Aanchal Feb 16

نیرنگ خیال

ایمان وقار

غزل
اپنے ہمسائے کے آنگن کا اندھیرا بھی مٹے
اک دیا ایسا کسی شام جلا کر دیکھیں
آج وہ رنگ کی دولت سے محروم ہوئے
جن کی خواہش تھی کہ خوشبو کو پکڑ کر دیکھیں
ہاتھ ہی چھیل دیئے وقت کی زنجیروں نے
ہوں لکیریں تو مقدر کو بھی پڑھ کر دیکھیں
میرے ہنستے ہوئے لفظوں پر نہ جائو لوگو
کیسے ہنستی ہے پھر فری ساتھ میں ہنس کر دیکھیں

فریدہ جاوید فری… لاہور

سال نو مبارک
وعدوں کے نڈھال حرفوں پر
جمتا جارہا ہے
اداسیوں بھرا انتظار
یک لخت…
میں چونک اٹھی آہٹوں پر
مانوس سنناہٹوں پر
تیرے ہاتھوں کا لمس
جب سرسرایا میرے شانوں پر
تیرے ہونٹوں کی گنگناہٹ
تیری سرگوشی اور میری سماعت
بن کے جسم و جاں میں
دلفریب آہٹ
تیرے حرف اشکبار
بنے مداوا نے انتظار
جو کہے لفظ مہکار تو نے
سال نو مبارک ہو
سال نو مبارک ہو

فصیحہ آصف خان… ملتان

غزل
ا بھی تم خود کو مچلنے دو
اس دل کو بھی پھسلنے دو
مت بجھا چراغ محبت ابھی
ذرا اس موسم کو پگھلنے دو
کچھ پل ٹھہرو پھر چلے جانا
ان کلیوں کو بہلنے دو
اے دل مت روک اسے
زہر دل اس کو اگلنے دو
یہ وقت بھی تھم جائے گا
بس مجھے خود میں بدلنے دو
وہ تیرا ہی سدا رہے گا
اسے تم ہر چال چلنے دو
آزاد پنچھی اڑ جانا
اس سورج کو ڈھلنے دو
وہ خود ہی لوٹ آئے گا
دل میں عشق کی آگ جلنے دو

عروبہ عباس… کوٹلہ جام‘ بھکر

غزل
عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے کرنے والا
اک پل میں توڑ گیا اپنا ہر وعدہ وہ
کہا تھا اس نے کہ اپنی ہر خوشی مجھے دے گا
چھین کر خوشیاں میری غم مجھے دے گیا وہ
کہا تھا اس نے کہ وہ تو میرے اپنوں میں ہے
پھر کیوں مجھے اپنوں ہی کی نظروں میں گراگیا وہ
کہا تھا اس نے کہ مجھ سے بچھڑا تو مرجائے گا
روح میری مجھ سے جدا کرکے گیا وہ
کہا تھا اس نے کہ اسے سچی محبت ہے مجھ سے
جانے کیوں لفظ محبت کو بدنام کر گیا وہ

ثانیہ مسکان… گوجر خان

نظم
مجھے لگا تھا
بھلا چکی تم کو
مگر…
آج ذکر جب تمہارا چھڑا
تو تمہاری تعریف میں
میں نے خود کو
بے تکان بولتے سنا
مالا بھٹی رانا…
آج کا انسان
کیوں آج کا انسان پریشان دیکھتی ہوں
رنج و الم کا مارا ہوا ہراساں دیکھتی ہوں
مال و دولت‘ عزت و شہرت سب پاس ہے اس کے
پھر بھی بے سکونی کا اک عالم ہے اسے حیران دیکھتی ہوں
سر بازار بک رہی ہے عزت عورت کی
اور مرد مسلم کی بے حسی ہر آن دیکھتی ہوں
مال و دولت سے مالا مال ہے آج کا انسان
مگر محبت سے دور بہت دور بے سرو ساماں دیکھتی ہوں
احتساب عمل سے گزری تو یقین ہوا
مذہب سے دور آج کا ہر انسان دیکھتی ہوں
سکون کی دولت سے شاد ہے دل جس کا اسماءؔ
اس کو خدا کے بہت قریب اور شاداں دیکھتی ہوں

