Aanchal Apr 16

اے ہم نو

طلعت نظامی

بابا کے انتقال کا تیسرا دن بھی جب گزر گیا تو وہ پہلی بار اس کے سامنے تنہائی میں آیا تھا۔ اظہار تعزیت کرنے والوں کی تعداد میں کمی آتی جارہی تھی اور اب سورج ڈھلتے سمے اس کے پاس کوئی بھی نہ تھا۔ غم ویاس کی چادر میں لپٹی وہ اس کے سامنے تھی۔ سوجی ہوئی متورم آنکھیں بتارہی تھیں کہ ان تین دنوں میں کوئی پل بھی ایسا نہ ہوگا جب بادل برسے نہ ہوں۔ سپید چہرے پہ سجے نرم لبوں کو دانتوں سے کچلتی وہ اچانک یوں اسے اپنے سامنے دیکھ کر نظریں چرا گئی جسے چار دن پہلے قدرت نے ایک دوسرے کے تمام احساسات اور قلب وجذبات کا مالک بنادیا تھا۔ بالکل حادثاتی طور پر!! ہوسکتا ہے بابا کے لیے یہ حادثہ اتفاقی نہ ہو بلکہ انہوں نے بہت پہلے سے یہ سب سوچ رکھا ہو لیکن اس کے لیے تو محض یہ اتفاق تھا۔
جب ٹوٹتی سانسوں پہ گرفت پاتے ہوئے بابا جان نے اس اجنبی کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ پکڑایا تھا۔ چند گواہان مولوی صاحب کے ہمراہ ہاسپٹل روم میں ہی اکٹھے ہوگئے تھے جن میں بابا کے قریبی دوست اور ارتضیٰ کے دوست شامل تھے۔ قاضی صاحب نے نکاح پڑھایا تو کئی دنوں سے بیماری کی اذیت کا کرب جھیلتے بابا کی آنکھوں میں سکون آٹھہرا تھا۔ وہ تو جیسے کچھ سوچنے سمجھنے کی کیفیت سے ماورا تھی۔ خالی خالی آنکھوں سے بس مانیٹر پر ان کے دل کی رفتار کے مدوجذر کو دیکھ رہی تھی۔ کس طرح ایجاب وقبول کے مرحلے طے ہوئے وہ کٹھ پتلی کی طرح کچھ نہ سمجھتے ہوئے سارے مرحلے سر کیے جارہی تھی۔
’’مم… مجھے معاف کردینا بیٹا… میں تمہاری خواہش نہیں پوری کرسکا… قدرت نے مہلت ہی نہ دی‘ اب اس حقیقت کو قبول کرلو‘ جس میں اس کی رضا…‘‘ ٹوٹتے بے ربط جملوں میں پشیمانی تھی‘ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر بے تحاشا رو دی۔
’’میری سب سے بڑی خواہش آپ ہیں بابا… آپ تو ساتھ نہ چھوڑتے۔ اس بھری دنیا میں آپ کے علاوہ میرا کون تھا جو اتنی بڑی بیماری کو گلے لگا کر اس اسٹیج تک آپہنچے۔ ذرا بھی خیال نہ آیا میرا؟‘‘
’’یہی تو میری زندگی کا سب سے بڑا قلق تھا بچے جو اتنا بڑا فیصلہ مجھے کرنا پڑا کہ اس بھری دنیا میں میرے سوا تمہارے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں۔ ارتضیٰ بہت اچھا لڑکا ہے میں اسے بچپن سے جانتا ہوں۔ اس کے باپ سے میری پرانی دوستی تھی‘ تم تو جانتی ہو۔ بس اس کے سوا مجھے تمہارے لیے کوئی پسند نہیں آیا‘ اس کا بھی بھری پوری دنیا میں کوئی نہیں۔‘‘ وہ مولوی صاحب کے ساتھ ہی کمرے سے چلا گیا تھا جب وہ اسے متعارف کروا رہے تھے۔
’’خیال رکھنا اس کا‘ کسی لمحے بھی احساس نہیں دلانا کہ میرے اس فیصلے میں تمہاری مرضی شامل نہیں تھی۔ میں اس کا مشکور ہوں کہ اس ڈوبتی سانسوں کی ساعتوں میں میرا مضبوط سہارا بن کر کھڑا ہوا۔ خدا تم دونوں کو شاد وآباد رکھے‘ آمین۔‘‘
’’بابا… میں کچھ نہیں جانتی بس آپ مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔‘‘ سسکیاں لیتی وہ مچلی۔
’’قدرت سے تم لڑ سکتی ہو نہ میں‘ ورنہ کوئی بھی اس دنیا میں اپنے پیاروں کو تنہا چھوڑ کر نہ جائے‘ میرا تمہارا ساتھ بس اتنا ہی تھا… بس… اتنا مت رو بچے کہ موت کے وقت بھی میں اذیت میں ہی رہوں۔ کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیئے‘ اب آخری لمحے تم مجھے کیوں پشیمان کررہی ہو۔‘‘ ان کی بے جان ہوتی ہوئی آنکھوں میں نمی آگئی۔ وہ تڑپ گئی۔
’’نہیں بابا… نہیں… بس کیا کروں‘ کس کے آگے اپنے دل کا زخم لے کر جائوں…!‘‘ جلدی جلدی اپنی آنکھیں صاف کیں۔ دل میں تو طوفان بپا تھا۔ ڈاکٹر نے اتنی باتیں کرنے سے انہیں منع کیا تھا۔ پھر بھی انہیں سامنے پاکر خود پر قابو نہ رکھ سکی۔
خدا بھی کیسے کیسے فیصلے کرتا ہے کہیں تو کسی کے ہمراہ ایک ہجوم بیکراں اور کسی کا واحد سہارا بھی تنکے کی زد میں!! کیسے نہ گریہ وزاری کرتی۔ کیسے اضطراب وبے چینی جملوں میں نہ در آتی۔ اس وقت تو اس واقعے کو بھی فراموش کر بیٹھی تھی جو کچھ دیر قبل ظہور پذیر ہوا تھا یاد تھا تو بس اتنا کہ اس کے بچپن کی تنہائیوں کے شریک بابا جان جارہے تھے۔ ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا۔
’’میں نے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا… وہ بات میرے لیے زیادہ کربناک ہوتی کہ میں تمہیں تنہا اس دنیا کے حوالے کر جاتا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ارتضیٰ میرے لئے فرشتوں کی طرح ثابت ہوا۔ مجھے اس پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے بہت شریف النفس بچہ ہے اور کوئی میرے اعتماد کے قابل نہ تھا بیٹی‘ یہاں کی زندگی اور گائوں کی سادگی میں بہت فرق ہے۔ ایڈجسٹ کرنے میں کوئی مشکل ہو تو معاف کردینا۔ اپنے باپ کی مجبوری اور قدرت کا لکھا قبول کرنے کی کوشش کرنا۔‘‘ وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بہت کچھ سمجھاتے رہے تھے‘ پر اس وقت وہ سمجھنے کے لائق کہاں تھی۔ ایک بہت بڑے خلا کا زندگی میں در آنے کے احساس نے کچھ بھی سمجھنے کے لائق نہیں چھوڑا تھا۔
بالآخر بابا چلے گئے وہ تڑپ تڑپ کر روئی۔ ان کے دوست کی بیویوں اور محلے دار عورتوں نے سنبھالا‘ اس کے غم کو محسوس کیا‘ بہت سمجھایا۔ بس آنکھوں کے فرش سوکھتے ہی نہ تھے۔ کوئی بھی سمجھانے کی کوشش کرتا تو پہلے سے زیادہ اشک امڈے چلے آتے۔ رو رو کر حالت نیم جاں ہوگئی تھی۔ آخر تیسری شام کو کسی نے اس بے تحاشا سادہ مزاج اور وجاہت کے پیکر انسان کو اس کے کمرے میں بھیج دیا یا شاید اسے خود اس نئے رشتے کی ذمہ داری کا احساس ہوگیا تھا۔ وہ سمجھ نہ سکی۔ اسے تو خود اس اتفاقی رشتے کو قبول کرنے میں جھجک محسوس ہورہی تھی کہ اس زبردستی اور مجبوری کی بنا پر استوار کیے گئے بندھن کو اس نے دل سے قبول بھی کیا ہے کہ نہیں۔ وہ صوفے کے کارنر پر سکڑی سمٹی بیٹھی ہوئی تھی‘ حالات نے بے تحاشا اجلی رنگت کو کملادیا تھا۔ گلابی لب بھیگے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر ہلکا سا منہ موڑ گئی۔
’’خدا کی مرضی میں سر جھکا دینا ہی انسانیت کی معراج ہے۔‘‘ ہلکا سا کھنکھار کر وہ گویا ہوا۔ اس کی آواز اسی کی طرح مضبوط اور دلکش شخصیت کی عکاسی کرتی تھی یہ تو اسے بہت پہلے سے علم تھا جب بابا کی موجودگی میں کبھی کبھار گائوں سے اس کے گھر آیا جایا کرتا تھا اور تعلیمی دور میں اسی شہر کے ہاسٹل میں مقیم تھا تو ان کے گھر بھی بعض اوقات ٹھہرا کرتا تھا۔
’’ہم سب اس کی امانت ہیں‘ مناہل صاحبہ‘ ایک نہ ایک دن اپنی اپنی باری پہ چلے جانا ہے۔ دنیا میں مستقل قیام کے لیے کوئی نہیں آیا۔ بس جلد یا بدیر جانا ضرور ہے۔ ہر انسان اس کی مصلحت سمجھ نہیں پاتا۔‘‘ کہتے ہوئے سائیڈ صوفے پر وہ براجمان ہوگیا۔ ’’انکل بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے کبھی بھی ایک والد سے کم شفقت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جس کی آپ خود گواہ ہیں کہ میں بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ ان کی محبت میں یہاں کھنچا چلا آتا تھا۔ حالانکہ میری تعلیم کے ساتھ گائوں کی ذمہ داریاں تھیں پر ان کی چاہت کا اعزاز تھا کہ اپنے والد کے انتقال کے بعد قدرتی طور پر ان سے بہت اٹیچ ہوگیا تھا۔ لیکن ان کی زندگی بس اتنی ہی تھی انکل کو کینسر ہوگیا یہ سن کر ہی میں اسی کرب میں گرفتار ہوگیا تھا جیسے کبھی اپنے والد کے انتقال کی خبر سن کر ہوا تھا۔‘‘ اس کا چہرہ دوبارہ آنسوئوں سے تر ہونے لگا تھا۔ ارتضیٰ نے بغور جل تھل کا سماں دیکھا۔
’’مشیت ایزدی کے سامنے کسی کا بس نہیں۔ غم خوشی‘ نشیب وفراز زندگی کا حصہ ہیں‘ سکھ تو انسان خوشی خوشی قبول کرلیتا ہے‘ پر دکھ پر برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے لگتا ہے۔ نصیب سے لڑنے پر آمادہ ہوجاتا ہے‘ آزمائش پر پورا اترنے میں ہی دل کا سکون ہے۔ کہنا یہی ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں آپ اکیلی نہیں‘ میں آپ کے ساتھ ہوں مناہل صاحبہ۔‘‘ حیرانی سے بھیگی بھیگی پلکیں اٹھا کر مضبوطی سے ایستادہ اس لمبے چوڑے بندے کو دیکھا۔
’’سنبھالیں خود کو‘ حقیقت کو فیس کریں‘ ورنہ بیمار پڑجائیں گی اور پھر… جیسا کہ آپ کو معلوم ہے میں گائوں میں رہتا ہوں… آپ کو بھی میرے ساتھ ہی چلنا ہوگا دو روز بعد میری روانگی ہے۔‘‘ ایک اور حقیقت منہ کھولے کھڑی تھی اسے نگلنے کو۔
’’جی… ی… ی…!‘‘ حلق سے پھنسی پھنسی آواز برآمد ہوئی۔
’’ہاں‘ اپنا سامان پیک کرلیجیے گا‘ کیونکہ میں مزید نہیں رک سکتا وہاں بہت سے کام میرے منتظر ہیں۔ ورنہ اتنی جلدی آپ کے دل ودماغ کو منتشر نہیں کرتا۔ مجھے پتہ ہے یہ تبدیلی آپ کو ناگوار گزرے گی پر کیا کروں مجبوری ہے۔‘‘ انتشار تو اس دن سے بپا تھا جس دن سے بابا کی بیماری کا پتا چلا تھا جو اب عروج پہ جا پہنچا تھا۔ اس کا وجود خلا میں معلق تھا۔ خود کو حالات کے حوالے نہ کرتی تو کیا کرتی۔ بابا جان کا فیصلہ ہی ایسا تھا کہ اس کی زندگی کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھما کر چلے گئے تھے۔ لیکن ایسا نہ کرتے بھی تو کیا کرتے… اس معاشرے میں اکیلا رہنا بھی محال تھا۔
پوری رات بس انہی خیالات کے تانے بانے میں الجھی رہی‘ کوئی فیصلہ نہ کرپا رہی تھے‘ آخر صبح اس نے اپنا ارادہ ظاہر کیا جب وہ اپنے کپڑے پریس کررہا تھا غالباً جانے کی تیاری ہورہی تھی۔ اسے اپنے پاس آتا دیکھ کر چونکا وہ نظریں جھکا گئی۔
’’جی… کوئی کام ہے؟‘‘
’’وہ… میں نے کہنا تھا کہ مجھے کچھ دنوں کے لئے ابھی یہیں رہنے دیں‘ میں ابھی ذہنی طور پر سیٹ نہیں ہوپائی ہوں۔ آپ کچھ دنوں بعد مجھے آکر لے جائیے گا… یا میں خود…!‘‘
’’ہرگز نہیں… میں ایک دن کے لیے بھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ اٹل لہجے میں اس کی بات مسترد کی۔ اس کے اندر ناگواری امڈ آئی اس استحقاق پر۔
’’ایک بوڑھے قریب المرگ انسان سے وعدہ کیا تھا کبھی آپ کو تنہا نہ چھوڑنے کا‘ وہ عہد میں توڑ نہیں سکتا اور پھر آپ جتنا اکیلی رہیں گی فضول خیالات میں الجھی رہیں گی‘ بہتر ہے میرے ساتھ چلیں۔ آپ بے فکر رہیں آپ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ گائوں ضرور ہے پر بجلی‘ گیس‘ کی سہولیات سے مزین ہے۔ پھر لوگ اس قدر مخلص اور خوش اخلاق ہیں کہ آپ کو اپنا غم بھولنے میں ٹائم نہیں لگے گا۔ بہت ساری سہیلیاں بن جائیں گی آپ کی۔‘‘
