Aanchal Jun-16

حمد و نعت

الطاف حسین حالی/سید نسیم الحسن زیدی

حمد باری تعالیٰ

قبضہ ہو دلوں پر کیا اس کے سوا تیرا
اک بندۂ نافرماں ہے حمد سرا تیرا
گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا
بندے سے مگر ہوگا حق کیونکر ادا تیرا
جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی
کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا
عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں
ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا
تو ہی ہے نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو
جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا
نشہ میں وہ احساس کے سرشار ہیں اور بے خود
جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا
ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے
کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا

الطاف حسین حالیؔ

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

چن چن کے لفظ‘ باغِ ثنائے رسول صلی اللہ علیہ وسلمسے
نعتیں سجائیں میں نے عطائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
ہم شاعروں کا جذبۂ ایمان ہے یہی
حمد خدا بھی ہوگی دلائے رسولؐسے
جب لکھ کے نعت پیش کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
لے لوں گا گھر ارم میں‘ رضائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
تفریق کیا بیاں ہو امیر و غریب کی
مفلس ہے بادشاہ‘ گدائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
مانے نہ مانے کوئی یہ ایمان ہے مرا
باقی خدا کا دیں ہے‘ دعائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
تاریکیوں سے دور رہے گا وہ عمر بھر
جو لو بصد خلوص لگائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
روکے گا کون نعت نبیؐ سے تجھے محسن
یہ ہاتھ میں قلم ہے عطائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے

سید نسیم الحسن زیدیؔ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close