Hijaab Jan 19

فیصلہ

انیسہ ناز بشارت

’’امی جان‘ رکیں ایک منٹ‘ وہ دیکھیں کتنا پیارا سوٹ ہے۔‘‘ جھلمل کرتے گلابی رنگ کے سوٹ نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔
’’سدھر جاؤ لڑکی‘ اب تک تم گھومتے پھرتے چار سوٹ پسند کرچکی ہو مگر تمہاری نیت ہے کہ بھر ہی نہیں رہی۔‘‘
’’اف امی جان‘ میں اپنی بات نہیں کررہی‘ میں تو انیلہ بھابی کے لیے کہہ رہی ہوں۔ اب دیکھیں ناں‘ ہم نے اپنی تو شاپنگ کرلی مگر ابھی تک بھابی کے لیے کچھ نہیں لیا‘ وہ کیا سوچیں گی ہمارے بارے میں؟‘‘ عروہ نے رُک کر اُمید بھری نظروں سے انہیں دیکھا مگر اس کی بات مکمل ہونے پر ان کی پیشانی پر سمٹ آنے والی سلوٹوں نے اسے الجھا دیا۔
’’ارے‘ تم تو رہنے ہی دو اسے۔ بڑی چلتر اور تیز لڑکی ہے یہ انیلہ… تمہارا کیا خیال ہے کہ ابھی تک صرف ہماری ہی خدمتیں کرتی رہی ہے؟ تمہیں کیا پتا کہ میرے معصوم بچے کی محنت کی کمائی سے ہر ماہ کتنے اڑا لیتی ہوگی۔ جب اپنی مرضی سے میاں کو پھنسا لیا تو سوٹ بھی لے لے گی اپنی مرضی سے۔‘‘ اسے بری طرح جھڑکتے ہوئے وہ جوتوں کی دکان میں گھس گئیں جبکہ وہ شاپر اور بیگز تھامے مرے مرے قدموں سے ان کے پیچھے چل دی تھی۔
ء…ۃ…ء
’’عروہ‘ کیا آج تم خرم بھائی کے ساتھ نہیں جارہی؟‘‘ کالج آف ہوتے ہی وہ جیسے ہی کالج گیٹ کو پار کرکے باہر نکلی تو عرشی کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رک گئے۔
’’ہاں یار وہ بھائی کو آفس میں کام زیادہ تھا تو وہ مجھے آج لینے نہیں آسکتے اس لیے میں بس اسٹاپ کی طرف جارہی تھی۔‘‘ بیگ کو مضبوطی سے کندھے پر جمائے وہ تیزی سے بولتی ہوئی عرشی کو کچھ عجیب سی لگی۔
’’بس اسٹاپ پر کیوں؟ تم میرے ساتھ آؤ‘ میں تمہیں گھر جاتے ہوئے راستے میں اتار دوں گی۔ ویسے بھی تمہارا گھر میرے گھر کے راستے میں آتا ہے۔‘‘
’’نہیں… تم جاؤ‘ خوامخواہ میری وجہ سے ڈسٹرب ہوگی۔‘‘ اسے منع کرتے ہوئے بغیر اس کی طرف دیکھے‘ وہ تیزی سے پلٹی اور اس کے آوازیں دینے کے باوجود مڑ کر نہ دیکھا۔
’’اب میں کیا ہر بات اس سے شیئر کروں‘ وہ کیا سوچے گی ہمارے بارے میں۔‘‘ سوچتے ہوئے وہ بس اسٹاپ پر پہنچی اور تھوڑی دیر بعد وہ اسی بازار میں موجود تھی‘ جہاں وہ کل زاہدہ بیگم کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئی تھی۔ کالج آتے ہوئے وہ پاکٹ منی سے بچائے ہوئے پیسے ساتھ لے آئی تھی اور اب وہی جھلمل کرتے گلابی سوٹ کو پیک کروا کر بہت خوش تھی۔ وہ شروع سے ہی ایسی تھی کسی کو خوش کرنا ہوتا تو امی جان سے چھپ چھپا کر مدد کردیتی۔ اپنی کوئی چیز اُٹھا کر سہیلی کو دے دیتی اور بعد میں زاہدہ بیگم کے ناراض ہونے پر ان کے گلے میں بازو ڈال کر منانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ زاہدہ بیگم کی بھی تو اگر آنکھوں کی ٹھنڈک خرم تھا تو جان عروہ میں تھی۔
سوٹ لے کر وہ اسی بازار میں موجود ٹیلر کے پاس پہنچی‘ جہاں وہ کل آتے ہوئے کپڑے سلائی کے لیے دے گئی تھی۔ عروہ اور انیلہ قدو قامت میں ایک جیسی ہی تھیں۔ بوٹا سا قد اور کومل سا وجود اس لیے ناپ وغیرہ کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔
’’جب بھابی میرا گفٹ دیکھیں گی تو کتنا خوش ہوں گی۔‘‘ سوچتے ہوئے ایک اطمینان بھری مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر اُبھری تھی۔
