Hijaab Jan 19

داغِ ندامت

برجیس رباب

ثناء نے چائے پکاتے ہوئے کچن کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو اس کا دل جل کر راکھ ہوگیا۔ سامنے ہی اس کا مجازی خدا اسد اپنی آپا زینت کے گوڈے سے لگ کر بیٹھا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اسے بہن بھائی کی محبت کا یہ مظاہرہ ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
اس کی شادی کو ابھی ایک مہینہ ہی ہوا تھا۔ اسد کے ماں باپ نہیں تھے، واحد رشتہ بس یہی بہن تھی۔ اس کی نوکری معقول تھی، گھر چھوٹا، لیکن ذاتی تھا، ساس سسر کا بھی ٹنٹنا نہیں تھا، وہ اپنی زندگی کو آئیڈیل گردانتی اگر یہ آپا رفعت نام کا کانٹا نہ ہوتا۔
گزرے ایک ماہ میں اس نے یہ بات بہت شدت سے محسوس کی تھی کہ اسد اپنی بہن سے محبت ہی نہیں عقیدت رکھتے ہیں۔
’’رفعت آپا کو یہ ناپسند ہے… رفعت آپا کو وہ پسند ہے… یہ مت کرو آپا کا دل دکھے گا۔‘‘ اور اس کے علاوہ پھر ہر کام میں رفعت آپا کی رائے لینا بھی انتہائی ضروری ہوتا۔
ایسے میں ثناء کو آپا بہت چاپلوس لگا کرتیں۔ جو بہت میٹھی بن کر اس سے محبت جتاتی لیکن اس کے شوہر کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر رکھا تھا اور ایسا سوچتے ہوئے وہ ہمیشہ یہ فراموش کرجاتی تھی کہ آپا کا اسد کے سوا اور اسد کا آپا کے سوا اور کوئی نہیں ایسے میں خون کے رشتوں میں محبت تو فطری بات ہے۔
رفعت آپا، اسد سے عمر میں بڑی تو صرف آٹھ سال تھیں، لیکن دیکھنے میں بلامبالغہ اٹھارہ برس بڑی دکھائی دیتیں تھیں‘ وجہ ان کے حالات تھے۔ ایک تو چھ بچے‘ اوپر سے شوہر کی ملازمت بھی نہیں تھی، بغیر نوکری کے تو چھ بچوں کا پیٹ پالنا ہی مشکل ہوتا ہے پھر کپڑے لتے، اسکول کی فیس وغیرہ کے اخراجات الگ تھے۔
ثناء کو ان معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ آپا کیسے ان مسائل سے نبرد آزما ہیں، لیکن اسد کو تو فکر ہی یہی تھی تب ہی تو اس نے کل ثناء سے کہا تھا۔
’’آپا کے بڑے بیٹے علی کو ہم اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اپنا بیٹا بناکر، اس طرح ان کا بوجھ بھی کم ہوجائے گا۔‘‘ ثناء کو دوسروں کے بوجھ اپنے سر لادنے کا ذرا بھی شوق نہیں تھا، لیکن مجبوری یہ تھی کہ وہ ابھی ایک ماہ کی بیاہی دلہن تھی، کوئی صفا چٹ جواب دے کر وہ شوہر کی نظروں سے گرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے مصلحتاً خاموش رہی۔
اور اب کچن کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اسے یقین تھا کہ اسد آپا سے علی کے بارے میں ہی بات کررہے ہیں۔ اس گفتگو میں اس کا شامل ہونا انتہائی ضروری تھا۔ اس لیے اس نے جلدی جلدی چائے چھان کر کپوں میں نکالی اور ٹرے اٹھا کر ان کی طرف چلی آئی۔
’’کیسی باتیں کررہے ہو اسد؟ مجھے کیا اتنا بے شرم سمجھا تم نے؟‘‘ قریب آنے پر آپا کی نمناک آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو اسے یک گونا اطمینان ہوا۔ گویا آپا نے خود ہی اپنا بیٹا دینے سے انکار کردیا تھا۔ چائے کی ٹرے تپائی پر رکھ کر وہ خود بھی اسد کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’آپا… آپ غلط سمجھ رہی ہیں، میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ میں نے تو سوچا تھا کہ علی کے آجانے سے ہی ہمارے یہاں بھی رونق ہوجائے گی۔‘‘ اسد پہلو بدلتے ہوئے بولے، یقینا آپا کی خفگی ناقابل برداشت تھی ان کے لیے۔
