Aanchal May 16

تیرے عشق نچایا

نگہت عبداللہ

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
محسن کی گمشدگی گھر والوں کے لیے جہاں بہت سے مصائب لے کر آتی ہے وہیں ساجدہ بیگم بیٹے کی جدائی میں حرکت قلب بند ہوجانے پر دائمی اجل کو لبیک کہتی ہیں ان مخدوش حالات میں نشاء کے لیے جہاں مونی کی گمشدگی ایک بڑا صدمہ تھا وہیں تائی اماں جیسی شفیق ہستی کے چلے جانے کی خبر سن کر وہ ہوش و خرد سے بے گانہ ہوجاتی ہے دوسری طرف محسن ان تمام حالات سے بے خبر کندن کے ساتھ اپنے ماضی کو شیئر کر کے انجان راہوں پر نکل جاتا ہے کندن کو لوگوں کے چہرے پڑھنے کا ہنر آتا ہے اور کچھ وہ نفسیات سے بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ اسی بنا پر وہ محسن سے ہمدردی کرتے اسے نشا کی طرف واپس لوٹ جانے کا مشورہ دیتی ہے نشا محسن کے نمبر پر آنے والی کندن کی کال سن کر مزید تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہے جبکہ کندن کو بھی محسن کی گمشدگی اور اس کی ماں کی موت کا گہرا صدمہ پہنچتا ہے لیکن وہ انہیں تمام حقائق بتا کر سب سے معذرت کرلیتی ہے۔
صبا کے پاس راحیلہ خاتون اور نگار کی آمد و رفت بڑھ جاتی ہے ایسے میں آصف جاہ خصوصی طور پر نگار کی دلچسپی کا سبب بنتا ہے نشا محسن کی گمشدگی کے متعلق اپنے گھروالوں کو بھی لا علم رکھتی ہے جب ہی وہ نشاء کی اداسی کو ساجدہ بیگم کی موت کا سبب سمجھتے ہیں۔ مریم اور ریان کی دوستی گزرتے وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے ریان مریم پر دبائو ڈالتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے بات کرے لیکن محسن کی گمشدگی اور ساجدہ بیگم کی موت کے صدمے کے پیش نظر وہ گھر والوں سے کوئی بات نہیں کرپاتی۔ ایسے میں وہ صبا سے مدد لینا چاہتی ہے اور جب ہی محسن کی گمشدگی کا تذکرہ صبا کے سامنے کر بیٹھتی ہے صبا کے لیے یہ سب بہت تکلیف دہ ہوتا ہے دوسری طرف نشاء کی یہ لا تعلقی بھی اسے پسند نہیں آتی۔
محسن کے غم میں نشاء ہوش و حواس سے بے گانہ ہونے لگتی ہے ایسے میں احسن اس کا بہت خیال رکھتا ہے جبکہ تانیہ کو اپنی ذات کہیں گم ہوتی نظر آتی ہے جب ہی وہ نشاء سے صاف صاف بات کرتے اسے اس گھر سے جانے کا کہتی ہے نشاء پر یہ جان کر صدمے سے ڈھے جاتی ہے ایک طرف محسن کی دوری دوسری طرف اپنے گھر سے جدائی اس کے لیے بہت سے مصائب لے کر آتی ہے جبکہ احسن ان تمام باتوں سے بے خبر ہوتا ہے۔
صبا اپنی عدت پوری ہوجانے کے بعد تایا ابو سے ملنے آتی ہے تب ہی نشاء بھی اس کے ہمراہ جانے کا کہہ کر تایا ابو سے اجازت طلب کرتی ہے وہ اسے اس ٹینشن زدہ ماحول سے دور جانے کی خاطر چند روز کے لیے اپنی ماں کے گھر جانے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ نشاء کے اصل ارادوں سے وہ بے خبر ہوتے ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
ز…ز…ز…ز
آصف جاہ ساڑھے چار مہینے بعد اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جو اول روز ہی اس کی نظروں میں سما گئی تھی اور اس میں اس کے ارادے کو دخل نہیں تھا۔ بس دل جہاں بے اختیار ہوجائے پھر لاکھ تاویلیں گھڑلو مانتا ہی نہیں۔ وہ بھی خود کو سرزنش کرتا تھا لیکن جہاں وہ سامنے آتی سب دھرا رہ جاتا اور وہ کوئی ایسی بات کرجاتا جس سے وہ اسے سوچنے پر مجبور ہوجائے حالانکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ اسے زیب نہیں دیتا۔ کیونکہ وہ محض ایک لڑکی نہیں تھی۔ اس کے محسن خان جنید کی بیوی اور اب بیوہ تھی۔ بیوی سے بیوہ تک کا سفر کتنا مختصر تھا وہ سوچ کر دہل جاتا تھا۔ ایسا تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اپنے بے نام جذبوں سے بے شک وہ دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا لیکن وہ خوش رہے آباد رہے۔ اسے خان جنید کے جانے کا بہت دکھ تھا۔ وہ اس کے سرپرست تھے اور انہوں نے کبھی اسے غیریت کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔ محبت کے ساتھ اپنی اولاد سے بڑھ کر اس پر اعتماد کیا تھا۔ بزنس میں وہی ان کے ساتھ تھا اور خان جنید وصیت میں اسے ہی اپنی بیوہ اور بنٹی کا کئیرٹیکر بنا گئے تھے۔ ایک طرح سے اس پر بڑی ذمہ داری آگئی تھی بہرحال جب تک صبا عدت میں رہی وہ گھر کے اندر نہیں آیا تھا۔ کوئی آفیشل بات یا وکیل کی طرف سے کوئی بات ہوتی تو وہ بنٹی کے ذریعے کہلوا دیتا تھا اور ابھی بھی وہ پہلے کی طرح بلا جھجھک اندر نہیں چلا آیا تھا اس نے ملازم کے ذریعے صبا کو اپنی آنے کی اطلاع دی تھی اور اس کی اجازت ملنے پر ہی اندر آیا تھا۔ ساڑھے چار مہینے کوئی اتنے زیادہ نہیں ہوتے لیکن جیسے چار صدیاں بیت گئی تھیں ہاں وہ اتنے ہی فاصلے پر نظر آرہی تھی۔
’’کیا بات ہے…؟‘‘ کس قدر نپا تلا انداز تھا۔ پیشانی پر ہلکی سی لکیر آصف جاہ کو باور کرا رہی تھی کہ یہ حد کراس کرنے کی اجازت نہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ مرعوب ہوگیا تھا۔
’’جی وہ آپ کے لیگل ایڈوائزر عبدالرحمن صاحب نے بتایا ہے کہ خان صاحب کے صاحب زادے خان جمشید ان کی وصیت کو غلط قرار دے رہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ سابقہ انداز میں بولی تھی۔
’’پھر؟‘‘
’’پھر یہ کہ عبدالرحمن صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر آپ اجازت دیں تو خان جمشید کو اس بات کا قانونی جواب دیا جائے۔‘‘
’’ہوں…‘‘ وہ سوچ میں پڑ گئی پھر سر جھٹکتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی۔
’’ایسا ہے کہ آصف جاہ یہ کورٹ کچہری کی باتیں میری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ عبدالرحمن صاحب سے کہو جیسا وہ مناسب سمجھیں یا تم بتائو۔‘‘
’’میں…‘‘ آصف جاہ نے بے اختیار اپنی طرف اشارہ کیا۔
’’ہاں کیوں… خان صاحب کے ساتھ رہ کر میرا خیال ہے کہ اتنی سمجھ بوجھ تو ہوگی تمہیں…‘‘ صبا نے کہا تو وہ سر کھجانے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں… وہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ کوئی فائدہ نہیں۔ میرا مطلب ہے خان جمشید صرف دھمکیاں دے سکتے ہیں کر کچھ نہیں سکتے۔‘‘ وہ براہ راست اسے دیکھنے سے گریز کررہا تھا۔
’’دھمکیاں بھی کیوں؟‘‘
’’ظاہر ہے وہ خان صاحب کی اولاد ہیں اور انہیں اپنے باپ کی پراپرٹی میں سے کچھ حصہ ہی سہی ایک تیسرے فرد کے پاس جانا سخت گراں گزر رہا ہوگا۔‘‘ آصف جاہ نے لفظوں کے چنائو میں بہت احتیاط برتی تھی۔
’’ٹھیک ہے جیسا تم بہتر سمجھو۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی تو وہ بھی کھڑا ہوگیا۔
’’میرے لائق اور کوئی خدمت۔‘‘ وہ ان سنی کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ آصف جاہ نے کندھے اچکا کر سانس کھینچا پھر بنٹی سے مل کر باہر نکلا تو گیٹ پر جاذب کچھ شش وپنج میں کھڑا تھا۔
’’جی…‘‘ آصف جاہ نے سوالیہ اسے دیکھا تو وہ پوچھنے لگا۔
’’صبا ہے؟‘‘
’’آپ کون؟‘‘ آصف جاہ نے اب سر تاپا اسے دیکھا۔
’’میں اس کا کزن ہوں۔‘‘
’’اس کا…!‘‘ یعنی اسے تم تو کہنے والا قریبی ہوسکتا ہے۔ آصف جاہ نے سوچا پھر کھلے گیٹ سے اندر دیکھ کر ملازم کو اشارے سے بلا کر اس سے مخاطب ہوا۔
’’صبا بی بی سے کہو ان سے کوئی ملنے آیا ہے۔‘‘ ملازم ایک نظر جاذب کو دیکھ کر واپس پلٹ گیا تو جاذب اس سے پوچھنے لگا۔
’’آپ کی تعریف؟‘‘
’’خاکسار کو آصف جاہ کہتے ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر رکا نہیں فوراً اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
ز…ز…ز…ز
یہ نہیں تھا کہ صبا جاذب سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔ بس اس وقت اس کی آمد سے وہ سخت مکدر ہوئی تھی کیونکہ ابھی اسے نشا کو لے کر کہیں باہر جانا تھا اس نے نشا کو بھی فون کردیا تھا کہ وہ تیار رہے۔ اس لیے اسے جاذب کا آنا اچھا نہیں لگا اور اس نے جتا بھی دیا۔
