Hijaab Jan 19

عشق نگر کے مسافر(قسظ ۳)

ندا حسنین

گزشتہ اقساط کا خلاصہ

ارسل ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوبرو نوجوان ہوتا ہے۔ جس نے حال ہی میں اسپین کی سر زمین پر قدم رکھا تھا۔ وہ کاسمیٹکس کے ایک معروف برانڈ کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ ہسپانیہ آنے کے بعد ابتدائی دنوں میں ہی اسے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ماضی کے بھیانک چہرے اور خوفناک خوابوں کا سلسلہ اب تک اس کے تعاقب میں ہیں۔ ماریانہ ایک خوب صورت اور دلکش شخصیت کی حامل لڑکی ہوتی ہے جو تقویمی عمل کی تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہے۔ اپنے والد کیپٹن خاور کی حاد ثاتی موت کے بعد وہ اپنی گرینی کے ساتھ سان سباستیان میں مقیم ہوتی ہے۔ اس کی زندگی میں خونی رشوں کی کمی ہوتی ہے میا اس کی سہیلی ہوتی ہے جو اس کے ساتھ Mind Technology میں تنویمی عمل (Hypnosis) کی تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہے۔ یاور بخت اور صبیحہ کی شادی مکمل طور پر ارینج میرج ہوتی ہے۔ وہ دونوں ہی محبت و الفت کی مضبوط ڈور سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ شادی کے سات سال گزر جانے کے باوجود اولاد کی محرومی نے ان کے محبت کے محل کے ستونوں کو ہلانا شروع کردیا تھا۔ یاور بخت سات سال کے انتظار کے بعد دوسری شادی کا ارادہ کرتے ہیں۔ ان کی زندگی میں سجل کی آمد کسی تلاطم سے کم نہیں ہوتی‘ سجل ایک انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی نہایت حسین دوشیزہ ہوتی ہے۔ محمود بیگ نے صنعت کاری کے میدان میں داخل ہوتے ہی مشہور و معروف صنعت کار یاور بیگ کو کاروبار میں شراکت داری کی پیشکش کرتے ہیں جیسے یاور بخت ٹھکرا دیتے ہیں۔ پیشکش کے ٹھکرائے جانے پر محمود بیگ یاور بخت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے۔ ارسل ساحل سمندر کونچا مشہور اداکارہ اینا پاؤل سے ملاقات کی غرض سے آتا ہے وہاں سے واپسی پر ماریانہ کو بچاتے ہوئے کچھ غنڈوں سے اس کی مڈ بھیڑ ہوجاتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

’’صاحب‘ مجھے اپنے پاس رکھ لو ناں۔‘‘ وہ مسلسل یہی گردان کیے جا رہی تھی۔
’’اچھا… اچھا… میں کچھ انتظام کرتا ہوں۔‘‘ یاور بخت بہ مشکل اس کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ کمرے میں آکر اپنے تیز چلتے تنفس کو بحال کیا اور آئینے کے سامنے جاکھڑے ہوئے۔
’’مسئلہ عورت ذات کا نہیں اس کے حسن کا ہے۔‘‘ عزیز کا یہ جملہ بار بار ان کی سماعت میں ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ وہ خود کو آئینے میں دیکھنے لگے۔ تیز چلتی سانسیں، چہرے پہ پھسلتی پسینے کی بوندیں… گرمی تو نہ تھی۔ شاید یہ حرارت سجل کے قرب کا نتیجہ تھی۔ عزیز صحیح کہتا تھا۔ مسئلہ عورت ذات کا نہیں اس کے حسن کا تھا۔ کچھ نہ کچھ تو اس کا انتظام کرنا ہی پڑے گا۔ ملازمہ تو بہرحال وہ اسے نہیں رکھ سکتے تھے۔ کچھ دنوں میں انہیں اس شہر سے کوچ کر جانا تھا اور اس کو اپنے ہمراہ لے جانا تو مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ صبیحہ اسے ملازمہ قبول نہیں کرے گی بلکہ ان سے بھی متنفر ہوجائے گی۔ عزیز صحیح کہہ رہا تھا۔ جلد از جلد جان چھڑانا ضروری ہے۔ وہ ان ہی سوچوں میں غلطاں تھے کہ موبائل پر ہوتی بپ نے انہیں اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
کال علوی صاحب کی تھی۔
ء…ۃ…ء
ادھیڑ عمر ہونے کے باوجود ان دونوں میاں بیوی کی فٹنس غضب کی تھی۔ ان کے ساتھ دو نو عمر بچے بھی تھے۔ ایک گیارہ سالہ لڑکی اور اس سے چند برس بڑا لڑکا۔ ان دونوں کا قد و قامت ناک نقشہ اپنے باپ پر گیا تھا۔ جب کہ وہ عورت مختلف تھی یکسر مختلف… وہ ان لوگوں کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ان کا تعاقب کررہی تھی۔ اس کا چہرہ اس پل سپاٹ تھا اور نیلی آنکھوں میں کرب تھا۔ وہ شاید ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہی تھی۔
وہ دونوں بچے باپ سے الگ ہوکر دوسرے اسٹور میں جاچکے تھے۔ اب صرف وہ دونوں میاں بیوی ہی رہ گئے تھے اور پھر کچھ دیر بعد وہ عورت بھی ایک جیولری اسٹور میں جا گھسی۔ اس کا شوہر الیکٹرانکس شاپ میں داخل ہوا تو ماریانہ کے قدم بھی خودبخود جیولری اسٹور کی جانب بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ اس عورت کے عین عقب میں جاکھڑی ہوئی۔ سفید شرٹ اور بلیو کیپری میں ملبوس وہ خاتون انتہائی انہماک کے ساتھ شو کیس میں سجے قیمتی نیکلس دیکھنے میں مصروف تھیں۔ وہ ان کے بے حد نزیک جاکھڑی ہوئی۔ آج بھی ان کے بالوں سے وہی بھینی بھینی خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ ایک عرصے بعد اس کے نتھنوں نے اس محسور کن خوشبو کو محسوس کیا تھا۔ اس خوشبو کو اس نے ایک گہری سانس کے ذریعے اپنے اندر اتار لیا تھا۔
’’ماما…‘‘ ایک لرزتی ہوئی صدا نے صوفیہ کو بے ساختہ پلٹنے پر مجبور کیا۔
وہ آج بھی ویسی تھیں۔ سرخ و سپید اور انتہائی حسین مگر نیلی آنکھوں کے گرد کچھ حلقے بن گئے تھے‘ صبیح پیشانی کی لکیروں میں مزید کچھ اضافہ ہوا تھا‘ لب ویسے ہی کھلے کھلے تھے مگر ان میں رچی بسی وہ پرانی شگفتگی مفقود تھی۔ عمر رفتہ کی ہانپتی ہوئی تھکن ان کے پورے وجود پر طاری نظر آرہی تھی۔ ماریانہ انہیں ترسی ہوئی نگاہوں سے تک رہی تھی۔ صوفیہ کسی برفیلے منجمد وجود کی مانند سن سی کھڑی حیرانی کے عالم میں ماریانہ کو یک ٹک دیکھ رہی تھیں۔ کیا نہیں تھا اس پل صوفیہ کی نیلی آنکھوں میں۔ شکستگی، آزردگی اور لاچاری۔
’’ماما…!‘‘ ماریانہ نے ایک بار پھر صوفیہ کو پکارا۔
اور اس بار ساکت مجسمے میں حرکت ہوئی۔ صوفیہ یادوں کی کانپتی ہانپتی مسافخت سے لوٹ آئی تھی۔
’’ماریانہ…! میری بیٹی…‘‘ صوفیہ بے خودی کے عالم میں ماریانہ سے لپٹ گئیں۔
ماں سے وصال آمیز لمس کی سرشاری نے ماریانہ کو نہال کردیا تھا ایک عرصے بعد ممتا کی ٹھنڈی چھائوں اسے میسر آئی تھی۔
’’میری بیٹی…! میری زندگی…‘‘ صوفیہ کبھی اس کا ماتھا چومتیں تو کبھی اس کے رخسار، کبھی اس کی تڑپتی ممتا‘ ماریانہ کے نازک ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگاتی تو کبھی بانہوں میں بھرتی۔
دفعتاً ماریانہ کی نگاہ صوفیہ کی گردن میں پڑے آبِ گوں رنگت کے پینڈنٹ پر پڑی۔ وہ چونک گئی… یہ پینڈنٹ اس کے بابا نے ماما کو گفٹ کیا تھا۔ اسی دن جس دن اسے اس سنو وہائٹ کا تحفہ دیا تھا۔ اور ماما کتنی خوش تھیں… بار بار آئینے میں اپنا عکس دیکھتیں، پینڈنٹ پر ہاتھ پھیرتیں اور محبت پاش نگاہوں سے بابا کا شکریہ ادا کرتی تھیں۔ ماما نے آج بھی پینڈنٹ کو اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔ ماریانہ نے بے تاب نگاہوں سے ماں کے ممتا بھرے شفیق چہرے پر نگاہ کی۔
’’آہ…‘‘ کتنا درد تھا ان کی نگاہوں میں، ایک عجیب نوع کی بے کلی ان کے انگ انگ سے پھونٹ رہی تھی۔ وہ ماما کی کسک پر کراہ کر رہ گئی۔
’’صوفیہ…‘‘ پشت سے ایک اجنبی آواز ان دونوں کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ ماریانہ نے چونک کر دیکھا۔ وہی ادھیڑ عمر شخص اپنی متحیر نگاہیں ان دونوں پر جمائے حیرت زدہ سا کھڑا تھا۔
صوفیہ نے آناً فاناً آنکھوں سے بہتے اشکوں کو ہتھیلی سے صاف کیا اور خود کو سنبھالتیں ہشاش بشاش سے انداز میں اس ادھیڑ عمر شخص کی جانب پلٹتے ہوئے کہا۔
’’میتھیو… اس سے ملو… یہ ’’میری‘‘ ہے۔ میری پرانی اسٹوڈنٹ…‘‘ صوفیہ کی اس غلط بیانی پر وہ ششدر سی ماما کو دیکھنے لگی۔
’’این کان تادو، میری۔‘‘ (تم سے مل کر اچھا لگا میری) میتھیو نے ہلکی سی مسکراہٹ ماریانہ کی جانب اچھالتے ہوئے کہا۔ ماریانہ بہ مشکل مسکرا سکی۔ اسے شدید غم نے آگھیرا تھا۔ اس کی ماں اتنی مجبور تھی کہ اپنے شوہر کو اس کی اصلیت بتانے سے گریز کررہی تھی۔ درد کی ایک شدید لہر نے اس کے پورے وجود کو لپیٹے میں لے لیا تھا۔
’’ویمونس صوفیہ۔‘‘ (چلیں صوفیہ) میتھیو اب واپس صوفیہ کی جانب متوجہ ہوا۔
’’پور سو پیستو…‘‘ (ضرور) صوفیہ نے ایک گہری نگاہ ماریانہ کے اداس چہرے پر ڈالی۔
’’یہ میرا کارڈ ہے… تم مجھ سے ضرو رابطہ کرنا…‘‘ صوفیہ نے جتاتی نگاہوں کے ساتھ ماریانہ کے ہاتھوں میں اپنا وزیٹنگ کارڈ تھامتے ہوئے کہا۔ ماریانہ نے خاموشی سے وہ کارڈ صوفیہ کے ہاتھ سے لے لیا تھا۔
زندگی کا یہ موڑ کیسا ظالم تھا کہ دنیا کے دو انتہائی مقدس رشتے آج اتنے مجبور تھے کہ دنیا کے سامنے اپنا آپ آشکار ہونے سے خوف زدہ تھے وہ کارڈ پر درج نمبر پر نگاہ ڈالے سوچتی رہ گئی اور ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتی صوفیہ نے جاتے ہوئے ممتا سے چور نگاہ ماریانہ ڈالی تھی۔
’’آہ… میری لخت جگر…‘‘ ان کے لبوں سے ایک آہ خارج ہوئی تھی۔
ء…ۃ…ء
وہ ایک کشادہ کمرہ تھا۔ جس کی مغربی کھڑکی کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔ صبح ہوئے کافی وقت بیت چکا تھا مگر وہ ابھی بھی خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی کہ رضیہ بی بی دھڑام سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
’’عجیب حال ہے اس لڑکی کا… ابھی تک لمبی تانے سو رہی ہے اور ادھر حماد کب سے تیار کھڑا اس کا انتظار کر رہا ہے۔‘‘ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے انہوں نے تیزی سے کھڑکی کے دونوں پردے سرکائے۔ روشنی کا ایک جھما کا کمرے میں آن وارد ہوا۔ شبنم پر پھر بھی چنداں فرق نہ پرا۔ بس کسمسا کر کروٹ بدل گئی۔ اب کی بار رضیہ نے ایک جھٹکے سے اس پر پڑا کمبل کھینچ ڈالا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور شکوہ کناں نگاہوں سے رضیہ بی کی جانب دیکھنے لگی۔
’’ایسے بھی کوئی ماں اپنی بیٹی کو جگاتی ہے۔‘‘
’’ایسے بھی کوئی بیٹی کالج سے بیگانہ ہوکر سوتی ہے۔ حماد کب سے تمہارا انتظار کررہا ہے اور تم تیار تو دور جاگے بھی نہیں ہو شبنم۔‘‘ رضیہ بی نے جھلائے ہوئے انداز میں خوب سنایا۔
’’اوہو اماں بی… شبنم کو تیار ہونے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ ابھی منٹوں میں تیار ہوجائوں گی میں۔‘‘ وہ کسلمندی سے بستر سے اٹھتے ہوئے بولی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
رضیہ بی نے بے بس نگاہوں سے اسے کمرے سے باہر جاتے دیکھا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ جب سے انہیں شبنم کی انگڑائی لیتی جوانی کا احساس ہوا تھا۔ ان کی دن رات کی نیندیں اڑ گئی تھیں۔ رضیہ بی اتنی پریشان نہ ہوتیں، اگر ان کا ماضی اپنی ہولناکیوں سمیت ان کے ذہن میں نقش نہ ہوتا۔ وہ ماضی کی یادوں میں غرق تھیں جب شبنم کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے منہ دھونے کے ساتھ ساتھ کالج یونیفارم بھی پہن رکھا تھا۔ وہ دیوار پر نصب آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ریشمی دراز بالوں کی پونی کے بل فافٹ کھولے اور دو تین بار برش کرکے بالوں میں بننے والی لہروں کو سیدھا کیا۔ اونچی سی پونی بنائی۔ پونی بنانے کے باوجود بال اس کی کمر کو چھو رہے تھے۔ کریم شادابی چہرے پر لگائی۔ آنکھوں میں کاجل اور لبوں پر ہلکی سی نیچرل لپ اسٹک کا شیڈ لگا کر وہ تیار کھڑی تھی۔
’’دیکھا اماں بی… ہوگئی ناں تیار پانچ منٹ میں۔‘‘ وہ اب اپنے بیگ کو کندھے سے لٹکاتی، دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے بولی۔ رضیہ بی فقط سر ہلا کر رہ گئیں۔ زیرلب وہ اس کی حفاظت کے لیے رب کریم سے دعا مانگتیں بنگلے کے اندر دیگر کام نبٹانے کی غرض سے چلی گئیں۔
’’کتنی دیر کرتی ہو تم، صبح جلدی کیوں نہیں اٹھتیں لیٹ لطیف۔‘‘ اس کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی حماد نے کھنچائی کی۔
’’آپ کو معلوم ہے‘ آپ دن بدن بالکل اماں بی کی کاربن کاپی بنتے جارہے ہیں۔‘‘ حماد اس کی بات پر مسکرا کر رہ گیا۔
’’ساری زندگی کیا سوتے ہوئے گزارنی ہے؟‘‘ حماد نے ہلکے پھلکے انداز میں سرزنش کی۔
’’بالکل بھی نہیں۔ زندگی کے لیے بڑے زبردست پلان بنائے ہیں میں نے۔‘‘ وہ شوخی سے چہکی۔
’’اچھا کون سے زبردست پلان؟ ذرا ان پر روشنی تو ڈالو۔‘‘ حماد نے سامنے اسکرین سے نظر ہٹا کر اس کے جوش سے جگمگاتے چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ تو میں وقت آنے پر ہی بتائوں گی آپ کو۔‘‘ شبنم نے اترا کر کہا تو حماد نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر ایک چپت لگائی۔
’’اچھا جائو اب کالج… دھیان رکھنا اپنا اور یہ لو صبح سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں تم نے کینٹن سے کچھ لے کر کھا لینا۔‘‘ گاڑی گرلز کالج کے دروازے پر آکر رکی تھی۔ حماد نے والٹ سے کچھ پیسے نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا۔
’’تھینک یو حماد بھائی… اللہ حافظ۔‘‘ وہ پیسے لے کر گاڑی سے باہر نکل گئی۔ حماد نے اسے کالج کے اندر داخل ہوتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔
’’اوہو… وہ دیکھو ہماری ہیروئن آگئی۔‘‘ شازیہ اور فائزہ نے اسے دور سے آتا دیکھ کر کہا۔
’’اوہ بھئی… کیا شان ہے تمہاری‘ بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے گاڑی میں بیٹھ کر کالج آتی ہو۔‘‘ یہ انیلا تھی جو بڑے رشک آمیز لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’اب اتنے بڑے بنگلے سے آئی ہوں تو گاڑی میں ہی آئوں گی ناں۔ تمہاری طرح رکشوں میں گھومنے والی نہیں ہوں میں۔‘‘ شبنم نے بڑے تکبرانہ انداز میں انیلا کے روز رکشے میں آنے پر طنز کیا۔ انیلا کے چہرے کی رنگت احساس توہین سے بدل گئی تھی۔
’’اتنا غرور بھی اچھی بات نہیں شبنم… تمہارے باپ یا بھائی کی گاڑی ہوتی تو یہ الفاظ تم پر جچتے بھی‘ گھر کی پرانی ملازمہ کی نواسی ہو‘ مالکوں نے مارے ہمدردی تمہیں کالج چھڑوا بھی دیا گاڑی میں تو اپنی اوقات بھولنے کی غلطی کبھی نہ کرنا۔‘‘ انیلا نے اینٹ کا جواب پتھر سے ہی دیا تھا۔ حساب پورا ہونے کے بعد وہ وہاں مزید رکی نہیں۔ تن فن کرتی کلاس روم کی جانب بڑھ گئی۔
’’اس کی ہمت کیسے ہوئی۔ مجھ سے اتنی بڑی بات کہنے کی۔‘‘ شبنم انگارے چباتے ہوئے انیلا کی پشت کو گھورتے ہوئے بولی۔
’’اب جانے بھی دو… ویسے بھی غلطی اس کی نہیں‘ تمہیں کیا ضرورت تھی یوں اس پر طنز کرنے کی۔‘‘ فائزہ نے غیر محسوس انداز میں اسے ہی ٹوکا۔ شبنم نے ایک جھلستی نگاہ فائزہ پر ڈالی، قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتی‘ شازیہ نے موضوع بدل دیا۔
’’ارے تم نے یہ خبر پڑھی شبنم… مشہور پروڈکشن ہاؤس ڈریم ہاؤس اپنی فلموں اور ڈراموں کے لیے نئے چہروں کا متلاشی ہے۔ شہر شہر آڈیشن لیتا پھر رہا ہے۔ اتنی حسین تو ہو تم… بالکل شہزادیوں جیسی اس شعبے پر قسمت کیوں نہیں آزماتی۔‘‘ شازیہ نے فرش پر پڑی شبنم کو ایک ہی جھٹکے میں عرش پر پہنچا دیا۔ چاپلوسی بھی ایک ہنر ہے اور اس ہنر میں بڑے کرشمے چھپے ہوتے ہیں۔
’’بالکل صحیح کہہ رہی ہو تم۔ اتنی حسین و جمیل پڑھی لکھی، قابل، باصلاحیت لڑکی ہو تم شبنم‘ معاشرے میں جس حیثیت سے تم جی رہی ہو۔ وہ تمہارے شایانِ شان تھوڑی ہے۔ کب تک آخر دوسروں کے ٹکڑوں پر عیاشی کرتی رہوگی۔ قدرت نے تمہیں اتنے حسن اور صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ انہیں اپنے حق میں استعمال کیوں نہیں کرتی۔‘‘ فائزہ نے بھی شازیہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
وہ دونوں اسے خوابوں کی نئی دنیا میں پہنچا کر ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ شبنم کی سوچ کو نیا رخ دے کر وہ اب اس سے بریانی اور پیپسی کی معصومانہ فرمائش کررہی تھیں۔ اتنے سہانے سپنے دکھانے کا معاوضہ تو انہیں بہرحال سونے کی چڑیا شبنم سے وصول کرنا ہی تھا۔
ء…ۃ…ء

ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا
بجتے رہیں ہوائوں سے در، تم کو اس سے کیا
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھائو
میں بھول جائوں اپنا ہی گھر، تم کو اس سے کیا
لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا
تم نے تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر، تم کو اس سے کیا

وہ کب سے کھڑیں کھڑکی کے اس پار افق پر بادلوں میں گھرے تنہا چاند کو تک رہی تھیں۔ آنسو مسلسل ان کی آنکھوں سے جاری تھے‘ محبوب کی بے وفائی کا دکھ اپنی جگہ اور جو کمی قدرت نے ان کی ذات میں رکھی تھی اس کی اذیت کا کوئی پیمانہ نا تھا‘ اسی کمی کے باعث تو محبوب دور ہوگیا تھا۔
کچھ دیر قبل ہی عزیز نے انہیں کال کرکے یاور بخت کے کسی حسینہ کے چنگل میں پھنسنے کی رو داد سنائی تھی۔ اور صبیحہ کو ہوشیار رہنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ یاور بخت کو ان چکروں سے نکالنے کی تاکید بھی کی تھی۔ صبیحہ گم صم سی کھڑی مجازی خدا کے سارے قصے سنتی رہیں۔ شکستگی یک دم ان کے پورے وجود پہ چھاتی چلی گئی تھی۔ ایک بے نام، لاوارث خوب صورت عورت ان کے شوہر کو تسخیر کر گئی تھی۔
’’تو یہ تھی صبیحہ یاور تمہاری حقیقت، اعلا تعلیم یافتہ، انگلستان سے سند یافتہ، کروڑوں مالیت کی جائیداد کی وارث صبیحہ یاور کی حیثیت فقط اتنی سی ہے کہ ایک لاوارث لڑکی اس کے شوہر کو اپنے حسن کا گرویدہ بنا گئی۔ ان کا جرم فقط اتنا تھا کہ وہ لاکھ چاہنے کے باوجود یاور بخت کو اولاد کی خوشی نہ دے سکیں۔ تو اولاد پیدا نہ کرنا واقعی ان کا جرم تھا؟ ایک عجب نوع کی بے چینی ان کے اندر جاگ اٹھی تھی… موبائل کی بپ مسلسل بج رہی تھی۔ یاور بخت کو آج نہ جانے کتنے دنوں بعد ان کی یاد ستائی تھی۔ صبیحہ کے خستہ حال محبت کے مجسمے سے یقین، اعتبار کی مٹی جھڑنے لگی تھی۔
گویا یاور بخت تم نے میری محبت سے بے وفائی کرنے کی ٹھان ہی لی‘ اپنی حقیقت جانے بغیر تم نے مجھے مورد الزام ٹھہرا ڈالا اور محبت کی زنجیر توڑ دی تو اس ٹوٹی ہوئی زنجیر کا آسرا اب میں کیوں کروں یاور بخت۔ تمہاری واپسی کا انتظار ہے۔ شدت سے… فون ریسیور کیے بغیر الماری کے لاکر سے ایک فائل نکال کر دیکھنے لگی تھیں۔
٭…٭…٭
موسم آن کی آن میں بدلا تھا۔ رات جو چاند کا ٹیکا اپنے ماتھے پر سجائے مسرور و شاداں بہتی جا رہی تھی، گھنگھرو سیاہ بادلوں کی آمد سے تھرتھرا رہے تھے‘ بجلی چمکی، بادل گرجے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی تھی۔ سجل گھبرائی ہوئی پورے گھر میں جلے پیر کی بلی بنی ادھر سے ادھر بھٹک رہی تھی۔ اسے ویسے بھی اس گرجتے برستے موسم سے خوف آتا تھا اور یہاں تو چھاجوں مینہ برس رہا تھا۔
’’صاحب بھی ابھی تک نہیں آئے… کاش میں ان کا نمبر ہی معلوم کرلیتی۔‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بدبدائی۔ اسی دوران بجلی بھی داغ مفارقت دے گئی تھی۔
سجل پر مارے خوف کے لرزہ طاری ہورہا تھا۔ بہت ہمت کرکے اس نے راہداری کی کھڑکیوں کے پٹ کو ذرا سا کھولا‘ باہر گھپ اندھیرا تھا۔ یکایک بادل زور سے گرجے اور عین اسی پل بجلی زور سے کڑکی‘ سجل کا ننھا سا دل اچھل کر حلق تک آگیا۔ چمکتی بجلی کی روشنی میں اونچے گھنے درخت اینی مسیٹڈ اسپیشل ایفیکٹ کے مانند قد آور بلائیں معلوم ہونے لگی۔ اسی دوران بادل ایک بار پھر گرجے اور بجلی نے چمک کر جگ کو روشن کیا۔ اتنا ہی کافی نہ تھا کہ کچن سے برتنوں کے گرنے کی زور دار آواز نے سجل کو مزید خوفزدہ کر ڈالا تھا۔
گھر پر اس کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر یہ آواز… وہ حواس باختہ سی دوڑتی ہوئی سامنے نظر آتے کمرے میں جا گھسی، تاریکی میں ڈوبے گھر میں دروازہ دھڑام سے بند کرنے کی زور دار آواز گونجی تھی۔
ء…ۃ…ء
ماریانہ شکستہ قدموں سے گھر میں داخل ہوئی تو گرینی زمانے بھر کی فکریں چہرے پر سجائے بے چینی سے اس کی راہ تک رہی تھیں… اسے یوں مرے مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر گرینی کا دل بیٹھتا چلا گیا۔
’’ماریانہ کیا ہوا… ماریانہ بتائو بیٹی کیا ہوا…؟‘‘ وہ بے قرار سی ایک ہی سوال کی تکرار کرنے لگیں اور وہ چپ چاپ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ گرینی مضطرب سی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ماریانہ کے انداز و اطوار ان کے دل کو دہلا رہے تھے۔
’’ماریانہ… میری بچی کیا ہوا ہے آخر…؟‘‘ وہ ایک بار پھر پریشانی سے استفسار کرتی اس کا ہاتھ تھامنے لگیں اور یہی پل تھا جب بند ٹوٹ گیا تھا۔
ماریانہ ان کے ضعیف ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی رائٹنگ ٹیبل کی جانب بڑھی اور ایک ہیجان کے عالم میں اس نے آناً فاناً تمام کتابیں گرا ڈالیں۔
’’کیوں گرینی کیوں…؟ میرا ہی وجود کیوں شیشے کی طرح نازک ہے جب کہ جھیلنا مجھے پتھروں کا عذاب ہے۔‘‘ اس نے کتابیں پٹخنے کے بعد کھڑکی کے پردوں کو نوچنا شروع کردیا۔
’’کیوں… میرے ماں باپ مجھ سے جدا ہوگئے۔‘‘ وہ شکوہ کناں تھی۔ نڈھال سی دیوار سے لگ کر بیٹھتی چلی گئی۔
گرینی اب خاموش تھیں، سمجھ چکی تھیں آج ضرور کچھ ایسا ہو اہے جس نے ان کی ماریانہ کو اندر تک جھنجھوڑ کر توڑ دیا ہے۔ وہ ماریانہ کو اپنی بانہوں میں سمیٹنے لگیں۔
’’کیوں گرینی… کیوں میں اتنی مجبور ہوں کہ اپنی ماں کو اس دنیا کے سامنے ماں نہیں کہہ سکتی؟‘‘ آخر وہ بول ہی پڑی… گرینی نے چونک کر ماریانہ کے چہرے کو دیکھا۔ آنسوئوں میں ڈوبا چہرہ، کرب میں ڈوبی نیلی آنکھیں۔
’’کیوں میری ماں…؟ اس دنیا کے سامنے مجھے اپنے سینے سے لگائے ہوئے گھبراتی ہے، کیا میرا ان سے رشتہ کوئی بدنما داغ ہے؟‘‘ وہ سسک کر نڈھال ہوئی جا رہی تھی۔ گرینی نے تڑپ کر اسے سینے سے لگا لیا تھا۔
’’کبھی ہم ساتھ ہوا کرتے تھے‘ خوش بے حد خوش‘ اس بڑی دنیا میں ہماری ایک چھوٹی سی دنیا ہوا کرتی تھی۔ ہم بے حد خوش رہا کرتے تھے اور پھر ایک دن سب کچھ اجڑ گیا‘ ہم سب بکھر گئے اور ایسے بکھرے کہ اب دنیا ہمیں ملنے بھی نہیں دیتی گرینی۔‘‘ وہ ہچکیوں کے درمیان اپنے دل کا درد بیان کر رہی تھی۔
’’بابا چلے گئے… ماما کو ہم سے الگ کردیا گیا‘ کسی کا دل کیوں نہ کانپا گرینی۔ کسی کو مجھ پر رحم کیوں نہ آیا گرینی… میرا قصور کیا تھا؟‘‘ وہ اب ایسے سوال کررہی تھی جن کا گرینی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
ان کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو قطار در قطار بہہ رہے تھے۔ ماریانہ کا درد انہیں اپنے ضعیف دل میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا۔ ان کی نگاہوں میں برسوں قبل کی ایک شام ٹھہر گئی تھی‘ صوفیہ کا آنسوئوں سے تر چہرہ ان کی نظروں میں گھوم گیا تھا۔
ء…ۃ…ء
آج یاور بخت کی زندگی کا سیاہ ترین دن تھا۔ پارٹی لیڈرز کی جانب سے ایک خاص عشائیے کا پُر لطف اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں پارٹی کے تمام اہم اور معتبر ارکان کو مدعو کیا گیا تھا۔ عشائیے میں شامل منتخب ارکان کو الیکشن لڑنے کے لیے باضابطہ طور پر ٹکٹ دینے کا امکان تھا۔ یاور بخت کا شمار بھی ان ہی خوش نصیبوں میں تھا۔ محفل رات گئے تک اپنی رعنائیوں سمیت جاری تھی۔ سیاسی رنگ جمے ہوئے تھے۔ خوب گپیں ہانکی جا رہی تھیں اور کچھ یاروں کی فرمائش پر پینے پلانے کا سلسلہ بھی چل نکلا تھا۔ باہر بادل گرج برس رہے تھے اور اندر محفل کے رنگ کھل رہے تھے۔
یاور بخت رات گئے گھر لوٹے‘ یوں تو وہ پینے پلانے کے عادی نہ تھے‘ دوستوں کے اصرار پر آج تھوڑی سی پی لی تھی۔ وہ جب گھر میں داخل ہوئے تو سائیں سائیں کرتے گھپ اندھیرے نے ان کا استقبال کیا‘ انہوں نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور گھر کا جائزہ لیا۔ سجل کا کمرہ بند تھا۔ یقیناً وہ اپنے کمرے میں سو رہی تھی۔ جانے سے قبل انہوں نے اس کے کھانے پینے سے لے کر دیگر ضروریات کا تمام انتظام کر ڈالا تھا۔ سجل کی طرف سے مطمئن ہوکر ٹارچ کی روشنی میں وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگے۔
ان کا اسلام آباد آنے کا مقصد آج پورا ہوگیا تھا۔ وہ مسرور تھے۔ اب انہیں جلد ہی واپس کراچی لوٹ جانا تھا اور لوٹنے سے قبل انہوں نے سجل کا بندوبست بھی کرلیا تھا۔ آج محفل میں ان کی ملاقات ملک صاحب سے ہوئی تھی۔ انہیں ملازمہ کی ضرورت تھی۔ ان کی ضرورت کے پیش نظر انہوں نے سجل کا بتایا تھا۔ ملک صاحب سجل کو بطور ملازمہ رکھنے پر راضی ہوگئے تھے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئے تو ہر سو اندھیرے کا راج تھا۔ بند کھڑکی پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ وہ ڈولتے ہوئے قدموں کے ساتھ بستر پر آن گرے… موسم سرد تھا۔ بجلی کی غیر موجودگی طبیعت پر گراں نہیں گزر رہی تھی۔ دن بھر کے تھکے ماندے یاور بخت کب نیند کی وادی میں اتر گئے انہیں خبر نہ ہوئی۔
سیاہ رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ بادل اور بجلی باہمی یگانگت کے ساتھ خوب زور سے کڑک اور گرج رہے تھے۔ یاور بخت کی نیند میں لمحے بھر کو خلل آیا۔ قبل اس کے کہ وہ دوبارہ گہری نیند میں غرق ہوتے، ان کی پھیلی ہوئی بانہوں نے نرم و گداز بدن کے لمس کو محسوس کیا۔ اگلے ہی پل نازک ہاتھوں کی حرارت نے انہیں اپنے کشادہ سینے پر محسوس ہوئی۔
یاوربخت بری طرح چونک اٹھے۔
’’صاحب…!‘‘ ایک سرسراتی ہوئی مدھم سی سرگوشی نے ان کے گم صم حواسوں کو چھیڑا تھا۔ سانسوں کی گرمی ان کے رخساروں کو نرمی سے چھو رہی تھی۔ انہوں نے بے اختیار آنکھیں کھول کر دیکھا۔ سجل اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت ان کی بانہوں میں موجود تھی۔
