Aanchal Apr 16

تیس ہزار روپے

نادیہ فاطمہ رضوی

سر میں پہر میں ڈھول میں تاشوں میں
ہم جیسے لوگ کھیل تماشوں میں بٹ گئے
پھول سے چوٹ کھائی تو پتھر بنے
پتھر بنے تو سنگ تراشوں میں بٹ گئے

’’تم تو جانتی ہو کہ مہینے کا آخر چل رہا ہے اور یہ اخراجات بھی منہ پھاڑے کھڑے رہتے ہیں اب یہ خرچے تھوڑی دیکھتے ہیں کہ مہینہ ختم پر ہے بھلا پیسے کہاں سے آئیں گے۔‘‘ نجمہ خالہ اپنی عادت کے مطابق بولے چلی گئیں یاسمین نے انتہائی بے بسی محسوس کرکے محض ’’جی‘‘ کہنے پر اکتفا کیا نجمہ خالہ کو شاید اس پل یاسمین کی لاچاری پر جیسے ترس سا آگیا وہ بڑے احسان جتانے والے انداز میں اٹھتے ہوئے بولیں۔
’’تمہاری ضرورت بھی تو بہت کڑی ہے آخر کو ماں کی زندگی کا سوال ہے تم ٹھہرو میں کچھ رقم لے کر آتی ہوں۔‘‘ یاسمین کے لیے نجمہ خالہ کے ادا کیے گئے جملے انتہائی خوش کن تھے اس کے اندر طمانیت و مسرت ایک دم سرائیت کر گئی تھی۔
’’نجمہ خالہ اماں کی سگی بہن ہیں یقینا وہ ہماری مدد ضرور کریں گی مجھے تیس ہزار روپے دے دیں گی۔‘‘ یاسمین ان کے اندر جانے کے بعد خود سے انتہائی خوش ہوکر بولی پھر بڑی بے تابی سے خالہ کے خوب صورت سے ڈرائنگ روم میں بیٹھی ان کا انتظار کرنے لگی کچھ ہی دیر میں خالہ واپس آگئیں۔ یاسمین کی نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ نجمہ خالہ کی مٹھی میں کچھ نوٹ دبے ہوئے ہیں وہ بے پناہ خوش ہوگئی۔
’’لو بھئی یاسمین میں بس اتنا ہی کرسکتی ہوں۔ یہ رقم بھی میں نے بڑی مشکل سے گھر کے خرچے میں سے نکالی ہے۔‘‘ نجمہ خالہ نے ہزار کے چند نوٹ اس کے ہاتھ میں دھرے تو یاسمین نے انتہائی اچنبھے سے پہلے ان کا غذی نوٹوں کو پھر نجمہ خالہ کی جانب دیکھا جنہوں نے تین ہزار روپے تھما کر جیسے اس کی سات نسلوں پر احسان کردیا تھا۔
’’باقی تم دوسرے رشتے داروں سے مانگ لو آخر رشتے داروں کا بھی کچھ فرض ہوتا ہے۔‘‘ نجمہ خالہ چمک کر بولیں تو یاسمین کا دل چاہا کہ یہ چند نوٹ بھی ان کے منہ پر مار کر لعنت بھیج کر چلی جائے یہاں سے مگر…!
