Hijaab Jan 19

مجھے یوں بے مول نہ کر پیا

افشاں شاہد

مریم کا کسی بھی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی‘ وہ اپنی ساس کے کہنے پر گھر چھوڑ کر اپنی امی کے گھر آتو گئی تھی لیکن اب اسے اپنا گھر اور اپنی بچی ایمن یاد آرہی تھی۔ اسے اپنی امی کے یہاں آئے ہوئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے اور اسے مختلف قسم کی فکریں جھنجھوڑ رہی تھیں کبھی اس کو یہ فکر ہوتی کہ ممی جی نے وقت پر اپنی دوا لی ہوں گی یا نہیں ورنہ ان کا بی پی شوٹ کر جائے گا تو کبھی یہ بات اس کو ہلکان کیے جاتی کہ دودھ والے نے کہیں اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ڈنڈی نہ ماری ہو وہ انس کو فون کرنے کے لیے موبائل اٹھاتی تو اسے ممی جی کی دھمکی یاد آجاتی جو انہوں نے اسے میکے جاتے ہوئے دی تھی۔
’’سنو مریم… جب تک انس تمہیں لینے خود بنفس نفیس تمہاری امی کے گھر نہ آئے تم اسے نہ فون کرنا ہے نہ میسج ورنہ تمہارا اور میرا ماں بیٹی کا رشتہ ختم اور ساس بہو کا رشتہ شروع۔‘‘ یہ سن کر مریم تڑپ گئی شادی کے ایک سال بعد ہی اس کی امی کا انتقال ہوگیا تھا لیکن ممی جی نے کبھی اسے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی وہ اسے اپنی بیٹیوں کی طرح چاہتی تھیں یہاں تک کہ اکثر وہ انس کے بجائے مریم کی طرف داری کرتی تھیں جس پر انس کہتا تھا۔
’’اماں مجھے لگتا ہے شادی کے بعد میں اس گھر میں پرایا ہو گیا ہوں۔‘‘ اور انس کی اس بات سے ممی جی اور مریم بہت لطف اندوز ہوتیں یوں تو انس ایک اچھا خاوند اور شریف انسان بھی تھا لیکن اس میں ایک خامی تھی اور وہ خامی ایسی تھی جو مریم کی بڑی بڑی آنکھوں میں اکثر موٹے موٹے آنسو لانے کا باعث بنتی تھی تو اس خامی کو اکثر نظر انداز کردیتی تھی لیکن ممی جی انس میں سے اس خامی کو نوچ کر باہر پھینکنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ خود اس زیادتی کا نشانہ بن چکی تھیں اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ سلسلہ نسل در نسل چلے۔
ء…ۃ…ء
کام والی ماسی نے بغیر بتائے آج چھٹی کرلی تھی ایمن کی طبیعت بھی خراب تھی جس کی وجہ سے وہ صبح سے چڑچڑی ہورہی تھی۔ مریم آج انس کے دفتر سے آنے سے پہلے سارے کام سمیٹنا چاہتی تھی لیکن کام تھے کہ ختم ہی نہیں ہورہے تھے اور وہ جتنا جلدی کام ختم کرنا چاہ رہی تھی اتنی ہی دیر ہورہی تھی۔ یوں تو اکثر پورا دن گزر جاتا تھا نہ دروازے کی گھنٹی بجتی نہ فون کی لیکن آج ہر آدھے گھنٹے بعد یا تو دروازے پر دستک ہورہی تھی یا پھر فون کی گھنٹی بجتی‘ مریم فون اٹھانے جاتی تو کانوں کو مریم کی آواز بھلی نہ لگتی اور وہ رابطہ منقطع کردیتا۔ مریم کا خون جل جاتا۔
