Aanchal Jan 19

ہومیو کارنر

ڈاکٹر طلعت نظامی

ملیریا (Malaria)

بقایہ شمارہ جولائی
اس کے بعد اس کی شکل امیبا کی طرح ہوجاتی ہے اور یہ RBC میں موجود Cytoplasm اور ہموگلوبن دونوں کو استعمال کرے گا اس کے بعد سارے RBCES میں پھیل جاتا ہے اس Stage کو Schizont کہتے ہیں اس طرح یہ دوبارہ تقسیم ہوتا ہے پھر ایک Shizont تقریباً 12 سے 16 حصوں میں بٹ جاتا ہے جن کو Merezoites کہتے ہیں اس کے علاوہ باقی ماندہ ہیمو گلوبن اور Cytoplasm اس RBC میں اکٹھی ہوجاتی ہے جس کو Melanin یا Toxin کہتے ہیں اب RBCES پھٹتا ہے اور Metrozoites خون میں Release یعنی شامل ہوجاتے ہیں اور یہ پھر صحت مند RBCESمیں داخل ہوجاتے ہیں ایک RBC کے پھٹنے سے جو زہریلے مادے خون شامل ہوتے ہیں وہ ہمارے WBC کھا جاتے ہیں یہ سارا چکر جاری رہتا ہے اور بار بار ہوتا ہے اور تقریبا 14 دن بعد جب بہت سارے RBC پھٹتے ہیں اور خاص مقدار میں Toxin انسانی خون میں شامل ہوجاتے ہیں تو مریض کی دماغی صلاحیت کے فیل ہو جانے سے مریض کو ملیریا کا پہلا حملہ ہوتا ہے اس پیریڈ کو جو کسی Paracites کے جسم میں داخل ہونے اور اس بیماری کی ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے کے درمیانی عرصہ کو مرض کا زمانہ خضانت یا (Incubation Period) کہتے ہیں ملیریا کا زمانہ خضانت دو ہفتے یا 14 دن کا ہے۔

مچھر کے جسم میں ملیریا کے جراثیم کا دور حیات

Sexual Life Cycle
یہ Cycle مادہ انوفلیز مچھر کے پیٹ میں مکمل ہوتا جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا میں مبتلا مریض کو کاٹتی ہے اور خون چوستی ہے تو Plasmadium کے مختلف Stages بھی خون کے ہمراہ پیٹ میں چلے جاتے ہیں تمام Sexual Stages اس کے پیٹ میں تقسیم ہوتے ہیں سوائے Gametocytes کے جو دو قسم کے ہوتے ہیں۔
Male Gametocytes
Female Gametocytes
یہ Gametocytes پھر Gametes میں تبدیل ہوجاتے ہیں ایک Male Gametocytes 4 سے 6 Male Gametes بنائے گا اور ایک Female Gametocytes صرف ایک Female Gameto بنائے گی۔
جب یہ Zygote بنتا ہے تو اس کی شکل میں کچھ تبدیلی آئے گی اور یہ لمبا اور نوکدار ہوجائے گا اس شکل میں یہ مچھر کے پیٹ کی دیوار سے باہر نکلے گا اور پھر گول ہوجائے گا پھر اس کے گرد Cyst بن جائے گی نیو کلیئس تقسیم در تقسیم ہوگا پھر نیو کلیئس کے ٹکڑوں کے گرد سائیٹو پلازم چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ کر جمع ہوجائے گا اس طرح بہت سے Sproblasts بنیں گے اور پھر ان سے لا تعداد Sprozoites بنیں گے اب یہ مچھر کے خون سے نکل کر Salivary Glands میں داخل ہوجاتے ہیں اب یہ مادہ مچھر Infected ہوجاتا ہے یہ مچھر جب تندرست انسانوں کو کاٹے گا تو ان کے زخم میں کچھ تھوک داخل کردیتا ہے اس تھوک Saliva میں جو Sporozoites موجود ہوں گے وہ دوبارہ انسان کے جسم میں A Sexual Cycle شروع کردیں گے اس طرح سے مادہ انوفیلز مچھر انسان کے اندر ملیریا پھیلاتا ہے ایک مادہ انوفلیز مچھر کو تمام Spotozoites انسان کے جسم میں منتقل کرنے کے لیے تقریبا 20 مرتبہ کاٹنا پڑتا ہے۔

ملیریا کی علامات:۔

انسان کے جسم ملیریائی زہر داخل ہو کر عموماً تین سے بارہ دن تک نشو و نما پاتا رہتا ہے لیکن گاہے بگاہے اس عرصہ سے پہلے ہی بخار چڑھ جاتا ہے طبیعت سست و کاہل ہونا شروع ہوجاتی ہے انگڑائیاں و جمائیاں آتی رہتی ہیں کمر میں ہلکا درد اور سر چکراتا ہے ہاتھ پائوں ٹوٹتے ہیں بھوک ختم ہوجاتی ہے چونکہ اس قسم کے بخار میں پہلے سردی لگتی ہے پھر گرمی اور اس کے بعد پسینہ آکر بخار اتر جاتا ہے اس لیے اس بخار کے تین درجے ہیں۔