’’تمہیں آنے سے پہلے فون کرنا چاہئے تھا۔‘‘ جاذب نے ایک دم اسے دیکھا پھر خجالت بھری ذرا سی ہنسی کے ساتھ بولا۔
’’سوری… مجھے واقعی یاد نہیں رہا کہ بڑے لوگوں سے پہلے ٹائم لیا جاتا ہے۔‘‘
’’آئندہ یاد رکھنا۔‘‘ اس نے ٹوکنے کی بجائے باور کرادیا۔
’’اگر میری وجہ سے تمہارا کوئی کام رکا ہے تو میں چلا جاتا ہوں۔‘‘ وہ جزبز ہوا اور ہرٹ بھی۔
’’نہیں خیر اب آہی گئے ہو تو بیٹھو۔ کیا پیو گے چائے‘ کافی یا سوفٹ ڈرنک۔‘‘ سراسر لیا دیا انداز تھا۔
’’نہیں کچھ نہیں۔ بس تم سے ملنا تھا۔ امی بہت کہتی ہیں کہ مجھے تمہارے پاس جانا چاہئے۔‘‘
’’تو ابھی تک امی کے اشاروں پر چلتے ہو۔ تمہاری اپنی کوئی سوچ نہیں۔‘‘ صبا نے سوچا ہی نہیں کہہ بھی دیا تو وہ خاموش ہورہا۔ تب جیسے صبا کو اس پر ترس آگیا تھا۔ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔
’’بڑے ہوجائو جاذب سلیم احمد… مانا کہ فرماں برداری اچھی بات ہے مگر ایک حد تک۔‘‘
’’تم ذرا نہیں بدلیں۔‘‘ جاذب نے بغور اسے دیکھا۔
’’مجھے بدلنا ہی نہیں تھا۔ خیر یہ بتائو نگار کی شادی کا کیا ہوا۔ مامی جی کیوں آگے بڑھائے جارہی ہیں۔‘‘ اس نے موضوع بدلنے کی غرض سے پوچھا۔
’’امی نہیں آگے بڑھا رہیں نگار نہیں مان رہی۔‘‘ جاذب نے بتایا تو وہ سمجھی نہیں اور متعجب بھی ہوئی تھی۔
’’کیا مطلب نگار کی شادی طے تھی ناں پھر وہ کیوں نہیں مان رہی۔‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ جاذب کا دامن بچانا اس نے صاف محسوس کیا تھا لیکن اس نے ٹوکا نہیں ملازمہ کو چائے وغیرہ لانے کا اشارہ کیا پھر بلا ارادہ وہ بولی۔
’’سب اپنی مرضی کے مالک ہیں۔‘‘
’’تم نے بھی تو اپنی مرضی کرلی کیا نتیجہ نکلا۔‘‘ جاذب اب کسی طرح خود کو نہیں روک سکا۔‘‘ اپنے باپ کی عمر کے شخص سے شادی کرتے ہوئے ایک پل کو تو سوچا ہوتا کہ وہ بہت دور تک تمہارے ساتھ نہیں چل سکے گا۔‘‘
’’کوئی اپنی عمر لکھوا کر نہیں آیا جاذب۔‘‘ وہ اندر سے واقعی تلملا گئی تھی۔ ’’خان صاحب سے پہلے میں مر جاتی تب تم کیا کہتے…‘‘
’’کہ انہوں نے تمہیں مار ڈالا۔‘‘ وہ فوراً بولا تھا۔
’’ہاں…‘‘ صبا کے ہونٹوں سے تاسف بھری آواز نکلی پھر اسی انداز میں نفی میں سر ہلانے لگی۔ تو جاذب پوچھنے لگا۔
’’آئندہ تمہارا کیا ارادہ ہے؟ میرا مطلب ہے اپنے لیے کچھ سوچا ہوگا تم نے؟‘‘ جاذب کی بات قبل از وقت تھی جب ہی صبا کو خود پر قابو پانے میں دقت ہوئی اور محض اس پر جتانے کی غرض سے بولی۔
’’ہاں بہت کچھ… بہت کچھ سوچ لیا ہے میں نے۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’یہ میں تمہیں کیوں بتائوں۔‘‘ اس نے ہلکے انداز میں باور کرایا کہ تم ہو کون۔ جاذب نے ذرا سے کندھے اچکائے پھر پوچھنے لگا۔
’’یہ آصف جاہ کون ہے؟‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے لاعلمی ظاہر کرکے ملازمہ کو دیکھنے لگی جو چائے کے ساتھ دیگر لوازمات ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔ جاذب ملازمہ کے جانے کا انتظار کرنے لگا اور جیسے ہی وہ گئی کہنے لگا۔
’’تمہارے گھر میں رہتا ہے اور تمہیں پتا نہیں۔‘‘
’’کون؟‘‘ صبا کا دھیان کہیں اور منتقل ہوگیا تھا۔ جبھی سمجھی نہیں تھی۔
’’میں آصف جاہ کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ اس نے ہونٹ سکیڑے پھر چبا چبا کر بولی۔ ’’دیکھو جاذب میرے گھر میں کون رہتا ہے کون نہیں تمہیں اس سے غرض نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
’’سوری۔‘‘ میں نے یونہی پوچھ لیا تھا۔ وہ برامانا۔
’’چائے لو…‘‘ وہ چائے کی طرف اشارہ کرکے نشا کو کال ملانے لگی۔ پھر کال ریسیو ہوتے ہی کہنے لگی۔
’’سوری نشا میں آج نہیں آسکوں گی۔ کل پر رکھو یا پھر کسی دن۔‘‘
’’ہاں ابھی کچھ مہمان آگئے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے… امی کو سلام کہنا۔‘‘ اس نے سیل فون رکھ کر چائے کا کپ اٹھایا اور ایک سپ لے کر جاذب کو دیکھا وہ جانے کس سوچ میں گم تھا یا باربار اپنی نفی ہونے پر خاموش ہوگیا تھا۔
’’چائے ٹھنڈی ہورہی ہے جاذب۔‘‘ اس نے ٹوکنے کے بجائے احساس دلایا تو جاذب نے چونکنے کے ساتھ کپ اٹھالیا۔
’’کچھ اور بھی لو ناں۔‘‘
’’نہیں بس…‘‘ وہ چائے پینے لگا۔ اس کے بعد اپنی جیب پر ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھا۔
’’سگریٹ پینے کی اجازت ہے؟‘‘ وہ قصداً ہنس پڑی۔
’’شیور۔‘‘ وہ سگریٹ سلگا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’چلتا ہوں۔‘‘
’’اچھی بات ہے گھر میں سب کو سلام کہنا۔‘‘ اس نے روکنے کا تکلف تک نہیں کیا اور اسے خدا حافظ کہہ کر بنٹی کو پکارتے ہوئے اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ز…ز…ز…ز
ثریا کے پاس آکر بھی اسے چین نہیں تھا اور یہاں یہ مسئلہ تھا کہ اسے ثریا پر اپنی پریشانی ظاہر بھی نہیں کرنی تھی۔ چپکے چپکے روتی اور راتوں کو اٹھ کر ٹیرس پر جا کھڑی ہوتی اور تاریکی میں ڈوبے سمندر میں اس کی نظریں جانے کہاں تک سفر کرتیں۔ پھر آسمان چاند ستارے سب سے شکوہ کناں ہوتی کہ کوئی تو اس کا پتا بتائے جو اس کے دل میں عشق کی آگ لگا گیا تھا۔ جس میں سلگتے ہوئے اسے لگتا کسی دن وہ راکھ ہوجائے گی۔ اتنا تو وہ اس وقت بھی نہیں تڑپی تھی جب اسے پتا چلا تھا کہ اس کی شادی احسن سے نہیں محسن کے ساتھ ہورہی ہے۔ اب تو ہر پل جسم سے جاں نکلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ کسی بات کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا۔ بھوک پیاس تک کا ہوش نہیں تھا۔ ثریا کی خاطر اس کے ساتھ کھانے پر بیٹھ تو جاتی لیکن پانی کے بغیر حلق سے نوالہ اترتا ہی نہیں تھا اور خوراک کی کمی نے ظاہر ہے اسے کمزور کردیا تھا چہرے پر الگ زردیاں کھنڈنے لگی تھیں۔ ثریا اسے ٹوکتی پھر تشویش بھی ظاہر کرتی آخر میں یہ بھی کہتی کہ اس کے سسرال والے کیا کہیں گے کہ ماں نے کھانے پینے کو نہیں دیا۔ پھر پوچھتی۔
’’محسن کے لیے اداس ہو۔ اس کا فون آتا ہے۔ وہ تمہیں اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گیا۔‘‘ وہ جواب دیتے دیتے تنگ پڑنے لگتی۔ اس وقت ثریا ایسے ہی سوال وجواب کررہی تھی کہ اس کا موبائل فون بجنے لگا۔ وہ شکر کرتے ہوئے ثریا کے پاس سے اٹھ گئی۔
’’محسن کا فون ہے۔‘‘ وہ ثریا پر ظاہر کرتے ہوئے کمرے سے نکل کر ٹیرس پر آبیٹھی تب کال ریسیو کرتے ہی پوچھنے لگی۔
’’مونی کا پتا چلا احسن بھائی۔‘‘
’’مجھے تو تمہارا بھی پتا نہیں چل رہا۔‘‘ احسن شاکی ہورہے تھے۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’تم سب نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ امی مونی تم۔ مجھے بتائو میں کہاں جائوں۔‘‘ احسن نے کہا تو وہ ٹھہر کر بولی۔
’’آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے ساتھ تانیہ ہے تایا ابو ہیں۔ خیر آپ مجھے مونی کا بتائیں۔‘‘
’’کیا بتائوں۔ اپنی سی ساری کوشش کرچکا ہوں۔ اشتہار بھی لگوا دیا۔ پولیس میں بھی رپورٹ درج کروا دی اور بتائو کیا کروں۔ جانے کس بات کا بدلہ لیا ہے مونی نے مجھ سے۔ جیتے جی مار ڈالا مجھے۔‘‘ وہ اونچا پورا مرد رونے لگا تھا۔
’’احسن بھائی۔‘‘ وہ پریشان ہوگئی۔
’’کاش امی کی طرح وہ بھی مرجاتا تو صبر کرلیتے ہم۔‘‘
’’خدا کے لیے احسن بھائی۔‘‘ اس کے آنسو روانی سے جھلک گئے۔ سیل فون آف کرکے گھٹنوں پر پیشانی رکھ لی اور کتنی دیر بے آواز آنسوئوں سے روتی رہی۔ پھر پہلے صبا کو کال کرکے آنے کو کہا اس کے بعد منہ ہاتھ دھوکر زبردستی خود کو کچن میں مصروف کرلیا۔ ثریا منع کرتی رہ گئی لیکن اس نے ایک نہیں سنی کھانا تیار کریا اور صبا کے آنے پر لگا بھی دیا۔
صبا اسے دیکھتے ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ روتی رہی ہے لیکن ثریا کے سامنے ٹوکا نہیں کھانے کے دوران ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی۔ پھر جب ثریا ظہر کی نماز میں مصروف ہوئی تب اس نے نشا کو گھیرا۔
