Aanchal Mar 16

شب ہجر کی پہلی بارش(قسط نمبر10)

نازیہ کنول نازی

ماضی کی گود میں رکھ آئے خواب اور خواہش
اک روگ بن گیا تھا اس وبال کا شعور
وہ پکارے تو دل لوٹ آتا ہے خوشی سے
پنچھی بھول جاتا ہے ہر بار نئے جال کا شعور

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
صمید حسن اور ان کی فیملی کی کہانی ہے جنہیں ان کے والدین کی رحلت کے بعد کرنل شیر علی اپنا بیٹا بنا کر گھر لے آتے ہیں اور بعد ازاں اپنی بھتیجی مریرہ رحمان کی شادی ان کے ساتھ طے کردیتے ہیں۔ مریرہ رحمان کی بڑی بہن بریرہ رحمان کی شادی ان کے سگے بیٹے سکندر علوی کے ساتھ طے ہوتی ہے مگر سکندر علوی بیرون ملک اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ شادی رچاکر وہیں کے ہو رہتے ہیں جس کی خبر بریرہ کو ہوتی ہے تو وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ صمید حسن اور مریرہ رحمان کے دو بچے زاویار صمید اور درمکنون صمید ہیں۔ بعد ازاں دونوں کے راستے ایک چھوٹی سی غلط فہمی سے الگ ہوجاتے ہیں تو زاویار‘ صمید حسن صاحب کے پاس رہ جاتا ہے جبکہ درمکنون کو مریرہ بیگم اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔ ادھر بیرون ملک سکندر علوی کثرت شراب نوشی کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو کرنل شیر علی اس کی بیٹی عائلہ علوی کو اپنے ساتھ پاکستان لے آتے ہیں۔ زاویار بے حد الجھے مزاج کا شخص ہے لندن میں اس کا سارا وقت اپنے انگریز دوستوں جولی‘ رابرٹ اور ایبک کے ساتھ گزرتا ہے وہیں اسٹور پر کام کرنے والی ایک لڑکی ہوزان اس کی دیوانی ہے۔ درمکنون اپنی ماں مریرہ کا بزنس سنبھال لیتی ہے اس کے آفس میں صیام آفندی جو اس کا پرسنل سیکرٹری ہے اس سے محبت کرتا ہے مگر اظہار نہیں کرتا۔ صمید حسن کی زندگی میں نامساعد حالات کے سبب دوسری آنے والی عورت سارا احمد ہے جن کے والد صمید حسن صاحب کے بزنس پارٹنر ہیں اور انہی کے بھتیجے کے ساتھ سارا بیگم کا نکاح ہوچکا ہے مگر وہ آوارہ مزاج انسان ثابت ہوتا ہے اور سارا بیگم کے طلاق کے مطالبے پر ان کی عزت برباد کرکے انہیں طلاق دے دیتا ہے۔ سارا بیگم کی بیٹی پرہیان اس حقیقت سے بے خبر ہے اور اپنی ماں کو گناہ گار سمجھتی ہے کیونکہ اس کا منگیتر ساویز آفندی جو صمید حسن صاحب کے قریبی دوست احمد آفندی کا اکلوتا بیٹا ہے اسے ناجائز سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے وہ بھی لندن اپنے یونیورسٹی فیلوز کے پاس آجاتی ہے۔ ساویز آفندی کی ماں سعدیہ آفندی کرنل شیر علی کی پوتی عائلہ علوی کے منگیتر سدید علوی کی بھی حقیقی ماں ہیں۔ سدید کرنل شیر علی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آرمی جوائن کرلیتا ہے۔ دوسری طرف کرنل شیر علی کے جگری دوست ملک اظہار اور زلیخا بی بی کا بیٹا عمر عباس مریرہ رحمان سے عشق کرتا ہے مگر مریرہ کو اس کے سچے جذبوں کی خبر نہیں۔ ملک اظہار کی ساری فیملی ان کی حویلی میں دفن ہے‘ اسی حویلی کے راز جاننے کے لیے ان کی پوتی اور عمر عباس کی بھتیجی شہر زاد پاکستان آتی ہے۔ صمید کے آنے کے بعد مریرہ کا اس کی طرف بے قراری سے بڑھنے پر عمر کے اندر کچھ ٹوٹتا ہے۔ عمر اداس ہوکر گزرے ہوئے وقت کو یاد کرنے لگتا ہے عمر شروع سے ہی غصہ کا تیز رہا ہے۔ کرنل صاحب کو بھائی اور بھابی کی اچانک رحلت نے توڑ کر رکھ دیا ہے‘ بریرہ اور مریرہ کی ذمہ داری ان پر آگئی ہے اس صدمے سے بھی ابھی نکلے ہی نہیں کہ اکلوتے بیٹے نے ملک سے باہر جانے کی ضد باندھ لی اور گھر سے زیور اور نقدی چرا کر ملک سے باہر چلا گیا۔ کرنل صاحب بریرہ اور مریرہ کو لے کر گائوں آجاتے ہیں۔
سدید اپنے مشن پر روانہ ہوجاتا ہے اور برف سے ڈھکے پہاڑوں اور اونچے نیچے راستوں سے سدید گزر کر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ در مکنون اور شہزاد حویلی کے وزٹ پر نکلتی ہیں تب شہر بانو ایک بار پھر مریرہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ صمید مریرہ کے لیے نیا گھر لیتا ہے اور چاہتا ہے کہ مریرہ کرنل صاحب کے گھر سے رخصت ہوکر اپنے گھر چل کر رہے۔ کرنل صاحب اپنے بیٹے کی خراب طبیعت کا سن کر اس کے پاس چلے جاتے ہیں مریرہ ان کی واپسی تک گھر تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ صمید اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر شادی کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے گائوں آتا ہے اور یہیں صمید کو عمر عباس کی مریرہ سے محبت کا پتا چلتا ہے۔ نئے گھر آتے ہی مریرہ کی حمنہ دوستی ہوجاتی ہے۔ حمنہ طلاق یافتہ ہوتی ہے اور ہر ویک اینڈ پر بچوں کو ان کے باپ سے ملنے کے لیے بھیج دیتی ہے اسے مرد ذات پر اعتبار نہیں رہتا اس لیے حمنہ مریرہ کو بھی صمید پر نظر رکھنے کے لیے کہتی ہے۔ حمنہ کی باتوں کا اثر تھا جو اب مریرہ صمید کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگتی اور صمید کا زیادہ دیر گھر سے باہر رہنا بھی اسے شبہ میں ڈال رہا ہوتا۔ پرہیان ایلی کے گھر میں رہ رہی ہوتی ہے تب ایلی ایک رات اسے اپنے بارے میں بتاتا ہے ایلی یونیورسٹی میں اکثر پرہیان کو چھپ چھپ کر دیکھتا تھا لیکن بات کرنی کی ہمت کبھی نہیں ہوئی تھی پرہیان کے لیے یہ بات حیران کن تھی۔ تب پرہیان بھی ایلی کو اپنی سچائی سے آگاہ کردیتی ہے۔ پرانی حویلی کے پچھلے حصہ میں شگفتہ اظہار اپنے شوہر کی ظلم کی تصویر بنی ابدی نیند سورہی ہوتی ہیں۔ شادی کی پہلی رات ہی ریاض نے معمولی سی بات کو جھگڑ کر شکل دے کر شگفتہ کو تھپڑ دے مارا تھا اور ساتھ ہی اس کی بھابی نورین سے اپنی محبت کا اظہار بھی شگفتہ پر آشکار کردیا تھا۔ شگفتہ ماں بننے والی ہوتی ہے جب ریاض اسے سیڑھیوں سے دھکا دے کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
(اب آگے پڑھیں)
/…ء…/
آ کسی روز کسی دکھ پر اکٹھے روئیں
جس طرح مرگِ جواں پر دیہاتوں میں
بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں
جس طرح ایک سیاہ پوش پرندے کے کہیں گرنے سے
ڈار کی ڈار زمینوں پر اتر آتے ہیں
چیختے شور مچاتے ہوئے کُرلاتے ہیں
اپنے محروم رویوں کی المنا کی پر
اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا
اجنبیت کے گھٹا ٹوپ بیابانوں میں
شہر سے دور سیاہ غاروں میں چھپ کر رونا
اک نئے دکھ میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں
اپنی ہی ذات کے گنجل میں الجھ کر رونا
اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں
ہم پرندے ہیں نہ مقتول ہوائیں پھر بھی
آ کسی روز کسی دکھ پر اکٹھے روئیں
/…ء…/
شہرزاد نے درمکنون کا آفس جوائن کرلیا تھا۔ اس روز وہ آفس آئی تو شہرزاد پہلے سے اس کے کمرے میں موجود تھی۔ مکمل بلیک سوٹ میں اس کا سنہری مائل خوب صورت سراپا قیامت ڈھا رہا تھا۔ درمکنون اسے دیکھ کر مسکرادی۔
’’السلام علیکم آج خیر ہے؟‘‘
’’وعلیکم السلام‘ سب خیر ہے۔ تم سنائو آج اتنی لیٹ کیوں ہوگئیں؟‘‘
’’گاڑی ورکشاپ گئی ہوئی تھی‘ مما کی گاڑی کی چابی نہیں ملی آج پبلک ٹرانسپورٹ سے آئی ہوں۔‘‘
’’وائو پھر تو بڑا مزہ آیا ہوگا؟‘‘
’’جی ہاں‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں بندہ مزے ہی کرتا ہے۔‘‘ پرس ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ سنبھالی‘ شہرزاد کھل کر مسکرادی۔