’’ٹھیک ہے نجمہ خالہ یہ بھی بہت ہیں۔‘‘ وہ فقط اتنا ہی بول پائی پھر خاموشی سے اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر دروازے سے باہر نکل آئی۔ جب ہی باہر نکلتے نکلتے عقب سے خالہ کی بیٹی سحرش کی جھنجھلائی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
’’افوہ مما آپ نے اتنی دیر لگا دی ڈیزائنر کے لان پرنٹس ہاتھوں ہاتھ بک جاتے ہیں میں آپ کو پہلے ہی بتارہی ہوں میں چار سوٹس سے کم نہیں لوں گی۔‘‘
’’اچھا بابا لے لینا ڈرائیور سے کہو جلدی سے گاڑی نکالے۔‘‘ نجمہ خالہ بھی یک دم مستعد ہوگئی تھیں ایک تلخ سی مسکراہٹ یاسمین کے لبوں پر دوڑ گئی پھر وہ وہاں مزید نہیں ٹھہری تیزی سے آگے بڑھتی چلی گئی۔
/…٭…/
یاسمین اور مہہ جبین دو بہنیں تھیں ان کے والد کا انتقال ان کی کم عمری میں ہی ہوگیا تھا یاسمین کی والدہ رضیہ خاتون نے فیکٹریوں میں چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرکے ان دونوں بچیوں کو پالا تھا ایک مناسب رشتہ دیکھ کر انہوں نے مہہ جبین کی شادی کافی جلدی کردی تھی جو اب چار بچوں کی ماں تھی جب کہ یاسمین کے لیے بھی سوالی ان کے گھر آتے مگر اب تک اس کی بات نہیں بن پائی تھی۔ جس کی ایک ٹھوس وجہ اس گھر کی غربت تھی۔ رضیہ خاتون کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوگیا تھا جس کی بناء پر وہ بالکل بستر سے لگ گئی تھیں کیونکہ مناسب علاج اور اچھی غذا کی قلت نے انہیں بالکل ہی لا چار کردیا تھا یاسمین انٹر پاس تھی وہ ماں کے علاج اور گھر کے اخراجات چلانے کی خاطر محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی اور محلے کے ہی ایک چھوٹے سے اسکول میں نوکری کررہی تھی جو صرف ڈھائی ہزار تنخواہ اس کے ہاتھ میں رکھتے تھے۔ رضیہ خاتون کی تیزی سے بڑھتی بیماری کے عوض ڈاکٹر نے یاسمین کو فوری مشورہ دیا تھا کہ انہیں ٹی بی سینی ٹوریم میں داخل کروا دیا جائے ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا اسی عوض یاسمین کو تیس ہزار روپے کی اشد ضرورت تھی مگر اس کے پاس تیس تو کیا تین ہزار بھی نہیں تھے پھر یاسمین نے اپنی خود داری اور غیرت کو ایک جانب رکھ کر اپنے عزیز رشتے داروں کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کردیے اسے ہر صورت میں تیس ہزار روپے جمع کرکے اپنی ماں کا علاج کرونا تھا چاہے اس کی خوداری اس کا پندار ہی دائو پر کیوں نہ لگ جائے۔
/…٭…/
’’آپی کچھ تو رقم کا انتظام کردو مجھے جلد سے جلد اماں کا علاج شروع کروانا ہے ورنہ… ورنہ وہ مرجائیں گی۔‘‘ یاسمین لجاحت سے بولتے بولتے آخر میں رو دی۔ مہہ جبین نے انتہائی بے بسی سے اپنی چھوٹی بہن کو آنسو بہاتے دیکھا اس کا شوہر انور ویسے ہی معمولی نوکری کرتا تھا پھر اس قدر منہ زور مہنگائی میں چار بچے ایک بیوی اور والدین کو کھلانا پلانا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ مہہ جبین بہت مشکل سے گزارا کرتی تھی اس پر ساس صاحب کے الزامات کے مہہ جبین چپکے چپکے اپنے میاں کی کمائی اپنی بہن ماں کے ہاتھوں میں تھما آتی ہے۔
