Hijaab Jan 19

محبت روٹھ جاتی ہے

سیدہ فرحین جعفری

رشتے احساس کے ہوتے ہیں، انسیت تو ساتھ رہتے جانور سے بھی ہو جاتی ہے، کسی کے ہونے کا احساس ہی دل کو جوڑتا ہے لیکن جب دلوں سے احساس مر جائے تو رشتہ بوجھ بن جایا کرتے ہیں‘ ایسا بوجھ جس کے سر سے اتر جانے کے لیے لوگ دعائیں کرتے ہیں۔ جیسے بیٹیوں کو لوگ گائے، بکری کی طرح کسی بھی کھونٹے سے باندھ کر بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں‘ پھر یہ قسمت کی بات ہے کہ وہ بوجھ اتر جاتا ہے یا پھر لوٹ کر دگنے وزن سے سر کو مزید جھکا دیتا ہے۔
محبت بھی تو بوجھ ہوتی ہے۔ وہ بھی محبت کے بوجھ تلے دبنے لگی تھی، محبت جو کائنات کی سب سے اٹل سچائی ہے، محبت جو اس کائنات کے وجود میں آنے کا سبب بنی‘ محبت جو دلوں میں سفر کرتی روح میں اتر کر جان کا روگ بن جاتی ہے۔ یہی مہربان ہو تو چہرے پہ قوس و قزح کے رنگ سجاتی ہے‘ آنکھوں کو خوابوں کا راستہ دکھاتی ہے اور اگر روٹھ جائے تو اس سے زیادہ ظالم کوئی اور نہیں۔ نہ جانے محبت میں ہجر، جدائی، رسوائی اور بے وفائی کے داغ کیوں ملتے ہیں۔ جانے کیوں دل ان سے ہی ملتے ہیں جو نصیب میں نہیں ہوتے، جن سے قسمت کے ستارے نہیں ملتے۔ ابتدائے محبت کمال تو انتہائے محبت زوال۔ کبھی آگ تو کہیں گلزار۔ محبت کے رنگ ہزار۔ ہر رنگ دوسرے سے جدا… کوئی زندگی کی نوید دیتا تو کوئی زندگی میں سیاہ رات کی مانند۔
اس کی زندگی میں بھی سیاہ رات جیسے ٹھہر گئی تھی۔ ٹیرس میں رکھی سفید کرسی پہ پاؤں اوپر کیے، گھٹنوں پہ سر ٹکائے کسی سوچ میں الجھی فارحہ احمد۔ چار سال پہلے وہ بھی زندگی سے بھرپور ایک شوخ و چنچل لڑکی ہوا کرتی تھی۔ محبت کا روگ مسلسل تھا جو جان سے چمٹ گیا تھا۔ ایک بوجھ تھا جو دگنا ہو کے سر کو مزید جھکا گیا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’تمہیں یاد ہے میرا پہلا میسج؟‘‘ دھیمی خواب ناک آواز اس کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی۔
’’بھول سکتی ہوں بھلا۔‘‘ نیند سے بوجھل آواز میں بلا کی چاشنی گھلی ہوئی تھی۔
’’چلیں اب سو جاتے ہیں۔ صبح آفس بھی جانا ہے۔‘‘ وہ جیسے اسے یاد دلا رہی تھی۔
’’ہاں یار… ٹائم دیکھو پتا ہی نہیں چلا اور اتنی دیر ہوگئی۔‘‘ وہ محبت سے بولا۔
’’جی۔‘‘ وہ شرارت سے بولی۔
’’چلو پھر سو جاؤ شاباش۔ طبیعت خراب ہو جائے گی ورنہ‘ کتنا منع کرتا ہوں اتنی دیر جاگنے سے لیکن تم میری سنتی کب ہو۔‘‘ اس کے الفاظ پہ وہ پہلے حیران ہوئی پھر ہنستی چلی گئی۔
’’اچھا جی… آپ منع کرتے ہیں… کب منع کیا؟‘‘
’’اچھا چلو‘ اب اس بحث میں صبح ہی ہوجائے گی۔ اب سو جاؤ۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا۔
رسمی شب بخیر اور خیال رکھنا جیسے الوداعی کلمات کے بعد صبح چار بجے کال ختم ہوئی۔ اس نے الارم سیٹ کیا اور موبائل فون چارج پہ لگا کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔ بند آنکھوں کے اس پار خوب صورت خواب اور لبوں پہ دلفریب مسکراہٹ آکر ٹھہر گئی تھی۔
تین دن سے یہی ہورہا تھا۔ سوتے سوتے چار بج جاتے اور پھر صبح سات بجے آدھی ادھوری نیند کے ساتھ زندگی کے ہنگاموں میں گم ہونے کے لیے تیار ہو جاتی۔ محبت سے سرشار دل میں نہ سارا دن آفس میں خوار ہونے کی تھکن ہوتی نہ نیند پوری ہونے کا غم۔ دل ایک الگ ہی لے پہ دھڑک رہا ہوتا تھا۔ آنے والے وقت سے بے نیاز فارحہ احمد لمحوں میں ہی پُر سکون نیند کی وادی میں اتر چکی تھی۔
