Hijaab Jan 19

آنگن کی چڑیا

نور چودھری

سوال۱:۔ کیا آپ کے گھر میں صنفی امتیاز (بیٹا، بیٹی میں فرق) برتا جاتا ہے، اگر ہاں تو کیا آپ اس پر احتجاج کرتی ہیں؟
ج:۔ جی نہیں، ہمارے گھر میں لڑکی لڑکے میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا کیونکہ ہمارے خاندان میں لڑکیاں ویسے ہی گنتی کی چار، پانچ ہی ہیں، اللہ کا شکر ہے میرے پاپا جانی بہت پیار کرنے والے ہیں اسپیشلی میں تو چہیتی ہوں۔

سوال۲:۔ اکثر گھرانوں میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اس ضمن میں آپ کا کیا تجربہ ہے؟
ج:۔ جی صحیح کہا آپ نے حالانکہ اسلام میں مرد و عورت کا تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے جب اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کا کہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں انکار کرنے والے لیکن آج کے اس ماڈرن دور میں ایسے بھی کچھ دقیانوسی سوچ کے حامل لوگ موجود ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں ویسے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ ٹیلنٹڈ ہیں۔

سوال۳:۔ آپ کے نزدیک علم حاصل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ شخصیت کو سنوارنا، اچھے گھرانے میں شادی یا اچھی ملازمت کا حصول؟
ج:۔ اچھے گھرانے میں شادی کی خواہش تو ہر لڑکی کی ہوتی ہے لیکن تعلیم شخصیت کو سنوارنے، اچھے برے میں تمیز اور تہذیب کا دامن تھامنے کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ اجڈ، گنوار، جاہل شخص تو آنکھوں سے اندھا ہوتا ہے علم بصارت ہے اور کون چاہے گا کہ وہ بصارت سے محروم رہے۔

سوال۴:۔ کیا آپ خواتین کے ملازمت کرنے کے حق میں ہیں؟
ج:۔ جی بالکل، ترقی یافتہ ممالک میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ عورت کو بھی اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہ اس کی اپنی مرضی ہے کہ وہ جاب کرنا چاہتی ہے یا گھر داری میں سر کھپانا چاہتی ہے۔

سوال۵:۔ آپ کے نزدیک روشن خیال اور لبرل ہونے کا کیا مطلب ہے؟
ج:۔ میرے نزدیک روشن خیال اور لبرل ہونے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے (ہاہاہاہاہاہا) ایکچوئلی نہ تو بندے کو زیادہ روشن خیال ہونا چاہیے اور نہ ہی لبرل کہ دوسرے لوگ اسپیشلی لڑکیوں کی جان ہی عذاب میں ڈال دی جائے۔ میانہ روی اختیار کرنا چاہیے تاکہ سکون اور امن قائم رہے۔

سوال۶:۔ آپ اپنی مذہبی و ثقافتی اقدار سے آگاہ ہیں، ان کی پیروی کرتی ہیں؟
خواتین کا پہلا فرض گھر گرہستی اور بچوں کی پرورش و تربیت ہے لیکن اپنی ذات میں وہ خود ایک مکمل انسان ہیں اس حوالے سے سوال ہے۔
ج:۔ جی بالکل، مذہبی و ثقافتی اقدار کی پیروی کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں دوسروں کے لیے رول ماڈل بننا ہے۔

سوال۷:۔ آپ کا کیا خیال ہے لڑکیوں کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیے؟
ج:۔ لڑکیوں کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ضرور ملنا چاہیے۔ لڑکیوں کے دل تو ویسے ہی نازک سے ہوتے ہیں لڑکیاں خوابوں میں ہی تو جیتی ہیں ورنہ رئیل لائف میں جتنی تلخیاں اور مشکلات ہیں، انسان کا تو ویسے ہی جینے کا دل نہیں کرتا۔

سوال۸:۔ زندگی گزارنے کے لیے آپ نے کیا اہداف مقرر کیے ہیں؟
ج:۔ زندگی گزارنے کے لیے اہداف… اب کیا کیا بتائوں فرسٹ میں اپنا کیریئر بناناچاہتی ہوں اور سیکنڈ ماما پاپا کے ساتھ عمرے پر جانا، زیادہ تر تو یہ دونوں چیزیں ہی میری منزل مقصود ہیں کیونکہ اگر یہ دو چیزیں مل جائیں تو زندگی اچھی بسر ہوسکتی ہے باقی اللہ مالک ہے۔

سوال۹:۔ گھر کے کاموں میں کس حد تک دلچسپی لیتی ہیں؟
ج:۔ گھر کے کاموں میں دلچسپی تو بہت ہے لیکن ماما جانی نے آج تک کوئی کام نہیں کروایا سارے کام وہ خود ہی کرتی ہیں۔ ہم لوگ سارا دن پڑھنے میں مصروف رہتے ہیں، ویسے اسٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد مجھے کوکنگ کورس، فلاور میکنگ اینڈ ہائوس ڈیکوریشن کورسز بھی کرنے ہیں، ان شاء اللہ۔

