Naeyufaq Jan 19

فن پارے

ادارہ

یہ تیری دنیا… تسنیم شریف

میں محسوس کر رہا تھا کہ جیسے جیسے دنیا میں آنے کے دن قریب آرہے تھے میری ماں ایک ہیجان کا شکار تھی۔ اس سے پہلے جب اسے پتا چلا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے تو ایک خوشی و مسرت اس کے وجود میں رچ بس گئی تھی، مگر جوں جوں اس دنیا میں میری آمد کے دن نزدیک آتے جا رہے تھے۔ وہ پتا نہیں کیوں انجانے سے خدشات کا شکار ہوگئی تھی۔ مین اس دنیا کا باسی نہیں تھا، لہٰذا یہاں کے بارے مین زیادہ نہیں جانتا تھا مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ میں جس شہر میں جنم لینے والا ہوں وہ روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے۔ جہاں راتیں بھی دن کی طرح جاگتی ہیں۔ اور زندگی سے بھر پور ہیں۔ غریب پروری اس کا طرۂ امتیاز ہے تو ہم دوری و غم گساری بھی اسی کا خاصہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ میں جس ماں باپ کے ہاں جنم لینے والا تھا اگرچہ وہ غریب تھے مگر قناعت اور صبر کی دولت سے مالا مال تھے۔
پہلے پہل مجھے غریب کا پتا نہیں تھا کہ یہ کیا جیز ہوتی ہے جب ایک دن… ایک پورے دن مجھے رحم مادر میں غذا نہیں ملی تو میں بھوک سے بلبلا اٹھا۔ میرے بلبانے سے میری ماں کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ میں اپنی ماں کو کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا تو اس لیے میںنے دم سادہ لیا۔ اس روز مجھے پتا چلا کہ بھوک کیا چیز ہوتی ہے۔ بھوک ماں کو رلادیتی ہے۔ تڑپادیتی ہے۔ بجے کو شرمندہ کردیتی ہے۔ بھوک ایک ظالم درندے کا نام ہے۔ مگر سچ پوچھیں تو مجھے اس وقت یہ بھی پتا نہین تھا کہ یہ ظلم کس بلا کا نام ہے اور اس کے کتنے اور کیسے کیسے چہرے ہوتے ہیں۔ میں تو بس اپنی ماں کی خوشی میں خوش تھا۔
اس وقت میں صرف ماں سے تعلق رکھتا تھا اس لیے اپنے باپ کے احساسات کو محسوس تو نہیں کرسکتا تھا مگر ماں کے رویے اور باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ میرا باپ بھی مجھ سے بے حدد محبت کرتا ہے۔ تب ہی تو وہ رات گئے تک کام کرتا تھا تاکہ میری آمد میں کوئی شے رکاوٹ نہ بنے۔ مجھے کوئی تکلیف نہ ہو۔ مگر فی الوقت تو میری ماں شدید تکلیف میں تھی۔ میری آمد میں بہت تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا تھا اور ایمبولینس ٹریفک جام میں پھنس گئی تھی۔ ماں کی چیخیں براہ راست میرے دل پہ اثر کر رہی تھیں۔ گاڑیوں کے ہارن زور زور سے بج رہے تھے۔ میرا باپ لوگوں سے راستہ دینے کے لیے التجا کر رہا تھا مگر اس کی التجائیں نامراد جا رہی تھیں۔ مجھے اس کی بے بسی پر تھوڑی سی شرمندگی ہوئی۔ وہ میری خاطر لوگوں کے سامنے رو رہا تھا۔ گڑ گڑا رہا تھا مگر میں کیا کرسکتا تھا۔ میرے آنے کا وقت مقرر تھا جس یں کوئی بھی کمی بیشی نہیں کرسکتا تھا۔ اچانک کسی نے میری کمر پر دوہتھڑ رسید کیا اور میری چیخ نکل گئی۔
یہ دنیا سے میرا پہلا تعارف تھا۔ مجھے آتے ہی جھٹکا لگا تھا۔ میں چیخ چیخ کر رونے لگا۔ اس لمحے مین نے ایک آواز سنی۔ ’’مارک ہو… بیٹا ہوا ہے۔‘‘
’’میرا روتا ہوا باپ بے تابی سے آگے بڑھا اور مجھے بازوئوں مین بھر لیا۔ اس کے آنسوئوں سے بھیگے گال اور ہونٹوں پر مسکراہٹ… دنیا کا یہ پہلا حسین منظر تھا جو میں نے دیکھا۔ مگر اچانک اندھیرا چھاگیا میں آگے کچھ نہ دیکھ سکا۔ اس لمحے میں نے دوسری آواز سنی۔
’’ لعنت ہو… یہ لوڈ شیڈنگ کا عذاب سے پتا نہین کب نجات ملے گی۔ ڈرائیور! گاڑی کو فوراً بائیں سمت میں موڑ لو… سڑک کی راستے اسپتال جاتے جاتے مریضہ جانبر نہ ہوسکے گی۔ گاڑی کی گلیوں پر موڑ لو…‘‘
اس آواز کے ختم ہوتے ہی گاڑیز لہرائی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں پر اچھلتی پھاندتی رستہ طے کرنے لگی۔ مجھے جھٹکے لگ رہے تھے مگر میرے باپ نے مجھے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ مجھے کوئی گزند نہ پہنچے۔ اچانک میری ناک اور آنکھوں میں جلن ہونے لگی۔ میں کسمسا اٹھا۔ میرے باپ نی ایک گیلا رومال فوراً میرے چہرے پر پھیلا دیا۔ اندھیرے کا باعث میں کبھی بھی دیکھنے سے قاصر تھا۔ صرف آوازیں سن رہا تھا۔ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ہڑتال کی گال دی گئی تھی۔ زبردستی دکانیں بند کرائی جا رہی تھیں۔ جگہ جگہ ٹائر جل رہے تھے۔ اچانک نہ جانے کس نے فائرنگ کردی۔ مظاہرین میں بھگڈر مچ گئی۔ پولیس نی علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ پولیس نے شیلنگ شروع کردی تھی۔ ڈرائیور غلطی سے اس جانب آنکلا تھا۔ جہاں یہ ہنگامہ بپا تھا اور ہماری ایمبولینس اس ہنگامے میں پھنس گئی تھی۔ مجھے سانس لینے مین دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ میرا سینہ جل رہا تھا۔ آہ…)) یہ کیسی دنیا تھی۔ اس سے پہلے میں جہاں رہتا تھا وہاں سکون تھا، خاموشی تھی۔ طمانیت تھی اور مجھے بتایا گیا تھا کہ مجھے جہاں بھیجا جا رہا ہے وہاں کے لوگوں کے دل بھی محبت سے لبریز ہیں۔ گرمجوشی، خلوص اور مدد کے جذبے سے سرشار… مگر دنیا اتنی جلدی بدل جائے گی مجھے اندازہ نہ تھا۔