ء…ۃ…ء
بجلی اور گھنگھور سیاہ گھٹائوں میں خوب جول میل تھا۔ ایک کڑکڑ چمکی، تو دوسرا گرج کر برسا اور اندھیرے غار جیسے اس سرد کمرے میں دو جانوں کو لرزا ڈالا۔ عمر رفتہ کے بوجھ تلے یاور بخت کا وجود لرز اٹھا۔
بجلی ایک بار پھر کڑک کر چمکی۔ کھڑکی کے بند شیشوں سے روشنی کا ایک جھماکا کمرے میں کوندا۔ سجل کا کپکپاتا وجود یاور بخت سے مزید قریب ہوگیا۔ یاوربخت کی سانسوں میں انگارے جلنے لگے۔ ایک متوحش سی سسکی سجل کے نیم وا لبوں سی خارج ہوئی اور یاور بخت کا پور پور گرم بھاپ کے مرغولوں سے جل اٹھا اور یاور بخت دہک اٹھے تھے۔
’’صاحب… مجھے محبت ہوگئی ہے صاحب۔‘‘ سجل نے سرگوشی کی اور یہ بات یاور بخت کے جنون کو دعوتِ رقص دے گئی۔
رات کا خواب ناک ماحول سجل کے اظہارِ محبت اور بے حد قربت نے یاور بخت کے ہوش و حواس سلب کرلیے تھے‘ جب ہی وہ اس کے حسن کے آگے بے بس ہوکر اپنا آپ اسے سونپ چکے تھے۔
ء…ۃ…ء
گزشتہ کئی دنوں سے چھائے سلطنت آفتاب کا تختہ آج پلٹ چکا تھا۔ کالی گھٹائوں نے سنہرے راج کا خاتمہ کر ڈالا تھا۔ دن کا سنہری روپ اب سرمئی شال کی اوڑھنی میں چھپ چکا تھا۔ بادل جم کر گرج برس رہے تھے۔
سان سباستیان کا یہ نکھرا نکھرا روپ بھی نظروں کو بھلا لگ رہا تھا۔ سرمئی تارکول کی شفاف دو رویہ سڑکوں کے دونوں اطراف سرشار سے منہ اٹھائے، گھٹائوں سے اٹھکیلیاں کرنے کی کوشش میں ناکام پیڑ پودے، دھلی دھلی سی چمچماتی گاڑیاں جو اپنی روشن بڑی بڑی آنکھیں ایک دوسرے کو دکھاتی شوں شوں کرتی گزر رہی تھیں۔ یہ نظارہ بے حد بھلا لگ رہا تھا مگر ہسپانیوں کے چہروں کے زاویے بگڑے ہوئے تھے۔ وہ سب اس بے وقت کی برسات سے نالاں تھے۔ ناگواری ان کے چہروں پر عیاں تھی۔
’’اوہ خدایا… آج کا دن بھی برباد گیا۔‘‘ جھنجھلاہٹ کی ساتھ ساتھ بڑبڑاہٹ بھی ان کے چہروں پر محو رقص تھی۔
دردانہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے اس شور شرابے سے بے نیاز کھڑی تھیں۔ ان کی جہاندیدہ نگاہیں کسی غیر مرئی نقطے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ بارش کی سرمست بوندوں نے ان کے چہرے کے ضعیف نین نقوش کو نہایت پیار سے چھوا تھا مگر بے نیازی ان پر غالب رہی۔ فی الوقت وہ کسی اور ہی زمانے میں تھیں۔ ان کی زندگی کی کہانی کسی بلیک اینڈ وہائٹ فلم کی مانند ذہن کے پردے پر رواں دواں تھی۔
وہ اٹھارہ برس کی تھیں جب انہوں نے سر زمین ہسپانیہ میں حیات احمد کی ہمراہی میں قدم رکھا تھا۔ حیات احمد کے ساتھ ان کا بیاہ ایک سال قبل ہی ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتیں اور ماں باپ انہیں گھر کی دہلیز سے رخصت کردیتے تھے۔ لہٰذا وہ بھی رخصت ہوکر سال بھر کے انتظار کے بعد حیات احمد کے سنگ سمندر پار ان کے آنگن میں مہتاب کی صورت اتر آئی تھیں۔
حیات احمد ان کے لیے ایک نہایت محبت اور خیال رکھنے والے شوہر ثابت ہوئے تھے۔ وہ نہ صرف ایک مہربان طبع انسان تھے بلکہ نہایت ذہین اور محنتی بھی تھے۔ دردانہ ان کے ساتھ پر رب کا شکر ادا کرتے نہ تھکتی تھیں۔ دردانہ کو تعلیم کے حصول میں دلچسپی تھی۔ ان کی اس خواہش کو جان کر حیات صاحب نے انہیں مزید آگے کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور درانہ نے میاں جی سے مشورے کرنے کے بعد علم نفسیات کا انتخاب کیا اور پھر تعلیم کا سلسلہ جاری ہوگیا اور پھر ایک دن ان دونوں کی محبت بھری زندگی میں خوشیوں کی نوید گونجی۔ ان کے آنگن میں پھول کھلا تھا۔
خاور حیات… خاور حیات ان دونوں کی پہلوٹھی کے اولاد ہونے کی ساتھ ساتھ ان کی خوشیوں کا محور، ان کے آنگن کا خوش رنگ مہکتا ہوا پھول بھی تھے۔ حیات احمد کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو دردانہ کے دل کے ٹکڑے تھے۔ خاور کی پیدائش کے چند سال بعد ہی حیات اور دردانہ کے آنگن میں فصیح کی آمد ہوئی تھی۔ ان دونوں میاں بیوی نے خاور اور فصیح کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ دردانہ نے ان کی تربیت بہترین خطوط پر کی تھی اور یہ ان کی بہترین پرورش کا ہی نتیجہ تھا کہ خاور اور فصیح خوبرو ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت فرماں بردار اور پُرکشش شخصیت کے مالک بن گئے تھے۔ پردیسی فضائوں کا بے باک ماحول بھی ان دونوں کے مزاج پر اثر انداز نہ ہوسکا تھا۔ حیات اور دردانہ نے زندگی کو سیدھی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے رہنما اصول خاور اور فصیح کو ہی از بر کرا دیے تھے۔
حیات صاحب اولاد کو اپنی راہیں متعین کرنے کی آزادی دینے کے قائل تھے۔ ان کا شمار ان والدین میں نہیں ہوتا تھا۔ جو اولاد کو اپنی بہترین انویسٹمنٹ سمجھتے ہیں۔ اولاد کی تعلیم و تربیت پر پیسہ سرمایہ کاری کے طور پر کرتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے کیے گئے احسانات کا پورا بدلہ لیتے ہوئے ذمہ داریوں کا نام دے کر اولاد کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتے ہیں اور یہ بیڑیاں انہیں اپنے حصے کی پروان بھرنے سے روک دیتی ہیں۔ اللہ نے اولاد کو والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنایا ہے۔ حیات احمد اس امر سے بخوبی واقف تھے۔ وہ بچوں کو ان کے حصے کی آزادی، زندگی سے متعلق فیصلے لینے کا بھرپور حق دینے کے قائل تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ والدین اور اولاد کے درمیان پنپتی آفاقی محبت میں احسان کا رنگ جب گھل جائے تو محبت پھر بہت جلد دم توڑ دیتی ہے۔ آفاقی محبت میں دنیاوی رنگ، محبت کو خاص نہیں رہنے دیتا۔ یہ ایک بدترین ملاوٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔
یہ حیات احمد اور دردانہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی دینے کا نتیجہ ہی تھا کہ خاور اور فصیح اپنے اپنے شعبوں میں نہ صرف کامیاب تھے بلکہ عزت اور ناموری بھی کما رہے تھے۔ خاور بچپن سے ہی اڑان بھرنے کے خواہش مند رہے تھے اور اس خواہش کی تکمیل انہوں نے بالآخر پائلٹ بن کر کرلی تھی۔ فضائوں میں اڑان بھرنا ان کا جنون تھا۔ ان کا شمار ایئر بس کے بہترین پائلٹس میں ہوتا تھا۔ جب کہ فصیح بچپن سے ہی پہلے کھلونوں اور پھر مشینوں کی جانچ پڑتال کرنے کے شوقین واقع ہوئے تھے۔ ان کے اس شوق نے انہیں ایک بہترین الیکٹرانک انجینئر بنا دیا تھا۔
حیات احمد اور دردانہ کی زندگی میں فی الوقت اطمینان اور سکون کا دور دورہ تھا۔ وہ دونوں ہی اپنے بچوں کے کردار اور کار کردگی سے بے حد مطمئن تھے مگر وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ کون ہے ایسا جسے زندگی میں صرف آسانیاں دیکھی ہوں… آزمائشیں حتمی طور پر انسان کا ساتھ کبھی نہین چھوڑتیں۔ ان دونوں کی پُرسکون زندگی میں بھی ایک کنکر نے ہلچل پیدا کر دی تھی۔ ہاں صرف ایک معمولی سا کنکر، پُر سکون ندی میں ارتعاش پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اس کنکر کا نام تھا صوفیہ آئزک۔
ء…ۃ…ء
’’گرینی… میں میڈم فرنانڈس کی طرف جا رہی ہوں۔‘‘ ماریانہ کب ان کے عقب میں آکھڑی ہوئی۔ انہیں احساس ہی نہ ہوا۔ ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے وہ ماضی میں کھو گئی تھیں۔ ماریانہ کی پکار پر وہ چونکتے ہوئے پلٹیں۔ ماریانہ خاموش نگاہوں سے ان کے دعائیہ کلمات کی منتظر رہی مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس بار خاموشی ہی ان کے لبوں پر رہی۔ خاموش نگاہوں سے اسے الوداع کہا اور ماریانہ کی جھیل سی نیلی آنکھوں میں تحیر پھیل گیا مگر وہ بھی کچھ نہ بولی۔ خاموشی سے گھر سے باہر نکل گئی تھی۔
وہ ماریانہ کے جانے کے بعد پھر رخ موڑ کر کھڑکی کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ ماریانہ اب بھی ان کی نگاہوں کے حصار میں تھی اور پھر وہ باہر کھڑی اپنی سائیکل پر سوار ہوکر ان کی نگاہوں سے دور ہوتی چلی گئی۔
’’اوہ ماریانہ… میرا پریشان ترین بچہ۔‘‘ ان کے لبوں سے الفاظ سسکی کی صورت خارج ہوئے۔
حقیقتاً ان کے لیے ماریانہ کو سنبھلانا اکثر و بیشتر مشکل ترین ہوجاتا تھا۔ کبھی کبھی انہیں شدت سے گمان گزرتا کہ علم نفسیات کی تعلیم انہوں نے شاید اسی دن کے لیے حاصل کی تھی۔ ماریانہ کی اب تک ان گنت بار وہ کاؤنسلنگ کرچکی تھیں مگر ہر بار کوئی پیش والا آنے والا کوئی نیا واقعہ اسے نئے سرے سے توڑ پھوڑ دیتا۔ وہ بخوبی جانتی تھیں کہ ان کی نازک سے دل کی مالک پوتی، جذباتی طور پر کمزور نہیں مگر اس کی زندگی کی کئی ڈوریں اس قدر الجھی ہوئی تھیں کہ ان کو سلجھاتے ہوئے اس کی روح اکثر بری طرح زخمی ہوجاتی تھی اور ایسے میں وہ ہی واحد ہستی تھیں جو اس کے زخمی وجود پر محبت کا پھایا رکھتی تھیں۔
ماریانہ ان کی نگاہوں سے دور ہوتے ایک نکتے کی مانند رہ گئی تھی۔ ان کی ضعیف آنکھوں میں موتی چمکنے لگے تھے‘ ماریانہ سے انہیں بے حد محبت تھی۔ ان کے جینے کی اگر کوئی وجہ تھی تو وہ ماریانہ ہی تھی۔ گزری شب ماریانہ جس قدر بے چین رہی اتنی ہی بے قراری ان کے وجود میں بھی گھلتی رہی تھی۔ رات بھر وہ ماضی کے اوراق پلٹتی ان گرہوں کو ڈھونڈتی رہیں، جنہوں نے ماریانہ کی زندگی کو آزمائش بنا دیا تھا، ماریانہ ان کی حد نگاہ سے بہت دور جاچکی تھی۔ ماضی کا ایک پھڑپھڑاتا ہوا ورق ان کی نگاہوں کے سامنے پھر سے آٹھہرا تھا۔
آج کی طرح وہ بھی ایک نہایت سہانی شام تھی جب صوفیہ آئزک نے خاور کی ہمراہی میں پہلی مرتبہ ان کے گھر میں قدم رکھا تھا۔
ء…ۃ…ء
عشق کی روح فرسا داستان کے ایک باب کا اختتام ہونے جا رہا تھا۔

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے!