اسماء نور عشا… بھوج پور

کوئی اپنا نہیں
اس دنیا میں
سب اکیلے ہیں
کیسی محبت‘ کیسی وفائیں‘ کیسے پیار کے سپنے
آج خیالوں میں بھی نہیں ساتھ جو کل تھے اپنے
جھوٹے ہیں سب جگ کے میلے
سایہ بھی دینا نہیں
کاغذ کی ایک نائو ہے جیون
کوئی مانجھی نہیں
بیچ بھنور میں کون بچائے
ڈوبتے من کا کوئی نہیں
کہتے ہیں یہ موجوں کے ریلے
کوئی کنارا نہیں

مشا علی مسکان… قمر مشانی

بے وفا خواب
اک خواب تھا اک دریا تھا
اک جگنو تھا اک قریہ تھا
نیناں میں بستے تارے تھے
خوابوں میں سجتے سارے تھے
دھول وفا میں کانٹے سارے
جھک جھک وضو کرتے تھے
مست صبا میں پھول اور شبنم
جگ جگ ہنستے جیتے تھے
کوہِ ہوس کے دامن سے پھر
ظلم کے بادل اٹھے تھے
سرسبز وادی و دامن سارے
خون کی رم جھم مینہ میں ڈوبے
ڈالی شاخ اور غنچہ غنچہ
ماضی کی یادوں میں گم تھا
آس امید کا دریا ٹوٹا
بے بسی کی لہر میں ڈوبا
جگنو تھا سو روٹھ گیا
خواب تھا سو ٹوٹ گیا

ماہ نور نعیم… بھکر

آنچل کے نام
جب بھی ہاتھ میں آتا ہے آنچل
ساتھ بہت بہت کچھ لاتا ہے آنچل
پھر بھیگی بھیگی شام میں ہر پل
چاند بن کر جگمگاتا ہے آنچل
اپنے سنہری لفظوں سے ہمیشہ
اچھی باتیں پھیلاتا ہے آنچل
نا امیدی کے اندھیرے میں بہنوں
آس کی کرن تھماتا ہے آنچل
تکیے کے نیچے رکھا شب بھر
خواب نئے دکھاتا ہے آنچل
ہمیشہ اپنے خاموش لبوں سے
گھر گھر پیغام پہنچاتا ہے آنچل
ہر کسی کو خوش رکھنے کا
انمول خزانہ لٹاتا ہے آنچل
ایک بہنوں اور ایک رہو ثمریؔؔ
یہ ہی تو سب سمجھاتا ہے آنچل

ثمرین یعقوب ثمری… سرگودھا

فانی جہاں
فنا کا مقام ہے یہ دنیا
پھر بھی جان جہاں ہے یہ دنیا
مٹی کا انسان اور مٹی میں ہی ملنا ہے
پھر بھی ذوق اعلیٰ رکھتی ہے یہ دنیا
لکھا ہے جو تقدیر میں ملنا ہے وہی سبھی کو
پھر بھی تدبیریں کرتی ہے یہ دنیا
کتنے امتحان ہیں اس میں
پھر بھی دلکش ہے یہ دنیا
سب جانتے ہیں کہ
فنا کا مقام ہے یہ دنیا
پھر بھی مست جہاں ہے یہ دنیا
اک دن جانا ہے وہیں سب کو
پھر بھی سرو سامان ہے یہ دنیا
فنا کا مقام ہے یہ دنیا
پھر بھی جان جہاں ہے یہ دنیا

