Aanchal Mar 16

ظلمت شب کی سحر

قرۃ العین سکندر

درد جب حد سے بڑھا، ضبط کے آنسو لکھے
ہم نے سیکھا ہی نہیں آنکھ سے رونا سائیں
کوئی کھیلے، کوئی توڑے، کوئی چاہے تو رکھے
مرد کے ہاتھ میں عورت ہے کھلونا سائیں

’’ڈیئر اسٹاف منہ میٹھا کیجیے۔‘‘ فرخندہ امتیاز نے مٹھائی کا ڈبہ کھولتے ہوئے تمام اسٹاف کو متوجہ کیا۔
’’بھئی کس خوشی میں ہے یہ مٹھائی؟‘‘ مسز انجم جو خاصی تیز طرار قسم کی ٹیچر تھیں جلدی سے کھوج لگاتے ہوئے لہجے میں بولیں۔
’’میری اکلوتی نند کی منگنی ہوگئی ہے‘ اگلے ماہ شادی ہے۔ اسی خوشی میں یہ مٹھائی ہے۔‘‘ مسز امتیاز نے نرم مسکراہٹ سے جواب دیا۔ وہی ازلی نرم مسکان جو ان کی شخصیت خاصہ تھی۔
’’آپ بھی لیں ناں مسز ارم۔‘‘ مسز امتیاز نے مٹھائی میرے سامنے کی تو میں نے خوش دلی سے انہیں مبارک باد دی۔ اتنے میں بریک ٹائم ختم ہوگیا اور سب ٹیچرز کلاس رومز کی طرف چل دیں۔ میرا چونکہ یہ فری پیریڈ تھا اس لیے میں اطمینان سے بیٹھی رہی۔ میں جانتی تھی کہ مسز امتیاز کا بھی یہ فری پیریڈ ہوتا تھا۔ اسی فری پیریڈ کے مرہون منت میری اور مسز امتیاز کی آپس میں اچھی خاصی علیک سلیک ہوگئی تھی۔ مسز امتیاز اپنی ہرخوشی مجھ سے شیئر کیا کرتی تھیں اور سچ تو یہ ہے کہ میں مسز فرخندہ امتیاز کی بہت گرویدہ تھی۔ وہ اسٹاف میں سنیئر ٹیچر اور نہایت پروقار اور مہربان ہستی تھیں۔ کسی کا کوئی بھی مسئلہ ہو ان کے پاس آجاتا اور وہ منٹوں میں وہ مسئلہ حل کردیا کرتی تھیں۔ اکثر میں بھی اپنی پریشانی ان سے شیئر کیا کرتی اور وہ مجھے عمدہ مشورے دیا کرتی تھیں۔ نہایت آسودہ مسکان جو ان کے لبوں پر ٹھہر سی گئی تھی ان کی نجی کامیاب ازدواجی زندگی کا منہ بولتا ثبوت تھی اور پھر آج جس طرح اپنی نند کی خوشی میں وہ اس قدر خوشی کا اظہار کررہی تھیں وہ بھی قابل ستائش تھا۔ ورنہ آج کل کے دور میں نند اور بھاوج کے روایتی رشتے میں کہاں یہ انداز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں نند بھابی کا اٹھتے بیٹھتے ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے طنز کے تیر برساتی ہے وہاں بھاوج بھی نند کو نیچا دکھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیتی۔
ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ مسز خرم جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ لڑ جھگڑ کر میکے آن بیٹھی تھی اور واپس جانے سے انکاری تھی۔ وجہ وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق ساس کا کولھو کے بیل کی طرح سارا دن بہو سے کام کروانا اور بیٹے کے آتے ہی بہو کی برائیاں شروع کردینا۔ کافی عرصہ کے صبر وضبط نے بالآخر رنگ دکھایا اور ایک دن غصے میں آکر مسز خرم نے بھی ساس کو دوبدو جواب دیا۔ معاملہ گھمبیر صورت اختیار کرگیا۔ ہر فرماں بردار بیٹے کی طرح حقیقت حال سے نگاہیں چراتے ہوئے خرم نے ماں کو ہی صحیح اور بیوی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ مسز خرم دکھ کی کیفیت میں گھر چھوڑ کر آگئی مگر اتنے دنوں سے وہ بہت گم صم سی تھی۔ اس نے ہنسنا بولنا ترک کردیا تھا۔ آنکھوں کے گرد پڑتے سیاہ ہلکے اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ وہ راتوں کو بھی سکون سے نہیں سو پاتی ہے۔ ایک دن مسز امتیاز نے مسز خرم کو روک لیا اور انہیں ناصحانہ انداز میں سمجھایا۔