ء…ۃ…ء
سب کچھ ٹوٹ جائے پر وہ مان نہ ٹوٹے جو انسان خود سے بھی بڑھ کر کسی پر کرتا ہے، جس مان سے اس کی ساری زندگی جڑی ہوتی ہے۔ جس کے ٹوٹنے پر انسان ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنے لگتا ہے۔ محبت میں دل ٹوٹ جائے تو انسان جیسے خود سے ہی ہار جاتا ہے۔ اس درد کی کوئی دوا نہیں ملتی‘ پھر جان جائے یا جہاں کیا فرق پڑتا ہے۔
ء…ۃ…ء
وہ سو کر اٹھی تو رات کے نو بج رہے تھے۔ اف اتنا سو گئی میں۔ وہ جو سات بجے مغرب کی نماز پڑھ کے سوئی تھی، ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔ حسب عادت موبائل چیک کیا۔ آٹھ مسڈ کال اور تقریباً اتنے ہی میسج۔ وہ حیرانی کے ساتھ مسکرائی۔ وقت کم تھا‘ روٹی پکانا تھی۔ وہ جلدی سے اٹھ کے فریش ہوئی اور کچن کی طرف بھاگی۔ جلدی جلدی روٹیاں پکائیں، دستر خوان لگا کے چپکے سے موبائل لے کر گیلری میں آگئی‘ سوری کا میسج ٹائپ کرکے بھیجا اور دوسرے ہی لمحے کال آگئی۔ وہ مسکرائی۔
’’کیا سوری یار۔‘‘ کال ریسیوکرتے ہی اس کی پریشان آواز سماعت سے ٹکرائی۔
’’میں کتنا پریشان ہوگیا تھا‘ کتنے میسجز کیے، کالز کیں لیکن کوئی رسپانس نہیں‘ حد ہوتی ہے یار۔‘‘ وہ سچ میں روٹھ گیا تھا۔
’’سوری ناں میں سو گئی تھی‘ نو بجے آنکھ کھلی۔‘‘ اس نے صفائی پیش کی۔
’’سونے سے پہلے بتا دیتیں کہ سو رہی ہو… گھر جا کر بالکل ہی بھول جاتی ہو مجھے۔‘‘ ایک نیا شکوہ آیا۔
’’میں بھول سکتی ہوں آپ کو؟‘‘ اس نے محبت سے پوچھا۔
’’مجھے نہیں پتا لیکن آج بھول گئیں تھیں تم مجھے۔‘‘ اس کا انداز نہ بدلا۔
ء…ۃ…ء
’’میں پہنچ گئی ہوں خیریت سے۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے اطلاع دی۔ وہ ابھی ماموں کے گھر پہنچی ہی تھی کہ اس کا فون مخصوص دھن بجانے لگا‘ حالانکہ سارا راستہ وہ میسجز پہ تفصیلات دیتی آئی تھی۔
’’چلو تم کچھ کھا لو‘ تمہیں شام کو بھوک لگتی ہے۔‘‘ کوئی اس انداز سے فکر مند ہو تو دل کیوں نہ اس کے لیے دھڑکے۔
دس منٹ بات کرکے وہ اپنی کزن کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کے ماموں کی بیٹی کی شادی تھی اور وہ شرکت کرنے آفس سے سیدھی یہیں آگئی تھی۔ اب تین دن اسے یہیں رہنا تھا۔ یہ الگ بات تین دن کی اجازت اسے کتنی مشکل سے ملی تھی۔
’’ماشااللہ فارحہ… تم تو بہت پیاری ہوتی جارہی ہو۔‘‘ اسماء نے گلے ملتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ ایک ادا سے مسکرائی۔
دراز قد‘ کھڑے کھڑے نین نقش، صاف رنگت اور مناسب سراپا۔ وہ خوش شکل لڑکیوں میں شمار ہوتی تھی لیکن آج کل اس کے چہرے پہ ٹھہرے قوس و قزح کے رنگ اسے سب سے ممتاز کررہے تھے۔ آفس میں بھی اسے کافی تعریفیں سننے کو ملی تھیں۔ اب یہاں بھی سب نے نہ صرف نوٹس کیا بلکہ دل کھول کے تعریف کی۔ وہ شرم سے مزید گلنار ہوگئی۔
’’یہ سب آپ کی وجہ سے ہے ارمان‘ آپ کے ساتھ کی بدولت‘ میں اس قدر خوش ہوں جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔‘‘ اگلی رات ارمان سے بات کرتے ہوئے وہ اقرار کر بیٹھی تھی۔
ء…ۃ…ء
’’اداس ہو تم۔‘‘ آدھا گھنٹہ بات کرنے کے بعد ارمان کو محسوس ہوا کہ فارحہ پریشان ہے۔ بہت زیادہ اصرار کرنے پر فارحہ نے آخر بتا دیا۔