’’چلو خیر ہے کبھی کبھی گورنمنٹ سروس سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ وہ اسے چڑا رہی تھی درمکنون نے خاموش رہنے میں عافیت جانی‘ تبھی شہرزاد پھر بولی۔
’’پتا ہے دری! پرسوں میں صیام کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی تھی‘ لائٹ کنکشن تاحال بحال نہیں ہوسکا ان کا تبھی میں نے شگفتہ اور صیام نے مل کر رات کے اندھیرے میں جسٹ کینڈل لائٹ کی مدد سے کھانا تیار کیا۔ سچ دری! بڑا مزہ آیا‘ غربت کا بھی اپنا مزہ ہوتا ہے ناں؟‘‘
’’ہوں…‘‘
’’تم صیام کی تنخواہ کیوں نہیں بڑھا دیتیں‘ وہ ایک قابل ورکر ہے۔ اگر اس کی تنخواہ بڑھ جائے تو یقینا اس کی زندگی اور گھر کے چھوٹے چھوٹے سینکڑوں مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘‘
’’جانتی ہوں۔‘‘
’’جانتی ہو تو کچھ کرتی کیوں نہیں؟‘‘
’’جیسا تم چاہتی ہو ویسا کچھ نہیں ہوسکتا شہرو! سارے ملازمین کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے اگر میں صرف صیام کی تنخواہ میں اضافہ کرتی ہوں تو باقی کے ورکرز کو اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا اسی لیے میں نے صیام کے ساتھ ساتھ باقی ورکرز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا ہے۔‘‘
’’ویری گڈ‘ تم واقعی بہت اچھی باس ہو دری!‘‘
’’شکریہ۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے اس کی بہن شگفتہ کے سسرال والوں نے رشتہ ختم کردیا ہے؟‘‘
’’وہاٹ؟‘‘
’’ہاں یار! وہ لوگ اس کے والد کی رحلت پر آئے تھے افسوس کرنے‘ ساتھ ہی رشتے سے بھی معذرت کرگئے‘ کل ہی اس لڑکے کا کسی اور جگہ رشتہ پکا ہوگیا ہے۔‘‘
’’اوہ یہ تو حقیقتاً بہت برا ہوا۔‘‘
’’غریبوں کی زندگی میں زیادہ تر سب برا ہی برا ہوتا ہے دری! کاش میرے بس میں ہوتا تو میں صیام کی زندگی کے سارے دکھ سمیٹ لیتی۔‘‘ شہرزاد بہت سنجیدگی سے کہہ رہی تھی‘ درمکنون نظر جھکا گئی۔
’’ایک بات پوچھوں شہرزاد! سچ سچ بتائو گی؟‘‘
’’ہوں پوچھوں۔‘‘ شہرزاد نے فوراً توجہ اس کی جانب مبذول کی۔ درمکنون نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسا کر اپنا چہرہ مٹھیوں پر ٹکادیا۔
’’کیا تم واقعی صیام میں انٹرسٹڈ ہو؟‘‘
’’آف کورس‘ تمہیں لگتا ہے میں ڈرامہ کررہی ہوں؟‘‘
’’شاید۔‘‘
’’تم پاگل ہو دری اور کچھ نہیں۔‘‘
’’اوکے‘ مما بتارہی تھیں عمر انکل پاکستان آرہے ہیں؟‘‘ فوراً سے پیشتر اس نے موضوع بدلا۔
’’ہاں‘ ان کی یہاں کسی دوست سے بات ہوئی وہ اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’اور تم؟‘‘
’’ظاہر ہے میں انہیں سپورٹ کروں گی۔‘‘
’’چلو اچھی بات ہے اب کام شروع کریں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ شہرزاد نے اثبات میں سر ہلایا۔ درمکنون سر جھٹک کر کمپیوٹر میں مصروف ہوگئی۔
/…ء…/
حنان کی شادی کے دن رکھے جاچکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آج کل وہ آفس میں زیادہ ٹائم دے رہا تھا۔ اس وقت بھی اپنے کیبن میں موجود وہ مکمل تندہی سے کام میں مصروف تھا جب صیام درمکنون کے آفس سے نکل کر سیدھا اسی کے پاس چلا آیا‘ حنان نے اسے دیکھ کر فوراً کام روکا۔
’’تم یہاں آفس میں؟‘‘
’’ہوں‘ کچھ ضرور کام تھا بس ابھی گھر کے لیے نکل رہا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں بھی شام تک چکر لگائوں گا‘ ویسے ایک بات پوچھوں اگر تم برا نہ منائو تو۔‘‘
’’ہوں پوچھو۔‘‘
’’کیا تم شہرزاد میں انٹرسٹڈ ہو؟‘‘
’’تم سے کس نے کہا؟‘‘
’’مجھے ایسا لگا کیونکہ پچھلے دنوں سے وہ تمہارے ساتھ ساتھ ہیں۔ گھر‘ ہسپتال‘ اور یہاں آفس میں بھی۔‘‘
’’تو اس سے یہ بات کہاں ثابت ہوتی ہے کہ میں ان میں یا وہ مجھ میں انٹرسٹڈ ہیں؟ وہ ایک نیک دل لڑکی ہیں حنان! تمہیں ان کی یا میری نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
’’میں شک نہیں کررہا مگر یہاں آفس میں ایک دو لوگ تمہیں اور انہیں لے کر باتیں کررہے تھے تبھی کلیئر کرنا مناسب سمجھا۔‘‘
’’لوگوں کا تو کام ہی باتیں کرنا ہے یار! میں پروا نہیں کرتا ویسے بھی میرے دل میں ان کے لیے ایسا ویسا کچھ نہیں ہے نہ کبھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’گڈ‘ کل تمہاری فیانسی کی دوست بتارہی تھی کہ شہرزاد میڈم جلد ہی اپنی الگ برانچ جوائن کرنے والی ہیں جس میں تمہارے لیے انہوں نے منیجر کی سیٹ ریزرو کی ہوئی ہے ایسا اگر ہوا تو کیا تم یہ کمپنی چھوڑ دو گے۔‘‘
وہی بات جو اندر درمکنون نے اس کے گوش گزار کی تھی اب حنان بھی اسی بات کا تذکرہ کررہا تھا تو کیا درمکنون سب کچھ پہلے ہی جانتی تھی؟ کیا اس کی تنخواہ میں اضافے کے پیچھے واقعی یہی بات تھی؟
’’نہیں۔‘‘ فوراً سے پیشتر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کوئی کتنی ہی اچھی جاب آفر کیوں نہ کرے میں یہ کمپنی نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
’’وجہ؟‘‘ حنان جیسے سب جان لینا چاہتا تھا۔ صیام کو مجبوراً نگاہ چرانی پڑی۔
’’وجہ میرا یار حنان ہے جو یہاں میرے ساتھ ہوتا ہے‘ کہیں اور چلا گیا تو بھلا تمہاری شکل کہاں دیکھنے کو ملے گی۔‘‘
’’اچھا بچو‘ میں جیسے تمہیں جانتا نہیں ہوں ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔‘‘
’’کوئی کالا نہیں ہے‘ اب تم ذرا توجہ سے اپنا کام کرو میں پہلے ہسپتال اور پھر گھر کے لیے نکلتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر میں وجہ جان کر رہوں گا یہ یاد رکھنا۔‘‘ دروازے سے نکلتے نکلتے حنان نے اس سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر اس کے کیبن سے باہر نکل آگیا۔ باہر گاڑی میں شہرزاد اس کی منتظر تھی‘ صیام کو مجبوراً اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھنا پڑا۔
/…ء…/
’’آپ یہاں کب سے جاب کررہے ہیں صیام؟ میرا مطلب ہے درمکنون کے پاس؟‘‘ گاڑی ہسپتال کی طرف رواں دواں تھی جب شہرزاد نے ڈرائیو کرتے ہوئے صیام سے پوچھا جو بے نیازی سے باہر دیکھتے ہوئے خاموش بیٹھا تھا‘ شہرزاد کے سوال پر اس نے توجہ سامنے مرکوز کی۔
’’زیادہ عرصہ نہیں ہوا‘ کیوں؟‘‘
’’ویسے ہی‘ میرے پاس آپ کے لیے اس سے بھی بہتر جاب کی آفر ہے۔‘‘
’’شکریہ مگر میں فی الحال اپنی جاب سے مطمئن ہوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر اس جاب سے آپ اپنے گھر والوں کی ذمہ داری ٹھیک سے پوری نہیں کر پارہے۔‘‘
’’اللہ مالک ہے‘ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’سو تو ہے پھر بھی آپ کبھی اپنی اس جاب سے غیر مطمئن ہوں تو پلیز میری آفر پر ضرور غور کیجیے گا۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے… شکریہ آپ نے میرے لیے اتنا کچھ کیا۔‘‘
’’نہیں شکریہ کی کوئی بات نہیں‘ ویسے ایک بات پوچھوں اگر آپ کو برا نہ لگے؟‘‘
’’جی پوچھیے۔‘‘ وہ اب بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا‘ شہرزاد کچھ سوچتے ہوئے سامنے سڑک پر دیکھتی رہی‘ گاڑی کی رفتار اب پہلے سے بھی کم ہوگئی تھی۔
’’کیا آپ نے زندگی میں کسی سے محبت کی ہے؟‘‘ صیام کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس سے ایسا کوئی سوال بھی کرسکتی ہے تاہم پھر بھی اس نے پھر سے نگاہ باہر کے مناظر پر ٹکاتے ہوئے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔
’’جی ہاں۔‘‘ شہرزاد کے پائوں اس کے غیر متوقع جواب پر فوراً بریک پر پڑے تھے۔
