Hijaab Jan 19

لگی تم سے لگن

فرح طاہر

نہر سے نہانے کے بعد جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اماں ہاتھ کی کٹوری میں سرسوں کا تیل بھرے لپک کر اس کے قریب آئیں۔
’’رک شامو… اب پھر سے باہر مت جا۔‘‘ اس کے گیلے بالوں میں تیل چپڑنے کی خاطر انہوں نے جونہی ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھایا تو وہ ہاتھ اٹھا کر انہیں روکتا فوراً ان سے فاصلے پر ہوا۔
’’نخرے مت کر شاہ میر‘ آج چپ کرکے یہ تیل بالوں میں ڈلوالے… ابھی تھوڑی دیر تک تیرا ماما شہر سے آنے والا ہے اپنی لمبی سی گاڑی لے کر… پھر ہمیں یہ گائوں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ جانا ہے… تجھے بڑا چائو ہے ناں ہیرو بننے کا… اب جب ہم شہر چلے جائیں گے تو پھر میں تجھے منع نہیں کروں گی… وہاں جاکر تو اپنے سارے خواب اچھے سے پورے کرلینا۔‘‘ بات پوری کرکے انہوں نے آخر میں اسے پیار سے پچکارا مگر وہ ایک دم بدکا۔
’’دیکھ اماں… تو یہ تیل لگانا چاہتی ہے ناں میرے بالوں میں… تو یہ تیل لگالے… مگر اس طرح کی باتیں مت کر‘ میرا دل ہولتا ہے تیری ایسی باتیں سن کر…‘‘ تابعداری سے ان کے پاس کھڑا وہ اپنے دل کی کیفیت ان پر آشکار کررہا تھا۔
’’میں مذاق نہیں کررہی ہوں شاہ میر… اب ہمیں یہ گائوں ہر صورت چھوڑ کر جانا ہے… اس گھر سے… اس زمین سے ہمارا دانہ پانی اٹھ گیا ہے‘ اس لیے تو بھی فضول کی بحث مت کر اور یہ اپنا گلی ڈنڈا بھی مجھے پکڑا دے… میں تیرے باقی کے سامان کے ساتھ اسے بھی رکھ دیتی ہوں…‘‘ تیل لگانے کے بعد انہوں نے اب اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں پکڑے گلی ڈنڈے کی طرف بڑھایا تو اس نے گلی ڈنڈے پر اپنی گرفت سخت کرکے اماں کے سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھا… جہاں کسی بھی مذاق کی ہلکی سی بھی رمق محسوس نہیں ہورہی تھی۔ وہ سنجیدہ اور غم زدہ دکھائی دے رہی تھیں تو اسے کہنا پڑا۔
’’مگر ہم یہ گھر کیوں چھوڑیں گے اماں… یہ ہمارا گھر ہے۔‘‘
’’نہیں… ہے یہ ہمارا گھر…‘‘
’’اور یہ گھر ہمارا نہیں ہے تو یہاں موجود چیزیں بھی اب ہماری نہیں ہیں…؟‘‘ کمرے میں سجی ساری کی ساری چیزوں کو اس نے اس لمحے اپنی ایک نظر میں سمیٹا۔
’’نہیں…‘‘ اماں نے اس کی طرف دیکھے بنا انکار کیا تو وہ پھر سے بولا۔
’’تو پھر ہم یہاں سے اپنا کچھ بھی نہیں لے جائیں گے…؟‘‘ اماں اب بیگ کی زپ کھولے زمین پر پنجوں کے بل بیٹھی اس کا گلی ڈنڈا باقی سامان کے ساتھ رکھتی ہوئی اسی انداز میں بولیں۔
’’جو ضرورت کا سامان تھا وہ میں نے اس بیگ میں رکھ لیا ہے… اس کے علاوہ ہم کچھ بھی نہیں لے جائیں گے…‘‘ ان کے تفصیلی جواب پر وہ روہنسا ہوکر مریل سی آواز میں بولا۔
’’اور ہماری بھوری… کیا ہم اسے بھی نہیں لے جائیں گے؟‘‘ اس بار اماں نے اس کے سوال کا جواب نہیں دیا تو وہ دوبارہ بولا۔
’’اگر ہم اسے نہیں لے جائیں گے تو وہ ہمارے بنا یہاں کیسے رہے گی اماں؟‘‘ چھوٹے سے دماغ نے اپنی بے بسی کو اپنی دلاری بھوری (گائے) سے منسوب کرتے ہوئے جیسے اپنی طرف سے اپنی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔ اماں نے بیگ کی زپ کو بند کیا اور گہرا سانس بھر کر اس طرف متوجہ ہوئیں۔
’’جب اس انوکھی دنیا میں انسان‘ انسانوں کے بغیر جی سکتا ہے‘ تو بھوری تو پھر ایک بے زبان جانور ہے میرے کملے پتر… وہ بھی ہمارے بنا جینا سیکھ جائے گی… تو یہ ساری فضول کی فکریں چھوڑ اور خوشی خوشی شہر چلنے کی تیاری کر… تیرا ماما بس آتا ہی ہوگا۔‘‘ انہوں نے اس کے آنسوؤں سے نظریں چراتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو وہ دکھ سے اماں کی پشت کو دیکھ کر دل میں ان سے شکوہ کرنے لگا۔
’’کتنی آرام سے کہہ دیا تم نے اماں کہ خوشی خوشی گائوں چھوڑنے کی تیاری کر… کیا تو نہیں جانتی… مجھے تیری اس بات سے کتنا دکھ ہوا ہے… جہاں پیدا ہوا‘ جہاں اتنے سے اتنا بڑا ہوا… اس گائوں کو چھوڑنا بھلا آسان بات ہے کیا؟ اور پھر گائوں چھوڑ بھی دوں تو میرے سارے یار دوست…؟‘‘ ایک ہلکی سی سسکاری اس کے لبوں سے آزاد ہوئی مگر اماں اس وقت جیسے بہری ہوگئی تھی… اس نے ایک بار پھر غور سے اماں کی طرف دیکھا۔
آنسو ضبط کرتی… جھلملاتی لال آنکھیں… دکھ سے بھینچے ہونٹ اور چہرے پہ رقص کرتی وحشت… اس کے سارے سوال اپنی موت آپ مرنے لگے تھے۔ ضرور کوئی تو بات ہے جو اماں ہر بار کی طرح مجھے ماما کی طرف بھیجنے کی بجائے اس بار خود بھی میرے ساتھ جانے کو تیار بیٹھی ہے… مگر وہ بات…؟ اس کا ننھا ذہن اس پوشیدہ بات کی الجھن میں بری طرح الجھنے کو تھا جب اس کے گھر کے لکڑی کے بڑے سے گیٹ پر ماموں کی گاڑی کا مانوس ہارن سنائی دیا تو اماں نے لپک کر بیگ اٹھایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر آخری الوداعی نظر اپنے گھر پر ڈال کر ماموں کی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔
ماموں سارا راستہ اماں سے بڑے خوشگوار موڈ میں ان کے مستقبل کی باتیں کرتے رہے اور وہ خود… بڑا دکھی سا شیشے سے ناک چپکائے لاچاری سے گائوں کے جانے پہچانے راستوں کو بوجھل دل سے الوداع کہتا رہا تھا۔
/…٭…/
ایک طویل تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ ماموں اور اماں کے ہمراہ ایک بڑے سے عالیشان گھر میں داخل ہوا تو آنکھیں پھاڑ کے چاروں اطراف دیکھنے لگا… ماموں کا گھر تو ان کی گاڑی سے بھی کہیں زیادہ خوب صورت اور بڑا تھا… گھوم گھوم کر گھر کا جائزہ لیتا‘ وہ اماں کا پلو پکڑے جب گھر کے بڑے سے سجے سجائے لائونج میں داخل ہوا تو اس کا سامنا دھان پان سی مامی اور ان کی گڑیا جیسی بیٹی سے ہوا۔
شاہ میر نے بغور سر تا پا اسماء مامی کو دیکھا جو کہیں سے بھی فلموں ڈراموں کی سی نک چڑھی مامی دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔
’’السلام علیکم آپا! کیسی ہیں آپ… سفر میں کسی دشواری کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا؟‘‘ مامی نے مسکراتے ہوئے اماں سے پوچھا۔
’’وعلیکم السلام… میں تو خیریت سے ہوں… سفر بھی اچھے سے کٹا… مگر یہ تم مجھے خیریت سے کیوں نہیں لگ رہی ہو…؟‘‘
’’ہیں…! کیوں مجھے کیا ہوا؟‘‘ ایک حیران نظر ان پر ڈالنے کے بعد انہوں نے خود اپنی طرف پریشان کن نظر ڈالی تو اماں مسکراہٹ چھپا کر اسی انداز میں بولیں۔
’’ہونا کیا ہے… جیسی میں نے تمہیں پہلے دن دیکھا‘ ویسی کی ویسی سوکھی سڑی ہو… لگتا ہے شفیق نے ڈھنگ سے کچھ کھانے پینے کو نہیں دیا تمہیں۔‘‘ بات کے اختتام پر انہوں نے نند بھاوج کی اس معمولی سی نوک جھوک سے لطف اٹھاتے شفیق ماموں کی طرف دیکھا… تو انہوں نے مسکرا کر اسماء مامی کی طرف کچھ جتلاتی نظروں سے دیکھا… ان کی نظروں سے ابھرتے خفیہ مفہوم کو سمجھتے ہوئے مامی نے شاہ میر کو دیکھا تو ذرا سا آگے ہوکر شاہ میر کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سامنے کرتے ہوئے مسکرا کر بولیں۔
’’یہ شاہ میر کتنا بڑا ہوگیا ماشاء اللہ…‘‘ خود پر سے ان کی توجہ ہٹانے کی خاطر ان کی توجہ زرش کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا۔
’’آپ میری زرش سے ملیں۔‘‘ پھر ٹیرھی نظر سے ان ماں بیٹے کا جائزہ لیتی زرش سے مخاطب ہوکر کہا۔
’’زرش بیٹا… یہ شاہ میر ہے تمہارا بھائی…‘‘ ابھی تعارف کا آغاز شاہ میر سے ہوا ہی تھا مگر اس پہلے مرحلے پہ ہی وہ بری طرح اچھل پڑی۔
’’نو ماما… یہ ڈرٹی بوائے میرا بھائی نہیں ہوسکتا۔‘‘ ناک چڑھا کر شدید ناگواری کا اظہار کیا گیا۔
شاہ میر نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا جبکہ اماں اور ماموں مسکرادیے تھے۔
’’بری بات… زرش اس طرح نہیں کہتے بیٹے… شاہ میر آپ کی پھوپو کا بیٹا ہے۔‘‘ مامی نے تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ شانے اچکا کر رہ گئی۔
ماموں نے ملازم کو آواز دے کر ان کے لیے پہلے سے سیٹ کروائے کمرے میں ان کا سامان لے جانے کا کہا… تو مامی کو بھی ایک دم سے ان کے لیے کھانے پینے کے لیے انتظام کرنے کا خیال آیا… تو وہ ان سب سے معذرت کرتی کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
اماں نے تھوڑی دیر ماموں سے باتیں کیں… پھر مامی کی مدد کرانے کی خاطر وہ خود بھی ان کے پاس کچن میں چلی آئیں… اسی پل ماموں کی کوئی ضروری کال آگئی تو وہ اس میں مصروف ہوگئے… تنہائی ملتے ہی اس نے غور سے زرش کی طرف دیکھا‘ گو وہ ابھی چھوٹا تھا مگر الفاظ کی اذیت اچھی طرح محسوس کررہا تھا۔
پھر کھانا کھانے کے بعد سب آرام کی نیت سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے مگر سونے سے ذرا پہلے جب مامی شب بخیر کہنے کی نیت سے اماں کے کمرے میں آئیں تو شاہ میر کچی نیند میں تھا جبکہ اماں بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ ان کو اس حالت میں دیکھ کر مامی نے ان کے قریب آکر فکرمند لہجے میں پوچھا۔
’’کیا سفر نے بہت تھکا دیا آپا؟‘‘ ان کی پکار پر جہاں اماں چونک کر سیدھی ہوئیں وہیں شاہ میر بھی غنودگی سے ہوش کی دنیا میں آیا مگر سوتا ہی بنا رہا۔
’’نہیں اسماء… سفر سے کہیں زیادہ مجھے لوگوں کے رویوں نے تھکا دیا ہے۔‘‘ اماں کے لہجے میں ایک دم ڈھیر ساری تھکن اتر آئی تو شاہ میر چونکا… زرش جیسی کڑوی گولی جب سے حلق میں اٹکی تھی وہ اپنی ان سارے سوالوں کو ذہن سے محو کر بیٹھا تھا… جو گائوں سے آتے وقت اس کے دماغ میں اودھم مچا رہے تھے مگر اب اماں کے لہجے کی تھکن نے اسے پھر سے وہ سب سوال ازسر نو یاد کرائے تو وہ دم سادھے اماں کے مزید بولنے کا انتظار کرنے لگا کہ شاید اماں کی باتوں سے اس کے سوالوں کے جواب مل سکیں… مگر اس بار اماں کے بجائے اسماء مامی نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’تمہیں معلوم ہے آپا… مرد کے بغیر اکیلی عورت کی کوئی زندگی نہیں ہوتی… اسی لیے ہم نے نواز بھائی کی وفات پر ہی آپ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا تھا مگر اس وقت آپ نے ہماری ایک نہ سنی۔‘‘ گزرے وقت کا افسوس مامی کے انداز سے نمایاں تھا۔
’’مجھے کیا معلوم تھا اسماء کہ نواز کی محبت کا دم بھرنے والے بھائی اس کے بعد اس طرح آنکھیں پھیر لیں گے…‘‘ ذرا توقف کے بعد وہ دوبارہ بولیں۔
’’میرے نزدیک ہمیشہ سے رشتے اہم رہے ہیں… روپے پیسے کو میں نے کبھی رشتوں پر اہمیت نہیں دی… اس لیے نواز کے بعد… نواز کی ساری جائیداد‘ روپیہ پیسہ ان کے مانگنے سے پہلے ہی ان کے ہاتھوں پہ رکھ دیا کیونکہ نواز کے بعد وہی تو ہمارے کفیل تھے… ہم انہی کی ذمہ داری تھے اور ایسا ہی ہوا‘ انہوں نے ہمیں ذمہ داری سمجھا بھی‘ سب کچھ ٹھیک ہی تو چل رہا تھا مگر پھر نجانے کیا ہوا جو شاہ میر کے چچا حیات کی گھر والی میرے سے اکھڑی اکھڑی رہنے لگی… اس کے رویے کو میں نے چپ چاپ برداشت کیا مگر اس کی حرکتیں بڑھتی گئیں اور آخر میں تو جیسے اس نے ساری حدیں ہی پار کرلی تھیں۔‘‘ اذیت بھری آواز میں اماں یک دم کہتے ہوئے ذرا دیر کو چپ ہوئیں مگر پھر نم لہجے میں دوبارہ گویا ہوئیں۔
