Naeyufaq Dec-16

خوش بوئے سخن

نوشین اقبال نوشی

مایوس مت ہونا
کبھی مایوس مت ہونا
اندھیرا کتنا گہرا ہو
سحر کی راہ میں حائل
کبھی بھی ہو نہیں سکتا
سویرا ہو کے رہتا ہے
کبھی مایوس مت ہونا
امیدوں کے سمندر میں
تلاطم آتے رہتے ہیں
سفینے ڈوبتے بھی ہیں
سفر لیکن نہیں رکتا
مسافر ٹوٹ جاتے ہیں
مگر مانجھی نہیں تھکتا
سفر طے ہو کے رہتا ہے
کبھی مایوس مت ہونا
خدا حاضر ہے ناظر بھی
خدا ظاہر ہے منظر بھی
وہی ہے حال سے واقف
وہی سینوں کے اندر بھی
مصیبت کے اندھیروں میں
کبھی تم مانگ کر دیکھو
تمہاری آنکھ کے آنسو
یوں ہی ڈھلنے نہیں دے گا
تمہاری آس کی گاگر
کبھی گرنے نہیں دے گا
ہوا کتنی مخالف ہو
تمہیں مڑنے نہیں دے گا
کبھی مایوس مت ہونا
وہاں انصاف کی چکی
ذرا دھیرے سے چلتی ہے
مگر چکی کے پاٹوں میں
بہت باریک پستا ہے
تمہارے ایک کا بدلہ
وہاں ستر سے زیادہ ہے
نیت تلتی ہے پلڑوں میں
عمل ناپے نہیں جاتے
وہاں جو ہاتھ اٹھتے ہیں
کبھی خالی نہیں آتے
ذرا سی دیر لگتی ہے
مگر وہ دے کے رہتا ہے
جب اس کے رحم کا ساگر
چھلک کے جوش کھاتا ہے
قہر ڈھاتا ہوا سورج
یکایک کانپ جاتا ہے
ہَوا اٹھتی ہے لہرا کر
گھٹا سجدے میں گرتی ہے
جہاں دھرتی ترستی ہے
وہیں رحمت برستی ہے
ترستے ریگ زاروں پر
ابر بہہ کے ہی رہتا ہے
نظر وہ اٹھ کے رہتی ہے
کرم ہو کے ہی رہتا ہے
امیدوں کا چمکتا دن
امر ہو کر ہی رہتا ہے
کبھی مایوس مت ہونا

شکیل احمد… منڈی بہاؤالدین

غزل
بتاؤ کون کہتا ہے محبت بس کہانی ہے
محبت تو صحیفہ ہے محبت آسمانی ہے
محبت کو خدارا تم کبھی بھی جھوٹ نہ سمجھو
محبت معجزہ ہے معجزوں کی ترجمانی ہے
محبت پھول کی خوشبو, محبت تتلیوں کا رنگ
محبت پربتوں کی جھیل کا شفاف پانی ہے
محبت اک ستارہ ہے وفا کا استعارہ ہے
محبت سیپ کا موتی بحر کی بیکرانی ہے
زمیں والے بتاؤ کس طرح سمجھیں محبت کو
محبت تو زمیں پر آسمانوں کی نشانی ہے
محبت روشنی ہے، رنگ ہے، خوشبو ہے، نغمہ ہے
محبت اڑتا پنچھی ہے، محبت بہتا پانی ہے
محبت ماؤں کا آنچل، محبت باپ کی شفقت
محبت ہر جگہ، ہر پل، خدا کا نقش ثانی ہے
محبت بہن کی الفت، محبت بھائی کی چاہت
محبت کھیلتا بچہ ہے
محبت حق کا کلمہ ہے محبت چاشنی من کی
محبت روح کا مرہم دلوں کی حکمرانی ہے
محبت تو ازل سے ہے,محبت تا ابد ہوگی
محبت تو آفاقی ہے زمانی نہ مکانی ہے
فنا ہو جائے گی دنیا فنا ہو جائیں گے ہم تم
فقط باقی محبت ہے, محبت جاودانی ہے