’’میں کیا کروں گڑیا خدا کی قسم اگر میرے پاس تھوڑے بہت پیسے ہوتے تو ابھی اسی وقت میں تیرے ہاتھوں میں رکھ دیتی مگر…!‘‘ وہ فقط اتنا بول کر خاموش ہوئی تو یاسمین نے اسے چونک کر دیکھا وہ اپنی بہن کے خستہ حالات سے بخوبی واقف تھی اسے اپنی بے خودی پر افسوس ہوا۔
’’میں جانتی ہوں آپی تمہارے پاس کچھ ہوتا تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔‘‘
’’یاسمین تم آفاق ماموں سے کیوں نہیں پیسے مانگ لیتی سنا ہے وہ غریبوں کی بہت مدد کرتے ہیں اور تنویر مامی نے تو ایک فلاحی ادارہ بھی جوائن کیا ہوا ہے۔‘‘ مہہ جبین کو اچانک یاد آیا تو وہ جلدی جلدی بولی۔
’’آپی کیا وہ ہماری مدد کردیں گے۔‘‘ وہ بے یقین لہجے میں سوالیہ انداز میں بولی۔ اسی دم اس کا بہنوئی انور اندر آیا تو یاسمین نے سر پر دوپٹہ ڈال کر جلدی سے اسے سلام کیا جس کا اس نے انتہائی رکھائی سے جواب دیا۔ پھر بڑی بدمزاجی سے بیوی سے مخاطب ہوکر بولا۔
’’آج کھانا ملے گا یا صرف چائے پر ہی گزارا ہوگا۔‘‘
’’مم… میں ابھی روٹیاں ڈالنے ہی جارہی تھی۔‘‘ مہہ جبین گھبرا کر بولی تو یاسمین اسے خدا حافظ کہہ کر وہاں سے لوٹ آئی۔ پھر یاسمین نے آفاق ماموں تو کیا سراج چچا مختار تایا اور دیگر رشتے داروں کے در پر جاکر جھولی پھیلائی مگر سب بے حد مجبور لاچار نظر آئے۔
’’بیٹا یہ رقم تو بہت زیادہ ہے تم جانتی ہونا کہ تیس ہزار کتنی مشکل سے کمائے جاتے ہیں۔‘‘ آفاق ماموں بڑی بردباری سے اس کے مقابل بیٹھے بول رہے تھے جب کہ یاسمین کی نظر ان کے دو سالہ پوتے کے ہاتھوں پر تھی جو ایک مشہور برانڈ کا آئی فون بار بار زمین پر گرا رہا تھا۔
’’جی بہت مشکل سے کمائے جاتے ہیں۔‘‘ وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی۔ کوئی کہتا۔
’’میں نے کل ہی غریبوں کے نام پر رقم بانٹی ہے تم پہلے آجاتی تو…‘‘ کسی نے کہا۔ ’’اپنے ڈاکٹر سے کہو کہ کسی خیراتی ادارے کا تمہیں پتہ بتا دیں صرف تیس ہزار ہی خرچ تھوڑی ہوں گے آگے پھر دوائیں اور خوراک کے پیسے کس سے مانگوں گی۔‘‘ ہر آن ہر پل اس کی عزت نفس کچلی گئی مگر پھر بھی اسے تیس ہزار کی رقم حاصل نہیں ہوسکی اپنی بے بسی اور ذلت پر اسے بے پناہ رونا آیا وہ اپنے گھٹنوں پر سر چھپا کر بلک بلک کر رو دی۔
/…٭…/
ڈاکٹر نے رضیہ خاتون کی رپورٹس دیکھیں تو چہرے پر تشویش کے رنگ بکھر گئے وہ اپنی کولیگ کے توسط سے ایک سرکاری اسپتال کے سینئر ڈاکٹر کو اماں کا چیک اپ کروانے لے آئی تھی اور اپنی کولیگ کی مہربانی سے اس کا نمبر بھی جلدی آگیا تھا جبکہ ڈاکٹر بھی بڑی توجہ سے انہیں دیکھ رہے تھے وگرنہ سرکاری اسپتالوں میں مریض کو توجہ سے دیکھنا تو دور ان سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے حالانکہ یہی ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینک میں خوش مزاجی وخوش اخلاقی کا اعلیٰ نمونہ بنے دیکھائی دیتے ہیں۔
