Aanchal Apr 16

بہاریں جھوم کے آئیں

عروسہ عالم

انداز کہ رنجیدہ ہوئے جاتے ہیں
اطوار کے پیچیدہ ہوئے جاتے ہیں
دیکھے کوئی چاہت کے کرشمے آکر
ہم جیسے بھی سنجیدہ ہوئے جاتے ہیں

’’تم اتنی دیر سے کیوں آئی ہو۔‘‘ اس کے اتنی دیر سے آنے پر ندا نے پوچھا۔
’’منگنی کی رسم ہوگئی کیا؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’بس ہونے والی ہے چلو جلدی سے آئو۔ اب تو دولہا بھی اسٹیج پر آکے بیٹھ گیا ہے۔‘‘ چاروں سہیلیاں جلدی جلدی اسٹیج کی طرف چل دیں۔ جہاں ان کی دوست رانیا اسٹیج پر دلہن بنی بیٹھی تھی۔ وہ سب جاکے اسٹیج کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔
’’اوہ مائی گاڈ‘ دولہا کتنا برا ہے۔‘‘ اس نے نہایت ناگواری سے کہا تو ثمرہ نے تیزی سے اس کے کہنی ماری۔
’’پاگل تو نہیں ہوگئی ہو منہ بند رکھو اپنا‘ کس کے سامنے کہہ رہی ہو کسی نے سن لیا تو ابھی نکالی جائوگی یہاں سے۔‘‘ ثمرہ نے اسے ٹوکا۔
’’ارے واہ ایسے ہی نکالی جائوں گی‘ میں نے کون سا غلط کہا ہے۔‘‘ اس نے تڑخ کر کہا۔
’’ہاں بڑی کمال کی بات کی ہے تم نے‘ اگر تمہیں ایسا دولہا مل گیا تو کیا کروگی؟‘‘
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں تو کسی بہت ہی خوب صورت اور ڈیشنک قسم کے بندے سے شادی کروں گی جو میرے ساتھ چلتا ہوا اچھا لگے اور جس کے ساتھ میں آتے جاتے ہوئے فخر محسوس کروں۔‘‘
’’اچھا اچھا فی الحال تم کہیں نہیں جارہی‘ اس لیے اسٹیج پر چلو۔‘‘
’’ہرگز نہیں‘ میں اتنے برے دولہا کے قریب بالکل نہیں جائوں گی۔ مجھے تو حیرت ہے کہ رانیا اس کے برابر میں بیٹھی کیسے ہے؟‘‘
’’تم حیران ہوتی رہو‘ اسے دیکھو وہ کتنی خوش ہے۔‘‘
’’ہاں… یہ مجھے بھی حیرت ہورہی ہے کہ وہ اتنے معمولی آدمی کے ساتھ خوش کیسے بیٹھی ہے۔‘‘
’’وہ معمولی نہیں ہے امریکن ڈاکٹر ہے‘ بہت قابل آدمی ہے۔‘‘
’’وہ تو بیوقوف ہے صرف قابلیت پہ مرمٹی‘ شکل صورت بھی کچھ ہونی چاہیے۔‘‘
’’یہاں بہت سے خوب صورت لڑکے ہیں تم کسی کو اپنے لیے تیار کرلو جب تک ہم اسٹیج کی سیر کرکے آتے ہیں۔‘‘ وہ تینوں اسے چھوڑ کر اسٹیج پر چلی گئیں۔ وہ وہیں کرسی پہ بیٹھ گئی۔
منگنی کے بعد کھانا شروع ہوا تو سب کے ساتھ وہ بھی ٹیبلز کی طرف آگئی‘ وہ کھانا پلٹ میں لے کر پلٹی ہی تھی کہ دوپٹہ کہیں اٹک گیا اس نے مڑ کے دیکھا تو دوپٹہ کسی کے کوٹ کے بٹن میں اٹکا تھا۔
’’اف کیا مصیبت ہے‘ آپ کوئی اور سوٹ نہیں پہن کر آسکتے تھے؟‘‘ اس کی بولڈ نیس پر وہ بری طرح چونکا۔
’’محترمہ آپ بھی تو کوئی اور دوپٹہ اوڑھ کر آسکتی تھیں‘ آپ کے دوپٹے کی وجہ سے میرا قیمتی کوٹ خراب ہوگیا۔‘‘
’’ہوں…‘‘ اس نے جھٹکے سے اپنا دوپٹہ کھینچا اور منہ بناتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
ثمرہ اور شاداب نے جلدی جلدی کھانا کھایا کیونکہ ان کے گھر خاصے دور تھے اور ان کی واپسی کی ذمہ داری رانیا کی تھی۔ وہ دونوں جلدی سے کھانا کھا کے رانیا کے پاس پہنچ گئیں۔
’’رانیا پلیز اب تم ہمیں جلدی سے گھر چھڑوا دو پہلے ہی بہت رات ہوگئی۔‘‘ ثمرہ نے کہا تو اس نے اپنے ملازم کو آواز دی‘ وہ فوراً ہی اس کے سامنے حاضر ہوگیا۔
’’حمید ذرا ثوبان بھائی کو بلانا۔‘‘ تھوڑی ہی دیر میں ثوبان بھائی آگئے۔
’’ثوبان بھائی آپ پلیز میری ان دونوں فرینڈز کو چھوڑ آئیے۔ دیکھیے پلیز انکار مت کیجیے گا۔‘‘ اس نے نہایت ملتجی لہجے میں کہا تو ثوبان نے مسکرا کر گردن ہلادی‘ رانیا نے ان کے ایڈریس بھی بتادیئے۔
’’مجھے لگتا ہے ثمرہ کہ رانیا اس شخص کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گی۔‘‘
’’اللہ نہ کرے‘ کیسی باتیں کررہی ہو۔ اس کے منگیتر کی شکل اتنی بھی بری نہیں ہے‘ جتنا تم کہہ رہی ہو۔‘‘
