Aanchal Jun-16

حمد و نعت

ثوبیہ ناز/مولاناماہرقادری

حمد باری تعالیٰ

ہے سب تعریف ہی تیری زمیں تیری فلک تیرا
تُو مالک سب جہانوں کا‘ ہے ہر ذرہ یہاں تیرا
تری رحمت کا پر تو ہے جسے انسان کہتے ہیں
رحیمی صفت تیری ہے تجھے رحمن کہتے ہیں
تُو مالک ہے قیامت کا قیامت کا قیامت کا
تُو مالک روزِ محشر کا تُو مالک ہے عدالت کا
تُو سن لے تجھ سے کہتے ہیں عبادت تیری کرتے ہیں
مدد مانگیں گے بس تجھ سے یہ منت تیری کرتے ہیں
جنہیں انعام میں تُو نے چلایا سیدھے رستے پر
چلا ہم کو بھی اے مولا انہی بندوں کے رستے پر
غضب جن پر ہوا تیرا بچالے ان کے راستے سے
بچا گمراہ رستے سے بچالے بھٹکے رستے سے

محترمہ ثوبیہ ناز

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے پیشوا بن کے آئے
محمد ﷺ مگر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بن کے آئے
کہیں قاب قوسین کا راز کھولا
کہیں معنی ہل اتیٰ بن کے آئے
کبھی عرش کی کنگروں کو سنوارا
کبھی شمع غارِ حرا بن کے آئے
کبھی محفل ابتداء کو سجایا
کبھی نقطۂ انتہا بن کے آئے
وہ مکے کی سختی وہ طائف کا منظر
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی رضا بن کے آئے
امیروں کو رازِ اخوت بتایا
غریبوں کے حاجت روا بن کے آئے
کہیں عفو و رحمت کے جلوے دکھائے
کہیں وہ نبرد آزما بن کے آئے
نجاشی بھی خادم ابوذر بھی خادم
وہ سلطانِ شاہ و گدا بن کے آئے
کہیں بدر و خندق میں فوجیں لڑائیں
کہیں صلح کا سلسلہ بن کے آئے
کبھی دشت میں بکریوں کو چرایا
کبھی دہر کے پیشوا بن کے آئے
زمانے کی سوکھی ہوئی کھیتیوں پر
گھٹا بن کے برسے ہوا بن کے آئے
انہیں کی محبت ہے ایمان ماہرؔ
جو کونین کا مدعا بن کے آئے

مولانا ماہر القادری

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close