’’امی نے ڈانٹا ہے‘ اس مہینے میں یہ تیسرا رشتہ تھا‘ میں نے منع کر دیا… ابو نے بھی بہت سنائیں امی کو۔‘‘ اس نے دکھ سے بتایا۔
’’تو اس میں اپ سیٹ ہونے کی کیا بات ہے؟ نصیب میں ہوتا تو ہو جاتا ناں۔‘‘ ارمان نے بچوں جیسی بات کی تو وہ حیران ہوئی۔
’’ارمان میں آپ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘ اس کے لہجے سے دکھ ظاہر ہوا۔
’’میں کب کہہ رہا ہوں سوچنے کو‘ اچھا چلو پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اس نے باتوں میں لگا کر فارحہ کو بہلانے کی کوشش کی۔
محبت میں اپنی سمجھ بوجھ سب گروی رکھوانے والی فارحہ گھر آئی خوشیوں کو ٹھکرا رہی تھی۔ جانے اسے کس بڑے صدمے کا انتظار تھا۔
وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ دو بھائی شادی کرکے اپنی الگ دنیا بسا چکے تھے تو اس نے بہت خاموشی سے ابو کے ساتھ مل کے گھر بھر کی ذمہ داری اٹھا لی۔ جاب اس کی ضرورت تھی۔ وہ پچیس سال کی تھی۔ اپنی تکلیفوں اور پریشانیوں کو دل میں دفن کیے وہ اپنے اعلا اخلاق اور ہنس مکھ طبیعت کی بدولت آفس میں ایک الگ مقام بنا چکی تھی… لیکن تھی تو وہ ایک لڑکی ہی ناں‘ جو زندگی میں محبت کے سہارے کی محتاج رہتی ہے۔
ارمان علی اس کی بے رنگ زندگی میں ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی طرح آیا یا شاید اسے محسوس ہوا تھا۔ وہ اس کے ہی آفس میں کام کرتا تھا‘ مناسب نقوش والا ارمان علی‘ اپنی خوش مزاجی اور دوستانہ طبیعت کی وجہ سے کافی مقبول تھا۔ آفس کے کسی فرد سے اس کے بارے میں کبھی کچھ غلط سننے کو نہ ملا تھا۔ ہر بندہ اس کی تعریف کرتا تھا۔ احمر جو فارحہ کے ساتھ کام کرتا تھا اسی کی بدولت ان دونوں کی بات چیت شروع ہوئی۔ دوستی کے نام سے شروع کیا گیا یہ رشتہ کچھ ہی عرصے میں تکلفات کے تمام مراحل طے کر گیا۔ آہستہ آہستہ رفاقت بڑھتی گئی اور فارحہ جاناں اور ارمان جانو کہلانے لگے۔ احمر کے لیے فارحہ بھابی بن گئی۔ وہی ان کی دوستی کا ضامن اور گواہ تھا۔
ء…ۃ…ء
’’گیلری میں آئیے میڈم۔‘‘ وہ ابھی کل کے لیے اپنے کپڑے استری کرکے فارغ ہوئی تھی کہ موبائل کی مخصوص دھن سے چونکی۔ رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ بے اختیار اس کی نظر گھڑی پہ گئی تھی۔
’’ارمان کالنگ۔‘‘ کال ریسیو کرتے وقت وہ حیران ہونے کے ساتھ خوش بھی ہوئی تھی۔ وہ تیزی سے گیلری میں پہنچی تو گلی کے کونے پہ ارمان کھڑا تھا۔
’’آپ اس وقت یہاں کیا کر ہے ہیں؟‘‘ اس نے حیرت و خوشی کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا تھا۔
’’کل تمہاری سالگرہ ہے ناں تو سوچا سرپرائز دے دوں۔‘‘ ارمان کی بات پہ اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ آج سے پہلے اپنی سالگرہ اتنی خاص اسے کبھی نہیں لگی تھی۔
’’سچ بتائیں۔‘‘ وہ بے یقینی سے بلیک ٹی شرٹ میں ملبوس ارمان کو دیکھتی رہ گئی۔
’’نہیں… میں اس قت یہاں سموسے لینے آیا ہوں۔‘‘ وہ مصنوعی خفگی سے بولا تو وہ کھلکھلا کے ہنس دی۔ وہ آدھا گھنٹہ وہیں کھڑا بات کرتا رہا اور ٹھیک بارہ بجے اس نے بہت محبت سے اسے سالگرہ کی مبارک باد دی۔ اس کی سالگرہ یادگار ہوگئی تھی۔ اگلے دن ایک سوٹ گفٹ میں ملنے پر اس کی خوشی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ارمان کے التفات پہ اس رشتے کو دوستی سے بہت اوپر کا درجہ دینے لگی تھی۔ ارمان اس کی زندگی کا ارمان بن گیا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’آپ کا دل نہیں کرتا اب مجھ سے بات کرنے کا؟‘‘ بہت دل گرفتہ سی فارحہ نے میسج کیا اور پندرہ منٹ بعد آنے والے جواب سے اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
