Aanchal Jun-16

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

ترجمہ: اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پالنے والے ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑ۔ اگرتونے انہیں چھوڑ دیا تو یہ یقیناتیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور یہ فاجر اور ڈھیٹ کافروں کو ہی جنم دیں گے۔ (نوح۔۲۶‘۲۷)
حضرت نوح علیہ السلام نے یہ بددعا اپنی قوم کے لئے اس وقت کی جب وہ اپنی قوم کی طرف سے بالکل مایوس ہوگئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے مطلع بھی فرمادیاتھا (ہود۔۳۶)ان کی یہ بددعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کشتی بنائیں جیسا کہ سورہ ہود کی اس آیت میں فرمایا جارہا ہے۔
ترجمہ :اور ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر‘ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر‘وہ پانی میں ڈبودیئے جانے والے ہیں۔ اس حکم ربی کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کشتی کی تیاری میں مصروف ہوگئے تو قوم کے لوگوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کردیا کہ لو اب یہ نبی سے بڑھئی بن گئے اور ان کی عقل دیکھو کہ خشک زمین پر پانی سے بچائو کا انتظام کررہے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پرعذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا اترآئے۔‘‘(ہود۔۳۹)
آخر مدت ختم ہوئی اور دردناک عذاب کی صبح طلوع ہوئی۔غضب الٰہی آپہنچا آسمان سے موسلادھار بارش برسنے لگی۔ زمین کے سوتے پھوٹ پڑے اور تمام زمین جل تھل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ہر جانور کا ایک ایک جوڑا اور ان کو چھوڑ کرجن کے لئے حکم ہوچکا ہے دوسرے گھر والوں اور سب ایمان لانے والوں کو لے کر کشتی میں سوار ہوجائو۔ نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا جس کانام یام اور اس کا لقب کنعان تھا‘ ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا اور کشتی پر سوار نہیں ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے شفقت پدری سے مجبور ہو کر اسے آواز دی کہ ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجاکافروں کے ساتھ نہ رہ لیکن وہ نہ مانا اور اس نے کہا کہ میں کسی پہاڑ پر چڑھ جائوں گا اور طوفان سے بچ جائوں گا۔حضرت نوح علیہ السلام نے کہا آج اللہ کی رحمت کے سوا کوئی چیز کسی کو عذاب الٰہی سے نہیں بچاسکتی۔ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک موج نے کنعان کو اپنے اندر چھپالیا او ر وہ غرق آب ہوگیا۔ نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو کافر نہیں سمجھتے تھے یہ ان کی غلط فہمی تھی جو اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر دور فرمادی کہ وہ تیرے ان گھر والوں میں سے نہیں ہے جن کو بچانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جب سب کافرڈوب گئے تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ تمام پانی پی لے اور اے آسمان تھم جا چنانچہ پانی تھم گیا اور زمین خشک ہوگئی اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جو دی پہاڑ پر جالگی سورۃ ہود کی آیت ۴۸ جس کی تشریح یہاں کی گئی ہے اس میں حضرت نوح علیہ السلام کواللہ تعالیٰ سلامتی کے ساتھ اپنی برکتوں کی بشارت دے رہا ہے اور احکام الٰہی نہ ماننے والوں کو عذاب الیم کی وعید بھی سنارہا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کے دور کے بعد تاریخ اسلام دوسرے دور میں داخل ہوتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے قصص میں اللہ کا وعدہ حقیقت اختیار کرتا ہے۔
ترجمہ :اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغامبر ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر پہنچے اورسلام کہا‘ انہوں نے بھی جواب سلام دیا اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ (ہود۔۶۹)
