھا۔ انہوں نے تو اپنے بیٹے کی پرورش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی پھر کیوں اس کی پرورش میں جھول آگیا۔ بہت چھان پھٹک کرکے انہوں نے ثناء بیگم کو اپنی بہو منتخب کیا تھا مگر وہ بھی روایتی بہوئوں کی طرح ہی نکلیں‘ بچے بھی جدید دور کی چکاچوند میں اپنا مذہب اپنا اصل بھلا بیٹھے اپنے شوہر عظمت صاحب کے انتقال کے بعد ان کا واحد سہارا و امیدوں کا مرکز ولید ہی تھا اس نے کم عمری میں ہی ان کا کاروبار سنبھالا اور خوب ترقی بھی حاصل کی مگر پھر بھی کسی کی بھی زندگی میں سکون نہ تھا۔
ماہ رمضان کا مہینہ کب آتا کب چلا جاتا پتا ہی نہ چلتا۔ ہاں بس ایک روز بڑی سی افطار پارٹی منعقد کی جاتی جس میں نامور تجارت کار اور ان کے اہلِ خانہ کو مدعو کیا جاتا ہے جہاں صرف باتیں ہی باتیں ہوتیں پیسوں کی‘ شہرت کی‘ اللہ کا شکر اور ذکر نہ تھا۔
یہی ایک دکھ سعیدہ بیگم کو اندر ہی اندر گھلا رہا تھا وہ اس قدر آزردہ ہوچکی تھیں کہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہوگئیں‘ کھانا ٹائم پر مل جاتا تو کھالیتیں ورنہ صبر کرلیتیں۔ ہاں بہو کو سمجھانا انہوں نے آج تک نہ چھوڑا تھا شاید کہ کبھی وہ سدھر جائیں سمجھ جائیں۔ وہ اپنے فرض سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھیں ابھی بھی سحری سے فراغت کے بعد وہ نماز و دعا میں مشغول تھیں کہ ہلکی سی آہٹ سے دروازہ کھلا اور ولید اندر داخل ہوئے تھے وہ وہیں نیچے ماں کے پاس بیٹھ گئے تھے۔ سعیدہ بیگم نے دعا مکمل کرکے نہایت محبت سے انہیں دیکھا تھا۔
’’خیریت بیٹا! اتنی صبح صبح کوئی کام تھا کیا‘ تم تو سحری میں بھی نہیں اٹھتے اب نہ ہی روزہ رکھتے ہو۔ یہ تعلیم تو نہ دی تھی بیٹا میں نے تمہیں۔‘‘ وہ ماں تھیں سو شکوہ کر بیٹھیں۔
’’مجھے شرمندگی ہے اماں! مگر کیا کروں نہ میری آنکھ کھلتی ہے‘ نہ ہی ثناء مجھے اٹھاتی ہے‘ اماں آپ میرے لیے دعا کیا کریں نہ میں بہت پریشان ہوگیا ہوں۔ کاروبار میں مسلسل نقصان ہورہا ہے‘ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں‘ میری تو راتوں کی نیند اڑ گئی ہے اگر یہی حال رہا تو ہم سڑک پر آجائیں گے۔‘‘ نہایت پریشانی سے انہوں نے ماں کے جھریوں زدہ چہرے کو دیکھا تھا‘ انسان چاہے کتنا ہی اونچائیوں پر چلا جائے لوٹتا اپنے اصل کی طرف ہی ہے وہ بھی بھلے اپنی مصروفیات میں الجھ کے ماں سے دور ہو بیٹھے تھے لیکن آج لوٹ کے وہیں آئے تھے بھلا کون ماں کی جگہ لے سکتا ہے۔
’’بیٹا! یہ سب ہمارے ہی گناہوں کی سزا ہوتی ہے اگر تم روز قرآن پاک کی تلاوت بمعہ ترجمہ کرتے تو سمجھ پاتے کہ آزمائش و سزا اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ النساء کی آیت نمبر ۷۹ میں ارشادہ فرماتا ہے کہ…
’اے انسان تجھ کو جو کوئی خوش حالی پیش آتی ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور جو کوئی بدحالی پیش آئے وہ تیرے ہی سبب سے ہے اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بناکر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے۔‘‘
