Hijaab Jan 19

تم کیا ملے زندگی ملی

فصیحہ آصف خان

رات کے پچھلے پہر ہو کا عالم تھا… ٹک ٹک کرتے وال کلاک کی آواز وقت بیتنے کا احساس دلا رہا تھا۔ سناٹا‘ خاموشی اور تنہائی کو مزید گہرائی میں دھکیل رہے تھے۔ احادیث کی موٹی جلد والی کتاب میں غرق عبدالعزیز کی نظریں چمکتے دلکش حروف کے معانی ومطالب پر تھیں پر ذہن کہیں اور اٹکا تھا۔ بھٹک رہا تھا۔ بے قراری عروج پر تھی۔
ٹھک ٹھک ٹھک… وہ یک دم اپنے خیالات سے چونکا، بابا کھلے دروازے سے اندر آئے۔ عبدالعزیز یک دم خالی الذہنی سے انہیں دیکھنے لگا اور کتاب بند کرکے میز پر رکھ دی۔ بابا اس کے قریب آکر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں بولے۔
’’کیوں جاگتے رہتے ہو؟ صبح آفس میں سر کھپاتے ہو اور اب رات کے دو بج چکے ہیں… سو جائو بیٹا۔‘‘ انہوں نے اتنی محبت سے کہا کہ عبدالعزیز کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’وہ میں تہجد کے لیے جاگا تو تمہارے کمرے میں روشنی دیکھ کر چلا آیا۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی۔
’’بابا مجھے نیند نہیں آتی کیا کروں؟ عجیب بے چینی ہے آپ کو تو روشنی نظر آگئی مجھ تک آنے کی‘ مجھے کیوں نہیں دکھائی دیتی‘ کیوں گھور اندھیرا میرے چاروں طرف ہے‘ کسی بھی روزن سے ایک کرن مجھ تک نہیں پہنچتی۔‘‘ عبدالعزیز رو پڑا تو بابا گھبرائے۔
جانے کیا مسئلہ ہے اس معصوم و بے ضرر نوجوان کے ساتھ‘ یہ ٹھیک ہے کہ صدمات و حالات نے اسے بہت سنجیدہ کردیا تھا مگر اب تو کافی عرصہ بیت گیا تھا مگر پھر بھی وہ کبھی کبھار ایسے مایوسی کا شکار ہوجاتا کہ بابا بھی پریشان ہوجاتے۔
’’نہ… پتر نہ ایسا نہیں کہتے اورنا ہی ایسا سوچتے ہیں۔ وہی تو ہے روشنی اور صراط مستقیم دکھانے والا۔ ہمت سے کام لو۔‘‘ بابا نے اس کا کندھا تھپتھپایا تو عبدالعزیز بلک بلک کر رو پڑا، جہاں بھر کے درد و غم اسی کے حصے میں آئے ہوں۔
’’بس میرا بچہ بس… دعا کرو اسی سے۔ اللہ تمہیں سکون دے۔ آئو نوافل پڑھو۔‘‘ عبدالعزیز کو دلاسہ اور دعائیں دیتے آہستگی سے کمرے سے باہر چلے گئے۔ عبدالعزیز نے آنکھیں صاف کیں۔ جائے نماز بچھا کر نوافل ادا کرکے سجدہ ریز ہوکر ہچکیاں لینے لگا۔ جانے یہ کیا عالم تھا۔ کیسے آنسو تھے، ندامت کے، پچھتاوے کے، گناہوں کے یا بخشش چاہیے کے۔ اس رحمن و رحیم کے سامنے جو ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔
ژ…ژ…ژ…ژ
سورج کی روشنی نے ہر شے کو منور کردیا تھا۔ ایک طرف بنی سبزیوں کی کیاریاں اور ساتھ میں لگے گلاب و موتیے کی خوشبوئیں ماحول کو معطر کررہی تھیں۔ اس سے بڑھ کر باورچی خانے سے آتی کھانے کی مہک‘ صالحہ نے انڈے فرائی کرتے ہوئے ماہ نم کو اندر آتے دیکھا۔ ان کے چہرے پر تفکرات کا جال تھا۔ ان کے برعکس ماہ نم کے چہرے سے جھلک رہا تھا۔
’’السلام علیکم امی جان…‘‘ ماں کے قریب آکر وہ حسب عادت ان کے گلے میں بازو ڈال کر، ان کے گال چوم کر بولی۔ صالحہ نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھا اور زیرلب سلام کا جواب دیا۔
’’آپ بالکل ریلیکس ہوجائیں کچھ بھی نہیں ہوگا۔‘‘ وہ میز پر برتن رکھتے ہوئے بولی۔
’’تم تو خود مختار ہوگئی ہو۔ پھر اجازت کیسی اور کیسے فیصلے؟‘‘ صالحہ ابھی تک تپی بیٹھی تھیں۔ ماہ نم ان کی بات پر ہنس دی۔
’’امی… اگر آپ ان پڑھ ہوتیں تو میں سو طرح کے دلائل دیتی آپ کو قائل کرنے کے لیے مگر آپ تو…‘‘ اسی لمحے صالحہ نے ہاتھ اٹھا کر ماہ نم کو روک دیا۔ ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد ماہ نم مسکرا کر بولی۔
’’اوکے… اب اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ آئیں خوش گوار موڈ میں ناشتہ کریں۔‘‘ تمام اشیاء میز پر رکھ کر وہ صالحہ کو بازو سے تھام کر لائی اور کرسی پر بٹھا دیا اور ان کے سامنے ناشتہ رکھنے لگی۔ دونوں خاموشی سے کھانے لگیں۔
’’مجھے دس بجے تک نکلنا ہوگا۔‘‘ ناشتہ ختم کرکے وہ بولی تو صالحہ نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا۔
’’امی‘ مجھے اپنی دعائوں کے حصار میں رخصت کریں گی تو میں ہر مشکل اور مصیبت سے دور رہوں گی۔‘‘ ماہ نم نے ان کی فکر دور کرتے ہوئے کہا۔ تو صالحہ خاموشی سے چائے پینے لگیں۔ ماہ نم جانتی تھی کہ وہ کس قدر افسردہ ہیں بلکہ حد درجہ پریشان بھی مگر اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔ اس نے صالحہ کو بغور دیکھا جن کو حالات نے کرب و مصائب کے سوا کچھ نہ دیا تھا۔ اس کا عکس ان کے چہرے پر واضح تھا۔ ماہ نم کو ماں سے بے حد محبت تھی اور اب ماہ نم اپنی خدمت سے قرض اتارنا چاہتی تھی اور اتار رہی تھی۔ اس نے لباس تبدیل کیا۔ ساڑھے نو بج چکے تھے۔
’’امی جی…‘‘ دونوں یک دم ایک دوسرے کو گلے لگا کر رو پڑیں۔ صالحہ کو موقع چاہیے تھا یہ ان کا دل ہی جانتا تھا کہ وہ کس کرب سے گزر رہی ہیں۔ ان کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ پل بھر کو بھی ماہ نم کو خود سے جدا نہ کرے۔
’’اللہ تمہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے… جائو دیر ہورہی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے آنچل سے اس کا چہرہ صاف کیا۔
ماہ نم نے اپنی چادر درست کی۔ بیگ کندھے سے ٹکایا اور دوسرا وزنی بیگ گھسیٹتی ہوئی مدھم لہجے میں بولی۔
’’اللہ حافظ امی… میں پہنچتے ہی آپ کو اطلاع دے دوں گی۔‘‘ اس کے دل کی عجیب کیفیت تھی وہ پہلی بار گھر سے باہر جارہی تھی صالحہ سے دور اور صالحہ کے دل سے اس کی حفاظت و امان کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
موسم کی رعنائیاں اپنے عروج پر تھیں۔ آسمان پر کالے بادل ادھر سے ادھر ہوا کے دوش پر اڑتے پھر رہے تھے۔ اسی موسم نے ان کے اندر جوش سا پیدا کر رکھا تھا۔ مخملی گھاس پر بیٹھے وہ پانچوں بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ زاہد نے اپنے موبائل پر تیز میوزک لگا رکھا تھا۔ سارے ہی کلاس بنک کرکے مستیوں میں مگن تھے۔ فرہاد، عمر اور اسد گنگنا کر ماحول کو رومان پرور بنا رہے تھے یکایک اسد بولا۔
’’تو کیا سوچ رہا ہے یار؟‘‘ جب کہ وہ محض اسد کی بات پر مسکرا دیا۔
’’ارے اٹھو ناں‘ کینٹین چلتے ہیں۔ گرم گرم سینڈوچ اور کافی اڑائیں گے۔‘‘ عمران نے فیصلہ سنایا تو سب ہی اپنی اپنی فائلز اٹھا کر چلنے لگے۔
’’تو کیوں خاموش ہے یار ایزی؟‘‘ اسد اس کے کندھے پر بازو رکھ کر بولا۔
’’اسے کسی کی یاد آرہی ہے۔‘‘ زاہد نے ٹکڑا لگایا۔
’’ارے وہی لمبے گھٹائوں جیسے بالوں والی نوشین حامدی۔‘‘ عمران کیونکر چپ رہتا۔
’’بکو مت… کبھی کبھی چپ رہنے کو بھی دل کرتا ہے۔‘‘ چاروں نے اوئے ہوئے کہہ کر فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
’’یار قسم سے ایزی تو چپ ہوتا ہے ناں تو ایسے لگتا ہے جیسے فضا میں اداسی گھل گئی ہو۔ تو ہی تو ہمارا سب سے زندہ دل یار ہے۔‘‘ فرہاد نے اسے پیار سے کہا تو سب نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایزی کہاں چپ رہنے والا تھا مگر سامنے نظارہ ہی ایسا تھا کہ سب کو چپ لگ گئی۔ لیمن کلر کے سادہ سے لباس میں ملبوس، متوسط طبقے کی دل نشین سی دوشیزہ سرتا پا قیامت تھی۔ لمبا قد، سرمئی آنکھیں‘ گھنیری چمکتی رنگت۔ وہ الگ تھلگ کھڑی انگلیاں مروڑتی‘ پریشان پریشان سی فائل تھامے گویا کسی غیبی امداد کی منتظر تھی۔
’’ لگتا ہے نیو انٹری ہے۔‘‘ زاہد نے اس کے کان میں کہا۔
’’ہاں یار۔‘‘ عمران اور زاہد بھی تائیدی انداز میں بولے۔ فرہاد کی مدد کی حس جاگی۔ وہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس صورت حال کو سمجھ کے آگے بڑھا۔ باقی چاروں وہیں رک گئے۔
’’سنیے سسٹر‘ اینی پرابلم…‘‘ فرہاد کے لہجے میں بھائیوں کا سا مان تھا۔
’’جی…بھائی… مجھے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا بتا دیجیے۔‘‘
’’نو پرابلم آئیے۔‘‘ فرہاد نے جیسے ہی کہا تو اس نے ساتھ جانے کو قدم بڑھائے اور وہ چاروں کو ہاتھ ہلا کر دوسری جانب چل دیا۔
’’آئو ہم کینٹین چلیں۔ وہیں تو جارہے تھے۔‘‘ وہ ان کے ساتھ کیٹین آگیا اور آرڈر کردیا۔ پندرہ منٹ بعد فرہاد بھی ان کی کمپنی جوائن کرنے آگیا۔ آتے ہی سب اس کا ریکارڈ لگانے لگے۔
’’بس یار شرم کرو… میری بہنوں جیسی ہے۔‘‘ فرہاد واقعی سیدھا سا تھا۔
’’ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا معلوم کررہی تھی۔ وہیں چھوڑنے گیا تھا۔ ماہ نم عابد نام ہے۔‘‘ فرہاد نے ان کی معلومات میں اضافہ کیا اور سموسہ توڑ کر منہ میں رکھا۔ بے فکری سے سب کے چہرے روشن تھے۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ بنا کسی کی طرف دیکھے بٹوے سے پیسے نکال کر میز پر رکھے اور کینٹین سے باہر آگیا۔
’’بڑا خود دار ہے۔‘‘ عمران نے سوچا۔ جب کہ ایزی کو اس کی حرکت پر سخت تائو آرہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
صالحہ نے اسکول سے آتے ہی دال چڑھائی پھر نماز پڑھ کر سلاد بنایا اتنے میں ماہ نم بھی آگئی انہیں کام کرتا دیکھ کر محبت سے بولی۔