’’فضا میں بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ جس سے میرا دم گھٹ رہا تھا۔ ماں نیم بے ہوش تھی۔ گاڑیوں کا قاتل دھواں، حبس، ہارنوں کا شور میری سانسوں کو بی ترتیب کر رہے تھے۔ ماں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی فوری طبعی امداد کی ضرورت تھی۔
اچانک ایک زور دار آواز گونجی۔ ماں اچھلی، تڑپی اور اس کی کراہیں خاموشی میں ڈھل گئیں۔
’’ڈرائیور … کچھ کرو… جلدی… میری بیوی کو گولی لگ گئی۔‘‘ میرا باپ گھبرا کے چلایا۔
پتھرائو اور دو طرفہ فائرنگ شدید تھی مگر میرے باپ کی آواز نے ڈرائیور میں بجلی بھر دی۔ اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر کمال بہادری و مہارت سے گاڑی کو ہجوم کے نرغے سے نکالا۔ گاڑی ایک بار پھر دوڑنے لگی۔ میرا باپ مجھے بھول کر ماں کو آوازیں دینے لگا اور میں سوچنے لگا کہ میں اب اس دنیا میں کیاک روں گا۔ مجھے جنم دینے والی ماں، میرا چہرہ دیکھنے سے پلے ہی اس دنیا سے چلی گئی۔
اگر وہ مجھے نہیں دیکھ سکی تو کیا میں بھی اسے نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے واپس جانا ہوگا۔ اپنی ماں کے پاس… ایک خوشی پانے کی اس نے بڑی بھاری قیمت ادا کی تھی۔ میں اسے اس خوشی سے محروم نہیں کرسکتا تھا۔
میں ے صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ سے واپسی کی دعا مانگی۔ دعا باب اثر سے گزر کر مقام قبولیت تک پہنچی اور میرے ارد گرد خاموشی چھاگئی۔
٭…٭…٭

مجسم وفا…عاصم شہزاد

حامد جیسے ہی اس کے قریب سے گزرا۔اس نے ہاتھ پھیلا دیا۔حامد پھیلا ہوا ہاتھ دیکھ کر رک گیا۔
اس کے سر اور داڑھی کے بال دھول سے اٹے ہوئے تھے۔گال اس قدر پچک چکے تھے کہ چہرے پہ داڑھی ہونے کے باوجود رخسار کی ہڈیاں نظر آرہی تھی۔
وہ لباس کے نام پر چند چیتھڑوں میں ملبوس تھا۔
مفلوک الحال شخص نے امید بھری ایک نگاہ حامد پہ ڈالی۔حامد نے کچھ سوچا اور پھر اسے شاید اس شخص کی حالت پہ ترس آگیا۔
اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک پچاس روپے کا نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
اس شخص نے نوٹ والا ہاتھ ماتھے کی طرف لے جاتے ہوئے شکریہ کا انداز اپنایا۔مگر حامد یہ سب دیکھنے سے پہلے ہی آگے بڑھ چکا تھا۔
…٭٭…
’’ارے یار یہ وجے کیا کر رہا ہے اب تک۔ چار ماہ ہوگئے اور ابھی تک کچھ خبر ہی نہیں۔‘‘
’’دھیرج رکھیے شرما جی یہ کوئی بچوں کا کھیل تو ہے نہیں کہ…‘‘
شرما کے سامنے بیٹھے شخص نے اس پہ ایک گہری نگاہ ڈالتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’پتہ نہیں تم نے کیا سمجھ کر اس نوسیکھیے کو اس مشن پر بھیج دیا۔میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ اس کے بس کا کام کا نہیں مگر تم یہ تہماری ہی ضد تھی۔‘‘ شرما کے لہجے میں غصہ اور مایوسی تھی۔
’’میں نے کہا نا شرما جی آپ بلکل چنتا مت کریں۔‘‘
اس شخص نے شرما کو تسلی دی۔
…٭٭…
اس دن کے بعد وہ فقیر قریبا ہر روز حامد کے سامنے آجاتا۔پہلے پہل تو حامد نے اس سے پہلو تہی اختیار کی کیونکہ وہ جس ادارے سے منسلک تھا اس کے اصول اسے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ کسی بھی شخص سے اتنا میل جول رکھے مگر یہ سوچ کر کہ ایک فقیر سے اسے کیا خطرہ ہوسکتا ہے، وہ اس سے مانوس ہوتا چلا گیا۔
’’ایک بات پوچھوں اگر برا نہ مانو تو۔‘‘
’’ہاں ہاں پوچھو۔‘‘ فقیر نے ہاتھ میں پکڑے سیب کو دانتوں سے کاٹتے اور چباتے ہوئے جواب دیا۔
’’تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔‘‘
فقیر نے ایک بھرپور نگاہ حامد پہ ڈالی۔ جیسے کہہ رہا ہو تمہیں یہ سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا مگر اس نے زبان سے ایسا کچھ نہیں کہا۔
پھر اس کے لبوں پہ ایک مختصر سی مسکراہٹ ابھری۔
’’یہ سب میری محبوبہ کی وجہ سے ہے۔‘‘
’’اچھا یعنی تمہیں پیار میں دھوکا ہوا ہے اور تم مجنوں بنے پھرتے ہو۔
’’کیا میں اس محبوبہ کا نام جان سکتا ہوں۔‘‘
’’وقت آنے پر بتائوں گا۔‘‘
اس کے بعد وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے کچھ دیر بعد حامد اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اچھا دوست میں چلتا ہوں صبح کام پہ بھی جانا ہے۔‘‘
اللہ حافظ کے الفاظ کا تبادلہ ہوا اور حامد وہاں سے چلا گیا۔
…٭٭…
آج اتوار تھا حامد اس وقت میڈیکل اسٹور پر موجود تھا۔
اس نے ایک پرچی کائونٹر کے پار کھڑے سیلزمین کو تھمائی۔ کچھ دیر بعد سیلزمین نے ایک سیرپ کی بوتل کائونٹر پر رکھی اور سرگوشیانہ انداز میں بولا۔’’آپ کی خاص دوا بھی آچکی ہے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ حامد نے فقط سر ہلانے پہ اکتفا کیا۔
اس دوران سیلزمین سیرپ کی بوتل اور وہ پرچی شاپر میں ڈال چکا تھا۔