’’اب بری شکل تو بری ہی ہوتی ہے اتنی ہو یا اس سے زیادہ ہو۔‘‘
’’اللہ کا خوف کرو شاداب ابھی تمہاری شادی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ ثمرہ نے ناگواری سے کہا۔
’’میری شادی بھی دیکھنے والی ہوگی اور میرا دولہا بھی دیکھنے کے لائق ہوگا۔‘‘ اس نے اکڑ کر کہا‘ اتنے میں ثمرہ کا گھر آگیا تو وہ اتر گئی۔
’’آپ تو رانیا کے فیانسی سے خاصی ناراض نظر آرہی ہیں۔‘‘ ثوبان نے گفتگو کا آغاز کیا۔
’’پتہ نہیں لیکن میں اس بات پہ ضرور حیران ہوں کہ وہ ایسے آدمی سے رشتہ جوڑنے پر کیسے راضی ہوگئی۔ ان دونوں کا تو کوئی میچ ہی نہیں ہے۔ رانیا کیوٹ سی ہے اور وہ اتنا عام سا آدمی۔‘‘
’’میرے خیال سے تو اچھا کپل ہے۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ آپ کا ٹیسٹ تو کافی خراب ہے۔‘‘ شاداب نے حیرت سے کہا۔
’’میرے خیال سے تو آپ کا ٹیسٹ کچھ اپ سیٹ ہے۔ ایک ہائی کوالیفائیڈ لڑکا ہر لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا ہے۔‘‘
’’لیکن اگر وہ خوب صورت ہو تو۔‘‘ اس کی سوئی ابھی تک خوب صورتی پر ہی اٹکی ہوئی تھی۔
’’اگر آپ کو کوئی خوب صورت مرد نہ ملا تو۔‘‘
’’یہ تو ہوہی نہیں سکتا۔ شادی کروں گی تو کسی ہینڈسم اور ڈیشنگ بندے سے ورنہ ہرگز نہیں۔‘‘ اس نے جوش سے کہا۔
’’اور اگر اس کے الٹ ہوگیا تو آپ کیا کریں گی؟‘‘
’’اول تو ایسا ہوگا ہی نہیں اور اگر اتفاقاً ایسا برا حادثہ ہوگیا تو میں اسے چھوڑ دوں گی۔‘‘
’’اور اگر وہ آپ کو نہ چھوڑنا چاہے تو۔‘‘
’’تو ضرور میں ایسا کچھ کروں گی جس کے بعد ہم دونوں کو ساتھ نہ رہنا پڑے۔‘‘ اس نے اعلیٰ خیالات اس کے گوش گزار کیے۔ ’’اب پلیز لیفٹ پہ ٹرن کرلیجیے۔ تیسرا گھر میرا ہے۔‘‘ ثوبان نے گلی میں گاڑی لاکے اس کے گیٹ پر روک دی‘ وہ تھینکس کہہ کر اترگئی۔ اس کے اندر جاتے ہی اس نے گاڑی آگے بڑھالی۔
…٭٭٭…
صبح اس نے ممی اور پھپو کے سامنے بھی رانیا کے منگیتر کی برائیاں شروع کردیں۔
’’چپ ہوجائو خبردار جو منہ سے کوئی بری بات نکالی۔‘‘ بوا نے اسے ڈپٹ دیا۔
’’برے دولہا کے لیے بری باتیں ہی منہ سے نکلیں گی ناں۔‘‘ اس نے بدتمیزی سے کہا۔
’’تمہارا دولہا ایسا ہوا تو کیا کرلوگی‘ اس کے ٹکڑے کردوگی کیا؟‘‘ ممی پھپو‘ بھتیجی کی باتوں پر مسکراتی رہیں۔
دو ہفتے بعد وہ اور ثمرہ رانیا کی منگنی کے فوٹو دیکھنے اس کے گھر گئیں۔
’’شاداب تمہارے ڈیشنگ دولہا کا بندوبست ہوگیا ہے۔‘‘ ثمرہ نے اسے خوش خبری سنائی۔
’’اچھا کون ہے وہ خوش قسمت۔‘‘ اس نے جوس کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
’’ماشاء اللہ بڑی خوش فہمیاں ہیں اپنے بارے میں۔‘‘
’’خوش فہمیاں نہیں ہیں یہ سب صحیح فہمیاں ہیں۔‘‘
’’میرے فیانسی کے کزن ثوبان بھائی جو تمہیں میری منگنی والے دن گھر چھوڑنے گئے تھے۔‘‘ رانیا نے چہکتے ہوئے بتایا۔
’’وہ تو ایسے نہیں ہیں کہ میں ان سے شادی کروں۔‘‘ شاداب نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
’’ارے آہستہ بولو‘ وہ باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اتنے اسمارٹ اور ڈیسنٹ سے ہیں اور تم ان کے بارے میں ایسے کہہ رہی ہو۔‘‘
’’بہرحال وہ کسی اور کے لیے تو اچھے ہوسکتے ہیں‘ لیکن میرے لیے قطعی نہیں۔‘‘
’’مجھے تو لگتا ہے کہ تم لڑکے ریجیکٹ کرتے کرتے بوڑھی ہوجائوگی۔‘‘ ثمرہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’پھر کسی خوب صورت بڈھے سے شادی کرلینا۔‘‘ رانیا نے جل کے کہا تو وہ ہنس دی۔
…٭٭٭…