’’کس سے؟‘‘
’’ہے کوئی پھولوں سے رنگ روپ والی‘ چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ اجلی لڑکی۔‘‘
’’کہیں آپ اپنی فیانسی کی بات تو نہیں کررہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیا وہ لڑکی بھی آپ سے محبت کرتی ہے؟‘‘
’’نہیں‘ اسے تو میرے اندر شور مچاتے جذبات کا پتا بھی نہیں اور نہ ہی میں کبھی اسے یہ پتا لگنے دوں گا کیونکہ میری اور اس کی حیثیت میں بہت فرق ہے۔ میں ساری زندگی اس کا خدمت گار بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر ہم سفر بن کر شاید کبھی نہیں رہ سکتا۔‘‘
’’آہم… کیا وہ آفس میں بھی ساتھ ہوتی ہے؟‘‘
’’جی ہاں‘ صرف آفس میں ہی نہیں میرے ہر پل میں وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
’’گڈ‘ کیا آپ کے گھر والوں نے اسے دیکھا ہے؟‘‘
’’جی ہاں‘ والد صاحب کی رحلت کا افسوس کرنے آئی تھی وہ۔‘‘ صیام اس کے ہر سوال کا فوری جواب دے رہا تھا۔ شہرزاد کے اندر عجیب سی ہل چل شروع ہوگئی‘ صیام کے والد صاحب کی وفات کا افسوس کرنے آفس سے صرف دو ہی لڑکیاں گئی تھیں ایک وہ اور دوسری درمکنون…
درمکنون جیسی بے حس باس سے صیام کی محبت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا تو کیا وہ صاف لفظوں میں اسے اپنے دل کا پیغام پہنچارہا تھا۔ وہ تو تھی درمکنون کے علاوہ جس کا اسٹینڈر صیام کے اسٹینڈر کے ساتھ میل نہیں کھاتا تھا وہی تو تھی جو اب تک صیام کے ساتھ رہنے کے باوجود اس کے اندر کا حال نہیں جان پائی تھی۔ اسے لگا جیسے ایک دم سے ہر چیز بے حد خوب صورت ہوگئی ہو۔ سامنے موجود تارکول کی سڑک بھی اس لمحے اسے بے حد خوب صورت دکھائی دے رہی تھی‘ دل جھوم اٹھا تھا۔ اس کے برعکس صیام کسی اور ہی سوچ میں گم تھا۔ شہرزاد اگر اس کے لیے دل میں کوئی غلط خیال رکھتی بھی تھی تو اس نے اسے سب کلیئر کردیا تھا۔ بھلا اس کے دل میں جو مقام درمکنون کا بن چکا تھا کوئی اور اس مقام تک پہنچ بھی کیسے سکتا تھا۔
/…ء…/
رات خاصی بیت گئی تھی جب اس نے اپارٹمنٹ میں قدم رکھا۔ گھپ اندھیرے میں نشے کی شدت کے باعث اس کے ہاتھ سوئچ بورڈ کو ڈھونڈنے میں ناکام ثابت ہوئے تھے تبھی ایک دم سے وہاں کمرے کی ساری لائٹس آن ہوگئی تھیں۔ زاویار نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اس کے سامنے کچھ ہی فاصلے پر ڈنر سوٹ میں ملبوس صمید حسن صاحب کھڑے تھے‘ لمحے سے بھی قبل اس کا سارا نشہ ہرن ہوا تھا۔
’’آپ؟‘‘
’’ہوں میں‘ کیوں خوشی نہیں ہوئی دیکھ کر؟‘‘ وہ سنجیدہ تھے۔ ان کے چہرے پر پھیلا کرب ان کے اندر کی بے سکونی کا پتا دے رہا تھا زاویار ایک طرف دھرے صوفے پر ڈھے گیا۔
’’کیوں آئے ہیں یہاں؟‘‘
’’اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ لے جانے۔‘‘
’’ایم سوری‘ مگر یہاں آپ کا کوئی بیٹا نہیں رہتا۔‘‘
’’مگر مجھے تو مغرب کی ہوائوں نے یہیں کا پتا دیا تھا۔‘‘
’’میں اس وقت آپ سے بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ڈیڈ!‘‘
’’میں پسند بھی نہیں کروں گا کہ تم مجھ سے بحث کرو۔‘‘
’’تو پھر پلیز آپ یہاں سے چلے جائیں۔‘‘
’’چلا جائوں گا مگر تمہیں ساتھ لے کر۔‘‘
’’مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا نہ ہی میں مزید آپ کے ساتھ کوئی واسطہ رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مگر کیوں؟ صرف اس لیے کہ میں نے تم سے ایک چھوٹی سی حقیقت چھپائی؟‘‘
’’جی ہاں‘ آپ کے لیے چھوٹی سی حقیقت ہوگی مگر میرے لیے یہ میری پوری زندگی کا سوال تھا۔‘‘
’’کیا تم مجھے اپنی صفائی پیش کرنے کا ایک موقع بھی نہیں دو گے زاویار!‘‘
’’کیا اب بھی آپ کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کے لیے کچھ ہے ڈیڈ! پچیس سال آپ نے مجھے ایک فریب میں رکھا‘ پچیس سال میں اپنی حقیقی ماں سے دور اس عورت کی محبت میں جیتا رہا جو حقیقت میں میری ماں کی غاصب تھی۔‘‘
’’یہ سچ نہیں ہے زاویار۔‘‘
’’تو پھر سچ کیا ہے ڈیڈ! اگر یہ سچ نہیں ہے تو پھر آپ نے مجھ سے ہر بات چھپا کر کیوں رکھی؟ کیوں مجھے میری سگی ماں سے محروم رکھا‘ کیوں چھینا آپ نے مجھے ان سے کیوں ان کی جگہ کسی دوسری عورت کو دی کیوں انہیں ان کے ہی گھر سے بے دخل کیا؟‘‘
’’میں نے بے دخل نہیں کیا وہ خود مجھے چھوڑ کر گئی تھی۔‘‘
’’مگر کیوں؟ کوئی بھی عزت دار شریف عورت بلاوجہ اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جاتی۔‘‘
’’میں نے کب کہا کہ وہ بلاوجہ چھوڑ کر گئی تھی؟‘‘
’’تو پھر وہ وجہ بتادیں جس نے انہیں آپ کا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا؟‘‘ زاویار کا لہجہ تلخی سے پُر تھا‘ صمید صاحب کو بے ساختہ نظر چرانی پڑی۔
’’انہوں نے میرا گھر اس لیے چھوڑا کیونکہ… کیونکہ وہ کسی اور کو پسند کرتی تھیں۔‘‘
’’وہاٹ…؟‘‘ زاویار کو لگا جیسے زمین اس کے قدموں تلے سے ہل گئی ہو۔
’’ہوں… میرے اور اس کے درمیان بہت فاصلے آگئے تھے اسی لیے اس نے اپنا رستہ الگ کرلیا۔ تم سے یہ حقیقت اس لیے چھپائی کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا بیٹا ایک ٹوٹی پھوٹی شخصیت کا مالک ہو جہاں تک سارا بیگم کی بات ہے تو وہ کوئی آوارہ یا بدچلن عورت نہیں تھی زاویار! مجھ سے شادی سے پہلے اس کا اپنے سگے چچا زاد سے نکاح ہوا تھا۔ پرہیان اسی شخص کی بیٹی ہے مگر وہ شخص سارا کے قابل نہیں تھا اسی لیے دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ میرا سارا کے ساتھ کوئی افیئر نہیں تھا‘ نہ ہی میں دوسری شادی کا خواہش مند تھا مگر میں بہت مجبور ہوگیا تھا ہسپتال میں بے بسی سے دم توڑتے سارا احمد کی والد منیر صاحب میرے بزنس پارٹنر تھے۔ بہت احسانات تھے ان کے مجھ پر میں ان کی منت کے سامنے بہت زیادہ دیر تک پہاڑ نہ بن سکا۔ بس یہی میری خطا ہے۔‘‘ ایک باپ بہت ٹوٹے ہوئے لہجے میں اپنی صفائی پیش کررہا تھا۔
زاویار کا سر جھک گیا‘ دل میں آئی بدگمانیوں کے بادلوں کو چھٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ کرنل صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی کہا تھا اگر صمید حسن غلط ہوتے تو بھلا کرنل صاحب ان سے رابطہ کیوں رکھتے؟ واقعی شاید اس کی ماں غلط تھی تبھی تو صمید حسن کے ساتھ ساتھ وہ کرنل صاحب کو بھی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ زاویار نے پہلے اس نہج پر نہیں سوچا تھا اب سوچا تھا تو اپنے ہر ری ایکشن پر شرمندگی ہورہی تھی۔
’’ایم سوری پاپا! شاید میں نے آپ کو غلط سمجھا۔‘‘
’’اٹس اوکے‘ مائی سن۔‘‘ صمید صاحب نے مسکرا کر کہتے ہوئے اپنے جواب بیٹے کو فوراً سینے سے لگایا‘ ان کی کوشش بے کار نہیں گئی تھی۔
مریرہ بیگم کے کردار کی ذرا سی جھول دکھا کر برسوں کا سرمایہ ہاتھ آرہا تھا تو یہ سودا برا نہیں تھا۔
/…ء…/
’’پری…‘‘ وہ اسٹور پر جانے کے لیے نکل رہی تھی جب ایلی نے اسے آواز دی۔ ڈارک بلو شرٹ پر جینز کی نیلی پینٹ پہنے وہ خاصا صاف ستھرا دکھائی دے رہا تھا‘ پرہیان ایڑھیوں کے بل اس کی طرف گھومی تھی۔
’’ہوں۔‘‘
’’کہاں جارہی ہو؟‘‘
’’کچھ کام ہے باہر‘ کیوں خیریت؟‘‘