بیٹا! میں تو ہر لمحہ تمہارے لیے دعا کرتی ہوں لیکن تم بھی ذرا اللہ کی آیات پر غورو فکر کرو اور اپنے اعمال پر غور کرو۔ ابھی بھی وقت ہے اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔‘‘ نہایت محبت سے انہوں نے اس کے ہاتھ کو تھام کے سمجھایا تھا یہ ماں کی باتوں کا ہی اثر تھا وہ خود کو کافی ہلکا محسوس کررہے تھے۔ کچھ سوچ کر انہوں نے ماں سے اجازت چاہی پھر نماز کی ادائیگی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سالوں بعد ہی سہی بہرحال انہیں نماز کا خیال تو آیا تھا۔
/…ء…/
’’تمہارا کلر کافی ڈل لگ رہا ہے‘ آج جاکے فیشل وغیرہ کروالینا کچھ ہی دنوں میں افطار پارٹی بھی ارینج کرنی ہے۔ اپنے آپ پر توجہ دو میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کسی سے بھی کم نظر آئے۔‘‘ اریشہ کو اپنے نیلز فائل کرتے دیکھ کر انہوں نے نرمی سے ٹوکا تھا۔
’’ڈونٹ وری مام! میں ویسے بھی آج فیشل کے لیے جانے والی تھی۔‘‘ ایک نظر اس نے سر اٹھاکے ماں کو دیکھا پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ دن بھر فرینڈز کے ساتھ گھومنا اور نت نئے فیشن اپنانا ہی اس کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ سعیدہ جو کب سے صوفے پر بیٹھی تسبیح میں مصروف تھیں ہاتھ روک کے انہوں نے دونوں ماں بیٹی کو تاسف سے دیکھا۔
’’بیٹا کبھی گھر پر بھی توجہ دے لیا کرو‘ ہر وقت گھر سے باہر گھومنا اور آئے دن پارلروں کے چکر لگانا لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی تھیں۔
’’اوہ چھوڑیں بھی دادی ماں! یہ سب پرانی باتیں ہیں‘ اب آپ پلیز اپنا لیکچر مت شروع کردیجیے گا۔‘‘ نہایت بے زاری سے اس نے دادی کو دیکھا پھر سر جھٹک کے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ سعیدہ بیگم خاموش ہوکے رہ گئیں‘ انہیں نہایت افسوس تھا کہ ثناء نے اریشہ کو ٹوکا تک نہیں‘ انہوں نے بڑی شدت سے دل ہی دل میں ان کے لیے ہدایت طلب کی تھی۔
/…ء…/
’’آپ جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں‘ ہر سال پوری سوسائٹی کی سب سے اچھی افطار پارٹی ہم ہی ارینج کرتے ہیں۔ میری تو ساری فرینڈز ایک مہینے پہلے سے ہی اپنی تیاری شروع کردیتی ہیں۔ جیولری کپڑے وغیرہ ارے لوگ تو مثالیں دیتے ہیں ہمارے ہاں کی پارٹیز کی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس بار پارٹی نہیں ہوسکتی۔ آپ کو اندازہ بھی ہے ہماری کتنی بے عزتی ہوگی۔‘‘ ثناء بیگم سخت جھنجھلائی ہوئی تھیں۔ ولید کے پارٹی سے انکار پر انہیں بے حد غصہ آرہا تھا۔
’’سو واٹ ثناء! تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس وقت ہمارا بزنس کتنے کرائسز سے گزر رہا ہے ایسے میں میں کوئی بھی فالتو خرچہ برداشت نہیں کرسکتا کہاں سے لائوں پیسے بولو چوری کروں یا ڈاکہ ڈالوں۔‘‘ انہیں ہمیشہ سے ہی عورتوں کا تیز آواز میں بات کرنا پسند نہ تھا اور اس وقت وہ ویسے ہی بہت پریشان تھے سو بری طرح پھٹ پڑے تھے۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا اس بات سے کہ چوری کروں۔ آپ اتنے بڑے بزنس مین ہیں کیا آپ نے کوئی اثاثے جمع کرکے نہیں رکھے یا آپ اب اتنے کنگال ہوگئے ہیں…‘‘ ولید صاحب کی بات تو ان کے تلوں پر لگی سر پر بجھی تھی۔