ء…ۃ…ء
’’آج کام زیادہ ہے کیا؟‘‘ کپڑے تہ کرکے ترتیب سے الماری میں رکھتی وہ مڑی اور اسٹڈی ٹیبل کے پاس آکھڑی ہوئی‘ جہاں خرم نگاہیں کمپیوٹر کی اسکرین پر جمائے تیزی سے ٹائپنگ کرنے میں مصروف تھا۔
’’کیوں… نظر نہیں آرہا‘ کتنی دیر سے مصروف ہوں۔‘‘ خرم کی کرخت سی آواز پر اس کے مسکراتے چہرے پر تاریکی چھائی‘ وہ پہلے تو بالکل ایسا نہیں تھا مگر گزرتے وقت اور حالات کی تبدیلی نے اس کے رویے کو بڑی تیزی سے تبدیل کیا تھا۔ وہ جو اس کی مسکراہٹ دیکھنے کے لیے ہزار جتن کرتا تھا‘ اب اسے اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے کھو جانے کا ملال نہیں تھا۔
’’چائے لاؤں؟‘‘ اس نے ایک اور کوشش کی۔
’’احسان ہوگا مجھ پر… کتنی دیر سے اپنے کاموں میں مصروف انیلہ بیگم کو آخرکار اپنے شوہر نامدار پر ترس آہی گیا۔‘‘ راکنگ چیئر اس کی طرف موڑ کر اس نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے۔ وہ تھکے ہوئے قدموں سے کمرے سے نکل کر کچن میں چلی آئی۔ پتیلی میں دو کپ چائے کا پانی بھر کر اس نے چولہا جلایا تو نہ جانے کیوں اسے جلتی آگ میں اپنے ارمانوں کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کے ارمان بھی جلتے ہوئے محسوس ہوئے۔ سوچوں میں مگن کھولتے ہوئے پانی پر نظریں جمائے وہ کب سے ایسے ہی کھڑی تھی کہ عروہ کے ہاتھ پکڑ کر کھینچنے پر بری طرح بوکھلائی۔
’’ارے… ارے کہاں لے کر جارہی ہو مجھے؟ چائے تو پکانے دو تمہارا بھائی انتظار کررہا ہوگا۔‘‘
’’کرنے دیں انہیں انتظار۔ آپ آئیں ناں میرے ساتھ میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے۔‘‘ اپنے کمرے میں آکر الماری کھولتے ہوئے وہ گلابی سوٹ کو اس کے سامنے لہراتے ہوئے بولی۔
’’یہ میں اپنی پیاری سی بھابی کے لیے لائی ہوں۔‘‘
’’مگر عروہ… اس کی کیا ضرورت تھی‘ میرے پاس پہلے ہی بہت سارے سوٹ ہیں اور تم ایک اور اتنا مہنگا سوٹ اُٹھا کر لے آئی ہو۔‘‘ انیلہ اس کے ہاتھ سے سوٹ لیتے ہوئے جھجکی۔
’‘ارے اس میں جھجکنے کی کیا بات ہے۔ کیا میں آپ کے لیے کچھ نہیں خرید سکتی؟ آپ ہمارا اور اس گھر کا اتنا خیال رکھتی ہیں‘ یہ تو میں نے آپ کی خوشی کے لیے ایک چھوٹا سا گفٹ لیا ہے۔‘‘
’’بہت بہت شکریہ عروہ… تم بہت اچھی ہو‘ اس گھر میں‘ میں جس کے بھروسے آئی تھی‘ اس کی نظروں میں اپنے لیے بے زاری دیکھ کر مجھے اس گھر میں تم ہی اپنی ہمدرد اور خیر خواہ نظر آرہی ہو۔‘‘ عروہ کے ہاتھوں کو تھامے اس کے لہجے میں کتنے ہی دُکھ بول رہے تھے۔ عروہ بس اسے افسوس سے دیکھتی ہی رہ گئی۔
’’ٹھیک کہتی ہیں امی جان‘ جائز کام کے لیے ناجائز راستہ اپناکر میں نے اپنی آخرت اور دُنیا‘ دونوں ہی برباد کرلی ہیں۔ ایسی عورتیں بہت جلد اپنے خاوند کے دل سے اُتر کر اس معاشرے کے طعنوں اور زہریلے الزامات میں اپنا آپ کھو دیتی ہیں مگر مجھے عقل آئی بھی تو کب‘ جب میں اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی۔‘‘ اب اس کا دُکھ آنسوؤں کی صورت میں پچھتاوا بن کر گالوں پر اُتر آیا تھا۔