’’ہوں خیریت ہی ہے‘ تمہارے ڈیڈ آئے ہوئے ہیں انگلینڈ شاید ان کی صلح ہوگئی ہے تمہارے بھائی سے تبھی تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ مارتھا پیرس گئی ہوئی ہے کل تمہارا بھائی اس کے اپارٹمنٹ گیا تھا تمہارا پوچھنے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا‘ انیل نے اسے میرا پتا دے دیا‘ شاید تم نے یا مارتھا نے اس کے سامنے میرا ذکر کیا ہو‘ تبھی اس نے تمہارے بھائی سے کہا کہ تم میرے گھر پر ہوسکتی ہو۔ تمہارے ڈیڈ اور بھائی کل آئے تھے میرے آفس۔‘‘
’’پھر…‘‘
’’پھر میں نے ان سے کہا کہ تم میرے گھر آئی تھیں مگر میں شہر میں نہیں تھا‘ تم مایوس ہوکر کہیں اور چلی گئیں۔ یہ بھی کہ میرا اب تم سے کوئی رابطہ نہیں ہے‘ وہ مایوس واپس لوٹ گئے‘ کیا میں نے ٹھیک کیا پری؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ پرہیان نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
’’تمہیں دیر تو نہیں ہورہی؟‘‘
’’نہیں‘ کیا؟‘‘
’’کچھ اور بھی بتانا تھا تمہیں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’تمہارا فیانسی تھا ناں وہ ساویز آفندی۔‘‘
’’ہوں‘ کیا ہوا اسے؟‘‘
’’اسے کچھ نہیں ہوا‘ میں اس سے ملا تھا جاکر۔‘‘
’’کیوں اور تم کیسے جانتے ہو اسے؟‘‘
’’یونیورسٹی پریڈ میں ایک بار وہ تم سے ملنے آیا تھا تبھی دیکھا تھا یہاں پچھلے دنوں ایک بار کلب میں بھی ملاقات ہوئی تھی اس سے۔‘‘
’’اوہ مگر تم اس سے خود جاکر کیوں ملے؟‘‘
’’کچھ ضروری کام تھا بزنس کے سلسلے میں اس لیے ملنا پڑا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ کیا تم آج رات گھر پر رہوگے؟‘‘
’’شاید‘ کیوں؟‘‘
’’یونہی کچھ ڈسکس کرنا تھا تم سے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا گھر پر رہوں۔‘‘
’’شکریہ ایلی!‘‘ اس کے شکریہ کے جواب میں ایلی مسکرادیا۔ پرہیان اداس مگر مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتی باہر نکل گئی۔
/…ء…/
رخصت ہوتی سردیوں کی وہ ایک اداس شام تھی جب نورین نے پھر ریاض کو ملنے کا پیغام بھجوایا تھا‘ یہ ملاقات اس بار نورین کے گھر کی بجائے باہر کھیتوں میں طے تھی۔ ریاض دیئے گئے وقت سے بھی پہلے مقررہ جگہ پر موجود تھا‘ گہرے سرخ سوٹ میں ملبوس نورین کا حسن اس کی آنکھوں کا خیرہ کررہا تھا۔
’’ہاں بول‘ کیوں بلوایا ہے چوہدرانی صاحبہ۔‘‘ بالکل اس کے ساتھ لگ کر بیٹھتے ہوئے اس نے پرشوق نگاہوں سے نورین کی آنکھوں میں جھانکا‘ جہاں کاجل کی باریک سی لکیر بے حد بھلی لگ رہی تھی نورین کے لب اسے دیکھ کر مسکرائے تھے۔
’’کیا تجھے نہیں پتا کہ کیوں بلوایا ہے تجھے؟‘‘
’’مجھے کیسے پتا ہوسکتا ہے تُو کچھ بتائے گی تو ہی پتا چلے گا ناں۔‘‘
’’چل سن فیر‘ میں نے امی سے ہماری شادی کی بات کی تھی۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا‘ وہ تو خوش ہوگئیں سن کے‘ تیری طرف تو پہلے ان کا دھیان ہی نہیں تھا ویسے بھی شگفتہ کے ساتھ تیری نسبت طے تھی اب وہ بھلا سگے بھائی کی بیٹی کا حق تو نہیں چھین سکتی تھیں ناں۔‘‘
’’ہوں کہتی تو تُو ٹھیک ہے پھر؟‘‘
’’پھر کیا‘ امی کو ہمارے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں مگر…‘‘
’’مگر کیا؟‘‘
’’مگر ایک مسئلہ ہے ریاض۔‘‘
’’کیسا مسئلہ؟‘‘
’’مسئلہ یہ ہے کہ قمر جان چھوڑنے کو تیار نہیں ہے یعنی وہ طلاق نہیں دے رہا۔‘‘
’’کیوں؟ وہ سالا خود تو دوسری شادی کرکے بیٹھ گیا اور تجھے طلاق کیوں نہیں دے رہا؟‘‘
’’بس یونہی اذیت دینا چاہتا ہے اسے یہ بھی پتا لگ گیا ہے کہ تُو نے اس کی بہن شگفتہ کی جان میری وجہ سے لی ہے تبھی وہ ہم دونوں کو سزا دینا چاہتا ہے۔‘‘
’’ایسی کی تیسی اس کی سزا کی۔‘‘
’’وہ بہت عیار انسان ہے ریاض تُو اسے نہیں جانتا۔‘‘
’’اسے چھوڑ اسے میں دیکھ لوں گا‘ تُو بتا تُو کیا چاہتی ہے اب؟‘‘
’’میں نے کیا چاہنا ہے؟ سیانے کہتے ہیں گھی جب سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی پھر ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔‘‘
’’ہوں یعنی تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ اس کا پتّہ بھی صاف کردیا جائے۔‘‘
’’بالکل کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔‘‘
’’ہوں کہتی تو تُو ٹھیک ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا‘ اب تیری خوشی کی خاطر اتنا تو کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ ریاض کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی‘ نورین کے اندر تک ٹھنڈ اتر گئی۔
جس شخص نے اس پر کسی اور عورت کو ترجیح دینے کا گناہ کیا تھا اس کی اتنی سزا تو بنتی تھی۔
/…ء…/
اس روز بہت دنوں کے بعد ہلکی ہلکی دھوپ نکلی تھی۔ عمر گائوں میں نہیں تھا وہ آج کل ملک سے باہر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا خضر بھاء اور نظر بھاء کے سسرال میں شادی تھی لہٰذا وہ دونوں اپنی اپنی بیگمات اور بچوں کے ساتھ عین مہندی والے دن حویلی سے رخصت ہوئے تھے۔ شہربانو کا ساتواں مہینہ تھا مگر پھر بھی اس نے حویلی کے تمام کام بہت اچھے طریقے سے سنبھال رکھے تھے۔ قمر بھی پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور سمجھ دار ہوگیا تھا۔
اس روز وہ زمینوں پر اکیلا تھا‘ کپاس کی کٹائی ہوچکی تھی اور اب گندم کی فصل نے بھی زمین سے ذرا ذرا سا سر باہر نکالنا شروع کردیا تھا۔ قمر کو کوئی خاص کام تو تھا نہیں اس نے یونہی گوڈی شروع کردی۔ ابھی وہ کام ختم کرکے گھر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ریاض اپنی گاڑی پر وہاں پہنچ گیا‘ قمر کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی اس کا خون کھول اٹھا۔
’’تُو یہاں؟‘‘
’’ہوں‘ کیوں اچھا نہیں لگا دیکھ کر؟‘‘ اس کے لبوں پر اشتعال دلانے والی مسکراہٹ تھی۔ قمر نے رمبی پھینک دی۔
’’تجھ جیسے جانور کو دیکھنا کسے اچھا لگ سکتا ہے بھلا؟‘‘
’’مت بھول کہ یہ جانور ابھی کچھ وقت پہلے تیری بہن کا خصم رہ چکا ہے۔‘‘ وہ گاڑی سے اتر آیا تھا‘ قمر کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
’’بد قسمتی تھی میری بہن کی جو رب سوہنے نے اس کا نصیب تجھ جیسے جانور کے ساتھ لکھ دیا وگرنہ تجھ جیسے کتے کو تو اس کا آنچل بھی نہ دیکھنے دیتے ہم۔‘‘
’’اتنی نفرت؟‘‘
’’تُو نفرت کے بھی لائق نہیں ہے۔‘‘
’’چل نہ سہی میں نے کون سے دانے لینے ہیں تجھ سے‘ میں تو صرف اتنا کہنے آیا تھا کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے تیری‘ مزے کر اور نورین کی جان چھوڑ دے ایسا نہ ہو کہ تجھے بھی اپنی دلاری بہن کے پاس جانا پڑ جائے۔‘‘
’’بکواس بند کر اور دفع ہوجا یہاں سے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے تُو شرافت سے نہیں مانے گا؟‘‘
’’تو دفع ہوتا ہے کہ کروں تیرا بندوبست۔‘‘
’’تُو کیا بندوبست کرے گا میرا‘ بندوبست تو تیرا میں کرنے آیا ہوں۔‘‘ کہنے کے ساتھ ہی اس نے گاڑی سے پسٹل نکالا اور پھر بنا کوئی موقع دیئے سامنے خالی ہاتھ کھڑے قمر پر فائر کھول دیا۔ گولی قمر کے بائیں بازو کے قریب سے ہوتی پیچھے نکل گئی تھی۔ وہ لڑکھڑایا اور پھر سنبھل کر کھڑا ہوا تھا کہ اس نے دوسرا فائر بھی داغ دیا۔