ڈیڈی ایک ماہ کے لیے بزنس ٹور پر ملائشیا جارہے تھے‘ ممی کا بھی ان کے ساتھ جانے کا پروگرام بن گیا۔ شاداب پڑھائی کی وجہ سے نہیں جارہی تھی‘ ویسے بھی وہ ایک دفعہ ملائیشیا ہو آئی تھی۔ اچانک ہی اس کا بہت اچھا رشتہ آگیا۔ وہ لوگ ڈیڈی کے جاننے والے ہی نکل آئے۔ اس لیے زیادہ چھان پھٹک کی ضرورت نہیں پڑی۔ بہت اچھی فیملی تھی اس لیے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اپنا کاروبار تھا‘ کھاتے پیتے لوگ تھے۔ لڑکے کے والدین باہر اپنے بڑے بیٹے کے پاس رہتے تھے‘ لہٰذا انہیں بھی شادی کی جلدی تھی۔
’’ممی میں نے لڑکا دیکھا نہیں‘ اور آپ لوگوں نے ہاں بھی کردی۔‘‘
’’ارے کیا کروگی دیکھ کے اب تمہیں زندگی بھر اسی کو دیکھنا ہے۔‘‘ بوا نے کہا تو اس کا منہ بن گیا۔
’’بیٹا ان کے یہاں لڑکی لڑکے کا شادی سے پہلے ملنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لڑکا بہت اچھا ہے‘ ہم نے دیکھ بھال کے سوچ سمجھ کے ہی فیصلہ کیا ہے۔‘‘
ممی کی بات پہ اس کا دل کچھ مطمئن سا ہوگیا یہ بات تو واقعی میں صحیح ہے کہ والدین اولاد کے لیے کبھی غلط اور برا فیصلہ نہیں کرسکتے۔
’’ٹھیک ہے ممی، لیکن میری شادی میں ساری رسمیں ہوں گی۔‘‘
’’بیٹا یہ تو بالکل ممکن نہیں ہے کیونکہ اگلے ہفتے اس کے والدین اور بھائی بھابی واپس جارہے ہیں۔ لہٰذا دونوں طرف سے شادی نہایت سادگی سے ہوگی کیونکہ میں اور تمہارے پاپا بھی جارہے ہیں۔‘‘ شاداب نے تھوڑا سا احتجاج کیا پھر خاموش ہوگئی۔ کیونکہ اس سے حاصل وصول تو کچھ تھا نہیں۔ بس اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اس کی شادی بہت اچھے لڑکے سے ہورہی تھی۔ وہ سپنوں کی دنیا میں کھو گئی اور آئندہ زندگی کے سپنے پلکوں پہ سجا کے پیا دیس سدھاری اور اسی رات ممی پاپا ملائشیا چلے گئے۔ وہ حجلہ عروسی میں بیٹھی اپنے خوابوں کے شہزادے کا بے چینی سے انتظار کررہی تھی۔ دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی تو اس نے اپنا سر جھکا لیا‘ حالانکہ اسے اپنے شوہر کو دیکھنے کی بہت جلدی تھی۔ اس کا دولہا اس کے روبرو آکے بیٹھ گیا۔
ایک کالے بھدے اور بھاری ہاتھ نے اس کا انگوٹھیوں اور چوڑیوں سے سجا مہکتا ہوا حنائی ہاتھ تھام لیا۔ اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ کھنچا اور گھبرا کے سامنے دیکھا تو وہاں لمبی سی داڑھی بکھرے ہوئے بال اور میلے کپڑے پہنے ایک گندا سا شخص بیٹھا ہوا تھا‘ شاداب اس شخص کو دیکھ کر کچھ کہہ ہی نہ سکی‘ حیرت‘ خوف اور پریشانی سے اس کی آنکھیں ابل پڑیں اور وہ ایک طرف کو ڈھیر ہوگئی۔
…٭٭٭…
اگلے دن صبح اس کی آنکھ کھلی تو آہستہ آہستہ رات کے مناظر اس کے ذہن کی اسکرین پر چلنے لگے۔ اس کے پورے بدن میں ایک پھریری سی دوڑ گئی اور اس کے نین کٹورے چھلک پڑے‘ روتے ہوئے اس نے اپنا جائزہ لیا تو وہ ابھی تک اپنے عروسی لباس میں تھی۔ وہ واش روم میں گئی نہا دھو کے دوسرے کپڑے پہنے اور اس جنگلی کی نظروں سے بچ بچا کے بوا کے پاس پہنچ گئی اور آتے ہی بوا کے گلے لگ کے چہکوں پہکوں رونے لگی۔
’’بوا یہ ممی ڈیڈی نے میرے ساتھ کیا کردیا؟‘‘
’’شادی کی ہے بیٹا اور کیا کردیا۔‘‘ بوا نے اسے پیار سے بٹھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ شادی ہے… ایسی ہوتی ہے… میرے تو نصیب پھوٹ گئے۔‘‘
’’اے بیٹا یہ بات تو اس کے کہنے کی تھی۔‘‘
’’ارے وہ کیوں کہے گا اس کے تو نصیب کھل گئے۔ مجھ سے شادی کرکے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ بوا نے خوش گوار سی حیرت سے کہا۔ ’’ورنہ تم سے شادی ہونے کے بعد تو میں اسی کو بدنصیب سمجھ رہی تھی۔‘‘
’’بوا آپ کیسی باتیں کررہی ہیں‘ یہاں میری تقدیر پھوٹ گئی اور آپ اس جنگلی کو دکھیا کہہ رہی ہیں۔‘‘ وہ تپ کے ان پر چڑھ دوڑی۔ ’’میری تو زندگی دائو پر لگ گئی۔‘‘
’’اے لو‘ کل شادی ہوئی اور آج دائو پیچ بھی چل گئے۔‘‘ بوا نے آنکھیں پھیلا کے ہونٹوں میں انگلی دبالی۔ ’’اچھا یہ بتائو تم اکیلی کیوں آئی ہو۔ تمہارے دولہا کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’بھاڑ میں گئے دولہا۔‘‘ اس نے جل کے کہا۔