’’اور پھر یہ ثناء کی بھی تو خواہش تھی، ثناء تم ہی سمجھائو آپا کو۔‘‘ انہوں نے آپا سے بات کرتے ہوئے ثناء کو بھی درمیان میں گھسیٹا اور وہ جو ’’جان بچی سو لاکھوں پائے‘‘ کے مصداق شکر کررہی تھی حقیقتاً گڑبڑائی۔
آپا اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنی نم آنکھیں پونچھ رہی تھیں۔
’’میں کیا کہوں اسد؟ ٹھیک ہے میری خواہش تھی لیکن آپا ایک ماں ہیں ہمیں ان کے بارے میں بھی تو سوچنا چاہیے ناں۔‘‘ آپا نے اپنے لیے اتنے درد مندانہ جذبات رکھنے پر انتہائی ممنونیت سے ثناء کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’ثناء ٹھیک کہتی ہے، مرغی بھی اپنے چوزے اپنے پروں تلے رکھتی ہے۔ اپنے بچے بہت پیارے ہوتے ہیں اور رہی بات رونق کی تو اللہ تمہیں اپنے رونق دے۔ ابھی نئی شادی ہے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارو۔‘‘ آپا کی بات پر ثناء تو دل سے مسکرائی لیکن اسد کی مسکراہٹ بہت پھیکی سی تھی۔ شاید بہن کے کام نہ آسکنے کا غم تھا۔
ء…ۃ…ء
کافی وقت گزر گیا، ثناء کی وہی حالت تھی بلکہ دو جڑواں بچوں کو جنم دینے کے بعد تو وہ ہوائوں میں اڑ رہی تھی۔ آپا کے حالات قدرے بہتر ہوگئے تھے۔ ان کے شوہر کو اچھی نہ سہی پر گزارے لائق نوکری ضرور مل گئی تھی۔ ان کے لیے وہی غنیمت تھا۔ ثناء کے خیال میں ان کی فیملی مکمل ہوگئی تھی۔ اسے مزید بچوں کی چاہ نہیں تھی اور اس بات کا اظہار اس نے اسد سے بھی کردیا تھا۔
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔‘‘ اسد تو سنتے ہی بھڑک اٹھے۔
’’اس میں دماغ خراب ہونے والی کیا بات ہے۔ دنیا کی ساری عورتیں اپنی فیملی مکمل ہونے کے بعد آپریشن کروا لیتی ہیں۔‘‘ وہ کچھ ناراضی سے بولی، اسے اسد کا بھڑک اٹھنا اچھا نہیں لگا تھا۔
’’تم ان عورتوں کی برابری نہ ہی کرو تو بہتر ہے۔ میرے خیال سے ابھی فیملی نامکمل ہے اور دوسرے یہ ایک گناہ کا کام ہے۔ میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘ اسد پیر پٹختے ہوئے گھر سے چلے گئے تھے۔
ثناء وقتی طور پر تو خاموش رہی لیکن اس نے ہار نہیں مانی تھی۔ اس لیے شام میں اسد کا موڈ بہتر دیکھ کر اس نے پھر وہی موضوع چھیڑا۔
’’ثناء تم بات سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ یہ تو اللہ کی قدرت میں مداخلت کی بات ہے۔ نعوذ باللہ… اور پھر بچے تو گھر کی رونق ہوتے ہیں چاہے جتنے بھی ہوں۔‘‘
’’ہاں رونق ہوتے ہیں، لیکن ایسی رونق کا کیا فائدہ کہ بندہ بچوں پر بچے پیدا کرتا جائے لیکن بچوں کی جان کے لالے پڑے ہوں، اس سے تو بہتر یہی ہے کہ بندہ اتنے بچے پیدا کرے کہ جن کی بہترین پرورش کرسکے۔‘‘ اس کا اشارہ واضح طور پر آپا کی طرف تھا، جسے سمجھ کر اسد بھی ایک لمحہ کے لیے خاموش ہوگئے۔ ان کی خاموشی کو دیکھ کر اس نے سلسلہ کلام مزید آگے بڑھایا۔