’’میرے بھائی جیسے حیات کے ساتھ مجھ پر ناجائز مراسم کے الزام لگانے شروع کردیئے… عورت سب کچھ برداشت کرسکتی ہے‘ مگر اپنی عزت کی طرف اٹھی انگلی کبھی برداشت نہیں کرسکتی… اور میرے ساتھ تو پھر میرا مرد بھی نہ تھا… میں ان کا مقابلہ کرتی بھی تو کیسے…؟ اس لیے میں نے ان لوگوں کو چھوڑ کر یہاں آنے کا فیصلہ کرلیا…‘‘ بہت لمبی مسافت طے کرتے لہجے میں اماں نے بات ختم کی تو مامی نے فوراً ان کا ہاتھ پکڑ کر حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے بروقت بہت ہی اچھا فیصلہ کیا ہے آپا اور قسم سے مجھے ہمیشہ سے اپنی ساس کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوتی رہی ہے… اب آپ آگئیں ہیں تو ساس اور نند بند کر میری ساری حسرتیں پوری کیجیے گا… بڑی ہونے کے ناتے خوب رعب جمائیے گا مجھ پر… میں اف بھی نہیں کروں گی۔‘‘ شوخ لہجے میں ان کا دھیان بٹاتے ہوئے انہوں نے سونے کی ایکٹنگ کرتے شاہ میر کے گال پر نرمی سے ہاتھ پھیر کر کہا۔
’’اور شاہ میر کو یہاں بھیج کر تو اللہ نے میری بیٹے نہ ہونے کی حسرت بھی پوری کردی ہے۔‘‘ اپنی حسرت کا اظہار کرنے کے ساتھ انہوں نے اماں کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’بنالوں ناں میں شاہ میر کو اپنا بیٹا…؟‘‘ لفظوں کے ہیر پھیر سے وہ ایک ہی سوال ایک ہی انداز میں پوچھ کر اب استفہامیہ نظروں سے اماں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے اسماء… شاہ میر تمہارا ہی بیٹا ہے۔‘‘ انہوں نے بھی اسماء کے انداز میں جواب دیتے ہوئے گویا ان کی دلی خواہش پوری کردی تھی۔
/…٭…/
اگلی صبح ناشتے کی ٹیبل پر ناشتے کے دوران ماموں نے اس کے ایڈمیشن کا ذکر چھیڑا تو چائے کا کپ ان کی طرف بڑھاتی اسماء مامی نے مسکرا کر بڑا آسان سا حل پیش کیا۔
’’شاہ میر کو کسی اور اسکول میں ڈالنے کی ضرورت نہیں… اس کا ایڈمیشن آپ اپنی زرش ہی کے اسکول میں کروائیں تاکہ نئی جگہ‘ نئے ماحول اور نئے سسٹم کی وجہ سے شاہ میر کو اگر کسی دشواری کا سامنا ہو بھی تو اپنی زرش کی وجہ سے اس کے لیے آسانی ہوجائے۔‘‘ آئیڈیا برا نہیں تھا ماموں نے پوری طرح اتفاق کرتے ہوئے سر ہلایا مگر ان کا آئیڈیا سن کر زرش بڑی ناگواری سے بولی۔
’’اس دیہاتی کا میرے اسکول میں ایڈمیشن… نو… نیور ایور مما…‘‘ قدرے تیز لہجے میں کہتے ہوئے اس نے بڑی شدت سے دائیں بائیں سر ہلایا۔ شاہ میر کو شدت سے توہین کا احساس ہوا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ماموں نے سخت لہجے میں تنبیہی انداز میں زرش کو پکارا۔
’’زرش… اٹس اوور…‘‘ انہوں نے بس ایک نظر گھور کر اس کی سمت دیکھا… تو وہ جو غصے میں بل کھاتی مزید کچھ کہنے کو تھی وہیں لب بھینچ کر دبک سی گئی… اس کی طرف گھورتے شاہ میر نے اسے اس طرح لب بھینچ کر الفاظ دانتوں تلے دباتے دیکھا تو وہ ایک دم چونکا۔
زرش ماموں سے ڈرتی تھی…؟ کل سے اب تک وہ جو اس اتھری گھوڑی کو لگام ڈالنے کے ایک سو ایک طریقے سوچ رہا تھا… اتنے آسان طریقے کو وہ بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے تھا… زرش ماموں سے دبتی تھی اور ماموں کا جھکائو خود اسے اپنی طرف محسوس ہورہا تھا… واہ واہ… یعنی کے بڑا ہی آسان شکار ثابت ہونے والی تھی زرش اس کے لیے… اس نے بڑی پراسرار نظروں سے کمینی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے ایک بار پھر لب سی کے بیٹھی زرش کی سمت دیکھا… جو بے شک منہ سے کچھ بول نہیں پارہی تھی مگر اس کا چہرہ ناگواری کا واضح اشتہار بنا ہوا تھا۔
آنے والے وقت کی پلاننگ کو ذہن میں ترتیب دیتے ہوئے شاہ میر نے اس کی چڑھی ہوئی ناک کو دیکھا تو اس کے دل نے بڑی شدت سے خواہش کی کہ کاش وہ اس کی ناک کو اس زور سے دبا کر کھینچے کہ وہ اس کے حسین چہرے سے ہمیشہ کے لیے اکھڑ جائے مگر ہزاروں ناکام خواہشوں کی طرح وہ اس خواہش بھی دل میں دبا کر ماموں کی طرف متوجہ ہوا جو اس سے پوچھ رہے تھے۔
’’شاہ میر … گائوں میں کس کلاس میں پڑھ رہے تھے بیٹا؟‘‘ مگر اسے جواب میں کچھ بولنے کا موقع دینے سے پہلے اماں بول اٹھیں۔
’’میرے شاہ میر نے گائوں کے بڑے اسکول سے پوری آٹھ جماعتیں پاس کی ہوئی ہیں۔ اس بار نویں میں داخل ہوتا مگر پھر ہم یہاں آگئے…‘‘ آخر میں ان کا لہجہ ذرا اداس ہوا تو ماموں نے ہنس کر ان کی اداسی دور کرنے کی خاطر کہا۔
’’تو اس میں اداس ہونے کی کیا بات ہے آپا… اب ہم یہاں شاہ میر کا داخلہ نویں جماعت میں کروا دیں گے۔‘‘ انہوں نے چٹکیوں میں حل پیش کیا تو اماں خوش ہوئیں مگر زرش میڈم نے جو ایک بار پھر شاہ میر کا اپنی ہی کلاس میں داخلے کا سنا تو جھٹکے سے اٹھی کرسی کھسکا کر پائوں پٹختی وہاں سے چلی گئی… شاہ میر نے بڑی مسرور کیفیت میں سلائس پر جیم لگا کر اس کا بڑا سا نوالہ لیتے ہوئے جیسے تصور میں زرش کو دانتوں تلے چبایا تھا۔
/…٭…/
ماموں کے اثرو رسوخ کی بدولت اگلے ہی روز اس کا ایڈمیشن زرش کے اسکول میں اسی کی کلاس میں ہوگیا… کوئی خوش تھا یا نہیں مگر وہ جی بھر کے خوش تھا… اس لیے شوخ سی دھکن بکھیرتا ہوا وہ شیشے کے سامنے کھڑا تیار ہورہا تھا جب زرش آندھی کی طرح اس کے کمرے میں آکر بھرے بادلوں کی طرح اس پر برسی۔
’’اگر تم نے کلاس میں یا اسکول میں کسی اسٹوڈنٹ یا ٹیچر کو یہ بتانے کی ذرا بھی کوشش کی ناں کہ تم میرے کون ہو… تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا؟‘‘ انگلی اٹھا کر دھمکایا۔
شاہ میر پلٹ کر اس کے مقابل آیا… اس کے بھڑکتے انداز کو دیکھا… دوسرے ہی پل ہاتھ بڑھا کر اس کی اٹھی انگلی کو پکڑ کر اس کا ہاتھ نیچے کی طرف دھکیلتے ہوئے بڑے سکون سے کہا۔
’’تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تم کتنی بری ہو… مجھے پہلے ہی دن پتا چلا گیا کہ تم بری ہو اور بہت بری ہو…‘‘ بڑے سکون سے اسے بے سکون کیا تو وہ پہلی سے کہین زیادہ بھڑک کر کچھ بولنے کو تھی مگر اس سے پہلے شاہ میر نے اسی انداز میں مزید کہا۔
’’اور رہی تم سے رشتے کی بات… تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم جیسی لڑکی سے رشتے داری ظاہر کرنے کی…‘‘ کندھے اچکا کر بے نیازی سے کہتے ہوئے اس نے کچھ اس انداز سے رخ پھیرا جیسے کہہ رہا ہو کہ اب یہاں سے چلتی پھرتی نظر آئو۔ اس کے تیکھے انداز کو محسوس کرکے اس نے لب بھینچ کر اسے گھورا اور مزید کچھ کہے بنا تنتناتی ہوئی کمرے سے نکلی تو شاہ میر مسکرا اٹھا۔ انجانے میں ہی سہی مگر وہ بے وقوف خود اپنے ہاتھوں اپنی کمزوری اس کے ہاتھ میں دے گئی تھی… جسے بدلے کی آگ میں جلتا شاہ میر کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔ وہ گنگناتا ہوا پلٹ کر ایک بار پھر ناقدانہ نظروں سے اپنی تیاری کا جائزہ لینے لگا۔
فوجی ہیئر کٹ اور صاف ستھرے خوب صورت اسکول یونیفارم میں اس کی گوری رنگت اور معصوم نقوش بڑا اچھا تاثر دے رہے تھے۔ وہ کہیں سے بھی دیہاتی نہیں لگ رہا تھا۔ جب وہ اپنی تیاری کی طرف سے مطمئن ہوگیا تو اسکول بیگ اٹھا کر کندھے پر لٹکاتا ہوا وہ اماں اور مامی کو اللہ حافظ کہتا ہوا تیزی سے گیٹ تک پہنچا… جہاں ماموں گاڑی میں بیٹھے کب سے اس کے منتظر تھے… زرش پہلے ہی ماموں کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر تیکھے نقوش کے ہمراہ منہ پھلائے بیٹھی تھی… اس نے مسکراتی‘ جلاتی نظروں سے اس کو دیکھا اور ماموں کو سلام کرتا شرافت سے پچھلا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا تو ماموں نے مسکرا کر اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے گاڑی اسکول کے راستے پر ڈال دی تھی۔
/…٭…/
کلاس میں تعارف کے وقت کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے بڑی معصوم صورت بنا کر زرش کی تنبیہی نظروں کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے خود کو زرش کا کزن بتایا تو زرش کے برابر بیٹھی اس کی دوست نے جھٹ سے کہا۔
’’زرش کا کزن…! زرش ہی کی طرح کیوٹ ہے…‘‘ جہاں اس کی تعریف پر زرش کا دل جل کر خاک ہوا وہیں شاہ میر کا دل خوشی سے بھر گیا۔
’’زرش… تم نے پہلے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم ایک عدد اتنا کیوٹ کزن بھی رکھتی ہو…‘‘ زرش کی بیسٹ فرینڈ نے مزاحیہ انداز میں کہا تو زرش کو شدید ناگوار گزرا ہمیشہ کی طرح ناک چڑھا کر تیکھی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے حد درجہ بدتمیزی سے بولی۔
’’اتنا ہی کیوٹ لگ رہا ہے تو اسے تم ہی رکھ لو۔‘‘ اس کے انداز پر شاہ میر نے اپنے بے ساختہ ابلتے قہقہے کو بڑی مشکل سے روکا۔ وہ اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ زرش اس کے دیہاتی ہونے کا اعلان کبھی بھی سر عام نہیں کرے گی کیونکہ اس میں سراسر خود اس کی توہین تھی۔ اس لیے بے فکر ہوکر دانت نکوس کر اسے دیکھ کر محظوظ ہوتا ہوا اس کی سہیلیوں کی طرف متوجہ تھا اس کے انداز پر حیران ہوکر زرش کی سہیلیوں نے استفہامیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’تمہیں کیا ہوا زرش… اپنے کزن کے متعلق یہ تم کس انداز میں بات کررہی ہو…؟‘‘ اس کی اس درجہ ناگواری شاید ان کے لیے باعث حیرت تھی اس لیے حیرانی میں گھری اس سے سوال کررہی تھیں۔
’’آئی ڈونٹ لائک ہم…‘‘ اس نے کھلم کھلا اس کے لیے ناگواری کا اعلان کیا تو شاہ میر کے نکلتے دانت ہونٹوں کے پیچھے غائب ہوگئے… جو بھی تھا، سب کے درمیان وہ اس سے اس طرح کی بدتمیزی کی امید نہیں کررہا تھا۔ اس لیے اس کی اس حرکت پر وہ ایک دم سنجیدہ ہوا مگر اس سے پہلے وہ جواب میں کچھ بولتا… زرش کی فرینڈز سمیت کچھ اور ہم جماعتوں نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے زرش سے کہا۔
’’مگر ہمیں یہ اچھا لگا ہے… اس لیے ہم اسے اپنا دوست ضرور بنائیں گے۔‘‘ پہلے ہی مرحلے پر شاہ میر نے بنا کوئی وار کیے اسے بری طرح شکست سے دوچار کردیا تھا… تو وہ پیر پٹختی ہوئی کلاس سے باہر جانے کے لیے اٹھی مگر ٹیچر کو کلاس میں داخل ہوتے دیکھ کر کھولتی ہوئی دوبارہ اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔
اس دن کے بعد سے جیسے کلاس دو گروپس میں بٹ کر رہ گئی تھی‘ ایک گروپ شاہ میر کا تو دوسرا زرش کا… کلاس میں عجیب ہی طرح کا ماحول بن گیا تھا۔ ٹیچر نے ریاضی کا سرپرائز ٹیسٹ لیتے ہوئے انہیں کچھ سوال حل کرنے کو دیے۔ وقت کم تھا اور سوال پورے پانچ تھے۔ جھکے سروں کے ساتھ سب کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے‘ ایسے میں سب سے پہلے زرش نے اپنا ٹیسٹ ٹیچر کے حوالے کرتے ہوئے ’’از اوور‘‘ کا نعرہ لگایا تو ٹیچر نے اسی سے سب کے پیپرز جمع کرنے کو کہا… تو وہ کمینی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے سب سے پہلے شاہ میر ہی کے پاس آئی‘ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ شاہ میر کو مڈ ٹرم میں آنے کی وجہ سے فرسٹ ٹرم اور مڈ ٹرم دونوں ٹرمز کا سلیبس کا ورک کرنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے وہ خاص طور پر حساب کے مضمون میں تھوڑا پیچھے تھا۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آج اس نے سب سے پہلے اس کی کاپی کھینچ کر ٹیچر کے حوالے کی اور اس کے بعد باقی اسٹودنٹس کی طرف بڑھی… ٹیچر نے اس کا ادھورا ٹیسٹ چیک کرنے کے بعد اس کی طرف دیکھتے ہوئے ناراضی سے کہا۔