’’امی میں کرلیتی ناں…‘‘ وہ قدرے تھکی تھکی لگ رہی تھی۔
’’نہیں بیٹا سب کام ہوگئے۔ تم جلدی سے فریش ہوکر آجائو۔‘‘ ماہ نم ہاتھ منہ دھوکر لباس بدل کرکے آگئی۔ رنگت اب کھلی کھلی دکھائی دے رہی تھی۔ صالحہ نے بغور بیٹی کو دیکھا۔ خوب صورت نین نقش عابد کے چرائے تھے۔ جب کہ رنگت صالحہ جیسی تھی۔ خاص طور پر اس کی بڑی بڑی سرمئی آنکھیں۔ جن کی گہرائی میں ذہانت، سنجیدگی اور اداسی کا امتزاج نمایاں تھا۔
’’کیسا رہا پہلا دن؟‘‘
’’بہت زبردست‘ رافعہ اور امبرین بہت اچھی دوست بن گئی ہیں۔‘‘ صالحہ کو حقیقت میں ماہ نم خوش لگی۔
’’شکر ہے اللہ کا‘ بس تم دل لگا کر اپنی تعلیم مکمل کرو۔‘‘
’’جی امی… دال بہت مزے کی ہے۔‘‘ یہ سن کا صالحہ مسکرانے لگیں۔
’’اب آپ آرام کریں میں سب سمیٹ لوں گی۔ پہلے آپ کو چائے بنادوں۔ میں بعد میں پیوں گی۔‘‘ ماہ نم ماں کو چائے دے کر برتن دھوکر آرام کی غرض سے کمرے میں آگئی۔
جانے کیوں اس کا ذہن ایک دم فرہاد کی جانب چلا گیا۔ اس کی آنکھوں میں اسے احترام اور بھائیوں جیسی بات دکھائی دی۔ ماہ نم جو بھائی، بہن سے محروم تھی آج اسے احساس ہوا کہ بھائی کتنی بڑی نعمت ہوا کرتے ہیں۔
اس کے والد عابد انصاری سرکاری ملازم تھے۔ شکر ہے کہ گھر اپنا تھا۔ شادی کے دو سال بعد ماہ نم آئی۔ عابد اکلوتے تھے اور ان کے والدین وفات پاچکے تھے۔ دور پار کے عزیز کبھی کبھار آتے رہتے تھے۔ دن بہت سکون سے گزر رہے تھے۔ ماہ نم ان کی آنکھ کا تارا تھی کہ یک دم گردش ایام سے سب کچھ ختم ہوگیا۔ ایک رات عابد دل کے دورے کے سبب ملک راہی عدم ہوئے۔
صالحہ کی دنیا اندھیری ہوگئی۔ کیا کرتی‘ بی اے تک تعلیم تھی۔ ایک اسکول میں نوکری مل گئی۔ ساتھ ساتھ پرائیویٹ پڑھنے لگیں۔ عابد کے واجبات بینک میں رکھوا دیے۔ پینشن سے کہاں گزارا ہوتا تھا۔ جلد ہی انہیں سرکاری اسکول میں نوکری مل گئی۔ یوں زندگی کے دن گزرنے لگے۔ قدم قدم پر عابد کی کمی محسوس ہوتی۔ ماہ نم جوانی کی سرحد پر قدم رکھنے لگی تو اسے زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کرتیں۔ ماہ نم ذہین‘ معصوم اور خوب صورت دوشیزہ کا روپ دھار چکی تھی۔ اسے وقت نے بہت پہلے ہی حالات کی تلخیوں سے آگاہ کردیا تھا۔ وہ صرف اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر اپنی قابلیت کو آگے بڑھا رہی تھی۔ پچھلے سال شان دار نمبروں سے بی اے کیا اور اب ایم اے ایجوکیشن کے سال اول میں آئی تھی۔
مضبوط کردار، رکھ رکھائو اور وضع قطع سے اس کی شخصیت نمایاں تھی۔ پڑھائی کے علاوہ وہ کالج میں غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی تھی۔ یہاں آکر بھی اس نے اپنے شوق کو برقرار رکھا اور یونیورسٹی میگزین کی ادارت سنبھال لی تھی۔ اپنے مشاغل سے اسے عشق تھا اور پڑھائی کا جنون۔ ایسے میں کوئی اسے کس نظر سے دیکھتا۔ اسے چنداں پروا نہ تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
وہ آج جیسے ہی اپنی گاڑی سے باہر نکلا تو اسے وہ یونیورسٹی بس سے باقی لڑکیوں کے ہمراہ نیچے اترتی نظر آئی۔ صاف وشفاف سفید پائوں کالی سینڈل میں مقید تھے۔ اتنے سالوں میں کوئی لڑکی اسے متاثر نہ کر پائی تھی مگر جانے ماہ نم میں کیا تھا۔ وہ کشاں کشاں اس کی جانب کھینچا چلا جارہا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ اس کے ارد گرد لڑکیاں نہ تھیں مگر وہ جس کا متلاشی تھا اس کی نظروں نے اب اسے پالیا تھا۔
آج بھی وہ سب کلاس آف ہونے کے سبب گرائونڈ میں بیٹھے تھے کہ لڑکیوں کا ایک گروپ ان سے کچھ فاصلے پر آبیٹھا۔ ان میں ماہ نم بھی تھی۔ وہ اسے محویت سے دیکھتا رہا اور سب نے یہ بات محسوس کرلی تھی۔
’’اوہو… ہو۔‘‘ عمران نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھا تو وہ چونکا۔ آج بخار کے سبب فرہاد چھٹی پر تھا۔
’’یار آج واپسی پر فرہاد کی طرف چلنا ہے۔‘‘ اسد نے کہا تو سب نے ہامی بھرلی۔
گاڑی میں وہ سب اس کے ہمراہ فرہاد کے گھر آگئے تھے۔ عام سے محلے میں عام سا مگر بے حد صاف ستھرا گھر‘ فرہاد ان سب کو دیکھ کر بے حد خوش ہوا۔
’’رامین پلیز چائے لے آؤ۔‘‘ فرہاد نے وہیں سے ہانک لگائی۔
’’رہنے دو یار… بس ہم کچھ دیر بیٹھ کر چلتے ہیں۔‘‘
’’اچھا تو ایسا کرو آج تم ماہین کے ہاتھ کے آلو کے پراٹھے کھا کے دیکھو۔‘‘ وہ باہر گیا اور آرڈر دے آیا۔
پھر کیا تھا۔ گرم گرم پراٹھے، پودینے کی چٹنی اور رائتہ فرہاد کی امی نے سب کو زبردستی کھلایا۔ تب واپسی پر اسد اور زاہد نے ماہین اور رامین کی معصوم صورتوں کے آگے دلوں کو ہارتے دیکھا۔ دونوں جڑواں تھیں اور ابھی ابھی ایف اے کیا تھا۔ فرہاد کے والد وفات پاچکے تھے۔ متوسط طبقے کے لوگ تھے۔ ماں کپڑے سی کر گزارا کرتی تھی۔ فرہاد شام میں ٹیوشنز پڑھاتا تھا۔
ان سب دوستوں میں صرف وہ ہی تھا جو بے حد امیر و کبیر والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ عبدالحسیب اور شگفتہ کی آنکھ کا تارا۔ عبدالعزیز مگر دوستی اونچ نیچ سے پاک تھی۔ اس میں فخر وغرور نہ تھا ہاں مگر جب سے فرہاد کی ماہ نم سے بات چیت شروع ہوئی تھی اس کے اندر عجیب کشمکش پیدا ہوگئی تھی۔ جسے وہ کوئی نام نہیں دے پارہا تھا بس یہ دکھ تھا کہ ماہ نم سے اس کی بات کیوں نہ ہوئی؟
ژ…ژ…ژ…ژ
عبدالعزیز عجیب مزاج کا نوجوان تھا۔ کبھی کبھی انتہا پسندی کو چھونے لگتا۔ فرہاد، ماہ نم سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتا رہا تھا۔ اسی کی زبانی اسے معلوم ہوا کہ وہ اور اس کی والدہ اکیلی رہتی ہیں۔ باپ فوت ہوچکا ہے‘ ماں اسکول میں استانی ہے۔ بے حد شریف اور باکردار خاتون ہیں۔ فرہاد ان سے مل بھی چکا تھا اسی لیے ان کی تعریف میں رطب اللسان تھا۔ وہ اپنے اندر کی کشمکش سے تنگ آرہا تھا۔ دوستوں کے ساتھ کم کم بیٹھتا۔ بیٹھتا بھی تو گویا کھویا سا سب نے اس کی خاموشی محسوس کرلی تھی۔
’’تو دو چار دن چھٹی کرکے آرام کر فریش ہوجائے گا۔‘‘ عمران نے مخلصانہ مشورہ دیا تو وہ پھیکی ہنسی ہنس دیا۔
’’کل میں ماہ نم کے گھر گیا تھا۔ اس کی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ بہت نفیس خاتون ہیں بلکہ اب تو میری امی اور بہنیں بھی ان سے مل چکی ہیں۔‘‘ فرہاد اپنی دانست میں اس نئے رشتے کو خوشی خوشی بیان کررہا تھا اور اس کا دل بے چین تھا۔
بدقسمتی سے آج یونیورسٹی کی بس خراب تھی۔ ماہ نم کسی ٹیکسی یا رکشے کا انتظار کررہی تھی کہ یک دم ایزی نے گاڑی اس کے سامنے روکی۔ اسے دیکھتے ہی ماہ نم کے ماتھے پر تیوریاں چڑ گئیں۔ گویا اس کے نزدیک وہ ایک ناقابل بھروسہ انسان تھا۔ ماہ نم جیسے بدک کر پیچھے ہٹی۔ ارد گرد اکا دکا لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے اور ماہ نم کو اپنی عزت ہر چیز سے پیاری تھی۔ اتنے میں ایزی باہر نکل کر شائستہ لہجے میں بولا۔
’’آئیے میں ڈراپ کردوں۔‘‘
’’میں اجنبی لوگوں کے ساتھ سفر کرنا پسند نہیں کرتی۔‘‘ وہ درشت لہجے میں بولی۔
’’اجنبی کیوں…؟ ہم ایک ہی درس گاہ میں پڑھتے ہیں۔ زیادہ نہ سہی کچھ تو واقفیت ہے ناں‘ میں فرہاد کا دوست ہوں، آپ مجھ پر اعتبار کرسکتی ہیں۔‘‘ اس کی لمبی بات پر اس نے محض نفی میں سر ہلایا اور قریب آتے رکشے کو ہاتھ دے کر اس میں بیٹھ گئی۔
اس کے اندر شعلے بلند ہورہے تھے‘ اپنی ہتک اور بے عزتی پر خون کھول رہا تھا۔ وہ تلملا کر ایک ہی بات سوچ رہا تھا کہ میں نے ایسا کیا کہہ دیا، کیا کردیا کہ وہ مجھے کوئی لوفر سمجھ بیٹھی ہے۔ پھر اگلے دو دن وہ یونیورسٹی بھی نہ آیا۔ موبائل بھی آف رکھا۔ ماما الگ اس کی گوشہ نشینی پر پریشان تھیں۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ اس کے پاس آکر نرمی سے بولیں۔
’’کچھ بھی تو نہیں ماما۔ بس ذرا تھکن تھی‘ سوچا ریسٹ کرکے فریش ہوجائوں۔‘‘ وہ اداسی سے بولا۔
’’اچھا ٹھیک ہے میں فریش جوس بھجواتی ہوں تم ریسٹ کرو۔‘‘ وہ اس کے ماتھے پر پیار کرکے چلی گئیں۔
پھرکیا تھا۔ شام کو سب دوست اس کے کمرے میں موجود تھے اور اسے زبردستی باہر لے گئے۔ خوب انجوائے کیا‘ کھانا کھایا‘ ان کی صحبت سے عبدالعزیز کے اندر سے اداسی کا کسی حد تک خاتمہ ہوگیا تھا۔
’’کل تو نہ آیا تو زبردستی اٹھا کر لے جائیں گے۔‘‘ ان کی دھمکی پر وہ مسکرا دیا اور آنے کی ہامی بھرلی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
وین ایک جھٹکے سے رکی۔ دو گھنٹے کا سفر جیسے لمحوں میں طے ہوگیا تھا۔ وہ بیگ اٹھا کر نیچے اتری اور کھلی فضا میں گہرا سانس لیا۔ ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ کسی سے رستے کا پوچھ لے جب ہی ایک بزرگ اس کے پاس آکر بولے۔
’’کہاں جانا ہے بیٹا؟‘‘ ان کے انداز میں شفقت و محبت تھی۔
’’السلام علیکم بابا جی۔ مجھے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شاداب نگر جانا ہے۔ میں وہاں کی ہیڈ مسٹریس مقرر ہوئی ہوں۔‘‘ ماہ نم نرمی سے گویا ہوئی۔