’’بھابی آپ… آپ روئیں مت اور دیکھیں‘ امی جان کی باتوں کو دل پر مت لیا کریں‘ وہ دل کی بہت اچھی ہیں‘ صرف ان ہی کی خواہش تھی اپنی بھانجی کو بہو بناکر لانے کی اسی لیے انہوں نے کبھی بھائی کو آپ سے شادی کی اجازت نہ دی اور اب یہ کڑواہٹ ان کے لہجے میں بس گئی ہے۔‘‘
’’مگر عروہ… ماما اور بابا‘ وہ تو میرے سگے ماں باپ ہیں ناں‘ تو وہ کیوں مجھے ابھی تک دھتکار رہے ہیں۔ کیوں سب کچھ بھول کر مجھے گلے سے لگانے نہیں آتے‘ میں تھک چکی ہوں انہیں فون کرکر کے مگر ایک دفعہ میری آواز سن کر اب میرا فون اُٹھانا درکنار انہوں نے نمبر ہی تبدیل کرلیا‘ کیا میری غلطی اتنی سنگین تھی کہ وہ اب گناہ کا روپ دھار چکی ہے؟‘‘ بلکتی ہوئی انیلہ کو سنبھالنا عروہ کے لیے مشکل ہورہا تھا۔ انیلہ کے ساتھ ساتھ اس کے بھی آنسو نکل آئے تھے۔ اسے بھی تو ڈیڑھ سال ہوچکا تھا اپنی اکلوتی بھابی کے ساتھ‘ اپنی ماں کا ناروا سلوک دیکھتے ہوئے اور اس پر مستزاد خرم بھائی‘ جنہوں نے اپنی خواہش اور ضد کو کورٹ میرج کا روپ دیا تھا اور اس سلسلے میں اپنی ماں کی بات کو بھی رد کردیا تھا‘ جن کی مرضی کے بغیر شاید انہوں نے کبھی دوست بھی نہیں بنائے تھے اور اب شادی کے کچھ عرصے بعد ماں کی ناراضی دُور کرنے کے لیے وہ اپنے اتنے بڑے قدم پر پچھتا رہے تھے اور اس کی سزا انیلہ بے چاری کو بھگتنا پڑرہی تھی‘ جو صرف خرم کے بھروسے پر اپنے ماں باپ کے لاڈ پیار اور بھرے گھر کو ٹھکرا آئی تھی اور اب خود ٹھوکروں کی زد میں تھی۔
’’بھابی‘ آپ فکر نہ کریں‘ سب ٹھیک ہوجائے گا اور بھائی کام کی ٹینشن کی وجہ سے چڑچڑے ہورہے ہیں‘ ورنہ وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں… ٹرسٹ می۔‘‘ عروہ نے اس کے آنسو صاف کیے۔
’’میں بھی ناں… تمہیں بھی اَپ سیٹ کردیا ارے… چائے کا پانی تو کب کا سوکھ چکا ہوگا۔ میں جارہی ہوں اور تمہارے لیے بھی چائے بھجوا دوں گی۔‘‘ خود کو سنبھالتی اور یاد آنے پر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے تیزی سے کمرے سے نکلی البتہ جاتے ہوئے اس نے سوٹ شکریہ کے ساتھ لے لیا تھا۔
عروہ بیڈ پر سے موبائل اُٹھا کر اِن باکس چیک کرنے لگی اور کچھ ہی دیر بعد وہ ایک نمبر بے تابی سے پریس کررہی تھی۔
ء…ۃ…ء
’’عروہ تم مائنڈ نہ کرنا‘ مجھے تمہاری مدر سمجھ میں نہیں آئیں۔ اپنی بھانجی کو وہ اس لیے لانا چاہتی تھیں کہ وہ بہت سگھڑ‘ سلیقہ مند اور تابعدار لڑکی ہے مگر تمہارے کہنے کے مطابق انیلہ بھابی بھی اس معیار پر پوری اُترتی ہیں تو یہ سب کیوں کررہی ہیں پھر وہ؟‘‘ شہروز نے جوس کا گھونٹ بھر کے اپنی نظریں عروہ کے خوب صورت چہرے پر جمائیں۔ وہ دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ کے نسبتاً تاریک حصے میں بیٹھے ہوئے تھے مگر چھت پر لگی فینسی لائٹس کی مدھم سی روشنی اسے بہت خوب صورت منظر میں تبدیل کررہی تھی۔
’’یو نو شہروز‘ تم مدرز کی سائیکی نہیں سمجھتے۔ بچپن سے لے کر لڑکپن تک اولاد کا ہر فیصلہ کرنے کے بعد وہ ہماری زندگی کے سب سے اہم فیصلے پر اپنا حق سمجھتی ہیں اور جب ہم انہیں اس حق سے بے دخل کرتے ہیں تو ان کا یوں ری ایکٹ کرنا تو لازمی ہے۔‘‘ گلاس کے کناروں پر انگلی پھیرتے ہوئے وہ نظریں چراتے ہوئے دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’لیکن مدرز کو بھی تو سمجھنا چاہیے‘ جب ہم ساری عمر ان کے فیصلے پر سر جھکاتے ہیں تو سب سے اہم فیصلے کا حق تو ہمیں ملنا چاہیے۔‘‘