اماوس کی تاریک رات، بچھڑے ہوئے چاند کی جدائی کا دکھ اپنے دامن میں سمیٹے رنجیدگی کی سیاہ چادر میں منہ چھپائے تھکے تھکے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی۔ بالکل ویسی تھکن اس کے قدموں سے بھی لپٹی تھی۔ اماوس کی رات جیسی تاریکی اس کے نصیب میں بھی لکھی ہوئی تھی۔ چلتے ہوئے وہ کافی دور نکل آئی تھیں… راستے انجان تھے۔ مگر منزل سے وہ واقف تھی مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے اسے کچھ حساب چکتا کرنے تھے۔
رات کا تیسرا پہر تھا۔ ملک کے سب سے مصروف شہر میں بھی فی الوقت تاریکی کا راج تھا۔ وہ شہر کی اہم شاہراہ تک جا پہنچی… فٹ پاتھ پر اونچے گھنے پیڑوں کی قطار تھی۔ ان ہی میں سے کسی اونگھتے پیڑ کی گود میں وہ نڈھال سی جا بیٹھی اور تھکن سے چور سوچتے ہوئے وہ حال سے ماضی میں جا پہنچی تھی۔
اس کا کمرہ تھا… چاروں اطراف دیواروں پر قد آور حسین و دلکش شیشے نصب تھے۔ وہ اپنی مسہری پر براجمان تھی اور انگور کا سبز گچھا ایک ادا سے اٹھائے، مسہری کی پشت سے ٹیک لگائے کسی بات پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ اسے یوں ہنس ہنس کر بے حال ہوتا دیکھ کر جگنو صدقے واری ہوتے جا رہی تھی اور جوالہ اس کی بلائیں لے رہا تھا اور اس کی مترنم ہنسی تھی کہ رکنے میں نہیں آرہی تھی۔
’’جگنو تم بھی ناں… بڑے پُر لطف شگوفے سناتی ہو…!‘‘ بالآخر ہنسی تھمی اور اس کے مرمریں لبوں نے سحر پھونکا۔
’’اچھا ایک بات بتائو جگنو… یہ منزل کیا ہے… ڈیسٹنی کہتے ہیں ناں اسے… تو بھلا بتائو تو ذرا… یہ ڈیسٹنی کیا ہے؟‘‘ وہ نہ جانے کس خیال کی اسیر تھی۔ جو پوچھ بیٹھی۔
’’وہ تو جی… سب کی اپنی اپنی ہوتی ہے ناں… آپ کی کیا ہے جی؟‘‘ اس کی بات جگنو کے سر پر سے گزری تھی… وہ ہونقوں کی طرح اس کا منہ تکنے لگی۔
’’ہائے… خواہش ہے کہ کوئی بانہیں وا کیے مسکراتے ہوئے اپنی آغوش میں لے لے اور پھر ہمیشہ کے لیے اپنے ہمراہ ایک الگ دنیا میں لے چلے، جہاں اور کوئی نہ ہو… بس میں اور وہ اور ہماری دنیا ہو۔‘‘ وہ ایک جذب کے عالم میں آنکھیں موندے کہہ رہی تھی۔
’’اگر تمہاری یہ خواہش ہے تو یہ خواہش پوری بھی ہوگی، وہ جو بانہیں وا کیے‘ مسکراہٹ چہرے پر سجائے تمہاری منتظر کھڑی ہوگی… وہ موت ہے اور وہ آغوش میں بھر کر لے چلے گی، اپنے سنگ تمہیں… اور تم پوچھتی ہو منزل کیا ہے… یہی ہے منزل… ماں کی کوکھ سے قبر تک کا سفر… یہی ہے منزل… اور تم پوچھتی ہو کہ منزل کیا ہے؟‘‘ یہ جانِ ادا تھی… جو کونے میں بیٹھی نہ جانے کب سے اس کی باتیں سن رہی تھی اور اب ان باتوں کے جواب میں انتہائی گہری بات کر گئی۔ اس کے سوکھے لبوں پر بے جان سی مسکراہٹ دم توڑ گئی۔
’’تم نے ٹھیک کہا جان ادا… موت ہی منزل ہے اور دنیا یوں انجان بنی رہتی ہے جیسے جانتی نہیں منزل کیا ہے۔‘‘ آج برسوں بعد وہ جان ادا کی بات پر ایمان لے آئی تھی۔
’’منزل کو جان کر بھی سب انجان رہتے ہیں اور راستے کی بابت کوئی دریافت نہیں کرتا۔ اصل تو راستہ ہی تھا۔ خوب صورت، حسین، دلکش یاد رہ جانے والا، جس پر نقش قدموں کے نشان پر دنیا اپنے قدم رکھے گئی۔‘‘ کسی کی سرگوشی اس کی سماعت میں گونجی اور زہر خند سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر سج گئی تھی۔
’’میرے محبوب… میرے قدموں کے نشان اب فقط تمہارے منتظر ہیں۔‘‘ وہ زیرلب بڑبڑاتی ہوئی ایک بار پھر ہمت مجتمع کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ مہرو عظیم کا گھر قریب ہی تھا۔ یہ شاہراہ اور کچھ گلیاں عبور کرتے ہی مہرو عظیم کا گھر آجاتا تھا۔ وہ دامن کے بائیں کونے میں لگی گرہ کھولنے لگی۔ گرہ کھلی اور ایک پرچی نکلی۔ پرچی پر گھر کا پتا درج تھا۔ پرچی میں لکھے ایک ایک لفظ کو ذہن نشین کرتی وہ تیز تیز قدموں سے آگے بڑھتی ہوئی شاہراہ عبور کرچکی تھی۔ اس کی سانسیں تیز رفتاری کے باعث تیز تیز چلنی لگیں تھیں، وہ شاہراہ عبور کرتی اب مختلف جگہوں سے مڑتی ایک بلند عمارت کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر اس بلند عمارت کی پیشانی پر درج عمارت کے نام کو دیکھا اور پھر مٹھی میں دبی اس پرچی کو دیکھا اور اب عمارت کے گیٹ کی جانب بڑھنے لگی تھی مگر وہاں گارڈ بیٹھا تھا۔
’’رکو بی بی… منہ اٹھائے کدھر چلی جا رہی ہو؟‘‘ وہ مشکوک نگاہوں سے اسے گھورتا ہوا سخت گیر لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔
’’مہرو عظیم سے ملنا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا… گارڈ نے اس اجنبی مگر انتہائی خستہ حال وجود کو دیکھا… بلاشبہ وہ حسین تھی مگر اس کی حالت غیر تھی۔ شانوں پر ٹکی سیاہ چادر کو اس نے اپنے ارد گرد پھیلایا ہوا تھا گارڈ ایک تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس سے مزید پوچھ گچھ کرکے انٹر کام پر مہرو عظیم کو اس کی آنے کی اطلاع دینے لگا۔ اس دوران بھی اس کی نگاہوں کا محور وہ ہی تھی۔ عجیب لڑکی تھی۔ رات کے اس پہر اتنے خستہ حال حلیے میں نہ جانے کیوں باہر نکلی تھی مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کے چہرے، لہجے اور چال سے کسی ڈر‘ خوف یا گھبراہٹ کا شائبہ تک محسوس نہ ہورہا تھا۔ مہرو عظیم نے اس کا نام دریافت کیا۔
’’نام کیا ہے بی بی تمہارا؟‘‘ گارڈ کا لہجہ ہنوز کرخت تھا۔ اس نے اپنا نام بتایا۔ مہرو عظیم نے اس کا نام سنتے ہی اسے اوپر بلالیا تھا۔
’’جائو بی بی… چھٹی منزل تک لفٹ پہنچا دے گی۔‘‘ وہ جانے کی اجازت دیتا ہوا گائیڈ بھی کررہا تھا۔ وہ گارڈ کی بات ان سنی کرتی عمارت کے اندر داخل ہوگئی۔ گارڈ کافی دیر تک اس کی پشت کو مشکوک نگاہوں سے گھورتا رہا۔ عجیب بے نیاز لڑکی تھی۔
’’ضرور کوئی اہم قصہ اس عورت کی ذات سے جڑا ہے۔ ورنہ مہرو عظیم اتنی رات گئے تو کسی سے بھی نہ ملتی…‘‘ گارڈ واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔
ء…ۃ…ء

چڑیا پوری بھیگ چکی تھی۔
اور درخت بھی پتہ پتہ ٹپک رہا ہے
گھونسلہ کب کا بکھر چکا ہے
چڑیا پھر بھی چہک رہی ہے
انگ انگ سے بول رہی ہے
اس موسم میں بھیگتے رہنا کتنا اچھا گلتا ہے

شب بھر ساون خوب برسا تھا۔ پیاسی زمین خوب سیراب ہوئی تھی۔ اندھیرے غار جیسا سرد کمرا بھی روشنی سمیٹنے لگا تھا کرنیں باریک پردے سے چھن چھن کر اندر داخل ہوکر ہر سو پھیل کر گزری شب کا فسوں بیان کررہی تھیں۔ اسی اثناء میں کچھ گستاخ کرنوں نے سجل کو ستانا شروع کردیا… وہ اب تک یاور بخت کے توانا بازو پر سر رکھے جگ سے بے نیاز سو رہی تھی۔ کرنوں کی اٹکھیلیوں سے بالآخر پریشان ہوکر سجل نے نیند سے بوجھل آنکھیں دھیرے سے کھولیں… حواس کچھ بحال ہوئے تو گزری شب تمام رعنائیوں کے ساتھ اس کی نگاہوں کے سامنے چھاتی چلی گئی اور سجل اس ’’چھا جانے‘‘ میں کھوتی چلی گئی۔

میں کچی نیند میں ہوں
اور اپنے نیم خوابیدہ تنفس میں اترتی
چاندنی کی چاپ سنتی ہوں
گمان ہے
آج بھی شاید
میرے ماتھے پہ تیرے لب
ستارے تبت کرتے ہیں