’’اوہ… اچھا اچھا شکر ہے۔ ایک عرصے سے بند اسکول اب شاید کھل جائے۔‘‘ وہ قدرے تشویش سے بولے‘ اتنے میں رکشے والا قریب آگیا۔ بابا جی نے اسے راستہ بتایا تو ماہ نم نے خوش دلی سے ان کا شکریہ ادا کیا اور رکشے میں بیٹھ گئی۔
’’بیٹا… میرا نام حاجی فیض رسول ہے۔ سب مجھے یہاں حاجی صاحب کے نام سے جانتے ہیں، کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتانا۔ میرا گھر اسکول کے قریب ہی ہے‘ فیض منزل کے نام سے ہے اور میں ریٹائرڈ آدمی ہوں۔‘‘
’’جی ضرور۔‘‘ ماہ نم جلدی سے بولی۔ پندرہ منٹ بعد رکشہ اسکول کی بوسیدہ وخستہ عمارت کے سامنے رک گیا۔
’’لو بی بی جی اسکول آگیا۔‘‘ وہ اپنا بیگ گھسٹتی اندر آگئی۔
اندر کا منظر ویرانی پیش کررہا تھا۔ دوپہر کے تین بج رہے تھے۔ چھٹی ہوچکی تھی۔ اسے بیگ تھامے دیکھ کر ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکا بھاگتا ہوا آیا اور لپک کر بیگ اس سے لیا اور جھٹ بولا۔
’’سلام استانی جی۔‘‘ وہ اسے ساتھ لیے دفتر نما کمرے میں آگیا۔ اندر سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ لڑکا چق اٹھا کر اندر گیا اور کچھ دیر بعد مس باہر آئی۔
’’السلام علیکم میں ماہ نم عابد ہوں۔ اس اسکول کی نئی ہیڈ مسٹریس۔‘‘ ماہ نم کے بولنے پر آنے والی کا رنگ فق ہوا اور بوکھلا کر سلام کرکے اسے اندر لے گئی۔ دو چار کرسیاں، کاغذوں کا ڈھیر، رجسٹرڈ کی بے ترتیبی، مالٹے اور مونگ پھلیوں کے چھلکوں نے فرش کو گل رنگ بنا رکھا تھا اندر ایک سینئر استانی بھی موجود تھی۔ ماہ نم نے ناقدانہ نظروں سے لمحہ بھر میں جائزہ لے لیا۔
’’وہ جی آج رحمتے جلدی چلی گئی تھی اس لیے صفائی نہ ہوسکی۔‘‘
’’اوئے شریف جا رحمتے کو بلا کر لا۔‘‘ اسی لمبے سے لڑکے کو باہر جاکر اس نے حکم دیا پھر اندر آگئی۔
’’یہ چوکیدار سلیم کا بیٹا ہے۔‘‘ مس فرزانہ نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
’’آپ کو خوش آمدید۔ ہم سمجھے آپ دو دن بعد چارج لیں گی۔‘‘ ادھیڑ عمر استانی راحت نے اسے خوش آمدید کہا۔ ماہ نم مسکرادی۔
’’آپ کا کوارٹر سیٹ کروا دیا ہے۔‘‘ راحت خاصی سمجھ دار خاتون تھیں۔ ’’اسکول کے اختتام پر کوارٹر ہیں‘ ایسا کریں آپ میرے ساتھ آئیں۔‘‘ وہ اسے ساتھ لیے چلتے ہوئے باتیں کرکے کوارٹر تک آگئیں۔ تالا کھولا، چھوٹا سا صحن، ایک طرف بیت الخلا‘ برآمدے میں ہی کچن‘ پھر دو چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ اسی دوران صالحہ کی کال آگئی تو اس نے جلدی سے انہیں اپنی خیریت بتائی۔ رہائش کا بتایا تو وہ بھی شکر ادا کرنے لگیں۔
’’آپ یہاں آرام کریں کل سے جوائن کریں گی ناں؟‘‘ اس نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’اور ہاں کھانا آج ہماری طرف سے‘ میرا گھر قریب ہی ہے آپ خود کو ہرگز اکیلا محسوس نہ کریں۔‘‘
’’جی… بہت شکریہ۔‘‘ وہ بہت تھکن محسوس کررہی تھی۔
لیکن سونے سے پہلے بیگ سے چیزیں نکال کر مطلوبہ جگہوں پر رکھیں۔ لباس استری کیا۔ اسی دوران شریف کھانے کی ٹرے لیے آگیا، کھانا کھا کر اور گرم گرم چائے پی کر توانائی محسوس ہوئی۔ تو وہ تھکن اتارنے کے لیے نیند کی وادی میں گم ہوگئی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
صابر نہایت پھرتیلا لڑکا تھا۔ تین سال سے یہیں تھا۔ کھانا عمدہ پکاتا تھا۔ بابا بس نگرانی کرتے تھے۔ ماسی زبیدہ گھر کے دیگر امور نبٹاتی الغرض عبدالعزیز کو کوئی مسئلہ نہ تھا کہ گھر کیسے چلے گا؟
عبدالکریم بابا اس کے ابو کے چچا زاد تھے۔ برسوں قبل بیوی اور بیٹے کی ناگہانی وفات کے سبب اب مستقل ان کے گھر میں رہتے تھے۔ عبدالعزیز کے والدین کچھ سال پہلے ناگہانی حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ والدہ شگفتہ کی خواہش تھی کہ وہ شادی کرلے مگر اس کی نا‘ ہاں میں نہ بدلی۔ عبدالعزیز کو کیا دکھ تھا جس نے اسے سر تا پا بدل کے رکھ دیا تھا۔ دیمک کی طرح اس کے شوق اور شوخی کو آہستہ آہستہ ختم کرکے گوشہ نشین بنا دیا تھا۔ وہ کئی کئی دن کمرے میں بند رہتا۔ کسی سے نہ ملتا۔ عبدالحسیب اور شگفتہ کی وفات کے بعد وہ ترک دنیا کرچکا تھا۔ ایسے میں بابا کی مسلسل کوششوں سے وہ اپنے خول سے باہر آگیا تھا اور انہوں نے اسے اس قابل بنا دیا تھا کہ اب وہ کاروبار دیکھنے لگا تھا مگر اندر کی گھٹن کو کم نہ کرسکا۔
ان کا جدی پشتی قالینوں کا کاروبار تھا۔ جو خوب چل رہا تھا۔ اسٹاف محنتی اور اعتماد والا تھا۔ یوں وہ زیادہ وقت آفس میں گزارتا۔ شادی کے نام سے اب بھی دور بھاگتا۔ اٹھائیس سال کا ہوچکا تھا مگر خود پر جیسے قدغن لگا رکھی تھی۔ بابا اسے بہت سمجھاتے۔
’’آیا جایا کرو۔‘‘ رشتہ داروں سے بھی لاتعلق سا رہتا تھا بہت ہوا تو اسد اور زاہد کی طرف چلا جاتا۔
’’دل نہیں مانتا بابا کیا کروں۔‘‘ وہ جیسے بے بس ہوکر کہتا۔ تب بابا اور بھی افسردہ ہوجاتے اور اسے ایک بار پھر سمجھانا اپنا فرض سمجھتے۔
’’بیٹا گھر عورت کے دم سے آباد رہتا ہے‘ رزق میں برکت پیدا ہوتی ہے‘ رونق رہتی ہے‘ دوست یار اپنی جگہ‘ وہ سب اپنی اپنی زندگیوں میں آباد وخوش ہیں۔ اب تم بھی اپنے بارے میں سوچو۔‘‘ عبدالعزیز ان کی باتیں سن کر رہ جاتا۔ وقت تیزی سے اپنا سفر مکمل کررہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
اسد اور زاہد کی رامین اور ماہین سے بات طے ہوگئی تھی۔ فرہاد کی والدہ نفیسہ بہت رکھ رکھائو والی مگر بہت سیدھی خاتون تھیں۔ خود اسد اور زاہد اچھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں چچا زاد تھے۔ زاہد کے ابو بیمار رہتے تھے۔ سو زاہد پڑھائی کے بعد ان کے ساتھ جنرل اسٹور پر کام کرنے لگا تھا۔ ایک چھوٹی بہن تھی۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ اسد کی والدہ نہ تھیں۔ زاہد کی والدہ نے ہی اس کی پرورش کی تھی۔ والد سال بھر پہلے انتقال کر گئے تھے یوں دونوں کی منگنی طے کردی گئی۔ فرہاد بے حد خوش تھا کہ دونوں بہنیں مطمئن زندگی گزاریں گی۔ زاہد کے والد کے اصرار پر ہی وہ ان کے جنرل اسٹور پر بیٹھ گیا کہ اگر نوکری مل گئی تو ٹھیک ورنہ کاروبار میں نفع ہے۔ پھر دونوں دوست بھی تھے اور پڑھے لکھے سمجھ دار‘ یوں کام بہتر طریقے سے چلنے لگا کہ محنت میں عظمت ہے۔
فرہاد کے گھر آج خاصی رونق تھی۔ سب دوست بھائیوں کی طرح کام کررہے تھے۔ ماہ نم کو بھی بلایا تھا۔ اسی نے آکر رامین اور ماہین کو تیار کرنا تھا۔ آخر کو بڑی بہن کا کردار نبھانا تھا۔ صالحہ کے ساتھ وہ وقت مقررہ سے کافی پہلے آگئی تھیں۔ ماہ نم نے پہلے ان دونوں کو تیار کیا پھر خود بھی ہلکے پھلکے انداز میں تیار ہوگئی۔ آدھے گھنٹے بعد مہمان آگئے۔ صحن میں رنگ وبو کا سیلاب سا امڈ آیا تھا۔ فرہاد باہر کے کام دیکھ رہا تھا۔ عبدالعزیز، بلیو جینز اور آف وہائٹ شرٹ میں خوب جچ رہا تھا۔ وہ ماہ نم کی والدہ سے بے حد احترام سے ملا تھا۔
رامین اور ماہین کو ماہ نم اندر سے لائی تب ایزی اسے دیکھتا رہ گیا۔ فرہاد جانے ماہ نم سے کیا کہہ رہا تھا۔ ایک حاسدانہ سی جلن ایزی کے دل میں جاگی۔ ماہ نم مسکرائی تو جیسے ایزی کے اندر بھانبھڑ سے جلنے لگے۔ بے شک ان دونوں کے درمیان ایک مقدس رشتہ تھا مگر ایزی کے اندر برداشت کی کمی تھی۔ رات گیارہ بجے تقریب ختم ہوئی۔ نفیسہ، ماہ نم اور صالحہ کی شکر گزار تھیں۔ رفتہ رفتہ سب رخصت ہونے لگے۔ ایزی بھی جانے کا سوچ رہا تھا۔
’’آنٹی آئیے میں آپ کو ڈراپ کردوں۔‘‘ وہ صالحہ کے قریب آکر بولا۔ ماہ نم ابھی اندر تھی۔
’’نہیں بیٹا ہم چلے جائیں گے۔‘‘ وہ نرمی سے بولیں۔
’’بہن رات خاصی ہوگئی ہے۔ آپ اکیلی نہ جائیں۔‘‘ نفیسہ نے فوراً مشورہ دیا۔
’’جی آنٹی… ایزی آپ کو چھوڑ دے گا‘ بے فکر رہیں۔‘‘ فرہاد کے کہنے پر وہ مان گئیں۔
’’ماہ نم آجائو بیٹا۔‘‘ صالحہ نے اسے آواز دی تو وہ چادر اوڑھے بیگ لیے آگئی۔ ایزی باہر کی طرف چل دیا۔ فرہاد نے ماہ نم کو بتایا کہ ایزی اسے گھر ڈراپ کردے گا تو جانے کیوں ماہ نم کے ماتھے پر بل آگئے۔ تاہم وہ خاموش رہی۔ فرہاد نے واضح محسوس کیا مگر یہ وقت نہ تھا کہ وہ ایزی کی شرافت پر لیکچر دیتا۔ بیس منٹ بعد گھر آگیا۔ صالحہ نے اس کا شکریہ ادا کیا تو وہ شرمندہ ہوگیا۔
’’ارے نہیں آنٹی شرمندہ نہ کریں۔‘‘ اس نے ایک بھرپور نگاہ ماہ نم پر ڈالی جو بے نیاز سی کھڑی تھی۔
’’اوکے، اللہ حافظ آنٹی۔‘‘ وہ اس کے سرد رویے پر تلملاتا گاڑی میں آبیٹھا۔
’’کیا میں غلط آدمی ہوں یا کبھی اس سے کوئی غلط بات کی ہے؟ جانے کیا سمجھتی ہے خود کو۔‘‘ وہ رات کے اس پہر ماہ نم کی بے رخی پر تائو کھا رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ایزی کی شخصیت میں ماہ نم کو ایک مغرور اور دوسروں کو کمتر سمجھنے والا انسان دکھائی دیتا تھا۔ کتنی بڑی غلط فہمی کا شکار تھی وہ۔ جب کبھی اس کا سامنا ہوتا‘ ماہ نم اپنے اندر عجب احساس پاتی۔ ماہ نم کے نزدیک وہ ایک آوارہ‘ لوفر اور دل پھینک انسان تھا۔ دل ہی دل میں اسے اس قسم کے کتنے ہی خطابات دے ڈالے تھے۔ اپنی اس خود ساختہ سوچ پر وہ مطمئن بھی تھی۔