’’آپ کی والدہ کا مرض خطرناک نوعیت اختیار کر گیا ہے آپ ایک بھی لمحہ ضائع کئے بناء انہیں جلد سے جلد ٹی بی سینٹوریم میں داخل کروا دیں ورنہ بہت مشکل ہوجائے گی۔‘‘ یاسمین کو ڈاکٹرز کی بات بے تحاشا ہراساں کر گئی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سڑک پر اپنی ماں کی زندگی بچانے کے خاطر بھیک مانگنے کھڑی ہوجائے۔ شاید اب یہ واحد راستہ اس کے پاس بچا تھا۔
’’گڑیا میری پیاری بچی مت ہلکان ہو میرے لیے، بھلا موت سے بھی کسی کو راہ فرار ملی ہے مرنے دے مجھے۔‘‘ اماں پیار سے اسے گڑیا کہتی تھیں وہ اس کی تمام تر کوششیں بخوبی ملاحظہ کررہی تھیں اور اندر ہی اندر خون کے آنسو روتی تھیں کہ کس طرح ان کی بیٹی دردر جاکر ذلیل ورسوا ہوکر آتی ہے یاسمین ان کی بات پر تڑپ اٹھی۔
’’ایسی باتیں کیوں کرتی ہو اماں مرے آپ کے دشمن اچھا بتائو اگر تمہاری جگہ میں اس موذی بیماری میں مبتلا ہوتی تو تم میرے علاج کے لیے کوشش نہیں کرتی۔‘‘
’’اللہ نہ کرے جو تو اس مرض میں مبتلا ہو۔ کبھی سوچ سمجھ کر بھی بات کرلیا کر۔‘‘ اماں دہل کر بولیں پھر انہیں کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ یاسمین انہیں سنبھالنے میں لگ گئی۔
/…٭…/
یاسمین ٹیچرز روم میں اکیلی بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھورے جارہی تھی اس وقت اسکول کی چھٹی ہوچکی تھی تمام بچے اور ٹیچرز اپنے اپنے گھروں کو جاچکی تھیں مگر وہ آج یہیں بیٹھی رہ گئی تھی اس کی ماں کی زندگی بند مٹھی میں ریت کی طرح پھلستی جارہی تھی اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پارہی تھی وہ یونہی ساکت و بے حس سی نجانے کتنی دیر سے بیٹھی تھی جب ہی کسی نے پانچ پانچ ہزار کے کرارے نوٹ اس کے سامنے دھرے تھے۔ یاسمین اپنے دھیان سے بہت زور سے چونکی تھی۔ نجانے کتنی ہی ساعت وہ ان رنگ برنگے کاغذ کے ٹکڑوں کو دیکھے گئی پھر یک لخت اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ شاید کھلی آنکھوں سے خواب دیکھ رہی ہے یاسمین نے اپنی آنکھوںکو زور سے بند کرے پوری طرح آنکھیں پھاڑ کر سامنے دیکھا تو نوٹ ہنوز پڑے ہوئے تھے اس کا مطلب تھا کہ یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے یہ خیال ذہن میں در آتے ہی اس کے اندر بجلی سی بھر گئی اس نے جونہی سر اٹھا کر دیکھا سامنے ہی ادھیڑ عمر کے مقبول آفتاب اسے بڑی تمکنت سے کھڑے دکھائی دیئے۔ جو اس اسکول کے مالک تھے جن کی آنکھوں کے پیغام کو پڑھ کر یاسمین کے جسم میں گردش کرتا خون گویا منجمد سا ہوگیا تھا مگر دوسرے ہی پل اماں کا کھانستا تکلیف سہتا چہرہ آنکھوں میں آسمایا اس نے ایک نگاہ چند نوٹوں پر ڈالی اور دوسری نظر معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے مقبول آفتاب پر پھر ایک گہری سانس کھینچ کر یاسمین نے ٹیبل پر دھرے نوٹ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور اسی دم اس کے سر پر جما دوپٹہ ڈھلک کر کندھے پر آگیا۔
/…٭…/