قصور سجل کا نہ تھا۔ اس کی عمر اور ان حالات کا تھا اور سب سے بڑھ کر نگوڑی محبت کا۔ اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں… سامنے ہی سنگھار میز پر نصب آئینہ نے اسے اس کا عکس دکھایا۔ وہ محویت سے خود کو تکتی رہی کشمیری سیب کی طرح اس کے رخسار مارے شرم کے سرخ ہورہے تھے۔ یک دم اسے یاد آیا… عالم دیوانگی میں اقرار و اظہار کے مسحور کن پل بھی تو پیروں میں جھانجھر باندھے جھومے رہے تھے۔
’’صاحب… محبت ہوگئی ہے…‘‘ سجل نے چاہت بھرا اقرار کیا تھا۔
’’تم… تم… تو اپسرا ہو… چاہے جانے کے قابل۔‘‘ صاحب نے اس کے حسن کو والہانہ انداز میں سراہا تھا۔ اسے یک دم پہلو میں دراز صاحب کا خیال آیا… وہ انہیں پلٹ کر دیکھے چلی گئی۔ کشادہ پیشانی، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، کھڑی ستواں ناک اور پتلے ہونٹ… نکھرا ہوا رنگ اور پھر چہرے پر سجی بے نیازی۔
’’صاحب تم بھی تو چاہے جانے کے قابل ہو۔‘‘ وہ دل ہی دل میں اعتراف کر گئی۔
’’صاحب…!‘‘ وہ جھک کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے ان کے بالوں کو سہلانے لگی۔ یاور بخت اس بے خبر نیند سے بیدار ہوئے۔ آنکھیں کھولیں تو سجل کا مسکراتا چہرہ انہیں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ وہ ان کے شانوں سے جڑ کر بیٹھ گئی۔ یاور بخت کی جسم میں بجلی کی لہر دوڑ گئی۔ سجل ان کی دلی کیفیت سے بے خبر راگ محبت الاپنے میں مصروف تھی اور یاوربخت کے ہونٹوں کو تو جامد چپ لگ چکی تھی۔
’’یہ… یہ کیا کردیا میں نے… اتنا کمزور کیسے پڑگیا…!‘‘ کوئی ان کے اندر موجود تھا جو شور برپا کیے ہوئے تھا۔
’’اف… صبیحہ کے ساتھ بد دیانتی کا مرتکب ہوگیا میں، اسے پتا چل گیا تو…‘‘ وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بیٹھ گئے۔
’’میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں صاحب۔‘‘ سجل انہیں یوں سر تھامتا دیکھ کر فکر مندی سے کہتی ہوئی بستر سے اٹھنے لگی۔
’’رات بھر آنکھیں سیکتے رہے اور اب چلے ہو آنکھیں چرانے۔‘‘ کوئی ان کے اندر بہت زور سے ہنسا تھا۔ وہ متوحش نگاہوں سے سجل کو کمرے سے نکلتا دیکھتے رہے۔
’’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جو بھی ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ صبیحہ کیا سوچے گی… غلط ہوگیا۔ بہت غلط ہوگیا مجھ سے…‘‘ یہ الفاظ نہیں تھے صرف وہ فکر اور اندیشے تھے جو ان کے ذہن میں بری طرح کلبلا رہے تھے۔
ء…ۃ…ء
بیل بجنے کے بیسویں سیکنڈ میں ہی دروازہ کھل گیا تھا۔
’’آئو… اندر آجائو۔‘‘ مہرو عظیم نے دروازہ کھول کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اسے فوراً اندر بلا لیا تھا۔
’’بیٹھو… میں پانی لاتی ہوں تمہارے لیے۔‘‘ وہ شبِ خوابی کے لباس میں تھی۔ یقینا وہ گہری نیند سے ابھی ابھی بیدار ہوئی تھی مگر اس کے باوجود نیند کا اس پر ذرہ برابر بھی غلبہ نہ تھا۔ وہ جھٹ پانی کا گلاس لیے حاضر ہوئی۔
’’لو پانی پیو… تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا کرو کچھ دیر آرام کرلو۔‘‘ مہرو اب اپنے سامنے بیٹھی اس بد قسمت عورت کا سر تا پا جائزہ لے رہی تھی۔ اس کی حالت بتا رہی تھی کہ اس کے جسم نے کچھ وقت میں ہی تکلیفوں کا پہاڑ خود پر برداشت کیا ہے۔ وہ دس دن قبل ہی اس عورت سے ملی تھی۔ اس وقت وہ حاملہ تھی… مگر اب اس کی جسمانی ساخت متناسب تھی۔ یعنی زچگی کا مرحلہ گزرچکا تھا… تو پھر اس کی اولاد… اولاد کہاں تھی؟
’’تمہاری اولاد کو بھی ساتھ ہونا چاہیے‘ وہ کہاں ہے؟‘‘ مہرو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
’’وہیں جہاں اسے ہونا چاہیے۔‘‘ وہ پانی کا گلاس غٹا غٹ خالی کرکے اطمینان سے بولی۔ مہرو خاموش رہی۔
’’میرے پاس وقت کم ہے مہرو بی بی… آپ جلدی جلدی اپنا کام مکمل کرلو…‘‘ چند ثانیے قبل کی پھیلی خاموشی کو اس نے توڑنے میں پہل کی… اس کی بات پر مہرو اثبات میں سر ہلاتی لائونج سے اپنے کمرے میں آئی‘ چند روز قبل ہی اپنی کولیگ کے ذریعے وہ اس عورت سے ملی تھی۔ اس کی کہانی سن کر مہرو کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ اس نے فوراً سے بیشتر اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ آج کی یہ ملاقات اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔
مہرو کچھ دیر بعد لائونج میں دوبارہ داخل ہوئی تو اس کے ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ تو دوسرے ہاتھ میں کچھ کاغذات کا پلندہ تھا وہ اس کے روبرو بیٹھ گئی۔
’’ہاں اب سنائو… الف سے لے کر ی تک… ہر بات بناء کچھ چھپائے۔‘‘ مہرو لیپ ٹاپ کی اسکرین آن کرتے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگی۔ اس کا انداز اب پروفیشنل طرز پر ڈھل گیا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے مہرو کو ساری داستان سناتی گئی۔ اس پل مہرو عظیم کے چہرے پر تفکر کے کئی سرمئی سائے لہرائے تھے۔
خبروں کی دنیا کی مشہور و معروف اور حق کی آواز بلند کرنے والی صحافی مہرو عظیم کے ہاتھ آج ایک ایسی اسٹوری لگی تھی کہ سیاسی بساط پر بچھنے والے شطرنج کے کھیل کے کئی مہرے، اس کے قلم کی جنبش پر ڈھیر ہوکر بری طرح پٹ جاتے… وہ عورت کہانی بیان کرتی رہی اور مہرو عظیم کا قلم کبھی چاک و چوبند گھوڑے کے مترادف دوڑتا تو کبھی کی بورڈ پر انگلیاں بجلی کی مانند تیزی سے متحرک ہوتیں رہی تھیں۔
ء…ۃ…ء
’’صاحب چائے…‘‘ یاور بخت سنگھار میز کے سامنے کھڑے تھے… سجل چائے کا کپ قریبی میز پر رکھ کر ان کے پہلو میں آکھڑی ہوئی۔ اپنے پہلو میں اس کا عکس ابھرتا دیکھ کر یاور بخت کی چہرے پر تنائو پھیلا اور لب سختی سے بھنچ گئے۔
’’کتنی نادان ہے یہ لڑکی… اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اسے ہوش نہیں۔‘‘ دل ہی دل میں سجل کو لعنت ملامت کرتے، اپنے بال درست کرکے پلٹے ہی تھے کہ سجل نے ان کا بازو تھام لیا۔
’’صاحب… میں جانتی تھی کہ آپ کو بھی مجھ سے محبت ہوگئی ہے۔ میں نے آپ کی آنکھوں میں دیکھا تھا صاحب۔ میری ماں کہتی ہے کہ مرد زبان سے اپنے جذبوں کا اظہار کرے نہ کرے اس کی آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں… میں نے بھی سن لیا تھا صاحب جو آپ کی آنکھیں مجھ سے کہا کرتی تھیں۔‘‘ وہ سر جھکائے حسین رنگوں میں کھوئی اس حد تک اندھی ہوچکی تھی کہ صاحب کی لاتعلقی اب تک اسے نظر نہ آئی تھی۔
’’دور ہٹو مجھ سے…‘‘ یاور بخت نے اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے اسے بری طرح جھڑکا۔ سجل کی ہرنی جیسی آنکھوں میں تحیر پھیلتا چلا گیا۔
’’کس قماش کی عورت ہو تم… شرم و حیاء سے کوئی تعلق بھی ہے تمہارا یا نہیں۔ تمہاری ماں نے یہ نہیں سمجھایا کہ کسی غیر محرم مرد کے ساتھ ایک کمرے میں، ایک بستر پر شب نہیں گزارتے‘ بے عقل عورت اپنے ساتھ ساتھ تم نے میری عزت بھی ملیا میٹ کردی۔‘‘ یاور بخت غضب ناک انداز میں غرائے۔
’’صحیح کہہ رہا تھا عزیز… تم اور تمہارا حسن زہر ہے میرے لیے‘ اسی وقت اس کی بات مان کر تم سے جان چھڑا لیتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا مجھے۔‘‘ وہ خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑائے‘ کتنا کڑوا لہجہ تھا ان کا… نفرت آمیز، تحقیر سے بھرپور… سجل کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے۔ بے یقینی اس کی آنکھوں میں سرائیت کرتی پورے وجود میں پھیلتی چلی گئی۔ یاور بخت کا یہ روپ وہ برداشت نہ کرسکی۔ پھٹ پڑی۔
’’بس کردو صاحب… خدارا بس کردو… میں اور میرا وجود تمہارے لیے زہر تھا تو کیوں پناہ دی مجھے اپنے گھر میں‘ کیوں اس گھر میں بسائے رکھا۔‘‘ وہ روتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔
’’صاحب میں تو ان پڑھ، جاہل، بے حیا ہوں… لیکن تمہیں کیا ہوا تھا‘ مجھے تو میری ماں نے نہیں سکھایا صاحب تمہیں کیوں کسی نے نہیں سکھایا کہ غیر محرم عورت کو گھر میں نہیں بساتے۔‘‘ وہ آہ و زاری کرنے لگی تھی مگر اس کے لہجے میں احتجاج تھا۔ جس عزت کو بچانے کے جتن میں وہ اپنوں کی دوری سہہ رہی تھی۔ وہی عزت آج تار تار ہوچکی تھی اور اب وہ ماتم کناں تھی۔
’’قصور تمہارا نہیں صاحب… قصور میرا ہے‘ تمہیں مہربان سمجھا ہی کیوں… تمہیں اپنا سمجھا ہی کیوں… تم سے محبت مجھے ہوئی کیوں صاحب…؟ شب بھر پیار کے گیت گاتے رہے اور صبح ہوش میں آتے ہی مجھے لعن طعن کرتے ہو صاحب۔‘‘ وہ عالم دیوانگی میں، میکانگی انداز میں روتی، چلاتی ہوئی دیوار سے اپنا سر پیٹنے لگی۔
یاور بخت بوکھلا اٹھے۔ وہ تو سمجھے تھے ڈانٹ ڈپٹ کر، برا بھلا بول کر اسے خاموش کرادیں گے اور پھر کچھ پیسے دے دلاکر چلتا کردیں گے مگر سجل نے جو واویلا شروع کیا تھا اس نے ان کے ہوش اڑا دیے تھے۔ وہ نادان ضرور تھی مگر بولنے سے چوکتی نہیں تھی۔ وہ اس کے شباب حسن کے آگے بے بس ہوکر جوانی کی جون میں چلے گئے تھے مگر سجل نے تو محبت کی مار کھائی تھی۔ محبت کے نام پر وہ چپ چاپ نہیں بیٹھی رہ سکتی تھی۔ وہ ان کی سامنے اتنا بول رہی تھی تو ان کے منظر سے غائب ہونے کے بعد نجانے کیا ہنگامہ برپا کرتی اور اس چھوٹے سے سیاہی رنگ میں رنگے شہر میں تو ایسی خبریں جنگل کی آگ کی صورت پھیلتی ہیں اور وہ کم بخت محمود بیگ تو کسی شکاری کتے کے متردف ان کے حوالے سے خبریں سونگھتا پھر رہا تھا۔ اسے ذرا بھی سن گن مل جاتی تو گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی کیریئر بھی شروع ہونے سے قبل برباد ہوجاتا۔
’’نہیں اس ناگہانی بلا کو سختی سے نہیں، پیار سے سمجھانا ہوگا… اس کا پتہ، نہایت احتیاط سے کاٹنا ہوگا یاور بخت… جذباتی پن چھوڑو اور ہوش کے ناخن لو…‘‘ یاور بخت خود کو سمجھاتے ہوئی دھیرے قدموں سے سجل کی جانب بڑھے۔
’’غلطی میری ہے صاحب، تمہیں کسی نے سمجھایا نہیں کہ جنہیں گھر میں پناہ دیتے ان کی عزت بھی کرتے ہیں… میں تو عشق کر بیٹھی صاحب… عشق سے ہار کر تمہاری جانب بڑھی۔ تمہیں کیا ہوا تھا، تم کیوں مجھ سے محبت کا، اپنی چاہتوں کا اعتراف کرتے رہے؟ اسی وقت مجھے دھتکار دیتے… مجھے آئینہ دکھاتے‘ مجھے بے شرم بے حیاء کہتے صاحب… مگر نہیں…‘‘ سجل، یاور بخت کے قریب آنے پر ان کا گریبان اپنی مٹھی میں بھینچ کر ان سے روتے ہوئے سوال کر رہی تھی۔
یاوربخت کا سر چکرا گیا‘ اتنا آسان نہ تھا سجل کو رام کرنا… انہیں بہت سمجھ داری سے کام لینا ہوگا۔ یہ الفاظ جو سجل کے لبوں سے ادا ہورہے تھے ان میں سے ایک بھی اگر اس چار دیواری سے باہر نکل جاتا تو یاور بخت ذلت کی گہرائیوں میں جا گرتے۔
’’میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا سجل… نہ ہی میں تمہیں برا بھلا کہہ رہا ہوں یا دھتکار رہا ہوں، مگر میں اس وقت بہت بے بس ہوں، مجبور ہوں‘ میں تو اس شہر میں مہمان ہوں… میرا گھر تو یہاں سے بہت دور ہے۔ جہاں میری بیوی میری منتظر ہے۔ آج نہیں تو کل… مجھے یہاں سے جانا ہوگا… پھر تمہارا کیا ہوگا۔ پہلے تو میں نے ملک صاحب کی طرف تمہارا بندوبست کرنے کا سوچا تھا مگر اب… اب میں تمہیں اس طرح کیسے کسی کے بھی آسرے پر چھوڑ کر چلا جائوں۔ تم تو صرف محبت کے ہاتھوں مجبور ہو۔ مجھے دیکھو زمانے کے ہاتھوں مجبور ہوں، میری بیوی میرے پیروں کی سب سے بڑی زنجیر ہے اور اب تمہاری چاہت نے یہاں میرے قدم روک لیے ہیں۔ اب بتائو میں کیا کروں سجل… تم خود بتائو۔‘‘ وہ چہرے پر بے بسی طاری کرتے، اسے شانوں سے تھامے کہہ رہے تھے اور ان کے آخری جملے پر سجل نے ٹھٹھک کر یاور بخت کے چہرے کو دیکھا۔
’’میری چاہت نے… میری چاہت کا تمہارے دل میں کوئی مقام ہے صاحب؟‘‘ سجل بے یقینی سے استفسار کیا۔
’’مقام ہے تو تمہارے سامنے کھڑا ہوں سجل‘ چھوڑ کر جانے والا ہوتا تو منہ اندھیرے ہی چھوڑ جاتا… مگر تمہاری فکر ہے تب ہی تو اس قدر پریشان ہوں۔‘‘ وہ پریشانی کے عالم میں بولے۔
’’پریشانی… پریشانی کیسی صاحب… کہو ناں کیسی پریشانی تمہیں تنگ کرتی ہے؟‘‘ سجل نے یاور بخت کو پریشان دیکھ کر ان کا ہاتھ تھامے متفکر سے انداز میں پوچھا۔
’’کیسے سمجھائوں تمہیں سجل… دراصل آج مجھے اسلام آباد سے چلے جانا ہے۔ آج اگر میں نہ لوٹا تو… بہت سے مسئلے مسائل میرے پیچھے چلے آئیں گے اور میں اس مشکل میں پھنسا ہوں کہ تمہیں یہاں چھوڑ کر کیسے چلا جائوں…‘‘ یاور بخت نے پریشانی سے پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔
’’تو مجھے ساتھ لے جائو ناں صاحب… نکاح پڑھوا لو پھر اپنے ساتھ اپنے شہر لے چلو۔‘‘ سجل نے جذباتیت کی انتہاء پر پہنچ کر لجاجت سے کہا۔
’’ایسا ہی کروں گا… تم سے نکاح بھی کروں گا اور اپنے ساتھ بھی لے جائوں گا، مگر…‘‘ یاور بخت اعتماد سے کہتے ہوئے یک دم رکے۔ مضطرب سی سجل بے چین ہو اٹھی۔
’’مگر… مگر کیا صاحب…؟ بولو ناں…‘‘
’’مگر کچھ وقت لگے گا۔ اپنی چاہت، اپنی سجل کو اپنانے میں مجھے… کیا تم میرا ساتھ دو گی… میرا انتظار کروگی سجل؟‘‘ انہوں نے اس کے معصوم، خوب صورت چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بے قراری سے پوچھا۔
’’کتنا وقت صاحب… کجھ تو حد ہوگی ناں اس انتظار کی؟‘‘ اس نے پژمردگی سے پوچھا۔ پہلی بار یاور بخت کے دل میں سجل کے لیے درد جاگا تھا۔ پہلی بار احساس ہوا کہ انہوں نے سجل کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا۔ ان کا سر احساس ندامت سے جھک گیا۔