’’ہاں اب بتائو کیا معاملہ ہے۔ محسن کے لیے پریشان ہورہی ہو۔ یہ تو بتائو محسن گھر سے گیا کیوں۔ کوئی جھگڑا ہوا تھا۔ تم سے یا گھر میں کسی سے۔‘‘
’’نہیں اس وقت تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ہاں تائی امی سے شاید کوئی ایسی بات ہوئی ہوگی جب ہی تو کندن بتا رہی تھی وہ بہت ڈسٹرب تھا۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے بتایا تو صبا پوچھنے لگی۔
’’یہ کندن کون ہے؟‘‘
’’پتا نہیں۔ میرا مطلب ہے وہ۔‘‘ نشا نے وہ ساری باتیں جو کندن نے اپنے اور محسن کے بارے میں کی تھیں سب دہرا دیں تو صبا جو بہت توجہ سے سن رہی تھی پوچھنے لگی۔
’’تم نے پھر اس لڑکی سے رابطہ کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’نمبر ہے تمہارے پاس اس کا۔‘‘ صبا اس وقت کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتی تھی مونی کے سیل فون میں ہوگا۔
’’لے کر آئو۔‘‘ صبا کا ذہن اس گتھی کے تانے بانے بننے لگا تھا۔ وہ اٹھ کر محسن کا سیل فون اٹھا لائی اور اسے تھما کر بیٹھنے لگی تھی کہ صبا نے روک دیا۔
’’بیٹھو مت اپنا حلیہ ٹھیک کرکے آئو۔‘‘ اس نے خود کو دیکھا۔ دو دن سے یہی کپڑے پہنے ہوئی تھی۔ اورکچن میں کام کرنے کی وجہ سے شاید لہسن پیاز کی مہک صبا کو ناگوار گزر رہی ہوگی۔ اسی خیال سے وہ واپس پلٹ آئی اور باقاعدہ شاور لے کر نکلی تو صبا ثریا سے کہہ رہی تھی۔
’’امی ہم دونوں ذرا باہر جارہی ہیں۔‘‘
’’بیٹا اسے ڈاکٹر کو دکھائو۔ اتنی کمزور ہورہی ہے۔‘‘ ثریا نے اسے دیکھ کر کہا تو وہ بالوں میں برش کرتے ہوئے بولی۔
’’وہم ہوگیا ہے آپ کو تو۔‘‘
’’کوئی وہم نہیں چلو تمہارا چیک اپ کرا دوں گی۔‘‘ صبا نے کہنے کے ساتھ آنکھوں سے اسے خاموش رہنے کا اشارہ بھی کیا پھر ثریا سے پوچھنے لگی۔
’’امی آپ کو کچھ منگوانا ہے؟‘‘
’’نہیں بیٹا۔ بس تم دونوں زیادہ دیر مت کرنا۔ جلدی آجانا۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔ ویسے اگر دیر ہوجائے تو پریشان مت ہوئیے گا۔ چلو نشا۔‘‘ صبا نے اس کے ہاتھ سے برش لے کر ڈریسنگ ٹیبل پر پھینکا پھر ثریا کو خدا حافظ کہہ کر دونوں باہر نکل آئیں۔
’’اتنی سڑی گرمی میں باہر جانے کی کیا تک ہے۔ ہم وہیں گھر بیٹھ کر باتیں کرسکتی تھیں۔‘‘ نشا نے دھوپ کی شدت محسوس کرتے ہوئے کہا تو صبا نے بلیک شیشے چڑھا کر اے سی آن کردیا۔ پھر خود ہی کہنے لگی۔
’’میری کندن سے بات ہوئی ہے ابھی ہم اسی کے پاس جارہے ہیں۔‘‘
’’کندن نے مونی کے بارے میں کچھ بتایا۔‘‘ وہ یک دم بے قرار ہوگئی۔
’’نہیں فون پر زیادہ بات نہیں ہوسکتی تھی۔ اب ہم جاہی رہے ہیں تو سب پتا چل جائے گا۔‘‘ صبا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا پھر کہنے لگی۔
’’تم پلیز خود پر قابو رکھو۔ اگر نہیں رکھ سکتیں تو کندن کے سامنے خاموش ہی رہنا میں بات کرلوں گی اس سے۔‘‘
’’ہاں تم ہی بات کرنا۔‘‘ وہ فوراً مان گئی کیونکہ جانتی تھی کہ اسے خود پر اختیار نہیں رہتا۔
’’اور رونا دھونا بھی نہیں۔‘‘ صبا نے پھر کہا تو وہ روٹھی نظر اس پر ڈال کر منہ موڑ کر بیٹھ گئی۔ صبا نے کنکھیوں سے اسے دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں اور جب مطلوبہ ایڈریس پر گاڑی روکی تب بھی اسی قدر کہا۔
’’چلو اترو۔‘‘ وہ خاموشی سے اتر گئی۔
صبا نے بیل کا بٹن پش کیا اور ملازم کی آمد پرکندن کا پوچھا تو اس نے پورا گیٹ کھول دیا۔ صبا اس کا ہاتھ پکڑ کر ملازم کی تقلید میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوکر رک گئی۔
’’آپ بیٹھیں۔ کندن بی بی آتی ہیں۔‘‘ ملازم کہہ کر چلا گیا تو صبا اسی طرح نشا کا ہاتھ تھامے ہوئے بیٹھ گئی اور ابھی اس نے کمرے پر طائرانہ نظر ڈالی تھی کہ کندن آگئی۔
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔ میں صبا ہوں اور یہ نشا۔‘‘ صبا نے فوراً تعارف بھی کرا ڈالا تو کندن ہنس کر بولی۔
’’آپ نہ بھی بتائیں تب بھی میں پہچان لیتی۔ آئی مین نشا کو۔‘‘
’’کیسے… کیا آپ پہلے اس سے ملی ہیں؟‘‘ صبا اب کسی بات کو سرسری نہیں لینا چاہتی تھی۔
’’نہیں محسن نے اتنا ذکر کیا اس کا کہ…‘‘ کندن نے کندھے اچکا کر جیسے بات پوری کی۔
’’محسن آپ کے پاس کیسے آیا تھا؟‘‘ صبا کے ذہن میں بے شمار سوال تھے۔
’’وہ میرے پاس نہیں آیا تھا میں اسے لے کر آئی تھی۔ ٹھہریں میں آپ کو شروع سے بتاتی ہوں…‘‘ اور کندن اس وقت سے شروع ہوئی جب محسن سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔ ٹوٹا ہوا مایوس تنہا‘ پھر اس نے ہر بات کہہ دی۔ وہ ساری باتیں جو محسن نے کی تھیں۔ نشا اور احسن کی محبت جس سے آگاہی نے ہی اسے توڑ دیا تھا۔
’’نشا اور احسن۔‘‘ صبا سناٹے میں آگئی اور نشا کے تو بدن سے جیسے سارا لہو نچڑ گیا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس منظر سے غائب ہوجائے۔ ساتھ بٹیھی صبا اس کی طرف متوجہ نہیں تھی لیکن اسے ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے اس کا روم روم پوچھ رہا ہو۔ کیا کیا چھپائو گی۔
’’وہ نشا کے عشق میں پاگل ہورہا تھا۔‘‘ کندن کہے جارہی تھی۔ ’’اور وہ اس سے شرمسار بھی تھا۔ کہہ رہا تھا اسے نشا کا سامنا کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کیا سوچتی ہوگی وہ کہ اس کے ماں باپ نے اسے پالنے کا خراج وصول کرلیا اپنے بیمار بیٹے کے ساتھ بیاہ کر۔‘‘
’’ہاں میں ایسا سوچتی تھی لیکن…‘‘ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ نشا ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ صبا نے اسے دیکھا ضرور لیکن ٹوکا نہیں۔
’’اس کا رشتوں پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا۔‘‘ کندن ایک نظر روتی ہوئی نشا پر ڈال کر صبا کو بتانے لگی۔ ’’ زیادہ اپنے ماں باپ سے شاکی تھا اور شاید اپنی ماں سے الجھ کر ہی وہ گھر سے نکلا تھا۔‘‘
’’تائی امی۔‘‘ نشا ایک دم ہاتھ نیچے گرا کر کندن کو دیکھنے لگی تو وہ ذرا سا اثبات میں سر ہلا کر کہنے لگی۔
’’ایسا ہی تھا مجھے اس کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا۔ بہرحال وہ بہت نائس لڑکا ہے اور بہت حساس۔ نشا وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے اور دیکھنا وہ زیادہ دن تم سے دور نہیں رہ سکے گا۔‘‘
’’دن… یہاں تو صدیاں بیت گئیں۔‘‘ نشا کی آواز آنسوئوں میں ڈوبی ہوئی تھی صبا نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
’’میں نے محسن سے یہی کہا تھا کہ ممکن ہی نہیں کہ جس آگ میں تم جلتے ہو اس سے نشا محفوظ ہو۔ وہ بھی ایسے ہی تڑپ رہا تھا کاش میں لکھاری ہوتی تو تم دونوں کی داستان رقم کرتی۔‘‘ کندن کی آخری بات پر نشا ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’چلو صبا۔‘‘
’’ارے میں نے تم لوگوں کی خاطر تواضع تو کی نہیں۔‘‘ کندن ایک دم احساس کرکے شرمندہ سی ہوگئی۔ ایک منٹ میں ابھی۔
’’نو تھینکس۔ ہم نے پہلے ہی آپ کا بہت وقت لے لیا۔‘‘ صبا اپنے ہاتھ پر نشا کی مضبوط ہوتی گرفت کا اشارہ سمجھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میں آپ سے پھر بھی ملنا چاہوں گی بلکہ بار بار۔‘‘ کندن نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو صبا نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
ز…ز…ز…ز
ڈھلتی دوپہر کے منظر میں عجیب سی کشش تھی۔ صبا کی نظریں گلاس وال سے پرے کسی نادیدہ نقطے پر جمی تھیں۔ کندن کے گھر سے نکلتے ہی وہ بالکل خاموش ہوگئی تھی۔ تمام راستہ اسی خاموشی کی نذر ہوگیا اور ابھی بھی وہ ہونٹ سیے بیٹھی تھی۔ نشا جانتی تھی وہ کیا سوچ رہی ہے اور اسے ٹوکنے میں اسے اپنی ساری ہمتیں یکجا کرنی پڑی تھیں۔
’’صبا کچھ بولو ناں۔‘‘