’’ہنہ…!‘‘ دل ہی دل میں پھنکاری اور واپس پلٹ گئی۔ پشیمانی ہورہی تھی اظہار مدعا پر‘ وہ ہولے سے مسکرادیا تھا۔
دوپہر کے بعد وہ اس کے ساتھ بس میں عازم سفر تھی۔ دل تھا کہ لہو لہو… قدرت بس اپنا ہی کئے جارہی تھی کچھ بھی جو اس کی مرضی کے عین مطابق ہوا ہو۔ اپنے گھر کو لاک کرتے ہوئے جگر چھلنی ہورہا تھا۔ اس کا تمام سامان ارتضیٰ نے ہی سنبھالا تھا۔ اس کے پاس صرف اپنا پرس تھا‘ ایک مقام پہ بس رکی تو وہ اس کے لیے جوس اور چپس کے پیکٹ لے آیا اس نے منہ موڑ لیا۔
’’پلیز… ابھی دیر ہے گائوں آنے میں جوس پی لیں‘ ناراضگی کا اظہار گھر جاکر کیجیے گا‘ آپ کے گلے شکوے دور کردوں گا جیسا آپ کہیں گی ویسا ہی ہوگا۔ حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔‘‘ سمجھاتا ہوا وہ اسے اور زہر لگ رہا تھا۔ جھپٹ کر جوس اور چپس کے پیکٹ کو پرس کے اندر رکھ لیا لوگ جو متوجہ ہورہے تھے۔ وہ زیرلب مسکراتا اپنی سیٹ پہ آبیٹھا۔
سفر تمام ہوا وہ اس کے ساتھ اس کے سادہ سے مکان میں آگئی۔ راستے میں گائوں کی ہری بھری خوب صورتی کی وہ قائل ہوگئی تھی۔ دو کمروں کا اس کا گھر کسی بھی قسم کے سامان کے تکلفات سے مستثنیٰ تھا‘ صرف ایک ہوادار کمرے میں اس کا سنگل بیڈ اور ایک رائٹنگ ٹیبل ایک کونے میں دھری ہوئی تھی۔ غالباً موصوف کو پڑھنے لکھنے سے بھی شغف ہے۔ پرس سائیڈ پہ رکھ کر وہ کونے میں ہی بیٹھ گئی جیسے وقتی قیام ہو۔ سفر کی تکان‘ ذہنی الجھن‘ مل کر اسے شکستہ کررہی تھیں۔ طائرانہ نگاہ بڑے سے پکے صحن کی طرف ڈالی وہ کونے میں چبوترے پر لگے نلکے سے منہ ہاتھ دھو رہا تھا۔ مضبوط پشت نظر آرہی تھی۔ کمرے کے ہی ایک سائیڈ پر کچن اور واش روم وغیرہ ترتیب سے بنے ہوئے تھے۔ جن کا دروازہ ابھی اس نے کھولا نہیں تھا۔ منہ ہاتھ دھو کر وہ کمرے میں آگیا۔
’’یہ گھر اب میرا ہی نہیں آپ کا بھی ہے‘ ایزی ہوجائیں پلیز ورنہ مجھے آگے کوئی راہ عمل متعین کرنے میں دشواری ہوگی۔‘‘ اسے ہنوز ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا دیکھ کر وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔ اسکن کلر کی چادر ابھی تک وجود سے لپٹی ہوئی تھی۔ اس کی حرکت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ارتضیٰ چیئر گھسیٹ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
’’مناہل بی بی… جن حالات میں ہماری شادی ہوئی ہے وہ آپ ہی کے لیے نہیں میرے لیے بھی ناقابل قبول ہے‘ لیکن شاید ایسا ہی ہماری تقدیر میں لکھا تھا‘ اب نہ آپ کچھ کرسکتی ہیں نہ ہی میں۔‘‘ اس کی آنکھوں کے فرش پھر سے گیلے ہونے لگے تھے۔ چند ہی دنوں میں حالات کیا سے کیا ہوگئے تھے۔
’’میں بھی آپ ہی کی طرح اس دنیا میں اکیلا تھا۔ ماں کا سایہ میرے پیدائش کے ساتھ ہی دنیا سے اٹھ گیا تھا۔ دو بہنوں کی شادی کے بعد بابا کی شفقت سے بھی محروم ہوگیا۔ پھر ان کے جگری دوست یعنی آپ کے بابا میں اپنے والد کا عکس دیکھنا شروع کردیا وہ بھی شفقت وانسیت کا پیکر تھے۔ بالکل بابا کی طرح‘ کوئی تو وجہ تھی‘ کچھ تو تھا کہ میں ان سے ملنے کھنچا چلا جاتا تھا۔ پھر جب ان کی بیماری کا پتہ چلا تو دل پہ آرے سے چل گئے اور بس روح وہیں رہ جاتی تھی میں خود واپس آجاتا تھا۔‘‘ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنا حال دل سناتا چلاگیا۔ وہ آنسوئوں میں بھیگتی رہی۔
’’آخر وہ بھی چلے گئے اور جاتے جاتے ثبوت دے گئے مجھے اعتبار وچاہت کا… جس کی مثال…آپ ہیں…‘‘ سسکتے ہوئے نگاہیں اٹھائیں۔ وہ نظریں چرا گیا۔
’’یہ وہ لمحہ تھا جب غم واندوہ میں ڈوب کر فخر بھی نہ کر پایا کہ ایک اور باپ نے مجھے ایک لائق بیٹا ہونے کی سند دی ہے تبھی آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔‘‘ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں تو وہ پاس جابیٹھا‘ اپنے ہی گھر میں پہلے ہی دن اتنے آنسو… خیال آیا ماحول کافی گمبھیر ہوچکا تھا۔ فوراً لہجہ کو شگفتگی میں بدلا‘ پر اس کے لانبی انگلیوں والے خوب صورت ہاتھ نہیں پکڑ سکتا تھا۔ جب تک کہ چاہت کا عندیہ نہ ملے۔ جذبات محو پرواز کیسے ہوسکتے تھے۔
وہ جو نکاح کے بعد دل کے بے حد قریب آچکی تھی۔ اسے اپنے شریک سفر کے حال دل کی خبر ہی نہ تھی کہ اس سونے گھر میں کیسی رونق وہ محسوس کرنے لگا تھا اس کے قدم رکھتے ہی۔
’’نکاح کے بعد صرف آپ کے آنسوئوں کی زبان سمجھی ہے‘ مزید کیا سوچ رہی ہیں۔ میری ہمراہی پر آپ کی کیا آرا ہے اب تک سمجھ نہ پایا۔‘‘ اس مکدر ماحول کی گھمبیرتا کو اس نے کم کرنا چاہا۔
’’پلیز اپنے آنسوئوں پر قابو پائیں فریش ہوکر بیٹھیں‘ کھانا آتا ہی ہوگا۔ فیض کو میں نے فون کردیا تھا‘ یہاں گائوں کے سب لوگ میرے رشتہ دار سے بڑھ کر ہیں۔ جب تک میں آپ کے کپڑے سیٹ کرتا ہوں الماری میں۔‘‘ اس کا اٹیچی کیس لے کر وہ دو ڈور کی لوہے کی الماری کی طرف بڑھ گیا۔
جب تک فریش ہوکر وہ آئی ایک نوجوان دستک دے کر جھجکتا‘ مسکراتا کھانا لے آیا‘ بہت مؤدب ہوکر سلام کیا اور ڈھکی ہوئی ٹرے ٹیبل پر رکھ دی۔
’’یہ فیض ہے‘ چاچا رمضو کا بیٹا‘ ابھی انٹر میں گیا ہے‘ شہر جانے کے ارادے ہیں اس بچے کے۔‘‘ ارتضیٰ نے مسکرا کر تعارف کرایا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہلکا سا مسکرادی۔
’’تم بھی کھائو نا فیض ہمارے ساتھ‘ اپنی نئی بھابی کا ساتھ نہیں دوگے۔‘‘ کن اکھیوں سے اس کے چہرے کی بہار کو دیکھا۔ وہ سر جھکا گئی۔ کالی کالی زلفوں کے درمیان سفید جگمگاتی مانگ دور تک گئی تھی۔ کچھ بھیگی لٹیں منہ دھونے کے باعث دوپٹے سے باہر اٹھکیلیاں کررہی تھیں۔
’’وہ جی… اماں کے ساتھ رات کو آئوں گا۔‘‘ وہ کچھ زیادہ شرما رہا تھا۔
’’ابھی کیوں نہیں آئیں ماسی… اپنی بہو کا استقبال کرنے۔‘‘ وہ اس کی پلیٹ میں خوش بودار گرما گرم پلائو نکالنے لگا۔
’’پلیز بس‘ میں اتنا نہیں کھائوں گی۔‘‘ ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو پیش رفتگی سے روکا۔
’’انہوں نے کہا پہلے آپ لوگ آرام کرلو‘ پھر جائیں گے۔ دونوں بھابیاں بھی تیاری کررہی ہیں آنے کی۔ ساجدہ باجی بھی سسرال سے آگئی ہیں۔ وہ سب آئیں گی اور جہاں جہاں خبر جارہی ہے سب کی سب ایسے تیاری کررہی ہیں جیسے ولیمہ میں جانا ہو۔‘‘ ارتضیٰ کا قہقہہ بلند ہوا۔
’’نہ بھی ہو ولیمہ تو یہ لوگ کروا کے چھوڑیں گے۔ آپ نے کام ہی ایسا کیا ہے پرا جی۔ وہ تو مجبوری تھی آپ کی ورنہ گائوں کے لوگ تو ایسی بارات نکالتے آپ کی کہ دنیا دیکھتی۔‘‘
’’پتہ ہے… پتہ ہے مجھے‘ تم لوگوں کے خطرناک ارادوں کا۔‘‘ ان دونوں کی گفتگو اسے عجیب سی الجھن میں گرفتار کررہی تھی۔ یہ وہ ارتضیٰ تو لگ ہی نہیں رہا تھا جو سنجیدگی اور متانت کی تفسیر بنا رہتا تھا۔ کہ ایک لفظ بھی اضافی بولے گا تو ان لوگوں کی بے ادبی ہوگی۔ ابھی تو عجیب ہی رنگ تھے۔
سب کو خبر ہوگئی تھی جلد ہی اس کے گرد لوگوں کا گھیرا تنگ ہونے والا تھا۔ گھبرا کر آنگن میں نکل آئی‘ کیاریوں میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ کچھ نازک پودے کئی دن سے پانی نہ ملنے کے سبب مرجھا رہے تھے۔ آنگن کے بیچوں بیچ آم کا بڑا سا پیڑ پورے قدوقامت سمیت کھڑا تھا۔ لیموں‘ ٹماٹر‘ ہری مرچ کے پودے توجہ کے منتظر تھے۔ آنگن صاف ستھرا ہورہا تھا‘ جیسے کسی نے ان لوگوں کے آنے سے پہلے صفائی کی ہو۔
اسے اپنا گھر یاد آنے لگا۔ دل کی ہوک تو لگ رہا تھا کلیجے کو چھید ہی ڈالے گی۔ آگے کیا ہونا تھا‘ اسے ان کے سامنے کس طرح پیش آنا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ دوسرے کمرے میں بچھے قالین پر بیٹھی سوچوں کی ادھیڑ بن میں وہ گرفتار تھی‘ ایک سائیڈ پر تکیہ نظر آیا‘ ذرا سی نیم دراز ہوئی تو کئی دنوں کے شکستہ وجود کو ایسا آرام ملا کہ آنکھیں بند ہونے لگیں اور کب نیند کی وادیوں میں اتری کہ پتہ بھی نہ چلا۔
سردیوں کی شامیں جلد درودیوار پر اتر آئی تھیں۔ فضا میں خنکی راج کررہی تھی۔ پھیلتی تاریکی کے جھٹپٹے میں آنکھ کھلی تو موجودہ حالات کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ حیرانی سے پوری آنکھیں واکیے پورے کمرے کو دیکھا‘ خود کو نرم گرم کمبل کے حصار میں لپٹا پایا۔ نیم دراز ہوتے سمے جس کا وجود بھی نہ تھا۔
’’شاید ارتضیٰ…!‘‘ یہ خیال عجیب سے احساس میں مبتلا کر گیا‘ کتنی ہی دیر تک اسی پوزیشن میں لیٹی رہی۔
ساتھ والے کمرے سے کھٹر پٹر کی آوازیں آرہی تھیں۔ بالوں کو سمیٹتی اٹھ بیٹھی کمبل کو تہہ لگا کر میز پہ رکھا اور دوپٹہ سر پر جما کر کمرے میں جھانکا‘ اس کا سارا سامان ترتیب دیا جاچکا تھا‘ انرجی سیور کی روشنی کمرے کو چکاچوند کررہی تھی‘ ارتضیٰ بیڈ کی چادر بھی چینج کرچکا تھا۔ اب اس کے خالی سوٹ کیس کو الماری کے اوپر رکھ رہا تھا۔
تھکن تو کافی حد تک اتر چکی تھی‘ لیکن سر کا بھاری پن نہیں گیا تھا‘ چائے کی شدت سے طلب ہورہی تھی۔ اسی اثناء میں ارتضیٰ نے رخ موڑا‘ وہ نظریں موڑ گئی۔
خوابیدہ آنکھوں پہ مڑی ہوئی گھنی پلکیں سایہ فگن ہوگئی تھیں۔ گلابی دوپٹے کے ہالے میں اجلا چہرہ کچھ اور لودے رہا تھا۔ اترتی شام میں کسی چراغ کی مانند وہ دہلیز پہ ایستادہ تھی۔
’’چائے پئیں گی…؟‘‘ دل کی خواہش اس کے لبوں پہ آگئی۔
’’میں بنالوں گی آ…پ پریشان مت ہوں۔‘‘
’’نہیں‘ میں بناتا ہوں‘ اس سے قبل میں ہی پکاتا رہا ہوں یا آس پڑوس سے کھانا آجایا کرتا تھا‘ اس لیے مجھے کسی بات کی پریشانی نہیں‘ تنہائی بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔‘‘ بغور اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے ہوئے اس نے کچن کا رخ کیا۔
’’اور ہاں…‘‘ جاتے جاتے مڑا تو اس کی دلکش آنکھوں کو بھی دیکھنے کا موقع مل گیا‘ جو اس کے دیکھتے سمے ہمیشہ جھکی رہتیں‘ جیسے بہت کچھ اس سے چھپانا چاہتی ہوں۔ کون سا اسرار مخفی رکھنا چاہتی تھیں یہ آنکھیں اسے ابھی تک پتہ نہیں چلا تھا۔ وہ پھر سے رخ موڑ گئی۔ دھوپ چھائوں کا سماں تھا یا آنکھ مچولی کا کھیل!!