’’اے بیٹا‘ بھاڑ میں تو وہ تم سے نکاح کرتے ہی چلا گیا تھا۔‘‘ بوا کو بھی غصہ آگیا۔
’’مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا‘ وہ آئے تو اسے بھگا دیجیے گا۔‘‘
’’ہائیں وہ کیوں۔‘‘ بوا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔
’’میرا تو دل چاہ رہا ہے کہ اس کا قلع قمع کردوں۔‘‘
’’خبردار جو شوہر کو ایسے کہا‘ اب وہ تمہارے سر کا تاج ہے۔‘‘ بوا نے اسے ڈپٹا۔
’’وہ سر کا تاج نہیں ہے سر پہ عذاب ہے۔‘‘ وہ بھی کلس کے بولی۔
’’بری بات ہے آدمی کو ایسے نہیں کہتے ہیں۔‘‘
’’وہ آدمی ہے کہاں۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا۔
’’اے ہے تو کیا عورت ہے؟‘‘ بوا نے پوچھنے میں اس سے زیادہ تیزی دکھائی۔
’’وہ عورت بھی نہیں ہے‘ وہ تو کوئی اور ہی مخلوق ہے۔ بہرحال وہ آئے تو اسے لوٹا دیجیے گا۔‘‘
’’اسے کیا لوٹانا ہے‘ یہاں تو تمہارا ہی دماغ لوٹا ہوا ہے۔ جانے کیا وائی توائی بک رہی ہو۔ یہ بتائو کچھ کھایا بھی ہے یا خالی پیٹ آئی ہو۔‘‘
’’میں آگئی ہوں‘ یہی بہت ہوا ورنہ اس جن کے چنگل سے نکلنا آسان نہ تھا۔ میں تو بس اپنی عقل سمجھ سے آگئی۔‘‘
’’ایک تو تمہاری سمجھداری سے میں بہت پریشان رہتی ہوں۔ لوگ عقل سے نجانے کیا کیا کام لیتے ہیں اور تمہاری عقل ہر چیز کو نیست ونابود کرکے رکھ دیتی ہے۔‘‘ بوا نے اسے سمجھا بجھا کر زبردستی واپس بھیج دیا۔
…٭٭٭…
اس دن وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ علی اس کے برابر آکے بیٹھ گیا۔ وہ کرنٹ کھا کر ایک دم سے کھڑی ہوگئی۔ علی نے بھی اسی تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اپنے برابر بٹھا لیا۔
’’چھوڑو میرا ہاتھ۔‘‘ شاداب نے ہاتھ کو جھٹکادیا۔ لیکن گرفت سخت تھی۔ اس لیے ناکام رہی۔ ’’میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی اور تم ہو کہ میرے برابر آکے بیٹھ گئے ہو۔‘
’’شوہر ہوں میں تمہارا زیادہ تین پانچ کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ علی نے تیزی سے کہا۔
’’ہاں تم صرف ممی ڈیڈی کے نہ آنے تک میرے شوہر ہو وہ آجائیں تو پھر فیصلہ ہوگا۔‘‘
’’فیصلہ ہونے کے بعد ہی میں تمہیں بیاہ کے لایا ہوں۔ تمہارے ماں باپ کی مرضی سے ہی یہ کام ہوا۔ اب انہیں میرے معاملات میں بولنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘
’’انہیں تمہارے نہیں میرے معاملات میں بولنے کا حق ہے۔‘‘
’’انہوں نے ہی نکاح کرکے تمہیں میرے سپرد کیا ہے۔‘‘
اس کی بات پہ شاداب سناٹے میں آگئی۔ بات تو اس کی بھی ٹھیک تھی۔ شادی تو ماں باپ کی مرضی سے ہوئی ہے پھر وہ علی کے کیسے مورد الزام ٹھہرا سکتی تھی لیکن یہ بھی طے تھا کہ وہ علی کی ساتھ بھی نہیں رہ سکتی تھی۔
شاداب کا کبھی علی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ اس کے حلیے سے ہی شاداب کو کوفت ہوتی تھی۔ اس نے ابھی تک اس کے کام کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔ علی اس وقت بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔
’’تم کام کیا کرتے ہو؟‘‘
’’مرغیاں بیچتا ہوں۔‘‘
’’وھاٹ…؟‘‘ و ہ بری طرح چیخی۔ ’’میری شادی ایک مرغی بیچنے والے سے ہوئی ہے۔ ممی نے تو کہا تھا کہ تمہارا بہت اچھا کاروبار ہے‘ سارے شہر میں پھیلا ہوا ہے۔‘‘
’’ہاں تو کیا‘ مرغیاں بیچنا اچھا کاروبار نہیں اور کیا مرغی بیچنے والوں کی شادیاں نہیں ہوتی؟‘‘ علی نے آنکھیں نکال کے پوچھا۔
’’ہاں ہوتی ہیں‘ لیکن مجھ جیسی لڑکیوں کے ساتھ نہیں ہوتیں۔‘‘ اس نے جل کے کہا۔
’’کیوں تم میں کون سے ہیرے جڑے ہوئے ہیں اور مجھ میں کیا کمی ہے؟‘‘