’’یاد رکھو جو شاخ جھک جاتی ہے وہ ہی پھل دار ہوا کرتی ہے‘ صراحی ہمیشہ جھک کر ہی جام کو سیراب کرتی ہے۔ گھر بنتے تو بہت مشکل سے ہیں مگر بکھرتے ہوئے ایک پل نہیں لگتا۔ آپ اپنے رویے سے نیکی سے ملنساری سے اپنے سسرال والوں کا دل جیت لیں۔ یہ مشکل تو ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ایک دن وہ لوگ خود ہی تھک کر خاموش ہوجائیں گے مگر شرط یہی ہے کہ آپ دل سے انہیں معاف کردیں۔ نئے سرے سے زندگی میں رنگ بھرنے کی سعی کریں‘ صبر ایک دن ضرور اپنا رنگ دکھاتا ہے۔‘‘ مسز امتیاز کی باتیں سن کر مسز خرم آبدیدہ ہوگئی اور رونے لگی۔
’’ارے آپ تو رونے لگیں‘ آپ ہمت نہ ہاریں‘ اللہ پر توکل رکھیں۔ آپ کو یاد ہے میں نے کل آپ سے آپ کا سیل فون لیا تھا‘ معذرت چاہتی ہوں‘ مجھے آپ کے میاں کا نمبر معلوم کرنا تھا۔ میں نے آپ کے میاں کو فون کرکے آپ کے ذہنی دبائو کے متعلق بتایا تھا‘ آپ کس طرح جدوجہد کرکے گھر اور اسکول جاب دونوں کو مینج کررہی ہیں۔ اور پھر اس حالت میں جب کہ نئے ننھے مہمان کی آمد ہے‘ آپ کے لیے ذہنی ٹینشن نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ آپ یقین کریں‘ آپ کے خاوند تو آپ کے لئے بہت فکرمند تھے‘ مجھے تو بس انہیں احساس ہی دلانا پڑا۔ آج آپ کے میاں خود واپسی پر آپ کو گھر لے جائیں گے۔ یہاں سے سیدھا آپ اپنے گھر جائیے اور اپنے بچے کے لیے یہ سب آپ کو کرنا ہی ہوگا۔‘‘ مسز امتیاز کی بات سن کر مسز خرم کے چہرے پر جہاں طمانیت کے سائے جھلملانے لگے وہاں وہ اپنے خاوند کے آنے کا سن کر بری طرح نروس بھی ہوگئی تھی۔ آخر اچانک ہی تو یہ کایا پلٹ ہوئی تھی۔ وہ دل سے مسز امتیاز کی مشکور تھی۔ واپسی پر جب مسز خرم سرشار سی شرماتی ہوئی اپنے خاوند کے ساتھ اپنے گھر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر جارہی تھی تو میں نے مسز امتیاز کے چہرے پر ایک لازوال دھیما سا سکون اترتے دیکھا۔ جسے میں کوئی نام نہ دے سکی مگر میرے دل میں ان کی عزت وتعظیم قدرے بڑھ گئی۔
اسی طرح کینٹین والی آپا کی بیٹی کی شادی کے معاملے میں انہوں نے خاموشی سے رقم دی تاکہ بیٹی کی شادی عین وقت پر انجام پذیر ہوسکے۔ مسز امتیاز سبھی کے لیے خیر خواہی اور نیک جذبات رکھتی تھیں۔
’’کیا سوچ رہی ہیں آپ؟‘‘ میری سوچ مسز فرخندہ امتیاز کی بات مجھے ماضی سے حال میں لے آئی۔
’’آپ ہی کے متعلق سوچ رہی تھی میں۔‘‘ میںنے وہی جواب دیا جو سچ تھا۔
’’میرے متعلق؟‘‘ انہوں نے تعجب سے پوچھا۔