’’اچھا… تو اپنے بارے میں کیا رائے ہے تمہاری؟‘‘ عروہ کی نظروں میں اب کی بار طنز تھا۔ ’’اپنی یہ بات‘ جسے تم اپنا حق کہہ رہے ہو‘ وہ تو تم آنٹی کے سامنے کہہ نہیں سکتے۔‘‘
’’عروہ… پلیز ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ‘ میں کوشش تو کررہا ہوں‘ آپی کے لیے کوئی مناسب سا رشتہ مل جائے تو میں اپنی بات ماما سے بلاجھجک کہہ دوں گا۔‘‘
’’اور وہ موقع کب آئے گا؟ آنٹی آپی کے لیے ہر آنے والے رشتے سے انکار کررہی ہیں تو کیا وہ تمہاری بات آسانی سے مان جائیں گی؟‘‘
’’ہاں… مجھے یقین ہے کہ وہ منع نہیں کریں گی۔‘‘ شہروز نے اس کے سوال کے جواب میں کہا۔ ’’کیونکہ ماما نے کبھی سگھڑ اور اپنی من پسند بہو کا خاکہ مجھے نہیں بتایا۔‘‘
’’اور تم اس یقین کے ٹوٹنے کے بعد کوئی اور ’’عروہ‘‘ دیکھ لینا۔‘‘
’’ہاہا… اٹس امپاسبل‘ اتنی بڑی چڑیل کے لیے تو مجھے پھر کوہ قاف کی پہاڑیوں سے ٹکرانا ہوگا۔‘‘ وہ زور سے ہنسا۔
’’بائے دا وے‘ کیا تم یہی باتیں کرنے کے لیے تشریف لائی ہو؟‘‘
’’نہیں‘ تمہارا سر پھاڑنے کے لیے۔‘‘ عروہ نے میز پر پڑا گلدان اُٹھا کر اس کی طرف بڑھایا تو وہ ایک بار پھر اس کو روکتے ہوئے ہنس دیا تھا۔
ء…ۃ…ء
صوفے پر دونوں پاؤں پسار کر بیٹھے‘ وہ تیزی سے نوٹس بنانے میں مگن تھی‘ جب زاہدہ بیگم کے پاٹ دار لہجے پر بری طرح بوکھلائی۔
’’یہ کیا دیکھا ہے میں نے؟‘‘
’’کیا…؟ مجھے کیسے پتا چل سکتا ہے کہ آپ اس وقت کیا دیکھ کر آرہی ہیں؟‘‘ خشمگیں نگاہوں سے گھورتی ہوئی زاہدہ بیگم کے کہنے پر وہ حیران ہوئی۔
’’یہ انیلہ وہی سوٹ پہن کر‘ بن ٹھن کر میاں کے ساتھ گئی ہے ناں جو اس دن تم لینے کے لیے ضد کررہی تھیں۔‘‘
’’کیا… بھابی‘ بھائی کے ساتھ کہیں باہر گئی ہیں؟‘‘ پین ہونٹوں میں دبائے وہ بہت خوش ہوئی۔ یہ دیکھے بغیر کہ اس کے لہجے پر وہ سلگ گئی تھیں۔
’’ارے بہت میسنی ہے وہ‘ سب کے سامنے بھیگی بلی بنی رہتی ہے اور بعد میں میرے بیٹے کی کمائی پر عیش کرتی ہے۔‘‘
’’امی… آپ بھی مبالغہ آرائی کی حد کررہی ہیں‘ بھائی کی ابھی تو پروموشن ہوئی ہے‘ اسی لیے وہ خوشی سے بھابی کو کہیں لے گئے ہوں گے۔ ویسے بھی پچھلے دنوں بھائی جان کا رویہ بھابی سے بہت اُکھڑا سا تھا۔‘‘ صوفے سے اُٹھ کر وہ نوٹس سمیٹنے لگی۔
’’بس… بند کرو اپنا بھابی نامہ‘ بھئی ہم تو پہلی بار ایسی نند دیکھ رہے ہیں جو ماں کے منہ کو بند کروا رہی ہے اپنی بھاوج کے لیے۔‘‘ زاہدہ بیگم کو اس کے انداز پر حد درجہ طیش آیا۔ ’’اور اپنی ہمدردیاں ذرا کم کرو‘ اب میں نہ دیکھوں کہ تم اس کے لیے مجھ سے جھوٹ بولو۔ اس ہفتے تمہاری خالہ آرہی ہیں کچھ گھر داری میں دلچسپی لو۔‘‘
’’کیوں… خالہ کیوں آرہی ہیں؟‘‘ وہ چونکی۔
’’کیوں… میری بہن نہیں آسکتی؟‘‘ انہوں نے الٹا اسی سے سوال کیا۔ ’’اور مجھے لگتا ہے کہ اس دفعہ وہ کسی خاص مقصد سے آرہی ہیں‘ تب ہی تو تمہارا اتنا پوچھ رہی تھی مجھ سے عقیلہ۔‘‘
’’امی… مجھے عقیلہ خالہ کا خاص مقصد اچھی طرح سمجھ میں آرہا ہے مگر آپ انہیں کہہ دیں کہ کسی مقصد کے لیے یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ نوٹس پکڑے وہ خاصی بدتمیزی سے کہہ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ زاہدہ بیگم ہکابکا اسے جاتا دیکھتی رہ گئی تھیں۔