’’تم میں کوئی کمی نہیں… تم میں تو بہت سی زیادتیاں ہیں۔‘‘ وہ روتی ہوئی کمرے میں گھس گئی۔
اس کی ممی ڈیڈی سے بہت سرسری سی بات ہوئی تھی۔ اس نے علی کے بارے میں بات کی تو انہوں نے اس کی تعریفوں کے پل کھڑے کردیئے۔
اس نے یونیورسٹی جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ اب تو وہ شکر ادا کررہی تھی کہ جلد بازی میں شادی ہونے کے سبب وہ اپنی فرینڈز کو نہیں بلاسکی تھی وہ آتیں تو اس کا کتنا تماشا بنتا۔ اب تو وہ ان کا سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتی تھی۔ وہ خوب صورت مرد سے شادی کرنے کے کتنے دعوے کرتی تھی۔ اس چکر میں اس نے کئی اچھے رشتے نکال دیئے تھے۔ شاید اس لیے اس دفعہ ممی ڈیڈی نے اسے لڑکا نہیں دکھایا تھا۔ شاید یہ اس کے تکبر کی سزا تھی۔
علی صبح کا گیا رات دیر سے گھر لوٹتا تھا۔ شاداب کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو اس کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ سارا دن گھر میں بولائی بولائی سی پھرتی یا بھاگ بھاگ کر بوا کے پاس چلی جاتی۔ آج بھی وہ نہایت بگڑے موڈ کے ساتھ ان کے پاس آئی تھی۔
’’اے خیر سے آئی ہو ناں نہ سلام نہ دعا۔‘‘ بوا نے اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’میری زندگی میں اب خیر کہاں‘ وہ ہوتی تو آتی کیوں۔‘‘ اس نے جل کے کہا۔
’’ہاں ٹھیک ہی کہتی ہو جہاں تم ہوگی وہاں بھلا خیر کا کیا کام۔‘‘ بوا نے جل کے کہا۔
’’کچھ کھا کے آئی ہو یا یونہی بھوکے پیٹ چلی آئیں۔‘‘
’’میں شکل سے آپ کو کھائے پئے لگ رہی ہوں۔ دو دن سے دانہ اڑ کے منہ میں نہیں گیا۔‘‘
’’ہاں اس پہ یہ حال ہے کہ تم گھوڑے والی چال چلتی ہوئی یہاں آگئیں۔‘‘ بوا چڑ کے بولیں۔ بوا نے کچھ دیر میں اس کے آگے سینڈوچ اور کباب لاکے رکھ دیئے۔
’’تمہاری شکل سے تو بالکل نہیں لگ رہا ہے کہ تم دو دن کی فاقہ زدہ ہو۔ تمہارے دولہا تو خیریت سے ہیں۔‘‘ انہوں نے کھوجتی ہوئی نظروں سے پوچھا۔
’’لو بھلا اسے کیا ہونا ہے۔ ایسوں کو کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ وہ تپ کے بولی۔
’’کیسوں کو…؟‘‘ بوا نے حیرت سے پوچھا۔
’’اسی جن کے بارے میں آپ پوچھ رہی ہیں۔ ایسوں پر تو آفتیں بھی اثر انداز نہیں ہوتی ہیں۔‘‘
’’ہائیں تو کیا تم بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوئیں۔‘‘ بوا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔
’’میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔‘‘ اس نے ہاتھ نچاتے ہوئے تیزی سے کہا۔
’’ارے رہنے دو‘ تم تو ایسی ہو نہ ویسی ہو… جانے کیسی ہو؟‘‘ بوا نے جھنجلا کے کہا اور اٹھ کے کچن میں چلی گئیں۔ واپسی پر وہ ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی تھی کہ ایک گاڑی اس کے قریب آکے رکی۔
’’ہیلو کیسی ہیں آپ؟‘‘ کسی اجنبی کے اس طرح پوچھنے پر وہ ایک دم سے چونک کر پیچھے ہوئی۔ اس اجنبی کو پہچاننے میں چند ہی لمحے لگے‘ وہ رانیا کے فیانسی کا کزن ثوبان تھا۔ ’’کہاں جانا ہے آپ کو آئیے میں ڈراپ کردوں…؟‘‘
’’نہیں شکریہ میں چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔
’’ارے شکریہ گاڑی میں بیٹھ کر ادا کردیجیے گا۔ فی الحال تو آپ بیٹھ جائیے‘ اس طرح روڈ پر کھڑے ہوکر باتیں کرنا اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ اس کی بات بھی ٹھیک تھی لہٰذا وہ مزید بحث کیے بنا خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
’’میں نے سنا ہے آپ کی شادی ہوگئی ہے؟‘‘
’’جج… جی… جی ہاں۔‘‘ شادی کے نام پر اس کے پسینے چھوٹ گئے۔
’’آپ کے شوہر تو یقینا بہت خوب صورت ہوں گے؟‘‘ خوب صورت شوہر کے نام پر اس کا دل بند ہونے کے قریب پہنچ گیا۔