’’شاہ میر نواز… اس قدر پور ٹیسٹ…‘‘ ٹیچر کی آواز پر کاپیز جمع کرتی زرش نے پلٹ کر فاتحانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور اس کی بے عزتی سے حظ اٹھانے کی خاطر اپنی پوری توجہ اس جانب مبذول کردی… جہاں سر جھکائے لب کاٹتا شرمندہ سا وہ اپنی صفائی میں کہہ رہا تھا۔
’’ایکچوئیلی ٹیچر… میرا فرسٹ ٹرم کا سیلبس ابھی…‘‘ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ٹیچر نے درمیان میں بول کر اسے چپ کرادیا پھر خود کہا۔
’’میں کوئی ایکسکیوز ایکسیپٹ نہیں کروں گی شاہ میر… جب میں اتنی محنت سے آپ لوگوں کو پڑھا رہی ہوں تو مجھے آپ لوگوں کے ٹیسٹ میں بھی اتنی ہی محنت نظر آنی چاہیے… انڈر اسٹینڈ؟‘‘ ٹیچر نے کہا تو عام سے انداز میں تھا مگر اس نے ان کی بات کو چیلنج کی طرح قبول کرتے ہوئے اقرار میں سر ہلا کر ان سے اپنی کاپی لے کر دوبارہ اپنی سیٹ سنبھال لی… وہ دن زرش کی فتح کا تھا۔ اس لیے اس کے بعد کے سارے پیریڈز میں وہ حد درجہ مسرور اور کھلی کھلی دکھائی دیتی رہی اور تو اور اسکول کے بعد گھر آکر بھی اسی طرح خوش دکھائی دیتی رہی تھی مگر وہ اتنا ہی اسے نظر انداز کرتے ہوئے ریاضی کے سوالوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔
اسے اب کچھ کرکے دکھانا تھا اس لیے وہ دن رات کا فرق مٹا کر محنت میں جت گیا تھا۔
/…٭…/
’’شاہ میر کے ٹیسٹ تو اس بار سب سے زیادہ اچھے ہو رہے ہیں… اس ٹرم میں لگتا ہے پہلی پوزیشن شاہ میر ہی لے گا…‘‘ کلاس ٹیچر نے اس کی ٹیسٹ رپورٹس دیکھتے ہوئے تعارفی ریمارکس پاس کیے تو زرش بری طرح جلبلا کر بلند آواز میں بولی۔
’’لازمی تو نہیں ہے ٹیچر… رٹے مار کر اچھے ٹیسٹ دینے والا اسٹوڈنٹ رزلٹ بھی اچھا دے۔‘‘ رزلٹ تو زرش کا بھی اچھا تھا مگر شاہ میر کی کامیابی بھی اس سے کم نہ تھی۔ اوپر سے اب ٹیچر کی تعریف… وہ ناک چڑھا کر اس کی مخالفت میں بولی اور یہ پہلی بار تھا کہ اس نے کسی بھی ٹیچر کے سامنے اس کے خلاف کوئی بات کی تھی… جب ہی ٹیچر نے بے حد حیرانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے ٹھیک کہا کہ لازمی نہیں ہے کہ رٹے مار کر اچھے ٹیسٹ دینے والا اسٹوڈنٹ پوزیشن بھی اچھی دے… مگر یہاں میں کسی اور کی نہیں شاہ میر کی بات کررہی ہوں جس نے دو ٹرمز کا سلیبس ایک ٹرم میں کمپلیٹ کرکے اتنے اچھے ٹیسٹ دیئے ہیں تو یہ یقینا رزلٹ بھی اتنا ہی شاندار دے گا۔‘‘ ٹیچر نے دل کھول کر اس کی تعریف کرتے ہوئے آخر میں حیرت سے مزید کہا۔
’’اور شاہ میر تو آپ کا کزن ہے… آپ کو تو اس کی قابلیت پر فخر کرنا چاہیے زرش۔‘‘
’’اوہونہہ…‘‘ اس نے حسب عادت ناک چڑھائی تو اب کی بار ٹیچر کو اس کا انداز شدید ناگوار گزرا اس لیے وہ خود بھی ناگواری اور ذرا سختی سے بولیں۔
’’زرش اٹس ٹو مچ… میں دیکھ رہی ہوں آپ دن بہ دن بدتمیز ہوتی جارہی ہیں‘ سینئر کلاس میں آجانے کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ٹیچرز کے ساتھ بدتمیزی شروع کردیں…‘‘ ان کا موڈ بری طرح آف ہوچکا تھا۔ پوری کلاس دم سادھے بیٹھی تھی‘ خود زرش نے انہیں اس قدر غصے میں دیکھا تو لب بھینچ کر ان سے معذرت کی… مگر اس کی سوری کے جواب میں ٹیچر نے بگڑے مزاج کے ساتھ کہا۔
’’آپ کی سوری میں اس وقت ایکسیپٹ کروں گی‘ جب آپ شاہ میر سے سوری کریں گی کیونکہ آج آپ نے بلاوجہ ہی اس کی اس قدر انسلٹ کی ہے۔‘‘ شاہ میر نے بہت خوش ہوکر ٹیچر کی طرف دیکھا۔
زرش نے اس وقت ٹیچر کے کہنے پر اس سے سوری کرلی… مگر گھر آکر اس نے وہ طوفان مچایا کہ الامان الحفیظ… اس کے اس قدر واویلے پر ایک پل کے لیے تو خود شاہ میر بھی بوکھلا گیا… مگر خود کو سنبھالنے کے بعد اس نے اماں کی طرف دیکھا جو روتی بلکتی زرش کو پچکار کر اس سے رونے کی وجہ دریافت کررہی تھیں۔
’’میری بچی بتائو تو سہی آخر ہوا کیا ہے؟ کیوں اس طرح رو کر خود کو ہلکان کررہی ہو…؟‘‘ اماں نے ذرا سا لاڈ دکھاتے ہوئے اسے ساتھ کیا لپٹایا وہ مزید پھیلتے ہوئے اونچی آواز میں رونے لگی تو مامی نے بھی پریشان ہوکر اس سے پوچھا۔
’’زرش… بچوں کی طرح رونا بند کرو اور بتائو ہوا کیا ہے۔؟‘‘ مامی کے پوچھنے کی دیر تھی وہ ان کی طرف رخ کرتی ٹیپ ریکارڈر کی طرح شروع ہوگئی۔
’’ہونا کیا تھا مما… یہ آپ کے چہیتے شاہ میر نے آج پوری کلاس کے سامنے میری بے حد انسلٹ کی‘ ٹیچر کو میرے خلاف کرکے مجھے خود کو سوری بولنے پر مجبور کیا اس نے… اٹس ٹو مچ مما… مجھ سے اتنی انسلٹ برداشت نہیں ہورہی۔‘‘ ساری بات کو اس کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اس نے سسکیوں‘ ہچکیوں کے درمیان بڑی مظلوم بن کر پورا واقعہ ان کے گوش گزار کیا تو اماں نے قریب آکر اس کو دو ہتھڑ جڑتے ہوئے سختی سے اس کے کان کو اپنی گرفت میں لے کر دھاڑیں۔
’’تجھے ذرا شرم نہ آئی شاہ میر… زرش کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے… چل اب تو معافی مانگ اس سے۔‘‘ اماں کے اس ردعمل پر شاہ میر کو ذرہ برابر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا اماں کے نزدیک زرش اس سے زیادہ اماں کے لیے اہم تھی اور یہ بات ہی اسے سب سے زیادہ زرش سے چڑنے پر مجبور کرتی تھی کہ اس نے یہاں آنے کے فوراً بعد سے ہی اس کی اماں کو اس سے چھین لیا تھا۔ اماں ہر بات میں اس کی بات کو اہمیت دیتی تھیں۔
جس طرح وہ اس وقت تڑپ رہی تھی اور وہ معصوم بنا اماں کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا… وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ وقت ماموں کے گھر آنے کا ہے اور ماموں کے گھر آنے کا مطلب تھا کہ زرش کی اس کے خلاف معرکہ آرائی میں آپ ہی کمی کردینا… مگر آج بات کچھ الگ تھی‘ اماں اپنی چہیتی کو اس قدر بلکتے دیکھ کر اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھیں‘ اس لیے مسلسل اس کے کان کو اپنی گرفت میں لے کر اسے جواب دینے کے لیے مجبور کررہی تھیں‘ ایسے میں ماموں نے اندر قدم رکھتے ہوئے حیرت سے وہاں کا منظر دیکھنے کے بعد حاضرین پر ایک نظر ڈال کر اماں سے استفسار کیا۔
’’کیا کررہی ہیں آپ آپا… اتنے بڑے بچے کا کان پکڑ کر کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ انہوں نے نرمی سے ان کے ہاتھ سے اس کا کان آزاد کراتے ہوئے اسے اپنے برابر کھڑا کیا تو اماں نے فوراً تیز لہجے میں کہا۔
’’بچہ جتنا بھی بڑا ہوجائے… جب غلطی کرے گا تو بڑوں کو اس کا کان کھینچ کر سیدھا کرنا پڑے گا۔‘‘
’’کیوں بھئی ایسی کیا غلطی کردی ہمارے شاہ میر نے…؟‘‘ انہوں نے پیار سے کہتے ہوئے شاہ میر کے کندھے پر ہاتھ دراز کیا تو زرش فوراً چمک کر بولی۔
’’پاپا… آج اس نے پوری کلاس میں میری انسلٹ کی ہے۔‘‘ نم آنکھوں کے ساتھ سوں سوں کرتے ہوئے اس نے درمیان میں اپنی انٹری دی تو اب کی بار شاہ میر بھی فوراً بول اٹھا۔
’’یہ جھوٹ بول رہی ہے ماموں… انسلٹ اس نے میری کی تھی… اسی بات پر ٹیچر نے اس کو مجھے سوری کرنے کا کہا بس اسی بات پر اس کو اتنا غصہ آرہا ہے۔‘‘ ماموں کی سپورٹ شروع سے اسے اپنی طرف محسوس ہوئی تھی یا شاید ماموں اپنی لاڈلی کی اصلیت سے واقف تھے اس لیے وہ اس کا ساتھ دینے کے بجائے سچ بات کا ساتھ دیتے… اسی وجہ سے اب جو درمیان میں ماموں ثالث بنے تو اس نے فوراً اعتماد سے مختصراً ساری بات ان کے گوش گزاری تو ماموں نے افسوس بھری نظروں سے زرش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ تو بہت ہی غلط بات ہے زرش بیٹے‘ غلطی بھی آپ نے کی اور شور بھی آپ ہی کررہی ہو؟‘‘ اپنے پاپا کو شاہ میر کی حمایت میں بولتا دیکھ کر وہ صدمے سے مر جانے کو تھی۔ اس لیے چلا کر بولی۔
’’پاپا… میں آپ کی بیٹی ہوں‘ سگی بیٹی‘ شاہ میر آپ کا بیٹا نہیں‘ اس کے باوجود آپ میری سائیڈ لینے کے بجائے ہمیشہ اس کی سائیڈ میں بولتے ہیں۔‘‘ خونخوار نظروں سے شاہ میر کو گھورتے ہوئے اس نے جھنجلا کر کہا تو ماموں نے فوراً متانت سے جواباً کہا۔
’’آپ میری بیٹی ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بیٹی ہونے کی وجہ سے غلط بات میں بھی آپ کی فیور کروں؟ یہ تو ناانصافی والی بات ہوگی اور ناانصافی کرنا مجھے قطعی پسند نہیں… اس بات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔‘‘ انہوں نے جتلاتی نظریں اس کے چہرے پر جماتے ہوئے مزید کہا۔
’’میں ہمیشہ اسی کی فیور میں بولوں گا جو حق پر ہوگا… اور مجھے معلوم ہے آپ ہی ہمیشہ شاہ میر کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں حالانکہ میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔‘‘ جہاں اس نے آج کھلم کھلا اس کے خلاف محاذ آرائی کی تھی وہیں ماموں نے بھی مکمل اس کی حمایت کرتے ہوئے اسے اپنے سگے بیٹے کا مان بخشا تھا اور اسی مان کے صدقے اس نے زرش کو اس کی آج کی حرکت پر معاف کردیا مگر زرش کسی صورت اسے معاف کرنے والی نہیں تھی… وہ غصے میں وہاں سے واک آئوٹ کر گئی… تو اماں سمیت ماموں نے بڑی تشویش سے اسے اس طرح پیر پٹخ کر وہاں سے جاتے دیکھا تھا۔
/…٭…/
ان کے فائنل امتحانات ختم ہوئے تو سب نے پریکٹیکلز کی تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل جنرل بھی بنانا شروع کردئے تھے… شاہ میر کی ڈرائنگ بہت اچھی تھی اس لیے اس نے تقریباً اپنے جنرل کی سب ہی ڈائی گرامز بنالی تھیں جبکہ زرش کی ڈرائنگ شاہ میر کی ڈرائنگ کی طرح شاندار تو نہ تھی البتہ گزارے لائق ضرور تھی۔ اسی گزارے لائق ڈرائنگ کے حساب سے اس نے اپنی فزکس اور کیمسٹری کی ڈائی گرامز تو کسی طرح بنالی تھیں… مگر اب بائیولوجی کی کچھ ڈائی گرامز بہت کوشش کے باوجود اس سے بن کہ نہیں دے رہی تھیں… اور شاہ میر سے مدد لے کر وہ اپنی ناک نیچے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور بالفرض اگر وہ اس کی مدد لینے کا سوچتی بھی تو شاہ میر نے کون سا اس کی مدد کردینا تھی… اس لیے منہ بنائے اب وہ اپنی ادھورے جنرل سامنے رکھے گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی… جب اچانک ہی اس کے دماغ کی شیطانی لائٹ نے سرخ سگنل دیا… تو وہ چٹکی بجا کر کرسی کھسکاتی اٹھی اور چپکے سے دبے پائوں شاہ میر کے کمرے تک آئی… اندر داخل ہونے سے پہلے اس نے احتیاطاً اندر جھانکا اور اس کی غیر موجودگی کا یقین کرکے آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی آگے بڑھنے سے پہلے وہ دروازہ لاک کرنا بالکل نہیں بھولی تھی… تھوڑی سی تلاش کے بعد بالآخر اسے اپنی مطلوبہ بائیولوجی کا جنرل مل ہی گیا تھا… اس کی توقع کے عین مطابق شاہ میر نے اس جنرل میں ڈائی گرامز بھی مکمل بنائی ہوئی تھی۔ اس نے احتیاط سے جنرل کی ڈوری کھولی کر ان تمام ڈائی گرامز کے صفحے الگ کئے جو وہ بنا نہیں پارہی تھی۔ اپنے مطلوبہ صفحات الگ کرلینے کے بعد اس نے انتہائی صفائی سے اسی ڈوری کو دوبارہ باندھا اور اسے اس کی جگہ پر رکھ کر جس خاموشی سے کمرے میں آئی تھی اسی خاموشی سے کمرے سے نکل بھی گئی۔
شام کو شاہ میر اپنے جنرل لیے لائونج میں سب کی موجودگی کی پروا کیے بنا اس کے سر پر پہنچ کر تقریباً غرایا۔
’’میرے وہ صفحات واپس کرو جو تم نے میرے جنرل سے چرائے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا… اور کن صفحات کی بات کررہے ہو تم؟‘‘ اس نے چونکنے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے انجان بن کر الٹا اسی سے سوال کیا تو شاہ میر کا پارہ مزید ہائی ہوا۔