ء…ۃ…ء
’’بھابی پلیز… دو کپ اچھی سی چائے اور اسنیکس بھیج دیجئے گا میرے روم میں۔‘‘ وہ خاصی عجلت میں کچن میں برتن دھوتی انیلہ سے کہہ کر واپس اپنے کمرے میں آئی۔ دو دنوں سے وہ کالج نہیں گئی تھی تو عرشی آج اس کے پاس آگئی تھی۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی اس کی بیسٹ فرینڈ تھی اور شہروز کی کزن ہونے کے ناتے وہ عروہ اور شہروز کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی۔
’’یہ تم نے کیا حلیہ بنا رکھا ہے‘ اور کالج کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ عرشی نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
’’بس طبیعت کچھ خراب تھی‘ دل نہیں چاہ رہا تھا کالج آنے کو۔‘‘
’’طبیعت خراب تھی تو موبائل کیوں آف ہے؟ شہروز دو دن سے میرا سر کھا رہا ہے کہ جاکر تم سے بات کروں‘ تمہاری خیریت دریافت کروں۔‘‘
’’کیا… تم صرف شہروز کے کہنے پر یہاں آئی ہو؟‘‘ عروہ نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔ ’’میں تو سمجھ رہی تھی کہ تم یہاں میرے لیے آئی ہو۔‘‘
’’ارے مائی ڈیئر… ایسا کیسے ہوسکتا ہے‘ آفٹر آل تم پہلے میری فرینڈ ہو‘ یہ شہروز کا قصہ تو میرے بھائی کی شادی پر شروع ہوا تھا ناں جہاں تمہیں دیکھتے ہی وہ لٹو ہوگیا تھا۔‘‘ انیلہ کو ٹرالی گھسیٹ کر لاتے ہوئے دیکھ کر عرشی نے اپنی زبان کو بریک لگائی۔
’’بھابی‘ اس تکلف کی کیا ضرورت تھی‘ میں صرف عروہ کو دیکھنے آئی تھی۔‘‘
’’ارے اس میں کیسا تکلف اور تمہارا ہی گھر ہے‘ جب چاہے آؤ۔‘‘ انیلہ مسکرا کر کپوں میں چائے اُنڈیلنے لگی تو عروہ نے آگے بڑھ کر اسے روک دیا۔
’’بھابی آپ رہنے دیں‘ یہ میں کرلوں گی اور تھینکس۔‘‘
’’نو تھینکس ڈیئر۔‘‘ اس کے کندھے کو ہلکا سا تھپتھپا کر وہ چلی گئی۔ اس نے چائے کا کپ اور پلیٹیں عرشی کے سامنے رکھیں۔
’’خالہ آرہی ہیں میرا ہاتھ مانگنے۔‘‘ عروہ کی بات پر چائے پیتی عرشی کو اچھو لگا۔
’’واٹ…! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘
’’کیوں‘ تم نے سنا نہیں؟‘‘ وہ چڑئی۔ ’’اور مجھے سو فیصد یقین ہے کہ امی جان نے مجھ سے پوچھے بغیر ہاں کردینی ہے۔‘‘
’’ایسے کیسے ہاں کردیں گی‘ تم ان کی اکلوتی بیٹی ہو اور تم نے انہیں شہروز کے بارے میں نہیں بتایا؟‘‘ عرشی کو اب اس کی اداسی کا سبب سمجھ میں آیا۔
’’تمہیں یاد تو ہے کہ خرم بھائی کی دفعہ امی نے کتنا واویلا کیا تھا اور بھائی نے ضد میں آکر اپنی مرضی کر ڈالی‘ تو اب وہ میری بات کیوں مانیں گی؟ اور شہروز کی بات تو تم نہ ہی کرو۔‘‘ شہروز کا نام لیتے ہوئے اس کی بھنویں تن سی گئیں۔ ’’میں کس بنیاد پر امی جان کو بتاؤں‘ اگر شہروز اپنے گھر والوں کو بھیج دیتا تو میں بھی کوئی اسٹینڈ لے ہی لیتی۔‘‘
’’اُف عروہ… تم کتنی پاگل ہو‘ تمہیں یہ خبر سب سے پہلے شہروز کو بتانا چاہیے تھی۔ وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرتا۔ اب بھی کچھ نہیں ہوا‘ تم اسے ساری بات بتاؤ اور اس سے کہو کہ آنٹی کو یہاں آنے کے لیے منائے۔‘‘