فریحہ چوہدری… سرگودھا

غزل
رکھے فرق دوست نہ دشمن میں ایسے یار کی کیا ضرورت ہے
ڈس لینا سانپ کی فطرت ہے اعتبار کی کیا ضرورت ہے
ہر سو رقصاں ہے وحشت سی، ہر گام مقتل گاہ یارو
جاں دے کے گر بھرم رہے، انکار کی کیا ضرورت ہے
بے عدل دستور زمانے کا ہر آنکھ یہاں تماشائی ہے
جہاں انصاف گونگا بہرہ ہو دربار کی کیا ضرورت ہے
نہ یہاں کوئی چشم زلیخاں سی، نہ ہم کوئی مصر کے یوسف ہیں
جب دام نہ پھوٹی کوڑی ہو، خریدار کی کیا ضرورت ہے
اس شہر میں بچے مفلس کے بھوک سے لپٹ کے سوتے ہیں
جب منزل کا گماں نہیں سالار کی کیا ضرورت ہے
قانون بھی ہو ناپید جہاں اور کوئی نہ پوچھے مجرم کو
رہبر ہی رہزن بن جائیں پہرے دار کی کیا ضرورت ہے
ہر شب جلتی ہوئی آنکھوں میں تری یاد کے دیے بجھتے ہیں
ہمیں ہجر کا ذوق جو بخشا ہے اقرار کی کیا ضرورت ہے
چھید ہوں جس دم کشتی میں گرداب بکھیرے تختوں کو
جب عامر کشتی ڈوب چکی تو پتوار کی کیا ضرورت ہے

عامر زمان عامر… بورے والا

شہر تمنا
اک شہرِتمنا ہو
جہاں پھولوں کا بسیرا ہو
کانٹوںکی چبھن زخموں کی رفوگر ہو
سورج کی تپش ہر گھر کے لئے شبنم ہو
جہاں چاند کی کرنیں
ہر دل کے لئے روشن ہوں
اک ایسا شہرِتمنا ہو
سب موسم اللہ کی عنایت ہوں
جہاں مقدر کا ستارہ
ہر اک کے لیے چمکتا ہو
اک ایسا شہرِ تمنا ہو
اک ایسا شہرتمنا ہو

ریحانہ سعیدہ… لاہور

غزل
مجاہد نظر آتا ہے سالار نظر آتا ہے
میرا جرنیل راحیل شاہکار نظر آتا ہے
اسلاف کی خوبیوں کا لگتا ہے وہ امین
اپنے آباء￿ کے نکھرے ہوئے افکار نظر آتا ہے
ان سیاسی ٹٹوئوں سے اس کا نہیں واسطہ دور تک
جس رخ سے بھی دیکھوں صاحب کردار نظر آتا ہے
وطن عزیز کے افق پر ہیں مایوسیوں کی گھٹائیں
ان مایوسیوں میں وہ امید کے آثار نظر آتا ہے
چھایا رہتا ہے جو ہر دم دشمن کے قلب پر
ہزاروں بھیدوں میں چھپا وہ اسرار نظر آتا ہے
رکھے ہیں اس نے قوم کے زخموں پر مرہم
وہ قوم کا حقیقت میں غمخوار نظر آتا ہے
دیکھتا ہوں فاروق جو کارنامے سپہ سالار کے
میرا جرنیل توسیع کا حقدار نظر آتا ہے

عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس

غزل
مانگا تھا میں نے جیسے دعائوں میں
ملا پھر مجھے وہ میری ادائوں میں
ساتھ نبھانا کہاں ضروری سمجھا تم نے
سنائی دے وہ مجھے بھولی بسری صدائوں میں
نقش بنا اس کا دل کے افق پر
بیسرا ہو جیسے اس کا ان فضائوں میں
بات بنتے ہی مسکرا اٹھے تن میرا
لو بات چل پڑی اس کی کہکشائوں میں
تحریر اپنی ہو لکھوں نام تیرا عنبرین
یاد آنے لگا پھر وہ مجھے وفائوں میں

عنبرین اختر… لاہور

غزل
زندگی کی کج ادائی دیکھ کر
میں تعاقب موت کا کرتا رہا
تیری چاہت میں سبھی غم سہہ لیے
قرض یہ ہنس کر ادا کرتا رہا
قوت گفتار گو محبوس تھی
ذکر پھر بھی آپ کا کرتا رہا
زیست کا غم آپ کا غم اپنا غم
سب غموں کو ایک جا کرتا رہا
اس فریب و مکر کی دنیا میں، میں
حق پرستی کی خطا کرتا رہا

دستگیر شہزاد… ٹوبہ ٹیک سنگھ

تم
تم تو
مجھ کو یوں لگتے ہو
شب کو جیسے
دور افق پر
تاروں کی اک بھیڑ میں
چاند ہو نکلا
بالکل تنہا اور
اکیلا

سباس گل … رحیم یار خان

غزل
نگری نگری لوگ یہاں ویران ہوئے
عشق میں میری جاں بہت نقصان ہوئے
خود غرضی کو اوڑھ لیا ہے چہروں پر
دیکھ لیا ہے پتھر بھی بگھون ہوئے
مار دیا ہے بیٹے نے اک ممتا کو
کیسے کیسے لوگ یہاں انسان ہوئے
وہ میری دہلیز پہ آیا برسوں بعد
ہم اس کو یوں دیکھ کے سب حیران ہوئے
اس کے لوٹ کر جانے پر احساس ہوا
میرے شہر کے دروازے سنساں ہوئے
خون سے غزلیں سینچ رہی ہوں چپکے سے
ایسے کیسے یہ آخر دیوان ہوئے