’’زیادہ بھولی بننے کی ایکٹنگ مت کرو اور چپ کرکے میرے بائیولوجی کے ڈائی گرام والے صفحات واپس کردو۔‘‘
’’مجھے نہیں معلوم تم کن صفحات کی بات کررہے ہو…‘‘ اس نے ناک پر سے مکھی اڑا کر جیسے بھول پن کی حد کی تھی… وہ دانت پیس کر بولا۔
’’اپنی یہ اداکاری ان کو دکھانا جو تمہیں جانتے نہ ہوں… میرے سامنے ڈرامہ کرنے کے بجائے میرے صفحات واپس کرو…‘‘ غصے میں بل کھاتے ہوئے اس نے اپنا مطالبہ دہرایا۔
وہ اسے ڈھٹائی سے ہنوز اپنی جگہ بیٹھے دیکھ کر غصے سے جیسے پاگل ہی ہوا جارہا تھا اس لیے آج ہر ادب لحاظ بھول کر ماموں‘ مامی کے سامنے ہی اس سے اس انداز میں بات کررہا تھا جن پر اماں نے گھبرا کر پہلے بھائی اور بھابی کی طرف دیکھا پھر ایک دم تیزی سے شاہ میر کے قریب جاکر بولیں۔
’’یہ تم کس انداز میں بات کررہے ہو شاہ میر؟ جو مسئلہ ہے پہلے تم ہمیں بتائو‘ ہم یہاں موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر وہ بجائے ٹھنڈا ہونے کے مزید بھڑک اٹھا۔
’’آج آپ درمیان میں نہیں بولیں اماں…‘‘ اس نے ان کی طرف پلٹ کر کہا۔ ’’اور آپ کو کچھ بتانے سے کیا ہوگا؟ آپ کی چہیتی کی غلطی ہونے کے باوجود آپ نے اس کی حمایت میں بول کر مجھے ہی چپ کروا دینا ہے۔‘‘ دل میں پلتی کب کی شکایتوں کو آج جیسے زبان مل گئی تھی۔ جنہیں سن کر اماں یک دم چپکی رہ گئیں۔ پھر شفیق ماموں نے پاس آتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں بتائو شاہ میر… زرش نے آج کیا کیا ہے؟‘‘ ان کی نرم آواز اس کے غصے پر جیسے پھوار بن کے برسی۔ ان کے بات سن کر اسے ذرا سکون ہوا کہ ماموں کو علم تھا زرش ہی نے کچھ کیا ہے… وہ ڈھیلا پڑتے ہوئے اپنے جنرل ان کے سامنے کرتا ہوا بولا۔
’’میں نے اپنے جنرل کی سب ڈائی گرامز مکمل کرکے جنرل اپنے روم میں رکھا تھا… مگر اب جب چیک کرنے کو جنرل اٹھایا تو اس کے آدھے سے زیادہ صفحات کو غائب پایا اور مجھے پورا یقین ہے میرے صفحات کو غائب کرنے کے پیچھے زرش ہی کا ہاتھ ہے۔‘‘ اس کا لہجہ پُریقین تھا… ماموں نے زرش کی طرف دیکھا تو اس نے نظر چرائی… یعنی کہ گڑبڑ اسی کی طرف سے کی گئی تھی۔ انہوں نے سخت لہجے میں اسے پکارا۔
’’زرش…‘‘
’’جی پاپا…‘‘ وہ فوراً معصوم بنی متوجہ ہوئی… اس کی اس درجہ معصومیت پر شاہ میر نے دانت پیسے۔
’’شاہ میر کے جنرل کے صفحات واپس کردو۔‘‘ نہ کوئی سوال‘ نہ کوئی جواب… ماموں نے سیدھا حکم دیا‘ زرش ایک دم بوکھلائی۔
’’میں کہاں سے دوں پاپا… میں نے کسی کے کوئی صفحے نہیں لیے۔‘‘ وہ بالکل ہی انکاری ہوئی کیونکہ اب اس طرح سب کے سامنے صفحے واپس کرنے کا مطلب بالکل صاف تھا کہ صفحے اس نے چرائے ہیں… وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی تو پاپا اس کی ہٹ دھرمی پر ایک دم جلال میں آکر دھاڑے۔
’’میں نے تم سے کچھ کہا ہے زرش… شاہ میر کے صفحات واپس کرو۔‘‘ اپنے پیارے پاپا کو اس قدر غصے میں دیکھ کر وہ ایک دم بدحواس ہوئی‘ جھک کر نیچے رکھے اپنے جنرل سے اس کے صفحات نکال کر باپ کی طرف بڑھا دیئے… شرمندگی اپنی جگہ… مگر اس ساری صورت حال پر اس وقت اس کا دل شاہ میر کو قتل کردینے کا چاہ رہا تھا۔ اپنی غلطی کو مان کر اس کی گھورتی نظریں شاہ میر پر ٹکی تھیں جبکہ ہاتھ باپ کی طرف بڑھا ہوا تھا… جب پاپا کی اگلے حکم پر جیسے وہ اچھل پڑی۔
’’یہ صفحے تم سوری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے شاہ میر کو دو۔‘‘ وہ مر جانے کو کہہ دیتے‘ وہ مر جاتی مگر اس صورت حال میں شاہ میر کو سوری کہنے کا کہہ کر انہوں نے جیسے اسے زندہ آگ کے شعلوں کی نذر کردیا تھا۔
صورت حال گمبھیر ہوتی محسوس ہونے لگی تو اماں نے معاملہ رفع دفع کرنے کی خاطر ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
’’چلو اب بس ختم کرو بات کو… صفحے کر تو دیئے اس نے واپس۔‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر زرش کے ہاتھ سے سب صفحات لے کر شاہ میر کی جانب بڑھاتے ہوئے بات کو ختم کرنے کی خاطر مزید کہا۔
’’تم بھی ناں شاہ میر… لے کہ ان چند ورقوں کی خاطر اتنا گھڑاک ڈال دیا۔‘‘ شاہ میر نے ان کی بات پر حددرجہ شکوہ کناں ہوکر ان کی طرف دیکھا… وہ آخر اماں کو کہتا بھی تو کیا۔
’’نہیں آپا… آپ شاہ میر کو کچھ مت کہیے… اس بار زرش نے واقعی غلط کیا ہے… اس کو آج سوری کرلینے دیں تاکہ خود اسے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو۔‘‘ ماموں نے زرش کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’ہاں تو بس ہوگئی ناں غلطی… ابھی بچی ہے… جب ہی شرارت میں ایسے کرلیا۔‘‘ اماں ہر صورت بات کو ختم کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔
’’اب یہ اتنی بھی بچی نہیں رہی ہے آپا… جو ہم اس کی غلطیوں کو شرارت کا نام دے کر اگنور کردیں۔‘‘ ماموں تو آج کسی صورت ٹلنے کے موڈ میں نہیں تھے اور خود شاہ میر بھی ڈھیٹ بن کر اس سے سوری سننے کے لیے منتظر کھڑا تھا… زرش نے لب بھینچ کر خود سے خفا ہوتے باپ کو دیکھا اور پھر نظر جھکا کر بنا کسی کی بھی طرف دیکھے لٹھ مار انداز میں سوری بول کر تیزی سے وہاں سے نکل گئی… اس کے جانے کے بعد اماں نے اپنی توپوں کا رخ شاہ میر کی طرف کرتے ہوئے کہا۔
’’ہوگئی سوری… اب تو بھی سن لے شاہ میر… آئندہ تو نے زرش سے اس انداز میں بات کی ناں تو میں تیری ٹانگیں توڑ دوں گی… سمجھا؟‘‘ وہ ماں کی دھمکی سن کر بنا کچھ بولے منہ بناتا وہ وہاں سے کھسک لیا‘ پیچھے اماں‘ ماموں اور مامی نے دوبارہ اپنی نشستیں سنبھالتے ہوئے گہرا سانس لے کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
’’میں تو بس یہ جانتی ہوں جہاں اتنا زیادہ لڑائی جھگڑا ہوتا ہے وہیں پیار بھی سب سے زیادہ ہوتا ہے۔‘‘ سب سے پہلے اماں نے اظہار خیال کیا۔
’’کہاں سے پیار ہوگا آپا… شروع دن سے تو یہ ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے پھر رہے ہیں۔‘‘ اسماء مامی ان کے مستقبل کے حوالے سے آج خاصی مایوس دکھائی دے رہی تھیں جبکہ ماموں نے اپنی رائے کو فی الحال محفوظ رکھتے ہوئے ان کو سننے پر ہی اکتفا کیا۔
’’ابھی ناسمجھ ہیں… ذرا ان کو اس عمر تک پہنچنے دو پھر دیکھنا کوئی دشمنی باقی نہیں رہنی ان کے درمیان۔‘‘ اماں نے نہ جانے ایسا کیا دیکھ لیا تھا جو آج اس قدر پُرامید دکھائی دے رہی تھیں۔
’’تم دونوں بس اب فضول کی فکر میں گھلنے کے بجائے سب کچھ وقت پر چھوڑ دو‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ ان کی فکر سے وہ واقف تھیں کیونکہ ان کے یہاں آنے کے فوراً بعد ہی انہوں نے زرش کو اپنے شاہ میر کے لیے مانگ لیا تھا۔ انہوں نے بے شک ان کو انکار نہیں کیا تھا مگر اقرار بھی نہیں کیا تھا کیونکہ زرش اور شاہ میر کا رویہ شروع دن سے ان کے سامنے تھے… مگر آپا کی تسلیاں سن کر انہوں نے بھی آنے والے وقت پر سب کچھ چھوڑ کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش شروع کردی تھی۔
/…٭…/
اس واقعہ کے بعد سے زرش بہت چپ ہوکر رہ گئی۔ پیپرز ختم ہوچکے تھے۔ اب ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا اس لیے اس نے خود کو کمرے تک محدود کرکے اپنی طرف سے سب کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا… وہ جو ہر وقت کوئی نہ کوئی شرارت کرکے گھر میں رونق لگائے رکھتی تھی اب اس طرح منظر سے غائب ہوئی تو سب نے اس کی غیر موجودگی کو شدت سے محسوس کیا… یہی وجہ تھی آج شفیق صاحب خود اس کے کمرے میں آئے… جہاں وہ کمرے کے سارے پردے گرائے‘ تمام لائٹس آف کیے کمرے کو تاریکی میں ڈبو کر شاید ابھی تک سو رہی تھی… شفیق صاحب نے آگے بڑھ کر کمرے کی تمام لائٹس آن کیں پھر وہ اس کے بیڈ کے قریب آئے۔
’’زرش… ابھی تک سو رہی ہو بیٹا؟‘‘ ان کی پکار پر وہ ذرا سا کسمسائی پھر بنا کچھ بولے ان کی طرف سے کروٹ لے کر کمبل سر تک اوڑھ لیا جو اس کی شدید ناراضی کا واضح اشارہ تھا۔
’’اچھا تو… ہماری زرش ہم سے ناراض ہے۔‘‘ دلار سے کہتے ہوئے انہوں نے جونہی ہاتھ بڑھا کر کمبل ہٹاتے ہوئے اس کے چہرے کو چھوا تو ایک دم پریشان ہوکر بولے۔
’’اوہ…! زرش تمہیں اتنا تیز بخار ہے اور تم نے بتایا تک نہیں بیٹا…‘‘ انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کر بٹھایا۔
پھولے منہ اور جھکی نظر لیے وہ جیسے نہ بولنے کی قسم کھائے بیٹھی تھی۔ شفیق صاحب نے دوبارہ فکر مندی سے کہا۔
’’یہ تو بہت ہی غلط بات ہے زرش… آپ ہم سے ناراض ہو تو غصہ بھی ہم پہ کرو… اس طرح خود پہ غصہ کرکے خود کو ہی نقصان پہنچانا کہاں کی عقل مندی ہے؟‘‘
’’آپ کو اس سے کیا… میں خود کو نقصان پہنچائوں یا پھر فائدہ؟… آپ بس جاکر اپنے شاہ میر کی فکر کریں… میری فکر کرنے کی آپ کو قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اصل آپ کا بیٹا تو وہ ہے ناں‘ اسی کی فکر ہونی چاہیے بس آپ کو۔‘‘ بدگمانی عروج پر تھی شفیق صاحب نے گہری سانس بھر کر ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کا دوسرا ہاتھ بھی اپنی گرفت میں لے لیا۔
’’جتنی فکر مجھے شاہ میر کی ہے اتنی ہی فکر آپ کی بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔‘‘ بڑی حلاوت سے اس کی بدگمانی دور کرنے کی کوشش کی۔
وہ کوئی جواب دینے کے بجائے رونے لگی اس کے آنسو دیکھ کر شفیق صاحب کو تکلیف ہوئی‘ وہ ان کی اکلوتی اولاد تھی جس کی آنکھ میں انہوں نے کبھی نمی بھی نہیں آنے دی تھی۔ وہ اب اس طرح آنسو بہاتی ان کے سامنے بیٹھی تھی‘ انہوں نے ہاتھ بڑھا کر پیار سے اس کے سارے آنسو پونچھے… مگر اس نے آنسوؤں کی روانی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ سوں سوں کرتی وہ مزید شکوہ کناں ہوئی۔
’’میرے پاپا ہوکر مجھے ہی سب کے درمیان شرمندہ کیا آپ نے‘ میں نے سوری کہا وہ بھی اس ڈفر شاہ میر کو…‘‘ اس کا شکوہ پہلے دن کی طرح تازہ تھا۔ ایک تو اس نے غلطی کی اوپر سے وہ اپنی غلطی ماننے کو بھی تیار نہ تھی۔
’’زرش جس طرح آپ کو اپنی شرمندگی کا خیال ہے‘ اسی طرح ہماری شرمندگی کا بھی تو سوچیے بیٹا… ہمیں اس وقت کتنا برا لگا ہوگا جب شاہ میر نے پورے یقین سے کہا کہ آپ ہی نے اس کے صفحے نکالے ہیں اور پھر صفحے تھے بھی تو آپ ہی کے پاس… ایسی سچویشن میں مجھے آپ ہی سے سوری کرنے کا کہنا تھا ناں بیٹا… اگر اس وقت میں آپ کی فیور کرتا تو شاہ میر کیا سوچتا… اس نے سیدھا سیدھا یہی سوچ لینا تھا کہ اس کے ماموں اپنی بیٹی کے غلط ہونے کے باوجود اس کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں اور شاید یہ بھی سوچ لیتا کہ وہ ہمارے گھر میں رہتا ہے اس لیے میں نے اس کو اپنے سے کمتر سمجھ کر اس کے ساتھ ناانصافی کی پھر کیا آپ کو اچھا لگتا کہ کوئی آپ کے پاپا کے لیے برا سوچتا…؟‘‘
’’وہ سب ٹھیک ہے پاپا مگر مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب آپ اسے فیور کرتے ہیں۔‘‘ نیم رضا مند کیفیت میں بھی شکوہ زبان کی نوک پر رہا۔
’’اچھا چلو… آئندہ میں اپنی بیٹی کو فیور کروں گا مگر ایک شرط پر…‘‘ اس کی بات ماننے کے ساتھ ساتھ انہوں نے آخر میں شرط کا کہا تو زرش نے استفہامیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا‘ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنی شرط بیان کی۔