’’ہاں‘ میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔‘‘ اس کے چہرے پر سوچ کی واضح پرچھائیاں تھیں۔ ’’تم چائے پیو‘ ٹھنڈی ہورہی ہے۔‘‘ ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اس نے اپنا کپ اُٹھا کر ہونٹوں سے لگایا مگر ذہن کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟ اتنے اچھے رشتے کو تم بغیر کسی وجہ کے ٹھکرا رہی ہو‘ آخر کمی کیا ہے اس رشتے میں؟ دیکھا بھالا لڑکا ہے‘ شکل و صورت میں بھی بڑھ کر ہے اور اپنا کاروبار ہے‘ میں کفرانِ نعمت نہیں کروں گی۔‘‘ عقیلہ خالہ کل آکر اپنا پیغام دے گئی تھیں اور عروہ کے انکار پر زاہدہ بیگم مارے غصے کے کانپ رہی تھیں۔
’’امی‘ آپ کیوں اتنی ہائپر ہورہی ہیں؟ اس رشتے پر دُنیا ختم نہیں ہوجاتی۔‘‘ عروہ نے بے بسی سے انہیں دیکھا اور شانوں سے تھام کر صوفے پر بٹھایا۔ پانی کا گلاس انہیں پکڑایا تو انہوں نے جھٹک کر اس کا ہاتھ دُور کردیا۔
’’دیکھو عروہ‘ تم تو میری پیاری بیٹی ہو ناں‘ تو پھر یہ کیوں کررہی ہو؟ مان جاؤ۔ فراز تمہیں بہت خوش رکھے گا۔‘‘ تھوڑی دیر بعد زاہدہ بیگم نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے خاموشی کو توڑا۔ سائیڈ والے صوفے پر خرم تیکھی نظروں سے اسے خاموش بیٹھا گھور رہا تھا۔ انیلہ اس معاملے سے بالکل الگ اپنے کمرے میں تھی۔ منت کرتی ماں کو دیکھ کر عروہ کو کچھ ہوا مگر اب دل کسی کے اشاروں پر چل رہا تھا تو وہ کیونکر سنتی۔
’’امی جان‘ میں آپ کی ہر بات مان سکتی ہوں مگر یہ بات ماننا میرے اختیار میں نہیں۔‘‘
’’کون ہے وہ‘ جس کے لیے تم یہ سب کررہی ہو؟‘‘ خرم نے پہلی بار زبان کھولی تو زاہدہ بیگم ساکت ہوئیں۔ اُمید بھری نظروں سے عروہ کو دیکھا‘ جیسے وہ ابھی خرم کی بات کی نفی کردے گی۔
’’شہ… شہروز نام ہے اس کا۔ عرشی کا کزن ہے۔‘‘ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے‘ وہ اٹکتے ہوئے بولی تو بے اختیار خرم نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں۔
’’خرم… اسے کہو کہ دفع ہوجائے یہاں سے۔ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ یہ مجھے ایک دن ایسا روپ دکھائے گی‘ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ارے تم لوگوں کا باپ بہت خوش نصیب تھا‘ جو یہ دن دیکھنے سے پہلے چلا گیا ورنہ بیٹے کے بعد بیٹی کی یہ ڈھٹائی اور کرتوت دیکھ کر میری طرح زندہ درگور ہوجاتا۔‘‘ زاہدہ بیگم کے رونے اور واویلا کرنے پر خرم کی نظریں بے اختیار جھک گئی جبکہ وہ روتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی۔
’’شہروز… پلیز تم آنٹی کو مناؤ‘ میں اب اور یہ سب برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ کمرے میں آکر اس نے شہروز کو کال ملائی اور اب اس کی روئی ہوئی آواز سن کر وہ سارا معاملہ سمجھ گیا تھا۔
’’تو آنٹی نے انکار کردیا؟‘‘ اس کی آواز میں عروہ کو کھودینے کا اندیشہ واضح تھا۔ ’’میں خود بہت اَپ سیٹ ہوں‘ ماما نے سختی سے انکار کردیا ہے کہ آپی سے پہلے وہ میرا کہیں بھی رشتہ نہیں کریں گی اور دوسری طرف تمہارے گھر والے اتنی جلدی میں ہیں۔‘‘
’’اب کیا ہوگا شہروز؟‘‘ عروہ نے سختی سے اپنے گال سے آنسو پونچھے۔
’’تم نے انہیں بتایا کہ میں خود رشتہ لے کر آجاتا ہوں اور تمہارے لیے علیحدہ گھر افورڈ کرسکتا ہوں‘ بعد میں مما کو راضی کرلوں گا میں۔‘‘ بے تابی سے کہتے ہوئے وہ گویا خود کو دلاسا دے رہا تھا۔