تفسیر: آیت مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے خوشخبری پہنچائی جارہی ہے اور آداب مہمان نوازی کا اظہار و تعلیم بھی دی جارہی ہے قصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تفصیل طلب ہے اسے مختصر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ مفہوم کو اچھی طرح سمجھا جاسکے۔ کیونکہ یہ آیت مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق آیات میں سے ہے اس کا تسلسل حضرت لوط علیہ السلام اور قوم لوط سے بھی ہے‘ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھوڑا سا قصہ بیان کیا گیا ہے حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک ہی زمانے میں دومختلف قوموں کی طرف بھیجے گئے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے۔ وہ آپ کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک ہی جماعت کو دونوں کے پاس بھیجا تھا وہ پہلے حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا جس کا جواب وعلیکم سلام کہہ کر حضرت ابراہیم نے دیا انہوں نے کہا کہ حق تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل بنایا ہے اور اس بڑھاپے میں حضرت سارہ کے بطن سے بیٹا عطا کرنے والا ہے اور یہ بھی بتایا کہ قوم لوط کے بدمعاشوں اور ظالموں سے عنقریب دنیا کوپاک کردیا جائے گا لیکن اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام فرشتوں کو پہچان نہیں سکے اور نہ ہی لوط علیہ السلام انہیں پہچان سکے تھے فرشتے حسین وجمیل خوب رو نوجوانوں کی شکل میں تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں آدمی اور مہمان سمجھتے ہوئے ان کے لئے حضرت سارہ کا پالا ہوا گائے کا فربہ بچھڑا بھنوا کر ان کے سامنے لاکر رکھ دیا تاکہ مہمانوں کی خاطر داری ہوسکے۔
ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جس وقت یہ خوش خبری دی گئی اس وقت آپ کی عمر ۹۹ برس تھی۔ بشارت یہ دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل کو پھیلائے گا۔ فلسطین کی سرزمین میں ان کی حکومت قائم کرے گا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کی اولاد کے دسویں سلسلہ میں تھے۔ اور آپ کی پیدائش کلدانیوں کے شہر اُور‘ میں ہوئی تھی۔ لیکن بعض مورخین آپ کی پیدائش کا مقام کوفہ شہر تحریر کرتے ہیں‘ آپ کا نام ابرام کی بجائے ابراہیم رکھا گیا نام کا پہلا جزواَب عربی کا اَب ہے جس کے معنی باپ کے ہیں اور کلدانی زبان میں راہیم عوام یا جمہور کو کہتے ہیں اس طرح آپ کے نام ابراہیم کے معنی ’’لوگوں کے باپ‘‘ جب کہ بعض کے نزدیک اَب راحیم یعنی رحم کرنے والا باپ کابگڑا ہوا ہے۔ اس صورت میں دونوں جزوعربی کے ہیں۔ آپ کی قوم صابی تھی جو ستارہ پرست تھی آپ کے والد کا نام تارخ یا آذر تھا صابیت جو بت پرستی ہی کی ایک شکل تھی سے آپ کی فطرت سلیم نے بچپن میں ہی انکار کردیاتھا اور آپ نے ہر طرف سے بے خوف ہو کر اعلان کردیا کہ ’’میں نے ہر طرف سے کٹ کر زمین وآسمان پیدا کرنے والے کی طرف اپنا رخ کرلیا ہے۔ میں مشرکوں میں شامل نہیں ہوں۔‘‘ آپ کی حق پرستی کے جرم میں بادشاہ وقت نے آپ کو آگ میں ڈالا مگر حکم الٰہی سے آگ آپ کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی۔ اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو کر آپ نے عراق سے اپنی اہلیہ حضرت سارہ کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی اور وہاں سے تبلیغ دین کے لئے مصر کاسفر کیا اور پھر شام لوٹ آئے۔ قیام شام کے دوران ہی آپ کو ملنے والی خوش خبری پوری ہوئی یعنی حضرت حاجرہ جو آپ کی اہلیہ حضرت سارہ کی باندی تھیں جنہیں حضرت سارہ نے اپنے شوہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کوہبہ کردیاتھاسے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے پھر کچھ ہی مدت بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر حضرت اسحٰق علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ حضرت اسحٰق کی ولادت سے قبل ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام حکم الٰہی سے اپنے اکلوتے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کو ان کی والدہ حضرت حاجرہ کے ساتھ حجاز کے اس چٹیل میدان میں چھوڑ آئے جو یمن سے شام جانے والے قافلوں کی گزرگاہ تھی۔ حضرت حاجرہ اور حضرت اسمٰعیل کی بھوک پیاس دور کرنے کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے وہاں زم زم کاچشمہ جاری کیا۔جوحضرت حاجرہ کی بے قراری اور اپنے بچے سے بے پناہ الفت وممتا کامظہر بھی ہے اسی چشمہ زم زم کے باعث قبیلہ جرہم کے لوگوں نے بھی وہاں سکونت اختیار کرلی اور اس طرح مکہ شہر کی ابتدا ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب کبھی اپنے بیٹے اور اپنی بیوی حاجرہ سے ملنے مکہ آتے اور شہر کی آبادی میں اضافہ دیکھتے تو باشندوں کودینی اور دنیاوی خوشحالی کی دعائیں فرماتے۔
جب حضرت اسمٰعیل کچھ بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی مدد سے اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کے گھر کعبہ کی تعمیر شروع کی اور تعمیر ہونے پرحضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو کعبہ کا پہلا متولی وامام مقرر فرمایا۔
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی شادی قبیلہ جرہم جوچشمہ زم زم کے باعث وہاں سکونت پذیر ہواتھا میں ہی ہوئی۔ آپ کی اولاد خوب پھلی پھولی اس ہی قبیلے کی ایک شاخ قریش کہلائی اور قریش ہی کے سب سے معزز گھرانے بنوہاشم میں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے صاحبزادے حضرت اسحٰق علیہ السلام جو شام میں ہی پیدا ہوئے اور وہیں رہے ان کی نسل سے بہت سے نبی پیدا ہوئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ان ہی کی نسل سے تھے۔ حضرت یعقوب کادوسرا نام اسرائیل تھا اسی لئے ان کی اولاد نبی اسرائیل کہلائی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ابوالانبیاء کہا اور اسلام کو ملتِ ابراہیم سے تعبیر کیا اور قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حنیفاً مسلماً یعنی سب طرف سے کٹ کر اللہ کا ہوجانے والا اور اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینے والا کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی گئی بشارت کو اس طرح پورا فرمایا اور انہیں جو ’’سلام‘‘ یعنی سلامتی کہلائی گئی تھی اسے رہتی دنیا تک کے لئے پھیلا کر پورا فرمادیا اوران کی ہر سنت کی رہتی دنیا تک کے لئے توثیق فرمادی۔
ترجمہ : کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو‘ صبر کے بدلے‘ کیا ہی اچھا(بدلہ) ہے اس دار آخرت کا۔ (الرعد۔۲۴)
تفسیر: آیت مبارکہ میں ان اہل ایمان کے لئے خوش خبری دی جارہی ہے جو دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا وخوشنودی کے لئے کوشاں رہے ہوں گے اور ہر قسم کے شرک وکفر سے بچتے رہے ہوں گے اور اتباع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزاری ہوگی یہی لوگ آخرت میں عالی مقام پر ہوں گے ان کے دائمی قیام کے لئے بہترین باغات ہوں گے جہاں وہ اپنے عزیز واقارب آبائواجداد اور اپنی اولادوں کے ساتھ قیام کریں گے جو نیک وصالح ہوں گے ان باغات میں نیکی اور اعمال صالح ہی کی بدولت داخل ہوسکیں گے اگر ان اہل ایمان کے ماں باپ اولادیں جنت کے لائق تو ہوں گی لیکن ان کے درجے کی نہیں ہوں گی تو بھی رب کریم اپنی رحمت ومغفرت کے ذریعے انہیں درجات بلند فرما کر ان کے ساتھ رہنے کے قابل کردے گا یہ اہل ایمان کون ہوں گے جن کو فرشتے سلام کہتے ہوں گے ان کی خصوصیات کیا ہوں گی ان کے اوصاف بھی ہمیں بتادیئے گئے ہیں تاکہ ہمیں سمجھنے میں کوئی کوتاہی کوئی غفلت نہ ہو۔