’’ابھی ہمارے بچے دو سال کے ہیں، آپ کی معقول تنخواہ میں اچھا گزارا ہورہا ہے لیکن کل کو یہ بڑے بھی ہوں گے‘ ان کی پڑھائی کے خرچے اتنے بڑھ جائیں گے کہ پھر آپ کی تنخواہ میں ہمارا دو بچوں کے ساتھ گزارہ ہی ہوگا اور اگر ہم مزید بچے پیدا کریں تو انہیں ویسی آسائشیں نہیں دے سکیں گے تو اس سے بہتر یہی نہیں ہے کہ ہم اپنے ان دو بجوں پر ہی مکمل فوکس رکھیں، انہیں اچھی تعلیم اور بہترین زندگی دیں۔‘‘ اس نے تقریر کر ڈالی۔ اسد اس سے متفق تھے یا نہیں البتہ خاموش تھے اور اس نے ان کی خاموشی کو ہی ان کی رضا مندی جانا اور مطمئن ہوگئی تھی۔
ء…ۃ…ء
اور پھر اس کے آپریشن کروا لینے تک اسد نے کچھ نہ کہا نہ اچھا نہ برا بلکہ ان کا رویہ سرد سا تھا لیکن ثناء کو پروا نہیں تھی، وہ اپنی من مانی کرچکی تھی۔ اس کے لیے یہی کافی تھا۔ آپا نے البتہ بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔
’’ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا تمہیں ثناء؟‘‘
’’چھوڑیں آپا میرے لیے احسن اور محسن کافی ہیں… میں خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے مجھے پہلی ہی بار دو بیٹوں سے نواز دیا۔‘‘ اس کے لہجے میں شکر گزاری سے زیادہ فخر کا عنصر تھا۔ اس کے بعد آپا نے بھی چپ سادھ لی تھی لیکن ثناء پھر بھی چپ نہ ہوئی۔
’’اور ویسے بھی آپا بچے اتنے ہی ہوں کہ جن کو بندہ آسانی سے پال سکے، اتنے بچوں کا کیا فائدہ کہ بندہ ان کی دو وقت کی روٹی بھی پوری نہ کرسکے۔‘‘ اس کی بات پر آپا کا چہرہ پھیکا ہوا۔
’’اولاد کبھی بھی بوجھ نہیں ہوتی ثناء‘ چاہے بچے دو ہوں یا دس، ماں باپ کے دل میں سب کے لیے ایک سی محبت ہوتی ہے۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ اسے آپا کی بات سے مکمل اتفاق تھا۔ واقعی اپنی اولاد بوجھ نہیں ہوتی۔ اس نے جان لیا تھا۔ احسن اور محسن میں تو اس کی جان تھی۔ دو بچوں کو ایک ساتھ سنبھالنا تو بہت مشکل تھا لیکن یہ مامتا کا جذبہ ہی تو تھا جس نے اسے اس مشکل سے لڑنے کی طاقت بخشی تھی۔
ء…ۃ…ء
وہ سردیوں کی ایک دھند بھری صبح تھی احسن اور محسن کی عمر ساڑھے تین سال ہوگئی تھی۔ وہ کافی دن سے مارکیٹ جانے کا سوچ رہی تھی لیکن اسد کے پاس وقت نہیں تھا۔ اسے بچوں کے کچھ گرم کپڑے اور سوئٹرز وغیرہ لینے تھے۔ اس نے سوچا کہ آج اپنی پڑوسن رابعہ کے ساتھ جاکر یہ ساری چیزیں لے آئے گی۔ یہ ساری چیزیں خریدنا ضروری تھیں۔ اسد کو تو پتا نہیں کب فرصت ملتی، احسن اور محسن کو مارکیٹ اپنے ساتھ لے جانا انتہائی مہنگا پڑتا تھا۔ وہ دونوں بہت شرارتی تھے۔ ادھر ادھر بھاگتے پھرتے تھے اور دکان کی چیزیں بھی خراب کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس لیے اس نے سوچا تھا کہ ان دونوں کو کارٹون لگا کر بٹھا دے گی اور خود چیزیں لے کر جلد آجائے گی۔
’’بچو شرارت بالکل نہیں کرنی، میں بس دس منٹ میں واپس آجائوں گی۔‘‘ اس کی بات پر احسن نے تو سمجھداری سے سر ہلایا لیکن محسن مچلا۔
’’ماما یہ کارٹون نہیں، ٹام اینڈ جیری لگائیں۔‘‘