مہرمہ ارشد بٹ… گوجرانوالہ

خوب صورت لمحے
سنو اے خوب صورت لمحوں کے جیسے!
میری آنکھوں میں تیری چاہت کے جگنو
ہر پل مسکراتے ہیں
پیار کا گیت گاتے ہیں…
سنو اے سرمئی شاموں کے جیسے!
تمہاری مسکراہٹ میں ہے چھپا
میرا رازِ زندگی…
ساز زندگی…
سنو اے بارشوں کے حسین موسم کے جیسے
تمہاری چاہت کا احساس میرے رگ و پے میں
سرایت کرتا ہے
تیرااحساس مجھ سے محبت کرتا ہے
اور بے پناہ محبت کرتا ہے
سنو اے خواہش اولین کے جیسے
تمہاری ذات کا ہر پہلو ہے میرے لیے
قابل عزت…
قابل چاہت…
سنو اے خوب صورت لمحوں کے جیسے

سامعہ ملک پرویز… خان پور‘ ہزارہ

غزل
ہم نے تو زندگی کو بھی زندگی کہا تیرے ملنے کے بعد
مٹ گئی دل کی سب حسرتیں تجھے اپنا کہنے کے بعد
حسین پوشاک میں لپیٹ کر اپنے کافر سے بدن کو
ہوش نہیں رہتا مجھے تجھے مسکراتا دیکھنے کے بعد
صدیاں گزری سنتے ہی نہیں میرے چشم سے تیرے نقش و پا
میری آنکھوں کی گلیوں میں تیرا گزر ہوجانے کے بعد
سلجھی زلفیں‘ تیرا کھلتا چہرہ اور حسن بھری یہ رنگت
سیدھی موت ہے میری تجھے اتنی سجاوٹ سے دیکھنے کے بعد
اب تو کسی کو اپنا کہنے کی ضرورت ہی نہ رہی مجھے
تیرے ہونٹوں سے اپنا نام سن لینے کے بعد
جاتے جاتے اگر یہ بھی سنتا جا تو بہتر رہے گا ہادیؔ
خالی نہ رہا میرے دل کا مکان تیرے یہاں آنے کے بعد

خان بلوچ… بسال شریف

آنچل
وہ آنچل کا تمہارے سر سے سرکنا یاد آتا ہے
گلی میں چلتے ہوئے ڈرنا تمہارا یاد آتا ہے
کبھی برستی ہوئی بارش میں جب تم بھیگ جاتے ہو
وہ بھیگا ہوا آنچل تمہارا یاد آتا ہے

شہزادی… نامعلوم

غزل
میرے آنسو خود زبان ہیں
میرے جذبے خود بیان ہیں
مجھے شکوہ نہیں کوئی دلبر سے
سارے میرے ہی گمان ہیں
دبی سسکی بھی نہ نکل سکے
میرے لب یوں بے جان ہیں
نوک قلم سے کررہی ہوں بیاں
میرے دل میں جو ارمان ہیں
مجھ میں حوصلہ ہے ان سے ٹکرانے کا
میرے رستے میں جو طوفان ہیں
بازی عشق جیتے تو کیا کہتے ایمؔ
گر ہارے بھی تو ہم یکجان ہیں

ایم فاطمہ سیال… محمود پور

نظم
سنو…!
محبت ایسی ہی ہے
اسے ہونے میں
اک لمحہ ہی کافی ہے
مگر…
اسے بھلانے میں
کبھی صدیاں
تو کبھی عمریں
گزر جاتی ہیں

نوشین… حاجی شاہ (اٹک)

آزادی
کہیں ہیں سیلاب‘ کہیں زلزلے ہیں
کہیں بارشیں تو کہیں طوفاں کھڑے ہیں
نہ چھت ہے سر پر نہ زمیں پیروں میں
دیکھو! کتنے لوگ دربدر پڑے ہیں
ہر سال نئی کہانی ہے وہی پرانی
ہر جا تباہیوں کے وہی سلسلے میں
وہی قیامت‘ وہی مہاجر‘ وطن وہی ہے
اب بھی اگست سے وہ ایسے جڑے ہیں
کیسے عیدیں منائوں میں کیسے مسکرائوں صبحؔ
میرے دل میں اپنوں کے لیے درد بڑے ہیں
یہ جو بلائیں تو کہیں سزائیں اتر رہی ہیں
کیا گناہ صرف میرے وطن میں ہوئے ہیں
کیا گناہ صرف میرے ہی وطن میں ہوئے ہیں؟