’’بس بس آپ پلیز مجھے یہیں اتار دیجیے۔ مجھے یہیں آنا تھا۔‘‘ اس نے شاپنگ سینٹر کے سامنے سے گاڑی گزرتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے کہا تو ثوبان کا پیر بھی ایک دم سے بریک پر جا پڑا‘ اور وہ تیزی سے اس کا شکریہ ادا کیے بغیر گاڑی سے اترئی اور وہ زن سے گاڑی آگے بڑھا کے چلا گیا۔
اس نے فوراً ہی ایک رکشہ کیا اور گھر آگئی۔ ثوبان کو دیکھ کے اس کے زخم رسنے لگے۔ شاداب نے تو آج ہی اسے غور سے دیکھا تھا۔ کتنا ڈیشنگ اور اسمارٹ لگ رہا تھا وہ‘ اس نے ثوبان کو ٹھکرا کے اپنی زندگی برباد کرلی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کنکر سے بھرگئے تھے۔ اپنی بیوقوفی سے اس نے اپنے نصیب برباد کرلیے تھے دکھ اور تکلیف کے احساس سے اس کا دل پھٹا جارہا تھا۔
…٭٭٭…
اس دن بوا اس کے گھر چلی آئیں۔ کچھ دیر نماز کا وقت ہوا تو وہ وضو کرنے چل دیں۔
’’اس گھر میں کوئی جاء نماز بھی ہے یا نہیں۔‘‘ انہوں نے وضو کرنے کے بعد پوچھا۔ ’’تم تو نماز روزے کی ہو نہیں‘ کیا تمہارے میاں بھی تمہاری طرح بے دین آدمی ہیں۔‘‘
’’میں بے دین ہرگز نہیں ہوں۔ مجھے سارا دین معلوم ہے۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا۔ ’’دن میں پانچ نمازیں ہیں‘ سال میں دو عیدیں ہوتی ہیں‘ ایک مہینے کے روزے ہوتے ہیں۔ طبیعت صحیح ہے تو رکھو‘ خراب ہے تو چھوڑ دو۔ دین میں بہت لچک ہے کوئی سختی نہیں ہے۔‘‘
’’اے ہٹو بھی‘ میری جان نہ جلائو۔ دین کی ذرا سی بھی لچک تم میں تو آئی نہیں۔‘‘ بوا نے جھنجلا کے کہا اور آگے بڑھ گئیں۔
’’ارے سنیں تو سہی بوا‘ علی پر آپ ذرا کچھ پڑھ کے پھونک دیں کہ وہ انسان بن جائے۔‘‘
’’ارے بیٹا میری پھونکیں تو تم پر کام نہ آئیں‘ اس پر کیا اثر کریں گی۔‘‘
’’میری بات چھوڑیں۔‘‘ اس نے بیچارگی سے کہا۔
’’رہنے دو۔ مجھے تو رہ رہ کے اس دکھیا کا خیال آتا ہے اس کی تو جھولی دکھوں سے بھر گئی ہے۔ کیسا اچھا لڑکا ہے۔‘‘
’’کوئی اچھا نہیں ہے۔ اس کے اندر تو جھول ہے جھول اور اس کی جھولی دکھوں سے نہیں مجھ سے بھری ہے۔‘‘
’’ہاں ایک ہی بات ہے۔‘‘ بوا نے جل کے کہا‘ اور نماز پڑھنے چل دیں۔
شام کو علی آیا تو اپنے ساتھ چار مرغیاں بھی لے کے آیا‘ اس نے آتے ہی چاروں مرغیوں کو تیزی سے ذبح کیا۔ ان کی کھالیں اتاریں اور کھچا کھچ بوٹیاں بنا ڈالیں۔ شاداب آنکھیں پھاڑے ہونق سی اسے دیکھتی چلی گئی۔ اسے لگا اس نے مرغیوں کی نہیں بلکہ اس کی کھال اتاری ہو اور اس کی بوٹیاں بنا ڈالی ہوں۔
’’ممی یہ آپ نے کیا کردیا کس آدمی کو میر ے پلے باندھ دیا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئیں۔ ’’آج شام کو میرے دوست کی بہن کی شادی ہے تیار رہنا۔‘‘
’’کیا شادی میں‘ میں تمہارے ساتھ جائوں گی۔‘‘ وہ بری طرح چیخ پڑی۔ ’’تم نے اپنا حلیہ اور اپنا کام دیکھا ہے۔ میں اس بگڑے حلیے اور مرغی والے کے ساتھ جائوں گی شادی میں۔‘‘
’’کیوں کیا خرابی ہے میرے حلیے میں اور کیا مرغی والے شادیوں میں نہیں جاتے؟‘‘
’’جاتے ہوں گے اور ان کی بیویاں بھی تمہارے جیسی ہوتی ہوں گی۔‘‘
’’اے زوجہ محترمہ‘ زیادہ گرمی سردی دیکھنے سننے کا عادی نہیں ہوں میں۔ میرا ہر حکم ماننے کی تم پابند ہو۔‘‘ اس نے شاداب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’چھوڑو میرا ہاتھ۔‘‘ شاداب کو لگا لوہے کے پنجے میں اس کا ہاتھ جکڑ گیا ہو۔
’’یہ ہاتھ چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا‘ شام کو تیار ہوجانا ورنہ اسی حلیے میں لے جائوں گا۔‘‘ اس نے جھٹکے سے شاداب کا ہاتھ چھوڑا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