’’کچھ ماہ کا انتظار…‘‘ وہ بامشکل کہہ پائے۔ ان آنکھوں میں جن میں محبت کی جوت روشن ہو… ان میں جھانک کر محبت کو دھوکا دینا بڑا مشکل کام تھا۔
’’میں انتظار کر لوں گی مگر تم لوٹ تو آئو گے ناں صاحب؟‘‘ اس نے آس و نا امیدی بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’میں لوٹ آئوں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘ لہجہ تو یاور بخت کا بھی بھیگنے لگا تھا۔ دل جانتا تھا عہد و پیماں جھوٹے ہیں۔ تب ہی خاموش تھا اداس بھی۔
’’تمہیں لوٹنا ہوگا صاحب۔ میری محبت، میری دعائیں تمہیں واپس کھینچ لائیں گی… دیکھ لینا صاحب۔‘‘ وہ ہچکیاں لیتی ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ یاور بخت کے لیے سانس لینا مشکل ہوگیا۔ سجل کی امید، یقین اس کی چاہت سینے پر بھاری سل کی صورت آدھری تھی۔
’’میں لوٹ آئوں گا سجل… مگر تمہیں میرا یقین کرنا ہوگا چاہے کچھ بھی ہوجائے مجھ سے کبھی متنفر نہ ہونا۔‘‘ وہ رفتہ رفتہ اسے سمجھانے لگے۔ سجل معصوم بچے کی طرح ان کی ہر بات پر اثبات میں سر ہلاتی رہی۔
’’آج سہ پہر تک مجھے یہاں سے چلے جانا ہے۔ تمہیں بھی یہ گھر خالی کرنا ہوگا… میں تمہارے کہیں اور ٹھہرنے کا انتظام بھی کرکے آتا ہوں۔‘‘ یاور بخت پیار سے اس کے رخسار تھپتھپاتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔ سجل بھیگی نگاہوں سے انہیں نظروں سے دور جاتا دیکھتی رہی۔
وہاں سے نکل کر وہ سیدھے عزیز کے پاس آئے‘ سارا واقعہ گوش گزار کرکے اب منتظر نگاہوں سے اس کے ردعمل کا انتظار کررہے تھے۔
’’اسی دن کے لیے… میں تمہیں کب سے اس آفت کو گھر سے نکال باہر کرنے کا کہہ رہا تھا۔ پتا تھا مجھے یہ تمہارے سر پر چڑھا ہمدردی کا بخار کوئی نہ کوئی چاند ضرور چڑھائے گا…‘‘ عزیز کا حسب توقع کافی سخت ردعمل آیا تھا۔
’’میرے بھائی تم ان مردوں میں سے نہیں ہو کسی کو تمہارے اچھے برے عمل کی فکر نہ ہو۔ وہ اور مرد ہوتے ہیں جن کا ہمدردی کا بخار عورتوں کو مہنگا پڑتا ہے۔ جو کارنامہ تم انجام دے کر آئے ہو وہ اتنی آسانی سے اب تمہارا پیچھا چھوڑنے والا نہیں۔‘‘ عزیز کافی دیر تک انہیں لتاڑتا رہا… مسئلہ یہ تھا کہ یاور بخت سے جڑی کسی طرح کی بھی بدنامی پارٹی کی گڈ بک سے نکال باہر کرنے کے لیے کافی ہوتی۔
’’یار سمجھ گیا ہوں میں کہ بڑی بھیانک غلطی کر بیٹھا ہوں مگر اب بتائو بھی کہ کیا کروں۔ کیسے اس غلطی سے چھٹکارا حاصل کروں؟‘‘ یاور بخت جھنجھلا کر چٹخ پڑے۔
’’ایسا کرو اسے بہلا پھسلا کر میرے پاس چھوڑ جائو۔ کچھ دن میرے رابطے میں رہو… پھر آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جانا… اس کے بعد میں اس لڑکی کا انتظام کردوں گا… بس کوشش کرو کہ فی الوقت وہ اپنی زبان بند رکھے۔‘‘ عزیز نے گہری سوچ میں گم کہا اور یاور بخت اثبات میں سر ہلا گئے۔ کچھ دیر قبل جو بھاری سل ان کے سینے پر آدھری تھی وہ سجل کے نظروں سے دور ہوتے ہی ہٹتی چلی گئی کافی دیر معاملات طے کرنے کے بعد وہ گھر لوٹ آئے۔
’’میں نے تمہارے لیے سارے انتظامات مکمل کرلیے ہیں سجل۔ بس تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔ میرا اعتبار کرنا ہوگا۔‘‘ ٹرے پھلوں اور دیگر اشیاء سے سجا کر یاور بخت سجل کے سامنے بیٹھے اسے شیشے میں اتار رہے تھے۔
’’تمہیں میں اپنے دوست کے حوالے کرکے جا رہا ہوں۔ اس کے پاس تم بطور میری امانت رہو گی وہ تمہارا ہر طرح سے خیال رکھے گا۔ تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں سجل؟‘‘ یاور بخت اس سے ہر بات کی یقین دہانی چاہ رہے تھے۔ وہ اقرار کرتی گئی۔
’’تم لوٹ آئو گے ناں صاحب؟‘‘ وہ بولی تو صرف اتنا، بے چارگی کی انتہاء پنہاں تھی اس کے لہجے میں۔ یاور بخت کا دل بھی پسیج گیا۔
’’مر کر بھی لوٹ آئوں گا سجل۔ صرف تمہارے لیے۔‘‘ جذباتیت سے بھرپور مگر حقیقت سے دور جملہ یاور بخت کے لبوں سے برف کی صورت پگھلا اور سجل کے لبوں پر بھیگی سی مسکان سج گئی۔
عزیز کچھ دیر بعد ہی وہاں آپہنچا تھا۔ سجل کے خواب ناک حسن کو دیکھ کر کچھ پل کے لیے وہ بھی مبہوت رہ گیا تھا۔
’’مرد کی ہمدردی عورت کو اکثر بڑی مہنگی پڑتی ہے۔ تم نے بھی بے حد مہنگا سودا کرلیا ہے۔ نادان لڑکی…‘‘ عزیز دل ہی دل میں سجل کو ملامت کررہا تھا۔
’’عزیز… سجل کا بے حد خیال رکھنا۔ میں جلد لوٹوں گا اپنی امانت تم سے لینے۔‘‘ انہوں نے سجل کو عزیز کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ عزیز نے فقط اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا‘ وہ بخوبی جانتا تھا کہ ان لفظوں میں کوئی دم نہیں۔
’’صاحب…‘‘ یاور بخت سجل سے مل کر جانے کے لیے پلٹے تھے کہ سجل نے بھرائی ہوئی آواز میں انہیں پکارا۔ یاور بخت نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا سجل کی آنکھوں سے آنسو رواں تھی۔
’’تمہیں کس نام سے پکاروں… اپنا نام تو بتاتے جائو صاحب۔‘‘ سجل کے ادا کیے گئے جملے نے یاور بخت کو پھر سے پچھتاوے کا شکار کردیا۔
’’یاور بخت…‘‘ وہ اپنا نام بتا کر تیزی سے باہر نکل گئے۔ سجل اپنے محبوب کو نگاہوں سے دور ہوتا دیکھتی رہی۔ کون جانے محبوب نظروں سے دور ہوا تھا یا زندگی سے۔
’’بے وقوف لڑکی… بناء نام جانے بھی بھلا کسی سے محبت کی جاتی ہے‘ کسی پر اپنا آپ نچھاور کیا جاتا ہے‘ لڑکیوں کو ایسی حماقت نہیں کرنی چاہیے… نہ جانے کب سمجھ پائیں گی یہ لڑکیاں زمانے کے چلن۔‘‘ من ہی من میں بدبداتا عزیز سجل کو لیے منزل کی جانب محوِ سفر تھا۔
ء…ۃ…ء
’’میں نے تمہارے لبوں سے ادا ہوا، ایک ایک لفظ اپنے اس مشینی حافظے میں محفوظ کرلیا ہے مگر پھر بھی اگر مجھے تم سے کچھ پوچھنے کی ضرورت درپیش ہوئی تو تم سے رابطہ کیسے ممکن ہوگا۔‘‘ مہرو عظیم نے تھکے ہوئے سے انداز میں لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے اس کے چہرے کی جانب دیکھتے استفسار کیا۔
’’میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ آپ بتا دیا ہے مہرو بی بی… مزید کوئی نئی بات میرے پاس اس لمحے تک تو موجود نہیں۔ ویسے بھی اب میری زندگی کے لمحات مختصر ترین ہیں۔ اب جو بھی خبر میرے حوالے سے آپ تک پہنچے گی وہ بس میری منزل تک پہنچ جانے کی ہوگی…‘‘ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ انتہائی پراسرار سی۔
’’اور تمہاری منزل کیا ہے؟‘‘ مہرو اس کی پراسرار مسکان کی کھوج میں نکلنے کو بیتاب تھی تو وہ ہنس دی۔
’’میں بھی پہلے پوچھا کرتی تھی کہ منزل کیا ہے… اس کا جواب مجھے برسوں پہلے مل چکا تھا مگر سمجھ اب آیا‘ مہرو بی بی… آپ نہیں سمجھیں گی… منزل کیا ہے… بس اتنا سمجھ لیں… اس منزل تک پہنچنے کا وقت قریب ہے…‘‘ وہ اتنا کہہ کر میکانکی انداز میں صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’مجھے اب جانا ہوگا مہرو بی بی۔ مجھ سے بس وعدہ کریں کہ میرے حق کے لیے ضرور لڑیں گی‘ میں رہوں نہ رہو… میری لڑائی اب آپ پر فرض ہے۔‘‘ وہ جذباتی انداز میں مہرو کا ہاتھ تھام کر کہتی چلی گئی… مہرو اس پل عجیب احساسات کے حصار میں تھی۔ اس نے اس سے بھی اہم اسٹوریز پر کام کیا تھا مگر آج سے پہلے اسے اس طرح کے احساسات نے کبھی نہیں گھیرا تھا۔
’’میں اپنا فرض اور قرض دونوں ذمہ داری سے ادا کروں گی۔‘‘ مہرو نے اس کے سرد ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے صرف اس سے ہی نہیں بلکہ خود سے بھی عہد کیا تھا۔ وہ دھندلائی آنکھوں سے مسکرا اٹھی اور گھر سے باہر نکل گئی… مہرو عظیم کے گھر گزارنے والا یہ دورانیہ پچانوے منٹ پر محیط تھا۔
گارڈ نے اسے بڑے اعتماد سے باہر نکلتے دیکھا اور ایک بار پھر اس خستہ حال وجود کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگیا۔
گارڈ نے ایک پُر سوچ نگاہ اوپری منزل کی جانب ڈالی‘ مہرو عظیم اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی تھی۔ وہ با آسانی دیکھ سکتا تھا۔ اب کی بار اس کا یقین پختہ ہوچلا تھا کہ وہ خستہ حال وجود بے حد اہم ہے اس نے اپنی نظریں ایک بار پھر اس پراسرار عورت کے وجود پر گاڑھ دیں کہ یک دم وہ چونک اٹھا تھا۔
ء…ۃ…ء
وہ مضبوط قدموں سے آگے بڑھتی اس گلی کے ابتدائی سرے پر پہنچی ہی تھی کہ یک دم ایک سفید رنگ کی گاڑی اس کا راستہ کاٹتی روک گئی تھی۔ اس کی نگاہوں میں شناسائی کی رمق دوڑی۔ ایک کربناک سا تاثر اس کے زرد چہرے پر پھیلا تھا۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا‘ وہ ایک گہری سانس اپنے اندر اتارتی پچھلی نشست سے اترنے والی ہستی کو دیکھنے لگی۔ گاڑی کی زرد روشنی نے اسے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ وہ اونچے قد و قامت کا نوجوان تھا‘ وہ مسکرا اٹھی… مگر مسکراہٹ میںبڑا درد چھپا تھا… وہ شخص اس کے مقابل آن کھڑا ہوا‘ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں نفرت شعلے کی مانند بھڑک رہی تھی۔ اس کی اونچی ناک نخوت زدہ اور لبوں پر زہر خند مسکراہٹ کنڈلی مارے چپکی ہوئی تھی۔
’’تم آگئے… دل سے دل کو راہ ہوتی ہے… گزشتہ کچھ دنوں سے میرے دل نے تمہیں بے حد یاد کیا اور تم بالآخر آگئے… اچھا کیا… آخری ملاقات تو تم سے بنتی تھی…!‘‘ اس نے جگر پاش لہجے میں کہا۔ اس کے لفظوں میں مخفی ایک تڑپ تھی۔
’’صحیح کہا تم نے… تمہاری آخری ملاقات تو میرے ساتھ ہی منسوب ہونی چاہیے‘ تم پاتال میں گریں عورت تھیں… میں نے تمہیں اس پاتال سے نکال کر زندگی سے متعارف کرایا… میری بخشی ہوئی زندگی کا اختتام تو پھر میرے ہاتھوں ہی ہونا چاہیے۔‘‘ اس کے مقابل کھڑا وہ شخص قدم بڑھاتے اس کے نزدیک آیا‘ گاڑی سے مزید دو اشخاص اترے تھے۔ وردی میں ملبوس، ہتھیار اٹھائے، یقینا وہ اس کے محافظ تھے۔
’’میرا گھر پاتال ٹھہرنا تو فقط قسمت تھی‘ بدقسمتی تو تم جیسے کم ظرف انسان سے محبت ہونا تھی۔‘‘ وہ بولی تو نفرت اس کے چہرے کے ایک ایک نقش سے عیاں تھی۔
’’تم ایک ناگن تھیں جو محبت کے نام پر میرے اندر زہر قطرہ قطرہ اتارتی رہیں‘ گناہوں کی دلدل میں صرف تمہارا جسم ہی نہیں روح بھی گردن تک دھنسی ہوئی ہے۔ بدکردار غلیظ عورت‘ میرے ظرف پر بات کرنے سے پہلے تُو اپنے آپ کو دیکھ کہ تیری اوقات کیا تھی اور میں نے تجھے کیا بنا ڈالا۔‘‘ وہ شخص کم ظرف ٹھہرائے جانے پر طیش کے عالم میں چراغ پا ہوتا اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑتا پھنکارا تو وہ مسکرا اٹھی… تمسخر نفرت، حسرت، عجب رنگ گھلے ہوئے تھے۔ بالوں کے زور سے کھنچنے کے باعث اس کے سر میں ٹیسیں اٹھنے لگیں تھیں۔ اس کے چہرے کے نقوش کھنچ گئے تھے۔ اسی تکلیف میں اس نے ایک نگاہ ان محافظوں کی جانب کی… وہ دونوں اس کے محافظ ہوا کرتے تھے… کوئی شخص اس کے قریب سے بھی گزرتا تو اس کی گردن مروڑ ڈالتے… وقت وقت کی بات ہے… مالک کی نیت بدلی، محبت تمام ہوئی اور احکامات بدل گئے۔ اب وہ محافظ اسی کی جان کے دشمن بنے اس کے سامنے کھڑے تھے۔
’’تم نے مجھے زندہ سے زندہ درگور کردیا میرے محبوب… پہلے مردہ سے زندہ کیا اور پھر زندہ درگور کر ڈالا۔‘‘ وہ تکلیف کی شدت سے کراہتی ہوئی بولی۔
’’ہونہہ… تجھ جیسی عورت سے محبت کرنا میرا گناہِ عظیم تھا۔ آج اس زندہ، مردہ کا قصہ تمام کردیتا ہوں۔ میرے ہاتھوں میں دم توڑنے کی خواہش ہوا کرتی تھی ناں تمہاری؟ آج تمہاری اس خواہش کو تکمیل تک پہنچا دیتا ہوں میں… تمہیں جہنم کی آگ تک پہنچا کر ہی میرے دل میں لگی آگ کو ٹھنڈ پہنچے گی۔‘‘ وہ شخص اس کے بالوں کو مزید جھٹکے دیتا ناگ کی صورت پھنکارا۔ تکلیف کی شدت سے وہ عورت کراہ اٹھی۔
کسی اجڑی ہوئی عورت کی طرح سیاہ زلفیں بکھرائے رات بھی حیرانگی کے عالم میں ان نفرت و انتقام میں جلتے لوگوں کو تک رہی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے جذبات سمجھنے سے قاصر تھے۔ صرف نفرت و انتقام کی آگ میں جھلستے ہوئے اپنے اپنے درد پر کراہ رہے تھے۔ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے تھے۔ لفظوں سے زد و کوب کررہے تھے… ایک مقابلہ جاری تھا کہ کس کے پاس زیادہ تلخ لہجہ اور کڑوے الفاظ تھے۔ یہ زہریلے الفاظ ہی تو ان کے ہتھیار تھے۔ جس کے سہارے وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھا رہے تھے۔ حقیر گردان رہے تھے۔
’’تو کرلو آگ کو ٹھنڈا… مگر یاد رکھنا میری ذات نے جو زخم تم سے کھائے ہیں ان کا درد تمہاری آخری سانس تک تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ میں پاتال میں گری عورت تھی مگر یاد رکھنا مجھ گناہ گار کا بھی اللہ ہے۔ وہ تجھے پاتال سے بھی نیچے جا پھینکے گا۔ ایسی گہرائی جس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ کبھی بھی نہ ملے گا… یہ آہ ہے میری… جو تمہارا پیچھا کبھی نہ چھوڑے گی۔ میرے محبوب۔‘‘ اس بار عورت بھی اس شخص کا گریبان اپنے دونوں ہاتھوں سے جکڑتے ہوئے چلائی۔ اس کے الفاظ اتنے بلند تھے کہ عمارت کے باہر آنکھیں پھاڑے بیٹھا گارڈ بھی کپکپا اٹھا اور اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑی مہرو عظیم نے بے چینی سے موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرنا شروع کردیا تھا۔