حامد نے شاپر اٹھایا اور کیش کائونٹر کی طرف بڑھ گیا۔
…٭٭…
ڈیفنس لیبارٹری کی سیکیورٹی پوسٹ پر موجود گارڈ نے اسے دیکھا تو ٹھٹک گیا۔
’’تم اور اس وقت، خیریت تو ہے۔‘‘
’’خیریت بالکل نہیں ہے۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے پینٹ میں اڑسا ہواخاص قسم کا پستول نکال کر فائر کر دیا۔
ٹھک کی آواز ابھری اور ایک زہریلا چھرا سیکورٹی گارڈ کی گردن میں پیوست ہوگیا۔
اس نے آگے بڑھ کر گارڈ کو کرسی پہ اس انداز سے بٹھا دیا کہ دیکھنے والا یہی گمان کرے کہ گارڈ بیٹھے بیٹھے سو گیا ہے۔
گارڈ سے نمٹنے کے بعد اس نے پوسٹ میں لگے بلب کو ہولڈر سے نکالا اور اس کے نیچے ایک سکہ رکھتے ہوئے بلب دوبارہ ہولڈر میں لگا دیا۔
جسے ہی بلب ہولڈر میں لگا۔ ایک چھوٹا سا بے ضرر دھماکہ ہوا اور بلب جل کر بجھ گیا۔ اس نے سکہ واپس نکال لیا اور بلب پھر سے ہولڈر میں لگا دیا۔
شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بجلی کی سپلائی معطل ہو چکی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ خود کار جنریٹر سے بجلی بحال ہو جائے گی مگر کیمرے اور موشن سنسر کو ری ایکٹیویٹ ہونے میں ایک منٹ لگے گا۔
اس ایک منٹ میں اس نے ڈیفنس لیبارٹری کے چیف سیکرٹری کے دفتر میں گھس کر اپنا کام کرنا تھا۔
وہ قریبا پنتالیس سیکنڈ میں وہاں پہنچا۔
وہاں پہنچ کر اس نے سکون کا سانس لیا کیونکہ وہاں کوئی کیمرہ یا سنسر نہیں تھا۔
اس نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی۔ فائل الماری میں تھی مگر الماری مقفل تھی وہ جانتا تھا الماری کو چھونے کا مطلب ہے موت کیونکہ اس وقت الماری میں دس ہزار والٹ کا کرنٹ گزر رہا تھا جو اسے اوپر پہنچانے کے لیے کافی تھا۔
ایک بار پھر اس نے وہی سکے والا کارنامہ دہرایا، برقی رو ایک بار پھر سے منقطع ہوگئی۔ اب جنریٹر ری اسٹارٹ ہونے میں دو منٹ کا وقت لیں گے جو اس کے لیے بہت سے بہت زیادہ تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے الماری کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اس میں اب کرنٹ نہیں تھا۔ چند سیکنڈز کی مغز کھپائی اور کوشش کے بعد وہ الماری کھولنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس نے مطلوبہ فائل نکالی اور اپنے سیل فون سے اس فائل میں موجود دستاویزات اور مواد کی تصاویر لینے لگا۔کچھ دیر بعد وہ اس کام سے فارغ ہوچکا تھا۔ اسے دوبارہ فائل الماری میں رکھنا تھی۔
اس نے پھر وہی سکہ واردت کی اور فائل کو الماری میں رکھ کر باہر آگیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ باہر سڑک پہ تھا۔
وہ ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ اسے اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔
’’رک جاو دوست! اتنی جلدی بھی کیا ہے۔‘‘
وہ تیزی سے پلٹا اور سامنے اپنے فقیر دوست کو دیکھ کر اس نے سکھ کی سانس لی۔ جی ہاں یہ حامد تھا۔
مسٹر وجے عرف حامد را کا ایک مانا ہوا ایجنٹ جسے یہاں پاکستان کی اینمی تنصیبات کے نقشے اور دوسرے اہم راز چوری کرنے بھیجا گیا تھا۔وہ اپنے مشن میں قریب قریب کامیاب ہوچکا تھا۔
’’اب اس فقیر کے ہاتھ میں کچھ پیسے رکھوں اور اس کے بعد میرے بے داغ کیریئر پر ایک اور کارنامہ۔‘‘
یہ سوچتے ہوئے اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور سو سو کے چند نوٹ نکال کر فقیرکی طرف بڑھائے۔
’’یہاں ہر شخص نہیں بکتا۔ کچھ مٹنے اور مٹانے پہ یقین رکھتے ہیں۔‘‘
’’کک کیا مطلب۔‘‘
وجے بوکھلا گیا۔
’’وہ سیل فون میرے حوالے کر دو۔‘‘ فقیر کے لہجے میں تحکم تھا۔
اب اسے خطرے کا احساس ہوا۔ اس نے پینٹ میں اڑسا ہوا پستول نکالنا چاہا مگر فقیر اس سے کہیں زیادہ تیز نکلا۔ وہ فضا میں اچھلا اور ایک ڈبل کک اس کے سینے پہ جڑ دی وہ الٹ کر پیچھے جاگرا۔ فقیر بجلی کی سی تیزی سے اس کے سر پہ پہنچ گیا اس نے پائوں کی ایک بھرپور ٹھوکر حامد کی کنپٹی پہ رسید کی۔ دفعتا حامد کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ دنیاومافیہا سے بے خبر ہوگیا۔
جب اندھیرا چھٹا تو اس نے خود کو ایک کرسی پہ بندھا ہوا پایا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔یہ اس کا کوارٹر تھا جو اسے ادارے کی جانب سے ملا تھا۔
سامنے فقیر کھڑا اعشاریہ بتیس کے میگزین کو گولیوں سے بھرنے میں مصروف تھا۔
’’کک کون ہو تم۔‘‘ حامد کی آواز لرز رہی تھی۔
’’عاشق دیوانہ مجنوں، اپنی محبوبہ کا۔‘‘
اس نے سر اٹھائے بغیر ایک وجدانی کیفیت میں جواب دیا۔
’’اور میں نے تم سے کہا تھا نا کہ ایک دن میں تمہیں بتائوں گا کہ میری محبوبہ کون ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے لوڈڈ میگزن کو پستول میں ڈال کر پستول کو میز پہ رکھ دیا۔
’’یہ ملک میری محبوبہ ہے یہی میری محبت ہے۔‘‘