’’تم آخر کب میری پرابلمز کو سمجھو گی ثناء! اب تو ہمارے بچے بھی جوان ہوگئے ہیں جتنے بھی شیئرز اور اثاثے میں نے جمع کرکے رکھے تھے سب پے در پے نقصان کی وجہ سے ایک ایک کرکے بکتے چلے گئے۔ بس بچوں کے لیے جو رکھا ہے وہ بچا ہے میں خود سخت پریشان ہوں پتا نہیں کس کی نظر کھا گئی ہے ہمارے بزنس کو‘ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ ایک دو غدار بھی تھے جن کی وجہ سے بھی بہت نقصان ہوا ہے ان کو بھی میں نکال باہر کیا ہے۔‘‘ وہ اتنے زیادہ رنجیدہ تھے کہ ان کی آواز خود ہی دھیمی ہوتی چلی گئی۔ ثناء بیگم کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنا بڑا گھر‘ بزنس چکا چوند یہ سب عیش و آرام ان کے بغیر زندگی ادھوری تھی اگر یہ سب ان سے چھن گیا یہ تصور ہی ان کے لیے سوہانِ روح تھا اس پر انہیں سوسائٹی میں اپنی نام نہاد عزت کی بڑی پروا تھی۔ شوہر کی پریشانی سے زیادہ اس وقت انہیں صرف اپنی فکر تھی کہ وہ اپنی دوستوں کو کیا جواب دیں گی‘ ان کا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا تھا۔
’’آپ ایسا کریں میرا گولڈ کا سیٹ بیچ دیں‘ میرے پاس ویسے بھی جیولری کی کوئی کمی نہیں ہے ایک سیٹ کے بدلے اگر ہماری عزت رہ جائے گی تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لاکھوں کا سیٹ ہے وہ جو آپ نے ہماری شادی کی پہلی سال گرہ پر دیا تھا۔ مجھے یقین ہے اسے بیچنے سے پارٹی کے سارے انتظامات ہوجائیں گے اور ہمارا بھرم بھی رہ جائے گا۔‘‘ انہوں نے جھٹ الماری کی تجوری سے اپنا سیٹ نکال کے ولید صاحب کے ہاتھ میں تھمایا۔
ولید صرف تاسف سے دیکھتے رہ گئے تھے‘ انہیں کچھ سمجھانا گویا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا سو نہ چاہتے ہوئے بھی سیٹ رکھ لیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے پارٹی نہ کی تو ثناء بیگم طوفان برپا کردیں گی۔
/…ء…/
ان کی ٹیبل پر سالانہ انکم ٹیکس کا گوشوارہ رکھا ہوا تھا اور وہ سر تھامے بیٹھے تھے‘ لاکھوں روپے کا انکم ٹیکس انہیں ہر حال میں بھرنا تھا اس پر ہونے والے نقصانات ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہیں جاکے چھپ جائیں جہاں کوئی ذہنی پریشانی نہ ہو۔ وہ بالکل ڈھے سے گئے تھے کتنی جدوجہد سے انہوں نے ابا کے بزنس کو سنبھالا تھا لیکن اب لگ رہا تھا کہ جیسے سب کچھ ختم ہوگیا ہو سب سے زیادہ فکر انہیں بچوں کی تھی جو ان کی مہیا کردہ آسائشات کے اتنے عادی ہوگئے تھے کہ اگر اب وہ انہیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کا کہتے تو وہ ان پر ہی چڑھ دوڑتے۔ ثناء کی ڈھیل نے ان کے بچوں کو بھی خراب کر ڈالا تھا ورنہ اماں تو ہمیشہ ہی سمجھاتی تھیں کہ بیٹا اعتدال پسندی اپنائو‘ اسراف سے بچو مگر اماں کی سنتا کون تھا اور اب پچھتاوا ہی رہ گیا تھا کہ کاش انہوں نے اس وقت اماں کی باتوں کو سمجھا ہوتا اور ثناء کو ان کے حال پر چھوڑنے کی بجائے ان پر سختی کی ہوتی۔
’’کیا ہوا سر! کہاں کھوگئے آپ‘ یہ تفصیلات دیکھ لیں کیا آپ نے؟‘‘ وہ سوچوں میں اتنے گم ہوگئے تھے کہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھے ہیں منیجر نے انہیں جھنجھوڑا تھا۔