’’جی ہاں‘ آپ کا دل کس قدر گداز ہے۔ اپنوں اور پرائیوں دونوں کے لیے۔ پھر اس دن آپ نے مسز خرم کی جس طرح مدد کی‘ وہ قابل تعریف ہے۔‘‘ میں نے خلوص سے ان کی تعریف کی۔
’’یہ تو اپنی اپنی سوچ ہے ناں۔ ورنہ میں نے تو وہی کیا جو میرا اخلاقی فرض تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں کسی کو بھی دکھی نہیں دیکھ سکتی۔ میری دلی آرزو ہے کہ میری سب بہنوں کے گھر آباد رہیں اور سب اپنے گھروں میں سکھی رہیں۔‘‘ مسز فرخندا متیاز کے لہجے میں ایک نامعلوم سی اداسی پنہاں تھی۔ جسے میں نے شدت سے محسوس کیا۔
’’آپ نے اپنے متعلق کبھی نہیں بتایا۔ آپ کی فیملی میں کتنے لوگ ہیں؟‘‘ میں نے متجسس لہجے میں دل کا سوال زبان سے ادا کیا۔
’’میری فیملی۔‘‘ مسز فرخندہ نے اچانک ہی بلند قہقہہ لگایا۔
’’میری فیملی میں‘ میں ہوں‘ میرے خاوند ہیں جو مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں‘ یوں بھی ہماری تو لو میرج ہے ناں۔ اور پھر میری مدر اِن لاء ہیں جو مجھے بیٹیوں سے بڑھ کر چاہتی ہیں۔ میری اکلوتی نند ہے جس کی عنقریب شادی ہوجائے گی۔ وہ بھی بہنوں جیسی ہے‘ یعنی راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔‘‘ مسز فرخندہ کے چہرے پر اپنی فیملی کا ذکر کرتے ہوئے فخریہ مسکراہٹ تھی۔
’’آپ کے ہسبینڈ بہت لکی ہیں‘ جنہیں آپ جیسی وائف ملی۔‘‘ میں نے سچے دل سے کہا۔
’’نہیں خوش قسمت تو اصل میں میں ہوں۔ مجھے ہر خوشی ملی ہے اور خاص طور پر اتنی اچھی سسرال ملی ہے اس قدر عزت ہے میری اپنی سسرال میں‘ بیان نہیں کرسکتی۔ اب یہی میری نند کی شادی کی مثال ہی لے لو۔ اس رشتہ میں میری رائے کو خاص اہمیت دی گئی ہے پھر سارا انتظام شادی بیاہ کا بھی مجھے ہی دیکھنا ہوگا۔‘‘ مسز فرخندہ امتیاز کی بات پر میں ایک دم اداسی کے گھیرے میں آگئی۔ خود میری کس قدر سسرال میں عزت تھی۔ یہ میں اچھی طرح جانتی تھی۔ سارا دن کام اور بس کام۔ مگر کوئی انعام نہیں ملتا تھا۔ بس میاں جی کا اتنا ہی کہنا ہوتا۔
’’اچھا اب سو جائو۔ میں خود بھی بہت تھکا ہوا ہوں۔ تم اب روزنامہ نہ شروع کردینا۔ صبح بات کریں گے۔‘‘ اور کروٹ لے کر منہ دوسری طرف پھیر کے سو جاتے اور کچھ دیر بعد فضا میں ان کے خراٹے گونجنے لگتے۔ مگر پھر وہ صبح کبھی بھی نہ آتی جس میں وہ میری دل کی بات سن لیتے یا جان پاتے۔ اتنی دیر میں نیا پیریڈ اسٹارٹ ہوگیا اور مسز فرخندہ امتیاز کلاس روم کی طرف چل دیں۔ میں بھی تھکے قدموں اور شکستہ وجود کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔
٭…٭…٭
سارے اسٹاف کا متفقہ خیال تھا کہ مسز فرخندہ امتیاز سب کو اپنی نند کی شادی میں ضرور انوائٹ کریں گی مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ شادی کا دن آیا اور آکر گزر بھی گیا۔ مسز امتیاز نے دو دن کی چھٹی بھی لی اور پھر معمول کے مطابق کلاسز اٹینڈ کرنے لگیں۔ میں چونکہ ان کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی تھی اور نسبتاً ان کے زیادہ قریب تھی۔ مجھے بھی اس رویے سے شدید رنج پہنچا۔ کم از کم مجھے تو رسماً ہی سہی شدی میں مدعو کرنا چاہیے تھا مگر میری عزت نفس نے یہ گوارا نہ کیا کہ میں اس کے متعلق ان سے سوال دراز کرتی اگرچہ روزانہ حسب معمول ہم دونوں ڈھیروں باتیں کرتی تھیں۔ مگر اس ٹاپک پر میں نے کوئی بھی بات نہ کی۔ یوں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔
٭…٭…٭
’’مسز فرخندہ آپ کا نیکلس تو بہت ہی قیمتی لگ رہا ہے۔‘‘ مسز انجم نے پرتجسس انداز میں ٹوہ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’جی ہاں‘ یہ گولڈ کا ہے‘ کل ہی شادی کی سال گرہ پر مجھے میرے خاوند نے گفٹ کیا ہے۔‘‘ مسز امتیاز نے فخریہ انداز میں نہایت پیار سے اپنے نیکلس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا۔
سب ٹیچرز نے حسرت سے ان کے نیکلس کو دیکھا‘ خود میرے دل میں بھی رشک کا جذبہ عود کر آیا۔ زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ ان کے میاں نے ان کو محبت سے لے کردیا تھا۔ مسز فرخندہ جس قدر شائستہ اخلاق کی مالک تھیں اسی طرح حسین و جمیل بھی تھیں۔ آج نیکلس پہننے کے بعد تو وہ اور بھی ملکوتی حسن کی مالک لگ رہی تھیں۔ یوں ہی تو ہر کوئی ان کی طرف مائل نہیں ہوجایا کرتا تھا۔
’’ویسے کتنے سال ہوگئے ہیں آپ کی شادی کو؟‘‘ مسز انجم نے جھٹ سوال داغا۔
’’میری شادی کو سات سال ہوگئے ہیں۔‘‘ مسز امتیاز نے متانت سے جواب دیا۔
’’اچھا؟ حیرت ہے ابھی تک آپ کی گود سونی ہے؟‘‘ مسز انجم نے طنزیہ انداز میں حظ اٹھاتے ہوئے کہا تو مسز امتیاز کا چہرہ یک لخت سفید پڑگیا۔ مسز انجم کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی۔
آخر کچھ تو ایسا تھا ہی جو مسز امتیاز کی زندگی کو نامکمل بناتا تھا۔ اتنی دیر میں اگلا پیریڈ اسٹارٹ ہوگیا اور مسز امتیاز کلاس لینے چل دیں۔
’’ویسے نیکلس ہے نہایت شاندار۔‘‘ کسی ٹیچر نے تبصرہ کیا۔
’’ہونہہ… خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتی ہے۔ ہر وقت اپنے میاں کے گن گاتی رہتی ہے۔ آخر جتانا کیا چاہتی ہے وہ ہم سب پر۔‘‘ مسز انجم نے جلے دل کے پھپولے پھوڑے۔ یوں بھی مسز انجم کی اپنے میاں سے زیادہ بنتی نہ تھی۔ آئے دن کے جھگڑے ان کا روز کا معمول تھے۔
’’ہاں اور اتنی تنگ دل ہیں کہ اپنی اکلوتی نند کی شادی پر جھوٹے منہ بھی بلانا گوارا تک نہ کیا۔‘‘ کسی اور ٹیچر نے لقمہ دیا۔
’’اب اگر میاں نے تحفہ دے ہی دیا تھا تو اس کی نمائش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دراصل وہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہی یہاں سب سے آسودہ حال ہیں‘ اپنی نجی ازدواجی زندگی میں۔‘‘ مس فروا نے کہا۔ جن کا رشتہ کسی جگہ طے ہوکر ہی نہ دے پارہا تھا۔ اور عمر تھی کہ گزرتی چلی جارہی تھی اور اسی پریشانی کے سائے ان کے چہرے پر ہر گزرتے دن میں لکیروں کی صورت اپنا عکس چھوڑتے چلے جارہے تھے۔