’’ممی جی اب کی بار میں فون نہیں اٹھائوں گی مجھے لگتا ہے کوئی فارغ آدمی ہے جو تنگ کررہا ہے۔‘‘ مریم پھر سے اپنے کاموں میں لگ گئی۔ برتن دھوئے، رات کے لیے کھانا پکایا انس کے لیے کھیر بنا کر فریج میں رکھی۔ ممی جی کو بغیر چینی کی چائے دے کر ایمن کو بڑی مشکل سے سلا کر بستر پر لیٹی تو اس کی بھی آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو انس کمرے میں موجود تھا۔ مریم ہڑبڑا کر اٹھی۔
’’آپ کب آئے؟‘‘
’’جب آپ گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی تھیں تب۔‘‘
’’وہ آج ماسی نہیں آئی تھی سارا کام کیا اس لیے تھک گئی تھی۔ کب آنکھ لگی پتا ہی نہیں چلا۔‘‘
’’میں تو کہتا ہوں مریم، ماسی کو فارغ کردو تاکہ تم جو دن بدن بیٹھ بیٹھ کر موٹی ہوتی جارہی ہو تمہارا وزن تو کچھ کم ہو۔ شادی کے وقت تم کتنی اسمارٹ تھیں اور ایمن کی پیدائش کے بعد تو تم نے آرام کر کرکے اپنا وزن کتنا بڑھا لیا ہے دن بہ دن پھیلتی جارہی ہو۔‘‘ انس بلا تکان بولرہا تھا اور مریم حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’انس… آپ کو کیا لگتا ہے، میں سارا دن گھر میں بیٹھی رہتی ہوں اور مفت کی روٹیاں توڑتی ہوں اگر میں کام نہیں کرتی تو گھر کا کونہ کونہ نہ چمک رہا ہوتا۔ گھر میں میں ہر چیز ترتیب اور سلیقے سے رکھی ہے تو وہ میری مرہون منت ہے۔‘‘ انس بھی کہاں چپ رہنے والا تھا۔ اگر مریم گولیاں چلا رہی تھی تو وہ گولے برسا رہا تھا۔
’’تمہاری بدولت یہ گھر نہیں چمک رہا۔ اس کا سارا کریڈٹ ماسی کو جاتا ہے۔ جھاڑو، پونچھا، برتن، کپڑے دھونا سب تو ماسی کرتی ہے، ایمن کو اماں سنبھالتی ہیں، پھر کام کیا رہ جاتا ہے۔ ایک ہنڈیا پکانا وہ کون سا اتنا مشکل کام ہے آج کل تو ہر کوئی ٹی وی پر کوکنگ پروگرام دیکھ کر عمدہ کھانا پکا سکتا ہے۔‘‘ انس کہہ کر موبائل میں گیم کھیلنے میں مصروف ہوگیا اور وہ بات کے طول پکڑنے اور گھر میں بدنظمی پیدا ہو نے کے ڈر سے نم آنکھوں کے ساتھ کمرے سے باہر آگئی۔
رات مریم نے صحیح سے کھانا بھی نہیں کھایا دو چار لقمے لے کر اٹھ گئی۔ ممی جی مریم کے یوں دستر خوان سے جلدی اٹھنے کے سبب پریشان ہوئیں۔
’’مریم کیا ہوا بیٹا، طبیعت تو ٹھیک ہے نہ کیوں تم نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا؟‘‘
’’بھوک نہیں لگ رہی۔‘‘ یہ کہہ کر مریم نے ممی جی کو مطمئن کردیا۔
’’ارے اماں… مریم کم کھائے یہی اچھا ہے، دیکھیں تو سہی روز بروز، موٹی ہوتی جارہی ہے۔‘‘ یہ سن کر مریم کا چہرہ زرد پڑگیا۔
’’تم تو رہنے ہی دو میری بیٹی کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور پتلی لڑکیاں تو ویسے ہی ہینگر میں لٹکے ہوئے کپڑوں کی طرح لگتی ہیں۔‘‘ اماں نے مریم کی سائیڈ لی تو مریم کے چہرے پر پھیلی اداسی میں کچھ کمی آئی۔