’’اوکے بیٹا‘ میں آپ کے لیے ٹام اینڈ جیری کی سی ڈی لے کر آتی ہوں، تب تک یہی دیکھو۔‘‘ محسن نے معصومیت سے سر ہلا دیا۔ اس نے دونوں بچوں کے گال باری باری چومے اور باہر نکل آئی۔ دروازہ مقفل کرکے رابعہ کے پاس پہنچی جسے اس نے کل ہی بتادیا تھا سو وہ تیار ملی۔
اور پھر مارکیٹ میں کپڑوں کی کوالٹی، رنگ، ڈیزائن پر بحث کرتے وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا۔ اس نے سیل فون پر ٹائم دیکھا اور گھبرا گئی۔
’’ارے دو گھنٹے سے بھی اوپر ہوگئے، میں بچوں کو گھر میں اکیلا چھوڑ آئی تھی۔‘‘ اس کی بات پر رابعہ بھی پریشان ہو گئی۔
’’تمہیں انہیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ خیر فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا۔ ابھی چلتے ہیں۔ یہیں پاس ہی میری خالہ زاد بہن کا گھر ہے، اس کے پاس میرے کچھ کپڑے ہیں وہ بھی اٹھالیں گے۔ روز روز تو آنا نہیں ہوتا اب۔‘‘
’’نہیں رابعہ بہت دیر ہو جائے گی ایسے تو۔‘‘ اس کا دل اچانک ہی گھبرانے لگا تھا۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر بیٹوں کے پاس پہنچ جائے۔
’’چلو پھر۔‘‘ رابعہ نے ناگواری سے منہ بنایا۔
بازار میں تیز قدموں سے چلتے سی ڈیز والی شاپ کے باہر اس کے قدم ٹھٹھکے۔ اسے محسن کی فرمائش یاد آئی تو وہ بے اختیار دکان میں گھس گئی۔ پیچھے رابعہ بڑبڑا رہی تھی، لیکن اس نے پروا نہیں کی، اس کے لیے بیٹے کی خواہش پوری کرنا مقدم تھی۔ سی ڈیز خرید کر وہ آئی تو رابعہ کا موڈ آف تھا اور وہ جانتی تھی کہ اب اس کا مزاج سارا رستہ بگڑا ہی رہے گا۔
وہ ابھی اپنی گلی سے دور تھیں کہ انہیں دھواں نکلتا دکھائی دیا۔ جیسے آگ لگی ہو۔ ثناء بے اختیار گھبرا اٹھی۔
’’رابعہ یہ دھواں…؟ ہماری گلی سے تو نہیں نکل رہا کہیں۔‘‘
’’پتا نہیں آگے جاکر پتا چلے گا۔‘‘ رابعہ خود بھی ہراساں ہوئی۔
ان کے قدم غیر معمولی حد تک تیز ہوگئے ان کے خدشات کے مطابق آگ انہی کی گلی اور ثناء کے گھر میں لگی تھی۔ اس کمرے کی کھڑکی سے آگ کی لپٹیں اور دھواں باہر نکل رہا تھا جس میں وہ بچوں کو بٹھا کر گئی تھی۔ اسے اپنے دل کی گھبراہٹ کی وجہ اب سمجھ آئی تھی۔ گلی میں کافی لوگ جمع تھے۔ وہ کسی کی بھی پروا کیے بغیر گھر کی طرف بھاگی۔ شاپنگ بیگز اس کے ہاتھوں سے پھسلتے چلے گئے۔ اس کی چیخوں نے در و دیوار ہلا دیے تھے۔
ء…ۃ…ء
کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔ بڑے سے بڑے زخم بھی وقت مندمل کردیتا ہے لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں وقت کا مرہم بھی کام نہیں کرتا۔ سدا رستے ہی رہتے ہیں۔ اول روز کی طرح‘ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اس کے سامنے بہت سارے کاش تھے۔
کاش میں بچوں کو اکیلا نہ چھوڑتی، کاش میں گیس کا کنکشن کاٹ جاتی کاش… لیکن اس سے غلطی ہوچکی تھی۔ آگ کیسے بھڑکی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا لیکن قرین قیاس یہی تھا کہ بچوں نے ہیڑ چلانے کی کوشش کی تھی، شاید جو بھی ہوا تھا لیکن اس سے اس کی خوشیاں چھن گئی تھیں۔ اس کی کائنات لٹ گئی تھی۔