’’چائے پی کر تیار ہوجائیے گا‘ گائوں کی عورتیں آپ کو دیکھنے اور ملنے آرہی ہیں۔ بیزاری کا اظہار کرکے میری عزت نفس کو مجروح نہ کیجیے گا‘ یہ درخواست ہے میری۔ گائوں کے لوگ میرے لیے قابل احترام ہیں کیونکہ میں ان کے پیار کی چھائوں میں پلا بڑھا ہوں۔ اس لیے یہ لوگ میرے لیے قابل عزت اور خاندان کی طرح ہیں۔‘‘ وہ چپ چاپ الماری سے کپڑے نکالنے مڑ گئی۔
رات تو جیسے اس چھوٹے سے گھر کے خوب صورت آنگن میں اپنے ساتھ ڈھیروں کہکشاں سمیٹ لائی تھی۔ آنے والی خواتین نے آنگن میں دریاں بچھا کر پھول دار چادر نفاست سے بچھائی تھی۔ ماشاء اللہ کہتے ہوئے اس کے گلابی کامدانی دوپٹے کو ماتھے سے کچھ نیچے کرکے چھوٹے سے گھونگھٹ کی شکل دے دی تھی۔ پہلے سب نے اس کے بابا کی تعزیت میں فاتحہ خوانی کے لیے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی‘ اس کی پلکیں بھیگ گئی تھیں۔ پھر باتوں سے ہلکی پھلکی ہنسی اور مذاق کا دور دورہ ہوتے ہوئے قہقہوں میں ماحول تبدیل ہوگیا تھا۔ وہ سب کے درمیان سر جھکائے بیٹھی رہی تھی۔ ہلکے میک اپ میں اس کا سوگوار چہرہ اور ہی دلکشی سمیٹے ہوئے تھا۔
’’کاکا چھپا رستم نکلا‘ ہم تو چراغ لے کر بھی ڈھونڈتے تو ایسا ہیرا نہ ملتا جو پل بھر میں کاکے نے سامنے لارکھا‘ جب ہی میں کہوں بھاگ بھاگ کر کیوں شہر کو جاتا تھا۔‘‘ ایک تنومند سی خاتون نے اندر ہی اندر ہنسی کو دباتے ہوئے مست ہوکر کہا جس سے ان کا پورا وجود تھل تھل کرنے لگا تھا۔ سب کی سب ہنسنے لگی تھیں‘ اس کا سر کچھ اور جھک گیا‘ جس سے انہیں کچھ زیادہ لطف محسوس ہوا۔
’’شہر کی لڑکی اور اتنی شرمیلی ارے کوئی کاکے کو تو بلائو۔‘‘ ان کا بتیس سالہ کاکا پہلے ہی ان کے جملوں کے پیش نظر گھر سے بھاگ گیا تھا۔
’’پراجی نہیں ہیں دادی‘ وہ ناشتہ پانی کا انتظام کرنے گئے ہیں ہمارے لیے۔‘‘ ایک دبلی پتلی سی خوب صورت لڑکی مسکائی۔
’’ہائے کیسے مزے لے رہی ہے ندیدیئے‘ اور ہم جو اپنے ساتھ اتنا سامان لائے ہیں اپنی بہو کے لیے‘ وہ کون کھائے گا؟‘‘
’’آپ کی بہو کھائے گی اور کون…؟‘‘ وہ چمک کر بولی۔
’’ارے… اس پیارے سے چہرے کی میں نظر تو اتاروں اس کے طفیل ہم بھی تو کھائیں گے۔‘‘ نظروں ہی نظروں میں اس کے گلابی چہرے کی بلائیں لیں۔
’’مجھے پتہ ہے کاکا شرما کر اِدھر اُدھر ہوا ہے‘ چلو کڑیوں ذرا شگن کے گیت تو گائو‘ اس سونے گھر میں رونق آئی ہے۔ کیسا چانند اترا ہے ویڑے میں۔‘‘ سب کی سب سر سے سر ملانے لگیں‘ ڈھولکی تو پہلے ہی لائی جاچکی تھی۔
اس کے دل کی عجیب ہی کیفیت تھی۔ نہ خوشی نہ غم‘ ایک الگ سا ناآشنا ماحول لیکن پیار محبت سے لبریز تھا۔ سب کے چہروں پہ الوہی سی جوت جاگی ہوئی تھی۔ سب کی زبان امرت ٹپکا رہی تھی‘ اس کی سماعت میں سب کی نظروں میں ستائش وچاہت تھی‘ اس کے لیے۔
’’بے بے کچھ پتا ہے اتنی سوہنی کڑی اور پڑھی لکھی لڑکی پراجی کو کیسے مل گئی؟‘‘ ایک کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو چلی تھی۔ سب کی سب گاتی ہوئی رک گئیں۔
’’کچھ تو ہے ایسا ورنہ گائوں میں شہر کی لڑکی کیسے آباد ہوتی‘ وہ بھی ایسی کہ اپنے حسن سے آنکھیں چندھیا دے۔‘‘
’’اب بول بھی دے‘ کیا کہنا چاہتی ہے‘ کیا نقص نکالنا چاہ رہی ہے‘ تیری تو عادت ہے دل دہلانے کی ساجدہ۔‘‘
’’عیب تو تجھے اب پتہ چلے گا کہ لڑکی گونگی ہے ورنہ کون اپنی پڑھی لکھی لڑکی کو گائوں روانہ کرتا۔‘‘ یہ حقیقت تھی کہ وہ مٹی کی مادھو بنی سب کی درمیان سر نہواڑے بیٹھی تھی اور سب شرم وحیا پر اس کے اس رویے کو محمول کررہے تھے۔ یک بیک اس نے سر اٹھایا تھا۔
’’ہاں بے بے یہ بات ابھی تک ہم نے سوچی نہیں تھی بس یہی خیال تھا بھاوج اب بولے گی کہ تب بولے گی لیکن مجھے تو ساجدہ کا کہا سچ معلوم ہورہا ہے۔‘‘ ایک اور لڑکی نگاہوں میں واہمات سما کر آگے بڑھی۔ سب کو جیسے یک بیک سانپ سونگھ گیا تھا۔
’’نہیں… میں گونگی نہیں… آپ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ اس نے اپنے تئیں جلدی سے صفائی پیش کی تو سب کے فلک شگاف قہقہہ کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی صفائی پر کچھ ندامت بھی محسوس ہوئی۔
’’اتنی پیاری بھاوج گونگی بھی ہوتی تو کام چل جاتا۔‘‘ ساجدہ نے مزا لیا جو ابھی کچھ دیر قبل ہولناک نقشہ بے بے کے سامنے کھینچ رہی تھی۔
’’ویسے شاید آپ کو یاد نہیں آپ نے سب کو سلام کیا تھا‘ تو گونگی کیسے ہوئیں ہم تو مذاق کررہے تھے۔‘‘ وہ مسکرادی اپنی جلد بازی پر… بدلیوں کی اوٹ سے مسکان کا چاند نکل آیا تھا جو معصوم اور سادہ سے چہرے پہ روپہلی کرنیں بکھیر گیا تھا۔ گلابی دوپٹے کے ہالے میں ہلکے میک اپ سے سجے چہرے پہ بے پناہ دلکشی تھی۔
اس لمحے آنگن کے دروازے سے داخل ہوتا ارتضیٰ ٹھٹکا۔ شاید اس کی کسی نیکی کا صلہ تھی وہ جو اتفاقاً ہی سہی اس کی زندگی کی شریک بن بیٹھی تھی جس کا جسم تو یہاں اور روح کہاں تھی یہ اسے خود معلوم نہیں تھا۔
’’پراجی آگئے… ارتضیٰ آگیا… کاکا آگیا۔‘‘ کا شور بلند ہوا اور چند لمحوں میں احساسات وخیالات سے نابلد خواتین نے اس کے ہمراہ اسے لابٹھایا تھا۔ ایک عجب سے احساس نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
کچھ بھی برا نہیں لگ رہا تھا‘ نیا ماحول‘ نئے لوگ‘ نیا گھر‘ سب سے بڑھ کر یہ نیا اچھوتا رشتہ… بابا کے مرنے کے بعد بھی تنہائی کا احساس دل کے کسی کونے میں نہیں ہوا تھا۔ ورنہ وہ تو مر جاتی ان کے ساتھ ہی۔ صرف چلتی پھرتی لاش رہ جاتی۔ لیکن اسے مٹی میں رلنے نہیں دیا تھا اس انسان نے جو اس کے ساتھ اس وقت بیٹھا سب کے ہنسی مذاق کا ساتھ دے رہا تھا۔
انہوں نے کھیر کھلائی کی رسم بھی کی تھی‘ ایک نوبیاہتا لڑکی نے مناہل کے ہاتھ میں چمچ پکڑا کر اسے کھلانا چاہا تھا‘ وہ اس کا ہاتھ بار بار پیچھے کررہی تھی‘ ارتضیٰ کا منہ آگے بڑھ کر رہ جاتا تھا‘ آخر میں اس نے بھرپور گرفت سے اس کا چوڑیوں بھرا ہاتھ پکڑ کر چمچ بھر کر کھیر اپنے منہ میں لے لی۔ سرخ سرخ چوڑیوں کے کئی ٹکڑے ارتضیٰ کی سفید قمیص پر گر گئے تھے۔
’’سی…‘‘ کی ہلکی سی آواز پر اس نے اس کی سفید کلائی دیکھی‘ جہاں خون کی ایک لکیر پھوٹ پڑی تھی۔
’’جلدی سے ڈھانپ لوں ورنہ بہت مذاق اڑے گا۔‘‘ ارتضیٰ کے دل کو کچھ ہوا لیکن جلد ہی خود کو سنبھال کر اسے سرگوشی کی۔ اس نے آستین برابر کرکے دوپٹے کے اندر بازو کرلیا۔
سب کے جانے کے بعد اس کے پاس وہ مرہم لے کر آیا‘ اصول تو یہی بنتا تھا کہ اس کی وجہ سے زخم لگا تھا وہ خود ہی دوائی لگاتا لیکن بے گانگی کے بیچ کہاں کا اصول‘ کہاں کے تقاضے۔
’’سوری‘ میری وجہ سے آپ کی چوڑیاں ٹوٹیں‘ سب کچھ جلد بازی میں ہوا۔ سادہ لوح خواتین کو حالات کی نزاکت کا کیا علم انہیں تو میرے چمچ بھر کھیر کا مذاق اڑانا تھا اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ وہ مسکرایا تو وہ جو بچی کھچی جیولری اتار رہی تھی رخ موڑ گئی۔
’’یہ مرہم لگالیں۔‘‘ اس نے ٹیوب ٹیبل پر رکھی۔ زخم تو بڑا نہیں تھا احساس بہت تھا۔
’’سکون سے سو جائیں اس احساس سے بالاتر ہوکے کہ میں آپ کی ذات یا احساسات پر اپنی من مانی کروں گا۔ سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔‘‘ وہ ہنوز رخ موڑے ہی رہی۔ وہ کہہ کر چلتا بنا‘ وہ بہت سی یادوں کے اجتماع میں گھر کر رہ گئی تھی۔
وہ یادیں جن میں وہ تھی‘ بابا اور سناٹے تھے اور اس کے خواب تھے‘ بہت لمبی چوڑی خواہشیں نہیں تھیں لیکن ایک ہی خواب تھا جس کی تعبیر پانے کے لیے خود کو سرگرداں کیے ہوئے تھی۔ جس کے دریچے میں وہ خود کو سفید گائون میں ملبوس دیکھتی‘ گلے میں اسٹیتھواسکوپ کا حلقہ اور خود کو مریضوں کے اردگرد مسیحائی کا خوگر بنے۔ بابا کی بھی یہی آرزو تھی پر وہ ایک شریف النفس کلرک تھے اتنے بڑے خواب کی تعبیر پانے کے لیے دروازے بہت اونچے کرنے پڑتے اس لیے بس پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی تمنا کے حصول کی آس میں اس کا ساتھ دے دیتے۔
’’بابا… محنت میری ہوگی اور پیسے آپ کے‘ چاہے یہ گھر کیوں نہ سیل کرنا پڑے۔ میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گی اپنی اس خواہش کی آرزو میں۔‘‘
’’ارے میرے بڑھاپے کا سہارا بھی چھین لینا چاہتی ہے پاگل۔‘‘ وہ مصنوعی ہنسی ہنستے۔ ’’تم تو سب کچھ سمیٹ کر پرائے گھر چل دوگی۔ میں کیا جھگی میں رہوں گا اور جھگی ڈالنے کے لیے بھی زمین چاہیے ہوگی۔‘‘ ان کا قہقہہ بلند ہوتا۔
’’اللہ نہ کرے… آپ میرے ساتھ رہیں گے مجھے ہاسپٹل کی طرف سے گھر‘ گاڑی سب کچھ مل جائے گا۔ پھر سکون کی زندگی ہوگی بابا اور میرا فن شہرت وعزت کی بلندیوں پر پرواز کرے گا۔‘‘ وہ نگاہوں میں خواب بھرکے بولتی اور مسکاتی۔