’’یار… میں آفس میں کوئی کام نہ کروں۔ ہر وقت موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہوں۔‘‘ مزید کسی سوال کی گنجائش ہی نہ تھی۔ جب سارا دن میسج پہ بات ہوتی تھی تب کام کا حرج نہیں ہوتا تھا۔ وہ موبائل ہاتھ میں لیے خود پہ ضبط کرتی رہی تھی۔
موسم بدل رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی ارمان کا رویہ بھی‘ وہ مسکراتی آنکھوں والی لڑکی مسکرانا بھول گئی تھی۔ بس ایک کسک، درد، ایک سوال ایسا‘ کیا ہوا جو ارمان اتنا بدل گیا۔ ارمان کے بہانے، فارحہ کے اندیشے، اس کے جذبے سچے تھے تو دل صاف اور پاکیزہ محبت کا امین۔ ایک راز سا تھا جو کھلتا نہ تھا۔ ایک پردہ تھا جو سرکتا نہ تھا۔ صبح بے رونق اور شام اداس ہوگئی تھی۔ ڈیپریشن بڑھا تو اثر طبیعت پر پڑا۔ گہرے کالے حلقوں نے چہرے کی دلکشی چرا لی لیکن دل پھر بھی امید کا دیا جلائے دھڑک رہا تھا۔
ء…ۃ…ء
زندگی میں کچھ بھی بے سبب نہیں ہوتا۔ ارمان کا بدلا ہوا رویہ بھی بلاوجہ نہ تھا۔ جس سکون کی تلاش میں ارمان بھٹک رہا تھا جب وہ دل میں اتر جائے، جس محبت کی کسک نے زندگی کی خوشیاں چھین لی ہوں جب وہ لوٹ آئے تو… پھر باقی سہارے، سب رشتے مصنوعی اور بے معنی رہ جاتے ہیں۔ جب دل کسی خاص انسان کے لیے دھڑکے تو کسی دوسرے کے لیے جگہ کہاں رہتی ہے۔
ماہ نور‘ ارمان علی کا ارمان تھی۔ قسمت میں ان کا ملنا شاید ایسے ہی لکھا تھا۔ جانے کیا وجہ ہوئی کہ وہ اپنے گھر میں بس نہ سکی اور چار سال بعد لوٹ آئی۔ ارمان کے دل کی بہار لوٹ آئی اور رہی فارحہ احمد… وہ تو شاید وقت گزاری کا ذریعہ تھی۔ جلد یا بدیر اسے پتا چلنا ہی تھا اور اسے پتا چل گیا کہ ضرورت کے رشتے بس ضرورت تک ساتھ رہتے ہیں۔ ایک پہاڑ تھا جو اس کومل سی لڑکی پر گرا تھا۔ وہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گئی تھی۔
’’ماہ نور کو طلاق ہوگئی یار‘ وہ واپس آگئی ہے۔ بہت مشکل سے میں نے امی کو راضی کیا ہے جلد ہی وہ میری ہوجائے گی۔‘‘ فارحہ حیران سی سب سنتی رہی، اس کی پچھلی محبت کے تذکرے‘ سانسیں اٹک رہی تھیں‘ دل بند ہونے لگا تھا۔
’’اور جو پچھلے چار سال سے میرے ساتھ تھا۔ اس رشتے کا کیا؟‘‘ ایک بے معنی سا سوال تھا۔
’’فارحہ… تم میری بہت اچھی دوست ہو اور ہمیشہ رہو گی۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کے روئی تھی۔
’’فارحہ… تم ریلیکس رہو یار‘ میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں‘ ایسے ہی ساتھ رہوں گا۔‘‘
’’لیکن آپ کی زندگی میں شامل وہ ہوگی۔‘‘ اس نے اس کی بات کاٹی‘ آواز جیسے کسی کھائی سے آئی تھی۔
’’سمجھنے کی کوشش کرو فارحہ… وہ میری بچپن کی محبت ہے۔‘‘
’’جب وہ آپ کی بچپن کی محبت تھی تو میرے ساتھ ڈراما کیوں کیا‘ میری آنکھوں کو خواب کیوں دکھائے۔‘‘ وہ چلائی۔ ’’کیوں مجھے مجبور کردیا کہ بس آپ کو ہی سوچوں، آپ کو اپنی زندگی سمجھنے لگوں‘ میں نے ان چار سالوں میں ایک بار بھی کسی اور کے بارے میں نہیں سوچا۔‘‘ بولتے ہوئے وہ تھکنے لگی۔ زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