انس تو بستر پر جاتے ہی چین کی نیند سوگیا اور ساری رات مریم جلتی کڑھتی رہی مشکل سے آنکھ لگی تھی۔
ء…ۃ…ء
اذان کی آواز پر مریم کی آنکھ کھلی۔ دنیا بھول جائے ہر رشتہ بیگانہ ہو جائے لیکن وہ ایک واحد ذات ہے جو بندے کو کبھی نہیں بھولتی پانچ وقت وہ ہمیں بلاتا ہے اتنی بار تو کوئی اپنا بھی کسی کو یاد نہیں مریم وضو کرکے فجر کی نماز ادا کرنے لگی عبادت سے فارغ ہوکر ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی انس کے آفس جانے کے بعد ممی جی مریم کے کمرے میں آئیں۔
’’مریم تم مجھے ممی کہتی ہو اور دل سے بھی مانتی ہو ناں۔‘‘
’’جی ممی جی۔‘‘
’’تو پھر مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے۔ کیوں کل سے تمہارا منہ اترا ہوا ہے کیا انس سے لڑائی ہوئی ہے۔‘‘ انس کا نام سنتے ہی اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ ممی جی اس کو یوں روتا دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔
’’ارے بیٹا کیا ہوا ہے؟ مجھے کچھ بتائو گی بھی کہ یوں ہی روتی رہو گی۔‘‘ ممی جی نے مریم کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’ممی… انس کہتے ہیں کہ میں مفت کی روٹیاں توڑتی ہوں اسی وجہ سے میرا وزن بڑھ گیا ہے۔ انہیں لگتا ہے میں کوئی بھی کام نہیں کرتی۔ ممی جی، آپ کے سامنے میں سارا دن کام میں لگی رہتی ہوں۔‘‘
’’ایک بات کہوں بیٹا یہ خامی زیادہ تر ہر مرد میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور شاید دل میں اس بات کو تسلیم بھی کرتا ہے کہ اس کا گھر بچے سب اس کی بیوی نے سنبھال رکھے ہیں لیکن وہ کبھی اس بات کا اظہار نہیں کرتا اور اس خامی کو بڑھاوا دینے کی ذمہ دار ہم عورتیں ہی ہیں۔ ہم اپنے خاوند کو کبھی احساس ہی نہیں دلاتے کہ وہ غلط ہے اور ان کو اپنی یہ عادت بدلنی چاہیے۔‘‘
’’ممی جی… کیسے احساس دلایا جائے۔‘‘
’’بیٹا اگر ہمارے جسم میں درد ہوتا ہے تو ہم درد کی دوا کرتے ہیں یا پھر آنسو بہاتے ہیں اور درد سہتے رہتے ہیں تو پھر اپنے خاوند کی اس بات کو کیوں برداشت کرتے ہیں جس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ مریم ممی جی کی باتیں غور سے سن رہی تھی۔
’’بیٹا میں یہ نہیں کہتی کہ شوہر کی ہر بات غلط ہوتی ہے لیکن ناقدری انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے اور ایسے زخم دیتی ہے جو عمر بھر نہیں بھرتے۔ خون ان زخموں سے تا حیات رستا رہتا ہے اور پھر جو بات بری لگی ہو وہ سامنے والے سے کہہ دینی چاہیے آنسو بہا کر یا ناراض ہوکر کسی مسئلے کا حل نہیں نکلتا اور دل میں بات رکھنے سے آہستہ آہستہ محبت نفرت میں بدل جاتی ہے۔‘‘
’’ممی جی میں کیا کروں؟ اب آپ ہی کوئی مشورہ دیں۔‘‘ ذرا دیر سوچ کر ممی جی نے اپنا پلان مریم کو سمجھایا۔