ثوبیہ بلال صبحؔ… ظاہر پیر

لوٹ آئوں گا
ہاں میں لوٹ
آئوں گا…
تم نے کہا تھا
بارش بن کر برسوں
گی…
ساون رُت کا
انتظار کیوں
تم عہد نہ توڑو
ہاں میں لوٹ آئوں گا

اسحاق انجم… کنگن پور

غزل
نہیں تم سے کوئی شکوہ نہیں کوئی شکایت ہے
کہ سہہ کر درد چپ رہنا یہ بھی تو اک عبادت ہے
ہمیں جو چاہو دے ڈالو سزا اپنی محبت میں
بھلا اپنی محبت سے ہوئی کس کو شکایت ہے
چاہے جتنے ستم کرلو نہ آہیں لب پر آئیں گی
ستم سہہ کر بھی ہنس دینا صنم اپنی یہ عادت ہے
اگر تم جان بھی لے لو نہیں ہوگا کوئی شکوہ
میری زیست ہے کب میری یہ تو تیری امانت ہے
ہمیں تم سے محبت ہے جو تم چاہو سزا دے دو
نہ ہو جس میں ستم کوئی بھلا کیسی محبت ہے
ابھی سے تھک گئے ہو تم ستم کرکے صنم میرے
کہ اس پاگل دیوانے کو ابھی تک تیری حسرت ہے
تمہیں دل سے بھلانے کی نہ پوری ہوسکی حسرت
نہ جانے بے وفا تم سے ہمیں کیسی یہ چاہت ہے
چلو دیکھیں کسی پر پھر یقیں کرکے محبت میں
کہ جینے کی نہ اب باقی ہمیں کوئی بھی حسرت ہے
محبت کی تو راحلؔ محبت کی سزا پائی
کسی سے بھی نہیں شکوہ دغا باز اپنی قسمت ہے

عنایت اللہ راحلؔ… کبیر حیل موچھ

غزل
پہلے لگا کہ دل یہاں میرا اداس ہے
پھر یہ کھلا کہ سارا زمانہ اداس ہے
یہ آنکھ تیرے نام تھی یہ شام تیرے نام
اب میں اداس ہوں یا ستار اداس ہے
اس کے بغیر لگتا نہیں تھا کہیں یہ دل
جب سے وہ مل گیا ہے زیادہ اداس ہے
ہر شخص اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے جہاں
ہر شخص اپنے آپ میں تنہا اداس ہے
کرنے چلی ہوں تازہ محبت کی رسم کو
کچے گھڑے کو دیکھ کر دریا اداس ہے
پاگل ہوا نے رات چراغوں سے یہ کہا
اس کے بغیر چاند بھی کتنا اداس ہے

تمثیلہ لطیف… پسرور

غزل
کسی بھی طور کوئی ہمسفر نہیں ملتا
ہاں قسمتوں کا ستارہ اگر نہیں ملتا
وہ بے خودی میں شب و روز کھویا رہتا ہے
تلاش کرتا ہے پر اس کو گھر نہیں ملتا
ہے اپنے آپ سے تو بے خبر جہاں لیکن
ہو میری ذات سے جو بے خبر نہیں ملتا
کہاں گزاریں گے شب بارشوں کے موسم میں
تلاش کرتے ہیں طائر شجر نہیں ملتا
ہم ہاتھ سب سے ملاتے ہیں روز و شب لیکن
کسے لگائیں گلے معتبر نہیں ملتا
اے آسمان مری بستیوں کے جنگل میں
مکان ملتے ہیں افسوس گھر نہیں ملتا
ارادہ کرتے ہیں ہم روز تجھ سے ملنے کا
مگر نصیب سے اذنِ سفر نہیں ملتا
نہ چاہے دل تو بزرگوں کی خو نہیں آتی
کسی کو ورثے میں نیرّہنر نہیں ملتا