’’جب وہ واپس آگئی تھی تب ہی بتا دیتے۔ میں اپنا راستہ الگ کرلیتی۔ میرا قصور بتا دیں آپ۔ احمر سے بھابی آپ نے کہلوایا تھا ناں‘ بھابی کا مطلب جانتے ہیں آپ۔ بھائی کی بیوی‘ کیوں مجھے آس دلائی۔‘‘ وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی بول رہی تھی۔
’’یار فارحہ… تم اوو ری ایکٹ کررہی ہو۔ میں نے تمہیں کبھی شادی کی امید نہیں دلائی۔ ہم اچھے دوست تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ تمہیں سمجھنا ہوگا۔‘‘
’’بھاڑ میں گئی دوستی۔‘‘ وہ ایک بار پھر چلائی۔ ’’آپ جیسے لوگ ہوتے ہیں جو دوستی کی آڑ میں نازک جذبات سے کھیلتے ہیں‘ میرے کس رویے سے آپ کو لگا کہ یہ دوستی ہے؟ دوست سمجھتے تھے تو مجھے روکا کیوں نہیں آگے بڑھنے سے؟ جب آپ کے لیے بھوکی رہی، جب آپ کی پسند کے کپڑے پہنے، جب آپ سے پوچھ کے گھر سے نکلی، ایک اچھی بیوی کی طرح آپ کا خیال رکھا تب روکا کیوں نہیں مجھے… فاصلہ کیوں نہ رکھا‘ آپ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ فارحہ مرتی ہے مجھ پہ‘ کیوں مرنے دیا مجھے‘ میں نے سب رشتے پس پشت ڈال دیے، میرے لیے آپ سے بڑھ کر کوئی نہ رہا لیکن آپ… آپ مجھے روک نہ سکے آگے بڑھنے سے، آپ ماہ نور کے لوٹ آنے کا نہ بتاسکے۔ آپ نے میرا دل‘ میری زندگی سب کچھ اجاڑ دیا ارمان۔‘‘ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی اس میں۔ فون پھینک کے وہ گھٹنوں میں سر دیے زارو قطار روتی رہی۔ دوسری جانب سناٹا گونج رہا تھا۔
محبت اتنی تکلیف دے گی‘ اسے اندازہ نہ تھا۔ ارمان کے بدلے رویے کی اذیت وہ دو سال سے جھیل رہی تھی۔ آج پوری طرح ٹوٹ گئی تھی لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔
ء…ۃ…ء
زندگی کبھی یوں بھی آزماتی ہے، دل ٹوٹ جائے لیکن جینا پڑتا ہے اور وہ جی رہی تھی۔ محبت کیسے کیسے جواز گھڑ لیتی ہے، کیا کیا مفروضے تراش لیتی ہے۔ امید کا دیا بجھنے نہیں دیتی۔ دیے کے آخر دم تک بھڑکنے تک، اپنی آخری سانس تک اس نے ٹوٹ کر بھی ہمت نہیں ہاری۔ دل کے کسی کونے میں یہ احساس زندہ تھا کہ چار سال کا حسین ساتھ کوئی کیسے بھلا سکتا ہے لیکن لوگ بھول جاتے ہیں۔
’’ارمان… آپ ماہ نور سے شادی کرلیں‘ لیکن مجھے اپنا نام دے دیں۔ میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے کبھی کوئی حق نہیں مانگوں گی‘ محبت شاید بھیک میں ہی مل جائے۔ میں نوکرانی بن کے رہ لوں گی، سب کی خدمت کروں گی ماہ نور کی بھی اور آپ مجھے خود سے علیحدہ مت کریں۔‘‘ وہ گڑگڑا رہی تھی، منت کررہی تھی۔ ’’میں نے بہت ٹوٹ کے محبت کی ہے آپ سے ارمان۔‘‘
’’فارحہ… اللہ کا واسطہ میرا پیچھا چھوڑ دو۔ میں تنگ آگیا ہوں۔ میں نے کبھی تمہیں شادی کا آسرا نہیں دیا۔ جو رشتہ اول دن سے بنایا وہ آج بھی قائم ہے اور اگر تم چاہو تو آگے بھی ایسے ہی چلتا رہے گا۔‘‘ ارمان سفاکی سے بولا تھا۔
’’لیکن ارمان‘ میں نے آپ سے محبت کی ہے۔ دل کی گہرائیوں سے چاہا ہے آپ کو۔‘‘ وہ سسک رہی تھی۔
’’تم نے اپنا یہ رونا بند نہ کیا تو میں فون رکھ رہا ہوں… میں تنگ آگیا ہوں تمہارے ہر وقت کے رونے سے‘ تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ میری ماہ نور سے بات پکی ہوگئی ہے۔ تم نے جو خواب سجائے تھے ان کی کوئی تعبیر نہیں میرے پاس۔‘‘ وہ بے زار ہوگیا تھا۔ جان چھڑانا چاہتا تھا۔ اس کی سسکی ابھری۔