’’ہاں… ہاں دیکھ لی ہیں راشد صاحب… سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں کوئی ٹینڈر بھی پاس نہیں ہورہا۔‘‘ چشمہ اتار کے انہوں نے سائیڈ پر رکھا اور ایک گہری سانس خارج کی۔
’’سر…! اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آپ سے ایک ذاتی سوال کرسکتا ہوں۔‘‘ راشد صاحب جھجکے تھے۔ انہوں نے فائل بند کرکے سر ہلایا۔
’’کیا آپ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ہر سال؟‘‘ راشد صاحب بہرحال امپلائی ہی تھے سو ڈرتے ڈرتے انہوں نے اپنی بات مکمل کی تھی۔
’’زکوٰۃ… ہاں دیتا تو ہوں زکوٰۃ سالانہ لاکھوں روپے انکم ٹیکس کی مد میں جو گورنمنٹ کو دیتا ہوں یہ زکوٰۃ تو ہے۔‘‘ ولید صاحب نے بڑی حیرانی سے راشد کو دیکھا تھا۔ بلاشبہ وہ پانچ وقت کا نمازی اور پرہیز گار بندہ تھا۔
’’سر یہیں تو آپ غلطی پر ہیں یہ انکم ٹیکس تو گورنمنٹ اپنے مفاد کے لیے لیتی ہے اور یہ دنیا تو آپ کی مجبوری ہے جبکہ زکوٰۃ تو انکم ٹیکس سے مختلف ہے۔ زکوٰۃ پر تو غریبوں‘ مسکینوں‘ فقراء وغیرہ کا حق ہے نہ کہ گورنمنٹ کا‘ ٹیکس تو گورنمنٹ صرف اپنے سرکاری اخراجات اور پبلک پراجیکٹس پورے کرنے کے لیے لیتی ہے جبکہ زکوٰۃ ہمارے مال کا صدقہ ہوتی ہے وہ مال جو ہم ہمارے استعمال کے علاوہ جمع کرکے رکھتے ہیں جیسے سونا‘ چاندی‘ مال تجارت وغیرہ جس طرح جان کا صدقہ پیسے یا کھانا ہوتا ہے اسی طرح مال کا صدقہ زکوٰۃ ہے جو ہم پر فرض ہے اور اگر ہم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کریں گے تو تباہ وبرباد ہوجائیںگے نہ مال رہے گا نہ آخرت میں کوئی حصہ۔‘‘ راشد صاحب نے قدرے اطمینان سے اپنے باس کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے ان کے باس روایتی باس کی طرح نہیں ہیں۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں راشد صاحب… میری اماں بھی کہتی ہیں کہ یہ بدحالی ہمارے اپنے ہی اعمالوں کے سبب آتی ہے۔ میں تو واقعی بڑا گناہ گار ہوں جس نے نہ قرآن کو سمجھا نہ اس کے احکامات کا مطالعہ کیا صرف عربی میں قرآن ختم کرکے اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیا۔ میری اماں مجھے ہمیشہ سمجھاتی تھیں مگر میں گمراہ ہوگیا‘ کیا مجھے توبہ مل جائے گی؟‘‘ وہ جی بھر کے شرمندہ ہوئے تھے‘ آگہی کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور شاید یہی لمحہ ان کی آگہی اور اماں کی دعائیں قبول ہونے کا تھا انہوں نے بڑی ہی آس سے راشد صاحب سے پوچھا تھا۔
’’بالکل سر… آپ پریشان نہ ہوں اللہ بہتر کرے گا وہ تو بہت غفور و رحیم ہے اور رمضان کے اس بابرکت مہینے میں تو وہ کسی کو بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ آپ نماز کی پابندی کریں اور دعا کریں‘ میں چلتا ہوں اب۔‘‘ فائل اٹھاکے وہ تو چلے گئے تھے مگر ولید صاحب پر آگہی کے کئی در وا کرگئے تھے شاید اس لیے اللہ نے تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کو حق بات اور نصیحت کی تلقین فرمائی ہے کیا پتا کب کس کی وجہ سے کوئی راہِ حق اختیار کرلے۔
/…ء…/