’’مت بول محبوب مجھے اپنی ناپاک زبان سے‘ محب اور محبوب کا قصہ تمام ہوچکا‘ جتنی شدت سے میں نے تجھ سے محبت کی تھی‘ اس سے کئی گناہ زیادہ مجھے تجھ سے اب نفرت ہے۔‘‘ وہ شخص بھی آپے سے باہر ہوتا اپنا گریبان اس کے ہاتھوں کی گرفت سے چھڑاتا اس کے کمزور وجود کو دھتکارتے ہوئے غرایا۔
عورت زمین پر جا گری… لبوں سے سسکی برآمد ہوئی اور سوگوار فضا میں مدغم ہوگئی۔ ایک کرب ناک نگاہ اس نے اس شخص پر ڈالی جسے بے انتہا نفرت کے اظہار کے باوجود اب تک اپنا محبوب کہہ رہی تھی… نہ جانے کیا تھا اس نگاہ میں، کتنا کرب پوشیدہ تھا، کیسی تڑپ تھی کہ اس کی نفرت کے دعویٰ دار سنگ دل محبوب کو بھی بے قراری چھو گئی تھی۔ وہ ہارے ہوئے قدموں سے اس کے نزدیک آبیٹھا۔ نمی اس کی آنکھوں میں بھی جھلکنے لگی اور عورت کی آنکھوں سے دریا بہنے لگا تھا۔
’’میں مجبور ہوں… بے انتہا مجبور… تم اگر زندہ رہیں تو میں تم سے دوبارہ محبت کرنے پر مجبور ہوجائوں گا… میں محبت کرسکتا ہوں تم سے مگر معذرت قبول نہیں کرسکتا‘ تم جانتی ہو… بے وفائی میں معاف نہیں کرسکتا۔‘‘ اس نے بھیگے ہوئی لہجے میں کہا۔ سارا طنطنہ اس عورت کے آنسو دیکھ کر بھاپ بن کر اڑ گئے تھا۔ نفرت دھول کی طرح بیٹھ گئی تھی۔
’’تم زندہ رہیں تو تمہاری زندگی میں، جہنم بناتا چلا جائوں گا… اس لیے…‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا کہہ رہا تھا کہ یک دم کر گیا… اس کا ہاتھ میکانکی انداز میں اپنے کوٹ کی اندرونی جیب کی جانب بڑھا۔ عورت کی نگاہ بے اختیار پستول پر گئی۔
’’میں تم سے اب بھی محبت کرتا ہوں… میں اقرار کرتا ہوں… مگر میں بے وفائی معاف نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں سے پستول تھامے اس پر اپنی پیشانی ٹکائے اس کے سامنے سرنگوں تھا… رو رہا تھا۔
عورت آنکھوں کے کناروں سے رواں سیلاب کو ہتھیلی سے مسلتے ہوئے مسکرائی… دل دوز مسکراہٹ… اس کے دونوں ہاتھوں نے حرکت کی… اس عورت نے اپنے سامنے ہارے ہوئے محبوب کے ہاتھوں کو تھام لیا پھر اس کے پستول تھامے ہاتھوں کو تھام کر اپنی پیشانی کے مقابل لے آئی… ایک زخمی مسکراہٹ اس کے لبوں پر سج گئی۔
’’اس سے زیادہ خوب صورت انجام میری زندگی کا ہو ہی نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس کے لہجے میں کرچیاں چبھی تھیں۔ بے حد زخمی لہجہ تھا۔ محبوب بے اختیار رو پڑا… عورت کی پیشانی پر محبت بھرا الوداعی بوسہ دیا۔
’’میں تمہاری بے وفائی معاف نہیں کرسکتا… میں مجبور ہوں۔‘‘ اس نے روتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں اپنی مجبوری بیان کی… تو عورت نے مسکرا کر آنکھیں بند کرلیں… وہ گھٹنوں کے بل کھڑی ہوئی۔ محبوب کی انگلیاں ٹریگر پر جا رکیں… محبت نے الوداعی ہچکی لی اور ٹریگر پر دبائو پڑا… اجڑی ہوئی رات ’’ٹھاہ‘‘ کی آواز سے گونج اٹھی… محبوب کے محافظوں نے ایک دوسرے کو افسوس بھری نگاہوں سے دیکھا۔
کچھ دیر قبل جس پیشانی پر محبت نے آخری بوسہ دیا تھا وہیں بے وفائی کی پاداش میں ملنے والی سزا کا سیاہ داغ ثبت ہوگیا تھا۔ عورت بے جان وجود میں ڈھل کر سیاہ تار کول کی سڑک پر گری… محبوب نے بے ساختہ اس کے ایک جانب لڑھکے سر کو اپنی گود میں دھرلیا… خون میں رستے سیاہ بالوں کو سہلاتے وہ آنسو بہاتا رہا… سزا سنانے کے بعد محبت کے بچھڑنے پر فریادی تھا۔
گاڑد اس قیامت خیز واردات پر دہل کر رہے گے۔ مہرو عظیم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے… اس سفید گاڑی کے چلے جانے کے بعد وہ دوڑتی ہوئی جائے وقوع پر پہنچی اور گارڈ بھی ہمت کرکے اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔
’’تو یہ تھی تمہاری منزل…؟‘‘ مہرو عظیم خود کلامی کی۔
’’میں رہوں یا نہ رہوں… میری لڑائی اب آپ پر فرض ہے‘ میرا قرض ہے۔‘‘ کچھ لمحے قبل اس مردہ وجود نے اس سے عہد لیا تھا… مہرو کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’میڈم پولیس کو بلوانا چاہیے… آپ کیا کہتی ہیں؟‘‘ عقب میں کھڑے گارڈ نے خوف زدہ ہوکر اپنی رائے کا اظہار کیا… مہرو اثبات میں سر ہلاتی نمبر ڈائل کرنے لگی۔
عشق کی روح فرسا داستان کے ایک باب کا اختتام ہوچکا تھا۔
ء…ۃ…ء
گرم بھاپ اڑاتی کافی کی خوشبو کچن سے نکل کر رفتہ رفتہ پورے گھر میں پھیل رہی تھی۔ وہ لائونج میں بیٹھی تھی‘ میڈم فرنانڈس جس طرح خود بے حد نفیس اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ویسے ہی ان کا گھر بھی نہایت نفاست سے سجا خوشگوار تاثر ذہن پر نقش کرا رہا تھا۔ لائونج کی مغربی دیوار پر بڑی سی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ مشرقی دیوار کے ساتھ ایکوریم رکھا تھا جس کے اندر صاف شفاف پانی میں خوش رنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ دائیں جانب کتابوں کا شیلف تھا اور بائیں جانب کچن… جہاں سے گرما گرم کافی کے ساتھ ساتھ اب خستہ بیک کئے ہوئے بسکٹس کی خوشبو بھی اپنی جانب متوجہ کررہی تھی۔
وہ ان سب سے بے نیاز صوفے پر براجمان، ایکوریم میں تیرتی مچھلیوں کی نٹ کھٹ شرارتوں سے محفوظ ہورہی تھی۔ میڈم فرنانڈس کے گھر آنے سے قبل وہ شدید ذہنی تنائو کا شکار تھی… صبح گھر سے نکلتے وقت گرینی کے سرد رویے نے اسے مزید افسردہ کردیا تھا… گرینی نے آج سے قبل تو ایسا رویہ اس کے ساتھ کبھی نہیں اپنایا پھر آج کیوں؟ کیا وہ اس کی کیفیت، اس کے جذبات نہیں پہچان پائیں یا پھر وہ بھی پسند نہیں کرتیں کہ وہ اپنی ماں سے ملے… اسے یک دم خیال آیا کہ اس طرح کے خیالات کا اظہار اس نے رات گرینی سے بھی کیا تھا۔ وہ اس وقت شدید ذہنی دبائو کا شکار تھی سو کہہ گئی مگر گرینی کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا‘ انہیں اس کی بات پسند نہیں آئی تھی‘ انہیں دکھ نے آگھیرا تھا یقینا گرینی اس سے ناراض تھیں… انہی سوچوں کا شکار ہوکر وہ میڈم فرنانڈس کے گھر آئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح میڈم فرنانڈس اس سے بہت محبت سے ملی تھیں۔
کچھ دیر بعد میڈم فرنانڈس ٹرالی گھسیٹتے ہوئے لائونج میں داخل ہوئیں تو ماریانہ کو محویت سے ان رنگ برنگی مچھلیوں کو تکتا پاکر مسکرائیں۔
’’تم نے دیکھا… اس چھوٹے سے شیشے کے ڈبے میں بھی پانی بھر دینے سے زندگی سانس لینے لگتی ہے… بس کائنات کی ہر شے خداوند تعالیٰ کے حکم کی محتاج ہے‘ وہ تمام چیزیں میز پر سجاتے ہوئے نہایت شگفتگی سے گویا ہوئیں۔ ماریانہ کی محویت کا عالم ٹوٹا۔ اس نے چونک کر میڈم فرنانڈس کی جانب دیکھا اور دھیرے سے مسکرا دی۔
’’زندگی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ماریانہ۔‘‘ یہ جملہ انہوں نے ماریانہ کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے ادا کیا۔
’’میں زندگی سے مایوس نہیں ہوں میڈم فرنانڈس۔‘‘ ماریانہ نے مرجھائے ہوئے لہجے میں تردید کی اس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکان پھیلی ہوئی تھی۔
’’مگر تمہاری آنکھیں کچھ اور کہہ رہی ہیں ماریانہ… جہاں تک میں تمہیں جانتی ہوں تم بے حد مضبوط اعصاب کی مالک ہو لیکن تمہاری ذات مجھے فی الوقت مایوسی کے سمندر میں غوطے کھاتی نظر آرہی ہے۔‘‘ میڈم فرنانڈس کی توجہ اب مکمل طور پر ماریانہ کی جانب مبذول تھی۔ وہ ان کی پسندیدہ ترین شاگردوں میں سے تھی اور انہیں یقین تھا کہ مثبت اور خوب صورت سوچوں کی حامل یہ لڑکی اپنی صلاحیتوں سے انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ آگے آگے رہے گی۔
’’میڈم فرنانڈس… ایسی بات نہیں مگر… شاید میں تھک چکی ہوں… مسلسل آزمائے جانے سے میرے اعصاب شل ہوگئے ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وقت میرے ہی زخم بار بار کیوں ادھیڑ ڈالتا ہے۔‘‘ ماریانہ نے سر جھکائے، انگلیاں مروڑتے پژمردگی کے عالم میں کہا۔
’’وہ لوگ جو میری حسرت ہیں، وہ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں اور بچھڑنے کا دکھ رگوں میں اتر جاتا ہے‘ ہنسنے نہیں دیتا، مسکرانے نہیں دیتا۔‘‘ اس نے کہا‘ انداز ایسا تھا جیسے وہ خود سے جنگ میں مبتلا ہو۔
’’وہ کون لوگ ہیں جو تمہاری حسرت ہیں ماریانہ؟‘‘ میڈم فرنانڈس نے ٹوکتے ہوئے پوچھا۔
’’ایسی ذات جس سے تعلق اس دنیا میں آنے سے قبل ہی جڑ جاتا ہے‘ جس کا وجود محافظ ہوتا ہے، خوشیوں کی ضمانت ہوتا ہے‘ میدم فرنانڈس… بس میری ماں ہی میری حسرت ہے۔‘‘ ماں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو موتی بن کر چمکنے لگے‘ اس کا پور پور ماں کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔
’’تمہاری ماں کہاں ہے؟‘‘ میڈم فرنانڈس پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔
’’میرے بابا کے انتقال کے بعد انہوں نے دوسری شادی کرلی تھی۔ وہ نہیں کرنا چاہتی تھیں، مگر سب نے انہیں مجبور کیا‘ حتیٰ کہ میری گرینی نے بھی… میری گرینی نے بھی میری مما کو بابا کے جانے کے بعد جانے دیا‘ انہیں روکا نہیں… مما کو اپنے ہاتھوں سے سجایا ہوا گھر چھوڑ کر جانا پڑا… مجھے یاد ہے وہ برا دن… مما بہت روئی تھیں… بابا کی لائی ہوئی ایک ایک چیز کو چھو کر روئی تھیں‘ اس دن گرینی بھی چپ تھیں۔ جب مما گھر چھوڑ کر جانے لگیں تب وہ گرینی سے لپٹ کر بہت روئی تھیں… مما گرینی کو پسند کرتی تھیں، گرینی بھی… مگر پھر بھی نہ مما رک پائیں، نہ گرینی روک پائیں۔ شاید اس لیے کہ… مما ہم جیسی نہ تھیں۔ وہ مورش (مسلم) نہیں تھیں۔‘‘ ماریانہ نے جھکے سر کو اٹھا کر جواب دیا۔
’’اوہ…!‘‘ میڈم فرنانڈس کے لب سے اتنا ہی ادا ہوسکا۔ معاملہ اب انہیں کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تھا۔
’’تمہاری مما نے شادی کے بعد تم سے رابطہ تو رکھا ہوگا ناں ماریانہ؟‘‘ مسز فرنانڈس نے پُر سوچ انداز میں سوال کیا۔
’’نادا…! (نہیں) ان کے شوہر مورش کو پسند نہیں کرتے۔‘‘ اس سوال کا جواب ماریانہ نے تلخی سے دیا… میڈم فرنانڈس نے اس کے بدلتے لہجے اور چہرے کے تاثرات کو بغور جانچتے ہوئے اگلا سوال کیا۔
’’تمہاری مما کے شوہر مورش کو پسند نہیں کرتے، تمہیں اس بات کا ادراک کیسے ہوا ماریانہ؟‘‘
’’کیونکہ مما نے ان کے سامنے میری پہچان، مجھ سے اپنا رشتہ چھپایا تھا۔‘‘ ماریانہ کا لہجہ بدستور کڑوا تھا۔
’’ہوسکتا ہے ان کے شوہر کو یہ نہ پسند ہو کہ ان کی بیوی اپنے ماضی سے کسی بھی طرز کا تعلق رکھے۔ اس لیے تمہاری مما نے ان کی سامنے تم سے تعلق چھپایا ہو۔‘‘ میڈم فرنانڈس نے اسے تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی سعی کی۔
’’اگر ایسی بات ہوتی تو وہ میرا نام تبدیل کرکے اپنے شوہر کو نہیں بتاتیں۔ ان کے شوہر میرے چہرے کی ساتھ ساتھ میرے نام سے بھی ناآشنا تھے۔ میرا حقیقی نام انہیں پتا چل بھی جاتا تو کچھ فرق نہ پڑتا مگر میر انام انہوں نے اس لیے تبدیل کیا تاکہ میرے مورش ہونے کا انہیں شبہ نہ ہو اور اگر انہیں شبہ ہوجاتا تو میری مما مجھ سے ملاقات کی کوئی صورت نہ نکال پاتیں۔‘‘ ماریانہ نے کافی تفصیل سے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کی۔
’’میں آپ کی طرح رویے پڑھنا، لہجے جانچنا اور لفظوں کے رنگوں کو دیکھنا جانتی ہوں، میڈم فرنانڈس۔‘‘ ماریانہ نے ان کی مسکراہٹ کے جواب میں مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بہت خوب… مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میری بہت ہی قابل طالبہ جذباتیت کی انتہا پر بھی رویوں کو پڑھنا، لہجوں کو جانچنا اور لفظوں کے رنگوں کو پہچانا نہ بھولی۔‘‘ میڈم فرنانڈس اس کی خوبی کی معترف ہوئیں۔ ماریانہ اپنی اس غیر متوقع تعریف پر جھینپ گئی۔
’’مگر ایک شکوہ بھی ہے ماریانہ تم سے۔‘‘ میڈم فرنانڈس نے کافی کا پہلا گھونٹ بھرا مگر کافی کے مگ تک جاتا اس کا ہاتھ وہیں تھم گیا تھا۔
’’کیسا شکوہ میڈم فرنانڈس؟‘‘
’’تم اپنی ذات سے جڑی دو چیزوں کو علیحدہ کیوں نہیں کردیتیں ماریانہ۔‘‘
’’کون سی دو چیزوں کو علیحدہ کردوں میڈم فرنانڈس۔‘‘ اس نے تعجب خیز انداز میں استفسار کیا۔
’’ایک یہ وہم کہ تم اعصابی طور پر کمزور ہو… تم اعصابی طور پر کمزور نہیں ہو۔‘‘
’’اور دوسرا؟‘‘
’’دوسرا یہ کہ تم حقیقت سے نظریں چرانا چھوڑ دو۔ تمہارا اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ تم حقیقت کو جانتے بوجھتے اسے قبول نہیں کرتیں۔‘‘ میڈم فرنانڈس نے انتہائی سنجیدگی سے اسے سمجھایا۔ ماریانہ کی باتوں سے انہوں نے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ماریانہ اب تک اپنے ماضی میں جی رہی ہے۔ اور یہی بات اسے جذباتی طور پر کمزور بنا رہی ہے کیونکہ انسان ماضی میں جی کر خوش نہیں رہ سکتا اور مستقبل فقط ایک خیال، تصور، خواب ہے، صرف حال ہے جو حقیقت ہے اور زندگی جیسی بھی ہو، بسر حال ہی میں ہوتی ہے۔ میڈم فرنانڈس یہی بات ماریانہ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
’’تم سب کچھ جانتی ہو ماریانہ… اس کے باوجود تم خود سے جڑے رشتوں کو تکلیف دے رہی ہو۔ تمہارے بابا لوٹ نہیں سکتے۔ تمہاری مما کو بھی بالآخر زندگی گزارنی تھی۔ دو مذاہب کے بیچ لٹک کر وہ تمہاری پرورش اور تربیت کرنے میں یقینا ناکام رہتیں کیونکہ تمہارے بابا کے حیات ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ انہوں نے تمہارا مذہب اختیار نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے کی طرح تمہاری گرینی اور مما کا ساتھ رہنا ممکن نہ رہا ہو… اور تب تمہاری مما نے مجبوراً یہ فیصلہ کیا ہو…‘‘ میڈم فرنانڈس حالات کا تجزیہ کرتیں اسے منفی سوچوں کے گرادب سے نکالنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔
’’صحیح کہہ رہی ہیں آپ… ان دنوں سب اپنے اپنے مفادات کے تحت مجبور تھے‘ کسی کو مجبور نہ کرسکی کہ وہ میرے لیے سوچتا۔‘‘ ماریانہ چکنا گھڑا بنی ہوئی تھی۔ اس پر کسی بات کا بھی رتی برابر بھی اثر نہ ہورہا تھا۔
’’اوہ ماریانہ… اس وقت تمہاری ذہنی حالت بے حد ابتر ہے اور مجھے افسوس اس بات کا نہیں کہ ابتر کیوں ہے… مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ تم خود اس ذہنی حالت سے نجات حاصل نہیں کرنا چاہ رہیں بہرکیف… ایک بات یاد رکھنا میری، مجبوریاں کسی کی زندگی میں اجازت لے کر داخل نہیں ہوتیں‘ مجبوریاں تو اپنی ذات میں بیڑیاں ہیں‘ جو پیروں میں پڑ جائیں تو قدموں کو اپنا غلام بنالیتی ہیں۔ میری بات اگر سمجھ نہ پائو تو اپنی مما سے ایک ملاقات ضرور کرنا… شاید اس ملاقات میں تم ان کے پیروں میں پڑی بیڑیاں دیکھ پائو…‘‘ میڈم فرنانڈس بخوبی جانتی تھیں کہ اس وقت ماریانہ کو کونسلنگ کی نہیں حقائق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے تب ہی اسے ملاقات کی راہ سجائی۔
’’میں بے حد معذرت چاہتی ہوں میڈم فرنانڈس‘ میں نے آپ کو آج بہت مایوس کیا۔ میں یہاں آج آپ کے پاس کونسلنگ ٹیچر کی ملازمت کے سلسلے میں آئی تھی مگر فی الوقت میں ذہنی طور پر اتنی الجھی ہوئی ہوں شاید میں ابھی اس اہم ذمہ داری کی اہل نہیں۔‘‘ اس نے شرمندگی سے چور لہجے میں کہا۔ میڈم فرنانڈس بے اختیار مسکرا اٹھی۔
’’میں تم سے بالکل مایوس نہیں ہوں ماریانہ۔ میں جانتی ہوں جب کسی کے اندر جنگ چھڑی ہو تو اس جنگ کے اثرات اس کے دل و دماغ اور شخصیت پر بھی نظر آتے ہیں۔ تم بھی فی الحال ایسے ہی کسی مرحلے سے گزر رہی ہو اور مجھے یقین ہے ماریانہ تم اس ٹوٹ پھوٹ کا خود کو زیادہ دیر تک شکار نہ ہونے دوگی۔ خود کو جلد سنبھال لو گی۔‘‘ میڈم فرنانڈس اس کے برابر میں آبیٹھیں۔ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے حوصلہ افزأ انداز میں کہا۔
ماریانہ کی ہمت بندھی تو میڈم فرنانڈس نے اسے مما سے ملاقات کا مشورہ دیا اور یہ مشورہ اس کے دل کو لگا تھا۔
’’مگر ماریانہ خیال رکھنا۔ ہوسکتا ہے تم جس غم کا شکار ہو‘ تمہارے دل سے جڑے رشتے اس سے بھی کہیں زیادہ عظیم دکھ کا شکار ہوں۔ اپنوں کے دلوں کا حال جاننے کے لیے تمہیں جذباتی طور پر خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اعصابی طور پر تو تم پہلے ہی بے حد مضبوط ہو۔ بس اب خود کو پہچاننے کی کوشش کرو ماریانہ۔‘‘ ماریانہ میڈم فرنانڈس کی بات انتہائی غور سے سن رہی تھی۔ ان کی بات کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے وہ اثبات میں سر ہلاتی مسکرائی۔
’’اور کونسلنگ ٹیچر کے فرائض میں نے تمہارے لیے ہی مختص رکھے ہیں۔ جب تم اپنے ذہن میں پلتی گتھیوں کو سلجھا لو… تو پھر اپنی ذمہ داری بھی آکر سنبھال لینا… ہاں مگر یاد رکھنا مثبت سوچوں کی راہ پر ہی کامیابی اور خوشی دونوں ملیں گی۔‘‘ میڈم فرنانڈس حوصلہ افزأ انداز میں اس کا ہاتھ دباتے ہوئے بولیں۔ ان کے گھر سے واپس لوٹتے ہوئے وہ خود کو بے حد مطمئن اور پُرسکون محسوس کررہی تھی۔
’’آزمائش اتنی بھی سخت نہ تھی کہ اس پر پورا نہ اترا جاسکے۔ میڈم فرنانڈس ٹھیک کہتی ہیں۔ مجھے اپنی جذباتی کیفیت پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔ ہونہہ… زندگی اتنی بھی بری نہیں کہ اس سے دلبرداشتہ ہوجایا جائی۔ خوشیاں عموماً غیر متوقع جگہوں اور وقتوں میں ملتی ہیں۔ اس پل صرف اس خوشی کو ہی محسوس کرنا چاہیے۔ دکھوں، وسوسوں، تلخ تجربوں اور شکوئوں کے تیروں سے خوشیوں سے لبریز مشکیزے میں سوراخ کردینا عقل مندی تو نہیں…‘‘ مثبت سوچوں کی آمد و رفت کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا تھا۔
’’اور یہ کیا کم خوشی کی بات ہے کہ ایک عرصے بعد مجھے میری مما ملیں۔ کتنی خوش تھیں وہ… مجھ سے دوبارہ ملنا بھی چاہتی تھیں اور میں کتنی احمق ہوں جو رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بجائے رونے دھونے بیٹھ گئی…‘‘ وہ خود کو دل ہی دل میں جھڑکتی مسکرا رہی تھی۔
’’گھر جاتے ہی میں سب سے پہلے مما سے رابطہ کروں گی۔‘‘ صوفیہ کے لیے اس کے دل میں بڑھتی بے چینی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے متلاشی نگاہوں سے گرینی کو ڈھونڈا۔ گرینی کچن میں کھانا پکانے میں مصروف تھیں۔ اس کے بدلے ہوئے رویے کو انہوں نے حیرانگی سے دیکھا۔
’’پل میں تولہ، پل میں ماشا… ماریانہ کتنی بدل رہی ہو تم…‘‘ گرینی نے دل ہی دل میں کہا۔ ماریانہ جب سے گھر لوٹی تھی اس کا موڈ خوشگوار تھا۔ وہ گرینی سے مذاق کر رہی تھی، ہنس بول رہی تھی۔ وہ کل رات کی اپنی ساری کڑوی کسیلی باتیں بھول چکی تھی۔
’’گرینی آپ کو پتا ہے مما نے مجھے رابطے کے لیے اپنا نمبر دیا ہے۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میں ان سے رابطہ کروں گی گرینی… ان سے ملوں گی۔‘‘ وہ لنچ کے دوران مسلسل صوفیہ کی باتیں کرتی رہی اور اب اس سے ملنے کا عندیہ ان تک پہنچایا تو گرینی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تم عادتاً بالکل خاور جیسی ہو۔ وہ بھی ایسی باتیں کیا کرتا تھا۔ صوفیہ کو لے کر… بہت محبت کرتا تھا وہ اس سے۔‘‘ ماریانہ گرینی کی بات سن کر بری طرح چونکی۔ آج کافی زمانے کے بعد انہوں نے اس کی ماں کا تذکرہ اپنی زبان سے ادا کیا تھا۔
’’اور مما… وہ کتنی محبت کرتی تھیں بابا سے؟‘‘ وہ متجسس سے پوچھنے لگی۔
’’صوفیہ نے خاور کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ دیا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے تھے۔ محبوب تھے ایک دوسرے کے لیے۔‘‘ گرینی کے لبوں پر مدہم سی مسکراہٹ تھی۔ چہرے پر ممتا پن دمک رہا تھا۔ ان کی ضعیف نظریں سامنے گیلری میں بوگن ویلیا کی بیل پر چہچہاتے چڑا اور چڑیا پر جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش تھے وہ دونوں ایک ساتھ ماریانہ نے ان کی نگاہوں کی تقلید میں چونچ لڑاتے چڑا اور چڑیا کو دیکھا۔ وہ بھی بے ساختہ مسکرا اٹھی۔
’’اور آپ… آپ محبت کرتی تھیں مما سے؟‘‘ کچھ لمحوں کے وقفے کے بعد وہ ذہن میں ابھرتا سوال زبان پر لے ہی آئی۔ اس ایک سوال میں بھی کئی سوال پوشیدہ تھے۔ گرینی کچھ پل کے لیے خاموش رہیں۔ پھر بولیں۔
’’صوفیہ سے پوچھنا ماریانہ… میرے جواب سے تمہیں تسلی نہیں ہوگی۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اپنی پلیٹیں اٹھانے لگیں… ماریانہ کا سوال… ان کی اب تک کی زندگی پر سوالیہ نشان تھا۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا گرینی… میں آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتی تھی۔‘‘ مارینہ شرمندگی محسوس کررہی تھی اپنے سوال پر۔
’’پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا ہے… جب سے مما سے ملی ہوں عجیب عجیب سوال ذہن میں پلنے لگے ہیں۔‘‘ وہ سر جھکائے شرمسار ہوئی۔
’’تمہیں صوفیہ سے جلد ملاقات کرنی چاہیے‘ اس سے اپنے دل کی ساری باتیں کرنی چاہیں‘ اس کی سننی چاہیے‘ یہ جو برسوں کی پیاس ہے ناں تمہارے اندر… یہ تشنگی آہستہ آہستہ بجھے گی۔ تم صوفیہ سے بات کرو اور جلد ملاقات کرو…‘‘ گرینی کو وہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز تھی۔ اسے یوں شرمسار دیکھ کر وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر اس کے بال سہلانے لگیں۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں گرینی… میں جلد ملوں گی مما سے۔‘‘ وہ ان کے محبت سے سرشار وجود کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کرکے مسکراتے ہوئے بولی… گرینی اس کی اس حرکت پر مسکرا اٹھیں۔
’’ماریانہ میری بچی…‘‘ ممتا کے جذبات سے لبریز بوسہ انہوں نے ماریانہ کی پیشانی پر ثبت کیا تھا۔
ء…ۃ…ء
وہ جس راہ کا مسافر تھا۔ وہ راستہ بے حد عجیب سا تھا۔ گھپ اندھیرے میں کھویا ہوا۔ وحشت سے بھرپور راستہ۔ اسے خوف محسوس ہورہا تھا مگر اس کے باوجود وہ چلا جا رہا تھا۔ کوئی انجانی صدا تھی جو اسے جھنجھلاتے ہوئے پکار رہی تھی۔ عجب لایعنی سی کشش تھی اس راہ پر اس کے قدم ابتلا زدہ مسافت میکانکی انداز میں طے کیے جا رہے تھے۔ وہ خود بد حال سا تھا۔ آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ اچانک فضا آہِ سوزاں سے لرز اٹھی… وہ دہل گیا۔ اس کا دل بے ترتیب سے انداز میں دھڑک اٹھا۔
اس سنسان جگہ پر کس کی متوحش چیخ سناٹے کا جگر پاش کرتی گونجی تھی۔ وہ عالم پریشانی میں تیز تیز قدم بڑھاتا اس آہ و سوزاں کی جانب بڑھنے لگا۔ اسے سسکیاں سنائی دینے لگیں۔ ابتلا زدہ سسکیاں اور پھر آہ و فغاں… کون فریادی تھا… کہاں تھا… اس کے قدم بے ترتیب انداز میں نامعلوم سمت کی جانب بڑھنے لگے تھے… آہ وفغاں کا سلسلہ بدستور جاری تھا۔
’’کون ہے…؟‘‘ وہ جھنجھلائی ہوئی آواز میں استفسار کر رہا تھا۔ اس کے لہجے میں ایک خوف پنہاں تھا۔ جیسے یہ احساس کچوکے لگا رہا ہو… انہونی ہونی کو ہے۔
ایک بار پھر اس نے صدا لگائی… مگر جواب میں وہی سسکیاں، وہی آہ و فغاں و عالم دیوانگی میں اس آشفتہ وجود کو تلاش کرنے لگا۔ اچانک شور بلند ہوا۔ وہ چونک کر اس جانب متوجہ ہوا۔ اس سے ذرا فاصلے پر مٹی کا ایک مرغولہ ہوا کے سنگ رقص جنوں میں محو تھا۔ اس کے شکست خوردہ قدم اس جانب بڑھنے لگے۔ مٹیالی ہوا نے منظر کو غیر واضح کر رکھا تھا مگر وہ پروا کیے بغیر اس مرغولے کے غول میں داخل ہوگیا۔
مٹیالی دھند اچانک چھٹ گئی۔ منظر اچانک سے واضح ہوگیا۔ سامنے زمین پر میت رکھی تھی۔ جس کا سفید کفن ہوا کی زرد میں پھڑپھڑا رہا تھا۔ وہ آنکھوں میں حیرانی سموئے اس میت کے قریب بیٹھ گیا۔ اچانک حواس بیدار ہوئے۔ میت سامنے بے حس و حرکت، ساکت پڑی تھی۔ پھر یہ آہ و زاری کس کی تھی جو مستقل اس کی سماعتوں پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ اس نے بے چینی سے نگاہ ادھر سے ادھر دوڑائی اور پھر اس کی بے قرار نگاہ ٹھہر گئی… دائیں جانب کچھ قدموں کی مسافت چھ سے سات سال کی عمر کا بچہ تھا جو گھٹنوں میں منہ دیے رو رہا تھا۔
’’سنو… تم کون ہو اور کیوں رو رہے ہو؟‘‘ اس نے بلند آواز میں پریشان سا اس سے استفسار کیا۔
جواب ندارد… وہی ہچکیاں، وہی آہ و فغاں اور سسکیاں۔
’’یہ میت کس کی ہے… تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ بے چینی اس کے اندر گھل رہی تھی۔
بچہ یونہی گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا رہا… مگر اس کے دائیں ہاتھ نے حرکت کی۔ وہ دایاں ہاتھ اٹھاتا اس میت کی جانب اشارہ کررہا تھا۔ اشارے کی تقلید کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر میت کی جانب نگاہ کی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا۔ بچے کی آہ و فغاں میں مزید تیزی آگئی۔ اس کا دل اس زور سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آنکلے گا۔ اس کے ہاتھوں پر کپکپاہٹ طاری تھی مگر پھر بھی ہمت کرکے اس نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور اگلے ہی پل وہ اچھل کر پیچھے جا گرا۔
وہ چہرہ… ایسا نہیں ہوسکتا… لٹھے کی مانند وہ سفید چہرہ… دیوانگی کے عالم میں وہ اپنی گردن نفی میں ہلا رہا تھا اور اس چہرے کو بے قراری سے تک رہا تھا۔ زبان سے مسلسل نفی کی تکرار جاری تھی مگر اس بار اس کی ہمت دم توڑ گئی۔ وہ اس میت سے لپٹ کر رو رہا تھا… کرب سے چلا رہا تھا‘ تڑپ رہا تھا۔ اس پر اسرار فضاء میں اس بچے کے ساتھ ساتھ اس کی آہ و زاری بھی گھلتی چلی جا رہی تھی۔
اس کی آنکھیں بند تھیں… جسم بے جان وجود کی طرح نرم و گدار بستر پر دراز تھا۔ البتہ مٹھی بھینچی ہوئی اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اچانک آنکھ کھلی اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ اس کی آنکھیں شدت گریہ سے سرخ تھیں۔
چہرے پر تنائو کی سی کیفیت تھی۔ رگیں تنی ہوئی تھیں۔ وہ گہری سانسیں لینے کی کوشش میں ہلکان ہوا جا رہا تھا۔ کمرے میں گھپ اندھیرا کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ وہ مٹھی میں سر کے بالوں کو بھینچے بیڈ کرائون سے پشت لگائے لیٹا ہوا تھا‘ حالت کچھ بہتر ہوئی تو سائیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس لبوں سے لگالیا… کرب و وحشت کی شدتیں دم توڑنے لگیں تو وہ اٹھ کر کمرے سے منسلک بالکونی میں جا کھڑا ہوا۔
سامنے وہی منظر تھا… روشنیوں سے جگمگاتا شہر اور بے حد دور سے نظر آتا سانتا کلارا کا جزیزہ جہاں روشنیاں جگنوئوں کی مانند جگمگا رہی تھیں۔
ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے سے تنائو زدہ لکیریں مٹ چکی تھیں اور اس کی نگاہ کسی غیر مرئی نقطے سے الجھ کر رہ گئی تھی۔

یادِ ماضی عذاب ہے یار رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

(باقی آئندہ ماہ ان شاء اللہ)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close