آج اسے ہر حال میں نوٹس مکمل کرنا تھے۔ لائبریری تقریباً خالی ہوچکی تھی مگر وہ اس قدر منہمک تھی کہ پاس آکر بیٹھے ایزی کا پتا ہی نہ چلا۔
’’آج آپ کو بہت دیر ہوگئی ہے۔‘‘ اس کی آواز پر وہ یک دم چونکی۔
’’تو…؟ آپ سے مطلب۔ دیر ہو یا نہیں۔‘‘ وہ لہجے میں تلخی و چبھن لیے بولی۔
’’میرا مطلب ہے کہ آپ کو جانے میں پرابلم ہوگی۔‘‘ وہ اس کے رویے کو برداشت کرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔
’’دیکھیے یہ آپ کا مسئلہ نہیں‘ جانے کچھ لوگوں کے ساتھ کیا پرابلم ہوتی ہے۔ بلاوجہ ہی دوسروں کی پرائیویسی میں انٹرفیئر کرتے ہیں۔‘‘ ماہ نم بڑبڑائی تو احساس توہین سے ایزی کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’آپ…‘‘ وہ بولنے ہی لگا تھا کہ ماہ نم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
’’پلیز جائیے آپ۔‘‘ وہ کہہ کر دوبارہ لکھنے میں مگن ہوگئی۔
ایزی مارے غصے کے اسے گھورتا باہر آگیا۔ جانے کیا سمجھتی ہے خود کو۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر خود کو نارمل کرنے لگا۔ پھر تو ایزی نے جیسے ٹھان لی تھی کہ اب اسے جھکا کر ہی دم لے گا۔ اب معاملہ عشق و محبت کی حدود سے نکل کر مقابلے کی سطح پر آگیا تھا۔ وہ یک طرفہ آگ میں جل رہا تھا اور وہ اسے مسلسل جلا رہی تھی۔ دوستوں سے بات کرنے کا وہ روا دار نہ تھا۔ امتحانات قریب تھے۔ سب ہی اپنے اپنے مشاغل ترک کرکے پڑھائی میں جت گئے تھے۔
اسد اور زاہد بھی جنرل اسٹور کو کم وقت دیتے۔ فرہاد صبح پڑھتا اور شام کو ایک اکیڈمی میں پڑھانے چلا جاتا۔ اسے سخت محنت کرنا تھی۔ وہ بس ایک اچھی نوکری کا خواہاں تھا۔ نفیسہ کے دل سے اس کے لیے دعائیں نکلتی تھیں۔ آپس کی ملاقات صرف دعا سلام تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ اللہ اللہ کرکے امتحانات ختم ہوئے تو سب ہی نے شکر کا سانس لیا۔ زاہد اور اسد کی شادیاں طے پاگئی تھیں۔
فرہاد نے کئی جگہوں پر نوکری کے لیے درخواست دی مگر ہنوز دلی دور است والا معاملہ تھا۔ عمران کو اس کی خالہ نے کینیڈا بلایا تو وہ پرواز کر گیا تھا۔ ان سب کے باوجود ایزی کو وہ نک چڑھی ماہ نم نہ بھولتی تھی۔ جس نے اسے ایک فضول انسان گردانا تھا۔
شگفتہ اور عبدالحسیب اسے کاروبار میں دلچسپی لینے کو کہتے مگر وہ ٹالتا رہتا۔ وہ بھی اکلوتے بیٹے پر سختی نہ کرتے اور یوں ایک سال بیت گیا۔
ماہ نم نے بھی اس سال امتحان دیا اور اعلا نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ نوکری کے لیے بھی درخواستیں دے رکھی تھیں۔ ایم ایڈ کی تیاری بھی ساتھ ساتھ کررہی تھی۔ وقت گزرتا گیا۔ موسم ایک دم بدل گیا۔ دوپہر تک ہلکے بادل تھے اب تو جیسے برسنے کو بے تاب تھے۔ ایزی موسم کا لطف لیتا‘ گھومتا پھرتا اسد اور زاہد کے اسٹور پر چلا آیا۔ دونوں نے اس کی خوب آئو بھگت کی۔
’’یار وہ ایسا ہے کہ فرہاد کی امی بے حد بیمار ہیں‘ کل رپورٹ آگئی ان کو آنتوں کا کینسر ہے۔‘‘ اسد نے انتہائی دکھ سے یہ افسوس ناک خبر سنائی۔
’’وہ آج کل ہماری طرف ہی ہیں۔ فرہاد رقم بھیج تو رہا ہے مگر تم تو جانتے ہو کہ کس قدر مہنگا علاج ہے۔ ہم بھی اپنی طرف سے جو ہورہا ہے کررہے ہیں۔ ‘‘ اسد ایک گاہک کو بقیہ رقم تھماتے ہوئے افسردگی سے بولا۔
’’اچھا چلو میں شام میں آئوں گا۔‘‘ ایزی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اور ہاتھ ملا کر چلا گیا۔
’’ارے یار سنو…‘‘ اچانک ہی زاہد نے اسے پکارا۔
’’کیا…؟‘‘ وہ کی چین سنبھالتے ہوئے واپس مڑ کر بولا۔
’’وہ کل ماہ نم بھی آئی تھی۔ اس کو بہت اچھے اسکول میں نوکری مل گئی ہے۔ مٹھائی لے کر آئی تھی آنٹی کے ساتھ۔‘‘ اسد نے بتایا تو ایزی جیسے تڑپ سا گیا۔ سال سے زیادہ ہوگیا تھا اس ظالم کو دیکھے۔
’’ہاں… ذہین تو تھی ہی… اوکے میں چلتا ہوں۔‘‘ وہ اس سے مصافحہ کرکے گاڑی میں آبیٹھا۔
گھر آکر بھی اداسی کا حصار اس کے گرد تنا رہا‘ شگفتہ اس کی اداسی خاص طور پر محسوس کررہی تھیں۔ شادی کے لیے وہ راضی نہ ہوتا تھا۔ دونوں اسے سمجھا کر لڑکیاں دکھا دکھا کر تھک چکے تھے۔
’’کوئی پسند ہے تو بتاؤ…‘‘ شگفتہ غصے سے کہتیں تو وہ مسکرا دیتا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ماما۔‘‘ وہ مسکرا کر بات ختم کر دیتا۔
’’پسند… جسے میں پسند کرتا ہوں‘ چاہتا ہوں‘ وہ تو میرے سائے سے بھی دور بھاگتی ہے۔‘‘ اب وہ انہیں کیا بتاتا۔
عبدالعزیز… کو اپنا نام پرانا اور دقیانوسی سا لگتا تھا۔ ایک دن کسی دوست کے ’’ایزی‘‘ کہنے پر وہ دوستوں کا ایزی ہوگیا۔ جب کہ ماما اور پاپا اسے اس کے پورے نام سے پکارتے تھے۔ اس کے لیے ایزی کہلوانا باعث فخر اور جدیدیت کی مثال لگتا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
عبدالعزیز بھرپور مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔ دولت کی ریل پیل کے باعث فخر و غرور لہو میں شامل تھا۔ چہرے اور لباس سے روپے پیسے کا اظہار، نئے ماڈل کی گاڑی‘ جدید موبائل‘ قیمتی چیزوں کا دل دادہ‘ دوستوں کا دوست‘ خوب موج مستی کرنے والا مگر ستم کہ اب تک ماہ نم کو متاثر نہیں کر پایا تھا۔ اپنی کسی چیز سے اسے متاثر نہیںکر پا رہا تھا اور یہی بات اس کے لیے سوہان روح تھی۔
رات کو وہ فرہاد کی والدہ آنٹی نفیسہ سے ملنے چلا آیا۔ وہ بے حد کمزور لگ رہی تھیں۔ وہ ان کے لیے بہت سی چیزیں خرید کے لایا تھا۔ باتوں باتوں میں پتا چلا کہ ماہ نم کی والدہ نے ان سے ماہ نم کے رشتے کے لیے کہا ہے تاکہ اس کی شادی کرکے فرض سے آزاد ہوجائیں۔ کافی دیر ان کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ جاتے ہوئے نفیسہ آنٹی کے ہاتھ میں ہزار کے کئی نوٹ تھما گیا۔
’’ایزی ایک بات کہوں؟‘‘ اسد اس کی گاڑی کے قریب رک کر بولا۔
’’ہاں… کہو…‘‘ ایزی متوجہ ہوا۔
’’یار تو اگر برا نہ مانے تو میں آنٹی سے ماہ نم کے لیے تیری بات کروں۔‘‘ اسد رک رک کر بولا۔ تو ایزی کے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ قدرے توقف کے بعد بولا۔
’’مجھے نہیں لگتا کہ ماہ نم مجھے قبول کرے گی۔‘‘ ایزی اداس سا بولا۔
’’کیوں…؟‘‘ اسد پر جیسے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔ ’’تو یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔‘‘
’’مجھے لگتا ہے وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔ مجھے اچھی نظر سے نہیں دیکھتی۔ کئی سالوں سے اس کا رویہ میرے ساتھ ہتک آمیز ہی ہے۔ مجھے ماہ نم کی پاکیزگی اور بلند کردار پر فخر ہے اسد مگر مجھے لگتا ہے وہ انکار کردے گی۔‘‘ ایزی نجانے کیوں آج پھٹ پڑا تھا۔
’’کمال ہے یار… چھوڑ یہ سوچنا۔ اگر تو راضی ہے تو بات ختم۔ میں آنٹی سے بات کرکے تجھے بتاتا ہوں تو پھر اپنے والدین کو بھیج دینا۔ یار محبت شادی کے بعد ہو تو وہ ہی اصل محبت ہوتی ہے۔ تو بے فکر ہوجا‘ بس تمہیں ملانا اب میرا کام ہے۔‘‘ اسد نے مسکرا کر اسے گلے لگایا تو ایزی ایک دم ہلکا پھلکا ہوکر مسکرانے لگا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
صالحہ بھی اب بیمار رہنے لگی تھیں۔ کمزوری بڑھتی جارہی تھی۔ ان کو صرف یہی فکر تھی کہ ماہ نم اپنے گھر کی ہوجائے۔ زندگی کی لو ٹمٹما رہی تھی۔ جانے کب تیز ہوا کا جھونکا اسے بجھا جائے مگر ماہ نم تھی کہ انکار پر انکار کیے جارہی تھی۔ ایک دو رشتے آئے بھی مگر وہ قابل قبول نہ تھے۔ صالحہ کسی اچھے رشتے کے انتظار میں تھیں۔ تب ہی انہوں نے اسد اور فرہاد کی والدہ سے بات کی۔ انہوں نے ہامی بھرلی مگر نفیسہ تو دو ماہ میں ہی ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ گئیں۔ کینسر جیسے موذی مرض نے جڑ پکڑلی تھیں اور وہ دو ماہ میں ہی دنیا ہی چھوڑ گئیں۔
رامین اور ماہین نے رو رو کر برا حال کرلیا تھا۔ ماہ نم اور صالحہ روز آتیں مگر صدمہ ابھی تازہ تھا۔ اسد اور زاہد نے بیٹوں سے بڑھ کر کام کیا۔ ایزی نے باہر کے سارے کام اپنے ذمے لے رکھے تھے۔ شگفتہ بھی آتیں۔ یہیں پر انہوں نے ماہ نم کو دیکھا تو وہ انہیں پسند آئی مگر ماہ نم کو اب تک نہ ایزی پسند آیا تھا نہ اس کی کوئی عادت بھائی تھی۔ یہاں تک کہ نفیسہ کے انتقال کے پندرہ دن بعد شگفتہ ایزی کا رشتہ لے کر اسد کے ہمراہ ان کے گھر آئیں۔ ماہ نم کے اندر جیسے جوار بھاٹا اٹھنے لگا تاہم ان کی آؤبھگت کی خوب عزت دی مگر ان کے جاتے ہی وہ جیسے پھٹ پڑی۔
’’پاگل ہوگئی ہو کیا۔ بیٹھے بٹھائے اتنا اچھا خاندانی رشتہ آگیا۔ اﷲ کا جتنا شکر ادا کرو کم ہے۔ پڑھا لکھا‘ شریف‘ کھاتا پیتا‘ وضع دار لوگ اور کیا چاہیے تمہیں۔‘‘ صالحہ تپی بیٹھی تھیں۔
’’بس مجھے نہیں کرنی شادی۔ ابھی تو میری نوکری لگی ہے۔‘‘
’’چھوڑ دو نوکری…‘‘ صالحہ اس کی ضد کو خاطر میں نہ لاتے بولیں۔
’’امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔ میری اتنی محنت‘ پڑھائی لکھائی‘ خواب سب شادی کی نذر کردوں… ہرگز نہیں۔‘‘ ماہ نم اندر تک سلگنے لگی اور پیر پٹختی اندر چلی گئی۔ دماغ ماؤف ہورہا تھا۔