’’امی بلا رہی ہیں مجھے میں جارہا ہوں۔‘‘ ارمان نے رکھائی سے کہہ کر کال کاٹ دی۔ وہ ساکت سی فون ہاتھ میں لیے بیٹھی رہی تھی۔
وہ اتنا رو چکی تھی کہ اب اس کے آنسو بھی خشک ہونے لگے تھے، دل روتا لیکن آنکھیں گیلی نہ ہوتیں اور رونے سے اگر مسائل حل ہونے لگتے تو کوئی تدبیر سے کام نہ لیتا، کوئی صبر نہ کرتا، کوئی اللہ کو نہ پکارتا‘ کوئی دعا نہ کرتا لیکن فیصلے تو بس اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔
’’اے اللہ… میرے دل سے ارمان کی محبت کو نکال دے‘ میرے دل کو سکون عطا فرما‘ میں نے تجھے ناراض کیا، ایک نامحرم کو اپنے دل‘ اپنی خلوت میں جگہ دی‘ میں بہت گنہگار ہوں لیکن تو بہت مہربان ہے‘ میں وعدہ کرتی ہوں میں اب کسی کی طرف نہیں بڑھوں گی‘ بس مجھے اس تکلیف سے نکال دے‘ میرے دل کو قرار دے دے‘ مجھ پہ رحم فرما میرے مالک۔‘‘
ارمان سے اب بھی بات ہوتی کہ وہ دل کا کیا کرتی جو ارمان کے لیے ہمکتا تھا۔ ارمان بھی اسے وقت دے رہا تھا۔ جب ماہ نور کے ساتھ ہوتا تو اسے منع کردیتا کہ میسج نہ کرنا۔ شاید ماہ نور کو بھی اس کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ وہ ارمان کو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ اس نے خود کو وقت کے دھارے پہ چھوڑ دیا تھا۔
اب پہلے جیسی بات نہ رہی تھی۔ وہ سارا دن موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھی رہتی، ارمان کے پرانے میسیجز پڑھتی رہتی‘ گھر میں ہوتی تو اس کے دیے سب تحفے نکال کے دیکھتی، پہنتی‘ جو بہت سنبھال کے رکھے ہوئے تھے۔ وہ اس کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا‘ کیسے نکل جاتا‘ وہ خوش نہیں تھی۔ وہ ارمان کو بانٹ نہیں سکتی تھی، شاید دنیا کی کوئی عورت نہیں بانٹ سکتی۔ وہ ارمان سے بات کرتی لیکن وہ اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔ اذیت ابھی ختم نہ ہوئی تھی جانے کتنا وقت اور لگنا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’میں نے زندگی سے ایک سیکھا ہے دنیا کی سب محبتیں فانی ہیں، ضرورتوں تک محدود ہیں چاہے وہ کتنی بھی شدید ہوں۔ ضرورتوں کے ختم ہوتے ہی پانی کے بلبلے کی طرح پل میں معدوم ہو جاتی ہیں۔ صرف ایک اللہ کی محبت ہے جس کو زوال نہیں۔ وہ جتنی پرانی ہوگی اتنی گہری ہوتی جائے گی۔ اس میں بے وفائی، طعنے، رسوائی اور آنسو نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ محبت کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔ کتنی خطائیں ہو جائیں۔ ذرا سی ندامت سے دامن وسیع ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکی اور ایک بار پھر سلسلہ کلام جوڑا۔
’’جتنی محبت ہم اس سے کریں گے، اس سے ستر گنا وہ ہمیں لوٹائے گا۔ ساتھ اپنی نعمتیں اور رحمتیں بھی بڑھاتا جائے گا‘ تو دل میں خواہشات کا ہونا غلط نہیں۔ بس خواہشات کو پورا کرنے کی چاہ کہیں اللہ کی محبت سے بڑھ نہ جائے۔‘‘ اس نے مسکرا کے بات ختم کی۔ قلم کو بند کیا۔
’’کل ہم صبر کے بارے میں پڑھیں گے۔ آپ لوگ آج کا لیکچر نوٹ کرکے جمع کروائیں گے۔‘‘ کلاس کا وقت ختم ہو چکا تھا‘ وہ مسکراتے ہوئے کلاس سے باہر نکل آئی۔