’’شرط یہ ہے کہ آئندہ تم شاہ میر کے ساتھ کوئی ایسی شرارت نہیں کروگی جو اس کو ناگوار گزرے۔‘‘ انہوں نے لفظ زیادتی کو جان بوجھ کر شرارت میں بدلا تھا۔ ناک چڑھا کر فوراً تیکھے انداز میں بولی۔
’’میں اب اس شخص کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرنے والی۔ آپ شرارت کا کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’اوکے مگر اب اٹھو… باہر چلو سب تمہارے لیے پریشان ہو رہے ہیں۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے چلیں…‘‘ کمبل کو سائیڈ پر کرتی وہ اٹھی مگر پھر نجانے اس کے دماغ میں کیا سمائی کہ وہ وہیں ٹھہر کر ان سے بولی۔
’’مگر اب آپ کو بھی میری ایک بات ماننا ہوگی۔‘‘ نجانے اب وہ کیا منوانا چاہتی تھی‘ وہ سانس بھر کر بولے۔
’’بتائو کیا بات ہے؟‘‘
’’بات یہ ہے کہ کالج میں داخلے کے وقت آپ مجھے شاہ میر کے کالج میں داخلے کا نہیں کہیں گے۔‘‘ وہ کس قدر دور کی کوڑی لائی تھی مگر ابھی اس پل کچھ بھی کہنا ان کو قبل از وقت لگا۔ اس لیے انہوں نے بنا کچھ بولے اقرار میں سر ہلا کر فی الحال اس کی بات مان لینے کا عندیہ دیا تو وہ مطمئن ہوتی ان کے ہمراہ کمرے سے نکل کر سب کے درمیان آئی اور یہاں اسے سامنے پاکر اماں اور اسماء بیگم خوش ہوئیں وہیں اسے بخار میں تپتا پاکر وہ دونوں پریشان بھی ہوگئیں۔ اسماء بیگم اسے بخار کی ٹیبلٹ کھلانے کے بعد اب اس کے لیے سوپ بنانے کچن میں چلی گئیں جبکہ اماں اس کا سر گود میں رکھے ہولے ہولے دبا رہی تھیں‘ اسی پل شاہ میر نے لائونج میں قدم رکھا اور اپنی اماں کو اس نک چڑھی کے لاڈ اٹھاتے دیکھ کر حسب عادت بھنا گیا۔ اب آگیا تھا تو واپس پلٹ نہیں سکتا تھا‘ اس لیے ناچار آگے بڑھا اور سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔
’’پھوپو… بہت درد ہورہا ہے… پلیز ذرا زور سے دبائیں۔‘‘ سر کو ان کی گود میں رکھے وہ کافی تکلیف میں لگ رہی تھی۔
’’ہاں تو کب سے تو کہہ رہی ہوں‘ تھوڑی سی ہمت کرکے اٹھ کر بیٹھ جائو‘ میں ابھی تیل کی مالش کردیتی ہوں… دیکھنا پھر یہ سر درد ذرا بھی نہیں رہے گا۔‘‘
’’نہیں… بس آپ سر دبا دیں… مجھے تیل نہیں لگوانا۔‘‘ اس کے نخرے اور اماں کی تیمارداری‘ شاہ میر نے اماں پر ایک جلی بھنی نظر ڈالی‘ جس کے نخرے پہلے ہی حد سے زیادہ تھے اور اب ذرا سی بیماری کی بدولت آسمان کو چھونے لگے تھے۔
’’کبھی تو بات مان لیا کر زرش…‘‘ اماں نے ہنوز اسے پر جمے دیکھا تو بے بسی سے کہا اور بس یہیں پر شاہ میر کی برداشت ختم ہوئی وہ بے انتہا چڑچڑے موڈ کے ساتھ وہاں سے اٹھتا قدرے نیچی آواز میں بڑبڑایا۔
’’اس نیم چڑھی کریلی کو برداشت کرکے اپنا خون جلانے سے بہتر ہے میں یہ ساری چھٹیاں عامر والوں کے ساتھ ہل اسٹیشن پر گزار آئوں۔‘‘ اور پھر واقعی اس نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے سب سے ہل سٹیشن پر جانے کی اجازت لی اور اگلے ہی دن ٹرپ کے لیے روانہ بھی ہوگیا تھا۔
/…٭…/
چند دن بعد اس کی واپسی ہوئی تھی۔ ہیل اسٹیشن کی آب وہوا نے اس کی صحت پر ضرورت سے زیادہ اچھا اثر ڈالا تھا… اس لیے وہ پہلے سے زیادہ فریش اور خوب صورت دکھائی دے رہا تھا۔ زرش شاید کہیں گئی ہوئی تھی‘ اس لیے جب سے وہ آیا تھا اس کا اس سے سامنا نہیں ہوا تھا۔ اس کی غیر موجودگی نے شاید اس کے موڈ پر اچھا اثر ڈالا تھا اس لیے وہ خوشگوار موڈ میں سکون سے کافی دیر سب کے درمیان بیٹھا کر اپنے ٹرپ کے قصے انہیں سنا کر ہنستا رہا… پھر سب کے لیے خریدے گئے گفٹ ان کے حوالے کرنے کے بعد آرام کی نیت سے اپنے کمرے کی جانب چل دیا تھا۔
/…٭…/
وقت کے پہیے نے گردش کرتے ہوئے ان کے بچپن کو پیچھے چھوڑ دیا تھا‘ اس لیے اب نہ تو وہ بچپن رہا تھا اور نہ ہی بچپن کی وہ سب باتیں… اب وہ زیادہ تر خود اپنی ذات میں مگن رہتے… اس ہی وجہ سے ایک دوسرے کی مخالفت کا موقع انہیں کم کم ہی میسر آتا… وقت نے سرک کر مزید کچھ آگے کا سفر طے کیا وہ اب کالج لائف کو الوداع کہنے کے بعد یونیورسٹی کی رنگین دنیا میں قدم رکھ چکے تھے۔ شاہ میر نے ریاضی اور زرش نے کیمیا منتخب کرکے گو کہ ایک دوسرے سے مختلف مضامین منتخب کیے تھے مگر چونکہ دونوں کے ڈپارٹمنٹ ایک ہی بلڈنگ میں بالکل آمنے سامنے تھے… جس کا مطلب تھا کہ دن میں کم از کم ایک دو بار ان کا ٹکرائو ہونا ممکن تھا۔
/…٭…/
روز اسے ڈرائیور ہی یونیورسٹی چھوڑ کر آتا مگر آج شفیق صاحب کو میٹنگ کے سلسلے میں آفس جلدی جانا تھا اس لیے وہ اس کے جانے سے پہلے خود گاڑی لے جاچکے تھے جس کی وجہ سے اب وہ یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہوکر پریشان کھڑی تھی۔ جب اماں نے اس کے پاس آکر استفسار کیا۔
’’کیا بات ہے زرش یوں منہ لٹکا کر کیوں کھڑی ہو؟‘‘
’’تو اور کیا کروں پھوپو؟ میرا آج یونیورسٹی جانا بے حد ضروری ہے مگر گاڑی پاپا لے گئے ہیں۔ اب میں یونیورسٹی کیسے جائوں؟‘‘ اس نے اپنی پریشانی کی وجہ بیان کی تو اماں نے جھٹ سے کہا۔
’’تو… یہ بھی کوئی پریشانی والی بات ہے‘ یہ اپنا شاہ میر بھی تو یونیورسٹی جارہا ہے تم اس کے ساتھ چلی جائو۔‘‘ پاس سے گزرتے شاہ میر کو دیکھ کر انہوں نے اسے مشورے سے نوازنے کے ساتھ ساتھ شاہ میر کو بھی آواز دے کر رکنے کو کہا۔
’’میں آپ کو کہاں سے ڈرائیور لگتا ہوں اماں؟‘‘ ان کی بات سن کر اس نے اپنے نک سک سے تیار سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالنے کے بعد استفہامیہ نظروں سے اماں کی طرف دیکھا۔ جواب سن کر اماں نے فوراً کہا۔
’’اب اس میں ڈرائیور لگنے والی بات کہاں سے آگئی؟ بچی خوامخواہ پریشان ہورہی ہے تو جب تم وہیں جارہے ہو تو اسے بھی ساتھ لے جائو۔‘‘ اس سارے منظر میں زرش بالکل خاموش کھڑی رہی تھی۔
یوں تو اسے شاہ میر کے ساتھ جانے پر لاکھ اعتراض ہوسکتے تھے مگر آج اس کی بیسٹ فرینڈ کی سالگرہ کی وجہ سے اس کا یونیورسٹی جانا بے حد ضروری تھا… تو وہ شاہ میر کو انکار کرکے اپنا نقصان کیسے کرسکتی تھی کیونکہ شاہ میر کو انکار کرنے کی صورت میں اسے پوائنٹ سے یونیورسٹی جانا پڑتا اور بالفرض وہ شٹل سے یونیورسٹی بھی چلی جاتی تو پھر وہ راستے میں رک کر عشا کے لیے کوئی گفٹ نہیں لے سکتی تھی اور برتھ ڈے پارٹی میں بنا گفٹ کے جانا کم از کم اس کو گوارہ نہیں تھا اس لیے فی الحال اپنے سارے اعتراضات کا گلا گھونٹ کر ہونٹ سیے کھڑی رہی۔
جب شاہ میر کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی جو آج شاید کچھ زیادہ ہی خوشگوار موڈ میں تھا کندھے اچکا کر بولا۔
’’اوکے… میں تو لے چلوں گا مگر اپنی مہارانی سے پوچھ لیں یہ میرے ساتھ جانا پسند کرے گی بھی یا نہیں…‘‘ شاہ میر نے بات کے اختتام پر سوالیہ نظروں سے زرش کی طرف دیکھا تھا تو اماں اسے دیکھنے لگیں تو وہ بے نیازی سے کندھے اچکاتی بولی۔
’’میرا جانا ضروری نہ ہوتا‘ تو میں اس آفر کو کبھی قبول نہ کرتی… مگر اب چونکہ مجبوری ہے تو… میں اس آفر کو قبول کرتی ہوں۔‘‘ مجبور ہونے کے باوجود بھی وہ اکڑ دکھانے سے باز نہیں آئی تھی… اس کے انداز پر اماں تو کھل اٹھی تھیں جبکہ شاہ میر نے برا سامنہ بنا کر آگے کی طرف قدم بڑھائے تو زرش بھی اپنا بیگ اور فائل سنبھالتی اس کے پیچھے لپکی… اماں خاصے خوشگوار موڈ میں اب تک کی ساری رو داد اسماء بیگم کو بتانے کی نیت سے جوشیلے انداز میں اندر کی طرف بڑھ گئی تھیں۔
/…٭…/
شاہ میر نے جیسے ہی گاڑی گردیزی مارکیٹ کے راستے پر ڈالی زرش نے فوراً ہی اسے گاڑی روکنے کو کہا۔
’’وجہ…؟‘‘ شاہ میر نے ابرو اچکا کر سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’مجھے یہاں سے گفٹ لینا ہے۔‘‘ اس نے گاڑی ایک طرف کرکے روک دی‘ جیسے ہی زرش اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلی وہ خود بھی گاڑی سے نکل کر اس کے قریب مین آکر بولا۔
’’ویسے تو تمہیں عادت ہے بے نتھے بیل کی طرح اِدھر اُدھر اکیلے نکل جانے کی مگر اب جب میں ساتھ ہوں تو کم از کم میں تمہیں یوں شتر بے مہار کی طرح اکیلے جانے نہیں دوں گا…‘‘ بات ادھوری چھوڑ کر اس نے اس کی طرف دیکھا مگر بجائے کچھ کہنے کے اس نے چپ رہ کر اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کیا۔
’’میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ اس کی بات مکمل ہوئی تو زرش نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور دانت پیس کر بڑبڑائی۔
’’مسٹر سیکیورٹی گارڈ… ابھی تاش کا پتہ تمہارے ہاتھ میں ہے تم ابھی کچھ بھی بول سکتے ہو‘ اس لیے جتنا بول سکتے ہو بول لو پھر کبھی میرا بھی وقت آئے گا تو سارے بدلے گن گن کر لوں گی۔‘‘ اپنے خطرناک عزائم دل میں دہراتی‘ وہ اپنی جگہ جمی کھڑی رہی۔
’’اب کیا یہاں کھڑے ہوکر مراقبہ کرنے کا ارادہ ہے جو یہاںجم کر کھڑی ہوگئی ہو؟‘‘ اس نے جو اسے یوں خود کو ٹکر ٹکر گھورتے پایا تو ٹوک کر مزید کہا۔
’’تمہارے پاس بس پندرہ منٹ ہیں… چلنا ہے تو چلو… ورنہ میرا ٹائم ضائع مت کرو۔‘‘ اس کے نخرے بڑھتے دیکھ کر ضبط کرتی لب بھینچ کر اس نے قدم آگے بڑھائے پھر ایک دکان سے تحفہ پیک کروانے کے بعد وہ تیز تیز قدم اٹھاتی دوبارہ گاڑی میں آکر بیٹھ گئی… دوسری طرف سے آکر شاہ میر نے بھی اپنی سیٹ سنبھالی اور آہستہ سے گاڑی کو موڑتے ہوئے یونیورسٹی کے راستے پہ ڈال دی… زرش اس کی طرف سے انجان بنی باہر کے بھاگتے دوڑتے مناظر کو دیکھنے میں مشغول نظر آرہی تھی۔ جب شاہ میر نے سرسری انداز میں اس سے کہا۔
’’دوستی کرنے کے لیے تمہیں پوری یونیورسٹی میں سعود ہی ملا تھا… حالانکہ اس کی بیڈ ریپوٹیشن سے ہر ایک اچھی طرح سے واقف ہے۔‘‘ ان کے درمیان کبھی بھی اتنے اچھے تعلقات نہیں رہے تھے کہ وہ اس طرح اسے مشوروں سے نوازتا یا اس کے اچھے برے کی فکر کرکے اسے باقاعدہ سمجھاتا مگر پھر بھی کزن ہونے کے ناطے وہ آج اسے اپنے ساتھ لایا ہی یہی سوچ کر تھا کہ احسان کرکے وہ دبے لفظوں میں اسے سمجھا سکے مگر کب سے چپ رہ کر اس کے نخرے برداشت کرتی زرش ایک دم تڑخ کر بولی۔
’’میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جو دوستیاں کرنے سے پہلے یا بعد میں تم سے مشورے لوں۔‘‘ اس نے بڑی تیکھی نظروں سے اس کی طرف دیکھا پھر کہا۔ ’’تمہیں میری فکر میں گھلنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اس کا مطلب نکل چکا تھا… اس لیے اس نے منہ کھول کر اپنے سارے ادھار برابر کیے تو شاہ میر نے لب بھینچ کر اس کی طرف دیکھا… وہ اگر اس کے ماموں کی بیٹی نہ ہوتی تو شاہ میر کبھی بھی اسے اس طرح اپنے مشورے سے نہ نوازتا‘ یہ تو بس ماموں کے لحاظ میں اس نے اسے مشورے سے نوازا تھا… وہ بھنچے لبوں کے ساتھ سر جھٹکتا ہوا دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔
/…٭…/
اس نے سوچا تھا کہ وہ شفیق ماموں سے بات کرے گا کہ وہ خود زرش کو سمجھائیں مگر ان سے بات کرنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ کچھ ہوگیا جس کا اسے پہلے سے خدشہ تھا… اس دن وہ ایک کام کے سلسلے میں انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں آیا جب آرکیٹیکچر ڈپارٹمنٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کی بالکل غیر ارادی طور پر نظر گرائونڈ میں قدرے سنسان کونے میں کھڑے ایک گروپ پر پڑی جس میں چھ‘ سات لڑکوں کے درمیان ایک اکیلی لڑکی قدرے کنفیوز اور گھبرائی ہوئی دکھائی دے رہی تھی… پہلی غیر ارادی نظر کے بعد دوسری نظر اس کی ارادتاً اس طرف اٹھی… جمی اور پھر ٹھہر گئی۔ جس اکیلی‘ کنفیوز لڑکی کو دیکھ کر اس کے قدم ٹھہرے تھے وہ اور کوئی نہیں زرش ہی تھی… وہ ذرا دیر کو ساکت ہوا… قدم جیسے زمین میں گڑ سے گئے تھے مگر جب ان لڑکوں میں سے ایک لڑکا خباثت سے مسکراتا ہوا زرش کی طرف بڑھ کر اس کے دوپٹے کے پلو پکڑنے کو اس کی طرف جھکا تو وہ چیل کی طرح اڑتا ہوا اس سمت لپکا تھا۔