’’وہ کچھ بھی سننے کو راضی نہیں ہیں شہروز۔‘‘ آنسو پھر بہہ نکلے۔
’’تم کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں صرف تمہیں چاہتی ہوں۔‘‘ اس کے ہونٹوں سے یہ الفاظ سن کر گویا شہروز کی مردہ آواز میں زندگی کی رمق لہرائی تھی۔
’’تو بس پھر طے ہے‘ ہم کورٹ میرج کررہے ہیں۔‘‘ عروہ کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا۔ اس نے تو کبھی بھی ان خار دار راستوں پر چلنے کے بارے میں نہیں سوچا بھی نا تھا۔
’’یہ… یہ کیا کہہ رہے ہو؟ میں نہیں کرسکتی یہ…‘‘
’’میں بھی نہیں کرنا چاہتا عروہ مگر ہمارے گھر والے ہمیں یہ قدم اُٹھانے پر مجبور کررہے ہیں۔‘‘ بے بسی اس کے لہجے سے مترشح تھی۔ ’’اور میں تمہارے بغیر زندگی گزارنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ عروہ… تم سن رہی ہو؟‘‘ اس کی بے چین آواز پر وہ ہوش میں آئی۔ ’’مجھے تمہارا جواب چاہیے۔‘‘
شہروز نے سلسلہ منقطع کردیا تھا اور وہ خالی نظروں سے موبائل ہاتھ میں پکڑے سیاہ اسکرین کو گھورتی رہی تھی۔
ء…ۃ…ء
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے گرد موجود الجھنوں سے نکلنے کے لیے کئی راستے ہوتے ہیں مگر وہ راستے بھی پتھروں اور کانٹوں سے اٹے ہوتے ہیں مگر نکلنے کے لیے کسی ایک راستے کا انتخاب تو کرنا پڑتا ہے۔ اس نے بھی کانٹوں بھرے راستے سے ڈر کر پتھروں بھرا راستہ منتخب کرلیا تھا۔ وہ پتھروں پر سے گزر سکتی تھی مگر کانٹے چننے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ دل تو اسے کانٹے چن کر راستہ صاف کرنے سے منع کررہا تھا کیونکہ وہ کانٹے تو اس کی اور شہروز کی یادوں کی صورت ماں کے منتخب کردہ راستے پر تھے اور اس نے اس راستے کو بند کرنے اور شہروز کا ہاتھ تھامنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’پھر کیا سوچا تم نے؟‘‘ رات کے وقت وہ سب کے درمیان مجرموں کی طرح گردن جھکائے کھڑی تھی۔ ڈرائنگ روم کی پراسرار خاموشی کو خرم کی آواز نے توڑا۔
’’میں نے عقیلہ خالہ کی بیٹی کو ٹھکرایا مگر یہ ان کی دریا دلی ہے کہ وہ تمہیں بہو بنانے کی خواہش اب بھی پوری کرنا چاہتی ہیں۔ وہ رسم کے لیے آنا چاہ رہی ہیں اور اسی ہفتے تمہاری فراز کے ساتھ منگنی ہورہی ہے۔‘‘
’’مگر میں راضی نہیں اور آپ میری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘
’’چٹاخ…‘‘ کی آواز پر سب ساکت رہ گئے تھے۔ وہ گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑے بھائی کو دیکھ رہی تھی‘ جو اب ہاتھ مسل کر پچھتاتا‘ پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔ زاہدہ بیگم کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں مسلا مگر وہ مصلحت کے تحت چپ سی تھیں کہ عروہ کو اپنی زندگی سے کھیلتے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
’’تو اب آپ لوگ مجھے اپنی بات منوانے کے لیے ماریں گے؟‘‘ خرم شرمندگی سے اسے تھامنے کے لیے آگے بڑھا تو وہ روتے ہوئے پیچھے ہٹی۔
’’دیکھو‘ ہم تمہارے دشمن نہیں ہیں اور نہ ہی تمہارا برا چاہتے ہیں‘ یہ ضد کرکے تم اپنی زندگی برباد کررہی ہو۔ تم ان چاہی بن کر کیوں جانا چاہتی ہو کسی کے گھر؟‘‘