میں خاموشی سے سب کے تبصرے سن رہی تھی۔ مجھے بہت افسوس ہورہا تھا سب کی سوچ پر مگر خاموشی سے بچوں کی ٹیسٹ کاپیاں چیک کرتی رہی ویسے بھی لوگوں کا کام تو ہے ہی جلنا اور حسد کرنا۔ اگر کوئی روئے تو بھی یہ دنیا اس کے حال پر ہنستی ہے اور اگر کوئی ہنستا ہے تو بھی یہ دنیا اس کی ہنسی میں خوشی محسوس نہیں کرتی۔ میں نے افسردگی سے سوچا۔
٭…٭…٭
’’کافی دن ہوگئے مسز امتیاز نہیں آرہی‘ آپ میں سے کوئی جاکر معلوم کرے۔ ان کا سیل فون بھی آف جارہا ہے۔ 10th کلاس کے اینول ایگزامز ہونے والے ہیں اور مسز امتیاز کی کوئی خبر ہی نہیں۔‘‘ میڈم نے اسٹاف سے میٹنگ ٹائم میں مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
سب ٹیچرز ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔ تعجب کی بات تو یہ تھی کہ کسی کو بھی مسز امتیاز کے گھر کا ایڈریس معلوم نہ تھا۔
حتیٰ کہ مجھے بھی کبھی خیال نہ آیا کہ ان سے پوچھ لیتی اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا۔ میری کلاس میں ایک بچی ماہ وش نے ایک دفعہ ذکر کیا تھا کہ مسز امتیاز ان کے گھر کے پاس ہی کہیں رہتی ہیں۔ یوں میں نے میڈم سے حامی بھرلی کہ آج ہی مسز امتیاز کے گھر جاکر معلوم کرتی ہوں۔ میری بات پہ میڈم نے اثبات میں سر ہلادیا۔
میں نے میڈم سے کہہ تو دیا تھا مگر کچھ پزل سی تھی۔ یوں بن بلائے جانا مجھے کچھ اچھا نہ لگ رہا تھا مگر مجبوری تھی۔ مجھے بچی نے مسز امتیاز کا گھر دکھا دیا تھا‘ سفید رنگ کا گیٹ تھا۔ میں نے اللہ کانام لے کر بیل پر انگلی رکھ دی۔ تھوڑی دیر بعد ایک معمر خاتون گیٹ پر آگئیں۔
’’السلام علیکم!‘‘ میں نے ادب سے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ معمر خاتون نے عینک ناک پر جماتے ہوئے بغور میرا جائزہ لیا۔
’’میں مسز فرخندہ امتیاز سے ملنے آئی ہوں۔ میں ان کی کولیگ ہوں۔‘‘ میں نے وضاحت دی۔
’’اپنی فری سے ملنے آئی ہو۔ تم ارم ہو ناں؟ آئو بیٹا اندر آجائو۔‘‘ معمر خاتون نے مجھے راستہ دیتے ہوئے کہا۔ میں سخت حیران تھی کہ اس خاتون نے جو غالباً مسز امتیاز کی ساس ہوں گی‘ مجھے بنا تعارف کے کیونکر پہچان لیا۔ وہ مجھے ڈرائنگ روم میں لے آئیں۔ میں ایک صوفے پر ٹک گئی۔
’’کیا پینا پسند کروگی بیٹا۔‘‘
’’جی کچھ بھی نہیں میں تو بس مسز امتیاز کی خیریت معلوم کرنے آئی تھی‘ کافی دنوں سے وہ اسکول نہیں آرہی سبھی ان کے لیے فکرمند تھے۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا تو خاتون میری بات سن کر اثبات میں سر ہلانے لگیں۔
’’میں نے کہا تھا فری سے کہ واپس سسرال جانے سے پہلے اسکول میں اطلاع دے آئو۔ مگر اسے تو شوہر کے پاس جانے کی جلدی تھی۔ آخر چھ سال ہوگئے تھے‘ اسے یہ بن باس کاٹے اور کتنی دیر کرتی وہ آخر۔‘‘
’’جی!‘‘ میں صرف اتنا ہی کہہ سکی۔ سارے الفاظ ختم ہوچکے تھے۔