’’زرش…‘‘ کسی کو بھی مخاطب کیے بنا اس نے اسے پکارا… جو ایس صورت حال پر رو دینے کو تھی مگر اب جو اسے سامنے دیکھا تو لپک کر اس کی طرف بڑھی اور اس کا بازو پکڑ کر خود کو اس کے پیچھے چھپا لیا تھا… حالانکہ یہ وہی شاہ میر تھا جس کو دیکھ کر اس نے ہمیشہ ناک منہ چڑھائی تھی مگر سمجھ میں نہ آنے والی کیفیت کے زیر اثر اس کی پیٹھ سے سر ٹکا کر رو رہی تھی جبکہ شاہ میر طیش کی حالت میں سعود کی طرف بڑھا جس کے ہاتھ میں زرش کا دوپٹا تھا… وہ اس کے ساتھ ہی کھنچی آئی تھی… جب اس نے درشت انداز میں سعود کے ہاتھ سے اس کا دوپٹا لے کر زرش کے شانوں پر پھیلا کر اسے ایک طرف کھڑا کیا اور خود دوبارہ سے سعود کی طرف بڑھا… جو اس کی اس طرح اچانک آمد سے قدرے گھبرایا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
’’کہا تھا ناں تمہیں زرش سے دور رہنا…‘‘ سب سے پہلے اس کے ہاتھوں نے سعود کا گریبان پکڑا۔
’’جب وہ خود مجھ سے دور نہیں رہ سکتی تو پھر میں کیوں خود کو روکتا مسٹر شاہ میر…‘‘ اس کے لفظ بہت کاری تھے۔ شاہ میر کی پہلے سے لال انگارہ آنکھوں میں مزید خون اترا تو اس نے ایک مکا سعود کے جبڑے پر دے مارا… نتیجتاً خون کا فوارہ اس کے منہ سے ابلا اور اس کے بعد شاہ میر پر جیسے جنون طاری ہوگیا یکے بعد دیگرے اس نے مکے اس کے منہ پر برسائے اور بدلے میں سعود نے بھی اپنے بچائو کی خاطر اسے مکوں اور تھپڑوں سے نوازا… سعود کو جوابی حملہ کرتا دیکھ کر اس کے کچھ دوستوں نے بھی ہمت پاکر شاہ میر پر حملہ کردیا۔
دیوانہ ہوتا شاہ میر اکیلا ہی ان سب پر پل پڑا اس طرح بنا ڈرے‘ اکیلے خود پر بھاری پڑتا دیکھ کر آہستہ آہستہ وہ سب وہاں سے کھسک لیے تھے۔ صرف سعود ہی تھا جو آخر تک اس کے ہاتھ چڑھا رہا… اپنی اتنی درگت بنوانے کے بعد وہ بھی انسان بنتا اب ہاتھ جوڑے اس سے معافی کی درخواست کررہا تھا۔
’’مجھے چھوڑ دو شاہ میر… آئندہ میں کبھی زرش کے قریب بھی دکھائی نہیں دوں گا۔‘‘ ہونٹوں کے کناروں سے بہتے خون کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے وہ گھگھیایا تو شاہ میر نے خون آشام نظروں سے اسے گھورتے ہوئے جھٹکے سے پیچھے کی طرف پھینکتے ہوئے چھوڑا تو وہ سر پہ پائوں رکھ کر وہاں سے بھاگا نکال تھا۔ گہری سانس بھر کر اپنے جلال کو اندر اتارتے ہوئے اس نے خود کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی‘ حالانکہ اس وقت اس کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ وہ زرش کا منہ توڑ کر رکھ دے مگر خود پہ ضبط کرتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے حلیے اور بکھرے بالوں کو درست کیا اور سیدھا ہوکر پلٹا تو روتی ہوئی زرش سوجی آنکھیں لیے اس کے بالکل قریب کھڑی تھی۔ اس کی حالت اس قدر مخدوش ہورہی تھی کہ وہ کچھ بول بھی نہیں پارہی تھی۔
’’آئی ایم سوری شاہ میر…‘‘ سسکیوں کے درمیان بول کر اس نے جیسے غضب کیا تھا۔ خود پر ضبط کرتے شاہ میر کا ضبط ٹوٹا اور اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا بازو پکڑتے ہوئے تقریباً اسے جھنجوڑا۔
’’کہا تھا ناں اس سے دور رہو… مگر تم کب کسی کی سنتی ہو؟‘‘ بھسم کرتی نظروں سے وہ اسے جلا کر راکھ کردینے کی شدید خواہش کرتا ہوا مزید بولا۔
’’اور مجھے تو یقین ہے میرے منع کرنے کی ضد میں ہی تم اس لفنگے کے ساتھ یہاں تک آئی تھیں۔‘‘ وہ جو بھی کہہ رہا تھا بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا مگر وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ سعود اس کو یہاں لاکر اپنے دوستوں کے درمیان اس کے ساتھ اس طرح اوچھی حرکت کرے گا… جس کے بعد وہ شاہ میر سے تو کیا اب خود سے بھی نظر نہیں ملا پا رہی تھی اور اب بھی کچھ بھی بولنے کی بجائے وہ بس زار و قطار آنسو بہا رہی تھی مگر اس کا اس طرح آنسو بہانا شاہ میر کے غصہ کو مزید بڑھا رہا تھا۔
’’اب کیوں ٹسوے بہا رہی ہو؟ تم تو بہت سمجھ دار ہو ناں تو پھر اب اس طرح آنسو بہا کر کیوں مزید تماشا لگانے کی کوشش کررہی ہو؟‘‘ وہ بے انتہا ہتک آمیز انداز میں اس کو ڈانٹ رہا تھا مگر آج اس کا ڈانٹنا برا لگنے کی بجائے بڑا بھلا محسوس ہورہا تھا۔ وہ شرمندہ ہوکر اس کے سینے سے سر ٹکا کر ایک بار پھر بے تحاشا رو دی… شاہ میر اس حملے کے لیے قطعی تیار نہ تھا… اس لیے ایک دم بوکھلا گیا۔ وہ شاید اس وقت اپنے حواس میں نہ تھی اسی لیے شاید اپنی اس حرکت کا اندازہ نہیں تھا اس کی مخدوش حالت اور ذہنی رو کا سوچ کر شاہ میر ایک دم ٹھنڈا پڑا… اب جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا تھا‘ پھر اسے کیا ڈانٹتا ہی رہتا… اس لیے خود کو سنبھال کر اس نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اس خود سے الگ کرتے ہوئے اس کے آنسو صاف کیے اور مزید کچھ بھی کہے بنا اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے گھر کے لیے نکل آیا… راستے بھر ان دونوں کے درمیان خاموشی قائم رہی۔
اچھی بات یہ ہوئی کہ ایسی حالت میں اس کا سامنا گھر میں کسی سے بھی نہ ہوسکا‘ اس نے سیدھا اپنے کمرے کا رخ کیا پھر اس وقت تو وہ کسی سے بھی سامنا کرنے سے بچ گئی تھی مگر اندر سے وہ یہ سوچ کر بری طرح ڈر رہی تھی کہ اگر شاہ میر نے اس بات کا ذکر گھر میں کردیا تو…؟ وہ سوچتی رہی اور ڈرتی رہی… مگر کئی دن گزر جانے کے بعد بھی جب شاہ میر نے اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کیا تو جہاں وہ اس طرف سے مطمئن ہوئی وہیں اس کے دل میں شاہ میر کی قدر مزید بڑھ گئی تھی۔
شاہ میر کے حوالے سے اب کسی قسم کی ناگواری‘ نفرت یا چڑچڑا پن باقی نہ بچا تھا مگر شاہ میر…؟
/…٭…/
زرش بدل گئی تھی‘ سب اس تبدیلی کی وجوہات سے انجان ہونے کے باوجود خوش تھے‘ بس ایک شاہ میر تھا جو اس کی طرف سے اس حد تک بے خبر ہوگیا تھا کہ وہ سامنے بھی ہوتی تو وہ انجان بن کر آگے بڑھ جاتا۔ ایسے میں وہ دکھی ہو کر کئی کئی گھنٹے کڑھ کر سوچتی رہ جاتی مگر جب اپنی غلطی کا خیال آتا تو شرمندہ ہوکر لب بھینچ لیتی… بے شک شاہ میر کے لیے اس کی سوچ کا زاویہ بدل گیا تھا اور وہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کو تیار بھی تھی مگر شاہ میر کا رویہ… وہ جتنا سوچتی اپنے خول میں سمٹتی جاتی۔
کیونکہ وہ اس حقیقت سے باخبر تھی کہ سوچ کا زاویہ اس کا بدلہ ہے شاہ میر کا نہیں… شاہ میر تو آج بھی شروع دن کی طرح اسے ناپسند کرتا ہے اور اب تو شاید وہ اس سے نفرت کرنے لگا ہوگا… تب ہی اس دن کے بعد سے اس کے سامنے تک آنے سے گریز کرتا رہا ہے تو پھر وہ بات بھی کرتی تو کیا…؟
شاہ میر کے رویے کا سوچ کر اس نے خود کو سنبھال کیونکہ یہ تو طے تھا کہ وہ خود کبھی بھی اپنے بدلے ہوئے جذبات کے متعلق شاہ میر کو کچھ بتانے والی نہیں تھی کیونکہ آج بھی اپنی انا اسے ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔
/…٭…/
عام سے دنوں میں کچھ خاص اور زیادہ پریشان کن بات یہ ہوئی کہ امتحانات ختم ہونے کے ہفتے بعد ہی زرش کے کلاس فیلو رامیس کا پروپوزل اس کے لیے آگیا۔ اس پروپوزل نے سب سے زیادہ اماں کو پریشان کیا تھا‘ اس لیے انہوں نے رامیس کی فیملی کے جاتے ہی اسماء سے کہا۔
’’تم نے ان لوگوں کو انکار کیوں نہیں کیا؟ سیدھا سیدھا ان لوگوں سے کہہ دیتیں کہ ہماری زرش کی بات تو شاہ میر سے طے ہے۔‘‘
’’آپ پریشان کیوں ہورہی ہیں آپا؟ اگر میں نے ان کو انکار نہیں کیا تو اقرار بھی تو نہیں کیا ناں… بس میں مصلحتاً چپ رہی کیونکہ میری سمجھ میں بالکل نہیں آرہا تھا کہ میں ان لوگوں کو آخر کیا جواب دوں…؟‘‘ الجھے الجھے انداز میں انہوں نے مزید کہا۔
’’کیونکہ رشتہ ہر لحاظ سے بہترین لگا مجھے… ایک پل کے لیے زرش اور شاہ میر کی ناپسندیدگی کا سوچ کر میں نے ہاں کرنے کا ارادہ بھی کرلیا تھا مگر دوسرے ہی پل مجھے آپ کا خیال آگیا…‘‘ قدرے ہچکچاتی نظروں سے ان کی طرف دیکھا پھر ان کے تاثرات دیکھ کر فوراً وضاحت دی۔
’’اگر شاہ میر کے لیے زرش آپ کی خواہش ہے تو ہمیں بھی اپنی زرش کے لیے سب سے موزوں شاہ میر ہی لگتا ہے… کیونکہ شاہ میر سے شادی کی صورت میں ہماری زرش ہمیشہ ہماری نظروں کے سامنے رہے گی مگر ہماری خواہش کرنے سے کیا ہوگا آپا… جب وہ دونوں ہی راضی نظر نہیں آتے…‘‘ آخر میں ان کا انداز بڑا مایوس کن تھا‘ جس کو محسوس کرکے اماں نے فوراً کہا۔
’’تم ان دنوں کی ناپسندیدگی کا بالکل مت سوچو اسماء… وہ ان کا بچپن تھا اب تم نے دیکھا نہیں دونوں کتنے بدل گئے ہیں‘ نہ تو آپس میں لڑتے‘ نہ کسی بات میں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنی زرش… وہ تو بالکل ہی بدلی ہوئی لگتی ہے مجھے… ہر وقت دھیمی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے بہت سمجھدار لڑکی لگنے لگی ہے‘ رہ گیا شاہ میر… تو وہ تو ویسے ہی اپنے کاموں میں اتنا الجھا رہتا ہے‘ بھول بھال گیا ہوگا وہ بھی بچپن کی وہ فضول باتیں… آج آجانے دو اسے میں کرتی ہوں اس سے بات تم بس اس رامیس کو فوراً انکار کردو…‘‘ خاصی تفصیل سے انہوں نے اسماء کے دبے دبے سب ہی اعتراضات کو مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے آخر میں شاہ میر سے بات کرنے کا کہا تو اسماء بیگم نے گہرا سانس بھر کر کہا۔
’’ہمم… چلیں آپا اب پہلے شاہ میر سے بات کرلیں‘ اس کے بعد ہم رامیس کے رشتے کے لیے کچھ فائنل کریں گے۔‘‘ انہوں نے بات ختم کی تو اماں بھی سر ہلاتی ہوئی چپ ہوگئیں۔
/…٭…/
رات کو شاہ میر لیپ ٹاپ کھولے اپنے تھیسس پر کام کررہا تھا جب ہلکے سے دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے سر گھما کر دیکھا تو اماں دروازے میں سر دیے اسی کی طرف دیکھ رہی تھیں… اس نے حیرت سے گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے بارہ بجا رہی تھی۔
’’اماں آپ اس وقت…؟‘‘ کام چھوڑ کر وہ ان کے قریب آیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بڑے احترام سے انہیں صوفے پر بٹھاتے ہوئے بولا۔ اماں نے بیٹھے ہی بغیر کسی تمہید کے بولنا شروع کیا۔
’’زرش کی کلاس میں ایک لڑکا پڑھتا ہے رامیس اس نے زرش کے لیے رشتہ بھیجا ہے۔‘‘ منہ بنا کر انہوں نے بلی تھیلے سے باہر نکالی تو شاہ میر بری طرح چونکا۔
’’رامیس کا رشتہ زرش کے لیے؟‘‘ سوچ کے گھوڑے نے ایک بار پھر سر پٹ دوڑنا شروع کردیا تھا۔