’’نہیں… نہیں ممی جی، مجھ سے یہ نہیں ہوگا۔ میں انس اور ایمن کے بنا کیسے رہوں گی۔‘‘ مریم ممی جی کا پلان سن کر فوراً بولی۔
’’مریم تم چاہتی ہو ناں کہ انس تمہاری قدر کرے، اس کے دل میں یہ احساس بیدار ہو کہ اس کی زندگی میں اگر نظم و ضبط ہے تو تمہاری وجہ سے اگر وہ آفس میں سکون سے کام کرتا ہے تو تمہارے باعث تو بیٹا درد کا علاج کرنے کے لیے کڑوی گولی نگلنا پڑتی ہے سوچ لو ورنہ تمہاری پوری زندگی اسی ناقدری کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔‘‘
’’ممی جی ایمن کیسے رہے گی میرے بنا۔‘‘
’’ایک دن کی بات ہے۔ ایک دن تو کیا چند گھنٹوں میں ہی انس کی عقل ٹھکانے آجائے گی لیکن جب تک تمہیں صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا۔‘‘
’’جی ممی جی۔‘‘ وہ تابعدار بہو کی طرح ممی جی کی ہر ہدایت پر عمل کرتی گئی۔
الماری سے کپڑے نکال کر بیگ بھرنے لگی اور انس کے آنے سے پہلے وہ اپنی امی کے گھر روانہ ہوگئی تھی۔
ء…ۃ…ء
انس مسلسل گھنٹی بجا رہا تھا لیکن کسی کے دروازہ نہ کھولنے پر اس نے گھنٹی کے ساتھ دروازہ بھی پیٹنا شروع کردیا۔
’’ارے بس کرو، کیا دروازہ توڑ دو گے۔‘‘ ممی جی نے چیخ کر کہا۔
’’بیٹا گھنٹی بجا کر انتظار کرتے ہیں، گھر میں رہنے والے انسان ہیں کوئی جن نہیں کہ تم نے یہاں آواز دی اور وہ ’جی میرے آقا‘ کہہ کر حاضر ہوگئے اور میں تمہاری بیوی بھی نہیں کہ جو شام کے وقت دروازے پر نگاہیں ٹکا کر بیٹھی رہتی تھی یہاں تم نے دستک دی اور وہاں وہ دوڑی‘ میں بوڑھی ہوگئی ہوں میرے پیروں میں اتنی جان نہیں ہے اب کہ میں دوڑ بھاگ کرسکوں۔‘‘ انس ممی جی کی باتیں سن کر شرمندہ ہوا۔
’’ممی جی آپ کیوں دروازہ کھولنے آئیں، آپ کی چہیتی بہو کہاں ہے؟ کیا آج بھی سو رہی ہے جانے کتنا آرام کرتی ہے یہ عورت۔‘‘
’’نہیں وہ سو نہیں رہی وہ گھر پر نہیں ہے۔‘‘ انس کو حیرانی ہوئی۔
’’کیوں ممی کہاں گئی ہے؟ مجھے تو نہیں بتایا کچھ۔‘‘ انس کو پریشان دیکھ کر ممی جی کو خوشی ہوئی۔
’’ابھی تو پریشانی شروع ہوئی ہے بیٹا ابھی تو دن میں تمہیں چاند تارے نظر آئیں گے۔‘‘ ممی جی نے خود کلامی کی۔
’’جی ممی کچھ کہا آپ نے۔‘‘
’’ہاں وہ بیٹا میں کہہ رہی تھی بہو اپنے میکے چلی گئی ہے ہمیشہ کے لیے۔‘‘
’’کیا…! میکے چلی گئی ہمیشہ کے لیے‘ لیکن کیوں؟ کیا ہوا۔‘‘
’’وہ کہہ رہی تھی جہاں میری قدر نہ ہو مجھے وہاں نہیں رکنا۔‘‘ اماں نے مسکینی لہجے میں انس سے کہا۔
’’اچھا تو کیا اب میڈم کی آرتی اتاریں‘ بیٹھی رہے اپنی امی کے گھر ویسے بھی گھر میں کرتی کیا ہے سوائے آرام کے۔‘‘ اسی وقت کمرے سے ایمن کے رونے کی آواز آئی۔
’’اماں کیا ایمن کو بھی یہی چھوڑ گئی ہے؟‘‘