شام کو شاداب بڑی بے دلی سے تیار ہوئی لیکن پھر بھی غضب کی لگ رہی تھی۔ وہ علی کو اپنے اوپر بولنے اور حاوی ہونے کا مزید موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ کمرے سے باہر آئی تو علی اسے دیکھتا رہ گیا‘ وہ اس کے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر کچھ نروس سی ہونے لگی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’جیسے بھی دیکھوں اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں کوئی پابندی تھوڑی ہے۔‘‘
’’ہونہہ… بیوی…‘‘ اس نے نخوت سے سر جھٹکا اور آگے بڑھ گئی۔
’’تم اندر چلو میں ایک ضروری کام نمٹا کے ابھی آتا ہوں۔‘‘ شادی ہال کے سامنے گاڑی روک کر علی نے اسے اترنے کے لیے کہا تو وہ خاموشی سے اتر گئی۔
’’اللہ کرے شادی میں آہی نہ سکے۔‘‘ وہ یہ دعا کرتی ہوئی اندر آگئی۔ یہاں وہ کسی کو نہیں جانتی تھی۔ لہٰذا خاموشی سے آکے بالکل خالی میز پر بیٹھ گئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اس سے بات کرے اور اسے علی کی وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑے۔
لباس اور وضع قطع سے یہاں پر آئے ہوئی سبھی لوگ ویل مینرڈ اور ویل ایجوکیٹڈ لگ رہے تھے۔ اسے حیرت ہورہی تھی کہ علی جیسے آدمی کی ان لوگوں کے ساتھ دوستی کیسے تھی۔ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ سامنے کے منظر نے اس کے اندر پھول سے کھلا دیئے۔ سامنے ثوبان بلیک ڈنر سوٹ پہنے بڑی شان سے چلا آرہا تھا۔ اب کسی اور مرد کے بارے میں سوچنا بھی اس کے لیے گناہ تھا اس وقت یہ خیال اس کے دل سے نکل چکا تھا۔ اگر میں سمجھداری سے کام لیتی تو یہ شخص میرا ہوسکتا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ یہیں بیٹھ کر رونا شروع کردے یا یہاں سے بھاگ جائے۔
’’کہاں ثوبان جیسا شاندار بندہ اور کہاں وہ جنگلی مرغیاں بیچنے والا۔‘‘ اس کا کلیجہ کٹ کے رہ گیا۔ اس نے ثوبان کو دیکھ کے پیٹھ موڑ لی‘ وہ اس سے ہرگز نہیں ملنا چاہتی تھی۔ اس نے علی کے بارے میں پوچھ لیا تو وہ کیا جواب دے گی یا اگر علی نے اسے ثوبان کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کا کیا رد عمل ہوگا۔ ویسے علی اسے ادھر ادھر کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں غلطاں وپیچاں تھی کہ سلام سن کر چونکی۔
’’السلام علیکم!‘‘ کی آواز پہ چونک کے گردن گھمائی اور دل دھک سے رہ گیا۔ سامنے ثوبان کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’جی ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے مری مری آواز میں کہا۔
’’کافی دن کے بعد آپ سے ملاقات ہورہی ہے۔ آپ اپنے ہسبینڈ سے تو ملوائیے وہ بھی تو آئے ہوں گے ناں۔‘‘ ہسبینڈ کے نام سے اس کا دل بند ہونے کے قریب پہنچ گیا۔
’’جی وہ ادھر ہی ہوں گے اتنے لوگوں میں مجھے اس وقت نظر نہیں آرہے۔‘‘
’’جب بھی آپ سے ملاقات ہوئی آپ اکیلی ہی ہوتی ہیں۔ آپ نے بڑا چھپا کے رکھا ہوا ہے، لگتا ہے بڑی خاص چیز ہیں وہ۔‘‘ خاص چیز کے نام پہ اس کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ وہ تو واقعی میں خاص چیز ہی ہے۔ تھوڑی سی بات چیت کے بعد ثوبان ہٹ گیا۔
کھانے کے بعد کسی بچے نے بتایا کہ آپ کو کوئی علی انکل باہر بلا رہے ہیں۔ اس نے شکر کیا کہ علی اس کے ساتھ ہال سے باہر نہیں نکلا۔ اس شادی میں آئے ہوئے سارے مرد اسے اچھے لگ رہے تھے اب تو عام سی صورت کے مرد بھی اسے اچھے لگنے لگے تھے۔
’’بوا ٹھیک کہتی ہیں مرد کا حسن اس کی شکل میں نہیں کام اور مقام میں ہوتا ہے۔‘‘ اسے یہ بات اب سمجھ میں آرہی تھی۔ جب اسے کام اور مقام والا شوہر نہیں ملا تھا۔ وہ سارے راستے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتی رہی۔ اپنے تکبر پر توبہ کرتی رہی۔ اس نے تکبرکیا تھا جبھی ثوبان جیسا اچھا مرد اس کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ ثوبان کو دیکھ کے وہ بہت بے چین ہوگئی تھی۔ واپسی میں علی نے ایک اسٹور سے کون آئس کریم خریدیں اور گاڑی میں آکے بیٹھ گیا۔