’’رشتہ… یعنی کہ شادی اور شادی کا مطلب زرش کی اس گھر سے رخصتی اور رخصتی کا مطلب ہمیشہ کے لیے اس بدتمیز‘ سر پھری لڑکی سے چھٹکارا اور چھٹکارے کا مطلب تھا مکمل آزادی یعنی کہ گھر بھر میں اس اکیلے کی حکمرانی‘ ماموں‘ مامی سمیت اماں کے پیار کا اکلوتا حق دار…‘‘ ایک طرف سوچ کا گھوڑا اڑتا ہوا چھلانگیں مارتا ہوا میں اڑنے کو تھا… تو دوسری طرف زرش کی طرف سے جلا بھنا دل خوشی سے بھنگڑے ڈالنے لگا تھا… اس نے اپنی خوشی کو اماں سے چھپایا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہہ دے ’’فوراً ہاں کردیں۔‘‘ اپنی خوشی کو چھایا تو اماں کی پریشانی نمایاں ہوئی… تو وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
’’اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے پیاری اماں…؟‘‘ اس نے کہا تو اماں نے اسے گھورا۔
’’میں اکیلی پریشان نہیں ہورہی… اس رشتے کی آمد پر اسماء بھی پریشان ہے اور تیرا ماموں سنے گا تو وہ بھی پریشان ہوجائے گا۔‘‘ ان کا اس قدر پریشان کن انداز اور الجھی ہوئی باتیں وہ واقعی کچھ بھی نہیں سمجھ پارہا تھا۔ اس لیے ناسمجھی سے بولا۔
’’وہی تو پوچھ رہا ہوں… اس ساری بات میں پریشانی کی کیا بات ہے‘ کیا آپ لوگوں نے زرش کی شادی نہیں کرنی؟‘‘ اب کی بار پریشانی نے اسے اپنے گھیرے میں لیا‘ جس سے قطعی نظر اماں جھٹ سے بولیں۔
’’کرنی ہے کیوں نہیں کرنی… مگر رامیس سے نہیں تیرے ساتھ کرنی ہے زرش کی شادی۔‘‘ انہوں نے بڑا دھماکا کیا تو وہ بری طرح اچھلا۔
’’زرش کی شادی میرے ساتھ…؟‘‘ شاک کی کیفیت میں اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا۔
’’ہاں… ہاں تیرے ساتھ زرش کی شادی…‘‘ پہلے جو جوش دبا دبا دکھائی دے رہا تھا اب لالی بن کر ان کے چہرے پر پوری طرح امڈ آیا تھا۔
’’اور یہ میری ہی نہیں تیرے ماموں مامی کی بھی خواہش ہے…‘‘ حد درجہ جوشیلے انداز میں انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
’’ہوتی رہے کسی کی بھی خواہش‘ مجھے ہرگز بھی زرش سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ شاک کی کیفیت سے نکلتے ہوئے اس نے بے حد رکھائی سے کہا تو اماں کو گہرا صدمہ پہنچا۔
’’شاہ میر…‘‘ اماں کا تمتماتا چہرہ بجھا تھا… اس نے توجہ کیے بنا ہاتھ اٹھا کر سفاکی سے کہا۔
’’دیکھیں اماں‘ اب اگر آپ نے اس شادی کے لیے مجھے ذرا بھی بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو آپ کی قسم میں اس پنکھے سے رسی ڈال کر خود کو پھانسی دے لوں گا مگر آپ کی چہیتی اس جنگلی زرش سے شادی ہرگز نہیں کروں گا۔ پھر بیٹھی رہ جانا اپنی پیاری بھیتجی کو لے کر جوان بیٹے کی میت پر۔‘‘ کمرے میں لگے اکلوتے پنکھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے اپنے خطرناک ارادوں سے انہیں آگاہ کیا تو وہ حقیقتاً دہل گئیں۔
’’ایسی باتیں مت کر شاہ میر…‘‘ آخر کو وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا ان کا دل بڑی بری طرح دہلا تھا۔
’’میں سچ کہہ رہا ہوں اماں… ساری زندگی تو اس آفت کو بھگتتا رہا میں‘ اب جو رامیس سے شادی کی صورت اس آفت سے چھٹکارا ملنے کا امکان نظر آرہا ہے تو آپ اس آفت کو ساری عمر بھگتنے کے لیے میرے سر مونڈھنے کو تیار نظر آرہی ہیں… مگر آپ کو صاف صاف بتائے دے رہا ہوں… میں اس سے شادی ہرگز بھی نہیں کروں گا۔‘‘ اس کے سنجیدہ انداز پر اماں نے بھی سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا اور گلوگیر لہجے میں بولیں۔
’’اچھا ٹھیک ہے‘ میں زبردستی کرکے تجھ سے اپنی بات نہیں منوائوں گی… میں اسماء کو کہہ دیتی ہوں وہ رامیس کو ہاں کردے۔‘‘ اماں نے آگے کی طرف قدم بڑھائے اور ہاری ہوئی چال چلتی خاموشی سے اس کے کمرے سے نکل گئیں… اماں کے جانے کے بعد اپنے اندر بھرے غصے کو گہری سانس کی صورت باہر نکلتے ہوئے وہ ڈھیلے سے انداز میں بیڈ پر چت گرا۔ اماں اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ زرش سے کس حد تک چڑتا ہے‘ کس قدر اسے ناپسند کرتا ہے اور تو اور سعود والے واقعے کے بعد سے تو وہ اسے زہر سے بھی زیادہ بری لگنے لگی تھی… خود سر‘ بدتمیز‘ بداخلاق‘ سڑیل زرش شفیق… اس کا خیال آنے پر وہ نئے سرے سے غصے میں کھولنے لگا تھا۔
/…٭…/
اماں کے بعد پھر کسی نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا۔ بس یہ ہوا کہ زرش کے لیے رامیس کا رشتہ قبول کرلیا گیا… جو تھی تو خوشی کی بات مگر رشتہ طے ہوجانے کے بعد سے سب دکھی تھے سوائے شاہ میر کے اس کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ ہرکام میں سب سے آگے آگے رہا… حتیٰ کہ جب شادی کے لیے ایک ماہ کے بعد کی تاریخ رکھی گئی تو اس نے اپنی ساری مصروفیات ایک طرف رکھ کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے تمام انتظامات کی ذمے داری اپنے سر لے لی… اسماء مامی رات دن شاپنگ میں مصروف رہنے لگیں‘ جبکہ اماں نے گھر کی ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی… سب ہی مصروفیت میں گھرے‘ اس کے سامنے تھے بس ایک زرش تھی جس سے ابھی تک اس کا سامنا نہیں ہوا تھا… اسی لیے وہ اس شادی کے متعلق اس کے خیالات وتاثرات سے بے خبر تھا اور شاید بے خبر ہی رہتا جو اگر اس دن اسماء بیگم کے ساتھ شاپنگ سے واپسی پر وہ لائونج میں نہ آیا ہوتا۔
’’پھوپو آپ پاپا کو سمجھائیں ناں… مجھے نہیں کرنی کسی رامیس وامیس سے شادی۔‘‘ اماں کے سامنے بیٹھی وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے سسک رہی تھی۔
شاہ میر کے اندر داخل ہوتے قدم رکے سو رکے… خود مامی بھی شاپنگ بیگز ایک طرف ڈالتی اس کی طرف بڑھیں۔ انہیں ایک دم بہت سے اندیشوں نے آن گھیرا کیونکہ جس دن سے رشتہ طے ہوا تھا وہ اس دن سے اس کی خاموشی کو محسوس تو کررہی تھیں مگر انہوں نے اس کی خاموش کو فطری شرم و حیا پر محمول کیا مگر اب اس کو اس طرح سسکتے دیکھ کر اور اس کا انکار سن کر وہ پریشان ہوگئی تھیں۔
’’زرش… میری جان… کیا ہوا… کیوں اس طرح رو رہی ہو؟‘‘ وہ پریشان سی اس کے مقابل بیٹھیں تو اماں نے کہا۔
’’میں تو اسے شادی کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے گر بتانے لگی تھی مگر بجائے میری باتیں سننے کے اس نے تو اس طرح رونا شروع کردیا کہ میں خود پریشان ہوکر رہ گئی۔‘‘ صورت حال گمبھیر محسوس ہونے لگی تو وہ گہری سانس بھرتا ہوا آگے بڑھا اور دھپ کرکے صوفے پر بیٹھ گیا۔
’’آخر معلوم تو ہو کہ اب ایسے وقت پر محترمہ کیوں ٹسوے بہا رہی ہیں… ‘‘
’’اب بتا بھی چکو زرش کیوں رو رہی ہو تم… کیوں نہیں کرنی تمہیں رامیس سے شادی؟‘‘ اسماء بیگم نے پریشانی کے عالم میں ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تو اس نے ماں کی طرف دیکھا۔
’’مما… بس مجھے رامیس سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ رونے کی وجہ سے اس کی آواز اب بھاری ہونے لگی تھی۔
’’مگر کیوں…؟‘‘ اسماء بیگم اور اماں نے بیک وقت پوچھا۔
’’بس نہیں تو نہیں ‘‘ نروٹھے پن کی انتہا کی تو شاہ میر اس کے شاہانہ انداز پر عش عش کر اٹھا جبکہ اسماء بیگم نے اس کی ضد پر سر تھام لیا اور اماں نے بڑی سمجھداری سے سوال کیا۔
’’اچھا… رامیس سے نہیں کرنی‘ چلو ٹھیک ہے پھر یہ بھی بتادو کس سے کرنی ہے تم نے شادی۔‘‘
’’کسی سے بھی… مگر بس رامیس سے نہیں… اور یہ انکار میرے بجائے آپ لوگوں کو خود کردینا چاہیے تھا… بھلا بتائو کوئی یوں بھی کرتا ہے اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کے ساتھ… ذرا خیال نہ آیا آپ لوگوں کو میرا رشتہ رامیس کے ساتھ کرتے ہوئے؟‘‘ بات کو ادھورا چھوڑ کر اس نے حاضرین کے چہروں پر نظر ڈالی جو اس کی بات کا مفہوم سمجھنے سے قاصر تھے۔
’’اتنی دور… ملک سے باہر رہنے والا رامیس اور اس کی فیملی…!‘‘ لفظوں کو کھینچ کھینچ کر ہر لفظ پر زور دے کر ادا کرتی بالآخر اس نے اپنے انکار کی وضاحت کی۔
’’حالانکہ اس نے بتایا بھی ہے کہ وہ شادی کے بعد باہر سیٹل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے‘ اس کے باوجود بھی… ہائے اللہ‘ میں کیسے رہوں گی آپ سب کے بنا…‘‘ اس پر ایک بار پھر رقت طاری ہونے لگی۔
’’سب کچھ فائنل ہے… شادی کے دن قریب ہیں… تو تمہیں اعتراض ہونے لگا ان باتوں کو سوچنا چھوڑو… جہاں تمہارا نصیب تھا وہاں رشتہ جڑچکا ہے اس لیے نہ خود پریشان ہو نہ ہمیں کرو۔‘‘ اسماء بیگم خاصی سنجیدہ دکھائی دے رہی تھیں… زرش نے بھی سنجیدگی سے کہا۔
’’میرا مقصد آپ لوگوں کو پریشان کرنا نہیں ہے مما… میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس شادی کے لیے میں خود کو راضی کرلوں مگر میرا دل کسی طرح راضی نہیں ہورہا۔‘‘ شاہ میر کو اس کا واویلا ایک آنکھ نہ بھایات جب ہی دھیمے سے بڑبڑایا۔
’’اس محترمہ کی کبھی کوئی کل سیدھی ہوہی نہیں سکتی… اس نے فرض سمجھ لیا ہے ہمیشہ اپنوں کو پریشان کرنے کا… اس لیے ہر بار کوئی نہ کوئی ڈراما کری ایٹ کرکے بیٹھ جاتی ہے۔‘‘ وہ ابھی بڑبڑاتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا کہ وہ روتی قیامت اس کے مقابل آئی۔
’’سنو شاہ میر… ماما‘ پاپا تمہاری ہر بات مانتے ہیں… پلیز آج ایک آخری بار میری مدد کردو… ان سے کہو میری شادی رامیس سے نہ کریں۔‘‘
’’میں…؟‘‘ حیرت سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اس کی یہ اٹھی نظر جیسے خود اس کے لیے قیامت ثابت ہوئی… وہ شدت سے گڑبڑایا اور پھر ڈگمگا کر رہ گیا۔
بھیگی سرخ ابھرتے ڈوروں والی قاتل آنکھیں‘ گلابی رنگت جو رونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی لال ہورہی تھی‘ چھوٹی سی سوں سوں کرتی ناک‘ شاہ میر کو نظر ہٹانے میں جیسے صدیاں لگ گئی تھیں۔
/…٭…/
اس کا اعتراض بمعہ اس کی شدت سے رونے کے جب شفیق صاحب تک پہنچا تو پہلے تو وہ ایسی صورت حال کا سن کر پریشان ہوئے کیونکہ زرش کا یہ اعتراض اب ایسے موقع پر فضول ہی تھا… وہ اب چاہنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کرسکتے تھے‘ اس لیے خود کو سنبھال کر ایک دم روایتی ابا جان کا کردار ادا کرتے ہوئے زرش کو اپنی عزت کا واسطہ دے کر اس کو اپنے تمام اعتراضات کا گلا گھونٹنے پر مجبور کردیا تھا۔
/…٭…/
اب شادی میں بس ایک ہفتہ ہی باقی بچا تھا۔ پہلے وہ جو ہر کام بڑھ چڑھ کررہا تھا… اب ہر کام سے نظر چرائے سارا دن کمرے میں بند پڑا رہتا یا پھر گھر سے باہر وقت گزار کر رات گئے واپس آتا… یہ دل اب اس کے لیے تڑپ رہا تھا جو کسی اور کی ہونے والی تھی۔ رامیس کی فیملی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عین شادی کے دن پہنچنے والی تھی اس لیے بارات کے علاوہ باقی کے سارے فنکشن انہیں لڑکے والوں کے بنا ہی اپنے گھر پر منعقد کرنے تھے چونکہ گھر کی پہلی شادی تھی اسی وجہ سے وہ بھی دل کھول کر اپنے ارمان پورے کررہے تھے۔ آج گھر میں مہندی کا فنکشن تھا… سب اپنی موج مستی میں اس قدر مگن تھے کہ ان میں سے کسی نے بھی شاہ میر کے دھواں دھواں چہرے اور اس کے بدلے انداز دیکھ کر بھی کچھ بھی استفسار کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی… بڑے دکھے دل کے ساتھ اس نے مہندی کے فنکشن میں شرکت کی اور تھوڑی ہی دیر بعد سر درد کا بہانہ کرتا اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا تھا۔
/…٭…/
رات تقریباً دس بجے کے قریب زرش کیل کانٹوں سے لیس دلہن کا روپ دھارے شادی ہال میں آئی تو جیسے وقت سمیت ہر شے تھم گئی تھی اگر کسی چیز میں کوئی حرکت تھی تو وہ تھا شاہ میر کا دل۔
اے رخ یار تیرے حسن پہ مٹنے کے لیے
دل بے تاب نے ہنگامہ اٹھا رکھا ہے…!