اس حادثے کو دو ماہ گزر چکے تھے لیکن اس کے سامنے سے بچوں کی سوختہ سفید لٹھے میں لپٹی لاشیں ہٹتی ہی نہ تھیں۔ کبھی اسے لگتا محسن گر کے رویا ہے۔ وہ بھاگتے ہوئے جاتی لیکن وہاں کچھ بھی نہ ہوتا۔ کبھی لگتا احسن نے آواز دی ہے اور وہ پاگلوں کی طرح اسے پورے گھر میں ڈھونڈتی پھرتی۔
آپا نے اس کی دلجوئی کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی اور وہ جو اس کے دکھ سکھ کا ساتھی تھا، اس کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔ اسد بہت کھنچا کھنچا سا رہنے لگا تھا۔ جیسے بچوں کی موت کا ذمہ دار وہ ثناء کو ہی سمجھتا ہو۔
ثناء کو اس رویے سے بہت دکھ ہوا۔ اس نے سوچا کہ وہ اسد سے بات کرکے اپنی صفائی دے گی۔ اسے سمجھائے گی کہ یہ مشیت ایزدی ہے، بھلا اس کیا قصور اور پھر اگلے دن ناشتے کے وقت ثناء نے اس سے بات کر ہی لی۔
’’اسد… آپ مجھ سے ناراض کیوں ہیں، میں نے کیا کیا ہے؟‘‘
’’سارا کیا دھرا تمہارا ہی ہے۔‘‘ اسد کا لب و لہجہ بہت جارحانہ تھا۔
’’آپ باپ ہیں، آپ کی اولاد تھی اور میرا کوئی تعلق نہیں تھا ان سے؟ میں بھی تو ماں تھی۔ آپ کے اس رویے سے میرے دل پر کیا گزرتی ہے۔ آپ نے سوچا ہے؟ کوئی ماں بھی کبھی اپنی اولاد کو مار سکتی ہے بھلا؟‘‘ ثناء پھٹ پڑی۔
’’چلو مان لیا کہ احسن اور محسن کی موت مشیت ایزدی تھی۔ تمہارا میرا اور کسی کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن…‘‘ وہ لمحہ بھر کے لیے رکا۔
’’لیکن مزید بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ تو تمہارا اپنا تھا ناں؟ میں نے روکا تھا تمہیں‘ سمجھایا تھا کہ اللہ کے کام میں مداخلت مت کرو لیکن تمہیں تو اپنی فیملی مکمل لگتی تھی ناں، اب تمہاری فیملی نہیں بچی اب کیا کروگی تم؟‘‘ اسد کی بات پر وہ گم صم ہوگئی، اس نہج پر تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ اب وہ مزید بچے پیدا نہیں کرسکتی تھی، اپنی ہی خطا کی وجہ سے، اب یہ تنہائی اور ویرانی ہی ان کا مقدر ٹھہرا تھا۔ یہ خیال ہی بہت روح فرسا تھا۔
’’تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی گود اجاڑی ہے‘ میں اگر چاہوں تو دوسری شادی کرلوں، احسن محسن نہیں لوٹیں گے لیکن بچے تو ہوں گے ناں… اور تم ثناء بیگم تم کہاں جائو گی؟ میرا بھی نقصان ہوا ہے لیکن قابل تلافی، جب کہ تمہارا نقصان ناقابل تلافی ہے تم…‘‘ اس نے ہونٹ بھیج کر خود کو مزید کچھ کہنے سے روکا اور تیز تیز قدموں سے گھر سے باہر چلے گئے۔ ثناء کسی بت کی طرح ساکت بیٹھی رہی تھی۔
اسد کی باتیں ذہن میں گونجیں تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ہاں واقعی وہ اپنا ناقابل تلافی نقصان کرچکی تھی۔ اسد کو تو بچے مل بھی جاتے لیکن اس کی گود کو اب خالی ہی رہنا تھا۔ جانے کتنی دیر اسے روتے اور آہ و بکا کرتے گزری کہ اچانک آپا نے اس کا کندھا ہلایا۔ دروازہ کھلا تھا اور وہ خود ہی اندر آگئی تھیں۔
’’کیا ہوا ثناء… ایسے بیٹھی کیوں رو رہی ہو؟‘‘ وہ بے اختیار آپا کے گلے لگ گئی اور آپا اس کی کمر سہلاتے ہوئے اسے چپ کرانے لگیں۔