’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کیے ہوئے مالوں کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دانے کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جمیں (اور) ہر بال کے اندر سو دانے ہو اور یہ افزونی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘‘ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۶۱۔
آج پہلی بار انہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ کے ساتھ مطالعہ کیا تھا اس آیت پہ آکے ان کی عقل دنگ رہ گئی تھی۔ واقعی اللہ بہت بڑا ہے جو لوگ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے مال میں برکت ڈال دیتا ہے اس کے بعد آگے کا مطالعہ کرتے ہوئے ڈر گئے وہ۔
’’اے ایمان والو! تم احسان جتلا کر یا ایذا پہنچا کر اپنی خیرات کو برباد مت کرو‘ جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے (محض) لوگوں کے دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا‘ اللہ پر اور یوم قیامت پر سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی (آگئی) ہو پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے سو اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو (جنت کا) راستہ نہ بتلائیں گے۔‘‘ سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۶۴۔
انہیں اللہ کے عذاب سے ڈر لگنے لگا تھا کہیں ان کا حال بھی ایسا نہ ہو نہایت عقیدت سے قرآن پاک بند کرکے انہوں نے اپنے رب سے دعا مانگی تھی توبہ کی تھی اپنے گناہوں سے۔ آج اتنے سال بعد انہوں نے روزہ رکھا تھا‘ اماں بہت خوش تھیں خود ان کا دل بھی اطمینان سے لبریز تھا۔ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کردے گا‘ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ آفس جانے کے لیے اٹھ گئے تھے۔ ثناء بیگم جیسی بھی تھیں مگر آفس جاتے وقت انہیں دروازے تک چھوڑنے ضرور آتی تھیں‘ چوکیدار نے گاڑی باہر نکالنے کے لیے گیٹ کھولا تو ایک فقیر اللہ کے نام کی صدا دیتے ہوئے اندر داخل ہوگیا اور ولید صاحب کا راستہ روک لیا‘ ثناء بیگم نے بڑی ہی نخوت سے منہ چڑھایا تھا۔
’’نکالو اسے باہر‘ یہ اندر کیسے آگیا‘ نجانے کہاں کہاں سے لوگ مانگنے چلے آتے ہیں منہ اٹھا کے۔‘‘ بڑی ہی سخت آواز میں انہوں نے چوکیدار سے کہا اور چوکیدار حکم کی تعمیل کے لیے اسے باہر نکلنے لگا مبادا کہیں نوکری سے ہی ہاتھ دھونے نہ پڑجائیں۔
’’بُری بات رحیم بابا! گھر آئے فقیر کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ جاؤ جاکے کچن سے کچھ کھانا اور راشن وغیرہ دے دو۔‘‘ ولید صاحب نے تاکید کے ساتھ ساتھ بٹوے میں سے پانچ سو کا نوٹ فقیر کو دینے کے کیے نکالا تھا جو بے چارہ کب سے اپنے بچوں کی خاطر صدا لگا رہا تھا یہ اماں اور راشد صاحب کی باتوں کا ہی اثر تھا کہ وہ اس حد تک سنبھل گئے تھے۔
’’یہ کیا کررہے ہیں آپ‘ ویسے تو پیسوں کی کمی کا رونا رو رہے تھے اور اب پانچ سو روپے اس فقیر کو نکال کے دے رہے ہیں‘ حد کرتے ہیں آپ اور رحیم بابا کچن میں سے کچھ لانے کی ضرورت نہیں ان فقیروں نے تو فیشن بنالیا ہے در در جاکے مانگنا۔‘‘ بڑی ہی پھرتی سے انہوں سے پانچ سو کا نوٹ ولید صاحب کے ہاتھ سے چھینا تھا وہ ہکابکا اپنی گمراہ شریک حیات کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