’’آپ کو نہیں پتا بابا کہ مسیحائی میرے رگ رگ میں دوڑتی آرزو کا نام ہے۔ ڈاکٹرز میرا آئیڈیل ہیں اور وہ دن میرا خوابوں کی تکمیل کا ہوگا جب یہ ہاتھ خدا کی اس صفت سے مالا مال ہوجائیں گے کہ کوئی تڑپتا وجود ان انگلیوں سے شفایابی سے ہمکنار ہوگا۔ بس مجھے اس دن کا انتظار ہے۔‘‘ لیکن قسمت پہلے موڑ پر ہی پٹری بدل گئی۔ اسے پیپرز سے پہلے ٹائیفائیڈ ہوگیا۔ جسمانی نقاہت کے ساتھ ساتھ ذہن بھی شکستہ ہوگیا۔ بابا خود حیران تھے اس کے خوابوں کی پہلی کونپل کو کملاتا دیکھ کر… اس نے ہمت نہیں ہاری‘ کچھ دن نڈھال رہنے کے بعد جوں ہی بخار تھوڑا اترا دوبارہ سے دن رات ایک کردیا‘ پر ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے‘ نیم جان وجود اتنے بڑے معرکے کو سہار نہ سکا۔ مطلوبہ نمبر نہ آسکے‘ آنکھوں میں نمی لیے اپنے نمبرز کو دیکھتی رہی۔
’’مایوس مت ہو… تمہاری محنت میں کوئی کمی نہیں تھی بیٹا بس چند نمبرز کی کمی سے ہیرا پھیری ہوگئی۔‘‘
’’مایوس تو واقعی مجھے نہیں ہونا ہے بابا ورنہ منزل پر پہنچنے سے پہلے میں تھک جائوں گی۔‘‘ رخسار پر آئے آنسوئوں کو صاف کیے۔ ’’میں دوبارہ پیپرز دوں گی۔‘‘ عزم نے چابک کھا کر اور سرپٹ دوڑنے کی ٹھانی۔
’’کیا… تم پاگل ہو مناہل بیٹی جانتی بھی ہو کس طرح تمہاری امتحانی فیس کے لیے میں نے پیسے اکٹھے کئے تھے کہ تمہاری ماں کی آخری نشانی تک بیچنا پڑی تھی۔‘‘ سونے کی ایک پتلی سی چین انہوں نے آخر میں بیچ دی تھی۔ ورنہ تنخواہ میں ہر ضروریات پوری ہونے کے بعد ہاتھ میں جو بچتا تھا‘ وہ برے وقت‘ بیماری کے لیے پس انداز کرلیا جاتا تھا۔
’’آپ اکلوتی اولاد کے لیے اتنا سوچ رہے ہیں بابا اگر دوچار ہوتے تو ان کی ضروریات اور خواہش کس طرح پوری کرتے۔‘‘ وہ کچھ باغی ہوئی۔
’’کچھ بھی ہو‘ میں یہ امتحان دوبارہ دوں گی۔ آپ کہیں سے بھی سہی مجھے پیسوں کا بندوبست کرکے دیں گے کسی فرینڈ سے لون لے لیں‘ میں پیپرز کے بعد ٹیوشن پڑھا کر آہستہ آہستہ ادا کردوں گی۔‘‘ وہ اس کی جنونی سوچوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔
’’تم بی ایس سی کرلو‘ کیا فائدہ سال ضائع کرنے کا۔‘‘
’’ہرگز نہیں… میں ایف ایس سی ہی دوبارہ کروں گی۔ چاہے سال ضائع ہو تو ہو۔‘‘ اس کی ضد کے آگے وہ ہار گئے۔
ایک عزم مسلسل اور لگن سے اس نے دوبارہ تیاری شروع کردی۔ اگر کوئی اور ناجائز قسم کی ضد ہوتی تو وہ سختی بھی کرتے لیکن یہ عزم ان کی زبان بند کر گیا جس میں ایک تعمیری سوچ تھی۔ ایک مضبوط مستقبل کا خواب تھا۔ انہوں نے اپنی ضروریات اور محدود کردیں اور بہت چاہتوں اور جدوجہد سے دوبارہ امتحان دیا۔ پوری آس سمیت کہ اس کی محنت اس بار ضرور رنگ لائے گی۔ پیپرز ہی اتنے اچھے ہوئے تھے۔
لیکن جس کام میں خدا کی منظوری نہ ہو اسے انسان کی ضد بھی پوری نہیں کرسکتی چاہے جتنے بھی ہاتھ پائوں مارے جائیں وقت کا گرداب اپنے ساتھ بہالے جاتا ہے۔
…٭…٭٭…٭…
بابا کی طبیعت اچانک خراب رہنے لگی تھی‘ جو کچھ کھاتے‘ الٹی ہوجاتی‘ وقفے وقفے سے بخار بھی رہنے لگا تھا۔ پہلے تو نظر انداز کیا کہ وقتی انفیکشن ہے پھر قریبی ڈاکٹرز سے لے کر ہاسپٹل تک کے چکر لگائے گئے اور ایک بھیانک حقیقت منہ کھولے انہیں نگلنے کو سامنے آگئی۔ بابا کو ہیپاٹائٹس سی تھا جو اندر ہی اندر مربوط ہوتا رہا تھا کہ انہیں اس حقیقت کی خبر بھی نہ ہوسکی تھی۔ پیروں تلے زمین نکل گئی تھی اور آسمان سر سے کھسکنے کو تیار تھا۔ علاج‘ دوائیاں اور مہنگے مہنگے انجیکشن نے اس جمع پونجی میں بھی ہاتھ ڈالنے پر مجبور کردیا جو انہوں نے مناہل کی شادی کے لیے جمع کرنا شروع کیا تھا۔
’’آپ صحت یاب ہوجائیں بابا میرے لیے اس سے بڑی خوشی اور کوئی نہیں ہوگی۔‘‘ اس کی آنکھیں تو سدا نم ہی رہنے لگی تھیں۔ چھپ چھپ کر آنسو بہاتی کہ بابا کا حوصلہ نہیں توڑنا چاہتی تھی۔
’’جینے کی خواہش تو مجھے بھی ہے صرف تمہارے لیے‘ اگر تمہاری ماں‘ یا بہن بھائی ہی ہوتے تو شاید چین سے مر بھی سکتا۔‘‘ زندگی اشک بار ہوگئی تھی۔ ایسے میں کیسے انہوں نے ارتضیٰ کو خبر کردی تو وہ دوڑا چلا آیا۔ ایسی والہانہ خدمت اور بھاگ دوڑ کی کیا کوئی بیٹا کرتا۔ اس کے کندھوں سے آدھا بار اتر گیا تھا۔
لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ ’’مرض بڑھتاگیا جوں جوں دوا کی‘‘ مرض کے آخری اسٹیج سے وہ خود بستر مرگ پہ جاپہنچے تھے۔ ڈاکٹرز نے جس دن جواب دیا اسے اپنی بدقسمتی کچھ دور نہ محسوس ہوئی تھی۔ تنہائی گھاٹ لگائے اسے گھیرنے کو محسوس ہوئی۔ تمام خواب ہوا میں پرواز کرگئے بہت خوفناک تعبیر کے حصار میں تھی وہ۔ اب کسی آرزو کی تکمیل کی پروا نہیں تھی۔ بس دیوانوں کی طرح دعا کرتے کرتے شب وروز گزر جاتے کہ کاش کوئی معجزہ ہوجائے اور بابا صحت یاب ہوجائیں۔
لیکن ایسا کچھ نہ ہوا‘ آخری سانسوں کو گنتے ہوئے وہ ارتضیٰ کی ہم سفر بنادی گئی۔ بابا سکون کی موت مرگئے۔ اب کچھ یاد نہ تھا۔ نہ امتحان‘ نہ کوئی عزم‘ نہ کوئی تمنا‘ سب کے سب بھربھری ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتے چلے گئے تھے۔ اب تو وہ بس کٹھ پتلی کی طرح خود کو حالات کے سپرد کر گئی تھی۔ یہ نہیں تھا کہ ارتضیٰ میں کوئی خامی تھی۔ بہت مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والا فرشتہ ثابت ہوا تھا اور قدوقامت اور شکل وجاہت میں بھی کوئی کمی نہیں تھی لیکن جب سے خواب مسمار ہوئے وہ بھی ٹوٹ چکی تھی۔ کوئی خواہش اندر ہی اندر اپنی ناکامی پر روتی رہی تھی۔ بہت سے آنسو تکیے میں جذب ہوگئے تھے۔ ارتضیٰ دوسرے کمرے میں سو رہا تھا۔
اسے پرسکون نیند مہیا کرنے کی غرض سے وہ کنارہ کش ہو چلا تھا۔ اس نئے گھر میں زندگی کی شروعات ہوچکی تھی۔ ہفتہ دس دن تک کھانا‘ ناشتہ مختلف گھروں سے ہی آتا رہا شاید نئی دلہن ہونے کے ناطے‘ یہ تکلفات تھے‘ وہ بیٹھے بیٹھے اکتا جاتی تو گھوم پھر کر پورے گھر کا جائزہ لینے لگتی۔ کیونکہ صبح‘ صفائی کرنے کے لیے بھی گائوں کے کسی گھر کی کوئی نہ کوئی لڑکی آجاتی‘ جس سے وہ چند باتیں بھی کرلیتی ورنہ ارتضیٰ تو صبح کا گیا مغرب کے بعد ہی گھر آتا اور بس رسمی سی باتیں دونوں کے درمیان ہوتیں پھر وہ اپنے کمرے میں چلا جاتا۔ دونوں کے بیچ ایک بے نام سی الجھن بڑھنے لگی تھی۔
پورا دن اگر کوئی عورت یا لڑکی آجاتی تو وقت اچھا گزر جاتا‘ وگرنہ رات سے صبح تک کا سفر خیالوں کے پیچ وخم کے بیچ ہی گزرتا نیند کی دیوی مہربان ہوتی تو سو بھی جاتی۔
اس نے غور کیا تھا ارتضیٰ کی چھٹی کا دن اور فارغ لمحات گائوں والوں کی الجھنوں کو سلجھاتے ہوئے گزرتا تھا۔ کبھی کسی پنچائیت میں شریک ہوتا تو کسی کے گھر کوئی مسئلہ حل کرنے پہنچا ہوا ہوتا۔ یہ بات اسے وقفے وقفے سے گھر آتی خواتین سے پتہ چلی تھی۔ جو نگاہوں میں عقیدت وبندگی کا عنصر سمو کر اس کی کارکردگی کو بیان کرتیں۔
’’ارتضیٰ تو سب کے لیے فرشتہ ہے۔‘‘
’’پراجی کی آدھی تنخواہ تو ضرورت مندوں کے لیے خرچ ہوتی ہے۔ باقی کی آدھی تنخواہ اپنی دو بہنوں اور بھانجا‘ بھانجیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اپنی تو ان کی کوئی حاجت ہی نہیں‘ بہت درویش صفت بندے ہیں بھابی ہمارے پراجی۔‘‘
اس صفت سے تو وہ کچھ کچھ آشنا ہی تھی جب وہ بابا کے لیے دن رات ایک کررہا تھا۔ راتوں کو بینچ پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا رہتا تھا کہ کب ڈاکٹر کسی دوائی کی پرچی تھما دیں۔کب کوئی بدلتی بگڑتی طبیعت سے آگاہ کریں۔
لیکن حیران تھی کہ ابھی تک اس کی دونوں بہنوں سے ملاقات کیوں نہیں ہوئی تھی جو دوسرے گائوں میں مقیم تھیں اور ایک دوسرے کی دیورانی جٹھانی بھی تھیں۔ اکلوتی بھاوج کی آمد کا سن کر انہیں تو دوڑے آنا چاہیے تھا۔ آخر ایک دن اس نے ارتضیٰ کی منہ بولی بہنوں میں سے ایک بہن سے پوچھ ہی لیا وہ جواباً مسکائی۔
’’چھوٹی کے گھر کاکا ہوا ہے۔ بڑی اسے سنبھال رہی ہے اب فارغ ہوکر ہی دونوں آئیں گی بڑی بے چین ہیں اپنی اکلوتی بھاوج کا سن کر جی‘ دونوں مجبور ہیں ساس کا انتقال ہوگیا ہے بس ایک دوسرے کو خود ہی سنبھال لیتی ہیں۔‘‘
’’تو یہ وجہ تھی۔‘‘ ہلکی سی مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کرلیا۔
اس نے اب تک گھر کے کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔ پتہ نہیں ارتضیٰ یہ خصوصی پروٹوکول اسے کیوں دے رہا تھا۔ اس چھٹی کے دن ناشتے کے دستر خوان پر اسے بغور دیکھا۔ اتفاقاً وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی جلدی سے گڑبڑا کر پلیٹ پر نظریں گاڑ لیں۔ دل دھک سے رہ گیا تھا۔ ارتضیٰ اس کی دور تک گئی سفید مانگ کو دیکھتا رہا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو نظروں کی اس آنکھ مچولی سے خوب محفوظ ہوتا لیکن اس نے اس کا حق ہی کب دیا تھا۔ دونوں دریا کے دو کناروں کی طرح جدا جدا تھے۔ بس آج فیصلے کا دن تھا اسے ہرحال میں اس سنہری رنگت والی لڑکی کی خوشی عزیز تھی جو الگ کمرے میں کسی کتاب میں سر گھسائے یا درخت کے نیچے بنے گھیرائو پہ بیٹھ کر جانے کیا سوچتی رہتی تھی۔ شاید اسے اس کی ہم سفری قبول نہیں تھی اس لیے اب تک خاموشی کو ہتھیار بنائے اس کے صبر سے کھیل رہی تھی۔