دوسرا وار پہلے سے بھی زیادہ زور آور تھا‘ سنبھلنے کی لاکھ کوشش کے باوجود قمر اوندھے منہ تازہ تازہ گوڈی کی ہوئی زمین پر گر پڑا۔ اس کی آنکھیں اور منہ مٹی سے اٹ گئے تھے پھر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ وہ ابھی اٹھ ہی رہا تھا کہ ریاض نے تیسرا وار بھی کردیا۔ گائو کی خاموشی فضا میں اس کے پسٹل سے نکلنے والے فائرز کی آواز نے اردگرد کے درختوں پر سیکڑوں پرندوں کو بے چین کردیا تھا۔ روتے کرلاتے چیختے وہ انسانیت کی پستی اور جہالت پر کائیں کائیں کررہے تھے۔ گندم کی اٹھاتی سنہری بالیاں‘ خون کی سرخ چنری اوڑھے جھک گئی تھیں‘ اردگرد کے سنسان کھیت نوحہ کناں تھے۔ آخری منظر جو عینی شاہدین نے دیکھا ریاض ملک قمر عباس کے قریب پنجوں کے بل بیٹھا اس کے خون سے لت پت کشادہ سینے پر چاقو کے پے درپے وار کررہا تھا جیسے اس روز وہ ہر طرح سے اس کی موت کی تسلی کرلینا چاہتا ہو۔
زر‘ زن اور زمین میں سے پھر ایک زندگی کو زن نے نگل لیا تھا۔ ایک اور قیمتی جان جہالت کی نذر ہوگئی تھی۔ ریاض نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا تھا اب نورین کی باری تھی۔
/…ء…/
رخصت ہوتی سردیوں کے اداس دنوں میں قمر عباس جیسے گھبرو جوان کے بے رحمانہ قتل نے پورے گائوں کی فضا میں عجیب یاسیت بکھیر دی تھی۔ حویلی میں گویا قیامت بپا ہوگئی‘ اطلاع دینے والے نے صرف قمر عباس کے قتل کی اطلاع نہیں دی تھی بلکہ ایک قیامت کے بپا ہونے کی اطلاع دی تھی۔
سکھ چین کی چھائوں میں تخت پر بیٹھی بے جی چھوٹی چھوٹی ننھی بچیوں کو قرآن پاک کا درس دے رہی تھیں جب حویلی کے بیرونی دروازے پر زور دار دستک سنائی دی۔ شہر بانو اس وقت پالک چن رہی تھی‘ آٹا اس نے پہلے ہی گوندھ کر رکھ دیا تھا۔ جانے کیا بات تھی کہ صبح سے ہی اس کا دل کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ عجیب بوجھل سی طبیعت ہورہی تھی جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہو اور بالآخر انہونی ہوگئی تھی۔
حویلی کے بیرونی گیٹ پر دستک دینے والا خیر کی خبر لے کر نہیں آیا تھا۔ بے جی ابھی تخت سے اٹھنے کا قصد کر ہی رہی تھیں کہ اچانک حویلی کے مزارعے نے ان کے پائوں تلے سے زمین کھینچ لی۔
’’غضب ہوگیا چوہدرانی جی!‘‘
’’اللہ خیر کرے کیا ہوا؟‘‘ ان کی نظریں مزارعے کے چہرے کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر پتھرا گئی تھیں تبھی وہ نظریں جھکاتا ہوا بولا تھا۔
’’قمر بھائی کا قتل ہوگیا ہے چوہدرانی جی! ابھی گائوں کا بندہ اطلاع دے کر گیا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ چوہدرانی کا ہاتھ بے ساختہ اپنے کلیجے پر پڑا تھا۔ اندر رسوئی میں پالک صاف کرتی شہر بانو کی سماعتوں میں جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا بھلا قمر عباس کا قتل کیسے ہوسکتا تھا؟ اس کی تو پورے گائوں میں کسی سے بھی دور نزدیک کی دشمنی نہیں تھی۔ وہ تو ہمہ وقت خوش رہنے اور خوش رکھنے والا لا اُبالی سا نوجوان تھا۔ اس کا احساس تو ابھی اس کی کوکھ میں پل رہا تھا۔ ابھی تو اس نے اپنے دنیا میں آنے والے بچے کا چہرہ دیکھنا تھا اس کی خوشی منانی تھی بھلا وہ ابھی سے خاک اوڑھ کر سونے کا ارادہ کیسے کرسکتا تھا؟
شام کے دھند لکے گہرے پڑ رہے تھے جب گائوں کے چند لوگ قمر عباس کے خون میں لت پت وجود کو اٹھا کر حویلی لے آئے۔
پورے گائوں میں چوہدریوں کے بیٹے کے قتل نے گویا تہلکہ مچادیا تھا۔ وہ ماحول جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل کرنا اور قتل ہونا معمول کی بات تھی اسی ماحول میں قمر عباس کے بے رحمانہ قتل نے گویا جنگل میں آگ لگادی تھی۔ اظہار ملک جو ساتھ والے گائوں کے نمبر دار سے ملنے گئے ہوئے تھے بیٹے کے قتل کی ناگہانی خبر سن کر لٹے ہوئے مسافر کی طرح حویلی پہنچے تھے۔
وہاں کتنے لوگ تھے جنہوں نے اسے قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا‘ قطعی بے بسی سے زندگی کو الوداع کہتے ہوئے دیکھا تھا۔ کتنے لوگ تھے جنہوں نے ریاض ملک کا نام لیا تھا۔ اظہار ملک صاحب کو لگا جیسے روح نے ان کے بدن کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ جوان لاڈلے بیٹے کی لاش پر وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی مانند گرے تھے‘ وقار ملک صاحب تک بھی اپنے سپوت کا کارنامہ اطلاع بن کر پہنچ چکا تھا۔
نئی حویلی کے وسیع احاطے میں چکور کی طرح ادھر سے اُدھر لگاتے ہوئے وہ بے صبری سے ریاض ملک کے حویلی پہنچنے کا انتظار کررہے تھے۔ شام ڈھل چکی تھی اور اب رات کی سیاہی دن کے اجالے کو مکمل طور پر آغوش میں لیتے ہوئے اپنی بانہیں پھیلا رہی تھی جب ریاض حویلی پہنچا تھا۔ قمر عباس کے توانا جسم سے نکلنے والے سرخ خون کے دھبے اب بھی اس کے لباس پر اس کی درندگی کا واضح ثبوت بن کر دکھائی دے رہے تھے شاید وہ لباس تبدیل کرنے ہی حویلی آیا تھا۔ وقار ملک صاحب کو حویلی کے احاطے میں ادھر سے اُدھر چکر لگاتے دیکھ کر ایک پل کے لیے اس کے چہرے کا رنگ اڑا تھا مگر اگلے ہی پل وہ اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے ان کے قریب چلا آیا۔
’’السلام علیکم ابا!‘‘
’’چٹاخ…‘‘ اس کے سلام کا جواب وقار ملک صاحب نے اسے تھپڑ کی صورت دیا تھا۔
’’ناہنجار… گندی اولاد… تجھے پتا بھی تھا کہ الیکشن سر پر ہیں اور میں نے ہر صورت یہ سیٹ جیتنی ہے پھر بھی تُو نے ایسی احمقانہ حرکت کر ڈالی وہ بھی اپنے برابر کے لوگوں کے ساتھ؟ اتنی ہی گرمی چڑھی تھی خون میں تو مزارعے مرگئے تھے کیا سارے؟ کسی کا بھی گلا کاٹ دیتا پکڑکے۔‘‘ انہیں سگے بھتیجے کا مرنے کا افسوس نہیں تھا بلکہ اپنے الیکشن کی فکر تھی۔ ریاض کو بھی ابھی یاد آیا تھا کہ الیکشن سر پر تھے تبھی وہ شرمندگی سے بولا۔
’’غلطی ہوگئی ابا! معافی چاہتا ہوں۔‘‘
’’معافی کے بچے تجھ سے میں بعد میں نپٹوں گا ابھی اپنی یہ مکروہ شکل لے کر دفع ہوجا یہاں سے اور جب تک معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑ جاتا خبردار اگر گائوں کا رخ کیا تو…‘‘ وہ اسے یوں ڈانٹ رہے تھے جیسے اس نے کسی انسان کا نہیں بے زبان جانور کا خون بہایا ہو اور یہ صرف وقار ملک اور ریاض ملک کی کہانی نہیں تھی‘ پاکستان اور ہندوستان کے سینکڑوں دیہاتوں کی کہانی تھی جہاں جنگل کا قانون تھا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ تھا۔
ریاض اپنے باپ کے حکم پر تابعداری سے سر ہلاکر وہاں سے رخصت ہوگیا۔ اس کے حویلی سے رخصت ہوتے ہی وقار ملک نے اپنے خاص خادم کو طلب کیا۔
’’حکم سائیں۔‘‘ ملازم ہاتھ باندھے مکمل تابعداری کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر تھا۔ تبھی انہوں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے حکم صادر کیا۔
’’پتا کرو گائوں میں کون کون اظہار کے بیٹے کے قتل کا عینی شاہد ہے‘ جس جس نے بھی یہ قتل ہوتے دیکھا ہے ان سب کو فوراً حویلی میں حاضر کرو۔‘‘
’’جی سائیں۔‘‘ خادم حکم لے کر اگلے ہی پل وہاں سے رخصت ہوگیا۔
وقار ملک صاحب سوچ بچار کرتے ہوئے آگے کا لائحہ عمل ترتیب دینے لگے۔
/…ء…/