نیّر رضوی… لیاقت آباد‘ کراچی

غزل
ہوا بھی صورت دیوار چپ ہے
نگاہ دلبراں کیوں یار چپ ہے
میرے مرنے کا اس کو دکھ ہے شاید
کہ یارو آج ظالم دار چپ ہے
اندھیرے سے سہم جاتا ہے شاید
میری نگری کا پہرے دار چپ ہے

انا احب… گجرات

تم ہو
میری جان ہو تم‘ میری زندگی تم ہو
آرزو جستجو میری بندگی میں تم ہو
بھول جائوں تمہیں یہ تو ممکن نہیں
میری ہر نظر کی دل کشی میں تم ہو
بدل بھی ڈالوں میں خود کو لیکن
میرے ہر خیال ہر سوچ‘ میری آگہی میں تم ہو
چاہوں مگر نہ چاہوں تیرے سوا کسی کو
میری پہلی محبت اور خواہش آخری تم ہو

عائشہ پرویز… کراچی

نظم
نہیں ہے اوقات بشر کی کہ کرسکے ادا
شکر ان گنت نعیم و حق کامل بندگی کا
لازم ہے دعا میں نمی چشم‘ ندارد اشک ہو اگر
مانگ اشک ‘ کون کہتا ہے اشک مانگنا نہیں ہے دعا
کھوکھلی ہیں توقعات بزم فنا کے بے بنیاد سہاروں سے
لو رب سے لگا‘ جزائے رب کو تو نہیں جانتا
کھوکر دھندۂ جہاں میں‘ چاہے بھول جائوں مدعا اپنا
دل تو میرا لذت ذکر الٰہی سے نہیں ہے نا آشنا

مدیحہ اکرم کششؔ… ہری پور

نظم
سنا ہے یاد کرتے ہو
کہ جب بھی شام ڈھلتی ہے
ہجر میں جان جلتی ہے
تم اپنی رات کا اکثر سکون برباد کرتے ہو
سنا ہے یاد کرتے ہو
کہ جب پنچھی لوٹ آتے ہیں
غموں کے گیت گاتے ہیں
سنو… تم لوٹ آئو نا
یہی فریاد کرتے ہو
سنا ہے یاد کرتے ہو
ستارے جب فلک پہ جگمگاتے ہیں
وہ بیتے ہوئے پل خوب رلاتے ہیں
تم اس دم اپنی آنکھوں میں مجھے آباد کرتے ہو
سنا ہے یاد کرتے ہو…
مجھے تم یاد کرتے ہو…

ناہید بشیر رانا… رحمان گڑھ

غزل
ہر سمت غم ہجر کے طوفان ہیں محسن
مت پوچھ کہ ہم کتنے پریشان ہیں محسن
ہر چہرہ نظر آتا ہے تصویر کی صورت
ہم شہر کے لوگوں سے بھی انجام ہیں محسن
جس شہر محبت نے ہمیں لوٹ لیا ہے
اس شہر سے اب کوچ کے امکان ہیں محسن
کشتی ابھی امید کی ڈوبی تو نہیں ہے
پھر کیوں تیری آنکھوں میں یہ طوفان ہیں محسن
کر ان کا ادب‘ رکھ انہیں سینے سے لگا کر
یہ درد‘ یہ تنہائیاں مہمان ہیں محسن

جاناں… چکوال

نظم
بہت مشکل لگتا ہے
تم ناممکنات میں سے سمجھ لو
تم سے دستبرداری اختیار کرنا
کہہ دینا الوداع تمہیں
جدا کرلینا راستے تم سے
یہ شاید جب ممکن ہوتا
کہ اختیار ہوتا مجھے خود پر
اب تو بے اختیار ہوں میں
با اختیار ہو تم
سنو تم بھی ایسی کوئی کوشش نہ کرنا
کہ تم بن جیا نہیں جاتا
اب تم بن رہا نہیں جاتا

کوثر ناز… حیدر آباد

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close