گھر‘ شوہر‘ بچے‘ اب تک گزری زندگی میں ایسا کوئی خوش گوار خواب اسے چھو کر نہ گزرا تھا۔ وہ تو غم دوراں میں الجھی تھی۔ اس کے بعد صالحہ کا کیا ہوگا۔ وہ کیسے اکیلی رہیں گی۔ یہی سوچیں تھیں اوپر سے ایزی۔
’’وہ کوئی اور کیوں نہیں؟‘‘ کمرے میں آکر وہ مسلسل تلملاتے ہوئے سوچ رہی تھی لیکن ان سوچوں کا کچھ حاصل نہ تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
صالحہ نے مزید ماہ نم سے بحث نہ کی اور اس کا انکار اسد تک پہنچا دیا‘ اسد بھونچکا ہی تو رہ گیا۔ ماہ نم اور ایزی کے لیے انکار؟ ایزی نے تو پہلے ہی اسے باور کرادیا تھا… مگر وجہ؟ اسد کو انکار ہضم نہیں ہورہا تھا۔
’’آنٹی… آخر انکار کی کوئی مثبت وجہ تو ہوگی؟‘‘ اسد چند ثانیے سوچنے کے بعد بولا۔
’’آپ کہیں تو میں ماہ نم سے بات کروں؟‘‘ اسد نے اجازت طلب نظروں سے ان کے تفکرات بھرے چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔
’’کوئی فائدہ نہیں بیٹا‘ اس کا جواب قطعی و حتمی ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے نہیں سمجھایا۔ وہ میری پریشانی اور موجودہ حالات سے ناواقف ہے کیا؟‘‘ صالحہ کا لہجہ یکایک گلوگیر ہوا اور وہ انہیں تسلیوں کے کچھ حروف تھما کر واپس آگیا۔
اس کے جانے کے بعد صالحہ کی آنکھیں برس پڑیں۔ ماہ نم سے انہیں اس بے وقوفی کی ہرگز امید نہ تھی۔ ایزی جیسا شریف اور خوش حال لڑکا نصیب والوں کو ملتا ہے۔ صالحہ بے بس ہوکر سربسجود ہوگئیں کہ رب ہی انہیں اس مشکل سے نکالے گا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’تجھے حیرت ہورہی ہے مجھے نہیں۔‘‘ ایزی دکھ سے بولا تو اسد تڑپ اٹھا۔ اسے صاف محسوس ہورہا تھا کہ ایزی ماہ نم کو کس قدر چاہتا ہے اور ماہ نم کا گریز سمجھ سے بالا تھا۔ ایزی نے تو فون ہی بند کردیا تھا۔ اس کے اندر عجیب تناؤ کی کیفیت بیدار ہورہی تھی۔ پہلے بات صرف اس کے اور ماہ نم کے بیچ تھی۔ اب کئی اس کے راز دار بن چکے تھے۔ اس کے مسترد ہونے کے گواہ… وہ اپنے اندر انتقامی لہر اٹھتے محسوس کررہا تھا اور خود کو بے بس تصور کررہا تھا اور یہ بات اس کے ہیجان میں مسلسل اضافہ کررہی تھی وہ ماہ نم سے محبت ہی تو کر بیٹھا تھا۔
اب محبت لاحاصل لگ رہی تھی مگر وہ اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ ایک عجیب سا انتقامی جذبہ اس کے اندر سر اٹھا رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ماہ نم نوکری کے ساتھ ساتھ سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری بھی کررہی تھی۔ اس روز بھی وہ اسکول کے بعد لائبریری آئی ہوئی تھی۔
سردیوں کی شام گہری ہورہی تھی جب وہ بیگ تھامے سڑک پر آگئی۔ دھند تھی کہ بڑھتی جارہی تھی۔ کافی دور چلنے کے بعد وہ آیات کا ورد کرتے ہوئے رک گئی کہ یک دم ایک گاڑی اس کے قریب آکر رکی۔ سوائے اس کے کوئی ذی روح سڑک پر نہ تھا۔ ایزی ماہ نم کو دیکھتے ہی فوراً باہر آیا۔ سمجھ گیا کہ وہ کسی سواری کے انتظار میں خوار ہورہی ہے اور موسم بے حد خراب ہے، ٹرانسپورٹ ندارد۔
’’آئیے… میں ڈراپ کردوں۔‘‘ وہ احترام سے بولا۔ ایزی کو سامنے پاکر ماہ نم سٹپٹائی‘ سمجھ میں نہ آیا کیا کرے۔
’’مانا کہ آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں… مگر میں آپ کو یوں روڈ پر اکیلا چھوڑ کر جانے کا رودار نہیں، آئیے۔‘‘ ایزی کی آواز میں نہ چاہتے ہوئے بھی سختی در آئی تھی۔
ماہ نم نے لمحہ بھر سوچا پھر دروازہ کھول کر اپنے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے بیٹھ گئی۔ چادر کو مضبوطی سے اپنے گرد کس لیا۔ اس کے ہاتھوں کی لرزش کو ایزی واضح طور پر محسوس کررہا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے سے قبل اس نے اپنا قیمتی موبائل نکالا، جانے کسے دو چار میسج کیے اور اطمینان سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔ اندر خنکی کا احساس تک نہ تھا۔ ماہ نم کا گھر یہاں سے بیس‘ پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ایزی کے چہرے پر تناؤ کی کیفیت تھی۔ ماہ نم اسے کوئی نام نہ دے سکی۔ اسے بس گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔
ایزی کے اندر جوار بھاٹا تیزی سے اٹھ رہا تھا۔ ایک انتقام کی لہر ایزی کے لہو میں دوڑی اور اس نے گاڑی کا رخ دوسری راہ پر ڈال دیا۔ ماہ نم کو گاڑی کے شیشوں پر دھندلاہٹ کے باعث درست سمت کا اندازہ نہ ہورہا تھا نہ غلط راستے کا احساس۔ جب کہ ایزی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔ ماہ نم نے صالحہ کو میسج بھی نہ کیا کہ وہ سواری نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہوں گی۔ یوں گھنٹہ گزر چکا تھا لیکن گھر آکے نہ دے رہا تھا۔ یک دم کسی انہونی کے احساس سے وہ چونکی۔ گھبراہٹ نئے سرے سے سوار ہونے لگی۔
’’ہم کہاں جارہے ہیں اب تک تو گھر آجانا چاہیے؟‘‘ ماہ نم نے آگے ہوکر ایزی سے پوچھا۔ وہ خاموش رہا۔ اس پر بس ایک ہی دھن سوار تھی بدلہ‘ انتقام۔
’’جواب دیں؟‘‘ ماہ نم لرزتی آواز میں بولی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ جواب کیا دینا تھا۔ ایزی نے اسپیڈ کم کی اور پیچھے مڑ کر ماہ نم کو غور سے دیکھا۔
ذرا گھوم کر ماہ نم کے ہاتھ میں دبا بیگ چھیننے کے انداز میں جھپٹ لیا۔ یہ سب چشم زدن میں ہوا۔ ماہ نم حواس باختہ رہ گئی۔ اس کی رنگت اڑ رہی تھی۔ گاڑی میں حرارت کے باوجود اس کی پیشانی عرق آلود ہورہی تھی۔ اعتماد اور اعتبار پارہ پارہ ہورہا تھا۔ ساتھ اس کا حوصلہ بھی۔
’’یہ کیا حرکت ہے؟ میرا بیگ واپس کریں۔‘‘ ماہ نم غصے اور گھبراہٹ سے بولی لہجہ کمزور اور آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
’’آج میرا دن ہے ماہ نم… اب تک تم نے جو کرنا تھا کرلیا۔ مجھے آوارہ‘ لوفر‘ بے اعتبار سب کچھ بنا کر تم نے خود کو میری نظروں سے گرا دیا۔ آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ تمہاری اس خود ساختہ ہٹ دھرمی اور ضد کا نتیجہ اور انجام کیا ہے۔ میرے اندر تم نے وہ ہر برائی تلاش کی جو مجھ میں تھی ہی نہیں۔ بس اب چپ چاپ بیٹھی رہو اور تماشا دیکھو۔‘‘ ایزی کے لہجے میں شعلوں کی لپک تھی۔ ماہ نم بے بسی سے لب کاٹنے لگی۔ اس کی تعلیم‘ ڈگری‘ نوکری، اعتماد سب بے معنی ہورہے تھے۔
’’پلیز مجھے گھر چھوڑ دیں۔‘‘ ماہ نم گلوگیر آواز میں بولی۔
ایزی اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے تیز ڈرائیونگ کررہا تھا کہ پندرہ منٹ بعد گاڑی رک گئی۔ ماہ نم دل ہی دل میں دعائیں کررہی تھی۔
’’اترو…‘‘ گاڑی روک کر اس نے دروازہ کھولا۔ بیگ اس کے ہاتھوں میں تھا اور چہرے پر سارے جہاں کی سختی و درشتی۔
’’کیوں لائے ہو مجھے یہاں…‘‘ کوئی مضافاتی علاقہ تھا‘ گیٹ پوری طرح کھلا تھا اور گاڑی اندر آچکی تھی۔
ایزی نے اس کا بازو پکڑ کر باہر کھینچا اور گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے اسے یونہی کھینچتے ہوئے اندر لے آیا۔ وہ بلک رہی تھی‘ تڑپ رہی تھی‘ اپنی مزاحمت، بیکار لگ رہی تھی۔ ایزی جنون میں پاگل ہورہا تھا۔ بدنامی‘ رسوائی‘ تنہائی اور ایزی کا انداز جنوں۔ ماہ نم نے لمحہ بھر کو خود کو موت سے قریب دیکھا۔ یہاں تک کہ ایک بڑے سے خوب صورت بیڈ روم میں اس نے ماہ نم کو لاکر دروازہ بند کردیا۔
’’تشریف رکھیے…‘‘ ایزی فتح مندی کے احساس سے چور ہوکر بولا۔ ماہ نم نے سسکاری بھری۔
’’تمہاری نفرت اور میری محبت نے یہ دن دکھایا ہے۔‘‘ ایزی ہولے ہولے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر قدرے نرمی سے بولا۔ ماہ نم خود کو چھڑانے میں ناکام رہی۔
’’کیوں برا لگتا ہوں میں تمہیں‘ کیوں میری محبت کو ٹھکرایا؟ باعزت طریقے سے تمہیں اپنانا چاہتا تھا۔ تم نے ہمیشہ مجھے دھتکارا‘ کیوں… بولو کیوں…؟‘‘ وہ اس کے کندھے جھنجھوڑتا ہوا سختی سے بول رہا تھا۔ ماہ نم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
’’مجھے ہمیشہ ذلیل کیا‘ کب میں نے تمہیں غلط نظروں سے دیکھا‘ کب تمہیں بے عزت کیا…؟‘‘ وہ پوری قوت سے چیختا ہوا اس کے لڑکھڑاتے وجود کو دیکھ رہا تھا۔ ماہ نم جیسے بھربھری دیوار کی مانند کھڑی تھی۔
’’تمہاری انا‘ تمہاری غلط سوچ نے مجھے یہ سب کرنے پر مجبور کیا ہے۔ میری محبت کو تم نے تماشا بنا دیا۔ کیا نہیں دے سکتا تھا میں تمہیں۔ کس چیز کی کمی تھی مجھ میں‘ میرا جرم بس یہی تھا کہ میں نے تمہیں چاہا اور تم نے مجھے ٹھکرا دیا‘ بولو ماہ نم تم نے کیوں کیا ایسا…؟‘‘ ایزی کی آواز میں شعلوں کی سی لپک تھی۔ جس میں ماہ نم جھلستی جارہی تھی۔
’’آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم نے میرے اور اپنے ساتھ کتنا غلط کیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اسے بیڈ کی سمت دھکیلنے لگا۔
’’پلیز مجھے معاف کردیں… آپ کو اللہ کا واسطہ… اپنی ماں کا واسطہ، اللہ کے لیے مجھے چھوڑ دیں۔‘‘ ماہ نم منتیں کررہی تھی۔