’’دیکھو۔ اس وقت سورج کی کرنوں میں کیا سنہرا پن اتر آیا ہے۔‘‘ صبا نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا تو اس نے زچ ہوکر صبا کا ہاتھ کھینچا۔
’’صبا پلیز۔‘‘
’’کیا پلیز۔‘‘ صبا ایک دم اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ جارحانہ انداز تھا۔ ’’کیا سمجھتی ہو تم مجھے۔ میں نے اول روز تم پر اپنا آپ عیاں کردیا تھا پھر تم کیوں ابھی تک بکل مارے بیٹھی ہو۔ کیوں نہیں بتایا مجھے کہ تم اور احسن اور یہ کہ تمہارے ساتھ زبردستی ہوئی بولو۔ ایسے ہی کسی دن کوئی اور انکشاف ہوگا مجھ پر وہ بھی کسی اور کے ذریعے سے۔‘‘
’’بس کرو صبا۔‘‘ وہ تنگ پڑنے لگی تو صبا نے ناراضگی سے منہ موڑ لیا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر دھیرے دھیرے بولنا شروع ہوئی تو اپنی کتاب زندگی کا ایک ایک ورق اس کے سامنے کھول دیا۔ جس پر اب اسے کوئی ملال نہیں تھا بلکہ مثبت انداز میں کہہ رہی تھی۔
’’اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا صبا کہ مجھے اس گھر میں محبتیں شفقتیں سب ملی ہیں۔ صرف ضرورت ہی نہیں خواہشات بھی پوری کی گئی ہیں۔ پھر اگر تایا ابو اور تائی امی نے یہ سوچ کر محسن سے میری شادی کی کہ مجھ سے بہتر اس کا خیال کوئی نہیں کرسکے گا تو انہوں نے غلط نہیں سوچا۔ نہ ہی ان کا فیصلہ غلط تھا۔ وقتی طور پر مجھے تکلیف ضرور ہوئی اور اس کا بدلہ میں نے محسن سے بھی لیا جس پر اب مجھے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے بے ضرر تھا۔ بہرحال وہ میری نادانی کی غلطیاں تھیں اللہ مجھے معاف کرے اور مجھے میرے مونی سے ملادے۔‘‘ وہ خاموش ہوگئی تب بھی صبا چپ چاپ اسے دیکھنے لگی تو اچانک یاد آنے پر وہ کہنے لگی۔
’’اور ہاں میں امی کے پاس اس لیے آگئی ہوں کہ میری وجہ سے تانیہ بھابی کی لائف ڈسٹرب ہورہی تھی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ صبا نے اس تمام عرصے میں پہلی بار لب کھولے تھے۔
’’ایسے کہ ان کی نئی شادی ہے اور آئے دن انہیں یہ سب دیکھنا پڑ رہا ہے۔ مونی ہاسپٹل ایڈمٹ ہوتا تو ظاہر ہے احسن بھائی کی ساری توجہ اس کی طرف منتقل ہوجاتی تھی۔ ایسے میں تانیہ بھابی گو کہ کہتی کچھ نہیں تھیں لیکن محسوس تو کرتی ہوں گی پھر اب تائی امی کا انتقال اور مونی کا چلے جانا۔ پتا ہے اس روز احسن بھائی کہہ رہے تھے کہ اگر امی کی طرح مونی بھی مر جاتا تو وہ صبر کرلیتے۔ پھر وہ رو رہے تھے۔ اس سے تم اندازہ کرلو کہ وہ کتنے ڈسٹرب ہیں۔ مجھ دیکھ کر زیادہ پریشان ہوتے تھے۔ کھانے پر زبردستی اپنے ساتھ بٹھاتے۔ یوں غیر ارادی طور پر تانیہ بھابی نظر انداز ہوجاتی تھیں۔ تب میں نے محسوس کیا کہ انہیں یہ سب اچھا نہیں لگتا۔ یوں میں امی کے پاس چلی آئی میں نے ٹھیک کیا ناں۔‘‘ آخر میں اس نے تصدیق چاہی تو صبا نے یونہی اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر گہری سانس کھینچ کر تلخی سے بولی۔
’’بہرحال یہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے اس کا ذمہ دار ہمارا باپ ہے۔‘‘
’’باپ…‘‘ نشا کو اس کا باپ کہنا ہضم نہیں ہوا تھا۔
’’ہاں باپ۔ صرف میں اور تم ہی نہیں مریم جو ان کے ساتھ رہتی ہے وہ بھی ان کی توجہ سے محروم ہے۔ اس شخص کو پتا ہی نہیں کہ اس کی بیٹی کہاں ہے کس کے ساتھ ہے۔ یہ تو شکر ہے کہ ہماری رگوں میں ہماری مائوں کا خون جوش مارتا ہے ورنہ ہم بھی باپ کے راستے پر چل نکلتیں۔‘‘
’’اچھا بس کرو۔‘‘ نشا نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا تو وہ سر جھٹک کر بولی۔
’’یہ تمہارا ظرف ہے نشا کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی تم ہر شخص کو بری ذمہ قرار دے رہی ہو۔ حیرت ہورہی ہے مجھے تمہیں امی کی گود نہیں ملی پھر بھی ان ہی کی طرح سوچتی ہو۔‘‘
’’امی… ارے امی نے کہا بھی تھا جلدی آنا۔ چلو باقی باتیں گھر چل کر۔‘‘ نشا اٹھ کھڑی ہوئی تو اسے بھی اٹھنا پڑا لیکن مزید باتوں کے لیے وہ رکی نہیں نشا کو ڈراپ کرکے گھر آگئی کیونکہ نہ سمجھ میں آنے والی کیفیت میں گھر گئی تھی۔ دل پر بوجھ بھی محسوس ہورہا تھا۔ لیونگ روم میں ہی بیٹھ کر وہ پیروں کو سینڈل کی قید سے آزاد کررہی تھی کہ بنٹی کے کمرے سے آتی باتوں کی آواز سن کر چونک گئی۔ اسے پہلا خیال خان جمشید کا آیا تو اس نے پھر کچھ سوچا ہی نہیں فوراً اٹھی اور تیزی سے جاکر بنٹی کے کمرے کا دروازہ کھولا تو آگے آصف جاہ کو دیکھ کر وہ کچھ بول نہیں سکی۔
’’آداب…‘‘ آصف جاہ نے ہاتھ سے آداب کا اشارہ کیا وہ اس پر سے نظریں ہٹا کر بنٹی سے مخاطب ہوئی۔
’’کیا ہورہا ہے بنٹی۔ کھانا کھا لیا تھا تم نے؟‘‘
’’جی…‘‘ بنٹی کے مختصر جواب پر وہ یونہی سر ہلا کر واپس پلٹ آئی اور اب اپنے کمرے میں جارہی تھی کہ عقب سے آصف جاہ نے پکارا۔
’’ایکسکیوز می میم۔‘‘ اس نے رک کر سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ پوچھنے لگا۔
’’آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘
’’کیوں مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ اس کی پیشانی پر ہلکی سی لکیر کھچ گئی۔
’’یہی میں جاننا چاہ رہا ہوں آپ بہت ڈل لگ رہی ہیں اور اپ سیٹ بھی۔‘‘ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا صبا کو حیرت ہوئی کہ اس نے ایک نظر میں کیسے اسے نوٹس کرلیا لیکن حیرت چھپانے کو ذرا سا ہنس کر اسی قدر بولی۔
’’اچھا…!‘‘
’’اینی پرابلم۔‘‘ وہ اب بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
’’نو…نو پرابلم…‘‘ وہ کہہ کر جانے لگی تھی کہ آصف جاہ فوراً بولا۔
’’مسز صبا۔ آپ کتنی بھی کوشش کرلیں خود کو چھپا نہیں سکتیں۔ آپ کی آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں۔‘‘ اس کے دل پر تھاپ پڑی تھی فوراً پلٹ کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔
ز…ز…ز…ز
راحیلہ خاتون نے کھانا کھاتے ہوئے پہلے کنکھیوں سے سب کا جائزہ لیا پھر چاول کی ڈش اٹھاتے ہوئے بظاہر نارمل انداز میں بولی۔
’’میں چاہ رہی ہوں سلیم احمد کہ نگار اور جاذب کی شادی ایک ساتھ ہوجائے۔‘‘
’’ہیں…!‘‘ سلیم احمد نے کھانے سے ہاتھ روک کر انہیں پھر نگار اور جاذب کو دیکھا نگار بدستور کھانے میں مصروف رہی جب کہ جاذب نے انہی کی طرح ہاتھ روک لیا تھا۔
’’ڈبل خرچے سے بھی بچ جائیں گے۔‘‘ راحیلہ خاتون اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگیں۔
’’جاذب کی بھی اب عمر ہوگئی ہے شادی کی۔ اچھا ہے دونوں کی ساتھ ہوجائے… کیوں؟‘‘
’’بالکل…‘‘ سلیم احمد نے ان کے دیکھنے پر فوراً تائید کی پھر کہنے لگے۔ ’’بس تو فٹافٹ لڑکی ڈھونڈو جاذب کے لیے۔‘‘
’’ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اپنی صبا ہے ناں۔‘‘ راحیلہ خاتون نے اتنے استحقاق سے صبا کا نام لیا کہ سلیم احمد اور جاذب دنگ رہے گئے۔
’’تمہارا مطلب ہے صبا میری بھانجی۔‘‘ سلیم احمد نے اس خیال سے پوچھا کہ شاید ان کی نظر میں کوئی اور صبا ہو۔
’’ہاں میں آپ کی بھانجی صبا ہی کی بات کررہی ہوں۔‘‘ راحیلہ خاتون نے پہلے اپنے مخصوص تیوروں سے انہیں دیکھا جس سے وہ خائف ہوجاتے تھے پھر پنترا بدل کر کہنے لگیں۔
’’مجھے تو اس پر بہت ترس آتا ہے ابھی بے چاری کی عمر ہی کیا ہے اب اگر ہم خیال نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔‘‘
’’ہاں لیکن جاذب سے تو پوچھ لو۔‘‘ سلیم احمد نے گم صم بیٹھے جاذب کو دیکھ کر کہا تو وہ چمک کر بولیں۔
’’اس سے کیا پوچھوں یہ کیا میری بات سے انکار کرے گا۔‘‘
’’کرتا تو نہیں ہے لیکن۔‘‘
’’جب نہیں کرتا تو پھر لیکن کا کیا سوال۔‘‘ راحیلہ خاتون سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئیں تو سلیم احمد ان کی پلیٹ دیکھ کر بولے۔
’’بیگم کھانا تو کھالو۔‘‘
’’بس کھا لیا۔‘‘ وہ کہہ کر ڈائننگ روم سے نکل کر لائونج میں آبیٹھیں اور جب جاذب کو کمرے میں جاتے دیکھا تو اس کے پیچھے چلی آئیں۔