’’مناہل مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے اتنے دنوں سے فرصت ہی نہیں مل رہی تھی کہ بات ہوسکے‘ اب غور سے ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو مجھے آگاہ کردیجیے گا۔‘‘ اس کی سوالیہ نظریں اٹھیں‘ وہ سنجیدہ چہرے سمیت گویا تھا۔
’’یہ ٹھیک ہے کہ وقت اور حالات نے ہماری قسمت کا فیصلہ اچانک کردیا جس پر میں بھی حیران اور آپ بھی ناخوش تھی۔ وہ مرنے والے کی خوشی تھی اور اطمینان بھی لیکن ہمیں مٹی میں مل جانے والوں سے زیادہ زندہ لوگوں کی خوشی اور سکون کی پروا کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ جذبات اور احساسات کے مالک ہوتے ہیں اور ان کا ایک دل بھی ہوتا ہے وہ اپنے خوابوں اور خواہشوں سے جینا چاہتے ہیں‘ ان سے یہ حق نہیں چھیننا چاہیے۔‘‘
’’کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟‘‘
’’یہی کہ آپ کو بھی اپنی پسند سے جینے کا پورا حق حاصل ہے۔ مجبوریوں کے جس پنجرے میں قید ہوگئی ہیں آپ‘ وہ میرے لیے قابل قبول نہیں۔‘‘ کس دل سے اس نے پرندے کی بے بسی کو محسوس کیا تھا وہ نہیں جان رہی تھی پر یہ اس کے لیے بہت تھا کہ اس وقت وہ بہت وسیع ظرف محسوس ہوا تھا۔ اتنا اعلیٰ ظرف کہ اپنا آپ ہمیشہ کی طرح اس کے آگے چھوٹا محسوس ہوا۔
’’اب کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس نے ہتھیار ڈالے۔
’’بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ شوہر بن کر ہی نہیں فرائض ادا کیے جاتے ایک دوست بن کر بھی ذمہ داریوں کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ آزادی کے بعد اپنی پسند سے زندگی گزارنے میں میں آپ کی پشت پناہی کروں گا۔ چاہے تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھائیں یا من پسند ہم سفر…‘‘ جھٹکے سے قاتلانہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’تقدیر نے اتنا بھی پسند ناپسند کا اختیار مجھے نہیں دیا‘ اب تو میں کچھ سوچتی ہی نہیں۔‘‘
’’جی… مجھے پتہ ہے کہ آپ کچھ بھی نہیں سوچتیں۔‘‘ وہ استہزائیہ ہنسی ہنسا۔
’’مناہل آپ کے شہر والے گھر کا فیصلہ ہونا ہے۔ آپ کی تعلیم کے متعلق سوچنا ہے آپ کا بہت سا سامان ہے وہاں پر اور پھر سب سے بڑھ کر آپ کی زندگی… جو صلیب پر لٹک کر نہیں گزاری جاسکتی۔ کل صبح تک مجھے فیصلہ چاہیے‘ آپ کی خوشی میں‘ میں خوش رہوں گا۔ آپ کی خواہش میرے دل کو بہت عزیز ہے۔‘‘ اٹھتے سمے اس کی سرخ ہوتی آنکھیں مناہل سے پوشیدہ نہیں تھیں۔
’’میں جانتی ہوں میری خواہش کیوں تمہیں عزیز ہے۔ لیکن میری سوچوں تک اب تک تمہاری رسائی نہیں ہوسکی… میں اب کن تمنائوں کے ریزہ ریزہ ہونے پر دل گرفتہ ہوں‘ تم جان بھی نہ پائوگے‘ بلکہ ہنسوگے‘ بچکانہ آرزو پہ۔‘‘ دوسری صبح خلاف توقع کچن سے برتنوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ وگرنہ تو ناشتہ‘ کھانا اب تک کسی نہ کسی گھر سے آتا رہا تھا۔ وہ رضائی میں گھسا سن رہا تھا بلکہ کچھ حیران بھی تھا۔ جب چائے کی خوش بو نتھنوں میں گھسی تو وہ اٹھ بیٹھا‘ رات بھر ایسے ہی بہت کچھ چھن جانے کے خوف نے سونے نہیں دیا تھا۔
اسی پل باہر کے دروازے سے صائمہ ناشتہ لیے اندر آگئی تھی۔ کچن سے وہ مصروف انداز میں باہر نکلی تھی۔ بالوں کی لٹیں رخسار اور گردن پہ جھول رہی تھیں۔ ریڈ اور وائٹ سوٹ میں اس کا سادہ چہرہ بے حدمعصوم لگ رہا تھا۔ باجی آپ کیا کررہی ہیں باورچی خانے میں‘ صائمہ نے حیرانی سے سجے سجائے کچن کو دیکھا‘ وہ ہلکا سا مسکرائی۔
’’ناشتہ تیار کررہی تھی‘ صائمہ تم لوگوں کا بہت شکریہ‘ بھابی اور بہو سمجھ کر جتنی خاطر مدارت تم لوگوں نے کرنی تھی کرلی اب میں سنبھال لوں گی سب کچھ۔ ویسے بھی میری مہمان داری کے دن ختم ہوگئے۔‘‘ ارتضیٰ کا دل دھڑکا تھا چور نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ بھی ایک لمحہ کو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
’’اب مجھے میزبان بن لینے دو۔‘‘ ایک شفق سی پھوٹی تھی چہرے پہ‘ اس کا دل بند ہوتے ہوتے جھوم اٹھا تھا۔ وہ بول کر کچن میں دوبارہ جاچکی تھی۔ صائمہ اس کے پیچھے چلی گئی وہ تو سکتے کی سی کیفیت میں تھا۔
گزشتہ رات کی بے خوابی اب سرشاری میں ڈھل گئی تھی۔ کسی من پسند چیز کو دوبارہ پالینے کی خوشی کیا ہوتی ہے وہ اب جان پایا تھا۔ قدرت اس پر بہت مہربان تھی۔
اس کے وجود کی رونق اس کے من آنگن کے لیے ناگزیر ہوگئی تھی۔ یہ انعام اسے خدا کی طرف سے ملا تھا اور کس طرح اس کے دل میں اس سیدھے سادے بندے کے لیے چاہت صحیفہ بن کر اتری تھی اسے خود یقین نہیں تھا‘ اعتقاد تھا تو صرف اپنے خلوص پر اور اپنی بے پایاں محبت پر جو مناہل کو دیکھتے ہی نچھاور کردینے کو دل چاہتا تھا۔
کوئی بات نہ ہوئی تھی دونوں کے بیچ‘ پورا دن حسب معمول وہ زمینوں پر تھا‘ شام کو گھر آیا تو فضا مہکی مہکی ملی‘ پورا گھر جیسے ازسرنو ترتیب دیا گیا تھا‘ کیاریوں میں پودے تروتازہ ہورہے تھے۔ چپے چپے پر محنت اور لگن نظر آرہی تھی۔ گھر حقیقی معنوں میں گھر نظر آرہا تھا۔ وہ شاید اپنے کمرے میں تھی‘ وہ سرشار سا منہ ہاتھ دھو کر اپنے کمرے میں آگیا۔ تھوڑی دیر کے وہ چائے کی ٹرے لیے ہمیشہ کی طرح دوپٹے کو خود سے لپیٹے اندر داخل ہوئی‘ خاموشی سے ٹرے میز پہ رکھی اور جانے لگی کہ اس نے پکارا۔
’’مناہل…‘‘ کبھی اسے نام لے کر نہیں پکارا تھا جانے کیسے یہ استحقاق خودبخود لہجے میں در آیا تھا۔
’’چائے کے ساتھ کچھ اور نہیں…؟‘‘ وہ پرشوق نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ سٹپٹائی۔
’’ٹرے میں ہے تو… پکوڑے اور کیک۔‘‘ وہ اٹھا۔ وہ کسی خطرے کے پیش نظر نکلنے لگی تھی‘ دل تھا کہ حلق میں آیا ہوا تھا۔ واپسی کی راہ مسدود کردی گئی تھی۔
’’اور… کیا ہے چائے کے ساتھ… پیٹ بھرنے کو تو ہے دل بھرنے کو کچھ…‘‘ شیفون کا آسمانی دوپٹہ اب کسی اور گرفت میں تھا۔ بہت سارے خوب صورت لمحوں کے حصار میں تھی وہ‘ ارتضیٰ تھا اور اس کی دیوانگی… جو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔
’’فوراً اس کمرے میں شفٹ ہوجائو‘ بس بہت ہوگئی من مانی۔‘‘ وہ جو چہرے پر امڈنے والے بہت سارے رنگوں میں نہائی ہوئی تھی‘ زبان گنگ ہوگئی تھی۔ نگاہوں نے نگاہیں ملانے سے انکار کردیا تھا۔ بے اختیار اٹھی تھی اس کے پاس سے۔
حکم نہیں تھا‘ محبت نامہ تھا‘ کیسے نہ پاسداری کرتی‘ اس گھر کے کونے کونے سے اپنائیت محسوس ہورہی تھی اس رات اس کے کمرے میں بہت دیر تک انتظار کرتی رہی تھی۔
وہ جانے کہاں تھا… بار بار نظریں گھڑی کا طواف کررہی تھیں۔ اسے نیند آنے لگی تھی کہ صائمہ نے دستک دی‘ وہ فیض کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس کا دل انجانے خوف کے حصار میں آگیا۔ صائمہ نے اس کی اڑی رنگت دیکھ لی تھی۔
’’پراجی کسی کام سے گئے ہیں‘ رات ہاسپٹل میں ہی ہوجائے گی‘ میں آپ کے ساتھ رات گزاروں گی بھابی۔‘‘ وہ اندر آگئی تھی۔ فیض واپس مڑ گیا تھا۔
’’ہاسپٹل… کیوں؟‘‘
’’وہ جی گائوں میں ہمارے ایک چاچاجی ہیں ان کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے‘ سانس اکھڑ گئی تھی‘ دمہ کی تکلیف تو پہلے ہی تھی پر آج تو جیسے آخری نوبت آگئی تھی۔ اللہ خیر کرے‘ بس ارتضیٰ پراجی انہیں گاڑی میں لے کر شہر روانہ ہوگئے‘ اباجی کو فون کردیا کہ آپ کے پاس کسی کو بھیج دوں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ اس کی رکی سانس جیسے بحال ہوئی‘ صائمہ اس کے ساتھ کمبل میں دبک گئی۔
’’آپ کو ڈر تو نہیں لگ رہا تھا بھابی…‘‘ وہ مسکرائی۔
’’نہیں… ویسے اچھا کیا جو تم آگئی اب بے فکر ہوکر سوئوں گی۔‘‘ اس نے دل رکھا اس کا پر اس کا دل اس کے پاس نہیں تھا۔ کہاں کہاں بھٹک رہا تھا۔ نیند تو پوری رات کا سن کر جیسے آنکھوں سے روٹھ گئی تھی۔
’’سنو صائمہ… چاچاجی کا کوئی رشتہ دار نہیں جو انہیں ہاسپٹل لے کر جاتا۔‘‘ دل نے جانے کتنے ہی شکوے اس کی ہستی سے وابستہ کردیئے تھے۔
’’سمجھیں تو نہیں ہیں۔ ان رشتوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا باجی جن سے احساس ختم ہوجائے‘ دو بیٹے شہر گئے کمانے شہر کے ہی ہوکر رہ گئے۔ وہیں شادی بھی رچالی‘ پہلے پہل خرچا پانی بھیجتے تھے کچھ سالوں سے وہ بھی بند کردیا۔ اب چاچاجی کو گائوں کے لوگ ہی کھانا پانی دیتے ہیں‘ جوڑے بناکر دے دیتے ہیں اور دوائی اور دیکھ بھال پراجی کرتے ہیں۔‘‘ رات کے کس پہر اس کی آنکھ لگی صبح جاگی تو صائمہ منہ دھو رہی تھی۔