اگر اس کی طرف کوئی بری نگاہ ڈالے تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔اور پھر وہ آگ تب تک نہیں بھجتی جب وہ اس بری نظر والے کو بھسم نہ کردے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے پستول اٹھایا اور ساری کی ساری گولیاں حامد کی کھوپڑی میں اتار دیں۔
’’خس کم جہاں پاک۔‘‘ وہ باہر نکلا تو صبح کی اذانیں ہونے لگی تھیں۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر قریبی مسجد کی طرف بڑھ گیا۔
…٭٭…

ٹوٹے لمحے… اسحا ق جنجوعہ

’’موسیٰ پتر اٹھ تیاری کر۔‘‘ امام بادشاہ کی نگری سے رخصت کی گھڑی آ گئی ہے۔
’’چل کسی اور نگر کو چلتے ہیں۔‘‘
جوگیوں کی ٹولی کے گرو نے لکڑی کی پرانی تختی پر بنے ریت کے گھروندے کے پاس گھٹنوں پر ٹھوڑی رکھ کر چاند کو ٹک دیکھتے ہوئے موسیٰ جوگی کو آواز دی۔ جو آس پاس سجی میلے کی رونقوں سے بے نیاز اپنی ہی دنیا میں مگن تھا۔
موسیٰ نے کوئی دھیان نہ دیا تو گرو اس کے قریب آیا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
’’موسیٰ پتر خیر تو ہے آج اتنے غور سے کیوں دیکھے جا رہا ہے چاند کی طرف۔‘‘
موسی چونک کر کھڑا ہوا اور چاند کی طرف اشارہ کر کے بولا۔
’’ہاں گرو آ، تو بھی دیکھ لے۔‘‘
’’چاند کوئی کہانی سنا رہا ہے۔ شاید کوئی پیغام دے رہا ہے دیکھ گرو چاند کے کناروں سے امڈتے فیروزی ہالے کو دیکھ یہ رنگ اس کی قینچی چپل کی طنابوں جیسا ہے جو مجھ سے جدا ہوتے ہوئے اس کے قدموں کا بوجھ اٹھا رہی تھی۔ دیکھ گروغور سے دیکھ اس چاند پر ناگ بوٹی کا ایک بڑا سا پھول بنا ہوا ہے۔ بالکل ایسا ہی پھول جدائی کی شام اس کی بادامی قمیض پر پہاڑی بکرے کی سرمئی اون سے کڑھا ہوا تھا۔ دیکھ گرو ذرا اور دھیان سے دیکھ، چاند کے رخ سے کھیلتے ہوئے بادل کے اس ٹکڑے کو دیکھ یہ بالکل اس سفید ریشم کے آنچل جیسا ہے جو اس کی کالی کالی زلفوں سے پھسل کر اس کے رخساروں سے کھیلتا رہتا تھا۔‘‘
گرو نے موسیٰ کا کاندھا تھپک کر اسے خاموش کرایا اور بڑی نرمی سے بولا۔
’’کیسی باتیں کر رہا ہے موسی پتر کملا ہو گیا ہے آج تو۔‘‘
’’کیوں بھول رہا ہے کہ اب تو صرف ایک جوگی ہے۔ جوگیوں کا کیا کام ہے دنیا سے اور دنیا داری سے۔‘‘
’’جب دنیا سے ہی کوئی کام نہیں تو اس پری پیکر کی یاد کو دل سے لگا کر کیوں بیٹھا ہے۔ بھول جا اسے بھی اور اس آس کو بھی کہ تیرا ننھا سا ریت کا محل کبھی بس پائے گا۔ چل شاباش اٹھ میلہ ختم ہو رہا ہے چل کسی اور نگر کو چلتے ہیں۔‘‘
’’کیا کروں گرو وہ نہیں بھولتی میں نے تو تجھ سے جوگ بھی اس کو بھولنے کے لیے لیا تھا مگر اس کو بھولتے بھولتے سب کچھ بھول گیا ہوں۔ بھول گیا ہوں میری ماں کون تھی، میرا باپ کیسا تھا۔ میرا گھر کہاں تھا میرا گاؤں کون سا تھا۔ میں کس ریت میں کھیلتا تھا، مجھے کون سی رات ڈراتی تھی۔ مجھ پر کیسا رنگ سجتا تھا، میں کس رنگ میں جچتا تھا۔ میری آنکھیں کیسے ہنستی تھیں، لب کیسے گنگناتے تھے۔ مجھے کون سی خوشبو بھاتی تھی، مجھے کس مہک کا نشہ تھا۔ بس وہ لمحہ یاد ہے جب ہم بچھڑے تھے وہ رستہ یاد ہے جہاں ہم بچھڑے تھے وہ بات یاد ہے جو میں اس سے کہہ نہ سکا اور وہ بھی جو میں اس سے سننا چاہتا تھا۔ اپنا ہاتھ یاد ہے جو اسے روکنے کے لیے بڑھا تھا۔ اس کا پاؤں یاد ہے جو مجھے ٹھکرا کر مڑ گیا تھا اور ریت کا یہ محل یاد ہے جو میں نے اسے یاد کر کر کے بنایا ہے جو نازک ہے میرے خوابوں کی طرح جسے میں نگر نگر لیے پھرتا ہوں کہ جانے وہ کب آجائے اور اس کی دہلیز میں قدم رکھ کر اسے آباد کر دے۔ دیکھ گرو تو پھر سے دیکھ چاند آج یاد کے رنگ بکھیر رہا ہے میری بات مان گرو میرے دل کے پرستان کی رانی کا بشری مکھڑا کہیں آس پاس ہی ہے یہ چاند اس کے رنگ دکھا رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ گزرے ہوئے وقت میں ٹوٹ جانے والے منجمد لمحے کا دوسرا حصہ میری زندگی کے ہالے میں لوٹ آنے کو ہے کہ جس کے پہلے حصے میں بپا ہونے والی جدائی کی گھڑی ابھی نامکمل پڑی ہے۔ وہ آنے والی ہے اس گھڑی کو مکمل کرنے اس فیصلے کو انجام دینے جو مجھ سے کبھی نہیں ہو سکا۔ وہ آنے والی ہے گرو وہ آنے والی ہے۔‘‘
موسیٰ کی پردہ نشین باتیں گروپ کی سمجھ سے باہر تھیں۔
یوں تو جوگیوں کی ٹولی میں سب ہی کملے تھے مگر جوان جہاں موسی کی حالت یہ تھی کہ جوگی اور ملنگ بھی اسے جھلا کہہ کر بلاتے تھے۔ بس اس نے لکڑی کی ایک پرانی تختی پر ریت کا ایک خوبصورت سا گھروندہ بنا رکھا تھا جسے اس نے محل کا نام دے رکھا تھا۔ موسی ہر وقت گھروندے کو اپنے پاس ہی رکھتا تھا۔ رات کو بھی اسے قریب رکھ کر ہی سوتا تھا اور دن بھر کہیں بھی جانا ہو اسے ساتھ لے کر ہی جاتا تھا سفر ہو، پڑائو ہو یا کوئی میلہ موسی سب سے الگ سب سے بے پروا اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا تھا۔
باتیں اس کی کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی تھیں۔ اس لیے اسے زیادہ تر خاموش ہی رہنا پڑتا۔
موسی کی سمجھ سے بالا باتیں سنتے سنتے گرو کی نگاہیں ریت کے گھروندے پر پڑیں تو وہ ایک دم چلا اٹھا۔