’’ہاں بیٹا‘ میری بیٹی نے بہت کٹھن وقت گزارا ہے۔ میں نے تو بہت سمجھایا تھا کہ آزمائے ہوئے کو اور کتنا آزمائوگی؟ کہاں اس ظالم انسان کے ساتھ دوبارہ رہنے چلی ہو‘ مگر اس کے سر پر تو بھوت سوار تھا۔ بڑا ظالم ہے اس کا خاوند! چار چوٹ کی مار مارتا تب جاکر اسے قرار آتا‘ مگر میری بیٹی اف تک نہ کرتی۔ ارے ہمیں تو تب بھی علم نہ ہوتا مگر میری بیٹی نے جب اپنا بچہ کھودیا تو ہم چپ نہ رہ سکے اور وہ ہم سے مزید چھپا نہ سکی۔‘‘
’’آنٹی‘ آپ ان کی حقیقی ماں ہیں؟‘‘ میں شدید صدمے کی کیفیت سے دوچار تھی۔
’’ہاں بیٹا مگر یہ کیسا سوال ہے؟‘‘ آنٹی حیران نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔
’’جی بس یوں ہی میرا خیال ہے میں اب چلتی ہوں۔‘‘ مجھے یوں لگا کہ اگر اور تھوڑی دیر میں یہاں رہی تو میرا دم گھٹ جائے گا۔ مسز فرخندہ امتیاز کو کس حد تک میں اپنا آئیڈیل سمجھتی تھی مگر یہ آئیڈیل نیست ونابود ہوتا دکھائی دیتا تھا۔ درحقیقت وہ خواب‘ وہ روپہلی آرزوئیں جو شاید میں نے کبھی دیکھی تھیں‘ ان کی تعبیر میں مسز فرخندہ جی رہی تھیں یہی واحد سوچ مجھے خوش اور حوصلہ دیتی تھی کہ کہیں کسی جگہ تو کوئی فرد واحد ہے جو انتہائی خوشیوں بھری زندگی گزار رہا ہے۔ خود غرض اور منافق لوگوں کے ہجوم سے الگ تھلگ مگر یہ بھی میری خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔
’’یہ لفافہ وہ تمہارے لیے دے کے گئی تھی۔ اسے بہت یقین تھا کہ تم آئوگی۔‘‘
آنٹی نے ایک لفافہ میرے ہاتھ میں تھمادیا۔ جسے میں نے بامشکل تھاما کیونکہ مجھے اپنا وجود منجمد ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ میں نے خالی الذہنی کی کیفیت میں وہ لفافہ پرس میں رکھا اور خدا حافظ کہتی ہوئی باہر نکل آئی۔
میں تھکے دل اور بوجھل وجود سمیت جب اپنے گھر آئی تو میری ساس کا موڈ سخت آف تھا۔ اتنی لیٹ اسکول سے آنے کی وجہ سے میں ان کو ٹائم پر کھانا پکا کر نہ دے سکی تھی۔ جھٹ پٹ بھنڈی کاٹ کر پکائی۔ یوں بھی میری ساس وہ شوق سے کھاتی تھیں۔ کھانا کھلانے کے بعد میں نے ان کو دوادی کیونکہ وہ ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں اور دوا نہ کھانے کی صورت میں ان کی طبیعت مزید خراب ہوجایا کرتی تھی۔ میرا دل اس قدر مرجھا چکا تھا کہ میرا کچھ بھی کھانے کو دل ہی نہ کیا۔ تھوڑی دیر میں جٹھانی کے بچے میرے پاس اپنا ہوم ورک لیے چلے آئے۔ تعلیم یافتہ ہونے کی ایک یہ بھی مصیبت تھی کہ میں کسی کو بھی انکار نہ کر پاتی تھی۔ تین سال ہونے کو آئے اور میری گود سونی تھی‘ جٹھانی نے کئی سال میری ساس کی خدمت کی تھی اور اب میری شادی کے بعد یہ فریضہ میری طرف منتقل ہوگیا تھا۔ بقول جٹھانی تم تو فارغ ہی ہوتی ہو۔ ان کی دوائی کا دھیان رکھ لیا کرو۔ مجھے تو سو کام ہوتے ہیں اوپر تلے کے بچوں میں۔
بچوں کو خالی الذہنی کی کیفیت میں ہوم ورک کروایا۔ شام کی چائے بنائی پھر رات کا کھانا تیار کیا۔ میاں جی کے لیے اہتمام نہ ہو کھانے پر تو موڈ بگڑ جاتا ہے۔ بقول ان کے ایک وقت کا کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں پکا پاتی تم۔‘‘