گائوں میں قتل کے عینی شاہدین میں مائی جیراں کا نام سرفہرست تھا۔ مائی جیراں کا گھر اظہار ملک صاحب کی زمینوں کے بالکل قریب تھا۔ جس وقت ریاض ملک نے قمر عباس کے وجود میں گولیاں اتاری تھیں مائی جیراں اتفاق سے اپنے گھر کے باہر ہی موجود تھی‘ مائی جیراں کی زندگی کی کہانی تو بہت طویل تھی مگر مختصر خلاصہ بس اتنا ہی تھا کہ اس کی صرف ایک ہی جوان بیٹی تھی شہناز! برسوں پہلے اس کے اکلوتے بیٹے کو جیل ہوگئی تھی وہ بھی ایسے جرم میں جس کا نہ خود مائی جیراں کو پتا تھا نہ اس کے بے گناہ بیٹے کو۔ اسے بس اتنا پتا تھا کہ رات کا وقت تھا جب پولیس کی گاڑی اچانک اس کے گھر پر آئی تھی۔ اس کے بیٹے کو تین دن سے تیز بخار تھا مگر دوا پانی کے لیے پیسے نہیں تھے بس وہ گائوں کے مولوی صاحب سے دو تین بار دم کروا آئی تھی جس سے تھوڑا بہت افاقہ ہوا تھا مگر بخار کا زور مکمل طور پر نہیں ٹوٹا تھا۔ پولیس نے جب اس کے گھر پر دھاوا بولا وہ اپنے بیٹے کے لیے دودھ گرم کررہی تھی۔ دودھ کا برتن پویس کو بے دھڑک گھر میں گھستے دیکھ کر اس کے ہاتھ سے چھوٹا تھا اور سارا گرم دودھ کپڑوں اور پائوں پر جاگرا۔ وہ بس دیکھتی رہ گئی تھی جب ایک پولیس والے نے اسے سائیڈ پر دھکیل کر اس کے بخار سے نڈھال بیٹے کو گریبان سے پکڑ کر اٹھالیا۔
’’چل اوئے‘ تھانے چل کر سیوا کرتے ہیں تیری۔‘‘ مائی جیراں پولیس والے کی بات سن کر بجلی کی سی سرعت سے اپنے بیٹے کے قریب آئی تھی۔
’’کیا بات ہے تھانے دار صاحب! کیا کیا ہے میرے بیٹے نے؟‘‘
’’تھانے چل کر پتا لگے گا بی بی! کیا کیا ہے تیرے بیٹے نے۔‘‘
’’مگر اسے تو تین دن سے تیز بخار ہے۔‘‘ مائی جیراں کے ہواس گم ہوئے تھے‘ پولیس والے کے لبوں پر مکروہ مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’اتار دیتے ہیں تھانے لے جاکر اس کا بخار‘ پولیس والوں کی چھترول سے تو بڑے بڑوں کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں یہ تو ابھی بال ہے۔‘‘ اس کے معصوم بیٹے کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے اس نے تھپڑ رسید کیا تھا‘ مائی جیراں کا کلیجہ جیسے پھٹ گیا۔
عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے وردی پہننے والی یہ مخلوق بھلا موت کے فرشتے سے کم کہاں ہوتی ہے کسی کے لیے۔ جن کو دیکھ کر غنڈوں اور گناہ گاروں کو کانپنا چاہیے وہی غنڈوں اور گناہ گاروں کے ساتھ دوستی پال کر عزت دار شریف لوگوں کے لیے خوف بن جائیں تو خدا کی زمین بہت چھوٹی پڑجاتی ہے۔ مائی جیراں کے لیے بھی خدا کی زمین چھوٹی پڑگئی تھی۔ اس وقت پولیس کی گاڑی کے روانہ ہوتے ہی وہ بھاگ کر حویلی آئی تھی جہاں اس کا ٹکرائو وقار ملک صاحب کے ساتھ ہوا تھا انہیں سامنے دیکھتے ہی وہ ان کے پائوں پڑگئی۔
’’سائیں آپ کی مدد چاہیے‘ پولیس میرے بیٹے کو تھانے لے گئی ہے۔‘‘
’’تھانے لے گئی ہے تو میں کیا کروں‘ قانون کے معاملے میں میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔‘‘
’’آپ سب کچھ کرسکتے ہیں سائیں! میرا بیٹا آپ کی آنکھوں کے سامنے پل کر جوان ہوا ہے‘ وہ بے گناہ ہے اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔‘‘
’’اس نے کوئی جرم کیا ہے یا نہیں کیا‘ اس کا فیصلہ تُو نے نہیں پولیس نے کرنا ہے۔ ان کا دماغ خراب نہیں ہے جو بناء کسی جرم کے وہ تیرے بیٹے کو اٹھاکر لے جائیں۔ آخر اوپر جواب دینا ہوتا ہے بھئی پھر بھی اگر وہ بے گناہ ہوا تو آجائے گا گھر‘ ایوں رولا نہ ڈال۔ اب ہٹ پرے… شکار کے لیے لیٹ ہورہا ہوں میں۔‘‘ ایک ٹھوکر سے اس غریب بوڑھی عورت کو سائیڈ پر دھکیلتے ہوئے وقت کا وہ فرعون حویلی سے باہر نکل گیا تھا۔
مائی جیراں دوپٹے سے بے نیاز کسی لٹے ہوئے مسافر کی طرح ناکام و نامراد گھر واپس لوٹ آئی‘ اس رات تھانے کی چار دیواری میں اس کا لعل پولیس گردی کی بھینٹ چڑھا تھا۔ جسے کبھی ماں نے باپ کی وفات کے بعد پھولوں کی چھڑی سے بھی نہیں چھوا تھا‘ اسی جسم پر لوگوں کی جان و مال کے محافظوں نے درندگی اور بربریت کی ان مٹ داستانیں رقم کردی تھیں۔
سردیوں کی طویل راتیں تھیں۔ اس رات جیل اور تھانے کے عملے نے مائی جیراں کے بیٹے کی درد میں ڈوبی چیخیں سنی تھیں۔ اگلی صبح اس نمانے نے سب کے سامنے اقرار جرم کرلیا تھا۔ دو روز قبل ساتھ والے گائوں کی جو جوان لڑکی اغوا ہوئی تھی پولیس والوں نے اسے اسی گائوں کے ایک کھیت سے برآمد کرلیا تھا وہ بھی قطعی برہنہ حالت میں۔ اس لڑکی کا مردہ وجود اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اسے اچھی طرح بے عزت کرنے کے بعد نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا تھا اور اس قتل کا ایک ہی واحد چشم دید گواہ تھا۔
’’مائی جیراں کا بیٹا۔‘‘ سزا تو ملنی تھی اسے‘ اندھے قانون کے ملک میں ایک بااثر مجرم کو جرم کرتے ہوئے دیکھنے کی سزا تو ملتی ہے۔ مائی جیراں کو کیا خبر تھی کہ جس شخص کے پاس وہ رحم کی بھیک مانگنے گئی تھی خود اسی شخص نے تو اس کے لعل کی جان کی قیمت ادا کی تھی۔
ہر حقیقت سے باخبر قانون کے رکھوالوں نے پورے پچاس ہزار میں کیس مائی جیراں کے بیٹے پر فٹ کردیا تھا۔ اگلے روز گائوں کے معززین اور لڑکی کے خاندان والوں کے سامنے اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا۔ مائی جیراں کے بیٹے کے اقرار جرم کے مطابق وہ کل رات کھیت میں کام کررہا تھا جب اس نے ساتھ والے گائوں کی اس لڑکی کو حویلی سے نکلتے ہوئے دیکھا وہ لڑکی اس کے گائوں کی حویلی میں چوہدریوں سے اس کی شکایت کرنے آئی تھی کیونکہ وہ اکثر ساتھ والے گائوں میں آتے جاتے اسے تنگ کرتا تھا اسی شکایت کا بدلہ لینے کے لیے اس نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر اس لڑکی کو بے بس کیا اور اپنے گھر سے دور کھیتوں میں لے گیا لڑکی اسے سنگین دھمکیاں دے رہی تھی لہٰذا سزا کے خوف سے اس نے اس لڑکی کی جان لے لی۔
جو سبق اسے کل رات تھانے کی چار دیواری میں پڑھایا گیا تھا اس نے فرفر دہرایا۔ وہ جانتا تھا اس اقرار جرم کی سزا موت ہے مگر اقرار جرم کے بغیر جو سزا اسے کل تھانے کی چار دیواری میں ملی تھی وہ موت سے بھی بدتر تھی۔ کوئی این جی او‘ کوئی وزیر‘ کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ اسے اس سزا سے بچا نہیں سکتا تھا تبھی اس نے وہ جرم قبول کرلیا جس کی اسے سمجھ بھی نہیں تھی۔ مائی جیراں سب کے سامنے اپنے اکلوتے بیٹے کے اقرار جرم پر پھٹی پھٹی نگاہوں کے ساتھ اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی۔ کل شام تو وہ اسے گائوں کے مولوی صاحب کے پاس خود دم کروانے لے کر گئی تھی۔ پرسوں صبح سے وہ ایک پل کے لیے بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تھا تو پھر جو کھیت میں کام کرنے کے لیے گیا وہ کون تھا؟
وہ روئی تھی اور اس نے اپنی ممتا کا واسطہ دے کر اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ وہ سچ بولے مگر اس کے بیٹے پر نہ اس کے رونے کا اثر ہوا تھا نہ اس کی ممتا کے واسطے کا‘ وہ بڑی مضبوطی سے اپنے فیصلے پر قائم رہا تھا۔ نتیجتاً چند روز کے بعد پولیس نے اس پر فرد جرم عائد کرکے اسے شہر کی بڑی جیل میں بھجوادیا تھا۔ کوئی بھی نہیں جان سکا تھا کہ اس نے اس اقرار جرم کے بدلے کیا بچایا تھا۔
ایک صرف اس کی بہن جانتی تھی کہ جس سے وہ دل کی ہر بات شیئر کیا کرتا تھا۔ جس رات اس لڑکی کا قتل ہوا اس رات وہ بستر سے اٹھ کر رفع حاجت کے لیے باہر آیا تھا اور تبھی اسے دور کھیتوں سے کسی لڑکی کے چلانے کی آواز آئی تھی۔ وہ رفع حاجت سے فارغ ہوکر باہر آیا تو اسے گائوں کی کچی سڑک پر ملک وقار کی جیب تیزی سے قریب سے گزرتی دکھائی دی۔