’’دھیان بی بی دھیان۔‘‘
مگر اس کی آواز اثر انداز ہونے سے پہلے ہی فیروزی طنابوں والی قینچی چپل موسیٰ کے ریتلے محل کی دہلیز میں اتر گئی اور وہ بغیر کوئی مزاحمت کئے دھڑام ہو گیا۔
موسی بھی آواز سن کر مڑا اور منظر دیکھ کر ڈھیر ہو گیا۔
پل بھر کو خاموشی چھائی، سناٹا گونجا۔
موسی اپنے عارضی مفلوج وجود کو گھسیٹتے ہوئے ریت کے تباہ شدہ گھروندے کے پاس آیا اور اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے کوئی بچہ اپنی کاغذ کی نائو کو ڈبو کھانے والے جوہڑ کی تہہ میں بے امیدی سے جھانک رہا ہو۔
بکھرے محل کی دہلیز کے سامنے فیروزی طنابوں والی چپل کے ایک پیر پر بوجھ بڑھا اور ریشم کے سفید آنچل کا کنارہ اوڑھے ایک گھٹنا اس کے برابر گر گیا۔
ماضی کے کسی ساز کو چوٹ لگی اور آواز ابھری۔
’’معاف کر دو سائیں بابا، میں عقل کی ماری دیکھ نہ سکی اور تمہارا گھروندا برباد ہو گیا۔ معاف کر دو سائیں بابا میں جلدی میں تھی، مجھے اپنے پراندے کا یہ گھنگھری والا تار امام سرکار کے برگد سے باندھنا تھا اور منت ماننی تھی کہ نادانی میں بچھڑا میرا چاند مجھے مل جائے میری کوئی نہیں سنتا سائیں بابا تم میری کہانی سنو اور مجھے دعا دو مجھے آج بھی بہت جلدی ہے میں اس شام بھی جلدی میں تھی۔ میں اس تیزی سے بھاگی تھی کہ اس کا روکنے والا ہاتھ میرے آنچل تک کو بھی نہ چھو سکا تھا اس شام میں اس کی پیشانی پر لکھی سچائی نہ دیکھ سکی تھی اور آج مجھے تمہارا یہ گھروندا نظر نہیں آیا۔ بابا سائیں مجھے معاف کر دو اور میری دعا میں شریک ہو جائو۔ مجھے دعا دو کہ وہ مجھے مل جائے جو مجھے خود سے گما کر خود بھی گم ہو گیا ہے وہ ایسی ہی پورے چاند کی رات میں گم ہوا تھا۔ میں نے ایسا ہی سفید ریشم کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ میرے بدن پر ایسی ہی سرمئی رنگ کے ناگ بوٹی پھول والی بادامی قمیص تھی میرے پیروں میں ایسی ہی فیروزی طنابوں والی قینچی چپل تھی۔ مجھے اس روز بھی گھر لوٹنے کی بہت جلدی تھی میں اس کی بات سنے بنا ہی بھاگ پڑی تھی۔ اس نے مجھے روکنے کو ہاتھ بڑھایا مگر اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ سوائے میرے پراندے سے ٹوٹے گھنگھری والے ریشمی تار کے میں واپس لوٹی تو وہ وہاں نہیں تھا میں ہر شام اسی راستے پر گئی جہاں ہم ملتے تھے وہ کسی بھی شام نہیں آیا پورے چاند کی ویسی ہی رات آ گئی، وہ پھر بھی نہیں آیا۔ تب میں نے پھر وہی لباس اوڑھا، وہی آنچل لپیٹا، وہی جوتی پہنی اور امام بادشاہ کے پاس منت مان کر اپنے پراندے سے گھنگھری والا ایک ریشمی تار توڑ ان کے برگد سے باندھ دیا۔ یہ دیکھ بابا سائیں اس میں سات سات گھگنگھریوں کے تاروں والی سات منزلیں تھیں۔ سب توڑ توڑ کر میں نے سینتالیس منتیں باندھ دیں۔ یہ آخری تھا جو میں آج باندھنے آئی ہوں۔ مجھے دعا دے کہ اب میری منت پوری ہو جاے اور وہ مجھے مل جائے اڑتالیس منتوں کے بھرم سے بھی ہجر کی قسم نہ ٹوٹی تو میں ٹوٹ جائوں گی میرا پراندہ سونا ہو گیا تو میری زندگی بھی سونی ہو جائے گی۔‘‘
کہنے والی نے کہتے کہتے پراندے کا پھمن موسی کے آگے پھینک دیا جس میں لٹکتے اکلوتے گھنگھری والے تار کو دیکھ اس کے کلیجے سے ہوک نکلی اور وہ چاند کی روشنی میں چمکنے والے چاند سے چہرے پر نگاہ جما کر بولا۔
’’بس کر نوراں بس کر۔ اب اس سے آگے کی کہانی مجھ سے سن
اپنی کہانی میں میری کہانی بھی جوڑ لے۔ وہ رات بھی ایسی ہی رات تھی پورے چاند کی رات چہار سو رنگ بکھیرتی رات اس رات تیرا موسی تیرے پاس اپنا سب کچھ ہار کر آیا تھا گاؤں کی آخری پگڈنڈی تک پہنچتے پہنچتے اس کا سب کچھ کھو چکا تھا گھر بھی، گاؤں بھی ماں بھی، باپ بھی، تیرے موسے کو اس روز اس کے گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ تیرا نام لینے کے جرم میں۔ تجھے اپنانے کی خواہش کے گناہ میں تجھے پیار کرنے کے دوش میں تجھ تک پہنچتے پہنچتے اس کی آنکھوں میں صرف ایک خواب بچا تھا تیرا ساتھ پانے کا خواب تیرا ہاتھ پانے کا خواب۔ زندگی کی ہر راہ پر تیرے ساتھ ساتھ چلنے کا خواب۔ ایک محل کا خواب کہ جس کی دہلیز کو پہلا بوسہ تیری فیروزی طنابوں والی چپل کا ملے گا۔
اس رات تیرا موسی تجھ سے سہارے کی بھیک مانگ رہا تھا۔ مگر تجھے تو پلٹنے کی جلدی تھی اس نے لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے تجھے روکنے کو ہاتھ بڑھایا مگر اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ سوائے تیرے پراندے کے ایک گھنگری والے ریشمی تار کے۔ وہ ایک ہی شے تھی جس نے اس رات موسی کو سہارا دینے کی کوشش کی اور خود کو توڑ ڈالا۔ بس یہی تھا موسی کے ہاتھ میں تیرے پلٹتے ہی تیرے موسی کے خوابوں کی بلند عمارت برباد ہو گئی اس کی چھت پر کھڑا موسی گر گیا اور گرتے گرتے جوگ کی گود میں آن بسا۔ سن نوراں سن۔ اس لمحے کے پچھلے ٹکڑے میں ہم بنا وجہ جانے ہی بچھڑ گئے تھے۔ آج اس لمحے کے پورے ہونے کا وقت ہے لوٹ جا نوراں لوٹ جا جلدی سے گھر لوٹ جا اس سے پہلے کہ تقدیر کا ایک اور ورقہ الٹ جائے۔ اس سے پہلے زمین کے چاند کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے چاندنی تیری زلفوں میں اتر آئے۔ پریوں کے سر میں اترا چاندنی کا تار نصیب کے دروازے پر پڑا وہ زنگ آلود تالا ہے جسے دیکھ کر گلفاموں کی جوانی کے گھوڑے ہمیشہ بدک جاتے ہیں لوٹ جا نوراں لوٹ جا کہ تیرا گم شدہ موسی اس ٹوٹے ہوئے لمحے کے جڑتے ہی پھر سے بچھڑ گیا ہے۔ وہ وقت دوبارہ نہیں لوٹنے والا تیرے گاؤں کے پہاڑوں پر نغمے گنگنانے والا موسی اب جوگی ہے ویرانوں اور صحراؤں میں شنکھ بجانے والا جوگی۔ اس کا دنیا سے کیا کام دنیا کی پریوں سے کیا کام، لوٹ جا اور سنبل کے گولوں کی طرح آس پاس منڈلاتی خوشیوں کو دامن میں جمع کر لے جو اب بھی تیرا طواف کرنے ترستی ہیں۔ سنبھال لے اپنے پراندے کا آخری تار اپنی زندگی کی سب سے بڑی منت کے لیے۔‘‘
موسی کی بات پوری ہوئی تو ہری چوڑیوں والا گورا ہاتھ سفید ریشمی دوپٹے کے کونے کو اٹھا کر چشمے ابلتی آنکھوں تک لے گیا۔
ایک ہچکی نے خدا حافظ کہا، فیروزی طنابوں والی قینچی چپلیں وجد میں آئیں اور نوراں کو اس کے گاؤں کی جانب اڑانے لگیں۔
اس کے جاتے ہی موسیٰ نے اپنی الجھی لٹوں میں سے ایک بل کھولا اور اس میں چھپا ہوا پیتل کی گھنگھری والا ریشمی تار اٹھا کر آنکھوں کے سامنے جھلانے لگا۔ گرو یہ دیکھ کر اس کے سامنے آکر دھیمے دھیمے لہجے میں بولا۔
’’او موسی اس نے تیرا گھر گرا دیا اتنے سال تو نے اس پہ کسی کی آنچ نہ آنے دی اسے نگر نگر لے کر گھوما اس کے پاس کسی کو پھٹکنے تک نہ دیا اپنے گرو کو بھی نہیں اور آج جس نے اسے توڑا اسے دعائیں دے کر رخصت کر دیا۔‘‘ نوراں کے قدموں سے اڑتی گرد پر نگاہیں جمائے جمائے موسی نے بھاری آواز میں گرو کو جواب دیا۔
’’دکھ اس بات کا نہیں ہے گرو کہ اس نے میرا گھر گرا دیا خوشی اس بات کی ہے کہ وہ میری دہلیز میں اترا تو سہی۔‘‘ گرو کے سمجھنے کو اتنی سی بات ہی بہت تھی۔
اتنی سی بات کر کے موسی امام بادشاہ سرکار کے مزار کے کنارے لگے برگد تک گیا پیتل کی گھنگھری والے ریشمی تار کو وہاں باندھ کر منہ گنبد کی طرف کرکے ہاتھ جوڑ لیے۔ موسی کچھ دیر آنکھیں بند کیے، ہاتھ باندھے، خاموشی سے کھڑا رہا اور پھر آنکھیں پونچھتا ہوا واپس اپنے گرو کے سامنے آن کھڑا ہوا۔
’’تجھے مبارک ہو گرو موسی اب پکا جوگی ہو گیا بھول گیا وہ سب جو اسے یاد تھا ہر لمحہ، ہر بات، ہر ہاتھ ،ہر پاؤں فیروزی طنابوں والی قینچی چپل بھی سفید ریشم کا آنچل بھی ناگ بوٹی کا پھول بھی، ریت کا محل بھی۔‘‘
اتنا کہہ کر موسی نے ٹوٹے ہوئے گھروندے کی ریت کو ہاتھوں میں اٹھایا اور سرسراتی ہوئی ہَوا میں اچھال کر شنکھ بجاتے جوگیوں کی ٹولی کے ساتھ انجانی راہوں پر چل پڑا۔
اس اڑتی ہوئی ریت نے وقت کی تیزرفتار گھڑی میں سفر کیا اور امام بادشاہ کے برگد کی چھاؤں میں بچھ گئی۔
فیروزی طنابوں والی قینچی چپل نے اس ریت کو ایک اور بوسہ دیا سفید بالوں کو ڈھانپتی کالی چادر کو ذرا سا سرکا کر نوراں نے اپنے پراندے کا آخری گھنگھری والا تار توڑا اور حسرت سے اسے دیکھ کر ایک مرجھاتی ہوئی ٹہنی پر باندھ کر گنبد رخ ہوتے ہوئے ہاتھ جوڑ لیے۔
’’امام سرکار ہاتھ جوڑ کر منت مانتی ہوں مجھے میری آنکھوں کا تارا لوٹا دو وہ انجانا معصوم ذرا سی بات پر گھر چھوڑ گیا ہے مانا کہ ایک نام لینے پر پر ذرا سا ڈانٹ دیا مگر اتنا بھی کیا کہ وہ گھر ہی چھوڑ گیا اپنی ماں کو بھی اپنے باپ کو بھی اسے جلدی سے لوٹا دو رب تمہاری بہت سنتا ہے رب سے سفارش کر دو۔ دیکھو میں نے کتنے برس سے کوئی منت نہیں مانی تقدیر کے کالے بادلوں کے پیچھے چھپے اپنے چاند کو دیکھنے کی ضد بھی نہیں کی اپنا پراندہ بھی ویران کر دیا ہے بس میرے سفید بالوں اور مفلوک حال پر رحم کھائو میری آخری منت پوری کر دو میرا بیٹا مجھے لوٹا دو… میرا تارا مجھے لوٹا دو۔‘‘
نوراں ابھی منت مان رہی تھی کہ کہیں دور سے کسی جوگی کے شنکھ کی گونج سنائی دی۔
وہ چونک کر پلٹی اور آواز کی جانب لپکی۔
نوراں ضعیف قدموں کے زور پر بھاگ رہی تھی اور برگد کی ٹہنیوں پر بندھے پیتل کی گھنگھریوں والے اننچاس ریشمی تار اس کے سفید بالوں ویران پراندے اور مفلوک حال کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
…٭٭…

زندگی تمام ہوئی…حمیرا قریشی

’’بس بہت کرلی تم نے اپنی من مانی۔ اب کان کھول کے سن لو اُشنہ‘ میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گی۔ حویلی کی سب ہی لڑکیاں دو‘ دو بچوں کی مائیں بن بیٹھی ہیں اور تمہیں ابھی بھی وقت درکار ہے۔ آخر کیوں؟‘‘ عالیہ بیگم طیش سے بولیں۔
بیڈ کے وسط میں بیٹی اُشنہ ہنوز خاموش تھی۔ گود میں رکھے کشن پر نگاہیں مرکوز کیے نہ جانے کن سوچوں کے گرداب میں پھنسی تھی۔ لبوں پر لفظوں کے بجائے بے بسی کا راج تھا۔ آنکھیں کسی اُجاڑ‘ ویران کھنڈر کا منظر پیش کررہی تھیں‘ جس میں جابہ جا ٹوٹے‘ بکھرے خوابوں کی کرچیاں پیوست تھیں۔ ہنستی مسکراتی آنکھیں چند حسین خواب دیکھنے کے جرم میں عمر بھر کی اذیت اُٹھا بیٹھی تھیں۔