زندگی میں سب کچھ ہماری مرضی سے نہیں ہوتا۔ دیر سے ہی سہی لیکن وہ سمجھ گئی تھی۔ وقت کے ساتھ صبر آہی جاتا ہے۔ اس نے بھی صبر کرلیا تھا۔ اپنی گہری کالی آنکھوں سے خواب نوچ ڈالے تھے اور جب اللہ کچھ کرنا چاہے تو بس کن کہتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔ اس کا دل بدل گیا۔ ایک لمبی اذیت تھی، درد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ‘ اس نے ارمان سے ہر تعلق توڑ لیا تھا۔
اس کی وجہ سے کوئی کیوں اپنے حق سے محروم رہے۔ جو ماہ نور کا ہے۔ اسے صرف ماہ نور کا ہی ہونا چاہیے۔ وہ دوسری عورت بن کے نہیں جی سکتی تھی۔ جو اس کا ہے وہ اسے بغیر مانگے ملنا چاہیے۔ سوال کرنے پہ یا دامن پھیلانے سے نہیں۔ تعلق توڑنا آسان نہ تھا لیکن وہ فیصلہ کرچکی تھی۔ جاب چھوڑی، محلہ چھوڑا اور پھر اس نے شہر چھوڑ کے ایک نئی جگہ پہ نئی زندگی کی شروعات کیں۔ اللہ راستے دکھاتا گیا، بناتا گیا۔ وہ چلتی رہی۔ اپنا تلخ ماضی بہت دور چھوڑ آئی۔ کالج میں لیکچرار کی جاب مل گی۔ زندگی خوب صورت ہو نہ ہو‘ بس آسان ہونی چاہیے۔ اس کی زندگی بھی آسان ہوگئی تھی۔
ء…ۃ…ء
دیر سے ہی سہی سب کچھ میری توقعات کے مطابق ہوا۔ جو میں نے چاہا مجھے مل گیا۔ قسمت روٹھنے کے بعد پھر مہربان ہوگئی لیکن دل… دل کیوں خوشی سے خالی ہے‘ سکون کیوں نہیں ملتا‘ سب کچھ پا کر بھی کچھ کمی سی ہے‘ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ بہت لکی ہیں۔ اتنی سچی محبتیں آپ کے ساتھ ہیں‘ محبت تو نصیب والوں کو ملتی ہیں اور آپ بہت خوش نصیب ہیں۔
پتا نہیں میں خوش نصیب ہوں یا نہیں‘ ناشکرا ضرور ہوں‘ ایک ماہ بعد میری شادی ہے۔ اس سے جسے میں نے دل کی شدتوں سے چاہا لیکن دل میں آج بھی کچھ کمی ہے، خوشی نہیں‘ سکون نہیں‘ کچھ کھو دینے کا احساس انسان کو چیزوں کی قدر کھو جانے کے بعد ہی ہوتی ہے۔
’’آپ ایسے اداس نہ ہوا کریں‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘ کسی آواز کی بازگشت اسے بے چین کررہی تھی۔
’’اور آپ جب مسکراتے ہیں تو کتنے اچھے لگتے ہیں۔‘‘ وہ مسکراتی آنکھیں، وہ کھنکھتا ہوا لہجہ… میری راتوں کی نیند مجھ سے خفا ہوگئی۔
’’کتنا سوتے ہیں آپ۔‘‘ خفگی بھرا ایک جملہ۔
’’میں نے کان سختی سے بند کرلیے۔‘‘
’’میں نیند کا شہزادہ ہوں۔‘‘ اپنی آواز مجھے اجنبی لگی۔ میں اسے چھیڑتا۔ وہ تھوڑی دیر ناراض رہتی پھر ہنس دیتی۔ وہ مجھ سے ناراض رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ مجھ سے بہت محبت کرتی تھی۔ اس نے سچ میں مجھے دوبارہ جینا سکھایا‘ ہنسنا سکھایا‘ اس کے لیے میں بہت دل سے شاپنگ کرتا، اس کی سالگرہ یاد رکھنے کے لیے کوئی خاص جتن نہ کرنا پڑتا۔ یاد ہی رہتی تھی۔ میرے کسی بھی سرپرائز پہ جب وہ حیران ہو کے دیکھتی تو بہت پیاری لگتی تھی۔ وہ جو میرے بنا رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ میرا شہر تک چھوڑ گئی اور ٹھیک کیا اس نے‘ چھوڑ تو میں نے دیا تھا اسے بہت پہلے‘ یہ مجھے کیا ہورہا ہے۔ میں اسے اتنا کیوں سوچ رہا ہوں۔
میں ارمان علی کچھ دنوں میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کروں گا۔ اپنی محبت ماہ نور کے ساتھ لیکن مجھے خوشی کیوں نہیں ہورہی۔ کیا خوشیاں بھی مجھ سے روٹھ گئی تھیں۔
ء…ۃ…ء