وہ اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ کوئی انہونی ہوئی ہے مگر انہونی اس وقت نہیں ہوئی تھی انہونی تو اس وقت ہوئی تھی جب اس نے ملک وقار کے اس جرم کا خود اعتراف کرلیا وہ بھی صرف پولیس والوں کی مار اور ملک وقار جیسے درندے کی طرف سے اپنی بہن کی عزت پامال ہونے کے خوف سے بھلا یہ راز کوئی جان سکتا تھا؟ یہ راز صرف وہی بہن جانتی تھی جسے گھر آکر اس نے یہ راز بتایا تھا۔ چاند کی چاندنی میں نہ صرف اس نے ملک وقار کو دیکھا تھا بلکہ قریب سے جیپ بھگاتے ملک وقار نے بھی اسے دیکھ لیا اور وہ جانتا تھا کہ اسے ملک وقار کی نظروں میں آجانے کی سزا ملے گی یہی ہوا تھا۔
مائی جیراں نے اپنا مکان‘ بیٹی کے جہیز کے لیے جمع کیا سارا سامان سب بیچ دیا مگر سب کچھ قانون کی اندھی دیوی پر لٹاکر بھی وہ اپنے لخت جگر کو پولیس اور قانون کے شکنجے سے نہ چھڑا سکی۔ عدالت نے اس کے اقرار جرم اور چوہدری کے دو پالتو کتوں کی گواہی کو بڑا ثبوت مانتے ہوئے اسے موت کی سزا سنادی۔
تبھی پورے دس سال اذیت ناک قید کاٹنے کے بعد ایک صبح وہ پھانسی کے تختے پر جھول گیا۔ ملک میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی مد میں جو ساٹھ فیصد بے گناہ پولیس دردی کے بعد اندھے قانون کی بھینٹ چڑھ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں انہی بدنصیبوں میں سے ایک مائی جیراں کا بیٹا بھی تھا جس کا وہ ہر دن سوگ منایا کرتی تھی۔ پورے دس سال کے بعد وقت نے کروٹ لی تھی اور اب وقت کے فرعون کے جرم کی چشم دید گواہ وہ خود تھی۔
/…ء…/
عجب دن تھے محبت کے‘ عجب موسم تھے چاہت کے
کبھی گریاد آجائیں
تو پلکوں پر ستارے جھلملاتے ہیں
کسی کی یاد میں راتوں کو اکثر جاگنا معمول تھا اپنا
کبھی گر نیند آجاتی تو ہم یہ سوچ لیتے تھے
ابھی تو وہ ہمارے واسطے رویا نہیں ہوگا
ابھی سویا نہیں ہوگا
ابھی ہم بھی نہیں روتے ابھی ہم بھی نہیں سوتے
سو پھر جاگتے تھے اور اس کو یاد کرتے تھے
اکیلے بیٹھ کر ویران دل آباد کرتے تھے
ہمارے سامنے تاروں کے جھرمٹ میں اکیلا چاند ہوتا تھا
جو اس کے حسن کے آگے بہت ہی ماند ہوتا تھا۔
فلک پر رقص کرتے ان گنت روشن ستاروں کو
جو ہم ترتیب دیتے تھے تو اس کا نام بنتا تھا
ہم اگلے روز جب ملتے
تو گزری رات کی ہر بے کلی کا ذکر کرتے تھے
ہر اک قصہ سناتے تھے
کہاں کس وقت اور کیسے یہ دل دھڑکا بتاتے تھے
میں جب کہتا کہ جاناں آج تو میں رات کو اک پل نہیں سویا
تو وہ خاموشی رہتی تھی
پر اس کی نیند میں ڈوبی ہوئی دو جھیل سی آنکھیں
اچانک بول اٹھتی تھیں
میں جب اس کو بتاتا تھا کہ میں نے رات کو روشن ستاروں میں
تمہارا نام دیکھا ہے
تووہ کہتی رضی تم جھوٹ کہتے ہو
ستارے میں نے دیکھے تھے اور ان روشن ستاروں میں
تمہارا نام لکھا تھا
عجب معصوم لڑکی تھی
مجھے کہتی تھی کہ اب اپنے ستارے مل ہی جائیں گے
مگر اس کو خبر کیا تھی کنارے مل نہیں سکتے
محبت کرنے والوں کے ستارے مل نہیں سکتے
/…ء…/
حمنہ کا ٹرانسفر ہوگیا تھا۔ چند دن اس کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ اپنی جاب پر واپس چلی گئی تھی۔ مریرہ نے خود کو ننھے زاویار کی معصوم ذات میں مصروف کرلیا تھا۔ اب اسے صمید کے بدلے ہوئے شب و روز کی پہلے جیسی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ اس روز وہ دوپہر کا کھانا پکا کر ابھی فارغ ہوئی تھی جب صمید خلافِ توقع جلدی گھر آگیا۔
’’کیا پکایا ہے؟‘‘
’’مٹر گوشت۔‘‘ بناء اس کی طرف پلٹ کر دیکھے اس نے جواب دیا تھا جب وہ اس کے بالکل قریب چلا آیا۔
’’اوکے آج رات تیار رہنا کہیں چلنا ہے۔‘‘
’’کہاں؟‘‘ اب کے وہ پلٹی تھی جواب میں صمید نے اس کی پیشانی چوم لی۔
’’جہاں میرا دل چاہے لے جاسکتا ہوں کوئی اعتراض؟‘‘ بہت دنوں کے بعد وہ اپنی پرانی ٹون میں واپس آیا تھا‘ مریرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’نہیں‘ مگر میرے بیٹے کو بخار ہے میں اسے اتنی ٹھنڈ میں باہر لے کر نہیں جاسکتی۔‘‘
’’صرف تمہارا بیٹا؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ وہ بہت گہری نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا‘ مریرہ نے رخ پھیرلیا۔
’’کب سے بخار ہے اسے؟‘‘
’’پچھلے دو روز سے۔‘‘
’’مجھے کیوں نہیں بتایا؟‘‘
’’آپ کو کیوں بتاتی میں؟ آپ کا کیا تعلق ہے اس کی ذات سے؟ آپ نے تو مجبوراً میری شرط پوری کی تھی اسے کیسے اور کتنے درد اکیلے سہ کر پیدا کرنا ہے پالنا ہے یہ میرا درد سر ہے آپ کا نہیں۔‘‘ وہ جذباتی ہوئی تھی‘ صمید نے رخ پھیرلیا۔
’’ایسا مت کہو پلیز‘ وہ میری بھی ذات کا حصہ ہے کیونکہ اس نے اس عورت کے بطن سے جنم لیا ہے جسے میں اپنی زندگی مانتا ہوں۔‘‘
’’بکواس ہے یہ‘ نرا فریب ہے جو اول روز سے آپ دے رہے ہیں اور میں اس کا شکار ہورہی ہوں۔‘‘
’’مریرہ…‘‘ صمید کو دکھ ہوا تھا جب ہی وہ چلا اٹھی۔
’’کچھ غلط نہیں کہا ہے میں نے‘ میں نے غلط سمجھا تھا آپ کو یہ میری غلطی تھی۔ مجھے ایسا لگا تھا کہ آپ دنیا کے دوسروں مردوں کی طرح نہیں مگر میں غلط تھی۔ مرد جس کلاس کے بھی ہوں ان کی فطرت ایک جیسی ہوتی ہے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کی موجودہ سرگرمیوں سے واقف نہیں ہوں تو یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے‘ جرم اور گناہ کبھی چھپائے نہیں چھپتے۔‘‘
’’کیسا جرم… کیسا گناہ؟‘‘ صمید کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا‘ مریرہ کی نم آنکھیں سرخ ہوگئیں۔
’’جس گناہ اور جرم کی میں بات کررہی ہوں آپ اس سے بے خبر نہیں ہیں۔‘‘ وہ اپنے اندر طوفان چھپائے ہوئے تھی۔ صمید کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ جانتی ہوگی تبھی اس نے نظریں چرائی تھیں۔
’’میں نے کوئی گناہ یا جرم نہیں کیا۔‘‘
’’بالکل… آپ کی نظر میں یہ جرم یا گناہ ہو بھی کیسے سکتا ہے‘ گھر میں بیوی ہوتے ہوئے پرائی لڑکیوں کے ساتھ عیاشی کرنا‘ جھوٹ بولنا‘ کام کا بہانہ بناکر اپنی بیوی کو دھوکے میں رکھنا… یہ سب آپ کی نظر میں غلط ہو بھی کیسے سکتا ہے اگر یہی سب میں کرتی تب میں آپ سے پوچھتی یہ جرم یا گناہ ہے کہ نہیں۔‘‘ صد شکر کہ وہ ابھی پورے سچ سے آگاہ نہیں تھی‘ تبھی وہ رخ پھیرے پھیرے بولا تھا۔
’’اتنی پارسا تو تم بھی نہیں ہو جتنا خود کو دکھاتی رہی ہو۔ میں بھی تمہارے ماضی سے بے خبر نہیں ہوں۔‘‘ پارسا عورت کے لیے اپنے ہی شوہر کے منہ سے نکلنے والے ایسا الفاظ کتنی تکلیف کا باعث بنتے ہیں کاش کوئی اس لمحے مریرہ صمید سے پوچھتا۔
’’کیا ہے ایسا میرے ماضی میں جو میں نے چھپایا ہے مگر پھر بھی آپ جانتے ہیں۔‘‘ پتھرائی آنکھیں اب لہو رنگ ہورہی تھیں‘ صمید نے دل کا بوجھ نکال پھینکنے میں ہی بہتری جانی۔
’’تم بھی اچھی طرح واقف ہو کہ میں تمہارے ماضی کے کس راز کے بارے میں بات کررہا ہوں۔‘‘
’’میں واقف نہیں ہوں آپ بتائیں آپ کیا جانتے ہیں میرے ماضی کے بارے میں؟‘‘
’’میں نے بتا بھی دیا تو تم اپنی صفائی کیسے پیش کرو گی؟‘‘
’’وہ میرا مسئلہ ہے کہ مجھے صفائی پیش کرنی ہے یا نہیں‘ آپ مجھے وہ بتائیں جو آپ جانتے ہیں۔‘‘
’’تمہارے اور عمر عباس کے بیچ کیسے معاملات تھے؟‘‘ اچانک اس نے پوچھا تھا اور وہ کنگ رہ گئی تھی۔ ’’اب پلیز یہ مت کہہ دینا کہ کون عمر عباس؟‘‘
’’میرے اس کے ساتھ جو بھی معاملات تھے بڑے ابا اور حویلی والوں سے پوشیدہ نہیں تھے اگر اس کے ساتھ میرا ذاتی معاملہ ہوتا تو آج میں عمر عباس کی بیوی ہوتی آپ کی نہیں۔‘‘