’’میں تم سے مخاطب ہوں اُشنہ…‘‘ اس کی گود سے کشن کھینچتے ہوئے عالیہ بیگم چیخ کر بولیں۔ اس کا خاموش رہنا ان کے غصے کو مزید بڑھا رہا تھا۔
قدموں میں پڑا دوپٹا اُٹھا کر کندھوں پر پھیلاتے ہوئے اُٹھنے ہی لگی تھی کہ عالیہ بیگم نے اسے جھٹکے سے اپنی سمت کھینچ لیا۔ سبز ریشمی دوپٹا لمحے میں زمین بوس ہوا تھا‘ بالکل اس کے خوابوں کی طرح۔
’’عقل سمجھ سے تو ویسے بھی تمہارا کوئی تعلق نہیں رہا‘ اب کیا سماعت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا؟ آج مجھے وہ وجہ بتادو جس کے سبب تم شادی سے انکاری ہو۔ مجھے بھی تو علم ہو میری بیٹی میری ناک کے نیچے کون سا کھیل کھیل رہی ہے۔‘‘
اُشنہ نے تڑپ کر ماں کو دیکھا۔ ماں کی بے اعتباری اس کا دل چیر گئی تھی۔ بکھرے خوابوں کی سب ہی کرچیاں اشکوں میں ڈوبی تھیں اور اس کے اشک ماں کی آنکھوں کو بھی نمی عطا کرگئے تھے۔
’’جانتی ہو نا اُشنہ اپنے بابا سائیں کو؟ انہیں ذرا بھی خبر ہوگئی تو اس حویلی کے کسی کونے میں زندہ گاڑ دی جاؤ گی۔ اور تو جو اس کمرے میں اپنا نیا جہاں بسائے بیٹھی ہے ناں‘ آگ لگادیں گے وہ۔ میری بوڑھیں آنکھیں تھک گئی ہیں ایسے ہولناک مناظر دیکھ دیکھ کر اُشنہ‘ میرے بڑھاپے پر رحم کر۔‘‘ اب کے ان کے لہجے میں طیش کی جگہ بے بسی بولی تھی۔
’’فکر تو شیر کو بھی مار ڈالتی ہے۔ تصورات کا محل بنانے میں برسوں لگتے ہیں لیکن ٹوٹنے میں ایک لمحہ لگتا ہے اور میں تمہیں اسی لمحے کی گرفت میں آنے سے بچانا چاہتی ہوں کیونکہ تم اس بے درد لمحے کی گرفت میں آگئیں تو باقی کچھ نہیں بچے گا۔‘‘ دو بے بس آنسو بہت خاموشی سے عالیہ بیگم کی آنکھوں سے آزاد ہوئے۔ دلی جذبات یوں بھی آنکھوں سے عیاں ہوتے ہیں اور پرکھنے والی آنکھ چہرے سے دل کی گہرائیوں کا پتا لگالیتی ہے۔ یہ تو پھر ماں کی نگاہیں تھیں‘ فریب کیونکر کھاتیں۔ اُشنہ کے چہرے پر لکھی تحریر پڑھ کر وہ مزید اضطراب کا شکار ہوئی تھیں۔
اُشنہ کے لبوں پر ہنوز چپ کی مہر تھی۔ ماں سے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے وہ خاموشی سے باہر کی سمت چل دی۔
’’کیوں اپنے بابا کے قہر کو آواز دینا چاہتی ہو اُشنہ۔ کیا تجھے خبر نہیں تھی کہ اس حویلی میں خواب بننے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا ہوگا اس لڑکی کا؟‘‘ بیڈ کے کنارے پر بیٹھی عالیہ بیگم پریشانی سے سر تھام کر سوچوں میں گم ہوگئیں۔
…٭٭…
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا‘ اُشنہ رت جگا آنکھوں میں‘ بے بسی بانہوں میں لیے بالکنی میں کھڑی تھی۔ بالکونی سے نظر آتا لان‘ حویلی کا سب سے دلکش نظارہ تھا۔ ہر سمت پھول ہی پھول‘ سبزہ ہی سبزہ تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں بھی خوشبو سے نہائی ہوئی تھیں۔
مشرق کی سمت بنی آبشار… آبشار سے بہتا پانی… پانی میں تیرتی بطخیں‘ نہ جانے کیوں شور مچارہی تھیں۔ آبشار کے دائیں بائیں لگے لیمپ کی نیلی روشنی نے ہر شے کو نیلے رنگ میں نہلا دیا تھا مستانی ہواؤں کے سنگ مستانی چال چلتا ہوا نیلا مور اس دلفریب منظر کا سب سے حسین کردار تھا۔ رات کی تاریکی میں بھی اس کا حسن و جمال دل پہ اثر کر رہا تھا۔ بیس مرلہ لان میں اس وقت مور کا راج تھا۔ جس قدر سکون باہر تھا‘ اس قدر اضطراب اُشنہ کے اندر تھا۔
ہر شے کو تک رہی تھی‘ پر سوچ کچھ اور رہی تھی۔ اور جب سوچ سوچ کر دماغ ماؤف ہونے لگا تو شاہ ویز علی شاہ کے کمرے کا رُخ کیا‘ بناء کچھ سوچے‘ بناء کچھ سمجھے۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی بے تحاشا ٹھنڈک اور ایئرفریشنر کی دلفریب مہک نے استقبال کیا۔ بیڈ کے عین وسط میں چت لیٹا شاہ ویز علی شاہ اس وقت مکمل طور پر گہری نیند میں تھا۔ شال کو خود سے لپیٹے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ ا س کے پیروں کی سمت کھڑی تھی۔
اُشنہ کی بے قرار نگاہیں اس کے دلکش چہرے کا طواف کرنے لگیں۔ کشادہ پیشانی پر بکھرے سیاہ بال‘ جاہ و جلال سے بھری آنکھوں پر اس وقت گہری پلکوں کے پردے تھے۔ مونچھوں کے زیرتلے لبوں پر دلفریب مسکان ہنوز محسوس ہورہی تھی۔ یہ شخص خود پر غرور نہ کرے تو کیا کرے؟ دل بڑے دلنشیں انداز میں اُشنہ سے ہمکلام ہوا‘ جو ایک نگاہ دیکھے وہ پھر دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔ یوں ہی تو ہم تم پر دل نہیں ہارے‘ شاہ! کم تو ہم بھی کسی سے نہیں‘ پر تم جیسے ہم پھر بھی نہیں۔‘‘
اُشنہ زیرلب بولی۔ صدیاں بھی بیت جائیں تو گمان ہوتا ہے لمحہ گزرا ہے۔ آنکھیں کبھی محبوب کی دیدار سے سیراب نہیں ہوتیں۔ اُشنہ کی نگاہیں اس کے چہرے پر ٹکی تھیں۔ نہ جانے وہ کب تک دیوانگی کے عالم میں اُسے تکے جاتی‘ یک دم ہی شاہ ویز علی شاہ علی کی آنکھ کھلی۔ دائیں سمت کروٹ بدلتا رہ گیا۔