فریدہ فری… لاہور

غزل
بازار دکھوں کے بے پناہ ہیں
وفا کی نگری میں سن لو جاناں
بہت ہے مشکل پھر بھی لیکن
دامن اپنا بچا کے چلنا
ملے گی قدموں سے
ہر قدم پر نار سائی
نارسائی سے قدموں کو بچا کے چلنا
پامال ہوتی ہیں وفائیں
عہد بھی دم توڑتے ہیں
عہد عمر بھر کا کرنے والے
دو قدم پر چھوڑتے ہیں
یہاں ہیں ہر سمت
مقبرے وفا کے
قلب کو ضبط کا کفن پہنا کر
غسل اشکوں سے دلا کر
تیار رکھنا جانے جاناں
کہ نجانے کس گھڑی ہیں
وفا کی ہوا جائے وفات جاناں
چلن زمانے کا یہ ہوگیا ہے
وفا رہے گی خاک کے نیچے
خاک کے اوپر بے وفا رہیں گے

حمیرا قریشی… حیدر آباد، سندھ

غزل
دیوار خستہ حال ہے اور در دل اداس ہے
جب سے کوئی گیا ہے میرا گھر اداس ہے
اک بار وہ مجھے ملا تھا بے رخی کے ساتھ
اس دن سے دل کا شہر برابر اداس ہے
دیکھی ہے اس کی آنکھ میں کپہلی دفعہ نمی
یوں لگ رہا ہے جیسے سمندر اداس ہے
یوں چاند چپ کھڑا ہے سر دشت آسماں
جیسے زمین پر کوئی بے گھر اداس ہے
تیرے جانے سے وہ چاہتیں وہ راحتیں
بکھرا ہوا ہے مے کدہ خم و ساگر اداس ہے

عائشہ اعوان… رحیم یار خان

غزل
نرم ہاتھوں کو اٹھائے ان کے لیے دعائیں مانگی
ہر لمحہ دل سے ان کے لیے وفائیں مانگی
گزرتے شباب کی اٹکھیلیاں بھی عجیب ہوتی ہیں
جب بھی سامنے ہوں تو ان کی ادائیں مانگی
گھنے بادل ہوں رم جھم ہو اور ٹھنڈی ہوا
آنکھوں کو تراوٹ ملے ایسی گھٹائیں مانگی
دل بہل جائے یونہی موسم کی روانی پہ
کیا کہوں میں ان کے لیے کیسی فضائیں مانگی
وہ خفا ہوئے بھی تو اک بے خطا غلطی پر
پھر بھی اپنے حصے کی خطائیں مانگی
دیر کتنی ہی لگی مجھے ظالم کہنے میں رومی
میں نے پھر بھی نہ ان کے لیے بد دعائیں مانگی

عبدالجبار رومی انصاری… لاہور

غزل
معطل نہیں تو روانی بھی نہیں
دائم نہیں محبت تو فانی بھی نہیں
عجب دوراہا سفر میں ہوں
منزل کھونی بھی نہیں تو پانی بھی نہیں
اس سے بچھڑنے کا خدشہ کیونکر ہو
یقین نہیں اگر تو بد گمانی بھی نہیں
وہ اس تناسب سے گویا ہوا
بات ٹالی بھی نہیں بات مانی بھی نہیں
ایسے آشیانے کی باسی ہوں
جسے راہ جانی نہیں تو آنی بھی نہیں

انیلہ مرتضی… ڈسکہ

غزل
اس شوخ کی جو مجھ پہ عنایت نہیں رہی
وابستہ مجھ سے کوئی مصیبت نہیں رہی
اپنوں نے وہ سلوک کیا ہے کہ اب مجھے
اغیار سے بھی کوئی شکایت نہیں رہی
مکرو فریب ، بغض و عداوت ہے ہر طرف
دنیا میں کیا کہیں بھی محبت نہیں رہی
واقف ہوا ہوں جب سے میں خود اپنے آپ سے
ہمدردیوں کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی
بارِ غمِ جدائی نے یہ حال کردیا
اب اور غم اٹھانے کی ہمت نہیں رہی
دنیائے رنگ و بو میں مجھے جانِ آرزو
تیرے سوا کسی کی بھی چاہت نہیں رہی
اس نے نگاہِ مست سے دیکھا تھا ایک بار
جام و سبو سے پھر مجھے رغبت نہیں رہی
مجبور کردیا ہے غمِ روزگار نے
چاہت میں اب وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
یاسر مداوا درد کا ہوتا بھی کس طرح
مجھ کو غمِ زمانہ سے فرصت نہیں رہی

غلام مجتبیٰ یاسر ہاشمی…حیدرآباد

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close