’’جازی میں نے غلط سوچا کیا؟‘‘ وہ ایسا انداز اختیار کرتیں کہ مقابل انکار کر ہی نہ سکے اور جاذب پر تو وہ شروع سے حاوی تھیں۔
’’نہیں امی آپ نے غلط نہیں سوچا لیکن شاید صبا نہ مانے۔‘‘ جاذب صبا کا رویہ سوچ کر بولا تھا۔
’’کیوں صبا کیوں نہیں مانے گی۔ ارے آج کل کنواری لڑکیوں کو رشتے نہیں ملتے۔ وہ تو بیوہ ہے اور ساری عمر یونہی تو نہیں بیٹھی رہے گی۔‘‘ راحیلہ خاتون اپنے حساب سے سوچ رہی تھیں۔
’’ہوں…‘‘ جاذب کا انداز سوچتا ہوا تھا۔
’’تمہیں تو اعتراض نہیں ہے ناں؟‘‘ راحیلہ خاتون اسے سوچنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں فوراً پوچھا تو وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔
’’میں تمہاری مرضی پوچھ رہی ہوں۔ تمہیں تو صبا سے شادی پر اعتراض نہیں ہے؟‘‘ راحیلہ خاتون اس کی مرضی بھی تحکم سے پوچھ رہی تھیں۔
’’نہیں۔ جیسا آپ کو مناسب لگے۔‘‘ یہی بات اگر وہ پہلے کہتیں تو وہ کتنا خوش ہوتا اب بجھا بجھا سا انداز تھا۔ راحیلہ خاتون محسوس کرنے کے باوجود خوش ہوگئیں۔
’’میں ابھی تمہارے ابو کے ساتھ جاتی ہوں ثریا کے پاس۔‘‘ انہوں نے دیر نہیں کی نہ اسے مزید کچھ بولنے کا موقع دیا اور اسی وقت سلیم احمد کے ساتھ نکل پڑیں۔
ثریا بھاوج کے ساتھ بھائی کو دیکھ کر خوش ہوگئی۔ ورنہ تو راحیلہ خاتون اکیلی یا کبھی نگار کو ساتھ لے آتیں۔ ثریا بھائی سے ملنے کو ترس گئی تھی۔ جب ہی اب ان کے سامنے بچھی جارہی تھی۔
’’بھائی آپ تو آتے ہی نہیں۔‘‘ ثریا نے محبت بھرا شکوہ کیا تو ان سے پہلے راحیلہ خاتون بول پڑیں۔
’’یاد بہت کرتے ہیں تمہیں روز کہتے ہیں چلنا ہے پھر کوئی نہ کوئی کام آجاتا ہے۔ تم ہی آجایا کرو۔‘‘
’’جی آئوں گی۔‘‘ ثریا نے کہا تب ہی نشا نے آکر سلام کیا تو راحیلہ خاتون اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
’’نشا آئی ہوئی ہے کتنی کمزور ہوگئی ہے خیر تو ہے۔‘‘
’’ہاں ساجدہ بھابی کا دل کو لگالیا ہے اس نے۔‘‘
’’ارے ہاں افسوس ہوا تمہاری ساس کا۔ تمہاری تو ماں جیسی تھیں۔ بس بیٹا اللہ کی مرضی۔‘‘ راحیلہ خاتون نشا کو دلاسا دے کر ثریا سے پوچھنے لگیں۔
’’صبا کیسی ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہے اللہ کا شکر ہے۔‘‘
’’بھئی اس وقت تو تمہارے بھائی صبا ہی کے لیے آئے ہیں۔‘‘ راحیلہ خاتون نے کمال ہوشیاری سے اپنا دامن بچا کر سلیم احمد کو آگے کردیا تھا۔
’’صبا تو اپنے گھر ہوتی ہے بھائی۔‘‘ ثریا بالکل نہیں سمجھی تھی۔
’’لیکن یہ ڈائریکٹ اس سے تو بات نہیں کرسکتے۔ اس لیے تمہارے پاس آئے ہیں۔‘‘ راحیلہ خاتون نے کہتے ہوئے یوں ٹانگ پر ٹانگ جمائی جیسے احسان کرنے آئی ہوں۔
’’کیا بات؟‘‘ ثریا سلیم احمد کو دیکھنے لگی تو انہوں نے پہلے کھنکھار کر گلا صاف کیا پھر کہنے لگے۔
’’ہونا تو یہ پہلے چاہئے تھا لیکن شاید اللہ کو اسی طرح منظور تھا میں جاذب کے لیے سوالی بن کر آیا ہوں۔‘‘
’’بھا…‘‘ ثریا کے ہونٹ نیم وا ہوکر رہ گئے۔ وہ ماں تھی اس کے لیے یہ خوش آئند بات تھی کہ اس کی بیوہ بیٹی کے لیے کوئی سوال کررہا تھا۔ راحیلہ خاتون اس کی اندرونی خوشی بھانپ کر کہنے لگیں۔
’’تقدیر کا لکھا ہوکر رہتا ہے۔ اب دیکھو ناں صبا کی قسمت میں یہ سب لکھا تھا جب ہی اس وقت میری عقل پر پردے پڑگئے تھے ورنہ آج جاذب اور صبا ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔‘‘
’’بالکل…‘‘ سلیم احمد نے تائید کی تو ثریا چونک کر نشا سے بولی۔
’’بیٹا چائے ٹھنڈا۔‘‘
’’جی امی…‘‘ نشا اٹھ کر چلی گئی تو سلیم احمد پوچھنے لگے۔
’’تمہارا کیا خیال ہے ثریا؟‘‘
’’میرے لیے تو خوشی کی بات ہے بھائی لیکن میں اپنے طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی۔ صبا سے بات کروں گی۔‘‘ ثریا نے کہا تو راحیلہ خاتون جتانے سے باز نہیں آئیں۔
’’ہاں ظاہر ہے صبا اب کوئی لڑکی تو ہے نہیں جو تمہاری مرضی پر سر جھکادے گی۔ اس سے ضرور پوچھو بلکہ سمجھانا بھی۔ پہاڑ جیسی زندگی ایسے نہیں گزرتی۔‘‘
’’جی…‘‘ ثریا خاموش ہوگئی تھی تب راحیلہ خاتون نے ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیں۔
ز…ز…ز…ز
محسن کو گئے تین مہینے سے زیادہ ہوگئے تھے۔ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔ جلال احمد کے لیے دہرا صدمہ تھا۔ نیک سمجھ دار شریک حیات کا داغ رفاقت دے جانا پھر جوان بیٹا جو انہیں انتظار کی صلیب پر چڑھا گیا تھا۔
’’جانے کہاں ہوگا۔ کھاتا پیتا کہاں سے ہوگا۔ سوتا کہاں ہوگا۔ وہ تو اس قابل نہیں کہ محنت مزدوری کرکے پیٹ پال سکے۔‘‘ جلال احمد اس وقت باقاعدہ رونے لگے تھے۔
’’ابو پلیز…‘‘ احسن انہیں ٹوک کر کہنے لگے۔ ’’مجھے اب مونی پر غصہ آتا ہے اسے کوئی حق نہیں تھا ہمیں اس طرح پریشان کرنے کا۔‘‘
’’وہ اپنے بس میں نہیں تھا۔‘‘
’’کیسے بس میں نہیں تھا۔ خدانخواستہ ذہنی معذور نہیں ہے وہ ہر بات سمجھتا ہے۔ ہماری طرف سے اگر اسے کوئی تکلیف پہنچی تھی تو بات کرتا ہم سے۔ ایسے کیسے چلا گیا۔‘‘ ہر طرف سے مایوسی کے بعد احسن کا غصہ بجا تھا۔
’’تم نے نشاء سے پوچھا۔‘‘ جلال احمد کو ان کی بات سے اچانک کوئی سرا ملا تھا۔
’’نشاء سے کیا پوچھوں؟‘‘ احسن انہیں دیکھنے لگے۔
’’یہی کہ اس کے ساتھ تو جھگڑا نہیں ہوا تھا مونی کا۔‘‘
’’نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘ احسن نے فوراً ان کی بات رد کی تو انہیں غصہ آگیا۔
’’تم اپنی طرف سے کیسے کہہ رہے ہو۔ پوچھو نشاء سے اور کیسے بے فکر ہوکر ماں کے گھر بیٹھ گئی ہے۔ لائو فون ملائو میں بات کرتا ہوں اس سے۔‘‘ جلال احمد کے غصے سے عاجز ہوکر احسن اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’نہیں آپ رہنے دیں میں ابھی تانیہ کے ساتھ ادھر ہی جارہا ہوں پوچھ لوں گا اس سے۔‘‘
’’اور اسے ساتھ لے کر آنا۔ بہت دن رہ لیا اس نے ماں کے پاس۔‘‘ جلال احمد ناراضی سے بول رہے تھے۔ احسن مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرکے ان کے کمرے سے نکل آئے اور جب تانیہ سے نشا کے پاس چلنے کو کہا تو وہ ٹال مٹول کرنے لگی تو انہیں پھر غصہ آگیا۔
’’کیا مسئلہ ہے ادھر ابو پریشان کررہے ہیں ادھر تم۔‘‘
’’ابو… ابو کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ تانیہ نے چونک کر پوچھا۔
’’وہ کہہ رہے ہیں نشا کو لے آئو۔‘‘ انہوں نے بتایا تو تانیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’کیوں؟‘‘
’’اب تم سوال جواب شروع کردو۔ یہ بتائو چلنا ہے کہ نہیں۔‘‘ انہوں نے جھنجھلا کر پوچھا۔
’’چلیں…‘‘ تانیہ کچھ سوچ کر تیار ہوگئی تو انہوں نے چلتے ہوئے اسے سمجھا دیا تھا کہ نشا کی امی کو محسن کی گمشدگی کا علم نہیں ہے انہیں نشا نے یہی بتایا ہے کہ مونی باہر گیا ہوا ہے۔ بہرحال تانیہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا بلکہ یہ بات اسے اپنے حق میں غنیمت لگی کہ اس کی خاموشی کو احسن احتیاط سے معمور کررہے تھے ثریا کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر اٹھ گئی تب احسن نشا پر بگڑنے لگے۔
’’یہ کیا روگ لگا لیا ہے تم نے خود کو۔ مرا نہیں ہے مونی آجائے گا۔‘‘ نشا اپنے آنسو ضبط کرنے کی سعی میں کچھ بول نہیں سکی۔
’’اور اب تم گھر چلو۔ یہاں آنٹی کو بھی پریشان کررہی ہو۔ ادھر ابو الگ تمہارے لیے فکر مند ہیں۔‘‘
’’نہیں احسن بھائی جب تک محسن نہیں آجاتے میں یہیں رہوں گی۔‘‘ اس نے کہا تو تانیہ بول پڑی۔
’’ٹھیک تو ہے۔ یہاں آنٹی اس کے ساتھ ہیں گھر میں اکیلی یہ زیادہ پریشان ہوتی ہے۔‘‘
’’پریشانی مسئلے کا حل نہیں ہے نشا دعاکرو اللہ اسے گھر کا راستہ دکھائے۔ انتہائی نامعقول حرکت کی ہے مونی نے۔ ایک بار مل جائے دیکھنا میں اس کا کیا حشر کرتا ہوں۔‘‘ احسن پھر غصے میں آکر محسن کو سخت سست کہنے لگے تو تانیہ ٹوک کر بولی۔
’’بس کرو احسن۔ نشا کو برا لگ سکتا ہے آخر اس کا شوہر ہے۔‘‘
’’میں چائے لاتی ہوں۔‘‘ نشا اٹھی تو احسن بھی کھڑے ہوگئے۔