آج کل ٹی وی‘ سوشل میڈیا‘ پرنٹ میڈیا غرض کہ ہر جانب مشہور و کامیاب ماڈل اور اداکارہ جیسمین خان کے چرچے ہورہے تھے لوگ اپنی بڑی بڑی پارٹیز اور فنکشنز میں اسے بلانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے میڈیا ہمہ وقت اس کے آگے پیچھے بھاگتا پھرتا تھا اس کی ہم عصر اداکارائیں اور ماڈلز اس کی شہرت و کامیابی کو دیکھ کر جل جل کر کباب بن جاتی تھیں مگر اسے کسی کی مطلق پروا نہیں تھی وہ بس آگے بڑھتی چلی جارہی تھی۔
’’مما جب میں نے اپنی فرینڈز کو بتایا کہ جیسمین خان میری کزن ہے تو پہلے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا پھر وہ مجھ سے اتنا ایمپریس ہوگئیں کہ کیا بتائوں۔‘‘ سحرش نجمہ بیگم کو بتارہی تھی جب کہ نجمہ بیگم خوش ہوئے جارہی تھیں۔
’’آپ کو پتہ ہے انہوں نے لندن میں فلیٹ لیا ہے اور چھٹیاں گزارنے وہ سوئزرلینڈ جاتی ہیں۔‘‘
’’میں کتنی کوشش کررہی ہوں کہ کسی بھی طرح میرا رابطہ جیسمین سے ہوجائے اور پھر میں اپنے گھر کی پارٹی میں اسے بلا کر لوگوں میں دھاک بٹھائوں۔‘‘ یہ نجمہ بیگم تھیں جو جیسمین خان سے ملنے کے اشتیاق میں مرے جارہی تھیں۔
’’اور مما وہ وڈیرا ارحم شاہ جو مجھے گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا وہ اب میرے آگے پیچھے پھرتا ہے کہ بس کسی طرح اسے جیسمین خان سے ملوا دوں اسی بناء پر وہ مجھے دوبارہ شاپنگ پر بھی لے جاچکا ہے۔‘‘ وہ مزید بھی کچھ بول رہی تھی اور اس پر نجمہ بیگم کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جادو کی چھڑی گھما کر اسے یہاں حاضر کردیں۔
/…٭…/
’’مہہ جبین بیٹا یقینا جیسمین تم سے تو ضرور بات چیت کرتی ہوگی پلیز اس سے ریکویسٹ کرنا کہ اپنے آفاق ماموں سے صرف ایک بار تو رابطہ کرے۔‘‘ آفاق ماموں اپنی بانچھیں کانوں تک چیرتے ہوئے انتہائی خوشامد سے بولے۔
’’ماموں یقین کیجئے گڑیا سے تو بہت مہینوں کے بعد میری مختصر سی بات ہوتی ہے دراصل وہ اتنی مصروف رہتی ہے نا…‘‘
’’ہاں یہ بات تو ہے آخر کو اتنی کامیاب ماڈل اور ایکٹریس ہے! بیٹا میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ رامین کو بھی بہت شوق ہے ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے کا اب یہ پروفیشن معیوب نہیں سمجھا جاتا بہت پیسہ اور شہرت ہے اس کام میں اب تم اپنی جسمین کو ہی دیکھ لو۔‘‘ وہ اپنے مطلب کی بات اس کے گوش گزار کرتے ہوئے بولے تو وہ محض جی کہہ کر رہ گئی تقریباً روز ہی کسی نہ کسی رشتے دار کا فون آجاتا یا وہ خود آھمکتا کہ جسمین سے یہ کام کرادو وہ کام کرادو اب تو اس کا شوہر بھی اس کے سامنے ہاتھ باندھے غلاموں کی طرح کھڑا رہتا جیسے وہ ملکہ عالیہ ہو اور وہ کیوں نہ اس کا غلام بنتا جسمین نے انہیں چار مرلے کے گھر سے اٹھا کر شہر کے معروف علاقے میں ہزار گز کی کوٹھی پر پہنچا دیا تھا اسے کلرک کی پوسٹ سے ہٹا کر مینجر کی پوسٹ پر بٹھا دیا تھا بچوں کو نچلے درجے کے اسکول سے اٹھوا کر مہنگے ترین انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروا دیا تھا۔ مہہ جبین کی جب کبھی گڑیا سے بات ہوتی وہ تمام رشتے داروں کی باتیں اس کے گوش گزار کردیتی جواباً وہ ایک قہقہہ لگا کر رہ جاتی۔