’’یہ کیا کررہی ہیں ثناء آپ‘ یہ تو جان کا صدقہ ہے اور اللہ تو صرف دینے والے کی نیت دیکھتا ہے۔‘‘ انہوں نے قدرے دھیمے لہجے میں کہا تھا وہ کسی کے بھی سامنے کوئی تماشہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔
’’جو بھی ہے مجھے نہیں پتا‘ آپ آفس جائیں پلیز۔‘‘ وہ بہت ہی بے پروا تھیں۔
’’آپ کبھی نہیں سمجھیں گی ثناء! جان کا صدقہ جان پر آنے والی مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے آخرت میں یہی کام آئے گا ناکہ فیشن پرستی… چلتا ہوں آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔‘‘ نہایت غصے میں انہوں نے کہا اور گاڑی زن سے لے اڑے‘ ہاں مگر آگے موڑ پر رک کے انہوں نے اس فقیر کے لوٹنے کا انتظار ضرور کیا تھا اور اسے پیسے بھی ضرور دیئے تھے۔
/…ء…/
خبر ایسی تھی کہ موبائل ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پہ گرا تھا۔ دادی اماں تو دادی اماں اریشہ بھی فیشن میگزین ایک سائیڈ پہ رکھ کے مام کی طرف بھاگی تھی جو سکتہ زدہ حالت میں زمین پہ ڈھ سی گئی تھیں۔
’’مام کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نہ کس کا فون تھا کچھ بولیں نہ۔‘‘ اریشہ نے انہیں جھنجھوڑا تھا۔
’’بہو بتائو بھی کیا ہوا‘ یااللہ خیر کرنا میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے بھی جھنجھوڑ کے دیکھ لیا تھا مگر ثناء بیگم کی چپ نہ ٹوٹی تھی۔ وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں تھیں‘ وہ دونوں حقیقتاً بہت فکرمند ہوگئی تھیں۔ ثناء نے موبائل اٹھا کے ان کمنگ کالز کی لسٹ چیک کی تھی پھر اگلے ہی پل کچھ دیر پہلے آنے والی کال کو ری ڈائل کیا اور اگلے ہی پل وہ بھی سر تھام کے رہ گئی تھی۔
’’نہیں… یہ نہیں ہوسکتا مام! سنبھالیں پلیز خود کو‘ بھائی کو کچھ نہیں ہوگا ہمیں ابھی ہسپتال چلنا ہوگا۔ میں پاپا کو کال کردیتی ہوں‘ اصل صورت حال کا اندازہ تو وہاں جاکے ہی ہوگا نہ‘ آپ ابھی سے ہمت ہار دیں گی تو بھائی کو کون سنبھالے گا۔ دادی آپ پلیز دعا کریں نہ بھائی کے لیے۔‘‘ اس کا دل خود بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا مگر اس نے مام کو سنبھالا تھا دادی تو اس اچانک افتاد پر شدید صدمے سے دوچار ہوئی تھیں جو بھی تھا جیسا بھی تھا‘ اکلوتا پوتا انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔ وہ فوراً استغفار کرتی ہوئیں جائے نماز اٹھا کے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئی تھیں۔ اریشہ پاپا کو کال کرنے کے بعد مام کو سہارا دے کے گاڑی کی طرف لے آئی تھی۔ ڈرائیور نے پچیس منٹ کا فاصلہ دس منٹ میں طے کرکے انہیں ہسپتال پہنچایا تھا۔
ریسپشن سے ضروری معلومات لے کے وہ دونوں اس کے روم کی طرف آگئی تھیں۔ پٹیوں میں جکڑا وجود آکسیجن ماسک چہرے پر لگائے وہ انہیں کہیں سے بھی اپنا اسمارٹ بیٹا نہیں لگ رہا تھا‘ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی وہاب ہے جو صبح بہت ہی نک سک سے تیار ہوکے یونیورسٹی کے لیے نکلا تھا۔