’’نہیں رہنے دو۔ یہ بتائو گھر کب آئوگی؟‘‘
’’کہا ناں جب محسن آئیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب اسی کے ساتھ ہی آنا۔ چلو تانیہ۔‘‘ احسن ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے تانیہ کے ساتھ نکل گئے۔
ز…ز…ز…ز
صبا‘ نشا کی طرف سے بہت پریشان تھی۔ سمجھ نہیں آتا تھا وہ اس کے لیے کیا کرے۔ کہاں سے محسن کو ڈھونڈ لائے۔ جس کی دوری نشا کے لیے ایسا روگ بن گئی تھی جو دیمک کی طرح اس کے وجود کو کھوکھلا کررہی تھی۔ اس دن کے بعد وہ نشا سے نہیں ملی تھی۔ بس فون پر ثریا سے اس کی خیریت معلوم کرتی تو وہ بھی نشا کی صحت کی طرف سے تشویش ظاہر کرتی۔ اب وہ کیا بتاتی کہ اس کا علاج ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ ثریا کو تسلی دیتی پھر خود محسن کی تلاش میں نکل جاتی۔ مختلف شاہراہوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے وہ ایک ایک چہرے کو غور سے دیکھتی۔ اس وقت بھی وہ یہی کررہی تھی کہ دور سے جاذب کو کھڑے دیکھ کر اس نے گاڑی اس کے قریب لے جا کر روکی اور شیشہ گرا کر اسے متوجہ کرکے پوچھا۔
’’ہیلو… خیریت؟‘‘
’’ہاں وہ گاڑی میں کچھ پرابلم ہوگئی ہے۔‘‘ جاذب نے بتایا تو وہ انگوٹھے سے اپنے برابر اشارا کرکے بولی۔
’’چلو میں ڈراپ کردوں گی۔‘‘
’’تم کس طرف جارہی ہو؟‘‘ جاذب نے گاڑی کا رخ مخالف سمت دیکھ کر پوچھا۔
’’کسی طرف بھی جارہی ہوں۔ تمہیں چھوڑدوں گی چلو…‘‘ اس نے سیدھی سادی بات کہی تھی۔ جاذب اپنے حساب سے معنی پہناتے ہوئے چکر کاٹ کر آن بیٹھا تو اس نے اسپیڈ سے گاڑی بڑھا کر راؤنڈ اباؤٹ سے اس کے گھر کے راستے پر ڈال دی پھر اسے دیکھ کر مسکرا کر بولی۔
’’بس اتنی سی بات تھی۔‘‘ جاذب نے مسکرا نے پر ہی اکتفا کیا۔
’’گھر میں سب ٹھیک ہے؟‘‘ اس نے یونہی بات کرنے کی غرض سے پوچھا تو وہ اس کے تاثرات جاننے کے لیے اسے دیکھ کر بولا۔
’’ہاں امی ابو گئے تھے پھوپو کے پاس۔‘‘
’’اچھا…‘‘ اس نے نارمل انداز جاذب کو کھلنے لگا تھا۔
’’تمہیں بتایا تو ہوگا پھوپو نے؟‘‘
’’نہیں میرا کافی دنوں سے امی کی طرف جانا نہیں ہوا۔‘‘ اس کا سارا دھیان راستے پر تھا۔ کیونکہ عرصے بعد اس طرف آئی تھی۔ پھر فلائی اوور بننے سے کچھ کنفیوز بھی ہورہی تھی۔
’’میں ٹھیک جارہی ہوں ناں جاذب؟‘‘ اس نے اچانک پوچھا تو وہ چونک کر بولا۔
’’ہاں بس مجھے یہیں اتار دو۔‘‘
’’یہاں کیوں؟‘‘ اس نے کہہ کر غور سے کہا۔
جاذب مامی جی کے ڈر سے اسے ہمیشہ یہیں اتار دیا کرتا تھا۔ تب ذرا سا ہنس کر بولی۔
’’ابھی بھی ڈرتے ہو۔‘‘
’’نہیں۔ آگے اصل میں روڈ بن رہی ہے۔ تمہیں لمبا ٹرن لینا پڑے گا۔‘‘ جاذب نے خجالت چھپا کر کہا تو اس نے گاڑی روک دی۔
’’تھینک یو… اور ہاں میں تمہارے جواب کا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ وہ کہنے کے ساتھ ہی اتر کر تیز قدموں سے چل پڑا تھا۔
’’میرے جواب کا انتظار…‘‘ وہ کچھ سمجھی نہیں تو کندھے اچکا کر گاڑی ریورس کرنے لگی۔ پھر اچانک اس کا موڈ بن گیا تو وہ گھر جانے کے بجائے ثریا کے پاس آگئی۔
’’یہاں کا راستہ بھول گئی ہو یا کوئی نئی مصروفیت ہاتھ آگئی ہے۔‘‘ ثریا نے چھوٹتے ہی اس سے شکوہ کیا۔
’’نئی مصروفیت کیا ہاتھ آنی ہے اماں جی۔ وہی پرانی روٹین چل رہی ہے۔‘‘ وہ کہنے کے ساتھ ادھر ادھر دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’نشاء کہاں ہے؟‘‘
’’نماز پڑھ رہی ہے۔‘‘
’’ماشاء اﷲ نشاء میرے لیے بھی دعا کرنا۔‘‘ اس نے کمرے میں جھانک کر کہا تو ثریا اس کا ہاتھ کھینچ کر بولی۔
’’کیا کررہی ہو۔ آؤ ادھر بیٹھو۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے ثریا کے ساتھ اس کے کمرے میں آکر بیٹھ گئی۔
’’سنا ہے مامی جی کے ساتھ ماموں جی بھی آئے تھے۔‘‘
’’تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ ثریا نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’ابھی راستے میں جاذب ملا تھا اسی نے بتایا۔‘‘ وہ بے نیازی سے کہہ کر لیٹ گئی۔ ماں کا بستر بھی ماں کی آغوش کی طرح ہوتا ہے سکون ملتا ہے۔‘‘
’’اور کیا بتایا جاذب نے؟‘‘ ثریا نے اس کی بات ان سنی کرکے پوچھا۔
’’اور توکچھ نہیں ہاں جاتے جاتے کہہ رہا تھا میں تمہارے جواب کا انتظار کررہا ہوں۔ ایسا کیوں کہا اس نے۔‘‘ آخری بات اس نے سوچتے انداز میں خود سے کہی تھی۔
’’وہ تمہارے ماموں جی تمہارے لیے اس کا پیغام دے گئے ہیں۔‘‘ ثریا کو بات کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ ’’میرا مطلب ہے شادی کا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ گردن موڑ کر ثریا کو دیکھنے لگی۔
’’ہاں تو یہ کوئی انہونی بات تو نہیں ہے۔ پیغام تو آجائیں گے۔‘‘
’’بالکل آئیں گے۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔‘‘ وہ محفوظ ہوکر ہنسنے لگی۔ ہنستی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اس کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا۔ ثریا کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا اور وہ اندر آتی نشا کو دیکھ کر ہنسی کے درمیان بولی۔
’’سنا تم نے نشا ماموں جی میرے لیے جاذب کا پیغام دے گئے ہیں…ہاہاہا…‘‘
’’صبا…‘‘ ثریا کو غصہ آگیا۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
’’روئی تو میں اس وقت بھی نہیں تھی امی جب وہ کاٹھ کا الو ماموں جی کے سامنے اعتراف کرنے کے بجائے دم دبا کر بھاگ گیا تھا۔‘‘
’’بس بھول جائو پرانی باتیں۔‘‘ ثریا نے فوراً کہا تو وہ تاسف سے سر ہلا کر بولی۔
’’آپ بھول سکتی ہیں۔ نشا بھول سکتی ہے میں نہیں۔‘‘ نشا اپنے نام پر پریشان ہوکر اسے دیکھا لیکن وہ چپ نہیں ہوئی۔
’’ماموں جی بھی بھولے نہیں ہوں گے۔ ثریا میں نے تمہاری بھاوج سے ایک ہفتے کا کہہ دیا ہے تم اپنا انتظام کرلو۔ یہی کہا تھا نا انہوں نے۔ پھر اب کس منہ سے…‘‘
’’تو اس میں جاذب کا کیا قصور…‘‘ ثریا نے شاید راکھ میں دبی کسی چنگاری کو ہوا دینے کی سعی کی تھی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ۔ اس بے چارے کا کیا قصور۔ سارے قصور تو میرے تھے۔‘‘ اس کے لہجے میں تلخی سے زیادہ طنز تھا۔ ’’بہرحال آپ منع کردیں ماموں جی کو مجھے شادی کرنی ہی نہیں ہے۔‘‘
’’غصے اور جذبات میں فیصلے نہیں ہوتے بیٹا۔ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا۔ اتنی لمبی زندگی اکیلے نہیں گزرتی۔ بچے ہوتے تو اور بات تھی۔ مجھے تمہاری فکر رہتی ہے۔‘‘ ثریا نرمی سے سمجھانے لگی تھی کہ آخری بات پر وہ یکلخت ہتھے سے اکھڑ گئی۔
’’میری فکر چھوڑیں امی۔ نشا کی فکر کریں جو نہ جیتی ہے نہ مرتی ہے۔ گھٹ گھٹ کے سچ مچ مر جائے گی کسی دن۔‘‘
’’صبا چپ ہوجائو۔‘‘ نشا نے پریشان ہوکر اس کے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہا لیکن وہ ہاتھ جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کیوں چپ ہوجائوں اور تم کیوں چپ ہو۔ بتائو امی کو تمہارے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے اور کیا ہورہا ہے۔ میں بتاتی ہوں تایا ابو نے اس کی شادی اپنے بیمار بیٹے کے ساتھ کی اور وہ بیمار بیٹا اسے چھوڑ کر چلا گیا…‘‘
’’صبا خدا کے لیے۔‘‘ نشا گڑگڑائی پھر ایک دم سناٹے میں بیٹھی ثریا کے ہاتھ تھام لیے۔
’’امی یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’تو کیا ٹھیک ہے۔‘‘ ثریا نے اسے کندھوں سے جھنجھوڑ ڈالا۔ ’’بتائو کیا ٹھیک ہے کہاں ہے تمہارا شوہر بتائو۔‘‘
’’مجھے پتا نہیں۔‘‘ نشا ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی تو ثریا نے اس کی کلائیاں پکڑیں۔ جارحانہ انداز تھا۔
’’ماں سے راز داری۔ یہی سوچا ہوگا جو اپنے لیے کچھ نہ کرسکی وہ تمہارے لیے کیا کرے گی۔‘‘
’’نہیں نہیں امی۔ میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’پریشانیاں مقدر میں ہوں تو کون ٹال سکتا ہے۔‘‘ ثریا ٹوٹ گئی۔ ’’میں کچھ نہیں کرسکتی میں اپنی بیٹیوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتی۔ میری تو دعائوں میں بھی اثر نہیں ہے۔‘‘