’’کہہ رہی تھی کہ میں جہیز میں ساتھ تھوڑی لائی تھی جس کی اولاد ہے وہی سنبھالے۔‘‘ انس کمرے میں ایمن کو چپ کرانے کے لیے بھاگا۔
’’ممی جی ایمن کا پیمپر تبدیل کردیں۔‘‘
’’لو… اب اس عمر میں یہ کام بھی میں کروں۔‘‘ انہوں نے منہ بنایا۔ انس نے جلدی جلدی کپڑے بدل کر ایمن کا پیمپر بدلا اور اسے لے کر ممی کے پاس آیا۔
’’بیٹا‘ مجھے چائے کی بہت طلب ہورہی ہے روز اس وقت مریم مجھے چائے بنا کردیتی تھی۔‘‘
’’چائے بنانا کیا مشکل ہے۔ میں ابھی بنا کر لاتا ہوں، میرے ہاتھ کی چائے پئیں گی تو مریم کی چائے بھول جائیں گی۔‘‘ انس ایمن کو ممی کو پکڑا کر کچن میں چائے بنانے آگیا لیکن اب کچن میں کچھ سجھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ پہلے تو چولہا جلانے کے لیے ماچس نہیں مل رہا تھا۔ تمام کیبنٹ کھول کر دیکھ لیے پھر یاد آیا کہ مریم تو ہمیشہ لائٹر استعمال کرتی تھی۔ چولہے پر چائے رکھی اور خود کچن سے باہر آگیا اور ٹی وی دیکھنے میں اس قدر مشغول ہوا کہ چولہے پر رکھی چائے بھول ہی گیا اور جب یاد آیا تو چائے اللہ کو پیاری ہوگئی تھی۔ جل جل کر پتیلی سیاہ ہوگئی تھی۔
’’انس… انس۔‘‘
’’جی ممی آیا۔‘‘ جلدی سے چولہا بند کرکے اماں کو جواب دینے کے لیے کمرے کی طرف بھاگا۔
’’انس چائے پکا رہے ہو یا پائے؟‘‘
’’اماں وہ تو جل گئی، دوسری پکا دیتا ہوں۔‘‘
’’کیا کہا؟ جل گئی۔ سر درد سے پھٹا جارہا ہے مریم تھی تو وقت پر سب کچھ ملتا تھا اب اللہ جانے رات کا کھانا بھی ملے گا کہ نہیں۔‘‘ ممی یہ کہہ کر تسبیح پڑھنے لگیں۔
انس تو ایک گھنٹے میں نیم پاگل ہوگیا‘ آفس سے آکر ایک پل آرام نہیں کیا تھا ورنہ روزانہ آفس سے آتے ہی دنیا جہاں سے بیگانہ ہوکر ٹی وی دیکھنے لگ جاتا تھا اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے بھی مریم کو پکارتا رہتا تھا۔ انس اپنے کمرے میں جانے لگا تو ایمن نے پھر سے اپنا ریکارڈ بجانا شروع کردیا۔ انس جھنجلا گیا۔
’’ممی اب اسے کیا ہوا‘ کیوں رو رہی ہے؟‘‘
’’یہ تو برخوردار تم اسی سے پوچھ لو۔ ویسے اس وقت مریم اس کو دلیہ بنا کر دیتی تھی۔‘‘
’’کیا مصیبت ہے ایک کام کرلو تو دوسرا کام سامنے کھڑا ملتا ہے۔‘‘
’’اماں اب یہ ایمن کا دلیہ کہاں رکھا ہے۔ مجھے نہیں مل رہا۔‘‘ ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد انس نے ماں کو پکارا۔
’’خود سے تو کچھ ہوتا ہے نہیں لیکن باتیں ایسی کرتے ہو کہ آسمان سے تارے توڑ لانا تمہارے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ اب رات کے کھانے کی تیاری کرو ورنہ چائے کی طرح بغیر کھائے پیئے مجھے سونا پڑے گا۔‘‘ انس کو بستر پر لیٹا دیکھ کر ممی نے اسے پچکارا۔
’’ممی میں بازار سے کھانا لے آتا ہوں۔‘‘ یہ بات سن کر ممی کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔
’’انس کیا پاگل ہوئے ہو۔ تمہیں یاد نہیں کہ ڈاکٹر نے مجھے سختی سے بازاری کھانا کھانے سے منع کیا ہے۔‘‘
’’تو ممی جی پھر میں کیا کروں؟‘‘ انس نے بیزاری سے کہا۔
’’کرنے کا کیا ہے۔ ٹی وی کھولو، کوکنگ چینل لگاؤ اور دیکھ کر پکا لو۔ اتنا آسان تو ہے پکانا بقول تمہارے۔‘‘ ماں کی بات سن کر انس کے کان کھڑے ہوئے۔
’’اماں…! آپ کیوں ایسا کہہ رہی ہیں؟‘‘
’’بیٹا میں تو تمہیں تمہارے کہے ہوئے الفاظ یاد دلا رہی ہوں بیٹا کچھ بھی کہنے سے پہلے ایک بار سوچنا ضرور چاہیے کیونکہ اکثر ہمارے لفظ ہی ہمارے گلے کا پھندا بن جاتے ہیں بیٹا یہ لفظ اپنے اندر بڑی قوت رکھتے ہیں انسان چاہے تو ان لفظوں کے سہارے پتھر کو موم بنا سکتا ہے اور چاہی تو پھول کو خار اب یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ لفظوں کو دل توڑنے کا ذریعہ بناتا ہے یا دل جوڑنے کا۔‘‘ انس کو شرمندہ دیکھ کر ممی جی نے اپنی بات کو طویل کرتے ہوئے انس کے برابر میں بستر پر بیٹھ گئیں اور انس کے بال سہلانے لگیں۔
’’دیکھو بیٹا عورت شادی کے بعد اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہے‘ اپنی جوانی‘ اپنا حسن‘ اپنی نیند‘ اپنا آرام‘ گھر کو سنوارنے کے لیے اپنا آپ فراموش کردیتی ہے‘ بچوں کو پروان چڑھانے کے لیے اپنی ہر خواہش کا گلا گھونٹ دیتی ہے‘ وہ بے غرض ہوکر اپنی ساری توانائیاں صرف کرتی ہے اور بدلے میں کیا چاہتی ہے؟ تھوڑی سی محبت، تھوڑی سی قدر اور یہ اس کا حق بھی ہے بیٹا‘ ایک عورت بیوی بن کر جتنے کام کرتی ہے وہ بھی کسی اجرت کا مطالبہ کیے بنا تو وہ اس سے کہیں گنا زیادہ محبت کی مستحق ٹھہرتی ہے لیکن افسوس بدلے میں وہ کیا پاتی ہے ناقدری نوکیلے الفاظ جن کی چھبن اس کی روح تک کو گھائل کردیتی ہے۔ بیٹا کچھ گھنٹوں میں تمہیں بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کی وہ کام جن کو تم کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے وہ اتنے آسان نہیں‘ عورت سارا دن کام میں لگی ہوئی ہوتی ہے لیکن اپنے شوہر کے آنے سے پہلے وہ تمام کام نمٹا لیتی ہے تاکہ شوہر کو توجہ دے سکے لیکن شوہر کو لگتا ہے کی اس کی بیوی تو کچھ کام ہی نہیں کرتی۔ نیک بیوی اس دنیا میں ملنے والا سب سے حسین تحفہ ہے‘ مریم ایک نیک اور فرماں بردار بیوی ہے۔ اس کی قدر کرو ورنہ زندگی میں بے سکونی پھیل جائے گی۔‘‘ انس بستر سے کھڑا ہوکر دروازے کی طرف بڑھا تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔
’’کہاں جارہے ہو بیٹا؟‘‘
’’ممی جی اپنی زندگی کا سکون واپس لینے۔‘‘ انس کہہ کر باہر چلا گیا اور وہ مریم کو خوشخبری سنانے کے لیے اس کا نمبر ملانے لگیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close