’’کیوں؟ آپ بھی تو انیلہ بھابی کو اس گھر میں لے کر آئے ہیں اور وہ ادھر خوش ہیں اور آپ اپنا فیصلہ خود کرکے مجھ پر اپنی مرضی کا فیصلہ تھوپنا چاہ رہے ہیں۔ جب آپ اپنی مرضی سے شادی کرسکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟‘‘ ڈھٹائی سے کہتے ہوئے وہ خرم کا چہرہ تاریک کر گئی اور کونے میں کھڑی انیلہ کے قدم لڑکھڑائے تھے۔
’’دیکھا… میں نہ کہتی تھی کہ تمہارا یہ قدم ہمیں لے ڈوبے گا اور وہی ہوا۔‘‘ زاہدہ بیگم نے ملامتی نظروں سے اسے لتاڑا۔ ’’یہ سب جو کچھ کررہی ہے‘ اسے اسی گھر سے شہ ملی ہے ورنہ یہ ایسی نہیں تھی۔‘‘ انہوں نے پورے وثوق سے بات مکمل کی تو عروہ کو لگا کہ وہ کچھ غلط کہہ گئی ہے مگر یہ وقت پچھتانے کا نہیں‘ کچھ کر گزرنے کا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ خرم کی سرد آواز کمرے میں گونجی۔
’’اگر میں انیلہ کو چھوڑ دوں تو پھر تمہیں اپنی ضد چھوڑنا ہوگی کیونکہ ہم خالہ کو اب کی بار انکار کرکے اپنی بچی کھچی عزت کا جنازہ نہیں نکال سکتے۔‘‘ خرم کی بات تھی کہ کوئی زہریلا نشتر‘ جو انیلہ کو لہولہان کرگیا تھا۔ زاہدہ بیگم بھی اپنی جگہ بھونچکا رہ گئیں۔ وہ اپنی ضد کے لیے کسی اور کی زندگی برباد کرنے چلا تھا۔
انیلہ منہ پر ہاتھ رکھے تیزی سے کمرے سے روتی بلکتی چلی گئی۔ وہ بھی مرے ہوئے قدموں سے بنا کچھ بولے اپنے کمرے میں واپس آگئی۔
’’اگر میں انیلہ کو چھوڑ دوں…‘‘ الفاظ کی بازگشت ابھی تک باقی تھی۔ کیا کوئی ایسا بھی کرسکتا ہے کہ کسی کے اعتماد‘ اعتبار اور پیار کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کردے۔ خرم بھائی کے الفاظ اس کے گرد دُھند کی صورت چھا رہے تھے۔
ء…ۃ…ء
بس ایک لمحے کی ضرورت ہوتی ہے جب ہماری آنکھوں سے مستقبل کے حسین خواب و جذبات کی پٹی اتر جاتی ہے اور حقیقت کی بینائی سے ہر چیز روز روشن کی طرح نظر آنے لگتی ہے۔ اور یہ ’’لمحہ‘‘ اسے خرم بھائی کے الفاظ کی بدولت عطا ہوگیا تھا۔
بے شک یہ فیصلہ رگوں سے جان کھینچ لینے والا تھا مگر حقیقت… حقیقت اس سے بھی بڑھ کر بھیانک تھی… کیا وہ سہہ پائے گی یہ الفاظ‘ جو آج خرم کے منہ سے ادا ہوئے تھے۔ اگر یہی الفاظ شہروز بولے تو اور اسی حقیقت نے اس سے وہ فیصلہ کروا دیا‘ جسے کرنا تو درکنار‘ وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔
’’کیا تم اسے بھول پاؤ گی، جی لوگی اس کے بغیر؟‘‘ دل ہر تاویل رد کرکے دماغ پر جذبات کی دھند پھیلانا شروع کررہا تھا۔
’’ہاں میں جی لوں گی… جی لوں گی‘ محبت کے بغیر تو زندگی جیسے تیسے گزر سکتی ہے مگر جس کے لیے ساری زندگی تیاگ دی جائے‘ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے بے زاری راکھ ہوتی محبت اور پچھتاوا دیکھنا موت کی اذیت سے بڑھ کر ہے۔ محبت کے بغیر زندگی گزاری جاسکتی ہے پر عزت کے بغیر نہیں۔‘‘ وہ آنسو پونچھ کر زاہدہ بیگم کے پاس جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی مگر جانے سے پہلے موبائل سے سم نکال کر توڑتے ہوئے ایک سوچ نے روح کو راحت بخشی تھی کہ جب وہ امی جان کے سامنے خالہ کو ہاں کہنے کا بولے گی تو ماں کی آنکھوں میں اُمڈتی خوشی ہی اس کا اصل سرمایہ ہوگی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close