سوال۱۰:۔ کس رشتے سے سب سے زیادہ محبت ہے؟
ج:۔ والدین، یہ رشتہ مجھے بے حد عزیز ہے۔ ویسے پاپا جانی جن میں میری جان بستی ہے۔ دنیا میں صرف دو ہی تو ہستیاں ہیں جو با وفا ہوتی ہیں، ہر حال میں ساتھ دیتی ہیں۔ ماما جانی، پاپا جانی زندہ باد اینڈ لو یو ویری ویری مچ۔

سوال۱۱:۔ سسرال کے حوالے سے آپ کی کیا توقعات و خدشات ہیں؟
ج:۔ سسرال، اللہ اللہ سسرال کے نام پر دھڑکن ویسے ہی تیز ہوگئی ہے اب آگے آپ خود ہی سمجھ جائیں۔ میں نہ تو توقعات وابستہ کرتی ہوں اور نہ ہی خدشات کیونکہ سسرال میں بھی انسان ہی بستے ہیں بس شوہر کیئرنگ اور کائنڈ ہونا چاہیے باقی خیر ہے۔

سوال۱۲:۔ کس طرح کے لوگوں سے دوستی کرتی ہیں؟
ج:۔ ہنستے مسکراتے اور زندہ دل لوگوں کے ساتھ جو ہر قسم کی ٹینشن میں بھی خود پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ مجھے بہت پسند ہیں جن کے چہرے پر ہر وقت نرم اور دھیمی سی مسکان ہو۔ ویسے میں خود بھی ایسی ہی ہوں، ہنستی مسکراتی ہوئی، سب کو تنگ کرتی ہوئی۔

سوال۱۳:۔ آپ ڈائجسٹ کیوں پڑھتی ہیں؟
ج:۔ لو جی اے کیہڑی گل ہوئی، میں تو صرف اور صرف شوقیہ طور پر پڑھتی ہوں ویسے ٹی وی پر ڈرامے دیکھنے سے بہتر ہے بندہ ڈائجسٹ۔ پڑھ لے ڈائجسٹ پڑھنے سے میری اردو میں واضح تبدیلی آئی ہے میں اچھی اردو بولنا سیکھ گئی ہوں۔

سوال۱۴:۔ کوئی یادگار شرارت؟
ج:۔ (ہاہاہاہاہاہاہا) مزیدار اور تھوڑا اسپائسی کوئسچن ہے شرارتیں… کوئی ایک شرارت ہو تو بتائیں ہم نے تو شرارتوں میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ اکثر پاپا رات کو بتاتے ہیں تم ایسے کرتی تھی ویسے کرتی تھیں اور ہم ہنستے ہوئے کہتے ہیں اچھا ہمیں تو یاد نہیں۔ مزیدار شرارت یہ ہے کہ میں ابھی بھی بچوں کا فیڈر پی جاتی ہوں اور بچپن میں ایک دفعہ میں اور میرا کزن جامن چوری کرنے گئے تھے تو میں نے جوتے اتار کر اپنے دونوں بازوئوں میں چڑھا لیے تھے اور جب مالک آیا تو خود تو بھاگ گئی لیکن اپنے کزن کی چھترول کرانا نہ بھولی اور ایک دفعہ کتے کی دم پر پائوں رکھ کر بھاگ گئے اور کتا میری بھانجی کے پیچھے لگ گیا بے چاری کی بھاگتے بھاگتے حالت خراب ہوگئی تھی (ہاہاہاہاہاہاہا) کتا پیچھے پیچھے بھانجی آگے آگے۔

سوال۱۵:۔ کس شخصیت یا واقعہ نے آپ کی شخصیت پر مثبت اثر ڈالا؟
ج:۔ میرے اساتذہ کرام میرے لیے گائیڈنگ وے ہیں میں نے اپنے ہر ٹیچر سے بہت کچھ سیکھا اور خود میں بہت سی تبدیلیاں لے کر آئی ہوں ۔میرے پاپا جانی میرے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ بچپن میں وہ خود محنت مزدوری کرتے تھے کیونکہ دادا جی کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ اللہ کا کرم ہوا پاپا کو جاب مل گئی۔ اب چار سال ہوگئے ہیں انہیں ریٹائر ہوئے۔ ان کی باتیں اور جدوجہد میرے اندر ایک طاقت سی بھر دیتی ہے کہ محنت کرنی ہے اور وہ بھی جی جان سے اور پھر ایک دن اللہ کا کرم اور اس کی رحمت کا سایہ آپ پر بھی ہوگا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close