(۱) اللہ تبارک وتعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے والے۔
(۲)اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان کو نہ توڑنے والے اور ان کی پابندی کرنے والے ہوں گے۔
(۳)صلہ رحمی کرنے والے قرابت داری کے حقوق ادا کرنے والے اور جس چیز کا اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہو اسے جوڑے رکھتے ہوں گے۔
(۴)اللہ سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہوں گے۔
(۵)روز قیامت وآخرت پر کامل ایمان رکھنے والے اور حساب کی سختی سے ڈرنے والے ہوں گے۔
(۶)اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کے لئے تکلیف ومصیبت پر صبر کرنے والے ہوں اور جن چیزوں سے اللہ نے روک دیا ہے ان سے رکنے والے ہوں گے اور حکم الٰہی کی تعمیل میں ہر قسم کی سختیوں کو صبروقناعت سے برداشت کرنے والے ہوں گے۔
(۷)ٹھیک وقت پر پابندی سے باجماعت نماز ادا کرنے والے ہوں گے۔
(۸)صدقات وخیرات‘زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی پابندی سے کرنے والے ہوں گے۔
(۹)برائی کوبھلائی سے دفع کرنے یعنی بدی وبرائی کے بدلے نیکی وبھلائی سے جواب دینے اور معاف کردینے والے ہوں گے۔
ان ہی خصوصیات کے باعث اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی حاصل ہوسکتی ہے اور جو اہل ایمان ان صفات کو اپنا کر اللہ کی رضا کے حصول کے لئے عمل کرے گا اللہ کے فرشتے اس کی تعظیم وتکریم کریں گے اور ہر طرف سے آکر اسے سلام کریں گے اور مبارک باد دیں گے اور کہیں گے کہ تم دنیا میں اللہ کے احکام بجالائے اور وہاں کی عارضی تکالیف کواللہ کے لئے برداشت کیا اور صبر سے کام لیا اس کے بدلے میں یہاں کی سلامتی اور دائمی راحتیں تمہیں مبارک ہوں اور یہ گھر ہمیشہ رہنے والا اچھا اوربہترین گھر ہے۔ وہ یہ خوش خبری بھی دیں گے کہ اب تم ایسی جگہ آگئے ہو جہاںتمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ اب یہاں تم ہر آفت سے ہر تکلیف سے ہر خطرے‘ اندیشے سے محفوظ ہو۔ اس کی تصدیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے بھی ہوتی ہے ’’اور اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہوگے‘ کبھی بیمار نہ پڑوگے۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہوگے کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی۔‘‘(بخاری مسلم) گویا جنت میں ایسے اہل ایمان کے لئے ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اورسلامت ومبارک اور جشن مسرت کا سماں برپا ہوگا۔
ترجمہ : جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ ان جنتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے چشمے جاری ہیں جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے جہاں ان کا خیر مقدم سلام سے کیا جائے گا۔ (ابراہیم۔۲۳)
تفسیر: آیت مبارکہ میں ان تمام اہل ایمان کو خوش خبری دی جارہی ہے جو ایمان پر قائم رہے اور احکام الٰہی کے مطابق اتباع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے انہوں نے صراط مستقیم پر اپنے قدم جمائے رکھے اور شیطان کے کہے میں نہیں آئے اس کے ورغلانے سے کسی طرح سے بھی نہیں بہکے نہ بھٹکے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور کسی بھی طرح سے شیطان کے بہکانے سے نہ بہکے ایسے ہی لوگوں کو یہاں خوش خبری دی جارہی ہے کہ روز آخرت ایسے مضبوط ایمان کے حامل افراد کو ان کے نیک اعمال کے باعث ہی ان جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے ٹھنڈے میٹھے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں وہ اپنی دائمی زندگی گزاریں گے اور ان جنتوں میں ان کا استقبال فرشتے سلام کرکے کریں گے اور انہیں سلامتی کی خوش خبریاں سناتے رہیں گے۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close