اس نے روتے‘ کرلاتے ہچکیوں میں ہی ساری بات کہہ دی۔ آپا اسے تسلی اور دلاسے دے رہی تھیں کہ ان کا ساڑھے چار سالہ بیٹا ہادی اس کے لیے پانی کا گلاس بھر لایا۔ اس کی محبت پر ثناء کا دل بھر آیا۔ وہ تو کبھی انہیں پیار سے بلاتی بھی نہیں تھی اور… اس لمحے وہ اسے بالکل احسن جیسا لگا۔ اس نے بے اختیار ہی اس کا گال چوم لیا۔
آپا نے اسے چائے لاکر دی اور بعد میں زبردستی بستر پر لٹا دیا۔ روتے روتے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ جب وہ جاگی تو باہر سے باتوں کی آواز آرہی تھی، اسد اور آپا باتیں کررہے تھے۔ وہ بے اختیار بستر سے نکلی۔ اسے یقین تھا آپا اسد کے سامنے اس کا ساتھ ضرور دیں گی۔
’’یہ سب اس کے غرور کا نتیجہ ہے آپا۔ اس کے بڑے بولوں کی سزا میں نے بھگتی ہے لیکن اب نہیں، میں دوسری شادی کروں گا تب اسے احساس ہوگا اپنی غلطی کا۔‘‘ اسد کی غصے کے عالم میں کہی بات نے اس کے قدم دروازے پر ہی روک دیے۔ صبح جب اسد نے یہ کہا تو وہ اسے محض ایک دھمکی سمجھی تھی اور اب… اسے لگا کہ اس کے پیروں تلے نہ زمین ہے اور نہ ہی سر پر آسمان، وہ خلاء میں معلق ہے۔
’’بکواس بند کرو اسد، تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔‘‘ آپا بھی جواباً غصے سے بولیں۔
’’نہیں آپا اب آپ اس کی حمایت نہ کریں۔ یہ اس قابل نہیں ہے۔ اسے بہت بچے پسند نہیں تھے ناں تو اب اکیلی رہے مجھے تو بچوں کی ضرورت ہے میں دوسری…‘‘ آپا کے تھپڑ کی وجہ سے اسد کا جملہ ادھورا رہ گیا۔
’’بکواس بند کرو، ثناء کو سزا دینے والے تم کون ہوتے ہو؟ یہ کام اﷲ کا ہے۔ اسی کے پاس رہنے دو اور تمہیں بچوں کی ہی ضرورت ہے ناں تو یہ…‘‘ ان کی نظر اچانک ہی دروازے میں کھڑی ثناء پر پڑی۔
’’آئو ثناء… ادھر آئو۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے مخاطب کیا تو وہ کمرے میں داخل ہوئی۔
’’تم لوگوں کو بچہ ہی چاہیے ناں گھر کی رونق‘ تو مجھے یقین ہے ہادی تمہاری زندگیوں میں رونق لے آئے گا۔‘‘ آپا نے صوفے پر بیٹھے ہادی کو بازو سے پکڑ کر ثناء کی طرف بڑھایا۔ اسد اور ثناء دونوں ہی اپنی جگہ ساکت و صامت رہ گئے تھے۔ آپا ایسا کریں گی ان دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
’’لو ثناء یہ تمہارا بیٹا ہے۔ اسے محسن سمجھو یا احسن یہ اب تمہارا ہے…‘‘ جذبات کے غلبے کی وجہ سے وہ بات مکمل نہ کر پائیں۔
ثناء بے اختیار آگے بڑھی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہادی کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگالیا۔ وہ بے اختیار روتے ہوئے اسے چوم رہی تھی۔ ہاں یہ اس کا احسن اور محسن تھا۔
آپا کے قدموں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی وہ رو رہی تھی۔ اس کا سر آپا کی عظمت کے آگے جھک گیا تھا۔ اسد اور آپا کی آنکھوں میں بھی نمی تھی اور ثناء تو پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
اسد اور آپا نے اسے چپ کروانے کی کوشش نہیں کی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ندامت کے آنسو ہیں اور ان کا بہہ جانا ہی بہتر تھا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close