میاں جی کی آمد پر مجھے چوکس رہنا پڑتا ورنہ ان کا ایک ہی بیان ہوا کرتا تھا کہ ’’جاب چھوڑ دو۔‘‘ میں خواہ کتنی ہی تھکی ہوئی ہوتی چہرے پر مسکان سجا لیتی تاکہ اس گھٹے ہوئے ماحول سے راہ فرار کا یہ واحد راستہ بھی مجھ سے چھن نہ جائے‘ کوئی مرد یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ اگر کوئی عورت شدید تھکن کے باوجود اور ٹف لائف کے بعد بھی جاب نہیں چھوڑ رہی تو یہ اس کی اپنی منتخب کردہ چند گھڑیاں ہوا کرتی ہیں۔ ان گھڑیوں کے اچھے برے نتائج کی ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ چند گھڑیاں سخت آزمائش کا سبب ہی کیوں نہ بن گئی ہوں خود کی پہچان اور جو ادب واحترام مجھے اسکول میں ملتا تھا‘ وہ مجھے مجبور کرتا تھا کہ ہر نئے طلوع ہونے والے دن کو نئی ہمت کے ساتھ گزاروں۔ رات کو بستر پر لیٹی تو میاں جی نے ٹانگیں دبانے کا فریضہ مجھے سونپ دیا۔ میں سعادت مندی سے ٹانگیں دبانے لگی۔ تھکاوٹ کا شکوہ بے سود تھا۔
’’کیا سوچ رہی ہو آج بہت خاموش ہو؟ آج تو دن بھر کی تھکان کا رونا بھی نہیں رویا تم نے؟‘‘ میاں جی کی بات پر میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔ میں تو سمجھی تھی اب تک وہ سوچکے ہوں گے مگر لگتا ہے ان کو بھی روزانہ میری بکواس سن کر سونے کی عادت سی ہوچلی تھی آج دل اس قدر افسردہ تھا کہ کوئی جواب نہ دیا اور ٹکرٹکر ان کا منہ دیکھنے لگی۔ ’’آئو لیٹ جائو۔‘‘ ایک نیا حکم میں خاموشی سے کروٹ کے بل لیٹ گئی۔ مگر میرا ذہن ایک ہی نکتے پر ٹھہر سا گیا تھا کہ مسز فرخندہ نے اس قدر جھوٹ کیوں بولا؟ تبھی مجھے اس لفافے کا خیال آیا۔ میاں جی گہری نیند میں خراٹے لے رہے تھے میں نے پرس سے وہ لفافہ نکالا‘ میرے ہاتھ کپکپا رہے تھے اس میں خط تھا۔
پیاری ارم! میں جانتی ہوں آپ حیرت زدہ ہوں گی کہ میں نے اپنی تلخ حقیقت کو چھپا کر اس قدر غلط بیانی سے کام کیوں لیا؟ مگر بسا اوقات سچ بیان کرنا اس قدر تکلیف دہ ہوا کرتا تھا کہ زبان پر آتے آتے ٹھہر سا جاتا۔ میری بات کو سمجھنے کے لیے آپ کو مجھے سمجھنا ہوگا۔ میں فرخندہ عرف فری جس کو پہلی نظر میں ہی محبت کے آسیب نے جکڑ لیا تھا اور محبت کے آسیب سے تو راہ فرار ممکن ہی نہیں ہوا کرتی۔ اپنے والدین کی نافرمانی پر بھی اکسا دیا کرتی ہے یہ محبت۔ امتیاز کی محبت مجھ پر اس قدر حاوی ہوچکی تھی کہ والدین کی تلقین کا بھی مجھ پر کچھ اثر نہ ہوا اور بالآخر میری ضد کے آگے والدین خاموش ہوگئے اور میری شادی امتیاز سے ہوگئی۔ شادی کے اولین دنوں میں امتیاز کا رویہ بہت اچھا تھا مگر رفتہ رفتہ مجھے ان کی ایک بری عادت کا ادراک ہوا ان کو مجھے پیٹ کر مار کر نجانے کیا ملتا تھا‘ شاید بچپن میں انہوں نے ہر لمحہ اپنی ماں کو اپنے باپ سے پٹتے دیکھا تھا اور اب یہی میرا مقدر ہے جسے میری محبت نے میرے لیے رقم کیا ہے بس ایک بھرم تھا اور وہ بھی آج ٹوٹ گیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close