’’میں جارہی ہوں باجی‘ اباجی کھیتوں پر جائیں گے‘ ماں جی کا ہاتھ بٹائوں گی۔ دونوں بھائی اسکول اور کالج بھی جائیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے صائمہ… بہت شکریہ تم لوگ میرا اتنا خیال رکھتے ہو۔‘‘
’’باجی جی یہ تو آپ کا حق ہے۔ ارتضیٰ پراجی کے احسانوں کا بدلہ تو ہم اتار ہی نہیں سکتے۔ اب آپ انتظار کریں وہ آتے ہی ہوں گے۔ چاچاجی ہسپتال میں داخل نہ ہوتے تو رات ہی ان کی واپسی ہوجاتی۔‘‘
دس بجے اس کی واپسی ہوئی بہت سارے سامان کے ساتھ‘ اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا‘ صرف ایک کپ چائے پی تھی۔ سلام کرکے کچن میں آگئی۔
’’اچھا سا ناشتہ کرائو یار… بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ کمرے سے ہی آواز دی اسے‘ ہمیشہ کی طرح خوش مزاجی عروج پر تھی۔ چہرے کی مسکراہٹ تو جیسے جدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
’’چاچا ستار کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی‘ خدا کا شکر ہے بروقت علاج ہوگیا، ورنہ تاخیر جان لیوا ہوتی۔‘‘ ناشتہ کرتے ہوئے اس نے روداد سنائی۔
’’جی پتا ہے‘ صائمہ نے بتایا تھا رات کو۔‘‘ اس کے روکھے پھیکے انداز پر وہ چونکا۔ اس کے بدلے بدلے سے انداز کچھ اور ہی جتا رہے تھے۔ کچھ روٹھی روٹھی سی‘ اور خود کو مصروف کرتا ہوا انداز وہ کچھ کچھ سمجھ رہا تھا۔ وہ زیر لب مسکرادیا۔
’’ناشتہ تو کرو میرے ساتھ بیٹھ کر۔‘‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر ہلکا سا کھینچا۔ نازک سی تو تھی ہی جھٹکے کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
’’میں نے کرلیا ہے آپ کریں۔‘‘
’’شکل بتا رہی ہے غصے میں کچھ نہیں کھایا۔‘‘ اس کی ناک چھوئی۔
’’ہنہ… کس بات کا غصہ… بہت خوش فہمیاں پال رکھی ہیں‘ جیسے میں اکیلی رات گزار ہی نہیں سکتی۔ آپ کو گائوں اور گائوں کے لوگ مبارک ہوں۔‘‘ اندر کی کھولن کچھ اس طرح نکلی تھی لیکن ارتضیٰ کے اردگرد صبح بہاراں کی خوب صورتی اور شام مسرت کی نوید گنگنانے لگی تھی۔
’’میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا…‘‘ زیرلب مسکراہٹ کو کنٹرول کیا۔ نہ کوئی وضاحت مانگی‘ ریشمی بالوں کی چٹیا کو ہاتھ پہ لپیٹنے کی کوشش کی۔ وہ سوچ میں پڑگئی آخر زبان سے یہ کیا سے کیا ادا ہوگیا۔
اتنی دلی قربت تو ابھی نہ بڑھی تھی کہ غصے کا اتنا اظہار کیا جاتا‘ کن اکھیوں سے دیکھا۔ چہرے کا رنگ کیا سے کیا ہوگیا تھا؟ ادا کی گئی باتوں کی جھنجلاہٹ اور اب اس کی اس حرکت پر وہ شرم میں ڈوب گئی۔ دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھ لیے۔
’’اب فائدہ ہے کچھ چھپانے کا…؟ تمہارے الفاظ‘ چہرے پہ چھائی یہ الوہی خوشی چیخ چیخ کر تمہاری اندرونی کیفیت کا اعلان کررہی ہے‘ کہہ دو مناہل‘ میری طرح تم بھی محبت کے دریا میں اتر چکی ہو۔‘‘ اس نے ہاتھ ہٹائے تو آنکھیں مضبوطی سے بند کرلیں۔
’’یہ نکاح کے بول ہیں ڈیئر… معمولی چیز نہیں اس کے بولوں میں مقناطیسی تاثیر ہوتی ہے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے‘ نہ تم دامن بچاسکتی ہو نہ میں۔‘‘ یہ ان بولوں کا ہی اثر تھا کہ دونوں قلبی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے تھے۔ بس ایک کمی رہ گئی تھی زندگی میں جس کی ہوک ابھی بھی دل میں اٹھتی تو وہ خود کو سنبھال نہ پاتی۔
ارتضیٰ نے اسے ایک موبائل لا دیا تھا کہ کبھی اسے دیر سویر ہوجائے تو پریشانی نہ ہو۔ وہ بس اس کی بلاوجہ کی مصروفیت سے چڑتی‘ کام سے آنے کے بعد اور چھٹیاں گھر کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ گائوں کے لوگوں کے رفاحی کاموں کے لیے ہوتیں۔ حالانکہ گھر کے کتنے ہی کام ایک مرد کے ہاتھوں کے محتاج ہوتے جن میں کچن میں کیبنٹ وغیرہ کی مرمت‘ گیس بجلی کے کام ادھورے تھے۔ غسل خانے میں بنی ٹنکی میں اس نے نل لگانے کا بھی وعدہ کیا تھا تاکہ اسے آسانی ہوجاتی۔
جب تک اکیلا تھا بے فکری تھی لیکن اب اس کی موجودگی میں ارتضیٰ کی لاپروائی بہت گھلتی۔ سارا دن گھر کے چھوٹے بڑے کام نمٹاتے ہوئے گزر جاتا‘ پر ان کاموں کے لیے وہ اس کی چھٹی کے دن کا انتظار کرتی وہ بھی ادھر ادھر گزار آتا‘ شاید ہی چھٹی کا کوئی دن اس کے نام ہوتا۔
’’آپ ایک این جی او کھول لیں… بے نام کے کام کرنا بھی کوئی کام ہیں‘ بہت شہرت ملے گی۔‘‘ آدھا دن تو اس کی خفگی میں گزرتا۔
’’مجھے پتا ہے میری پیاری سی بیگم کو منانا بہت آسان ہے اس لیے میں اپنی خواہشات کے مطابق کام کرتا رہتا ہوں۔‘‘ وہ کچن میں اس کے ارد گرد منڈ لانے لگا۔
’’میری گنتی کہاں پر ہے… میں آپ کی خواہش کے کس درجے پر ہوں۔ ساری خواہشات تو آپ کے گائوں کے لوگ ہیں۔‘‘ وہ جو ہانڈی میں چمچ چلانے لگا تھا اس کے ہاتھ سے چمچ کھینچا۔
’’پھر تم کہو گی گھر کے کام نہیں کرتا‘ اتنا اچھا سالن اوپر نیچے کررہا تھا۔‘‘
’’اپنی خدمت کسی اور کے لیے وقف کریں۔ مجھے میرے سوالوں کے جواب دیں۔‘‘ چولہے کی تپش سے چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
’’تمہارے سوالوں کا جواب دیا تو پھر تم غصہ کروگی۔‘‘ گاجر دھوکر اس کے دوپٹے سے ہاتھ پونچھنے لگا‘ کان کے پاس سرگوشی ہوئی تو وہ جھنجلا کر باہر نکل گئی۔
’’اب دیں جواب… ٹالیں مت اور زیادہ ہوشیاری بھی نہیں چلے گی سمجھے۔‘‘ اس کی حرکت پہ اس کا قہقہہ گونجا۔
’’ہوشیاری تو تم نے دکھائی ہے باہر بھاگ کے۔‘‘
’’ارتضیٰ پلیز… ‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔ ’’مجھے بتائیں آپ کی زندگی میں میری کیا اہمیت ہے؟ میری کسی بات پر آپ توجہ دیتے ہی نہیں‘ مجھے یہ خالی خولی محبت کی لفاظیاں اچھی نہیں لگتیں۔ جب انسان ضرورت ہی نہ سمجھے تو کیا فائدہ؟‘‘
’’یار تم تو بن مانگی مراد ہو… غصہ کیوں کرتی ہو۔ تم میری کسی نیکی کا صلہ ہو… میرا سکھ چین ہو‘ یہ لفاظیاں نہیں دل سے نکلی ہوئی عبارتیں ہیں۔ مجھے تو امید بھی نہیں تھی‘ ایک مکمل ہستی کی صورت میں میں تمہیں پالوں گا‘ کس طرح انکل کی روح سے تشکر کا اظہار کروں جو جاتے جاتے میری زندگی کو آراستہ کرگئے۔‘‘ اس کی گہری گہری آنکھوں میں محبت کا سمندر موجزن تھا۔ لبوں پہ مسکراہٹ اندر تک کی شانتی کا ثبوت دے رہی تھی۔ وہ پھر خجل ہوکر نظریں چرانے لگی تھی۔
’’ارتضیٰ آپ نے کہا تھا صحن میں گیس لائٹ لگادوں گا‘ یہاں اتنی لمبی لمبی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے‘ رات کو آپ دیر سے آتے ہیں‘ یہاں سے وہاں تک اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ اب آپ کے سامنے جب تک رٹو طوطے کی طرح رٹوں گی نہیں آپ توجہ ہی نہیں دیں گے۔‘‘
’’میں جارہا ہوں لائٹ لینے آکر آج ہی فٹنگ کردوں گا اور کوئی حکم…‘‘ انتہائی تابعدار کی طرح سر جھکایا اسے ہنسی آگئی۔
’’پہلے اتنا تو کردیں پھر بات بنائیے گا۔‘‘ اور واقعی وہ ایک گھنٹے کے اندر لیمپ لے کر آگیا۔
’’شام کو فٹنگ کروں گا‘ پہلے مجھے کھانا دو بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اور پھر ساری چیزیں ایسے ہی پڑی رہ گئیں۔ شام سے پہلے ہی کوئی بلانے آگیا وہ نکلا تو رات گئے ہی واپسی ہوئی‘ اس کی خفگی کے خیال سے موم بتی جلا کر پائپ کی فٹنگ کرنے لگا۔
’’اب چھوڑیں لائٹ آنے دیں‘ یا دن کے وقت لگائیں۔ میں موم بتی پکڑ کر کھڑی نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’میں تمہیں تکلیف دینا بھی نہیں چاہتا۔ موم بتی یہاں فکس کرلوں گا تم آرام کرو۔‘‘ دیوار میں بنے چھوٹے سے سوراخ میں موم بتی فکس کرکے اسے رام کیا۔
زندگی اسی طرح نرم گرم گزرنے لگی تھی۔ کبھی اس کی محبت امرت بن کر ٹپکتی۔ دل کو موم کرتی‘ تنہائی کو مشک بار کرتی‘ لبوں پہ مسکان بکھیرتی…! تو کبھی اس کی لاپروائی سے دل ودماغ منتشر ہوجاتے۔
ایک دن دونوں بہنیں اپنے ننھے منھے بچوں سمیت گھر میں رونق بکھیرتی آگئیں‘ اتنی نازک کم عمر اور بے تماشا خوب صورت بھابی کو دیکھ کر ان کے پائوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔
’’بھائی پر بہت غصہ تھا تن تنہا شادی رچانے پر‘ بہت ارمان نکالنے تھے ہمیں لیکن آپ کو دیکھ کر سب ناراضگی ختم ہوگئی۔‘‘ بڑی کھلکھلائی۔
’’لوگوں سے آپ کی تعریف سن سن کر ہم بے چین ہوئے رہتے تھے‘ کہ کب چھلہ پورا ہو اور آپ کے پاس آئیں‘ خدا خدا کرکے وہ وقت گزرا بھابی‘ اب ہم پور ایک ہفتہ رہیں گے۔‘‘ ایک نے پوری پلاننگ گوش گزار کی تو وہ مسکرادی۔
’’ایسا میں کچھ ہونے نہیں دوں گی‘ جتنے دن بعد آئی ہو اتنے دن یہاں رکو‘ بہت بور ہوتی ہوں میں اکیلے میں۔ ایسے تھوڑی جانے دوں گی میں۔‘‘ جھک کر اس کے ننھے سے گورے چٹے بچے کو پیار کیا۔