جب کہ ایزی اسے بیڈ پر دھکیل چکا تھا۔ وہ حسرت و بے بسی کی تصویر بنی بلک رہی تھی۔ وہ تو کوئی اور ماہ نم تھی جو ایزی کے لیے نفرتوں کا سامان کیے بیٹھی تھی اور یہ تو کوئی اور تھی جو اسے واسطے دے رہی تھی۔ ایزی کے ہاتھ یک دم کپکپائے۔
’’آپ کو اپنی اس محبت کا واسطہ جسے آپ چاہتے ہیں۔‘‘ ماہ نم نے سسکتے ہوئے کہا تو ایزی جیسے حواسوں میں آنے لگا۔ ہاتھ کی گرفت کمزور پڑنے لگی۔ محبت کا واسطہ‘ ماہ نم چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر سسک اٹھی۔
’’اﷲ کا واسطہ‘ رسولﷺ کا واسطہ۔‘‘ وہ دبی دبی آواز میں مسلسل ایک ہی بات دہرا رہی تھی۔
اچانک ہی ایزی زمین پر بیٹھ کر زارو قطار رونے لگا۔ اپنے نفس کو ملامت کرتا ہوا۔ وہ ایسا تو نہ تھا نہ ایسی تربیت تھی‘ وہ کس کے بہکاوے میں آگیا تھا۔ اب رحمن نے اسے اپنی پناہ میں لے کر اسے بچا لیا تھا۔ وہ رو رہا تھا۔
’’زبردستی بھی محبت جھولی میں آئی ہے کبھی؟‘‘ اس کی آنکھیں برس رہی تھیں۔ وہ سجدے میں گر کر ہچکیاں لے رہا تھا اور ماہ نم حیرت زدہ‘ بھیگی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی اورجلدی سے چادر درست کی اور آنکھیں صاف کیں اور وقت دیکھا تو رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ اس کی جان نکل گئی۔ صالحہ تو بے موت مر رہی ہوں گی۔ تھوڑی دیر بعد ہارے ہوئے جواری کی طرح ایزی اٹھا اور بے تاثر نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
’’چلو میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں۔ میں غلطی پر تھا۔ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو، جانتا ہو… زبردستی کسی کی محبت حاصل نہیں کی جاسکتی۔ مجھے رحمان نے شیطان بننے سے بچا لیا۔‘‘ وہ بھیگے لہجے میں اپنی ہار کا ماتم کررہا تھا۔ ماہ نم نے سر جھکالیا۔ ایزی کو سمجھنے میں اس نے بھی تو غلطی کی تھی۔
’’آنٹی کو فون کرلو… وہ پریشان ہوں گی۔‘‘ ایزی نے بیگ اس کی جانب بڑھایا اور خود واش روم کی طرف چلا گیا۔
اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔ ماہ نم نے جلدی سے موبائل باہر نکالا جو سائلنٹ پر تھا۔ پہلی ہی بیپ پر فون اٹھایا اور روتے ہوئے اس کی خیریت معلوم کرنے لگیں۔
’’امی آکر بتاتی ہوں۔ ایک سہیلی کا مسئلہ تھا بس میں آرہی ہوں تھوڑی دیر لگے گی آپ بے فکر رہیں۔‘‘ اپنے لہجہ کو ہموار کرتے ماں کو بتا کر وہ ہلکی پھلکی ہوگئی مگر دل پر گہرا بوجھ آن پڑا تھا۔
’’اگر آج شیطان غالب آتا تو وہ کسی ذرے سے بھی کم تر ہوتی۔‘‘ مارے تشکر کے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ راستہ خاموشی سے کٹا تھا گھر سے کچھ فاصلے پر اس نے گاڑی روک دی تھی۔
’’شکریہ…‘‘ ماہ نم فقط اتنا ہی کہہ سکی۔ ایزی نے لمحہ بھر کو اسے دیکھا اور سر ہلادیا۔ وہ اتر کر چادر سنبھالتی بیگ اٹھاتی تیز تیز چلتی اندر داخل ہوگئی اور ایزی کو یوں لگا جیسے ماہ نم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے نکل گئی ہے۔ وہ اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
رات کے دس بج رہے تھے۔ صالحہ مسلسل تکرار کرکے اصل بات جاننا چاہتی تھیں۔
’’امی بتایا ناں… واصفہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اس میں دیر ہوگئی۔ اسپتال آتے جاتے اتنا ٹائم لگ گیا پھر اسے گھر چھوڑا۔ بچی تھوڑی ہوں۔‘‘ اندر کی کیفیت چھپا کر وہ مسکرا کر ماں کو مطمئن کررہی تھی۔
’’چلیں چھوڑیں آئیں کھانا کھاتے ہیں۔ میں بھی ان چکروں میں بھوکی رہ گئی آج۔ کل چھٹی ہے ناں آپ کی ساری شکایات دور کردوں گی۔‘‘ ماہ نم مسکرا کر ان کے گلے جا لگی تو صالحہ کے اندر سکون ہلکورے لینے لگا۔ کھانے کے بعد وہ نماز ادا کرنے لگی۔ شکرانے کے کئی نوافل ادا کئے۔ پھر بستر پر آئی۔
مگر آج کی رات ایزی کی نیند اچاٹ ہوچکی تھی۔ نیندیں ہمیشہ کے لیے اس سے روٹھ چکی تھیں۔ اسے اپنے آپ سے گھن آنے لگی تھی۔ آتے ہی اس نے غسل کیا اور سجدے میں جا گرا۔ جانے کب تک ہچکیاں لے کر گناہوں کی معافی مانگتا رہا۔ شگفتہ اور عبدالحسیب گاؤں گئے ہوئے تھے۔
اگلے دن گاؤں سے واپسی پر شگفتہ اور عبدالحسیب کو ٹرالر نے ٹکر ماری تو شگفتہ موقع پر چل بسیں اور عبدالحسیب اسپتال آنے کے دو گھنٹے بعد وفات پاگئے۔ ایزی پر جیسے غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ تمام دوست اس موقع پر ساتھ تھے اس کی دل جوئی کررہے تھے مگر وہ تو جیسے خود کو ہی ان کی موت کا ذمہ دار قرار دے رہا تھا کہ اللہ نے سزا دی ہے مجھے‘ کسی سے کیا کہتا‘ تنہائی میں اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا رہتا۔
وہ خود کو ندامتوں اور گناہوں کے بوجھ سے آزاد نہ کر پایا تھا بس یہی احساس تھا‘ یہی سوچیں تھیں کہ اب تک کی زندگی بے کار اور گناہوں میں بسر کی تھی۔ ایسے میں بابا اس کی ہمت بندھاتے۔ ایزی رفتہ رفتہ اپنے خول سے باہر آنے لگا۔ سب کچھ موجود تھا بس ماں‘ باپ نہ تھے شفقت و محبت کرنے والے۔
ایزی اب ’’عبدالعزیز‘‘ ہوگیا تھا۔ پانچ وقت کا نمازی‘ تلاوت میں دل لگتا‘ سب ماڈرن لباس باہر پھنکوا دیئے تھے‘ شلوار قمیص‘ ٹوپی میں ملبوس اس عبدالعزیز کو دیکھ کر لگتا نہ تھا کہ یہ وہی لاپروا‘ کھلنڈرا اور موج مستی کرنے والا ایزی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے باقاعدہ آفس جارہا تھا۔ اسے درست سمت پر آتا دیکھ کر بابا نے سکھ کا سانس لیا۔ ورنہ وہ تو پاگل ہوجاتا۔ انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا کہ عبدالعزیز نے خود کو کھونے سے پہلے بچا لیا مگر رات کی تنہائی میں اس کی حالت بگڑ جاتی۔ عبدالکریم بابا اس کے اس راز سے ناواقف تھے۔
ژ…ژ…ژ…ژ
وہ ناخوش گوار واقعہ ابھی تک ماہ نم کو پریشان کیے ہوئے تھا۔ اس ہولناک واقعے اور عبدالعزیز کے والدین کی وفات کے تین ماہ بعد ہی ماہ نم کے ٹرانسفر کے آرڈر آگئے۔ وہ مطمئن ہوگئی کہ تبدیلی سے وہ کچھ فراموش کر پائے گی۔ یوں وہ شاداب نگر آگئی۔ آج اسے چارج سنبھالے دو ہفتے ہوگئے تھے۔ اسکول کے معاملات کو درست کرنا خاصا درد سر تھا مگر اسے کرنا ہی تھا۔ فنڈز کے لیے درخواستیں دیں‘ فرنیچر‘ اسکول کی عمارت بہت کچھ ٹھیک ہونے کے لائق تھا۔ ایک دو استانیوں کے سوا سارا اسٹاف تعاون کرنے والا تھا۔ ماہ نم ان کی بہتری کے لیے کوشش کررہی تھی۔ اچھا سے اچھا نتیجہ لانا اس کی پہلی ترجیح تھا۔ سو اس میں جت گئی۔ اگلے ماہ اتفاق سے چار چھٹیاں ایک ساتھ آرہی تھیں۔ ماہ نم نے گھر جانے کا فیصلہ کیا امی اسے دیکھ کر کھل اٹھیں۔
’’کمزور ہوگئی ہو۔‘‘ صالحہ اسے پیار کرتے ہوئے محبت و تشویش سے بولیں۔
’’نہیں تو امی‘ اچھی بھلی ہوں۔ اچھی خوراک ہے‘ صاف ستھرا ماحول۔‘‘ ماہ نم مسکرا کر بولی تو صالحہ بھی اس کی خوشی میں خوش ہونے لگیں۔
’’ہاں… مگر آپ سے دور رہ کر خوش نہیں۔‘‘ وہ لاڈ کرتے ہوئے بولی۔
چھ ماہ بعد صالحہ کی ریٹائرمنٹ تھی۔ انہیں فکر تھی تو بس ماہ نم کی۔ وہ اسے بغور دیکھ کر ایک ہی بات سوچ رہی تھیں کہ دونوں یک دم ہنس پڑیں۔
’’جلدی سے تازہ دم ہوجاؤ۔ تمہاری پسند کے قیمہ کریلے پکائے ہیں۔‘‘ صالحہ اسے کہتی ہوئی کچن میں آگئیں۔
چار دن دونوں نے خوب لطف اٹھایا۔ ماہ نم نے خریداری کی‘ کچھ استانیوں کے لیے تحفے خریدے‘ رامین اور ماہین سے ملی۔ یوں خوشگوار دن گزار کر صالحہ کو اداس کرکے چلی گئی۔ جنہیں ابھی تک ایزی اور اس کا رشتہ نہ بھولا تھا۔ اب تو وہ اور بھی تنہا ہوگیا تھا۔ وہ اکثر اس کی طرف چلی جاتیں۔ وہ بھی بے حد عزت سے پیش آتا۔ بابا نے تو انہیں اپنی بہن بنا لیا تھا۔
اس روز اسد اور زاہد ان سے ملنے آئے تو انہوں نے پریشانی کے عالم میں اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھا کہ کسی طرح ماہ نم کا ٹرانسفر اسی شہر میں کروا دیں۔
’’کیوں نہیں آنٹی… کوشش کرتے ہیں۔‘‘ اسد مطمئن سے انداز میں بولا۔ پھر مزے دار چائے پی کر وہ دونوں رخصت ہوگئے تھے۔
ژ…ژ…ژ…ژ
اس کے بیٹے ببلو کا عقیقہ تھا، پورے گھر کو قمقموں اور جھنڈیوں‘ سے سجایا گیا تھا۔ عبدالعزیز گاڑی سے نکلا تو یہ منظر دیکھ کر خوش ہوگیا۔ فان کے سوٹ پر کالی واسکٹ پہنے‘ سلیقے سے بنے بال اس کی نکھری نکھری شخصیت کو نمایاں کررہے تھے۔ اندر کچھ مہمان تھے۔ اسد اور زاہد اسے دیکھتے ہی آگے بڑھ کر ملے۔
’’تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔‘‘ زاہد نے اسے سرگوشی میں بتایا۔
’’کیسا سرپرائز…!‘‘ وہ نہ سمجھتے ہوئے بولا۔
’’آؤ…‘‘ زاہد اسے ساتھ لیے ایک آدمی کے پاس آیا۔ جو اسد سے باتیں کررہا تھا۔ وہ ابھی تک نہ سمجھ پایا تھا۔ تب زاہد نے اس شخص کو کندھوں سے تھام کر اس کے روبرو کردیا۔
’’فرہاد…!‘‘ اس کی آواز میں حیرت بھری خوشی تھی۔ دونوں لپٹ گئے۔ دونوں کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔
’’کب آیا تو؟‘‘
’’کل شام ہی… جی تو کررہا تھا دوڑ کر تجھ سے ملنے آجاؤں مگر ان دونوں نے سرپرائز دینے کا کہا۔‘‘ فرہاد ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کرتا ہوا بولا۔