سردی کا درجہ‘ گرمی کا درجہ‘ پسینہ کا درجہ۔

سردی کا درجہ:۔

اس درجے میں خوب سردی لگتی ہے پورا جسم کانپتا ہے سستی‘ کاہلی اور اعضا ٹوٹتے ہیں رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب لرزہ شدت کا ہو تو مریض کے دانت بجتے ہیں کمبل‘ رضائی اوڑھ لینے پر بھی سردی رفع نہیں ہوتی بعض مریضوں کو لرزہ اتنی شدت کا ہوتا ہے کہ ان کے ناخن اور ہونٹ نیلے پڑ جاتے ہیں اور اندرونی اعضا میں اکثر خون جمع ہوجاتا ہے جس کے باعث سر درد یا سر میں بوجھ معلوم ہوتا ہے بعض اوقات سر میں زیادہ اجتماع خون ہونے کے باعث بے ہوش یا ہذیان ہوجاتا ہے پھیپھڑوں میں اجتماع خون کے باعث سانس تیزی سے آتی ہے جگر و معدہ میں اجتماع خون کے باعث جی متلاتا ہے اور قے آتی ہے مریض کا منہ خشک ہوتا ہے اسے بڑی پیاس لگتی ہے یہ سردی کا درجہ اکثر گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ تک رہتا ہے لیکن بعض مریضوں کو چار چار پانچ گھنٹوں تک لرزہ ہوتا رہتا ہے مگر جب اس بخار کی کئی باریاں آچکی ہوں تو سردی بہت نہیں لگا کرتی صرف تھوڑی دیر کے لیے خفیف سی سردی محسوس ہوتی ہے۔

گرمی کا درجہ:۔

جب سردی کا درجہ ختم ہوجاتا ہے تو گرمی کا درجہ شروع ہوجاتا ہے چنانچہ رفتہ رفتہ مریض کا پورا بدن گرم ہوجاتا ہے یہاں تک کہ مریض مارے گرمی کے کپڑوں کو برداشت نہیں کرسکتا نبض بھرپور اور تیز چلتی ہے سر درد کرتا ہے کنپٹی کی شریانیں خون پھڑکتی ہیں منہ اور زبان خشک ہوتے ہیں زبان پر سفید تہہ جمی ہوتی ہے بعض اوقات جی متلاتا ہے پیشاب تھوڑی مقدار میں اور پیلا آتا ہے حرارت جسمانی عموماً 100 سے 104 تک پہنچ جاتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور یہ حالت دو تین گھنٹے بعض اوقات 6 سے 12 گھنٹوں تک رہتی ہے۔

پسینہ کا درجہ۔

تیسرا درجہ پسینہ کا درجہ ہوتا ہے اور مریض کو بہت تسکین محسوس ہونے لگتی ہے پیاس میں کمی واقع ہوتی ہے نبض کی رفتار کم ہوجاتی ہے پیشاب میں سرخ ذرات بہت خارج ہوتے ہیں پہلے چہرے اور پیشانی پر پسینہ آتا ہے پھر تمام جسم تتر بتر ہو جاتا ہے بعض اوقات پسینہ کم آتا ہے اور بعض اوقات زیادہ یہاں تک کہ مریض کے کپڑے اور سبز پسینہ سے تتر بتر ہوجاتے ہیں اس طرح علامات میں کمی ہو کر بخار بالکل اتر جاتا ہے اگر مریض کمزور ہو تو پسینہ آنے کی حالت میں بعض اوقات نڈھال ہوجاتا ہے بعض مریضوں کو پسینہ آتے ہوئے نیند آجاتی ہے اور جب وہ جاگتے ہیں تو وہ بالکل آرام میں ہوتے ہیں۔

عوارض و نتائج:۔

چونکہ بار بار لرزہ لگنے کے باعث اندرونی اعضا میں اجتماع خون ہوتا رہتا ہے اس لیے جگر‘ انتڑیوں اور بعض اوقات گردوں میں نقص واقع ہوجاتا ہے مریض کا رنگ پیلا اور اس کے اعض کمزور ہوجاتے ہیں شکم تن جاتا ہے اور قبض رہتی ہے خاص کر تلی بڑھ جاتی ہے اور اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ اس کا وزن کئی پونڈ ہوجاتا ہے اور شکم پر ہاتھ رکھنے سے وہ خاصی نمایاں ہوتی ہے تلی اور جگر بڑھ کر یرقان وغیرہ کی شکایت ہوجاتی ہے بعض اوقات گردوں میں ورم ہو کر خونی پیشاب آنے لگتا ہے اور کبھی کھانسی وغیرہ کی شکایت ہوجایا کرتی ہے۔

حفظ ماتقدم:۔

چونکہ یہ بیماری مچھروں سے پھیلتی ہے اس لیے مچھروں سے بچنے کے لیے تمام ذرائع اختیار کرنے چاہییں پردوں‘ مچھر دانی اور مسہری کے اندر سونا چاہیے تالابوں‘ جوہڑوں اور گندے پانیوں میں مچھر پلتے اور بڑھتے ہیں اس لیے ان کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے تازہ پانی ڈال کر گندے پانی کو نکال دینا چاہیے ملیریا کے موسم میں مٹی کا تیل کھڑے پانی پر چھڑک دینے سے پانی مچھروں سے مبرا ہوجاتا ہے۔

علاج:

چائنا یا سنکونا یہ دوائی اس وقت کام کرتی ہے جب کہ اس کی خاص علامات موجود ہوں یعنی لرزہ‘ پیاس اور پسینہ کی تینوں حالتیں پائی جائیں پیاس سردی سے پہلے لگتی ہو جس سے مریض کو بخار کے حملے کا پتا لگ جاتا ہے سردی اور حرارت کے دوران پیاس نہ لگتی ہو مریض صرف ہونٹوں کو گیلا کرنا چاہتا ہو لیکن پسینہ میں پیاس بہت لگتی ہو چائنا کے ساتھ چنی نم سلف (کونین 1X پانچ گرین صبح اور 5 گرین شام کو) بھی مفید ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ آرسیکم 3X اور نیرم میور 3X باری باری لینی چاہیے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close