’’بھائی آپ کو ٹائم نہیں دیتے ہوں گے نا۔ مجھے پتا ہے وہ شروع سے ہی ایسے ہیں۔ گھر میں تو ان کے پائوں ٹکتے ہی نہیں۔‘‘
پھر جتنے دن وہ لوگ رہیں وہ کچھ مگن سی ہوگئی تھی۔ کبھی وہ کچن میں گھسی بھابی ہونے کا حق نبھاتی رہتی‘ کبھی دونوں اس کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر بٹھاتی رہتیں اور اکلوتی بھابی کے ناز اٹھانے کی کوشش کرتیں۔ ارتضیٰ بھی بہنوں کی آمد پر بہت خوش تھا۔ فارغ وقت میں ان کے بچوں کے ساتھ بچہ بنا رہتا‘ اس وقت بھی کھانے سے فارغ ہوکر اس کے دو ماہ کے بچے کو بانہوں میں بھر کر اوپر اچھالنے کی کوشش کررہا تھا‘ جس سے ننھا بچہ ڈر کر رونے لگا اور اسے خوب مزا آرہا تھا جب منہ بسورتے ہوئے وہ رونے لگ جاتا ایسے میں شازیہ ہولے جارہی تھی۔
’’بس کریں بھائی‘ کیوں میرے بچے کے ننھے سے دل کو سہمائے جارہے ہیں۔ میرا بھی بھتیجا یا بھتیجی آئے گی نا تو پھر پوچھوں گی کیسے نازو سے رکھتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی جگہ چپکی رہ گئی۔ ارتضیٰ نے کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
’’اے پگلی‘ کیا تمہارے بچوں کو نازو سے نہیں رکھتا‘ میں اس کے ننھے منے چوزے سے دل کا ڈر دور کررہا ہوں‘ بہادر بنا رہا ہوں‘ بہادر… اور بھتیجا‘ بھتیجی کے لیے تم لوگوں کی دعائیں چاہیں۔‘‘ اس کی شرارت شروع ہوچکی تھی۔ وہ تیزی سے برتن سمیٹنے لگی تاکہ بروقت غائب ہوسکے۔
دونوں کچھ دن اس کے ساتھ گزار کر واپس جاچکی تھیں‘ جاتے جاتے تسلی کے مہکتے بول اس کی جھولی میں ڈال گئیں۔
’’اللہ جلدی سے اس گھر میں بے تحاشا قہقہے اور شرارتیں بکھیرے پھر تو بھائی سے بھی کوئی گلہ نہیں رہے گا نا…‘‘ حسب معمول وہ نظریں جھکا گئی۔
ایک روز ارتضیٰ گھر کے کسی کام سے شہر گیا تو اس کا رزلٹ بھی لیتا آیا‘ ہائی فرسٹ ڈویژن کے ساتھ آنسو کا ریلا بھی زبردست قسم کا بہہ نکلا تھا۔ کیا کیا ارمان تھے‘ کیا کیا خواب جو وقت اور حالات کے ملبے تلے مسمار ہوچکے تھے۔ اسی ایک خواب کو پانے کے لیے بابا جان کو آخری لمحات میں پریشان کیا تھا۔ پتہ ہی نہیں تھا وہ اندر اندر کیا روگ پال رہے تھے‘ ورنہ جن خوابوں کے لاشے آج اٹھانے تھے وہ اسی وقت دفنا دیتی۔ مسیحائی کے شعبے میں نہ جانے کا دکھ سوا ہوگیا۔ قسمت میں ہی نہ تھا ورنہ پہلے ایگزیم میں ہی بیماری کے بجائے تقدیر ساتھ دے دیتی۔ ارتضیٰ خاموشی سے اسے آنسوئوں کی بارش میں بھیگتا دیکھتا رہا۔
’’تم میڈیکل ٹیسٹ دو… میں ساتھ دوں گا تمہارا‘ کچھ نہ کچھ تو کر ہی لوں گا۔‘‘
’’اپنی اس آرزو کی تکمیل کے لیے پہلے بابا جان کو پریشان کیا اب آپ کو کسی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتی‘ ان کے انتقال کے وقت ہی یہ حقیقت سمجھ میں آگئی تھی کہ جو چیز نصیب میں نہ ہو اسے پانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے سے شکست ہی ملتی ہے۔‘‘ کیا اسے ارتضیٰ کے حالات کی خبر نہیں تھی‘ اتنا سرمایہ تو تھا نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے اس کے دل ودماغ کو انتشار کا شکار کرتی۔
وہ اس کے شہر والے گھر کو اس کی خواہش کے مطابق کرائے پر چڑھا آیا تھا اور فالتو سامان بیچ کر ضروری اشیاء لے آیا۔ اس کا چھوٹا سا چارجر فین اس کے سکون میں اضافہ کرگیا۔ ویسے بھی گرمیاں شروع ہوچکی تھیں اسی چھوٹے سے فین کو لوڈ شیڈنگ ٹائم میں چلا کر وہ سکون سے رہتی تھی۔ اب راتوں میں وہ چین سے سو تو پائے گی نا‘ فوراً اسے چارج پر لگا دیا تھا۔ پر ایک روز ارتضیٰ نے اس کا تقاضا کیا کہ کچھ دنوں کے لیے اسے یہ فین چاہیے۔ وہ حیران ہوئی‘ کیونکہ گھر میں بھی رہ کر وہ سخت سے سخت گرمی میں اپنی طرف اس کا رخ نہیں کرتا تھا۔ کبھی مناہل اس کے سکون کے لیے اسے آن بھی کردیتی تو وہ بند کردیتا۔
’’چارجنگ ختم ہوجائے گی‘ تمہیں رات میں بے سکونی ہوگی۔ تم اپنا کام ختم کرکے اسے لگا لینا۔‘‘
پھر آج یہ نیا تقاضا…!
’’یار وہ رشیدہ چاچی کی پوتی بہت بیمار ہے۔ تکلیف سے سو نہیں پاتی‘ اوپر سے ان کی ٹین کی چھت کی تپش اس شدید گرمی میں اور بوکھلائے دیتی ہے۔ تم تھوڑے دنوں کے لیے یہ فین دے دو‘ کسی کی تکلیف راحت میں بدل جائے گی تو بڑا اچھا ہوگا۔‘‘
’’مجھ سے تو خود گرمی برداشت نہیں ہوتی آپ تو جانتے ہیں‘ اگر یہ فین ہمارے پاس نہیں ہوتا تو کیا کرتے آپ۔‘‘ گرمیاں اس بار پڑی بھی بہت شدید۔
’’تب اللہ مالک تھا منو… کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا ہی دیتا جیسے آج ہمیں اس نے وسیلہ بنایا ہے۔‘‘ اس نے اس کا گلابی ہاتھ پکڑ کر چمکارا۔ ’’تم تھوڑے دن برداشت کرلو‘ اس بیچاری کے پورے جسم پر موٹے موٹے چھالے نکل آئے ہیں۔ اندرونی تکلیف بھی بہت ہے۔‘‘ حسب معمول وہ رضا کار بنا ہوا تھا۔ اس کے احساسات سے بے خبر وہ خاموش رہی۔
’’یار بولو بھی… ورنہ ٹھیک ہے‘ میں نہیں لے جائوں گا‘ تمہیں بھی تو خوش دیکھنا میری خوشی ہے نامنو…‘‘ کہہ تو وہ بشاشت سے رہا تھا پر اندر کی گھمبیرتا سے وہ کچھ ڈر سی گئی تھی۔
’’لے جائیں… میں نے منع تو نہیں کیا۔ ویسے بھی آپ سوشل ورکر ہیں‘ معاشرے کے مددگار…!!‘‘
’’اف… اتنا طنز… کاش اس رتبے کے قابل ہوتا میں۔‘‘ گیلا تولیا اس کے کندھے پر لپیٹ دیا اس نے بھنا کر سائیڈ پہ اتار پھینکا۔
’’طنز کی کیا بات… حقیقت ہے یہ گھر والوں سے زیادہ آپ کو باہر والوں کا خیال رہتا ہے۔‘‘
’’تمہارا بھی رکھتا ہوں یار… تمہیں احساس نہیں‘ میری فیلنگز کا‘ کاش دل چیر کے دکھاسکتا تو وہ بھی دکھا دیتا۔‘‘ اس کی نگاہوں اور باتوں کی وارفتگی سے ہمیشہ وہ نروس ہوجاتی‘ اس وقت بھی دونوں ہاتھوں سے اسے دھکیل کر خود باہر آچکی تھی۔ ارتضیٰ کی گنگناہٹ باہر تک آرہی تھی۔
اسے محسوس ہورہا تھا وہ اپنی تنخواہ کا ایک حصہ باہر والوں کے لیے صرف کرتا تھا۔ حالانکہ وہ خود اتنی استطاعت نہیں رکھتا تھا چاہتا تو یہ پیسے بھی گھر میں لگا کر سہولت کی کافی چیزیں لاسکتا تھا لیکن اسے کون سمجھاتا‘ ایک بار اس نے بات کرنے کی ٹھانی کہ اس کی دریا دلی ذرا سمٹ کررہے اور آئندہ مستقبل کے لیے کچھ رقم پس انداز کرسکے۔
جس کسمپرسی سے وقت گزرا ہے وہ وقت اس کے اور اس کے آنے والوں کے لیے دوبارہ نہ آئے۔ آج نہ کل تو ضروریات بڑھیں گی ہی‘ اسے تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا۔ کتنی دیر تو کچھ بولاہی نہ گیا۔
’’تمہارے خیال میں یہ سوچ مجھے نہیں آئی ہوگی کہ شہر جاکر میں اپنے حالات سدھار سکتا ہوں۔ لیکن مناہل اس گائوں کے معصوم اور مجبور لوگوں کو میری ضرورت ہے۔ لوگ میرے عادی ہوچکے ہیں‘ اس قدر کہ میرے پاس کچھ ہو نہ ہو وہ ایک آس لیے مجھے ضرور دیکھتے ہیں اور میں ان کی پرامید نگاہوں میں مایوسی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اللہ نے مجھے بہت سے لوگوں کی امید کا مرکز بنایا ہے‘ میں ان کی آس نہیں توڑنا چاہتا۔ چھوٹی موٹی ضروریات پوری کرکے میرے دل میں جو راحت پہنچتی ہے نا اسے تم سمجھ نہیں سکتی‘ سوری میری جان… میں شہر نہیں جاسکتا‘ تمہیں کوئی تکلیف ہو‘ کسی بھی چیز کی ضروت ہو مجھے بتائو میں ازالہ کروں گا پر یہ خواہش پوری کرنا میرے بس میں نہیں۔‘‘ وہ خاموشی سے اس کے انکار کو سنتی رہی‘ اس کے عزم مصمم کو توڑنا واقعی اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ گائوں میں کسی غریب لڑکی کی شادی ہوتی یا کوئی بڑی ضرورت ٹرسٹ سے رجوع کرنا اسی کا کام تھا۔
کوئی اچھی چیز پکاتی تو بہانے سے اس سے پیک کروالیتا کہ دوپہر کو کھائوں گا اسے پتا چل جاتا کہ اس میں اصل کہانی کہاں تک ہے؟ ایک روزاس نے اپنے تئیں خوش خبری سنائی۔
’’کل گائوں میں ڈاکٹرز کی ٹیم آرہی ہے۔‘‘ میڈیکل کیمپ لگے گا۔ تم چلی جانا کسی مدد کی ضرورت ہو تو کردینا‘ اچھا لگے گا تمہارے شوق کو تسکین ملے گی۔‘‘
’’تسکین ملے یا زخم ہرے ہوں گے۔‘‘ وہ سوچ کر رہ گئی نہ جانے کا قصد کیا تھا لیکن اپنی سوچوں پر بند نہ باندھ سکی اور پہنچ گئی‘ وہ گائوں کا ایک گورنمنٹ ہاسپٹل تھا جہاں یہ لوگ پہنچے تھے۔ ہاسپٹل کیا تھا‘ وہاں پہ تعینات اکلوتے ڈاکٹر اور اکلوتے کمپوڈر کی آرام گاہ تھا۔ ہاسپٹل میں آنے والی اکثر ادویات بیچی جاتیں جو عوام کے لیے فری بھیجی جاتی تھیں اور یہ ڈاکٹرز اور کمپوڈر زیادہ تر آپس میں بیٹھ کر ملکی سیاست‘ منڈیوں کے ریٹ کے اتار چڑھائو پر باتیں کیا کرتے تھے چند عام سی ادویات مریضوں کو دی جاتیں اور مخصوص ادویات پر ان کی اجارہ داری ہوتی۔ کوئی پرسان حال نہ تھا۔ ٹیم اس کے خیالات اور تعلیم کے بارے میں جان کر بہت خوش ہوئی۔
’’یہی تو المیہ ہے ہمارے معاشرے کا جن کے پاس ڈگری ہے ان کے پاس احساس نہیں اور جنہیں احساس کی دولت ملی ہے‘ وہ ڈگری سے محتاج ہیں۔‘‘ ڈاکٹر علوی نے تاسف سے اس سلجھی ہوئی نفیس سی لڑکی کے جذبات کی قدر کی۔