دونوں ذرا فاصلے پر رکھی کرسیوں پر آبیٹھے‘ فرہاد کو آج بھی اس کی ظاہری شخصیت اور باتیں پہلے سے زیادہ متاثر کررہی تھیں۔ مگر جو بھی تھا وہ وہی رکھ رکھاؤ‘ وہی ملن ساری‘ ویسا ہی خیال رکھنے والا۔ دکھ درد کا ساتھی۔ فرہاد کو معلوم ہوا تھا اس کی امی کے علاج کے لیے اس نے بہت پیسہ خرچ کیا‘ وقت دیا مگر ان کی زندگی ہی اتنی تھی۔ وہ عبدالعزیز کا بے حد شکر گزار تھا۔
’’یار… تم تو اردگرد کو بھلا بیٹھے ہو۔ آؤ کسی اور سے نہیں ملنا کیا؟‘‘ زاہد نے آکر انہیں چونکایا۔
’’ہاں یار… بس ایک دوسرے کو سامنے پاکر سب بھول ہی بیٹھے۔‘‘ فرہاد مسکرایا اور بولتے ہوئے اسے ساتھ لے کر لان میں آگیا۔ جہاں مہمانوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوگیا تھا۔ وہیں سامنے پہلی رو میں ماہ نم اور صالحہ بیگم بیٹھی تھیں۔ عبدالعزیز انہیں سلام کرنے کی غرض سے پاس آیا اور جھک کر سلام کیا۔ صالحہ نے جواب میں مشفقانہ انداز میں اسے دعائیں دیں۔ اس نے ماہ نم پر ایک اچٹتی نظر ڈالی۔ آسمانی اور گلابی امتزاج کے لباس میں اس کی شخصیت نکھری نکھری لگ رہی تھی۔ ماہ نم نے ایک تبدیل شدہ عبدالعزیز کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئی‘ ذرا دور بیٹھا فرہاد یہ سارا منظر بغور دیکھ رہا تھا۔
ماہ نم کے چہرے کا اتار چڑھاؤ اور اس کی بے بس نگاہیں۔ فرہاد کو پتہ چل گیا کہ ماہ نم نے انکار کردیا ہے مگر اب اس نے سوچ لیا تھا کہ دونوں کو ملانے کی کوشش کرے گا۔ اس ناخوش گوار واقعے کے بعد وہ سمجھتا تھا کہ ماہ نم کے دل میں اس کے لیے رتی برابر جگہ بھی نہ ہوگی۔ ہونی بھی نہیں چاہیے۔ میں نے کون سا شریفانہ کام کیا تھا۔ اس کی عزت اور ناموس کو کچلنے ہی تو جارہا تھا۔ یونہی بے مقصد سوچیں اسے بھری محفل میں تنہا کرنے لگیں۔
فرہاد‘ اسد‘ ایزی اور زاہد چاروں اکھٹے بیٹھے تھے۔ خواتین اپنی الگ محفل سجا کر بیٹھی تھیں۔
’’اب تو آیا ہے ناں تو شادی کرکے جانا۔‘‘ اسد کے مشورے پر فرہاد ہنس دیا۔
’’میں واپس نہیں جارہا، یہیں رہ کر کاروبار کروں گا جو بھی ہے اپنا ملک اپنا ہے۔ میرے اپنے ہیں یہاں۔‘‘ فرہاد کے مستقبل کے ارادوں پر تینوں خوش ہوگئے۔
’’اور یار تیرا کیا پروگرام ہے۔ اپنی تنہائی کو اب خیر باد کردے۔‘‘ فرہاد خاموش بیٹھے ایزی کو ہلا کر بولا۔
’’کچھ نہیں تو یہ بتا ٹھہرا کہاں ہے اب؟‘‘ اس نے فرہاد سے پوچھا۔ اسی دوران زاہد اور اسد مہمانوں کو رخصت کرنے اٹھ گئے۔
’’ابھی تو یہیں ہوں… اپنے گھر والے کرایہ داروں کو کل جا کے گھر خالی کرنے کا نوٹس دوں گا۔ گھر کی مرمت وغیرہ کا کام بھی کروانا ہے۔‘‘ فرہاد نے تفصیل بتائی۔
’’بس تو میرے ساتھ چل… اٹھا اپنا بیگ، میرا گھر کس لیے ہے۔ اکیلا ہی تو ہوں۔‘‘ اس نے اسے ساتھ لے جانے پر قائل کیا۔
فرہاد مان گیا۔ اندر جا کر بہنوں سے ملا، انہیں بتایا۔ رامین اور ماہین اس کے لیے آج کل لڑکی پسند کررہی تھیں۔ فرہاد نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ وہ بھی جانے کے لیے اٹھا۔ صالحہ اور ماہ نم کو جاتے دیکھ کر ایزی ایک دم سے بولا۔
’’آئیے آنٹی آپ کو ڈراپ کردوں۔‘‘
’’کیوں تکلیف کرتے ہو بیٹا ہر بار، تمہیں زحمت ہوتی ہوگی۔‘‘ صالحہ مصلحتاً بولیں۔
’’ارے زحمت کیسی آنٹی یہ تو ہمارا فرض ہے۔‘‘ فرہاد نے انہیں منا ہی لیا۔
آج رات ماہ نم کی آنکھوں سے نیند پھر روٹھ گئی تھی۔ بار بار ایزی کی نگاہیں سامنے آجاتیں جن میں احترام‘ محبت جانے کیا کیا تھا۔ ’’آخر کب تک انکار کرتی رہوگی؟‘‘ دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا کہ جانے وہ اجنبی کیسا ہو کیا‘ کیا سلوک کرے‘ امی اکیلی کیسے رہیں گی؟ کیا کروں وہ اپنے ہی سوالوں پر خود کو جواب نہ دے کر مطمئن نہ کرسکی۔ جوانی کے لمحے تو پل بھر کے ہوتے ہیں۔ اب وہ ستائیس سال کی ہونے کو تھی۔ دن رات کی محنت نے اسے جیسے تھکا دیا تھا۔ جی کرتا تھا کہ گھر‘ شوہر اور بچوں میں کھو جائے کوئی ہو جو راہ کے کانٹے چن لے۔
’’تم نے خود ایزی کو انکار کیا تھا۔ کیا برائی تھی اس میں؟‘‘ وہ اپنے ہی سوال پر نظریں چرانے لگی۔ پتہ نہیں اس کی خود ساختہ سوچیں تھیں۔
’’شاید وقتی غرور مجھ میں تھا۔ اس نے تو کبھی کچھ کہا ہی نہیں تھا۔ سیدھے سادے انداز میں رشتہ بھیجا تھا اور میں ہی ہٹ دھرمی اور ضد میں انکار کر گئی تھی۔‘‘ اب جیسے پچھتائوں کے ناگ اسے ڈس رہے تھے اس کے انکار پر وہ بپھر گیا لیکن اس کی اچھائی برائی پر غالب آگئی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
گیسٹ روم میں فرہاد کا سامان رکھوا کر وہ دونوں باتوں میں مشغول ہوگئے۔ اس کی باتوں اور تنہائی سے فرہاد اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ اب شادی کے لیے راضی ہے مگر کس سے؟ کئی دنوں تک وہ ایزی سے باتیں کرکے بغور مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ صالحہ آنٹی سے ملاقات کی جائے اسی لیے وہ صالحہ بیگم کے پاس چلا آیا کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ اصل موضوع کی طرف آیا۔ صالحہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ خود بھی ماہ نم کے لیے فکر مند تھیں۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا آخر عبدالعزیز کو انکار کرنے کی وجہ کیا ہے؟‘‘
’’کہتی ہے بس شادی نہیں کرنی‘ آپ اکیلی رہ جائیں گی‘ شادی کیے بغیر بھی تو زندگی گزر جاتی ہے۔ تم خود سوچو بیٹا‘ کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟‘‘ صالحہ بے حد پریشانی کے عالم میں سوالیہ انداز میں گویا ہوئیں تو فرہاد چند لمحے سوچتا رہا پھر انہیں بھرپور تسلی دیتے ہوئے بولا۔
’’آنٹی آپ فکر نہ کریں میں اسے راضی کرلوں گا اور اس کی شادی عبدالعزیز سے ہی ہوگی۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا مخلص اور شریف انسان میری نظر میں نہیں۔‘‘ فرہاد، صالحہ بیگم کے چہرے پر تفکرات کا جال دیکھ رہا تھا۔ صدمات‘ اداسی اور پریشانیوں نے انہیں کرب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ایک طویل عرصے سے بیوگی کی چادر اوڑھے وہ حالات سے نبرد آزما تھیں۔ جیسے تیسے وہ وقت گزر گیا تھا اب ماہ نم کی بے جا اور بے تکی ضد نے انہیں پریشان کر رکھا تھا۔ وہ عبدالعزیز کے علاوہ بھی کئی رشتے ٹھکرا چکی تھی اب جب کہ ان کی ریٹائرمنٹ قریب تھی۔ مختلف بیماریوں نے انہیں جکڑ لیا تھا مگر ہر بات کو معمولی سمجھ کر ماہ نم انہیں زچ کرنے پر تلی ہوئی تھی۔
’’اچھا بیٹا تم کہتے ہو تو یہ بھی کر دیکھو۔‘‘ وہ اداسی سے بولیں تو فرہاد مزید کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلا آیا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
آج کل فرہاد اپنے گھر کی مرمت و آرائش کروا رہا تھا۔ رامین اور ماہین نے اس کے لیے اقصیٰ کا انتخاب کیا تھا جو دور پرے کی رشتہ دار تھی۔ شادی چار ماہ بعد قرار پائی تھی۔
’’عبدالعزیز… یار اب تیری باری ہے۔ تیار رہنا منگنی کی مبارک باد وصول کرنے۔‘‘ فرہاد نے اس کے قریب ہوکر سرگوشی کی تو وہ پھیکی ہنسی ہنس دیا۔
یوں ایک مسکراتی شام خوشیاں بکھیرتی اختتام پذیر ہوئی۔ عبدالعیزیز نے حسب معمول صالحہ بیگم کو ان کے گھر چھوڑا‘ صالحہ بیگم کو جانے کیوں آج اس پر ترس آرہا تھا۔ وہ بہت بدل گیا تھا۔ خاموش، سنجیدہ اور اداس۔
’’سدا خوش رہو۔‘‘ صالحہ بیگم نے صدق دل سے دعا دی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ماہ نم رات کی ویرانی میں اپنی تنہائی کو دل سے محسوس کررہی تھی اور آج اپنا احتساب کرنا چاہتی تھی۔
’’آخر کب تک زندگی اس نہج پر گزرے گی‘ آج صالحہ بیگم ہیں‘ انہیں اس کا انتظار ہے‘ آس و امید ہے اگر انہیں کچھ ہوگیا تو…‘‘ اس کے آگے وہ سوچ نہ سکی۔ پورا جسم پسینے میں شرابور ہوگیا تھا۔
’’عبدالعزیز… کیوں نہیں کرلیتا شادی… کیا کروں‘ کس کا انتظار کررہا ہے وہ اب تک؟‘‘
’’تمہارا…‘‘ دل سے آواز آئی تو اس نے فوراً دل پر ہاتھ رکھا۔
’’کیا میں… بھول جائوں اس کی حرکتیں‘ مجھے رسوا و بدنام کرنے کی پوری کوشش کی اس نے‘ مجھے پامال کرنے کا وہ منصوبہ…‘‘ وہ تلخ سی ہونے لگی۔
’’جو بھی ہوا اس نے ایزی کو بدل دیا۔ اسی واقعے نے اسے ایزی سے عبدالعزیز بنادیا۔ ظاہری اور باطنی شخصیت میں واضح تبدیلی آئی۔‘‘ دماغ نے پھر اس کی وکالت کی۔ ’’بھلا دینا آسان نہیں۔‘‘ دماغ کی دلیل پھر سے مضبوط ہونے لگی۔
’’وہ تمہیں کل بھی چاہتا تھا اور آج بھی چاہتا ہے‘ اسی لیے تو ابھی تک کسی اور کا ’’ہو‘‘ نہ سکا۔‘‘ دل مسلسل اس کی حمایت میں بول رہا تھا۔
ماہ نم نے سر تھام لیا۔ ایزی کے حمایتوں کا پلڑا بھاری تھا اور ماہ نم کے پاس بودی اور بوگس دلیلیں اور وہ اکیلی تنہا‘ اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے اعصاب تھک رہے ہیں‘ کسی مضبوط سہارے کی تلاش میں۔ اسے ایک آسرا چاہے تھا کہ اب وہ مزید تھکنا نہ چاہتی تھی۔ یہ سب چھوڑ کر کسی محبت بھرے دل میں بسنا چاہتی تھی اور پھر وہی تو تھا جس کی مضبوط بانہوں میں اسے آرام مل سکتا تھا۔ پھر سب سے بڑھ کر صالحہ نے اس کی خاطر کیا کچھ نہ کیا تھا اور وہ انہیں ناراض کرکے اپنی من مانیاں کرتی چلی آرہی تھی۔