نگاہوں کی گرفت میں اُشنہ کا وجود جو آچکا تھا۔ لمحے سے بھی کم لگا تھا‘ شاہ ویز علی شاہ کو بیڈ سے اُتر کر اس تک آنے میں۔ قہر سے بھری سرخ آنکھیں اُشنہ پر گاڑے‘ لب دانتوں تلے دبائے کھڑا تھا۔ شاید وہ ضبط کررہا تھا‘ پر ضبط کرنا کہاں آتا تھا شاہ ویز علی شاہ کو۔ اُشنہ کے کپکپاتے لبوں نے ذرا سی جنبش ہی کی تھی کہ کمرہ چٹاخ کی آواز سے گونج اُٹھا۔ دایاں ہاتھ اُشنہ کے بائیں گال پر ثبت ہوا۔ شال سر سے پھسلتی کاندھوں پہ آٹھہری اور اشک گالوں پر…
’’تیری یہ جرأت‘ بے غیرت… آدھی رات کو میرے کمرے میں چلی آئی۔ بے حیا‘ ذرا بھی لاج نہیں آئی تجھے۔ آدھی رات کو کسی مرد کے کمرے میں جانے کا مطلب سمجھتی ہے تو؟‘‘ کندھوں سے پکڑ کر اُشنہ کو جھنجھوڑ ڈالا۔
اس کا نازک وجود شاہ ویز علی شاہ کے سینے سے آلگا اور شال قدموں میں آگری۔
’’یہی تیری خواہش ہے نا‘ چل آج پوری کیے دیتا ہوں۔‘‘ اسے دھکیل کر بیڈ پر گرادیا۔ اُشنہ ریشمی دوپٹے کی مانند بیڈ پر بکھر گئی۔ شاہ ویز علی شاہ نے اس پر جوں ہی گرفت حاصل کرنے کی کوشش کی‘ اُشنہ نے پوری جان سے اسے دھکا دیا اور تیزی سے اُٹھ کر باہر کی سمت بھاگی۔ زمین پر پڑی شال میں پیر اُلجھا اور وہ سامنے لگے شیشے سے جا ٹکرائی۔ چکناچور ہوا تھا آئینہ اور اس کا غمزدہ قلب۔ پیشانی سے بہتا لہو اس کا چہرہ سرخ کرنے لگا۔
’’یہی تھی ناں تیر ی خواہش‘ پھر کیوں بھاگی؟ آ‘ کروں تیری خواہش کا احترام۔‘‘ سنگدلی سے اسے دوبارہ کھینچا۔ وہ زخمی کبوتر کی طرح پھر اس کے سینے سے آلگی۔
اُشنہ نے بڑی دقت سے خود کو اس سے دُور کیا‘ اور ایک پُرزور تھپڑ شاہ ویز علی شاہ کے گال پر دے مارا۔ دونوں کی آنکھیں شعلے اُگل رہی تھیں۔
’’رات کے اس پہر تمہارے کمرے میں جسم کی بھوک نہیں لائی تھی مجھے‘ شاہ! محبت کرتی ہوں تم سے‘ شدید محبت کرتی ہوں۔ اسی محبت کے ہاتھوں بے بس ہوکر چلی آئی۔ کیا کروں میں یہ جو دل ہے نا یہاں… یہ تمہارے ساتھ کی چاہ کئے بیٹھا ہے۔ میرا کوئی قصور نہیں شاہ‘ سب اس دل کا قصور ہے۔‘‘ انتہائی بے بسی سے رنجور لہجے میں بولی۔
’’ایک ہی تو خواب دیکھا تھا میں نے‘ وہ بھی چکناچور ہوا۔ میری محبت کو تمہارا تن نہیں‘ من چاہیے۔ جسم کی بھوک نہیں ہے شاہ۔‘‘ پیشانی سے بہتا لہو‘ آنکھوں سے بہتے اشک دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگے۔
اُشنہ کی بے بسی اس کے لہجے میں اُترنے لگی۔ لفظوں میں درد کی آمیزش ایسے بسی ہوئی تھی‘ جیسے پھول میں خوشبو۔ اشکوں سے لبریز آنکھوں میں بے پناہ سسکتے مچلتے جذبات تھے‘ جو دھیرے دھیرے اشکوں کی صورت میں شاہ ویز علی شاہ کے قدموں میں ڈھیر ہورہے تھے۔
’’اماں میری شادی کو لے کر بہت بے چین ہیں اور ہونا بھی چاہیے۔ اب شادی تو بندہ اس سے کرتا ہے ناں جس سے محبت کرتا ہے… اور اُشنہ تم سے محبت کرتی ہے شاہ‘ پر تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ جانتی ہوں۔ اور بہت اذیت دیتا ہے مجھے یہ احساس کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ جبکہ تم صحیح ہو اپنی جگہ۔ زور زبردستی کہاں چلتی ہے بھلا اس کھیل میں۔ جس سے ہوگئی‘ ہوگئی۔ نہ ہوئی تو نہ ہوئی۔‘‘ اُشنہ کے قدم دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگے۔
شاہ ویز علی شاہ گال پر ہاتھ رکھے بُت بنا کھڑا تھا۔
’’اس حویلی میں اب سے نہیں‘ برسوں سے خون کی ہولی کھیلتے آئے ہو تم لوگ۔ اپنوں کا خون اپنے ہی بہاتے ہیں‘ جیسے تم نے بہایا۔ کیا تھا جو تم مجھ سے شادی پر آمادہ ہوجاتے۔ چچا کی لڑکی ہوں تمہاری‘ حسب و نسب میں برابر‘ خوب صورت ہوں‘ پڑھی لکھی بھی ہوں… اور تم کو چاہیے بھی کیا شاہ؟ محبت کی بھیک مانگنے آئی تھی‘ عزت گنوانے نہیں۔‘‘ اُشنہ کی باتیں سن کر اس نے بے ساختہ منہ موڑ لیا اور کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا مگر اس کا وجود مجسم سماعت بنا ہوا تھا۔ اشکوں کی پھوار میں بھیگے پُردرد لفظوں نے اس کے سنگدل دل کے آہنی دروازے کھول دیے تھے اور بہت ہولے سے محبت کے فرشتے نے اس کے قلب میں محبت پھونک دی۔
لمحہ لگا تھا یہ معجزہ ہونے میں۔ اس کو جہاں ہونا ہوتی ہے‘ وہاں ہوکر ہی رہتی ہے۔ اُشنہ نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا شاہ ویز علی شاہ کا ریوالور اُٹھایا اور بھیگی آنکھوں سے اُس کی پشت کو دیکھا۔ لبوں نے دردبھری سسکیاں بھریں‘ کنپٹی پر ریوالور رکھا اور ٹریگر دبادیا۔
گولی کی آواز بہت دُور تک گونجی تھی۔ شاہ ویز علی شاہ نے مڑ کر جو دیکھا تو زندگی ریت کی مانند پھسلتی محسوس ہوئی۔ محبت اپنی توہین کہاں برداشت کرتی ہے۔ لمحوں میں کھیل کا اختتام ہوا تھا۔
گولی کی آواز سے لان میں شور مچاتی بطخیں اور مور سہم کر رہ گئے۔ نیلا مور تو اُشنہ کی طرح بے جان ہی لگا۔ آبشار سے بہتے پانی پر بیٹھی محبت اپنی توہین پر اشک بار تھی۔
بے بسی تنہائی کے ہمراہ
بیٹھی ہے شکستہ قدموں پر
ماتم کناں ہے فقط
غلطیٔ محبت پر
…٭٭…

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close