’’مجھے آئس کریم نہیں کھانی۔‘‘ علی نے آئس کریم اس کی طرف بڑھائی تو اس نے لینے سے انکار کردیا۔
’’لے لو تم نے شادی میں بھی سوئٹ ڈش نہیں کھائی تھی۔‘‘ اس کی بات پہ وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ تو اسے کہیں نظر نہیں آیا تھا اور اس نے شاداب پر اتنی نظریں رکھی ہوئی تھیں کہ اس کے کھانے کو بھی نوٹ کرلیا تو یقینا ثوبان سے بات کرتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ وہ ثوبان کے بارے میں کوئی بات کرتا اس نے آئس کریم لے لینا ہی مناسب سمجھا۔
علی گاڑی چلاتے ہوئے آئس کریم کھا رہا تھا کہ روڈ کراس کرتے ہوئے اچانک ایک خاتون سامنے آگئیں۔ اس نے تیزی سے بریک لگایا تو خاتون تو بچ گئیں لیکن کون اس بری طرح منہ سے ٹکرائی کہ جھٹکا لگنے سے اس کی داڑھی نیچے گر گئی۔ شاداب جو اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ہک دک رہ گئی۔
’’آ…آپ…!‘‘ اس کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ثوبان بیٹھا تھا۔
’’جی محترمہ یہ میں ہی ہوں۔‘‘
’’آپ نے میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیا؟‘‘
’’اونہوں… دھوکہ نہیں تھوڑا سا سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ انسان شکل سے نہیں کردار اور رویوں سے پہچانے جاتے ہیں۔‘‘
’’ایسے سمجھاتے ہیں کیا‘ قتل کر ڈالا آپ نے مجھے…‘‘
’’قتل تو تم نے مجھے کردیا تھا‘ میری جان جبھی تو تم سے شادی کی۔‘‘ ثوبان نے رومینٹک ہوتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا تو اس نے تیزی سے کھینچ لیا۔
’’اگر سمجھانے کا یہ طریقہ پسند نہیں آیا تو گھر چلو کسی اور طریقے سے سمجھا دیتا ہوں۔‘‘ اس نے گہری سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’گھر چل کے تو میں آپ کو سمجھائوں گی۔‘‘ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کے اترنا ہی چاہتی تھی کہ ثوبان نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھاما اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھادی۔
’’آپ نے میرے ساتھ اتنا برا کیا۔ میں نے بالکل صحیح کیا تھا آپ کے ساتھ شادی سے انکار کرکے۔‘‘ اس نے نہایت بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ کہا۔
’’اور دیکھ لو میں نے پھر بھی کرکے دکھادی۔‘‘ وہ شوخ ہوا۔
’’لیکن پھر بھی آپ نے میرے ساتھ تو اچھا نہیں کیا ناں۔‘‘ شاداب نے رندھے ہوئے گلے سے کہا۔
’’میں ہر بات کا ازالہ کردوں گا میری جان۔‘‘ وہ بھی بات بڑھانا نہیں چاہتی تھی‘ غلطی اس کی تھی اس نے تکبر میں آکے ثوبان جیسے اچھے آدمی کو ٹھکرایا تھا۔ اس کے باوجود ثوبان نے اس کی گستاخی کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے اپنا لیا تھا۔
آگے کے سفر میں بہاریں اس کی منتظر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرکے ایک لمحے میں ہی اس کی تقدیر بدل دی تھی‘ اس کے لیے وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی۔ آنسو اس کے دل پر پھوار بن کر گرنے لگے۔ اسے لگا وہ ریگستان سے نخلستان میں آگئی۔ اس نے پرسکون ہوکے آنکھیں موندلیں۔
باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی۔ اسے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے خوشیوں کے ساتھ ساتھ اس پر باران رحمت بھی برسادی۔ اندر کا موسم بدلا تو باہر کا موسم بھی خوش گوار ہوگیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close