’’اسی بات کا تو روگ پال رکھا ہے اس نے‘ یہی غم تو اسے سیدھے منہ مجھ سے بات نہیں کرنے دیتا۔ اسی صدمے کی وجہ سے تو ابھی تک وہ کنوارہ بیٹھا ہے‘ شاید تم نے اسے امید دلائی ہو کہ جلد ہی مجھ سے چھٹکارا پاکر تم اس کے ساتھ نکاح پڑھ لو گی‘ آخر یونہی تو حویلی بھاگ بھاگ کر نہیں جاتیں تم۔‘‘ لفظ برچھیوں کی صورت دل پر کیسے لگتے ہیں مریرہ رحمان کو بخوبی اندازہ ہورہا تھا۔ اسے لگا جیسے کسی نے بیچ بازار میں اس کے سر سے چادر چھین لی ہو۔
صمید حسن کے اندر اس کے لیے اتنا گند بھرا ہوگا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی تبھی اس کی آنکھیں چھلکی تھیں۔
’’بس بہت ہوگیا صمید! اس کے بعد ایک لفظ نہیں۔‘‘
’’کیوں؟ خود پر بات آئی تو ناقابل برداشت ہوگئی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہر سچائی سے بے خبر جب تم مجھ پر لفظوں کی سنگ باری کررہی تھیں تو مجھے بھی ایسے ہی تکلیف ہوئی تھی۔‘‘ وہ شاید کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا مگر مریرہ نے اسے اس کا موقع نہیں دیا وہ پلٹی اور پھر بناء کچھ کہے کچن سے باہر نکل گئی تھی۔
/…ء…/
رات میں زاویار کا بخار مزید بڑھ گیا تھا۔ وہ بہت زور زور سے رو رہا تھا اور مریرہ اسے چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی جب صمید کمرے میں اس کے پاس چلا آیا۔
’’لائو ادھر مجھے دو۔‘‘
’’نہیں میں سنبھال لوں گی۔‘‘ اس کا چہرہ بتارہا تھا کہ وہ مسلسل روتی رہی ہے‘ صمید کو بے ساختہ پشیمانی نے آگھیرا۔
واقعی اس نے مریرہ سے بہت نامناسب الفاظ کہہ ڈالے تھے جو کچھ اس نے قمر عباس اور عمر عباس کے درمیان سنا تھا وہ محض ایک غلط فہمی بھی تو ہوسکتی تھی تبھی وہ بولا تھا۔
’’مریرہ میں بہت پریشان ہوں پلیز مجھے اور پریشان مت کرو۔‘‘
’’پریشان نہیں کرنا چاہتی اسی لیے تو کہہ رہی ہوں آپ جاکر سوجائیں‘ میں اپنے بیٹے کو سنبھال لوں گی۔‘‘ مریرہ کا لہجہ سپاٹ تھا وہ چڑ گیا۔
’’صرف تمہارا بیٹا نہیں ہے یہ‘ سمجھی؟‘‘ کہنے کے ساتھ ہی اس نے زاویار کو مریرہ کی بانہوں سے نکال لیا تھا۔ اگلے ہی پل وہ گھر سے باہر نکلا اور گاڑی نکال کر لے گیا‘ مریرہ محض دیکھتی رہ گئی تھی ۔
/…ء…/
سرینگر سے 28 کلومیٹر شمال کی جانب جھیل ماسنبل کے کنارے پر ایک چھوٹا سا خوب صورت گائوں ماسنبل صفا پورہ آباد ہے۔ سدید علوی کو اسی گائوں میں پہنچنے کا حکم دیا گیا تھا۔
کپواڑہ سے لولاب… لولاب سے بانڈی پورہ اور بانڈی پورہ سے سردیوں کے شدید موسم میں بے حد مشکل ترین سفر کرتے ہوئے وہ احبس بازی پورہ سے سیدھا گاوں ماسنبل صفا پورہ پہنچا تھا جس کے مشرق میں طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔
’’کرش ٹاپ‘‘ نامی بلند و بالا پہاڑ بھی اسی گائوں میں واقع ہے۔ یہ طویل پہاڑی سلسلہ شمال کی جانب بانڈی پورہ اور پھر گائوں لولاب سے جاملتا ہے جبکہ جنوب کی طرف یہ سلسلہ گاندر بل اور صورہ سے ہوتے ہوئے ترل کی فلک بوس چوٹیوں کے ساتھ جاملتا ہے۔ چھ گائوں پر مشتمل علاقہ صفا پورہ دو خوب صورت جھیلوں کے درمیان واقع ہے ایک طرف جھیل ماسنبل کی نیلگوں لہروں نے علاقے کے حسن کو چار چاند لگا رکھے ہیں تو دوسری طرف مغرب کی جانب لہلہاتے ہوئے کھیتوں سے گزرتا دریائے جہلم گویا پورے علاقے کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ انہی پر فضا وادیوں میں ایک چھوٹا سا گائوں چیوا تھا جو کرش ٹاپ کے دامن میں آباد تھا۔ پہاڑ سے گرنے والے جھرنوں اور آبشاروں کی چھم چھم کرتی آواز جب رات کے وقت بند کمروں کے اندر آتی تو یوں محسوس ہوتا گویا کوہ قاف پر پریاں گنگنا رہی ہوں۔
اس گائوں کو چاروں طرف سے لہلہاتے کھیتوں اور سیبوں کے باغات نے گھیر رکھا تھا۔ موسم بہار میں علاقے کی خوب صورتی اور دلکشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ سرسوں کے پھولوں سے لدے ہوئے کھیت پورے ماحول کو معطر کردیتے تھے۔ اسی گائوں میں طیب احمد کا گھر تھا جو کشمیری مجاہد تھے اور جس کا سب سے بڑا خواب ہزاروں نوجوانوں کی طرح وادی کشمیر کی آزادی تھی جس پر بھارتی حکومت نے ناجائز طاقت کے بل پر قبضہ کر رکھا تھا۔
فاطمہ‘ طیب احمد کی بہن اور بے حد دلیر لڑکی تھی۔ اس کی عمر چوبیس سال مگر عزائم بے حد بڑے تھے اپنے مجاہد بھائی طیب احمد سے اس نے بندوق چلانی بھی سیکھ رکھی تھی۔ فاطمہ سے چھوٹا طلحہ تھا جسے بھارتی فوج کی درندگی نے ایک ہاتھ سے معذور کردیا تھا۔ طلحہ سے پانچ سال چھوٹی عائشہ تھی جو بے حد خوب صورت بچی تھی۔ سدید چونکہ یہاں ایک مجاہد کی حیثیت سے آیا تھا لہٰذا اسے طیب احمد کے گھر والوں سے بے تحاشا پیار ملا۔
شام ڈھل چکی تھی‘ جھیل ماسنبل سے آتی سرد ہوائوں کے تھپڑوں اور سفر کی تھکن نے سدید کو بے ساختہ بستر میں پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا تبھی ننھی عائشہ جس کا چہرہ کسی تازہ سیب کی طرح سرخ و سفید تھا ہاتھ میں کانگڑی لیے اس کے پاس چلی آئی۔
’’یہ لیں صدید بھائی اسے اپنے بستر میں رکھ لیں‘ سردی کا احساس یوں اڑن چھو ہوجائے گا۔‘‘ چٹکی بجاکر کہتے ہوئے اس ننھی پری نے اسے اس کے فرضی نام سے پکارا تھا جو یہاں آنے سے پہلے اس کے افسران نے اسے ڈی کوڈ کیا تھا۔
طیب احمد کے گھر والے اسے اسی نام کی شناخت سے جانتے تھے۔ سدید ننھی عائشہ کے ہاتھ میں کانگڑی دیکھ کر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ کشمیر کی مقبوضہ وادی میں یہ اس کا پہلا سفر اور قیام تھا لہٰذا کانگڑی کو دیکھ کر حیران ہونا فطری بات تھی۔ ننھی عائشہ کے ہونٹ کانگڑی سے اس کی لاعلمی پر مسکرائے تھے۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’یہ کیا ہے اور میں بھلا اس کا کیا کروں گا؟‘‘ اس نے ایک نظر کانگڑی پر ڈالتے ہوئے ننھی عائشہ کے سوال کے جواب میں پوچھا تھا تبھی وہ کھل کر ہنس پڑی پھر اس کی معلومات پر افسوس کرتے ہوئے بولی۔
’’آپ کو اتنا بھی نہیں پتا کہ یہ کیا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ اس نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا تبھی احمد نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی مشکل آسان کی تھی۔
’’یہ کانگڑی ہے‘ ہمارے کشمیری کلچر کا ایک اہم حصہ‘ یہاں کشمیر میں اس کے بغیر سردیاں گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ کشمیر میں وہ غریب لوگ جو الیکٹرک روم ہیٹر افورڈ نہیں کرسکتے ان کے لیے یہ چھوٹی سی چیز ہی غنیمت ہے۔ یہاں ہمارے لوگ اسے بستر میں رکھ کر نہ صرف اپنے بستر گرم کرتے ہیں بلکہ اسے دستوں سے پکڑ کر کشمیر کا ہر بوڑھا‘ بچہ‘ جوان بے خوف وخطر اسے اپنے فیرن (کشمیری جبہ) میں رکھ کر جہاں چاہے مزے سے گھوم پھر سکتا ہے۔‘‘
’’وائو‘ پھر تو یہ واقعی کمال کی چیز ہے۔‘‘ حیرانی سے کہتے ہوئے سدید نے اس چھوٹی سی ٹوکری کو غور سے دیکھا جو لکڑی کے نہایت باریک تنکوں سے بنائی ہوئی تھی۔ اوپر کی طرف دو خوب صورت دستے بنے ہوئے تھے اور اندر کی طرف مٹی کا چھوٹا سا پیالہ نصب کیا تھا جس کے اندر دہکتے ہوئے سرخ انگارے واضح دکھائی دے رہے تھے۔
’’اگر میں بستر میں رکھوں تو کیا بستر نہیں جلے گا؟‘‘
’’جلے گا‘ جب تک آپ اس کے استعمال میں ماہر نہیں ہوں گے آپ کانگڑی سے استفادہ حاصل نہیں کرسکتے۔‘‘ اس بار طیب کے بزرگ باپ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔ سدید نے یہ جواب سن کر فی الحال اسے محض ہاتھ گرم کرنے تک ہی رکھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close