’’امی…!‘‘ دونوں نے دائیں بائیں بیٹھ کر ثریا کو بازوئوں کے حلقے میں لے لیا جو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ کتنی دیر دونوں اسے چپ کرانے کی سعی کرتی رہیں آخر تھک کر صبا اسے تنہا چھوڑنے کا اشارہ کرتے ہوئے نشا کو وہاں سے اٹھا کر لے گئی۔
ز…ز…ز…ز
رات دھیرے دھیرے بھیگ رہی تھی۔ نشا روتے روتے سو گئی تھی لیکن ثریا کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ پلکیں تک نہیں جھپک رہی تھی۔ چھت پر نظریں جمائے پچھلے دو گھنٹے سے وہ ساکت لیٹی تھی۔ اس کے ذہن کی اسکرین پر گزرے ماہ وسال کسی ایسی فلم کی طرح چل رہے تھے جس میں آنسوئوں آہوں اور سسکیوں کے سوا کچھ نہیں تھا اور جو ختم ہونے ہی میں نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ فجر کی اذانیں ہونے لگیں جب قریبی مسجد سے اذان کی آواز گونجی تب ثریا کے سینے سے آہ کی صورت گہری سانس خارج ہوئی جس نے اسے ماضی کی بھول بھلیوں سے نکال کر حال میں لاپٹخا تھا۔ اس نے گردن موڑ کر نشا کو دیکھا وہ گہری نیند میں تھی اور اس کی نیند ٹوٹنے کے خیال سے ثریا نے احتیاط برتی۔ دبے پائوں کمرے سے نکلی وضو کرکے نماز پڑھی پھر چائے بنانے سے پینے تک اس نے بہت کچھ سوچ ڈالا اور نشا کے اٹھنے سے پہلے ہی گھر سے نکل آئی۔ ڈرائیور اتنی صبح اسے دیکھ کر الرٹ تو ہوگیا لیکن متعجب بھی تھا اور زندگی میں پہلی بار اس نے یہ پروا نہیں کی کہ کون کیا سوچے گا کیا کہے گا ڈرائیور کو ایڈریس بتا کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اتنی صبح ٹریفک کا اژدھام نہیں تھا اس لیے دس منٹ میں ہی وہ مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ گئی تھی۔
’’بلال احمد…‘‘ نیم پلیٹ دیکھ کر اس نے زیرلب دہرایا پھر ڈرائیور کو رکنے کا کہہ کر گیٹ پر آئی تو چوکیدار اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’جی بی بی۔‘‘
’’بلال صاحب…‘‘ وہ صرف نام لے کر دوسری طرف دیکھنے لگی تو چوکیدار غالباً اطلاع کرنے کے لیے گیٹ کھول کر اندر گیا تو کھلے گیٹ سے اس نے دیکھا لان میں بلال احمد چائے پینے کے ساتھ اخبار میں مصروف تھے۔ برسوں کے فاصلے لمحوں میں سمٹ گئے اس نے چوکیدار کی واپسی کا انتظار نہیں کیا اور آن کی آن میں ان کے سر پر جا کھڑی ہوئی تھی۔
’’تم…!‘‘ بلال احمد اس وقت صرف حیران ہوسکتے تھے۔
’’گویا مجھے اپنا تعارف کروانے کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی میں صبا اور نشا کی ماں ہوں۔‘‘ اس کے لہجے اور انداز میں حد درجہ ٹھہرائو تھا۔
’’بیٹھو۔‘‘ بلال احمد کو فوری طور پر کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو سامنے چیئر کی طرف اشارہ کیا جسے نظر انداز کرکے وہ کہنے لگی۔
’’شاید تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ میں تمہارے سامنے آسکتی ہوں۔ اور دعا تو میں نے بھی بہت کی تھی بلال احمد کہ کبھی تمہارا سامنا نہ ہو لیکن اب احساس ہورہا ہے کتنے احمق ہیں ہم کہ ناممکنات کو ممکن بنانے میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہمارا ناتا ٹوٹنے والا تھا ٹوٹ گیا لیکن ایک کڑی صبا اور نشا کی صورت جو ہمارے درمیان موجود تھی اسے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی تھی تم بھی نہیں میں بھی نہیں۔ پھر کیوں تم بھاگتے رہے اور میں چھپتی رہی۔‘‘
’’تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ بلال احمد کی پیشانی پر ناگواری کی لکیر ابھری تھی۔
’’مجھے کہنا نہیں پوچھنا ہے بلال احمد کہ میری بیٹی نشا جسے تم نے مجھ سے چھین لیا تھا اس کا کیا کیا؟‘‘ ثریا کو خود پر بہت جبر کرنا پڑ رہا تھا۔
’’کیا… کیا مطلب؟‘‘ بلال احمد نے ٹوکا پھر بھی اس نے ضبط کا دامن نہیں چھوڑا۔
’’مطلب اس کی پرورش تعلیم شادی…‘‘
’’سب سب کیا شادی بھی ہوگئی اس کی۔‘‘ بلال احمد کے جھنجلانے پر اس کے لہجے میں چھبن اتر آئی تھی۔
’’کس سے۔ کس سے کی اس کی شادی؟ اپنے بیمار بھتیجے سے۔ ہمیشہ سے سنتی آئی ہوں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگلی جاتی لیکن تم نے ہمیشہ کی اس کہاوت کو غلط ثابت کردیا کیونکہ تمہیں اپنی شادیوں سے فرصت نہیں تھی۔‘‘
’’جسٹ شپ اپ۔‘‘ بلال احمد تلملا کر چلائے۔
’’نہیں بہت چپ رہ لیا میں نے اب نہیں۔ بتائو کیوں کیا تم نے نشا کے ساتھ ایسا؟‘‘ اس کی آواز بوجھل ہوگئی تھی۔
’’تم کون ہوتی ہو پوچھنے والی۔ تم پہلے اپنے گریبان میں جھانکو تم نے کیا کیا صبا کے ساتھ اتنی سی عمر میں بیوہ ہوگئی۔‘‘ بلال احمد نے آئینے کا رخ اس کی طرف موڑ دیا تو وہ دکھ سے گویا ہوئی۔
’’خدائی کام کو تم مجھ سے کیسے منسوب کرسکتے ہو بلال احمد۔ صبا بیوہ ہوگئی۔ نشا کو تم کیا کہوگے۔ وہ نہ ماں کی طرح مطلقہ ہے نہ بہن کی طرح بیوہ۔ بیچ منجدھار میں کس اذیت میں کھڑی ہے کچھ اندازہ ہے تمہیں۔‘‘
’’ہاں ہے مجھے اندازہ اور میں نے محسن کی تلاش میں…‘‘
’’نہیں دینی مجھے محسن کو اپنی بیٹی۔‘‘ وہ ان کی بات پوری ہونے سے پہلے چیخ پڑی۔
’’تم اپنی تلاش جاری رکھو مل جائے محسن تو اس سے کہنا میری بیٹی کو آزاد کردے۔ ساری زندگی اس بیمار کے ساتھ سسکنے سے بہتر ہے کہ نشا ماں کی طرح مطلقہ ہوکر بیٹھ جائے۔‘‘
’’تم…‘‘ انتہائی غصے میں بلال احمد اس کی طرف بس شہادت کی انگلی اٹھا سکے۔
’’مجھے بس یہی کہنا تھا نشا اب اس گھر میں نہیں جائے گی۔‘‘ وہ فیصلہ کن انداز میں کہہ کر پلٹی اور تیز قدموں سے روش پار کرتی گیٹ سے نکل آئی۔ گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی کہ مریم پکارنے کے ساتھ اس سے لپٹ گئی۔
’’آنٹی… آنٹی مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔‘‘ اس نے ناسمجھنے کے انداز میں مریم کا چہرہ دیکھا تو وہ منت سے بولی۔
’’آنٹی پلیز میں یہاں رہی تو مر جائوں گی۔ مم… میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی۔ خود دیکھ بھال کرلوں گی مجھے یہاں سے لے چلیں۔‘‘ ثریا کو وہ مریم نہیں نشا لگ رہی تھی۔ روتی گڑگڑاتی۔ انتہائی تاسف سے اس نے بلال احمد کے بنگلے پر نظر ڈالی پھر مریم کی پیشانی چوم کر اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھالیا۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ مریم کو اپنے ساتھ لگائے گھر میں داخل ہوئی تو نشا اور صبا پریشان کھڑی تھیں۔ وہ سمجھ گئی نشا نے اسے نہ پاکر صبا کو کال کی ہوگی۔
’’امی آپ…‘‘ وہ دونوں اس کی طرف بڑھتے بڑھتے رک گئیں۔ اور سوالیہ نظروں سے پہلے مریم پھر ثریا کو دیکھنے لگیں تو ثریا نے خود کو بے حد نارمل پوز کرکے پوچھا۔
’’ناشتہ کرلیا تم لوگوں نے؟‘‘
’’جی ہاں جو کچھ آپ بناگئی تھیں وہ سب کھالیا ہم نے۔‘‘ صبا چبا کر بولتے ہوئے یک دم گھبرائی۔
’’حد کرتی ہیں آپ۔ سویرے سویرے بغیر بتائے کہاں چلی گئی تھیں؟ کچھ اندازہ ہے ہم کتنی پریشان ہوئیں اور یہ ڈرائیور کا فون کیوں بند تھا؟‘‘
’’میں نے بند کروایا تھا۔‘‘ ثریا کے سکون پر وہ مزید تلملا گئی۔
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ مجھے زیادہ دیر کہیں نہیں رکنا تھا اور تم یہ سوال جواب چھوڑو۔ ناشتہ بناؤ مریم نے بھی کچھ نہیں کھایا۔ بھوک لگی ہوگی اسے۔‘‘ ثریا نے ایک طرح سے ان دونوں کو مریم کا احساس دلایا۔ صبا نے نشا کو دیکھا تو وہ فوراً کچن کی طرف بڑھ گئی۔
’’تم بھی جاؤ۔‘‘ ثریا نے اس سے کہا۔
’’نہیں میں مریم کے ساتھ بیٹھوں گی۔ آؤ مریم۔‘‘ صبا مریم کو لے کر لاؤنج میں جا بیٹھی تو ثریا نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔
ز…ز…ز…ز