اردگرد سے بے خبر ہوکر وہ بے خود سا زرش کو دیکھ رہا تھا… اس پل وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ اب وہ زرش کو دیکھنے کا حق کھوچکا ہے… اس کا یہ آتشیں روپ اور وہ خود اب سے کچھ دیر بعد کسی اور کی ہوجانے والی تھی۔
تقریب کی رونق عروج پر تھی۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے مگر بارات کے آنے کے ابھی تک کہیں کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
’’اللہ خیر کرے… مجھے تو بارات کے آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔‘‘ ایک طرف سے سرگوشی بلند ہوئی تو دوسری طرف سے جواباً کہا گیا۔
’’ہاں انجانے لوگوں میں شفیق میاں نے رشتے داری جوڑی ہے… مجھے تو مہندی ہی میں بڑا اچنبھا ہوا تھا جب میں نے لڑکے والوں کو غیر حاضر پایا تھا… میں نے پوچھا بھی اسماء سے تو اس نے بس یونہی گول مول سا جواب دے دیا کہ لڑکے کی فیملی ابروڈ رہتی ہے اس لیے بس وہ بارات میں ہی شرکت کرسکیں گے کوئی پوچھے ذرا… بیٹوں کی شادی کے تو سو طرح کے ارمان ہوتے ہیں یہ کیسے والدین ہیں جو بس بارات میں شرکت کرنے آئیں گے… بالکل غیروں کی طرح شرکت…‘‘ پشت کیے کھڑے شاہ میر نے بخوبی ساری گفتگو کو حرف بہ حرف سنا… وہ کیا کہتا بس لب بھینچ کر چپ کھڑا رہا جب اس کی سماعت سے کسی اور کی آواز ٹکرائی۔
’’غیروں کی سی بھی شرکت کی کیا بات کرتے ہیں جناب‘ مجھے تو بارات ہی کے آثار نظر نہیں آرہے…‘‘ بار بار ایک ہی تکرار… شاہ میر کو غصہ تو بہت آیا مگر کنٹرول کرتا پریشان سا شفیق ماموں کے پاس آکر دھیمی آواز میں کہا۔
’’کیا بات ہے ماموں بارات ابھی تک کیوں نہیں پہنچی؟‘‘ جس بات کی تفتیش کرنا اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ انجان بنا ماموں سے اس کے متعلق سوال کررہا تھا جس پر ماموں نے کافی تھکے ہوئے جواب سے اسے نوازا۔
’’مجھے تو خود نہیں معلوم شاہ میر…‘‘ ان کی اس طرح لاعلمی ظاہر کرنے پر شاہ میر نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا ماموں…! آپ کو کیوں نہیں معلوم…؟ آپ رابطہ کریں ان سے‘ بات کریں‘ پوچھیں کہ وہ لوگ ابھی تک بارات لے کر کیوں نہیں آئے۔‘‘ مشورہ دینا آسان تھا اس نے بھی مزے سے مشورے سے نوازا جس کو سن کر ماموں نے بڑی پریشانی سے کہا۔
’’میں رابطہ کرنے کی کب سے کوشش کررہا ہوں… مگر رامیس کا نمبر مسلسل بزی جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا تو اس نے فوراً کہا۔
’’اچھا آپ رامیس کا نمبر مجھے دیں‘ میں ٹرائی کرتا ہوں۔‘‘ اس کی بات سن کر ماموں نے ہاتھ میں پکڑے اپنے موبائل کو اس کے سامنے کردیا‘ موبائل پکڑتے وقت ایک نظر اس نے ماموں کی طرف دیکھا تو ان کی بے بس حالت دیکھ کر اس کا دل دکھ سے بھرگیا… دل میں ابھرتی دکھ کی لہر کو دباتے ہوئے اس نے کانٹیکٹ لسٹ سے رامیس کا نمبر نکالنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی ماموں کے سیل کی رنگ ٹیون گنگنائی… ماموں نے بے تابی سے سیل فون اس کے ہاتھ سے لیا اور جلدی سے میسج اوپن کیا… یہ ایک واٹس ایپ میسج تھا جسے پلے کرنے کے بعد اب ان کے موبائل سے رامیش کی سنجیدہ سی آواز ابھر رہی تھی‘ جو سلام دعا کے بعد نہایت شرمندہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
’’آئی ایم سوری انکل… میں آپ سب سے نہایت شرمندہ ہوں… میں مانتا ہوں زرش میری پسند تھی مگر صرف میری‘ میرے گھر والے شروع دن سے اس رشتے سے خوش نہ تھے مگر میری ضد پر وہ میرا زرش سے رشتہ طے کرنے پر تیار ہوگئے تھے۔ آج بارات کے دن میرے بہت کانٹیکٹ کرنے پر بھی میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا… اب جب وہ نہیں آرہے تو مجھے اچھا نہیں لگ رہا کہ میں اپنے والدین کے بغیر بارات لاکر اپنی شادی رچالوں… اس لیے بہت شرمندگی کے ساتھ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ اب بارات نہیں آئے گی۔‘‘ سیل فون سے ابھرتی آواز کب کی بند ہوچکی تھی… مگر ماموں ہنوز اسی طرح سکتے کی سی کیفیت میں آنکھیں پھاڑے موبائل کی تاریک اسکرین کو گھور رہے تھے… ہال کی فضا یک دم سوگوار ہوگئی اور خود ماموں ہمت ہار کر ایک طرف پڑی کرسی پر ڈھے سے گئے۔
’’یہ ان کی لاڈلی کے ساتھ کیا ظلم ہوگیا…؟‘‘ اس کے بہتے آنسو جنہیں انہوں نے اپنی روایتی سی قسم دے کر خشک کرا دیے تھے کہیں وہ آنسو اس انہونی کا اشارہ تو نہیں تھے…؟ انہیں ایک دم اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں نظر آنا شروع ہوگئیں… انہیں احساس ہونے لگا کہ یہ جو انہوں نے رامیس کے کردار… اس کے متعلق پوچھ گچھ پر اکتفا کرکے رشتے کو اوکے کیا تھا یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی… انہیں اس کی فیملی کے متعلق بھی جانچ پڑتال کرانا چاہیے تھی… اور زیادہ نہیں تو جب رشتے کے وقت اس کے والدین کے بجائے اس کی دوست کی فیملی رشتہ لے کر آئی تھی انہیں اسی وقت چونک جانا چاہیے تھا… مگر اب یہ ’تھا اور کرنا‘ گزرا وقت واپس نہیں لاسکتا تھا… انجانے میں انجان شخص پر اعتبار کرکے وہ بری طرح رسوا ہونے والے تھے… انہیں اپنی پروا تو نہ تھی مگر ان کی بیٹی…؟ جب شاہ میر نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔
’’میں ابھی جاکر اس ممی ڈیڈی بوائے کی طبیعت ٹھیک کرتا ہوں۔‘‘ وہ غصے میں جانے کو پلٹا تھا تب ہی اس کے دوست واثق نے بازو پکڑ کر اسے روکتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں کیا لگتا ہے‘ اتنا بڑا سین کری ایٹ کرنے کے بعد وہ تمہیں اپنے گھر میں تمہارا منتظر ہوگا…؟ وہ ہرگز بھی اپنے گھر نہیں ہوگا۔‘‘ واثق (شاہ میر کا دوست) نے یقین سے کہتے ہوئے اسے جانے سے باز رکھا اور وہ رک گیا کیونکہ واثق کی بات میں دم تھا جس نے اسے بے دم کردیا تھا… سب ہی لوگ اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق چہ مگوئیاں کرنا شروع ہوچکے تھے… جنہیں چپ کرکے سننے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا… ماموں ابھی تک اسی سکتے کی کیفیت میں کرسی پر بے دم سے بیٹھے تھے جب خود کو سنبھالتی اماں ان کی طرف بڑھیں۔
’’شفیق… حوصلہ کر میرے بھائی…‘‘
’’آپا… اب ہماری زرش کی بارات نہیں آئے گی آپا…‘‘ وہ ایک دم بہت بوڑھے دکھائی دینے لگے… شاہ میر نے آگے بڑھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ سب اس کو دیکھ کر رہ گئے… اسماء مامی بھی اماں کے گلے لگ کر رو رہی تھیں… اسٹیج پر بیٹھی زرش بھی تقدیر کے اس وار سے آگاہ ہوچکی تھی جب ہی تو پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہر طرف دیکھ رہی تھی… مہمان ابھی تک موجود تھے کچھ ہمت بندھا رہے تھے تو کچھ انجوائے کررہے تھے۔
اماں نے جب ماموں کو اس طرح ٹوٹ کر کہتے سنا تو ایک دم کسی فیصلے پر پہنچتی ہوئی فوراً بولیں۔
’’کیوں بھئی ہماری زرش کی بارات کیوں نہیں آئے گی… زرش کی بارات ضرور آئے گی اور آج ہی آئے گی بلکہ سمجھو آگئی ہے…‘‘ اماں کا انداز بڑا ہی جوشیلا تھاجس پر سبھی نے حیرت سے ان کی طرف ایسے دیکھا جیسے صدمے سے ان کا دماغ چل جانے کا یقین ہوگیا ہو۔
اماں کا انداز‘ ان کے الفاظ ماموں‘ مامی دونوں ناسمجھی سے ان کی شکل دیکھنے لگے تھے جب اماں نے مزے سے کہا۔
’’میرا شاہ میر کرے گا اپنی زرش سے شادی… میں لائی ہوں اپنے شاہ میر کی بارات…‘‘ انہوں نے دھڑلے سے کہتے ہوئے شاہ میر کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر ان کی بات سن کر نکاح سے پہلے ہی شادی مرگ کی سی کیفیت نمایاں ہوگئی تھی۔
’’مگر آپا شاہ میر…‘‘ اسماء مامی نے ہچکچا کر کہا تو اماں نے فوراً چہک کر کہا۔
’’کیا شاہ میر… اب کوئی فکر مت کرو اسماء… یہ مجنوں کی شکل والا شاہ میر اب وہ شاہ میر نہیں رہا… حالت تو دیکھ اس کی… زرش کو پانے کی خوشی میں کیسے دیوانہ ہوا جارہا ہے…‘‘ ان کی شوخیاں عروج پر تھیں۔
ماموں‘ مامی نے بیک وقت شاہ میر کی طرف دیکھا پھر جو خوشی کو گلاب کی مانند اس کے چہرے پر بکھرے دیکھا تو ان کے فق چہروں کی رونق لوٹ آئی… محفل کی رونق ایک بار پھر بحال ہونے لگی… قاضی تو پہلے ہی موجود تھا… اماں کے اعلان کی بعد قاضی فوراً ہی حرکت میں آیا اور ذرا دیر بعد زرش شفیق کو شاہ میر کے نام کردیا گیا… اس ساری افراتفری میں اسے زرش کے چہرے کو جانچنے کا خیال ہی نہ آیا کہ اپنے نام کے ساتھ شاہ میر کا نام سجتے دیکھ کر اس کے چہرے پر کس قدر حسین رنگ اتر آئے تھے۔
/…٭…/
کمرے میں داخل ہوکر آہستہ سے دروازہ بند کرتا ہوا وہ جونہی مڑا کوئی چیز ٹھاہ کرکے اس کے سر سے اس زور سے ٹکرائی کہ وہ بدحواس ہوتا لڑکھڑا کر دروازے سے جا ٹکرایا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا یکے بعد دیگرے کئی حملوں نے اس کے حواس بالکل ہی خطا کردیے اور پھر تو جیسے نئی نویلی دلہن نے باقاعدہ حملوں کا آغاز کرتے ہوئے اسے نشانے پر رکھ لیا تھا… منٹوں میں خود کو سنبھال کر معاملے کو بھانپتے ہوئے نشانوں کی سلامی دیتی توپ بنی زرش کے قریب پہنچ کر اس کی دونوں کلائیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ہاتھوں کی مضبوط گرفت کی بدولت ہاتھ میں پکڑی پرفیوم کی بوتل چھوٹ کر زمین پر جاگری تھی۔
’’آج رات ہی بیوہ ہونے کا ارادہ ٹھان کر آئی ہو کیا…؟‘‘ انداز کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی گرفت میں بھی نرمی اتری تو اس نے بنا کچھ بولے خشمگیں نظروں سے اس کو گھورا… تو وہ ہنس کر بولا۔
’’ویسے یہ کون سا طریقہ ہے اپنے نئے نویلے اکلوتے دلہا کے استقبال کرنے کا…؟‘‘ اب کی بار شاید لفظوں نے اندر کہیں ہلچل مچائی تھی… لبوں کا قفل ٹوٹا اور وہ تیکھے انداز میں بولی۔
’’شکل دیکھی ہے نئے نویلے دلہا نے اپنی؟‘‘
’’آ… ہاہ…‘‘ کیا انداز تھا اس کا دل دھڑک دھڑک کر بہکا۔
یہ تلخ تلخ سا لہجہ‘ یہ تیز تیز سی بات
مزاج یار کا عالم شراب جیسا ہے!
اس نے گہری ٹھنڈی سانس بھری۔ نظر کا تیکھا پن ہنوز تھا مگر انداز ہرگز بھی طنزیہ نہ تھا‘ اس نے محسوس کیا… اس کو دیکھا اور پھر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دو قدم پیچھے کی طرف چل کر سامنے موجود ڈریسنگ ٹیبل کے بڑے سے شیشے میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھا۔
’’شکل اور حلیہ تو وہی کل والا ہی تھا… بس اب ذرا دل کی حالت بدلنے سے ظاہری حالت بھی شوخی سی محسوس ہورہی تھی۔ پہلی یونہی سی نظر کے بعد دوسری نظر تفصیل سے ڈالی گئی تھی۔
وہی بڑھی ہوئی شیو جو نکاح سے پہلے اسے مجنوں کا جانشیں ثابت کرنے کے سارے ریکارڈ توڑ دینے کو تھی… اب دل کی مراد بر آنے کی بدولت یہی بڑھی شیو اس کے چہرے کا نور بڑھاتی محسوس ہورہی تھی اور وہ آنکھیں جو لال انگارہ تھکی ہونے کی بدولت اسے نشئی ثابت کرنے پر تلی تھی اب انہیں آنکھوں میں جذبات کے شوخ جگنو امڈ امڈ کر اسے ہوا میں اڑائے دے رہے تھے… اسے بے ساختہ خود پہ پیار آنے لگا تو دلفریبی سے مسکراتے ہوئے اس نے خود پر سے نظر ہٹا کر شیشے میں اپنے برابر دائیں جانب ابھرتے زرش کے عکس کو نظر بھر کر دیکھا… جو ناک چڑھائے ٹیڑھی نظر سے اسی کی سمت دیکھ رہی تھی۔
دیکھا تمہارا عکس جو اپنے وجود میں
اتنا میں اپنے آپ کو اچھا لگا کہ بس!
نرم گرم‘ رو پہلے جذبات کی روانی میں بہتے ہوئے اس کے عکس سے نظر ہٹا کر وہ دھیرے سے چلتا ہوا اس کے ذرا قریب آکر بولا۔
’’آج میں کیوں…؟ آج بھی تم ہی دیکھ کر بتائو میری شکل وہ… پہلے دن والے شاہ میر کے جیسی دیہاتی تو نہیں لگ رہی ناں…؟ بتائو لگ رہا ہوں ناں تمہارا ہینڈسم ہیرو…‘‘ شوخی سے ہنس کر بولتے اس نے بڑی ہی پرانی بات کا حوالہ دیتے ہوئے جیسے اسے کچھ یاد کرانے کی کوشش کی تھی مگر وہ کب کچھ بھولی تھی جو اب کچھ یاد کرتی… تیکھی ٹیڑھی نظر فوراً جھکی۔
’’ترس کھا کر کی ناں تم نے مجھ سے شادی…‘‘ اٹک اٹک کر دریافت کیا۔
شاہ میر نے بڑا ہی بے ساختہ سر کو دائیں بائیں گھما کر انکار کرتے ہوئے کہا۔
’’نہیں… ہرگز نہیں…‘‘
’’تو پھر کیوں کی تم نے مجھ سے شادی… پہلے تو تم نے خود مجھ سے شادی سے انکار کردیا تھا۔‘‘ اس کے سوال پر وہ ایک دم چونکا۔
’’تم نے چھپ کر ہماری باتیں سنیں…‘‘ بڑی بے یقینی سے پوچھا تو وہ فوراً انکار کرتے ہوئے بولی۔
’’میں کیوں چھپ کر تمہاری باتیں سنتی… وہ تو بس میں وہاں سے گزر رہی تھی تو اپنا نام سن کر رک گئی… تو پھر سب سنا۔‘‘ اس نے اٹک اٹک کر اپنی صفائی دی‘ جس پر شاہ میر کے لبوں پہ بے ساختہ مسکراہٹ رینگی۔
’’میرے انکار سے تمہیں دکھ ہوا ہوگا ناں…؟‘‘ اس نے بڑی تیزی سے اس کو گھیر کر اپنے لفظوں کی گرفت میں لیا۔
’’کیوں‘ مجھے کیوں ہونے لگا دکھ…‘‘ منہ بنا کر نظر چرائی تو دلنشین مسکراہٹ چہرے پر سجائے شاہ میر نے اس کی چھوٹی سی ناک کو انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان پکڑ کر دھیرے سے دباتے ہوئے گمبھیر لہجے میں کہا۔
’’مگر مجھے اس وقت بڑی تکلیف محسوس ہونے لگی تھی جب تم رامیس سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوگئی تھیں… سچ میں بڑا ہی بے ایمان نکلا میرا یہ نکما دل… ایسے ٹائم پہ آکر مجھے دغا دیا جب سب کچھ ہاتھ سے نکل ہی گیا تھا…‘‘ وہ مزے لے کر اپنی کیفیت سے اسے آگاہ کررہا تھا جبکہ وہ حیرت سے جیسے مرنے کو تھی۔
’’وہ تو شکر ہے قسمت نے یاوری کی اور رامیش نامی کانٹے کو اپنے آپ ہی ہمارے درمیان سے نکال کر تمہیں میرے نام کردیا ورنہ سچی میں‘ میں نے مرمرا جانا تھا…‘‘ بڑے ہلکے پھلکے انداز میں اپنی محبت کا اعتراف کرتا ہوا وہ بڑا ہی پیارا لگ رہا تھا مگر وہ ماننے کوتیار ہی نہ تھی۔
’’تم مذاق کررہے ہو ناں…؟‘‘
’’لو بھلا میں کیوں مذاق کروں گا۔؟‘‘ وہ جیسے برا ہی تو مان گیا‘ جب قدرے خفا لہجے میں اس کو دیکھتا بولا۔
’’کیا محبت پر بس تمہارا ہی حق ہے… میں محبت نہیں کرسکتا کیا…؟‘‘
اپنے اعتراف کی بدولت اس کے چہرے پر اترتی قوس و قزح کے دلفریب رنگوں کو دیکھ کر اسے یہ علم ہوچکا تھا کہ اچانک رونما ہونے والی اس محبت کا صرف وہی شکار نہیں ہوا بلکہ زرش بھی اس کے ساتھ ہے اور وہ تو اس سے اختلاف کی جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اس کے دل کی ایسی لگن تھا جس کو اس نے مایوسی کے بالکل آخری کنارے پر پہنچ کر نجانے اپنی کس نیکی کے صلے میں اللہ سے پایا تھا‘ اس لیے دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس نے اطمینان کے ساتھ اس کے چوڑی سینے میں منہ چھپالیا کیونکہ اس کے دل کی لگن بن جانے والا شاہ میر اب ہمیشہ اس کو اپنے دل کی لگن بنا کر رکھنے والا تھا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close