آج تو وہ جیسے اپنے ’’کئے‘‘ اور ’’کہے‘‘ کی مار کھا رہی تھی۔ صبح اٹھی تو طبیعت بے حد بوجھل تھی۔ بے دلی سے وہ اسکول چلی آئی۔ یہاں تک کہ دوپہر تک شدید بخار میں پھنکنے لگی۔ مسز راحت ہی اسے گھر لے آئیں اور اس کی تیمار داری کرنے لگیں مگر وہ اگلے ہی دن جیسے تیسے سامان باندھ کر ماں کے پاس آگئی۔ صالحہ بیگم اس کی حالت پر تڑپ سی گئیں۔ شام میں فرہاد آیا تو اس کی حالت پر بے حد متفکر ہوا۔
’’بس آنٹی… اب آپ نے اسے کہیں نہیں بھیجنا۔ بہت ہوگیا۔ بھاڑ میں گئی نوکری۔‘‘ وہ سگے بھائیوں کی طرح رعب جما رہا تھا اور غصے میں ٹہل رہا تھا۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو مگر میری سنتی کہاں ہے وہ بیٹا۔‘‘ صالحہ بیگم کا لہجہ بے بس تھا۔
’’بس میں نے کہہ دیا۔ آپ میرے ساتھ رہیں گی۔ یہ گھر کرائے پر چڑھا دیں گے۔‘‘ فرہاد گویا سارے معاملے طے کیے بیٹھا تھا۔ صالحہ اس کی باتوں پر مسکرا دیں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ماہ نم میں ابھی کچھ نقاہت باقی تھی۔ چار دن بعد وہ باہر دھوپ میں آبیٹھی۔ اوائل مارچ کے دن تھے۔ ہر طرف بہار تھی۔ صالحہ بیگم سبزی کی ٹوکری لیے آگئیں۔
’’آج تو پہلے سے بہت بہتر لگ رہی ہو تم۔‘‘ وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’جی امی۔‘‘ وہ ہولے سے بولی اور مٹر چھیلنے لگی۔ صالحہ بیگم نے فرہاد کی باتیں اس کے گوش گزاریں۔ ماہ نم حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’یہ ناممکن ہے امی کہ ہم ان کے گھر جاکر رہیں۔‘‘ وہ الجھ کر بولی۔
’’ہاں میں نے بھی ابھی کچھ نہیں سوچا۔‘‘ صالحہ بیگم نے مختصراً کہا۔
’’تم فکر مند نہ ہو۔ فی الحال تو تم نے اسکول جاکر بات کرنی ہے۔ جو سامان ہے وہ لانا ہے۔ فرہاد جائے گا تمہارے ساتھ۔‘‘
’’جی امی میں کرلوں گی سب‘ فرہاد بھائی کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ ماہ نم مزید احسانات نہ لینا چاہتی تھی۔
’’ہے ضرورت۔ گاڑی ہے اس کی تمہیں آسانی رہے گی۔‘‘ صالحہ بیگم بس یہی جواز پیش کرسکیں اور ماہ نم اپنی لامتناہی سوچوں کے سمندر میں غرق ہوگئی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
رامین اور ماہین خوب صورت بری تیار کررہی تھیں۔ گھر مکمل ہوچکا تھا۔ فرہاد نے جدید انداز دے کر اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ عبدالعزیز نے اسے فی الحال اپنے ہی آفس میں ر کھ لیا تھا۔ اسے ایسے ہی ایمان دار اور محنتی لوگوں کی ضرورت تھی۔ کل اسے ماہ نم کے ساتھ جانا تھا۔ سو وہ ایزی کو بتانے آیا تھا۔
’’ٹھیک ہے کل تم چھٹی کرلو۔‘‘ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔ خوشی کا اور نہ ہی اداسی کا۔
اگلے دن وہ مقررہ وقت پر آگیا۔ ناشتا کرکے ماہ نم کو ساتھ لے کر چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد فرہاد نے خود ہی بات شروع کی‘ وہ دو ٹوک انداز میں بات کرنے کا عادی تھا۔
’’ماہ نم… میں نے تمہارے لیے عبدالعزیز کا انتخاب کیا ہے‘ آنٹی کی بھی یہی خواہش ہے۔ مجھ پر بھروسہ رکھو۔ وہ تمہارے لیے بہترین شریک حیات ثابت ہوگا۔‘‘ ماہ نم کا دل اس کی بات پر تیزی سے دھڑکنے لگا۔ جبکہ فرہاد نے اس کا جھکا سر دیکھ کر بات جاری رکھی۔
’’عبدالعزیز کوئی اجنبی نہیں اور نہ ہی وہ برا نسان ہے۔ میں اس کا دوست ہونے کے ناطے اس کی تعریف ہرگز نہیں کررہا بلکہ جو حقیقت ہے وہ بتا رہا ہوں۔‘‘ فرہاد موڑ کاٹتے ہوئے نرمی سے بولا۔
’’ماہ نم میں نے تمہیں بہن کہا ہے۔ تو بھائی بن کر دکھائوں گا۔ میرا مان رکھ لو۔ آج کے دور میں ایسا نفیس انسان ملنا مشکل ہے۔‘‘ ماہ نم اب بھی خاموش تھی۔ جب کہ آنسو تواتر سے جاری تھے۔
’’پلیز تم مجھے بتائو۔ آخر تمہارے انکار کی وجہ کیا ہے تاکہ میں تمہارے واہمے‘ خدشات اور وسوسوں کو دور کرسکوں۔ یقین جانو جو تم سوچ رہی ہو۔ سمجھ رہی ہو، وہ سب غلط ہے۔‘‘ اچانک فرہاد نے گاڑی سائیڈ پر روک لی۔
’’دیکھو… پلیز روئو نہیں۔ مجھے بتائو۔‘‘ وہ پُرشفقت انداز میں بولا تو ماہ نم نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’کوئی بات نہیں فرہاد بھائی‘ آپ جب کہہ رہے ہیں تو سب ٹھیک ہوگا۔‘‘ ماہ نم اپنی اندرونی جنگ سے ہارتے ہوئے بولی۔
’’یعنی تمہیں کوئی اعتراض نہیں اب۔‘‘ فرہاد بے حد حیران ہوا‘ ورنہ وہ تو سوچ رہا تھا کہ جانے کتنے دلائل اور وضاحتوں کے انبار لگانے پڑیں گے۔
’’نہیں آپ سب میرے لیے صحیح فیصلہ ہی کریں گے۔‘‘ ماہ نم نے یہ کہہ کر سر جھکا لیا۔
’’جیو… میری بہن دل خوش کردیا تم نے… ماہ نم عبدالعزیز کے لیے اپنے دل سے سب غلط سوچیں ختم کر دو۔ میں گارنٹی دیتا ہوں اس کی۔‘‘ خوشی سے بھرپور لہجے میں کہتا وہ اسکول کی طرف رواں دواں ہوگیا۔
’’بس اب تم جلدی سے یہاں سے سامان سمیٹو تاکہ تمہیں مایوں بٹھا سکیں۔‘‘ ماہ نم اس کی باتوں پر شرمیلی مسکان سجا کر رہ گئی۔
اگلے تین گھنٹوں میں وہ واپس آرہے تھے۔ واپسی کا سفر بے حد پُرسکون و پُرکیف تھا۔ ماہ نم آنے والے لمحات سے خوف زدہ بھی تھی اور پُرسکون بھی۔ گھر آتے ہی ماں کے گلے لگ گئی۔ فرہاد نے صالحہ بیگم کو بتایا تو انہوں نے اسے خوشی سے گلے لگالیا۔ فرہاد اسے چھوڑ کر سب سے پہلے زاہد اور اسد کی طرف آیا۔ یہ سن کر رامین‘ ماہین‘ اسد اور زاہد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا تھا۔
’’آج شام ہم سب عبدالعزیز کی طرف چلیں گے۔ اسے سرپرائز دینے۔ بس تم لوگ وقت پر تیار رہنا۔ میں ذرا آرام کرلوں۔‘‘ فرہاد نے سب معاملہ طے کرکے جانے کا ارادہ کیا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
گھر آکر پُر سکون نیند سو گیا۔ شام سے پہلے اس کی آنکھ کھلی۔ وہ فریش ہوکر اسد کی طرف چل دیا۔ سب تیار تھے۔ چہروں سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔ عبدالعزیز لان میں ہی بیٹھا تھا۔ ان سب کو اچانک دیکھ کر بابا ان سب کے چہروں پر خوشی دیکھ رہے تھے۔ ان کے دل سے دعا نکلی کہ ایسی جان دار خوشی وہ عبدالعزیز کے چہرے پر بھی دیکھیں۔
’’آئیے بابا آپ بھی بیٹھیں۔ آج ہم ایک اہم بات کرنے آئے ہیں۔‘‘ اسد بابا کو دیکھتے ہوئے ادب سے بولا۔ وہ بھی حیران تھے کہ آج ایسی کیا خاص بات ہے کہ سب ہی ایک ساتھ چلے آئے۔
’’کہو بیٹا۔‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوئے۔
’’بات یہ ہے کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ اب عبدالعزیز کی شادی ہوجائے۔‘‘ فرہاد نے اتنا ہی کہا تھا کہ بابا فوراً بولے۔
’’بیٹا میں تو اسے کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں۔ اب تم ہی میرا ساتھ دو تو بات بنے۔‘‘ عبدالعزیز کو سب غور سے دیکھ رہے تھے جو خاموش بیٹھا تھا۔
’’بابا ہم نے اس کا انتظام کرلیا ہے۔ اگر اسے اعتراض نہ ہو تو۔‘‘ اسد بات آگے بڑھائی۔ وہ حیرت زدہ تھا۔ مبہم سی باتیں۔
’’صالحہ آنٹی کی بیٹی ماہ نم سے ہم نے اس کی شادی کا فیصلہ کیا ہے۔ آنٹی کی بھی یہی خواہش ہے اور ہم سب کی بھی۔ اب اس سے پوچھ لیں، کیا ارادہ ہے اس کا؟‘‘
’’ارے واقعی…‘‘ بابا خوشی سے جھوم اٹھے۔
’’ماہ نم مجھے بہنوں کی طرح عزیز ہے۔ میں اس کے بڑے بھائی کی حیثیت سے دست سوال دراز کرتا ہوں۔‘‘ فرہاد کہتا ہوا ایک دم اس کے قدموں میں جا بیٹھاتو وہ گھبرا گیا اور اگلے ہی پل اسے گلے سے لگالیا۔ سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
وہ حیرتوں کے سمندر میں غوطے لگا رہا تھا کہ ’’کایا کیسے پلٹی۔‘‘ ماہ نم مان کیسے گئی‘ کوئی دبائو‘ جبر یا زبردستی تو نہیں کی گئی۔
’’بس سوچنا بند کر اور دولہا بننے کی تیار کرو۔‘‘ اسد نے اسے سنجیدہ دیکھ کر چھیڑا۔
’’ہاں اب تم سب بھول جائو… مجھ پر بھروسا رکھو۔‘‘ فرہاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو وہ کھلے دل سے مسکرا دیا۔
’’یہ لو بیٹا۔‘‘ جاتے وقت بابا نے مٹھائی کا ڈبہ فرہاد کو دیتے ہوئے کہا۔ یہ صالحہ بہن کو جاکر دے دینا۔ وہ بھی منہ میٹھا کریں۔
’’باقاعدہ رشتہ تو ہم جاکر مانگیں گے۔‘‘ بابا اپنا بزرگ ہونے کا پورا ثبوت دے رہے تھے۔
’’شکریہ بابا… ہم ادھر ہی جارہے ہیں۔‘‘ بابا گھر کے سونے درو دیوار پر خوشیاں اترتے دیکھ رہے تھے۔ سب رخصت ہوئے تو انہوں نے عبدالعزیز کو گلے لگا لیا۔ اسے خوش گوار پُرسکون دائمی خوشیوں کی دعائیں دیں۔ عشاء کی نماز ادا کرکے وہ شکرانے کے نوافل ادا کرنے لگا کہ ماہ نم نے اسے معاف کرکے قبول کرلیا‘ اس کے سامنے اب مستقبل کے سہانے خواب تھے۔ وہ دونوں اپنے اپنے حصے کی سزا کاٹ چکے تھے۔ صد شکر کے پچھتاوے ان کا مقدر نہ بنے بلکہ تقدیر نے انہیں ملا کر ایک کردیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close