اس نے ساتھ مل کر دوائیاں مریضوں کے لیے پیک کیں‘ پرچیاں بنائیں ایک نامعلوم سی خوشی اور ایک کمی کا احساس گھیرے میں لئے ہوئے تھا۔
’’کیا ہوا جب سے وہاں سے آئی ہو چپ چپ سی ہو۔‘‘ رات میں ارتضیٰ نے اس کا رخ اپنی طرف کیا اس کے آنسو بہہ نکلے۔
’’آپ نے دیکھا تھا وائٹ گائون میں ڈاکٹرز کتنے اچھے لگ رہے تھے۔ ایک الوہی سی چمک ہوتی ہے ان کے چہروں پر‘ ایک مقدس پیشے میں ملوث یہ لوگ فرشتہ صفت ہوتے ہیں۔‘‘
’’ہاں… صحیح کہہ رہی ہو… لیکن مناہل زندگی میں ضروری نہیں جو ہم چاہیں وہ پا بھی لیں۔‘‘ آہستگی سے اس کے آنسوئوں کو صاف کیا۔
’’میں نے کوئی لمبی چوڑی تمنا کی بھی نہیں۔ نہ میرے پاس آرزوئوں کی کوئی لمبی لسٹ تھی‘ ایک خواہش تھی وہ بھی اختیار میں نہیں۔‘‘ آواز دوبارہ رندھ گئی تھی۔
’’سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے سمجھو خدا کو ہی منظور نہیں تھا۔ اور ویسے بھی جب تمہیں پتا ہے اس پیشے کے لیے تمہارے پاس وسائل نہیں تھے تو کیسے یہ سب کچھ ممکن ہوتا۔ اللہ نے اس خواہش کا اجر لکھا ہوگا۔ زندگی اسی کا نام ہے‘ تم میری خدمت کرو‘ میری ہاں میں ہاں ملائو بہت ثواب ملے گا تمہیں۔‘‘ اس نے ماحول کو خوش گوار بنانا چاہا۔ وہ ہنس دی ارتضیٰ نے ساون میں دھوپ دیکھی۔
…٭٭٭…
اس کے شب وروز ایسے ہی مصروف گزرتے۔ حسب معمول وہ گائوں والوں کی آنکھوں کا تارا تھا۔ اس کے پیچھے جو محرک تھا اس سے وہ باخبر تھی۔ کوئی شکوہ نہ ہوتا اگر وہ اپنی ضروریات کی اشیاء بھی لوگوں کو نوازنے سے باز نہ آتا۔ اس دن بھی بڑی چاہتوں سے اور ڈھیروں لوازمات ڈال کر بادام کا حلوہ پکایا تھا۔ خوش بو سے گھر مہک اٹھا تھا‘ چونکہ مقدار میں کم تھا اس لیے رات کے لیے اٹھا رکھا کہ ارتضیٰ کے ساتھ ہی کھائے گی ویسے بھی وہ اپنے کھانے پینے پر دھیان ہی کب دیتا تھا‘ جو وہ پکاتی خوش ہوکر تعریف کرکے کھاتا‘ کوئی اچھی چیز ہوتی تو دوپہر کے لیے بہانے سے لے جاتا۔ رات بھی یہی ہوا۔ ایک چمچ کھا کر اپنا پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر ڈھک دیا۔
’’بہت مزے کا ہے کل لے کر جائوں گا اور وہیں کھائوں گا۔‘‘ غصہ کی ایک لہر اسے چھو گئی۔
’’آپ کی ڈرامے بازیاں بند نہیں ہوسکتیں۔ صاف کیوں نہیں کہتے اپنے کسی پیٹو دوست کی پیٹ پوجا کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔ میں بھی نہیں کھائوں گی یہ بھی لے جائیں‘ اپنی قدر دانیوں میں اضافہ کروانے۔‘‘ اس نے پیالہ پٹخا۔ معاملہ سنگین ہوچلا تھا۔
’’ارے یار… ابھی ابھی چاچی رشیدہ نے پائے اور تندور کی روٹی کھلادی بہت اصرار کررہی تھیں‘ دل توڑنا مناسب نہیں سمجھا اس لیے کھا لیا۔ اب یہ بھی کھالوں گا تو پیٹ خراب ہوجائے گا سمجھا کرو۔‘‘
’’یہ اچھی رہی… میں انتظار میں بے حال ہوتی رہتی ہوں کہ کب آئیں گے اور محترم دوسروں کے دلوں کے توڑ جوڑ میں لگے رہتے ہیں۔‘‘ ایک نیا کیس تیار تھا۔
’’بزرگ ہیں… دل سے بیٹا مانتی ہیں‘ ان کے اصرار کو میں ٹھیس نہیں پہنچا سکتا تھا۔ بزرگوں کی دعائیں لینی چاہئیں اور یہ جان کر اندر تک شانتی اتر گئی کہ تم میرے انتظار میں بے حال ہوتی رہتی ہو۔‘‘ شرارت سے اس کی آنکھوں میں جھانکنا چاہا وہ جھینپ گئی۔
’’لفظوں کی جادو گری تو کوئی آپ سے سیکھے۔ ارتضیٰ کوئی وقت ایسا بتائیں جب میرے اور آپ کے درمیان بحث نہ ہوتی ہو۔ بس آپ کی باتیں ہی ہیں جو میری زبان مقفل کردیتی ہیں ورنہ ہماری گفتگو تکرار سے شروع ہوتی ہے‘ کاش آپ میرے ہم مزاج بھی ہوتے اور اس ناہم آہنگی کا سارا محرک آپ کی رضاکارانہ ہمدردی ہے جو میرے لیے نہیں‘ آپ کے گائوں والوں کے لیے ہے‘ اتنی محبت تو آپ خود سے بھی نہیں کرتے۔‘‘ اس کا چہرہ سرخ ہوچلا تھا۔
’’خود سے کروں نہ کروں تم سے ضرور کرتا ہوں۔‘‘ بے حد سنجیدہ ہوتے ہوئے وہ رخ موڑ کر سوتا بن گیا گویا نہ کچھ کہنا چاہتا ہو نہ سننا۔
’’ہنہ…‘‘ وہ پھنکاری ساتھ ہی چمچ بڑے زوروں سے ٹیبل پر پٹخ کر باہر نکل گی۔
’’یہی پروا ہے میری کہ کسی بات کا اثر ہی نہیں لیتے‘ چکنا گھڑا۔‘‘ آنکھوں میں نمی لیے چاندنی بکھیرتے چاند پر نظریں جما دیں۔ اس رات ارتضیٰ نے اسے منایا بھی نہیں۔ وہ بھی ضد میں باہر ہی پڑی چارپائی پہ سوگئی۔
دوسری صبح دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی‘ وہ چپ چاپ ناشتہ کرکے چل دیا اور جاتے ہوئے حلوے کا پیالہ بھی لے گیا جو اس کے غصے میں کئی گنا اضافہ کر گیا تھا۔
’’میری پروا نہیں‘ ہوگی کسی ندیدے کی پروا۔‘‘ جل بھن کر کام شروع کردیا۔ آج تو کسی کام میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔ ’’پتا نہیں‘ شاید میری بات بری لگی ہو اس لیے منایا نہیں۔‘‘ آنکھیں نم ہوگئی تھیں اس کی بے رخی یاد کرکے۔
دنیا بیوی بچوں کی خوش نودی کے لیے سرگرداں ہے شب وروز ایک کئے ہوئے ہے اور انہیں ایک اکیلے دل کی پروا نہیں۔ جیسے تیسے کام کرکے باہر نکل آئی آج مختلف گھروں میں جاکر دل بہلانے کا ارادہ تھا جو اسے مسلسل رلانے پر کمربستہ تھا۔ چمکیلی دھوپ میدان اور کھیتوں کو جگمگارہی تھی۔ گرمی میں اضافہ ہوچکا تھا۔ کھلی کھلی جگہ تھی اس لیے ہوا کا احساس بھی فرحت بخش رہا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچے دوڑ بھاگ میں مصروف تھے‘ وہ چلتے چلتے کھیتوں کی طرف نکل آئی‘ یہ سوچ کر کہ جس کے گھر جائوں گی وہ لوگ کیا سوچیں گے۔ دل کی بے کلی تو کوئی نہیں جانے گا‘ سر سبز فصلیں سر اٹھائے کھڑی تھیں‘ کچے راستوں سے ہوتی ہوئی ذرا اونچائی پر آئی تو کسی کی مانوس سی پشت اور جانا پہچانا سراپا بڑے سے پتھر پہ بیٹھا نظر آیا۔ آگے جو بڑھی تو گمان حقیقت میں بدل گیا۔ وہ ارتضیٰ ہی تھا لیکن یہ نہیں پتہ چل سکا کہ وہ کر کیا رہا تھا‘ یہی تجسس اسے آگے آگے کھینچے لے گیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اس کی پشت پر کھڑی تھی اور سامنے کا جو بھی منظر تھا اوہ ارتضیٰ کو عظمت کے بلند مینار پر ایستادہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ مسیحائی یا نیک صفتی ڈگریوں کی محتاج ہوتی تو یہ کون سا درجہ تھا مسیحائی کا جس کی پاسداری وہ کررہا تھا۔ وہ جو اس پیشے کی نارسائی پر صبح وشام دل گرفتہ رہتی تھی‘ اس کی عملی صورت وہ بنا اپنے کام میں مصروف تھا۔ اسے تو کسی ڈگری کی کمی کا احساس نہ تھا۔ وہ شاد وآباد بندہ تھا‘ جس کے دل کو خدانے بے حد حساس بنایا تھا۔ دوسروں کے دکھوں کا مداوا کرنے والے مسیحا ایسے ہی ہوتے ہیں۔ سفید گائون پہنے بغیر ان کی روح ایسے ہی اجلی ہوتی ہے جیسے ارتضیٰ کا باطن تھا۔ سامنے ایک نحیف ونزار بوڑھے کا زخم وہ صاف کررہا تھا۔ جسے شاید اپنے وجود پہ بیٹھی مکھی بھی اڑانے کی سکت نہ ہو۔ اس کی انگلیوں کا زخم بتارہا تھا کہ وہ کوڑ زدہ ہے‘ سامنے حلوے کا پیالہ پڑا تھا جس میں پڑا حلوہ اب نصف ہوچکا تھا۔ وہ اپنے کام میں اس حد تک منہمک تھا کہ اپنے سامنے پڑے اس کے سائے پر بھی غور نہ کرسکا تھا۔ اگر اس ضعیف کا وسیلہ وہ نہ بنتا تو شاید اب تک وہ زمین پر ڈھیر ایک لاش کی صورت اختیار کرچکا ہوتا‘ لیکن ایک زندہ انسان کو زندگی کا احساس دلانے کے لیے وہ گھن اور تکبر کے احساس سے بہت دور جاچکا تھا۔
وہی غلط تھی جو اس کی نیک نیتی سے بدگمان تھی۔ اس کے خمیر میں جو حساسیت رچی بسی تھی وہ اس سرور سے کبھی نہ نکل پائے گا‘ اسے احساس ہوچکا تھا اس لیے اب اسے بھی اس کے رنگ میں رنگ جانا ہوگا۔ دنیا دکھاوے کی مسیحائی نہ ملی تو کیا ہوا‘ آخرت کی سرخروی اس کے دامن گیر تھی وہ کیسے نہ ہاتھ تھامتی آگے بڑھ کر دوسرے ہاتھ کا زخم وہ صاف کرنے لگی تھی۔ ارتضیٰ کی نظریں اٹھیں تو اٹھی رہ گئیں اس نے دیکھا پھر نظریں جھکالیں۔
’’آپ نے کہا تھا نا میری ناتمام خواہش کا اللہ نے اجر رکھا ہوگا‘ میرے اس اجر کا نام ارتضیٰ ہے۔ جس کی نیک دلی میرے وہم وگمان کی سرحدوں سے کہیں بالا ہے۔ جس کی وسعتوں میں گم ہوجانا ہی مناہل کی ذات کی تقویت ہے‘ آپ میرے ہم مزاج ہو بھی نہیں سکتے ارتضیٰ‘ آسمان اور زمین میں یہی خاصہ تو ہے لیکن کہیں نہ کہیں دونوں کے کنارے ضرور ملتے ہیں بس یہی ایک آس میری بدگمانی حذف کرنے کے لیے کافی ہے۔ میں خود آپ کی ہم مزاج ہوجائوں گی بجائے اس کے کہ آپ کو بدلوں۔‘‘
دھیمے سروں میں وہ اس کے اردگرد کتنے ہی جلترنگ چھیڑ رہی تھی۔ وہ تو اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہی حیران تھا۔ ساتھ شانت بھی کہ اب کوئی ناراضگی ان کے مابین کبھی نہ در آئے گی۔ اس نے پیش قدمی کی ہے تو جواباً اسے بھی بھرپور طریقے سے خوش آمدید کہنا پڑے گا۔ شرارت سے زیر لب مسکرایا تو وہ نظریں جھکا کر کام میں مصروف ہوگئی۔ اس کی ہر ادا سے واقف جو ہوگئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close