’’کیسے ہوا یہ سب بیٹا! اچھا بھلا تو تھا میرا بچہ…‘‘ مارے صدمے سے ان کی آواز تک نہیں نکل رہی تھی‘ وہاب کا یونیورسٹی فرینڈ اسد ہی اسے ہسپتال لے کے آیا تھا۔ ولید صاحب بھی پہنچ چکے تھے جوان بیٹے کی یہ حالت ان کے لیے بھی کہاں ناقابل برداشت تھی۔
’’انکل آئی ایم سوری‘ دراصل ہم سب فرینڈز کی شرط لگی تھی کار ریسنگ کے لیے اور آپ تو جانتے ہیں کہ وہاب کتنی فاسٹ ڈرائیونگ کرتا ہے۔ وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بار بار ہم لوگوں کی طرف مڑ کے دیکھ رہا تھا اور اچانک سامنے سے آتے ٹرک سے تصادم ہوگیا۔ اس کا بچ جانا ایک معجزہ ہی ہے آپ لوگ شکر کریں اللہ کا۔‘‘ اسد نے ساری بات صاف صاف بتادی تھی اس سے پہلے کہ وہ لوگ کچھ کہتے ڈاکٹر آگئے تھے‘ ان میں سے کسی کو بھی وہاب کے روم میں جانے کی اجازت نہ تھی۔ سب باہر ہی کھڑے اس کے لیے دعاگو تھے۔
’’ڈاکٹر سب ٹھیک تو ہے نہ کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے…؟‘‘ ولید فوراً آگے بڑھے تھے۔
’’ڈونٹ ویری مسٹر ولید! بس فیکچر اور ٹانکے صحیح ہونے تک کچھ مہینے انہیں بیڈ ریسٹ کرنا ہوگا۔ اللہ کا شکر ادا کریں کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوا ہم تو خود حیران ہیں اس معجزے پہ کہ یہ بچ گئے اور زیادہ نقصان بھی نہیں ہوا۔ لگتا ہے کسی کی خاص دعائیں اور دیا ہوا صدقہ ہی کام آیا ہے۔‘‘ اتنا بڑا ڈاکٹر صدقہ اور دعائوں کی بات کررہا تھا۔ ثناء بیگم حیران تھیں ولید کو یک دم صبح فقیر کو دیئے گئے پیسے اور اس کی دعا یاد آئی تھی‘ ان کا دل اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اسے آگہی دی‘ اور شدید نقصان سے بچایا۔ بے شک مال سے زیادہ جان کا نقصان تکلیف دیتا ہے‘ آنکھوں میں خفگی لیے ثناء کو دیکھا تھا جنہوں نے آج صبح انہیں صدقہ دینے سے منع کیا تھا اور اگر آج وہ بھی ان کے کہنے میں آکے اس فقیر کو دھتکار دیتے تو اللہ جانے کیا غضب ہوجاتا۔
’’دیکھا ثناء! میں نہ کہتا تھاکہ صدقہ بلائوں کو ٹال دیتا ہے اگر میں بھی تمہاری راہ پہ چل نکلتا تو آج ہم اپنے بیٹھے کو کھودیتے اور نقصان تو دونوں کا ہی ہوتا۔‘‘ وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکے تھے‘ ثناء کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ ثناء نے اتنے سالوں میں نہ کبھی نماز پڑھی تھی نہ رب دو جہاں کا شکر ادا کیا تھا مگر آج ان کے دل کی ہر دھڑکن اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے دعا گو تھی۔
انسان چاہے جتنی بھی اونچائیوں پر چلا جائے مصیبت کے وقت صرف اللہ کو ہی پکارتا ہے‘ ولید صاحب کی بات ان کے دل کو لگی تھی اور وہ اپنے رب کے عذاب سے قہر کے خوف سے کانپ کے رہ گئی تھیں۔
/…ء…/
’’اے ایمان والو! اکثر احبار اور رہبان لوگوں کے مال نا مشروع طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے باز رکھتے ہیں اور (نمایت حرص سے) جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے سو آپ ان کو ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنادیجیے کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں (اول) تپایا جائے گا پھر ان سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا یہ وہ ہیں جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کرکے رکھا تھا سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔‘‘
سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۳۴ اور ۳۵ کا مطالعہ کرتے وقت وہ بے تحاشہ روئی تھیں اپنی نادانی پہ کوتاہیوں پہ اللہ نے انہیں ہر نعمت سے نوازا تھا‘ مال سے اولاد سے مگر انہوں نے کیا کیا مال سینت سینت کے رکھتی گئیں۔ دنیاوی زندگی کی چکا چوند میں رب کو بھلا بیٹھیں وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھیں باپ کا چھوٹا سا جنرل اسٹور تھا‘ جس میں ان سمیت چھ بہن بھائیوں کا خرچہ بمشکل ہی پورا ہوتا تھا وہ تو ثناء خوب صورتی میں بازی لے گئی تھیں۔ کچھ بات کرنے کا ڈھنگ بھی تھا۔ ان کی والدہ کو اچانک بازار میں پرانی سہیلی سعیدہ مل گئیں۔ ثناء بھی ان کے ساتھ تھیں بس وہیں سعیدہ نے ٹھان لیا کہ ثناء کو اپنی بہو بنائیں گی‘ کچھ ان کا دل بھی بڑا تھا۔
دوست کی حالت وغیرہ جاننے کے بعد پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھیں‘ انہیں لگا تھا کہ جس طرح ساجدہ نے کم تنخواہ میں گھر اور بچوں کو سنبھالا ہے‘ اچھی پرورش کی ہے بالکل ویسے ہی ثناء بھی ان کے گھر کو سنبھال لے گی مگر ثناء تو بالکل ہی الٹ نکلیں‘ پیسے کی ریل پیل نے ان کے دماغ میں اتنا خناس بھردیا کہ وہ بہکتی چلی گئیں احساس ہوا بھی تو اب جب اتنے برس بیت گئے۔
آج اکیسواں روزہ تھا آج ہی وہاب کو ڈسچارج کیا گیا تھا وہ کب سے قرآن پاک کی تلاوت کررہی تھیں اور رو روکے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کررہی تھیں۔ ایک حادثہ ایک لمحہ انسان کی آگہی کے لیے بہت ہوتا ہے۔ سو وہ بھی اس لمحے کے لیے منتخب ہوگئی تھیں انہوں نے قرآن پاک چوم کے شیلف میں رکھا پھر الماری کھول کے اپنا سب سے قیمتی سیٹ نکالا اور دراز میں پڑے پچیس ہزار بھی انہوں نے بڑے ہی اطمینان سے نکالے تھے پھر جاکے اپنی پرانی ملازمہ حنیفہ کے ہاتھ میں تھمادیئے وہ جانتی تھیں کہ ان کی چار جوان بیٹیاں ہیں سو ان کی شادی کے حوالے سے مدد کرنے کی حامی بھی بھری اور اسے گلے بھی لگایا۔
لائونج میں بیٹھے ولید نے اخبار سے نگاہ ہٹاکے بڑے ہی فخریہ انداز میں اپنی نصف بہتر کو دیکھا تھا پھر سامنے بیٹھی اماں کی طرف دیکھ کے مسکرائے تھے۔ آج سب بہتر ہوگیا تھا جس ٹینڈر کے لیے وہ کب سے کوشش کررہے تھے وہ پاس ہوگیا تھا۔ ذرا سی مزید کوششوں سے وہ سب ہرجانہ ادا کرسکتے تھے سو اپنے رب کی رحمت پہ مطمئن تھے۔ آج ہونے والی افطار پارٹی کینسل کرنے کے بعد ثناء نے قرآن خوانی کا اہتمام کرایا اور اب وہ اسی کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں کہ آج غریبوں میں پیسے اور راشن وغیرہ کی تقسیم کا مرحلہ بھی عبور کرنا تھا۔
اریشہ بھی ماں کے ساتھ تھی بے شک جس گھر میں اللہ کا شکر اور ذکر ہو جہاں اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے‘ وہ گھر کھنڈر سے جنت بن جاتا ہے یہ بات آج ثناء کو سمجھ آگئی تھی۔ رمضان کی برکتوں سے ان کے گھر کے مکینوں پہ تاعمر زرد پھولوں کی بارشوں کا موسم ٹھہر گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close