’’کیا بات ہے بہت چپ چپ لگ رہے ہو؟‘‘ ماہ نور نے بہت فکر مندی سے پوچھا۔ چار دن بعد وہ مایوں بیٹھنے والی تھی، اس کے بعد شادی تک بات نہ ہوتی۔ ماہ نور کے اصرار پہ اس نے کال کی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا بات کرے۔
’’کچھ نہیں بس یونہی طبیعت اداس ہورہی ہے۔‘‘ وہ جھوٹ نہ بول سکا۔
’’کیوں… کوئی پریشانی ہے کیا؟‘‘ اس نے سادہ لہجے میں سوال کیا۔
’’بس پانچ منٹ دیں مجھے‘ ابھی آپ کی طبیعت خوش کرتی ہوں۔‘‘ میرے کانوں میں کھلکھلاتی آواز گونجی۔
’’اچھا… تم کیسے خوش کرو گی؟‘‘ وہ بے اختیار سا بولا تھا۔
’’ارمان… کیا کہہ رہے ہو۔‘‘ ماہ نور حیران ہوئی۔
’’نہیں کچھ نہیں۔‘‘ کچھ سوچ رہا تھا۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ وہ ایک بار پھر سوال بن گئی۔
’’خبردار جو کسی اور کو سوچا تو…‘‘ وہ آواز میرا پیچھا نہیں چھوڑتی‘ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’ارمان مجھے مت چھوڑیں… میں مر جاؤں گی آپ کے بغیر۔‘‘ ماہ نور جانے کیا کہہ رہی تھی۔ میرے کان کچھ اور سن رہے تھے۔
’’فارحہ بہت روئی تھی میرے لیے۔‘‘
’’ کون فارحہ؟‘‘
’’تھی ایک بہت معصوم سی لڑکی‘ شیشے جیسا دل تھا اس کا‘ جس میں صرف میرا عکس تھا‘ میں نے توڑ دیا‘ اس نے کہا کہ میں تو اسے کھو رہی ہوں جو میرا کبھی تھا ہی نہیں لیکن آپ اسے کھو دیں گے جو دل وجان سے آپ کی ہے… تم جانتی ہو‘ وہ میرے قدموں میں گر گئی تھی۔ بہت منتیں کیں اس نے کہ مجھے مت چھوڑیں۔ چار سال کا ساتھ تھا ہمارا‘ بہت پاکیزہ‘ بہت پیارا‘ میرے ٹھکرا دینے کے بعد بھی وہ ایک آس کے ساتھ میرے ساتھ رہتی۔ میرا خیال رکھتی۔ کہتی مان مجھے اپنا نام دے دیں میں سکون سے مر جاؤں گی اور میں کہتا… ماہ نور میری محبت ہے… پھر وہ چپ چاپ میری زندگی سے نکل گئی لیکن میریدل میں بس گئی۔ آج دیکھو وہ ہی وہ ہے ہر جگہ۔ دل خالی ہوگیا‘ ہماری محبت کی گرمی بھی محسوس نہیں ہوتی۔‘‘ میرے رخسار بھیگ گئے تھے۔
’’ارمان۔‘‘ ماہ نور کی آوا ز پہ وہ چونکا۔ ’’آپ کو فارحہ سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
’’محبت… فارحہ سے… ہاں شاید مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے لیکن میں تو تم سے…‘‘ الفاظ بکھر رہے تھے۔ دو دل بکھر رہے تھے، ٹوٹ رہے تھے۔
’’پھر تم مجھ سے شادی کیوں کررہے ہو؟‘‘ وہ شاید رو رہی تھی۔
’’پتا نہیں… مجھے تم سے محبت تھی‘ تم چلی گئیں تو میں ٹوٹ گیا۔ فارحہ بہار بن کے میری زندگی میں شامل ہوئی‘ میں اس کے ساتھ بہت خوش تھا۔ پھر تم لوٹ آئیں۔ مجھے لگا کہ تم میری محبت ہو۔ میں نے فارحہ کی محبت ٹھکرا دی۔ اس کا محبت بھرا دل توڑ دیا اور میں ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔ میرا دل ویران ہوگیا۔ ماہ نور اب یہ دل شاید کبھی آباد نہ ہوسکے۔ مجھے معاف کردینا۔‘‘ اس سے آگے کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ کال کٹ چکی تھی۔

محبت جب بھی ہوتی ہے
ستارہ وار ہوتی ہے
بساط وقت سے باہر
ابد کے پار ہوتی ہے
محبت جب بھی ہنستی ہے
کہیں بجلی چمکتی ہے
کہیں بادل برستے ہیں
ہوا نظمیں سناتی ہے
زمیں پہ پھول کھلتے ہیں
پرندے لوٹ آتے ہیں
محبت جب بھی روتی ہے
سمندر پھیل جاتے ہیں
کنارے ڈوب جاتے ہیں
محبت جب بھی مرتی ہے
ابد کی موت مرتی ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close