سرمئی شام تاریکی میں ڈوب رہی تھی۔ لیکن اسے احساس نہیں تھا۔ وہ کب سے برآمدے کی سیڑھیوں کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اس کا ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ کبھی نشا کو سوچتی کبھی مریم کو۔ ثریا نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ بلال احمد کے پاس گئی تھی۔ بس یہی کہا تھا وہ مریم کو لینے گئی تھی۔ اور اگر اس وقت مریم اس کے ساتھ نہ ہوتی تو شاید وہ ثریا کی بات کا یقین نہ کرتی۔ پھر اسے زیادہ کریدنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔ وہ مریم کے ساتھ بیٹھی تو مریم نے اپنی داستان چھیڑدی تھی کہ وہ ریان کو پسند کرتی ہے اور اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بلال احمد اس پر راضی نہیں اور انہوں نے مریم کی شادی اپنے کسی دوست کے بیٹے کے ساتھ طے کردی تھی اور مریم کے گھر سے نکلنے پر پابندی لگادی تھی۔
یعنی وہ اس کے ساتھ زبردستی کررہے تھے۔ پھر مریم نے اس کی منت کی تھی کہ وہ اس کی مدد کرے۔ ورنہ اگر اس کی شادی ریان کے علاوہ کسی اور سے ہوئی تو وہ زہر کھالے گی۔ اس نے مریم کو نہ صرف تسلی دی بلکہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اس کی شادی ریان سے کرادے گی اور اس وقت سے جہاں وہ مریم اور کبھی نشا کو سوچتی وہاں اسے اپنے باپ بلال احمد پر حیرت کے ساتھ افسوس ہوتا کہ وہ کیسا باپ ہے جسے اولاد کی خوشی میں خوش ہونے کی پروا ہی نہیں۔ بہرحال بڑی بہن ہونے کے ناتے وہ محسوس کررہی تھی کہ اس پر نشا اور اب مریم کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے اور اس معاملے میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کب آصف جاہ آکر اس سے قدرے فاصلے پر بیٹھ گیا تھا۔
’’پریشان ہو؟‘‘ کتنی دیر بعد آصف جاہ نے اسے مخاطب کیے بغیر پوچھا۔
’’ہاں…‘‘ وہ بے دھیانی میں کہہ کر پھر ایک دم اسے دیکھنے لگی تو وہ انجان سا بن گیا۔
’’تم کب آئے؟‘‘ وہ اپنی بے خبری پر حیران ہوئی۔
’’میں کب آیا کب گیا بس آپ یہ روٹین کے جملے چھوڑ دو۔ کام کی بات کرو۔‘‘ آصف جاہ نے آپ سے تم کا فاصلہ سمیٹ کر جانے اسے کیا جتایا تھا۔
’’کام کی بات؟‘‘ وہ سوالیہ نشان بنی۔
’’ہاں میں پاگل ہوں جو میں نے خود کو تمہارے لیے وقف کردیا ہے۔ اپنے آپ جانے کیا کچھ سوچتا رہتا ہوں اور تم ہو کہ زبردستی خود پر اجنبیت کا خول چڑھائے پھرتی ہو۔ دم نہیں گھٹتا تمہارا۔‘‘
’’گھٹتا ہے۔‘‘ مجرمانہ سا اعتراف تھا۔ آصف جاہ ایک دم خاموش ہوکر اسے دیکھے گیا۔ پھر دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔
’’سنو… اپنے سارے دکھ ساری پریشانیاں مجھے دے دو۔‘‘ وہ خاموش رہی تو کہنے لگا۔
’’میں جانتا ہوں۔ تم بہت بہادر لڑکی ہو۔ تنہا ساری دنیا سے لڑسکتی ہو۔ اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تمہارا سہارا بننا چاہتا ہوں۔ بلکہ مجھے تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔‘‘ صبا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تو فوراً بولا۔
’’اب تم خود کو بہت بڑا مت سمجھنے لگنا۔‘‘ اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑا تو وہ زچ ہوگیا۔
’’پلیز صبا… بتاؤ کیا پریشانی ہے۔‘‘ پھر سمجھانے کا انداز اختیار کیا۔
’’دیکھو میرے پاس کوئی بوتل کا جن نہیں ہے جو دعویٰ کروں کہ آج کے آج ہی تمہیں ہر پریشانی سے نکال لوں گا لیکن کوشش تو کرسکتا ہوں۔‘‘
’’میں اپنی بہنوں کے لیے پریشان ہوں۔‘‘ صبا نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا تو اس نے کچھ دیر انتظار کیا کہ وہ مزید کچھ کہے گی۔ لیکن وہ خاموش تھی۔
’’بہنوں کے لیے… کیا مسئلہ ہے ان کے ساتھ؟‘‘ آخر اسے پوچھنا پڑا تو صبا نے پہلے محسن کے بارے میں بتایا کہ وہ کہیں چلا گیا ہے اسے تلاش کرنا ہے۔ پھر مریم کا بتاکر کہنے لگی۔
’’مجھے ریان کے بارے میں ساری معلومات چاہیے۔ کون ہے‘ کہاں رہتا ہے‘ کیا کرتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔‘‘
’’اوکے میم یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ تم مجھے ریان کا ایڈریس دو۔ میں کل ہی تمہیں اس کا پورا بائیوڈیٹا لادوں گا۔‘‘ آصف جاہ نے کہا تو وہ پوچھنے لگی۔
’’اور محسن؟‘‘
’’محسن بھی مل جائے گا ان شاء اﷲ…‘‘ وہ کہہ کر سوچتے انداز میں پوچھنے لگا۔
’’محسن وہی ہے ناں… دبلا پتلا لمبا سا۔‘‘
’’ہوں…‘‘ وہ اثبات میں سر ہلا گی۔
ز…ز…ز…ز
مریم کے آنے سے گھر میں کچھ چہل پہل ہوگئی تھی۔ نشا تو بولتی ہی نہیں تھی وہی ثریا کے ساتھ لگی رہتی۔ کام کاج میں۔ اس کا ہاتھ بٹاتی پر جب فارغ ہوتی تو نشا کے پاس بیٹھ جاتی اور زبردستی اسے بولنے پر مجبور کرتی۔ ایک وہ وقت تھا جب مریم گم صم رہتی تھی تو نشا اسے سمجھاتی۔ اب وہ نشا کو سمجھا رہی تھی۔
’’میں مانتی ہوں نشا تمہارا دکھ بہت بڑا ہے۔ لیکن تمہیں ہمت اور حوصلے سے کام لینا چاہیے۔ کم از کم آنٹی کا ہی خیال کرلو۔ وہ بے چاری ہر وقت تمہاری فکر میں رہتی ہیں۔‘‘
’’مونی نے اچھا نہیں کیا۔‘‘ وہ جس دکھ میں بیٹھی تھی وہ ہی زبان پر آگیا۔
’’یہ تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ آجائیں مونی بھائی تو میں ان سے بہت لڑوں گی۔ لے کر سب کو پریشان کردیا اور بے چاری تائی امی تو…‘‘ مریم بولتے بولتے ایک دم خاموش ہوئی پھر کہنے لگی۔
’’جب مونی بھائی کو تائی امی کا پتا چلے گا تو انہیں کتنا دکھ ہوگا۔‘‘
’’مونی آجائے گا ناں…؟‘‘ وہ پتا نہیں مریم کی باتیں سن بھی رہی تھی کہ نہیں۔
’’بالکل آئیں گے۔ میرا دل کہتا ہے۔ کسی دن مونی بھائی چپکے سے آجائیں گے۔ تمہارے لیے ڈھیروں…‘‘ نشا کا سیل فون بجنے سے مریم کی بات ادھوری رہ گئی۔
’’تایا ابو…‘‘ اسکرین پر بلال احمد کا نام دیکھ کر نشا نے فوراً کال لی۔
’’السلام علیکم تایا ابو۔‘‘
’’خوش رہو…‘‘ جلال احمد نے ابھی اسی قدر کہا تھا کہ وہ پوچھنے لگی۔
’’آپ کیسے ہیں تایا ابو؟‘‘
’’اب تو بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔ کیونکہ مونی آگیا ہے۔‘‘ جلال احمد نے کہا تو وہ ایک دم بے قابو ہوئی۔
’’مونی آگیا ہے سچ تایا ابو…!‘‘
’’دیکھا میں نے کہا تھا ناں…‘‘ ادھر مریم اچھلنے لگی تو وہ ہاتھ سے اسے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
’’جی تایا ابو میں آرہی ہوں۔ ابھی آرہی ہوں۔‘‘ وہ سیل فون رکھ کر مریم سے لپٹ گئی۔ اس کے آنسو ایک تواتر سے بہہ نکلے تھے۔
’’میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔‘‘ مریم نے کہا تو وہ اس سے الگ ہوکر بولی۔
’’ہاں ہاں چلو۔ امی… امی کہاں ہیں؟‘‘ امی وہ پکارنے کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر پہنچ جائے۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ اس کی پکار پر ثریا آئی تھی۔
’’امی…‘‘ وہ بھاگ کر ثریا سے لپٹ گئی۔
’’امی مونی آگیا ہے ابھی تایا ابو کا فون آیا ہے۔ مونی آگیا ہے امی۔ میں جارہی ہوں۔‘‘
’’نہیں…‘‘ ثریا نے اسے خود سے الگ کیا۔ پھر سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’محسن آگیا ہے تو اسے کہو کہ یہاں آجائے۔‘‘
’’یہاں…!‘‘ وہ ثریا کہ انداز سے چونکی۔
’’یہاں بھی آجائے گا امی۔ ابھی تایا ابو نے بتایا ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ نہیں آسکے گا۔‘‘
’’تو تمہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ثریا نے سخت لہجے میں کہا تو وہ مریم کو دیکھنے لگی۔
’’آنٹی آپ کیوں منع کررہی ہیں؟‘‘ ثریا نے مریم کی بات کا جواب نہیں دیا تو وہ کہنے لگی۔
’’میں جاؤں گی امی۔ مجھے جانا چاہیے۔ مجھ سے زیادہ مونی کا خیال کوئی نہیں کرسکتا۔ تم پھر آجانا مریم۔ ابھی میں جارہی ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھی تھی تو ثریا پکار کر بولی۔
’’نشا جارہی ہو تو پلٹ کر مت دیکھنا۔ سمجھ لینا تمہاری ماں مرگئی۔‘‘
’’امی…!‘‘ نشا اپنی جگہ سن ہوگئی تھی۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close