’’اچھا آپی سیٹ تیار ہوچکا ہے میں فون بند کرتی ہوں۔‘‘ اس نے موبائل بند کیا اور سہولت سے کیمرے کی تیز چبھتی ہوئی روشنیوں کے درمیان آن کھڑی ہوئی آنکھوں کو چکاچوند کردینے والی اس دنیا سے روشناس اسے مراد فاروقی نے کروایا تھا۔ مقبول آفتاب کے بعد اس کی کافی لوگوں سے شناسائی ہوئی جس میں ایک مراد فاروقی تھا جو پیشے کے اعتبار سے فوٹو گرافر تھا۔ یاسمین کے پوشیدہ حسن کو مراد فاروقی کی زیرک نگاہوں نے فوراً پہچان لیا تھا جو بظاہر غربت پریشانی اور مفلسی کے دھندلکوں میں چھپا ہوا تھا وہ بے پناہ سحرانگیز سراپے اور پرکشش چہرے کی مالک تھی۔ مراد فاروقی ہی وہ جوہری تھا جس نے یاسمین جیسے ہیرے کو تراش کر جیسمین خان بنا ڈالا تھا اور آج ایک عالم اس کا دیوانہ تھا۔
/…٭…/
جیسمین ٹی وی و اخباری انٹرویوز سے بہت دور بھاگتی تھی وہ شاذ ونادر ہی کسی کو انٹرویو دیتی تھی اور جس کو دیتی تو سمجھو اس کا نصیب کھل جاتا تھا۔ ایک بے پناہ معروف جریدے کا اسٹاف اس سے انٹرویو کا وقت لینے کے لیے مہینوں سے پیچھے پڑا ہوا تھا جب کہ اس کا سیکرٹری مسلسل انہیں ٹال رہا تھا اس وقت بھی وہ ان ہی سے نبرد آزما تھا جب ہی پاس کھڑی جیسمین نے اسے ٹائم دینے کا عندیہ دیا اور جب سیکرٹری نے یہ خوش خبری اس میگزین کو سنائی تو جیسے ان کی مراد بر آئی تھی۔
انٹرویو لینے والا لڑکا کافی ذہین اور شارپ تھا وہ بڑی مہارت سے جیسمین کا انٹرویو لے رہا تھا جب ہی ایک لڑکی اس کے پاس آکر بولی تھی۔ ’’میڈم سیٹ تیار ہے۔‘‘ یہ سن کر جیسمین نے کرسی سے اٹھنے کا قصد کیا تو وہ لڑکا تیزی سے بولا۔
’’میڈم پلیز آخری سوال۔‘‘ اس کی بات پر جیسمین نے اس کو گویا سر کے اشارے سے اجازت دی تو وہ گویا ہوا۔
’’آپ کی نظر میں انسان کی کیا قیمت ہے۔‘‘ جیسمین نے اس سوال پر اسے چند ثانیے دیکھا پھر انتہائی سپاٹ لہجے میں بولی۔ ’’تیس ہزار روپے۔‘‘
’’تیس ہزار روپے۔‘‘ وہ حیرت سے دہرا کر بولا۔
’’ہوں تیس ہزار روپے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اس لڑکے کو حیران و پریشان چھوڑ کر اس دنیا کی جانب قدم بڑھانے لگی جو محض اپنا آپ تیس ہزار میں فروخت کرنے کے عوض اسے ملی تھی یہ تو مراد فاروقی کی مہربانی اور اس کے حسن کا کمال تھا کہ وہ اس مصنوعی تضع سے بھرپور دنیا میں چلی آئی تھی ورنہ تو وہ اس بدبودار ماحول کا حصہ بن جاتی جہاں دن تاریک اور راتیں روشن ہوتی ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود بھی وہ اپنی اماں کو بچا نہیں پائی تھی۔ شاید وہ کچھ بھی نہیں بچا سکی تھی۔ یاسمین سے جیسمین بننے کا سفر صرف تیس ہزار کے عوض ہی تو طے ہوا تھا۔ جیسمین جونہی کیمرے کے آگے آئی کھٹاکھٹ روشنیاں جل اٹھیں اور پھر اس نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر اپنا کام شروع کردیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close